افغانستان اور پاکستان کی ذمہ داریاں

نائن الیون [۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء] کے افسوس ناک خونی حملوں کے بعد امریکا نے عملاً پوری دنیا اور اقوام متحدہ کو یر غمال بنالیا۔ پھر انسانیت سے عاری جس تباہ کن مہم کا آغاز دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے کیا، وہ مہم نہ منطقی تھی، نہ منصفانہ تھی ، اور نہ انسانیت نواز تھی، بلکہ یہ خونی مہم، خود اس یلغار کا حصہ بننے اور اس کی قیادت کرنے والوں کے خلاف ہی پلٹ کر ایک جنگ میں تبدیل ہوگئی۔
نائن الیون کے محرکات اور معاملات کو بڑے حُسنِ تدبیر کے ساتھ سمجھنے ، ان کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے اور یوں تشدد کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے جن بنیادی اقدامات کی ضرورت تھی ، ان اقدامات کے بجائے ، دنیا بھر کی طاقتوں نے مجرمانہ حد تک آنکھیں بند کر کے لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے امریکا کا ساتھ دیا اور افغانستان کی قانونی حکومت کو بلا جواز خوفناک حملوں کے ساتھ ختم کر دیا گیا (حالانکہ نائن الیون حملوں میں کوئی بھی افغان ملوث نہیں تھا ) ، اس بے صبری اور بے تدبیری کے نتیجے میں دنیا کو جھنجھوڑنے والے المیوں نے جنم لیا:
- آج کی دنیا، نائن الیون سے پہلے کی دُنیا سے کہیں زیادہ غیر محفوظ بن کر رہ گئی ہے۔
بھارت نے کابل کی کٹھ پتلی امریکی حکومت کے زیر سایہ پاکستان کے خلاف سازشوں اور تخریب کاری کے لیے ۶۶ تربیتی مراکز قائم کیے، جہاں سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردی ہوتی رہی۔ جس میں ایک لاکھ کے قریب پاکستان کے دفاعی جوان، افسر اور عوام جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔
- مسلم دنیا میں قیادت و سیادت کے سرچشموں پر مسلط غیر نمایند و حکمرانوں نے مسلم امہ کے بے پناہ مادی وسائل، اس قاتلانہ یلغار کے لیے یوں مختص کردیے کہ آج ان ممالک کی معیشتیں مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں گروی بن چکی ہیں۔ ریاستی بجٹ خسارے سے دو چار ہیں۔ خلیج عرب کی سطحی خوش حالی، کاغذ کے محلات کی صورت میں زمین پر آن گری ہے۔
- بعض عرب ممالک تو اب باقاعدہ امریکی اور نیٹو افواج کی چھاؤنیوں کے لیے بڑے بڑے رقبے دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیبیا، عراق اور شام جیسے باوسائل مسلم ممالک اور ان کی دفاعی صلاحیت بتاشے کی طرح بیٹھ گئی ہے۔ خون اور بارود کی بارش اور دلدل میں دھنسنے کے بعد ان تینوں ممالک کی حکومتوں اور سرحدوں کو پہچاننا ممکن نہیں رہا۔
- بیس برس تک افغانستان کے جن طالبان کی بالفعل حکومت کو جبر کی قوت سے ملیا میٹ کیا گیا تھا، انھوں نے دُنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی مدد اور پشتی بانی کے بغیر ( پاکستان نے بہت محدود اخلاقی مدد کی ) دنیا کی عظیم ترین جارحانہ جنگی ٹکنالوجی کا مقابلہ کیا اور آخر کار جارح امریکا ۲۰۲۰ ء میں مذاکرات کی میز پر آیا اور طالبان سے معاہدہ کیا، جس کے تحت ۳۱ / اگست ۲۰۲۱ ء تک افغانستان کو چھوڑ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ تاہم، سال رواں ۱۵ اگست کو امریکی، بھارتی کٹھ پتلی حکومت بدحواسی میں پسپا ہوگئی اور اس طرح طالبان پندرہ روز پہلے ہی کابل میں داخلے پر مجبور ہو گئے۔
- طالبات کی یہ کامیابی کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں ہے، اور کسی جائز حکومت کے خلاف بغاوت بھی نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنی حکومت کے ناجائز خاتمے کو ۲۰ برس بعد مشیت الہی سے پلٹ دیا ہے، جس پر افغانوں کو اور اُمت مسلمہ کو خدا کے حضور سجدہ ریز ہونا چاہیے۔
- طالبان حکومت کی طرف سے، اپنے ہم وطن غداروں، قاتلوں ، اپنے خلاف لڑنے والے کرائے کے فوجیوں اور جاسوسوں کے لیے عام معافی کے اعلان نے عصر حاضر کی بین الاقوامی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش مثال قائم کی ہے۔ یہ روایت فتح مکہ کی اتباع سے وابستہ ایک عظیم الشان تہذیبی قدم ہے، جس کی پوری دُنیا کی طرف سے قدر کی جانی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ غیر مسلم ریاستیں تو ایک طرف، خود مسلم دنیا پر مسلط حکمرانوں نے بھی اس کی قدر نہیں کی ، جو باعث ندامت ہے۔
- پاکستان اور افغانستان ، اسلام اور بھائی چارے کے جن گہرے رشتوں سے باہم جڑے ہوئے ہیں، ان میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اور ذمہ داریاں ، دنیا کے دوسرے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ اہم ، حددرجہ نازک اور فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں۔
- حکومت پاکستان کی یہ دینی، تہذیبی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے عوام کی تاریخی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے ، افغانستان میں امن و استحکام کو ترجیح اول قرار دے اور افغانستان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرے۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان کی تذبذب اور گومگو کی کیفیت قومی مفادات کے قطعی منافی ہے۔
- طالبان کی حکومت بننے سے پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہوگئی ہیں ۔ مگر بھارت اور امریکا کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کی مغربی سرحد میں مسلسل سلگتی رہیں ، اور پاکستان بدامنی و اضطراب کے چنگل میں اُلجھا رہے۔ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی افغانستان میں نئی حکومت کو فوری تسلیم کرنا ضروری ہے۔
- بھارت اور امریکا نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کا جو زہر گھولا ہے، اس کا حل بھی افغانستان میں امن و آسودگی پیدا کرنے کے لیے، رفاہی کاموں میں افغان حکومت کا ہاتھ بٹانے سے ممکن ہے۔
- افغانستان کے مالی ذرائع پر امریکی پابندیوں اور عالمی سطح پر عملاً سوشل بائیکاٹ کے نتیجے میں افغانستان میں خوراک اور ادویات اور توانائی کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے، جس نے روح فرسا انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی ہمدردی اور اسلامی اخوت کی بنیادوں پر خوراک ، ادویات اور توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے پاکستان سے ممکن حد تک مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
- پہلے اشتراکی روی فوجوں نے اور پھر افغان تنظیموں کی خانہ جنگی نے اور اس کے بعد امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان کے بچے کھچے نظام زندگی اور ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے عالمی فنڈ قائم کیا جائے تا کہ مواصلات، توانائی کے ذرائع، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر و مرمت کا کام ہو سکے ۔
- سامراجی فوجوں کی واپسی کے بعد، افغانستان کی نئی حکومت پر مختلف النوع ذمہ داریوں کا بہت زیادہ بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ان سے عہد و برآ ہونے کے لیے افغان قیادت کو اللہ پر بھروسا رکھتے اور مشاورت کی روح کو زندہ کرتے ہوئے ، ان تھک محنت، تدبر ، دوراندیشی کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو۔
- افغانستان اور پاکستان میں امن ان دونوں ممالک کے باہمی تعلق اور اعتماد سے ممکن ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ ان میں سے ایک ملک میں بدامنی ہو تو دوسرا ملک امن سے رہ سکے۔ اس لیے جس طرح طالبان نے ملک میں امن کی فضا پیدا کرنے کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے، اسی طرح حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ ان لوگوں کو عام معافی دے کر انھیں سماجی زندگی کا حصہ بننے کی اجازت دے، جنھوں نے ان ۲۰ برسوں کے دوران غیر ملکی فوجوں کے افغانستان پر قبضے کے خلاف جدو جہد میں کسی بھی صورت حصہ لیا تھا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ملک میں بے چینی کا ایک سبب قائم رہے گا، جسے دشمن ممالک گمراہ کن اندازہ سے برت سکتے ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام ایسے خدشات اور امکانات کو ختم کر سکتا ہے۔
- دنیا بھر کے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جو لوگ جنگ زدگی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، اور پرامن شہری زندگی کے فروغ کے لیے دل و جان سے متحرک ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ بے لوث طریقے سے، سرزمین افغانستان کو امن و آسودگی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے مشورے، فنی سہولیات اور اموال واشیا کے ذریعے موجودہ افغان حکومت کو مدد فراہم کریں ( ہمیں اس بات پر اطمینان ہے کہ پاکستان کی ایک قابلِ قدر رفاہی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان میں خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے مقدور بھر عملی قدم اُٹھایا۔ اور الخدمت یتیم بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے لیے افغان حکومت کا ہاتھ بٹانے کے لیے بھی کوشاں ہے)۔
- افغانستان خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہے، جس کے لیے تجارت کا سب سے بڑا اور سستا راستہ پاکستان ہے۔ پاکستان نے اپنی بدترین مخالف افغان حکومتوں کے ادوار میں بھی اس حق کو معطل نہیں کیا، مگر افسوس کہ آج یہ افغان تجارت بند ہے اور کروڑوں روپے کے پھل افغانستان میں تباہ ہو رہے ہیں۔ جس سے افغان معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس زیادتی کا ازالہ ہونا چاہیے اور تجارتی آمد ورفت کو فی الفور بحال کرنا چاہیے۔
- حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان پی آئی اے کا کرایہ کو دو ڈھائی سو ڈالر سے بڑھا کر ڈھائی ہزار ڈالر تک کر دیا گیا ہے جس نے بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔ پھر یہ کہ طورخم بارڈر پر افغانستان سے آنے والے ٹرکوں اور ایمبولینسوں کی پندرہ پندرہ کلومیٹر طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، جن میں مریض تڑپ رہے ہیں اور خوراک کو ترس رہے ہیں۔ معلوم نہیں قانونی طریقے سے آنے اور واپس جانے والے ان مستحق افراد کو کیوں خوار کیا جارہا ہے؟ حالانکہ ماضی میں ایسا بھی نہیں کیا گیا۔
- اس طرح ہم بہت دل سوزی کے ساتھ دونوں برادر ملکوں کے سیکولر ہم وطنوں سے کہیں گے: (۱) اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کوئی ایک با قاعدہ پارٹی نہیں بلکہ یہ عام افغان عوام کے جذبۂ حریت و آزادی اور عزم دین و ترقی اور اجتماعی جدوجہد کا مظہر ہیں، پھر کسان، مزدور، نوجوان، تجارت پیشہ، دینی تعلیم سے آراستہ اور جدید تعلیم یافتہ افغانوں کی ایک عظیم اکثریت ان کے ہم قدم ہے۔ (۲) یہ کہ چالیس برس سے جنگ میں جھلتے اس ملک کے داخلی حالات خراب ہیں، اگر دین دار اور مغربی سامراجیوں کے خلاف لڑنے والوں کے گھر جلیں گے تو ان سامراجیوں کو غیر کی نظروں سے دیکھنے والوں کے گھر بھی تباہی سے نہیں بچ سکیں گے۔ اس لیے لبرل یا سیکولر ہم وطنوں کو سمجھنا چاہیے کہ طالبان نے اپنے ملک پر قابض ایک ناجائز سامراجی ٹولے کی حکمرانی سے نجات حاصل کی ہے، اپنے ملک پر کوئی قبضہ نہیں کیا، بلکہ سامراجیوں سے قبضہ چھڑایا ہے، جس میں مقابلے اور مذاکرات دونوں کا کردار ہے۔ اس لیے، وہ طالبان کے خلاف گھناؤنے اور بے بنیاد پرو پیگنڈے کو پروان چڑھانے کا بے فیض کام چھوڑ کر معقول طریقے سے قومی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔
- پاکستان کے اعلیٰ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ میڈیکل ، نجی بیرنگ ، سائنس، ابلاغیات، انتظامیات ، علوم اسلامیہ اور سماجیات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے افغانستان کے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ پر نشستیں مخصوص کریں، جنھیں میرٹ پر داخلہ اور تربیت دی جائے۔ یوں مستقبل میں بھائی چارے میں اضافہ ہوگا، اور افغانستان کی ترقی میں پاکستان کے کردار سے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوتے جائیں گے۔
- اس کے ساتھ پاکستان کے فیصلہ سازوں پر ہم یہ امر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ سرزمین پاکستان یا پاکستان کی فضائی حدود، امریکا یا نیٹو افواج کو افغانستان پر حملے کرنے کے لیے کسی صورت مہیا نہیں کی جانی چاہیے۔ امریکا کے دباؤ پر افغانستان کے خلاف کسی قسم کی راہداری دینا ، قوم کے لیے بالکل نا قابل قبول ہے۔ امریکا سے ہم مثبت تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، لیکن امریکا کے اور ہمارے مفادات اس پورے خطے (Region) میں کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ ہمیں چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر علاقے اور اپنے ملک کے مفادات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت سے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ افغانستان کی تقویت اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسلم ممالک اور یورپی ملکوں کو بھی امریکا کے دباؤ سے نکلنے اور آزاد پالیسی بنانے پر متوجہ کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ترکی اور قطر کا کردار بڑا مثبت ہو سکتا ہے۔ انھیں بھی اس تزویراتی ربط وتعلق میں ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پختہ عزم اور ارادے کے ساتھ حکومت پاکستان کو ان امور پر فوری اقدامات کرنے چاہیں ۔ وقت گزرنے کے بعد کیے گئے اہم ترین اقدامات بھی اپنی قدرو قیمت کھو بیٹھتے ہیں۔ امریکی دباؤ اور بلیک میلنگ میں آکر افغانستان کے حوالے سے تاخیری حربوں سے کام لینا، اس خطے کے لوگوں اور تاریخ و تہذیب سے انتہا درجے کی بے وفائی ہوگی۔



