یادیں ان کی، باتیں ہماری (جلد دوم)

یہ دوسری جلد پروفیسر خورشید احمد کے ان بے ساختہ مضامین اور قلمی تاثرات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے پاکستان کے اندر ان رفقائے کار کی وفات پر لکھے جنہوں نے وطنِ عزیز کو اس کے اصل نظریاتی مقاصد پر استوار کرنے کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا۔ کتاب محض ذاتی یادداشتوں یا رسمی تعزیتی کلمات پر مشتمل نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی لگ بھگ تین سے چار دہائیوں پر محیط قومی، پارلیمانی اور فکری تاریخ کا جامع خلاصہ پیش کرتی ہے۔ اس میں آئین سازی، جمہوری روایات کے قیام، شہری آزادیوں کے تحفظ، قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے، اور دفاعی و خارجہ پالیسی کے محاذوں پر لڑی جانے والی فکری لڑائیوں کے اہم کرداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ پروفیسر صاحب کے طالب علمی کے دور سے لے کر سینیٹ اور پالیسی سازی تک ساتھ نبھانے والے ساتھیوں کے ذریعے پاکستانی سیاست و فکر کے اہم گوشے سامنے آتے ہیں۔ کتاب میں خورشید احمد کا روادارانہ اور معترفِ کمال اسلوب نمایاں ہے، جہاں وہ ہر فرد کی خوبیوں اور قومی خدمات کو باہمی مقصدیت کے تناظر میں سمیٹ کر ملک کی اجتماعی تاریخ کا ایک روشن باب بنا دیتے ہیں۔