ArticleMedia Article

روزہ ، اللہ کا انعام

رمضان کا بابرکت مہینہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام ؓ اور صلحائے امتؓ بڑی بے چینی سے رمضان کا انتظار کرتے تھے اور پھر اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔

’صوم ‘کا معانی ہے رُک جانا ، اپنے آپ کو روک لینا ، کچھ کر ڈالنے سے روکنا ۔ ظاہری طور پر اس کا مطلب ہے کھانے، پینے اور اور جنسی داعیہ پورا کرنے سے پر ہیز کرنا۔

قرآن کریم میں آٹھ آیات ہیں، جو صوم (روزہ) کی مختلف جہتوں کا احاطہ کرتی ہیں ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ روز ہ تمام انبیا کی شریعتوں کا جزو رہا ہے۔

روزہ ایک عظیم عبادت اور دین کے ان ستونوں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے، جن پر اس کی پوری عمارت مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزہ اللہ رب العزت کا اپنے بندوں پر ایک بہت ہی عظیم الشان انعام ہے اور اس نعمت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

  • روزہ کی انفرادیت: اللہ کے اس انعام کا ایک پہلو ایسا ہے، جو اسے عبادات اور احکام الہی میں منفرد بنا دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس کا گواہ اللہ اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز دین کا ستون ہے مگر وہ دل کی حضوری کے ساتھ جسم کے ایسے اعمال و اظہار پر مشتمل ہے، جن کی وجہ سے جماعت ہی میں نہیں، تنہائی میں جتنی کہ گھر کی چار دیواری میں ادا کی جانے والی نماز بھی دوسروں کی نظر سے اوجھل نہیں ہو سکتی۔ حج تو پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اجتماع ہے ہی۔ اسی طرح زکوۃ اگر مکمل اخفا کے ساتھ ادا کی جائے تب بھی کم از کم ایک شخص یعنی اس کا وصول کرنے والا تو اس راز میں شریک ہو ہی جاتا ہے۔ لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا گواہ صرف ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن، مارچ ۲۰۲۵ء اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر ایک شخص سب کے ساتھ سحری کرے اور سب کے ساتھ افطار کرے، تب بھی تنہائی میں اس کے کھانے پینے سے احتراز کرنے کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ اگر ایک شخص دنیا کو دھوکا دینے کے لیے روزے کے تمام اجتماعی آداب کا احترام کرے، لیکن تنہائی میں کھا پی لے، تو دنیا کی کوئی آنکھ اس کے روزے پر شک نہیں کرے گی، البتہ اللہ اس کی حرکات سے بخوبی واقف ہوگا۔

روزہ صرف اللہ کے لیے ہے اور وہی اس کا گواہ ہے۔ اس طرح بندے کے رب سے تعلق کا یہ پہلوروزے کی امتیازی شان ہے۔ کہ جلوت اور خلوت، سب اللہ کے حکم اور اس کی رضا کے پابند ہیں۔ گویا روزہ اپنے تمام اجتماعی پہلوؤں کے باوجود صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب کریم نے یہ مژدہ بھی سنا دیا ہے کہ صرف وہ اس کا اصل اجر دینے کا ذمہ دار ہے۔ لہذا روزہ بندے اور رب کے بلا واسطہ تعلق کا عنوان ہے اور صرف رب کا بندہ بن جانے کی علامت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسے اسلام کی روح اور اس کے اصل جو ہر کا مظہر بناتی ہے۔

صرف اللہ کا بندہ بنے اور اس کی رضا کے لیے بھوک پیاس اور شہوت کی جائز ذرائع سے تسکین سے بھی اجتناب، انسان کو تقوی کی اُس نعمت سے مالا مال کرتا ہے کہ جو دُنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے، اور انسان میں وہ صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو اسے اللہ کی ہدایت سے فیض یاب ہونے میں معاون ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی ہدایت کے لیے جن کو اہل قرار دیا ہے وہ اصحاب تقوی ہی ہیں ۔

روزہ انسان کے اندر وہ تقویٰ پیدا کرتا ہے جو اسے ہدایت ربانی سے مستفید ہونے اور اس کا علم بردار بننے کے لائق بناتا ہے:

 يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره ۲: ۱۸۳)

” اے ایمان لانے والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تمھارے اندر تقومی پیدا ہو سکے”۔

 رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اور روزے اور قرآن کا تعلق یک جان اور دو قالب جیسا ہے:

 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمُهُ (البقره ۲: ۱۸۵)

“رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ لہذا جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے”۔

ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز غار حرا میں ہوا، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل عبادت فرماتے اور روزے رکھتے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب تو رات سے نوازا گیا تو ان ایام میں آپ بھی روزے کا اہتمام فرما رہے تھے ۔ روزہ اور قرآن کا یہی نا قابلِ انقطاع تعلق ہے جس کا تجربہ اور جس کی شہادت امت مسلمہ ماہ رمضان میں قرآن سے تعلق کی تجدید کر کے کرتی ہے۔ اس طرح روزہ ہماری زندگیوں میں ہدایت ربانی کو حرز جان بنانے کا ذریعہ اور وسیلہ بن جاتا ہے۔یہ اللہ کا عظیم ترین انعام نہیں تو اور کیا ہے؟

  • روزہ کی حقیقت: اس انعامِ الہی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ روزے کی حقیقت کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے اور محض روایتاً یا مسلم معاشرے کے ایک معمول کے طور پر نہیں بلکہ پورے شعور کے ساتھ اور اس کے مقاصد اور آداب کے پورے ادراک اور اہتمام کے ساتھ روز ہ رکھا جائے، نیز رمضان میں حاصل کی جانے والی تربیت کی روشنی میں سال کے باقی ایام گزارے جائیں ۔ جس طرح چار جنگ کے بعد گاڑی کی بیٹری اپنا کام ٹھیک ٹھیک انجام دیتی ہے، اسی طرح انسانی جسم اور زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے رمضان کے روزے اور قرآن سے تجدید عہد، انسانی جسم و جان کی بیٹری کو چارج کرتے ہیں اور پھر باقی گیارہ مہینے اس قوت کے سہارے یہ گاڑی رواں دواں رہتی ہے۔ اس سے بڑا انعام ہمارے رب کی طرف سے اور کیا ہو سکتا ہے؟

بندہ کے اپنے رب سے تعلق کے تین پہلو ہیں:

  • پہلا اور سب سے اہم رب کو پہچانا، اس سے عہد وفا باندھنا، ہر لمحے اس عہد کا اور اک رکھنا اور ہر دوسری غلامی اور وفا داری سے نجات پا کر صرف اللہ، اپنے خالق اور مالک کا بندہ بن جانا ہے۔
  • دوسرا پہلو فرد کی اپنی ذات کی تربیت، تزکیہ اور ترقی ہے تا کہ وہ اپنے رب کے انسان مطلوب سے زیادہ سے زیادہ قربت حاصل کر سکے ۔ اس کے لیے نمونہ اللہ کے پیارے رسول کا اسوہ مبارکہ اور سنت مطہرہ ہے۔ اپنی ذات کی مسلسل اصلاح اور صفات محمودہ کے رنگ میں اپنے کو رنگنے اور صفات مذمومہ سے بیچنے کی مسلسل کوشش اصلاح ذات اور بندگی رب کا اولیس اور مستقل تقاضا ہے۔
  • تیسرا پہلو دنیا اور اس کے رہنے والوں سے تعلق کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اللہ کی ہدایت ہی یہ رہنمائی بھی دیتی ہے کہ دوسرے انسانوں، معاشرہ، ریاست، انسانیت اور کائنات، ہر ایک سے کس طرح معاملہ کیا جائے، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو، اور حق و انصاف کے قیام کے ذریعے انسانوں کی زندگی خیر و فلاح کا نمونہ بن جائے۔

اسلام ان تینوں جہتوں کے باب میں صحیح تعلق اور صحیح رویے کا نام ہے۔ یہ سب اللہ کی بندگی کے ایک ہی دائرے کا حصہ ہیں اور کسی بھی جہت کو نظر انداز کرنا یا عبدیت کے دائرے سے با ہر تصور کرنا شرک، بغاوت اور طاغوت کا بندہ بننے کے مترادف ہے۔ روزہ ان تینوں میدانوں میں بیک وقت بندہ کا تعلق اپنے رب سے جوڑنے اور اس تعلق کی روشنی میں زندگی کے ہر دائرے اور پہلو کو ہدایت الہی کے مطابق گزار نے اور نور ربانی سے منور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

روزے کا مقصد دو چیزوں کا حصول ہے، جن کی طرف قرآن متوجہ کرتا ہے: ہدایت اور تقومی قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا، ہدایت لے کر، جو انسانیت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پھر ہے، تقویٰ ۔ تقوئی ایک بنیادی اور عقدہ کشا اصطلاح ہے۔ عمومی طور پر تو اس کا معنی ‘خوف’ لیا جاتا ہے۔ لیکن کس کا خوف؟ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ خوف ہے اللہ کی خوشی کھو دینے کا، اللہ کی ناراضی مول لینے کا اور قرب الہی سے محرومی کا ۔ تقوی کے اس معنی واثر کی وجہ سے ہم ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کی موجودگی کا احساس ہو۔ چنانچہ ہم ہر وہ کام کر گزریں جسے کرنے کا اللہ کہے اور ہر اس کام سے رک جائیں جس سے اللہ روکے، تا کہ ہم اس کی خوشنودی پالیں ۔

  • روزہ اور ضبط نفس: تقومی ضبط نفس ہے، یعنی خود پر قابو پانا ۔ رمضان میں آپ خود پر قابو پانا اور خود کو منظم کرنا سیکھتے ہیں۔ انسان کی دوقسم کی مادی یا جسمانی ضرورتیں ہیں ۔ رمضان میں دونوں کو نظم وضبط کا پابند بنانے کی تربیت دی جاتی ہے، اور اس بات کا سبق ملتا ہے کہ ساری زندگی ہی نظم و ضبط سے گزارنی ہے۔ یہ مہینہ در حقیقت زمانہ تربیت ہے جس کا مقصد تقویٰ کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنانا ہے۔ رمضان کے بعد بھی رہاقی گیارہ مہینے تقوی کے حصول پر صرف کیے جائیں رمضان کا سبق تازہ کرنے کے لیے اور تازہ دم ہونے کے لیے۔

 روز ہ سب سے پہلے آپ کو نظم وضبط سکھاتا ہے، کہ آپ اپنی عادتوں کو درست کریں۔ جو کام آپ معمول کے مطابق کرتے رہتے ہیں، ایک معمول اور ایک عموم کے طور پر۔ رمضان میں آپ پر ان کے سلسلے میں کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ آپ وہ کام نہیں کرتے یا کرنے سے رُک جاتے ہیں۔ تاہم جوں ہی افطار کا وقت ہوتا ہے، آپ کے لیے جو چیز لمحہ بھر پہلے ممنوع تھی، اب جائز ہو جاتی ہے۔ اصل نکتہ زندگی میں نظم وضبط (Discipline) لا نا ہے۔ ایسی زندگی گزارنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری سے عبارت ہوا اور قرآنی ہدایت پر استوار ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص روزہ رکھتا ہے مگر جھوٹ بولنے، لڑنے جھگڑنے، اور برے کام کرنے سے نہیں رکتا تو اللہ کو اس کے بھو کے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے “۔(صحیح بخاری، کتاب الصوم ،حدیث ۱۹۰۳)

جو چیز اللہ کو مطلوب ہے وہ تو فرماں برداری اور نظم و ضبط ہے۔ یہی بات تو افطار وسحر سے واضح ہوتی ہے۔ سحری سے پہلے آپ کھاتے پیتے رہتے ہیں، مگر فجر کی اذان سنتے ہی رُک جاتے ہیں اور افطار کے وقت تک رُکے رہتے ہیں۔ اس سب سے آپ کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ یہ سب تنہائی میں نہیں ہوتا، بلکہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمان ایک ہی مہینے میں روزہ رکھتے اور اس کی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے معاشرے اور خاندان تک ایک بھر پور ماحول بن جاتا ہے، جس سے ہر خاص و عام، روز و کی برکتوں سے فیض یاب ہوتا ہے۔

رمضان کی اہمیت کے حوالے سے ایک قابل توجہ پہلو اس مہینے میں تین چیزوں کا جمع ہونا ہے: ۳۰ روزے، شب قدر اور آخری عشرے کی طاق راتیں۔ ایک ماہ کے مسلسل روزے ایک بھر پور تربیتی ورزش کا موقع دیتے ہیں۔ شب قدر رمضان کی ایک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا:

 إِنَّا انزلنه في ليلة القدرة (القدر ۷ ۱:۹)

“بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا”۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور عمل کے مطابق یہ رات نماز، تلاوت قرآن اور دُعا میں بسر ہونی چاہیے۔ یہ اللہ کے حضور دعا کرنے اور اس کی قبولیت کا بہترین موقع ہے، بلکہ اسی وجہ سے تو اسے قدر کی رات کہا جا سکتا ہے، جب قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں اور تقدیر لکھی جاتی ہے۔

آخری عشرہ، یعنی آخری دس روزے اور ان میں پانچ طاق راتیں (۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ ویں)، شب قدر ان راتوں میں سے ایک رات ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ شب قدر کی عبادت محض ایک رات کی نہیں بلکہ ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بہتر ہے:

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر ۳:۹۷)

“شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے”۔

اس رات کو ہم جو عبادت اور دعا کریں گے وہ ایک ہزار ماہ یا ۸۳ سال، بالفاظ دیگر پوری زندگی، کی عبادت سے بھی زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ اللہ کی ہم پر خاص عنایت ہے۔

فرماں برداری، تقوی، صبر اور استقامت ہم کو اللہ کے قریب کرنے والی خوبیاں ہیں ۔ پھر تلاوت قرآن، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی، جو اگر چہ فرض تو نہیں، تا ہم تہجد اور تراویح قرآن سے تعلق کا اہم ذریعہ ہیں۔ مسلم تاریخ میں تراویح رمضان کے پورے دن کے پروگرام کا حصّہ رہا ہے، ایک ادارہ اور ایک مستحکم روایت۔ دن بھر کے روزہ کے بعد، رات کو آپ تراویح کے لیے اللہ کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ آٹھ رکعات ہوں یا ۲۰، قرآن کی تلاوت اور ساعت پورے مہینے جاری رہتی ہے اور قرآن کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔

اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر نیکی کا بدلہ ہے دس گنا، ستر گنا، سات سو گنا، یا اس سے بھی زیادہ، مگر روزہ کا بدلہ اور اجر دینا میری خاص عنایت ہے۔ اس کا اجر لا محدود ہوگا۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“اللہ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے سوائے روزہ کے، کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا”۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۴)

  • روزہ اور احتساب: روزہ ایمان کے شعور اور احتساب کے احساس کے ساتھ رکھا جائے۔ ایمان سے مراد ہے خالص اللہ کے لیے، نہ کہ لوگوں کے لیے یا کسی اور غرض سے ۔ اور احتساب کا مطلب ہے کہ پابندی، اجازت، جائز و نا جائز سب کو اللہ کی رضا کی خاطر قبول کیا جائے ۔ روز مرو زندگی میں ہم سے غلطیاں اور بھول چوک ہوتی رہتی ہے، ہم کبھی کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں جو نہیں کہنا چاہیے تھا، مگر رمضان میں ہمیں غلط کاموں اور باتوں سے بچنے کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

اگر کوئی تمھیں برا بھلا کہے، یا گالم گلوچ کرے، یا لڑے جھگڑے، تو اس کی بات یا حرکت کا جواب نہ دو بلکہ کہو کہ “میں تو روزے سے ہوں”۔

 روزہ تو تزکیۂ نفس ہے، اخلاقی تربیت ہے:

 فَإِن سَابَهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، ۱۹۰۴)

“اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں “۔

روزے کا ظاہری پہلو یہ ہے کہ بھوک لگنے پر آپ کو ان لوگوں کا اور ان کی حالت کا خیال آتا ہے جو معاشرے میں ہمارے درمیان موجود تو ہیں مگر بھوکے پیاسے اور سہولتوں سے محروم ۔ ہم میں ان کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں، یا نہیں کرتے، اس کے اثرات کا ہمیں ہمیشہ احساس رہنا چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے”۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم ۱۹۰۱)

اتنی بڑی نعمت مل جائے تو اور کیا چاہیے!

خلاصہ یہی ہے کہ روزہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان بہت ہی خاص، ذاتی اور بلا واسطہ تعلق قائم کرتا ہے۔ اس کو کوئی نہیں دیکھتا، مگر اللہ اس کا گواہ ہوتا ہے۔ اس سے تزکیہ، اپنے آپ کو پاک صاف کرنے اور رکھنے کا کام ہوتا ہے۔ نتیجہ میں پاک صاف اور نظم و ضبط والے معاشرے کا ماحول بنتا ہے۔

اس مہینے کا اپنا ہی ماحول ہوتا ہے، اپنی ہی الگ فضا۔ اسی لیے وہ لوگ بھی جو عام طور پر نماز نہیں پڑھتے یا ہر کام شعور کے ساتھ اسلام کے مطابق نہیں کرتے، وہ بھی اس مہینے میں ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور حتی الوسع رمضان کے احترام میں عبادات میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ رمضان کی آمد پر ہمیں اس ماحول اور فضا کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا ایک بار پھر موقع مل رہا ہے۔ رمضان تو ایک آئینہ کی طرح ہے جس میں مسلمان افراد اور قوم سب ہی اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »