Opening / Closing RemarksPakistanPolitics and Governance

کرپشن کی موجودہ صورت حال پیپلز پارٹی کے دور حکومت جیسی ہے۔

’’کرپشن کی موجودہ صورت حال پیپلز پارٹی کے  دورِ ور حکومت جیسی ہے‘‘

جماعت اسلامی کے نائب امیرسينیٹر پروفیسر خورشید احمد کاظہار خیال

پاکستان کے ممتاز سیاست دان، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ گزشتہ دنوں جنگ لندن کے آڈیٹوریم میں فورم منعقد ہوا ۔ جنگ پینل زیڈ یو خان ، ظهور نیازی ، جاوید اقبال خواجہ اور افتخار قیصر کے علاوہ سامعین میں سے بھی حاضرین نے پروفیسر خورشید سے سوالات کئے ۔ یہ انٹرویو ہفت روزہ ایشیا لاہور کی ۲۵ اکتوبر کی اشاعت میں شامل ھے ۔ جسے مذکورہ پرچے کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جارہا  ہے ۔ (ادارہ)

ظہور نیازی

آپ جس تحریک سے وابستہ ہیں اور ایک طویل عرصہ سے جس جدوجہد میں شریک ہیں۔ اس مقصد کے لئے پاکستان وجود میں آیا اور اب اسے بنے ہوئے ۴۲ سال ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں تحریک پر اگر سرسری نظر ڈالیں تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کامیابی سے رواں دواں ہے اور اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے یا یہ نظر آتا ہے کہ اب تک جو کوششیں ہوئی ہیں اس سے کوئی ٹھوس یا مثبت نتیجہ خیز اثر سامنے نہیں آیا ۔؟

پروفیسر خورشید احمد

 جماعت اسلامی ایک نظریاتی تحریک ہے جو بر صغیر میں خصوصیت سے پہلی جنگ عظیم اور تحریک خلافت کے ختم ہو جانے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کیلئے جو صورت حال پیدا ہوئی تھی اس میں ان کو دوبارہ اپنے دین کی بنیاد پر فکری ، تہذہبی، سیاسی اور تمدنی میدان میں اٹھانے اور ابھارنے کے لئے وجود میں آئی تھی ۔ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۴۱ء تک صرف اتنا ہی کام ہوا اور اس زمانے میں ہزاروں صفحات پر پھیلا ہوا لڑ پچر شائع ہوا جس میں اس بات کو پیش کیا گیا کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس پورے نظام کو قبول کریں اور بعد الت قائم کرنے کے لئے جد و جہد کریں۔ اگست ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی قائم ہوئی اور اس وقت برصغیر میں چھ مقامات پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش، مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر اور سری لنکا میں جماعت کے نام پر ایک مجموعی فکر قائم ہے ہر ملک میں اس کی بنیادی فکر اسلام کو ایک منظم نظام زندگی کی حیثیت میں پیش کرنا اور اس کے سارے پہلوؤں کو نکھارنا سنوارنا تھا ۔ بلاشبہ یہ کام جماعت نے اکیلے نہیں کیا بلکہ اس دور کی دوسری جماعتوں اور مفکرین نے بھی یہ کام کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب دوست اور دشمن سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل زندگی ہے اور اسلام اور سیکولرازم ، اسلام اور اشتراکیت اور اسلام اور سرمایہ داری کی پیوند کاری نہیں ہو سکتی ہے ۔ خصوصی طور پر نوجوانوں میں بھی ایک فکری انقلاب پیدا ہوا۔

 سیاست کے میدان میں بلاشبہ کسی بھی مقام پر جماعت اسلامی کو ابھی اکثریت حاصل نہیں ہوئی مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اس وقت ہمارے قومی اسمبلی میں آٹھ ، سینیٹ میں دو اور صوبائی اسمبلیوں میں ہیں اراکین ہیں ۔ تقریباًاڑھائی ملین ووٹرز نے جماعت کو ووٹ دیا ہے۔ بنگلہ دیش میں تقریبا ہیں اراکین قومی اسمبلی میں ہیں مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی مسلمانوں کی سب سے اہم قوت اور جہاد کشمیر میں سب سے زیادہ پیش پیش ہے۔

گو سیاست میں جماعت اسلامی ابھی تک کوئی بڑی اکثریت حاصل نہیں کر سکی لیکن بحیثیت مجموعی سیاست پر اثر انداز ہونے میں خواہ پاکستان کی دستور سازی یا قانون سازی ہویا پالیسی سازی ہو یا زندگی کے مختلف شعبے ہوں ان میں پوری طرح اثر انداز ہے۔ اس وقت دنیا میں جو اسلامی سوچ نظر آرہی ہے اس کا جن افراد کو آرکیٹکٹ سمجھا جاتا ہے ان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی ، سید قطب شہید ، مالک بن نبی شامل ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ ترقی کوئی معمولی چیز نہیں ہے یہ تاریخی ڈیویلپمنٹ ہے ، باقی انسان تو کبھی بھی مطمئن نہیں ہو سکتا بلاشبہ ابھی ہمیں بہت کچھ کرتا ہے ویسے بھی فکری علمی اور آئیڈیا لوجیکل تحریکوں کے اثرات فوری طور پر نہیں نکل آیا کرتے اس میں بڑا وقت لگتا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے ہمارے لئے قابل فخر ہے۔

زیڈ یو خان

 آپ نے اپنی گفتگو میں افغانستان کا ذکر کرنے سے کیوں گریز کیا؟

خورشید احمد

 افغانستان کا ذکر اس لئے نہیں کیا کیونکہ وہاں جماعت اسلامی کے نام سے کام نہیں ہو رہا مگر یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کے وہاں غیر معمولی حد تک اثرات رہے ہیں فکری طور پر اور جہاد افغانستان میں بھی جماعت نے بڑی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ وہاں کے بڑے گروپ اور کئی بڑے لیڈر بھی فکری اعتبار سے جماعت اسلامی سے ہی متعلق ہیں مگر وہ جماعت اسلامی کے نام پر نہیں بلکہ اپنی اپنی پارٹیوں کے نام پر کام کر رہے ہیں۔

جاوید اقبال خواجہ

 سیاست کے ساتھ ساتھ معاشیات بھی آپ کا خاص میدان ہے پاکستان کی موجودہ حکومت نے معاشی ترقی کے نام پر اب تک جو پالیسیاں بنائیں اور جو کام کئے کیا آپ کے نزدیک ان سے ملک یا عوام کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے؟

خورشید احمد

 پاکستان کی معیشت کے بارے میں خود انحصاری کا زبانی دعویٰ تو بہت کیا گیا ہے اور اپنے زبانی منصوبوں کے لئے بھی بڑا پرو پیگنڈہ کیا گیا ہے لیکن عملاً ہماری معیشت خود انحصاری سے دور ہوتی چلی جارہی ہے اور آج ہماری محتاجی کا عالم یہ ہے کہ ہمارے بجٹ کا چالیس فیصد صرف بیرونی اور اندرونی قرضوں پر صرف ہو جاتا ہے اور اگر اس سلسلے کو روکنے کی کوئی بہتر کوشش نہ کی گئی تو مجھے ڈر ہے کہ اگلے پانچ سال میں ایڈ منسٹریشن، فوج کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔ بحیثیت مجموعی اس حکومت نے پرائیوٹائزیشن کے علاوہ کسی میدان میں کوئی نیا اقدام نہیں کیا ۔ پرائیویٹائزیشن کی اس حکومت کی پالیسی اصولی اعتبار سے صحیح رخ ہی کافی نہیں ہوتا اس سلسلے میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور کرپشن کو کنٹرول کرنے میں بہت سے جھول نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت کو قوم سے اعتماد حاصل نہیں ہو سکا ۔ جو کہ اس کی کامیابی کے لئے ضروری ہے فنانس کمپینوں اور کو آپریٹو سوسائیٹوں کی ناکامی سے بھی عوام میں عدم اعتماد کی فضاء موجود ہے۔

ظہور نیازی

 جماعت اسلامی پاکستان میں عام انتخابات کے موقع پر بہت اچھا منشور پیش کرتی ہے مگر عام آدمی ہمیشہ یہ تاثر کیوں لیتا ہے کہ جماعت اسلامی اس کے سیاسی سماجی اور معاشی مسائل کو حل نہیں کر سکے گی۔ کیا اس سلسلے میں کوئی کام ہو رہا ہے۔؟

زیڈیو خان

 پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اس میں قرآن و سنت کے مطابق حکومت ہونی چاہئے اسلامی نظام ہونا چاہیئے مگر آخر وہ کیا وجہ ہے کہ لوگ ہمیشہ مذہبی جماعتوں کو ہرگز نہیں دیتے اگر اتنے طویل عرصہ تک جدوجہد کے بعد بھی آپ کی جماعت کے ساتھ لوگ نہیں ہیں تو پھر اس کا کیا کنٹری بیوشن ہے؟

خورشید احمد

 میں نے اس سے پہلے آپ کو بتایا کہ سیاسی جماعتوں کا کنٹری بیوشن صرف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ اسمبلی کے کتنے اراکین ہیں بلکہ یہ کنٹری بیوشن زندگی کے ہر شعبے میں دیکھا جاتا ہے اور میری نظر میں اس پہلو سے ہمارا یہ کنٹری بیوشن قابل ذکر اور قابل فخر بھی ہے۔

مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ووٹ اس پارٹی کو دینا چاہئے جو جیت رہی ہو۔ اس طرح انتخابات میں جو بھی کوئی دو بڑی پارٹیاں نظر آتی ہیں۔ عوام ان کے ساتھ بہت سے اختلافات ہونے کے باوجود ووٹ انہیں ہی دیتے ہیں اس کے باوجود مذہبی جماعتوں کےاثرات ہمارے ہاں بہت بڑھ رہتے ہیں۔

افتخار قیصر

 آپ نے تسلیم کیا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان میں ابھی تک بڑی جماعت نہیں بن سکی۔ مگر ہم جب اس کے اخراجات کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ دوسری بڑی جماعتوں سے بھی زیادہ نظر آتے ہیں آخر ان کو پورا کرنے کے لئے سرمایہ کہاں سے آتا ہے۔؟

پروفیسر خورشید احمد

یہ سرمایہ آتا ہے جماعت کے کارکنوں کی مالی قربانی سے اور تعاون سے۔ اس وقت پاکستان میں تقریبا پانچ سے آٹھ لاکھ افراد ہمارے متفق ہیں جوجماعت کو مسلسل کنٹری بیوشن کرتے ہیں اور جماعت اسلامی ہمارے ملک کی وہ واحد جماعت ہے جس نے پہلے دن سے ایک ایک پائی کا حساب رکھا اور اپنے اداروں کو دیا ہے جماعت کے انتخابات پوری با قاعدگی کے ساتھ اپنے دستور کے مطابق ہر سطح پر ہمیشہ منعقد ہوتے ہیں۔

زیڈ یو خان

 جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم میں بعض باتیں مشترک ہیں پھر ان دونوں میں اتنا تصادم کیوں ہے؟

 خورشید احمد

ایم کیو ایم ایک ایسا ادارہ ہے جسے زیادہ سے زیادہ معروضی انداز میں سمجھنا چاہئے اور اس کا یہ پہلو کہ اس نے متوسط طبقے کو اپیل کیا ہے ایک حقیقت ہے اور یہ چیز قابل قدر بھی ہے اس نے ہمارے انتخابی حلقوں سے بھی بہت سے لوگوں کو اپنے زیر اثر کیا ہے ۔ ایم کیو ایم سے ہمارا اختلاف نظریاتی ہے ہماری نگاہ میں زبان بڑی اہم چیز ہے لیکن زبان قومیت کی بنیاد نہیں ہے نہ ہی رنگ یا نسل قوم کی بنیاد ہیں۔ قومیت کی بنیاد انسانوں کا عقیدہ ان کی مشترکہ تاریخ عزائم اور ان کا تصور ہے یہ لڑائی ہم نے ہندو سے بھی لڑی ان کا کہنا بھی یہی تھا کہ ہم سب اس زمین کی پیداوار ہیں ہمارا رنگ اور زبان سب ایک ہے پھر تم پاکستان کیوں مانگتے ہو۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں سندھیوں کے ساتھ بھی بڑی زیادتیاں ہوئیں اور حقیقی مسائل کا حل یہ نہیں ہے کہ مہاجر قومیت بنا کر دو اڑھائی فیصد آبادی کو باقی قوم سے کاٹ دیں بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم سب پاکستان اور انصاف کی بنیاد پر متحد ہو کر برابری کی بنیاد پر مسائل کو حل کریں۔ ہمارے ملک میں لاقانونیت بلاشبہ اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں فوج کی مدد نا گزیر ہو گئی تھی لیکن محض فوجی آپریشن سے ہی مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام جماعتیں جن میں ایم کیو ایم بھی شامل ہو سب مل کر بیٹھیں اس لئے کہ ہم سب کو ساتھ رہنا ہے اور ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

آج کے حالات میں وہ سندھی بھائی فوج کے کردار سے مطمئن ہیں جو پہلے اس سے نالاں تھے ۔سندھ کے شہروں میں ایم کیوایم نے عقوبت خانے قائم کئے تھے۔ ان کا انکشاف دوسرے لوگوں پر تو شاید آج ہوا ہو مگر ہم نے تو وہاں سے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں ہماری جماعت کے ساڑھے تین سو کارکنوں کو ان میں اذیتیں دی گئی ہیں ہم تو وہاں سے وہ لاشیں اٹھاتے رہے ہیں جن میں سے بعض پر تین تین سو تشدد کے زخموں کے نشانات تھے ہم تو ان عقوبت خانوں سے بڑے عرصے سے واقف تھے اور عوام میں بھی ان کا ذکر کرتے تھے مگر اس کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے ان لوگوں کی ہی پکڑ ہونی چاہئے جنہوں نے واقعی ظلم کئے ہیں اور جو لوگ ان میں معصوم ہیں انہیں کچھ نہ کہنا چاہئے یعنی فوج کو انتہائی غیر جانبدار رہ کر کارروائی کرنی چاہئے

 افتخار قیصر

 آپ نے کہا سندھ کے لوگ بھی اب فوج کے کردار سے مطمئن ہو گئے ہیں اس صورت حال میں ہم یہ جاننا چائیں گے کہ کیا لوگ اس حد تک مطمئن ہو گئے ہیں کہ اگر پھر کوئی مارشل لاء لگے تو اسے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا جائے گا ؟

خورشید احمد

 خدا کرے کہ ایسا نہ ہو ۔ فوج ہماری بڑی قیمتی متاع ہے اسے متنازعہ نہیں بننا چاہیے اور فوج سیاست میں آتی ہے تو متنازعہ بن جاتی ہے فوج ہماری آخری دفاعی لائن ہے اس کو دفاعی لائن ہی رہنا چاہئے وہ عام سیاسی مسائل کو حل نہیں کر سکتی ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ فوج کو جلد سے جلد اپنی کارروائی ختم کرنی چاہئے اور اگر خدا نخواستہ یہ آپریشن کسی فوجی حکومت کے قیام کا ذریعہ بن جاتا ہے تو وہ فوج اور ملک دونوں کے لئے برا ہوگا اور عوام کے دلوں میں فوج کی جو قدر پیدا ہوئی ہے وہ باقی نہیں رہے گی۔

 افتخار قیصر

 آپ کی اس بات کے برعکس آپ کی جماعت پر الزام ہے کہ جب بھی پاکستان میں مارشل لاء لگتا ہے جماعت اسلامی اسکی حمایت کرتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

 خورشید احمد

جماعت اسلامی نے کبھی بھی کسی مارشل لاء کی حمایت نہیں کی بلکہ ہماری جماعت ہر مارشل لاء میں زیر عتاب رہی ہے پاکستان کے پہلے مارشل لاء میں مولانا مودودی کو سزائے موت کا حکم صادر کیا گیا اور جماعت کے لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ۔ دوسرے مارشل لاء میں بھی سب سے زیادہ ضرب جماعت پر پڑی۔ اسکندر مرزا نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے لوگوں کو کشتی میں بٹھا کر باہر بھیج دینا چاہتے ہیں ۔ پھر ایوب خان نے اپنے مارشل لاء میں جماعت اسلامی پر بابندی لگائی ۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی بھی جماعت نے مسلسل مخالفت کی ہے مگر یہ بھی ٹھیک ہے کہ ہم نے ایم آرڈی کی تحریک کا ساتھ نہیں دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ ایم آر ڈی جمہوریت نہیں لاسکتی بلکہ اس کی جدوجہد کے نتیجے میں ایک نیا مارشل لاء لگ سکتا ہے۔

جاوید اقبال خواجہ

اگر ایم کیو ایم پھر منظم ہو کر ابھرتی ہے تو کیا آپ کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے سے بہتر کوئی پروگرام یا مہاجروں کے لئے کوئی متبادل لیڈر شپ موجود ہے؟

خورشید احمد

 ایم کیو ایم کو ان لوگوں اور قوتوں نے قائم کروایا اور سرپرستی کی جو ملک میں قومی پارٹیوں کے اثرات تو ڑنا چاہتے تھے ۔ کراچی چونکہ سیاسی شہر ہے اور ہر اہم تحریک کراچی سے اٹھی ہے اس لئے کراچی کی کمر توڑنا ضروری سمجھا گیا کراچی میں جماعت اسلامی پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے پاکستان کے حقیقی اثرات تھے ۔ اب دو روا پس آرہے ہیں اور مہاجر اس بات کو محسوس کرنے لگے ہیں کہ محض مہاجر ہونے کی بنیاد پر عزت کا مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ ایم کیو ایم کے لئے یہ انتہائی غور کرنے کی بات ہے کہ اس نے مہاجروں کو سندھیوں، پٹھانوں اور پنجابیوں اور بلوچوں سے کاٹا اور پھر آپس میں مہاجروں کا بھی ٹکراؤ کروا دیا کیا یہ مہاجروں کی خدمت ہے۔؟

زیڈ یو خان

 آپ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اقتصادی صورت حال بہتر نہیں ہے جبکہ موجودہ حکومت کا دعوی ٰہے کہ اقتصادی صورت حال کو انہوں نے پہلے سے بہتر کیا ہے اور جب وہ بر سراقتدار آئی تھی تو ریزرو میں چوبیس ملین ڈالر تھے اب کوئی ایک ہزار ملین ڈالر موجود ہیں جبکہ موجودہ حکومت غیر ملکی امداد سے بھی محروم ہے اور ان کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے پاکستان میں شہروں کی حد تک روپے کی ریل پیل بھی بہت نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں آپ موجودہ اقتصادی صورت حال کو کیسے خراب کہتے ہیں اور موٹروے کے منصوبے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔

 خورشید احمد

یہ بات درست ہے کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو زر مبادلہ بہت کم تھا اور اب اس سے تقریبا ساڑھے چار گنا زیادہ ہے لیکن میں آپ پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت نے زر مبادلہ ایکسپورٹ امپورٹ وغیرہ سے حاصل نہیں کیا ہے جسے وہ جب چاہیں واپس مانگ سکتے ہیں اگر موجودہ صورت حال میں ان ڈپازٹس کے پچاس فیصدی کی واپسی کا مطالبہ کر دیا جاتا ہے تو ملک ان کی ادائیگی برداشت نہیں کر سکتا یعنی یہ کوئی ایسا آسرا نہیں جس پر ملک بھروسہ کر سکے۔

موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تھا اس وقت بجٹ اکیس ملین روپے تھا اس وقت وہ ۷۲ ملین روپے ہے ایکسپورٹ میں توقع تھی کہ تیس فیصد بڑھے گی مگر صرف اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا ۔ امپورٹ کے بارے میں توقع تھی کہ اس کو کنٹرول کیا جا سکے گا مگر ہم اس کو کسی حد تک بھی قابو نہیں کر سکے۔

نیشنل ہائی وے ایک اچھا منصوبہ ہے لیکن ہمیں پہلے کراچی سے لاہور تک کے موٹر وے کی ضرورت ہے نہ کہ لاہور سے پشاور تک کے۔ موٹروے کی تعمیر کے لئے ٹھیکے دینے کے لئے حکومت نے جو طریقے استعمال کئے درست نہیں ہیں حکومت نے بہت سارے متعلقہ اداروں اور طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے اور بین الاقوامی مقابلے کے بغیر فیصلے کئے ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔

افتخار قیصر

 حکومت کے جن لوگوں نے سب طریقے اور اصول نظر انداز کئے اس کے پیچھے ان کے کیا مقاصد یا ذاتی مفادات ہیں؟

خورشید احمد

 میں جتنی بات کہہ سکتا ہوں وہ کہہ دی ہے اب اس سے رموز تک تو میری رسائی نہیں ہے۔

زیڈ یو خان

 اس بارے میں اخبارات میں باتیں آتی رہی ہیں کہ یہ کوئی کمیشن وغیرہ کا جھگڑا تھا آخر آپ کو بھی اس بارے میں کچھ تو علم ہو گا ؟

خورشید احمد

 بہر حال یہ بات میں آپ لوگوں پر ہی چھوڑتا ہوں۔ میرا بات کرنے کا اپنا طریقہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس بارے میں علم بھی نہیں ہے۔

افتخار قیصر

 اس بارے میں کہیں آپ اس لئے کچھ کہنے سے گریز تو نہیں کر رہے کہ آپ کی جماعت کی آئی جے آئی سے علیحدگی کے باوجود فی الحال یہ پالیسی ہو کہ موجودہ حکومت کی کرپشن کے اثرات پر عوام میں بات چیت نہ کی جائے۔ جبکہ اس کے برعکس ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دوسری حکومتوں مثلاًپیپلز پارٹی کی حکومت پر کرپشن کے الزامات کو اچھالنے میں جماعت سب سے آگے آگے رہی تھی۔؟

 خورشید احمد

 اب بھی ہم کرپشن کے خلاف سب سے آگے ہیں یعنی کو آپر یٹواسکینڈل میں ہم نے آئی جے آئی میں ہوتے ہوئے بھی اس کے اسکینڈل کی کھل کر مخالفت کی۔ موٹر دے کے معاملے میں بھی میں نے سینٹ میں آئی جے آئی کارکن ہونے کے باوجود کام کیا ہے۔ ویسے اس وقت موجودہ حکومت میں کرپشن کی بالکل وہی حالت ہے جو پیپلز پارٹی کی حکومت کی تھی۔

زیڈ یو خان

 جماعت اسلامی اور آئی جے آئی کی علیحدگی کے بعد اب یہ خبریں آرہی ہیں کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ واپسی کی کوئی کوشش ہو رہی ہے۔

خورشید احمد

جماعت اسلامی کے آئی جے آئی میں واپس جانے کا نہ کوئی امکان ہے نہ ہی اس کا سوال پیدا ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم یہ نہیں چاہتے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے کسی طرح مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ عبوری یا قومی حکومت کی میری نظر میں کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ حکومت میں ہر تبدیلی پارلیمنٹ کے اندر سے آنی چاہئے جب بھی کوئی تبدیلی با ہر سے لائی جائے گی وہ ملک کے دستور کو ختم کر دے گی اور ایسا پینڈورا بکس کھلے گا کہ ملک کے سیاسی مسائل کو قابو کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔ اس لئے دستور کو بچانا چاہئے اور اسی لئے ہم کسی قومی حکومت کے حق میں نہیں ہیں ۔ قومی حکومت تو اس وقت بنتی ہے جب کوئی قومی بحران ہو ۔ اب کوئی ایسا بحران تو موجود نہیں ہے اس لئے موجودہ حالات میں قومی حکومت کا کوئی جواز نہیں ہے۔

 افتخار قیصر

کیا آپ کی اس بات کا یہ مطلب لیا جائے کہ آپ موجودہ حالات سے مطمئن ہیں جبکہ سندھ میں فوجی آپریشن ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی کرپشن کے قصے بھی عام ہیں اور حکومت کے بعض ارکان پر عصمت دری کے واقعات میں ملوث ہونے اور بعض پر ان کی پشت پناہی کرنے کے الزامات موجود ہیں۔ ہیروئن اور اسلحہ عام ہونے کے مسائل اپنی جگہ ہے۔

خورشید احمد

میں حالات سے مطمئن ہرگز نہیں مگر میں حالات کی اصلاح کے طریقے کو سیاسی عمل کے دائرے میں رکھنے کے حق میں ہوں۔ اس سے باہر کسی طریقے کی حمایت نہیں کر سکتا۔

ظہور نیازی

 جماعت اسلامی پر خصوصی طور پر سوشلسٹوں کی طرف سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کی ایجنٹ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پاکستان میں عام ہے کہ وہاں کوئی حکومت امریکہ کی حمایت یا اشاروں کے بغیر قائم نہیں ہوتی تو کیا آپ لوگ امریکہ کی اتنی خراب ایجنٹی کرتے رہے ہیں کہ آپ کی حکومت کبھی نہیں بن پائی۔

 خورشید احمد

 آپ کے سوال میں ہی آپ کا جواب پوشیدہ ہے امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ اسلام سے ہے اسی لئے انہوں نے اسلامی فنڈا مسلم کی اصطلاح قائم کی ہے۔ الجیریہ کے انتخابات کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے بھی اگر ایسے لوگ جیت جائیں تو وہ امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ ہمارا تعلق نہ مغربی سیکولرازم سے ہے نہ مغربی کیپٹلام سے اور نہ مغربی ترقی سے ہے ہم صرف اپنے اور اپنے نظریات کے ایجنٹ ہیں۔

افتخار قیصر

جماعت اسلامی کے امریکہ کا ایجنٹ ہونے کے بارے میں شبہات شاید اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ سنا ہے کہ وہاں جماعت کی سب سے بڑی لائبریری قائم ہے اور امریکہ نے کئی دفعہ جماعت کو سرمایہ فراہم کرنے کے بہانے اس کی بہت ساری کتابیں بہت بڑی تعداد میں خریدیں اور ایک دفعہ امریکہ کے ایک میگزین ایگزیکٹو ریویو کے ایک تحقیقی آرٹیکل میں لکھا ہوا تھا کہ جماعت اسلامی اور حزب اسلامی امریکہ کی اتحادی جماعتیں ہیں۔

خورشید احمد

 امریکہ میں جماعت اسلامی کی کوئی لائبریری نہیں ہے اور انہوں نے کبھی ہماری کتابیں بہت بڑی تعداد میں نہیں خریدیں امریکہ میں اس وقت ہزاروں افراد جماعت اسلامی کی فکر کے علمبردار ہیں ان کا تعلق پاکستان ہندوستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے ہے وہ جماعت اسلامی کے نظریات کو وہاں پھیلا رہے ہیں ان کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں وہ تو اپنے روزگار وغیرہ کے سلسلے میں وہاں مقیم ہیں اب رہا معاملہ ایگزیکیٹو ریویو کا وہ تو امریکہ کے چند خبطی لوگوں کا رسالہ ہے وہ ایک غیر سنجیدہ سا میگزین ہے اس میں لکھی ہوئی باتوں پر اعتماد کرنا ایک بھول ہوگی۔

جاوید اقبال خواجہ

آئی جے آئی سے علیحدگی کے بعد کیا اب آپ کسی اور اتحاد میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 خورشید احمد

 یہ اتحاد تو بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں ہم بہر حال اپنی بنیاد پر ہی کام کرنا چاہتے ہیں اور ان بنیادوں پر جو بھی ہم سے تعاون کرنا چا ہے. ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے فی الحال کسی اتحاد میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں ہے۔

 نسیم ڈین

کیا جماعت اسلامی مذہبی جماعت ہے یا سیاسی جماعت اور پاکستان میں مسلمانوں کے شریعت بل کو مسیحی لوگوں پر بھی کیوں ٹھونسا گیا ہے۔ ان کو ان کی اپنی شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔

 خورشید احمد

 جماعت اسلامی نہ محض مذہبی جماعت ہے اور نہ ہی محض سیاسی جماعت ہے ۔ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے جس کی نگاہ میں اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے جو دین اور سیاست میں فرق نہیں کرتا اور جو انسان کی سیاسی زندگی میں بھی دینی اقدار ، اخلاقی اصولوں اور اللہ کے دیئے ہوئے احکامات نافذ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اسے مذہبی اور کچھ لوگ سیاسی جماعت کہتے ہیں ۔ جہاں تک مسیحوں کا تعلق ہے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جماعت اسلامی اور اسلام کی سیاست میں تمام انسان بحیثیت انسان محترم ہیں ان کی جان و مال عزت و آبرو حتی ٰ کہ ان کا مذہب ان کی تعلیم تہذیب اور تمدن سب محترم ہیں نبی پاک نے فرمایا ہے کہ اگر تم غیر مسلموں کے حقوق پامال کرو گے تو ان کی طرف سے میں دعوے دار ہوں گا ۔ ہم اس نظام کے داعی ہیں اس بنا پر جہاں غیر مسلموں کا تعلق ہے ہماری نگاہ میں ان کی جان و مال ان کی رسومات محترم ہیں اور ہم ان کی حفاظت کرنے والوں میں سے ہیں اور اسی بات کی ضمانت پاکستان کا دستور بھی دیتا ہے۔

شریعت بل کا شاید آپ نے مطالعہ نہیں کیا اس کے اندر کئی جگہ پر یہ بات کی گئی ہے کہ پاکستان کے دستور میں غیر مسلموں کو جو حقوق حاصل ہیں وہ اس بل سے متاثر نہیں ہوں گے۔

شاہد دستگیر

 آئی جے آئی کو چھوڑنے کے بعد جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین نے اپنے آپ کو دوبارہ انتخابات کے لئے کیوں پیش نہیں کیا ۔ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے بھی اس کا کیا جواز ہے؟

خورشید احمد

 جب ہم یہ طے کر رہے تھے کہ ہمیں آئی جے آئی کو چھوڑ دینا چاہئے اپنی پارٹی کے اس اجلاس میں ہم نے اس بات پر بھی غور کیا تھا کہ اخلاقی اور نظریاتی نقطۂ نظر سے کیا ہمیں اسمبلیوں سے استعفے دینے چاہئیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس موقع پر اسمبلیوں کے ہمارے تمام اراکین نے اپنے اپنے استعفے جماعت کے سپرد کر دیئے تھے مگر چونکہ عام انتخابات کے بعد حکومت سنبھالنے کے بعد آئی جے آئی اپنے دستور پر قائم نہیں رہی اور نہ ہی اس کے ماہانہ اجلاس منعقد ہوئے اس لئے آئی جے آئی تو ختم ہو گئی اور انتخابات میں بھی آئی جے آئی کے بہت سے اراکین اسمبلی جماعت اسلامی کے ووٹوں کی وجہ سے جیتے اگر ہمارے ووٹران کو ووٹ نہ دیتے تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لئے ہم نے ان سے یہ بات کہی کہ اگر آپ فی الحقیقت اس معاملے کو اخلاقی انداز میں لینا چاہتے ہیں تو پھر اس کا ایک ہی حل ہے کہ آئیے ہم سب مل کر استعفیٰ دیتے ہیں اور نئے انتخابات کرواتے ہیں۔ جہاں تک ملکی قانون کا تعلق ہے تو آئی جے آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی وہ ایک اتحاد تھا ۔ اس لئے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہماری پارٹی کے اراکین اسمبلی کے لئے اخلاقی طور پر استعفی دینا ضروری نہیں ہے۔

یوسف اختر

پاکستان میں جب سودی نظام اور کاروبار کو ناجائز قرار دیا گیا تھا اس وقت ایک بڑی بحث چھڑ گئی تھی خاص طور پر ایک وزیر سردار آصف احمد نے آپ کو اور دوسری مذہبی جماعتوں کو چیلنج کیا تھا کہ اس کا کوئی متبادل نظام پیش کریں کیا آپ نے اس سلسلے میں کوئی تجاویز پیش کی تھیں۔

 خورشید احمد

سودی نظام معاشی اور سیاسی استحصال کا سب ہے اور جب تک ہم اس سے ہٹ کر نئی بنیاد پر اپنے نظام مالیات اور بینکاری کو مرتب نہیں کریں گے ہم نہ تو اسلام کے اور نہ ہی آج کے دور کے تقاضے پورے کر سکیں گے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ متبادل نظام پیش کرنے میں کوئی کام نہیں ہوا اس لئے کہ ہم نے اس بات کو بیانات تقاریر اور مطبوعات کے ذریعے سے قوم کے سامنے رکھا ہے۔ سب سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک پینل بنایا ۔ ان لوگوں نے تقریباً پونے دو سو صفحات کی رپورٹ تیار کی اس میں ٹاپ کے بینکر شامل تھے پھر حکومت کو غیر سودی نظام کا پورا نقشہ پیش کیا گیا۔ اسلامک فاؤنڈیشن نے بھی اس سلسلے میں ایک کتاب شائع کی جس پر دو ایوارڈ بھی دیئے گئے اس وقت تقریباً ۵۸ جینک دنیا میں غیر سودی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ غیر سودی نظام کو رائج کرنے میں خود اعتمادی اور ایمان کی کمی آڑے آرہی ہے اسی وجہ سے لوگ اتنا بڑا اقدام کرنے سے گھبراتے ہیں۔

رشید احمد

 میں پاکستان کے اپنے حالیہ مشاہدے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ وہاں سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہے کیا آپ آج ان حالات میں خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت دیں گے اس سلسلے میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کنڈوم کا استعمال جائز ہے۔

پروفیسر خورشید احمد

 مجھے پتہ نہیں کہ اس کے استعمال سے معاشرتی ترقی ہوگی یا معاشرتی انحطاط پیدا ہو گا لیکن چونکہ میں معاشیات کا ایک ادنی ٰسا طالب علم ہوں میں آپ سے بڑے ادب سے عرض کرتا ہوں کہ بنیادی مسئلہ پیدائش نہیں ہے بلکہ بنیادی مسئلہ ان انسانوں کی صلاحیتوں کے صحیح استعمال کا ہے جو پیدا ہو چکے ہیں۔ جس اللہ نے انسان کو ایک منہ دیا ہے اس نے اس کے ساتھ دو ہاتھ دو پاؤں بھی دیئے ہیں۔ اگر آپ ان سب کو ٹھیک طریقے سے استعمال کریں تو ہمارے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں۔ جن بنیادوں پر خاندانی منصوبہ بندی کی تحریک مغربی ممالک میں چلی ہے یا مشرقی ممالک میں چلائی جارہی ہے ۔ وہ اس سے بہت مختلف ہے جو آبادی کے اس مسئلے کو روکنے میں مدد دے گی جس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ آبادی اس قدر بڑھ جائے گی کہ کائنات بھی تنگ ہو جائے گی انسانوں کی کائنات سے ضروریات پوری نہیں ہوں گی یہ سب مفروضے ہیں۔ جتنا سرمایہ خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر اب تک صرف ہو چکا ہے وہ سرمایہ اگر لوگوں کی اصلاح و بہبود اور تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو کہیں زیادہ بہتر ہو گا۔

رشید احمد

یعنی آپ خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دیں گے۔

خورشید احمد

میں اجازت دینے یا نہ دینے کی بات نہیں کر رہا میں تو شریعت کی بات کر رہا ہوں شریعت کا حکم یہ ہے کہ جان بوجھ کر آبادی کو کم کرنے کی کوشش کرنا حرام ہے لیکن اس طرح کی  پالیسیاں بنانا اور ان کی بنا پر لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے لئے مجبور کرنا یا نس بندی یا کنڈوم کے استعمال کے لئے کہنا صحیح نہیں ہے۔

افتخار قیصر

 اگر آپ لوگ ملک کے اندر غیر سودی نظام قائم کروانے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو پاکستان بڑے بڑے غیر ملکی قرضوں کا جو سود ادا کرتا ہے اس کا کیا بنے گا۔

خورشید احمد

 اس پر تھوڑا سا وقت ضرور لگے گا مگر یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا اس سلسلے میں بھی ہم نے کام کیا ہے۔

 افتخار قیصر

پاکستان میں غیر سودی نظام کے متعلق بحث سن کر غیر ممالک میں آباد ہم جیسے پاکستانیوں کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس طرح تو ہم پر مکانات خریدنے کے لئے مار گیج لینا بھی حرام ہو جائے گا۔

خورشید احمد

 مار گیج لیتا حرام ہو نہیں جائے گا وہ تو پہلے سے حرام ہے اس کا متبادل نظام جس کے تحت امریکہ میں مسلمانوں نے ہاؤسنگ اور کارلیز وغیرہ کی کمپیناں قائم کی ہوئی ہیں۔ سینکڑوں افراد ان سے قرضے لے رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »