اعلان لاہور

لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی!
۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو جس لاہور میں پاکستان کے قیام کو ملت اسلامیہ ہند نے اپنی منزل قرار دیا تھا اور ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ (۱۴ اگست ۱۹۴۷) کو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے قائد اعظم کی رہنمائی میں برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کی بیش بہا قربانیوں کے بعد قائم فرمایا تھا ۲۱ فروری ۱۹۹۹ کو اسی لاہور میں ، پاکستان کے نظریاتی اور سیاسی جسد پر ”اعلان لاہور کے روپ میں ایک ایسا خنجر پیوست کیا گیا ہے جس کی زد پاکستان کی شہ رگ یعنی کشمیر کے ساتھ ساتھ مملکت خداداد کی سیاسی آزادی، معاشی استحکام، عسکری قوت، نظریاتی تشخص اور تہذیبی وجود پر ہے۔ قرارداد پاکستان شیر بنگال فضل حق نے پیش کی تھی اور قائداعظم نے اسے امت مسلمہ سے منظور کرایا تھا۔ یہ برطانوی سامراج اور کانگریس کی ہندو قیادت کے خلاف اعلان جنگ اور مسلمانوں کی آزادی اور نظریاتی مستقبل کی ضامن تھی۔ ۱۴ اگست کو جب بھارت کی اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی تھیں، برطانوی سامراج کے نمائندے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پروانہ آزادی ملت اسلامیہ پاکستان کے نمائندوں یعنی قائد اعظم اور دستور ساز اسمبلی کے سپرد کیا تھا تو پاکستان کا پرچم پہلی بار قومی اسمبلی میں نہیں پورے ملک کی فضاؤں میں لہرانے لگا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اعلان لاہور نہ تو پاکستانی قوم کے عزائم کا اعلامیہ ہے اور نہ اسے پاکستانی عوام نے تسلیم کیا ہے۔ یہ اکھنڈ بھارت کی داعی بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھارتی پردھان منتری اٹل بہاری واجپائی کا اعلامیہ ہے جس پر میاں نواز شریف نے بھی دستخط کر کے امریکہ اور بھارت کو خوش اور اپنی قوم کو مایوس ہی نہیں مشتعل کیا ہے۔۔۔ اور ملک و ملت کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے ایمان اپنے ملک کی آزادی اور اپنی قوم کی عزت کی خاطر حق کہنے اور اس کے لیے ہر اذیت اور تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھی مجاہدوں اور سرفروشوں نے اس گھناؤنی سازش کا بروقت پردہ چاک کر ڈالا جس کا اس ملک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قوم کو بانٹنے اور پاکستان اور جہاد کشمیر میں دوری اور بے اعتمادی پیدا کرنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اردو پریس نے قوم کی آواز کو بلند اور اس کے خدشات کو آشکارا کیا خصوصیت سے نوائے وقت پاکستان‘ خبریں‘ جسارت‘ امت انصاف نے۔ سب سے بڑھ کر جموں و کشمیر آل پارٹیز حریت کانفرنس، جماعت اسلامی پاکستان، آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور پاکستان کی چند دوسری مذہبی جماعتوں، دانش وروں اور سابق فوجی قائدین نے اس کھیل کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد صرف مسئلہ کشمیر کی تحلیل ہی نہیں بلکہ اس سرحد ہی کو منہدم کرنا تھا جو پاکستان کے آزاد سیاسی، نظریاتی اور معاشی وجود کی ضامن ہے اور جسے برعظیم کے مسلمانوں نے بڑی عظیم قربانیاں دے کر اپنے خون سے تعمیر کیا ہے۔
جس سازش کا اس وقت قوم مقابلہ کر رہی ہے وہ تیار تو واشنگٹن میں ہوئی ہے لیکن اسے اسٹیج کیا جا رہا ہے واہگہ اور لاہور میں۔ یہ تو اللہ ہی کے علم میں ہے اور غالبا تاریخ بھی اسے راز نہیں رہنے دے گی کہ پاکستان کی قیادت میں سے کون اس میں شعوری طور پر شریک ہے اور کون غیر شعوری طور پر ، لیکن سازش اور اس کے خطرناک مضمرات سے انکار وہی کر سکتا ہے جس نے نہ دیکھنے اور نہ سمجھنے کی قسم کھالی ہو۔ اللہ کی رحمتیں ہوں ان بالغ نظر قائدین اور اہل قلم پر اور ان سرفروشوں پر جنھوں نے جان پر کھیل کر اس سازش کو طشت ازبام کیا اور ہزار بار شکر ہے اس رب کریم کا جس نے جھوٹ اور دھوکے کا پردہ صرف چند ہی دنوں میں خود بھارت کے ان قائدین اور ان کے ساتھیوں ہی کے ہاتھوں چاک کرا دیا جو بڑے معصومانہ اور دل نواز انداز میں فرما رہے تھے ۔
تم آؤ گلشن لاہورسے چمن بدوش
ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر
پھر اس کے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے!
۲۰ فروری کو واجپائی صاحب نے لاہور میں فرمایا تھا: ” دفاعی اخراجات میں کمی اور پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں” اور ۲۱ فروری کو دہلی پہنچتے ہی ارشاد فرمایا: ”پاکستان کے وزیر اعظم سے کہہ دیا ہے کہ کشمیر میں مداخلت اور راجوڑی میں قتل جیسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔ کشمیر میں بے قصور مردوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اگر بے گناہوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رہا تو دونوں ملکوں کے تعلقاتمعمول پر لانا مشکل ہو گا۔ دو دن بعد مہاویر کیڈر کا افتتاح کرتے ہوئے واجپائی صاحب نے فرمایا: بھارت اب اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دے گا اور وضاحت کی کہ کشمیر میں استصواب کے بارے میں کوئی بات نواز شریف صاحب سے نہیں کی اور ان کا بیان غلط ہے۔ بھارت کے نئے بجٹ میں دفاع کے نام پر جنگی بجٹ میں ۱۱فی صد کا اضافہ کیا جو پہلے ہی ۵ کھرب روپے ہے اور جس میں گذشتہ سال ۸ فی صد کا اضافہ کیا گیا تھا جب کہ پاکستان میں دفاعی بجٹ میں سات سے نو فی صد کی کمی کی گئی ہے۔ پوکھران کے مقام پر پاکستانی سرحد کے ساتھ فضائیہ کی مشقیں پہلے اطلاع دیے بغیر کی گئیں جن میں ۷۰۰۰اٹن گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ یہ بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں تھیں۔ پاکستان کو کشمیر میں ”پراکسی وار”( Proxy War )ختم کرنے کی دھمکی دی۔ بھارت کے چیف آف اسٹاف نے نیوکلیر سد جارحیت کے باوجود روایتی جنگ کے امکان کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر کشمیر میں پراکسی وار آگے بڑھتی ہے تو جنگ ممکن ہی نہیں ناگزیر ہے۔ بھارت کے وزیر داخلہ اور واجپائی صاحب کے دست راست ایڈوانی صاحب نے واہگہ کے عین اس مقام پر آکر جہاں واجپائی بس یا ترا آئی تھی اکھنڈ بھارت کے منصوبے کا اعادہ اور کشمیر کے” اٹوٹ انگ“ ہونے کی تکرار کے ساتھ تقسیم کے خط کو مٹا کر بھارت اور پاکستان کی فیڈریشن کے عزائم کا اعلان کیا۔۔۔ اور اس طرح اعلان لاہور کی شکل میں جس کڑوی گولی پر شکر کی موٹی تہہ جمائی گئی تھی وہ اس اعلان پر دستخط کرنے والوں ہی کے ہاتھوں دھل گئی اور اصل سازش کا چہرہ پورے طور پر بے نقاب ہو گیا۔ بجز ان کے لیے، جن کا حال یہ ہے کہ ان کے دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں :لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا ) الاعراف ۷ : ۱۷۹)۔
پاکستان کی مو موجودہ حکومت اور خصوصیت سے وزیر اعظم صاحب بھارت دوستی کے جس جنون میں مبتلا ہیں اور آنکھیں بند کر کے جس راستے پر چل نکلے ہیں وہ تباہی اور خود کشی کا راستہ ہے۔ ملک کو اس تباہی سے روکنا ہر محب وطن کی ذمہ داری ہے۔ حالات کے بے لاگ تجزیے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میاں نواز شریف اور ان کے بھائی اور دست راست میاں شہباز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار میں رہنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پانچ چیزوں کا اہتمام کریں:
ا۔ تمام دستوری اداروں، سیاسی قوتوں اور انتظامی مشینری کو مکمل طور پر اپنے تابع کرنا اور ایک ایسی مرکزیت کا قیام جس میں فیصلہ کرنے میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ مکمل اختیار صرف ان کو حاصل رہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ادارہ اور کوئی حلقہ ایسا باقی نہ رہے جو ان کو چیلنج کر سکے۔
۲۔ حکومت کے نظام کو ذاتی وفاداری کی بنیاد پر مرتب و منظم کرنا اور اس کو اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کاراز سمجھنا۔
۳- امریکہ سے مکمل یک جہتی اور اس کے نئے عالمی نظام کا ایک جزو بننے اور اس کے نقشے کے مطابق کام کرنے میں اپنی نجات اور ترقی دیکھنا
۴۔ بھارت سے دوستی، ہر قیمت پر ۔
۵-فوجی اخراجات میں کمی، فوج کی تخفیف اور اسے ایسے سول کاموں میں لگا دینا جس سے اس کا مفاد سیاسی قیادت کے مفاد کے تابع ہو جائے یا سیاسی قیادت کے ساتھ وہ بھی عوام کے اعتماد اور عزت سے محروم ہو جائے۔
یہ ہے ان کا اصل پانچ نکاتی منشور ۔ ان کے درمیان بھی ایک ربط و تعلق ہے جو ایک سے دوسرے نکتے کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ ان تمام رجحانات کو حکومت کے بیانات میں نہیں، پچھلے دو سال کی عملی پالیسیوں کے آئینے میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
بھارت سے دوستی کے سلسلے میں ان کی بے چینی کا اظہار ۱۹۹۷ کے انتخابات کے لیے مسلم لیگ کے منشور میں پہلی مرتبہ ایک ایسے انداز میں ہوا جو اس سے پہلے کبھی مسلم لیگ یا کسی بھی دائیں بازو کی جماعت کا ہدف نہیں رہا۔ اس کا نوٹس صرف ہم نے ہی نہیں لیا، بلکہ خود نوائے وقت اپنے ادارتی کالموں میں اس پر گرفت کرنے پر مجبور ہوا۔ اقتدار میں آنے کے بعد پہلے گجرال صاحب سے اور پھر واجپائی صاحب سے جس طرح انھوں نے پینگیں بڑھائیں، اور بھارت کی کہہ مکرنیوں اور مکارانہ چالوں کے باوجود بڑھائیں، وہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ قوم سیاسی جماعتیں ، دانش ور، صحافی، پارلیمنٹ کابینہ وزارت خارجہ ان میں سے کسی کو بھی اعتماد میں لے کر کوئی سوچی سمجھی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ محض اپنے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر ایک بہت ہی قریبی حلقے کی مدد سے جس کا علم، تجربہ ،سیاسی سوجھ بوجھ اور قومی جواب دہی کے بارے میں کوئی شہادت موجود نہیں، وہ ملک و قوم کو اسی خاص سمت میں دھکیلنے پر مصر ہیں اور اگر قوم نے آگے بڑھ کر ان کا راستہ نہ روکا تو نہ معلوم وہ کس حادثے سے سب کو دو چار کر دیں۔ بلکہ آثار و قرائن تو یہ ہیں کہ اگلے چند ماہ ہی میں قوم کو فیصلہ کن صورت حال سے دوچار ہونا ہو گا۔
ستمبر 1999 سی ٹی بی ٹی کی آخری حد ہے۔ ساری تیاری اسی سمت میں ہے کہ اس وقت تک بھارت سے دوستی کا کوئی ڈراما رچا کر کشمیر کے مسئلے کو تحلیل کر دیا جائے اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر کے عملا نیوکلیر پروگرام کو بھی رول بیک کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے۔ اب تو صدر کلنٹن اور امریکی وزیر خارجہ میڈیلین آل برائٹ نے برملا کہہ دیا ہے کہ ستمبر اور دسمبر ۱۹۹۸ میں پاکستان کے وزیر اعظم نے اس کا وعدہ کر لیا ہے اور اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خاص تدریج سے اس کی طرف پیش قدمی اور قوم کو رام کرنے کی سعی ہے۔ بھارت سے بھی امریکہ الگ معاملات طے کر رہا ہے اور بھارت پاک دوستی کا ڈراما بھی امریکہ ہی کی ہدایت کاری میں اسٹیج کیا جا رہا ہے۔ میاں شہباز شریف کے امریکہ کے پھیرے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں، اور بہت سے معاملات وزارت خارجہ، دفاعی نظام کابینہ ، پارلیمنٹ اور قوم سب سے بالا ہی بالا طے کیے جا رہے ہیں۔ واجپائی صاحب کی بس یا ترا اس کا حصہ ہے، اعلان لاہور اس کا شاخسانہ ہے، یہ اور بات ہے کہ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر بھارت کی قیادت بچھو کی طرح ڈنک مارنے سے باز نہیں آتی!۔۔۔ باقی تمام چیزیں ایک واضح نقشے کے مطابق وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔
امریکہ اور بھارت سے دوستی بلکہ اس سلسلے میں وارفتگی کا یہ رویہ کہاں تک قومی مفاد اور ملک و ملت کی آزادی اور عزت کے مطابق ہے، اس پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ کوئی دلیل اور کوئی شواہد ایسے پیش نہیں کیے جا رہے جن سے معلوم ہو سکے کہ امریکہ اور بھارت کے رویے میں کوئی بنیادی تبدیلی ہوئی ہے۔ ہم امریکہ سے دوستی کا خمیازہ ۱۹۶۵ سے بھگت رہے ہیں۔ آزمایش کے ہر لمحے میں امریکہ نے بے وفائی کی اور پاکستان کو صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا لیکن معلوم حقائق کے باوجود ہمارے حکمران اسی کی طرف دیکھتے ہیں اور بار بار اسی سوراخ سے ڈسے جانے کے لیے بے تاب ہیں۔ بھارت اور اس کی قیادتوں سے تو معاملہ اور بھی پرانا ہے۔ مسلمان برعظیم میں چودہ سو سال سے ہندو قیادت سے معاملہ کر رہے ہیں۔ انگریزوں کی آمد کے بعد ہندو، خاص طور پر برہمن قیادت نے انگریز سے سازباز کی اور مسلمانوں کی سیاسی قوت ہی نہیں عمومی مفادات تک کو تاراج کیا جنگ آزادی میں ایسی ایسی غداریاں بے وفائیاں اور دھوکے بازیاں کیں کہ مسلمانوں کو اپنا جداگانہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی موقع پاکستان کو نقصان پہنچانے کا ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اس پورے پس منظر میں کون سی تبدیلی آئی ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت کو بھارت سے دوستی کا دورہ پڑ گیا ہے۔ کوئی بات دلیل اور شواہد سے قوم کے سامنے نہیں لائی گئی۔ اس کے برعکس الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کر دیا گیا ہے کہ حکومت تو امن اور دوستی چاہتی ہے اور کچھ شدت پسند ہیں جو جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اور گفت و شنید اور دوستانہ تعلقات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ خود وزیر اعظم صاحب ایسی اشتعال انگیز باتیں کر رہے ہیں کہ: ا۔ میں تحریک پاکستان کے بزرگوں سے تو مشورہ کر سکتا ہوں مگر ان سے مشورہ کیوں کروں جو پاکستان کے مخالف تھے ، ۲۔ میری مخالفت اس لیے ہو رہی ہے کہ میں نے ایٹمی دھماکا کیا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا، ۳۔ میں ملک کو معاشی طور پر ترقی یافتہ بنانا چاہتا ہوں، موٹر وے بنا رہا ہوں، اور ان لوگوں کو ملک کی ترقی پسند نہیں۔
ان میں سے ہر بات جھوٹ کا پلندا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے بزرگوں سے مشورہ کر سکتا ہوں لیکن ذرا بتائیے تو کس بزرگ سے مشورہ کیا ہے؟ نوائے وقت نے صرف فروری اور مارچ ۹۹ میں ۲۰ سے زیادہ اداریے آپ کی بھارت دوستی کے خلاف لکھے ہیں۔ آپ نے اس کی کوئی بات مانی؟ مجید نظامی صاحب نے واجپائی کے لیے ایوان اقبال کا دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر مجبور کیا گیا تو مستعفی ہو جاؤں گا۔ آپ نے کس کا مشورہ مانا۔ آپ فرماتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے مخالفین سے مشورہ نہیں کروں گا لیکن اے این پی جس کی قیادت نے آپ کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں اور جس کے آگے پیچھے آپ اور آپ کے حواری آج بھی پھر رہے ہیں، ان کو تحریک پاکستان کے مخالفین یا مویدین میں سے کس صف میں آپ رکھتے ہیں؟
آپ کا خطاب آپ کی بھارت نواز پالیسی کی سب سے بڑی مخالف جماعت اسلامی کی طرف ہے تو اس کی تحریک پاکستان کی مخالفت کی اطلاع آپ کو کب ملی؟ ۱۹۸۸ سے ۱۹۹۳ تک آپ اس جماعت اور اس کے امیر محترم قاضی حسین احمد صاحب کے ساتھ ساتھ تھے۔ اس وقت یہ خبر آپ کو نہیں تھی۔ کیا یہ خبر آپ کو اس وقت ملی جب انھوں نے آپ پر گرفت کی اور آپ کا احتساب کیا؟ پھر کیا آپ کو علم نہیں کہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے دو قومی نظریے کی تشریح و توضیح اور کانگریس اور جمعیت علماے ہند کی متحدہ قومیت کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں؟ اگر آپ نے خود بر عظیم کے مسلمانوں کی تاریخ پڑھنے کی زحمت نہیں کی تو مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے مشہور مورخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی کتاب Ulema in Politics اور قائد اعظم کے رفیق شریف الدین پیرزادہ کی کتاب Evolution of Pakistan ہی دیکھ لی ہوتی ، آپ کو پتا چل جاتا کہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے تحریک پاکستان کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ اس کی تقویت کا باعث تھی، گو کہ اس کا اپنا وجود اور طریق کار تھا۔ صوبہ سرحد کے استصواب کے موقع پر جب آپ کے مجروح پاکستان کی مخالفت اور پختونستان کی بات کر رہے تھے ، مولانا مودودی نے پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن آپ کو حقائق سے کیا واسطہ؟ جماعت اسلامی پاکستان میں تو ہزاروں افراد ایسے ہیں جنھوں نے تحریک پاکستان میں عملاً حصہ لیا تھا اور قربانیاں دی تھیں اور خود راقم کو یہ سعادت حاصل رہی ہے لیکن اگر خود آپ سے سوال کر لیا جائے کہ تحریک پاکستان تو بڑی چیز ہے، آپ نے تو اپنے سیاسی سفر کا آغاز ائیر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال اور آپ کے بھائی میاں شہباز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سے کیا تھا اور جونیجو صاحب کی صدارت میں مسلم لیگ کا حصہ ہوتے ہوئے آپ نے مسلم لیگ کا تیا پانچا کرنے میں کیا کردار ادا کیا اور مسلم لیگ سے باہر ہوتے ہوئے قاضی حسین احمد صاحب نے آپ کو اور جونیجو صاحب کو مسلم لیگ میں ساتھ ساتھ چلنے کے لیے کیا کچھ کیا، تو آپ کے پاس “کیا کریں بات جہاں بات بنائے نہ بنے” کے سوا کیا جواب ہو گا؟
ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ جتنا آپ لینا چاہیں لے لیں اور ہم نے بھی اسے تسلیم کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا اور بھٹو ، ضیا الحق ، فوج اور مایہ ناز سائنس دانوں کے ساتھ آپ کو بھی اس کا کریڈٹ دیا۔ لیکن یہ نہ بھول جائیں کہ ایٹمی دھماکے کا سب سے بھر پور مطالبہ جماعت اسلامی اور قاضی حسین احمد صاحب ہی نے کیا تھا اور ملک بھر میں وہ فضا بنا دی تھی کہ دھماکے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔ یہی مطالبہ نوا ئے وقت اور ان تمام اخبارات اور قومی اداروں کا تھا جو آج بھارت دوستی پر گرفت کر رہے ہیں۔ بلکہ اگر آپ کو یاد ہو کہ خود آپ کو کلنٹن سے یہ کہنا پڑا کہ میں تو آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں لیکن کیا کروں میں مجبور ہوں اور ملک کی فضا ایسی ہے کہ اگر میں دھماکا نہ کروں تو مجھے قوم اٹھا کر پھینک دے گی۔ آپ کی یہ پوری گفتگو امریکہ کے رسائل میں آپ کے اپنے الفاظ میں شائع ہو چکی ہے اور اس کا ٹیپ ریکارڈ وائٹ ہاؤس میں محفوظ ہے۔ پھر بھی آپ کی ہمت ہے کہ فرما رہے ہیں کہ جماعت اسلامی اور آپ کے دوسرے ناقد اس لیے آپ پر تنقید کر رہے ہیں کہ آپ نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ ان کی تنقید تو اس پر ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود آپ بھارت کے آگے گھٹنے ٹیک رہے ہیں، کشمیر پر کمزوری دکھا رہے ہیں اور امریکہ کے جال میں پھنس کر نیوکلیر قوت کو غیر موثر کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ رہی بات معیشت کی تو آپ ۱۵ سال سے حکمران ہیں۔ اس عرصے میں جو کچھ آپ نے معیشت کو دیا ہے اور جو کچھ آپ نے معیشت سے حاصل کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ملک کو قرضوں کے ایک ایسے پہاڑ تلے آپ حضرات نے دبا دیا ہے کہ اب اس کی سیاسی اور نظریاتی آزادی بھی خطرے میں ہے۔ سڑکیں ضرور بنائیے لیکن غربت سے فاقہ کرنے اور خود کشی کرنے والے انسانوں سے روٹی کا آخری لقمہ نہ چھینیے۔ اس ملک کے حکمرانوں نے دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا ہے اور آپ سب بڑے بڑے ڈیفالٹرز میں سے ہیں۔ خود اتفاق گروپ ۱۰ ارب روپے کا ڈیفالٹر ہے۔ ابھی واپڈا کے چیئرمین کا بیان آیا ہے کہ آپ کی قومی اور صوبائی اسمبلی کے ۴۴ ارکان بجلی کی چوری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جن ہزاروں بھوت (ghost) اسکولوں کا پتا فوج نے چلایا ہے وہ آپ ہی کی وزارت اعلیٰ کے زمانے سے آپ ہی کے صوبے میں قومی وسائل لوٹ رہے تھے۔ تنقید کا یہ انداز اختیار کر کے آپ اپنے کس کس جرم پر پردہ ڈال سکتے ہیں۔ جو لوگ شیشے کے گھر میں رہتے ہیں انھیں دوسروں پر پتھر پھینکنے کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے ۔
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذر ا بندِ قبا دیکھ
گفت و شنید ، ڈپلومیسی کا ایک اہم طریقہ ہے اور اس سے نہ کسی نے انکار کیا ہے اور نہ انکار کا سوال ہے۔ دنیا کے تمام ہی ممالک سے دوستی ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں۔ سارا اختلاف دوست اور دشمن میں تمیز نہ کرنے پر ہے۔ امن اور سلامتی تو سب کی خواہش ہے۔ لیکن امن اور سلامتی، انصاف اور عزت کے ساتھ مطلوب ہیں۔ ورنہ لوگ زندہ تو غلامی میں بھی رہ لیتے ہیں اور سکون کی ایک نوع تو قبرستان میں بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ بھارت سے دوستی اسی وقت ممکن ہے جب وہ پاکستان دشمنی کی روش کو ترک کرنے پر تیار ہو، ہمارے حقوق ادا کرنے کے لیے آمادہ ہو ، کشمیر میں جو ظلم اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا ہے، اسے بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اہل کشمیر کو اپنا مستقبل طے کرنے کے لیے استصواب کا حق دینے کو تیار ہو۔ اگر بھارت کی قیادت کے ہاتھ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے خون میں رنگے ہوں تو اس سے مصافحہ اور معانقہ ، غیرت کے منافی ہے۔ یہ بات محض جذبات کی نہیں ہے۔ عالمی سیاست کا ایک اصول ہے کہ جن مذاکرات کے پیچھے عزم اور قوت نہ ہو وہ خسارے کا سودا ہوتے ہیں۔ فریڈرک اعظم Frederik the Great)) کا یہ جملہ بین الاقوامی سیاست کی ہر مستند کتاب میں ضرب المثل کے طور پر دہرایا جاتا ہے:
Diplomacy without force is like music without instruments. (Penguin Dictionary of International Relations, Penguin Reference, 1998, p 129).
”طاقت کے بغیر سفارت کاری ایسے ہے جیسے آلات کے بغیر موسیقی”۔
ہمارے لیے سب سے زیادہ ناقابل فہم آپ کی عالمی سیاست کاری کا یہ شاہکار ہے کہ آپ نے پاکستان کو ایٹمی قوت بننے کے بعد ”اعلان لاہور ” کے ذریعے ۱۹۷۲ کے شملہ معاہدے کی پستی میں دھکیل دیا ہے اس شملہ معاہدے کی، جو ا۱۹۷ کی مشرقی پاکستان میں شکست ۹۰ ہزار پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کے بھارتی قیدی بن جانے اور پاکستان کے ہزاروں مربع میل علاقے پر ان کے قبضے کی وجہ سے ہمیں مجبوراً کرنا پڑا تھا اور جس کو خود بھارت نے سیاچن کے ایک حصے پر قبضے کے ذریعے خلاف ورزی کر کے غیر موثر بنا دیا تھا جس کے تحت ۲۷ سال کشمیر کے مسئلے اور دوسرے پاک بھارت مسائل کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جسے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے سوا کسی دوسری جماعت بشمول مسلم لیگ نے ایک جائز اور معقول معاہدہ تسلیم نہیں کیا، جس کا کوئی ذکر آئی جے آئی اور خود مسلم لیگ نے اپنے منشور میں نہیں کیا بلکہ جس کے بارے میں خود آپ کے وزیر خارجہ نے عین ۲۱ فروری ۱۹۹۹ کے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے کوئی مناسب ماڈل نہیں ہے۔ اعتراض آپ کے انداز گفت و شنید پر ہے، اس فریم ورک پر ہے جس میں آپ بات کرنا چاہتے ہیں، ان اہداف اور ترجیحات پر ہے جو پاکستان کی متفق علیہ کشمیر پالیسی اور بھارت پالیسی کو یک طرفہ تبدیل کر کے آپ نے طے کی ہیں اور جن میں دو ایسی فاش غلطیاں (blunders)آپ نے کی ہیں، جن کی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی یعنی:
ا۔ سی ٹی بی ٹی اور نیوکلیر پالیسی کو بھارت کے دستخطوں اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے بے تعلق (delink)کرنا۔
۲۔ بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کو، جن میں تجارت، رسل و رسائل کی سہولت، ثقافتی تبادلے، کھیل کود میں تعاون ، اراکین پارلیمینٹ کا تبادلہ وغیرہ شامل ہیں، کشمیر کے مسئلہ کے حل سے بے تعلق (delink) کرنا۔
۵۰ سال کا تجربہ گواہ ہے کہ بھارت یہی چاہتا تھا کہ ہم کشمیر کے مسئلے کو ان تمام امور سے بے تعلق کر دیں جب کہ ہمارا اصل زور (leverage) ہی یہ تھا اور ہے کہ پہلے کشمیر کے مسئلے کا حل نکلے ، پھر دوستی اور معمول کے تعلقات ہو سکتے ہیں۔ اعلان لاہور آج تک کی پالیسی سے انحراف اور ایک رجعت قہقہری (retrogressive step) ہے جسے پاکستانی قوم کبھی قبول نہیں کرے گی اور جس سے خود آپ کو جلد رجوع کرنا ہو گا۔ اس لیے کہ تنازعہ کشمیر پر واضح پیش رفت کے بغیر ان میں کسی معاملے میں بھی بھارت سے تعاون پاکستان کے مفاد کے خلاف اور بھارت کی حکومت کے ایجنڈے پر عمل ہے۔
اس کے دو ایسے خطرناک نتائج ہیں جو پاکستان کے بنیادی (vital) مفاد کی ضد ہیں:
۱۔ کشمیر کی تحریک مزاحمت اور کشمیری عوام کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لیے تیار ہے اور ان کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ تحریک کمزور ہو گی بلکہ اہل کشمیر کو جو توقعات پاکستان سے ہیں وہ ختم ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف یہ کہ ان میں مایوسی بڑھے گی بلکہ وہ اسے بے وفائی سمجھیں گے اور پاکستان سے الحاق کے جذبات سرد پڑ جائیں گے اور ”تیسرے آپشن” کے مویدین کو تقویت ہو گی۔ اہل کشمیر بھارت کے ساتھ تو ہرگز نہیں رہیں گے لیکن حکومت پاکستان کی اس عاقبت نااندیشانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ پاکستان کے حامی نہیں رہیں گے اور آزاد ریاست کا نعرہ لگانے والوں کی جھولی میں گرنے پر مجبور ہوں گے۔۔۔ جو خود امریکہ کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
۲۔ اس سے پاکستان میں آج تک کشمیر اور بھارت کے سلسلے میں جو قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے وہ تباہ ہو جائے گا۔ کشمیر ہی ایک ایسا ایشو تھا جس پر پوری قوم میں یک رنگی تھی۔ اب نواز حکومت کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے اس ایشو پر بھی قوم کو بانٹ دیا ہے۔ وزیر اعظم صاحب اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ صرف چند سر پھروں کا معاملہ ہے، جو ان کے اس موقف کو چیلنج کر رہے ہیں۔ قوم کی عظیم اکثریت اور خود ان کی مسلم لیگ کے عام کارکن اور ووٹر اس معاملہ میں ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ وہ قوم کو اور خود مسلم لیگ کو بانٹنے کا ذریعہ بنیں گے۔
یہ دونوں نتائج ایسے خوفناک ہیں کہ حکومت کو ان سے بچنے کے لیے پاکستان کی آج تک کی اصولی پالیسی سے انحراف کا راستہ ترک کر دینا چاہیے.
تشویش کی ایک بات دوستی کا وہ خام اور طفلانہ تصور ہے جس کا نمونہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دشمنوں کے درمیان بھی بات چیت ہوتی ہے لیکن اس کے کچھ آداب اور حدود ہیں۔ گو اس مکروہ اور دھو کے پر مبنی خطرے کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جس کا نمونہ شیوا جی نے اور نگ زیب اور مرہٹوں کی لڑائی میں مذاکرات کے نام پر کیا تھا، لیکن اگر ڈپلومیسی کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو مذاکرات کے آداب سامنے آتے ہیں۔ روس اور امریکہ میں بھی سرد جنگ کے دوران مذاکرات ہوئے۔ اسرائیل اور عربوں نے بھی الگ کمروں میں بیٹھ کر بات کرنے کے بعد بالمشافہ بات چیت بھی کی اور ایک اسٹیج پر سرد مہری کے ساتھ ہی سہی مصافحہ بھی کیا۔ یہی صورت حال ہی میں کو سووا اور سربیا کے مذاکرات میں دیکھنے میں آئی۔ امریکہ اور چین جنھوں نے ایک دوسرے کو برسوں تسلیم نہیں کیا ان میں بھی مذاکرات ہوئے۔ لیکن مذاکرات ایک چیز ہے اور دشمن کے نمائندوں کا فاتحوں جیسا استقبال کرنا ایک دوسری چیز ہے۔
بھارت کا ریکارڈ تو یہ ہے کہ اس نے جنوری 1999 میں کشمیر میں اپنے مظالم میں نمایاں اضافہ کیا۔ بھارتی فوج کے چیف آف اسٹاف نے روایتی جنگ کی دھمکی دی۔ وزیر خارجہ نے ۲۰ فروری کے دورے سے صرف دو دن پہلے کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کا اعلان کیا۔ کلکتہ کے ایڈن گارڈن میں ۲۰ فروری کو کرکٹ میچ کا آغاز “پیار تو ہونا ہی تھا” کے بینر کی آرایش سے ہوا لیکن جب بھارتی کھلاڑی آؤٹ ہونے لگے اور شکست کا خطرہ منڈلانے لگا تو کھیل کو تہ و بالا کر دیا گیا اور بالآخر پورا اسٹیڈیم خالی کروا کے کرکٹ کی تاریخ کا پہلا میچ ایسا ہوا، جس میں کوئی تماش بین نہیں تھا۔ جب واجپائی صاحب کی بس واہگہ پہنچی تو بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے میوزک کی دھن ” ساڈے نال رہو گے تے عیش کرو گے” تھی۔ اس کے برعکس ہمارا حال یہ تھا کہ جیسے کسی فاتح کا استقبال کر رہے ہیں۔ گورنر ہاؤس میں دعوت کو کافی نہ سمجھا گیا بلکہ شاہی قلعے میں شاہانہ استقبال کا اہتمام بھی ضروری سمجھا گیا، اور وہ بھی خاص مغل بادشاہوں کے انداز کا۔ یہاں ہمارے کارندے میوزک کی جن دھنوں پر اپنی عقیدت نچھاور کر رہے تھے وہ تھیں: ” آئے گا آئے گا آنے والا ، گھر آیا میرا پردیسی” اور “جانے والے ٹھہرو ذرا رک جاؤ“۔ معلوم ہوتا ہے جیسے رکھ رکھاؤ، سفارتی آداب، قومی غیرت، تحریک کشمیر پر اثرات کسی کا کوئی لحاظ اور کوئی حدود ہمارے رہنماؤں کے سامنے نہیں۔ پاکستان کے ایک لائق سابق سفارت کار جناب عبدالستار نے بہت صحیح کہا ہے کہ بھارت سے تعلقات کے بارے میں رکھ رکھاؤ اور حدود کا لحاظ بہت ضروری ہے۔ نہ دوستی اور نہ دشمنی۔۔۔ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، خصوصیت سے جب دشمنی کے پس منظر میں تعلقات کی استواری ملحوظ ہو۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے دوستی سے پہلے ہی الفت ہی نہیں عشق و محبت کے سارے ارمان نکالنا شروع کر دیے۔ اس پر عوام میں نفرت کا لاوا نہ پھوٹ پڑے تو کیا ہو؟ اخبارات میں معتبر ذرائع سے یہ بات بھی شائع ہوئی ہے کہ ماہر سفارت کاروں اور خود وزارت خارجہ کا مشورہ یہ تھا کہ ملاقات میں گرم جوشی کا زیادہ اظہار نہ کیا جائے، شاہی قلعہ میں دعوت کا اہتمام نہ کیا جائے، کشمیر پر پہلے سے کوئی عندیہ حاصل کر لیا جائے لیکن وزیر اعظم صاحب کو ”بتوں سے فیض” کی نہ معلوم کیا کیا توقعات تھیں کہ کسی کی بات نہ مانی اور ایک ایسی صورت پیدا کر دی جس کو برداشت کرنا قومی مفاد اور ملی غیرت کے منافی تھا اور وہ ظاہر ہو کر رہا اور واجپائی صاحب کو بھی کہنا پڑا: “کچھ تو ہونا تھا!”
واجپائی صاحب کا دورہ اور اس کا ایجنڈا کہاں تک دہلی اور اسلام آباد کا ساختہ تھا اور کہاں تک واشنگٹن کا شعبدہ؟ یہ – یہ سوال بھی ذہنوں کو مسلسل پراگندا کیے ہوئے ہے۔ واقعات جس ترتیب سے رونما ہوئے ہیں ان پر اگر غور کیا جائے تو بہت سے دریچے کھل جاتے ہیں۔ اعلان لاہور کی جس طرح مغربی دنیا میں پذیرائی ہوئی ہے اور خصوصیت سے صدر کلنٹن اور امریکی وزارت خارجہ نے جس طرح اس کا خیر مقدم کیا ہے اور خود اعلان اور میمورنڈم میں” نیوکلیر روک تھام” کے معاملے کو جس طرح لیا گیا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ
پر ہم کچھ ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے؟
اس سلسلے میں اہل خبر کیا کہہ رہے ہیں اس پر تھوڑے سے توقف اور غوروخوض کی ضرورت ہے۔ بھارتی روزنامہ دی ایشین ایج (The Asian Age ) نے اپنے ۱۰ مارچ 99 کے اداریے میں صورت حال کا یہ تجزیہ کیا ہے:
معلوم ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کا ایجنڈے کی ہر شق کی جزئی تفصیلات تک کا انتظام کلی طور پر کر رہی ہے۔ امریکی ڈپٹی سیکرٹری ٹالبوٹ کے دورے کے بعد وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے لاہور جانے کو محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس اقدام پر واشنگٹن کی شاباش کچھ تکلیف دہ ہی تھی اور جن کو اب بھی شبہ ہو، ان کے لیے اسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کارل انڈر فرتھ کا یہ اعلان کافی ہونا چاہیے کہ جون یا جولائی میں وزیر اعظم نواز شریف کا دہلی جانا طے ہے۔ یہ ایسا دورہ ہے جس کا اعلان متعلقہ ممالک نے نہیں کیا ہے اور افسران کو نہیں معلوم کہ دوسروں نے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔ مسٹر انڈر فرتھ کا بیان واضح علامت ہے کہ تاریخیں اب دو سرے ہی طے کر رہے ہیں، ضروری نہیں کہ بھارت اور پاکستان طے کریں۔
بھارت کا ایک ماہنامہ افکار ملی اپنے اداریے میں اس طرف اشارہ کرتا ہے: ۲۰ فروری کو امرتسر سے واہگہ تک ۳۷ کلو میٹر لمبی بس یا ترا نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو اپنے در پردہ مقاصد میں پوری طرح کامیاب کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بس سروس کا فیصلہ فروری ۹۸ میں دونوں وزرائے اعظم کی نیویارک میٹنگ میں ہی کر لیا گیا تھا۔ حالات کا باریک بینی سے مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کا یہ سفر بیرونی و اندرونی دباؤ کا نتیجہ تھا۔ امریکہ کی ایک عرصے سے یہ کوشش تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں اور نیوکلیائی تجربات پر پابندی اپنی حتمی شکل اختیار کر لے۔ نیز تعلقات کی خوش گواری امریکہ کو کشمیر کے معاملے میں ثالثی کا موقع فراہم کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ ادھر بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان یا ترا کا سگنل دیا اور ادھر ورلڈ بنک نے امریکی اشارے پر آندھرا پردیش کے بجلی پروجیکٹ کے لیے عرصہ سے رکی ۲۱۰ ملین ڈالر کی رقم کی منظوری دے دی۔ اسی طرح اس بات کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ حکومت ہند کو ۱۶۷ بلین ڈالر کے قرضے کی بھی ہری جھنڈی دکھا دی جائے گی” ( افکار ملی ، مارچ ۹۹، ص ۱۰)۔
بھارت کے ایک اور اہم جریدے فرنٹ لائن (Frontline) ۱۲ مارچ ٬۹۹ ص (۱۴) کا کالم نگار لکھتا ہے:
یہ ظاہر کرنا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے اقدام سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں، شان کا اظہار ہو سکتا ہے، حقیقت سے بالکل بعید ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ واجپائی صاحب کے دورہ لاہور کے دوران صرف پاکستان میں امریکہ کے سفیر ہی لاہور میں موجود نہ تھے بلکہ بھارت میں امریکہ کے موجودہ سفیر رچرڈ سیلاسٹے اور سابق سفیر فرینک وزنر بھی جنھوں نے حال ہی میں چارج دیا ہے، موجود تھے۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟ یہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ٹالبوٹ کے مضمون سے جو مشہور امریکی جریدے فارن افیرز کے مارچ اپریل 1999 میں شائع ہوا ہے، نیز لندن ٹائمز‘ نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ اور دوسرے جرائد اور اخبارات کے تبصروں کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے:
۱- امریکہ کا اصل ہدف علاقے کی دونوں طاقتوں، اور خصوصیت سے پاکستان کے نیوکلیر پروگرام کو ختم کرانا ہے۔ اس کے لیے اس کا اصرار ہے کہ پہلے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرو جس کی توثیق آج تک امریکہ روس اور چین نے بھی نہیں کی ہے۔ پھر ایف ایم سی ٹی (FMCT) یعنی ایٹمی مواد کی افزودگی کو فی الفور روک دو، حالانکہ ابھی اس سلسلے میں معاہدے پر بات چیت ہی شروع ہوئی ہے اور ابتدائی امور پر بھی اتفاق رائے نہیں ہوا۔ غالبا دو سال معاہدے کو حتمی شکل دینے میں لگیں گے لیکن مطالبہ ہے کہ یہ ممالک مزید افزودگی کو فوراً روک دیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی تنصیبات اور تجربات کو معائنے کے لیے کھول دیں جس کے لیے امریکہ اور باقی چار نیوکلیر ملک تیار نہیں اور این پی ٹی کے تحت انھیں تحفظ حاصل ہے۔
بھارت کے بارے میں تو ایسے آثار ہیں کہ امریکہ( critical minimum deterrence) کا اصول تسلیم کرنے کو تیار ہے۔ بھارت اس کی تعریف کرنے کو تیار نہیں اور اسے مبہم رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو یہ اختیار بھی دینے کے لیے امریکہ ابھی تک آمادہ نہیں ہے۔ یہ چار نکاتی مطالبہ نیوکلیر پروگرام کو cap کرنے ،پرانی حالت پر لوٹانے ، ہتھیاروں کی ترسیل کے نظام (delivery system) کو کنٹرول کرنے اور بالآخر مغربی اقوام کے معائنے کے تابع کرنے پر آمادہ یا مجبور کرنا ہے۔
۲-پاک بھارت مذاکرات کا آغاز اور اس میں بھارت کے اس ایجنڈے پر عمل کہ کشمیر کے مسئلے کو الگ کر کے باقی امور پر بات چیت اور سمجھوتہ کیا جائے۔ حکمت عملی یہ ہے کہ شور مچائے بغیر ایک ایک میدان میں عملاً تعاون شروع کر دیا جائے تاکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہو جائے۔
۳۔ کشمیر کے معاملے میں کسی ایسے راستے کو نکالنا جس میں: (i) دونوں کی آن رہ جائے۔ (ii) پاکستان کو مزید علاقہ یا بہتر عسکری پوزیشن حاصل نہ ہو سکے۔ (ii) بھارت کچھ علاقہ چھوڑ دے مگر وہ پاکستان کے پاس نہ آئے تا کہ بھارت کی فوج موجودہ دلدل سے نکل آئے لیکن پاکستان کو کوئی برتری (advantage) نہ حاصل ہو سکے۔ (iv) کچھ علاقے پاکستان اور بھارت میں ضم ہو جائیں اور کچھ کو نیم خود مختاری مل جائے جو خواہ ان دونوں کے مشترک نگرانی کے نظام میں ہو یا صرف بھارت کے یا اقوام متحدہ کے۔ یعنی یہ کہ بھارت کمزور نہ ہو، پاکستان مضبوط نہ ہو، چین پر نگرانی یا دباؤ ڈالنے کی کوئی صورت پیدا ہو سکے اور بھارت جو پھنسا ہوا ہے اسے سہولت (relief) مل جائے۔ اس کی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئی ہیں یا ابھی کئی متوقع صورتوں (scenarios) پر غور ہو رہا ہے لیکن مشترکہ اہداف وہی ہیں جو بیان کیے گئے ہیں۔ پاکستان کو یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ قوت سے وہ کشمیر کو حاصل نہیں کر سکتا تحریک مزاحمت کمزور ہو رہی ہے، پاکستان عملی مدد بند کرے ورنہ اسے دہشت گرد ریاست (terrorist state) قرار دے دیا جائے گا۔ کچھ علاقہ پاکستان کو مل جائے گا اور بھارت سے تنازعہ ختم ہو جائے گا جس کے نتیجے میں وسائل، معاشی ترقی کے لیے استعمال کیے جاسکیں گے۔
بھارت سے کہا جا رہا ہے کہ تم جو اربوں روپے کشمیر پر خرچ کر رہے ہو، وہ بچا لو گے۔ پاکستان کو کوئی فوقیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ کشمیری تمھارے ساتھ رہنے کو تیار نہیں لیکن اس خود مختاری میں تمھارے زیر اثر رہیں گے۔
اس ساری کارروائی کا اصل مقصد علاقے میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور چین کے خلاف بھارت کے تعاون سے نگرانی کا ایک نیا نظام وضع کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واجپائی کے دورے پر چین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
۴- اس پورے کھیل میں پاکستان پر دو طرح کا دباؤ مزید ڈالا جا رہا ہے۔ ایک معاشی دباؤ جو حکومتوں کی غلط معاشی پالیسی، کرپشن اور بے تدبیری کی وجہ سے خاصا گھمبیر ہو چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر بھارت سے دوستی اور کشمیر کی تقسیم کی کسی صورت کو قبول نہیں کرتے تو علاقائی تحریکیں ترقی کریں گی، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور خدانخواستہ پاکستان کو ایک نہیں ۴ یا ۵ ملکوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
یہ ہے امریکہ کا اصل ایجنڈا۔ ابھی بھارت نے بھی اسے مکمل طور پر قبول نہیں کیا ہے اور نہ پاکستان ہی نے کلی طور پر مانا ہے لیکن دونوں آہستہ آہستہ اس جال میں پھنتے چلے جا رہے ہیں۔
اس اسکیم کا اصل ہدف بھارت نہیں، پاکستان ہے۔ لیکن پاکستان کی قیادت کو اس کا کوئی احساس نہیں۔ پاکستان کے پاس جو اصل قوت (leverage) ہے یعنی نیوکلیر صلاحیت، وہ عملاً اس پر قدغن اور کنٹرول کو تسلیم کر چکی ہے اور اگر قومی سطح پر عوامی دباؤ رونما نہیں ہوتا تو جولائی سے ستمبر تک کے عرصے میں سی ٹی ٹی ٹی پر دستخطوں کا خطرہ ہے جو اس جال میں پھننے کا پہلا قدم ہو گا۔ اگر پاکستان اس دباؤ کا مقابلہ کر لیتا ہے تو ستمبر کے بعد سی ٹی بی ٹی غیر موثر ہو جائے گی اور نئے سرے سے مذاکرات شروع ہوں گے جن میں ہم اور پورا عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک ایک اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ اگر فاقہ کر کے بھی ملک اس دباؤ کا مقابلہ کرے تو پاکستان اور دوسرے ممالک ایک نیا کردار ادا کر سکیں گے۔ غالب امکان یہی ہے کہ خود امریکہ، روس اور چین بھی ستمبر کے آخر تک توثیق کو موخر کریں گے اور صرف اس وقت توثیق کریں گے جب باقی ۴۴ ممالک جن کی توثیق ضروری ہے کر دیتے ہیں۔ اس کے لیے بڑے مضبوط اعصاب اور بے لچک مذاکرات کی ضرورت ہے جو قوم کی مکمل تائید کے بغیر ممکن نہیں۔
حکومت کی ایک بڑی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اتنے اہم امور پر قومی پالیسی بنانے میں مشاورت کے اصول کو یکسر نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ سی ٹی بی ٹی پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوئی جو کسی نتیجے پر نہین پہنچی۔ پریس اور عوامی سطح پر اس کی سخت مخالفت ہوئی۔ بحث کو ادھورا چھوڑ کر وزیر اعظم صاحب نے صدر کلنٹن سے بات چیت کر ڈالی۔ جو گڑ کلھیا میں پھوڑا جا رہا ہے اس کا کسی کو علم نہیں۔ واجپائی سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں، دعوے سے کہا جا رہا ہے کہ اس سال کے اندر معاملات طے ہو جائیں گے (یعنی وہی ستمبر والی بات!) لیکن نہ کابینہ میں بات ہوئی ہے ، نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا ہے نہ سیاسی اور دینی جماعتوں کی قیادت سے بات چیت ہوئی ہے، نہ پریس میں اور الیکٹرانک میڈیا پر کوئی کھلی بحث ہے۔ یہ جمہوری نہیں خالص آمرانہ انداز حکومت ہے جو قوموں کو لے ڈوبتا ہے۔
یہ کیسا جمہوری اور دستوری نظام ہے کہ جمہوری اصولوں اور طور طریقوں کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء الحق فوجی حکمران تھے لیکن قومی سلامتی کے اہم مسائل پر سیاسی قیادت سے مشورہ کرتے تھے۔ جونیجو صاحب نے جنیوا معاہدے کے وقت نہ صرف تمام جماعتوں کی کانفرنس بلائی بلکہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی بلایا، لیکن نہ بے نظیر صاحبہ نے اور نہ میاں نواز شریف نے اہم قومی امور پر ملک کی سیاسی قوتوں اور پارلیمینٹ کے ایوانوں کو اعتماد میں لیا۔ ضرورت ہے کہ حکومت کو اہم بین الاقوامی معاہدوں کے سلسلے میں پارلیمنٹ کی توثیق کا دستوری طور پر پابند کیا جائے۔ ایسی دستوری پابندی کی عدم موجودگی میں عوامی دباؤ اور قومی رائے عامہ کو متحرک کرنے کا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ وہ افراد ادارے اور جماعتیں مبارک باد کی مستحق ہیں جنھوں نے واجپائی کی لاہور یا ترا کے موقع پر قومی جذبات کا اظہار کیا، خواہ انھیں کیسے ہی ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ جماعت اسلامی اور اس کی قیادت نے پوری قوم کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا اور ملک کو ایک بڑی آزمائیش سے بچا لیا ورنہ خطرہ تھا کہ سی ٹی بی ٹی اور کشمیر کے معاملے میں مزید خرابی کی صورت پیدا ہوتی۔ اس عوامی احتجاج نے ایک وقتی بریک کا کام کیا ہے لیکن ضرورت رائے عامہ کو اتنا متحرک کرنے کی ہے کہ حکومت من مانی نہ کر سکے۔ اس کے لیے تمام محب وطن قوتوں اور اداروں کا تعاون ضروری ہے۔ جس طرح ۲۱-۲۰ فروری کے واقعات میں قومی کانفرنس نے ملت اسلامیہ پاکستان کے موقف کو زبان دی اسی طرح در پیش خطرات اور آنے والے مراحل میں قوم کی صحیح رہنمائی اور حکومت کو غلط اقدامات سے روکنے کے لیے اشتراک اور تعاون کی ضرورت ہے۔ بات پرانی ہے مگر وقت کی ضرورت ہے
یہ گھڑی محشر کی ہے، تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے



