BiographyPolitical Biography

پھانسی گھاٹ کے شب و روز

پروفیسر  خورشید احمد

پروفیسر خورشید احمد صاحب

حکیم اقبال حسین صاحب

صادق حسین صاحب

گوہر گیلانی صاحب

غفور احمد صاحب

پانچ سر پھروں کا یہ مختصر قافلہ دو سپاہیوں کی قیادت میں خاموشی کے ساتھ روانہ ہوتا۔ بارک پر بارک اور موڑ پر موڑ طے ہوتے گئے لیکن  ’’ جانا ہے کدھر معلوم نہیں۔‘‘

کس بنہ دانست کہ  منزل گہہ مقصود  کجا است

(کوئی نہیں جانتا کہ منزل مقصود کدھر ہے )

وارڈر کی سیٹی نے ہم کو چونکا یا۔ ہم سنٹرل جیل کی پرانی حدود پار کر چکے تھے اور ہمارے کے سامنے وہ موٹی فصیل نما دیوالہ تھی، جو کبھی جیل کی آخری حد تھی اور اب نیوز جیل کی پہلی دیوار ہے۔ زندگی اسی طرح کروٹیں لیتی رہتی ہے۔ کسی کی آخری حد اور کسی کا پہلا قدم ہوتی ہے۔

شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی

تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنی جہاں کا

اس فصیل نما دیوار کو پار کر کے ہم نئی جیل میں داخل ہو گئے۔ اب ہمیں اس کے جس حصہ میں لے جایا گیا وہ وہ ہے جیسے جیل کی اصطلاح میں’’ پھانسی گھاٹ” کہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پھانسی کی سزا کا اعلان ہونے کے بعد مجرموں کو رکھا جاتا ہے اور جس میں آج کل کچھ عام قیدی تھے۔ غالباًسی کلاس میں کوئی اور جگہ ایسی نہ تھی جہاں ہمیں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا جاسکتا۔ اس لیئے اس وارڈ کو خالی کرایا گیا۔ جو ایک دو قیدی یہاں تھے، پہلے ان کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا اور اس کے بعد ہمیں اس میں لایا گیا۔ ہو۔ سکتا ہے کہ ارباب جیل نے یہ اقدام محض انتظامی مشکلات کی وجہ سے کیا ہو۔ اس لئے سیاسی نظر بندوں کو باقی تمام قیدیوں سے لگ کر کھا جاتا ہے اور اُن کو ایک دوسرے سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا۔ لیکن ہمارے لئے سب سے پہلے مستقر کے طور پھانسی گھاٹ کے انتخاب میں تاریخ کی سی صدا یہ کہتی ہوئی صاف سنائی دے رہی تھی کہ’’ حق پرستی‘‘ اور ” طاغوت سے بغاوت” یہ تو وہ ہ “جرم” ہیں جن پر حق پرستوں کو مستحق “دار ” گردانا گیا ہے۔ یہ  اور بات ہے کہ تمہاری کمزوری اور ضعفِ ایمانی کو دیکھ کر رعایتاً قید و بند پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔ جیل میں قدم رکھنے ہی کے وقت سے مولا نا محمد علی میرے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور اب پھر ان کا یہ شعر ذہن میں تازہ ہو رہا ہے ۔

مستحق دار کو حکم نظر بندی ملا

کیا کہوں کیسے رہایئ ہوتے ہوتے رہ گئی

شاید قدرت ابھی ہمیں کچھ اور تربیت دینا چاہتی ہے ۔ اور فی الحال صرف یہ یاد دلانا چاہتی ہے ہے۔

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

پھانسی گھاٹ کی نئی دنیا اب ہماری توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ہم لوگ در و دیوار کو بغور دیکھ رہے ہیں لوگ جیٹ ایج (get age) کی شکایت کرتے ہیں۔ چند گھنٹے میں ریگستانوں سے لالہ زاروں میں، وحشی قبائل  سے متمدن علاقوں میں، گرم ترین ملکوں سے سرد ترین ملکوں میں انسان پہنچ جاتا ہے اور یہ انقلابی تبدیلی اتنی سرعت کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کا ذہن و جسم دونوں اپنے کو تیار نہیں کر پاتے ہیں۔ لیکن ہم جیٹ کے بغیر اپنے ہی شہر کی حدود میں ایک ایسے ہی تجربہ سے دو چار تھے۔ درمیان کے سارے  مراحل کو پھلانگ کر یونیورسٹی اور اپنے اپنے دفاتر سے سیدھے پھانسی گھاٹ کے احاطہ میں تھے۔ اب ہم ایک بڑے احاطہ میں تھے۔ اس کے داہنی سمت بالکل اخیر میں ایک لمبی پارک ہے جس میں اس کی تنگ کو ٹھڑیاں (یہاں کی زبان میں کھرلیاں) ہیں اور ان سب کے سامنے ایک مشترکہ یہ آمادہ ہے۔ ہر کوٹھڑی تقریباً ۱۰ /۸ فٹ کی تھی جس میں سلاخوں کا ایک بڑا آہنی دروازہ آویزاں ہے۔ ان در اندو ایں ایک لمبا اور موٹا سریہ بطو ر کنڈی کے استعمال  ہوتا ہے ؟ دیوار میں نصب ہے۔ دیوار ہی میں ایک طاق سی ہے جس میں تالہ پڑتا ہے تاکہ کو ٹھری میں سے تالے کو ہاتھ بھی نہ لگایا جاسکے۔ دروازہ میں صرف موٹی سلاخیں ہیں جس کی وجہ سے کوٹھڑی کی ظاہر ” باطن” بالکل ایک جیسا ہو گیا ہے، گو ان کو ٹھڑیوں کا فرش پختہ ہے لیکن پیشاب کی تہ اس طرح جمی ہوتی ہے۔ جیسے اس پر “وارنش ” کا باقاعدہ پینٹ کیا گیا ہو

بدبو کے بھبھکے اُٹھ رہے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کوٹھڑی کے ایک کونے میں ایک کھڈّا ہے اور اس کے آگے مٹی کا ایک کونڈا رکھا ہے۔ عام قیدیوں کو شام کے چھ بجے بند کر دیا جاتا ہے اور صبح سات بجے کھولا جاتا ہے، جبکہ جن کے لیے پھانسی کا اعلان ہو جائے وہ چوبیس گھنٹے اسی میں بند رہتے ہیں۔ صرف آدھا گھنٹہ صبح اور شام انہیں باہر نکالا جاتا ہے۔ باقی اوقات میں وہ اپنی ضروریات سے بھی یہیں فارغ ہوتے ہیں۔ایک کونے میں کھڈّا ہے تو دوسرے کونے میں مٹی کا ایک گھڑا رکھا ہے، جس میں پینے اور دوسرے ہر استعمال کے لیے پانی موجود ہے۔ نجاست اور طہارت کا یہ قرب اور اس قدر دوش بدوش ہونا شروع میں آدمی کو چکرا دیتا ہے۔

 بہار و خزاں  ہم آغوش است

زمانہ جام پرست و جنازه بر دوش است

 کمرہ کی چھت کافی بلند ہے۔ تقریبا ۲۰ فٹ اونچی۔ ہر دو کمرہ کے اوپر ایک بلب ہے جسے چھت کے ساتھ درمیانی دیوار میں تھوڑی سی جگہ خالی رکھ کہ لگایا گیا ہے۔ یہ بلب شاید ۲۰واٹ کا ہے یا اس سے کچھ کم چو نکہ خاصی بلندی پر لگا ہوا ہے اور پھر مکھیوں کی مسلسل’’ کرم فرما ئیوں ‘‘سے اس پر کالے نقطوں کی ایک تہہ جم گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی روشنی دس واٹ سے زیادہ کی نہیں رہی ہے۔ سوچتا  ہوں جس طرح کالے نقطے اس کی روشنی کو کھا گئے ہیں  اسی طرح گناہ اور بد عملی کے سیاہ نقطے بھی دل کی روشنی کو ماند کر دیتے ہوں گے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ پھر گناہ کے ساتھ یہ دھتے بڑھتے جاتے ہیں حتیٰ کہ دل سیاہ ہو جاتا ہے۔

ہم لوگ بر آمدہ کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں نے ابھی تک ظہر کی نماز ادا نہیں کی تھی۔ اس لئے فورا ًوضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا۔ گوہر صاحب کو اتنا وقت مل گیا تھا کہ اپنے گھر سے پہننے کے کپڑے، قرآن پاک اور جائے نماز کے لے آئیں۔ ان کی جائے نماز پر  برآمدہ کے ایک کو نہ میں مَیں نے نماز ظہر ادا کی۔

جیل کی پہلی نماز !

میں ان محرومین میں سے ہوں جن کی نماز میں کبھی وہ کیفیت پیدا نہ سکی جو ایک سچے مسلمان کی نماز میں ہونی چاہیے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امت کے دوسرے صلحاء کی  نمازنوں کی کیفیت کے بارے میں پڑھتا ہوں تو دل روتا ہے کے اس سعادت ولذت سے محروم رہا۔ حضرت شاہ اسماعیل کے بارے میں پڑھا تھا کہ جب سید احمد شہید سے ملے اور صحابہ کی نماز کے ہے میں پوچھا کہ وہ کیسی ہوتی تھی تو انھوں نے جواب دینے کے  بجائےکہا آؤ اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ شاہ اسماعیل شہید فرماتے ہیں کہ یہ دور رکعتیں ایسی تھیں کہ ساری عمر سید صاحب کا دامن  ہا تھ  سے نہیں چھوڑا۔ یہ ہماری بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ نہ خود اچھی  نماز پڑھ سکیں اور نہ ایسوں کے پیچھے ہی نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہو جس میں اس نمازہ کا پچاسواں حصہ ہی مل جائے۔ بس تمنا ہی کرتے رہے اور یہ احساس کانٹے کی طرح ہمیشہ چبھتا رہا  کہ کہیں ہماری خواہش اور طلب ہی میں کچھ کھوٹ یا کمی تو نہیں ہے جو اس لطف و سعادت سے محروم ہیں۔ بہر حال یہ تمنا ہی بہت پیاری اور قیمتی ہے اور کم از کم اس سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔ گو کے

وصالِ یار محض آرزو کی بات نہیں

میری زندگی میں صرف دو نماز یں ایسی ہیں جو عام بے کیفی اور محض ضابطہ کی نمازوں سے کچھ مختلف ہیں اور جن کی یاد سرمایہ حیات بنی ہوئی ہے۔ ایک جیل کی یہ نماز اور دوسری آج سے تقریباً آٹھ نو سال پہلے ۲۷ رمضان المبارکو  منعقدہ ایک شب بیداری کی نفل نما ز،  یہ جمعیت کے زمانہ کی بات ہے۔ ہم الگ مسجد خضرا میں اجتماعی شب بیداری کر ر ہے تھے۔ درس اور مطالعہ کے پروگرام کے بعد اکثر سا تھی سو جاتے تھے لیکن میرا یہ معمول رہا ہے کہ ایسے مواقع پر کبھی نہیں سوتا۔ یہی طریقہ میرے چند اور ساتھیوں کا بھی تھا۔ دو اور تین بجے کا درمیانی وقت تھا لوگ باہر نکلے تو آسمان پر خاص شرخی پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف روشنی تھی اور روشنی میں سنہری سرخی نمایاں تھی ۔ میں نے مرغوب محمد کو بلایا، پھر خورم آئے۔ غرض ہم جتنے ساتھی جاگ رہے تھے سب نے ہی اس کیفیت کو دیکھا اور یہ بات ہمارے دل میں اتر گئی کہ شبِ قدر ہے۔ پھر کیا تھا۔ بجلی کی لہر سی کو ند گئی۔ فورا ًوضو کیا اور نماز شروع کر دی۔ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ وہ شب قدر تھی یا نہیں۔وہ سْر خی  اور روشنی انوار ر بانی کا پر تو تھی یا کسی اور سبب سے پیدا ہوئی تھی لیکن وہ ایک نما ز لطف دے گئی اور آج بھی اس کی یاد میں ایک حلاوت محسوس کرتا ہوں۔

 اس کے بعد دوسری نمازہ جو عام نمازوں سے کچھ مختلف تھی، جیل کی یہ پہلی نماز تھی۔ گو اس میں جماعت سے محروم تھا ۔خا موشی سے اکیلے ایک تاریک کونے  ہیں ادا کر رہا تھا۔ لیکن کتنی مختلف تھی یہ نماز دل میں جو طوفان برپا تھا اس نے اپنے اظہار کے لئے اب راستہ نکال لیا تھا۔

لہو کی بوند مژ گاں سے جھڑی ہے

یہی گلزارِ دل کی پنکھڑی ہے

جس وقت دعا مانگ کر  اُٹھا تو ایسا معلوم ہو ا جیسے بہت بڑا بوجھ میرے کندھوں سے اتر گیا ہو۔ اور مَیں بالکل سبک بار ہو گیا ہوں۔

جیسے ایک امانت تھی جو میں نے اس کے حقدار کو پہنچا دی۔ میرا دل بہت ہلکا ہو گیا اور میری روح بہت مسرور اور تازہ ہو گئی۔ جیسے قوت کا ایک نیا  خزانہ میرے ہاتھ آگیا۔ لاشعورکے دھندلکوں سے یہ احساس ابھرا کہ یہ چند لمحات جو تھوڑا سا لطف دے گئے ہیں اس کی وجہ تمھاری کوئی کوشش یا خوبی نہیں،وہ ماحول و فضا ہے جس میں دعوت اسلامی کے موجودہ مرحملہ نے تم کو ڈال دیا ہے۔ اصلی نماز وہی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران ادا کی جائے۔ بزرگوں کی نمازیں پر کیف اس لئے تھیں کہ ان کی زندگیاں اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کی جدو جہد میں مصروف تھیں۔ ان کا ہر نفس جہاد میں مصروف تھا ۔ وہ قدم قدم پر اللہ کے لئے چوٹیں کھاتے تھے اور ان کی ہر نماز ایسی چوٹوں کے لئے مرہم کا کام کرتی  تھی۔

بارہا اس آیت کی تلاوت کی تھی۔ ” یا ایہا الذین آمنوا استعينوا بالصبر والصلوة” لیکن آج کی نماز میں انھیں آیات کی تلاوت نے کیا لطف دیا۔ صلوٰۃ سے پہلے صبر کے استعمال کی حکمت دل پر منکشف ہوئی۔ صبر گردن نیچی کر کے چپ ہو جانے کا نام نہیں۔ خاموشی سے ٹسوے بہانے کو صبر نہیں کہتے۔ صبر تو نام ہے حق کے لئے جدو جہد کرنے ، اس راہ میں زخم کھانے، چوٹیں سہنے ، مصائب برداشت کرنے، ثابت قدم رہنے اور سعی  و جہد کہ تیز تمہ کرنے کا۔ اہل ایمان کی قوت کا سر چشمہ نہ ہی نماز ہے تو ان حالات میں ادا کی جائے۔ اصل نمازہ تو وہی ہے جو تلوار کی چھاؤں میں رب کے حضور پیش کی جائے۔

امام احمد بن حنبل سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی یاد گار  نماز کون سی تھی ؟ فرمایا وہ جو اسحاق بن ابراہیم کے مکان پر ادا کی تھی۔ یہ وہ دن تھا جب روزہ کے عالم میں اور روزہ بھی ایسا کہ صرف پانی کے چند گھونٹ پی کر رکھ لیا تھا تو تازہ دم جلادوں نے پوری قوت سے کوڑے مارے، یہاں تک کہ پیٹھ زخموں سے چور ہو گئی اور تمام جسم خون سے رنگین ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ جب ہوش آیا تو چند آدمی پانی لاتے اور کہا کہ پی لو۔ لیکن میں نے انکار کیا کہ روزہ نہیں توڑ سکتا۔ وہاں سے مجھے کو اسحاق بن ابراہیم کے مکان میں لے گئے۔ ظہر کی نمازہ کا وقت آگیا تھا. ابن سماعہ نے امامت کی اور مین نے نماز پڑھی۔ یہ تھی مجاہد کی نمازہ ۔

 یوں عبادت ہو تو زاھد  ہیں عبادت کے مزے

 لیکن ہم جیسے لوگوں کے لئے تو بظاہر اس زمانہ کی خوشبو تک بھی رسائی ممکن نظر نہیں آتی۔ ایسی نمازادا کرنا تو دور رہا۔ اس پر اللہ کا شکر ہے کہ جیل کی یہ نماز کم از کم دل کو اطمینان دینے والی تھی۔ الحمد اللہ علی ذالک، یہ اس کی عنایت نہیں تو کیا ہے کہ صرف نیت اور خواہش ہی پہ اپنی نوازشوں کی بارش کرنے لگا۔ ور نہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ابھی حق کی راہ میں چوٹ کھائی ہی کب ہے ؟ جان کی بازی کھیلنا تو بڑی چیز ہے، ابھی تو ہماری نکسیر بھی نہیں پھوٹی اس کے باوجود یہ نماز مزہ دے گئی۔ اگر ابتدائی مرحلوں میں حالت یہ ہے تو پھر تلوار کی چھاؤں اور زخموں سے چوک حالت میں ادا کی جانے والی نمازہ کی کیفیت کیا ہوتی ہوگی۔

نماز کے بعد میں پھر بر آمدے کی سیڑھیوں پر آبیٹھا اور اب سارے درویشوں نے اپنی اپنی داستان سنائی۔ سب سے پہلے دفتر جماعت پر چھاپہ مارا گیا اور اس کو سر بمہر کر دیا گیا۔ گو یہ کاروائی ایسی اچانک ہوئی کہ ذاتی چیزیں اور چراغ راہ  کا سامان اور سارا ریکارڈ جو ابھی چند ہی دن پہلے لا کر ر کھا گیا تھا۔ سب دفتر کے ساتھ ہی سر بمہر کر دیا گیا۔

یہ کام جھٹ پٹ ساڑھے دس بجے تک ہو گیا۔ دفتر میں صرف شہاب الدین صاحب تھے۔ ان کو ہٹا  کر الگ کر دیا گیا اور سب کچھ سیل کر دیا گیا۔ اس کا روائی کی اطلاع صادق صاحب کو اپنے دفتر ہیں ہی ملی ۔ اس کے چند ہی منٹ بعد سی آئی ڈی کے لوگ ان کے دفتر پر پہنچ گئے اور غفور احمد صاحب کو گرفتاری کا وارنٹ پیش کیا۔ صادق صاحب تھوڑی دیر تو انتظار کر تے رہے کہ اب ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لیکن جب صیاد متوجہ نہ ہوا ان کو تشویش ہوئی اور آگے بڑھ کر خود ہی ان سے پوچھا ” بھٔی کیا ہمارا نام اس میں نہیں ہے ، انسپکڑان کو پہچانتا نہیں تھا۔ اس نے پوچھا ۔ آپ کا نام : جواب دیا “صادق حسین‘‘ بس وہ اچھل پڑا فوراً اس نے اپنے دوسرے ساتھی کو بلایا اور صادق صاحب سے کہا “جی ہاں ! آپ بھی تشریف لے چلیں۔ دراصل صادق صاحب نائب امیر آلہ اس کے باوجود سی آئی اے والوں میں زیادہ معروف انہیں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے سپرد جماعت کراچی کے اپنے کام رہے ہیں جو دفتر سے زیادہ متعلق نہ تھے اور اسی آئی اے والے چکرائے ہوئے تھے کہ یہ مولانا صاحب کون سے ہیں اور کہاں سے ان کو قابو میں کیا جائے۔ پھر جس جگہ صادق صاحب پہلے ملازم تھے، حال ہی میں وہاں سے ملازمت چھوڑ دی تھی اور اس نئی فرم کا پتہ بھی سی آئی الے والوں کے پاس نہ تھا۔ صادق صاحب نے خود ہی اپنا تعارف کرا کے بیچاروں کی مشکل آسان کردی ” شکار خود ہی جال میں آگیا تھا اور لطف یہ ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کو شکار سمجھ رہے تھے۔

صادق صاحب اور غفور احمد صاحب کو سنٹرل جیل روانہ کہ دیا گیا۔ جیل میں یہی حضرات سابقون الاولون میں سے تھے۔

اب تقریباً ساڑھے گیارہ بج گئے تھے۔ شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ اقبال صاحب اپنے مطلب میں تھے۔ ان کے پاس یکے بعد دیگرے دو ٹیلیفون آئے۔ ابھی ٹیلیفون کا رسیور رکھا ہی تھا کہ بر آمدہ سے بھاری قدموں کی آوانہ آئی۔ دو تین حضرات داخل ہوتے اور پوچھا کہ اقبال حسین صاحب ہیں ؟ ان کے عطار نے کہا جی ہاں اندر ہیں۔ وہ اسلام علیکم کہہ کر داخل ہوتے وارنٹ گرفتاری دکھایا۔ اقبال صاحب نے کہا چلئے بسم الله سلطان صاحب کو مطلع کیا اور شیر وانی پہن کر چل دیے۔

گوہر صاحب اپنے دفترمیں تھے۔ انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ سی آئی اے کے انسپکڑ نے کہا کہ آپ کی گرفتاری کا حکم ہے۔ انھوں نے کہا چلئے۔ وارنٹ گرفتاری اپنے بھانجے کودیا کہ دفتر جماعت پہنچا دینا تاکہ رفقاء کو اطلاع ہو جائے اور خود چل پڑے۔ ان کو یہ سہولت دی گئی کہ گھر سے کپڑے لے لیں لیکن بیچارے گوہر صاحب کی ناتجربہ کاری ملاحظہ ہو کہ پہننے کے کپڑے تولیے لیکن بستر وغیرہ کچھ نہ لیا۔ شاید ان کے ذہن میں گرفتاری مقدم جیل کی ایک خاص اصطلاح بلکہ منصب ہے۔ نہ قیدی جو اپنی اسیری کی ایک خاص مدت پوری کر سے اور  اس کا رویہ ٹھیک رہا ہوں۔ یہ منصب اس کے سپرد کیا جاتا ہے۔ یہ دو تہائی قید پوری کرنے کے بعد بنایا جاتا ہے، اور اس کو عام اصطلاح میں مقدم کہا جاتا ہے ۔ اسے لال ٹوپی ملتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے۔ جیل میں یہ بڑا اعزازہے جس کی تمنائیں کی جاتی ہیں۔ لال ٹوپی والا اپنی بارک کے باہر بھی جاسکتا ہے اور کوئی قیدی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا۔ ان کے سپر د دوسرے قیدیوں کی اور دن کے کام کی نگرانی بھی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کو تنخواہ  بھی ملتی ہے یعنی آٹھ آنے ماہوار ۔ لیکن اس پر آپ چو  نیکیں نہیں۔ یہ تنخواہ کوئی نہیں لیتا۔ اس کی جگہ ۲ آئے یومیہ کے حساب سے مدت قید کم کر لیتا ہے۔

 ہماری وجہ سے ہمارا مقدم بہت بے چین تھا۔ وہ جماعت سے واقف تھا اور دل میں ہمارے لئے بڑی محبت رکھتا تھا۔ لیکن بے چارے کا بس نہ چلتا تھا۔ اس کا دل چاہتا کہ ہمارے لئے کوئی سہولت حاصل کرے، کچھ خدمت کرے لیکن اپنی لال ٹوپی کے باوجود تھا قیدی۔ ہم خدا کا شکر ہے کہ دوسرے ہی عالم میں تھے۔ سیڑھیوں پر بیٹھے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے، اتنے میں عصر کی اذان ہو گئی۔ اذان کی آواز پیر الہی بخش کالونی کی جامع مسجد سے آرہی تھی۔ ہم سب ہی اچھل پڑے تھوڑی دیر کے لئے جیل سے نکل کر کالونی پہنچ گئے تھے ۔ لاؤڈاسپیکر کے نعمت ہونے کا شدید احساس ہوا۔ آزاد دنیا کی حي الى الصلوة کی آوازہ کتنا بڑا سرمایہ سکون تھی ۔ یہ آوازہ اس سارے عرصے ہماری مونس و غم خوار رہی ہے اور باہر کی دنیا سے دن میں پانچ مرتبہ ہمارا ربط استوار کرتی رہی ہے۔ ہمیں یاد دلاتی رہی کہ مسلمان جیل میں ہو یا باہر ، اس دنیا میں ہو یا اس دنیا میں نماز وہ رشتہ ہے جو سب کو جوڑے ہوئے ہے۔ جیل کے سارے  عرصہ اس اذان نے ہماری کی ہے اور خصوصیت سے صادق صاحب تو اپنی ہی مسجد کی اذان سے نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ ہمارے ڈی لکس تکیوں کی جو حالت تھی  اس پر ہم سے زیادہ ہمارا مقدم پریشان تھا۔ اس نے کہا کہ جی انھیں نیچے تو بچھا لیجئے  لیکن نماز کے لئے ذرا ٹھہریئے میں اپنی چادر  لے آؤں  ۔

 دہ اپنی صاف چادر لایا جس سے ایک کمبل پر بچھا کہ ہم نے نماز عصر ادا کی۔ صادق صاحب نے امامت کی ۔ نماز کے بعد ہم لوگ اس چادر پر بیٹھے گئے۔ ورنہ اب تک تو سیڑھیوں ہی پر بسیرا تھا۔ اب جو فکر ہم سب کو کھاتے جا رہی تھی وہ یہ تھی کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ دوسرے رفقاء کس حال میں ہیں، یورش کسی پہچانے پر رہی ہے۔ لوگوں کو ہراساں کرنے کے لئے اور کیا حد ہے استعمال کئے جاتے ہے ہیں۔ یہ گرفتاریوں کی پہلی قسط ہے یا اس وقت اپنی پر اکتفا کہ یہ ہے ہیں اور مقامات پہ کیا ہو رہتا ہے۔ ہم بالکل تاریکی میں تھے اور دل اپنے رفقاء میں پڑا ہوا تھا۔ باہر والوں کو غالباً ہماری  فکر ہو گی اور ہم ان کی پریشانی میں غلطاں و پیچاں۔

ہمیں یہ فکریہ ان کی انجمن کس حال میں ہوگی

انھیں یہ غم کہ ان سے چھٹ کے دیوانوں پہ کیا گزری

 غرض کہ دونوں طرف ہے آگ برابر  لگی ہوئی

ہم اس فکر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ تقریباً سوا پانچ بجے آواز پڑی۔ بھتہ لے لو۔ ہمارا مقدم ” دوڑا ہوا دروازہ پر گیا اور ہمارا کھانا لے آیا۔ دو  نیم جلی روٹیاں اور پتلی دال بہ مقدار کثیر یعنی دو ہاتھ بھر کر۔ ہم لوگ صبح سے بھو کے تھے جو  ناشتہ کر کے گھر سے چلے تھے، اس کے بعد اب کھانے کی شکل دیکھ رہے تھے۔ سب ہی کو ان کے دفاتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مگر دو پہر کے کھانے کی کسی نے فکر نہ کی، نہ پولیس کی اس کا خیالی آیا اور نہ جیل کے عملہ نے اس کی ضرورت محسوس کی اور ہمارے خود طلب کرنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔ اب جو دال روٹی ملی تو مزہ دے گئی۔ کیا کبھی تو رمہ میں وہ لطف آیا ہو گا جو اس وقت رقیق دال میں آرہا تھا۔ ہم کھانا کھا ہی رہے تھے کہ ہمارا مقدم آیا اور بڑی محبت لیکن تکلف اور ہچکچاہٹ کے ساتھ اس نے گڑ کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔’’ اگر گڑ کھا ئیں تو حاضر ہے‘‘اس نے بڑی شائستگی کے ساتھ کہا۔ صادق صاحب نے فوراًلے  لیا۔ ہاں بھئی ضرور کھا ئیں گے۔ ان الفاظ سے اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ وہ ہمیں گڑ دیتے ہوئے ہچکچا رہا تھا اور اس کی گھبرائی ہوئی پر شوق آنکھیں کہ رہی تھیں کہ “یہ آپ لوگوں کے لائق تو نہیں۔ لیکن میرے پاس بس یہی ہے ؟ جب ہم نے شوق سے اس تحفہ کو لے لیا تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس کی طرف سے یہ بڑا قیمتی تحفہ تھا۔ سارے دن میں بس یہی گڑ کا ایک ٹکڑا تھا  جو  اسے ملتا ہے۔ اس کو چائے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آج اس نے اپنی دن بھر کی یہ کمائی ہماری نذر کردی تھی۔ اس تحفہ کو ہم کبھی نہ بھول سکیں گے۔ ہم نے ابھی کھانا ختم بھی نہ کیا تھا کہ ایک سپاہی کچھ سامان لے کر آیا ۔ دورے (پی آئی  اے) کا ہرا بیگ قریب آیا تو معلوم ہوا کہ سامان ہے۔ ایک کمیل ایک چادر، ایک جوڑا کپڑا، نماز کی ٹوپی، تولیہ اور جائے نماز۔ ایک کارڈ کی پشت پر یہ سامان لکھا ہوا تھا۔ تکیہ کاٹ دیا گیا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دروازہ پر سے واپس کر دیا گیا۔ اس لئے کہ تکیہ رکھنے کی یہاں اجازت نہیں ہے۔ اس پہ بھائی خیر انیس میاں اور انوار بھائی کے دستخط تھے۔ تحریمہ بھائی خیر کی تھی. میں نے رسید دے دی اور انہیں کو لکھا کہ ہمت و صبر استقامت سے حالات کا مقابلہ کر ہیں۔ میرے گھرنہ پہنچنے پر انیس اور خالہ بی کو کیا کیا پریشانی نہ ہوتی ہو گی نہ معلوم کتنی مشکل اُٹھا نے اور د ھکے کھانے کے بعد یہ چیزیں ہمیں بھیج سکے ہیں۔ انیس کی پریشانی کا تصورہ ہی میرے لیئے سوہانِ روح ہے۔ لیکن اللہ کی راہ میں اسے برداشت کرنا بھی ہمارے لئے باعث رحمت ہے۔ پتہ نہیں وہ کارڈ ان کو واپس ملایا نہیں۔ یہ پہلی کمک تھی جو ہم کو ملی۔ اس سے کچھ امید بندھی  کہ شاید کچھ اور بھی آئے۔ لیکن یہ امید پوری نہ ہوئی ۔

ہم نے ابھی کھانا ختم کبھی نہ کیا تھا کہ آواز پڑی’’اندر جاؤ‘‘، لیجئے ڈربوں کے بند ہونے کا وقت آگیا۔ یہاں۶بجے تمام قیدیوں کو ان کے وارڈوں یا کوٹھریوں میں بند کر کے تالہ لگا دیا جاتا ہے اور پھر یہ تالہ صبح سات پونے سات بجے کھاتا ہے۔ رات کے لئے صرف اس تالے کو کافی نہیں سمجھا جاتا جو احاطہ پر ؛گا  ہوتا ہے، بلکہ ہر ہر کمرے اندر ہر ہر کھولی پہ تالہ ڈالا جاتا ہے۔

جہاں گیا میں گیا لے کے دام واں صیاد

پھرا تلاش میں میری کہاں کہاں صیاد

اب ہماری قید تنہائی  شروع ہو تی۔ اکیلے ہونے کا تو ہمیں اتنا قلق  نہ تھا لیکن جو چیز کھا ئی  جا رہی تھی کہ نمازبا جماعت سے محرومی تھی ۔ مغرب کا وقت بالکل آن پہنچا تھا۔ اندر ہم نے پہرے داروں سے کہا کہ صرف پانچ منٹ ہم کو جماعت سے فرض ادا کرنے میں لگیں گے۔ لیکن ان کی نگاہ میں اس فرض پر وہ فرض مقدم تھا۔ جس پر حکام جیل نے ان کو مامور کیا تھا۔ ان کی مجبوری یہ تھی کہ انٹریوں کو بند کرنے کے بعد ان کو چابیاں وقت مقررہ پر دفتر میں جمع کرا کے سیل کرانی ہوتی ہیں۔ سخت ناگواری اور کرب کے ساتھ ہم لوگ اپنی اپنی کھولیوں میں چلے گئے۔ پہلی کھولی میں اقبال صاحب تھے ان کے بعد علی الترتیب غفور صاحب میں، گو ہر صاحب اور صادق صاحب تھے۔ میں نے بند ہونے سے پہلے جلدی جلدی اپنے سامان کی ممکنہ چیزیں مختلف رفقاء کو دے دیں ۔ غفور صاحب تولیہ گوہر صاحب کو جیل والے کمبل ،صادق صاحب کو گرم چادر اس طرح مال غنیمت جو اس وقت بہت غنیمت   تھا ، تقسیم ہوا۔دروازہ بند کر دیا گیا اور تھوڑی دیر تک ہم میں سے ہر ایک سلاخوں سے لگا کھڑا رہا۔

ہم جس وقت اپنی اپنی کھولیوں میں داخل ہوئے، اس  وقت آذان شروع ہو گئی تھی۔ وہی کالونی کی جامع مسجد کی اذان جس میں موذن کی آمرانہ کا غیر معمولی لوچ اور زیر و بم ۔ جسے ہم نے بعد میں ’’لہرے ‘‘کا نام دے دیا تھا۔ خاص لطف دے رہا تھا۔ وضو ہم کر ہی چکے تھے۔ دروازہ سے ہٹ کر ہم نے نماز کی نیت باندھ لی اور جیل کی پوری دنیا سے کٹ کر اپنے رب کے حضور  کھرے ہو  گئے ۔ نمازکے بعد تلاوت شروع کر دی ۔ کھولی میں روشنی کی جو کیفیت تھی اس سے مفلس کا’’ چراغ‘‘یاد آرہا تھا  جو

؎شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے۔

اس روشنی میں پڑھنے کا بظاہر کوئی سوال نہ تھا۔ مصحف بھی میرے پاس نہ تھا۔ جو یاد تھا اسے پڑھنا شروع کر دیا اور ذرا بلند آواز سے پڑھا۔ تقریباً سب ساتھیوں نے یہی کیا۔ اب یہی آواز یں دوسروں کی موجودگی کا پتہ دے  رہی تھیں اور تنہائی کی گراں باری کو کچھ کم کر ر ہی تھیں۔

ذرہ ذرہ ظالمِ محسوص کا خاموش ہے

یاد گرم سخن، محفل سراپا گوش ہے

جتنا قرآن یاد تھا وہ آدھ گھنٹے سے بھی کچھ پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اپنے اوپر سخت غصہ آیا کہ اتنا بھی یاد نہیں کہ چند گھنٹہ تو رب کے ساتھ بسر ہو سکیں۔ پھر انہی  حصوں کو دہرانے لگا۔ خصوصیت سے سورہ بقرہ کا آخری رکوع تو بار بار پڑ ھا اور بالکل حسب حال پایا۔ عشاء کی اذان تک یہی سلسلہ چلتا رہا کبھی کبھی ایک دوسرے کو آواز دے لیتے اور پھر اپنی دنیا میں ڈوب جاتے۔ عشاء اول وقت میں پڑھی اس لئے کہ وضو سلامت تھا اور پیشاب کے اس عشر میں وضو کرنے کے تصور  ہی سے بدن میں کپکپی آتی تھی ۔عشاء کے بعدر پھر تلاوت کر تے رہے۔ گو ہر صاحب نے خوش الحانی کے ساتھ اقبال کے کچھ اشعار پڑھے ۔بوڑھے بلوں کی نصیحت کو کئی بار پڑھا۔ لیکن پھر وہی خاموشی۔ ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ اپنے پاس گھڑیاں ہونے کے باوجود ہم لوگ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک  دوسرے سے سے وقت پوچھ لیتے تھے ۔

آنکھیں اب روشی کے اس تاریک سائے کی کچھ کچھ عا دی ہو چلی تھیں۔ اس وقت اپنی کیفیت کچھ عجیب سی تھی۔ ان حالات کا مجھے پر ایک رد عمل یہ تھا کہ میں اپنے معمولات کو ان سے متاثر نہ ہونے دوں گا۔ مقابلہ کرنے کے لئے ایک نا معلوم طاقت نے میرے اندر جنم لے لیا تھا اور اس کے داعیہ پر میں نے اپنا بیگ کھولا اور نہ ایک پمفلٹ نکالا اور اسے پڑھنے کی کوشش کی۔ آنکھوں پر بوجھ  تو کافی پڑا۔ لیکن ۲۶ صفحے کا یہ پمفلٹ ختم کر ہی لیا۔ گھڑی دیکھی تو ابھی تو نو ہی بچے تھے. کئی ماہ سے اجمل کا مضمون میرے بیگ میں پڑا تھا۔ قلم نکال کم اس کی تصحیح شروع کر دی۔ ساڑھے دس بجے اس ۱۸ صفحہ کے مضمون کو درست کیا۔ اب آنکھیں با لکل تھک چکی تھیں اور تقریبا ًجواب دے چکی تھیں۔ سردی بڑھ رہی تھی۔ باہر سناٹا طاری تھا۔ رات با لکل اندھیری تھی اور باہر بر آمد سے اور احاطے میں روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ دور باہر کی دیوار پر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد سرچ لائٹ پڑھتی تھی اور کچھ کچھ وقفہ کے بعد وارڈر کی آواز آرہی تھی ، باقی موت کا سا سکوت طاری تھا۔

کچھ عرصے کی بات ہے، اسمگلنگ پر ایک مضمون شاید ڈائجسٹ میں پڑھا تھا۔ اس میں جیل کے لئے اسمگلرز کا کوڈ ورڈ ’’ قبرستان‘‘ بتایا گیا تھا۔ سخن فہمی کی داد دینی پڑتی ہے۔ باقی ساتھی بھی غالباًتھک کر خاموش ہو چکے تھے۔ ہر شخص سونے کی کوشش کر رہا تھا ۔ مگر نیند کہاں ۔ ع

نکل گئی ہے وہ کوسوں دیار حرماں سے

 سردی خاص تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔ کراچی کا موسم ہزار معتدل سہی لیکن جنوری میں جب ٹھنڈی لہر آتی ہے تو نام پوچھ لیتی ہے۔ کھولی میں کوئی کو نہ ایسا نہ تھا جہاں ہوا کا فرنٹا نہ پہنچ رہا ہو۔ سردی کے مقابلہ کا سامان بھی ہمارے پاس نہ ہونے کے برا ہر تھا۔ مجبوراً اپنا کوٹ پہنا اور باقی ساتھیوں نے بھی اپنی اپنی شیروانی کو اوڑھنے کی ناکام کوشش کے بعد اس کو پہن ہی لیا۔ دروازہ اتنا چوڑا اور صرف صریوں کا تھا۔ ہو ا بالکل .. سامنے سے آرہی تھی اور سمجھے ہیں نہیں آرہا تھا  ۔

کھاؤں کہاں کی چوٹ تو روکوں کہاں کی چوٹ

جس وقت ہم کو ٹھری میں داخل ہوئے۔ اس وقت وہاں مچھروں کا  ازدھہام تھا۔ ایک ایک کھولی میں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ دیوار پر تو بالکل ’’ٹارچ  پاسٹ ” کا منظر تھا اور پھر مچھر بھی ایسے کہ زندگی بھر اس قدوقامت کے کبھی نہ دیکھے تھے۔ ان میں سے ایک ایک ایسا جفا دری کہ گاماں نہیں جیئے ۔ انھیں دیکھ کر نمائش کا وہ لکڑی کا مچھر بھی چھوٹا نظر آرہا تھا۔ جو ڈی ڈی ٹی کے اسٹال پر بنا ہوا تھا۔ مچھروں کے سر پر جیٹ معلوم ہوتے تھے۔ پھانسی گھاٹ کی مناسبت سے اس تن و توش کے مچھروں کو دیکھ کر فوراً ذہن اس طرف گیا کہ ان کے بعد پھر پھانسی کی ضرورت کب پڑتی ہو گی۔ کام تو یہی تمام کر دیتے ہوں گے خونی مجرموں کے لئے مچھر بھی ان کی ٹکر ہی کے تھے۔ دیکھتے ان مچھروں کے ساتھ رات کیسے کٹے لیکن ہم اس سے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی جب ہمارے اندر آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد مچھروں نے انخلا شروع کر دیا۔ یا تو یہ مچھر بہت ہی حساس دل رکھتے تھے یا ہمارے خون میں ان کو جرم کے وہ جراثیم نہ ملے جو خونی مجرموں میں ملتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھولی خالی کر گئے۔ چند باغی قسم کے آوارہ منش (ٹی ڈی) مچھر رہ گئے تھے جو کبھی اپنا جاز ( JAZZ ) میوزک ہم کو سناتے ہوئے تیزی سے ہمارے پاس سے نکل جاتے  اور  کبھی کبھی کچھ چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے۔ سواد اعظم کی ہجرت نے کم از کم اس محاذ پہ ہمیں شدید مقابلہ کی زحمت سے بچا لیا۔ کیا پھانسی گھاٹ کے یہ مچھر ان حضرات سے زیادہ باشعورہ اور سمجھدار تھے جنھوں نے ہم کو زندان کی ان تاریک کوٹھریوں میں بھیجا تھا۔ کیا وہ اتفاقی طور پر چلے گئے یا اپنے عمل سے انسانوں پر لطیف طنز کر رہے تھے کہ دیکھو تم جیسے اشرف المخلوقات سے تو ہم جیسے حقیر اور ملعون مچھر ہی اچھے ہیں کہ انسان انسان میں تمیز کر لیتے ہیں۔

سردیوں کی رات اور اس پر تنہائی اور یہ فضا ،میں بار  بار گھڑی دیکھتا تھا۔ لیکن آج اس نے سست رفتاری کا ریکارڈ قائم کر دیا تھا۔ میں اپنے اندازہ کے مطابق آدھ گھنٹے کے بعد گھڑی دیکھتا تھا، اور وہاں معلوم ہوتا تھا کہ ابھی دس منٹ بھی نہیں ہوئے ہیں۔ نظریہ اضافیت کے جو عقدے کتابوں کے مطالعہ سے حل نہ ہوئے تھے وہ آج رات حل ہوتے نظر آرہے تھے۔ بالآخر میں نے سونے کی نیت کی ۔ گیارہ بجے تھے۔ میرے سونے کے شیڈولڈ و قت میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ لیکن وقت کی اس اکتا دینے والی سستی کا کچھ تو مداد اکرنا تھا۔ میرے پاس ایک کھیل تھا۔ اپنا جیل والا کمبل تو میں گو ہر صاحب کو دے چکا تھا۔ اس لئے نیچے صرف تپڑی اور چادر تھی۔ کئی گھنٹے بیٹھے رہنے کی وجہ سے ٹانگیں جواب دے گئی تھیں۔ پھر زمین کی ٹھنڈک مجھ سے راز و نیاز کا سلسلہ قائم کر چکی تھی۔ تکیہ کا مسئلہ خاصہ پیچیدہ تھا۔ میں بچپن ہی سے تکیے کا عادی۔ وہ بھی ایک نہیں بلکہ دو دو پہلے ہاتھ رکھنے کی کوشش کی لیکن دس منٹ بھی کام نہ چلا ۔ دوسرا ہاتھ بدلا۔ لیکن وہی معاملہ۔ اس نے بھی جلدجو اب دے دیا۔ پھر اپنے ہینڈ بیگ کو سر کے نیچے رکھا اور خلاف عادت چت لیٹ گیا۔

کمر لگاتے ہی ذہن گھر کی طرف منتقل ہو گیا۔ ایسے تو انہیں کا خیال ایک لمحہ کے لئے بھی نہ ہٹا تھا۔ لیکن میں دوسری مشغولتیں پیدا کر کر کے ذہن کو ان کی طرف لگا رہا تھا۔ لیکن اب انیس کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا اور میں اس سے سرگوشیاں کہ رہا تھا۔ بخدا س کے مجھے پر بے شمار احسانات ہیں۔ لیکن اسلام کی نعمت اور تحریک اسلامی سے وابستگی کی سعادت کے بعد اس کا سب سے بڑا انعام میرا بھائی ہے ۔ انسان کو سب کچھ مل سکتا ہے لیکن سچی محبت ملنا محال ہے اور پھر انیس تو فی الحقیقت ہمارا سب سے بڑا مونس ہے۔ والدہ کے انتقال کے بعد تو میری ساری محبتوں کا مرکز میرا چھوٹا بھائی ہی ہے اور اس کی ساری توجہات کا مرکز میں، میرے انیس کا اس وقت کیا حال ہو گا۔ آج جب وہ ہمارے کمرے میں اکیلا لیٹا ہو گا تو کتنا پریشان اور ہراساں ہو گا۔ لیکن پھر دل نے ایک سہارے کو تھام لیا۔ میرا بھائی بھی الحمد اللہ زندگی کے انھیں مقاصد کے لئے سرگرم عمل ہے جن سے میرے رب نے مجھے متعلق ہونے کا شرف بخشا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اعلیٰ مقاصد کے لئے بیشتر قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ کوئی تحریک قربانیوں کے بغیر پروان نہیں چڑھتی۔ ایمان کے دعوے کے ساتھ ہی آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مجھے یہاں آزمایا جارہا ہے اور میرے بھائی کو وہاں ہم دونوں ہی آزمائش پر ہیں اور جس طرح حق کے سلسلہ میں ہماری شانہ بشانہ جدو جہد عبادت تھی اس طرح حق کی ہی خاطر ہماری جدائی بھی عین عبادت ہے۔ فطری پریشانی اس کو ضرور ہو گی۔ لیکن انشاء اللہ وہ کوئی کمزوری نہیں دکھائے گا۔ اب میرا ذہن خود اپنی زندگی پر مرکوزہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کے سارے واقعات ذہن میں تازہ ہونے لگتے ہیں۔ کس طرح طالب علمی کے زمانہ میں عام ڈگر پر چل پڑے۔ پھر کس طرح خدا کے احکامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ تحریک اسلامی سے واقفیت ہوئی۔ اس میں شرکت ہوئی۔ زندگی کا رخ بدلا۔ اقدار کا پیمانہ تبدیل ہوا اور بالکل ایک نیا دور شروع ہو گیا جس کا ایک ادنیٰ مرحلہ جیل کی یہ کوٹھڑی بھی ہے۔ خیالات اس طرح آواره و پریشان رہے۔ کبھی گھر کبھی جیل کبھی دوسرے رفقاء ، کبھی پاس کی کھولیوں والے کبھی اور ملک کے گوشے گوشے کے جیلوں میں بند بھی اور جیل کے باہر والے بھی۔ سردی کی کوئی تیز لہر کبھی خیالات کے سلسلے کو توڑ دیتی تھی۔ وارڈر کی پکار کبھی کبھی چونکا دیتی تھی۔ کسی مچھر کی چھیڑ چھاڑ کبھی کبھی ہاتھ ہلانے پر مجبور کرتی تھی لیکن ان دخل اندازیوں کے باوجود د دل و دماغ اس دنیا سے رشتہ استوار کرنے میں مصروف تھے جس سے ہمیں کاٹ دیا گیا تھا۔

 قید میں تھی تیرے وحشی کو اسزلف کی یاد

ناں کچھ اک لطف گرانباری زنجیر بھی تھا۔

میں انھیں خیالات میں گم تھا کہ نیند نے مجھ کو آلیا۔ سونے والے تو پھانسی کے تختے پر بھی سو جاتے ہیں۔ یہ صرف پھانسی کو ٹھڑی ہی تھی۔ البتہ ہر دس پندرہ منٹ پر آنکھ کھل جاتی اور میں پھر کروٹ لے کر لیٹ نے کی کوشش کرتا۔ نیند اور بیداری کا یہ سلسلہ رات کے ڈیرہ دو بجے تک چلا اور تب پھر یہ سردی اتنی بڑھ چکی تھی کہ نیند نا ممکن ہو گئی۔ پانچ کا ہندسہ بنا کر ہر طرف سے کمبل کو لپیٹنے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ کمبل خاصا پرانا تھا اس لئے سردی کی مدافعت کچھ و اجبی سی بھی نہ کر سکا. میرے پاس سو ئیٹر بھی تھا۔ صبح تک عجیب کیفیت رہی۔ نئی جگہ ، ٹھنڈی زمین، بڑھتی ہوئی سردی، بدبو کی شدت،بے سرو سامانی ،بلند دیواریں، آہنی سلاخیں اور اس پر تنہائی شاید غالب کو بھی ایسے ہی حالات سے سابقہ پڑا ہو گا جو انھوں نے کہا

کاوے کاوے سخت جانی ہا ئے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر

میری حالت تو پھر بھی کچھ بہتر تھی۔ لیکن میرے رفقاء اس سے بھی زیادہ سخت حالت سے دو چار تھے۔ میرے پاس کم از کم ایک کمبل تو تھا۔ وہ تو اس نعمت سے بھی محروم تھے اور سردی تھی کہ زیادہ سے زیادہ شوخ اندازمیں مزاج پوچھ رہی تھی۔ سب نے اپنی … اپنی شیر وانیاں پہن رکھی تھیں اور ہرشخص جیل کے کمبلوں سے اپنے کو ڈھانپنے کی کوشش میں سردی کو کچھ اور بھی اٹکھیلیاں کرنے کا مو قع دے رہا تھا۔

کسی کی شبِ وصل سوتے کٹے

کسی کی شب ہجر روتے کٹے

 ہماری یہ شب کیسی شب ہے کہ یا رب

نہ سوتے کٹے اور نہ روتے کٹے

یہاں ہر چار گھنٹے کے بعد پہرہ پر متعین وارڈر  کی ڈیوٹی بدلتی ہے اور ہر نئے آنے والے وار ڈر کو اس غیر ذی ذرع  وادی کے ایک دم  اس درجہ آباد ہو جانے پر تعجب ہوتا ۔ ایک دو نہیں، پوری پانچ  کھولیاں اس بنجر زمین پر ایسی مصلے خوبصورت  داڑھیاں اور مرعوب کْن شیروانیان ، وہ قریب آکر دیکھتا۔ ایک ایک کھولی میں جھانکتا تو یہاں کچھ ذی حیثیت قسم کے شریف سے مولبی نظر آتے شیروانیاں ان کی شرافت کا پتہ دیتیں چہرہ مہرہ سے ان کا ذی حیثیت ہونا ظاہر ہوتاداڑھیاں  ان کی مولویت کا نشان تھیں۔ پھر ان کھو لیوں ہیں غیر جیلی لباس میں یہ کون سی مخلوق ہے۔ کسی وار ڈر سے صبر نہ ہوتا۔ یہ تو اس کو یقین نہ آتا کہ یہ پھانسی والے قیدی ہیں۔ اس لباس میں وہ یہاں کہاں، پہلے وہ ایک چکر لگاتا پھر بالآ خر پوچھ ہی  ڈالتا جای تسی کو ن ہو۔ تسی کیسے آئے سب سے پہلے سوالات اقبال صاحب سے ہوتے کہ پہلی کھولی انہی کی تھی وہ یونہی مختصر سا جواب دے دیتے ۔مفصل  جواب گو ہر صاحب دیتے اس لئے کہ وہی ہم میں سے پنجابی بول سکتے ہیں۔ وہ جماعت کے بارے میں اپنی گرفتاریاں اور اپنے اصل جرم کے بارے میں مطلع کرتے اور وہ خاموش ہو جاتا۔ جیسے کہ رہا ہوں۔ بابو جی اس دیس کا دستور ہی یہ ہے۔ تم نے  جرم  ہی ایسا کیا ہے۔

ایک نے کیمبل پور کی زبان میں اقبال صاحب سے پوچھا ” تم باہر کی دنیا میں کہاں رہتے ہو لیکن ہمارے اقبال صاحب کے پلے کچھ پڑا ہی نہیں اور وہ کیا کیا ہی کرتے رہ گئے صبح کے قریب ایک نے کہا بابو جی تسی تو ساری رات جگتے ہی رہے۔ ایہہ جگہ ہے ہی ایسی تسی تو سیاسی ہو ۔ سیفٹی والے۔ اس کھولی میں تو بڑے بڑے مجرموں کو دورات نیند  نہیں آتی ۔ میں نے دل میں کہا  بہ جرم  تو ہم  بھی کوئی چھوٹے نہیں ہیں ۔ چوری یا قتل تو پھر بھی آسان کام ہیں۔ مشکل کام تو سلطان  جابر  کے سانے کلمہ حق کا اظہار ہی ہے۔ جبھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل الجہاد کلمۂ حق عند السلطان الجابر  ۔سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق کا اظہار جہاد کی افضل ترین شکل ہے ۔

ڈیڑھ بجے کے بعد جب نیند با لکل ہی غائب ہو گئی تو میں دوبارہ اٹھ بیٹھا۔ تھوڑی دیر کے بعد خدا پر بھروسہ کر کے وضو کی نیت کی اپنی حالت پر غور کرتا ہوں تو شرم آتی ہے۔ چلے ہیں ہم جہاد حق کرنے اور حال یہ ہے کہ مچھر دانی لگی ہوئی نرم نرم گدوں  والی مسہریوں پر سوتے ہیں ۔سردیوں میں ۲۴ گھنٹے گرم پانی سے وضو کرتے ہیں ۔ سوئٹر اور گرم کپڑوں کے بغیر دو قدم نہیں چل سکتے۔ اس وقت ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکوں میں شکے کے ٹھنڈ سے پانی سے وضو کرنا تھا۔ بدن میں جھر جھری سی آگئی پھر استعمال کرنا تھا وہ کونڈا جس سے پیشاب کے بھبکے اٹھ رہے تھے ۔ اور جن کی بد بو نے پوری کو ٹھڑی کو متعین کر رکھا تھا ۔ ہما ر سے مقدم نے ہمارے بند کئے جانے سے بیشتر بہتری کوشش کی کہ ہمیں وضو کے لئے الگ پاک کو نڈ سے مل جائیں لیکن کوئی شنوائی نہ ہو ئی ۔ خدا کا نام لے کر اٹھا اور اس کو نڈے کو استعمال کیا۔ اس لئے کہ یہ کو ٹھریاں کچھ اس طرح بنی ہوئی ہیں کہ کسی اور جگہ پانی نہیں گرایا جا سکتا تھا۔ اگر ذرا ذرا سا بھی پانی گرتا تو وہ پوری کوٹھڑی ہیں پھیل جاتا۔ اور بیٹھنے کی جگہ باقی نہ ر ہتی ۔یہ اس میں کوئی حوزی نہ تھی اور پانی دروازہ کی سمت میں بہتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ پوری کوٹھڑی میں پیشاب کی بو بسی ہوئی تھی۔ کسی بھی جگہ کوئی رقیق شے  گرے وہ پوری کوٹھری سیراب کر دیتی تھی ۔ اس لئے کو نڈا ہی استعمال کیا لیکن ہوا کہ کھلی سے چھینٹوں کے باہر آنے کا احتمال تھا اس لئے دل پر جبر کر کے دیوار پر کلی کی ۔ وضو کر کے نماز کے لئے کھڑا ہوگیا۔ یہ نماز بھی زندگی بھر یا درہے گی۔

یوں تو اے صیاد آزادی میں ہیں  لاکھوں مزے

دام کے نیچے تڑپنے کا تماشا اور ہے

 ہم نے اپنے وارڈر سے کہا کہ اب فجر کی نماز  تو باجماعت پڑھ لینے دو اس نے کہا کہ جب تک چابی نہ آئے ہم مجبور ہیں۔ آخر وقت تک چابی کا انتظارہ کیا لیکن اسے نہ آنا تھا اور نہ آئی ۔ بالآخر اسی پانی سے اس کو نڈ ے پر دوبارہ وضو کر کے فجر بھی ادا کرلی۔  اللہ تعالی سے دعا کی کہ کم از کم اب ہم جماعت کی نماز سے محروم نہ رہیں۔ کوئی سبیل ایسی پیدا کر دے کہ نماز با جماعت ادا کرلیا کریں۔ باقی جو کچھ بھی ہو۔

سات بجے قفس کا دروازہ کھلا اور ہم سب اس طرح فوراً اس سے باہر نکلے جیسے صبح کے وقت مرغیوں کا ڈر بہ  کھلتے ہی مرغیاں ایک دم ہا ہر بھا گتی ہیں۔ شاید قفس چیز ہی ایسی ہے ، اس وقت بھی سردی خاصی تھی۔ رات بھر ایک دوسرے کی صورت کو ترستے رہے تھے۔ سب ایک ہی کو ٹھڑی ہیں جمع ہو گئے گو ہر صاحب کی کھولی میں اور ہو گئی شور ملی شروع۔

گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی

یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

اس نئی زندگی کا پہلادن بیت چکا تھا۔ ہم ایک دوسرے سے رات کا حال پوچھ رہے تھے ۔ حالانکہ  رات کی پوری رو داد ہر ایک کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی۔

جلد ہی رات کی بات کو ہم بھول سے گئے۔ سب کے مل بیٹھنے سے جو خوشی اور سکون حاصل ہوا تھا نا قابل بیان ہے صادق صاحب گو عمر  میں ہم سب سے بڑے ہیں۔ اقبال صاحب  گوہر صاحب غفور  صاحب تینوں ہی ان سے بڑے ہیں۔ لیکن بزرگی عمر سے نہیںکسی اور  ہی چیز سے ہوتی ہے ہم سب ان کے گرد جمع  تھے۔ اور وہ ہمیں  اس  طرح محبت سے لئے بیٹھے تھے جیسے مرغی  اپنے بچوں کو پروں کے نیچے لیے کہ محفوظ و مامون کر لیتی ہے۔ اس وقت  تو ہمارے پر وہی ہیں۔ ہم لوگ اچھی اچھی باتیں کر دیتے رہے اور دعا کرتے ہے کہ خدا وندا تو ہمیں قلب شاکر اعر لسانِ ذاکر عطا فرمااور یر حالا ت  میں ثابت قدم رکھا۔

تقریباً نوبجے  چائے آئی ہم لوگ فوراً کلی کرنے اور دانت مانجھنے کے لئے بھاگے اور پھر  گوہر صاحب ہی کے کمرے میں میرے  تولیےکے دستر خوان پر ناشتہ کے لئے بیٹھے گئے۔ ہر شخص کو آدھی تندوری روٹی  رات کی بچی ہوئی اور ایک ڈبو میں گڑ سے تیار کیا ہوا سیاہی مائل رقیق  جسے یہاں چائے کہا جاتا ہےملی  لیکن یہ رائے تھی گرم۔ رات بھر کیجاگ  اور سرو خوری کےبعد  یہ چائے  ایک نعمت غیر مترقبہ  کا مزہ دے رہی تھی۔ سب اپنے اپنے ڈار میں ڈبو کر کھانے لگے۔ گْر  کی چائے پینے کا پہلا اتفاق تھا۔ زندگی کے کئی  پہلو ابھی تک ہماری نگاہوں سے اوجھل تھے۔ اور ان کا دیکھنا کتنا ضروری تھا خدا کے ہر کام میں جومصلحتیں  پوشیدہ ہیں ان کا اندازہ بھی  انسان کے لئے ممکن نہیں۔جب تک چائے پی تھی اس وقت تک تو ا خبار کا فراق گوارا ہو سکتا تھا لیکن چائے کے بعد بے چینی ناقابل برداشت ہے

اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یا د

دل باہر کی دنیا میں پڑا ہوا تھا۔ گو اب جو کچھ زندان کے باہر ہورہا تھا اس کے بارے میں ہم مکلف رہے تھے اور قانونی طور پر ہماری ذمہ داریاں ختم ہوچکی تھیں لیکن اتنے سپک سر ہونے کے باوجود ہماری سر گردانی ریال پوش بنی ہوئی تھی ۔

گرواں نہیں یہ واں کے  نکالے ہوئے ہیں

کعبہ  سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

باہر  کیا ہو رہا ہے کون کون گر گر فتار کیا گیا ۔ رفقأ  کا کن حالات سے سامنا ہے ، پوچھ جچھ کس پیمانے پر ہو رہی ہے ، ہراساں کرنے کے لئے کیا  حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ملک میں اس اقدام کا رد عمل کیا رہا ، قوم نے  اس سانح کو کس طرح لیا ۔ ممالک غیر میں اس اقدام نے کیا تاثر پیدا کیا۔ ہم انکا مہر کی میں تھے ۔ ایک دن اخبار نہ ملنے اور ساری دنیا سے کٹ جانے سےکیا کیفیت  ہو گئی تھی۔ جیسے ہم  افریقہ کے کسی دور دراز جنگل میں محصور ہوں۔جہاں نا باہر کی ہوائیں پہنچ پاتی ہوں اور نہ اس سورج کی کرنہیں  جو سب پر مہربان ہے ، جیسے ہم برسوں پیچھے کی دنیا میں ہوں ۔ بالکل آؤٹ آف ڈیٹ :

یک لخط  غافل بود و صد صالہ داہم دور شدہ

ہماری بے چینی برابر بڑھ رہی تھی اور جیل ہی کی در و دیوار کو اور باہر سے آنے والی ہواؤں ہی کو مخاطب کر کے زبان حال سے پوچھ رہے تھے

غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی

روانہ اٹھے گیا، آخر کو ویرانے پر کیا گزری

بالآخر ہم نے طے کیا کہ سپر نٹنڈنٹ صاحب سے انٹرویو میں جیل کےحالا ت معلوم کریں۔ اپنے کپڑے اور بستر سے منگوانے کا انتظام کرائیں اپنا پروگرام ہم نے مقدم کو بھیج  کر حوالدار کو بلوایا تاکہ آگے جانے کی عجازات  حاصل کریں، لیکن ہماری آواز نقار خانہ میں طوطی  کی آواز تھی۔ کوشش کے باوجود ہم ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکے۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کے ’ہن کی کریے‘ ایک جیلر صاحب تشریف لائے۔ تقریباً ساڑھے دس بجے ہوں گے اور یہ مژدہ جانفزا سنا یا کہ ابھی لاہور سے ٹیلیفون پر اطلاع آئی ہے۔ کہ آپ حضرات کو بی  کلاس دے دی جائے ہم نے ان سے سپر نٹنڈنٹ صاحب سے ملاقات کے لئے کہا تو فرمایا اب کسی سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کو ہم دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں، آپ وہاں چلے جائیں پھردیکھئے گا کہ آپ کی ضرورت کیا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہما را سب سے بڑا  مسٔلہ نماز با جماعت ہے اس کے لئے آپ کیا کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو ایک ہی کمرہ میں رکھ رہے ہیں۔ رات کو کمرہ سے باہر تو آپ نہیں جاسکیں گے لیکن کمرہ کے اندر سب ساتھ ہوں گے اور نماز با جماعت پڑھ سکیں گے ہم نے دل میں کہا ہمیں یہی چاہیئے۔ تا لے آپ جتنے چاہیں لگالیں یہاں چار تالوں  میں بند ہیں وہاں ایک پانچوا ںاور سہی لیکن اتنی جگہ تو مل جائے کہ ساتھ ر ہیں اور ساتھ نماز پڑھ لیں۔

ہمارے ملک میں  جیل  کا نظام بھی عجیب ہے ۔یہاں سی کلاس کے قیدیوں کو تو تصور ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ بلا مبالغہ ان قیدیوں کی نسبت چڑیا گھروں میں جانوروں کی دیکھ بھال اور آرام و آسائش کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ جب سوچتا ہوں کہ سردی کے زمانہ ہیں ایک پھٹے ہوئے بوسیدہ  کمبل  اور ایک کھدر کی چادر میں گھنے جنگلوں میں سینکڑوں انسان کیسے رات گزارتے ہیں تو روح میں کپکپی سی دوڑ جاتی ہے افسوس ہے کہ جو ضابطے آج سے سو سال پہلے ایک ظالم سامراجی حکومت نے اپنے غلاموں کی کمر توڑنے کے لئے تیار کئے تھے ہم آج بھی انہی کو نافز کئے جار ہے ہیں اور مکھی  پر مکھی مار سے چلے جارہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کی کوئی کرن جیل کی سنگین و آہنی دیواروں کا سینہ چیر کر اندر داخل نہیں ہو سکی ۔

وہی ہے ظلمت کا سا عالم ، وہی اندھیرا ہے چشم تر میں

وہی ہے سحر میں  اے دل ، جو زندگی تھی سحر سے پہلے

یہ ٹھیک ہے کہ ارباب جیل کو با لعموم عادی مجرموں سے سابقہ پیش آتا ہے اور کبھی کبھی تو بڑے  سخت،پختہ اور خطرنا ک مجرموں سے بھی معاملہ کر نا پڑتا ہے ، لیکن بہر حال ہیں تو سب انسان اور ان کی اکثریت ایسی خونخوار نہیں ہے نہ سارے انتظامات میں، یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ کم سے کم انسانی ضروریات تو پوری کی جائیں اور معاملہ جانوروں کی طرح نہیں انسانوں کی طرح کیا جائے۔ بلکہ وہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ یہ گم کردہ راء انسان بھی جرم میں مبتلہ ناہونے پائیں ، انہی کی اصلاح کی کو شش کی جائے ان کے اچھے احساسات کو بیدار کیا جا سکے اور قرآن پاک کے اس اصول پر محاطہ کیا جائے کہ ’’بےشک اچھائیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔‘‘

تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہمیں چلنے کا حکم ہو گیا ہمارا مقدم بہت افسردہ ہے، چند ہی گھنٹوں میں وہ ہم سے بہت مانوس ہو گیا تھا۔ ماہرا رت والا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جماعت سے کچھ نہ کچھ ضرور واقف ہے ۔ہمارے پوچھنے پر کافی ہچکچا یا اور بس  اتنا کہا کہ اس کے بہنوئی جماعت سے متاثر ہیں۔ یہاں وہ بڑی محبت سے ہماری خدمت  کرتا رہا ہے۔ جو کچھ اس کے بس  میں تھا اس نے کرنے کی کوشش کی۔ جب ہم چلنے لگے تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جن کا  خود ہم پر بڑا اثر ہوا۔خدا نے ہر جگہ دلوں کو ہمارے لئے نرم کرد یا ہے  اور کتنی ہی  آنکھوں ہیں ہمارے لئے آنسو آگئے ہیں۔ صادق صاحب نے اس کا شانہ  تھپ  کر اس کی ہمت بندھائی۔ اپنے تھری کیسل کے ڈبے میں سے ایک سگریٹ خود پیا اور آخری سگریٹ اسے دے دیا جسے کافی ہچکچانے کے بعد اس نے قبول کرالیا ۔ہم چلنے لگے توہم نے و عاکی  درخواست کی اور متقدم اور وارڈر سے مل کر پھانسی گھاٹ سے چل دئے۔

دیکھئے اب ہمارا نیا مستقر کونسا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »