International RelationsPakistan

امریکی عزائم اور اِن کا مقابلہ

پروفیسر خورشید احمد

بسم الله الرحمٰن الرحيم

ا۔ امریکی عزائم

امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کے طول و عرض میں دہشت گردی کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اور ایک مہم کی ناکامی پر پردہ ڈالنے اور توجہ ہٹانے کے لیے نت نئے اہداف کو نشانہ بنانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس نے پوری دنیا کے چین اور سکون کو پامال کر دیا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ انسانیت کو امن و انصاف سے کوسوں دور لے جانے اور دنیا کی بیشتر اقوام کو ایک نئے سامراجی نظام کے شکنجے میں کہنے کے راستے پر گامزن ہو گیا ہے۔ طاقت کے نشے نے اسے ایسا بد مست کر دیا ہے کہ صدر جارج بش اور ان کے رفقاء نہ اپنے ملک کے اصحاب علم و بصیرت کی بات پر کان دھر رہے ہیں اور نہ عالمی رائے کی آہ و بکا کی انھیں کوئی پروا ہے۔ واشنگٹن اور نیو یارک سے لے کر لندن، برلن، کوپن ہیگن، استنبول، سیول اور لاہور تک عوام جنگ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، لیکن افغانستان کو تباہ کرنے اور اپنی گرفت میں لے لینے کے بعد امریکہ عراق پر فوج کشی کے لیے تلا ہوا ہے اور ایران، سعودی عرب پاکستان، شمالی کوریا سمیت ۱۸ ممالک کو ضرب کاری( hit list) کی زد پر رکھے ہوئے ہے بین الاقوامی قانون کو عملاً ہی نہیں، نظری طور پر بھی rewrite کیا جا رہا ہے اور عالمی سلامتی کے لیے جو بھی برا بھلا نظام اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے تحت قائم ہونے والے اداروں معاہدات اور ضوابط کی شکل میں بنایا گیا ہے اسے تہ و بالا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ صدر بش کسی شرم و حیا اور تکلف کے بغیر صاف کہہ رہے ہیں کہ: امریکہ اپنے دشمنوں پر پیش بندی کے طور پر حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا خواہ اسے بین الاقوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ وہ اپنی فوجی بالادستی کو خطرے میں پڑنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ عقل عام اور خود اپنے دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ امریکہ اس طرح کے ابھرنے والے خطروں کے خلاف ان کے مکمل شکل اختیار کرنے سے پہلے اقدام کرے۔ گویا:

ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے

سزا خطاے نظر سے پہلے عتاب جرم سخن سے پہلے

بش صاحب یہ بھی فرما چکے ہیں کہ : یا تو عراق اپنے عمومی تباہی کے ہتھیاروں کو غیر مسلح کر دے یا امریکہ عراق کو اقوام متحدہ کی حمایت یا بغیر حمایت کے غیر مسلح کر دے گا۔ بات صاف ہے، اب نہ کوئی قانون ہے اور نہ ضابطہ صرف طاقت کے ذریعے فیصلے ہونے ہیں اور پوری دنیا امریکہ کی باج گزار ہے۔

عالمی رد عمل

دنیا امریکہ کی اس سامراجی یلغار اور استعماری مملکت سازی (empire building) کی دراندازیوں پر ششدر مضطرب اور ان سے متنفر ہے۔ رائے عامہ کے امریکی ادارے PEW Research کے تازہ ترین جائزے کے مطابق، جس میں دنیا کے ۲۶ ملکوں میں ۳۸ ہزار افراد سے ۶۳ زبانوں میں انٹرویو کیے گئے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ دنیا کے ہر علاقے کے عوام امریکہ سے نالاں ہیں اور ان کی امریکہ سے خفگی اور نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ ممالک جو بظاہر اس نام نہاد جنگ میں امریکہ کے ساتھ ہیں ان کے عوام بھی اپنی حکومتوں سے نالاں اور امریکہ کے جنگی عزائم کے مخالف ہیں۔ امریکہ کے ان عالمی تصورات اور اثرات سے اگر برطانیہ کے ۵۰ فی صد عوام غیر مطمئن اور متفکر ہیں اور ان کو منفی سمجھتے ہیں تو جرمنی میں یہ تناسب بڑھ کر ۶۷ فی صد روس میں ۶۸ فی صد فرانس میں اے فی صد ترکی میں ۸ے فی صد پاکستان میں ۸۱ فی صد اور مصر میں ۸۴ فی صد ہو جاتا ہے۔ برطانیہ میں ۴۴ فی صد جرمنی میں ۵۴ فی صد اور فرانس میں ۷۵ فی صد افراد نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ عراق پر حملے کی اصل غایت شرق اوسط کے تیل کے چشموں پر قبضہ ہے۔ ترکی کے ۸۳ فی صد عوام عراق پر حملے کے لیے ترکی کے اڈوں کو استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔ لبنان میں ۷۳ فی صد اُردن میں ۴۳ فی صد بنگلہ دیش میں ۴۴ فی صد اور نائیجیریا میں ۴۷ فی صد عوام خودکش حملوں کی تائید میں ہیں۔ لندن کے اخبار گارڈین کا مقالہ نگار پیٹر پرسٹن اس پر پکار اٹھتا ہے کہ:

This is alienation on the grandest scale.

یہ عظیم ترین پیمانے پر بیزاری ہے۔

جرمنی ترکی، بحرین، مراکش، پاکستان، ارجنٹائن اور جنوبی کوریا کے انتخابات میں عوام نے ہوا کے جس رخ کا اظہار کیا ہے وہ اس عالمی رائے کا ایک مظہر ہے۔

ایک طرف دنیا کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف امریکہ کی قیادت کی رعونت اور انسانیت کو جنگ میں جھونک دینے کے عزائم روز افزوں ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس سے مجبور ہو کر امریکہ کا سابق صدر جیمی کارٹر ۲۰۰۲ء کے نوبل انعام کو وصول کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ انسانیت نئے ہزاریے میں ایک ایسے عالم میں داخل ہو رہی ہے جسے کسی صورت میں بھی امن و آشتی کی حالت نہیں کہا جاسکتا ۔ کارٹر کے الفاظ میں:

The World is now, in many ways, a more Dangerous place

حقیقت یہ ہے کہ دنیا مختلف پہلوؤں سے آج ایک بڑی خطر ناک جگہ بن گئی ہے۔

وہ صاف اشاروں کے ذریعے اپنی قوم کو متنبہ کرتا ہے کہ نہ یہ صورت حال طویل عرصے جاری رہ سکتی ہے اور نہ کوئی بھی طاقت ور ملک پیش بندی کے طور پر جنگ( pre emptive War)کا راستہ اختیار کر کے اس کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

امریکی حکمت عملی

امریکہ کی یہ پالیسی پوری دنیا اور خصوصیت سے عالم اسلام کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ اس نے اپنے استعماری اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جن خطوط کار پر کام شروع کر دیا ہے ان کو سمجھنا اور حکمت اور فہم و فراست کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ گذشتہ تین ماہ میں جو اہم دستاویزات امریکہ کے فیصلہ ساز اداروں نے جاری کی ہیں ان کا مطالعہ اور تجزیہ بے حد ضروری ہے۔ ان میں سب سے اہم قومی حکمت عملی کی دستاویزات ( ستمبر۲۰۰۲ء) (US National Strategy Papers) ہیں۔ اس کے ساتھ Nuclear Posture Review اور تازہ ترین دستاویز : عمومی تباہی کے ہتھیاروں کے مقابلے کی قومی حکمت عملی ( دسمبر ۲۰۰۲ء) کا مطالعہ کیا جائے تو یہ اہم ترین نکات سامنے آتے ہیں:

ا۔ لامحدود اختیارات :

امریکہ کی انتظامیہ اب نہ اقوام متحدہ کو عالمی سلامتی اور صلح و جنگ کے لیے ایک بالاتر ادارہ تسلیم کرتی ہے اور نہ عالمی رائے عامہ کو کوئی اہمیت دیتی ہے حتی کہ خود اپنے دستور سے بھی اپنے کو بالا رکھنے کا عزم کر چکی ہے۔ جنگ اور کسی دوسرے ملک کے خلاف قوت کے استعمال کے بارے میں جو پابندی امریکی دستور نے لگائی ہے اسے بھی ضروری اقدام کے لیے عمومی اجازت کا مہم سہارا لے کر جنگ کے اہداف وقت اور نوعیت طے کرنے اور فوج کشی کر ڈالنے کے سارے مطلق اختیار امریکی صدر نے خود ہی اپنے ہاتھوں میں نہایت بے باکی سے بے جاطور پر لے لیے ہیں۔ یہ صاف لفظوں میں نئے استعمار اور استبداد کا راستہ ہے۔

۲۔حملہ کرنے کی آزادی:

گذشتہ کئی صدیوں سے عالمی صلح و جنگ کا نظام جن دو اصولوں پر چل رہا تھا، یعنی طاقت کا توازن اور رو جارحیت وہ دونوں اب ازکار رفتہ ہو گئے ہیں ۔ اب نیا اصول پہلے ہی فوجی اقدام ہے جس کا خود دفاعی (self defence) کے نام پر جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کی حد پوری دنیا ہے کوئی بھی افراد گروہ اقوام اور ممالک۔ امریکہ جہاں چاہے اور جس انداز میں چاہئے اس بنیاد پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور اس میں روایتی جنگ کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو بھی روا رکھا جا سکتا ہے۔ غیر ایٹمی ممالک پر بھی کیمیاوی یا گیس کے ہتھیاروں کے بہانے ایٹمی حملہ کیا جا سکتا ہے۔

۳۔ ایجنسیوں کی مداخلت کی کھلی چھوٹ :

 پچھلے چار سو سال سے عالمی نظام جس قومی حاکمیت اعلیٰ (national sovereignty) کے تصور پر قائم تھا وہ اب غیر متعلق ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ستمبر ۲۰۰۲ ء کی قومی سلامتی کی ان دستاویزات میں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ: امریکہ کے فوجی اور متعلقہ سول اداروں میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ عمومی تباہیکے ہتھیاروں سے مسلح دشمنوں کے خلاف اپنا دفاع کر سکیں بشمول اس کے کہ جہاں ضرورت ہو پیش بندی کے طور پر دیگر اقدامات کریں۔ اس کے لیے اپنے دشمن کے عمومی تباہی کے ہتھیاروں کے ذخائر کا پتا چلانا اس سے پہلے کہ انھیں استعمال کیا جائے اور انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اس میں فوجی اور سول دونوں ایجنسیوں کو ان اختیارات سے مسلح کیا گیا ہے۔

 ۴۔ نیا عالمی جاسوسی نظام :

اس اختیار کے تحت امریکی صدر نے سی آئی اے کو صاف الفاظ میں یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ دوسرے ممالک میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے ریاست کے سربراہوں تک کو قتل کر سکتی ہے۔ اس کے لیے امریکہ میں ایک نیا سیکورٹی نظام قائم کیا گیا ہے جس کا بجٹ ۳۹ ارب ڈالر ہے اور جس میں ۲ لاکھ کے قریب عملہ ہوگا ۔ ۱۸ ملکوں کو جن میں ۷ ا مسلمان ممالک ہیں، ممکنہ دہشت گرد ملک سمجھ کر ان کے شہریوں کے لیے امریکہ میں داخلے پر امتیازی طریق کار اختیار کیا گیا ہے اور مستقل نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں سعودی عرب اور پاکستان کا اضافہ سارے احتجاج کے باوجود ابھی دسمبر ۲۰۰۲ ء میں کیا گیا ہے۔ وزارت دفاع میں ایک نیا شعبہ آگاہی اطلاعات (Information Awareness Office) کے نام سے قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے عالمی سطح پر جاسوسی کا ایک ایسا نظام قائم کیا جا رہا ہے جس کی بنیاد پر پیش بندی کے نام پر اقدامات کا کاروبار چلے گا۔

افسر برائے آگاہی اطلاعات ایسی اطلاعی ٹکنالوجیوں کے بارے میں سوچنے ان کو نشو و نما دینے اُن کو بروے کار لانے ان کو منضبط کرنے اُن کی وضاحت کرنے اور اُن کی ترسیل کا ذمہ دار ہوگا۔ اس طرح کی مکمل آگاہی پیش بندی، قومی سلامتی کے لیے تنبیہات اور فیصلہ سازی میں مفید ہوگی اور ہر طرح کے خطرات کا سدباب کرنے کا باعث ہوگی ۔

اس کام کے لیے جن زبانوں کو فوری طور پر high terrorist risk زبانیں قرار دیا گیا ہے وہ عربی، پشتو، فارسی دری اور مسلم ممالک میں بولی جانے والی دوسری زبانیں ہیں ۔ اس ادارے کے ویب پیج پر جو تصویر دی گئی ہے وہ ایک باحجاب (اسکارف پہنے ہوئے ) خاتون کی ہے جو فارسی میں ایک امریکی فوجی سے ہم کلام ہے۔ صرف اس ایک ادارے کے لیے ۲۰۰ ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں اور مشہور زمانہ سابق ایڈ مرل جان پوائن ڈیکسٹر اس کے سر براہ مقرر ہوئے ہیں جو صدر ریگن کے زمانے میں ایران کے معاملات کے سلسلے میں سزایافتہ ہیں اور امریکی کانگریس کے سامنے غلط بیانی اور اسے گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کے سلسلے میں پانچ الزامات پر مجرم قرار دیے جاچکے ہیں۔

۵۔ جمہوریت کے نام پر من پسند قیادت مسلط کرنا:

ایک محاذ جو اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اس کا عنوان ”جمہوریت کا فروغ” رکھا گیا ہے، خصوصیت سے عالم اسلام اور عرب دنیا میں ۔ یہ کثیر جہتی پروگرام ہے جس میں ایک طرف ان ممالک میں اخبارات، رسائل اور میڈیا کو متاثر کیا جائے گا تربیتی نظام قائم کیے جائیں گے اور متعلقہ افراد اور اداروں کو مالی وسائل اور دوسرے ذرائع فراہم کیے جائیں گے تا کہ امریکہ کے نقطہ نظر کو عام کیا جا سکے اور رائے عامہ کو اپنا ہم نوا بنایا جا سکے۔ دوسری طرف ان ممالک کے تعلیمی اداروں کو نئی روشنی اور جمہوریت“ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان ممالک میں انسانی حقوق عورتوں کی بیداری اور معاشرتی ترقی کے منصوبوں کو امریکی جمہوریت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا، این جی اوز اس کا خصوصی آلہ کار ہوں گی۔ ان ممالک میں حکومتوں کو زیادہ جمہوری“ بنانے کے لیے وہاں کی ہم خیال قوتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔ عراق میں جمہوریت لانے کے لیے وہاں کی حزب اختلاف کولندن میں حال ہی میں جو منظم کیا گیا ہے وہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ عمل ان تمام ممالک کے لیے اختیار کیا جائے گا جہاں امریکہ تبدیلی قیادت کو ضروری سمجھتا ہے۔ اب تک جمہوریت کے معنی یہ تھے کہ ملک کے عوام اپنی مرضی کی قیادت منتخب کریں۔ اب جمہوریت کے معنی یہ ہوں گے کہ فوجی یا سیاسی عمل کے ذریعے دنیا کے ممالک میں ان قیادتوں کو ہٹا دیا جائے جو امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہیں اور ان کو زمام کارسونپی جائے جو امریکہ کے لیے قابل قبول ہیں۔ فلسطین میں یاسر عرفات کا معاملہ ہو یا عراق، ایران، پاکستان سعودی عرب یا کسی بھی ملک میں سیاسی قیادت کا ۔۔۔ اب امریکہ کو جمہوریت کے نام پر اپنی من پسند قیادت او پر لانے کا اختیار ہے اور جسے وہ نا پسند کرے اسے ہٹانے کے لیے جو حربہ بھی وہ استعمال کرنا چاہے وہ جائز اور روا ہے۔ سیاسی نقشے کو تبدیل کرنا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جس طرح پہلی جنگ عظیم کے بعد شرق اوسط اور دوسری جنگ کے بعد افریقہ کا سیاسی نقشہ استعماری قوتوں نے بنایا جس کی سزا یہ عوام آج تک بھگت رہے ہیں اسی طرح اب امریکہ نیا نقشہ بنائے گا۔ جنگ سیاست، صحافت ڈپلومیسی یہ سب اس کے ہتھیار ہیں۔ افغانستان میں جو کچھ کیا گیا، اس سے پہلے بوسنیا اور کوسووا میں جو تجربہ ہوا اور اب عراق میں جو کچھ کیا جانے والا ہے وہ سب اسی حکمت عملی کے شاخسانے ہیں۔

گارڈین کا مضمون نگار ٹموتھی ایش اس کا پورا نقشہ کھینچتا ہے:

یہ نیا جمہوری اور خوشحال عراق اپنے پڑوسیوں کے لیے ایک نمونہ اور مقناطیس ہوگا جس طرح کہ مغربی جرمنی اور مغربی برلن سرد جنگ کے زمانے میں اپنے غیر آزاد پڑوسیوں کے لیے تھے پیش میں سوچنے والے ایران کو جمہوری بنانے کے لیے نرم انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ پھر امریکہ کا مال دار استبدادی دوست و حلیف سعودی عرب ہے جس کے وہابی اسلام کے چشموں سے۔۔۔ تیل کے چشموں کے ساتھ ساتھ نفرت کے ان چشموں سے۔۔۔ بہت سے دہشت گرد نکلے جنھوں نے ۹ ستمبر کو امریکہ پر حملہ کیا۔ انتظامیہ میں کوئی بھی اس بات کو کھل کر کہنا نہیں چاہتا مگر عراق کو جمہوری بنانے کا واضح منطقی تقاضا سعودی عرب کو جمہوری بنانا ہے۔ اگر آپ اسلامی مچھروں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان جو ہڑوں کو خشک کرنا ہوگا جہاں وہ پرورش پاتے ہیں۔ گو کھلے طور پر نہیں، لیکن اقتدار کے بغلی کمروں اور راہداریوں میں اب لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ پورے شرق اوسط کو نئے نقشے کے طابق بنانے کے لیے ولسن جیسے منصوبے پر عمل کیا جائے جس کا موازنہ تصور کی بلندی میں صرف یورپ کے لیے ۱۹۱۹ ء اور ۱۹۴۹ء کے منصوبوں سے کیا جا سکتا ہے۔

اس نقشہ جنگ کے مختلف پہلو ہیں عسکری سیاسی سفارتی ابلاغی نظریاتی اور تہذیبیں ۔ اس وقت جس پہلو کے بارے میں ہم ذرا کھل کر بات کرنا چاہتے ہیں وہ نظریاتی اور تہذیبی ہے بالخصوص عالم عرب اور عالم اسلام کے بارے میں ۔

اسلام اورمسلمان

ہزار کہا جائے کہ امریکہ کی یہ جنگ صرف تشدد کے خلاف ہے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج اگر بنیاد پرستی انتہا پسندی اور تشدد کی کوئی علامت ہے تو وہ اسلام اور مسلمان ہیں۔ نہ بھارت کی جنتا پارٹی، ہندو بنیاد پرستی، تشدد اور خون آشامی کوئی مسئلہ ہے نہ اسرائیل کی لیکود (likud) پارٹی کے شیرون کی فسطائیت کوئی قابل قدر مسئلہ ہے اور نہ شیشان میں روس کا ظلم وستم ہی کسی زمرے میں آتا ہے بلکہ بھارت، امریکہ کی اسٹرے ٹیجک دوستی ہمیشہ سے زیادہ مستحکم ہے۔ اسرائیل امریکہ کا اسی طرح چہیتا ہے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اقوام متحدہ کے مبصروں کی ہلاکت پر سلامتی کونسل میں مذمت کی قرارداد کو ۱۵ میں سے ووٹ حاصل ہوئے اور دو کے غیر جانب دار ہونے کی پروا نہ کرتے ہوئے امریکہ ویٹو کر کے اس فلم میں شرکت اور اس کی سر پرستی کا اعزاز حاصل کر رہا ہے اور سارے ظلم و زیادتی کے باوجود اسرائیل کو روس کے صدر پیوٹن کی آشیر باد حاصل ہے۔ ان حالات میں اگر عالم اسلام یہ نتیجہ نکالے کہ امریکہ کا یہ سارا کھیل صرف مسلمانوں کے لیے ہے یعنی اصل نشانہ اسلام اور مسلمان ہیں تو اسے کسی طرح خلاف حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اُمت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ اس جنگ کا اصل ہدف مسلمان اور اسلام ہیں۔ اس بارے میں کسی غلط فہمی میں رہنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی پردہ تھا تو وہ صدر بش کے قریب ترین مشیروں کے ہاتھوں تار تار ہو چکا ہے۔ ان کا ایک پالیسی ایڈوائزر کینتھ ایڈمین ہے جو وزارت دفاع کے دفاعی پالیسی کے بورڈ کا رکن رکین ہے وہ صاف کہہ رہا ہے کہ صدر بش نے جو اسلام کو ایک امن پسند دین کہا ہے وہ قبول کرنا ممکن نہیں ۔ اس کے الفاظ میں :

To call Islam a peaceful relegion is increasingly hard argument to make.

اسلام کو ایک پر امن مذہب قرار دینا ایک ایسی دلیل ہے جسے دینا مشکل ہوتا جا رہاہے۔

اس کا اعلان ہے کہ اسلام عسکریت پسند (militriastic) ہے۔ وہ یہاں تک کہہ گیا ہے کہ:

بہر حال اس کے بانی محمد ؐایک جنگجو تھے مسیح کی طرح امن کے علم بردار نہیں تھے۔ ایک دوسرے مشیر خاص ایلیٹ کو ہن جو John Hopkin School of International Studies کے پروفیسر ہیں اور اسی بورڈ کے رکن ہیں وہ بھی فرماتے ہیں کہ امریکہ کا اصل دشمن دہشت گردی نہیں عسکری اسلام(Islam  millitant)ہے۔

جارج بش کا دوست اور مشہور عیسائی خطیب پیٹ رابرٹسن تو دریدہ دہنی کی اس انتہا تک جاتا ہے کہ: ایڈولف ہٹلر برا تھا لیکن مسلمان یہودیوں کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ جیری فال ویل رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو دہشت گرد (نعوذ باللہ ) کہنے کی جسارت کرتا ہے اور بلی گراہم کے صاحبزادے فرینکن گراہم جنھوں نے صدر بش کی افتتاحی تقریب میں بائیل پڑھی تھی اسلام کو “evil” قرار دیتے ہیں ۔ ہم نے دل پر جبر کر کے یہ تمام حوالے اس لیے دیے کہ مسلمانوں کے سامنے امریکہ کی نظریاتی جنگ کا صحیح نقشہ آسکے اور ڈپلومیسی کی زبان کے پیچھے جو اصل عزائم کارفرما ہیں ان کو سمجھنے میں کوئی التباس باقی نہ رہے۔

 مسلم معاشرے کو بانٹنے اور لڑانے کا منصوبہ

ایک طبقہ وہ ہے جو اس طرح کھل کر اسلام اور مسلمانوں کو ہدف بنا رہا ہے اور امریکہ اور مغرب کی قیادتوں کو یقین دلا رہا ہے کہ اصل دشمن قوت اسلام ہے تو دوسرا زیادہ سمجھ دار طبقہ اس سے ذرا ہٹ کر یہ راستہ اختیار کر رہا ہے کہ اسلام اور موڈریٹ اسلام میں فرق کی ضرورت ہے۔ اسلام کو کھلے کھلے ہدف بنانا خلاف حکمت اور نا قابل عمل ہے۔ ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے ان کے دین کو اس طرح چیلنج کر کے معاملہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو بانٹنے ان کے درمیان انتشار اور افتراق ڈالنے اور خود ان کو عسکری اور امن پسند انتہا پسند اور معتدل انقلابی اور موڈریٹ کے خانوں میں بانٹنا جائے اور اندر سے نقب لگا کر ان کو اپنے رنگ میں رنگنے اور عالمی اقدار جمہوریت اور آزاد روی (liberalism) کے نام پر اپنے مفید مطلب کردار کے لیے تیار اور آمادہ کیا جائے۔ یہ اسلام پر سامنے سے حملہ آور ہونے کے بجائے اسے اندر سے سبو تاژکر کے اور مسلم معاشرے کو آپس میں بانٹنے اور لڑانے کا منصوبہ ہے۔ اس میں انھیں اپنے اعوان و انصار کے طور پر خود مسلمانوں میں سے بھی کمزور ایمان و اخلاق والے عناصر اور ان افراد اور گروہوں کے تعاون کی توقع ہے جو مغربی استعمار اور تہذیبی یلغار میں اپنی دینی اور تہذیبی جڑوں سے کٹ گئے ہیں اور مغرب کے تہذیبی تصورات اور طور طریقوں کے دلدادہ بن چکے ہیں۔ اس جنگ کا ایک فکری محاذ ہے۔ اسلام کے بارے میں وہ سارے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن کا پچھلی صدی میں کافی وشافی جواب دیا جا چکا ہے۔ دوسری طرف دینی تعلیم کے نظام کو ہدف بنایا جا رہا ہے تاکہ علم دین اور تہذیبی روایت کے یہ محافظ ڈانواڈول ہوسکیں ۔ معاشی ترقی اور مادی سہولتوں کے نام پر ایسے منصوبے فروغ دیے جا رہے ہیں جو ایک مفاد پسند طبقے کو جنم دے سکیں اور وہ مغربی استعمار کا آلہ کار بن سکے۔ اسلام کو مسجد اور گھر کی چار دیواری میں محصور کرنے اور دین و سیاست کے دائروں کو الگ الگ کرنے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ اسلام ہی کے ایک مطلوب کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلامی اداروں اور تحریکوں کو مادی اور مالی وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے اور ساری دنیا میں خوف و ہراس کی ایک ایسی فضا بنا دی گئی ہے اور اسے مزید مستحکم کیا جا رہا ہے کہ اسلامی سرگرمیوں کو مالیات فراہم کرنے کے آزاد ذرائع مفقود ہو جائیں اور صرف وہ میدان میں رہیں جو سر کار دربار کے ہم نوا ہیں ۔ ہم اس سلسلے میں چند اہم حوالے صرف ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے دے رہے ہیں جواب بھی امریکہ کی قیادت اور مغربی کو چہ گردوں سے کسی خیر کی توقع رکھتے ہیں ۔

دین وسیاست کی تفریق:

امریکہ کے نائب وزیر دفاع پال وال فوٹر نے لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز میں ابھی پچھلے مہینے اپنے خطاب میں سارے پتے کھول کر میز پر رکھ دیے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں: جدید ترکی اس امر کا مظہر ہے کہ ایک جمہوری نظام یقیناً اسلام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور ریاست سے مذہب کو جدا کیا جا سکتا ہے جو انفرادی نیکی کے ساتھ مکمل موافقت رکھتا ہے۔

اس خطبے میں موصوف نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ: اسلام کی ایک اصلاح شدہ اور معتدل شاخ جمہوریت پر مبنی آفاقی اقدار کے نظام کی ایک شاخ کے طور پر سامنے آئے گی۔ اگر اقدار آفاقی ہوں گی تو تہذیبوں کا کوئی تصادم نہیں ہوگا۔ موصوف کو کون یاد دلائے کہ ترکی میں فوج سیکولرزم کے نام پر جمہوری قوتوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے کس طرح انھیں کان سے پکڑ کر پارلیمنٹ اور سیاست سے باہر کر رہی ہے اور پورے نظام کو اپنے فوجی بوٹ تلے دبائے ہوئے ہے۔ رہا معاملہ آفاقی اقدار کا تو اگر موصوف اس میں مغربی“ کا اضافہ کر دیتے تو بات صاف ہو جاتی !

سارا مسئلہ ہی اسلام کو غیر سیاسی بنانے کا ہے جو خالص مغربی تصور ہے۔ اسلام تو اس کی ضد ہے۔

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

لیکن مغرب کا اسلامی دنیا میں ہدف یہی دین وسیاست کی تفریق ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹینا روکا کے لیے امریکہ کی سفیر صاحبہ کے گھر پر منعقد ایک تقریب میں سفیر صاحبہ نے ساری بات ایک جملے میں ادا کر دی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ”ہم پاکستان کو ایک روادار سیکولر ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں” ۔ پس یہی کانٹے کی بات ہے۔

تھامس فریڈ مین امریکہ کے ان صحافیوں میں سے ہے جو سیاست دانوں سے زیادہ اہم ہے۔ سعودی ولی عہد نے فلسطین کے بارے میں اپنے خیالات اسی کے ذریعے امریکہ اور دنیا کے سامنے پیش کیے تھے۔ وہ مسلسل لکھ رہا ہے کہ ہماری اصل جنگ اس اسلام سے ہے جو جہاد کے تصور کو دین کا حصہ سمجھتا ہے۔ وہ صاف لکھتا ہے کہ :

اگر پاکستان جیسی قو میں غربت میں زندگی گزارتی رہیں، اگر اُن کے عوام صرف ان مذہبی مدارس کے مصارف ہی برداشت کر سکتے ہوں جو صرف قرآن کی تعلیم دیتے ہیں تو پھر ہم خوف ہی کے عالم میں زندگی گزاریں گے۔

بنیاد پرستی سے جنگ اور اس سے بھی کھل کر اس نے نیویارک ٹائمز اور انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون میں بالی کے واقعے کے بعد صدر بش کی طرف سے مسلم ممالک کے تمام قائدین کے نام ایک فرضی خط کی شکل میں امریکہ کے پورے نقشہ جنگ کو پیش کر دیا تھا۔ مسلمانوں کی قیادت کو مطعون کرنے کے بعد بش کی زبان سے موصوف یوں گویا ہوتے ہیں : آپ کہتے ہیں کہ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق آپ کے درمیان اسلام کی ایک شدید غیر روا دار قسم کے عروج سے ہے جو محض اسرائیل کے خلاف ایک رد عمل نہیں ہے بلکہ آپ کی ناکام ریاستوں، تیل کی ضائع شدہ دولت، شکتہ نظریات ( ناصر ازم) اورنسل در نسل آمریت اور نا خواندگی کا جواب ہے۔ یہ سخت گیر بنیاد پرستی جو مسلح اور ناراض ہے ایسا لگتا ہے کہ اب اعتدال پسند مسلمانوں کو بھی خوف زدہ کر رہی ہے۔ لیکن جن اقدار کی یہ تبلیغ کرتی ہے، یہ آپ کے لیے تباہی لائیں گی اور ہمارے ساتھ تنازع کا باعث بنیں گی۔ جیسا کہ کیٹو (CATO) ادارے کے برتک لٹے نے نیشنل ریویو میں لکھا ہے : ” کوئی مذہب جو قدیم کتابوں کا رٹا لگائے، ناقدانہ تجسس اور اختلاف کو دہائے، خواتین کو محکوم رکھئے اقتدار کے آگے غلاموں کی طرح جھکنا سکھائے تہذیبی زوال کے علاوہ کسی چیز کا نسخہ نہیں ہے۔ وسط میں موجود شائستہ لیکن غیر سرگرم مسلمانوں کو اس سخت بنیاد پرستی کے خلاف جنگ کرنا چاہیے۔ اور اس خط کو یوں ختم کرتا ہے:

دوستو ! جب تک تم خود اپنی تہذیب کے اندر جنگ نہیں کرتے تو ہماری تہذیبوں کے درمیان جنگ ہوں گی۔ ہم اس سے صرف ایک اور۹ستمبر کے فاصلے پر ہیں۔ اس لیے آئے ہم تہیہ کر لیں کہ آئیندہ برس ہم اپنے درمیان عدم روادری کے خلاف لڑیں گے تا کہ ہمارے باہمی تعلقات قائم رہ سکیں۔

اصل ایشو : اسلام یا موڈریٹ اسلام

 اصل ایشو کیا ہے؟ اس کا اس سے واضح بیان اور کہاں سے حاصل ہوگا۔ اگر اس پس منظر میں سعودی وزیر داخلہ کے اس بیان کو پڑھا جائے جو پچھلے ایک مہینے میں انھوں نے دو بار دیا ہے اور اخوان المسلمون کو اپنے سارے عتاب کا نشانہ بنایا ہے تو بات سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ اس لیے کہ سعودیوں کو بھی امریکہ کی قیادت اور صحافت نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے اور ہر ہفتے کوئی نہ کوئی نیا وار کر کے وہ اسے حواس باختہ کیے ہوئے ہیں۔ اصل ہدف محض نام نہاد اور نا معلوم دہشت گردوں کی مالی معاونت نہیں، اس موڈریٹ اسلام کی تلاش ہے۔ امریکہ کے ایک دانش ور جن کا پالیسی ساز اداروں پر بڑا اثر ہے جم ہوگ لینڈ ہیں ۔وہ صاف لفظوں میں لکھتے ہیں کہ :

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ اور پیٹرو ڈالر کے وافر ذخائر کے غائب ہونے نے سعودی حکمرانوں کو فیصلے کی نازک گھڑی میں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔

اکیسویں صدی میں اپنی بقا کے لیے اُن کو دہشت گردوں اور رقمیں وصول کرنے والوں کے کام کو سرگرمی سے بند کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ اُن کو تحفظ دیں اور رقم فراہم کریں۔ سب سے بڑی تبدیلی اپنے گھر میں آنی چاہیے۔ آل سعود کو وہابی فرقے کے ساتھ اپنے عہد کو ختم کر دینا چاہیے جس کو بادشاہت کی حمایت کے بدلے میں مملکت کے اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی زندگی میں غیر معمولی غلبہ حاصل ہے۔ وہابی علما نے اسلامی خیرات کو شرق اوسط اور وسط ایشیا میں دہشت گردی نفرت پھیلانے کے لیے آڑ کے طور پر استعمال کیا۔ سعودی بادشاہت کو انتہا پسندوں سے دست کش ہو جانا چاہیے اور اُن کا جواز ختم کر دینا چاہیے .. یا دنیا سے نیست و نابود ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امریکیوں کو سعودیوں کو دیانت داری سے بتا دینا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے کی یہ واحد صورت ہے۔

چلیے سعودی عرب کا تو قصہ پاک ہوا۔ اب باقی عالم اسلام کو لے لیجیے۔ ایک اور مشہور مفکر اور کالم نگار ولیم یف اسلام اور مغرب کے عنوان سے صورت حال کی یوں نقشہ کشی کرتے ہیں:

مبصرین جب اسلامی دنیا میں جدید کاری کے بحران پر گفتگو کرتے ہیں تو دراصل وہ تنازعے کی حقیقی وجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وجہ اسلامی معاشرے کی اور جدید مغرب کی اقدار میں عدم مطابقت ہے۔

مغرب کا غلبہ اور مادی رفتار ترقی ایک ایسے نظام اقدار سے علیحدہ نظر نہیں آتا جس کا مطالبہ ہے کہ مسلمان اپنے اخلاقی تشخص کو ترک کر دیں۔ ایک تازہ کتاب میں برطانوی مصنف ریجر سکروٹن یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہم اسلام کو مغربی ٹکنالوجی، مغربی ادارے اور مذہبی آزادی کے مغربی تصورات کو رد کرنے کی کوشش کرنے کا الزام کیوں دیں جب کہ ان میں ان تصورات کو مسترد کیا گیا ہے جن پر اسلام کی بنیاد ہے: اللہ کا نا قابل تغیر فرمان جو اُن کے نبی پر نہ تبدیل ہونے والے مجموعہ قانون کی شکل میں ایک ہی دفعہ ہمیشہ کے لیے نازل کیا گیا۔

آخر مغرب نے خود ہی سے کیوں یہ سمجھ لیا ہے کہ اسلامی معاشرے کے موجودہ مذہبی تصورات کو بہ زورختم کر دیا جائے صرف اس لیے نہیں کہ وہ مغرب کو موافق نہیں آتے بلکہ اس لیے کہ مغرب یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ خود مسلمانوں کے لیے بھی مناسب حال نہیں ۔

اسلامی حکومتوں پر مسلسل مغربی دباؤ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے مغربی تصورات کے مطابق ہو جائیں اور آزادانہ اور ناقدانہ مذہبی فکر کی حوصلہ افزائی کریں۔

ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ اصل ایشو ہی یہ ہے کہ عالم اسلام اپنا تشخص اسلامی رکھنا چاہتا ہے یا موڈریٹ اسلام کے عنوان تلے اپنے کو مغرب کے رنگ میں رنگنے اور اس کے تہذیبی اور معاشی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اصل جنگ ہے جو سیاست اور عسکری میدانوں میں لڑی جارہی ہے اور فکری، تہذیبی، معاشی اور اخلاقی میدانوں میں بھی۔ امریکہ اور اس کے کارندے ہر محاذ پر سرگرم ہیں۔ بات افغانستان پر فوج کشی اور نام نہاد امن فوج کی کارگزاریوں کی ہو یا عراق پر حملہ اور عمومی ماس کے ہتھیاروں کو تباہ کرنے کی مہم جوئی کی پاکستان کے جوہری وسائل کا تعاقب ہو یا ایران پر جوہری صلاحیت کے حصول کے التزامات — یہ سب تو سیاسی اور عسکری دباؤ کا حصہ ہیں لیکن ان کے ساتھ معاشی ترغیبات و ترہیات اور ثقافتی، تعلیمی اور ابلاغی جارحیت اس ہمہ جہتی جنگ کے اہم پہلو ہیں۔ آسٹریلیا کی نیشنل یونی ورسٹی کے دفاعی اور اسٹرے ٹیجک مطالعات کے شعبے کے ڈائرکٹر ایل ڈنیورٹ نے جنگ کے اس محاذ کی یوں نقشہ کشی کی ہے:

ایک ایسی جنگ مذہبی مدارس اور ان کے ہوٹلوں میں لڑی جانی چاہیے جو مستقبل کے انتہا پسندوں کی پرورش گاہ (incubator) ہیں۔ یہ جنگ جنوب مشرقی ایشیا کے ظہور پذیر سول سوسائٹی کے مدیران جرائڈ اسکولوں کے اساتذہ مذہبی رہنماؤں سیاست دانوں، غیر حکومتی انجمنوں اور دیگر عناصر کو لڑنا چاہیے اور معتدل مسلمانوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔

نقشہ جنگ آپ کے سامنے ہے۔ موڈریٹ اسلام کی تلاش بالکل اسی نوعیت کی کوشش ہے جیسی برطانوی استعمار نے اپنے عروج کے زمانے میں جہاد کے خلاف محاذ قائم کیا اور ایسی نبوتوں کی افزایش کی کوشش کی جو جہاد کو منسوخ قرار دیں تا کہ اس طرح برطانوی استعمار کے سائے میں زندگی کو عین اسلامی قرار دینے کی سعادت حاصل ہو لیکن جس طرح وہ حکمت عملی ناکام رہی اسی طرح یہ حکمت عملی بھی بار آور نہیں ہو سکتی ۔

مقابلے کی حکمت عملی

امریکہ عالم اسلامی کے خلاف جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے ان سے اس کے مذموم . عزائم دیکھنے والوں کی نظر میں کھلی کتاب کی طرح سامنے ہیں۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری جوابی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ قرآن پاک کے مطالعے اور سیرت پاک پر تدبر کرنے سے جو حکمت عملی ہمارے سامنے آتی ہے اسے دو نکات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے:

۱ – استقامت ۲- حکمت ۔

استقامت

استقامت یہ ہے کہ اللہ پر پورا بھروسا کیا جائے اور اللہ کا دین، جیسا کہ وہ ہے اس پر پورے اطمینان یقین محکم اور صبر و ثبات کے ساتھ ڈٹ جایا جائے۔ اپنے مقصد اور نصب العین مستقبل کے بارے میں اپنے وژن اور اُمت مسلمہ کے حقیقی اہداف اس کی قوت کے اصلی ذرائع اور اقامت دین کے سلسلے میں اس کے اصول، مشن اور مخصوص عملی پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ اسلام کی تراش خراش ہمارا طریقہ نہیں ہو سکتا اور اسلام کے دائرے کے اندر فکر وند بر اطاعت اور اجتہاد وفاداری اور رواداری جد و جہد اور ایثار کے لیے جو خطوط کار اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیے ہیں ان پر ایمان اور احتساب کے ساتھ جسم جایا جائے۔ اسلام اللہ کی ابدی ہدایت ہے۔ اس کی تعلیمات صبح نو کی طرح تازہ نکھری ہوئی اور جدید ہیں ۔ اعتدال اور توازن اس کا طرہ امتیاز ہے لیکن یہ اس کے اپنے نظام کے اندر اور اس کا ابدی حصہ ہیں، اپنے نفس یا دوسروں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اسے موڈرن یا موڈریٹ نہیں نایا جا سکتا۔ یہ حقیقت چھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ہی راہ اعتدال ہے اور سارا توازن رواداری، میانہ روی اس کے دیے ہوئے حقوق و فرائض کے نظام میں اپنی کامل شکل میں موجود ہیں ۔ اُمت مسلمہ ہے ہی امت وسط اور عقیدہ و عمل ہر اعتبار سے یہ اُمت مسلک اعتدال پر قائم ہے۔ مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے اور آپ پائیں گے کہ خدا اور انسان معبود اور عبد اللہ اور پیغمبر کے رشتے اور حقوق و مقام کے باب میں کس طرح وہ افراط اور تفریط کا شکار رہے ہیں۔ اسلام نے نقطہ عدل کو واضح کر دیا۔ خدا خدا ہے اور انسان انسان ۔ لائق عبادت و عبودیت صرف اللہ ہے جو خالق ارض و سماء ہے۔ انسان کا مقام اللہ کے خلیفہ اور نائب کا ہے۔ وہ کسی حیثیت سے بھی خدا کی ذات یا صفات میں شریک نہیں حتی کہ خدا کے پیغمبر بھی، بہترین نمونہ اور قرب الہی میں اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود خدا کے اقتدار میں کسی قسم کی اور کسی بھی قدر شرکت نہیں رکھتے ۔ یہی وہ اعتدال ہے جس پر کائنات قائم ہے۔

پھر آپ مذاہب کی تاریخ میں دین اور دنیا روح اور مادہ اس زندگی اور اُس زندگی کے باب میں افراط و تفریط کا سماں دیکھیں گے ۔ لیکن اسلام نے یہاں بھی وہی راہ اعتدال اختیار کی اور دین و دینا کی یک رنگی روح اور مادے کی ہم آہنگی اور حسنات دنیا اور حسنات آخرت کے اجتماع کی شکل میں ایک متوازن اور مبنی بر عدل تصویر حیات کو نہ صرف پیش کیا بلکہ اس پر عملاً فرد اور اجتماع، ذاتی سیرت اور اجتماعی تہذیب کا نقشہ تعمیر کر کے دکھا دیا۔

اسی طرح قانون اور اخلاق ظاہر اور باطن لفظ اور معنی کے باب میں افراط و تفریط کے بے شمار نمونے مذہب اور تہذیب دونوں کی دنیاؤں میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ لیکن اسلام نے پھر ایک راہِ اعتدل اختیار کی اور اس طرح اختیار کی کہ ثبات اور تغیر کے تمام تقاضے بھی بھر پور انداز میں پورے ہوئے اور قانون اور روح قانون دونوں کو بیک وقت حاصل کرنا انسان کے لیے ممکن ہو گیا۔

معاملہ فرد اور معاشرے کے تعلقات کا ہو یا مردوزن کے رشتے کا آزدی اور نظم وضبط کا ہو یا قیادت اور مشاورت کا عبادت کا ہو یا کاروبار زندگی کا باطن کی اصلاح ہو یا قانون اور نظام کی تبدیلی دوستی کی بات ہو یا دشمنی کے آداب ہر معاملے میں اسلام نے اعتدال کے راستے کو اختیار کیا ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملے میں اسلام کی اس شناخت کو بیان فرما دیا که بهترین عمل وہی ہے جو راہِ وسط پر قائم ہو : خیر الامور اوسطھا۔ دیکھیے قرآن وسنت نے کس طرح اسلام کے اس وصف کو نمایاں کیا ہے اور زندگی کا محور بنا دیا ہے۔

 وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًالِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ط (البقره ۱۴۳:۲)

ہم نے تمھیں ایک اُمت وسط بنایا ہے تا کہ تم انسانوں پر حق کے گواہ رہو اور رسول تم  پر گواہ ہوں ۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يُهْدُونَ بالْحَق وَبه يَعْدِلُونَ ) (الاعراف : ۱۸۱)

 اور ہماری مخلوق میں ایک اُمت ہے جو ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتی ہے۔

اللہ کے بندوں کا وصف ہی یہ ہے کہ :

وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوْاوَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا (الفرقان ۶۷:۲۵)

اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بجل بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔

وہ کھاتے پیتے ہیں مگر اسراف سے بچتے ہیں کہ اللہ کو اسراف پسند نہیں

 وَكُلُواوَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ( 0 الاعراف ۳۱:۷)

انفاق في سبیل اللہ ان کا وطیرہ ہے مگر اس میں بھی نہ وہ اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھتے ہیں اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑتے ہیں ۔

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةٌ إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلُّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا – بنى اسرائيل (۲۹:۱۷)

 نوافل کا وہ اہتمام کرتے ہیں لیکن اس میں بھی اعتدال اور استمرار ان کا شعار ہے۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، قیام الیل بھی کرتا ہوں اور آرام بھی اور ازدواجی زندگی کا بھی اہتمام کرتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ اسلام ہی وہ دین اور نظامِ حیات ہے جو عبارت ہے زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، توازن، عدل، انصاف ادائیگی حقوق، فرائض کی پابندی صلہ رحمی احترام انسانیت مخالف کے معبودوں کو بھی بد زبانی سے محفوظ رکھنے اور دین میں ہر جبر اور اکراہ سے پر ہیز ہے۔ یہ ہے اسلام اور اسلام کی امتیازی شان !

یاد رکھیے یہ ساری میانہ روی اعتدال اور رواداری شریعت کے نظام کا حصہ ہے اور منصوص اور مطلوب ہے۔۔۔ لیکن میانہ روی کے نام پر اسلام میں قطع و برید اعتدال کے نام پر فرائض اور واجبات سے رخصت دوستی کی خاطر جہاد سے فارغ خطی رواداری کے نام پر کفر اور ظلم سے سمجھوتہ — یہ اسلام نہیں، اسلام کی ضد اور اس سے فرار کی راہ ہیں۔ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور حدود کے بارے میں کوئی مداہنت اللہ کی ناراضی کو مول لینے کا راستہ ہے اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کا موجب ہو سکتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس محمود اور مطلوب قرار دیا ہے وہی ہمارا محمود اور مطلوب ہے اور جسے انھوں نے نا پسند کیا ہے اس سے برأت ہی ہماری میانہ روی اور رواداری ہے۔ اس لیے کہ اسلام نام ہی طاغوت سے بغاوت اور اللہ سے رشتے کو جوڑنے کا ق ہے۔ –

 فَمَن يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ (البقرہ ۶:۲ ۲۵ )

 اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

اسلام کے نظام اور فریم ورک میں بے پناہ آزادی ہے مگر یہ آزادی اس فریم ورک کے اندر ہے اس فریم ورک کو توڑنے اس سے فرار اختیار کر کے یا اس کے باہر آزادی کی تلاش اسلام کے منافی ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے اقبال نے یوں کہا ہے کہ ۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

دین کو ہر پیوند کاری سے محفوظ رکھنا اور دوسروں کے مطالبوں پر یا انھیں خوش کرنے کے لیے دین میں قطع و برید اللہ کی اطاعت کا نہیں اس سے بغاوت کا راستہ ہے۔ دیکھیے خود اللہ اپنے رسول کو خطاب کر کے کیا کہتا ہے:

قلْ إِنِّي نُهِيْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَ نِيَ الْبَيِّنَتُمِنْ رَّبِّى وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ ) (المومن (۲۲:۴۰ )

 اے نبی ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے ان ہستیوں کی عبادت و اطاعت سے منع کر دیا گیا ہے جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ۔ میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں، جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانیاں آچکی ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین کے آگے سر تسلیم خم کر دوں ۔

قُلْ إِنِّي نُهِيْتُ أَنْ أَعْبُدَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَ كُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ٥ (الانعام (۵۶:۶)

اے نبیؐ! ان سے کہہ دو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے اور کہو میں تمھاری خواہشات ذات کی پیروی نہیں کروں گا اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا اور راہ راست پانے والوں میں سے نہیں رہا۔

وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَه حُكْمًا عَرَبِيًّا وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أهْوَاءَ هُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَ كَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِي وَلا وَاقٍ ٥ (الرعد ٣٧:١٣)

اسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ قرآن عربی تم پر نازل کیا ہے اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمھارے پاس آچکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمھارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے۔

 وَإِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِى أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ وَإِذًا لَّا تَّخَذُوكَ خَلِيلًا ه (بنی اسرائیل ۷۳:۱۷)

 اے نبی ! ان لوگوں نے اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمھیں فتنے میں ڈال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمھاری طرف بھیجی ہے تا کہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمھیں اپنا دوست بنا لیتے ۔

 وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ آيْتُنَا بَيِّنَتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَ نَا انتِ بِقُرْآنٍ هذَا أَوْ بَدِّلُهُ قُلْ مَايَكُونُ لِى اَنْ أُبَيِّلَةَ مِنْ تِلْقَائِي نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ O(يونس ۱۵:۱۰)

جب انھیں ہماری صاف صاف باتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں اس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے نبی، ان سے کہو تیرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدل کروں۔ میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

یہ آیات بینات ایک آئینہ ہیں جن میں اہل حق کے موقف اور مثال اور اہل باطل کی خواہشات، ترغیبات اور مطالبات ہر دو کی مکمل تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں۔ زمانہ کتنا ہی بدل جائے اور تاریخ کے اسٹیج پر کارفرما کردار کیسے ہی نئے ناموں اور نئی شکلوں میں نمودار ہو جائیں، اہل حق اور اہل باطل کا مسلک اور رویہ سرمو نہیں بدلتا ۔ اس آئینے میں غیروں ہی کی نہیں بہت سے دوستوں کی اصل صورت بھی دیکھی جاسکتی ہے اور اس میں ہمیں وہ اسوہ بھی صاف نظر آتا ہے جو استقامت اور وفاداری کی راہ ہے۔ یہی ہمارا مطلوب و مقصود ہونا چاہیے۔

 واتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفى باللهِ وَكِيلاً ٥ (الاحزاب ۲:۳۳-۳)

 پیروی کرو اس بات کی جس کی طرف رہنمائی تمھارے رب کی طرف سے تمھیں کی جا رہی ہے اور اللہ اس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اللہ پر توکل کرو اللہ ہی تمھارا وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔

ثُمَّ جَعَلْنَكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعُ أَهْوَاءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّهُمْ لَنْ يُغْنُوَاعَنُكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا وَانَّ الظَّلِمِينَ بَعْضُهُمُ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَالله وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ هَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ه (الجاثیه ۱۸:۳۵-۲۰)

اے نبی ؐ! ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے ۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمھارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے ۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو یقین لا ئیں ۔ استقامت ہماری حکمت عملی کی پہلی بنیاد ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ مقصد مشن اہداف اور منزل کے بارے میں نہ کوئی ابہام اور جھول رہے اور نہ کوئی کمزوری دکھائی جائے۔ وژن بہر صورت واضح اور ہر دھند سے پاک ہونا چاہیے۔ اس پر جم جانا اللہ کا دامن تھامے رکھنا صرف اس کی قوت پر بھروسہ کرنا اور صبر اور پامردی کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹ جانا اہل ایمان کا شیوہ اور طرہ امتیاز ہے۔ اس میں ان کی بقا اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کا راز ہے۔

حکمت

اگر استقامت اس حکمت عملی کی پہلی بنیاد ہے تو اس کی دوسری بنیاد اور اتنی ہی اہم بنیاد حکمت اور دانش مندی ہے۔ استقامت کسی اندھی اور بہری قوت کا نام نہیں، استقامت کے لیے ضروری ہے کہ ساری جدوجہد پوری سوجھ بوجھ کے ساتھ انجام دی جائے جس میں کلیدی کردار مقاصد کے صحیح شعور تدابیر کی مکمل تفہیم نقشہ کار کی دقت نظر سے تیاری، وسائل اور لوازمات کے حصول کی موثر منصوبہ بندی اور تدبیر منزل کی تمام ضروریات کا پورا پورا ادر اک اور ان کو عملاً حاصل کرنے اور صحیح وقت پر صحیح انداز میں استعمال کرنے کا اہتمام ہوگا ۔ قرآن پاک کے مطالعے اور سیرت خیر الا نام پر تدبر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حکمت کا رنبوت کی انجام آوری کے لیے ایک لازمی شرط ہے اور بیک وقت استقامت اور حکمت پر مبنی راستہ ہی وہ راستہ ہے جس سے اہل دین اپنی منزل کو پا سکتے ہیں۔ ان کی حیثیت انسان کی دو ٹانگوں کی طرح ہے۔ پیش قدمی کے لیے دونوں ٹانگیں درکار ہیں، محض ایک کے سہارے منزل سر نہیں کی جاسکتی۔ میانه روی اور رواداری حکمت کا تقاضا ہے کہ جہاں ہم دین میں کوئی قطع و برید نہ کریں اور نہ ہونے دیں بلکہ اللہ کے دین کو جیسا کہ وہ ہے مضبوطی سے تھام لیں وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم کسی اشتعال میں نہ آئیں اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں اسلام کی سکھائی ہوئی میانہ روی اور رواداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، اپنی داعیانہ حیثیت کو نہ بھولیں۔ ہماری لڑائی مرض سے ہے مریض سے نہیں، کفر سے ہے وہ بھی اہل کفر کو ایمان کی دولت سے مالا مال کرنے کے لیے ہے، نیست و نابود کرنے کے لیے نہیں۔ اللہ کی ساری مخلوق کے کچھ حقوق ہیں اور ان کو دین حق کی طرف لانے کے کچھ آداب ہیں۔ ان کا احترام اور اہتمام ہی حکمت دین ہے۔ مالک کا حکم ہے:

أدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل (۱۲۵:۱۶)

اے نبیؐ! اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ دعوت و حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔

وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يُدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ٥ (آل عمران ۱۰۴:۳)

تم میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہی ہونے چاہیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پانے والے ہیں۔

وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًاؤقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةِ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (حم السجده ۳۳:۴۱-۳۴)

اور اس شخص سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبی ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں ۔ تم بدی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ عدل کی روش:

 حکمت ہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہم عدل و انصاف کا دامن کبھی اپنے ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں حتی کہ مخالفت، جنگ و جدال اور مذاکرہ و مجادلہ ہر میدان میں ہم عدل کی راہ پر قائم رہیں اور فراست مومن کے ساتھ نرمی اور ختی، عفو و درگزر اور مقابلہ اور انتقام ہاتھ روکنے اور دشمن پر وار کرنے کے تمام ممکنہ ذرائع اپنے اپنے صحیح وقت پر استعمال کریں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے عدل اور قسط کے ساتھ احسان بدلہ اور انتقام کے ساتھ عفو و درگزر جنگ کے ساتھ صلح، اور قوت کے استعمال کے ساتھ مذاکرے اور معاہدے کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے. ہر ایک اپنے اپنے موقع اور محل پر ضروری ہے۔ حکمت اور فراست اس کا نام ہے کہ ان میں سے ہر حربے کو اس کے صحیح وقت پر استعمال کیا جائے اور یہاں بھی اعتدال اور توازن پر کار بند رہا جائے۔ دیکھیے اس باب میں قرآن کس طرح ہماری رہنمائی اور تربیت کرتا ہے۔

قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ (الاعراف ۲۹:۷)

تم کہہ دو میرے رب نے عدل اور قسط کا حکم دیا ہے۔

 اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَايْتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ) (النحل (٩٠:١٦)

 اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق سیکھ لو۔

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائده (۸:۵)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوالله وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ٥ (البقره ۱۹۴:۲)

لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انھی لوگوں کے ساتھ ہے جو اس کی حدود توڑنے سے پر ہیز کرتے ہیں۔

وَان عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَاعُوقِبْتُمْ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ الصُّبِرِينَ ٥ (النحل ۱۳۶:۱۷)

 اگر تم لوگ بدلہ لو تو اُسی قدرے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے۔

وَجَزَؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَاوَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وَلَمِّنْ صَبَرَوَغَفَرانُ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ . (الشوری ۴۲۰:۴۲-۴۳)

برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر دے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ن کو چیک کرنے پر آمادہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے جو اپنے دین کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے جو اپنے نفس کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جواپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے (ترمذی)۔

اس طرح اللہ نے مسلمانوں کو ہر لحہ تیار رہنے کا حکم دیا ہے اور صرف تیار رہنے ہی کا نہیں مقابلے کی قوت (deterrant power) کے حصول کو لازم کیا ہے۔ اور اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی ترغیب دی ہے۔

وَاعِدُوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنُ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُو اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِيْنَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُوامِنُ شَىءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ٥ (انفال (۶۰۸)

اور تم لوگ جہاں تک تمھارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تا کہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔۔۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمھاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔

وان يُرِيدُوا أَنْ يُخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ه (انفال :۶۱-۶۲)

 اے نبی، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو یقینا وہی سب کچھ سنے اور جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ دھو کے کی نیت رکھتے ہیں تو تمھارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی۔ مقابلے اور معاملات میں غصہ اور اشتعال سے پر ہیز کی تعلیم بھی دی گئی ہے کہ جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔

وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ه الشور :

اس لیے کہ مومن غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہوتے ہیں۔

 (وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ آل عمران (۱۳۴:۳)

 علامہ قرطبی، امام رازی اور علامہ ابن عربی مالکی نے بہت خوب کہا ہے کہ عفوو درگزر کے نتیجے میں اگر فتنہ دب رہا ہے اور غلط کا ر اپنی روش سے باز آ رہا ہے تو عفو پسندیدہ ہے لیکن اگر عفوو درگزر سے مجرم کا حوصلہ بڑھ جائے اور اس کے غیض و غضب کو تقویت پہنچے تو انتقام لینا صحیح ہے۔ ان مواقع میں تمیز اور حسب حال رویہ کے اختیار کرنے کا نام ہی حکمت ہے۔

مکالمے کی ضرورت: حکمت ہی کا ایک پہلو مکالمہ گفت و شنید اور ڈائیلاگ ہے اور وہ بھی صحت کلام کے ساتھ ساتھ شیریں کلامی کے ذریعہ (وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا – البقره ۸۳:۲) “اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔ وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ اَحْسَنُ ط ” میرے بندوں (مسلمانوں) سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہترین ہو (بنی اسرائیل ۵۳:۱۷)۔ اور ڈائیلاگ کے بھی آداب یہ ہیں کہ قدر مشترک کی طرف بلایا جائے تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (آؤایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔ آل عمران ۳: ۶۴) نیز یہ کہ: أدعُ إِلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل (۱۳۵:۱۶) اے نبی ! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔

وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةِ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ( حم السجده ۳۴:۴۱)

نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔

یہ سب حکمت ہی کے مختلف پہلو ہیں۔ بھلائی کی امید کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کب قوت کا استعمال مطلوب ہے اور کب ہاتھ روک لینا اولیٰ ہے۔ اور اس کا استعمال بھی حکمت ہی کے مطابق ہونا چاہیے۔ مکی زندگی اور مدنی زندگی ایک وحدت ہیں، لیکن کون سا طریقہ کب اختیار کیا جائے، اس کا انحصار حکمتِ بالغہ پر ہے

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاتُوالزَّكَاةَ فَلَمَّاكُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةٌ وَقَالُوْارَبَّنَالِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْالَا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَى وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيلًا أَيْنَ مَا تَكُونُوَايُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوَاكُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيد(0(النساء)

“کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو؟ پھر جب ان پر لڑائی فرض کی گئی تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! تو نے ہم پر لڑائی کیوں فرض کر دی؟ ہمیں کچھ اور مہلت کیوں نہ دی؟کہہ دو کہ دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے، اور آخرت اُس کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرے، اور تم پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں آ پکڑے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں ہی میں کیوں نہ ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ حکمت کے پہلو اتنے ہیں کہ ان کا احاطہ نا ممکن ہے۔ ہم صرف چند اشارات پر قناعت کر رہے ہیں اور جو کچھ عرض کیا ہے بطور مثال ہے تا کہ یہ بات واضح ہو جائے کہ استقامت اور حکمت دونوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور دونوں کے دامن میں جو وسعت اور تنوع ہے ان کا احاطہ بھی ضروری ہے۔ لیکن اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ استقامت اور حکمت ہی وہ راستہ ہے جس پر بیک وقت چل کر ہم آج بھی اسلام کے خلاف کی جانے والی ساری سازشوں، منصوبوں اور تحریکوں کا کامیابی سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ جس طرح سمجھوتا اور دشمن کے آگے سپر ڈال دینا موت کا راستہ ہے اسی طرح جذبات سے مغلوب ہوکر مناسب تیاری کے بغیر اشتعال اور تشدد کا راستہ بھی حق و ثواب کا راستہ نہیں ۔ موڈریٹ اسلام” کے نام پر اسلام سے برگشتہ کرنے باطل قوتوں سے سمجھوتہ کرنے یا راہ حق سے فرار کی راہ اختیار کرنے میں دنیا اور دین دونوں کا خسارہ ہے لیکن اس یلغار کا مقابلہ بھی اسلام ہی کی بتائی ہوئی راہ اعتدال و حق و انصاف پر جم جانے ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کو اختیار کر کے ہمارے ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریک اسلامی کو کامیابی سے ہم کنار کیا اور اسی راستے پر چل کر آج بھی ہم اللہ کی رضا اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔

اس وقت اُمت کے ارباب دانش، اسلامی تحریکات کے قائدین اور مسلمان ملکوں کی قیادت کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان قرآنی بنیادوں پر وقت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی بنائی جائے؟ اس حکمت عملی کی روشنی میں کیا پالیسیاں اور کیا اقدامات تجویز کیے جائیں تا کہ اُمت اپنا صحیح مقام حاصل کر سکے اور دنیا کو بھی نئے استعمار کی جارحیت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے خود اپنے گھر کی اصلاح کا نقشہ بنایا جائے۔ ان خطوط کار کا تعین بھی ضروری ہے جن پر دنیا کی دوسری اقوام خصوصیت سے امریکہ سے آئیندہ معاملات کیے جائیں۔ اس کے تین محاذ ہوں گے : ہر ملک کا اپنا محاذ اُمت مسلمہ کا اجتماعی محاذ اور عالمی سطح پر نئے نظام اور اس کے قیام کے لیے منصوبہ بندی ۔ بلاشبہہ امریکہ اور اس کے عزائم اس پورے معاملے میں ایک کلیدی مقام رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ایک سوچے سمجھے موقف کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کے تمام اہل فکر اور خصوصیت سے اسلامی تحریکات اور مسلمان حکومتوں کے کار پردازوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ان امور پر غور وفکر اور مباحثے اور غذا کرے کا اہتمام کریں۔ اس سلسلے میں ہم اپنی گزارشات اُمت کے سوچنے سمجھنے والے عناصر مسلمانوں کے معاملات کے ذمہ دار حضرات اور ان لوگوں کی خدمت میں عرض کرنے کی جسارت کر رہے ہیں جو اسلامی تحریکات اور مسلم ممالک کی قیادت پر فائز ہیں ۔

تین راستے ہماری اب تک کی گزارشات سے یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ اُمت کے لیے غفلت اور فرار کا راستہ مکمل تباہی کا راستہ ہوگا۔ اس لیے مقابلہ اور مردانہ وار مقابلہ ہی زندگی اور بقا کا راستہ ہے۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ حالات کے آگے سپر ڈالنے کے معنی محکومی اور موت کے ہیں ۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے نتیجے میں ہم سوا ارب کی اُمت ہوتے ہوئے بھی خس و خاشاک سے زیادہ وزن کے حامل نہ ہوں گے اور بالآخر ایک نئی سیاسی، معاشی اور تہذیبی غلامی کی گرفت سے بچ نہ سکیں گے۔ یہ راستہ جس قوم نے بھی اختیار کیا وہ تاریخ کے اوراق میں صفحہ ہستی سے مٹ گئی، عبرت کا نشان بن گئی اور کبھی باقی نہیں رہی۔ افسوس کہ مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے طوعاً یا کرہا، لیکن عملاً اس تباہ کن راستے کو اختیار کر لیا ہے۔ کچھ شیطانی قوتوں کے با قاعدہ شریک کار بن گئے ہیں اور کچھ خاموش تماشائی یا نوالہ تر بننے پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔ یہ در اصل ذہنی، فکری اور عملی طور پر ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ دشمن کے رنگ میں رنگ جاتا ہے جسم کو بچانے کی موہوم امیدوں کے نام پر ایمان، تہذیب، اقدار نظریات اور تصویر حیات تک کی قربانی دے دینا ہے۔ ترکی میں کمال ازم نے یہی راستہ اختیار کیا تھا۔ مغرب اور مغرب کے کاسہ لیس دانش ور مسلمانوں کو آج بھی سیکولر ازم اور قوم پرستی کی دعوت دے رہے ہیں ۔ مگر یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ راستہ نہ صرف روحانی اور اخلاقی موت بلکہ تہذیبی موت کا ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ شریک کار نہ بنا جائے، نرم چارہ نہ بنا جائے اور بس اپنے آپ کو بچا لیا جائے۔ اسے تحفظ کی حکمت عملی کہتے ہیں۔ اس حکمت عملی پر ایک طبقے نے مغربی اقوام کی استعماری یلغار کے پہلے دور میں بھی عمل کر کے دیکھ لیا لیکن افسوس اس سے ہم نے کوئی سبق نہ سیکھا۔ یہ حکمت عملی ہتھیار ڈال دینے (سرنڈر) کی پالیسی سے کچھ بہتر ہے۔ اس میں اپنے آپ کو مسجد مدرسہ اور خانقاہ میں محصور کر کے تبلیغی سرگرمیوں تک محدود تو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ حکمت عملی بھی ناکافی، نا مکمل اور نا درست ہے صلاحیت میں خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر جمود طاری ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر مغلوبیت اور محکومیت ایسی اقوام کا مقدر بن جاتے ہیں۔

تیرا راستہ تصادم اور انتقام کا راستہ ہے کہ جذبات میں آکر میدان میں کود پڑوس جان کی بازی لگا دو اڑا دو اور تباہ کر دو اور جس چیز پر حملہ آور ہو سکتے ہو حملہ کر ڈالو۔ یہ بھی کوئی دانش مندی کا راستہ نہیں اور نہ اسے کسی پہلو سے آئیڈیل شکل کہا جا سکتا ہے۔ جذبات کی ایک اہمیت ہے لیکن جذبات کے ساتھ ساتھ تفکر اور سوچ بچار کی بھی ضرورت ہے۔ قرآن اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریق کار کی تعلیم دی ہے وہ استقامت کے ساتھ حکمت سے عبارت ہے۔ اس میں قوت کا استعمال تو ایک ضروری عنصر ہے مگر قوت کا بے محابا استعمال یا بس اندھی انتقامی کارروائی کا کوئی مقام نہیں۔ اس میں قوت کو حکمت کے ساتھ استعمال کرنا شامل ہے۔ جذبات کی رو میں بہہ کر تیاری اور صحیح حکمت عملی اور صحیح وقت کا تعین کیے بغی جنگ کرنا حماقت اور خودکشی ہے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳ سال تک ملکہ میں اپنی دعوت اور اپنے مسلک کے اوپر قائم رہتے ہوئے ظلم کو برداشت کیا دعوت کے لیے نئے سے نئے راستے نکالے لیکن عسکری مزاحمت نہیں کی ۔ مدینہ آنے کے بعد بھی یک لخت فوج کشی شروع نہیں کر دی بلکہ دفاعی تیاریاں کیں، اپنی قوت کار کو منظم و مرتب کیا، دشمن کے خلاف اقدام میں پہل نہ کی اور اپنی اجتماعیت کو میثاق مدینہ کی شکل میں مستحکم کیا۔ یہودی جو بغل میں بیٹھے ہوئے تھے اُن سے معاملات طے کیئے اور جب جنگ مسلط کر دی گئی تو اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ بلاشہ رب کی مدد اور نصرت پر بھروسا کیا لیکن اس یقینی بھروسے کے ساتھ ساتھ مادی سطح پر تیاری بھی کی۔ جیسا کہ حضور نے فرمایا: اللہ پر توکل کرو مگر اونٹ باندھ کر رکھو۔ اگر اونٹ کو آپ باندھیں گے نہیں، تدبیر اور حکمت اختیار نہیں کریں گے تو صرف تو کل کی بنیاد پر کوئی رد عمل اسلامی رد عمل نہیں کہلائے گا۔۔۔ گویا کہ محض جذباتی ہو کر وقتی طور پر کچھ کر دینا یہ بھی ایک راستہ ہے مگر اس راستے میں خیر کے امکانات بہت ہی کم ہیں، البتہ تباہی اور برس ہا برس کی محنتوں پر پانی پھر جانے کا خطرہ ضرور ہے۔ اصل اور حقیقی اہداف میں جتنا بھی غور کرتا ہوں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں مسلم اُمت کم و بیش اسی نوعیت کے چیلنجوں سے دو چار ہے جو بیسویں صدی کے آغاز پر ہمیں درپیش تھے۔ بلاشبهه گذشته ۵۰ سال میں ہم نے بہت کچھ پیش رفت کی ہے لیکن حالات کی ستم ظریفی ہے کہ سیاسی آزادی کے حصول اور معاشی وسائل کی فراہمی کے باوجود ہم ایک بار پھر ویسی ہی استعماری یلغار کی زد میں ہیں جس سے بیسویں صدی کے پہلے ربع میں ہمیں نبرد آزما ہونا پڑا۔ اس کربناک ماحول میں اللہ کے چند بندوں نے اُمت کی بیداری اور تنظیم نو کا بیڑا اٹھایا اور حالات سے سمجھوتا کرنے کے بجاے استقامت اور حکمت کے ساتھ مقابلے کا راستہ اختیار کیا۔ جمال الدین افغانی، محمد عبدہ علامہ محمد اقبال امیر شکیب ارسلان سعید نورسی، حسن البنا شہید اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے اپنے عصری حالات و ماحول کی روشنی میں ایک حیات بخش لائحہ عمل تیار کیا اور اُمت کو اس جادہ پر گامزن کیا ۔ آج بھی ان سارے تجربات کو سامنے رکھ کر مقابلے اور تعمیر نو کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اصل اہداف کا تعین کر لیا جائے اور پھر ان اہداف کے حصول کے لیے دیکھا جائے کہ کن خطوط پر حکمت عملی وضع کی جائے۔ صرف تذکیر کی خاطر عرض ہے کہ اس سلسلے میں تین امور مرکزی اہمیت کے حامل ہیں، یعنی : ا اصل ہدف کا تعین ہماری نگاہ میں اصل ہدف یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان اپنے نظریے اپنے نصب العین سے سرمو انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ جس چیز کا تقاضا ہمارا ایمان کرتا ہے وہ اسلام کے بارے میں ہمارا وژن ہے۔ اسلام کے مکمل نظامِ زندگی ہونے پر پختہ ایمان ہو۔ اس میں نبی پاک کی سنت مطہرہ ہمارا طریقہ اور سہارا ہے۔ ہمیں اس ہدایت کے ماخذ سے روشنی حاصل کر کے نقشہ زندگی مرتب کرتا ہے۔ اس میں سب سے اہم چیز اپنی شناخت کا تحفظ ہے۔ اگر ہماری شناخت مجروح یا تحلیل ہو جائے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ مادی ترقی اور قوت جیسا کہ ہم عرض کریں گے ضروری ہے مگر پہلی چیز اسلامی شناخت اور حفیت ہے۔ گویا اس حکمت عملی میں ہمارا پہلا ہدف اپنے وژن اپنے ایمان اپنی شناخت اور اپنی منزل کا تحفظ ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔ ۲- قوت کا حصول: قوت کے ذریعے ہم اپنے اس وژن کو صحیح طور سے حاصل کر سکیں گے۔ یہ محض آنکھیں بند کر کے آگ میں کود جانے والی بات نہیں ہے بلکہ اخلاقی اور اجتماعی قوت مادی اور عسکری قوت کا حصول بھی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک منصوص ضرورت ہے۔ قرآن نے اپنے اندر مقابلے کی جو استطاعت پیدا کرنے، گھوڑوں کو تیار رکھنے اور دیگر وسائل مہیا کرنے کا حکم دیا ہے ہمیں اس کو سمجھنا چاہیے اور اسے اپنی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت دینا چاہیے۔

۳– اُمت کی وحدت:

 بظاہر یہ ایک مشکل کام دکھائی دیتا ہے لیکن وحدت اور اپنی قوت کو مجتمع کرنا اشد ضروری ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ مسلم ممالک کے لیے فرداً فرداً اس سیلاب بلا کا مقابلہ مشکل ہے۔ بقا کا ایک ہی راستہ ہے کہ سب مل کر حالات کا مقابلہ کریں ۔ اس سلسلے میں دینی قوتوں کا اتحاد پہلی ضرورت ہے لیکن یہ بھی کافی نہیں ۔ صرف دین اور اپنی تہذیب کے بقا ہی کے لیے نہیں بلکہ اپنے دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی مسلمان ملکوں کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے کہ مل جل کر حالات کا مقابلہ کریں ورنہ خطرہ ہے کہ تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں !

ان اصولی لیکن عملی اعتبار سے فیصلہ کن (crucial) بنیادوں کی وضاحت کے بعد ہم مطلوبہ نقشہ کار کے خدو خال کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں لیکن آگے بڑھنے سے پہلے دو بہت ہی اہم امور کو ایک بار پھر بہت صاف الفاظ میں بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ان پر ساری نظری اور عملی حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار ہے۔ صاحب دعوت اُمت اولاً ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ایک صاحب دعوت اُمت ہیں اور مقابلے کے لیے قوت کوئی بھی ہو اور مقابلے کا زمانہ کچھ بھی ہو ہمارا مقصد دشمن کی تباہی نہیں، انسانیت کی اصلاح اور فلاح ہے اور اللہ کے بندوں کو خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کسی بھی نظام کے تحت ہوں بالآخر اللہ کے راستے کی طرف لانا ہے۔ مقابلئے لڑائی اور جنگ میں بھی ہمارا مقصود دوسروں کی تبا ہی نہیں، ان کو خیر کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لیے آج امریکہ کے استعماری عزائم، فکری اور ثقافتی یلغار معاشی شکنجوں اور جنگی کارروائیوں تک کے مقابلے میں ہمیں یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ امریکی عوام کی تباہی ہمارا ہدف نہیں۔ پھر آج کی سوسائٹی کی جو ساخت ہے اس میں امریکہ محض وہاں کی موجودہ قیادت اور انتظامیہ کا نام نہیں۔ خود اس معاشرے میں متعدد قو تیں برسرکار ہیں اور ان میں خیر اور شر دونوں عناصر موجود ہیں۔ ایک صاحب دعوت اُمت اور ایک داعی الی الخیر قوم کی حیثیت سے ہمیں کوئی جذباتی یا یک رخا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے ڈائیلاگ کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے اور بگاڑ کو محدود کرنے کے لیے جہاں کہیں سے ہمیں معاون و انصار مل سکیں اس کی ہمیں اتنی ہی فکر کرنی چاہیے جتنی اپنے حقیقی دفاع کی۔ ہر معاشرے میں کچھ خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں اور ہر ملک میں کچھ اچھے نفوس بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلم امت کی دفاعی اور جنگی دونوں حکمت عملیوں کی بھی ایک امتیازی شان ہونی چاہیے اور عمومی تباہی کبھی ہمارا طریقہ نہیں ہو سکتا ۔ شرمحض کا کوئی وجود نہیں اور خیر جہاں بھی ہو اور جس درجے میں ہو اس کو ہمیں اپنا اثاثہ بنانا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی حکمت عملی، جنگی نقشہ کار اور سفارت کاری میں ہمیں مقابلے اور مذاکرے کا ایک حکیمانہ امتزاج نظر آتا ہے۔ اسے آج بھی ہماری حکمت عملی کا امتیاز ہونا چاہیے۔

کثیر جہتی حکمت عملی

دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ امریکہ جس طرح آج اپنی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ بھی کوئی یک رخی (one dimensional) جنگ نہیں ہے۔ بلاشبہ اس کی عسکری قوت اور فوجی بالا دستی اس نقشہ جنگ میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ آج امریکہ کی فوجی قوت دنیا کے باقی تمام ممالک کی مشترک فوجی استعداد سے بھی زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جس ملک پر چاہتا ہے چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے اور ایک کے بعد دوسرے کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہا ہے اور اقوام متحدہ کو بھی اپنی باندی سے زیادہ وقعت نہیں دیتا۔ لیکن یہ سمجھنا بہت بڑی  غلطی ہوگی کہ یہ جنگ بس ایک عسکری معرکہ ہے۔ نئے استعمار کے دوسرے رُخ — فکری، معاشی، تہذیبی اور ابلاغی بھی اتنے ہی اہم ہیں اور نئی غلامی کی زنجیروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے کی حکمت عملی کو بھی کثیر جہتی (multi-dimensional) ہوتا چاہیے۔ ورنہ جس یلغار کی زد میں ہم ہیں اس کا مقابلہ ممکن نہیں ہوگا۔

ہماری حکمت عملی میں ان دونوں پہلوؤں کا پورا پورا لحاظ رکھا جانا ضروری ہے۔ ہماری نگاہ میں پاکستان اور اُمت مسلمہ کو آج جس حکمت عملی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس کے تین پہلو ہیں۔۔ ۱۔ نظریاتی اور اخلاقی ۲- تزویری اور اداری( structural and institutional)اطلاقی (operational) ۔ ہم ان تینوں کے بارے میں چند گزارشات پیش کر رہے ہیں.

 نظریاتی اور اخلاقی اساس

ہماری حکمت عملی کی اساس محض مفاد اور وقتی مصالح نہیں ہو سکتے ۔ ملک کا مفاد اُمت کا مفاد بلکہ انسانیت کا مفاد بلاشبہہ اس کا ایک اہم حصہ ہے اور وقتی مصالح سے بھی صرف وہی صرف نظر کر سکتا ہے جس کے پاؤں زمین پر نہ ہوں۔ لیکن کسی مسلمان کسی مسلمان ملک اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ان کی حکمت عملی کی اساس ان کا ایمان ان کا نظریہ ان کا تہذیبی مشن اور ان کی اخلاقی استعداد ہو۔ اس لیے ہم جو بھی راستہ اختیار کریں اور جو بھی منصوبہ کار تیار کریں اس میں سب سے پہلی چیز اللہ سے تعلق اپنے خلیفہ اللہ ہونے کا شعور اور خیر امت کی حیثیت سے اپنے تاریخی رول کا ادراک ہے۔

۱۔ ۱ستعانت بالله

 یہی وجہ ہے کہ اُمت مسلمہ کی بقا اور اس کے احیا کے لیے جو حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی اس کا اولیں نکتہ استعانت باللہ ہے۔ اقبال نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے یہ حقیقت الم نشرح ہو جاتی ہے کہ اس پوری تاریخ میں مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بچایا بلکہ اسلام نے مسلمانوں کو بچایا ہے۔ مادی قوت فکری تحرک، عسکری اور سائنسی طاقت سب ضروری ہیں لیکن سب سے اہم چیز اللہ سے تعلق اللہ کی مدد اور اسلام کی رشتی کو تھامنا ہے ۔ نقطہ آغاز ایک اور صرف ایک ہے:

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوانًا لِلهِ وَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقره ۱۵۶:۲)

جب ان پر تکلیف دہ مصیبت حملہ آور ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں ۔۔۔ بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ

 إن يَنصُرُكُمُ الله فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإنْ يُخْذُلُكُمْ فَمَنْ ذَى الَّذِي يَبْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ المُؤْمِنُونَ (آل عمران ۱۶۰:۳)

اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکے گا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے؟ اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسا کرنا چاہیے۔

۲۔اصلاح ذات

 اُمت کی ترقی کا کوئی راستہ محض وسائل کی فراوانی سے استوار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کوئی میکانکی عمل نہیں۔ اس میں اصل قوت کار مسلمان مرد اور مسلمان عورت ہے۔ ان کی حیثیت عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹوں کی ہے۔ اگر یہ اینٹیں کمزور اور ختہ ہوں گی تو عمارت مضبوط کیسے ہوگی؟

ذات کی فکر اس معنی میں نہیں ہے کہ ہم تنومند ہو جائیں اور مال دار بن جائیں۔ بلاشبہ اچھی صحت اور مالی قوت بھی درکار ہے، لیکن اصل قوت راسخ ایمان اور مضبوط کردار کی ہے۔ انفرادی تزکیے اور سیرت سازی کے ذریعے ہی اس اُمت کا ہر فرد امت کی قوت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور پھر یہ گروہ ایک ایسا گروہ بن سکتا ہے جو لوہے کے چنوں کی مانند ہو کہ کوئی آپ کو چبانہ سکے اور کوئی چبانے کی کوشش کرے تو اپنے دانت تڑوا بیٹھے۔

۳۔ دعوت الی الله :

دعوت الی اللہ ہی اُمت کو بیدار اور متحرک کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کے ذریعے ہم دنیا کے دوسرے لوگوں تک ایک پیغام کے علم بردار بن کر پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کو اختیار کر کے اُمت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر رواج ہو سکے گا اور معاشرے کی اصلاح واقع ہو سکتی ہے۔ اس سے تعلیمی ترقی کے سوتے پھوٹے ہیں ۔ معاشرے کو متحرک اور تیار کیے بغیر مسلمان عسکری، سیاسی اور معاشی چیلنج کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے ۔ خاندان معاشرہ اور اجتماعیت ان سب کی قلب ماہیت اگر ہو سکتی ہے تو دعوت الی اللہ کو مرکز و محور بنا کر ہی ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن سے ربط و تعلق اور اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کرنا اور سیرت پاک سے نسبت اور حضور کی محبت اور اطاعت کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ کام باہر نکلے اور لوگوں تک پہنچے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ قرآن اور سیرت نبوی سے جو سبق ہم سیکھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے عوام تک پہنچیں۔ انھیں بیدار کرنے اور ان کے اخلاق سنوارنے کے لیے سب مل جل کر کام کریں۔

جب تک ہم سب دعوت کے اس عمل میں مصروف اور متحرک نہیں ہو جاتے، اُمت کو وہ قوت میسر نہیں آسکتی جس سے وہ بیرونی خطرات کا مقابلہ کر ۴۔رواداری اور اخوت

 اختلافات کے سلسلے میں برداشت اور تکثر (plurality) کی حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا اور رواداری اور اخوت کی کیفیت پیدا کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ لازمی ہے کہ ہم اپنے دینی سیاسی اور تہذیبی اختلافات کو حدود میں رکھنا سیکھیں اور اختلاف مسلک کو جنگ و جدال اور تصادم کا رنگ نہ دیں۔ ضروری ہے کہ یہ احساس پیدا کیا جائے کہ دین کے دائرے میں بھی فطری اختلافات لائق احترام ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں برداشت افہام و تفہیم ایک دوسرے کو قبول کرنا ہمارا طریقہ ہو ۔ اس لیے کہ اُمت کی وحدت اگر قائم ہو سکتی ہے تو وہ ایمان کے بعد ایک دوسرے کو قبول کرنے سے اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے سے ہو سکتی ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب مسلم قیادت اپنی ذات سے بلند ہو کر اختلاف کو حدود میں رکھنا سیکھے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے درمیان تین روایات کو پروان چڑھانا ہوگا یعنی اختلاف کے باوجود باہم متحد رہنے کا جذبہ دوسرا افہام و تفہیم کے جذبے سے مسلسل مکالمہ اور تبادلہ خیال اور تیسرے مشاورت اور نصیحت کے نظام کا احیا۔ مشاورت کا دائرہ صرف اپنے تک ہی محدود نہ رہے بلکہ مشاورت کے دائرے کو زندگی کے تمام شعبوں میں رواج دیں۔ حکمت عملی کے یہ چار نظریاتی اور اخلاقی ستون ہیں جنھیں اساسی مقام دینا نا گزیر ہے۔

تزویری اور اداری دائرے

 حکمت عملی کا دوسرا دائرہ تزویری اور اداری ہے۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہرمسلمان ملک اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کو اپنے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ ان پہلوؤں کو محض وسطی مدت یا لمبی مدت کی اصلاحات کے نام پر معرض تعویق میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان اصلاحات کی فوری ضرورت ہے اور اس باب میں ایک ایک دن کی تاخیر بھی ملک و ملت کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔

 ا ۔اظہار کی آزادی

اس سلسلے کی سب سے پہلی ضرورت آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کا جن کی ضمانت اسلام دیتا ہے غیر مشروط تحفظ ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو سوچنے سمجھنے والے ذہنوں پر قفل لگاتا ہے، اظہار خیال افہام و تفہیم بحث و مذاکرے کے مواقع سے اپنے ہی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور اصل حقائق اور رجحانات کو جاننے سمجھنے اور ان کی روشنی میں صحیح رویے اختیار کرنے سے احتراز کرتا ہے وہ قوم کی تخلیقی اور تعمیری قوتوں کو مضعمل کر رہا ہے اور جھوٹے استحکام کے نام پر فرد اور قوم دونوں کی ترقی کی راہیں مسدود کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تزویری اصلاحات کے باب میں یہ پہلی ضرورت ہے۔

۲۔اپنی قوم پر اعتماد

دوسری چیز دوسروں کے مقابلے میں اپنی قوم پر اعتماد اس کو پالیسی سازی میں شریک کرنا، حقیقی شورائی اور جمہوری نظام کی ترویج اور تمام قومی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں معلومات پر مبنی کھلی بحث (informed debate) اور اجتماعی فیصلہ سازی کی روایت کا قیام ہے۔ کسی ایک فرد پر انحصار ہماری سب سے بڑی اور خطر ناک غلطی ہوگی ۔ مجالس دانش (think tanks) کا قیام کھلی بحث اور اجتماعی احتساب ہی میں ہماری ترقی اور قوت کا راز مضمر ہے۔

 ۳- تعلیم و ٹکنالوجی :

 تیری چیز تعلیم، تحقیق، ایجاد و انکشاف اور مادی وسائل اور ٹکنالوجی کے میدان میں نہ صرف ترقی بلکہ مقابلے کی ترقی از بس ضروری ہے۔

 ۴- خود انحصاری:

چوتھی چیز اصولی طور پر تو ہر دور میں لیکن خالص عملی اعتبار سے آج کی دنیا میں، خصوصیت سے عالم گیریت کے ایسے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ہمیں ہماری معیشت اور ہماری تہذیب کو جڑ سے اکھاڑ دینے پر تلی ہوئی ہے وہ کچھ دائروں میں ہر مسلمان ملک اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کی خود انحصاری ہے۔ خود انحصاری کے معنی ہر میدان میں خود کفالت نہیں کہ یہ قدرت کی تقسیم وسائل اور صلاحیتوں کے تنوع کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ نہ اس کے معنی دنیا سے کٹنا اور تجارت، معیشت، مالیات، ثقافت وغیرہ کے میدانوںمیں دنیا سے الگ تھلگ ہو جانے (autarky) کے مترادف ہے۔ خود انحصاری کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ایک قوم اپنے بنیادی، معاشی، مالیاتی، سیاسی اور ثقافتی فیصلے کسی دباؤ اور مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنے تصورات، اقدار اصولوں اور منصفانہ مفادات کی بنیاد پر کر سکے اور اپنے اندر ایسی فکری، معاشی اور عسکری قوت رکھتی ہو کہ دوسرے اس کے فیصلوں پر ناروا انداز میں اثر انداز نہ ہو سکتے ہوں ۔ اس کے برعکس سامراجی نظام کا خاصا یہ ہے خواہ کسی شکل میں بھی ہو کہ وہ دوسروں کو دنیا کا محتاج بناتا ہے اور ان کو فیصلے کی آزادی سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلامی شخصیت کی نفی کے مترادف ہے اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ جو قوم اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکے اور اس کے وجود کا انحصار دوسروں پر ہو وہ کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں کر سکتی ۔ اُمت مسلمہ کو بھی زمین و آسمان کے خالق نے جو مشن دے کر زمین پر برپا کیا ہے وہ ہے: شهداء على الناس ۔ یہ کردار اور دوسروں کی محکومی یا ان کی محتاجی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

اگر یہ اُمت ہی دوسروں کی ذہنی اور فکری طور پر نظریاتی اور تہذیبی طور پر اسلامی اور ثقافتی طور پر مادی اور سائنسی طور پر سیاسی اور عسکری طور پر دست نگر ہو جائے تو پھر یہ اپنا تشخص کیسے برقرار رکھ سکتی ہے اور اپنا تاریخی کردار کیسے ادا کرسکتی ہے؟ آج پوری دنیا کو اور خصوصیت سے مسلم ممالک کو جو خطرات درپیش ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اگر وہ سب سر جوڑ کر نہیں بیٹھتے اور مل جل کر ایک دوسرے کی قوت کا ذریعہ نہیں بنتے تو ڈر ہے کہ خدانخواستہ ایک ایک کر کے سب پڑ جائیں گے۔ اگر آج عراق نشانہ ہے تو کل ایران ہوگا اور پرسوں پاکستان شام سعودی عرب انڈونیشیا اور ترکی ۔ یہ محض ایک واہمہ نہیں بلکہ آج کی دنیا کے جیو سیاسی (geo-political) حالات پر نظر رکھنے والا ہر شخص اس نقشہ جنگ کو بچشم سر دیکھ سکتا ہے بلکہ یہ نشانہ بازی شروع ہو چکی ہے اور جن ۲۵ ممالک کے شہریوں سے امریکہ میں امتیازی سلوک قانون کے ڈنڈے کے زور سے شروع ہوا ہے ان میں سے ۲۴ مسلمان ملک ہیں اور سرفہرست وہ ہیں جو اپنے کو امریکہ کا حلیف اور تاریخی اعتبار سے دوست سمجھے ہوئے ہیں۔ عراق کے خلاف محاذ محض عراق کے خلاف نہیں بلکہ ایک عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ہے اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ ابھی ۱۲ جنوری ۲۰۰۳ء کے واشنگٹن پوسٹ میں صدر بش کی دو صفحات پر مشتمل ایک نہایت خفیہ (top secret) دستاویز شائع ہوئی ہے جو ا استمبر ۲۰۰۱ء کے واقعہ سے صرف ۶دن بعد یعنی ۷ استمبر کو ضبط تحریر میں لائی گئی تھی اس میں افغانستان کے خلاف جنگ کی ہدایات کے ساتھ وزارت جنگ (Pentagon) کے لیے یہ احکام بھی شامل ہیں کہ :

to begin planning military options for an invision     of Iraq.

عراق پر حملے کے لیے متبادل عسکری منصوبوں کی تیاری شروع کرنا ۔

اور پھر ۱۷ جنوری ۲۰۰۳ء کو اسی واشنگٹن پوسٹ میں یہ بات بھی آگئی ہے کہ مقصد عراق کے نام نہاد تباہی کے اسلحے پر قبضہ نہیں بلکہ عراق پر مکمل فوجی قبضہ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان پر قبضے کی طرح امریکی فوج کے حاضر سروس جنرل کے تحت فوجی انتظام و انصرام ہے۔ افسوس کہ ہمارے کمانڈ و صدرا استمبر ۲۰۰۱ ء کا افغانستان اور عراق سے اور عراق کا ایران پاکستان اور سعودی عرب سے تعلق (linkage) دیکھنے سے قاصر ہیں اور اس خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ ” تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیٹر تو ! ہمیں اس خواب سے اب بیدار ہو جانا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ خود انحصاری اور اُمت مسلمہ کی وحدت کے سوا کوئی راستہ کسی کے لیے بھی بچاؤ کا راستہ نہیں۔ ہم مل کر ایک قوت بن سکتے ہیں اور الگ الگ ہر ایک پٹ جائے گا اور خدانخواستہ وہی ہوگا جو دولت عثمانیہ کے انتشار تقسیم اور علاقائیت کے ہاتھوں ۱۰۰ سال پہلے ہوا یا شمالی عربوں اور حجازیوں اور یمنی عربوں کی باہمی آویزش اور داخلی نزاعات کے نتیجے میں ۷۰۰ سال پہلے اندلس (اسپین) میں ہوا تھا۔

یہ اتحاد دین و ایمان اور نظریے اور تہذیب کا تقاضا تو ہے ہی، لیکن آج تو یہ بقاے باہمی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن گیا ہے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں اور ارباب ثروت کا اپنا مفاد اس میں مضمر ہے کہ وہ امریکہ پر انحصار کو کم کریں اور اپنے معاملات اور اپنے وسائل اپنے تصرف میں لائیں اور مسلم ممالک میں مقابلے کی قوت پیدا کریں۔ ستم ہے کہ اس وقت مسلم ممالک کا ۳. اٹریلین یعنی ایک ہزار تین سو ارب ڈالر کا سرمایہ امریکہ اور یورپی ممالک میں لگا ہوا ہے اور اب اس رقم کو آسانی سے امریکہ اور یورپی ممالک سے واپس لا نا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس رقم کا نصف بھی مسلم ممالک کی معاشی ترقی کے لیے صحیح ترجیحات کے ساتھ استعمال ہو تو چند سال میں مسلمان ممالک ایک عالمی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔ جن ممالک اور افراد کا یہ سرمایہ ہے یہ خود ان کے مفاد میں ہے کہ اس کو مغرب کی گرفت سے نکالیں۔

یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنی گردن ان ممالک کے ہاتھ میں دے دیں اور پھر اپنی آزادی اور خود مختاری کا خواب بھی دیکھیں۔ حالات ہمیں اس مقام پر لے آئے ہیں کہ مسلم ممالک میں ،معاشی، مالیاتی، تعلیمی، سائنسی عسکری غرض ان سب میدانوں میں خود انحصاری کے حصول کو اولیت دی جائے۔ اس کے بغیر ان ممالک کے آزا در ہے اور کوئی مثبت عالمی کردار ادا کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ نظریاتی اور اخلاقی اساس پر ایک مضبوط معیشت، مادی وسائل کا حصول، ٹکنالوجی کے میدان میں مقابلے کی مہارت اور عسکری اعتبار سے اتنی قوت کہ آپ اپنا دفاع موثر انداز میں کر سکیں، پوری اُمت کی اجتماعی ضرورت ہے۔ وسائل موجود ہیں۔ امکانات کی کمی نہیں ۔ کمی ہے تو وژن کی منصوبہ بندی کی اپنے ہی وسائل کے ٹھیک استعمال کی سمجھ دار اور با صلاحیت قیادت کی۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اب راستے (options) کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد مسلمان عوام کی بیداری اور اُمت میں مقابلے کی قوت کو ترقی دینے کے سوا زندہ رہنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان بنیادی تبدیلیوں اور تزویری اصلاحات کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کا آغاز بلا تاخیر ہو جانا چاہیے لیکن ان کے پورے اثرات رونما ہونے میں ایک وقت لگے لگا۔ فوری تعاون کے راستے بھی اختیار کیے جاسکتے ہیں اور کیے جانے چاہیں لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ تعاون اور ربط باہمی( cooperation and coordination) سے آغاز کر کے اتحاد انضمام اور انحصار باہمی (unity, integration and inter – dependence) کی طرف مراجعت کی جائے تا کہ ہمارا اتحاد محض اوپری انداز کا نہ ہو بلکہ امت مسلمہ اپنے تنوع کو باقی رکھتے ہوئے ایک حقیقی وحدت کی شکل اختیار کر لے۔ اگر یورپ صدیوں کے جنگ و جدال اور ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونے کے باوجود مصالح کی بنیاد پر ایک معاشی اور سیاسی وحدت بن سکتا ہے تو مسلمان اُمت کیوں نہیں بن سکتی۔ آج بھی اُمت کے عوام میں ہم آہنگی اور یگانگت ہے، حکمران اور مخصوص مفاد کے پرستار اصل رکاوٹ ہیں۔ لیکن اب یہ خود ان کے مفاد میں ہے کہ اپنے اس خول سے نکلیں اور وہ راستہ اختیار کریں جو اُمت کے اور خود اُن کے حق میں بہتر ہے۔ مسلمان عوام آج بھی ہر مسلم مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور جان اور مال سے اس میں شرکت اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں۔ ہمارے لیے اس عوامی جذبے کو اجتماعی نظام کی بنیاد بنانا زیادہ آسان ہے۔ اس گئے گزرے دور میں بھی آخر ۱۹۶۵ء کی جنگ کے موقع پر ایران اور عرب ممالک ہی نہیں، انڈونیشیا نے بھی بھارت سے اپنے تاریخی تعلقات اور نہر وسوئیکارنو دوستی کی روایات کے باوجود صرف سفارتی میدان میں ہی نہیں، عملی عسکری تعاون کے ذریعے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ ااستمبر کے بعد پاکستان کی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے میں سعودی عرب اور کویت نے جو تعاون کیا ہے وہ بھی محض خیالی چیز نہیں۔ اس کے باوجود صدر صاحب کا جنوری ۲۰۰۳ء میں لاہور کے دانش وروں کی محفل میں یہ ارشاد کہ ہماری مدد کو کون آیا ایک غیر حقیقت پسندانہ ارشاد ہے۔

اطلاقی دائرہ

 حکمت عملی کا تیسرا اور فوری توجہ کا حصہ اطلاقی (operational) ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی ہے۔ امریکہ ایک عالمی قوت بلکہ واحد سوپر پاور ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے خلاف محاذ آرائی یا تصادم نہ مطلوب ہے اور نہ یہ کوئی راستہ ہے۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ مسلمان ملک فرداً فرداً اور مل کر امریکہ کو ایک پیغام دیں۔ ہم دوستی اور تعاون کا راستہ تو اختیار کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی ایسے نظام کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے جس میں ایک قوم کی بالا دستی سب پر قائم کی جائے۔ شمالی کوریا نے جرات مندانہ پالیسی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے حالانکہ شمالی کو ریا ایک غریب ملک ہے جس کی قومی دولت جنوبی کوریا کا بھی صرف چالیسواں حصہ اور تیل اور خوراک دونوں میں باہر کی سپلائی کا محتاج ہے۔ مسلم ممالک اپنے وسائل، جغرافیائی محل وقوع معاشی دولت سیاسی وزن (leverage) ہر اعتبار سے کہیں زیادہ موثر قوت بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ذاتی مفاد کے چکر سے نکل کر اجتماعی قوت اور فلاح باہمی کا راستہ اختیار کریں۔ اس کے لیے عزم اور وژن کے ساتھ مکالمے اور اجتماعی تحفظ کے لیے سر جارحیت کا راستہ بیک وقت اختیار کیا جائے۔

اس وقت امریکہ نے جن ۲۵ ممالک کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک شروع کیا ہے ان میں سے ۲۴ ممالک مسلمان ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر فوری طور پر پہل قدمی کی ضرورت ہے۔ یہ امریکہ سے تعلقات پر نظر ثانی کے لیے ایک مناسب نقطہ آغاز ہے۔ بلاشبہہ ہر ملک کو اپنے تحفظ کا اختیار ہے لیکن دہشت گردی کے خطرے کے سدباب کے نام پر کچھ خاص ملکوں کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر انسانی مساوات کے بنیادی اور مسلمہ اصول اور خود امریکی دستور کی پہلی دفعہ کے خلاف ہے۔ اس پر مستزاد کہ یہ پابندی خصوصی اور امتیازی ہے یعنی دنیا کے ۱۹۰ ممالک میں سے صرف ۲۵ کے خلاف جو بظاہر دوست ملک ہیں اور ان کی عالمی سطح پر امریکہ سے کوئی مخالفت نہیں رہتی۔ بین الاقوامی قانون میں وہ نہ بر سر جنگ ہیں اور نہ اجنبی (alien) طاقتوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسی طرح یہ پابندی جنس کی بنیاد پر امتیاز کی زد میں بھی آتی ہے کہ صرف ۱۶ سال کی عمر کے مردوں پر اس کا اطلاق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دوسری جنگ کے بعد دنیا کے سارے ممالک میں اگر کسی ملک میں امریکیوں کے خلاف دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں تو وہ یونان ہے مگر وہ اس فہرست میں شامل نہیں۔ اگر معاملہ تارکین وطن اور خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کا ہے تو امریکہ کے اپنے ریکارڈ گواہ ہیں کہ ہر سال امریکہ میں ۳۰۰ ملین افراد باہر سے آتے ہیں جن میں سے ۲ ملین واپس نہیں جاتے۔ ان میں سب سے زیادہ لوگوں کا تعلق میکسیکو پورٹو ریکا، کیوبا اور دوسرے جنوبی امریکہ کے ممالک سے ہے لیکن یہ سب اس فہرست سے باہر ہیں۔ اس لیے سیاسی اور قانونی دونوں محاذ پر اس قانون اور مسلمانوں پر اس کے اطلاق کے خلاف ایک عالم گیر مہم چلانی چاہیے۔ اسی طرح عراق کی جنگ کا مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ عراق تو ایک عالمی استعماری جنگ کے آغاز کا صرف عنوان ہے۔ اصل مسئلہ اصول کا ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے بالا ہو کر امریکہ یا اس کے کسی اتحادی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ محض کسی خیالی خطرے کا سہارا لے کر پیش بندی (pre-emptive strike) کے نام پر (جس کا بین الاقوامی قانون جنگ و صلح میں کوئی مقام نہیں) ایک دوسرے خود مختار ملک پر جو اقوام متحدہ کا رکن بھی ہے فوج کشی کر سکتا ہے۔ کیا کسی ملک کی حکومت بدلنے کے لیے کسی دوسرے ملک پر فوج کشی، قیادت کے قتل یا بغاوت کو منظم کرنے کا کوئی جواز ہے۔ اسی طرح کیا کسی بھی ملک کو اس بنیاد پر کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں، نشانہ جنگ بنایا جا سکتا ہے۔ عراق ایک کمزور ملک ہے۔ وہ کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں اس کے تیل کے ذخائر استعماری طاقتوں کا اصل ہدف ہیں۔ یہ وہ بنیادی ایشوز ہیں جو آج معرض خطر میں ہیں۔ اگر دنیا کے دوسرے ممالک اور خصوصیت سے مسلم اور عرب ممالک خود کو ان فوجی جولانیوں اور جنگی تاہیوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو آج عراق پر امریکہ کی دست درازی کو روکنا اس کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوری ۲۰۰۳ء کے وسط میں دنیا کے ۲۵ ممالک میں امریکہ کے جنگی عزائم کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے ہیں اور خود واشنگٹن، نیو یارک، لاس اینجلز اور سان فرانسسکو جنگ کے خلاف نعروں سے گونج رہے ہیں۔ جرمنی اور فرانس نے بھی موثر احتجاجی آواز بلند کی ہے اور روس اور چین بھی اس صورت حال پر مضطرب ہیں۔ صرف اسرائیل اور بھارت اپنے اپنے استعماری عزائم کی وجہ سے بش کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر کلنٹن بھی کھل کر اس جارحیت کے خلاف شکایت کناں ہیں لیکن اس جارحیت کا اگلا ہدف بننے والے مسلم ممالک منقار زیر پر ہیں۔ یہ وقت جاکے احتجاج کرنے اور خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا ہے۔ اس کے لیے پاکستان اور تمام مسلم ممالک کو بروقت اقدام کرنا چاہیے۔

مکالمے کا آغاز

 دوسری فوری ضرورت امریکہ اور پوری مغربی دنیا سے معنی خیز مکالمے کا آغاز ہے جس میں صرف حکومتیں ہی نہیں، ان ممالک کے تمام موثر عناصر اور عوام مخاطب اور شریک ہوں۔ اس کے لیے میڈیا کی قوت کا استعمال از بس ضروری ہے۔ آج دنیا کے ذہنوں پر امریکی میڈیا چھایا ہوا ہے جو خود پنجہ یہود میں ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل کی ایک منخصی سی آواز ہے جس نے عرب دنیا میں کچھ آگاہی پیدا کی ہے لیکن ضرورت ایک ایسے طاقت ور میڈیا کی ہے جو مسلم ذہن اور عالم اسلامی کے جذبات اور مفادات کا ترجمان ہو لیکن یہ نہ محض سرکاری آواز ہو اور نہ ابلاغ کے جدید ترین اسالیب سے محروم ۔ یہ وسائل ہمارے پاس ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں خود اپنا سیٹلائٹ فضا میں آویزاں کیا ہے جو اعلیٰ پیشہ ورانہ انداز میں ہماری آواز پوری دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم اپنی سیاسی بازی محض اپنی بے تدبیری اور بے عملی کی وجہ سے ہار رہے ہیں جسے انگریزی محاورے میں loosing by default کہا جاتا ہے۔ اس کی تلافی کی فوری ضرورت ہے اور یہ کام مناسب منصوبہ بندی سے انجام دیا جائے تو مہینوں نہیں، ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ مسلم دنیا کے اتحاد کے ساتھ دنیا کے ان تمام ممالک اقوام اور گروہوں کو ہمیں اپنے ساتھ ملانا چاہیے جو آزادیوں کے تحفظ استعمار کے خلاف جنگ بین الاقوامی قانون کی پاس داری انصاف کے قیام کے مقاصد کے حصول کے لیے ہمارے معاون ہو سکتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں ان کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر انھیں مناسب طور پر منتظم اور استعمال کیا جائے تو یہ ساری قوتیں اس جدوجہد میں ہماری حلیف اور ساتھی ہیں اور مزید بن سکتی ہیں ۔ مکالمے کا ایک کردار یہ بھی ہے کہ جہاں ہم حکومتوں سے مذاکرات کریں و ہیں ہر دوسری سطح پر افہام و تفہیم کا سلسلہ شروع کریں اور اس طرح دنیا کو سب کے لیے ایک زیادہ پُر امن اور منصفانہ ممکن بنانے کی خدمت انجام دے سکیں۔

معاشی و عسکری منصوبه بندی

 تیسری ضرورت مکالمے کے ساتھ سیاسی معاشی اور عسکری محاذوں پر ایسی منصوبہ بندی اور تنظیم کی ہے جو کمزور ممالک کے خلاف جنگی یلغار یا انھیں مغلوب کرنے کی چالبازیوں کے مقابلے میں سر جارحیت کا کردار ادا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نگاہ میں وقت کی اہم ترین ضرورت مغرب پر انحصار کو ختم کرنا مغرب سے موثر اور معنی خیز مکالمہ شروع کرنا اور خود انحصاری کی بنیاد پر اپنی سد جارحیت کی طاقت کو وجود میں لانا ہے۔ یہ کام ٹھوس منصوبہ بندی اور مسلسل جدو جہد کا متقاضی ہے۔ اس کے لیے معاشی اور عسکری قوت اور اپنے وسائل پر اپنی گرفت ضروری ہے۔ نہ ہم اتنے کمزور ہیں کہ بس گھٹنے ٹیکتے چلے جائیں اور نہ اتنے قوی ہیں کہ فوری تصادم کا خطرہ مول لے سکیں ۔ اس لیے استقامت اور حکمت سے راستہ نکالنے ہی میں اُمت کی نجات ہے۔ اس کے لیے جہاں نظریاتی استحکام ضروری ہے و ہیں مادی قوت کا حصول اور اس کا صحیح صحیح استعمال بھی ضروری ہے۔ خطرات کا صحیح شعور اولیس شرط ہے لیکن بلا تیاری مقابلہ اور تصادم کے راستے کو اختیار کرنا بھی خود تباہی کا راستہ ہے۔ اس لیے جو بھی نقشہ کار وضع کیا جائے اسے پوری حکمت ودانائی اور مومنانہ فراست سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

معاشی ترقی کا کریش پروگرام:

اس سلسلے کی آخری چیز صحیح معاشی منصوبہ بندی اور مسلم ممالک میں ایک ہمہ گیر معاشی ترقی کا کریش پروگرام ہے۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی معاشی بحالی کے لیے مارشل لا پلان بنایا گیا تھا اسی طرح اس وقت اسلامی دنیا میں معاشی ترقی، جدید ٹکنالوجی میں قوت کے حصول، بنیادی صنعتوں اور سرمایے کی تخلیق (asset creation) کے مقاصد کے لیے فوری اقدام درکار ہیں۔ مسلم سرمایے کو محفوظ کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے کہ وہ مسلم ممالک میں سرمایے کی تخلیق کے لیے استعمال ہو۔ ترکی کے ایک صاحب نظر سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی پہل قدمی پر 8D- کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اب وقت ہے کہ فوری طور پر اس وژن پر عمل ہو اور اسلامی ترقیاتی بنک او آئی سی اسلامک چیمبر آف کامرس اور دوسرے متعلقہ ادارے فوری طور پر ان ممالک میں متقابل فوائد اور تقسیم کار کے معاشی اصولوں کی روشنی میں معاشی ترقی کا ایک ماسٹر پلان بنا ئیں اور اس پر عمل شروع کریں۔ کم از کم ۸ مسلمان ملک ایسے ہیں جن کے پاس جدید ٹکنالوجی اس حد تک موجود ہے کہ وہ مسلم دنیا کے لیے ایک مضبوط اور وسیع صنعتی اساس تعمیر کر سکتے ہیں اور مسلم ممالک خود وسیع مارکیٹ ہیں جو اس کو معاشی استحکام دے سکتے ہیں۔ آج ایسے صاحب نظر لوگوں کی ضرورت ہے جیسے یورپ کو گائی مولئے ڈی گال اور کو نارڈ ایڈینور کی شکل میں میسر آ گئے تھے۔ کسی بھی اطلاقی منصوبے کا یہ ایک نہایت اہم حصہ ہے۔

پاکستانی قیادت کا مطلوب کردار

آخر میں ہم یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور اس کی قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھے اور امریکہ کی خدمت میں درخواستیں بھیجنے کا رویہ ترک کرے۔ ایک باوقار ملک کی حیثیت سے اور امریکہ کے سابقہ ریکارڈ کی روشنی میں اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کی تشکیل نو کرے۔ قوم پر اعتماد کرے اور اکتوبر کے انتخابات ( خواہ وہ کیسے بھی خام کیوں نہ ہوں ) کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کو طاقت ور کرے۔ انھیں ذریعہ بناتے ہوئے قومی بیداری پیدا کرنے اور دور رس نتائج کی حامل نئی پالیسیاں تشکیل دینے کا یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس کا پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہم یہ کلیدی کردار اسی وقت ادا کر سکتے ہیں جب ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت ذاتی مفادات سے بالا ہو کر افہام وتفہیم کے ذریعے بنیادی امور پر ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرے اور پھر دوسرے سارے ممالک کو ایک ایسے مرکزی پروگرام پر مجتمع کرنے کی کوشش کرے جس سے عالم اسلامی اپنی آزادی، معاشی وسائل اور نظریاتی تشخص کی قرار واقعی حفاظت کر سکے اور عالمی سطح پر انصاف کے قیام اور ایک ایسے عالمی نظام کے فروغ کے لیے سرگرم ہو سکے جو انسانیت کو جنگ تباہی اور معاشی لوٹ کے موجودہ نظام سے نجات دلا سکے اور سب کے لیے عزت، آزادی اور انصاف کا ضامن ہو سکے۔ آج یہ صرف مسلمانوں ہی کی ضرورت نہیں انسانیت کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان اکیسویں صدی کو امن و انصاف کی صدی بنانے کے لیے ایک موثر کردار ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ ہماری قیادت اپنے ذاتی مفادات کے خول سے نکلے اور اُمت مسلمہ اور انسانیت کو درپیش خطرات کا استقامت اور حکمت سے مقابلہ کرنے کا راستہ اختیار کرے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »