اراکین سینٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی مخالفت

میں اپنے دل کی گہرائیوں میں شرم اور ندامت کا احساس رکھتا ہوں کہ مجھ سے کچھ دوستوں نے اس بل پر زیادہ بحث نہ کرنے اور اسے خاموشی سے پاس ہونے کے لیے کہا لیکن میرا ضمیر اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میری رائے میں پارلیمنٹ کے ارکان کو قوم کے خادموں کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے ہم میں سے وہ افراد جن کو اللہ تعالیٰ نے وسائل دیے ہیں اور جو اپنی ضروریات بحسن و خوبی پوری کر رہے ہیں اور جو الیکشن پر بھی خطیر رقوم خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں قوم کے سامنے یہ مثال قائم کرنی چاہیے کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کریں چہ جائیکہ وہ سرکاری خزانے سے کچھ لے کر قوم کی خدمت کریں۔ ہم جس اسلام کی دہائی دیتے اور نام لیتے ہیں اگر اس کی روشن تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضور پاک جس وقت اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس کیا تھا اور جو کچھ انہوں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے لیے وقف کیا تھا اس کے بارے میں بھی انہوں نے یہ فرمایا کہ انبیاء کا کوئی وارث نہیں اور اسے پھر قوم کی طرف لوٹا دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جو ایک نہایت معتدل شخص تھے جن کی دولت سے اسلام کو قوت حاصل ہوئی اور جنہوں نے متعدد غلاموں کو خرید کر اس لیے آزاد کیا کہ ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے آقا ان پر ظلم کرتے تھے۔ جنہوں نے ہر کسی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مثال قائم کی اور جس وقت حضور نے فرمایا کہ اس غزوہ کے موقع پر جو جس کے پاس ہے لے آئے تو معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق اگر اپنا آدھا اثاثہ لائے تھے تو حضرت ابو بکر صدیق نے اپنا سب کچھ حضور کے سامنے پیش کر دیا۔ خلیفہ اول نے اپنے دور خلافت میں جو کچھ ان کے پاس تھا، اسلام کی خدمت کے لیے خرچ کر دیا تھا صرف قوت لایموت کو قائم رکھنے کے لیے معمولی مشاہرہ لیا اور مرتے وقت وصیت کر دی کہ میرا جو ایک مکان ہے، اسے بیچ کر یہ ساری رقم بھی واپس کر دی جائے۔ یہ ہیں اسلام کی روایات، ہماری روایات بادشاہوں والی روایات نہیں۔ اصل روایات ہماری وہ ہیں جو نبی پاک ، خلفائے راشد ین اور صحابہ کرام نے قائم کی ہیں۔ اور پھر بادشاہت میں بھی مسلمانوں کی تاریخ اس پہلو سے منفرد ہے کہ ہمارے ہاں ایسے بادشاہ بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنا خرچ خود کتابت کر کے اور کوئی خدمت کر کے پورا کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری خزانے کو ذاتی دولت نہیں سمجھا۔ وہ جوابدہ رہے۔ بلاشبہ کچھ بری مثالیں بھی ہیں لیکن ان بادشاہوں میں وہ مثالیں بھی ہیں جو دنیا کی کسی دوسری تہذیب اور تاریخ میں نہیں ملتیں۔ اس پس منظر میں جب تین سال کے جمہوری دور میں ہم اس مقصد سے دوسرا بل لار ہے ہیں کہ ہماری تنخواہوں اور ہماری سہولتوں میں اضافہ ہو تو میں شرم محسوس کرتا ہوں، اور خواہش کرتا ہوں کہ وزیر عدل نے یہ ترمیم قومی اسمبلی میں رکھی ہوتی اور قومی اسمبلی نے اسے مسترد کر دیا ہوتا۔ اور اگروہ نہ کر سکے تواس ایوان کو اللہ تعالی توفیق دے کہ وہ اس ترمیم کو مسترد کر دے اور قوم کے سامنے یہ مثال پیش کرے کہ جولائی ۸۷ء میں جو ترامیم کر دی گئی تھیں۔ اس کی بناء پر جو کچھ ہمیں مل گیا ہے، وہ ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔ میں پر زور الفاظ میں وزیر عدل اور اس ایوان کے ہر رکن سے درخواست کروں گا، کہ پارٹی کے نقطہ نظر سے بلند ہو کر صرف پاکستان، اسلام اور اس قوم کی خدمت کے جذبے سے اس مسئلے پر غور کرے۔ آج جب اس ملک میں ورلڈ بنک کے سروے کے مطابق تیس فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے ہے جسے دو وقت کی روٹی کھل کر میسر نہیں آرہی۔ افراط زر کی شرح اس وقت دس اور پندرہ فیصدی کے درمیان ہے اور جس انداز میں قرضے لیے گئے ہیں اور خسارے کی مالی منصوبہ بندی کی گئی ہے اس سے خطرہ ہے کہ اس خسارے میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ان حالات میں قوم کو تو آپ کچھ دینے کے لیے تیار نہیں ان میں پنشن والے بے سہارا لوگ بھی ہیں، ان کی مدد کرنے کے لیے تو آپ تیار نہیں۔ لیکن اپنے لیے الاؤنس بڑھانے پر مصر ہیں۔ اس طرح آپ بڑی بُری مثال قائم کر رہے ہیں۔
ویلفیئر فنڈ کی تجویز
مجھے پسند نہیں کہ اس قسم کی بات کہوں لیکن ایک رکن نے جو کچھ کیا ہے، اس نے مجھے وضاحت کے لیے مجبور کیا ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے بحیثیت وزیر میں نے تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی قاضی حسین احمد صاحب نے سینٹ سے کوئی تنخواہ لی۔ ہم نے یہ تحریک پیش کی کہ وہ تمام اراکین سینٹ جو برداشت کر سکتے ہیں جو بھی الاؤ نس ان کو مل رہے ہیں وہ سارے کا سارا ایک ویلفیئر فنڈ میں دیں اور اسے سینٹ کے گریڈ سولہ سے کم کے ملازمین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ بد قسمتی سے چیئر مین سینٹ اور میری کوشش کے باوجود وزارت خزانہ اس پر تیار نہیں ہوئی۔ ہم یہ مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور الحمد للہ ہم نے یہ مثال قائم کی۔ رہا معاملہ جماعت کا تو جماعت اسلامی میں تمام افراد اپنی جیب سے خرچ کر کے کام کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ لوگوں کو بڑی بڑھی تنخواہیں ملتی ہوں اور وہ افراد جو قربانی دے کر ہمہ وقت کار کن بنتے ہیں ان کی تعداد بے حد کم ہے اور ان کو صرف ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہزار ہا کار کن سارا خرچ اپنی جیب سے کر کے کام کرتے ہیں۔ اگر آپ کو حقائق کا علم نہیں ہے تو حقائق کا علم حاصل کیجئے۔ چھینٹے نہ اڑائیے۔



