پاکستان بھارت اور عالم اسلام

پروفیسر خورشید احمد
بسم الله الرحمٰن الرحیم
پروفیسر خورشید احمد نے سینٹ آف پاکستان میں اپنی پہلی مدت، مارچ ۱۹۸۵ء سے فروری ۱۹۹۱ء کے دوران میں مختلف ملی، قومی اور وقتی مسائل پر جو تقاریر کیں انہیں مرتب کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان تقاریر کے موضوعات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ تاہم چار عنوانات کے تحت انہیں جمع کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک’’ پاکستان، بھارت اور عالم اسلام ‘‘آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
دیگر تین یہ ہیں۔
- پاکستان میں نفاذ اسلام
- جمہوریت پارلیمنٹ اور اسلام
- پاکستانی سیاست اور آئین
ان میں سے ہر ایک اپنے موضوع پر علیحدہ کتاب کی حیثیت رکھتی ہے اور متعلقہ موضوع کے طالب علم کو اس میں نہایت قیمتی موازنہ ملے گا۔
ہر تقریر کا اپنا پس منظر ہے جو تقریر کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے۔ جہاں ضرورت محسوس کی گئی آغاز میں فْٹ نوٹ میں ضروری وضاحت کر دی گئی ہے۔ تقریر کی تاریخ بھی حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ تقریر کے آخر میں درج کر دی گئی ہے۔
ترتیب دیتے ہوئے، تقریر کے انداز کو برقرار رکھا گیا ہے۔ قاری کی سہولت کے لیے ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں۔ مختصر تقاریر کو ایک عنوان کے تحت جمع کر دیا گیا ہے۔ انگریزی اقتباسات کے تراجم بھی دے دیے گئے ہیں۔ بعض تقاریر میں مختلف موضوعات زیر بحث آئے ہیں اور تقسیم کے لحاظ سے وہ ایک سے زائد مجموعوں سے متعلق ہیں۔ تاہم ایسی صورت میں تقاریر کو حصوں میں تقسیم کرنے سے احتراز کرتے ہوئے، تقریر کے مرکزی خیال یا غالب حصے کو پیش نظر رکھ کر اسے کسی ایک جگہ شامل کر دیا گیا ہے۔
قاریئن مطالعہ کے دوران کوئی سقم محسوس کریں تو توجہ دلائیں ، ہم ان کے ممنون ہوں گے۔ مرتبین، پروفیسر خورشید احمد کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہم پر اعتماد کیا اور ہم یہ ملی و قومی خدمت انجام دے سکے۔ اللہ تعالی ہماری یہ کوشش قبول فرمائے۔
ابتدائیہ
خارجہ پالیسی روایتی طور پر مملکت کی سلامتی کے امور سے بحث کرتی ہے۔ سلامتی قومی سطح پر، علاقائی سطح پر اور عالمی سطح پر۔ نیز سلامتی بھی صرف سیاسی یا دفاعی معنی میں نہیں بلکہ اپنی تمام وسعتوں میں جس میں سیاسی اور دفاعی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ معاشی، تہذیبی اور نظریاتی پہلو بھی شامل ہیں۔
ریاستوں کے مابین تعلقات طاقت کے توازن کے حوالے سے گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اور ہر قوم کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس تناظر میں اپنا صحیح مقام حاصل کرے۔ کچھ عرصہ سے خارجہ پالیسی کا جھکاؤ صرف سیاسی حوالے ہے ہی نہیں بلکہ معاشرت، معیشت، ثقافت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے تعاون حاصل کرنے کی طرف بھی ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی قوم کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ نظریاتی جہت بھی پائی جاتی ہے خواہ یہ محدود سطح پر ہو یا وسیع مذ ہبی ، تہذیبی اور اخلاقی سطح پر ۔ حالیہ دور میں خارجہ تعلقات کی معاشی جہت بے حد نمایاں ہو گئی ہے، اگر چہ تاریخ میں کوئی بھی ایسا دور نہیں گزرا ہے جب معاشیات نےبین الاقوامی تعلقات میں کچھ نہ کچھ کردار نہ ادا کیا ہو۔ مثال کے طور پر ہم استعماریت کے دور کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ ہم گزشتہ پانچ صدیوں کے دوران ریاستوں کے باہمی تعلقات کے قیام میں معیشت کے کردار کو نہ سمجھ لیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کے مرحلہ میں سرمایہ داری اور اشتراکیت کے درمیان باہم مقابلہ کے حوالے سے معاشی ترقی کو نئی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
۱۹۷۰ء کے عشرے کے وسط سے انسانی حقوق کے لیے فکرمندی کے ایک نئے عنصر نے بھی خارجہ پالیسی میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ جس کے بڑے دوررس اثرات ہیں اور جس کی وجہ سے قومی حاکمیت (National Sovereignity) کا روایتی تصور بھی تبدیل ہو رہا ہے اور اس طرح ایک ملک کے معاملات میں دوسرے کی مداخلت کی حدود بھی تغیر پذیر ہیں۔ اس سلسلہ میں نیورمبرگ ڈائل کے موقع پر’’ انسانیت کے خلاف جرائم‘‘کے باب میں جو مؤقف اختیار کیا گیا اس نے قانونی اقدام کے تصور پر بڑے دوررس اثرات مرتب کیے۔ اور پھر اسی کی معاہدات نے ثقافت، ابلاغ اور انسانی حقوق کو بھی بین الاقوامی تعلقات کے قیام میں اہم مقام دے دیا ہے۔ اس لیے حالیہ تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے خارجہ پالیسی اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے اس وسعت پذیر تصویر کے تدریجی لیکن یقینی اثرات کا مکمل ادر اک ضروری ہے۔ اب ثقافتی روابط اور نظریاتی پہلو خارجہ پالیسی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
ز رائع ابلاغ میں انقلابی تبدیلیاں اور خصوصاً ان کا وہ کردار جو وہ آج بین الاقوامی تعلقات کی تعمیر و تشکیل میں ادا کر رہے ہیں سنجیدگی سے قابل غور ہے۔ اس سلسلہ میں ذرائع ابلاغ نے جو کردار فاک لینڈ اور خلیج کی جنگ میں اور اس کے علاوہ بھی ریاستوں کے مابین تعلقات میں ادا کیا ہے، سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ایران کا یر غمالی بحران (hostage crisis) اور ایران کے بارے میں دنیا کے رویہ کو متاثر کرنے میں اس کا کردار، اب خارجہ پالیسی پر گفتگو کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کی اہمیت بھی مسلم ہے اور پالیسی ساز اس میدان کی تازہ ترین ترقیات سے اپنے کو غیر متعلق نہیں رکھ سکتا۔ خلیج کی جنگ میں خارجہ پالیسی کے ایک عامل کے طور پر اس کا استعمال ایک نئی بات ہے۔ یہ تمام پہلو بڑے اہم ہیں اور ہم ان سب کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اتنی بات واضح ہے کہ 90ء کے عشرے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہمہ جہت اور جامع نقطہ ٔنظر اپنا نا ہوگا۔ دوسری طرف وہ منظر نامہ بھی برابر کی اہمیت رکھتا ہے جس کے حوالے سے خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے۔ در حقیقت خارجہ پالیسی کا جائزہ ایک مسلسل اور باقاعدہ عمل ہونا چاہیے۔ آج ہم تاریخ کے ایک انتہائی اہم دور سے گزر رہے ہیں جس میں خارجہ پالیسی کے از سر نو جائزہ کی ضرورت ہے۔
خارجہ پالیسی کو صرف دفتر خارجہ کے حوالے کر دینا خوشگوار بات نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دفتر خارجہ میں کام کرنے والے افراد کے پاس اعلیٰ خصوصی مہارت اور وسیع تجربات ہوتے ہیں جن کی بناء پر وہ قوم کی خارجہ پالیسی تشکیل دینے اور اس پر عمل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن ملک میں ایسے تحقیقی ادارے، جامعات اور اہلِ فکر و نظر بھی ہیں جو طویل المدت حکمت عملی کے لیے سوچنے میں اور بنیادی راہنما خطوط متعین کرنے میں ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔ خود دفتر خارجہ میں جس چیز پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے وہ بدلے ہوئے حالات کے مطابق خارجہ پالیسی پر غور و فکر اور اس کا عمیق تجزیہ ہے۔ اسی طرح سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کا کردار بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں بشمول ہمارے، سیاست قوم کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ جیسا کہ انگریز مصنف سیمیول جانسن نے کہا ہے۔ ’’قانون سازوں کو اور ذرائع ابلاغ کو خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ بد قسمتی سے وہ کوئی حصہ ادا نہیں کرتے۔ یہی ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کی ایک وجہ ہے‘‘ ۔
ان حالات میں پچھلے پینتالیس سال میں ہم جو کچھ حاصل کرنے کے قابل ہوئے ہیں اس کا جائزہ اور آنے والے نازک حالات کے حوالے سے نئی فکر کی تشکیل لازم ہے۔ خارجہ پالیسی نے ہمارے قومی مفادات کی بہتری میں جو کردار ادا کیا ہے ہمیں اسے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہم ناکام نہیں رہے ہیں۔ کئی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ ہمیں اپنی پالیسیوں کا معروضی جائزہ لینا چاہیے اور بدلے ہوئے حالات کا ادراک کر کے اپنا رد عمل طے کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں جانبدارانہ رویہ اور یک رنگی سے احتراز کرنا چاہیے۔
آج کے تناظر میں میرے نزدیک “پاکستان کی خارجہ پالیسی” کے حوالے سے درج ذیل گیارہ نکات قابل غور ہیں۔
۱۔سرد جنگ کا خاتمہ
دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی تعلقات کی جو عمارت دو سپر پاورز کے درمیان رقابت پر تعمیر ہوئی تھی، وہ اب گر گئی ہے۔ ۱۹۴۹ء سے ۱۹۸۹ء تک کا تقریباً ۴۰ سال کا عرصہ سرد جنگ کا دور تھا۔ جس میں سپر پاورز نے روایتی ہتھیاروں سے اور پھر نیو کلیاتی قوت سے ایک دوسرے کی طاقت اور دائرہ کو محدود کرنے کے لیے کوشش کی، اس کوشش نے جہاں کئی میدانوں میں کشمکش اور اہم تنازعات پیدا کیے وہیں اس نے عالمی سطح پر امن قائم رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہر اس عرصہ کے دوران دونوں نظاموں یعنی اشتراکیت اور مغربی سرمایہ داری کے درمیان نظریاتی کشمکش بھی رہی ہے۔ روسی اشتراکیت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کے ساتھ ہی وہ پرانا نظام جس پر قوت کی مساوات (Balance of power) قائم تھی ختم ہو گیا اور اس کے ٹوٹنے کے بعد دنیا کے سیاسی منظر پر ایک بنیادی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ آج پاکستان کو اس کی روشنی میں اپنی پالیسی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
۲-یک قطبی دنیا
نیو ورلڈ آرڈر کے سائے بڑھتے جارہے ہیں۔ ایک نقشہ یہ ہو سکتا ہے کہ یک قطبی دنیا میں ایک سپر پاور ہی غالب ہو۔ بین الاقوامی ایجنسیاں (بشمول اقوام متحدہ) ان کے خادم ہوں اور بین الاقوامی قانون محض اس کی مرضی کی آواز بازگشت بن کر رہ جائے۔ نظاہر دنیا ایک ایسے ہی دور کی طرف بڑھتی نظر آرہی ہے۔ چنانچہ ایک سپر پاور کی بالادستی کے امکان کو مسترد نہیں کر سکتے۔ اس لیے کوئی پالیسی بنانے میں اس پہلو کو مد نظر رکھنا چاہیے۔
۳۔ اسلامی بنیاد پرستی
مسلم دنیا پر آج اسلامی بنیاد پرستی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ میں نے جان بوجھ کر الزام کا لفظ استعمال کیا ہے کیوں کہ قدیم دشمن کیمونزم کی خاتمے سے پیدا کردہ خلا کو ایک نئے دشمن سے جس کا نام’’ اسلامی بنیاد پرستی ” رکھا گیا ہے پر کیا جارہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یورپ بلکہ تمام مغربی دنیا کے اعصاب پر یہ خطرہ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح سوار ہو گیا ہے۔ مغرب خود ہی اس کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہے اور سب کو اس کا ہوا دکھا رہا ہے۔ اس پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کتابوں، مطالعوں اور سیمیناروں کا ایک سلسلہ یورپ اور امریکہ سے جاری ہے۔ امریکہ میں تو اسلامی بنیاد پرستی کو مستقبل کا خطرہ قرار دے دیا گیا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے یہ الفاظ ریکارڈ پر ہیں کہ یورپ کا نقشہ بدل گیا ہے، بلاشبہ وہ خطرہ جسے سرخ رنگ سے نقشہ پر دکھایا جاتا تھا غائب ہو گیا ہے، لیکن نیٹو کی ضرورت کسی طرح بھی کم نہیں ہوئی کیونکہ سُرخ کی جگہ سبز رنگ کی شکل میں نیا خطرہ رونما ہوتا نظر آ رہا ہے۔ رونالڈ ریگن کی خود نوشت (Ronald Reagon: An American life) اس مفروضہ دیو کے تذکرہ سے بھری پڑی ہے اور سابق صدر رچرڈ نکسن کی حالیہ تصنیف (Seize the Moment) میں اسلامی بنیاد پرستی اور اس کے مقابلہ کی حکمت عملی کے لیے ایک مکمل باب وقف کیا گیا ہے۔ نکسن نے پاکستان کا ذکر اچھے الفاظ میں کیا ہے اور اسے ہوا بنا کر نہیں دکھایا لیکن ایران اور بنیاد پرستی کے عمومی احیاء کو خطرہ کی شکل میں پیش کیا ہے۔ میرے خیال میں ہم اپنی خارجہ پالیسی بناتے ہوئے اس صورت حال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
۴۔ طاقت کے نئے مراکز
سوویت یونین کے زوال کے باوجود روسی فیڈریشن ایک اہم ملک ہے اور اپنی داخلی کمزور ہوں کے باوجو د رہے گا۔ اس کے علاوہ تین ممالک یعنی جاپان، چین اور جرمنی میں عالمی طاقت بننے کی صلاحیت ہے اور وہ ایک قطبی دنیا کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے خصوصاً مسلم ممالک کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ جاپان کو معاشی اقدامات سے غیر مستحکم کیا جارہا ہے۔ جاپان کی مظبوط معیشت کو ایک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے کہ اس میں یہ سیاسی اور دفاعی صلاحیت ہے کہ وہ امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سامنے ڈٹ جائے۔ جرمنی کا اتحاد اور یورپ کو متحد کرنے میں اس کا کردار، فرانس کے ساتھ دوستی، یوگوسلاویہ کے بحران کے حل میں اس کا قائدانہ کردار اور کروٹس کے لیے اس کے اقدام نے امریکہ کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ چین دوسرا ملک ہے جو ان مایوس کن حالات میں امید کا پیغام ہے۔ اسی لیے چین کو تنہا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مذکورہ تینوں چیلنج کا مقابلہ امریکہ کی مجموعی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ جاپان، چین اور جرمنی اُن اقوام کے فطری علیف ہو سکتے ہیں جو یک قطبی دنیا کے تصور سے خوش نہیں ہیں۔ نئے حقائق کا ایک رخ یہ بھی ہے۔ پاکستان کے لیے اس سلسلہ میں چین کی دوستی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اسی طرح پاکستان کو جاپان سے بھی روابط بڑھانے چاہییں۔ چین، جاپان اور مسلم دنیا کے درمیان معاشی اور سیاسی تعاون دنیا کے توازن طاقت کو متاثر کر سکتا ہے۔
۵-علاقائی اور نسلی قومیتیں
بین الاقوامی تعلقات میں ایک متضاد صورت حال پائی جاتی ہے۔ ایک طرف قومی ریاست سکڑ رہی ہے اور اس کی جگہ لینے کے لیے بالائے ریاست ادارے ابھر رہے ہیں۔ قومی ریاست اور اس کی محدود حاکمیت کے تصورات ماند پڑ رہے ہیں اور بین المملکتی اتحاد اور الحاق روز افزوں ہیں۔ دوسری طرف نسلی اور علاقائی قومیتیں سر اُٹھا رہی ہیں اور یورپ اور ایشیاء میں اہم سیاسی قوتیں بن رہی ہیں۔ ایک طرح سے نوآ بادیاتی دور کا منظر دوبارہ سامنے آر ہا ہے جب فرانس افریقہ میں آیا تو یہ ایک ملک تھا اور جب وہ وہاں سے گیا تو ۱۷قومی ریاستیں بنا کر گیا ۔ اب یورپ میں وسط ایشیا جیسی صورت حال ہے جہاں نسلی اور علاقائی قومیتیں سر اٹھا رہی ہیں۔ اور قومیت اور سیکولرزم کا کتنا ہی طمع کیوں نہ چڑھایا جائے اس اکھاڑ پچھاڑ کے اندر مذہبی جہتیں ہیں۔ سربوں کے ساتھ روس کی پالیسی کا تعین آرتھوڈ کس عیسائی کر رہے ہیں جنہوں نے چار صدیوں سے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ بات غیر اہم نہیں کہ قبطی سیکرٹری جنرل نے بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے کے یورپی اقدامات کی مخالفت کی۔ کیا وہ ایسا کرنا سرب عیسائیوں کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے؟ اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
۶۔ ترقی کے ایک دور کا خاتمہ
معاشی ترقی کے جو ماڈل اور اس کے حصول کے لیے جو حکمت عملی دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنائی گئیں، ان کی ناکامی ایک حقیقت ہے۔ لیکن اس کا صحیح ادر اک نہ ترقی یافتہ ممالک میں ہے اور نہ ترقی پذیر ممالک میں، ایک نئی اور زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔ بریٹن وڈز پر کیے گئے انتظامات اب غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کا قرضے کا بحران آئے دن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک ریو کی حالیہ سر براہی کانفرنس میں ترقی کے اس طریقہ کار کا کتبہ لکھ دیا گیا جو پچھلے ۴۰ برسوں میں اپنا یا گیا تھا۔
۷۔ اسلحہ پر پابندی
ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر مغرب کی نئی تشویش سے بھی نئے مسائل پیدا ہوں گے۔ ابھی تک وہ ہتھیاروں کو بنانے والے اور فروخت کرنے والے ہیں۔ لیکن پچھلے چند سالوں میں ان پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ ہتھیار اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کر سکتے ہیں جن کو وہ کنٹرول نہ کر سکیں گے اور جو اُن کے اسٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس نے ایک بالکل نئی صورت پیدا کر دی ہے جس کا مقابلہ کرنا تیسری دنیا اور خصوصیت سے مسلم ممالک کے لیے ضروری ہے۔
۸۔ مسلم ممالک سے امتیازی سلوک
علاقے کے لیے خلیج کی جنگ کے نتائج اور مضمرات کا تجزیہ کرنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی بھی مسلمان مملکت کو اتنا مضبوط ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ آزاد پالیسیاں اختیار کر سکے۔ ایران اور پاکستان کو محتاط ہونا چاہیے اور اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے نے حکمت عملی تیار کرنا چاہیے۔
۹۔افغان جہاد کے بعد
افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کا ممکنہ قیام اور وسط ایشیا سے رابطہ ایسی حقیقی تبدیلی کا آئینہ دار ہے جو پورے علاقے کے لیے، پاکستان کے لیے، تمام مسلم دنیا کے لیے اور لادینیت کے مستقبل کے لیے طویل المیعاد نتائج کی حامل ہے۔ مغربی ممالک جو ایک وقت افغانستان میں روس کی شکست میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے تھے اب ان کی دلچسپیاں یکسر بدل گئی ہیں۔ اب وہ افغانستان کے استحکام میں نئے خطرات کی بو سونگھ رہے ہیں اور افغانستان کی خانہ جنگی سے اپنے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان حالات میں پاکستان کی افغانستان پالیسی اور پاکستان اور افغانستان میں تعاون کے ایک نئے دور کو حقیقی بنانے کی سعی ہماری خارجہ پالیسی کے اہم چیلنج ہیں۔
۱۰۔بھارت کا خطرہ
پاکستانی تناظر میں بھارت کا جنوبی ایشیا میں ایک بڑی طاقت بننے کا منصوبہ ہمارے لیے بڑی تشویش کی بات ہے۔ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ در حقیقت ۱۹۸۲-۸۳ء میں جب ہم نے افغانستان میں مجاہدین کے حق میں موقف اختیار کیا اس وقت سے امریکہ نے بھارت میں نسبتاً زیادہ دلچسی لینا شروع کر دی تھی۔ بد قسمتی سے ہمارے پالیسی ساز اس کا نوٹس لینے میں ناکام رہے۔ اسی طرح بھارت کی چین کے ساتھ حالیہ مصالحت پر پوری طرح نظر رکھنی چاہیے اور اس کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ نیز ان حقائق کی روشنی میں اپنے مقام کی حفاظت اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے بندوبست کی فکر ہمارے لیے ضروری ہے۔ میں اب بھی اس رائے کا حامی ہوں کہ پاکستان اور چین کے مفادات ہم آہنگ ہیں اور آئندہ بھی دونوں کا ایک دوسرے کے لیے اہم سہا را رہنا ضروری ہے۔
۱۱۔امریکہ پر انحصار
آخری اور نازک مسئلہ پاکستان کا امریکہ پر انحصار ہے جس کا آغاز اکتوبر ۱۹۴۷ء ہی سے ہو گیا تھا ۱۹۵۴ء سے لے کر اب تک ہماری خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی کا سب سے اہم پہلو رہا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج تک یہ انحصار یک طرفہ رہا ہے جس نے ہمیں اپنے کرنے میں عدم توازن سے دوچار کیا ہے اور ہمیں امریکی سازشوں کا شکار بھی بنایا ہے۔ یوں ایک آزاد مسلم ملک کی حیثیت سے ہمارے کردار کو مجروح کیا ہے۔
ان سب مسائل اور چیلنجوں کے باوجود پاکستان کا ایک عظیم مستقبل ہے۔ ہم میں کمزوریاں ضرور ہیں مگر کمزوریوں سے پاک کون ہے؟ اسلام کے ساتھ ہمارے تاریخی عہد کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس ملک کو قائم کرنے والے اس کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے تھے اور یہاں کے عوام بھی بھی چاہتے ہیں۔ اگر چند سیاستدانوں نے پاکستان کی تقدیر کے ساتھ بے وفائی کی ہے یا کچھ سیکولر رہنما لوگوں کی خواہشات پر پورا نہیں اتر سکے تو یہ ایک دوسری بات ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے چند نظریاتی پہلو جو کسی حد تک نظر انداز کر دیئے گئے تھے، نئے عزم اور جذبے اور مناسب حکمت عملی کے ساتھ بحال کیے جانا چاہئیں۔ اس سلسلے میں میری گزارشات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔نظریاتی خارجہ پالیسی
ایک نظریاتی ریاست کی خارجہ پالیسی کا واضح تصور ہونا چاہیے اس لیے کہ اس ریاست کا صرف سیاسی اور معاشی یا جغرافیائی وجود نہیں ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کر ایک اصولی اور نظریاتی ریاست ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک نظریاتی ریاست اپنے اسٹرٹیجک مفادات، اور سلامتی اور معیشت کی فکر نہ کرے۔ اس کے بر عکس ہماری خارجہ پالیسی کو ہماری قوم کے مفادات، ضروریات اور اقدار کا بہترین امتزاج ہونا چاہیے۔ اور ساتھ ہی لچکدار ہونا چاہیے اس لیے کہ ایسے حالات ہو سکتے ہیں ایک کو دوسرے کی خاطر کم اہمیت دی جائے لیکن ان میں سے کسی کو بھی بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام عوامل کے درمیان حقیقی توازن ہونا چاہیے۔ یہ واضح رہے کہ اسلام ہمیں ان معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا جو بین الاقوامی سفارت کاری کی حدود سے باہر ہوں۔ ہماری سفارت کاری کو کتابی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں نظر پاتی اور انقلابی اُمنگ ہونا چاہیئے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ لفاظی اور عمل الگ الگ دائرے ہیں۔ بد قسمتی سے ہم لفاظی میں بہت آگے اور عمل میں بہت پیچھے ہوتے ہیں۔ جب کہ ہونا اس کا الٹ چاہیے۔
۲– امت مسلمہ
ایک اسلامی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح اس ملک کی سلامتی اور ترقی ہونی چاہیے۔ پاکستان امت مسلمہ کا ایک حصہ ہے۔ ہمارے لیے امت مسلمہ کا اتحاد اور ترقی کا مسئلہ بھی سرِ فہرست ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، ہمیں اس کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ اگر مغرب انسانی حقوق کے نام پر تشویش میں مبتلا ہو سکتا ہے اور یہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت تصور نہیں کی جاتی تو بحیثیت مسلمان ہمارے اظہار تشویش کے لیے دوسرا معیار کیوں ہو؟ پاکستان کی ترقی و استحکام اور امت مسلمہ کی وحدت اور اس میں باہمی تعاون کا فروغ ہماری خارجہ سیاست کے واضح اہداف ہونا چاہییں۔
۳۔عادلانہ عالمی نظام
ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اور ہدف ایک عادلانہ عالمی نظام کا قیام ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نظریہ کے کردار کی کلید بھی ہے اور “اسلامی بنیاد پرستی” کے مفروضہ خطرے کا جواب بھی یہی ہے۔ اپنی اقدار پر قائم رہتے ہوئے ہمیں اہل مغرب کو یہ بتانا چاہیے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے مذہب، تہذیب اور ثقافت میں کثرت کو تسلیم کیا ہے۔ ہم صرف یہی نہیں چاہتے کہ دوسرے اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کریں بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ملے۔ کثرت (Pluralism) کو تسلیم کرنے کے اس اصول پر ایک عادلانہ عالمی نظام قائم کیا جاسکتا ہے نہ کہ واحد نظریے، واحد سیاسی نظام اور واحد معاشی نظام کے تصور کو دوسروں پر تھوپ کر ۔ سرد جنگ کے دور کا ایک خوشگوار پہلو یہ ضرور تھا کہ بڑی طاقتوں کی رقابت میں دنیا کے محروم اور پسماندہ ممالک کو بھی اپنا مقام بنانے کی گنجائش ملی۔ پرانے نظام کے خاتمہ سے ہم سترھویں اور اٹھارہویں صدی کی سیاست کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اور یہ وقت ہے پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کے ایک عادلانہ عالمی نظام کے علمبردار کی حیثیت سے سامنے آنے کا۔ اس کا مطلب نہ تنہائیت پسندی ہے، نہ Autarky یا علیحدگی، بلکہ اس کا مطلب ہے سب کے ساتھ دوستی۔ چین کے ساتھ ہماری دوستی۔ جس کی نبیاد عدم مداخلت اور ایک دوسرے کی سالمیت کے احترام پر ہے، اسلام کی دوسروں کے ساتھ چلنے کی ایک اچھی مثال ہے۔
ہمیں اپنی ریاست اور خارجہ پالیسی کے امور میں نہ صرف اپنی خاطر، بلکہ غیر مسلموں کی خاطر بھی اخلاقی پہلو کو اہمیت دینا چاہیے۔ دوسروں کی محتاجی ختم کرنے اور خود انحصاری کی حکمت عملی اختیار کرنے کا مطلب تنہائیت (Isolationism) نہیں ہے۔ ہمارا ہدف خود مختاری ہے جو ایک جامع اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ رہنے کے لیے تو تیار ہیں لیکن ان کے محتاج ہو کر نہیں کہ دوسرے ہم پر حکم چلائیں، یہ ہمارے مسلمان ہونے کے شرف کے خلاف ہے۔
اسلامی نقطہ ٔنظر سے یہ خود انحصاری پاکستان کی بنیاد پر اور پھر مجموعی طور پر پوری اُمت مسلمہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا میں کئی اسٹرٹیجک مراکز بنا کر ہم اس سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کا تعاون اور پالیسی کے میدان میں ہم آہنگی نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خلیج، جنوب مشرقی ایشیا، مغربی ایشیاء ، وسطی ایشیا اور مغربی افریقہ دوسرے مراکز ہو سکتے ہیں۔ ایک خاص مدت میں پوری مسلم اْمہ کی حقیقی خود انحصاری کے حصول کے لیے یہ چھ مراکز پہلا قدم ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں اعلانات اور دعوے کم کرنا چاہیں اور انسانی اور معاشی وسائل کے باہم رابطہ اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچہ کی منصوبہ بندی اور تعمیر کے لیے سنجیدہ کوشش ہونا چاہیے۔ امت کی اجتماعی خود انحصاری کی عمارت انہی بنیادوں پر تعمیر ہو گی۔
اس کی بھی ضرورت ہے کہ مسلم ممالک کی باہمی آویزشوں کا تصفیہ کرنے کے لیے کوئی طریقہ کار طے ہو۔ بد قسمتی سے او۔ آئی۔ سی بھی اس معاملہ میں کچھ نہیں کر سکتی ہے اور اس میں پاکستان کا کردار بھی مایوس کن ہے۔ چنانچہ آپس کی کشمکش اور تناؤ کو ختم کرنے کے لیے کسی میکانزم کی ضرورت ابھی باقی ہے۔ اسلامی خارجہ پالیسی کو غیر فرقہ وارانہ ہونا چاہیے۔ شیعہ سنی تنازعہ بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ یہ پاکستان، ایران اور افغانستان کے تعلقات کو ناخوشگوار بنا سکتا ہے۔ اس سے نظریں بند کرنا ہمیں حقیقت سے دور کر دے گا۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں اسے آڑے نہیں آنے دینا چاہیے بلکہ ہمیں اسلامی حدود میں ایسے طریقہ کار وضع کرنا چاہیں جن سے پاکستان اور افغانستان میں شیعہ اقلیت اور ایران میں سنی اقلیت کے حقوق کو تحفظ اور ضمانت ملے اور یہ ملک اسلامی ہم مقصدیت کے ساتھ ساتھ ذہب اور مسلک کے باب میں باہم رواداری کی ایک روشن مثال قائم کر سکیں۔ مندرجہ بالا گزارشات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل نو کے لیے رہنما اصول کا کام دے سکتی ہیں۔ میں نے گزشتہ آٹھ نو سال سینٹ کے پلیٹ فارم سے انہی خیالات کے اظہار کی مسلسل سعی کی ہے۔ میری یہ تمام تقاریر اور تحاریک جن کا تعلق خارجہ سیاست سے تھا اس کتاب کی شکل میں مرتب کر دی گئی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جو حضرات اس کتاب کا مطالعہ کریں گے ان کو ایک نظریاتی مملکت کی خارجہ پالیسی کے تقاضوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور عالمی برادری میں پاکستان کے کردار کا ایک واضح تصور ان کے سامنے آسکے گا۔
اس مجموعہ کے مرتب کرنے میں سب سے زیادہ محنت اور عرق ریزی میرے عزیز رفیق کار سجاول خان رانجھا کی ہے۔ سینٹ کی فائلوں سے ان تقاریر کو نکالنا، تقریر کے اسلوب کو تحریر کے قالب میں ڈھالنا، پھر اس تمام لوازمہ کو مناسب ترتیب سے ابواب کی شکل میں مرتب کرنا انہی کی محنت کا ثمر ہے۔ برادر مسلم سجاد اور برادر خالد رحمٰن نے پورے مسودہ پر نظر ثانی کی اور تقریر اور تحریر کے بہت سے جھول دور کیے۔ جبکہ ترتیب اور طباعت و اشاعت کے دیگر مختلف مراحل میں بر اور راؤ محمد اختر، برادر وجیہ احمد صدیقی برادر محمد پرویز، برادر لیاقت بیگ اور برادر طارق ضیاء کی محنت بھی شامل ہے۔ اب یہ مباحث نسبتاً صاف ستھرے اور بڑی حد تک مربوط انداز میں اس مجموعہ کی شکل میں نذر قارئین کیے جارہے ہیں۔ جہاں میں اپنے عزیز معاونین کا منمون ہوں وہیں اس بات کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجموعہ میں اگر کچھ ستم رہ گئے ہیں اور قاری کو کہیں کہیں تکرار کا احساس ہو تو اس کی ذمہ داری مجھ پر اور اس مجموعہ کی نوعیت پر ہے۔ مجھے توقع ہے کہ ان خامیوں سے صرف نظر کیا جائے گا۔ میری سینٹ آف پاکستان میں کی گئی تقاریر کا یہ دوسرا مجموعہ ہے۔ توقع ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی اس سلسلہ کے تیسرے اور چوتھے مجموعے بھی زیور طباعت سے آراستہ ہو سکیں گے۔
خورشید احمد
اسلام آباد
۱۷ رمضان المبارک۱۴۱۴ھ
۲۸ فروری ۱۹۹۴ء
پاکستان، بھارت اور عالم اسلام



