اسرایئل آغاز سے انجام تک

میر بابر مشتاق
کتاب : اسرائیل آغاز سے انجام کی طرف
مصنف : میر بابر مشتاق
سال اشاعت: اکتوبر 2011ء
پیش لفظ
سینیٹر پروفیسر خورشید احمد
چیئر مین انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد
امت مسلمہ ہی نہیں پورے عالم انسانی کو آج جو خطرات درپیش ہیں ان میں ایک کلیدی حیثیت ان استعماری قوتوں کو حاصل ہے جو امریکی حکمرانوں کی سرپرستی میں ایک طرف دنیا کے وسائل پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتی ہیں تو دوسری طرف سیاسی، معاشی اور تہذیبی میدانوں میں مغربی سامراج کی گرفت کو مضبوط کرنے کا خونی کھیل کھیل رہے ہیں۔
سامراج کا پہلا دور بلاواسطہ (Direct) حکمرانی کا تھا اور اس کا موجودہ دور ،سیاسی، عسکری، معاشی، فکری اور تہذیبی محکومی کا وہ نظام ہے جو جزوی طور پر بلا واسطہ لیکن اس سے کہیں زیادہ بالواسطہ حکمرانی دخل اندازی اور MACRO انداز حکمرانی اور micro سطح پر management سے عبارت ہے، اس انداز حکمرانی میں حکومتوں کے ساتھ عالمی، سیاسی اور معاشی ادارے ، ملٹی نیشنل کارپوریشنیں، این جی اوز ، تحقیقی ادارے اور میڈیا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حکمتِ عملی میں عالمی ،سامراجی اور سرمایہ دارانہ اداروں کے ساتھ مسلم، عرب اور ترقی پذیر ممالک میں اقتدار پر ایسے لوگوں کو لانا اور برقرار رکھنا بڑی اہمیت کا حامل ہے جو استعماری قوتوں کے آلہ کار اور تابع مہمل کے طور پر کام کر سکیں۔ اس نقشہ جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ نے دنیا کے ۸۰ ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، دنیا کے سمندروں میں اس کے جنگی جہاز ہمہ وقت موجود ہیں اور عرب دنیا کو مسلسل اپنی گرفت میں رکھنے کے لیے اس کے قلب میں اسرائیل کی غیر فطری ریاست کے قیام اور استحکام کا اہتمام کیا گیا ہے اور بظاہر یہ ریاست دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے ایک پناہ گاہ ہے لیکن در حقیقت یہ استعماری قوتوں کی ایک outpost ہے جس کی جغرافیائی حدود کو متعین نہیں کیا گیا ، ۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۸ء تک ایک دہشت گرد قوت کی حیثیت سے اور ۱۹۴۸ء سے ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر وہ اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ امریکہ اور مغربی اقوام نے عرب اور اسلامی دنیا کے مغرب پرست حکمرانوں کو سیاسی دباؤ اور معاشی رشوت کے تمام حربے استعمال کر کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سے سیاسی اور معاشی تعلقات استوار کرنے پر مجبور کیا ہے اور یہ حکمران مسلمان عوام کے جذبات اور احساسات کو یکسر نظر انداز کر کے امریکی اور سامراجی کھیل میں ان کے شریک رہے ہیں۔ منجملہ اور وجودکے یہ سیاسی در و بست امریکہ مخالف جذبات کی بھی ایک بنیادی وجہ ہے۔ نیز اس کے نتیجہ میں مسلم اور عرب دنیا کے حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایک خلیج حائل ہے ، حکمران امریکہ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور عوام میں امریکہ مخالف رجحانات روز افزوں ہیں۔ امریکہ کی اسرائیل نوازی ہو یا عالمی سرمایہ داری کے شکنجہ میں دنیا کو کسنے کی مساعی یا دہشت گردی کے خلاف اس کی نام نہاد جنگ۔ یہ سب دنیا بھر کے اور خصوصیت سے مسلم اور عرب دنیا کے عوام کو امریکی سامراجی پالیسیوں اور اقوام کے خلاف صف آراءہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں اسرائیل کی حقیقت کو سمجھنے ، اس کی تاریخ اور اس کے نظام حکومت کا صحیح اور اک پیدا کرنے اور شرق اوسط اور عالمی بساط پر اس کے کردار اور اہداف کا مبنی برحقیقت شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں یہودیوں کے ساتھ کس حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا اور صہیونیوں نے اس کے بدلے ان سے کیا معاملہ کیا اور کر رہے ہیں۔
تقریباً چار ہزار سال پہلے سرزمینِ فلسطین سے یہودیوں کا اخراج واقع ہوا اور عیسائی دنیا میں ان کے لیے زندگی گزارنے کو مشکل سے مشکل تر بنادیا گیا۔ جب ان کے لیے ہر ملک میں زمین تنگ تھی تو مسلمانوں نے ان کو نہ صرف پناہ دی بلکہ زندگی اور ترقی کے تمام مواقع بھی فراہم کیے، نتیجتاً سرزمین فلسطین سے ڈھائی ہزار سال تک باہر رہنے اور اس کی زیارت تک سے محروم رہنے کے بعد انبیاء کی اس سرزمین کے دروازے یہودیوں کے لیے دوبارہ اس وقت کھلے جب حضرت عمر فاروق کے دور میں بیت المقدس کی کنجیاں مسلمانوں کے ہاتھوں میں آئیں۔ یہودیوں کو بھی مسلمانوں نے اسی طرح عبادت اور رہائش کی اجازت دی جس طرح عیسائیوں اور دوسرے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو حاصل تھی۔
بيت المقدس پر جنگجو کلیسیوں (Crusaders) کے قبضہ کے ۸۰ سالوں کو چھوڑ کر خلافتِ راشدہ کے دور سے بیسیویں صدی کے آغاز تک یہویوں کی ایک مختصر آبادی سرزمین ِفلسطین پر آباد تھی اور اسے زندگی کے تمام مواقع حاصل تھے ۔ پہلی جنگ عظیم (َ۱۹۱۸۔ ۱۹۱۴) سے پہلے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ یہودی ارضِ فلسطین میں چین کی زندگی گزار رہے تھے۔ فساد کی ساری جڑ انیسویں صدی کے آخری عشروں میں یہودیوں کے درمیان صہیونی تحریک کا قیام اور ارضِ فلسطین کے باب میں اس کے استعماری اور مسلح دہشت گردی کے ذریعہ قبضہ کے عزائم اور یورپ اور امریکہ کی برسر اقتدار سامراجی قوتوں کا ان سے گٹھ جوڑ ہے جس کے نتیجہ میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے پہلے دن سے ایک استعماری قوت کا کردار ادا کیا اور کر رہا ہے۔
یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ صہیونی تحریک نے فلسطین پر اپنے ناجائز اور استعماری قبضہ کے لیے پہلے سیاسی چالوں اور سازشوں کا راستہ اختیار کیا اور پھر دہشت گردی اور عسکری ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کیا۔ اول اول فلسطین کے ان یہودیوں نے بھی جو وہاں آرام سے زندگی گزار رہے تھے صہیونی تحریک اور اس کے ہتھکنڈوں کی مخالفت کی اور اس تحریک اور اس کے عزائم سے برأت کا اعلان کیا لیکن پھر صہیونی انتقال آبادی کی ریل پیل میں وہ غیر موثر ہو گئے۔
صیہونی تحریک جو دراصل ایک یورپی استعماری قوت تھی اپنے خاص عزائم رکھتی تھی اور اعلان ِبالفور کے پردے میں برطانوی سامراج کی سر پرستی میں اس نے ارضِ فلسطین پر قبضہ کا سلسلہ شروع کیا جو مختلف ادوار سے گزرتا ہوامئی ۱۹۴۸ء میں اسرائیلی ریاست کا قیام اقوام متحدہ کی ایک ایسی قرارداد کے ذریعے انجام دیا گیا ، جسے کوئی قانونی جواز حاصل نہ تھا اور جسے محض طاقت اور بین الاقوامی سازشوں اور غنڈہ گردی کے ذریعہ منظور کرایا گیا تھا۔ اسرائیلی ریاست اپنے قیام کے بعد سے صرف طاقت کی بنیاد پر اپنی سرحدوں میں وسعت پیدا کرتی رہی ہے اور طاقت کے بل بوتے پر حاصل کردہ اراضی میں آباد کاری (settlers) کے نام پر دنیا بھر سے یہودیوں کو لالا کر فلسطین کے اصل باسیوں کو بے دخل کر کے اپنا تسلط قائم کرتی رہی۔ اس طرح اسرائیل نہ صرف پورے فلسطین پر قابض ہے بلکہ شام کے علاقے ( گولان ہائٹس)پر بھی اس کا قبضہ ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ اسرائیل کی حیثیت ایک جائز ریاست کی نہیں بلکہ ایک settler-colonial power کی ہے جس کے توسیعی عزائم محض کوئی نظری بات نہیں بلکہ ایک خونی حقیقت ہیں۔ فلسطین کی سرزمین پر جائز طور پر رہنے والے یہودیوں کا معاملہ بالکل مختلف تھا لیکن دنیا بھر سے لائے ہوئے immigrants کو اس ارضِ پاک کی اصل آبادی کو displace بلکہ expel اور exterminate کرکے اللہ کے رسولوں کی اس سرزمین پر قابض ہو جانے والوں کو ایک Legitimate ریاست تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کی حقیقت Apartheid کے دور کی جنوبی افریقہ کی استعماری ریاست سے مختلف نہیں۔
اقوام متحدہ کی جس قرارداد کے ذریعہ ارض ِفلسطین کی تقسیم کا ڈرامہ رچایا گیا وہ ایک غیر قانونی قرار داد تھی جو خود اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف، دھونس، دھاندلی اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعہ منظور کرائی گئی اور پھر اس قرارداد میں طے شدہ (جو خود نا انصافی پر مبنی تھا ) جو علاقہ اسرائیل کو دیا گیا تھا پہلے دن سے اسرائیل نے اس سے کہیں زیادہ رقبہ پر قبضہ کیا اور پھر ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد پورے فلسطین پر قابض ہو گیا اور سیکیورٹی کونسل کی بنیادی قرار داد (۲۴۲) اور دوسری ۳۰ سے زیادہ قراردادوں کے باوجود محض قوت کے ذریعہ اور امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی کے بل بوتے پر پورے علاقے پر اپنا قبضہ قائم کیے ہوئے ہے بلکہ اسے باقاعدہ annex کر کے قوت کے ذریعہ قبضہ اور توسیع کے جرم کی مرتکب ہے، اور فلسطین کے عرب باشندوںکو جو اس سرزمین کے اصل حقدار ہیں سیاسی غلامی کے شکنجے میں کسے ہوئے ہے۔ اسرائیل کی ریاست امریکہ کی عراق جنگ کی طرح جھوٹ (LIES)، دھو کے اور ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی بنیاد پر قائم ہے۔ اور فلسطین کے عرب اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے بیرونی تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور انشاء اللہ اس استعماری قوت کے غلبہ سے جلد یا بدیر خلاصی حاصل کر لیں گے۔ یہ تاریخ کا نا قابلِ تردید سبق ہے ۔ اسرائیل جس بل بوتے پر قائم ہے اور اس کی عسکری قوت بشمول ایٹمی طاقت ، لامحدود معاشی وسائل، عالمی میڈیا پر گرفت اور امریکہ کی مکمل حمایت اور سر پرستی ہے، پرو پیگنڈے کے میدان میں اس کا سارا انحصار تین بڑے بڑے جھوٹوں (LIES) پر ہے:
ا۔ یہودیوں کا سرزمین فلسطین پر تاریخی /مذہبی حق ۔
۲۔ یہودی ایک ایسی قوم تھے جن کے پاس کوئی زمین نہ تھی اور فلسطین ایک ایسی سرزمین تھی جو انسانوں کو ترس رہی تھی۔
Jews were people without land and Palestine was land without people
۳۔شرق اوسط میں اسرائیل واحد جمہوری ریاست ہے اور جمہوری ہونے کے ناطے اسے دوسروں پر فوقیت حاصل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں دعووں میں کوئی صداقت نہیں اور محض سیاست اور طاقت کا کھیل ہے جو اس استعماری قوت کو تھامے ہوئے ہے۔ اسرائیل میں عربوں کی حالت تیسرے اور چوتھے درجہ کے شہریوں سے بھی بدتر ہے بلکہ وہ serfs غلاموں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں لیکن خود اس وقت عرب دنیا میں ایک نئی انقلابی لہر موجزن ہے ، تیونس اور مصر ایک نئے دور کی دہلیز پر ہیں۔ دوسرے عرب ممالک میں بھی تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ اس انقلابی تحریک کے مختلف پہلو ہیں لیکن ان میں امریکہ نواز قیادتوں کے آمرانہ نظام سے نجات کے ساتھ ایک ایسے نئے نظام کے قیام کی خواہش ہے جو عوام کی امنگوں کا مظہر ہوا اور ان کے دین ، تاریخ، روایات اور مفادات کی مکمل پاسداری کا ضامن ہو۔ اس پس منظر میں اسرائیل کی حقیقت کو سمجھنا، اس کے اصل عزائم اور کردار کا بے لاگ جائزہ اور استعمار کے کھیل اور اس کے مقاصد اور اہداف کو سمجھنا از بس ضروری ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ جناب میر بابر مشتاق صاحب نے اسرائیل اور اس کے استعماری کردار کے مختلف پہلوؤں پر بڑی دیانت داری ، محنت اور بالغ نظری کے ساتھ سے روشنی ڈالی ہے جو ان کے مضامین کے مجموعہ کی حیثیت سے شائع کی جا رہی ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کے امدادی قافلہ نے عرب دنیا میں جو ارتعاش پیدا کیا اس سے بات کا آغاز کر کے ارض ِفلسطین کی تاریخ اسرائیل کے قیام اور اس کے ۶۳ سالہ خونی کردار کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ ان موضوعات پر وہ مضامین جو وقتاً فوقتاً لکھتے رہے ہیں انہیں ایک مربوط سلسلہ میں جوڑ کر ایک چشم کشا کتاب کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں یہ کتاب ایک آئینہ ہے جس میں اسرائیل کا اصل چہرہ دیکھا جاسکتا ہے اور ان ایشوز کا بھی فہم حاصل کیا جا سکتا ہے جو عرب دنیا ہی نہیں پورے عالم اسلام اور انسانی دنیا میں شدید اضطراب کا باعث اور دنیا کو امن و آشتی سے محروم رکھنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں اسرائیل کی حیثیت کو سمجھنا آسان ہو گا۔ وہیں امریکہ کے عالمی کردار کو سمجھنے اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کا اصل چہرہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی ۔ مجھے توقع ہے کہ یہ کتاب ان شاء اللہ انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرنے اور مسلمان امت کو اس کی ذمہ داریوں کا شعور دلانے کی مفید خدمات انجام دینے کا ذریعہ بنے گی۔ اور مصنف کے لیے دنیا اورآخرت میں اجرِ عظیم کا وسیلہ بنے گی۔



