ArticleIslamIslamic ThoughtMedia Article

اجتماع عام کا پیغام

جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماعات کا اپنا ایک مزاج اور کردار ہے۔ جماعت کا ہر اجتماع ابتدا ہی سے ملک وملت دونوں کے لیے ایک مخصوص پیغام دینے اور ہدایات کا ر فراہم کرنے کی روشن روایت رکھتا ہے لیکن ۲۴ تا ۱۲۶ اکتوبر ۲۰۰۸ء کو مینار پاکستان کے زیر سایہ اقبال پارک لاہور میں منعقد ہونے والے اجتماع کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان اور ملت اسلامیہ کی تاریخ کے بڑے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر اس اجتماع نے پاکستان اور عالمی اسلامی تحریکوں کے لیے مستقبل کی جس روشن راہ کی نشان دہی کی ہے وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے گوشے گوشے سے جمع ہونے والے لاکھوں تحریکی کارکنوں، دُنیا بھر کی اسلامی تحریکات کی قیادت، کینیڈا اور امریکا سے لے کر جاپان اور ملایشیا تک سے شریک ہونے والے مندوبین نے کامل یکسوئی کے ساتھ اُمت مسلمہ کو در پیش مسائل و حالات کا جس وقت نظر سے تجزیہ کیا اور عمومی مایوسی کے ماحول میں اعتماد اور فراست کے ساتھ مستقبل کے لیے جس طرح ایک روشن شاہ راہ کی نشان دہی کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ خوف، بدامنی اور عدم تحفظ کی ملک گیر فضا میں لاکھوں افراد کے اس شہر میں تین روز تک علمی اور دعوتی اجتماع کی شکل میں جس سکون ، اطمینان اور عزم و استقلال کا نمونہ پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس اجتماع کے پس منظر اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے دو امور کا ادراک ضروری ہے۔

عالمی پس منظر: ویسے تو اسلام اور مسلمان ایک مدت سے مغرب کی استعماری طاقتوں اور الحاد، لادینیت، اباحت پرستی اور مادر پدر آزادی کے علم برداروں کی مخالفت، تضحیک اور تنقید کا نشانہ رہے ہیں لیکن اس مخالفت میں ۱۹۷۳ء کی جنگ رمضان اور شاہ فیصل شہید کی تحریک پر عربوں کے تیل کے ہتھیار کے استعمال کے بعد بڑی تیزی اور تلخی آگئی جو ۱۹۷۹ء کے ایران کے اسلامی انقلاب ۹۰ – ۱۹۸۹ء میں افغانستان سے روسی افواج کی واپسی ، فلسطین میں حماس کے انتفاضہ، لبنان میں حزب اللہ کی مسلسل کامیابیوں ، الجزائر میں اسلامک فرنٹ کی انتخابی کامیابی اور دوسرے مسلم ممالک میں اسلامی تحریکات کے اجتماعی اثر و رسوخ کے بڑھنے سے تیز تر کر دی گئی۔ مسلم دنیا کو بانٹنے اور اس کے سیاسی نقشے کو تبدیل کرنے کے لیے منصوبوں پر تیزی سے عمل شروع ہو گیا۔ عراق سے ایران پر حملہ کرایا گیا۔ پھر پہلی جنگ خلیج کا خونی ڈراما رچایا گیا اور بالآخر نائن الیون کے ڈرامائی حادثے کے بہانے افغانستان پر فوج کشی، پھر عراق پر حملہ اور پوری دُنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس دُنیا میں جہاں ایک بلین سے زیادہ افراد غربت، بھوک، افلاس، جہالت اور بیماری کی گرفت میں نہیں، کھربوں ڈالر خرچ کر کے بش کے الفاظ میں: ‘خدا کے بلا واسطہ احکام کے تحت’ پوری دنیا کو ایک   صلیبی جنگ crusades]] میں جھونک دیا ہے۔ اس سلسلے کا تازہ شاہ کار وہ نام ہے جو افغانستان کی حالیہ فوجی کارروائی کو دیا گیا ہے یعنی Lion-heart جس کا شجرہ نسب صلیبی جنگ کے ایک خونی کردار رچرڈ دی لائن ہارٹ سے ملتا ہے۔ اب اسے نادانی کہیں یا ذہنی غلامی، کہ پاکستان نے اپنی حالیہ مذموم فوج کشی کا نام شیر دل رکھا ہے۔

افغانستان میں یہ جنگ ہزاروں افراد کی جانیں لے چکی ہے، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہیں اور جنگ کی آگ اب پاکستان کے قبائلی علاقوں سے بڑھ کر آباد علاقوں [settled areas] کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ۱۵ ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ہزاروں زخمی ہیں اور بے گھر افراد کی تعداد ۸ لاکھ سے متجاوز ہے۔ اعراق میں تباہی سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر ہے۔ وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد محتاط اندازوں کے مطابق ۶ لاکھ سے متجاوز ہے اور ملک کا چپہ چپہ معصوموں کے خون سے رنگین ہے اور تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ساری دُنیا بے چینی اور عدم تحفظ کی گرفت میں ہے اور اسرائیل اور بھارت کو چھوڑ کر دُنیا کے ہر ملک میں امریکا سے بے زاری اور نفرت کی لہریں اٹھ رہی ہیں اور آبادی کی عظیم اکثریت [۶۰ سے ۹۰ فی صد تک] امریکی پالیسیوں سے اپنے اختلاف کا برملا اظہار کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود امریکی قیادت، میڈیا اور اہل قلم کی ایک بڑی تعداد اسلام اور مسلمانوں کو ہدف بنائے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی خاص عنایت اسلامی تحریکات پر ہے جن کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات سمجھتی ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی کی اسلام کی تعلیمات اور قوانین کی روشنی میں تشکیل نو   کرنا چاہتی ہے ۔ اسے پہلے Radical Islam  [انقلابی اسلام] اور Fundamentalism[بنیاد پرستی]  کا نام دیا گیا اور اب اسے   Islamic Terrorism[اسلامی دہشت گردی]  اور   Islamo-fascism[اسلامی فاشزم] کا منبع قرار دیا جارہا ہے۔

اس پس منظر میں ۴۰ مسلم ممالک کے اسلامی قائدین کی جماعت کے اجتماع میں شرکت اور اسلام کے عالمی پیغام اور اُمت کی وحدت کی ضرورت پر مکمل یک جہتی کا اظہار روشنی کے سفر کی ایک تابناک علامت ہے۔

• ملکی صورت حال: وطن عزیز کے حالات سیاسی، معاشی، ثقافتی، اخلاقی اور اجتماعی ہر اعتبار سے بحرانی کیفیت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پرویز مشرف کی ساڑھے آٹھ سالہ آمرانہ حکمرانی، نائن الیون کے بعد قومی زندگی کے ہر شعبے میں امریکی مداخلت میں اضافہ اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کی شرکت کے نتیجے میں فوج اور قوم میں جو کش مکش اور ڈوری رونما ہوئی ہے اور جس طرح فاٹا، سوات، باجوڑ اور دوسرے علاقوں میں خانہ جنگی کے شعلے بھڑک اُٹھے ہیں، اس نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سارے ہی ادارے مضمحل ہو کر رہ گئے ہیں۔ معاشی ترقی کے بلند بانگ دعووں کا غبارہ جلد ہی پھٹ گیا اور گذشتہ دو سال میں خاص طور پر مہنگائی، توانائی کی قلت، تیل کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ، بے روزگاری، زرعی اور صنعتی کساد بازاری، اشیائے ضرورت کی قلت، تجارت اور ادایگیوں کے توازن میں شدید خسارے اور حکومت کے مصارف میں بے محابا اضافوں کے نتیجے میں بجٹ کے خسارے نے پوری معیشت کی چولیں ہلادی ہیں۔ پھر مارچ ۲۰۰۷ء میں مشرف کا عدالت عالیہ پر شب خون اور ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کو پوری عدلیہ کو تہ وبالا کرنے، دستور کو سخ کرنے اور میڈیا کی آزادی پر کاری ضرب لگانے سے حالات کا بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس پر مستزاد امریکا اور برطانیہ کے توسط سے قومی مفاہمت [reconciliation] کے نام پر پیپلز پارٹی اور مشرف کے درمیان نئی سودے بازی جس کے نتیجے میں ۶۰۰ ارب روپے کی بدعنوانی [corruption] کے معاملات کو دفن کر کے اور محترمہ بے نظیر صاحبہ کو میدان سے ہٹا کر ایک نیا سیاسی انتظام کیا گیا ہے جس کا اصل مقصد تو مشرف صاحب کے اقتدار کو مزید مہلت دینا تھا مگر بالآخر وہ زرداری صاحب کے اقتدار پر متمکن ہونے پر منتج ہوا۔

سیاسی تبدیلی کا یہ عمل ایک عظیم تحریک مزاحمت سے شروع ہوا تھا جس کی قیادت ملک کی وکلا برادری کر رہی تھی اور جس کی علامت چیف جسٹس افتخار چودھری تھے ۔ اس تحریک میں پوری سول سوسائٹی اور اہم سیاسی کارکن اور جماعتیں شریک ہوئیں اور ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں عوام نے مشرف اور اس کی پالیسیوں کے خلاف اپنے فیصلے کا اعلان کیا اور کسی ایک پارٹی کو اکثریت نہ دے کر یہ پیغام بھی صاف لفظوں میں دے دیا کہ سب سیاسی قوتوں کو، خصوصیت سے پی پی پی اور نواز مسلم لیگ کو مل کر قومی مفاہمت کے ذریعے پرویزی دور کی زیادتیوں اور انحرافات [deviations] کی اصلاح کر کے دستور کی اس شکل میں جو 1999 ء میں تھی  عدلیہ کی حقیقی آزادی اور غیر قانونی طور پر معزول کیے جانے والے ججوں کی باعزت بحالی، نیز قومی آزادی، خود مختاری اور عزت کی قیمت پر امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شرکت کی پالیسی کی تبدیلی اور خارجہ پالیسی کی اس قلب ماہیت کی تصحیح کا مینڈیٹ دیا جو امریکا، بھارت اور اسرائیل کے دیے ہوئے ایجنڈے کے تحت پرویز مشرف نے آمرانہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کی تھی۔ معاشی پالیسی کے دروبست کی تبدیلی بھی عوام کے مینڈیٹ کا حصہ تھی کہ پرویزی دور کی پالیسیوں کے نتیجے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہے تھے اور ملک کو نمایشی ترقی کے سراب کے نشے سے مسحور کیا جا رہا تھا، جب کہ فی الحقیقت زرعی اور صنعتی شعبوں میں حقیقی پیداواری ترقی مفقود تھی اور ملک بجٹ، تجارت اور توازن ادائیگی کے خساروں سے دو چار، اور ملکی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا جا رہا تھا۔

قوم کوئی مخلوط حکومت سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ زرداری صاحب نے ایک طرف ساری توجہ اپنے ذاتی اقتدار کومستحکم کرنے پر دی تو دوسری طرف ایک ایک کر کے ان تمام وعدوں کی خلاف ورزی کی راہ اختیار کی جو میثاق جمہوریت، جولائی ۲۰۰۷ ء کے اعلانِ لندن، اور فروری مارچ ۲۰۰۸ ء کے اعلانِ بھوربن اور اعلان دوبئی میں کیے گئے تھے۔ اس کا پہلا نتیجہ مسلم لیگ نواز کی حکومت سے علیحدگی اور اس کے بعد زندگی کے ہر شعبے میں عملاً پرویز مشرف کی پالیسیوں کا تسلسل اور بالآخر معیشت کے میدان میں آئی ایم ایف کے جال میں دوباره گرفتاری، بھارت کے مقابلے میں مسلسل پسپائی کشمیر کے مسئلے پر پریشان کن ژولیدہ بیانی اور امریکا کے پنجے میں اس حد تک گرفتاری کہ ستمبر کو امریکی افواج نے پاکستان کی سرزمین پر زمینی حملہ بھی کر دیا اور مارچ ۲۰۰۸ء میں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے ۴۰ سے زیادہ فضائی حملے پاکستان کی سرزمین پر ہو چکے ہیں جن میں ۴۰۰ سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس سب کچھ پر مستزاد امریکا اور یورپ کی مجالس دانش [think tanks] کی وہ فکری اور نفسیاتی جنگ ہے جو روز افزوں ہے۔ ان تمام جائزوں اور رپورٹوں کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ناکام ہوتی ہوئی [failing] ریاست ہے، دہشت گردی کا اصل مرکز پاکستان کے علاقوں میں ہے، پاکستان کے لیے اپنے جغرافیائی وجود کو باقی رکھنا ممکن نہیں رہا ہے اور پاکستان خدانخواستہ اگلے ۱۵،۱۰ سال میں صفحہ ہستی سے معدوم ہو جائے گا یا اس کے ایسے حصے بخرے ہو جائیں گے کہ وہ سیاسی بساط پر ایک اہم کردار ادا کرنے کے لائق نہیں رہے گا۔ یوں نہ صرف پاکستان کی معیشت کو استعماری شکنجوں میں کسا جا رہا ہے بلکہ ملک کے مستقبل ہی کو مخدوش اور مشکوک بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

موجودہ حکومت کے ۹ مہینوں پر پھیلے ہوئے دور اقتدار میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور امن و امان کی زبوں حالی کے ساتھ معاشی افراتفری، معاشرتی اضمحلال، سیاسی انتشار اور داخلی عدم استحکام میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا ہے اس کے ساتھ نظریاتی خلفشار اور ثقافتی اور تہذیبی بگاڑ بھی بلوہ عموم کی سی کیفیت اختیار کر رہے ہیں۔ فکری اور اخلاقی ہر دو اعتبار سے حالات مخدوش تر ہوتے جا رہے ہیں اور نو جوانوں میں بے راہ روی اور قوم میں ہر سطح پر ڈسپلن کی کمی ایک وبا کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔

ان حالات میں قوم کو جھنجھوڑنے اور وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے بیدار، متحرک اور منظم کرنے کی ضرورت تھی۔ اس پس منظر میں جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر یہ ولولہ انگیز اعلان کے ساتھ کیا۔

صنم کدہ ہے جہاں، لا إله إلا الله

مجھے ہے حکم اذاں، لا إله إلا الله

اجتماع کے کامیاب انعقاد کے اس پہلو کو سب نے محسوس کیا اور سراہا کہ مایوسی کی فضا میں جماعت کا لاکھوں افراد پر مش پر مشتمل یہ اجتماع روشنی کی ایک تازہ کرن ہے۔ اس طرح اس پہلو پر بھی ہر حلقے نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے کہ ملک پر خوف اور عدم تحفظ کے جو بادل چھائے ہوئے تھے اور جن کی وجہ سے سرکاری حکام ہی نہیں بہت سے دانش ور بھی احتیاط کا مشورہ دے رہے تھے اور لاہور کے قلب میں اتنے بڑے اجتماع کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار کر رہے تھے، الحمد للہ وہ سب یا ذکر ہوا ثابت سب پاؤر ہوا ثابت ہوئے اور جماعت کے شان دار روایتی اظم ونسق کے ساتھ یہ سہ روزہ اجتماع بڑی خوش اسلوبی سے انجام پذیر ہوا اور قوم میں امید اور اعتماد کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔

یہ دونوں پہلو اپنی جگہ اہم ہیں اور ہم انپراللہ تعالی کا شکراداکرتے ہیں لیکن ہماری نگاہ میں اس اجتماع کی اصل اہمیت ان سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا تعلق اس پیغام سے ہے جو اس اجتماع نے پوری قوم کو دیا ہے اور مستقبل کے لیے ملک اور عالمی سطح پر نظریاتی، سیاسی اور تہذیبی جدو جہد کے جو خدو خال اس میں پیش کیے گئے ہیں، دو وقت کی ضرورت اور مستقبل کی تعمیر کے لیے راہ عمل کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان پہلوؤں پر سب کو غور وفکر کی دعوت دیں۔

نصب العین کی تذکیر

جماعت اسلامی کے اس اجتماع کا اولین مقصد تذکیر تھا تا کہ جماعت کے کارکنوں اور معاونین کے سامنے خاص طور پر، اور پوری قوم اور امت مسلمہ کے سامنے بالعموم، ایک بار پھر وہ مقصد آسکے جس کے لیے تحریک اسلامی پاکستان میں، اور دیگر اسلامی تحریکیں دُنیا کے گوشے گوشے میں اپنے اپنے حالات کے مطابق اپنے انداز میں جدو جہد کر رہی ہیں۔

تحریک اسلامی کی نگاہ میں زندگی کے تمام مسائل کا حل اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل وفاداری کے ساتھ اطاعت، اور آخرت کی زندگی میں کامیابی کے حصول کے لیے دُنیا میں قرآن وسنت کے مطابق عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے میں ہے۔ سارے مسائل کے حل کی کلید اخلاق کی اصلاح اور پوری زندگی کو خیر وشر اور حلال اور حرام کے اس ضابطے کے مطابق گزارنے میں ہے جو اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی محمد ﷺ کے ذریعے پوری انسانیت کو دیا ہے اور اُمت مسلمہ جس کی امین ہے۔

نبی کریم ﷺ سے ہم نے سرداران عرب کو مخاطب کر کے فرمایا تھا: ایک کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کو اختیار کر لوتو عرب وعجم پر تمھارا جھنڈا لہرائے گا۔ یہی وہ پیغام ہے جسے اقبال نے اپنی اس خوب صورت غزل میں پیش کیا ہے جو ۲۰۰۸ ء کے اجتماع کی علامت تھی:

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں، لا اله الا الله

جماعت اسلامی کا دستور اس تحریک کے عقیدے کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے:

جماعت اسلامی پاکستان کا بنیادی عقیدہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہوگا، یعنی یہ کہ صرف اللہ ہی ایک الہ ہے اور اس کے سوا کوئی الہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ [دفعہ ۳]

اس عقیدے کو دل کی گہرائیوں اور عقل کی سپردگیوں کے ساتھ قبول کرنے کے معنی یہ ہیں:

  • انسان اللہ کے سوا کسی کو ولی وکارساز، حاجت روا اور مشکل کشا، فریا درس اور حامی و ناصرنہ سمجھے۔
  • اللہ کے سوا کسی کو نفع ونقصان پہنچانے والا نہ سمجھے۔
  • اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہ جھکائے۔
  • اللہ کے سوا کسی کو بادشاہ، مالک الملک، مقتدر اعلی تسلیم نہ کرے اور صرف اللہ کے حکم کی اطاعت اور اس کے دیے ہوئے قانون کی پابندی کرے۔
  • اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذمہ دار اور جواب وہ سمجھے اور اپنی قوتوں کے استعمال اور اپنے برتاؤ میں ہمیشہ اس حقیقت کو محوظ رکھے کہ اسے قیامت کے روز اللہ کو ان سب چیزوں کا حساب دینا ہے۔
  • اپنی پسند کا معیار اللہ کی پسند کو، اپنی ناپسندیدگی کا معیار اللہ کی ناپسندیدگی کو بنائے۔
  •  اللہ کی رضا اور اس کے قرب کو تمام سعی وجہد کا مقصود اور اپنی پوری زندگی کا محوربنائے۔
  • اپنے لیے اخلاق میں، برتاؤ میں، معاشرت، تمدن اور سیاست میں، غرض زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کی ہدایت کو ہدایت تسلیم کرے اور ہر اس طریقے اور ضابطے کو رد کر دے جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہو۔
  • قرآن وسنت ہی مسلمان کے لیے صحیح ضابطہ حیات ہیں اور مسلمان وہ ہے جو ہر اس تعلیم اور ہدایت کو بے چون وچرا قبول کرے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ثابت ہو۔

اس  کلمے کے ماننے والے ایک امت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو استخلاف کی جو ذمہ داری اور سعادت سونپی ہے وہ اس کے امین ہیں۔ استخلاف کا تقاضا زمین پر اپنے مالک کی مرضی کو پورا کرنا اور زندگی کے پورے نظام کو رب السموات والارض کی ہدایت کے مطابق مرتب و منظم کرنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے تحریک اسلامی اپنا نصب العین قرار دیتی ہے، جو دراصل اُمت مسلمہ اور پوری انسانیت کا حقیقی نصب العین ہے یعنی اقامت دین۔

جماعت کا دستور کہتا ہے کہ:

جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی وجہد کا مقصد عملا اقامت دین حکومت الہیہ یا اسلامی نظام ندگی کا قیام اور حقیقت رضائے الہی اور فلاح اخروی کا حصول ہوگا۔ [دفعہ ۴]

جو چیز جماعت اسلامی کی منفرد حیثیت کو نمایاں کرتی ہے وہ اس کا یہی نظریاتی، اخلاقی، تہذیبی اور انقلابی کردار ہے۔ یہ جماعت کسی وقتی ضرورت اور محدود سیاسی ہدف کے حصول کے لیے قائم نہیں ہوئی بلکہ انسان کی پوری زندگی کو اسلام کے انقلابی پیغام ہدایت کے مطابق ڈھالنے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے پورے نظام کو اللہ کی شریعت کی روشنی میں مرتب ومنظم کرنے کے لیے قائم ہوئی ہے۔

جماعت کے دستور میں اس نصب العین کی تشریح یوں کی گئی ہے ایک تیرا اقامت دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پورے دین کی اقامت ہے، خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، نماز، روزہ اور حج وزکوۃ سے ہو یا معیشت ومعاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیر ضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجز یہ وتقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدو جہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہر مومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے ان اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہو سکتا، اہل ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر چه مومن کا اصل مقصد زندگی رضاے الہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش ت کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اور حقیقی نصب العین وہ کہ رضائے الہی سے جو اقامت دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی ۔ [ص ۱۴ – ۱۵]

جماعت اسلامی سیاسی نظام کی اصلاح اور اسلامی بنیادوں پر انقلاب قیادت کی داعی ہے اور اس پہلو سے وہ ایک سیاسی جماعت ہے جو زمام کارایسے لوگوں کے ہاتھ میں سونپنا چاہتی ہے جو اللہ کے وفادار اور شریعت اسلامی کے نفاذ کے داعی ہوں اور جن کا اپنا کردار سیاسی تبدیلی کے اس پروگرام سے مطابقت رکھتا ہوں۔ اس معنی میں وہ ایک سیاسی جماعت ہے لیکن جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظریاتی تحریک بھی ہے جو سیاست سمیت زندگی کے تمام نظام کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے یہ کی ہدایت کے مطابق منظم اور مرتب کرنا چاہتی ہے۔ اس کے پروگرام کے چار عناصر ترکیبی ہیں جو مساوی طور پر اہم ہیں اور ایک دوسرے سے مربوط اور نا قابل تقسیم ہیں۔

فکر کا تزکیہ: ایمان کا احیا اور فکری اور نظری اعتبار سے اسلام کی صحیح اور مکمل تفہیم تا کہ عقیدہ، فکر، تصور کائنات اور دین کی روشنی میں ضابطہ حیات کا صحیح شعور دل ودماغ کے اطمینان کے ساتھ زندگی کا رہنما بن سکے۔ اس کے لیے قرآن وسنت سے رابطہ تعلق اور ان کی تعلیمات کے مکمل اور اک کے ساتھ اپنے زمانے کے ان تصورات اور نظریات کا علم اور نقد واحتساب بھی شامل ہے جو اسلام کے تصویر دین وتہذیب سے متصادم ہوں اور اپنے دور کے حالات کی روشنی میں فکر اسلامی کی تشکیل جدید اور حقیقی اصل مآخذ سے مکمل وفاداری اور امت مسلمہ کی معروف روایات کے احترام کے ساتھ مسلمہ اصول فقہ کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے کی جائے۔

• منظم جدوجہد: اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں فرد اور معاشرے کی اخلاقی تربیت اور تزکیہ، تا کہ اسلام کا انسان مطلوب وجود میں آسکے، اور فرد اور معاشرہ اخلاقی محرکات کی قوت سے نئی زندگی کی تعمیر کا کام انجام دے سکے۔ کردار سازی اور اخلاقی تعمیر کے ساتھ ایسے تمام مردوں اور عورتوں کو منظم اصلاحی جد وجہد سے منسلک کرنا بھی اس پروگرام کا ایک مرکزی نکتہ ہے تا کہ زندگی کی تشکیل نو کا کام انفرادی مساعی کے ساتھ اجتماعی اور منظم جدوجہد کے ذریعے انجام پاسکے۔

• اصلاح معاشرہ: تیر انکتہ اصلاح معاشرہ ہے جس کے تحت تعلیم تبلیغ، اصلاح رسوم، مسجد اور مدرسے کا فروغ، خاندانی نظام کا استحکام اور مسلم معاشرے کی اجتماعی زندگی اور اداروں کو اسلامی اقدار، اصولوں اور احکام کے مطابق مرتب کرنا ہے۔ نیز پورا معاشرہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے احترام وانصرام کے ساتھ امداد باہمی کی بنیاد پر خدمت، اجتماعی تکافل اور معاشرتی انصاف کا نمونہ بنے۔

• انقلاب قیادت: احیاے ایمان اور فکری تشکیل نو، تزکیہ نفس اور فرد اور معاشرے کی اخلاقی تعمیر، معاشرے کی اصلاح اور سماجی اور تمدنی اداروں کی اسلامی اقدار کی بنیادوں پر تعمیر وتشکیل کے ساتھ اقامت دین کی منزل اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک سیاست کی اصلاح انجام نہ پائے اور ملک کا نظام حکومت وعدالت ہلکی قانون اور اقتدار کے تمام مراکز کو بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ملے ہم کی دی ہوئی ہدایت کا پابند اور ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔ جماعت یہ تبدیلی اذہان اور اخلاق کی اصلاح کے ساتھ ساتھ عوامی رائے عامہ کی تسخیر کر کے انقلاب قیادت کے ذریعے لانا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی ووٹ کی قوت سے سیاسی تبدیلی لانے کی داعی ہے اور سیاست میں غیر آئینی اور غیر اخلاقی ذرائع کے استعمال کی مخالف ہے۔ اس طریق کار کو دستور جماعت بہت صاف الفاظ میں اس طرح بیان کرتا ہے:

دفعه ۵: جماعت کا مستقل طریق کار یہ ہوگا کہ:

ا۔ وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ خدا اور رسول ﷺ ملنے کی یکم کی ہدایت کیا ہے۔ دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیش نظر رکھے گی جہاں تک اسلام میں اس کی گنجایش ہوگی۔

۲۔ اپنے مقصد اور نصب العین کے حصول کے لیے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض

رونما ہو۔

۳۔ جماعت اپنے پیش نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی یعنی یہ کہ تبلیغ وتلقین اور اشاعت افکار کے ذریعے سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیا جائے جو جماعت کے پیش نظر ہیں۔

۴۔ جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدو جہد خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔

جماعت اسلامی کی انفرادیت اس کے مندرجہ بالا نظریاتی، اخلاقی، تہذیبی اور انقلابی خصوصیات کی رہین منت ہے۔ بلاشبہ اس کی تنظیمی سرگرمیوں کا محور پاکستان ہے لیکن اس کی نظریاتی دعوت پوری انسانیت کے لیے ہے اور وہ ان عالمی اصلاحی تحریکوں کا حصہ ہے جو اپنے اپنے دستور، اپنی اپنی تنظیم اور اپنی اپنی قیادت کے تحت چل رہی ہیں اور عالمی سطح پر ایک نظریاتی اور تہذیبی رو کا حصہ اور رنگ رنگ کے پھولوں کا ایک حسین گلدستہ ہیں-

اکتوبر ۲۰۰۸ء کا اجتماع جماعت کے کارکنوں کی تذکیر ہی کا نہیں بلکہ پوری قوم اورعالمی برادری کے سامنے اپنے اس ہمہ گیر اور منفرد کردار کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔

• منزل به منزل: جماعت اسلامی نے اپنے اس انقلابی سفر کا آغاز اگست ۱۹۴۱ء میں کیا تھا جب دین حق کے ۷۵ متوالوں نے لاہور میں جمع ہو کر اپنے آقا سے ایک نیا عہد کیا تھا کہ وہ دین کی مکمل اقامت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر یں گے اور منظم انداز میں ایک عالمی انقلاب کی طرف پہلا قدم اٹھائیں گے۔ جماعت کے قیام سے بھی ۹ سال پہلے اللہ کے ایک مخلص بندے نے ترجمان القرآن کے ذریعے قرآن کے پیغام انقلاب کو مسلمانوں تک خاص طور پر اور تمام انسانوں تک بالعموم پہنچانے کے لیے اپنی جد وجہد کا آغاز کیا تھا اور 9 سال کی شب و روز کی کوشش سے فکر اسلامی کی تشریح و توضیح اور دعوت اسلامی کو اس کی اس شکل میں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دور کے حالات کے پیش نظر دی، دلیل اور دیانت سے پیش کی۔ یہی وہ دعوت تھی جس نے بر عظیم کے باشعور نفوس کی قلب ماہیت کی اور بالآخر اس انقلابی آواز پر لبیک کہنے والوں نے جماعت اسلامی قائم کی۔ برعظیم کی تقسیم کے بعد تحریک کا نیا مرکز پاکستان بنا، جب کہ بھارت، سری لنکا، مقبوضہ کشمیر اور ا۱۹۷ء کے سانحہ کے بعد بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اسی مقصد کے لیے مگر اپنے اپنے حالات کے مطابق اپنے اپنے دستور اورنظم جماعت اور قیادت کے تحت کام کر رہی ہے۔

اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان میں جماعت اسلامی ایک اہم نظریاتی، سیاسی تعلیمی اور سماجی قوت ہے۔ اجتماع اکتوبر میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق اس وقت جماعت کے تقریباً ۲۳ ہزار ارکان اور رکنیت کے کے اہزار امیدوار ہیں خواتین ارکان کی تعداد ۲۳۹۹ اور رکنیت کی امید وارخواتین ۱۴۳۷ ہیں ۔ ملک بھر میں جماعت کے کارکنوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ اور اس کے عام ممبروں کی تعداد ۵۰ لاکھ سے متجاوز ہے۔ تنظیمی اعتبار سے مرکز، صوبوں اور اضلاع کی سطح پر جماعت کی کارروائیاں جاری وساری ہیں اور ہم ہزار سے زائد یونین کونسلوں میں تنظیم قائم ہے۔ ملک میں درس قرآن کے ۸ ہزار حلقے اور تعلیم القرآن کے ۳۳۱۷ مراکز کام کر رہے ہیں۔ فہم دین کے پروگرام کے تحت تقریباً ۹۰۰ پروگرام ایک سال میں منعقد ہورہے ہیں جو دس روزہ اور سہ روزہ قرآن فہمی کے اجتماعات سے عبارت ہیں اور ایک ایک پروگرام میں کئی کئی ہزار افراد باقاعدگی سے شرکت کر کے قرآن کے پیغام کو سمجھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ خواتین کے حلقے میں فہم قرآن کے ۱۳۶ ادار ے قائم ہیں اور درس قرآن کا سلسلہ ۴۲۱۱ حلقوں میں انجام دیا جارہا ہے۔ دعوتی کیمپ سال گذشتہ میں ۲۸۳۰ لگائے گئے اور کل دعوتی وفود کی تعداد ۲۰ ہزار کے قریب رہی۔ جماعت کے نظم کے تحت اس وقت ملک میں چھوٹی بڑی ۷۵۵۸ لائبریریاں کام کر رہی ہیں۔

جماعت کی برادر تنظیموں کا کام اس کے علاوہ ہے جو زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے اپنے دائرہ کار میں سرگرم عمل ہیں اور الحمد اللہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں جماعت اور اس کے کارکن متحرک نہ ہوں ۔ ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ-

ہم نے یہ مختصر جائزہ تحدیث نعمت کے احساسات کے ساتھ پیش کیا ہے اور مقصد اس امر کا اظہار بھی ہے کہ دعوت، تربیت، اصلاح معاشرہ، خدمت عوام، تعلیم اور سیاسی تبدیلی کا وہ پروگرام جس پر جماعت اسلامی کام کر رہی ہے ایک ہمہ جہتی پروگرام ہے۔ اس کے کام کا تعلق محض سیاسی موسم سے نہیں، یہ جماعت ایک تحریک کا مرکز ومحور ہے اور اس کی دعوتی اور اصلاحی سرگرمیاں سال کے بارہ مہینے اور ہر مہینے کے تمہیں دن جاری ہیں  ؏

بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

در پیش چیلنج اور تحریک اسلامی

اجتماع کا ایک اور مقصد جماعت کے پیغام کو جماعت کے اپنے کارکنوں کے سامنے، ان میں مکمل یکسوئی پیدا کرنے کے لیے، پوری قوم کے سامنے، ملک کو در پیش ایشوز پر اپنے موقف کو بیان کرنے کے لیے، اور پوری دُنیا خصوصیت سے عالمی قوتوں کے سامنے، انھیں یہ موقع فراہم کرنے کے لیے تھا کہ وہ تحریک اسلامی کو اس کے اپنے الفاظ اور بیان کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں اور اُسے دیسے تعصب اور عناد کی عینک سے نہ دیکھیں، جس طرح میڈیا کے بعض عناصر حقیقت کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں۔

عالمی سطح پر اس اجتماع کے ذریعے جماعت اسلامی نے امریکا اور مغربی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ان خانوں میں رکھ کر نہ دیکھیں جو ان کے تنگ نظر سیاسی اور فکری قائدین نے وضع کیے ہیں۔ اسلام ایک عالم گیر پیغام کا علم بردار ہے لیکن یہ پیغام کوئی نیا پیغام نہیں بلکہ وہی پیغام ہے جو خالق کا ئنات نے اپنے تمام انبیا کے ذریعے انسان کی ہدایت کے لیے بھیجا اور جس کی آخری اور مکمل شکل وہ ہے جو نبی آخر الزماں سیدنا محمد ﷺ پر قرآن کی شکل میں نازل ہوئی اور جس کی عملی تعبیر وتشکیل پیغمبر اسلام کی سنت اور زندہ روایت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ پیغام اللہ کی بندگی کا، اللہ کے تمام بندوں کی اخلاقی ترقی اور تزکیے کا، تمام انسانوں کے در میان انصاف کے قیام اور حقوق العباد کی ادائیگی کے ذریعے ہر سطح پر انسانی زندگی کو امن اور عدل اور بھائی چارے کا گہوارہ بنانے کا ہے۔ یہ جنگ، خون ریزی اور دہشت گردی کا پیغام نہیں۔

بلکہ یہ تو انسان کی پوری زندگی کو اخلاقی اصولوں اور اقدار کی روشنی سے منور کرنا چاہتا ہے اور زندگی کو خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ یہ پیغام ابدی ہے مگر اس میں بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی پوری پوری گنجایش موجود ہے۔ اس پیغام کو اس کی اصل شکل میں پر کھنے کا سب کو پورا پوراحق ہے لیکن یہ رویہ منی بر حق و انصاف نہیں کہ اس دین کی تعلیمات کو مسخ کیا جائے اور سیاق و سباق سے علیحدہ [out of content] چیزوں کو لے کر اسلام کو تنقید و تنقیص کا ہدف بنایا جائے یا کچھ خاص افراد کے سیاسی اقدامات کو ان کے سیاسی پس منظر سے کاٹ کر اسلام کے سر تھوپ دیا جائے اور دُنیا کو ایک نظریاتی تصادم اور جنگ و جدال میں جھونک دیا جائے۔ امت مسلمہ امن و انصاف کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے اور دوسروں کے ساتھ بھی عزت اور انصاف سے معاملہ کرنے کی خواہش مند ہے لیکن اگر اس پر محض قوت کے بل پر کچھ نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی اور محض طاقت کے ذریعے اُمت کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اس کی ریاستوں کو اپنا تابع مہمل بنانے کی سعی کی جائے گی تو یہ تصادم کا راستہ ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

آج اُمت مسلمہ امریکی صہیونی، یورپی اور بھارتی استعمار کا نشانہ ہے۔ اگر ظلم اور سامراجی تسلط کے خلاف امت کے کچھ حصے یا عنا صر صف آرا ہیں تو ان مسائل کا بے لاگ انصاف کے ساتھ حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سیاسی مسائل کا حل قوت کے استعمال سے نہیں بلکہ حق وانصاف کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر یہ راستہ اختیار کیا جائے تو سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ خرابی کی جڑ استعماری ذہنیت اور قوت کے ذریعے مبنی برحق تحریکوں اور مزاحمتوں کو ختم کرنے کی ظالمانہ پالیسیاں ہیں۔ نیز طاقت ور ممالک کا یہ ادعا ہے کہ ان کو دوسروں کے وسائل پر قبضے کا حق ہے اور محض اپنی خواہشات بلکہ ہوس [greed] کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کے منہ سے ان کا نوالہ چھین لینا بھی ان کا حق ہے۔

اگر طاقت ور اپنے مفاد کی خاطر دوسروں پر ایسی دست درازیاں کریں گے تو دوسرے بھی کمزور ہونے کے باوجود مزاحمت اور اپنے مفادات کے تحفظ کا راستہ نکالنے پر مجبور ہوں گے کے ہاں دہشت گردی کے خلاف امریکا کی برپا کردہ یہ جنگ ہر میدان میں ناکام رہی ہے۔ عراق ہو یا افغانستان، پاکستان ہو یا کوئی اور علاقہ — نہ صرف یہ کہ یہ جنگ ناکام رہی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں امریکا کے خلاف نفرت کے جذبات کا طوفان اُمنڈ آیا ہے اور آج امریکا دُنیا میں جتنا بد نام ہے اور اسے جتنی بڑی تعداد میں رائے عامہ کی ہر سطح کے لوگ امن و انصاف کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں ، تاریخ سے کسی دور میں نہیں ہوا –

اس اجتماع میں عالم اسلام پر امریکا کی دست درازیوں کی مذمت کے ساتھ یہ واضح کیا گیا ہے کہ امریکا محض قوت سے اپنے نظریات اور تصورات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسروں کے وسائل پر قبضہ کر رہا ہے، ان کے استحصال [exploitation] کا مرتکب ہو رہا ہے اور مسلم ممالک میں جبر وقوت کے ذریعے قابض اپنے مفید مطلب حکمرانوں کی سرپرستی کر رہا ہے اور اب اس سے بڑھ کر مسلم دنیا میں انتہا پسندی اور میانہ روی کے نام پر اپنے ایجنٹوں کو آگے بڑھا کر ان کے ذریعے اپنے مطلب کے اسلام کو فروغ دینے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ یہ راستہ تصادم اور بگاڑ کا راستہ ہے — مسلم دنیا امریکا اور مغربی ممالک سے اور مغربی تہذیب کے علم برداروں سے مذاکرات اور افہام وتفہیم کے لیے ہر لمحہ تیار ہے لیکن مسلمان اپنے دین میں مداخلت، اپنی تہذیب کی پامالی، اپنی معیشت وسیاست پر غیروں کے تسلط اور اپنے درمیان دوسروں کے ایجنٹوں کے اقتدار کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم حقیقی کثیریت [pluralism] کے قائل ہیں لیکن کسی ایک ملک کا غلبہ اور بالا دستی ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی۔ اجتماع میں برطانوی صحافی خاتون اے وان رڈلی کی تقر یہ مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ اس میں مغرب کے لیے بھی پیغام ہے اور مسلمانوں کے لیے بھی۔ نوحہ صرف ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نہیں — تمام مظلوم انسانوں کا اور ظلم کے نظام کے خلاف نفرت اور بغاوت کا ہے۔

اجتماع کے مقررین اور خصوصیت سے بین الاقوامی اجلاس نے یہ پیغام بڑے بھر پور مگر باوقار انداز میں دیا ہے اور اسی جذبے سے دیا ہے کہ ؏

مجھے ہے حکم اذاں، لا اله الا الله

قومی بحران

اجتماع میں پاکستان نے موجودہ حالات کا بھی وقت نظر سے تجزیہ کیا گیا اور جماعت اسلامیکے موقف کو مسکت دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا۔

• بگاڑ کا بنیادی سبب: مسائل کی تشخیص میں سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ کسی ایک جزوی مسئلے کو توجہ کا مرکز نہیں بنایا گیا بلکہ بگاڑ کی جڑیر انگلی رکھنے کی کوشش کی گئی مختصر ا اس اجتماع میں یہ بات قوم کے سامنے رکھی گئی کہ اصل بگاڑ نظریاتی، اخلاقی اور اداراتی ہے۔ بلاشبہ شخصیات اور افراد خصوصیت سے ان کا کردار، ماضی اور حال دونوں اہم ہیں اور یہ بہت ہی تکلیف دہ امر ہے کہ عوام نے بڑی امیدوں سے اور بہت واضح وعدوں کی روشنی میں جن کو اقتدار سونیا انھوں نے ذاتی، گروہی اور جماعتی مفاد کی خاطر چند مہینے ہی میں عوام کو مایوس کر دیا ہے اور اس مینڈیٹ کا جواز بُری طرح مجروح ہو گیا ہے جو ۸ فروری کو عوام نے دیا تھا۔ عدلیہ کی بحالی کے مسئلے کو اس حکومت نے جس طرح الجھایا اور بگاڑا، وہ یقینا اس حکومت کا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری اور ان کے ساتھ معزول کیے جانے والے۶۰ جوں کی بحالی کا راستہ ١هـ ترک کر کے مسئلے کو الجھانے اور بددیانتی سے تعویق میں ڈالنے کا رویہ اختیار کیا۔ عدلیہ کی آزادی کو اُلٹی چھری سے سر عام ذبح کیا گیا ہے۔ کچھ بچوں کو مجبور اور بے وقعت کر کے نئے حلف کے تحت واپس لیا گیا ہے اور اس طرح عدالت پر سے پوری قوم کا اعتماد متزلزل کر دیا گیا ہے۔ جتنی بے وقعت اعلیٰ عدلیہ آج ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھی اور اس کی ذمہ داری پرویز مشرف کے بعد زرداری – گیلانی حکومت اور اس کے وزیر قانون پر ہے۔ اسی طرح دستور کی بحالی اور جس طرح ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ء اور ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے آمرانہ اقدامات سے دستور کا حلیہ بگاڑا گیا ہے، اسے اس کی اصل شکل میں لانے کے مسئلے کو تعویق میں ڈال دیا گیا ہے اور عملاً پارلیمنٹ کو بے اثر بنا کر صدارتی نظام ملک پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ جو اختیارات پہلے مشرف کے پاس تھے وہ اب زرداری صاحب کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہ اس عہد وپیمان کے ساتھ کھلی غداری ہے جو میثاق جمہوریت میں اور پھر فروری کے انتخابات کے موقع پر خود اپنے منشور میں حکمرانوں نے کیا تھا۔

• ‘دہشت گردی’ کے خلاف جنگ میں شرکت: یہ سلسلہ نہ صرف تسلسل سے جاری ہے بلکہ موجودہ حکمرانوں نے مشرف سے بھی زیادہ امریکا کی وفاداری کا طوق اپنی گردنوں میں ڈال لیا ہے اور وطن عزیز کو گویا جنگ کے شعلوں میں جھونک دیا ہے۔ فوجی آپریشن نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں زیادہ شدت آئی ہے۔ امریکا کی دراندازیاں اور سرحدات کی خلاف ورزیاں بڑھ گئی ہیں اور حکومت کا حال یہ ہے کہ ؏

ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم

پارلیمنٹ نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں جنگ اور فوجی کارروائی کے راستے کو رد کیا گیا ہے اور مذاکرات، جنگ بندی، فوجوں کی واپسی اور پوری سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر پارلیمنٹ کی قرارداد نوحہ کناں ہے اور حکومت اور امریکا دونوں اپنی من مانی کر رہے ہیں اور بات ملک کی آزادی، حاکمیت، خود مختاری اور عزت ووقار کی پامالی تک پہنچ چکی ہے۔ صدر، وزیر اعظم اور وزیر دفاع ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ملک وقوم کے لیے شرمناک ہیں لیکن حکمران اتحاد کے بڑے بڑے سورما ہیں کہ پھر بھی لیلاے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے کہ جس کے شرکا اپنی ہی حکومت کی پالیسی کی مذمت بھی کرتے ہیں اور کرسی چھوڑنے کا باعزت راستہ بھی اختیار نہیں کرتے۔

• امن وامان کے فقدان اور ظلم وجور کی فراوانی: بلوچستان کے لوگوں سے معافی تو مانگ لی لیکن فوجی آپریشن، گرفتاریاں اور حق تلفیاں اسی طرح جاری ہیں اور بلوچستان میں ایک ایسی نادرہ روز گار حکومت قائم ہے جس میں اسمبلی کے ۶۳ ارکان میں سے ایک کو چھوڑ کر سب ہی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری بنا دیے گئے ہیں۔ قوم کے اخلاقی بگاڑ کی اس سے زیادہ کر یہ شکل اور کیا ہوگی کہ رند اور پارسا، قوم پرست اور مرکز کے منظور نظر، پی پی پی، مسلم لیگ (ق) جمعیت علمائے اسلام، اے این پی، بلوچ نیشنلسٹ سب ہی اس کشتی میں سوار ہیں ۔ معامله سیاسی تنازعات کا ہو یا معاشی محرومیوں کا، امن وامان کا ہو یا دہشت گردی پر قابو پانے کا، لاپتا افراد کا ہو یا عزت کے نام پر قتل کا، ملک کی مجموعی صورتِ حال میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے جب کہ بد حال معیشت میں اقتدار کے متوالوں کی شاہ خرچیاں حسب سابق جاری ہیں۔ خود مرکز میں ۵۵ افراد پر مشتمل وزارت ہے اور اس میں مشیروں، سفیروں اور پارلیمانی سیکرٹریوں کو ملا کر تعداد ۱۰۰ تک پہنچتی ہے جن کا سالانہ بوجھ مرکزی مخزانے پر ایک ارب روپے سے کم نہیں ہو سکتا ۔ سندھ کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ نہ صرف امن وامان مفقود ہے بلکہ طالبا ئزیشن کا ہوا دکھا کر ایم کیوایم کے قائد کھلے بندوں کہہ رہے ہیں کہ اسلحہ حاصل کرو اور مقابلے کی تیاری کرو۔ سیاسی قتل وغارت کا بازار گرم ہے اور گذشتہ 9 ماہ میں ۵۰ سے زیادہ افراد کا قتل کھلے بندوں ہو چکا ہے۔

•  ایم کیو ایم کا کردار: قانون کی حکمرانی کے پس منظر میں دو چیزوں کا ذکر بے محل نہیں ہوگا۔ گورنر سندھ کے ایما پر سندھ کے وزیر اعلیٰ نے کراچی اور حیدر آباد کی ایم کیو ایم کے زیراثر شهری حکومتوں کو آؤٹ سے مستقلی قرار دے دیا ہے جب کہ باقی تمام لوکل باڈیز کے آؤٹ ہورہے ہیں۔ بدعنوانی اور قانون کے اسقاط [miscarriage] کی اس سے قبیح مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔

• اقتصادی بحران: افراط زر کا عفریت دندناتا پھر رہا ہے اور اب خوراک کے اشاریے میں ۳۰ فی صد اضافہ اور عام قیمتوں کے اشاریے میں ۲۴ فی صد کا اضافہ ہے۔ اشیاے ضرورت کی قلت ہے اور قیمتوں کو آگ لگی ہوتی ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے۔ غریبوں کی تعداد آبادی کے ۲۴ فی صد سے بڑھ کر ۴۴ فی صد ہو گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ملک کی ے کروڑ آبادی میں اس وقت سات کروڑ سے زیادہ خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک میں درآمدات پر بلین ڈالر سے بڑھ گئی ہیں جب کہ برآمدات ۲۰ بلین ڈالر سے بھی کم ہیں۔ گویا تجارت کا خسارہ ۲۰ بلین ڈالر سے زائد کا ہے۔ ادائیگیوں کا توازن بھی بدترین حالت میں ہے، بلین ڈالر سے زیادہ صرف ایک سال میں۔ یہی حال مالی بحث کے خسارے کا ہے۔ قرضے بڑھ رہے ہیں۔ ملکی قرضوں کا حجم اب ۴ کھرب روپے سے زیادہ ہے اور بیرونی قرضے۴۷ بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اب آئی ایم ایف کے جال میں پھننے کے بعد یہ قرض آئندہ سال کے آخیر تک ۵۰ بلین ڈالر کی خبر لائے گا۔ ان نو ماہ میں حکومت کوئی مربوط معاشی اور مالیاتی پالیسی نہیں بنا سکی ہے۔ آئی ایم ایف کی ساری شرائط پر قرضہ ملنے سے پہلے ہی عمل شروع ہو گیا ہے اور ان میں سب سے نقصان دہ شرط یعنی ملک میں شرح سود میں اضافہ کسی تکلف کے بغیر کر دیا گیا ہے۔ پچھلے دو سال میں یہ شرح 10 فی صد سے بڑھا کر ۵ فی صد کر دی گئی ہے روفی صد کا اضافہ اسی مہینے ہوا ہے ] اور خطرہ ہے کہ ابھی ۱۰۵ یا ۲ فی صد مزید اضافہ کیا جائے گا جو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سم قاتل ہے کہ سرمایے کی لاگت [cost of capital] مسلسل بڑھ رہی ہے، جب کہ سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں کمی ہورہی ہے اور سرمایے کے مہنگا ہونے کے باعث سیکڑوں صنعتی ادارے پچھلے تین سال میں بند ہو گئے ہیں۔ ایک طرف یہ معاشی صورت حال ہے اور دوسری طرف حکومت کی شاہ خرچیوں میں کوئی فرق نہیں۔ بیرونی اسفار پر کروڑوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور تازہ ترین تحفہ یہ ہے کہ پلاننگ کمیشن نے صدر زرداری صاحب کی نوڈیرو [ لاڑکانہ کی کوٹھی کی حصار بندی کے لیے 1 کروڑ روپے کی رقم منظور کی ہے اور اسلام آباد کے ایوان صدر کی تزئین کے لیے ۸ کروڑ ۲۳ لاکھ روپے کی ۔ اور یہ بھی صرف پہلا غیر ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ [ دی نیوز ۲۳ نومبر ۲۰۰۸ء]

پچھلے ایک سال میں بنکوں کے نظام میں قرض کے نادہندوں [Non-Performing Loans]  کی مالیت ستمبر ۲۰۰۸ء کے آخیر میں ۲۸۸۰۳۷ ارب روپے تھی ، جب کہ ستمبر ۲۰۰۷ء میں یہ تم ۱۱ ۲۵۱ بلین تھی ۔ گویا اس ایک سال میں ۳۷ ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

• اداروں کا بگاڑ اور فساد: یہ عدم استحکام کی بنیادی وجہ بن گیا ہے۔ سارا نظام ذاتی انداز میں [personalized] چل رہا ہے۔ نہ بیورو کریسی میں کوئی غیر جانب داری اور نہ پیشہ ورانہ امور کا لحاظ ہے، نہ عدالت میں انصاف نہ ملک کی پولیس میں دیانت اور احساس ذمہ داری نہ تجارت اور صنعت میں ملک کے مفاد اور عوام کی مشکلات کا احساس۔ نئی حکومت کی تقرریوں کو دیکھیے تو انسان سر پیٹ لیتا ہے۔ جس طرح ہر جگہ این آراو کے ذریعے کرپشن پر پردہ ڈالنے والوں کا راج ہے، جس طرح یار دوست ہر اہم مقام پر لگائے جارہے ہیں اور قانون، ضابطہ اور اہلیت کا خون ہو رہا ہے، وہ دل خراش ہے اور ملک کے مستقبل کے لیے اندوہناک۔

جماعت اسلامی کی نگاہ میں مسئلے کی اصل جڑ ا خلاقی فساد اور اجتماعی اور اداراتی بگاڑ ہے۔ قیادت کی ناکامی اور جمہوری عمل کو دستور یا قانون اور ضابطے کے مطابق چلانے سے مکمل بے اعتنائی ہے۔ اور یہ بگاڑ اس وقت تک دُور نہیں ہو سکتا جب تک ایسی قیادت برسر کا ر نہ آئے جو اخلاقی اعتبار سے اعلیٰ کردار کی حامل ہو، جو نظریاتی اعتبار سے پاکستان اور نظریہ پاکستان کی وفادار ہو، جو قوم ہی سے ہو اور قوم کے سامنے جواب دہ ہو، جو امریکا اور بیرونی طاقتوں کے زیر بار نہ ہو اور ان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خوداری سے معاملہ کر سکے، جو ملک کی آزادی اور عزت کا سودا کرنے والی نہ ہو اور قومی خود مختاری اور وقار کی خاطر جان کی بازی لگانے کا داعیہ اور صلاحیت رکھتی ہو۔

جماعت اسلامی کا اجتماع انقلاب قیادت کے اس آہنگ کا بر ملا اظہار ہے۔

اجتماع کا پیغام: جہد مسلسل

اجتماع میں جماعت کی قیادت نے آئیندہ کے لیے جو پروگرام جماعت کے کارکنوں اور پوری قوم کو دیا ہے وہ تجدید عہد، وقت کی قربانی اور مسلسل جدو جہد کا پیغام ہے۔ اس میں پہلی اور سب سے اہم چیز رجوع الی اللہ ہے کہ ہماری ساری دعوت اور پروگرام کی بنیاد اللہ سے تعلق، اللہ سے مدد اور استعانت کی طلب، اللہ کے دین کی سربلندی کا جذبہ اور کوشش، اور اللہ کی خوش نودی کا حصول ہے۔ تحریک کے کارکنوں کے لیے اجتماع کا دوسرا پیغام جماعتی استحکام ہے۔ اپنی صفوں کو مضبوط کرنا، اپنے تربیتی نظام کو موثر بنانا، اپنی تنظیم کو زیادہ مستحکم کرنا، جہاں تنظیم نہیں ہے یا کمزور ہے اس کی تقویت کی فکر کرنا، جماعت میں ڈسپلن، وقت کی پابندی، ذمہ داریوں کی صحیح ادائیگی، ایک دوسرے کی معاونت اور تقویت کا باعث ہونا ان سب پہلوؤں سے جماعت کو مضبوط کرنا تا کہ آگے کے مراحل میں چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

تیسرا پیغام دعوت کا ہے۔ جماعت کی نگاہ میں ہمارا سب سے اہم کام عوام تک پہنچنا اور ہر ممکن طریقے سے ان تک اسلام کی دعوت اور جماعت کے پروگرام کو پہنچانا ہے۔ ہمارا اصل ہدف انسان سازی ہے ووٹ اس کا نتیجہ ہے، اولین ہدف نہیں ۔ جتنا ہم اپنا پیغام لوگوں تک پہنچائیں گے، ان کے سوالات کا تشفی بخش جواب دیں گے، اپنے سیرت وکردار اور اپنی خدمت سے ان کے دلوں کو اسلام اور جماعت کے لیے جیتیں گے اتنا ہی ہمارا وزن بڑھے گا اور بالآخر انتخابات میں بھی اس کے ثمرات سے جماعت اور ملک فیض یاب ہوسکیں گے۔ ۲۰۰۸ ء بھی دعوت کا سال تھا اور ۲۰۰۹ بھی دعوت کا سال ہے تاکہ ساری سرگرمیوں میں اولیت دعوتی کاموں کو دی جائے۔ امیر جماعت نے کارکنوں سے متعین طور پر وقت دینے کی خصوصی اپیل کی ہے اور ہر سطح پر تمام جماعتیں اب اس کا اہتمام کریں گی کہ ایک متعین پروگرام کے تحت ہر کارکن سے وقت کا مطالبہ کریں اور جو جتنا وقت دینے کا وعدہ کرے اسے مناسب ترجیح کے ساتھ دعوتی سرگرمیوں میں شامل اور متحرک کیا جائے۔

دعوت کے ساتھ ساتھ تمام اچھے لوگوں کو جماعت میں سمونے اور شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے جماعت میں وسعت پیدا کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف اپنے اخلاقی اور نظریاتی معیار کی حفاظت کیجیے تو دوسری طرف فراخ قلبی اور کھلے بازوؤں کے ساتھ تمام اچھے انسانوں کو جماعت میں لانے کی کوشش کیجیے اور انھیں ان کے مقام کے مطابق جگہ دیجیے تا کہ وہ جماعت کا حصہ بن جائیں اور اس دعوت کی تقویت کا باعث ہوں۔ یہ کام اس انداز میں کیا جائے کہ ہر علاقے کے بااثر افراد تک دعوت پہنچائی جائے اور انھیں جماعت کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی جائے۔

اللہ کا فضل ہے کہ جماعت اسلامی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسانی مساوات اور اہمیت کی بنیاد پر قیادت کے اصول پر قائم ہے۔ جماعت میں پہلے دن سے قانون اور ضابطے کی پابندی کی روایت ہے۔ قیادت نہ موروثی ہے، نہ خاندانی اور نہ وصیت کے ذریعے قیادت کی ٹوپی سر کی زینت بنائی جاتی ہے۔ دستور کے مطابق متعین وقت پر انتخابات ہوتے ہیں اور ہر سطح پر ہوتے ہیں۔ ہر شخص کے لیے ذمہ داری کے مقامات تک رسائی ممکن ہے بشرطیکہ اس میں وہ صلاحیت اور اہمیت موجود ہو جو دستور نے مقرر کی ہے۔ نہ کوئی سونے کا چمچہ منہ میں لے کر آتا ہے اور نہ کسی کے لیے دروازہ بند ہے۔ پھر جماعت کے اندر مشورے کا نظام رائج ہے، بلاشبہہ اطاعت امیر ہماری قوت کا ذریعہ ہے لیکن امیر کی طاقت کا انحصار مشاورت کے اس نظام پر ہے جو ہر سطح پر قائم کیا گیا ہے۔ جماعت میں نئے خون کی آمد کا سلسلہ الحمد للہ پہلے دن سے جاری ہے اور آج مرکزی شوری میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اسلامی جمعیت طلبہ، جمعیت طلبه عربیه اور دوسری برادر تنظیموں میں سرگرم تھے۔ زندہ اور ترقی کرنے والی تحریکوں کا یہ خاصا ہے۔ ان میں بزرگوں کا احترام اور ان سے استفادے کے ساتھ نئے با صلاحیت افراد کی قدر اور ان کو ذمہ داریاں سونپنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ البتہ خدا کا خوف، دین کا فہم، اعلیٰ کردار اور حسن کارکردگی وہ صفات ہیں جو ترقی کا زینہ اور کامیابی کی ضمانت ہیں۔

جماعت کے اس اجتماع میں حسنِ انتظام کے ساتھ بڑی اہم چیز اجتماع کے پورے پروگرام کو انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچانے کی بڑی کامیاب کوشش تھی۔ جدید ٹکنالوجی کا استعمال ہمارے پیغام کے ابلاغ کے لیے ضروری ہے۔ الحمد للہ اس اجتماع میں اس کا بڑا کامیاب استعمال ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے اب ہر میدان میں نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق مناسب کام پر لگایا جائے اور جدید ٹکنالوجی کا استعمال صرف انٹرنیٹ پر اجتماع کے پروگرام تک محدود نہ ہو بلکہ جہاں بھی انتظامی، تربیتی، دعوتی کاموں کو خوب تر بنانے کے لیے جدید اسلوب اور جدید سہولتوں کا استعمال ممکن ہو، اس کا اہتمام کیا جائے۔ ملک کی آبادی کا نصف اب نوجوانوں پر سے پر مشتمل ہے جو تعلیم اور مہارت کے جدید تجربات سے روشناس ہیں۔ دعوت کی وسعت اور تنظیم کے استحکام دونوں کے لیے ان مردان کار اور جدید فنی اختراعات کا بھر پور استعمال وقت کی ضرورت ہے۔ وسعت اور صف بندی دونوں کے لیے ان شاء اللہ یہ مفید ہوں گے۔

اجتماع کے پیغام کا ایک اور پہلو، اور شاید سب سے اہم پہلو نئی اُمید، نیا عزم اور حالاتِ کو صحیح سمت میں تبدیل کرنے کا عزم اور داعیہ ہے۔ ہر فرد اس اجتماع سے ایک نیا جذبہ لے کر رخصت ہوا ہے۔ بڑے عرصے کے بعد اس وسیع پیمانے پر اُمید اور روشنی کے احساسات اور جذبات کا ہم سب نے تجربہ کیا ہے۔ یہ ابامر، تحریک اور ملک کے لیے بڑا نیک شگون ہے۔ جس ملک میں ہر طرف مایوسی اور اضطراب کی لہریں اُبھر رہی ہوں وہاں ایک ایسے اجتماع کا انعقاد جہاں لاکھوں افراد نے اجتماع کے ہر لمحے کا لطف لیا ہو اور اجتماع سے ایک نیا جذبہ اور ولولہ لے کر اپنے اپنے دائرہ کار میں شریک جدو جہد ہو رہے ہیں، ایک بڑا ہی مبارک واقعہ ہے۔ اقبال کی روح جس ابراہیم عليه السلام کی تلاش میں بے چین اور بے قرار تھی آج تحریک اسلامی برا ہمیت کے اس جو ہر کی امین ہے۔ جس طرح سیدنا ابراہیم عليه السلام ایک عظیم فکری سفر کے بعد اپنے رب تک پہنچے، اسی طرح باطل افکار کے ایک جنگل سے گزر کر تحریک کے کارکن اسلام کی شاہ راہ تک پہنچے ہیں۔ جس طرح سیدنا ابراہیم عليه السلام نے جاہلیت کے ہر صنم پر ضرب لگائی، اسی طرح تحریک اسلامی اپنے دور کے ہر صنم سے نبرد آزما ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم عليه السلام نے وقت کے طاغوت کو چیلنج کیا اور طاقت کے مرکز کو نشانہ بنایا اسی طرح تحریک اسلامی آج ملک اور عالمی سطح پر طاغوت کے تمام مظاہر سے برسر کش مکش ہے۔

یہ سب صحیح لیکن چیلنجوں کی اس مماثلت اور ردعمل کی مشابہت کے باوجود سنت ابرانیمی سے مطابقت کوئی آسان کام نہیں۔ البتہ شوق، جد وجہد، خلوص اور استعانت باللہ ہر مرحلے کو آسان بنا سکتے ہیں۔ شرط ایمان توفیق اور کوشش ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رحمت اور نصرت اور اپنے رب سے بہتری کی اُمید  ؎

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »