تحریک اسلامی : ترجیحات اور تقاضے

پروفیسر خورشید احمد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بلا شبہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام کی اصطلاح اللہ اور اس کے رسول ؐکے پیغام کی حقیقت کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس بات کو بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اسلام کے ساتھ تحریک کے لفظ کا اضافہ کرنے کی جسارت کیوں کی ہے، اور تحریک اسلامی سے ہماری کیا مراد ہے؟
در اصل تحریک اسلامی کے لفظ سے مراد نہ دین میں کسی چیز کا اضافہ ہے اور نہ کی، البتہ ہمیں اپنے حالات میں یہ دیکھنا ہے کہ جو پیغام، جومشن، جو دعوت اور جو نمونہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم کیا ہے، فی زمانہ اس کی زیادہ سے زیادہ حقیقی اور صحیح تفہیم اور پھر اس کا اظہار کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ دور رسالت کے ۲۷ سال دیکھیے، خواہ مکے کا دور ہویا مدینے کا، ان میں تسلسل ہے، یک رنگی ہے۔ حالات کی مناسبت سے کب کس چیز کو زیادہ اہمیت دینی ہے کون سے طریقے اختیار کرنے ہیں اور کس طریقے سے گریز کرنا ہے، یہ سب اس عمل کا حصہ ہے۔ یہ پوری زندگی ایک مسلسل اور مربوط زندگی ہے، ایک دعوت اور جد و جہد ہے۔ اگر اسے ہم چند الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کریں تو اس میں پہلی چیز ربانیت ہے یعنی اپنے خالق و مالک اور آقا کو پہچاننا اور دنیا سے کٹ کر اس سے جڑنا۔ اس کی ہدایت اور اپنے خلیفہ اور نائب ہونے کی ذمہ دار ی جو اس نے بحیثیت انسان ہم پر عائد کی ہے، یہ استخلاف کی حیثیت ہے اور یہ ایک مسلمان کی زندگی کی بنیاد ہے۔ استخلاف کی ذمہ دار ی ہدایت کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی اور ہدایت کا سرچشمہ دو چیزیں ہیں: ایک قرآن ، اللہ کی کتاب اور دوسرے اللہ کے رسولؐ۔ کا اسوہ حسنہ یہ وہ ہدایت ہے جو ہمیں استخلاف کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لائق بناتی ہے لیکن استخلاف کا ہدف ہے کیا؟ یہ بڑا نازک معاملہ ہے کہ اس میں ہمارا اصل مقصود صرف اپنے مالک اور خالق کے احکام کی اطاعت، اس کے ساتھ جڑنا، اس سے محبت، اس کی طرف پلٹناا، اور اس کی رضا اور اس کی خوشنودی کا حصول ہے اور اس کا مظہر جنت ہے جس کا حصول ہماری تمنا اور ہماری آرزو ہے۔
ایک مفکر نے بڑے خوب صورت انداز میں اس بات کو چار نکات کی شکل میں ادا کیا ہے کہ پہلا مرحلہ دنیا سے پہلو تہی کر کے رب کی طرف مراجعت ہے، یعنی من الخلق إلى الله، یعنی دنیا سے اور انسانوں سے رشتے کو کاٹ کر اللہ سے رشتہ قائم کرنا یا صرف اس سے جڑ جانا۔ دوسرا مرحلہ مع اللہ کا ہے یعنی صبغة الله کے رنگ میں رنگ جانا ۔ صرف اللہ کا ہو جانا تاکہ اللہ کی رضا کے طریقوں اور ہمارے طریق حیات میں کوئی فرق نہ رہے، یہ مع اللہ ہے۔ لیکن یہ سفر کا ا ختمام نہیں۔ اس بلندی کو حاصل کرنے کے بعد سب سے اہم سفر کا آغاز ہوتا ہے، یعنی دوبارہ اللہ کے بن کر دنیا کی تعمیر نو کے ہنگامہ خیز اور پر خطر راستے کو تیار کرنا ۔ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ یہی فرق ہے نبی اور صوفی میں۔ صوفی کے معیار کی انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ کا تقرب پالے۔ گویا اس نور اور معرفت سے اتنا قرب حاصل کرنے کے بعد اس نے سب کچھ پالیا لیکن نبی کا مقام یہ ہے کہ وہ قرب الہی کی معراج پر پہنچ کر پھر انسانوں کے درمیان آتا ہے۔ جو روشنی اسے حاصل ہوئی ہے جو نور اسے حاصل ہوا اور جو ہدایت اسے حاصل ہوئی، اسے انسانوں تک پہنچاتا ہے، اور اس کے ذریعے سے انسانوں کی زندگیوں کو اور پوری کائنات اور پوری تاریخ کو منور کرتاہے۔ اس بزرگ نے پھر اس تیسرے مرحلے کومن الله الی الخلق کے الفاظ میں ادا کیا ہے کہ اللہ کے دروازے پر جانے کے بعد پھر دوبارہ سے انسانوں کے پاس جانا ہے۔ اسی دنیا میں جانا ہے جو ظلم اور مشق کی دنیا ہے کفر اور نافرمانی کی دنیا ہے۔ اس دنیا کو تبدیل کرنا ہے۔ اس پیغام کو زمانوں تک پہنچا کر دنیا کی تعمیر نو کرنا ہے۔ ہمارا بھی یہی ہدف ہے لیکن یہ بھی اختمام سفر نہیں۔ آخری مرحلہ پھر اللہ کی طرف لوٹنے کا ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ اب ساری انسانیت کو اپنے ساتھ لے کر اور رب کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے سب کو اللہ کی طرف لے جانا ہے۔
يعني مع الخلق الی اللہ اب انسانوں کو ساتھ لے کر اللہ کی طرف چلنا ہے تا کہ اللہ اور اس کے دین کی طرف جانے کا جو بڑا ہدف ہے یہ زندگی کا ہدف بن جائے۔
بس یہی تحریک کا مفہوم ہے۔ اسلام جو ایک مکمل نظام زندگی ہے، اسے تھام کر اللہ سے جڑنا اور اللہ کا ہو جانا، یہ اس کا اولین تقاضا ہے۔ اللہ کے اس پیغام کو قبول کرنے کے ساتھ اپنے آپ کو اور دنیا کو تبدیل کرنے کی جد وجہد کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی ہدایت انسانوں تک پہنچانے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ انبیا و رسل بھیجے لیکن یہ مقام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ جنھیں ہدایت کے ساتھ دین حق دیا گیا، تا کہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردیں:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَلِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذِيْنِ كُلِم وكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا o (الفتح ۲۸:۱۸)
’’ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘
تحریک کے تین دائرے
تحریک اسلامی کے تین دائرے ہیں اور ہمیں ان تینوں دائروں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ پہلے دائرے میں میری ذات میرا خاندان میرے عزیز واقارب، میرے دوست احباب، میرے ساتھی اور میری جماعت ہے۔ بلاشبہ اگر ہم اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے، اپنی ذاتی زندگی ، اپنے وسائل کو اللہ کی راہ میں جھونک نہیں دیتے، تو پھر ہم اپنے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔ اپنی اور اپنی تحریک کی اصلاح، مضبوطی ، فکر مندی، استحکام بھی ہماری پہلی ذمہ داری ہے۔
دوسرا دائرہ دوہ ذمہ داری ہے کہ معاشرے، ملک اور امت مسلمہ کا وہ خطہ کہ جس کا ہم حصہ ہیں، وہاں پر اگر ہم محض تحریک اسلامی کے خول میں بند رہتے ہیں اور اپنے معاشرے اپنے ملک، اپنی دنیا اور اپنی امت کی تبدیلی اور اصلاح کی فکر نہیں کرتے تو پھر شاید اپنی بھی حفاظت نہ کر سکیں۔ اس لیے کہ یہ دعوت امر بالمعروف ونہی عن المنکر خود ہماری اپنی اصلاح، اپنی استقامت کے لیے ضروری ہے۔
ایک تیسرا دائرہ ہے۔ پوری انسانیت اور عالمی کشمکش کا۔ چاہے چند افراد ہوں یا انبوہِ کثیر اسی عقیدے، اطاعت، دعوت اور اقامت دین کی جدو جہد کا نام اسلام ہے۔ اور تحریک اسلامی کی اصطلاح ہی مفہوم کو آج کی زبان میں ادا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ الحمد للہ آج ہم چند افراد نہیں بلکہ امت مسلمہ کا ایک نہایت قابل قدر حصہ اس قافلے کا مراعی ہے لیکن اگر ہم چند ہوں تب بھی ہمیں پوری دنیا کی فکر کرتا ہے۔ ہم اس سے غیر متعلق نہیں رہ سکتے اور آج کی دنیا پر تو عالمگیریت کا سحر طاری ہے جس میں ہم تنہا نہیں رہ سکتے ہمیں اس سحر کو توڑنا اور حقائق کی دنیا کو نکھا رنا ہے۔
یہ تینوں دائرے ہمارے سامنے رہنے چاہئیں۔ ان تینوں کا صحیح صحیح ادراک، اپنے ہدف کا تعین اور اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے صحیح منصوبہ بندی صحیح حکمت عملی طریق کار کا تعین، اور پھر سعی و جہد یہ دراصل ہمارے کرنے کا کام ہے۔
نظریاتی کش مکش
نظریاتی کش مکش نہ دنیا میں کبھی ختم ہوئی ہے نہ ہوگی۔ مفادات کا تصادم بھی ہوتا ہے اور مادی ذرائع کے حصول کے لیے تصادم بھی ایک حقیقت ہے لیکن انسانیت کی پوری تاریخ میں نظریات کی کش مکش ایک بنیادی حقیقت ہے اور یہ کش مکش روز اول سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ سورہ فاتحہ جس کی تلاوت ہم نماز کی ہر رکعت میں کرتے ہیں، ہمارے سامنے انسانیت کی دو قو توں کو پیش کرتی ہے۔
اھدینا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ * غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( الفلاحه ۵:۱-۲)
ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔
مراد یہ ہے کہ انعام یافتہ لوگوں اور گمراہوں کے درمیان یہ کش مکش ابدی ہے اور انسانی تاریخ میں جا بجا ہمیں اس کا عکس نظر آتا ہے اور یہ ہمیشہ رہے گا۔ آج جس عالم گیر کش مکش سے انسانیت گزر رہی ہے میری نگاہ میں اس کے دو بڑے مثالیے (paradigms) ہیں۔ ایک وہ مثالیہ ہے جس کی بنیاد اللہ سے بغاوت یا اللہ کا انکار یا کسی شکل میں اللہ کو ماننے کے باوجود اللہ کی ہدایت پر اپنے نفس، اپنی عقل اور اپنے مفادات کا غلبہ منوانے کی جسارت ہے۔ یہ لادینی ماڈل ہے اور سرمایہ داری ، اشتراکیت یا فسطائیت کا روپ لیے دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بے شمار شکلیں ہیں اور یہ تہذیبی کش مکش میں ایک منزل اور ماڈل ہے۔
دوسرا ماڈل وہ ہے جس کی صحیح مشکل اسلام پیش کرتا ہے، اور جسے تحریک اسلامی نے اس دور میں نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ایمان اور انکار کی یہ کش مکش روز بروز زیادہ سے زیادہ نکھرتی چلی جارہی ہے۔ اس کش مکش کی بڑی قدروقیمت ہے۔ اس راہ میں ایثار، جد وجہد کے نتیجے میں جو مصائب حق کے غلبے اور وسعت کے لیے برداشت کیے جائیں، وہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس حقیقی کش مکش میں اسلامی تحریک اور اس کے کارکنوں اور خصوصیت سے ذمہ ددار افراد کو یہ بات اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ دنیوی اعتبار سے اپنے سے بہت زیادہ قوی قوتوں کا وہ کیسے مقابلہ کر سکتی ہے؟ ایک طرف تو ہمیں اللہ کی ذات پر بھروسا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالٰی بھی سب سے زیادہ قوی ہے۔ وہی ہمارا اصل سہارا ہے اور صرف اس کی خوشنودی کی خاطر ہم یہ کام کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ جو خطرات، مشکلات اور حالات ہیں، ان کا پورا پورا ادراک ہو، اور پھر ان حالات ہی میں سے اہم اپنا راستہ نکالیں۔
افغانستان میں اشتراکی روس کی شکست، تاریخ میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا ذریعہ بنی ہے۔ ایران کے انقلاب ۱۹۷۹ء اور اسلامی تحریکات کے وجود اور ان کی جدو جہد کو ہمیں اس عالمی پس منظر میں دیکھنا ہے۔ ہمیں اس چیز کا جائزہ لینا ہے کہ افغانستان کے کامیاب جہاد کے ثمرات سے افغانستان کو، اسلامی تحریکات اور امت مسلمہ کو کیونکر محروم کیا گیا۔ اس لیے پر تدبر کی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے، اور پھر اس کی روشنی میں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آگے کے مراحل میں ہم یہ کام کسی طرح کریں؟
تحریف دین کی کوششوں کا جائزہ
تحریک اسلامی نے دین کا جو واضح تصور پیش کیا تھا اور جو عالم اسلام میں ایک نئی لہر اور بیداری کا سبب بنا، آج وہ تصور تنقید کا ہدف بنا ہوا ہے۔ اس تصور پر جہاں ایک طرف مغرب حملہ آور ہے تو دوسری جانب اس کے مقاصد اور اہداف کی عملی خدمت کرنے والوں میں خود مسلمانوں میں سے ایک طرف تجدد پسند حضرات ہیں تو دوسری طرف نادان دوستوں کا بھی ایک کردار ہے جو حالات کو مزید بگاڑنے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
تحریک اسلامی کے لیے پہلا چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی طرح اس تصور کی جامعیت، اس کے توازن اور اس کو اس کی اصل روح کے ساتھ پیش کرے، اس کا دفاع کرے اس کی بالا دستی اور برتری کو دنیا پر ثابت کرنے کی سعی و جہد کرے۔ علامہ محمد اقبال ، مولانا مودودی، حسن البنا شہید سید قطب شہید، یہ وہ افراد ہیں جنھوں نے اپنے اپنے انداز میں دین کے اس تصور کو نکھار کر امت مسلمہ اور دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آج اس تصویر کو مختلف انداز میں بگاڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کہیں اس کو پولیٹیکل اسلام (سیاسی اسلام) کہا جاتا ہے اور کہیں صوفی اسلام کو اسلام کا اصل ماڈل قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کہیں اس طریق کار کے اس توازن کو درہم بر ہم کیا جا رہا ہے، جس میں اصلاح اخلاق و کردار، معاشرے کی تعمیر، انقلاب قیادت، اخلاقی تعلیمات کی تلقین، تعلیم وتربیت اور تبدیلی کے لیے جدوجہد کا واضح قصہ کا رپیش کیا گیا ہے۔
ہم اس دعوت اور پیغام کے امین ہیں۔ ہمیں خود بھی اس پر اعتماد ہونا چاہیے اور جو کام سید مودودی علیہ الرحمہ نے اس تصور کو پیش کرنے ، اس کی صحت اور اس کی برتری ثابت کرنے کے لیے کیا اور جس کی وجہ سے واقعہ یہ ہے کہ ۲۰ویں صدی کی دینی سوچ کا رخ بدل گیا، آج تحریک اسلامی کو اس کام کو جاری رکھنا اور وسعت اور گہرائی دونوں کے اعتبار سے آگے بڑھانا ہے۔ اس کے لیے علمی و تحقیقی کام، ابلاغ اور ابلاغ کے موثر ترین ذرائع اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں ہمیں لکیر کا فقیر نہیں ہونا چاہیے۔ ابلاغ کے موثر ذرائع کا بہترین استعمال، پہلا چیلنج ہے جو ہمیں قبول کرنا ہے۔ اس کے لیے تحریک اسلامی کو مردانِ کار کی تیاری ، اداروں کی تقویت، وسائل کی فراہمی اور تقسیم کار کی ضرورت ہے، تا کہ ہر شخص سے ایک ہی کام نہ لیا جائے بلکہ جو ہماری ضرورتیں ہیں، جو اسلام کے تقاضے ہیں اور تحریک اسلامی کی کامیابی کے لیے جو کام ضروری ہیں، ان میں سے ہر ایک کے لیے ہمارے پاس ایک نظام ہو، ادارے ہوں، افراد ہوں اور اس کام کو حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا جائے۔
تبديلي نظام کی حکمت عملی
دوسری چیز جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تحریک اسلامی نے تبدیلی کا جو طریقہ بتایا ہے، وہ بہت اہم ہے۔ اس میں ایمان، قلب و نظر کی تبدیلی ، شخصیت، اخلاق و کردار کی تعمیر،خدمت خلق، معاشرے کو ظلم، محکومی و مجبوری اور فسق و فجور سے پاک کرنا ، اور پھر انقلاب و قیادت ہے۔ انقلاب قیادت کے معنی صرف سیاسی قیادت کی تیاری کے نہیں ہیں۔ بلاشبہ سیاسی قیادت اس کا ایک بڑا اہم پہلو ہے۔ در حقیقت اس سے مراد قیادت کی ہمہ گیر تبدیلی ہے بشمول فکری قیادت معاشی قیادت ، سماجی قیادت تعلیمی قیادت، غرض زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی قیادت ہے۔ نظام کا ر کی تبدیلی کے لیے جو خدا اور اس کے رسول کے متعین کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے حکومت اور ریاست کے وسائل کو حق اور عدل کے قیام، اور اسلامی نظام زندگی کے غلبے کے لیے استعمال کرنا بھی از روے ایمان لازم ہے۔
یہ توازن ، یہ طریق کا راز حد ضروری ہے۔ اس کے لیے کوئی شارٹ کٹ یا مختصر راستہ نہیں ہے۔ اس میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ جبر اور قوت کے ذریعے سے نظریات اور اخلاقی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ یہ تحریک اسلامی کی غیر معمولی خدمت ہے۔ اس معاملے میں اگر ہم نے توازن کو چھوڑ دیا تو ہم اپنے مقصد کے ساتھ بے وفائی کا ارتکاب کریں گے۔ ذمہ داران تحریک کے لیے اس تصویر کو زندہ پر رکھنے اور اس کی برتری کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ احسن طریق کار کی صحت، اس کی کامیابی اور برتری اور اسی کے موثر ہونے پر یقین اور اس پر عمل ناگزیر ہے۔ وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ الفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عن ہی ہما را طریق کار اور دنیا میں اصلاح اور آخرت میں کامیابی کا راستہ ہے۔
دعوت کے عمل سے غفلت
اس کے ساتھ ساتھ تیسری اہم بات یہ ہے کہ دعوت جو ہمارا سب سے اہم ذریعہ اور ہتھیار ہے، اس کا ہم حق ادا نہیں کر رہے۔ ہم میں ایک قسم کے اطمینان اور قاعت کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے حالانکہ دعوت کے معنی یہ ہیں کہ ہم اللہ کے بندوں تک اللہ کے پیغام کو پہنچانے کے لیے بے چین رہیں۔
اس ضمن میں سب سے پہلی ذمہ داری ہمارا خاندان ہے
يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا قُوا لَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (التحریم ۲:۲۶)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔
پھر ہمارا محلہ ہے اور معاشرہ ہے۔ کیا ہم دیانت داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے گھر کے افراد اپنے عزیز واقارب، اہل محلہ اور وہ لوگ جن کے ساتھ ہم دفاتر میں کام کر رہے ہیں، یا کہیں بھی جہاں ہمارا لوگوں کا ساتھ ہے، میل جول ہے، ہم ان تک دعوت پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں تو شاید غلط نہ ہوگا کہ اس سلسلے میں ہم غفلت اور کوتاہی کا شکار ہیں اور اس کی اصلاح کے بغیر نہ تو ہم تحریک کے ساتھ وفاداری بہت سکیں گے اور نہ اللہ کو منہ دکھا سکیں گے۔ سیاسی کام بے حد اہم ہے لیکن وہ بھی ہمارے لیے دعوت کا ذریعہ ہے۔ ہمیں لوگوں تک پہنچتا اور ان تک دعوت پہنچانا ہے۔ ہماری بنیادی دعوت اللہ کی طرف ہے اور اللہ کے دین کی طرف ہے اور اللہ کے دین کو قائم کرنے والی تحریک کی طرف ہے۔ اس میں کوتاہی یا لا تعلقی کی کوئی وجہ یا کوئی جواز نہیں ہو سکا۔
اس لیے میرے اور آپ کے وقت کا بڑا حصہ دوسروں تک دین کے پیغام کو پہنچانے، ان کے شکوک دُور کرنے ، ان کے سوالوں کا جواب دینے ، ان کو خیر کے لیے منتظم کرنے اور ان کے دل کو مطمئن کرنے میں صرف ہونا چاہیے۔ اگر دعوت کے راستے کو اختیار کریں گے تو معاشرے اور سیاست میں تبدیلی واقع ہوگی۔ اگر دعوت کمزور ہوئی تو پھر سیاسی نتائج بھی غیر تسلی بخش ہوں گے اس کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہماری دعوت ملک کے تمام طبقات جن میں خواص بھی ہیں اور عوام بھی، ان سب تک پہنچنی چاہیے۔ میں یہ بات خاص طور پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تحریک اسلامی کے کارکن ایک قسم کے ذاتی خول کے امیر بنتے جارہے ہیں، حالانکہ ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ ہماری زندگی دوسروں کے لیے وقف ہو۔ ہم دوسروں کے لیے جنگیں اور دوسروں کی خدمت کریں۔ ان کے دکھ دردمیں شریک ہوں، ان کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے غم کو اپنا غم اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھیں۔ یہ کیفیت جب تک پیدا نہیں ہوگی دعوت کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔
کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ وہ خاتون جو حْسن ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھاتی تھی، آپ نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ جب آپ نے یہ دیکھا کہ آپ کے راستے میں کانٹے نہیں ہیں، تو کیا آپ خود اس کی مزاج پرسی کے لیے نہیں گئے؟ کیا ہم اس واقعے کو بھول سکتے ہیں کہ مکی دور میں دن بھر کی محنت اور مشقت کے بعد آپ دارارقم میں آرام کے لیے تشریف لاتے ہیں کہ اتنے میں اطلاع آتی ہے کہ ایک نیا قافلہ آیا ہے۔ باوجود اس کے کہ آپ تھکے ہوئے ہیں، آپ اُٹھ بیٹھتے ہیں کہ مجھے ان تک اللہ کے دین کا پیغام پہنچانا ہے۔ صحابہ کرام کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ ا آپ تھکے ہوئے ہیں، آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے، آپ ذرا آرام فرمائیں اور کل ان کو دین کا پیغام پہنچا دیں ۔ آپ کو علم ہے کہ اس موقع پر آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا تھا: کیا پتا وہ قافلہ صبح تک یہاں سے رخصت ہو جائے، اور کیا خبر کل تک میں رہوں، یا نہ رہوں۔ چنانچہ اسی حالت میں آپ نے قافلے والوں تک خدا کا پیغام پہنچایا۔ یہ دعوت ہے جسے ہماری زندگیوں کا مرکز ہونا چاہیے اور ان شاء اللہ اسی دعوت، اور اسی شوقِ دعوت حق سے تبدیلی آئے گی اور ضرور آئے گی لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔
جدوجہد کی کامیابی کا یقین
دعوت کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ ہماری دعوت حق ہے اور بالآخر غالب آکر رہے گی۔ اس بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دعوت کے علم بردار چند سر پھروں نے بڑی بڑی طاقتوں سے ٹکر لی ہے اور تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ اس دنیا کی تاریخ سوپر پاورز کا قبرستان ہے اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی سوپر پاور عالمی طاقت بنے کے بعد ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہی۔
ہم نے خود اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جب برطانیہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ برطانیہ تھی یا گریٹ برٹن ہے۔ اس لیے کہ دنیا کے اتنے بڑے حصے پر اس کی حکومت ہے کہ اس کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا، اور سمندر کی لہروں پر اس کی حکمرانی ہے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ وہ سوپر پاور کس طرح ایک معمولی سا یورپی ملک بن کر رہ گئی اور اس کو ایک دن یورپی یونین کی رکنیت اختیار کرنے کے لیے درخواست دینا پڑی۔
روس کا کیا دبد بہ تھا۔ خروشیف جب اقوام متحدہ کے اجلاس میں گیا تو اپنے جوتوں سمیت پاؤں اُٹھا کر میز پر رکھ کر اس نے کہا کہ میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ مجھے سرمایہ داری کو دفن کرنا ہے۔ آج اس سوویت یونین کا وجود تک باقی نہیں رہا۔ امریکا کے بارے میں بھی آپ سے کہتا ہوں کہ ان شاء اللہ عراق اور افغانستان میں اسے جو ہزیمت اٹھانا پڑرہی ہے، جو عالمی معاشی بحران آیا ہے اور جس نے اس کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں، یہ اب امریکا کے زوال اور پسپائی کی نوید ہے۔ گویا کوئی سوپر پاور ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہی ہے۔ ہمیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ حق غالب آکر رہے گا، لیکن یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ حق آپ سے آپ غالب نہیں ہوگا۔ اس کے لیے جد وجہد کرنا ہوگی، اس کے لیے قربانیاں دینا ہوں گی۔ الحمد للہ آج دنیا کے گوشے گوشے میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں اسلامی تحریک، اسلام کی صحیح فکر اور جامع تصور پیش نہ کر رہی ہو۔ جدید سوپر پاور کے ذریعے آج جو خطرات رونما ہو رہے ہیں، ان سے یہ بات بھی واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ سوپر پاور عالمی طاقت تو ہوسکتی ہے لیکن وہ جو چاہے کر نہیں سکتی۔ اس کا سارا کروفر اس کی ساری ٹکنالوجی، اس کی ساری دولت اور وسائل اور منصوبوں کو ایک معمولی سی چیز درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔ دنیا میں asymetry of power یعنی طاقت کا عدم توازن پایا جاتا ہے۔ آج نظر آرہا ہے کہ کمزور، طاقت ور کو پہنچ کر سکتا ہے اور طاقت اور بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان حالات میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ایک طرف تحریک کی فکر اور ویژن کو ہر قسم کی تحریف، آمیزش، در اندازی اور کمزوری سے پاک رکھیں، اور اگر تحریک کا یہ وژن نظروں سے اوجھل ہو گیا تو پھر ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔ دوسری طرف تحریک نے تبدیلی کا جو راستہ دکھایا ہے، اس کا جو طریق کار متعین کیا ہے، اس پر صبر و استقامت کے ساتھ قائم رہتا ہے۔ بلاشبہ مایوس کن نتائج بھی رونما ہوں گے لیکن مثبت نتائج کا نکالنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارا کام تو پورے خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ کوشش کرنا ہے۔ السَّعَى مِنَّا وَالْإِنْعَامُ مِنَ اللَّهِ تَعَالٰی کے مصداق کوشش اور جد و جہد کرنا ہمارا کام ہے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا اللہ کا انعام ہے۔ روز جزاء ہم سے کوشش کے بارے میں پوچھا جائے گا، لہٰذا کوشش میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کوشش میں جوطریق کار ہے، جو توازن ہے اور جس طریقے سے وہ خیر و برکت کا باعث ہے، جس کے ذریعے سے وہ رحمت کا نظام قائم ہوگا، جو اللہ کے رسول نے دیا اور قائم کر کے دکھایا ہے، اس کے لیے اگر جذبہ ماند پڑ جاتا ہے یا اس میں کوئی کمی آجاتی ہے تو پھر نا کامی ہے۔
جدید تقاضوں سے ہم آہنگ منصوبہ بندی
ہماری دعوت، جدو جہد اور کوشش کا مرکز ومحور رضاے الٰہی کا حصول ہے۔ اس دعوت کا ایک اہم تقاضا مردانِ کار کی تیاری، اداروں کو مستحکم کرنا ہے اور تقسیم کار کے ذریعے سے ہر محاذ پر پہنچنا ہے۔ الحمد للہ، آج لوگوں کی ایک بڑی تعداد تحریک کے ساتھ وابستہ ہے، لیکن زندگی کے مختلف شعبوں میں جو ہمارے اثرات تھے اور زندگی کے ہر میدان میں ہم جس طرح سے راستہ نکال رہے تھے، ایک بار پھر ایک نئی منصوبہ بندی کے ساتھ اس کام کو کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اُمت کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بندی بے حد ضروری ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جہاں روز مرہ کا کام اہم ہے، ہر سال کا منصوبہ اہم ہے، وہیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم اپنی سوچ میں کچھ مزید وسعت پیدا کریں۔ اس دنیا میں، میں اور آپ نہیں ہوں گے لیکن یہ پیغام، یہ دعوت، یہ تحریک، یہ جد و جہد ان شاء اللہ آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کر کے رہے گی، لیکن اس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں۔ کیا حضرت یوسف کے واقعے میں یہ سبق نہیں ملتا کہ انھیں سات سال غلے کی فراوانی اور سات سال قحط اور خشک سالی کا سامنا تھا اور اس کے لیے انھوں نے منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ منصوبہ بندی انبیأ کا طریقہ ہے اور ہم اس معاملے میں کچھ غفلت برت رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ مردان کار کی تیاری اور درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے در میانی مدت اور طویل المدت منصوبہ بندی کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل اور حکمت عملی تیاری کریں۔
اس منصوبہ بندی کا ایک اور اہم تقاضا جسے ہم بھول جاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہونی چاہیے اور ہماری یہ سوچ ہونی چاہیے کہ ہماری جگہ لینے والے ایک نہیں کئی ہوں اور صلاحیت و استعداد میں وہ ہم سے بہتر ہوں، مگر دکھائی یہ دیتا ہے کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں کر گزریں، باقی دیکھا جائے گا۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک فرد جب اٹھتا ہے تو اس کا خلا پُر کرنے والا کوئی دوسرا نہیں ہوتا ۔
نبی پاکؐ کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں لیکن دو چیز میں بہت اہم ہیں: ایک یہ کہ جو شہادت حق انھوں نے دی، اس شہادت کی ذمہ داری اُمت مسلمہ کے واقعے ہے اور اس کام کا ایک تسلسل سے جاری رہنا ضروری ہے۔ دوسری اہم بات اپنے پیچھے ایسے مردان کار کو چھوڑ جانا جن میں سے ہر ایک روشن ستارے کی مانند تھا اور نور کا منبع تھا۔ کتنی بڑی بات ہے کہ نبی کریم ؐنے فرمایا: علیکم پستی وسنة حلفائى الراشدين ، جس کے معنی یہ ہیں کہ میں تمھارے درمیان وہ عمل چھوڑ کر جا رہا ہوں اور اس کے ساتھ وہ قیادت اور نظام کار بھی چھوڑے جا رہا ہوں جس سے یہ کام آگے بڑھے گا۔
کیا انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہماری سوچ بھی یہ ہے؟ کیا ہمیں بھی یہ فکر ہوتی ہے کہ ہماری جگہ لینے والے ہم سے بہتر ہوں؟ کیا ہم اس فکر اور کوشش میں رہتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے آس پاس ہیں، جن لوگوں تک ہم دعوت پہنچا رہے ہیں، ان میں سے کون کسی صلاحیت کا مالک ہے، اور اس صلاحیت کو کیسے آگے بڑ لیا جائے، اور اس فرد سے کیسے بہتر سے بہتر انداز میں کام کیا جائے؟ اگر ہم یہ ذہن نہیں رکھتے ، اس کی فکر نہیں کرتے تو یہ بڑی غفلت اور خلاف حکمت بات ہے۔ ہم میں سے ہر فرد تحریک کا ایک ذمہ دار فرد ہے، اور اسی مناسبت سے اس کا فرض ہے کہ اپنی جگہ لینے کے لیے اپنے سے بہتر فرد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے تا کہ یہ دعوت، یہ پیغام یہ تحریک کامیاب ہو اور ان شاء اللہ یہ کامیاب ہوئی، لیکن ہمیں اس کے لیے اپنا فرض اور اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔



