ArticleIslamIslamic PoliticsMedia Article

اُسوۂ ابراہیمی اور امت اسلامیہ کا حالِ  زار

                امت مسلمہ اس اعتبار سے بڑی خوش نصیب ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام بے پایاں ہی نہیں بڑی حد تک منفرد اور بے مثال بھی ہیں۔ قرآن اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر الطاف و عنایات کی اس کہکشاں کے آفتاب و مہتاب ہیں تو نماز، زکوۃ، روزہ، رمضان، لیلتہ القدر ، حج ، عمرہ اور جہاد اس کے روشن اور تابناک ستارے ، جن سے نہ صرف یہ کہ حسن کائنات اور جمال ہستی دوبالا ہے بلکہ نور کے یہ مینار دکھی انسانیت کی رہنمائی اور منزل مقصود کی طرف رہبری کی خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔ ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں یا حال کے اداروں اور تجربات کا جائزہ لیں، صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کی اور خود امت مسلمہ کی ہدایت اور اس کے ذریعے باقی انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو انتظام زمین و آسمان کے خالق اور مالک نے مرتب فرمایا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ آقا کی ہر نعمت یکتا اور عظیم ہے اور اس کی ہر نوازش نور کا منبع اور زندگی کی پیامبر ہے۔ اگر رب کریم و رحیم کی ان الطاف و عنایات کے باوجود امت کا حال پریشان ہے اور انسانیت کے ستارے گردش میں ہیں تو یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ بگاڑ کہاں کہاں سے در آیا ہے اور کو تاہی اور کمی کس کس مقام پر ہے کہ آب حیات کی موجودگی کے باوجود یہ امت صحت مند اور باعزت زندگی، توانائی اور تابندگی سے محروم ہے۔ چاند اور سورج ضوفشاں ہیں لیکن تاریکی چھٹنے کا نام نہیں لیتی۔

 ذو الحجہ کے اس مبارک مہینے میں دنیا کے گوشے گوشے سے لاکھوں فرزندان توحید جوق در جوق بیت اللہ کی طرف سرگرم سفر ہیں اور طواف، سعی، قیام عرفات، مزدلفہ و منی اور قربانی و حلق کی نعمتوں سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی پوری دنیا میں تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمان حج کی اس عظیم عبادت میں جہاں بھی ہیں وہیں سے روحانی طور پر عید الاضحی کی نماز دوگانہ ، قربانی اور ایام تشریق کی تکبیر اورتہلیل   کے ذریعہ شریک ہو رہے ہیں اور اس طرح پوری امت اسوۂ ابراہیمی کی تجدید کر رہی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ارشاد نبوی تحاسبوا قبل ان تحاسبوا (اپنا احتساب کر لو قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے) کی روشنی میں احتساب کیا جائے۔ تجدید عہد کے اس موقع پر تھوڑا سا وقت امت کے سوچنے سمجھنے والے تمام افراد مرد اور عورتیں انفرادی اور اجتماعی غورو فکر، تجزیہ اور خود احتسابی کے لیے نکالیں اور پوری دیانت داری سے جائزہ لیں کہ حج ہرذی استطاعت مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں کم از کم ایک بار فرض کیا گیا ہے۔ عمرہ کی شکل میں بیت اللہ کی زیارت اور عہد ایمانی کی آبیاری کا دائمی نظام قائم کیا گیا ہے اور عید الاضحیٰ  کی شکل میں ہر سال پوری امت کے لیے اسوۂ ابراہیمی کی تذکیر اور اس پر عمل پیرا رہنے کے عہد کی تجدید کا سامان کیا گیا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ دینی اور دنیاوی، روحانی اور جسمانی ہر قسم کے ان بے پناہ و بے شمار فوائد اور برکتوں سے امت اور اس کے ہر ہر فرد کا دامن بھر جائے جن کی نوید خود قرآن نے سنائی ہے (لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ تا کہ وہ ان منافع کا مشاہدہ اور تجربہ کر سکیں جو اس میں ان کے لیے ہیں۔ الحج ۲۸:۲۲)۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس کے وہ اثرات جو مطلوب و موعود ہیں وہ ہماری انفرادی واجتماعی زندگی میں کیوں رونما نہیں ہو رہے؟

اسلام اور دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے تصور عبادت میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ دوسرے مذاہب اور تہذیبوں میں عبادت محض پوجا پاٹ کا ایک نظام بن کر رہ گئی ہے یا دنیاوی زندگی سے کٹ کر خدا سے لو لگانے اور اس کے لیے مراقبہ ، نفس کشی، مجاہدات و ریاضات یا چند ذہنی اور بدنی التزامات کا نام ہے جن سے خدا کو خوش کیا جا سکے اور اس طرح اخروی نجات حاصل ہو سکے۔ اس کے بر عکس اسلام کا تصور یہ ہے کہ عبادت ہی دراصل وہ مقصد ہے جس  کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا ليعبدون

“میں نےجن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔”

 عبادت ہی کی زندگی کی طرف ان کو بلایا گیا ہے دیا تھا :

یٰالنَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُم

“لوگو بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تمھارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کا خالق ہے۔”( البقرہ ۲۱:۲)

رب کی اس بندگی کی طرف ساری انسانیت کو ، خصوصا پہلے انبیا کی امتوں کو دعوت دی گئی ہے“قُلْ يَاهَلَ الكِتب تَعَالُوا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الا نَعْبُدَ إِلا الله “(اے نبی کہو   ! اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں آل عمران ۶۴:۳ ) ۔یہ عبادت محض چند مراسم عبادت تک محدود نہیں، گو متعین عبادات اس کے اہم ستون اور مقصود بالذات سنگ میل ہیں۔ اسلام کا تصور عبادت یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی اللہ کی بندگی میں بسر ہو۔ ہمارا اٹھنا، بیٹھنا ،سونا ،جاگنا، کھانا پینا، آرام اور محنت، حضر و سفر غرض سب کچھ خدا کی بندگی اور اس کے قانون اور ہدایت کی پابندی میں ہو اور زندگی کا جو مشن اور شب و روز کے لیے جو ترجیحات مالک اور آقا نے مقرر کی ہیں پوری زندگی انھی کے مطابق بسر کی جائے۔

قُلْ إِنَّ صلاتي ونسكي ومحياي وممَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ()لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام ) ، “کہو میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں”۔

                گویا اسلام اور عبادت ہم معنی اور ایک ہی طرز زندگی کے دو عنوان ہیں۔ اسلام انسان کی پوری زندگی کو عبادت میں تبدیل کر دینا چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی خدا کی عبادت سے خالی نہ ہو۔ کلمہ شہادت کا اقرار کرنے کے ساتھ ہی یہ بات لازم آ جاتی ہے کہ جس اللہ کو آدمی نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے اس کا بندہ بن کر پوری زندگی گزارے۔۔۔ عبادت بندہ بن کر رہنے ہی سے عبارت ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ بندہ نفس کی خواہشات پر قابو پائے اور اپنے جسم و جان اور قلب و نظر کی تمام صلاحیتیں زندگی کے ان مقاصد کے حصول کے لیے صرف کرے جو اللہ اور اس کے رسول نے متعین کر دیے ہیں۔ ہر مرد اور عورت جو بندگی کا راستہ اختیار کرے اس کے اخلاق اور سیرت و کردار ان سانچوں میں ڈھل جائیں جو شریعت نے مقرر کیے ہیں۔ دنیوی زندگی میں، جہاں قدم قدم پر آزمائش اور راہ حق سے پھسل جانے کے مواقع پیش آتے ہیں، بندہ حیوانی اور شیطانی طریق کار سے بچتے ہوئے اور پورے شعور اور ارادے سے اس راہ پر گامزن رہے جو رب کو پسند ہے۔ یہ عبادت کی روح اور اس کا جو ہر بھی ہے اور پوری زندگی میں اس کا مظہر اور مطلوب بھی۔

 پوری زندگی کا اس طرح عبادت کا مظہر بن جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے ایمان کی لازوال قوت کے ساتھ ساتھ بڑی زبر دست اور ہمہ گیر ذہنی ،روحانی، بدنی، انفرادی اور اجتماعی تربیت کی ضرورت ہے تاکہ فکر و نظر میں بھی یہ انقلاب مستحکم ہو جائے اور انفرادی اور اجتماعی سیرت و کردار بھی ایسے پیمانوں میں ڈھل جائیں جو فرد اور ملت کو اس عبادت کے لیے تیار کر سکیں۔ منصوص عبادات،  نماز، روزہ، زکوۃ، حج ، عمرہ ، ذکر استغفار اور دعا ایسا ہی انسان مطلوب اور امت بنانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ خود بھی عبادت ہیں اور پوری زندگی کو عبادت بنانے کا ذریعہ بھی۔ یہ خود بھی مالک کو پسند اور محبوب ہیں اور انسان کو مالک کا پسندیدہ اور محبوب بندہ بنانے کا ذریعہ بھی ہیں تاکہ وہ مالک کے بتائے ہوئے محبوب و مطلوب مشن دعوت الی الخیر، شهادت حق، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، قیام قسط اور نصرت دین کے لیے سرگرم عمل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان عبادات کو ارکان اسلام کہا گیا، یعنی یہ وہ ستون ہیں جن پر اسلامی زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہم نے ان خدائی ستونوں کا تعلق اس ربانی عمارت سے منقطع کر دیا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ستون ہی عمارت ہیں اور بس۔

تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے

عبادت کے اس تصور کی تقسیم اور انسانی زندگی میں اس کے انقلابی کردار کو سمجھنے کے لیے حج کی حقیقت اور اس کے پیغام پر تدبر کی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ویسے تو جتنی بار بھی انسان کو حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت حاصل ہو وہ اس کی خوش نصیبی ہے لیکن صرف ایک بار ہر صاحب استطاعت پر اسے فرض کرنے میں غورو فکر کا یہ پہلو بھی پایا جاتا ہے کہ زندگی میں ایک بار بھی ایمان اور احتساب کے ساتھ اس تجربے سے گزرنے سے عبودیت کے سارے ہی پہلوؤں سے انسان ہم آغوش ہو سکتا ہے۔ حج جامع ہے عبادات کے جملہ مراسم و آداب کا اور اسلام کی عالمگیر اور ازلی دعوت کے نمایاں ترین تاریخی پہلوؤں کا۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے دھارے کو عبدیت کی راہ پر رواں دواں کرنے کے لیے یہ تجربہ اگر اپنے پورے آداب کے ساتھ ایک بار بھی ہو جائے تو یہ اتنا قوی اور جاندار ہے کہ پھر عید الاضحیٰ کی تجدید کے ساتھ ساری زندگی اس رخ پر بسر ہو سکتی ہے۔

حج کے لغوی معنی زیارت کا ارادہ کرنے کے ہیں۔ حج کو حج اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں انسان ان متعین دنوں میں ۸ تا ۱۳ ذوالحجہ ،جو اس کے لیے مقرر کیے گئے ہیں (عمرہ یا زیارت کسی وقت بھی ہو سکتی ہے)      کعبة اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اور مناسک حج ادا کرتا ہے۔ حج ہر بالغ اور صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض کیا گیا ہے اور جو شخص حج کی طاقت (جسمانی اور مالی) رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتا وہ ایک عظیم ترین سعادت ہی سے محروم نہیں رہتا اپنے مسلمان ہونے کو بھی عملا جھٹلاتا ہے۔ واللهِ عَلَى النَّاسِ حِجَ البَيتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا – وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ العَلِمينَ (آل عمران،97:3) لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔ اس آیت کریمہ میں قدرت رکھنے کے باوجود قصد حج نہ کرنے کو کفر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور حضور نے بھی یہی بات بہ صراحت فرمائی ہے کہ: جو شخص زاد راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو اور پھر حج نہ کرے تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے۔ (متفق علیہ)

                 اور جو مسلمان عورت یا مرد تمام احکام اور آداب کے ساتھ حج کا فریضہ انجام دیتا ہے اس کے بارے میں شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”حج اور عمرہ گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل اور کھوٹ کو صاف کر دیتی ہے، اور جو مومن اس دن (یعنی عرفہ کا دن) احرام کی حالت میں گزارتا ہے اس کا سورج جب ڈوبتا ہے تو اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے” (نسائی و ترمذی) سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے صرف اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں ہوس رانی اور گناہ نہ کیا تو وہ ایسا ہو کر لوٹا ہے جیسےاس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا”۔

غور کرنے کی بات ہے کہ حج کی وہ کیا اہمیت اور خصوصیت ہے جس کی بنا پر ایک طرف قصداً اس کے کرنے کے انکار کو کفر کے مترادف قرار دیا گیا اور دوسری طرف ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کی ادائیگی کو پچھلے گناہوں سے پاکی کا ضامن قرار دیا گیا اور اس کے بعد بالکل ایک نئی پاک و صاف زندگی کا باب کھول دیا گیا۔ سب سے پہلی بات حج کا کعبہ سے تعلق ہے جو زمین پر خدا کا گھر ،امت مسلمہ اور انسانیت کا مرکز و محور اور رب کعبہ سے خصوصی نسبت رکھتا ہے۔ حج کی اصل بیت اللہ کی زیارت اور اسوۂ ابراہیمی کا تجربہ اور تجدید ہے۔ اس پورے عمل میں ایک طرف دعوت اسلامی کے سارے تاریخی مراحل سے انسان کو گزار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف تمام منصوص عبادت کی روح اور ان کے خلاصے کو بھی اس میں سمو دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ مراسم عبادات کی جامع اور ایک جلوہ میں ہزار جلوں کی تجلی گاہ بن جاتی ہے۔ کعبتہ اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر اور بندوں کی پہلی عبادت گاہ ہے جو توحید کی علامت اور رب کے حضور بندگی کے لیے پہلی سجدہ گاہ ہے۔ زمین پر انسان کے سفر عبودیت کا آغاز اس مرکز سے ہوا اور آج تک پوری انسانیت کے لیے یہی بندگی کا محور ہے۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب اطراف کے رہنے والے اس کی طرف رخ کر کے اپنے مالک کو پکارتے اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے اسے بندگی کا محور اور ملت اسلامیہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس گھر کی زیارت حج کا مقصود و مطلوب ہے تاکہ بیت اللہ کی زیارت سے رب بیت اللہ سے رشتہ استوار کیا جائے اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کی زمین پر اس سادہ تعمیر سے زیادہ حسین، دیدہ زیب اور ایمان افروز مقام کوئی دوسرا نہیں۔

ز                      فرق                         تا                                بقدم                       ہر            کجا                           کہ                       می                                                                     نگرم

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است

                 دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ کعبہ بیت اللہ ہی نہیں اس کے ساتھ اللہ کے برگزیدہ نبی ابو الانبیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے جلیل القدر فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعوت حق، شان اطاعت و فدویت اور یکسوئی اور قربانی کے مثالی نمونوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ اللہ کے حکم سے انھی برگزیدہ انبیا نے بیت اللہ کی موجودہ تعمیر مکمل کی تھی اور اس پر بیت عقیق اور مکہ کے گرد و نواح کے چپے چپے پر اسوۂ ابراہیمی کے نقوش ثبت ہیں۔ دعوت اسلامی کی تاریخ میں حضرت ابراہیم کی زندگی اور عالمی مساعی ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے ایمان و یقین، اطاعت و سپردگی، عبودیت و فدویت، ایثار و قربانی اور جہد مسلسل کا وہ نمونہ پیش کیا جو ہمیشہ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اللہ سے آپ کی محبت اور اللہ کا آپ کو اپنا خلیل کہنا وہ شرف ہے جس نے آپ کو پوری انسانیت کا محبوب بنا دیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ جس انسان کامل پر نبوت کے سلسلة الذہب کا خاتمہ اور تکمیل ہوئی وہ اور آپ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے ساتھ اگر کسی نبی کی طرف مسلسل درود و سلام کی سوغات بھیجی جاتی ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام میں اللهم صلِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّد كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ ابراهیم۔

حضرت ابراہیم کو یہ مقام ان کے مثالی کردار کی وجہ سے حاصل ہوا۔ ان کو آزمایشوں کی کسوٹی پر بار بار پر کھا گیا اور وہ ہر بار آزمائیش کی کٹھالی سے کامیاب و کامران نکلے۔ انھوں نے عین عالم جوانی میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں اپنی قوم کے بت کدے میں اذان دی اور ان بتوں کو پاش پاش کر دیا جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا۔ جب ان کو دین آبا کی توہین کی پاداش میں آگ میں ڈالا گیا تو ” بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق”۔ فرعون نے جب اپنے جبر و اقتدار کا سہارا لے کر اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا تو انھوں نے برہان قاطع سے اس کو لاجواب کر دیا اور اپنی جان کی کوئی پروا نہ کی۔ جب ان کو دعوت حق کو پھیلانے کے لیے اپنے خاندان، قوم اور وطن سب کچھ چھوڑنے اور اللہ کے لیے ہجرت کرنے کا حکم ہوا تو سب کچھ چھوڑ کر کمر بستہ ہو گئے اور چار دانگ عالم میں اللہ کے کلمے کو پہنچانے کے لیے مصروف جہاد ہو گئے۔ اور پھر جب ان کو اپنے محبوب لخت جگر کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا تو بلا توقف اس کی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ حکم الہی کی تعمیل، دعوت حق کی تشریح و توضیح اور آقا کی مرضی اور محبوب کے اشارہ چشم و ابرو پر سب کو قربان کر دینے کی یہی وہ ادا ہے جس نے جاں بازی ، جاں نثاری اور جاں سپاری کی وہ روشن مثال قائم کی جو اسوۂ ابراہیمی کی اصل اور انسانیت کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نمونہ اور معیار بنادی گئی۔ حج اسی تاریخ دعوت و عزیمت کی یاد دہانی اور اس تاریخ کو از سرنو رقم کرنے کی دعوت اور اس کے لیے تیاری کی مشق ہے۔ حج کا مقصد اللہ کے حکم کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی حج کے ساتھ تشبہ اختیار کر کے ان کے نمونہ ایمان و للہیت، جذبہ عبدیت اور کمال فدویت و فدائیت کو یاد کرنا اور ان کی روشن مثال سے خود اپنے اندر ایمان اطاعت اور ایثار و قربانی کے جذبہ کی آبیاری کرنا ہے۔ مالک کی پکار پر لبیک کہنا اور ساری زندگی کو پوری آمادگی شوق اور وارفتگی  سے  اس کی رضا طلبی کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ لبیكَ اللَّهُمَّ لَبَيكَ لَبَيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لبيك إن الحمد والنِعمَةَ وَلَكَ الْمُلْک لَا شَرِيكَ لَكَ (اے اللہ ! میں حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ حمد تیری ہی ہے ، نعمتیں تیری ہی دین ہیں اور بادشاہی اور اقتدار صرف تیرا ہی ہے اور ان سب میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ یہ صرف ایام حج کا تلبیہ اور ترانہ ہی نہیں اللہ کے بندوں کے لیے پوری زندگی کا وظیفہ ہے۔ یہ مالک کے حضور مکمل سپردگی کا عہد ہے جس کی مثال اور نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے سامنے رکھا۔ حج کا اصل سبق اور پیغام یہی سپردگی ہے۔

 حج کے مناسک پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر بار اور کاروبار کو چھوڑنے سفر کی صعوبتیں انگیز کرنے اور روایتی لباس ترک کر کے احرام کے فقیرانہ لباس زیب تن کرنے سے لے کر طواف سعی، وقوف عرفات، مزدلفہ کی شب باشی ،منی کا قیام ،قربانی، رمی جمار اور حلق (سر کے بال منڈوانا) تک ہر چیز سے بندگی کی تصویر ابھرتی ہے اور ان میں سے ہر عمل کی اسوۂ ابراہیمی کے کسی نہ کسی پہلو سے نسبت ہے۔ للہیت، سپردگی، اطاعت اور فداکاری کی شان ہر ہر عمل سے نمایاں ہے اور یہی حج کا اصل رمز ہے اور اس پورے تجربے میں تعلیم و تربیت کا بڑا موثر ساماں ہے تاکہ بندہ یہاں سے یہ سبق لے کر جائے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی ہمارا راستہ ان کا نمونہ ہی ہمارے لیے نمونہ اور اس راستے پر چلنا اور اس نمونے کا اتباع ہماری زندگی کا مقصود ہو گا اور اس راہ میں ہمارے قدم کبھی ست نہیں ہوں گے۔

حج پر غور و فکر کا تیسرا پہلو اس کی جامعیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام ہی مراسم عبادت کا جامع ہے۔ نماز کا آغاز اگر نیت کی درستی قبلہ کے استقبال اور بدن کی طہارت سے ہوتا ہے اور اس کی روح ذکر الہی ہے، تو حج پہلے ہی مرحلے سے ان سب کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ بیت اللہ کی طرف رخ ہی نہیں اس کا قصد اور اس کی طرف سفر اور پھر اس کا طواف اور اس کی طرف سجدے ہی سجدے ، احرام اور جسم اور روح کی طہارت اور حج کی نیت سے لے کر طواف وداع تک ذکر ہی ذکر ۔ نماز اگر މހނ ހފމ ހ فحش اور منکرات سے روکنے کا ہتھیار ہے (ان الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالمُنكَرِ بے شک نماز فحش اور منکر سے روکتی ہے) تو احرام بھی فحش اور منکرات کے باب میں ایک حصار ہے۔ حج کے پورے عمل کو خواہش نفس سے پاک کرنا اور گناہوں سے بچانا آداب حج کا حصہ ہیں۔ زکوۃ مالی عبادت ہے جو ایک طرف حب دنیا اور حب دولت سے انسان کو بچاتی ہے تو دوسری طرف معاشرے سے بھوک اور غربت کو مٹانے اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ حج میں بھی انسان کو کثیر مالی قربانی کرنا پڑتی ہے۔ صرف زاد راہ اور قربانی ہی کے لیے نہیں بلکہ ایک عرصے کے لیے ترک معاش اور اہل خاندان کے لیے معاش کے انتظام کی شکل میں۔ احرام پوری امت کے لیے مساوات کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کرتا ہے اور امیر غریب بادشاہ فقیر سب ایک ہی لباس میں آجاتے ہیں۔ قربانی کا گوشت غریبوں اور مستحقین میں تقسیم ہوتا ہے اور اس طرح زکوۃ کی روح بھی حج میں سما جاتی ہے۔ روزہ کا مقصد بھی تقویٰ پیدا کرنا ضبط نفس کی تربیت دینا جسمانی مشقت انگیز کرنے کے لیے تیار کرنا، تعلقات زن و شو سے احتراز ( صرف دن ہی میں نہیں ، حج کی راتوں میں بھی) بے آرامی اور ذکر کی کثرت کی فضا بناتا ہے۔ حج میں یہ سب اپنے اپنے انداز میں موجود ہیں۔ روزہ کو قرآن سے خصوصی نسبت ہے۔ حج میں بھی قرآن کی تلاوت اور مقامات نزول قرآن کی زیارت روزہ کے ان پہلوؤں کا لطف پیدا کر دیتا ہے۔ نماز کی باجماعت ادایگی زکوۃ کی بیت المال کے نظام کے ذریعہ منتظم تقسیم اور روزہ کو ایک ہی مبارک مہینہ میں تمام است کے لیے فرض کرنے میں اجتماعیت کی جو شان ہے، حج اس کی معراج ہے۔ غرض اس ایک عبادت میں جو بالعموم کئی مہینوں پر پھیلی ہوئی ہے اور سفر کی جدید سہولتوں کے باوجود کئی ہفتوں کا اعتکاف اور انہماک تو لازماً چاہتی ہے، عبادت کے تمام ہی مراسم اور ان کے اہداف کسی نہ کسی شکل میں جمع کر دیئے گئے ہیں جو اپنی نوعیت کا ایک منفرداور یادگار تجربہ ہے۔

حج کا ایک اور منفرد پہلو امت کی وحدت اور انسانیت کے ایک خاندان اور برادری ہونے کو نمایاں کرتا ہے۔ رنگ، نسل، وطن ، زبان، مرز بوم، سماجی تنوع معاشی تفلوت غرض ہر فرق ختم ہو جاتا ہے اور ایک اللہ کے ماننے والے بیت اللہ کی زیارت اور طواف کے لیے دنیا کے گوشے گوشے سے ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں اور ایک خاندان کی طرح ایک امام کی قیادت میں ایک ہی تلبیہ کا ورد کرتے ہوئے دن رات ساتھ گزارتے ہیں، تہذیب و تمدن کے سارے خول اتر جاتے ہیں اور صرف لاہمیت اور انسانیت کا نمونہ پیش کرتے ہیں اور ان سب کا آخری ہدف اللہ کی رضا کا حصول زمین پر اس کی مرضی پوری کرنے کا عزم ، استخلاف فی الارض کے مشن کی تنفیذ کے جذبے کو تازہ کرنا اور دین کی دعوت اور نصرت کی جدوجہد میں زندگی وقف کرنے کا داعیہ اجاگر کرنا بن جاتا ہے۔ یہ وہ انقلابی مقصد ہے جس کے لیے اس امت کو برپا کیا گیا اور اس کی تذکیر حج کا اصل وظیفہ ہے۔

مولانا سید سلیمان ندوی سیرت النبی (جلد پنجم، ص ۳۱۹-۳۲۱) میں اس پہلو کواس طرح بیان کرتے ہیں:

خانہ کعبہ اس دنیا میں عرش الہی کا سایہ اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا نقطہ قدم ہے. یہ وہ منبع ہے جہاں سے حق پرستی کا چشمہ ابلا اور اس نے تمام دنیا کو سیراب کی۔ یہ روحانی علم و معرفت کا وہ مطلع ہے جس کی کرنوں نے زمین کے ذرہ ذرہ کو درخشال کیا۔ یہ وہ جغرافیائی شیرازہ ہے جس میں ملت کے وہ تمام افراد بندھے ہوئے ہیں جو مختلف ملکوں اور اقلیموں میں بستے، مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف لباس پہنتے ہیں، مختلف تمدنوں میں زندگی بسر کرتے ہیں مگر وہ سب کے سب باوجود ان فطری اختلافات اور طبعی امتیازات کے ایک ہی خانہ کعبہ کے گرد چکر لگاتے ہیں اور ایک ہی قبلہ کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں اور ایک ہی مقام کو ام القریٰ مان کر وطنیت، قومیت، تمدن و معاشرت، رنگ روپ اور دوسرے تمام امتیازات کو مٹا کر ایک ہی وطن ایک ہی قومیت (آل ابراہیم ایک ہی تمدن و معاشرت (ملت ابراہیمی ) اور ایک ہی زبان (عربی) میں متحد ہو جاتے ہیں۔لوگ آج یہ خواب دیکھتے ہیں کہ قومیت و وطنیت کی تنگ نائیوں سے نکل کر وہ انسانی برادری کے وسعت آباد میں داخل ہوں مگر ملت ابراہیمی کی ابتدائی دعوت اور مت محمدی کی تجدیدی پکار نے سیکڑوں ہزاروں برس پہلے اس خواب کو دیکھا اور دنیا کے سامنے اس کی تعبیر پیش کی۔ لوگ آج تمام دنیا کے لیے ایک واحد زبان کے ایجاد و کوشش میں مصروف ہیں، مگر خانہ کعبہ کی مرکزیت کے فیصلہ نے آل ابراہیم کے لیے مدت دراز سے اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔ لوگ آج دنیا کی قوموں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے ایک ورلڈ کانفرنس یا عالمگیر مجلس کے انعقاد کے درپے ہیں، لیکن جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ساڑھے تیرہ سو برس سے یہ مجلس دنیا میں قائم ہے اور اسلام کے علم ، تمدن، مذہب اور اخلاق کی وحدت کی علمبردار ہے۔ مسلمان ڈیڑھ سو برس تک جب تک ایک نظم حکومت یا خلافت کے ماتحت رہے، یہ حج کا موسم ان کی سیاسی اور تنظیمی ادارے کا سب سے بڑا عصر رہا۔ یہ وہ زمانہ ہو تا تھا جس میں امور خلافت کے تمام اہم معاملات طے پاتے تھے ، اسپین سے لے کر سندھ تک مختلف ملکوں کے حکام اور والی جمع ہوتے تھے اور خلیفہ کے سامنے مسائل پر بحث کرتے تھے اور طریق عمل طے کرتے تھے، اور مختلف ملکوں کی رعایا اگر اگر اپنے والیوں اور حاکموں سے کچھ شکایتیں ہوتی تھیں، تو ان کو خلیفہ کی عدالت میں پیش کرتی تھیں اور انصاف پاتی تھیں۔ اسلام کے احکام اور مسائل جو دم کے دم میں اور سال ہا سال دور دراز اقلیموں، ملکوں اور شہروں میں اس وقت پھیل سکے ، جب سفر اور آمد و رفت کا مسئلہ آسان نہ تھا اس کا اصل راز یہی سالانہ حج کا اجتماع ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری حج جو حجتہ الوداع کہلاتا ہے اسی اصول پر کیا۔ وہ انسان جو تیرہ برس تک مکہ میں یک و تنہا رہا، ۲۳ برس کے بعد وہ موقع آیا جب اس نے تقریباً ایک لاکھ کے مجمع کو بیک وقت خطاب کیا اور سب نے سمعاً وطاعة کہا۔ آپ کے بعد خلفاے راشدین اور دوسرے خلفا کے زمانہ میں صحابہ کرام اور ائمہ اعلام نے اسی طرح سال بہ سال جمع ہو کر احکام اسلام کی تلقین و تبلیغ کی خدمت ادا کی اس کا نتیجہ تھا کہ نت نئے واقعات اور مسائل کے متعلق دنیا کے مختلف گوشوںمیں اسلام کے جوابی احکام اور فتوے پہنچتے رہے اور پہنچتے رہتے ہیں۔

 ہم نے مولانا سید سلیمان ندوی کی تحریر سے یہ طویل اقتباس اس لیے دیا ہے کہ حج کے اس منفرد پہلو کو ایک روایتی عالم دین کے الفاظ میں اجاگر کریں ورنہ محدود مذہبی ذہن رکھنے والے تو اس پر ”دین کی سیاسی تعبیر” کی بھیتی کتے نہیں تھکتے۔ حالانکہ یہ اسلام کا ایک ایسا اعجاز اور تاریخی کارنامہ ہے جس پر مخالف بھی ششدر رہ جاتے ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف موڈرن اسلامک ورلڈ (مطبوعہ آکسفورڈ یونی ورسٹی، ۱۹۹۵ جلد ۲ ص ۱۸۸ مقالہ  حج از رابرٹ بیانشی Bianchi Robert)

 میں یہ جملے قابل غور ہیں: دنیا کی تمام زیارتوں میں حج منفرد بھی ہے اور اہم ترین بھی۔ عیسائیت اور ہندومت کے قدیم اور اعلیٰ ترقی یافتہ بین الاقوامی زیارت کے نظاموں سے مقابلہ کیا جائے تو عقیدے کی مرکزیت، جغرافیائی ارتکاز اور تاریخی تسلسل کے لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ (ترجمہ)

اس پہلو سے اگر غور کیا جائے تو جس طرح حفظ قرآن کتابت و تعلیم قرآن اور رمضان المبارک میں قرآن سے تجدید تعلق نے اللہ کی کتاب کو محفوظ رکھا ہے اسی طرح حج نے اسلام کی اصل روح للٰیت، عبدیت اور امت کی وحدت اور اخوت کو اس طرح ایک تاریخی نظام میں پرو لیا ہے۔ ایک ادارے کے طور پر یہ روایت اپنے مرکز سے پوری دنیا میں اور ایک نسل سے دوسری نسل اور ایک دور سے دوسرے دور کی طرف برابر منتقل ہو رہی ہے اور ان شاء الله تا ابد ہوتی رہے گی۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اس پہلو کو بڑی خوب صورتی سے نمایاں کرتے ہیں: پس اگر میں یہ کہوں تو بے جانہ ہو گا کہ جس طرح رمضان کا مہینہ تمام اسلامی دنیا میں تقویٰ کا موسم ہے، اسی طرح حج کا زمانہ تمام روئے زمین میں اسلام کی زندگی اور بیداری کا زمانہ ہے۔ اس طریقہ سے شریعت بنانے والے حکیم و دانا نے ایسا بے نظیر انتظام کر دیا ہے کہ ان شاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالمگیر تحریک مٹ نہیں سکتی۔ دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں اور زمانہ کتنا ہی خراب ہو جائے مگر یہ کعبہ کا مرکز اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے جیسے انسان کے جسم میں دل ہوتا ہے۔ جب تک دل حرکت کرتا رہے آدمی مر نہیں سکتا چاہے بیماریوں کی وجہ سے وہ ملنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ بالکل اسی طرح اسلامی دنیا کا یہ دل بھی ہر سال اس کی دور دراز رگوں سے خون کھینچتا رہتا ہے اور پھر اس کو رگ رگ تک پھیلا دیتا ہے۔ جب تک اس دل کی یہ حرکت جاری ہے اور جب تک خون کے کھینچنے اور پھیلنے کا سلسلہ چل رہا ہے اس وقت تک یہ بالکل محال ہے کہ اس جسم کی زندگی ختم ہو جائے ، خواہ بیماریوں

ہےسے یہ کتنا ہی زار نزار ہو۔ (خطبات، حصہ چہارم ص ۱۵۲)

 حج کی یہی برکتیں اور منافع ہیں کہ ساری خرابیوں کے باوجود اس امت میں زندگی اور حرارت ہے۔ اگر شر کی قوتیں ہر طرف سے حملہ آور ہیں تو حق کی قوتیں بھی مدافعت مزاحمت اور پیش رفت میں مصروف ہیں اور یہ سب اس کے باوجود ہے کہ حج اور تمام ہی عبادات مختلف وجوہ سے اپنے اثرات بکمال و تمام پیدا نہیں کرپا رہیں اور اسلام نے تجدید و اصلاح کا جو نظام بنایا ہے وہ بڑی حد تک مفلوج ہے۔ بلاشبہ امت میں نیک نفوس بھی موجود ہیں اور چند متحرک گروہ بھی جو دین کو اس کی اصل اسپرٹ میں قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی است غفلت اور دین کے بارے میں بے توجہی کا شکار ہے، اور خصوصیت سے بااثر طبقات، جدید تعلیم یافتہ لوگ اور برسر اقتدار عناصر اپنی ذمہ داریوں سے غافل، نفس پرستی اور دنیا داری میں مگن اور قیام دین اور احیائے شریعت سے کنارہ کش ہیں۔ عبادتیں بڑی حد تک اپنی اصل روح سے عاری اور محض رسم اور عادت بن گئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن، سنت اور شریعت کی موجودگی، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج کی پاسداری مسجدوں اور مدرسوں کے قیام و انصرام اور دعوتی اور تبلیغی اجتماعات کی ریل پیل کے باوجود نمازیں اثر سے خالی ہیں، روزے تقویٰ کی فصل بہار پیدا نہیں کر پا رہے، زکوۃ معاشی اور سماجی انصاف کے قیام پر فتح نہیں ہو رہی اور حج میں لاکھوں کے اجتماع کے باوجود ملت کے جسم میں تازہ خون نہیں آ رہا اور بدن فساد خون کا شکار ہے۔

تمام خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود جو مثبت اثرات حج اور دوسری عبادات کے رونما ہو رہے ہیں ان کے پورے اعتراف اور ان پر اللہ تعالی کے شکر کے ساتھ ہم امت کے تمام ہی ارکان کو اور خصوصیت سے اس کے سوچنے سمجھنے والے عناصر اور دینی اجتماعی قیادت کو ان اسباب کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری عبادتیں پوری طرح اپنے ثمرات پیدا نہیں کر پا رہیں۔

سب سے پہلی چیز عبادات کی ظاہری ادائیگی اور ان کی اصل روح اور دین کی تعلیمات اور اصلاح کی مجموعی اسکیم میں ان کا رول اور کردار ہے۔ مذہب اور ثقافت کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک انقلابی تصور اس وقت تک انقلابی رہتا ہے جب تک اس کی اصل روح بیدار رہتی ہے اور وہ محض ایک رسم اور بے جان جسم نہیں بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت نے نیت کی اصلاح اور ہر عبادت کے ایمان اور احتساب کے ساتھ انجام دینے کو بڑی اہمیت دی ہے۔ آج مسلمانوں کا بڑا بنیادی مسئلہ دین سے ناواقفیت، عمومی جہالت اور تعلیم کی پستی ہے حالانکہ اسلام تو آیا ہی ایک تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے تھا اور حصول علم کو ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے واجب قرار دیا گیا تھا۔ عبادات اور خصوصیت سے حج کے غیر موثر ہونے میں بڑا دخل ان عبادات کو بلا سمجھے ادا کرنے کا مرض ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن کی تعلیم ، دین و شریعت سے واقفیت اور نظام زندگی میں ان کے کردار کا پورا پورا فہم و ادراک پیدا کیا جائے۔ محض رٹ کر چند سورتوں کو ادا نہ کر لیا جائے۔ بلکہ ہر عبادت کو پوری طرح سمجھ کر الفاظ کے معنی کا پورا پورا اوراک کر کے اور ہر عبادت کے مقصد اور منشا کے مکمل شعور کے ساتھ اس کو ادا کیا جائے۔ علم کا یہ حصول ہر فرد کی ذمہ داری بھی ہے اور معاشرے کے تمام بااثر افراد کی بھی۔ حضور نے فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر ایک چرواہے کے مانند ہے اور ہر ایک اپنے اپنے ریوڑ کے بارے میں مسئول ہے (كلكم راع وكلكم مسؤل عن رعية) جس کے معنی ہیں کہ ماں ، باپ، استاد گھر کے بزرگ، محلے کے پیچ معاشرے کے لیڈر مملکت کے ذمہ دار سب کی ذمہ داری ہے کہ جماعت کی اس وہا سے قوم کو نجات دلائیں۔ تعلیمی انقلاب اصلاح احوال کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس تعلیمی انقلاب کے تین پہلو ہیں۔ پہلا دین کی ضروری تعلیمات ان کے صحیح مفہوم کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا دوسرے ان تعلیمات اور خصوصیت سے عبادات کو ان کی صحیح روح کے ساتھ سمجھتا اور ادا کرنا۔ اور تیسرے، معاشرے میں اچھے نمونے قائم کرنا تاکہ صرف تعلیم و تلقین کے ذریعے ہی نہیں بلکہ عملی تحریک کےذریعے خیر کو فروغ دیا جا سکے اور بدی کی قوتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

عبادات سکڑ کر اگر صرف رسوم و رواج بن جائیں اور جسے اللہ سے ملاقات اورمناجات ہونا چاہیے وہ محض ایک بے روح اور بے جان عادت کی شکل اختیار کرلے تو وہ زندگی میں کوئی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے۔ آج ہماری نمازیں ، ہمارے روزے اور ہمارے حج اس وجہ سے بے اثر ہو گئے ہیں کہ ہم نے ان کو بس ایک رسم ایک عادت، ایک جسد بے روح بنا دیا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم عبادات کا حق ادا کر رہے ہیں۔ شیخ عثمان بن علی ہجویری کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ ایک صاحب حضرت جنید بغدادی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ، جواب ملا کہ حج سے واپس آ رہا ہوں۔ پوچھا حج کر چکے ؟ عرض کیا کہ کر چکا پوچھا: جس وقت گھر سے روانہ ہوئے اور عزیزوں سے جدا ہوئے تھے اپنے تمام گناہوں سے بھی مفارقت کی نیت کر لی تھی؟ کہا نہیں یہ تو نہیں کیا تھا۔ فرمایا : بس سفر پر روانہ ہی نہیں ہوئے! پھر فرمایا راہ میں جوں جوں تمھارا جسم منزلیں طے کر رہا تھا تمھارا قلب بھی قرب حق کی منازل طے کرنے میں مصروف تھا؟ جواب دیا: یہ تو نہیں ہوا۔۔۔ ارشاد ہوا کہ پھر تم نے سفر حج کی منزلیں طے ہی نہیں کیں۔ پھر یہ پوچھا کہ جس وقت احترام کے لیے اپنے جسم کو کپڑوں سے خالی کیا تھا اس وقت اپنے نفس سے بھی صفات بشریہ کا لباس اتارا تھا؟ کہا۔ یہ تو نہیں کیا تھا۔ ارشاد ہوا : پھر تم نے احرام باندھا ہی نہیں۔ پھر پوچھا کہ جب عرفات کے وقوف اور مزدلفہ کے قیام میں اپنی مراد کو پہنچ چکے تو خواہشات نفسانی کے ترک کا بھی عہد کیا تھا؟ کہا یہ تو نہیں کیا۔ ارشاد ہوا پھر عرفات اور مزدلفہ میں تم حاضر ہی نہیں ہوئے، پھر پوچھا کہ قربانی کے وقت اپنے نفس کی گردن پر بھی چھری چلائی تھی؟ کہنا یہ تو نہیں کیا۔ ارشاد ہوا: تم نے قربانی نہیں کی۔ اسی طرح سارے سوال پوچھنے کے بعد شیخ نے آخر میں فرمایا کہ ” تمھارا حج کرنا نہ کرنا برابر رہا اب پھر جاؤ اور صحیح طریقے پر حج کرو”۔

دین کی تعلیم، عبادات کی تعلیم اور ان کی حقیقی روح کا شعور پیدا کرنا ہی تعلیم کی اصل ہے۔ ضروری ہے کہ امت کے تمام افراد کو تعلیم و تعلم کے تمام قدیم اور جدیدذرائع استعمال کر کے دین کی بنیادی تعلیمات اور ان کی حقیقی روح اور مطلوبہ نتائج سے روشناس کیا جا سکے۔ تب ہی ہماری عبادات پوری طرح ثمر آور ہو سکتی ہیں ورنہ خطرہ ہے کہ عبادات ہی نہیں ہر دینی عمل ایمان، احتساب اور تقویٰ کے بغیر بے جان اور غیر موثر رہے گا۔

دوسری چیز عبادات کا شریعت کے پورے نظام سے ربط اور تعلق ہے جہاں ایمان احتساب اور تقویٰ عبادات کے جسم میں جان ڈالنے کا وظیفہ انجام دیتے ہیں اور ان کے بغیر وہ بس ایک رسم اور ایک عادت رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر ان عبادات کا ربط و تعلق پوری شریعت اور اسلامی نظام زندگی سے کٹ جائے تو یہ اس پرزہ کی مانند ہو جاتی ہیں جو خواہ خود حرکت کرلے مگر پوری مشین کو چلانے میں اس کا جو کردار ہے وہ غیر موثر ہو جاتا ہے۔ نیز پوری مشینری سے جو تقویت ان اجزا کو ملتی ہے وہ بھی مفقود رہتی ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کا المیہ ہی یہ ہے کہ عبادات کے ستون تو موجود ہیں لیکن ان ستونوں کو جس عمارت کو اٹھانا اور سنبھالنا ہے وہ موجود نہیں اور جب تک وہ عمارت وجود میں نہیں آتی یہ ستون ان درختوں کی مانند ہیں جن کا تنا تو موجود ہے مگر پتے پھول اور پھل ناپید ہیں۔ نماز، روزہ، زکوۃ اور حج انسان کو جس کشمکش اور جدوجہد کے لیے تیار کرتے ہیں، وہ انفرادی سطح پر سیرت سازی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کی تنظیم و تشکیل اور زندگی کے ہر شعبہ میں شریعت کے مطابق حالات کی صورت گری کے بغیر اپنے اصل اہداف کو نہیں پاسکتے۔ نظام زندگی کی تصویر ان کے بغیر ناممکن ہے۔ شریعت کے کتنے ہی احکام اور قوانین ہیں جو اجتماعی زندگی کی اصلاح اور معاشرت، معیشت، عدالت اور حکومت پر اسلامی شریعت کی بالادستی کے بغیر ماخذ العمل نہیں ہو سکتے جس کے نتیجے میں زندگی دوئی اور تضاد کا شکار اور شتر گر بگی کا نمونہ نہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت اس بگاڑ کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے جو کچھ معاملات میں اللہ کی ہدایت کی پیروی اور کچھ میں اس سے اغماض بلکہ بغاوت کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور جس پر اللہ رب العزت نے بندوں پر یہ چارج شیٹ لگائی تھی:

 افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الكِتبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضِ – فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ القِيمَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِ العَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ  (البقره ۸۵:۲ )

تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔

 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی سنگین وعید ہے اور امت کی کمزوریوں، تضادات اور تباہ حالیوں میں بڑا دخل ان تضادات کا ہے جن میں یہ مبتلا ہے اور جو بیک وقت خدا اور اہر من، ایمان اور کفر دین اور سیکولرازم سے رشتہ استوار کرنے سے عبارت ہے۔

عبادتوں کے غیر موثر ہونے کی ایک اور وجہ نظام احتساب کا فقدان اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مجرمانہ غفلت ہے۔ قرآن پاک میں اس امت کی جو امتیازی خصوصیات بیان ہوئی ہیں ان میں تین بہت نمایاں ہیں یعنی (الف) یہ امت ایک امت ہے (ب) یہ امت وسط ہے اور (ج) یہ امت ایک مشن اور دعوت کی علمبردار است ہے جو صاحب شریعت امت ہے اور اس شریعت اور اس پیغام کی تمام انسانیت کے لیے گواہ اور شاہد اور اس کی نصرت اور غلبہ کے لیے جدوجہد کی ذمہ دار ہے۔ یہی وہ تین خصوصیات ہیں جو اس امت کے امت ابراہیمی سے تسلسل کی ضامن ہیں۔

قرآن کہتا ہے کہ وان هذه امتكُمْ أُمَةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو۔دوسری اور تیسری خصوصیت کو قرآن اس طرح بیان کرتا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(البقره ۳۳:۲) “اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو”۔

سورة الحج میں ارشاد ہوتا ہے: وَجَاهِدُوۡا فِى اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ‌ؕ هُوَ اجۡتَبٰٮكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‌ؕ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ؕ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِىۡ هٰذَا لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ‌ ‌ۖۚ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰهِؕ هُوَ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ۚ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ (الحج ۷۸۲۲)

 اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے کھیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر ۔ اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی ( تمھارا یہی نام ہے)۔ تاکہ رسول  تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو، زکوۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ۔ وہ ہے تمھارا مولٰی، بہت ہی اچھا ہے وہ مولٰی اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار ۔

سورۃ آل عمران میں امت کا مشن اس طرح بیان ہوتا ہے: كُنتُمْ خَيْرٌ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو” (آلعمران ۱۱۰۰۳ مزید ملاحظہ ہو ۱۰۶:۳)۔

امت کے اس مشن اور کردار کے تعین کے ساتھ ساتھ یہ بھی صاف لفظوں میں بتا دیا کہ نیکی محض دین داری کے نام پر ایک خاص طرح کی وضع قطع اور طاعت اور بندگی کے محدود اعمال میں نہیں بلکہ پوری زندگی کو خدا کی ہدایت کے مطابق ڈھالنے اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں جان اور مال سے جہاد کرنے میں ہے۔ صرف اسی راستہ کو اختیار کرنے سے ہماری عبادتیں حقیقی معنی میں ثمر آور ہو سکیں گی اور دنیا خوف اور بھوک کے عفریتوں سے محفوظ ہو کر حقیقی امن گاہ بن سکےگی۔

ارشاد ہوتا ہے:   لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّنَ‌ۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّه ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآٮِٕلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ‌ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ(البقرہ ۱۷۷۲)

“نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اوریتیموں پر مسکینوں اور مسافروں پر مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی متقی ہیں”۔ نیز فرمایا : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَهَدوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ –  ُأولَئِكَ هُمُ الصٰد قُونَ (الحجرات ۱۵:۴۹) حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انھوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ وہی سچے لوگ ہیں۔

                اس کے ساتھ ساتھ اس امت کو بنی اسرائیل کے آئینے میں یہ تنبیہہ بھی کر دى: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ – ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ – كَانُوا لَا يَتَنَاهُونَ عَنْ مُنكَرٍ فَعَلُوهُ – لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (المائده ۷۹۷۸:۵) ”بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ، انھوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کےارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرز عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی کہ: “قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو ضرور ایسا ہو گا کہ اللہ تعالٰی تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے۔ پھر تم اس سے دعائیں کرو گے اور تمھاری دعائیں قبول نہہوں گی“۔ (ترمذی) اسی طرح حضور نے فرمایا: “جو شخص کسی قوم میں رہتا ہو اور ان کے اندر رہ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرتا ہو اور وہ لوگ اس کے اس طرز عمل کے بدلنے کی قدرت رکھتے ہوں لیکن اس کے باوجود نہ بدلیں تو اللہ تعالٰی مرنے سے پہلے دنیا ہی میں ان کو اپنے عذاب میں مبتلا کرے گا (بہ کرے گا (ابوداؤد ابن ماجہ )

قرآن میں اس امت کو مخاطب کر کے صاف لفظوں میں متنبہ کر دیا گیا کہ اگر برائی کا مقابلہ نہ کرو گے تو محض تمھاری نیکی اور تمھاری عبادتیں تم کو تباہی سے نہ بچاسکیں گی۔ وَاتَّقُوا فِتْنَةٌ لَا تُحْسَبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَة – وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ العِقَابِ (الانفال ،۲۵:۸)

“اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے”۔ قرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات اور اعلانات سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ہماری عبادتیں، ہماری دعائیں اور ہماری نیکیاں اس وقت دنیا میں اپنے ثمرات اور حسنت سے زندگی کا دامن بھر سکیں گی جب ہم فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر امت کے سپرد کرده مشن دعوت الی الخیر، شهادت حق ‘ امر بالمعروف نہی عن المنکر جان اور مال سے جہاد اور ادائے حقوق کی ذمہ داری کو کماحقہ ادا کریں گے۔ اگر اس میں کو تاہی برتتے ہیں تو پھر انفرادی نیکیوں کے باوجود ہم فتنہ کا شکار ہونے اور اللہ کے عذاب کی مار سے نہ بچ سکیں گے اور ہماری دعائیں بے اثر ہو جائیں گی۔ اللہ تعالٰی ہمیں ایسے حالات سے سے بچائے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امت اور اس کے برسر اختیار طبقے بڑی غفلت اور بڑی نادانی سے ان خطرات کی طرف بڑھ رہے ہیں اور امت کو تباہی سے بچانے کا راستہ عبادتوں کے ساتھ احقاق حق، ابطال باطل اور اقامت دین کی جدوجہد میں جان اور مال کی بازی لگا دیتا ہے۔

اس خلفشار کا ایک پہلو نظام اقتدار کا سند جواز (legitimacy) سے محروم ہونا اور مسلم ممالک میں بنیادی حقوق کی پامالی، آزادی کا فقدان اور نظام شوری کا عدم وجود ہے۔ اسلام میں اقتدار کے لیے سند جواز دو ہی چیزوں سے حاصل ہوتا ہے یعنی شریعت کی بالا دستی اور ارباب اقتدار کا امت کا امین اور معتمد علیہ ہونا جو شوری کے ذریعہ وجود میں آئے اور نظام زندگی کو چلائے۔ آج سیاسی آزادی کے حصول کے بعد بھی بیش تر ممالک میں جواز کی یہ دونوں بنیادیں مفقود ہیں۔ پھر اجتماعی زندگی اسلام کی برکتوں اور نعمتوں سے کیسے شاد کام ہو اور دشمن کے مقابلے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کیسے بنے؟اسوۂ ابراہیمی کی یاد دہانی کا یہ تاریخی موقع ان تمام امور پر ٹھنڈے دل سے غورو فکر کی دعوت دے رہا ہے۔

آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا

اگ کر سکتی ہے اندازگلستاں پیدا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »