Armughan-e-KhurshidBooks

تہذیبی بحران اورکشمکش

حصہ اول

تہذیبی بحران اورکشمکش

  • انسانی ترقی ، تہذیب کا بحران اور اسلام  
  • تہذیبی و سیاسی کشمکش کے عوامل  ] تیونس کے تجربات کی روشنی میں[           

انسانی ترقی ، تہذیب کا بحران اور اسلام 

۲۱ویں صدی میں انسانی زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ انسان نے زمین اور اس کے تہوں میں چھپے خزانے ہی نہیں سمندر کی گہرائیوں اور آسمان کی وسعتوں کو بھی مسخر کیا ہے۔ نئی نئی دریافتوں اور ایجادات کے ساتھ مادی ترقی کا یہ سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ تیزرفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس غیرمعمولی ترقی نے انسانوں کے لیے مادی سہولتوں میں بیش بہا اضافہ کے امکانات پیدا کیے ہیں۔ لیکن کیا ترقی کو محض مادی پیشرفت کے ساتھ منسلک کرنا درست طرزعمل ہے؟ زیرنظر مضمون میں اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے مصنف نے واضح کیا ہے کہ ترقی کے حوالے سے  جاری یک رخے سفر کا لازمی نتیجہ موجودہ انسانی طرزعمل ہے جس نے معاشروں کو ان اخلاقی اقدار سے بھی محروم کر دیا ہے جو عدل وانصاف، انسانی مساوات اور ہمدردی کو یقینی بناسکتے ہیں۔مصنف نے اس صورت حال کو تہذیبی بحران قرار دیتے ہوئے عالمی نظام کی تشکیل نو کے لیے متبادل کے طور پر اسلامی اقدار اور حکمت عملی کی نشاندہی کی ہے۔

________________

انسان نے سمندروں اور آسمانوں کو مسخر کر ڈالا ہے اور فطرت کی طاقتوں کو اپنی خدمت میں لگا لیا ہے۔ اس نے اپنے معاملات کے لیے وسیع اور پیچیدہ  ادارے اور تنظیمیں قائم کر لی ہیں ۔ بظاہر وہ  مادی ترقی کے اوج کمال پر جا پہنچا ہے۔

انسان کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے کائنات میں اپنی حیثیت پر خوب اچھی طرح غور کرلیا ہے۔ اس نے اپنے حواس اور تجربات سے حاصل کیے ہوئے علم اور عقل کی روشنی میں حقیقت کی تعمیر کرنا شروع کر دی ہے۔ اپنی قوت استدلال  اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں  میں نو دریافت شده اعتماد سے، اس کا رشتہ روایت ،وحی کی صداقت اور تجربے سے بالاتر معاملات ، غرض یہ کہ اپنے بارے میں ہدایت کی کسی بھی صورت سے توڑ دیا ہے۔

وہ اس ’اعلیٰ مقام‘ سے دنیا کو اپنے نظریات، اپنے رجحانات اور پسند کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے لیکن ’یہ عالم نو‘ جو اس نے پیدا کر لیا ہے انسانوں کو ایک انتہائی خطرناک فریب خوردگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بے مثال پیش رفت اور مجموعی مادّی ترقی کے باوجود انسان کی حالت انتہائی غیرتسلی بخش ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ طاقت ور کمزور کو دبا رہا ہے۔ امیر غریب پر مسلط ہے اور دولت کی ریل پیل کے باوجود غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ستم یہ ہے کہ غریب ممالک غریب تر ہورہے ہیں اور امیر ملکوں میں بھی غریبوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ نتیجتاً بے زر ،زردار کے خلاف صف آرا ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناانصافی اور استحصال کا بازار گرم ہے۔  خاندان کی ٹوٹ پھوٹ ،افراد کی معاشرے سے اجنبیت اور اس کے اداروں سے دوری بڑھ رہی ہے۔ یہاں تک کہ انسان آج خود کو خود سے دور دیکھ رہا ہے۔ وہ تمام انسانی دائروں اور سرگرمیوں میں اعتماد اور اختیار کے غلط استعمال کا مشاہدہ کر رہا ہے۔  اس نے ہوا میں اڑنے اور سمندر میں مچھلیوں کی طرح تیرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ تو کردیا ہے تاہم وہ زمین پر ایک اچھے انسان کی طرح رہنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی یہ ناکامی اس امر کو مشکوک بنا دیتی ہے کہ وہ اپنے اجتماعی معاملات کو واضح رہنما خطوط کے بغیر چلاسکتا ہے۔

آج کا انسان اپنے آپ کو دونوں طرح سے مشکل میں پاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ تہذیب و تمدن کی معراج کو  پہنچ چکا ہے لیکن بام عروج پر پہنچتے ہی وہ اپنے آپ کو ایک نئے اور بڑے خلا میں موجود پاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنی تراشیدہ تہذیب کو اپنی ہی دریافت شدہ قوتوں سے خطرے میں پاتا ہے۔ وہ پریشان ہو کر ایسے آسروں اور سہاروں کی تلاش میں لگ جاتا ہے جو اس کی زندگی کو تباہی سے بچاسکیں اور وہ اپنے خوابوں کی تعبیر سے محروم نہ ہو۔ اسے احساس ہے کہ اس کا تصور جہاں ان واضح معیارات سے خالی ہے جو صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں اس کے ممدومعاون ثابت ہوں ۔ اس کا علم اور مہارت اس کو وہ عالم گیر معیار یا میزان عطا کرنے میں ناکام ہیں جو اسے اچھے اور برے کا فرق بتاسکیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ تبدیلی اور تبدیلی کی رفتارنے اس کے قدم اکھاڑ دیے ہیں۔ اس کو اضافیت اور ثبات نے محرومی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اب انفرادی یا اجتماعی اخلاقیات کی بنیاد کے طور پر کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جوٹھوسں اور دائمی ہو۔ وقت کے بہتے دھارے کے ساتھ انسان جس سمت کی طرف بہے جارہا ہے وہ خود اس کے بارے میں مشکوک ہوتا جارہا ہے۔ اسی مخمصے سے نجات حاصل کرنے میں ناکامی بلکہ احساس نا اہلیت اسے مایوسی اور افسردگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔  اخلاقی بنیادوں سے محرومی  کے نتیجہ میں انسان روز بروز خودغرض اور اپنے اہل وعیال اور انسانیت کی اجتماعی ضروریات سے لاپروا ہوتا جا رہا ہے۔ انسان کو ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے: وہ اپنے کو حیوان کے علاوہ کچھ اور نہ سمجھے۔ اور افسردگی کے عالم میں اپنے کو ایک بےلباس بندر قرار دے یا پھر وہ سنجیدگی اور وقار کوملحوظ رکھتے ہوئے انسان اور معاشرے کے لیے ایک نئے نمونے یا  مثالیے(Paradigm)  کی تلاش میں لگ جائے۔

 تہذیب کا بحران

اکیسویں صدی کے  ان ابتدائی عشروں میں انسان اسی تکلیف دہ صورت حال سے دوچارہے۔ بیسویں صدی کے بڑے بڑے مصنفین،فلسفیوں اورتاریخ دانوں:]اوسوالڈ سپنگلر(Oswald Spengler)(مغرب کا زوال)آرنلڈٹائن بی(Arnold J. Toynbee) (تاریخ کا مطالعہ) اور پٹرم سورو کن(Pitirim Alexandrovich Sorokin)  (معاشرتی و ثقافتی علوم حرکیات اور ہمارے عہد کے بحران )[[1]    کا خیال ہے کہ مغرب کی غالب لا دینی تہذیب انسان دوستی کے خوش نما سُر اور تال کے باوجود اور مادّی خوش حالی یا فوجی طاقت کی بےکراں وسعتوں کے با وجود ایک کرب ناک بحران میں مبتلا ہے۔ وہ طاقتیں جنھوں نے اس تہذیب کے عروج اور غلبے کے لیے راہ ہموار کی تھی ،اپنی توانائی کھو چکی ہیں۔ اب انتشار اور تنزل کی طاقتیں قوت و استحکام کی طاقتوں پر حاوی ہوتی جارہی ہیں۔ وہ اقدار جو لوگوں کو جوڑتی تھیں اب ابتری کی حالت میں ہیں۔ یہ روگ ایک یا چند علاقوں تک محدود نہیں ہے ،بلکہ زندگی کا سارا در یا اسی آلودگی کا شکار ہو گیا ہے۔

جدید تاریخ کے ایک باشعور تجزیہ نگار جوزف اے کامیلیری (Joseph A. Camilleri) نے  آج کے  اس بحران کا منظرنامہ نہایت خوبی سے یوں بیان کیا ہے:

موجودہ انسانی بحران اتنا شدید اور ہمہ گیر ہے کہ اس کے تجزئیے کی کوشش بھی ایک مشکل عمل ہے چہ جائے کہ اس کا حل ،جو  اس وقت بظاہر ناممکن نظر آ رہا ہے۔ اس بحران کے سامنے انسانی عقل وفہم اور فکر کی قوتیں شکست کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان دنوں وہ لاکھوں انسان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جو غربت، پس ماندگی اور بھوک جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ انسانی زندگی کی یہ ناخوش گوار صورت حال ان اقوام کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے جو بیرونی حملے یا اندرونی انتشار کے خطرے کی زد میں ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کا وسیع دائرہ دہشت اور خوف کے خطرناک اور غیر مستحکم’’ توازن ‘‘پر انتہائی نزاکت کے ساتھ استوار ہے۔

جو بحران اکیسویں صدی کے انسان کے سامنے ہے وہ واقعی عالم گیر حیثیت کا حامل ہے۔ صرف اس وجہ سے  نہیں کہ یہ لاتعداد مردوں اور عورتوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ دور رس معنی میں یہ تمام انسانی تعلقات اور اداروں کے تانے بانے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس نے انسان کے فطرت کے ساتھ رشتے کو مسخ کر دیا ہے۔ کوئی انسانی معاشرہ، کوئی فرد، کرۂارض کا کوئی گوشہ خواہ وہ کتنا ہی دُور افتاده یا الگ تھلگ ہو ،کتنا ہی طاقتور یا خوش بخت ہو، اس بد نظمی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہم اس عالم گیر بحران کو بنیادی عدم توازن کا نام دے سکتے ہیں جو انسان کی اس کے ماحول کے ساتھ حیاتیاتی و ثقافتی مطابقت اور ربط کی صلاحیت کو محدو د کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے۔


[1]          مغربی تہذیب  کی فکری بنیادیں جن فلسفیوں نے رکھی ہیں ان میں جہاں فرائڈ(Sigmund Freud) ، کارل مارکس (Karl Marx)  اور جان مل John Stuart Mill) (کے نام اہم ہیں وہیں مذکورہ بالا فلسفیوں کا اہم مقام ہے ۔

جدید صنعتی معاشرے میں بہت سے مریضانہ رویے عام ہیں۔ کچھ ہونے یا کچھ بن جانے کے بجائے سب کچھ رکھنے اور حاصل کرنے کا رویہ، طاقت کا جنون، دوسروں کو آزاد کرنے کے بجائے ان پر غلبہ حاصل کرنے کا جنون، شراکت کی ایک وسیع تر معاشرتی حقیقت میں شرکت کے بجائے احساس اجنبیت کی طرف لپکنے کا رجحان ،فراغت کو تخلیقی اور منفعت بخش مصروفیات میں صرف کرنے کے بجائے محض وقت گزارنے اور اسے ضائع کرنے کا رجحان،اندرون کی طرف توجہ کے بجائے بیرون میں مداخلت کا نفسیاتی مزاج جوجنس، نسل،  مذہب یا قومیت کی بنیاد پر تفریق کو بڑھائے، تنازعات کو طاقت کے استعمال یا دھونس  سے حل کرنے کا رجحان  ایسے مریضانہ رویوں کی یہ  چند مثالیں ہیں۔

 ان  سماجی امراض کو جدید صنعتی معاشرے میں دولت،طاقت اور علم کی تہ در تہ شکلوں میں اداراتی شکل دی گئی ہے۔ انسانی ضروریات پورا کرنے کو فوقیت دینے کے بجائےصنعتی پیداوار کی اجارہ داری قائم رکھنے سے ، مریضانہ رویوں کی اداراتی شکل اس حدتک پہنچ گئی ہے کہ اب نہ صرف انسانی زندگی کا اعلیٰ معیار محفوظ نہیں بلکہ اس کی بقا خطرے میں ہے۔ اگر آج انسانی تہذیب کی زوال پذیر حالت کی یہ تشخیص صحیح ہے تو پھر کوئی جستہ جستہ یا عارضی یا محدودطریقہ علاج اسے دور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نوع انسانی کے نامیاتی (Organic) ارتقا کو قائم رکھنے کے لیے ایسی فضا فراہم کرنا اور ایسے جوابات تلاش کرنا ہوں گے جو اپنی اصل میں انقلابی اور عالمی ہوں۔

کلب آف روم کی تشخیص

نئے ہزاریہ کے آغاز سے ذرا قبل دی کونسل  آف دی کلب آف روم کی رپورٹ ،پہلا عالم گیر انقلاب (۱۹۹۱ء) (The First Global Revolution)،]مرتب و مصنف الیگزنڈرکنگ(Alexander King) اور برٹرینڈ شینڈر[(Bertrand Schneider) اس ضمن میں اہم حقائق سے بحث کرتی ہے۔ [1]

رپورٹ کا آغاز اس نکتے سے ہوتا ہے کہ نئی صدی کے آغاز پر بنی نوع انسان  نہ صرف بے یقینی کی گرفت میں محسوس ہوتی ہے بلکہ ہزاریے کا اختتام اپنی وسیع تر سرعت پذیر تبدیلی کے ساتھ بے یقینی کی زیادہ گہری کیفیت لا رہا ہے۔

یہ رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ بے مثال معاشی ترقی کے باوجود تقریباً ایک اعشاریہ تین ارب لوگ جوعالمی آبادی کے ۲۰ فی صد سے زیادہ ہیں شدید بیماری یا بھوک کا شکار ہیں۔ یہ رپورٹ معاشی ناہمواریوں،کھلی عدم مساوات ،حد درجہ عام اور شدید غربت بہ مقابلہ دولت کی فراوانی ، ہر قسم کے ذہنی و نفسیاتی دباؤ اور چپقلشوں کو جو مختلف جغرافیائی علاقوں میں سر اٹھا رہی ہیں، غیر متنازعہ حقائق کے طور پر ریکارڈ پر لاتی ہے۔ یہ رپورٹ آج کی صورت حال کو اس حقیقت کی بڑھتی ہوئی آگہی کے طور پر پیش کرتی ہے کہ’’ نسل انسانی جس طرح مادی فوائد کے لیے فطرت کا استحصال کر رہی ہے اس سے دراصل وہ اس  کرہ  ارض کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے‘‘۔ انسانی بے اطمینانی کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے:

’’پہلے عالم گیر انقلاب کی غیر معمولی تبدیلیوں کی پیدا کرده صدماتی لہروں کی زد سے کوئی علاقہ یا معاشرہ بچ نہیں سکا ہے۔ اس اکھاڑ پچھاڑ نے ماضی سے ورثے میں ملے ہوئے سماجی تعلقات عقائد اور انسانی رشتوں کو توڑ دیا ہے اور مستقبل کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل بھی نہیں دیا۔ شکوک اور مایوسی کی بہت سی وجوہ ہیں، جیسے اقدار اور حوالوں کا غائب ہو جانا ۔ دنیا کی روز افزوں پیچیدہ اور غیریقینی صورت حال نے عالمگیر معاشرے کے استدراک میں حائل مشکلات ،نئے غیرحل شده مسائل مثلاً ماحولیاتی ابتری کا سلسلہ اور جنوبی ممالک کی انتہائی غربت اور پسماندگی،  نیز ذرائع ابلاغ کےاثرات جو کسی سنگین حقیقت اور کسی ناگہانی مصیبت کے المیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں‘‘۔

اس چیلنج کی ماہیت اور وسعت کا نقشہ پیش کرتے ہوئے رپورٹ کہتی ہے:

’’اس سے قبل تاریخ میں انسان کبھی بھی اتنے خدشات اور خطرات سے دو چار نہیں ہوا …..آج معاشرے کو جس خلا کا سامنا ہے اس کی تصدیق نظام اقدار کی ٹوٹ پھوٹ، روایات پر شکوکو شبہات، نظریات کے انہدام،عالم گیر وژن کے فقدان اور جمہوریت کے ان طریقوں کی محدودیت وغیرہ سے ہوتی ہے۔ افراد خود کو بے یارو مددگار پاتے ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف ان خطرات کا سامنا ہے اور دوسری طرف پیچیدہ مسائل کا بروقت جواب دینے اور برائی کی شاخوں کی  جڑ پر وار کرنے کی اہلیت وہ اپنے اندر نہیں پاتے‘‘۔

بڑی دل چسپ اور معلومات افزا بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ ان مسائل کے حوالے سے بنی نوع انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن پاک کی سورة العصر پرغور کرے:

وَالْعَصْرِﭐﺫ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍﭑﺫ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّﺃ  وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِﭒﺟ  (العصر ۱۰۳: ۱-۳)

زمانے  کی قسم ! انسان در حقیقت بڑے خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے، جو ایمان  لائے اورنیک اعمال کرتےرہے اور ایک دوسرے کوحق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ 

اسلامی متبادل 

تہذیب کے بحران کا معروضی تجزیہ یہ ضرور بتائےگا کہ نوع انسانی ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔موجودہ صورت کےجاری رہنے میں تباہی لازمی ہے۔اس کی بقا کا انحصار اس پر ہے کہ نوع انسانی کی اخلاقی بنیادوں کی بازیافت سے نیا آغاز کیا جائے اور انسانوں اور معاشرے کے ایسے تصور کو تسلیم کیا جائے جو دنیا، نوع انسانی اور اس کی تقدیرکا ادراک اخلاقی بنیادوں پر کرے۔

 اس مقام پر انسانوں کی ضرورت ہے کہ وہ اللہ کے کلام اور اس کی دی ہوئی ہدایت سے رشتہ استوار کریں۔ یہ انھیں ان کے خالق سے آگاہ کرتا ہے، اور انھیں ان کی تخلیق کا مقصد بتاتا ہے۔اشرف المخلوقات کی حیثیت سے انسان کو اس کے مقام سےآ گاہ کرتاہے اور ایک بھر پور اور ثمرآور زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ان کو آخرت کے بارے میں بتا تا ہے۔ ان کو دوسرے انسانوں کی قدرو قیمت سے آگاہ کرتا ہےاور ہر چیز کوحق اور انصاف کے تابع کر دیتا ہے۔ یہ ان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اپنے ساتھ، تمام مخلوق کے ساتھ اور اپنے خالق کے ساتھ سکون سے رہیں۔

 اس حقیقی چیلنج کے پیشِ نظر اصل مسئلہ کسی نئے اقتصادی نظام یا نئی عالم گیر سیاسی تنظیم کا نہیں ہے، بلکہ اس نئے عالمی نظام کا ہے جو انسان کے نئے تصور اور معاشرے اور انسان کی تقدیر کے متعلق ایک مختلف وژن پر  مبنی  ہو۔ اصلاح کے لیے جو کوشش عالمی مذاہب کے زیراثر عموماً اور اسلام کے زیرِاثر خصوصاً کی جائے ،اس کا آغاز یہ ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ سمجھنے اور اس کے حل تک پہنچنے کےلیے اس تصور کو درست کرنے کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ 

اصل ضرورت یہ  نہیں ہے کہ بڑی ساختوں (Superstructures) میں بعض تبدیلیاں لانے کےبارےمیں کچھ رعایتیں تلاش کی جائیں بلکہ ضرورت یہ ہے کہ ان بنیادوں کو پرکھا جائے جن پر سارا معاشرتی ڈھانچہ اور معیشت کی عمارت تعمیر کی گئی ہے ۔ ان مقاصد کا جائزہ لیا جائے جو ثقافت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ معاشی،سیاسی اور معاشرتی تعلقات میں پایاجانےوالابحران ان تصورات اور ان اداروں کا قدرتی نتیجہ ہے جو ان کے حصول کے لیے  بنائے گئے ۔ اس لیےاسلام کا پیغام یہ ہے کہ نوع انسانی کے لیے افراد اور معاشرے کادرست وژن ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے حالات درست ہو سکتے ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ میں بنیادی تبدیلی لائیں۔

تبدیلی کا طریقۂ                  کار

تبدیلی کا طریقۂ کار اور حکمت عملی کے بارے میں مغرب میں  یہ قیاس کر لیا گیا ہے کہ انسانوں میں انقلابی تبدیلی صرف اس صورت میں لائی جاسکتی ہے جب ماحول اور اداروں کو تبدیل کر دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ  سارا زوربیرونی طور پر تعمیر نو کے لیے  دیا جاتا ہے۔ انسانوں، ان کے عقائد، ان کے محرکات ،ان کی اقدار اور ان کی ذمہ داریوں کو مرکز توجہ  نہیں بنایا جاتا۔ یہی اس طریقے کی ناکامی کی وجہ ہے کیونکہ اس طریقے نے دل و دماغ میں تبدیلی کو نظرانداز  کر کے اصل توجہ باہر کی دنیا میں تبدیلی پر مرکوز کی ہے۔ در حقیقت مسئلہ محض بناوٹ یا ساخت کا نہیں ہے ساختی انتظامات کو بھی نئی شکل دینا ہوگی ۔  لیکن نقطۂ آغاز انسانوں کے دل اور روح اور حقیقت (Reality) کے تصور اور زندگی میں ان کے مقام اور مقصود زندگی کو ہونا چاہیے۔معاشرتی تبدیلی کے اسلامی نقطہ نظر میں ذیل میں دیے گئے  ان تمام عناصر کو پیش نظر رکھا گیا ہے:

۱۔    معاشرتی تبدیلی مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تاریخی قوتوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ اگرچہ بہت سی رکاوٹوں اور مشکلات کا وجود زندگی اور تاریخ کی ایک حقیقت ہے، مگر تاریخ میں کوئی جبر نہیں ہے۔ تبدیلی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور پھر اسے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی با مقصد ہونی چاہیے ،اور منزل مقصود کی جانب رواں رکھنے والی ہونی چاہیے۔

۲۔   انسان ہی تبدیلی کا سرگرم اور اصل عامل ہے۔ زمین پر اللہ کے نائب یعنی خلیفہ فیالارض (Vicegerent) کی حیثیت سے تمام دوسری قو تیں اس کے تابع کر دی گئی ہیں۔ اس کائنات کے الوہی انتظام کے اندر اور اس کے قوانین کے تحت اپنی قسمت بنانے  یابگاڑنے کے ذمہ دار خود انسان ہی ہیں۔

۳۔   ضرورت ہے کہ تبدیلی صرف ماحول اور بیرونی نظام کی نہ ہو بلکہ مردوزن تمام انسانوں ، سب کے دل اور روح کے اندر بھی تبدیلی لائی جائے۔ یعنی ان کے رویوں میں، ان کے محرکات میں، ان کی وابستگیوں میں اور ان کے ارادوں میں کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس سب کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے متحرک کر دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی تبدیلی وہی ہوسکتی ہے جس کی بنیاد ایمان اور اعتقاد پر ہو۔

۴۔   زندگی باہمی تعلقات کا ایک تانا بانا ہے۔ تبدیلی کا مطلب ہے کہ بعض تعلقات بعض جگہوں پر منقطع ہوں ۔ اس میں یہ خطرہ ہے کہ تبدیلی معاشرے میں افراد کے درمیان عدم توازن کا ایک آلہ کار   نہ بن جائے۔ تبدیلی ایک جانب توازن میں بہتری کی صورت  ہے اور دوسری جانب عدم توازن سے توازن کی جانب سفر ہے،اسلامی معاشرتی تبدیلی کم سے کم انتشار اور عدم توازن کی کیفیت پیدا کرے گی ۔ لہذا، تبدیلی کو متوازن، بتدریج اور ارتقائی ہونا چاہیے۔ اختراع (Innovation) کو انجذاب(Assimilation) کے ساتھ ملانا ہے۔ یہ منفرد اسلامی طرزہی ہے جو ارتقائی مدار پر انقلابی تبدیلیوں کی طرف لے جاتا ہے۔

اگر تبدیلی کے ضمن میں یہ بنیادی عناصر پیش نظر رکھے جائیں تو یہ نئے عالمی نظام کے مسائل سے نبٹنے کی ہماری حکمت عملی کوتبدیل کر دیں گے۔

تبدیلی کے لیے اسلامی اپروچ

اسلام الله کی آخری اور مکمل ترین ہدایت کا حامل ہے۔ یہ مجموعہ زندگی   کے قوانین  کاعملی نمونہ ہےجو خالق و مالک کائنات نے نسل انسانی کی رہنمائی کے لیے بذریعہ وحی نازل کیا ہے۔ اسلام انسانوں کا اللہ سے اور اس کی تخلیقات سے ایک تعلق قائم کرتا ہے کہ وہ  دیگر تمام موجودات سے تعاون کرتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ اس جہت (Dimension)  سے غفلت نے نوع انسانی کی مادی فتوحات اور کامیابیوں کو بےمعنی بنا دیا ہے۔ لادینیت کی گرفت نے انسانی زندگی کو اس کی روحانی اہمیت سے محروم کردیا ہے۔ تا ہم روحانی عظمت ،پینڈولم کو دوسری انتہا کی طرف جھولا دینے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ مادیت اور روحانیت کی یکجائی ہی سے مطابقت اور توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح  زندگی جسم اور روح میں یک جائی کا  نام  اور موت اس رشتے کے ٹوٹ جانے کا نام ہے،یہی معاملہ تہذیب کی زندگی اور بالیدگی کا ہے۔نہ محض روحانیت پرمبنی نظام زندگی کے مسائل کا حل ہے اور نہ ہی صرف مادی اور طبعی عوامل پرمبنی۔ دونوں کا امتزاج اور یکجائی ہی انسانی زندگی میں توازن اور ہم آہنگی کے ضامن ہو سکتے ہیں۔

یہی راستہ ہے جس کی اسلام وکالت کرتا ہے۔ یہ انسانی وجود کی ساری وسعت کو روحانی اور مذہبی بناتا ہے۔ اس طرح یہ انسانی مرضی کو اللہ کی مرضی سے ہم آہنگ کرنے کی علامت بن جاتا ہے۔ کیونکہ اسی طریقے سے انسانی زندگی کو امن وسکون میسر آ سکتا ہے۔ اللہ کے ساتھ تعلق کے رشتے کو دریافت کر کے ہی لوگ اپنی زندگی میں سکون پاتے ہیں ۔ انسان اور فطرت ایک دوسرے کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہیں۔ وہ ایک مشترکہ جدوجہد میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں تا کہ تخلیق آدم کے مشن کی تکمیل کریں۔ اس مربوط نقطۂ نظر میں ماحول کی کارفرمائی سے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم آج نئے عالمی نظام کی تلاش میں زندگی کے کسی ایسے نئے ڈھب کی جستجو کریں جو انسانی مسائل کو کچھ مختلف طریقوں سے سلجھائے۔یہ حل  محض محدود قومی یا علاقائی مفادات کے تناظر میں نہ ہو بلکہ اس کے پیش نظر یہ بھی ہو کہ کیا درست اور کیا نادرست ہے؟ کس احسن طریقے سے ہم انفرادی قومی اور عالمی سطحوں پر ایک منصفانہ انسان دوست عالمینظام کی تشکیل اور نشوونما کے لیے کوشش کر سکتے ہیں؟

یہ حقیقت کہ موجودہ نظام بے انصافی اور استحصال سے عبارت ہے، کسی شک و شبے کے بغیر ثابت ہو چکی ہے۔ اسلام کے مطابق موجودہ نظام اس لیے نا کام ہے کہ یہ انسانوں کے آپس کے اور معاشرے ،فطرت اور دنیا سے تعلقات کے غلط تصور پرمبنی  ہے۔ نئے نظام کی تلاش ہم کو اس مقام پر لاتی ہے جہاں انسانوں اور ان کے کردار کے نئے تصور کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ عالمی مذاہب کے نقطہ نظر سے عموماً اور اسلام کے نقطۂ نظر سے خصوصی طور پر بحث کا مرکز ،فرد اور معاشرے کے نئے وژن کی طرف مبذول ہونا چاہیے۔ایسا وژن جو انسانی شعور اور اقدار کی سطح پر تبدیلی لانے کے لیے ہو  اور جونئی ثقافتی تبدیلی کی طرف لے جائے۔

 اسلام معاشرتی تبدیلی کے لیے ایک تحریک ہے۔ یہ نہ صرف معاشرے کا واضح تصور دیتا ہے  بلکہ  تاریخ میں مطلوبہ تبدیلی برپا کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ معاشرتی و معاشی پالیسی کے لیے واضح رہنما خطوط بھی مہیا کرتا ہے۔  نیز وہ ایسے کلیدی ادارے قائم کرنے کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے جو اس پالیسی کے نفاذ کے ضامن ہوں اور باقاعدہ لیڈرشپ کے تحت منظم جدوجہد کریں تا کہ یہ مقاصد زمان و مکان کے اندر حاصل ہوں۔

انفرادی، معاشرتی اور عالمگیر سطحوں پر بیک وقت توجہ

امت مسلمہ مذہب کے بارے میں تحریکی سوچ رکھتی ہے۔ سوچ کا یہ انداز انفرادی معاشرتی اور عالمی یعنی تین سطحوں پرعمل کرتا ہے۔ انفرادی سطح پر جب تک افراد اپنے کردار کے بارے میں پختہ ایمان، نیا شعور اور نیا تصور نہ رکھتے ہوں یہ تبدیلی بر پا نہیں کی جاسکتی۔ دوسری سطح معاشرے کی ہے۔ اولاً یہ قومی سطح پر ہوگی، بعد میں ساری دنیا کو اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی حکمت عملی یہ ہے کہ یہ  ہر فرد کے اندر نئے شعور کی تخلیق سے آغاز کرتی ہے۔ ایسا شعور جو اس کی اقدار کو اپنے اندر سمو لیتا ہے اور پھر صحیح زندگی کے قیام کے لیے کوشش کرتاہے۔ نیز یقینی بناتا ہے کہ یہ عمل وقتی مصلحت پر مبنی نہ ہو اور نہ ذاتی یا گروہی مفادات کو اوّلیت دے بلکہ وہ اس پر پیش قدمی کرے جوسچ اورحق ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح ایک انفرادی مسئلے کو عالم گیر سطح پر دیکھا جائے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ایک شخص  ناحق قتل کیا جاتا ہے تو یہ گویا تمام نسلِانسانی کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی ایک زندگی بچا لیتا ہے تو گویا وہ ساری نسل ِانسانی کو بچالیتا ہے  (المائده۳۲:۵)۔  یہ مثال ہے کہ اس طرح ایک انفرادی واقعے کو ایک عالمی مسئلے اور ایک اصول میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔

 اسلام موجودہ حالت (Status quo) کا دفاع نہیں کرتا۔ یہ انسانی زندگی پر، خود مسلمانوں کی زندگیوں پر اور مسلم معاشرے کی تنظیم پرتنقید کرتا ہے۔ اسلام سیاسی اقتدار کو اپنےاخلاقی تصورات کے تحت لانا چاہتا ہے۔ اسلام کے لیے برپا تحریکوں کے نتیجے میں ایسے معاشرے اور ایسی ہی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا۔ اسی طرح مسلمان دنیا میں اپنا نظریاتی کردار ادا کر سکیں گے۔ لیکن  اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان اپنے گھر کو بھی درست کریں۔ ایک مثالی معاشرہ بنانے کے لیے اپنے وسائل کو وقف کریں جہاں ان کو سیاسی قوت حاصل ہو۔ پھر عدل و انصاف کی خاطر اس اصول پرعمل کرتے ہوئے جو آنحضرتﷺ نے مکہ کے قحط زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے اپنایا تھا (حالانکہ وہ سیاسی طور پر آپؐ کے ساتھ بحالت جنگ تھے ) اس میں دوسروں کو شریک کریں۔

ذہنوں میں یہ بات بالکل واضح ہونی چا ہے کہ اسلامی ریاست کبھی بھی انسانوں کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں رہی۔ اس کا مقابلہ ان اداروں اور ان قیادتوں سے رہا ہے جو جنگجو سیاسی قوت کی نمائندگی کرتے تھے۔ یہ بات ایک نئے مثالی عالمی نظام کی طرف رہنمائی میں نوع انسانی کی مددگار اور معاون ثابت ہوسکتی ہے، جہاں دوست دشمن سب کے ساتھ یکساں انصاف کیا جائے اور جہاں دولت میں ضرورت مند کا حصہ ہو، اس وجہ سے نہیں کہ  یہ مصلحت کا تقاضا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ انصاف کا تقاضا ہے۔

عالمی نظام کی اسلامی تشکیل کے لیے بنیادی اقدار

یہ عالمی نظام جن بنیادی اقدار پر قائم ہوتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

۱۔توحيد(اللہ کی وحدانیت اور اقتدار اعلیٰ): یہ وہ بنیاد ہے جس پر اسلام  کا نظریہ کائنات اور زندگی کا نظام قائم ہے۔ یہ خدا کے انسانوں سے اور انسانوں سے انسانوں کے تعلقات کے اصول بیان کرتا ہے۔ توحيد محض ایک مابعد الطبیعیاتی نظریہ نہیں ہے۔ معاشرتی حقیقت کے بارے میں انسانی فکر اس عقیدے کا جزو لاینفک ہے۔ انسانی تعلقات میں عدل کا قیام اس کا بنیادی مطالبہ ہے۔ عدل صرف اپنوں سے نہیں بلکہ دشمنوں اور محکوموں سے بھی ۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے اقتدار اعلیٰ پر ایمان کا مطلب ہے کہ سب انسان برابر ہیں اور ان کے حقوق (حقوق العباد ) دراصل اللہ کے حقوق (حقوق اللہ) کی فطری توسیع ہیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے:

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِﭐﺚ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَﭑﺫ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِﭒﺚ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَﭓﺫ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَﭔﺫ الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَا۬ءُوْنَﭕﺫ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَﭖﺟ  (الماعون ۱۰۷: ا- ۷)

 تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں، جو ریا کاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو ) دینے سے  گریز کرتے ہیں۔    

۲۔ استخلاف(نیابت): اسلام اس دنیا میں انسانوں کی حیثیت کا تعین بطور خلیفۃ الله کرتا ہے۔ یعنی وہ اللہ کے ماتحت ،اس کے نمائندے اور زمین پر اس کی مرضی قائم کرنے کے لیے مامور ہیں۔ ہر وہ چیز جو  وجود رکھتی ہے انسانوں کے تصرف میں دے دی گئی ہے تا کہ وہ اپنے اس کردار کی تکمیل کر سکیں ۔ تمام طبعی و دیگر وسائل ہمارے ہاتھوں میں قدرت کی ایک امانت ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم مالک نہیں بلکہ اللہ کے نمائندے ہیں اور ہمارا پہلا فرض یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے آقا کی مرضی و منشا کو پورا کریں۔ کائنات کی ہر چیزکے اوراپنی ذاتی صلاحیتوں اور  جو کچھ ہماری ملکیت یا قبضہ میں دیا گیا ہے اس کے ہم امین ہیں۔ ہمیں امانت کی حدود کے اندر رہ کر تمام اقتدارواختیار کو بروئے کار لانا ہے۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں ہم اس کے لیے جواب دہ ہیں۔ یہ اصول دنیا کے معاملات میں ہماری عملی شرکت کو شرط قرار دیتا ہے تاکہ زندگی کی تکمیل کی راہ تلاش کی جائے ۔ اس سے ہمیں یہ ترغیب ہوتی ہے کہ ہم تمام مخلوقات سے بحیثیت دشمن نہیں بلکہ بحیثیت ایک دوست اور شراکت دار پیش آئیں، جو  ان ہی  مقاصد کی تکمیل کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔

انسانوں کی مساوات و اخوت کا اسلامی تصور اور امت کی نظریاتی برادری،اس خلافت، امانت اور قیادت کے لازمی عناصر ہیں۔

۳۔ انسانوں کے درمیان قيام عدل : انسانوں کے درمیان قیام عدل ،ان بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے جن کے لیے الله تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور اپنی رشد و ہدایت سے سرفراز کیا۔ سب انسانوں کو وہ حقوق حاصل ہیں جو اللہ نے دئیے ہیں ۔ اس طرح سب اللہ کی نعمتوں کے منصفانہ طور پر حصہ دار ہیں ۔ ناداروں اور ضرورت مندوں کو امیروں کی دولت اور معاشرے پرحق حاصل ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ان کی مدد کی جائے اور ان کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ کوئی ہنر سیکھ لیں تا کہ اپنی روزی با عزت طور پر کماسکیں۔

۴۔ سیاسی اور معاشی طاقت فی نفسٖہ برائی یا شر نہیں: یہ خیر کے قیام کا ذریعہ اور ان حدود کی پابند ہیں جو خالق نے ان کے لیے مقرر کی ہیں۔ اس طرح یہ دین اسلام کے مشن کا حصہ ہے کہ سیاسی اور معاشی طاقت کو ہم کام میں لائیں تاکہ اخلاقی مقاصد پورے ہوں۔ انھیں ظلم و استحصال کےآلۂ  کار بننے سے بچانے کے لیے اس طرح استعمال میں لانا چاہیے کہ وہ عدل کے مقاصد کی خدمت کریں نیکی اور اچھائی کو ترقی دیں، شر اور برائی کو روکیں۔


[1]           یہ رپورٹ اس سے پہلے والی رپورٹ،ترقی کی حدود(The Limit to Growth)   (۱۹۷۲ء)کے بعد منظر عام پر آئی۔ یہ نہ صرف اس  پہلی رپورٹ کا تازہ ترین اشاریہ ہے ،بلکہ ایک کھلی اپیل بھی ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ، انسانیفطرت کی بنیادی مبادیات کی طرف لوٹ کر تلاش کیا جائے۔

۵۔ الله اور انسان کے درمیان فیصلہ کن امر،   الله  کی ہدایت:  انسان کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار  اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے بارے میں صحیح یا غلط روئیے پر ہے۔  الله کی رہنمائی اس کی کتاب قرآن مجید اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی صورت میں موجود ہے۔ یہ دونوں واضح طور پر ان تصورات، اقدار اور اصولوں کو بیان کرتے ہیں جن کی ہمیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو حق اور انصاف کی بنیاد پر تعمیر کرنےکے لیے ضرورت ہے۔ اس رہنمائی کے اندر ایک طے شدہ طریق کار موجود ہے جو بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔ اس کی حدود کے اندر ارتقا اور نشوونما ہوتا ہے۔ صرف الہامی ضابطہ حیات سے وابستگی ہی انسان کوخودروی اور نا انصافی میں دوبارہ مبتلا ہو جانے سے باز رکھنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

یہ ہیں وہ بنیادی اصول جن پر اسلام عالمی نظام کی تعمیرنو کرنا چاہتا ہے۔

عالمی نظام کی اسلامی تشکیل کے لیے حکمت عملی

اسلام نے صرف انفرادی اور اجتماعی زندگی اور ملکی اور عالمی نظام کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم نہیں کی ہے بلکہ نئے نظام کے قیام کے لیے ایک واضح حکمت عملی بھی دی ہے جو زمان و مکاں کی تحدیدات (Limitations) سے بالا ہے۔

 اس جہت میں اسلام کا پہلا احسان یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کا جائزہ لینے کا طریق کار بتاتا ہے۔ اسلام حقیقت کی روحانی  قدر  پر مبنی کلی نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے۔ یہ سب انسانوں کوان کے مکمل وجود کے حوالے سے، ان کے خالق اور اس کی ساری مخلوق سے تعلق کے تناظر میں دیکھتاہے۔ یہ مادی اور روحانی یا طبعی اور اخلاقی ثنویت کا قائل نہیں ۔ یہ دین کو دنیا سے جوڑ دیتا ہے اور زندگی کو ایک مربوط ہم آہنگ ا کائی بنا دیتا ہے۔ یہ جنس (Gender) کے کمپلیکس سے بھی آزاد ہے اور مرد و زن کو مساویانہ طور پر اللہ کے نائب سمجھتا ہے چنانچہ مردوں اور عورتوں،دونوں کے لیے یہاں اس دنیا میں اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک جیسا معیار رکھتا ہے۔

 عصر حاضر کے تمام نظریات، اور جزوی تبدیلی پر مطمئن ہو جانے والے بعض مذہبی رویوں کے بر خلاف اسلام مکمل تبدیلی کا علم بردار ہے۔ یہ فرد کی تطہیر و تز کیہ کر کے معاشرے کی تعمیر نو کرتا ہے اور اس طرح یہ فرداور معاشرے کو مزید ارفع مقصد کے حصول کا اہل بناتا ہے  ،یعنی انسانوں کے درمیان قیام عدل کے ذریعے اللہ کی مرضی کو پورا کرنا۔

 اسلام کا طریقہ اقدار پر مبنی ہے ،نہ کہ انفرادی یا قومی مصلحتوں پر۔ پھر اس کا نقطۂنظر  مثبت اورتعمیری  ہے نہ  کہ محض منفی یا تخریبی۔ یہ ہر انسان کی مکمل اخلاقی، معاشرتی اور معاشی بہبود چاہتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں عملاً انصاف کی عملداری دیکھنے کا مؤقف رکھتا ہے۔ یہ عالم گیر بھلائی اور انصاف کے اصولوں کا علم بردار ہے اور انسانی برادری کو دعوت دیتا ہے کہ آؤ اس کو قائم کرو۔ یہ افراد کی دیانت اور ان کے انسانی حقوق کو یقینی بناتا ہے جن کی ضمانت ان کے خالق نے انھیں دی ہے۔ اسلام  اس جذبے کو ابھارتا ہے کہ انسان ایسا معاشرتی نظام قائم کرے جس میں امن، عزت اور انصاف کا بول بالا ہو۔

ایسے عالمی نظام کے قیام کے لیے اسلام کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ رنگ، نسل، زبان،قومیت کا لحاظ رکھے بغیر تمام انسانوں کو یہ راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ مشرق یا مغرب ،شمال یا جنوب،تر قی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ کے مفادات کی بولی نہیں بولتا۔ یہ نئے عالمی نظام کو دنیا کے تمام حصوں کے تمام انسانوں کے لیے قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس عالمی نقطہ نظر کے ذریعے اسلام تصورات اور اصولوں کے ایک نئے شعور کو آگے لانا چاہتا ہے جن پر انسانیت کی ازسرنو تعمیر کی جانی چاہیے۔ یہ نوعِ انسانی کو دعوت دیتا ہے کہ انسانی فکر اور عمل کی تعمیر نو کے لیے اس کے مضمرات پرغور کرے۔

اسلام ایک معاشرتی تحریک بھی برپا کرتا ہے۔ ایک ایسی بین الاقوامی تحریک ،جس میں ان تصورات اور اقدار کوتسلیم کرنے والے ایک نیا عالمی نظام قائم کریں ۔ اسلام کا پرزور مطالبہ ہے کہ دنیا کے کسی حصے میں خلوص نیت کے ساتھ یہ نمونہ قائم کر لیا جائے۔ اگر مسلم دنیا ان اصولوں پر نئے سرے سے اپنا معاشرتی نظام تعمیر کرلےتو اس کی جیتی جاگتی مثال بن سکے گی۔ بدقسمتی  سے اس وقت مسلمانوں کی حقیقی صورت حال اس مثالی تصور سے بہت دور ہے۔ ایک دفعہ یہ  نمونہ (ماڈل) دنیا میں کہیں بھی کسی بھی مقام پر قائم ہو جائے تو ہر کوئی اس سے اسی طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے جیسے سورج کی روشنی اور دھوپ سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے امکانات بڑی حد تک اس اسلامی تحریک پرمنحصر ہیں جو فقہی اور مسلکی تنگنائیوں کی دلدل میں پھنسنے کے بجائے اس نئے  نظام  کے قیام کے لیے اس عالمی جدوجہد کی قیادت کر سکتی  ہے۔

 اسلامی نشاۃِ ثانیہ اور نیا عالمی نظام

اسلامی احیا کی جدید تحریک اپنی آفاقیت اور گیرائی کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ مسلم معاشروں میں سیاسی نظریات نے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر مختصر اور دکھاوے کی کامیابی کے بعد ناکام ہوئے۔ مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی عرب قوم پرستی، جس نے عرب دنیا کو سبز باغ دکھائے ،آخر کار ناکام ثابت ہوئی۔ شام اور عراق میں بعث پارٹی کی نامنہاد سوشلسٹ عرب قوم پرست حکومتیں بھی پورے طور پر ناکام رہی ہیں اور اگر کہیں مسخشدہ صورت میں موجود ہیں تو محض اس لیے قائم ہیں کہ وہ صرف ظلم و جبر کے سہارے قائم ہیں۔ آج ساری دنیا میں اشتراکی فریب کا پردہ چاک ہو چکا ہے، روس ہو یا مشرقی یورپ ،لاطینی امریکہ ہو یا وسطی امریکہ یا افریقہ، سوویت یونین کا خاتمہ اور دیوار برلن کا انہدام سوشلزم کی قبرکا کتبہ بن گئے اور سوشلزم تاریخ کے پس منظر میں گم ہو گیا۔ تاہم اسلام نے مختلف براعظموں میں پھیلے ہوئے نسلی اور ثقافتی  تنوع کے باوجودلوگوں کو اکٹھا کردیا ہے۔ یہاں کوئی عرب اسلام نہیں،نہ پاکستانی اسلام ، ایرانی اسلام اور نہ تر کی اسلام ۔ یہاں صرف اسلام ہے۔ اس طرح اسلامی عالمیت میں وحدت تو ہے مگر یکسانیت (Uniformity) نہیں۔ اسلام میں یہ وسعت ہے کہ وہ ایک طرف اپنے ابدی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیتا جو یک رنگی کا ذریعہ بنتے ہیں تو دوسری طرف اس کے فریم ورک میں یہ گنجائش ہے کہ مقامی اور مخصو ص ضرورتوں کو اسی طرح سمو لیتا ہے جس طرح ایک باغ میں پھولوں کی مختلف رو شیں اور پھلوں کے درختوں کی متنوع قطار یں ہوتی ہیں ۔

مسلمان عمو ماً اور حالیہ نشاۃِثانیہ کے بہت سے قائد خصوصاً نسلی طور پر مختلف ہیں لیکن وہ خود احتسابی سے گریز نہیں کرتے۔ مذہبی روایت میں موجود علامات و احوال کا وہ اجتہادی بصیرت کے ساتھ پھرسے جائزہ لینے کو تیار ہیں ۔ اس کا مقصود اسلام کے ابدی اصولوں کے قیام کے لیے روحانی،سیاسی، معاشرتی و اقتصادی تصورات کی تعبیر اور تعمیر نوہے۔ اسے اسلامیاحیا کی روح  یعنی اسلام کی اصل بنیاد تک پہنچنا قرار دیا جا سکتا ہے۔

اپنے اصل ماخذ کی طرف اس مراجعت کومسلمان ،طاقت کے منبع سے وابستگی کی صورت میں دیکھتے ہیں مگر اہل مغرب اور سیکولر اشرافیہ اس پر’’ بنیاد پرستی‘‘ کا لیبل چپکا دیتے ہیں۔ عقائد کا احیا اور اقامت دین وہ لازمی بنیادیں ہیں جس پر اسلامی زندگی قائم ہوتی ہے۔ اس کا کسی نوع کی مبینہ بنیاد پرستی سے کوئی واسطہ نہیں جو رجعت پسندی، تشدد اور تاریخی رومانویت سے عبارت ہے۔

یہ تازہ سوچ ایک نیا عہد، توانائی، لچک اور( سب سے بڑھ کر )ایک ایسی اہلیت عطا کرتی ہے جس سے حالیہ مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ آج بہت سے لوگ اسلام کو تہذیب و ثقافت کے سرچشمے اور معاشرے کی تشکیل نو کے ایک لازمی عنصر کی حیثیت سے ازسرنو دریافت کر رہے ہیں۔

اسلامی نشاۃِ ثانیہ کا موجودہ مرحلہ تقاضا کرتا ہے کہ مغربی نمونوں (Models) کی غلامانہ نقالی سے احتراز کیا جائے ۔ ایک چھان پھٹک والی بصیرت اختیار کی جائے کہ بیرونی تہذیب سے کیا لینا چاہیے اور کیا نہ لینا چاہیے۔   خذ ما صفا ودع ماکد رکی میزان پر یہ کام انجام دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس سے ثبات اور لچک دونوں کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اسلامی معاشرہ بہت سے طریقوں سے مغربی تجربےسے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں  ہونا چاہیے کہ اجنبی ثقافتوں کے تسلط کو اپنی ثقافت کی قیمت پر جاری رکھا جائے۔

مبصرین اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں: کیا مسلم ممالک ترقی،ٹیکنالوجی اور ایسے ہی دوسرے راستوں کو مسترد کر سکتے ہیں؟ صاف بات ہے وہ مسترد نہیں کرنا چاہتے۔ حقیقی سوال یہ ہے کہ کس قسم کی ترقی مطلوب ہے، اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ مسلمانوں کو اندیشہ ہے کہ ان کی قوموں کو جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے وہ ماضی کے سامراجی منصوبوں کا ایک نیا ہیولا ہے۔ ماضی میں جسے ’’سفید فام نسل کی ذمہ داری‘‘ قرار دیا جا رہا تھا وہ آج نئے عالمی نظام کے نام پر مغربی تہذیب و ثقافت کو باقی دنیا اور خصوصیت سے مسلم دنیا پر مسلط کرنا ہے۔یہ سامراجی کھیل معاشی ،اجتماعی ،اخلاقی اور نظریاتی ترقی میں اضافے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ الٹا اسے نقصان پہنچا دے گا۔ مسلمان، مسلم ریاستوں کے باہمی تعلقات وسیع تر سیاسی اور اقتصادی تعاون کے امکانات کے بارے میں پریشان ہیں۔ کیا مسلم ممالک جن کو استعمار نے اپنے مفادات کے تحت نئی جغرافیائی شکل دی ہے، ازسرنوتشکیل پائیں گے یا اسی طرح قومی ریاستوں کی حیثیت سے ہی آگے بڑھیں گے؟

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی تاریخ کے پہیے کو الٹا نہیں گھما سکتا۔ مسلمانوں کو اپنے آباءواجداد کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز سے تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کو ترقی دینا ہوگی۔ ایک نقطہ آغاز کے طور پر قومی ریاست کوقبول کیا جا سکتا ہے۔ گومحدودقو می دائرے میں پابند رہنے کے جذبے کو اسلامی فکر سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اسلام، ملت کے تشخص کو ابھارتا ہے۔ تا ہم آج قومی ریاستوں کے جغرافیائی وجود کو سیاسی حقیقت کے طور پر اس لیے قبول کیا جائے گا کہ ان کو اگر با لجبر توڑا گیا تو اس سے سیاسی خلا پیدا ہو جائے گا جو لامحالہ فساد کا باعث ہوگا۔ اس کے لیے مسلم معاشرے یا امت میں ایک وحدت کا احساس پرورش کرنا ہو گا اور مسلم ریاستوں کے مابین زیادہ ربط و تعاون کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ اسلامی نظرئیے کے مطابق ہر قومی ریاست آخر کار ایک نظریاتی ریاست کے طور پرارتقا پذیر ہو جائے گی اور اس طرح مسلم علاقوں پر مشتمل اسلامی دولت مشترکہ کی ہیئت تعمیر ہوگی۔

اسلامی نشاۃِ  ثانیہ پر مغرب کا ردعمل:  شاید اس تصور کا احساس مغرب کو بھی ہو گیا ہے، اس لیے غلط طور پر اس سے خوف زدہ ہوکر کوتاه نظری کی وجہ سے وہ (مغرب) سوچتا یا سمجھتا ہے کہ: مسلمان ریاستوں میں اسلامی افکار کی اشاعت و ترویج ’ایک خطرہ‘ہے اور ’فساد ‘ کا پیش خیمہ ہے جس کو روکنا ضروری ہے۔

مغرب عام طور پر اسلامی نشاۃِ ثانیہ کی ظاہری اور امکانی طاقت کا اندازہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس نے اسلامی تحریکات کے ارکان پر ’بنیاد پرست ،انقلاب پسند ،انتہا پسند، متعصب، دہشت گرد ،مغرب مخالف ،عصر حاضر کے مخالف‘ وغیرہ کے لیبل لگا دیے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسی تنگ نظر اور ناشائستہ اتہام بازی اور دشنام طرازی کبھی باہمی افہام وتفہیم میں معاون نہ ہوگی۔ مغرب وہی غلطیاں کر رہا ہے جو اس کے پیش روؤں نے نوآبادیات کے دور میں کی تھیں۔ یعنی یہ کہ معاشرتی و سیاسی منظر نامے کو دوسری تہذیبوں کے معاشرتی و سیاسی تنوع سے صرفِ نظر کر کے صرف اپنے سیاق و سباق کے حوالے سے بیان کرنا۔ اس طرح کا نقطہ نظر نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ انسانیت کے ساتھ بھی نا انصافی ہے۔ یہ رویہ مغرب کے اہل علم، پالیسی سازوں اور عامتہ الناس میں یکساں طور پر غلط فہمیوں کو بڑھاتا ہے۔ اسلامی  نشاۃِ ثانیہ اپنی تاریخ کے ایسے دور سے گزر رہی ہے جس کو اس کے حامی ایک اضطرابی دور مانتے ہیں، تاہم یہ نقائص اسلامی احیا کی شناخت نہیں بن سکتے، نہ ایسا ممکن ہے کہ بدعنوانی اور اخلاقیانحطاط کی لپیٹ میں آئے ہوئے مسلم ممالک سے کوئی ہما آسمانِ امید پر محو پرواز ہوجائے۔

مسلمان سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودہ تکلیف دہ صورت حال صرف معاشرتی، سیاسی اور معاشی برائیوں سے عبارت نہیں بلکہ اس کا دائرہ کہیں وسیع تر ہے۔ ان کا تجزیہ گہرائی تک جاتا ہے اور اخلاقی انحطاط اور اقدار کے بگاڑ کا مسئلہ سامنے لاتا ہے۔ بعض لوگ اس آگاہی کا صاف صاف اور بعض کم واضح طریقے سے اظہار کرتے ہیں، تاہم افسوس کی بات ہے کہ اسلامی احیاء کے مغربی تجزئیے میں یہ عناصر موجود نہیں ہوتے۔ روحانیت کا پہلو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کے نزدیک یہی اصل مسئلہ ہے۔ اس پر کلام کرنے کے بجائے اسلامی نشاۃِ ثانیہ کو سادہ لوحی کے ساتھ ،لوگوں کی مادی ترقی میں کمی کے باعث محرومی اور ناامیدی کے احساس اور اسلام کے ذریعے اقتصادی اور تکنیکی ترقی  کی امیدوں سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ایسا یک طرفہ تجزیہ مسلم معاشرے کے مزاج سے لاعلمی اور ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

 اسی طرح یہ بھی غلط بات ہے کہ اسلامی احیا کو ترقی سے محروم مسلمانوں کی دولتمند مغرب کے مقابلے میں ناراضی کا ردّعمل قرار دیا جائے۔ یقیناً استعماریت کے ورثے کے خلاف ردعمل ایک کردار ادا کرتا رہا ہے، جس کا اظہار سیاسی غم و غصے میں زیادہ رہا ہے۔ اس ہنگامے یا اضطراب کی ان سب سے بڑھ کر وجہ یہ ہے کہ اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے نے مغرب سے تصورات اور اقدار درآمد کر کے  اورانہیں عوام پر نافذ کر کے ایک عدماطمینان کی فضا پیدا کر دی ہے۔اشرافیہ کے یہ لوگ جو اداروں اور حکومتی نظام کو چلاتے ہیں،غیرملکی قوانین اور قواعد زبردستی لوگوں پر ٹھونستے ہیں۔ مزید برآں مسلمان اپنی اکثر حکومتوں سے نالاں ہیں ،کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ اپنی تہذیب و ثقافت کو نظرانداز کر کے (مغربی لادینی اقدار اور نمونہ ہائے ترقی کورائج کر کے) مغربی مفادات کو تحفظ دیتی ہیں۔

آج کی اسلامی تحریکات ،قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یا تعلیمات پر گہرے یقین اور اخلاص کا اظہار کرتی ہیں ۔ اس یقین و اظہار کا منظر علاقے کے بیشتر سیاسی اداروں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اہل مغرب اپنی بوکھلاہٹ پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے’ اسلامی عفریت ‘  کی بیداری کا نام دینےسے دریغ نہیں کرتے ،جب کہ درحقیقت یہ دین اسلام کی اور اس کے وابستگان کی قسمت کی بیداری ہے۔ مسلم روحانیت اور تصور نے مسلمانوں کے اندر ایک نئی منزل کا نشان اور ذاتی قربانی سے بے نیاز ہو کر اپنی دنیا کی تعمیر نو کے لیے غیر متزلزل وفا کا احساس پیدا کر دیا ہے۔

نوآبادیاتی دور میں قیادت صرف ذاتی اغراض تک محدود تھی۔ اس ورثے نے مسلم دنیا کو پراگندہ کر دیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں ان کے معاشرے ،اخلاقی اقدار سے محروم اور بدعنوانی کی آماجگاہ بن گئے تھےاور استحصال معمول بن گیاتھا۔اس میں مسلمانوں کی اپنی کمزوریاں بھی ہیں، جن کی وجہ سے ان کی تہذیب زوال پذیر ہوئی لیکن ان کے در میان آج کرپشن کا جو بازار گرم ہے یہ ایک نیا عمل ہے۔ عام طور پر مسلمان اس انحطاط کا ذمہ دار لادینی مغربیت کو قرار دیتے ہیں۔

جدیدیت کی بعض تعبیرات کی روشنی میں مسلم معاشرے کو لامذہب بنانے کی مہم کا آغاز کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ آزاد روی یا لبرل ازم کو اسلامی اقدار پر حاوی کر دیا جائے۔ یوں ایک دھماکا خیز مرکب بنایا گیا جس نے اخلاقی اقدار سے سمجھوتہ کر کے سماجی زندگی کومسخ کر ڈالا اور ایک خلا پیدا ہو گیا ۔ ذاتی منافع خوری، ترقی اور معاشرتی و معاشی استحصال نے اقتصادی و مادی ترقی کے نام پر اس خلا سے خوب فائدہ اٹھایا۔

اسلامی احیا ایسے تباہ کن رجحانات سے بغاوت کا نام ہے۔ مثال کے طور پر یہ اسلامی اخلاقی اقدار پر ازسرنو ایمان لانے اور امت کے مادی و انسانی وسائل کو معاشرتی انصاف اور خود انحصاری کے لیے بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔ احیائے اسلامی،مسلمانوں کی ایک مثبت نظریاتی تحریک ہے ،جو مسلم دنیا کے معاشرتی و معاشی نظام کی اسلامی اقدار پر از سرنو تعمیر کی علم بردار ہے۔ اس کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں ہیں۔ اس کو لامحالہ بین الاقوامی برادری سے واسطہ پڑے گا جن میں سے بعض سے اس کے اختلافات بھی ہوں گے۔

اصل سوال: الہامی اصول یا آزادروی پر قائم مادی ثقافت

مغربی تہذیب پرمسلم تنقید سیاسی مخالفت کا اظہارنہیں ہے۔ درحقیقت یہ دوتہذیبوں کے مابین ایک فکری اور عملی مقابلہ ہے۔ جن میں سے ایک الہامی اقدار پرمبنی ہے اور دوسری  مادّیت،قومیت اور آزادروی پر قائم ہے۔ اب انسانی معاشروں کے سامنے انتخاب کی راہ واضح ہوگئی ہے: الہامی اصول یا لادین مادی ثقافت۔ یہاں زور انتخاب پر ہے۔ لادینیت، خواہ سرمایہ دارانہ ہو یا سوشلسٹ اور قوم پرستانہ، کسی بھی نظریے پر اجارہ داری نہیں رکھتی۔ اسلامی احیا مادّیت کے دنیاوی شکنجوں سے رہائی کی راہ دکھاتا ہے۔ یہ انسانیت کے انتخاب کو وسعت عطا کرتا ہے، لہذا اس کو ایک موقع اور ایک برکت کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ ایک دھمکی یا خطرے کے طور پر۔                                                    

(اپریل۲۰۰۲ء)

نوٹ:یہ مضمون ایک تقریر کے تر جمے اورتلخیص  پرمشتمل  ہے جو لزبن  (Lisbon) پرتگال میں ایک عالمی کانفرنس میں کی گئی اور جس کا انگریزی متن امریکہ سے شائع ہونے والی کتاب World Faiths and the New World Order میں شامل  ہے۔ (ترجمہ:قاضی محمد اقبال اور مسلم سجاد)                                      

تہذیبی و سیاسی کشمکش کے عوامل

] تیونس کے تجربات کی روشنی میں[

قومی ریاستوں کے عنوان سے آج کی دنیا ۲۰۰ سے زائد ملکوں میں تقسیم ہے۔ ان میں سے ستاون ممالک مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ہیں۔ چند ایک استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر بیشتر مسلم ممالک استعمار کی غلامی میں رہنے کے بعد گزشتہ چند دہائیوں کے دوران آزاد ہوئے ہیں۔ غلامی اور پھر آزادی کے بعد یوں تو ہر ملک کی پیش رفت میں اس کے اپنے مخصوص حالات کا بھی دخل ہے لیکن تہذیبی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف ملکوں میں استعمار اور اس کا مقابلہ کرنے والی آزادی پسند اسلامی مزاحمتی قوتوں کے درمیان بہت سے عوامل یکساں ہیں۔ تیونس میں چند سال قبل انقلاب یاسمین کے حوالہ سے ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں پیش کی جانے والی یہ تحریر اس حوالہ سے بہت سے اہم نکات پر روشنی ڈالتی ہے۔

________________

اللہ سے غافل اہل دولت و ثروت اور حکومت اپنی قوت، حکمت اور عیارانہ سیاست کے زعم میں، اور اپنے سرپرستوں کی دنیاوی طاقت اور تائید کے بھروسے پر، اپنے اقتدار کو ناقابل شکست سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی  ساری منصوبہ بندیاں اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے ان کی حکمرانی اور بالا دستی کو دوام میسر رہے گا۔ تاریخ کے نشیب و فراز سے بے پروا ہو کر وہ اصل بالاتر قوت کی تدبیر کے امکانات کو ایک لمحے کے لیے بھی لائقِ توجہ نہیں گردانتے، اور قوت کے نشے میں مست ہو کر اپنی من مانی کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔اس دوران وہ ایسے ایسے کھیل کھیلتے ہیں کہ انسان تو کیا فرشتے بھی ششدر رہ جاتے ہیں ۔ لیکن پھر قدرت کا ایک جھٹکا ان کے سارے شیش محل کو چکنا چور کر دیتا ہے اور ان کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ زمین و آسمان کے خالق و مالک نے  سچ کہا ہے کہ :

 وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُﺚ وَاللہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَﮅﺟ (اٰل عمرٰن ۳: ۵۴)

وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے اور اللہ  ہی کی تدبیر غالب رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ارباب قوت و اقتدار کا حال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ؏

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

اس کی تازہ ترین مثال تیونس میں رونما ہونے والے ان واقعات کے آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے، جو ۱۷دسمبر ۲۰۱۰ء کو ایک چھوٹے سے قصبے سیدی بوزید میں ایک ۲۶سالہ گریجویٹ نوجوان محمد البوعزیزی کی خودسوزی کی کوشش سے شروع ہوئے اور احتجاج کی لہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے چار ہفتوں میں پورے تیونس میں ایسی ہلچل مچا دی کہ تاحیات صدارت کا مدعی اور بعدِحیات جانشین کے تقرر کا خواب دیکھنے والا کُلی اختیارات کا مالک، صدر زین العابدین بن علی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اقتدار، دولت، پولیس، فوج اور ذاتی ملیشیا، کچھ بھی اس کے کام نہ آسکا۔ تیونس کے طول و عرض میں تبدیلی کے نقارے بجنے لگے، بن علی کی شخصی اور حزبی آمریت کا قلعہ زمین بوس ہوگیا اور ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کی راہیں کھل گئیں جسے ’انقلابِ یاسمین‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔  بلاشبہ انقلاب کا یہ عمل ابھی جاری ہے اور اپنی تکمیل کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انقلاب دشمن قوتیں اپنی چالوں میں مصروف ہیں اور اسے پٹڑی سے اُتارنے کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ یہ کشمکش بالآخر کس انجام کو پہنچے گی اس کاانحصار مشیت الہٰی پرہے۔ لیکن اس وقت قرائن اشارہ کر رہے ہیں کہ ان شاء اللہ تیونس اور اس کے بعد عرب اور مسلم دنیا کے متعدد ممالک کی زندگیوں میں ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ تبدیلی کی جو مضبوط لہر اُٹھی ہے اس کی کامیابی اور صحیح سمت میں پیش رفت کی دعاؤں کے ساتھ اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس انقلابی رَو کے بارے میں

غوروفکر کے چند گوشوں پر روشنی ڈالی جائے۔

تیونس ایک مسلمان ملک ہے جس کی تاریخ تیرہ سو سال پر محیط ہے۔ اسلام کی روشنی افریقہ کے اس علاقے میں پہلی ہجری صدی (۶۹۸ء) میں پہنچی اور ۱۸۸۳ء میں فرانس کے غلبے تک یہ حسین و جمیل ملک اسلامی قلمرو میں ایک نگینے کے مانند دمکتا رہا۔ درمیان میں یورپ کی عیسائی یلغار (Crusade) کے زمانے میں اسے نصف صدی (۱۵۲۴ء۔۱۵۷۴ء) کے لیے ہسپانیہ کے تسلط کا تلخ تجربہ بھی ہوا۔ اوّلین بارہ سو سال میں تیونس نے مسلمان حکمران خاندانوں (عرب، بربر، فاطمی، موحدون اور عثمانیہ سب ہی) کے اقتدار کا مزہ بھی چکھا۔ عوامی سطح پر تصوف کے تمام ہی بڑے سلسلوں کے اثرات اس سرزمین پر رہے۔ خاص طور پر قادریہ، الرحمانیہ، عیساویہ، تیجانیہ اور عروسیہ۔ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی جامعہ الزیتونیہ دینی، اصلاحی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور ابن خلدون جیسا نابغۂ روزگار مفکر اور سیاسی مدبر بھی اسی سرزمین کا گلِ سرسبد تھا۔ ابتدا ہی سے اہلِ تیونس مالکی مذہب کے پیرو تھے۔ گوعثمانی دور میں آبادی کے ایک حصے نے حنفی مسلک اختیار کیا اور اس طرح مالکی اور حنفی فقہ دریا کے دو دھاروں کی طرح اس علاقے کو سیراب کرتے رہے اور بڑی ہم آہنگی کے ساتھ یہ کام انجام دیتے رہے۔ واضح رہے کہ جامعہ الزیتونیہ نے ۱۲۰۷ء میں باقاعدہ جامعہ الزیتونیہ (زیتونیہ یونی ورسٹی) کا درجہ حاصل کرلیا تھا جہاں تمام دینی علوم کے ساتھ لغت، سائنس اور طب کے ہرشعبے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ نیز زیتونیہ کے مدارس کا سلسلہ ملک کے طول وعرض میں قائم تھا اور مرکزی جامعہ میں ہزاروں طلبہ علم کے چشمے سے فیض یاب ہوتے تھے۔

نو آبادیاتی دور 

تیونس کی تاریخ کا تاریک دور فرانس کا نوآبادیاتی زمانہ تھا، جو ۱۸۸۳ء میں معاہدہ لامرسا (Convention of La Marsa)کی چھتری تلے شروع ہوا اور ۱۹۵۵ء تک جاری رہا۔ مارچ ۱۹۶۵ء میں تیونس آزاد ہوا، مگر آزادی کے ساتھ ہی اہلِ تیونس کی آزمائش کا دوسرا دور شروع ہوگیا۔ جس میں اقتدار بیرونی حکمرانوں سے منتقل ہوکر اپنی ہی سرزمین کے دو آمروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہوگیا، یعنی حبیب بورقیبہ (۱۹۵۶ء۔۱۹۸۷ء) اور زینالعابدین بن علی (۱۹۸۷ء۔۲۰۱۱ء)۔ فرانس نے اپنے زمانۂ تسلط میں تیونس کے شریعت کے قانون کو ذاتی زندگی کے امور تک محدود کردیا۔ اس کے ساتھ تیونس پبلک لا کو بھی فرانس کے نظام قانون کے مطابق ڈھال دیا گیا۔ یوں زبان، تعلیم، تہذیب و تمدن اور معیشت و سیاست، ہرشعبۂ زندگی کو فرانس کی تہذیب کے رنگ میں رنگنے کے سامراجی ایجنڈے کو بڑی بےدردی اور قوت سے آگے بڑھایا گیا۔ اس دور میں دین کی روشنی اگر کہیں سے میسر تھی تو وہ خانقاہیں اور مساجد و مدرسے تھے۔

سامراج سے آزادی کے بعد

فرانسیسی سامراج کے خلاف جو عوامی تحریک رونما ہوئی وہ دینی اور خود دنیوی تعلیمی اداروں ہی کی مرہونِ منت تھی۔ حبیب بورقیبہ اگر جدید تعلیمی اداروں کی پیداوار تھا، تو عبدالحمید ابن بادیس، توفیق مدنی اور خود حواری بومدیان زیتونیہ ہی کے تعلیم یافتہ رہنما تھے۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ استعمار سے آزادی کی تحریک کے دوران میں، آزادی کی تحریک کا ہدف صرف فرانسیسی سامراج سے نجات ہی نہ تھا بلکہ تیونس کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور دینی اقدار کی سربلندی بھی تھا۔ حبیب بورقیبہ کی ۱۹۲۹ء اور اس کے بعد کی تقاریر اس پر شاہد ہیں کہ خود اس نے اسلام کو تیونس کی شناخت کے طور پر پیش کیا اور بار بار مسلمان عورت کے حجاب کو اس شناخت کا مظہر قرار دیا۔ لیکن یہ ایک عظیم بدقسمتی تھی کہ آزادی کے حصول کے فوراً بعد اس (حبیب بورقیبہ) کی دستور پارٹی اور اس  پارٹی کی قیادت نے رنگ بدلا اور اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال میں ملکی سیاست، قانون اور تہذیب و ثقافت کا رشتہ اسلام سے کاٹنے کا’کارنامہ‘ انجام دیا۔ کبھی اسے ’اسلامی اصلاحات‘ کا تقاضا قرار دیا اور کبھی بڑی ڈھٹائی سے ترقی اور جدیدیت کا سہارا لے کر ملک کے قانون، تعلیم اور اجتماعی زندگی کے تمام ہی شعبوں پر سیکولر تہذیب اور قانون کو مسلط کیا۔ اس طرح جدیدیت کے نام پر لادینیت اور مغربیت کا کھیل شروع ہوگیا۔ تعدّدِ ازدواج پر پابندی اور عائلی قانون بشمول قانونِ وراثت کی تبدیلی سے اس ’سیکولر یلغار‘ کا آغاز ہوا۔ مسجدو محراب اور مدرسہ اور خانقاہ کو سرکاری نظام کے تسلط میں لایا گیا۔ شخصی اور سیاسی آزادیاں مفقود اور بنیادی حقوق پامال کیے جانے لگے۔ قوت کا ارتکاز ایک مطلق العنان حکمران کے ہاتھ میں ہوگیا جس نے روزے جیسی فرض عبادت تک پر شب خون مارتے ہوئے اسے معاشی ترقی سے متصادم قرار دے کر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ گو، بالآخر اس آخری اقدام کی حد تک بورقیبہ کو منہ کی کھانی پڑی لیکن بحیثیت مجموعی اجتماعی زندگی کے پورے نظام، بشمول حجاب پر پابندی اور شراب اور جوئے کی ترویج اور سیاحت کے فروغ کے نام پر مغربی اقوام کے تمام گندے اور مذموم کاروبار کی کالک اپنے منہ پر مل گیا۔

قوم کے اجتماعی ضمیر اور حکمرانوں کے مقاصد اور اہداف میں تناقض اور تصادم نے اس ملک کو، جو قدرتی وسائل سے مالا مال تھا، حکومت اور عوام کی مسلسل کش مکش کی آگ میں جھونک دیا۔ یک جماعتی آمریت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا اور اسلامی قوتوں اور اشتراکی تصورات کے تحت کام کرنے والی جماعتوں اور گروہوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ روحانی اور صوفی سلسلوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ ان سلسلوں سے وابستہ ہزاروں نوجوانوں، اور اسی طرح اسلامی تحریک کے کارکنوں کو پابندسلاسل کیا گیا۔ اس صورت حال کے نتیجے میں اسلام کے نام لیوا ہزارہا لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس ریاستی استبداد سے درحقیقت تبلیغی جماعت جیسی غیرسیاسی مذہبی تحریک بھی محفوظ نہ رہی۔

ان نامساعد حالات میں دینی غیرت رکھنے والے نوجوانوں نے جامعہ تیونس پروفیسر شیخ راشد الغنوشی اور ان کے معاون عبدالفتاح مورو کی قیادت میں پہلے جماعۃ الاسلامیہ اور پھر حزب النہضہ کے پرچم تلے جمہوریت کے قیام، بنیادی حقوق کے تحفظ، معاشی انصاف کے حصول، قانون کی بالادستی، کثیرجماعتی سیاست کے فروغ اور اسلامی اقدار اور شعائر کی ترویج کے لیے منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔ اسلامی تحریک نے فکری، دعوتی اور سیاسی تبدیلی کے محاذوں پر بیک وقت کام کیا۔ ان کے جاری کردہ رسالوں المعارفہ، مستقبل اور الفجر کے مضامین نے فکری انقلاب برپا کیا۔ اس دعوت اور پیغام کو اقتدار نے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔بورقیبہ اور اس کی خفیہ ایجنسی (مخابرات) کے سربراہ زین العابدین بن علی، جو ۱۹۸۷ء میں بورقیبہ کو ہٹاکر خود صدرِ مملکت بن گیا، ساری قوت اسلامی تحریک کو کچلنے اور اس کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کی۔ مغربی اقوام خصوصیت سے فرانس اور امریکہ نے تیونس کے اس استبدادی ٹولے کی پوری پوری پشت پناہی کی۔ شیخ راشدالغنوشی نے بھی برسوں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، انھیں عمرقید تک کی سزا دی گئی جس کی گرفت سے نکل کر انھیں جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنا پڑی۔[1]

تیونس کا اصل مسئلہ ، متعدد دوسرے عرب اور مسلمان ممالک کی طرح یہی ہے کہ مغربی سامراج سے آزادی کے بعد بھی وہ مغرب کی گرفت سے آزاد نہیں ہوسکے اور سامراجی استبداد کا ایک نیا دور شروع ہوگیا، جس میں اصل کارفرما قوت مغربی اقوام ہی ہیں۔ البتہ اب وہ بلاواسطہ حکمرانی کے بجائے بالواسطہ حکمرانی کا کام انجام دے رہے ہیں، اور ان ممالک کی مفاد پرست اشرافیہ ان کے آلۂ کار کا کردار ادا کرر ہی ہے۔ ان کا مقدر ان چار مصیبتوں سے عبارت ہے: ذہنی غلامی، سیاسی محکومی، معاشی گرفت اور تہذیبی جال۔ یہ چوہری غلامی کی وہ لعنت ہے جس کے خلاف عرب اور بیش تر اسلامی دنیا کے عوام آج نبردآزما ہیں۔ تیونس ہویا مصر، لیبیا ہویا مراکش، اُردن ہویا شام، بنگلہ دیش ہو یا پاکستان، ہمارا اصل مسئلہ ہی عالمی سامراجی قوتوں اور مقامی اشرافیہ کے آمرانہ نظام کا گٹھ جوڑ ہے، اور تیونس میں رونما ہونے والی انقلابی تحریک نے ایک بار پھر اس بنیادی حقیقت کو مرکز توجہ بنادیا ۔ لندن کے اخبار دی گارجین کی ایک اشاعت میں تیونس کے ایک دانش ور ہشام مطار نے پورے عالمِ عرب کے دل کی کیفیت کو اس طرح بیان کیا:

میری پیدائش سے بھی پہلے ہم عرب  دو طاقتوں کی گرفت میں ہیں جو بظاہر ناقابلِ شکست ہیں۔ ایک ہمارے بے رحم آمر جو ہم پر جبر کرتے ہیں اور ہماری تحقیر کرتے ہیں، اور دوسرے مغربی طاقتیں، جو یہ پسند کرتی ہیں کہ ہم پر ان کے وفادار مجرم حکومت کریں، بجائے اس کے کہ وہ منتخب راہنما جو ہمارے سامنے جواب دہ ہوں۔ ہم اس تاریک انجام کی طرف بڑھتے رہے کہ ہم ہمیشہ ان درندوں کی گرفت میں رہیں گے۔ تیونس کے عوام نے ہمیں تباہی کے گڑھے کے کنارے سے پیچھے کھینچ لیا ہے۔

تیونس، عالمِ عرب اور مسلم دنیا کے کرب ناک حالات میں تیونس کے ’انقلابِ یاسمین‘  کا یہی وہ پیغام ہے جس کا ادراک ضروری ہے اور جس کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کے ساتھ خود عرب اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں کے ایوانوں میں ایک زلزلہ سا آگیا اور ہرطرف کہرام مچا۔

تبدیلی کا منظرنامہ: چند اہم پہلو

ہم نہایت اختصار سے تبدیلی کے اس منظرنامے کے چند پہلوؤں کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:

۱۔    سب سے پہلی بات مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج ہم جس مصیبت میں مبتلا ہیں اس کی جڑ وہ بگاڑ ہے جس نے آزادی کے بعد تیونس ہی نہیں، بیش تر مسلم ممالک پر تسلط حاصل کرلیا ہے اور وہ ہے دہری غلامی جس کی ایک مثال تیونس ہے، یعنی:

(الف) مغربی استعماری اقوام کی ہمارے سیاسی، معاشی، قانونی اور تہذیبی نظام پر گرفت اور جدیدیت، سیکولرازم، معاشی ترقی، روشن خیالی ، آزاد روی (لبرلزم)، مارکیٹ اکانومی اور نام نہاد عالم گیریت کے حسین عنوانوں کے ذریعے ہماری فکرونظر، ہمارے میڈیا، ہماری تعلیم، ہمارا نظامِ حکومت اور ہماری معیشت کو اپنی گرفت میں لانا اوراپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا۔

(ب)    اس نوسامراجی (Neo-imperialistic)انتظام میں خود ہمارے اپنے ملکوں کے بااثر عناصر اور اشرافیہ کو آلۂکار بنانا خواہ ان کا تعلق سول قیادت سے ہو یا فوج اور بیوروکریسی کے افراد ہوں یا ادارے، خصوصیت سے این جی اوز۔ جمہوریت، معاشی امداد اور عالم گیریت وہ خوش نما عنوان ہیں، جن کے تحت مغرب کے ایجنڈے پر مقامی کارندے یہ کھیل کھیلتے ہیں، اپنی قوم اور اس کے وسائل کو بری طرح لوٹتے ہیں تاکہ جب بھی ان کا پردہ چاک ہو تو اپنی محفوظ پناہ گاہوں کا رُخ کرلیں۔ یہ سب فسطائی نظام اور بدعنوانی پر مبنی اس انتظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اس لیے بھی کہ مسلمان اُمت کی روح میں اس کا دین و ایمان رچے بسے ہیں، صرف جبرواستبداد ہی وہ طریقہ ہے جس سے ان پر ان کے دین، اخلاقی اقدار اور اپنی تہذیبی روایات سے متصادم کوئی نظام مسلط کیا جاسکتا ہے۔ حقیقی جمہوریت کا نفاذ و ترویج (Democratization) اور اسلامائزیشن ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ دوسری جانب مغرب کے ایجنڈے کا فروغ ممکن ہی صرف ایک آمرانہ نظام اور فسطائی قیادت کے ذریعے ہے۔ جگرمرادآبادی نے اس طرف اشارہ کیا تھا جب انھوں نے کہا    ؎

جمہوریت کا نام ہے، جمہوریت کہاں
فسطائیت حقیقت عریاں ہے آج کل

مسلم ممالک میں آمرانہ حکمرانی (Autocratic rule) اور من مانی اور استبدادی قوت (Arbitrary power)کا نظام اور قیادتوں کا اپنے شخصی مفادات کے حصول کے لیے مغربی اقوام، ان کے مقاصد، تہذیب اور مفادات کا خادم ہونا ایک دوسرے سے مربوط اور لازم و ملزوم ہیں اور جس تبدیلی اور انقلاب کے لیے مسلمان عوام بے چین اور مضطرب ہیں، وہ ان دونوں مصیبتوں سے نجات چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب کا ہدف چہرے بدلنا نہیں ہے، اس پورے انتظام اور دروبست کو تبدیل کرنا ہے، اور انقلاب اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس اصل مسئلے کا حل نہ تلاش کرلیا جائے۔

تیونس میں انقلاب کی ابھی ابتدا ہوئی ہے ۔ مغربی اقوام اور مقامی مفاد پرست عناصر کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ چند نمائشی تبدیلیاں کرکے پرانے نظام کے لیے نئی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جب تک اس خطرے کا سدباب نہ کرلیا جائے انقلاب نامکمل ہوگا اور تبدیلی کا عمل پٹڑی سے اُتر سکتا ہے جس کی پیش بندی ضروری ہے۔

۲۔    دوسری بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مغربی اقوام کا مقصد اپنے مفادات اور اہداف کا حصول ہے، جن کی خاطر وہ بڑی سے بڑی قلابازی کھا سکتے ہیں۔ تیونس میں حبیب بورقیبہ جب تک ان کے مقاصد کی خدمت کرتا رہا، وہ ان کا پسندیدہ شخص تھا، لیکن انھوں نے دیکھا کہ اس کی گرفت کمزور ہونے لگی ہے تو اپنا دوسرا مہرہ زین العابدین بن علی کی شکل میں آگے بڑھا دیا۔ وہ بورقیبہ کا قریبی ساتھی اور خفیہ سروس کا سربراہ تھا۔ اس طرح ایک غیرخونیں انقلاب کے ذریعے اس نئے مہرے کو ملک کی کمانڈ کے مقام پر لے آئے اور بورقیبہ کو ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ پھر بن علی نے ۲۳سال تک ان کے مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا اوراس دور میں اس کی تمام بدعنوانیاں، عوام دشمنیاں اور حقوق کی پامالیاں ان کو نظر نہ آئیں، حتّٰی کہ جب دسمبر۲۰۱۰ء میں احتجاجی لہریں بڑھیں تو فرانس کے وزیرداخلہ نے فرانس سے فسادات کو روکنے اور ہنگاموں کو فرو کرنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ پولیس (Riot Police) تک بھیجنے کی بات کی، لیکن جب بن علی کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی تو فرانس کے صدر سرکوزی نے پناہ تک دینے سے معذرت کرلی، بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے شاہِ ایران کو امریکہ  نے پناہ دینے سے انکار کیا تھا۔ جس دوستی کی بنیاد مفاد پر ہوتی ہے اس کا انجام اس سے مختلف ہو نہیں سکتا، لیکن اقتدار کے نشے میں مست کتنے ہی حکمران ہیں جو اپنے سامنے کی ایسی بات کا بھی ادراک نہیں  رکھتے،    فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔

۳۔   مغربی اقوام اور مقامی حکمران دونوں ہی ایک اور کھیل بھی کھیل رہے ہیں جس کا مظہر یہ حکمت عملی ہے کہ ایک قوم کے ایمان، اس کے نظریاتی عزائم اور تہذیبی تمناؤں کو محض مادی ترقی، مال و متاع کی خیرات اور ترغیب و ترہیب کے ہتھکنڈوں سے ہمیشہ کے لیے اپنے قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ توقع انسانی فطرت کے خلاف ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ایسی حکمت عملی بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ لیکن ہردور کے ظالم اور جابر حکمران اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں۔ تیونس کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ حکمت عملی تارِ عنکبوت کے مانند ہے، لیکن کم لوگ ہیں جو ایسے واقعات سے سبق لیتے ہیں۔ زین العابدین بن علی کو اپنی فوج اور سواکروڑ کے اس ملک میں ایک لاکھ ۳۰ہزار امریکہ  کی تربیت یافتہ مسلح پولیس فورس اور میڈیا اور معلومات کے تمام ذرائع پر سرکاری کنٹرول کے زعم میں کسی عوامی ردعمل کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ بظاہر بے بس انسانوں کی اس بستی میں اندر ہی اندر جو لاوا پک رہا تھا اس کا  بھی کسی کو ادراک نہ تھا۔ مگر راکھ کے ڈھیر سے پھر ایک ایسی چنگاری نکل آئی جس نے پورے ملک میں مزاحمت اور بغاوت کی آگ بھڑکا د ی۔

ایک مشہور عرب صحافی اور دانش ور رامی جی خوری (Rami G. Khouri) نے اس طرف متوجہ کیا ہے جب وہ کہتا ہے: ’’کس طرح بن علی کی پولیس اسٹیٹ کو جب دیرپا عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو تیزی سے بکھر کر رہ گئی‘‘۔ (ہیرالڈ ٹریبیون، ۲۲ جنوری ۲۰۱۱ء)

صرف پولیس اسٹیٹ ہی کے پائے چوبیں نہیں، مغربی اقوام کی پوری حکمت عملی ہی کسی حقیقی اور مضبوط بنیاد سے عاری ہے، چنانچہ حقیقی عوامی ردعمل کے آگے اس کی ناکامی ایک تاریخی حقیقت ہے۔

۴۔   تیونس کے حالیہ واقعات نے مسلمان ممالک میں سیکولرازم، سرمایہ داری اور مغربیت کی ہر طرح سے ترویج اور اسلامی لہر کو ’دہشت گردی، کے نام پر قوت کے ذریعے روکنے کی حکمت عملی کی ناکامی کے بارے میں غوروفکر کے لیے نئے زاویے فراہم کیے ہیں۔ تیونس میں یہ تجربہ فرانسیسی سامراجی اقتدار کے ۸۰سال اور بورقیبہ، بن علی ٹولے کے تسلط کے ۵۵سال سے جاری ہے لیکن تیونس کے عوام کے حصے میں اپنے دین اور تہذیب سے دُوری کے ساتھ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، قرضوں کی لعنت اور آزادی اور عزتِ نفس سے محرومی ہی کی سوغات آئی ہے۔ ۱۵ سے ۲۵ سال کے نوجوان جو آبادی کا ۲۵فی صد ہیں، ان میں بے روزگاری کا تناسب ۳۰ فی صد سے متجاوز ہے۔ مارکیٹ اکانومی جسے معاشی ترقی اور خوش حالی کا مجرب نسخہ قرار دیا جاتا ہے، وہ مریض کو اور بھی محرومیوں کا شکار کرنے کا باعث ہوا ہے۔ سیکولر قیادت نے استبدادی نظام کے ساتھ معاشی استحصال، دولت کی ظالمانہ حد تک غیرمنصفانہ تقسیم اور اس کے نتیجے میں اقتصادی ناہمواریوں اور ملک و ملّت کی بیرونی دنیا پر محتاجی کے تحائف عطا کیے ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جو انقلاب کو جنم دیتے ہیں اور جب قوم کروٹ لیتی ہے تو پھر بڑے سے بڑے آمر کے پاؤں اُکھڑ جاتے ہیں۔ تیونس کی انقلابی رَو کا یہ پیغام دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے لیے ہے۔ یہ دوسرے ممالک کے مصیبت زدہ عوام کے لیے نئی زندگی کا پیغام اورغاصب حکمرانوں اور ان کے مغربی آقاؤں کے لیے بھی ایک ’صدائے ہوش‘(Wake up call) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح قدرت کا قانون ہے کہ رات کے بعد صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے، اسی طرح ظلم کی رات بھی چھوٹی یا لمبی تو ہوسکتی ہے مگر ہمیشہ کے لیے سورج کی روشنی کا راستہ نہیں روک سکتی:             ؎

یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

ایک قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ جس طرح پہاڑوں کی سنگلاخ زمین پر پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے اسی طرح انسانی تخیل، اُپج اور سوچ بچار کی صلاحیت ہزاروں دروازوں کو کھولنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے۔ تیونس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کا عملی تسلط تھا۔ مسجد ومنبر پر حکومتی فکر کی حکمرانی تھی، لیکن موبائل فون، انٹرنیٹ اور فیس بک کی اعانات نے جنھیں آبادی کا ۱۸ فی صد استعمال کررہا ہے، مزاحمت کی تحریک کو منظم اور مربوط اور مؤثر ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

بلاشبہ آج کے پاکستان کے حالات تیونس کے حالات سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ یہاں بھی امریکہ   کی گرفت ہماری قیادت، ہماری پالیسیوں اور ہمارے سیاسی اور معاشی نظام پر اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب ملک کی آزادی ایک نمائشی شے بنتی جارہی ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں جس طرح امریکہ کے مطالبات کے آگے سپر ڈالی گئی اور زرداری گیلانی حکومت نے اس غلامانہ پالیسی کو اور بھی وفاداری کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، اس کے نتیجے میں قومی عزت اور غیرت کا تو خون ہوا ہی ہے، اور ملک کی آزادی بُری طرح مجروح ہوئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ملک کا امن و امان تہ و بالا ہوگیا ہے۔ لاقانونیت کا دور دورہ ہے، فوج اور عوام میں تصادم اور ٹکراؤ بڑھ رہا ہے، ’دہشت گردی‘ کا دائرہ وسیع تر ہورہا ہے، امریکی ڈرون حملے اور ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معصوم انسان شہید اور وسیع وعریض علاقے تباہ و برباد ہورہے ہیں۔ معیشت کا یہ حال ہے کہ صرف اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے ۵۰ سے ۱۰۰ ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچ چکا ہے۔[2] غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور اشیائے ضرورت کی قلت نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی عیاشیاں، بدعنوانیاں روزافزوں ہیں اور ہر طرف بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ قیادت کے ایک اہم حصے کے مفادات اور اثاثے ملک سے باہر ہیں اور ان کو اپنے اقتدار کے لیے ہی نہیں اب تو ذاتی حفاظت کے لیے بھی بیرونی قوتوں کا سہارا درکار ہے۔ ملک میں حکمرانی کا عمل مفقود ہورہا ہے اور مفادات کی پرستش کا بازار گرم ہے۔ حکمرانی اور معیشت کی حالت یہ ہے کہ:           ؎

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

کیا ہماری قیادت تیونس کے ’انقلابِ یاسمین‘ سے کوئی سبق لینے کے لیے تیار ہے یا اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے، جب:        ؏

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا

(فروری ۲۰۱۱ء)


[1]           شیخ راشد الغنوشی آج کل تیونس اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔

[2]           پاکستان اکنامک سروے ۱۸-۲۰۱۷ ءکے  مطابق  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 126.8  ارب ڈالر کا نقصان اٹھاچکا ہے۔ [اقتصادی جائزہ ۱۸-۲۰۱۷ء،Annexure-IV]

دوم

امریکی تہذیبی و سیاسی ایجنڈا اور

مقابلے کی حکمت عملی

  • مغربی تہذیب کی یلغار
  • امریکی عزائم: اصل نقشہ جنگ
  • امریکی عزائم: مقابلہ کی حکمت عملی- نظریاتی پہلو
  • امریکی عزائم: مقابلہ کی حکمت عملی- مطلوبہ نقشہ کار کے خدوخال
  • زمانے کے ساتھ ہم آہنگی؟    

مغربی تہذیب کی یلغار

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ ءکے حملوں اور ان کے بعد کی پیداشدہ صورتحال نے تہذیبی کشمکش میں ایک نیا موڑ پیداکیا ۔ اس موضوع پر بحث کے متعدد عنوانات ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں مصنف نے ان حملوں کے تناظر میں مختلف امریکی اداروں کی تیارکردہ دستاویزات اور رپورٹوں کے حوالہ سے امریکہ اور مغرب کے ان عزائم اور ایجنڈا کو واضح کیا ہے جو وہ مسلم دنیا اور معاشروں میں تبدیلی لانے کے لیے کررہے ہیں۔ ساتھ ہی نشان دہی کی گئی ہے کہ وہ کیا کلیدی اقدامات ہیں جو مسلمان قیادت اورعوام کو اس ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے اٹھانے چاہییں۔

________________

اسلام اور مسلمانوں پر مخالف قوتوں کی یلغار کوئی نئی چیز نہیں     ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِبولہبی

شرارِ بو لَہبی اور چراغِ مصطفویؐ کی کشمکش دراصل ایمان اور جا ہلیت کی کشمکش ہے اور یہ پہلے دن سے ہے۔ اس کا نمونہ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے دکھا دیا گیا۔  افراد بدل جاتے ہیں، موضوعات تبدیل ہو جاتے ہیں ،ایشوز بھی نت نئے سامنے آجاتے ہیں۔ زماں کی تبدیلی کے ساتھ مکان کی تبدیلی کو بھی دوام ہے۔ وہ سرزمین جہاں یہ برپا ہو اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یہ کش مکش تاریخ کا حصہ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ کش مکش اسلام کی دعوت کا لازمی تقاضا ہے۔ اس کش مکش کا ایک حصہ وہ ہے جو ہمارے اپنے سینے میں نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ کے درمیان پیکار سے عبارت ہے۔ پھر یہی کش مکش ہمارے اردگرد، ہمارے گھروں میں ، ہمارے محلوں میں ،ہمارے ملک میں اور پوری عالمی سطح پر ہو رہی ہے ۔ یہ نئی چیز نہیں، بالکل فطری ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کش مکش کو سمجھا جائے،اس کو جانا جائے   اور اس کا مقابلہ کیا جائے۔ اس پہلو سے مغرب کی تہذیبی یلغار کے موجودہ دور میں ان کے اہداف، ان کے طور طریقے اور ہماری جن چیزوں کو وہ نشانہ بنائے ہوئے ہے، اس کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔

یلغار کی اصطلاح کیوں؟

تہذیبی کشمکش کی بحث میں لفظ ’یلغار‘ کا استعمال بہت معنی خیز اور مغرب اور اسلامی دنیا کے موجودہ معرکے کی حقیقی کیفیت کاصحیح ترجمان ہے۔ آج جس کیفیت سے ہم گزر رہے ہیں وہ فی الحقیقت یک طرفہ حملے کی صورت ہے۔ فوجی، سیاسی ، سماجی اور معاشی اعتبار سے قویتر اور بالادست تہذیبی اور سیاسی قوت ہم پر حملہ آور ہے۔ یہ یک طرفہ جنگ ہے اور اسے یلغار ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ حقائق کی ٹھیک ٹھیک عکاسی ہے۔ جہاں تک تہذیبوں کے درمیان کش مکش کا اورخیالات کے ٹکراؤ کا سوال ہے، یہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ افکار کے میدان میں مناظرہ اور مسابقت ایک ابدی حقیقت ہے۔ اقدار کا اختلاف اور موازنہ بھی ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ تہذیبوں کے ایک دو سرے کے اوپر اثر انداز ہو نے کایہی وہ طریقہ ہے جس سے افکار جلا پاتے ہیں، نئے تصورات ابھرتے ہیں اور ترقی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ تبلیغ، ترقی ، دعوت،شہادتِ حق یہ سب اس کے مختلف پہلو ہیں۔

 تہذیبوں کے درمیان مقابلہ اورمسابقت کوئی پریشان کن چیز نہیں ہے۔ میں اس کوخوش آمدیدکہتا ہوں۔ دعوت نام ہی اس بات کا ہے کہ ہم ہر گروہ ،ہر فرد ،ہر تہذیب ، ہرملک اورہر قوم تک پہنچیں ۔ان کی بات کو سنیں اور اپنی بات سنائیں۔دلیل سے بات کریں۔ ا پنی دعوت کی صداقت کو ثابت کریں اور انھیں اپنے دائرے میں شامل کر نے کی کوشش کریں :

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُﺚ   (النحل۱۲۵:۱۶)   

اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔

تہذیبوں کے درمیان مسابقت اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہو نے کی کو شش ایک فطری چیز ہے۔ یہ فطری چیز تشویش کا باعث اس وقت بنتی ہے جب ،جن دو تہذیبوں یا جن دوقوموں یا جن دو افراد کے درمیان یہ معاملہ ہو رہا ہے وہ دلیل ،حقائق  اورمواقع کی یکسانی کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ ایک گروہ کو بالادستی حاصل ہوکہ وہ دوسرے کی کمزوری کا فا ئدہ اٹھا کر اس پر قوت کے ذریعے سے یا اثر انگیزی کے وہ ذرائع اختیار کرکے جو عقلی اور اخلاقی اعتبار سے درست نہیں ہیں، اسے مغلوب کر نے کی کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے یہ کہہ کر ایسے عمل کا در وازہ بند کر دیا کہلَآ اِكْرَاهَ فِی الدِّيْنِ​ لا۔ اقدار میں مقابلہ ہو نا چاہیے  اور اسی کا ایک حصہ یہ ہے کہ انسانوں میں مذاکرہ ہونا چاہیے ۔ تبادلہ خیال اورڈائیلاگ انسانی زندگی اور تہذیب کے فروغ کا ذریعہ ہیں، ان کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے ۔ لیکن نہ آپ ظلم و جبراورطاقت سے اپنے نظریات اور تصورات دوسروں پرمسلط کریں اور نہ کسی کو اجازت دیں کہ وہ آپ کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر محض اپنی قوت اور طا قت کا سہارا لے کر آپ کے عقائد، آپ کی اقدار،آپ کے اخلاق ،آپ کے نظامِ زندگی ، آپ کے رہن سہن اور آپ کی تہذیب و تمدن پر چھاجائے ۔

یہ ہے کش مکش کی اصل نو عیت اورا سی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ تہذیبی کش مکش اور مقابلے کے لیے مغرب کی تہذیبی ’یلغار‘کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ بہت صحیح ہے۔ اس کے ذریعے وہ کیفیت ہمارے سامنے آجاتی ہے جس سے ہم سب دوچار ہیں۔ آیئے دیکھیں وہ کیفیت کیا ہے؟

مغربی اور اسلامی دنیا کے درمیان بدلتا تعلق

 مغربی تہذیب  سے ہمارا معاملہ اب تقریباً پانچ، چھ سو سال پرانا ہے۔ مغربی تہذیب کا عروج چو دہویں ،پندرہویں  اور سولہویں صدی میں یو رپ میں ہوا اور اسی زمانے میں اسلامی دنیا سے بھی شروع میں تعارف، پھر تعاون ،پھر تصادم ، پھر غلبہ اورپھر اقتدار کے استحکام کے دور آئے۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں، جوابی رد عمل ہوا،مغربی تہذیب کی بالا دستی اور اثر ورسوخ سیاسی حد تک ختم ہوا اورآزاد مسلمان مملکتیں وجود میں آئیں۔ ہم ان سب ادوار سے گزرے ہیں۔ میں اس وقت پو ری تاریخ میں نہیں جا رہا ہوں ، صرف اشارہ کر رہا ہوں۔

اس وقت ہم جس دو رپر غور کر رہے ہیں اس کا آغاز ۲۰ ویں صدی کے آخری عشروں میں افغانستان کے جہاد سے ہو تا ہے۔  اسی دوران ایران میں اسلامی انقلاب بر پا ہوا ، افغانستان پر روس نے  فوج کشی کی، اس کا مقابلہ کیا گیا اور پھر نو سال تک وہ تا ریخی جدو جہد بر پا ہوئی ،جس کے نتیجے کے طور پر روس کی پسپائی ہوئی۔اس سے پہلے کے دور کو ہم سردجنگ کا دور کہتے ہیں جس میں دو سوپرپاورز تھیں:امریکہ اور روس۔ یہ دونوں مغربی تہذیب ہی کے مختلف مظہر تھے۔ لیکن ان کا اپنا اپنا تشخص، بنیاد اور عزائم تھےاور یہ آپس میں بھی متصادم تھے۔

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو شرح صدر کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ افغانستان میں جہاد اس علاقے ہی میں نہیں ،اس دور کی تاریخ کو بدلنے میں موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُس وقت ہمارے افغان بھائی بہنوں نے اور پو ری اسلامی دنیا نے جوجدو جہد کی اور عالمی سیاست کے پسِ منظر میں دنیا کی مختلف سیاسی قوتوں نے جس میں ہمارے مخالف اور دشمن اور مغربی تہذیب کے ایک حصے کے علمبر دار امریکہ اور یورپ نے بھی شر کت کی وہ صحیح ، بروقت اور تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑنے والی جدوجہد تھی۔ البتہ اس جہاد کے آخری دور میں ہماری اور امریکہ  کی راہیں مختلف ہوگئیں۔ جب امریکہ  نے یہ محسوس کیا کہ اب روس کے لیے پسپائی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تو اس نے خالص اپنے تہذیبی اور سیاسی مقاصد کی خاطر اپنے کردار کوتبدیل کر ڈالا۔ اور وہ منظر نامہ وجود میں آیا جس کا ہدف یہ تھا کہ افغان جہاد کی کامیابی کے ثمرات سے افغان اور مسلمان امت کومحروم کیا جائے۔ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ  افغانستان  کی جہا دی قوتیں جہاں روس کے خلاف جہاد میں کا میاب اور سر خرو تھیں وہیں وہ اس تبدیلی کو بر وقت محسوس نہ کر سکیں اور نہ اس میں اپنا صحیح کردار ادا کرسکیں۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ جس نئے فراز کی طرف بڑھنے والی تھی، نہ بڑھ سکی   جبکہ  اُمت مسلمہ ایک نئی اندرونی کش مکش اور بیرونی جنگ کی گرفت میں آگئی۔

جس وقت روس نے یہاں سے پسپائی اختیار کی ہے اور ابھی کوئی آثار نمودار نہیں ہوئے تھے کہ اسلامی قوتیں افغانستان میں مستحکم ہوکر وسط ایشیا اور باقی اسلامی دنیا کو ایک نئی صبح کی طرف لے جانے والے سفر کا آغاز کر رہی ہیں،لیکن نیٹو (NATO)کے سیکرٹری جنرل نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ ’’ہم اب یہ صاف دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر سے سرخ خطرہ ہٹ گیاہے لیکن سبزخطرہ نمودار ہورہا ہے‘‘۔ابھی توکوئی تبدیلی نمودار نہیں ہوئی تھی، ابھی توجہادی گروہ باہم دست و گریبان تھے لیکن انھوں نے یہ بات کہنا شروع کردی۔ سردجنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور کی حیثیت سے ابھر آیا اور پھر اس کے بعد سے اب تک کا دور وہ دور ہے جس میں نیا نقشۂ جنگ مرتب کیا گیا ہے۔ یہ نقشۂ جنگ  عسکری بھی ہے، سیاسی اور معاشی بھی ہے  اور فکری اور ثقافتی بھی۔ اس کے یہ سارے پہلو ہیں۔ کبھی کسی کا پلہ بھاری ہوتا ہے ، کبھی کسی کو آگے بڑھایا جا تا ہے ،کبھی کسی کو پیچھے ہٹایا جاتا ہے۔ لیکن یہ ہمہ جہتی یلغار اورحملہ جاری ہے اور ۱۱ستمبر۲۰۰۱ء کے بعد اپنی کیفیت اور کمیت، ہر اعتبار سے گھمبیر سے گھمبیر ہو رہا ہے۔

میں اور میرے ساتھی اس یلغار کے مختلف پہلوؤں کی طرف مسلسل متوجہ  کراتے رہے ہیں۔ اس پو رے زمانے میں ،خواہ اس کا تعلق امریکہ کے مفکرین سے ہو، جن میں فرانسس فوکویا ما (Yoshihiro Francis Fukuyama) ، سیموئیل پی ہنٹنگٹن (Samuel P. Huntington)، ڈینیل پائیس(Daniel Paice) اور دسیوں دوسرے  جوسرگرم جنگ ہیں،  اور خواہ وہاں کے تھنک ٹینکس ہوں ،یا وہ این جی اوز ہوں، جو پوری دنیا میں، خصوصاً  عالم اسلام میں، اس جنگ کے طبل بجا رہے ہیں، ان سب کا ایک ہی مرکزی خیال ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اب اصل مقابلہ مغربی تہذیب اور اسلام یااسلامی تہذیب اور مسلم دنیا اور وہاں بھی خاص طور پر اسلامی تحریکوں کے درمیان ہونا ہے۔ آپ ان کی فکر کااندازہ اس بات سے کیجیے کہ ۱۹۸۹ ء میں جب روس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائیں، تو اسی سال کے اکانومسٹ(The Economist London) نے ایک خصوصی مضمون شائع کیا۔اس مضمون میں پو ری تاریخ انسانی کے ۲۰ اہم موڑ یا لمحات بیان کیے۔ ان میں آخری لمحہ روس کی پسپائی کے بعد بننے والا نیا سیاسی اور تہذیبی نقشہ تھا۔ اس ضمن میں ایک جملہ بڑا اہم تھا۔ کہا  گیاکہ رو س کی فو جیں تو واپس چلی گئیں ، دیوار بر لن بھی ٹوٹ گئی،اشتراکیت بھی پسپاہو گئی لیکن کیا ہمارے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی نیا حیاتبخش نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکے؟ اس کا کہنا یہ تھا کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتا۔ اور پھر اپنے مخصوص انداز میں یہ بات کہی  گئی کہ البتہ مسلمانوں کو یہ زعم ہے کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے جو اس خلا کو پر کر سکتا ہے۔ گو یا کہ یہ تنبیہ(Warning) تھی کہ اب کش مکش کا جو نیاآہنگ ہے وہ کیا ہو سکتا ہے۔

اس کے دس سال کے بعد ایک اور دلچسپ چیز اکانومسٹ میں آئی۔ اس میں انہوں نے یہ بتایا کہ آج سے ایک ہزار سال بعدروس کا ایک مؤرخ گزرے ہوئے ہزار سال کا جا ئزہ لیتا ہے۔جائزہ لیتے ہوئے  وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سرد جنگ کے ختم ہو نے کے بعد اور روس کی اوراشتراکیت کی پسپائی کے بعدامریکہ ایک عالمی کر دارلے کر اٹھا لیکن اس کے بعد پھر چین اور مسلم دنیا یہ دونئی قوتیں ابھریں۔ اور اس طرح ایک نئی خلافت قائم ہوئی ۔اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ایسا ہو گا۔مقصد یہ تھا کہ ایسا نہ ہو نے پائے،ہمیں اس کے لیے پیش بندی کر نی چاہیے۔یہی وہ خیالات ہیں جنھوں نے مغرب کی ذہنی اور فکری فضابنائی ہے اور آج ان کے تھنک ٹینکس اور سیاسی قیادت سب اس پسِ منظر میں کام کرتے ہیں اور حکمتِ عملی بناتے ہیں۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد

 ۱۱ستمبر کا واقعہ ہمیں اسی پسِ منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ کیسے ہوا؟کس نے کیا؟ کون کون معاون قوتیں تھیں ؟سارے واویلے کے باوجود ان سوالات کا جواب دینے کی  توکوئی کوشش نہیں ہوئی ہے اور نہ ہورہی ہے ۔ اس کے برعکس ۱۹۸۹ء سے۲۰۰۱ء تک نئے تہذیبی تصادم کی جو فضا بنائی گئی تھی،اس واقعے کو بنیاد بنا کراس نقشے میں رنگ بھرا جارہا ہے اور اسے ایک واضح اور متعین رخ دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے نائن الیون کمیشن بڑے حیص بیص  کے بعد اور بڑے دباؤ کے بعد قائم کیا تھا اور ۱۸مہینے کی کوششوں کے بعد اس کی رپورٹ ۲۰۰۴ ءمیں آئی۔۶۰۰ صفحات کی رپورٹ  پڑھ ڈالیے ، اس میں ایک جملہ بھی ان سوالات کے بارے میں نہیں ہے۔ ان کی ساری تو جہ اس پر ہے کہ جسے وہ ’’اسلامک ٹیررزم‘‘ کہتے ہیں، اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ لطف کی بات یہ ہے کہ اس اہم ترین دستاویز میں ’دہشت گردی‘ نہیں ’اسلامی دہشت گردی‘ کومقابلے کی قوت قرار دے کر بتایاگیا ہے کہ ہماری یعنی امریکہ اور مغربی اقوام کی ساری قوت اور ساری فکر اورسا ری کوشش آئندہ اس سے مقابلے کے لیے کیا ہونی چا ہیے۔

پچھلے پانچ چھ مہینوں میں تین چار بڑی اہم رپورٹیں آئی ہیں۔ان میں رینڈ کارپوریشن (Rand Corporation)کی رپورٹ خاص طور پر اہم  ہے۔[1] یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کو بغور پڑھنے اور تجزیہ کر نے کی ضرورت ہے۔پھر اس کو اس فکری کام کے پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو اس پورے زمانے میں ہوا ہے۔ جہاں تک نائن الیون کمیشن کی رپورٹ کا تعلق ہے میں اس کے صرف دو تین نکات بتا دیتا ہوں۔  

 بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آج امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ دہشتگردی ہے۔ دنیا میں جنگوں کا نقشہ اب بدل چکا ہے۔ جنگوں کا جو کر دار تاریخ میں رہا ہے اس اندازکی فوج کشی درکار تو ہو گی لیکن قوموں کے درمیان جنگ کی شکل میں نہیں بلکہ دہشت گر دی کا تعاقب کیا جائے گا۔ اور پھر وہ یہ مرکزی جملہ لکھتے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ صرف دہشت گر دی ہے،ہمارا اصل ہدف ’اسلامی دہشت گردی‘ ہے۔اس طرح دہشتگردی کی باقی تمام شکلیں ،اس کے مظاہر، حتّٰی کہ امریکہ کے اپنے نظام کو چیلنج کر نے کے لیےدہشت گردی کے جو راستے خود امریکی ا ختیار کر رہے ہیں ان سب کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ واحدہدف ’اسلامک ٹیررزم‘ ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسلامک ٹیررزم تو عنوان ہے،اصل چیز وہ نظریاتی بنیادی ڈھانچا ہے،جس نے ان کے خیال میں اس دہشت گردی کو اور امریکہ کے خلاف نفرت کوجنم دیا ہے اور امریکہ کو چیلنج کرنے کا جذ بہ اور قوت دی ہے۔ یہاں وہ نام لے کر اسلامیتحریکات خصوصیت سے اخوان المسلمون اورسید قطب کا ذکر کرتے ہیں،ستم ہے کہ امام ابن تیمیہؒ  کو بھی اس کا منبع قرار دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا نام تو نہیں لیا لیکن حقیقت ہے کہ جن شخصیات اور اسلامی تحریک کا نام لیا ہے وہ امریکی استعمار کے تازہ ہدف کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہے۔

 یہ بات بہت اہم ہے کہ اس رپورٹ میں جس چیز کو ہدف بنایا گیا ہے وہ محض القاعدہ نہیں بلکہ وہ بنیادی نظریاتی ڈھانچا  ہے جو ان کےخیال میں امریکہ  مخالف فکر اور مزاحمتی تحریکوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہی وہ منبع ہے جس سے یہ نیا ذہن، نئے جوان اوران کی مختلف کوششیں سامنے آئی ہیں اور انھی کوششوں میں سے ایک کوشش وہ ہے جو مسلح ہے اور جو دہشت گر دی کر تی ہے۔ یہ سارے کا سارا بنیادی ڈھانچا اب امریکہ  کا اصل ہدف ہے جسے وہ اپنے اقتدار کے لیے اصل خطرہ قرار دے رہے ہیں اور یہ ذہن پیدا کررہے ہیں کہ گویا جب تک یہ باقی ہے، امریکہ  محفوظ نہیں ہے!

امریکی حکمت عملی

اس خطرے کے مقابلے کے لیے کیاحکمتِ عملی اختیار کی جائے؟ اس سلسلے میں ایک بڑی اہم کتاب آئی ہے :Imperial Hubris: Why the West is Losing the War on Terror ۔کتاب لکھنے والے کا نام نہیں دیا گیا اسےAnonymous یعنی گمنام کے نام سے لایا گیا ہے۔ یہ چند ہفتے پہلے سامنے آئی ہے۔دلچسپ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جسے گمنام بنایا گیا ہے وہ سی آئی اے کا حاضر سروس آفیسرہے اور اسے باقاعدہ سی آئی اے نے اجازت دی ہے کہ اپنا نام بتائے بغیر یہ کتاب لکھے اور شائع کرے۔ اس اہم کتاب کے ساتھ ہی برطانیہ سے ایک اور کتاب Collosus: The Price of America’s Empire شائع ہوئی ہے، اس کا مصنف وہاں کا مشہور مورخ Niall Ferguson ہے۔ دونوں کتابیں ایک ہی طرز کی ہیں۔

 گمنام  مصنف کی کتاب میں جو نقشۂ جنگ بنایا گیا ہے وہ اس اعتراف پر مبنی ہے کہ امریکہ  کے خلاف جو نفرت عالم اسلام میں ہے وہ امریکہ  کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔یہ بات کھل کر  اور واضح طور پر کہی گئی ہے اور اس میں یہ متعین کیا گیا ہے کہ اس نفرت کی وجہ وہ پالیسی ہے جو امریکہ  نے اسرائیل کی مکمل تائید میں اختیار کی ہے ،ثانیاً مسلم ممالک کے حکمران جوظالم وجابر (Tyrant) ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہیں اورہم ان کی تائید کر رہے ہیں لیکن مسلمان عوام ان سے ناخوش ہیں ۔ تیسرے، چین، روس اور انڈیا جو مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کو کچل رہے ہیں، لیکن ہماری تائید ان تینوں ممالک کو حاصل ہے۔ اسی طرح افغانستان اور عراق پر قبضہ اور تیل کے ذخائر کو امریکی تسلط میں لانے پر مسلمان اور عرب برافروختہ ہیں۔

اس تمام اعتراف کے بعد  مصنف کہتاہے کہ ہمارے سامنے چارمنظرنامے ہیں۔پہلا راستہ جس پر صدر بش(Bush) کار بند ہیں یہ ہے کہ ہم محض قوت  اور فوج کشی کے ذریعے سے ، ان ’دہشت گردوں‘کو بھی اور ان کو پناہ دینے والوں کو بھی ختم کر دیں۔ یہ کام محض انھیں ختم کرنے سے پورا نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے ہمیں قوت کا ایسا استعمال کر نا پڑے گا جس کے نتیجے کے طور پر ہزاروں لاکھوں انسانوں کی جا نیں جا ئیں گی، بستیاں تباہ ہوں گی،نقل مکانی ہوگی اور بالآخر ان ملکوں پر فوجی قبضہ ہوگا۔ دو سرا را ستہ یہ ہے کہ ہم اپنی پالیسیاں تبدیل کریں۔ ان سے بات چیت کریں اور کوئی را ستہ نکالیں ۔اس کا کہنا یہ ہے کہ پہلا ہم کرسکتے ہیں لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اور یہ بھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا اس سے فیالحقیقت تمام خطرات ختم ہوجائیں گے ۔البتہ اس سے جو کچھ حاصل ہو گا وہ یہ ہے کہ امریکہ  کو مسلم دنیا میں ایک نئی قابض قوت بننا پڑے گا۔ گو یا کہ جس طرح سترھویں، اٹھارھویں، انیسویں اوربیسویں صدی کے وسط تک سامراج قابض تھا وہ را ستہ ہمیں اختیار کرنا پڑے گا۔کیا ہم یہ کر سکتے ہیں ؟ اور کیا  یہ قبضہ بہت عرصے چل سکتا ہے؟ اور کیا امریکی قوم اس کے لیے مسلسل قربانی دینے کو تیار ہے؟ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ موصوف یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسرا راستہ بھی ہم اختیار نہیں کرسکتے کہ ہم اپنی پا لیسیاں بد ل لیں۔ یہ بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ پھر کیاکریں ؟

وہ کہتا ہے کہ پھر تیسرا را ستہ یہ ہے کہ ہم مسلم دنیا میں ’قوم سازی‘(Nation building) کریں ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں کے نظامِ تعلیم کو،میڈیا کو،نو جوانوں کو،حکمرانوں کو ،ان سب کو اپنے زیرِ اثرلائیں ۔ یہ کام جمہو ریت ، آزاد روی(لبرلزم) اور Globalizationیعنی عالم گیریت کے نام پر کیا جائے۔ اس کا دائرہ کار بڑا وسیع اور متنوع ہے۔ اس میں معیشت ہے ،اس میں کلچر ہے، اس میں افکار ہیں ،اس میں پارلیمنٹیرینز کی تربیت ہے ،اس میں طلبا کے تبادلے ہیں ،اس میں میڈیا کو ہر قیمت پر استعمال کر نا ہے۔

  مصنف کے بقول یہ ’قومسازی‘ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک چوتھی چیز اور چاہیے، اور وہ یہ ہے کہ امریکہ  ایک نئی قسم کی سامراجی طاقت (Imperial Power) بنے۔اس کے لیے اس نے Liberal Empire کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ قابض تو نہ ہوں،لیکن ذہنوں پرقبضہ کریں ،معیشت کو گرفت میں لائیں،بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں اور این جی اوز کے ذریعے سے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے آئیں اور اپنے اثرورسوخ کو اتنا بڑھا لیں کہ ان ممالک کی قیادتیں اور ان کے کارفرما عناصر آپ ہی کے مطلب کی کہیں۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی دے دیا جائے کہ اگر ہمارے نقشے کے مطابق کام نہیں کرو گے اور ’لبرل میانہ روی‘  اختیار نہیں کرو گے تو قوت استعمال کی جائے گی اورسزا دی جا ئے گی۔ لفظ استعمال کیا گیا ہے Punishmentکا اور اس Punishment میں دو چیزیں ہیں ۔ پیش بندی کے طور پر حملہ (Pre-emptive Strike) جس کے معنی یہ ہیں کہ جہاں خطرہ محسوس ہو وہا ں فوجکشی کر ڈالو۔ کوئی ثبوت ہو یا نہ ہو،جیسا  کہ عراق اور افغانستان میں کیا گیا ہے۔اور Regime changeیعنی حکمران تمھارے لیے مفید مطلب نہ ہوں تو ان کو بدل کرمفید مطلب  لوگوں کو اوپرلاؤ ۔ یہ وہ نیا ماڈل ،نیا نمونہ اور نیا نقشہ ہے جس کے مطابق عمل کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اقتدار کو قائم رکھیں گے۔

مقابلہ کیسے کیا جائے؟

ہم جس مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں وہ یہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟اس کا مقا بلہ کر نے کا ایک طریقہ تو یہ ہے۔ اور یہ میں اس مفروضے پر کہہ رہا ہوں کہ’ ۱۱ستمبر کا واقعہ مسلمانوں نے کیا تھااور جسے وہ القاعدہ کہتے ہیں وہ اس کے ذمہ دار تھے۔گواس کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘ ۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس وا قعے کے بعد اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے Officially انکار کیا تھا کہ ہم اس کے ذمہدار نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب امریکہ  نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ بنلادن کو گر فتار کر کے دے دوتو طالبان نے یہ کہا کہ ہمارے پاس ثبوت لاؤ۔اور اگر تم ہمیں ثبوت نہیں دینا چا ہتے ہو تو کوئی بین الاقوامی عدالتی کمیشن قائم کر دو جس میں تین مسلمان ممالک کے جج ہوں،ان کے سا منے شہادتیں لاؤ۔اگر وہ طے کرتے ہیں کہ یہ حملہ اسامہ بن لادن نے کیا ہے تو ہم اسے آپ کو دے دیں گے۔

۱۱ستمبر۲۰۰۱ ءکے حملوں کی حقیقت:  جو تحقیق آزاد ذرائع سے ہوئی ہے وہ حیران کن ہے ۔ خود امریکہ  کے تجزیہ نگاروں نے یہ بات کہی ہے کہ اگر ان چار حملوں میں صرف  یہ ۱۹ ہائی جیکر شریک تھے تو یہ کام ہو نہیں سکتا، جب تک کہ ان کے کم ازکم ۵۰ ،۶۰ معا ونین امریکہ  میں زمین پر مو جود نہ ہوں اور خصوصیت سے ان ہوائی اڈوں پر جہاں سے یہ جہاز گئے ہیں ۔اس لیے کہ جس Precision کے ساتھ،جس چابک دستی سے، ٹھیک ٹھیک نشانے پر اور بڑے مؤثر طریقے سے یہ اقدام ہوا ہے وہ کمپیوٹرائز پروگرام کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسے لوگ جن کو Executive Plane چلانے کی تربیت دی گئی ہووہ فضا میں  ۷۴۷جہاز پر قبضہ کر سکیں، پائلٹ کو ہٹا دیں ، اسٹیرنگ پر کنٹرول حاصل کرلیں۔ اور پھر نیویارک جہاں دو ہزارفلک بوس عمارتیں تھیں اس میں سے متعین طور پر ایک خاص ٹاورکو اور وہ بھی ایک خاص مقام پر جا کر ہٹ کریں ۔ پھراس کے اٹھارہ منٹ کے بعد دوسرا ٹاور۔ اس کے چالیس منٹ کے بعدپینٹاگون ۔ یہ سب ممکن نہیں ۔ پینٹاگون کی عمارت تو صرف تین منزلہ تھی۔ اس کے بارے میں جو کتابیں آئی ہیں ان سے معلوم ہو تا ہے کہ خودپہلا اعلان جو وہاں ہواوہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ ایک میزائل حملہ تھا۔ عمارت کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں ایک بہت بڑاسوراخ ہے اور جہاز کا کوئی ملبہ وہاں نہیں پایاگیا۔ اور جس طرح ٹاور پر حملہ کرنے والے جہازوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جہاز ساراکا سارا تحلیل ہو گیا ،پینٹاگون (Pentagon)میں یہ ممکن نہیں تھا۔ لیکن ۴۸گھنٹے کے اندر پینٹاگون نے چھ بار اپنے سرکاری بیان کو بدلا ہے۔ اور بالآخر اسے جہاز قرار دیا۔

اس بارے میں اتنی چیزیں آئی ہیں ،میں ان سب کو نظر انداز کر تا ہوں، میں کہتا ہوں مان لیجیے کہ انھوں نے یہ اقدام کیا ہے اور اگر فی الحقیقت انھوں نے ہی کیا تھا،تو میں آپ سے صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی جرأت اورسوچ کا فیصلہ تو اللہ کرے گا، لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو اور اسلام کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ اور اس کے نتیجے کے طور پرتاریخ تہذیبی مکالمے کے جس رخ پر جا سکتی تھی وہ متاثر ہو ئی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے تو نتائج کے اعتبار سے، اسلام کے مزاج کے اعتبار سے ، اسلامی احیا کے امکانات اور اسلامی دعوت، تہذیب اور ثقافت کے اعتبار سے یہ را ستہ مقصد حاصل کر نے کا راستہ نہیں ہے۔ میں فلسطین اور کشمیر کی جہادی تحریک کی بات نہیں کر رہا، میں ٹریڈ ٹاور اور اس قسم کے واقعات پر بات کر رہا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ تمام اسلامی تحریکات کے قائدین نے اس کی مذمت کی۔ پاکستان میں ۱۲ ستمبر ۲۰۰۱کو جماعت اسلامی پاکستان کے ہیڈ کوارٹر منصورہ  سے ایک بیان جاری ہوا جس میں یہ کہا  گیا کہ ہم دہشت گر دی کے اس واقعے کی مذمت کر تے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ اعلان بھی کر تے ہیں کہ دہشتگردی افراد کی طرف سے ہو،گروہوں کی طرف سے ہو یا حکومتوں کی طرف سے ہو، مساوی طور پر قابلِ مذمت ہیں۔ اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں، بلکہ وہ اسباب، ناانصافیاں، ظلم اوروہ مسائل  ہیں جو لوگوں کو دھکیل دھکیل کر غلط راستے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اور جب تک ان معاملات کو حل نہیں کیا جائے گا دنیا میں امن اور سلامتی کا وجود عنقا رہے گا۔

تحریکِ اسلامی کا یہ ذہن ہے اوریہی ذہن حق پر مبنی ہے۔ جہاں مظلوم مجبور ہو کر تشدد کا راستہ اختیار کر تا ہے ،دنیا بھر کی تحریکاتِ اسلامی اس کی کیفیت ،اس کے احساسات ، اس کے جذبات کو محسوس کر تی ہیں۔  لیکن تبدیلی اور اسلامی انقلاب اور اسلامی احیا کا راستہ تشدد اور دہشت گردی کا راستہ نہیں ہے ۔ را ستہ وہی ہے جو اسلامی تحریکات نے سنت نبوی ؐ اور قرآنی منہج کو سامنے رکھ کر مرتب کیا ہے۔ جہاد کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاد تو انصاف کے قیام، اللہ کے کلمہ کی سر بلندی اور اخلاقی اقدار کے احیا کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت:   اس پس منظر میں ،میں اپنی بات کو سمیٹتے ہو ئے یہ کہوں گا کہ سب سے پہلی چیز دشمن کو جانناہے۔دشمن کے ہتھیاروں کو جاننا ہے،دشمن کے اسالیب اور طریقوں سے واقفیت حاصل کرنا ہے، اور ان راستوں اور طریقوں کی تفہیم ہے جن سے یہ یلغار ہو رہی ہے۔ یہ ہمہ جہتی یلغار ہے، یہ فکری بھی ہے ،یہ تعلیمی بھی ہے ، یہ ٹیکنالوجیکل بھی ہے،یہ معاشی بھی ہے ، یہ سیا سی بھی ہے ،یہ فوجی بھی ہے۔ اس میں میڈیا بڑا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ہمارے گھروں کونشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں اور بچوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی غور کر نے کی ہے کہ کھلے دشمن کا مقابلہ آسان ہو تا ہے لیکن جب دشمن آپ کے اندر سے ایسے عناصر کو استعمال کرے جن کانام اورچہرے آپ جیسے ہوں تو یہ خطرہ اور یہ لڑائی زیادہ گھمبیر اور زیا دہ مشکل ہو جا تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے کفار کے بارے میں جتنی باتیں کہی ہیں ان سے زیادہ منافقین کے بارے میں کہی ہیں۔ہماری یہ جنگ اور تصادم و یلغار صرف با ہر سے نہیں، یہ اندر ونی سبوتاژ بھی ہے۔ آپ دیکھیے کہ مدارس کو نشا نہ بنایا جارہا ہے۔ نظامِ تعلیم کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وہ مسلم دنیا کو چار گروہوں میں پیش کر رہے ہیں۔ ایک کو وہ کہتے ہیں بنیاد پرست۔ جو ان کی نگاہ میں دہشت گرد ہیں۔ دوسرے کو وہ کہتے ہیں قدامت پر ست۔جو ہیں توروایت اور اسلامی اقدار کے حامی لیکن وہ کوئی بڑا چیلنج نہیں ہیں۔بس وہ اپنی روایات کے علم بردار ہیں۔ تیسرے ہیں ماڈرنسٹ،لبرل اورچوتھے ہیں کھلے کھلے سیکولرسٹ ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کو آپس میں لڑانا چا ہیے۔سا ری قوت ہماری اس پرصرف ہو نی چا ہیے کہ اسلام کو ایک روشن خیال میانہ روی کے مذہب کے طور پرپیش کیا جائے ۔ہم ان کی تا ئید کریں اوران کی تقویت کاذریعہ بنیں ۔ ان کے ذریعے ہم مسلمان معاشرے کو اندر سے تباہ کریں۔

تو یہ حملہ با ہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی ہے۔ اور مسلمانوں کی سیاسی اور معا شی قوتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس کا مقابلہ کر نے کے لیے سب سے پہلی چیزیہ ہے کہ ہم دشمن کو سمجھیں۔ دوسری چیزیہ ہے کہ ایک ہمہ جہتی حکمت عملی بنائیں،محض کسی ایک ٹارگٹ کونہ لیں۔اور تیسری چیز یہ ہے کہ ہم ہر میدان میں مقابلہ کریں اوراس کی تیاری کریں ۔ مقابلے کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ اور مذاکرہ بھی کریں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ آخری حل مذاکرات سے نہیں ہوگا۔ اپنے صحیح وقت پر ایک ہمہ گیر معرکے کے لیے آپ کو تیار ہو نا ہے۔ لیکن وہ تیاری دہشتگردی کے اقدامات کے ذریعے نہیں ہوسکتی اور نہ یہ اس کے ممدومعاون ہوسکتے ہیں۔اس کا راستہ یہ ہے کہ عوامی جدوجہد کے ذریعے اپنے اپنے ملک میں اسلامی قیادت کو اوپر لائیں اور پھر ان ممالک کو اسلام کا حقیقی قلعہ بنائیں۔ یہی وہ جنگ ہے جو پاکستان میں ہم لڑرہے ہیں۔ اور یہی وہ جنگ ہے جو اسلامی تحریک ہر ملک میں لڑ رہی ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اس تہذیبی تصادم کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ یہ کوئی وقتی جنگ نہیں ہے یہ کوئی شارٹ ٹرم جنگ نہیں ہے۔ بلا شبہ اس کے وقتی تقاضے بھی ہیں اور شارٹ ٹرم تقاضے بھی ہیں لیکن اصل جنگ لمبی ہے اور ہمیں اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرنا ہے اور پوری بالغ نظری کے ساتھ اس کام کو انجام دینا ہے ۔

اس سلسلے میں سب سے اہم چیز اُمت کو اسلام کی بنیاد پر فکری، عملی، اخلاقی، نظریاتی، تعلیمی، معاشی، تہذیبی ہر اعتبار سے مضبوط تر کرنا ہے۔ اس کے رشتے کو ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اس طرح جوڑنا ہے کہ صرف اس کی مدد پر ہمارا بھروسہ ہو تو دوسری طرف اس کے فراہم کردہ وسائل کو اس کے بتائے ہوئے دین کی سربلندی اور اہداف کے حصول کے لیے منظم اور مرتب کرنا ہے۔ جن کو دنیا میں بڑی طاقتیں کہا جاتا ہے وہ عارضی اور بالآخر فنا ہونے والی ہیں۔ باقی رہنے والی قوت صرف حق کی قوت ہے۔ اللہ پر بھروسہ اور اُمت کی صحیح خطوط پرتیاری ہی وہ راستہ ہے جس سے اس یلغار کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایمان، مادی اور اخلاقی قوت، اتحاد اور باہمی تعاون اور سب سے بڑھ کر مسلسل اور صبرآزما جدوجہد درکار ہے۔ اقبال نے مسجد قرطبہ کے سائے میں جو پیغام اُمت مسلمہ کو دیا تھا وہ اسی جدوجہد کا پیغام تھا            ؎

جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ امم کی حیات، کش مکشِ انقلاب

اور یہ منزل رب سے تعلق، اسوہ نبویؐ کے مطابق جدوجہد، اور ہر قربانی کے لیے تیاری ہی سے حاصل ہوسکتی ہے             ؎

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

یہی وہ صحیح حکمتِ عملی ہے جس سے مغربی تہذیب کی اس یلغار کا مقا بلہ کیا جا سکتا ہے۔   آئندہ مضامین میں ہم اس حکمت عملی پر زیادہ تفصیل سے بات کریں گے۔               

                                                                                                                                                    (ستمبر ۲۰۰۴ء)


[1]            اس سے قبل ایک اور رپورٹ :Changing Minds, Winning Peace: A New Strategic Direction for US Public Diplomacy in the Arab and Muslim World by Edward Djerejian  آئی ہے ۔

امریکی عزائم: اصل نقشۂ جنگ

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعدامریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جو نقشۂ جنگ تشکیل دیا اس میں میدان جنگ کے طورپر افغانستان اورعراق اور یہاں سرگرم بعض گروہ اولین اور فوری اہداف بن کر سامنے آئے۔ یہ بات کہی گئی کہ امریکہ کی جنگ صرف انتہاپسندی اور تشدد کے خلاف ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ اسی ضمن میں ’موڈریٹ اسلام‘ کی تلاش کا نظریہ  بھی پیش کیاگیا۔
حقیقت اصل میں کیا ہے؟ مصنف نے مختلف اہم دستاویزات کو سامنے رکھ کر واضح کیا ہے کہ اس نقشہ جنگ میں عسکری دائرہ سے زیادہ اہم سیاسی، سفارتی، ابلاغی کے علاوہ سب سے بڑھ کر نظریاتی اور تہذیبی پہلو شامل ہیں جنہیں پیش نظر رکھے بغیر حقیقت کا درست ادراک اور مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس  مضمون  میں جن امریکی عزائم اور مغرب کے نقشہ جنگ کو واضح کیا گیا ہے اسی حوالے سے مصنف نے اگلے باب’’امریکی عزائم:مقابلے کی حکمت عملی‘‘ میں مسلم امہ کے لیے مقابلے کی حکمت عملی تجویز کی ہے ۔

____________________

امریکہ نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے نام پر دنیا کے طول و عرض میں دہشت گردی کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اور ایک مہم کی ناکامی پر پردہ ڈالنے اور توجہ ہٹانے کے لیے نت نئے اہداف کو نشانہ بنانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس نے پوری دنیا کےچین اور سکون کو پامال کر دیا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ انسانیت کو امن و انصاف سےکوسوں دور لے جانے اور دنیا کی بیشتر اقوام کو ایک نئے سامراجی نظام کے شکنجے میں کسنےکےراستے پر گامزن ہوگیا ہے۔ طاقت کے نشے نے اسے ایسا بدمست کر دیا ہے کہ صدرجارج بش (George W. Bush)اور ان کے رفقا، نہ اپنے ملک کے اصحاب علموبصیرت کی بات پر کان دھر رہے ہیں اور نہ عالمی رائے کی آہ و بکا کی انھیں کوئی پروا ہے۔ واشنگٹن اور نیویارک سے لے کر لندن، برلن، کوپن ہیگن، استنبول، سیول اور لاہور تک عوام جنگ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، لیکن افغانستان کو تباہ کرنے اور اپنی گرفت میں لےلینے کے بعد امریکہ عراق پر فوج کشی کے لیے تلا ہوا ہے اور ایران، سعودی عرب، پاکستان، شمالی کوریا سمیت۱۸ ممالک کو ضربِ کاری (Hit list) کی زد پر رکھے ہوئے ہے۔    بینالاقوامی قانون کو عملاً ہی نہیں، نظری طور پر بھی Rewrite کیا جا رہا ہے اور عالمی سلامتی کے لیے جو بھی برا بھلا نظام اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے تحت قائم ہونے والے اداروں، معاہدات اور ضوابط کی شکل میں بنایا گیا ہے امریکہ اسے تہہ وبالا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ صدربش کسی شرم و حیا اور تکلف کے بغیر صاف کہہ رہے ہیں کہ:

امریکہ اپنے دشمنوں پر پیش بندی کے طور پر حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا خواہ اسے بین الاقوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ وہ اپنی فوجی بالادستی کو خطرے میں پڑنے کی ہرگز   اجازت نہیں دے گا۔عقل عام اور خود اپنے دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ امریکہ اس طرح کے ابھرنے والے خطروں کے خلاف ان کے مکمل شکل اختیار کرنے سے پہلے اقدام کرے۔ (دی گارجین ویکلی، ۲۶ ستمبر تا ۲ اکتوبر۲۰۰۲ء)        گویا:                                                                                                                         ؎

ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے
سزا خطائے نظر سے پہلے عتاب جرم سخن سے پہلے

بش صاحب یہ بھی فرما چکے ہیں کہ:

یا تو عراق اپنے عمومی تباہی کے ہتھیاروں کو غیر مسلح کر دے یا امریکہ عراق کو اقوام متحدہ کی حمایت یا بغیر حمایت کے غیر مسلح کر دے گا۔

بات صاف ہے ، اب نہ کوئی قانون ہے اور نہ ضابطہ، صرف طاقت کے ذریعے فیصلے ہونے ہیں اور پوری دنیا امریکہ کی باج گزار ہے۔

دنیا امریکہ کی اس سامراجی یلغار اور استعماری مملکت سازی(Empire building) کی دراندازیوں پر ششدر، مضطرب اور ان سے متنفرہے۔ رائے عامہ کے امریکی ادارے Pew Research Center  کے ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق، جس میں دنیا کے ۴۶ ملکوں میں ۳۸ ہزار افراد سے ۶۳ زبانوں میں انٹرویو کیے گئے، یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ دنیا کے ہر علاقے کے عوام امریکہ سے نالاں ہیں اور ان کی امریکہ  سے خفگی اور نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ ممالک جو بظاہر اس نام نہاد جنگ میں امریکہ کے ساتھ ہیں ان کے عوام بھی اپنی حکومتوں سے نالاں اور امریکہ کے جنگی عزائم کے مخالف ہیں۔ امریکہ کے ان عالمی تصورات اور اثرات سے اگر برطانیہ کے ۵۰ فی صد عوام غیرمطمئن اور متفکر ہیں اور ان کو منفی سمجھتے ہیں تو جرمنی میں یہ تناسب بڑھ کر ۶۷ فی صد، روس میں ۶۸فیصد، فرانس میں ۷۱ فی صد، ترکی میں ۷۸ فی صد، پاکستان میں ۸۱ فی صد اور مصر میں ۸۴فی صد ہو جاتا ہے۔ برطانیہ میں ۴۴ فی صد، جرمنی میں ۵۴ فی صد اور فرانس میں ۷۵ فی صد افراد نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ عراق پر حملے کی اصل غایت شرق اوسط کے تیل کے چشموں پر قبضہ ہے۔ ترکی کے ۸۳ فی صد عوام عراق پر حملے کے لیے ترکی کے اڈوں کو استعمال کرنے کے خلاف ہیں۔

لندن کے اخبار گارڈین کا مقالہ نگار پیٹرپرسٹن(Peter Preston) اس پر پکار اٹھتا ہے کہ: یہ عظیم ترین پیمانے پر  )اپنی تہذیب سے( ذہنی طور پر دور کردینا  ہے۔[1]

جرمنی،ترکی، بحرین، مراکش، پاکستان، ارجنٹائن اور جنوبی کوریا کے انتخابات میں عوام نے   ہوا کے جس رخ کا اظہار کیا ہے وہ اس عالمی رائے کا ایک مظہر ہے۔ ایک طرف دنیا کے عوام کی بے چینی اور اضطراب کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف امریکہ کی قیادت کی رعونت اور انسانیت کو جنگ میں جھونک دینے کے عزائم روز افزوں ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس سے مجبور ہو کر امریکہ  کا سابق صدر جمی کارٹر(Jimmy Carter) ۲۰۰۲ ء کے نوبل انعام کو وصول کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے (۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ء) کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ انسانیت نئے ہزاریے میں ایک ایسے عالم میں داخل ہو رہی ہے جسے کسی صورت میں بھی امن و آشتی کی حالت نہیں کہا جاسکتا۔سابق امریکی صدر کارٹر کے الفاظ میں:

The world is now, in many ways, a more dangerous place

حقیقت یہ ہے کہ دنیا مختلف پہلوؤں سے آج ایک بڑی خطرناک جگہ بن گئی ہے۔

جمی کارٹر صاف اشاروں کے ذریعے اپنی قوم کو متنبہ کرتا ہے کہ نہ یہ صورت حال طویل عرصے جاری  رہ سکتی ہے اور نہ کوئی بھی طاقت ور ملک پیش بندی کے طور پر جنگ (Pre-emptive war)     کا راستہ اختیار کر کے اس کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

امریکی پالیسی اور حکمت عملی

 امریکہ  کی یہ پالیسی پوری دنیا اور خصوصیت سے عالم اسلام کو شدید خطرات سے دوچار کررہی ہے۔ اس نے اپنے استعماری اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جن خطوط  پر کام شروع کر دیا ہے، ان کو سمجھنا اور حکمت اور فہم و فراست کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ گذشتہ تین ماہ میں جو اہم دستاویزات امریکہ کے فیصلہ ساز  اداروں نے جاری کی ہیں ان کا مطالعہ اور تجزیہ بے حد ضروری ہے۔ ان میں سب سے اہم قومی حکمت عملی کی دستاویزات (ستمبر ۲۰۰۲ء) (US National Strategy Papers)  ہیں۔ اس کے ساتھ  Nuclear Posture Review اور تازہ ترین دستاویز: عمومی تباہی کے ہتھیاروں کے مقابلے کی قومی حکمت عملی (دسمبر ۲۰۰۲ء) کا مطالعہ کیا جائے تو یہ اہم ترین نکات سامنے آتے ہیں:

۱۔      امریکہ  کی انتظامیہ اب نہ اقوام متحدہ کو عالمی سلامتی اور صلح و جنگ کے لیے ایک بالاتر ادارہ تسلیم کرتی ہے اور نہ عالمی رائے عامہ کو کوئی اہمیت دیتی ہے حتّٰی کہ اپنے دستور سے بھی خود کو بالارکھنے کا عزم کرچکی ہے۔ جنگ اور کسی دوسرے ملک کے خلاف قوت کے استعمال کے بارے میں جو پابندی امریکی دستور نے لگائی ہے اسے بھی ضروری اقدام کے لیے عمومی اجازت کا مبہم سہارا لے کر جنگ کے اہداف، وقت اور نوعیت طے کرنے اور فوج کشی کرڈالنے کے سارے مطلق اختیار امریکی صدر نے خود ہی اپنے ہاتھوں میں  نہایت بے باکی سے بے جا طور پر لے لیے ہیں۔ یہ صاف لفظوں میں نئے استعمار اور استبداد کا راستہ ہے۔

۲۔     گذشتہ کئی صدیوں سے عالمی صلح و جنگ کا نظام جن دو اصولوں پر چل رہا تھا، یعنی طاقت کا توازن اور ردِ جارحیت، وہ دونوں اب ازکار رفتہ ہوگئے ہیں۔ اب نیا اصول پہلے ہی قدم کے طور پر فوجی اقدام ہے جس کا خود دفاعی (Self defence) کے نام پر جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کی حد پوری دنیا ہے، کوئی بھی فرد، گروہ، اقوام اور ممالک۔ امریکہ جہاں چاہے اور جس انداز میں چاہے، اس بنیاد پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور اس میں روایتی جنگ کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو بھی روا رکھا جاسکتا ہے۔ غیر ایٹمی ممالک پر بھی کیمیاوی یا گیس کے ہتھیاروں کے بہانے ایٹمی حملہ کیا جا سکتا ہے۔

۳۔   پچھلے چار سو سال سے عالمی نظام جس قومی حاکمیت اعلیٰ(National sovereignty) کے تصور پر قائم تھا وہ اب غیرمتعلق ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ستمبر۲۰۰۲ء کی  قومی سلامتی کی ان دستاویزات میں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ:

امریکہ کے فوجی اور متعلقہ سول اداروں میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ عمومی تباہی کے ہتھیاروں سے مسلح دشمنوں کے خلاف اپنا دفاع کرسکیں بشمول اس کے کہ جہاں ضرورت ہو پیش بندی کے طور پر دیگر اقدامات کریں۔ اس کے لیے اپنے دشمن کے عمومی تباہی کے ہتھیاروں کے ذخائر کا پتا چلانا،اس سے پہلے کہ انھیں استعمال کیا جائے اور انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ اس میں فوجی اور سول دونوں ایجنسیوں کو ان اختیارات سے مسلح کیا گیا ہے۔

۴۔   اس اختیار کے تحت امریکی صدر نے سی آئی اے کو صاف الفاظ میں یہ اختیار بھی دے دیا ہے کہ دوسرے ممالک میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے ریاست کے سربراہوں تک کو قتل کر سکتی ہے۔ اس کے لیے امریکہ میں ایک نیا سیکورٹی نظام قائم کیا گیا ہے جس کا بجٹ ۳۹  ارب ڈالر ہے اور جس میں ۲ لاکھ کے قریب عملہ ہوگا۔۱۸ ملکوں کو، جن میں ۱۷ مسلمان ممالک ہیں، ممکنہ دہشت گرد ملک سمجھ کر، ان کے شہریوں کے لیے امریکہ میں داخلے پر امتیازی طریق کار اختیار کیا گیا ہے اور مستقل نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔اس فہرست میں سعودی عرب اور پاکستان کا اضافہ سارے احتجاج کے باوجود ابھی دسمبر۲۰۰۲ء میں کیا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع میں ایک نیا شعبہ آگاہی اطلاعات(Information Awareness Office) کے نام سے قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے عالمی سطح پر جاسوسی کا ایک ایسا نظام قائم کیا جارہا ہے جس کی بنیاد پر’ پیش بندی کے نام پر اقدامات ‘  کا کاروبارچلے گا۔

افسر برائے آگاہی اطلاعات، ایسی اطلاعی ٹیکنالوجیز کے بارے میں سوچنے، ان کو نشوونما دینے، اُن کو بروئے کار لانے، ان کو منضبط کرنے، اُن کی وضاحت کرنے اور اُن کی ترسیل کا ذمہ دار ہوگا۔ اس طرح کی مکمل آگاہی پیش بندی، قومی سلامتی کے لیے تنبیہات اور فیصلہ سازی میں مفید ہوگی اور ہر طرح کے خطرات کا سدباب کرنے کا باعث ہوگی۔

اس کام کے لیے جن زبانوں کو فوری طور پر   High terrorist risk  زبانیں قرار دیا گیا ہے وہ عربی، پشتو، فارسی، دری اور مسلم ممالک میں بولی جانے والی دوسری زبانیں ہیں۔ اس ادارے کے ویب پیج پر جو تصویر دی گئی ہے وہ ایک باحجاب (اسکارف پہنے ہوئے) خاتون کی ہے جو فارسی میں ایک امریکی فوجی سے ہم کلام ہے۔ صرف اس ایک ادارے کے لیے      ۲۰۰ ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں اور مشہور زمانہ سابق ایڈمرل جان پوائن ڈیکسٹر (John Poindexter)اس کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں جو صدر ریگن (Ronald Reagan)کے زمانے میں ایران کے معاملات کے سلسلے میں سزایافتہ ہیں اور امریکی کانگریس کے سامنے غلط بیانی اور اسے گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کے سلسلے میں پانچ الزامات پر مجرم قرار دیے جا چکے ہیں۔   (ملاحظہ ہو، دی گارجین ویک اینڈ، ۱۴ دسمبر ۲۰۰۲ء)

۵۔     ایک محاذ جو اسی حکمت عملی کا حصہ ہے اس کا عنوان ’’جمہوریت کا فروغ‘‘ رکھا گیا ہے، خصوصیت سے عالم اسلام اور عرب دنیا میں۔ یہ کثیرجہتی پروگرام ہے جس میں ایک طرف ان ممالک میں اخبارات، رسائل اور میڈیا کو متاثر کیا جائے گا، تربیتی نظام قائم کیے جائیں گے اور متعلقہ افراد اور اداروں کو مالی وسائل اور دوسرے ذرائع فراہم کیے جائیں گے تاکہ امریکہ کے نقطۂ نظر کو عام کیا جا سکے اور رائے عامہ کو اپنا ہم نوا بنایا جا سکے۔ دوسری طرف ان ممالک کے تعلیمی اداروں کو ’’نئی روشنی‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان ممالک میں انسانی حقوق، عورتوں کی بیداری اور معاشرتی ترقی کے منصوبوں کو امریکی جمہوریت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا، این جی اوز اس کا خصوصی آلہ کار ہوں گی۔ ان ممالک میں حکومتوں کو ’’زیادہ جمہوری‘‘ بنانے کے لیے وہاں کی ’’ہم خیال‘‘ قوتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔عراق میں جمہوریت لانے کے لیے وہاں کی حزب اختلاف کو لندن میں حال ہی میں جو منظم کیا گیا ہے وہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

یہ عمل ان تمام ممالک کے لیے اختیار کیا جائے گا جہاں امریکہ تبدیلی ٔ قیادت کو ضروری سمجھتا ہے۔ اب تک جمہوریت کے معنی یہ تھے کہ ملک کے عوام اپنی مرضی کی قیادت منتخب کریں۔ اب جمہوریت کے معنی یہ ہوں گے کہ فوجی یا سیاسی عمل کے ذریعے دنیا کے ممالک میں ان قیادتوں کو ہٹا دیا جائے جو امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہیں اور ان کو زمام کار سونپی جائے جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہیں۔ فلسطین میں یاسرعرفات کا معاملہ ہو یا عراق، ایران، پاکستان، سعودی عرب یا کسی بھی ملک میں سیاسی قیادت کا اب امریکہ کو جمہوریت کے نام پر اپنی من پسند قیادت اوپر لانے کا اختیار ہے اور جسے وہ ناپسند کرے اسے ہٹانے کے لیے جو حربہ بھی وہ استعمال کرنا چاہے وہ جائز اور روا ہے۔ سیاسی نقشے کو تبدیل کرنا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جس طرح پہلی جنگ عظیم کے بعد شرق اوسط اور دوسری جنگ کے بعد افریقہ کا سیاسی نقشہ استعماری قوتوں نے بنایا جس کی سزا یہ عوام آج تک بھگت رہے ہیں اسی طرح اب امریکہ نیا نقشہ بنائے گا۔ جنگ، سیاست،صحافت، سفارتکاری، یہ سب اس کے ہتھیار ہیں۔ افغانستان میں جو کچھ کیا گیا، اس سے پہلے بوسنیا اور کوسوو ومیں جو تجربہ ہوا ، اور اب عراق میں جو کچھ کیا جانے والا ہے وہ سب اسی حکمت عملی کے شاخسانے ہیں۔

گارجین کا مضمون نگار ٹموتھی ایش(Timothy Garton Ash)  امریکی سوچ اور  مجوزہ اقدامات کا پورا نقشہ کھینچتا ہے:

یہ نیا جمہوری اور خوشحال عراق اپنے پڑوسیوں کے لیے ایک نمونہ اور مقناطیس ہوگا جس طرح کہ مغربی جرمنی اور مغربی برلن سردجنگ کے زمانے میں اپنے غیرآزاد پڑوسیوں کے لیے تھے۔ پیش بیں سوچنے والے ایران کو جمہوری بنانے کے لیے نرم انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ پھر امریکہ کا مال دار، استبدادی دوست و حلیف سعودی عرب ہے، جس کے وہابی اسلام  کے چشموں سےتیل کے چشموں سے… بہت سے دہشت گرد نکلے جنھوں نے ۱۱ ستمبر کو امریکہ پر حملہ کیا۔ انتظامیہ میں کوئی بھی اس بات کو کھل کر کہنا نہیں چاہتا مگر عراق کو جمہوری بنانے کا واضح منطقی تقاضا سعودی عرب کو جمہوری بنانا ہے۔ اگر آپ اسلامی مچھروں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان جوہڑوں کو خشک کرنا ہوگا جہاں وہ پرورش پاتے ہیں۔ گو کھلے طور پر نہیں، لیکن اقتدار کے بغلی کمروں اور راہداریوں میں اب لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ پورے شرق اوسط کو نئے نقشے کےمطابق بنانے کے لیے ولسن جیسے منصوبے پر عمل کیا جائے جس کا موازنہ تصور کی بلندی میں صرف یورپ کے لیے ۱۹۱۹ء اور ۱۹۴۹ء کے منصوبوں سے کیا جا سکتا ہے۔ (دیگارجین، ۱۲دسمبر ۲۰۰۲ء)

نقشہ جنگ میں اصل ہدف

اس نقشہ جنگ کے مختلف پہلو ہیں: عسکری، سیاسی، سفارتی، ابلاغی، نظریاتی اور تہذیبی۔ دوسرے پہلوؤں کے بارے میں پہلے بھی گفتگو ہوچکی ہے اور اس تحریر میں بھی اس کے واضح اشارات موجود ہیں۔ البتہ جس پہلو کے بارے میں ہم اس وقت  ذرا کھل کربات کرنا چاہتے ہیں وہ نظریاتی اور تہذیبی ہے ، بالخصوص عالم عرب اور  عالم اسلام کے بارے میں ہزاربارکہا جائے کہ امریکہ کی یہ جنگ صرف تشدد کے خلاف ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج اگر بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور تشدد کی کوئی علامت  بنا دی گئی ہے تو وہ اسلام اور مسلمان ہیں۔ نہ   ہندوستان کی بھارتیہ جنتا پارٹی، ہندو بنیاد پرستی، تشدد اور خون آشامی کوئی مسئلہ ہے، نہ اسرائیل کی لیکود (Likud) پارٹی کے شیرون(Ariel Sharon) کی فسطائیت کوئی قابلِ قدر مسئلہ ہے اور نہ شیشان میں روس کا ظلم و ستم ہی کسی زمرے میں آتا ہے بلکہ بھارت امریکہ کی اسٹرے ٹیجک دوستی ہمیشہ سے زیادہ مستحکم ہے۔ اسرائیل امریکہ کا اسی طرح چہیتا ہے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے  اقوام متحدہ کے مبصروں کی ہلاکت پر سلامتی کونسل میں مذمت کی قرارداد کو ۱۵ میں سے۱۲ ووٹ حاصل ہوئے اور دو کے غیر جانب دار ہونے کی پروا نہ کرتے ہوئے امریکہ ویٹو کرکے اس ظلم میں شرکت اور اس کی سرپرستی کا اعزاز حاصل کر رہا ہے، اور سارے ظلم و زیادتی کے باوجود  اسرائیل کو روس کے صدر پیوٹن (Vladimir Putin)کی آشیرباد حاصل ہے۔ ان حالات میں اگر عالم اسلام یہ نتیجہ نکالے کہ امریکہ کا یہ ساراکھیل صرف مسلمانوں کے لیے ہے، یعنی اصل نشانہ اسلام اور مسلمان ہیں تو اسے کسی طرح خلافِ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اُمت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ اس جنگ کا اصل ہدف مسلمان اور اسلام ہیں۔ اس بارے میں کسی غلط فہمی میں رہنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی پردہ تھا تو وہ صدربش کے قریب ترین مشیروں کے ہاتھوں تار تار ہو چکا ہے۔ ان کا ایک پالیسی ایڈوائزر کینتھ ایڈلمین (Kenneth L. Adelman)  ہے جو وزارتِ دفاع کے دفاعی پالیسی کے بورڈ کا رکن ہے، وہ صاف کہہ رہا ہے کہ صدربش نے جو اسلام کو ایک ’’امن پسند دین‘‘ کہا ہے وہ قبول کرنا ممکن نہیں۔ اس کے الفاظ میں:

To call Islam a peaceful religion is increasingly hard argument to make.

اسلام کو ایک پُرامن مذہب قرار دینا ایک ایسی دلیل ہے جسے دینا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

اس کا اعلان ہے کہ اسلام عسکریت پسند (Militriastic) ہے۔ وہ یہاں تک کہہ گیا ہے کہ:

بہرحال اس کے بانی محمدؐ)نعوذ بااللہ (ایک جنگجو تھے،مسیحؑ کی طرح امن کے علم بردار نہیں تھے۔

ایک دوسرے مشیرخاص ایلیٹ کوہن(Eliot A. Cohen)  جو Johns Hopkins School of International Studies کے پروفیسرہیں اور اسی بورڈ کے رکن ہیں وہ بھی فرماتے ہیں کہ امریکہ کا اصل دشمن ’’دہشت گردی‘‘ نہیں ’’عسکری اسلام ‘‘ (Militant Islam)ہے۔

جارج بش کا دوست اور مشہور عیسائی خطیب پیٹ رابرٹسن (Pat Robertson)   تو دریدہ دہنی کی اس انتہا تک جاتا ہے کہ: ایڈولف ہٹلر(Adolf Hitler) بُرا تھا لیکن مسلمان یہودیوں کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ بُرا ہے۔

جیری فال ویل(Jerry Falwell Sr.)، رحمت للعالمینﷺ کو ’’دہشت گرد‘‘ )نعوذباللہ( کہنے کی جسارت کرتا ہے اور بلی گراہم کے صاحبزادے فرینکلن گراہم (William Franklin Graham Jr.)جنھوں نے صدربش کی  افتتاحی تقریب میں بائبل پڑھی تھی اسلام کو “evil” قرار دیتے ہیں۔ ہم نے دل پر جبر کر کے یہ تمام حوالے اس لیے دیے کہ مسلمانوں کے سامنے امریکہ  کی نظریاتی جنگ کا صحیح نقشہ آسکے اورسفارتکاری کی زبان کے پیچھے جو اصل عزائم کارفرما ہیں ان کو سمجھنے میں کوئی التباس باقی نہ رہے۔

ایک طبقہ وہ ہے جو اس طرح کھل کر اسلام اور مسلمانوں کو ہدف بنا رہا ہے اور امریکہ اور مغرب کی قیادتوں کو یقین دلا رہا ہے کہ اصل دشمن قوت اسلام ہے تو دوسرا زیادہ سمجھ دار طبقہ اس سے ذرا ہٹ کر یہ راستہ اختیار کر رہا ہے کہ اسلام اور موڈریٹ اسلام میں فرق کی ضرورت ہے۔ اسلام کو کھلے کھلے ہدف بنانا خلافِ حکمت اور ناقابلِ عمل ہے۔ ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے ان کے دین کو اس طرح چیلنج کر کے معاملہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو بانٹنے، ان کے درمیان انتشار اور افتراق ڈالنے اور خود ان کو عسکری اور امن پسند، انتہا پسند اور معتدل، انقلابی اور موڈریٹ کے خانوں میں بانٹا جائے اور اندر سے نقب لگا کر ان کو اپنے رنگ میں رنگنے اور عالمی اقدار، جمہوریت اور آزاد روی (Liberalism) کے نام پراپنے مفید مطلب کردار کے لیے تیار اور آمادہ کیا جائے۔ یہ اسلام پر سامنے سے   حملہ آور ہونے کے بجائے اسے اندر سے سبوتاژ کرکے اور مسلم معاشرے کو آپس میں بانٹنے اور لڑانے کا منصوبہ ہے۔ اس میں انھیں اپنے اعوان و انصار کے طور پر خود مسلمانوں میں سے بھی کمزور ایمان و اخلاق والے عناصر اور ان افراد اور گروہوں کے تعاون کی توقع ہے جو مغربی استعمار اور تہذیبی یلغار میں اپنی دینی اور تہذیبی جڑوں سے کٹ گئے ہیں اور مغرب کے تہذیبی تصورات اور طور طریقوں کے دلدادہ بن چکے ہیں۔

اس جنگ کا ایک فکری محاذ ہے۔ اسلام کے بارے میں وہ سارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں جن کا پچھلی صدی میں کافی و شافی جواب دیا جا چکا ہے۔ دوسری طرف دینی تعلیم کے نظام کو ہدف بنایا جا رہا ہے تاکہ علم دین اور تہذیبی روایت کے یہ محافظ ڈانواڈول ہو سکیں۔ معاشی ترقی اور مادی سہولتوں کے نام پر ایسے منصوبے فروغ دیے جا رہے ہیں جو ایک مفاد پسند طبقے کو جنم دے سکیں اور وہ مغربی استعمار کا آلۂ کار بن سکے۔ اسلام کو مسجد اور گھر کی چار دیواری میں محصور کرنے اور دین و سیاست کے دائروں کو الگ الگ کرنے کا سبق پڑھایا جارہا ہے اور یہ سب کچھ اسلام ہی کے ایک مطلوب کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلامی اداروں اور تحریکوں کو مادی اور مالی وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے اور ساری دنیا میں خوفوہراس کی ایک ایسی فضا بنا دی گئی ہے اور اسے مزید مستحکم کیا جا رہا ہے کہ اسلامی سرگرمیوں کو مالیات فراہم کرنے کے آزاد ذرائع مفقود ہو جائیں اور صرف وہ میدان میں رہیں جو سرکار دربار کے ہم نوا ہیں۔ ہم اس سلسلے میں چند اہم حوالے صرف ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے دے رہے ہیں جو اب بھی امریکہ کی قیادت اور مغربی کوچہ گردوں سے کسی خیر کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکہ کے نائب وزیر دفاع پال ولفووٹز (Paul Wolfowitz)نے لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز میں ابھی پچھلے مہینے اپنے خطاب میں سارے پتے کھول کر میز پر رکھ دیے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

جدید ترکی اس امر کا مظہرہے کہ ایک جمہوری نظام یقیناً اسلام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور ریاست سے مذہب کو جدا کیا جا سکتا ہے جو انفرادی نیکی کے ساتھ مکمل موافقت رکھتا ہے۔

اس خطبے میں موصوف نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ:

اسلام کی ایک اصلاح شدہ اور معتدل شاخ جمہوریت پر مبنی آفاقی اقدار کے نظام کی ایک شاخ کے طور پر سامنے آئے گی۔ اگر اقدار آفاقی ہوں گی تو تہذیبوں کا کوئی تصادم نہیں ہوگا۔

موصوف کو کون یاد دلائے کہ ترکی میں فوج سیکولرازم کے نام پر جمہوری قوتوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے، کس طرح انھیں کان سے پکڑ کر پارلیمنٹ اور سیاست سے باہر کررہی ہے اور پورے نظام کو اپنے فوجی بوٹ تلے دبائے ہوئے ہے۔[2]  رہا معاملہ آفاقی اقدار کا، تو اگر موصوف اس میں ’’مغربی‘‘ کا اضافہ کر دیتے تو بات صاف ہو جاتی!

سارا مسئلہ ہی اسلام کو غیر سیاسی بنانے کا ہے جو خالص مغربی تصور ہے۔ اسلام تو اس کی ضد ہے     ؏                  

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

لیکن مغرب کا اسلامی دنیا میں ہدف یہی دین و سیاست کی تفریق ہے۔ امریکی نائب وزیرخارجہ کرسٹیناروکا (Christina Rocca)کے لیے امریکہ کی سفیرصاحبہ کے گھر پر منعقد ایک تقریب میں سفیرصاحبہ نے ساری بات ایک جملے میں ادا کردی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ’’ہم پاکستان کو ایک روادار، سیکولر ملک کے طور پردیکھنا چاہتے ہیں‘‘ (نوائے وقت، ۱۷ دسمبر ۲۰۰۲ء)۔ پس یہی کانٹے کی بات ہے۔

تھامس فریڈمین (Thomas Friedman) امریکہ کے ان صحافیوں میں سے ہے جو سیاست دانوں سے زیادہ اہم ہے۔ سعودی ولی عہد نے فلسطین کے بارے میں اپنے خیالات اسی کے ذریعے امریکہ اور دنیا کے سامنے پیش کیے تھے۔ وہ مسلسل لکھ رہا ہے کہ ہماری اصل جنگ اس اسلام سے ہے جو جہاد کے تصور کو دین کا حصہ سمجھتا ہے۔ وہ صاف لکھتا ہے کہ:

اگر پاکستان جیسی قومیں غربت میں زندگی گزارتی رہیں، اگر اُن کے عوام صرف ان مذہبی مدارس کے مصارف ہی برداشت کر سکتے ہوں جو صرف قرآن کی تعلیم دیتے ہیں تو پھر ہم خوف ہی کے عالم میں زندگی گزاریں گے۔ (انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون ، ۹ ؍دسمبر ۲۰۰۲ء:  Cause to worry)

اور اس سے بھی کھل کر اس نے نیویارک ٹائمز اور انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون میں بالی (انڈونیشیا) میں بم دھماکوں کے واقعہ(اکتوبر ۲۰۰۲) کے بعد صدربش کی طرف سے مسلم ممالک کے تمام قائدین کے نام ایک فرضی خط کی شکل میں امریکہ کے پورے نقشۂ جنگ کو پیش کر دیا تھا۔ مسلمانوں کی قیادت کو مطعون کرنے کے بعد بش کی زبان سے موصوف یوں گویا ہوتے ہیں: آپ کہتے ہیں کہ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں … میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق آپ کے درمیان اسلام کی ایک شدید  غیرروادار قسم کے عروج سے ہے جو محض اسرائیل کے خلاف ایک ردعمل نہیں ہے بلکہ آپ کی ناکام ریاستوں، تیل کی ضائع شدہ دولت، شکستہ نظریات (ناصرازم) اور نسل درنسل آمریت اور ناخواندگی کا جواب ہے۔ یہ سخت گیر بنیاد پرستی جو مسلح اور ناراض ہے ایسا لگتا ہے کہ اب اعتدال پسند مسلمانوں کو بھی خوفزدہ کر رہی ہے۔ لیکن جن اقدار کی یہ تبلیغ کرتی ہے ، یہ آپ کے لیے تباہی لائیں گی اور ہمارے ساتھ تنازع کا باعث بنیں گی۔ جیسا کہ کیٹو   Cato Institute and the National Organization for the Reform of Marjuana Laws. ادارے کے برنک لِنڈسے (Brink Lindsey) نے نیشنل ریویو میں لکھا ہے: ’’کوئی مذہب جو قدیم کتابوں کا رٹا لگائے، ناقدانہ تجسس اور اختلاف کو دبائے، خواتین کو محکوم رکھے، اقتدار کے آگے غلاموں کی طرح


[1]           This is alienation on the grandest scale (دی گارجین ویکلی، لندن، ۹دسمبر ۲۰۰۲ء، ص ۱۹)۔   رائےعامہ کے اس جائزے کا خلاصہ بھی گارجین کے اسی شمارے میں ہے۔ مکمل جائزے کے لیے دیکھیے people.pres.org کی ویب سائٹ پر مضمون What The World Thinks in 2002

[2]          یاد رہے کہ یہ تحریر ۲۰۰۲ء میں لکھی گئی ہے

جھکنا سکھائے، تہذیبی زوال کے علاوہ کسی چیز کا نسخہ نہیں ہے۔ وسط میں موجود شائستہ لیکن غیرسرگرم مسلمانوں کو اس سخت بنیاد پرستی کے خلاف جنگ کرنا چاہیے۔

اور اس خط کو یوں ختم کرتا ہے:

دوستو! جب تک تم خود اپنی تہذیب کے اندر جنگ نہیں کرتے تو ہماری تہذیبوں کے درمیان جنگ ہوگی۔ ہم ا س سے صرف ایک اور۱۱ستمبر کے فاصلے پر ہیں۔ اس لیے آیئے ہم تہیہ کرلیں کہ آئندہ برس ہم اپنے درمیان عدم رواداری کے خلاف لڑیں گے تاکہ ہمارے باہمی تعلقات قائم رہ سکیں۔ (دی ایشین ایج، ۳۰نومبر    ۲۰۰۲ء، ص ۱۴)

اصل ایشو کیا ہے؟  اس کا اس سے واضح بیان اور کہاں سے حاصل ہوگا۔ اگر اس    پس منظر میں سعودی وزیرداخلہ کے اس بیان کو پڑھا جائے جو پچھلے ایک مہینے میں انھوں نے دو بار دیا ہے اور اخوان المسلمون کو اپنے سارے عتاب کا نشانہ بنایا ہے تو بات سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ اس لیے کہ سعودی قیادت کو بھی امریکہ کی قیادت اور صحافت نے ہرطرف سے گھیر رکھا ہے اور ہر ہفتے کوئی نہ کوئی نیا وار کر کے وہ اسے حواس باختہ کیے ہوئے ہیں۔ اصل ہدف محض نام نہاد اور نامعلوم ’’دہشت گردوں‘‘ کی مالی معاونت نہیں، اس ’’موڈریٹ اسلام‘‘ کی تلاش ہے۔

امریکہ  کے ایک دانش ور جن کا پالیسی ساز اداروں پر بڑا اثر ہے جم ہوگ لینڈ (Jim Hoagland) ہیں،   وہ صاف لفظوں میں لکھتے ہیں کہ:

دہشت گردی کے خلاف امریکہ  کی جنگ اور پیٹروڈالر کے وافر ذخائر کے غائب ہونے نے سعودی حکمرانوں کو فیصلے کی نازک گھڑی میں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ اکیسویں صدی میں اپنی بقا کے لیے اُن کو دہشت گردوں اور رقمیں وصول کرنے والوں کے کام کو سرگرمی سے بند کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ اُن کو تحفظ دیں اور رقم فراہم کریں۔ سب سے بڑی تبدیلی اپنے گھر میں آنی چاہیے۔ آل سعود کو وہابی فرقے کے ساتھ اپنے عہدکو ختم کر دینا چاہیے جس کو بادشاہت کی حمایت کے بدلے میں مملکت کے اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی زندگی میں غیرمعمولی غلبہ حاصل ہے۔ وہابی علما نے اسلامی خیرات کو شرق اوسط اور وسط ایشیا میں دہشت گردی  اورنفرت پھیلانے کے لیے آڑ کے طور پر استعمال کیا۔ سعودی بادشاہت کو انتہا پسندوں سے دست کش ہوجانا چاہیے اور اُن کا جواز ختم کر دینا چاہیے،یا دنیا سے نیست و نابود ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امریکیوں کو سعودیوں کو دیانتداری سے بتا دینا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے کی یہ واحد صورت ہے۔ (انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون ،  ۲ دسمبر ۲۰۰۲ء)

چلیے سعودی عرب کا تو قصہ پاک ہوا۔ اب باقی عالم اسلام کو لے لیجیے۔ ایک اور مشہور مفکر اور کالم نگار ولیم پاف(William Pfaff)  ’’اسلام اور مغرب‘‘ کے عنوان سے صورت حال کی یوں نقشہ کشی کرتے ہیں:

مبصرین جب اسلامی دنیا میں جدیدکاری کے بحران پر گفتگو کرتے ہیں تو دراصل وہ تنازعے کی حقیقی وجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وجہ اسلامی معاشرے اور جدید مغرب کی اقدار میں عدم مطابقت ہے۔

مغرب کا غلبہ اور مادی رفتارِ ترقی ایک ایسے نظام اقدار سے علیحدہ نظر نہیں آتے جس کا مطالبہ ہے کہ مسلمان اپنے اخلاقی تشخص کو ترک کر دیں۔ ایک تازہ کتاب میں برطانوی مصنف روجر سکروٹن (Roger Scruton)یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہم اسلام کو مغربی ٹیکنالوجی، مغربی ادارے اور مذہبی آزادی کے مغربی تصورات کو رد کرنے کی کوشش کرنے کا الزام کیوں دیں جب کہ ان میں ان تصورات کو مسترد کیا گیا ہے جن پر اسلام کی بنیاد ہے: اللہ کا ناقابل تغیرفرمان جو اُن کے نبیؐ  پر نہ تبدیل ہونے والے مجموعہ قانون کی شکل میں ایک ہی دفعہ ہمیشہ کے لیے نازل کیا گیا۔

آخر مغرب نے خود ہی سے کیوں یہ سمجھ لیا ہے کہ اسلامی معاشرے کے موجودہ مذہبی تصورات کو بہ زور ختم کر دیا جائے، صرف اس لیے نہیں کہ وہ مغرب کو موافق نہیں آتے بلکہ اس لیے کہ مغرب یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ خودمسلمانوں کے لیے بھی مناسب حال نہیں۔

اسلامی حکومتوں پر مسلسل مغربی دباؤ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے مغربی تصورات کے مطابق ہو جائیں اور آزادانہ اور ناقدانہ مذہبی فکر کی حوصلہ افزائی کریں۔ (انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون، ۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ء)

ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ اصل ایشو ہی یہ ہے کہ عالم اسلام اپنا تشخص اسلامی رکھنا چاہتا ہے یا ’’ماڈرن اسلام‘‘ کے عنوان تلے اپنے کو مغرب کے رنگ میں رنگنے اور اس کے تہذیبی اور معاشی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اصل جنگ ہے جو سیاست اور عسکری میدانوں میں لڑی جا رہی ہے اور فکری، تہذیبی، معاشی اوراخلاقی میدانوں میں بھی۔ امریکہ اور اس کے کارندے ہر محاذ پر سرگرم ہیں۔ بات افغانستان پر فوجکشی اور نام نہاد امن فوج کی کارگزاریوں کی ہو یا عراق پرحملہ اور عمومی تباہی کے ہتھیاروں کو تباہ کرنے کی مہم جوئی کی، پاکستان کے جوہری وسائل کا تعاقب ہو یا ایران پر جوہری صلاحیت کے حصول کے الزامات … یہ سب تو سیاسی اور عسکری دباؤ کا حصہ ہیں لیکن ان کے ساتھ معاشی ترغیبات و ترہیبات اور ثقافتی، تعلیمی اور ابلاغی جارحیت اس ہمہ جہتی جنگ کے اہم پہلو ہیں۔ آسٹریلیا کی نیشنل یونی ورسٹی کے دفاعی اور اسٹرے ٹیجک مطالعات کے شعبے کے ڈائریکٹر نے جنگ کے اس محاذ کی یوں نقشہ کشی کی ہے:

ایک ایسی جنگ مذہبی مدارس اور ان کے ہوسٹلوں میں لڑی جانی چاہیے جو مستقبل کے انتہا پسندوں کی پرورش گاہ (Incubator) ہیں۔ یہ جنگ جنوب مشرقی ایشیا کے ظہور پذیر سول سوسائٹی کے مدیران جرائد، اسکولوں کے اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سیاست دانوں، غیر حکومتی انجمنوں اور دیگر عناصر کو لڑنا چاہیے اور معتدل مسلمانوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ ( انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون، ۱۷دسمبر ۲۰۰۲ء)

نقشہ جنگ آپ کے سامنے ہے۔ ’’ماڈریٹ اسلام ‘‘ کی تلاش بالکل اسی نوعیت کی کوشش ہے جیسی برطانوی استعمار نے اپنے عروج کے زمانے میں جہاد کے خلاف محاذ قائم کیا اور ایسی نبوتوں کی افزائش کی کوشش کی جو جہاد کو منسوخ قرار دیں تاکہ اس طرح برطانوی استعمار کے سائے میں زندگی کو عین اسلامی قرار دینے کی سعادت حاصل ہو لیکن جس طرح وہ حکمت عملی ناکام رہی اسی طرح یہ حکمت عملی بھی بارآور نہیں ہو سکتی۔

اصل نقشۂ جنگ کو سمجھنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری جوابی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے ؟ اس پر اگلے مضمون میں اظہار خیال کیا گیا ہے ۔                                                                                                                                                         

(جنوری ۲۰۰۳ء)

امریکی عزائم

مقابلہ کی حکمت عملی-نظریاتی پہلو

امریکہ عالم اسلامی کے خلاف جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے ، ان سے اس کے مذموم عزائم، دیکھنے والوں کی نظر میں کھلی کتاب کی طرح سامنے ہیں۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری جوابی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ قرآن پاک کے مطالعے اور سیرتپاکؐ پر تدبر کرنے سے جو حکمت عملی ہمارے سامنے آتی ہے اسے دو نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے: ۱۔ استقامت،۲۔ حکمت۔

قرآنی حکمت عملی کا پہلا نکتہ: استقامت

استقامت یہ ہے کہ اللہ پر پورا بھروسا کیا جائے اور اللہ کا دین، جیسا کہ وہ ہے، اس پر پورے اطمینان ، یقین محکم اور صبروثبات کے ساتھ ڈٹ جایا جائے۔ اپنے مقصد اور نصبالعین، مستقبل کے بارے میں اپنے وژن اور اُمت مسلمہ کے حقیقی اہداف، اس کی قوت کے اصلی ذرائع، اور اقامت دین کے سلسلے میں اس کے اصول، مشن اور مخصوص عملی پروگرام پرکوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اسلام کی تراش خراش ہمارا طریقہ نہیں ہو سکتا اور اسلام کے دائرے کے اندر فکروتدبر، اطاعت اور اجتہاد، وفاداری اور رواداری، جدوجہد اور ایثار کے لیے جو خطوطِ کار، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیے ہیں ان پر ایمان اور احتساب کے ساتھ جم جایا جائے۔ اعتدال اور توازن اس کا طرۂ امتیاز ہے ، لیکن یہ اس کے اپنے نظام کے اندر اور اس کا ابدی حصہ ہیں، اپنے نفس یا دوسروں کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اسے موڈرن یا موڈریٹ نہیں بنایا جا سکتا۔

یہ حقیقت اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ہی راہِ اعتدال ہے اور سارا توازن، رواداری، میانہ روی، اس کے دیے ہوئے حقوق و فرائض کے نظام میں اپنی کامل شکل میں موجود ہیں۔ اُمت مسلمہ ہے ہی امت وسط اور عقیدہ و عمل ہر اعتبار سے یہ اُمت مسلک اعتدال پر قائم ہے۔ مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے اور آپ پائیں گے کہ خدا اور انسان، معبود اور عبد، اللہ اور پیغمبر کے رشتے اور حقوق و مقام کے باب میں کس طرح وہ افراط اور تفریط کا شکار رہے ہیں۔ اسلام نے نقطۂ عدل کو واضح کر دیا۔ خدا، خدا ہے اور انسان انسان۔ لائق عبادت و عبودیت صرف اللہ ہے جو خالق سماوات والارض ہے۔ انسان کا مقام اللہ کے خلیفہ اور نائب کا ہے۔ وہ کسی حیثیت سے بھی خدا کی ذات یا صفات میں شریک نہیں۔ حتّٰی کہ خداکے پیغمبر بھی، بہترین نمونہ اور قرب الہٰی میں اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود خدا کے اقتدار میں کسی قسم کی اور کسی بھی قدر شرکت نہیں رکھتے۔ یہی وہ اعتدال ہے جس پر کائنات قائم ہے۔

پھر آپ مذاہب کی تاریخ میں دین اور دنیا، روح اور مادہ، اس زندگی اور اُس زندگی کے باب میں افراط و تفریط کا سماں دیکھیں گے ۔لیکن اسلام نے یہاں بھی وہی راہ ِاعتدال اختیار کی اور دین و دنیا کی یک رنگی، روح اور مادے کی ہم آہنگی، اور حسنات دنیا اور حسنات آخرت کے اجتماع کی شکل میں ایک متوازن اور مبنی برعدل تصورِ حیات کو نہ صرف پیش کیا بلکہ اس پر عملاً فرد اور اجتماع، ذاتی سیرت اور اجتماعی تہذیب کا نقشہ تعمیر کر کے دکھا دیا۔

اسی طرح قانون اور اخلاق، ظاہر اور باطن، لفظ اور معنی کے باب میں افراط و تفریط کے بے شمار نمونے، مذہب اور تہذیب دونوں کی دنیاؤں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن اسلام نے پھر ایک راہِ اعتدل اختیار کی اور اس طرح اختیار کی کہ ثبات اور تغیر کے تمام تقاضے بھی بھرپور انداز میں پورے ہوئے اور قانون اور روحِ قانون دونوں کو بیک وقت حاصل کرنا انسان کے لیے ممکن ہوگیا۔

معاملہ فرد اور معاشرے کے تعلقات کا ہو یا مرد و زن کے رشتے کا، آزادروی اور نظموضبط کا ہو یا قیادت اور مشاورت کا، عبادت کا ہو یا کاروبارِ زندگی کا، باطن کی اصلاح ہو یا قانون اور نظام کی تبدیلی، دوستی کی بات ہو یا دشمنی کے آداب، ہر معاملے میں اسلام نے اعتدال کے راستے کو اختیار کیا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملے میں اسلام کی اس شناخت کو بیان فرما دیا کہ بہترین عمل وہی ہے جو راہِ وسط پر قائم ہو: خیرالامور اوسطھا۔ دیکھیے قرآن و سنت نے کس طرح اسلام کے اس وصف کو نمایاں کیا ہے اور زندگی کا محور بنا دیا ہے۔

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَا۬ئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ  شَھِیْدًاﺚ   (البقرۃ  ۱۴۳:۲)

ہم نے تمھیں ایک اُمت وسط بنایا ہے تاکہ تم انسانوں پر حق کے گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِھ۪ یَعْدِلُوْنَﰄﺟ  (الاعراف ۱۸۱:۷)

اور ہماری مخلوق میں ایک اُمت ہے جو ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتی ہے۔

اللہ کے بندوں کا وصف ہی یہ ہے کہ وہ:

وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًاﮒ (الفرقان ۶۷:۲۵)

اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔

وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْاﺆ اِنَّھ۫ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَﭮﺟ  (الاعراف ۳۱:۷)

اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَةً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاﭬ  (بنی اسرائیل ۲۹:۱۷)

انفاق فی سبیل اللہ ان کا وطیرہ ہے مگر اس میں بھی نہ وہ اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھتے ہیں اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑتے ہیں۔

نوافل کا وہ اہتمام کرتے ہیں لیکن اس میں بھی اعتدال اور استمرار ان کا شعار ہے۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، قیاماللیل بھی کرتا ہوں اور آرام بھی، اور ازدواجی زندگی کا بھی اہتمام کرتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ اسلام ہی وہ دین اور نظامِ حیات ہے جو عبارت ہے زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، توازن، عدل ، انصاف، ادائیگی حقوق، فرائض کی پابندی، صلہ رحمی، احترامِ انسانیت،مخالف کے معبودوں کو بھی بدزبانی سے محفوظ رکھنے اور دین میں ہر جبر اور اکراہ سے پرہیزسے۔ یہ ہے اسلام اور اسلام کی امتیازی شان!

یاد رکھیے یہ ساری میانہ روی، اعتدال اور رواداری شریعت کے نظام کا حصہ ہے، اور منصوص اور مطلوب ہےلیکن میانہ روی کے نام پر اسلام میں قطع و برید، اعتدال کے نام پر فرائض اور واجبات سے رخصت، دوستی کی خاطر جہاد سے فارغ خطی، رواداری کے نام پر کفر اور ظلم سے سمجھوتہ، یہ اسلام نہیں، اسلام کی ضد اور اس سے فرار کی راہ ہیں۔ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کے احکام اور حدود کے بارے میں کوئی مداہنت اللہ کی ناراضی کو مول لینے کا راستہ ہے اور  یہ اس کے عذاب کو دعوت دینے کا موجب ہوسکتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے محمود اور مطلوب قرار دیا ہے وہی ہمارا محمود اور مطلوب ہے اور جسے انھوں نے ناپسند کیا ہے اس سے برأت ہی ہماری میانہ روی اور رواداری ہے۔ اس لیے کہ اسلام نام ہی طاغوت سے بغاوت اور اللہ سے رشتے کو جوڑنے کا ہے۔

فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْۭ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰیﺠ لَاانْفِصَامَ لَھَاﺚ  وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌﱏ  (   البقرۃ  ۲۵۶:۲)

اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

اسلام کے نظام اور فریم ورک میں بے پناہ آزادی ہے مگر یہ آزادی اس فریم ورک کے اندر ہے، اس فریم ورک کو توڑنے ، اس سے فرار اختیار کر کے یا اس کے باہر آزادی کی تلاش اسلام کے منافی ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے اقبال نے یوں کہا ہے کہ                   ؎

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

دین کو ہرپیوندکاری سے محفوظ رکھنا اور دوسروں کے مطالبوں پر یا انھیں خوش کرنے کے لیے دین میں قطع و برید اللہ کی اطاعت کا نہیں اس سے بغاوت کا راستہ ہے۔ دیکھیے خود اللہ اپنے رسولؐ کو خطاب کر کے کیا کہتا ہے:

قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَمَّا جَا۬ءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْﺑ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَﮑ (المومن ۶۶:۴۰)

اے نبیؐ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے ان ہستیوں کی عبادت و اطاعت سے منع کردیا گیا ہے جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں، جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانیاں آچکی ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین کے آگے سرتسلیم خم کر دوں۔

قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِﺚ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَھْوَا۬ءَکُمْﺫ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَﮇ (الانعام ۵۶:۶)

اے نبیؐ! ان سے کہہ دو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو، ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے اور کہو میں تمھاری خواہشات ذات کی پیروی نہیں کروں گا اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا اور راہِ راست پانے والوں میں سے نہیں رہا۔

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰھُ حُکْمًا عَرَبِیًّاﺚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَا۬ءَھُمْ بَعْدَ مَا جَا۬ءَکَ مِنَ الْعِلْمِﺫ مَا لَکَ مِنَ اللہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا وَاقٍﭴﺟ   (الرعد ۳۷:۱۳)

اسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ قرآن عربی تم پر نازل کیا ہے، اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمھارے پاس آ چکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمھارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچا سکتا ہے۔

وَ اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَھ۫ ﺣ وَاِذًا لَّا تَّخَذُوْکَ خَلِیْلًاﮘ  (بنی اسرائیل ۷۳:۱۷)

اے نبیؐ! ان لوگوں نے اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمھیں فتنے میں ڈال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمھاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمھیں اپنا دوست بنا لیتے۔

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍﺫ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَا۬ءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْھُﺚ قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّلَھ۫ مِنْ تِلْقَا۬ئِ نَفْسِیْﺆ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّﺆ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍﭞ  (یونس ۱۵:۱۰)

جب انھیں ہماری صاف صاف باتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمدؐ، ان سے کہو میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغّیروتبدل کرلوں۔ میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگرمیں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

یہ آیات بینات ایک آئینہ ہیں جن میں اہل حق کے موقف اور مثال اور اہل باطل کی خواہشات، ترغیبات اور مطالبات کی مکمل تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ زمانہ کتنا ہی بدل جائے اور تاریخ کے اسٹیج پر کارفرما کردار کیسے ہی نئے ناموں اور نئی شکلوں میں نمودار ہو جائیں، اہل حق اور اہل باطل کا مسلک اوررویہ سرمو نہیں بدلتا۔ اس آئینے میں غیروں ہی کی نہیں بہت سے دوستوں کی اصل صورت بھی دیکھی جا سکتی ہے اور اس میں ہمیں وہ اسوہ بھی صاف نظر آتا ہے جو استقامت اور وفاداری کی راہ ہے۔ یہی ہمارا مطلوب و مقصود ہونا چاہیے۔

وَّاتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَﺚ اِنَّ اللہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاﭑﺫ وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِﺚ وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیْلًاﭒ (الاحزاب ۳۳: ۳-۲)

پیروی کرو اُس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جا رہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے با خبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔

ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَا۬ئَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَﭡ اِنَّھُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللہِ شَیْئًاﺚ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَا۬ئُ بَعْضٍﺆ وَاللہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَﭢ ھٰذَا بَصَا۬ئِرُ لِلنَّاسِ وَھُدًی وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَﭣ  (الجاثیہ ۴۵: ۲۰-۱۸)

اے نبیؐ! ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمھارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو یقین لائیں۔

استقامت ہماری حکمت عملی کی پہلی بنیادہے، اور اس کا تقاضا ہے کہ مقصد،مشن، اہداف اور منزل کے بارے میں نہ کوئی ابہام اور جھول رہے اور نہ کوئی کمزوری دکھائی جائے۔ وژن بہرصورت واضح اور ہر دھند سے پاک ہونا چاہیے۔ اس پر جم جانا، اللہ کا دامن تھامے رکھنا، صرف اس کی قوت پر بھروسہ کرنا اور صبر اور پامردی کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹ جانا اہل ایمان کا شیوہ اور طرۂ امتیاز ہے۔ اس میں ان کی بقا اور دنیا اور آخرت میں کامیابی کا راز ہے۔

قرآن کی حکمت عملی کا دوسرا نکتہ: حکمت

اگر استقامت اس حکمت عملی کی پہلی بنیاد ہے تو اس کی دوسری بنیاد اور اتنی ہی اہم بنیاد حکمت اور دانش مندی ہے۔ استقامت کسی اندھی اور بہری قوت کا نام نہیں، استقامت کے لیے ضروری ہے کہ ساری جدوجہد پوری سوجھ بوجھ کے ساتھ انجام دی جائے جس میں کلیدی کردار مقاصد کے صحیح شعور،تدابیر کی مکمل تفہیم، نقشہ کار کی دقّت نظر سے تیاری، وسائل اور لوازمات کے حصول کی مؤثرمنصوبہ بندی اور تدبیر منزل کی تمام ضروریات کا پورا پورا ادراک اور ان کو عملاً حاصل کرنے اور صحیح وقت پر صحیح انداز میں استعمال کرنے کا اہتمام ہوگا۔ قرآن پاک کے مطالعے اور سیرت خیرالانامؐ پر تدبر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حکمت، کار نبوت کی انجام آوری کے لیے ایک لازمی شرط ہے اور بیک وقت ،استقامت اور حکمت پر مبنی راستہ ہی وہ راستہ ہے جس سے اہل دین اپنی منزل کو پا سکتے ہیں۔ ان کی حیثیت انسان کی دو ٹانگوں کی طرح ہے۔ پیش قدمی کے لیے دونوں ٹانگیں درکار ہیں، محض ایک کے سہارے منزل سر نہیں کی جاسکتی۔

میانہ روی اور رواداری: حکمت کا تقاضا ہے کہ جہاں ہم دین میں کوئی قطع و برید نہ کریں اور نہ ہونے دیں بلکہ اللہ کے دین کو جیسا کہ وہ ہے مضبوطی سے تھام لیں وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم کسی اشتعال میں نہ آئیں، اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں، اسلام کی سکھائی ہوئی میانہ روی اور رواداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، اپنی داعیانہ حیثیت کو نہ بھولیں۔ہماری لڑائی مرض سے ہے مریض سے نہیں، کفر سے ہے، وہ بھی اہل کفر کو ایمان کی دولت سے مالامال کرنے کے لیے ہے، نیست و نابود کرنے کے لیے نہیں۔ اللہ کی ساری مخلوق کے کچھ حقوق ہیں اور ان کو دین حق کی طرف لانے کے کچھ آداب ہیں۔ ان کا احترام اور اہتمام ہی حکمت دین ہے۔ مالک کا  حکم ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُﺚ (النحل ۱۲۵:۱۶)

اے نبیؐ! اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ دعوت و حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِﺚ وَاُولٰ۬ئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﮷ (اٰل عمرٰن ۱۰۴:۳)

تم میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہی ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پانے والے ہیں۔

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَﭰ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُﺚ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَھ۫ عَدَاوَةٌ  کَاَنَّھ۫ وَلِیٌّ حَمِیْمٌﭱ   (حٰم السجدہ ۳۴-۳۳:۴۱)

اور اس شخص سے ا چھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ اور اے نبیؐ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

عدل کی روش:            حکمت ہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہم عدل و انصاف کا دامن کبھی اپنے ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیں حتّٰی کہ مخالفت، جنگ و جدال اور مذاکرہ و مجادلہ، ہر میدان میں ہم عدل کی راہ پر قائم رہیں اور فراست ِ مومن کے ساتھ نرمی اور سختی، عفو و درگزر اور مقابلہ اور انتقام، ہاتھ روکنے اور دشمن پر وار کرنے کے تمام ممکنہ ذرائع اپنے اپنے صحیح وقت پر استعمال کریں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے عدل اور قسط کے ساتھ احسان، بدلہ اور انتقام کے ساتھ عفوودرگزر، جنگ کے ساتھ صلح، اور قوت کے استعمال کے ساتھ مذاکرے اور معاہدے کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے موقع اور محل پر ضروری ہے ۔ حکمت اور فراست اس کا نام ہے کہ ان میں سے ہر حربے کو اس کے صحیح وقت پر استعمال کیا جائے اور یہاں بھی اعتدال اور توازن پر کاربند رہا جائے۔ دیکھیے اس باب میں قرآن کس طرح ہماری رہنمائی اور تربیت کرتا ہے۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ (الاعراف ۲۹:۷)

تم کہہ دو، میرے رب نے عدل اور قسط کا حکم دیا ہے۔

 اِنَّ اللہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَا۬یِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَا۬ئِ وَالْمُنْکَرِ  وَالْبَغْیِﺆ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَﮩ  (النحل ۹۰:۱۶)

اللہ عدل اور احسان اور صلۂ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق سیکھ لو۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلہِ شُھَدَا۬ئَ بِالْقِسْطِﺑ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْاﺚ اِعْدِلُوْاﺤ ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰیﺑ وَاتَّقُوا اللہَﺚ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۭ بِمَا تَعْمَلُوْنَﭗ  (المائدہ ۸:۵)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے پوری طرح باخبرہے۔

فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْھِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْﺕ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا  اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَﰑ (البقرۃ ۱۹۴:۲)

لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انھی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدُود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔

وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِھ۪ﺚ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ﯍ (النحل ۱۲۶:۱۷)

اگر تم لوگ بدلہ لو تو اُسی قدر لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے۔

وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُھَاﺆ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُھ۫ عَلَی اللہِﺚ اِنَّھ۫ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَﭷ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِھ۪ فَاُولٰ۬ئِکَ مَا عَلَیْھِمْ مِّنْ سَبِیْلٍﭸﺚ اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّﺚ اُولٰ۬ئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌﭹ وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِﭺﺟ (الشورٰی  ۴۰:۴۲-۴۳)

برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعدبدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اُولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے نفس کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے گھروالوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے (ترمذی)۔

اس طرح اللہ نے مسلمانوں کو ہر لمحہ تیار رہنے کا حکم دیا ہے اور صرف تیار رہنے ہی کا نہیں مقابلے کی قوت (Deterrent Power) کے حصول کو لازم کیا ہے۔ اور اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کی ترغیب دی ہے۔

وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِھ۪ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْﺆ لَا تَعْلَمُوْنَھُمْﺆ اَللہُ یَعْلَمُھُمْﺚ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَﮋ (الانفال   ۶۰:۸)

اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیاربندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنھیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے، اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمھاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِﺚ اِنَّھ۫ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُﮌ وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللہُﺚ ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِھ۪ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَﮍ  (الانفال  ۶۱:۸-۶۲)

اے نبیؐ، اگر دشمن صلح وسلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہیں تو تمھارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی۔

مقابلے اور معاملات میں غصہ اور اشتعال سے پرہیز کی تعلیم بھی دی گئی ہے کہ جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔

وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ھُمْ یَغْفِرُوْنَﭴﺆ  (الشورٰی       ۳۷:۴۲)

 اس لیے کہ مومن غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہوتے ہیں:

وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِﺚ ( اٰل عمرٰن ۱۳۴:۳)

اورجو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔ علامہ قرطبی، امام رازی اور علامہ ابن عربی مالکی نے بہت خوب کہا ہے کہ عفوودرگزر کے نتیجے میں اگر فتنہ دب رہا ہے اور غلط کار اپنی روش سے باز آ رہا ہے تو عفو پسندیدہ ہے لیکن اگر

عفوو درگزر سے مجرم کا حوصلہ بڑھ جائے اور اس کے غیض و غضب کو تقویت پہنچے تو انتقام لینا صحیح ہے۔ ان مواقع میں تمیز اور  حسب حال رویہ کے اختیار کرنے کا نام ہی حکمت ہے۔

مکالمے کی ضرورت: حکمت ہی کا ایک پہلو مکالمہ ، گفت و شنید اور ڈائیلاگ ہے اور وہ بھی صحت کلام کے ساتھ ساتھ شیریں کلامی کے ذریعہ :

وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ ۸۳:۲)

اور لوگوں سے بھلی بات کہنا ۔

 اس لیے کہ اللہ کی تعلیم ہے ہی یہ کہ :

وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُﺚ (بنی اسرائیل  ۸۳:۱۷)

 میرے بندوں (مسلمانوں) سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہترین ہو ۔

 اور ڈائیلاگ کے بھی آداب یہ ہیں کہ قدر مشترک کی طرف بلایا جائے :

تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَةٍ سَوَا۬ئٍۭ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ (اٰل عمرٰن ۶۴:۳)

آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے۔

نیز یہ کہ:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُﺚ (النحل ۱۲۵:۱۶)

اے نبیؐ! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔

وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُﺚ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (حٰم السجدہ ۳۴:۴۱)

نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔

یہ سب حکمت ہی کے مختلف پہلو ہیں۔

قوت کا استعمال:      اسی طرح یہ بات کہ کب قوت کا استعمال مطلوب ہے اور کب ہاتھ روک لینا  بہتر ہے اور اس کا استعمال بھی حکمت ہی سے ہے۔ مکی زندگی اور مدنی زندگی ایک وحدت ہیں لیکن کون سا طریقہ کب استعمال کیا جائے اس کا انحصار حکمت بالغہ پر ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَﺆ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةًﺆ وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَﺆ لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍﺚ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌﺆ وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰیﺤ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًاﮜ اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍﺚ (النساء۷۷:۴-۷۸)

تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جواُنھیں لڑائی کا حکم دیا گیا ہے تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر۔ کہتے ہیں خدایا، یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ اِن سے کہو، دنیا کا سرمایۂ زندگی تھوڑا ہے اور آخرت ایک خداترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمّہ برابر بھی نہ کیا جائے گا۔ رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو، وہ بہرحال تمھیں آکر رہے گی ، خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ حکمت کے پہلو اتنے ہیں کہ ان کا احاطہ ناممکن ہے۔ ہم صرف چند اشارات پر قناعت کر رہے ہیں اور جو کچھ عرض کیا ہے بطور مثال ہے تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ استقامت اور حکمت دونوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے، کسی ایک کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور دونوں کے دامن میں جو وسعت اور تنوع ہے ان کا احاطہ بھی ضروری ہے۔ لیکن اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ استقامت اور حکمت ہی وہ راستہ ہے جس پر بیک وقت چل کر ہم آج بھی اسلام کے خلاف کی جانے والی ساری سازشوں، منصوبوں اور تحریکوں کا کامیابی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ جس طرح سمجھوتا اور دشمن کے آگے سپر ڈال دینا موت کا راستہ ہے اسی طرح جذبات سے مغلوب ہوکر، مناسب تیاری کے بغیر، اشتعال اور تشدد کا راستہ بھی حق و ثواب کا راستہ نہیں۔ ’’موڈریٹ اسلام‘‘ کے نام پر اسلام سے برگشتہ کرنے، باطل قوتوں سے سمجھوتہ کرنے یا راہِ حق سے فرار  کا راستہ  اختیار کرنے میں دنیا اور دین دونوں کا خسارہ ہے لیکن اس یلغار کا مقابلہ بھی اسلام ہی کی بتائی ہوئی راہِ اعتدال و حق و انصاف پر جم جانے سے کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کو اختیار کر کے ہمارے ہادیبرحق صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریک اسلامی کو کامیابی سے ہم کنار کیا اور اسی راستے پر چل کر آج بھی ہم اللہ کی رضا اور دنیاوآخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

قرآنی حکمت عملی کا اطلاق

اس وقت اُمت کے ارباب دانش، اسلامی تحریکات کے قائدین اور مسلمان ملکوں کی قیادت کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان قرآنی بنیادوں پر وقت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا حکمت عملی بنائی جائے؟ اس حکمت عملی کی روشنی میں کیا پالیسیاں اور کیااقدامات تجویز کیے جائیں تاکہ اُمت اپنا صحیح مقام حاصل کر سکے اور دنیا کو بھی نئے استعمار کی جارحیت سے محفوظ رکھا جاسکے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے خود اپنے گھر کی اصلاح کا نقشہ بنایا جائے۔ ان خطوط کار کا تعین بھی ضروری ہے جن پر دنیا کی دوسری اقوام، خصوصیت سے امریکہ سے آئندہ معاملات کیے جائیں۔ اس کے تین محاذ ہوں گے: ہر ملک کا اپنا محاذ، اُمت مسلمہ کا اجتماعی محاذ اور عالمی سطح پر نئے نظام اور اس کے قیام کے لیے منصوبہ بندی۔ بلاشبہ امریکہ اور اس کے عزائم اس پورے معاملے میں ایک کلیدی مقام رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ایک سوچے سمجھے موقف کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کے تمام اہل فکر اور خصوصیت سے اسلامی تحریکات اور مسلمان حکومتوں کے کارپردازوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ان امور پر غوروفکر اور مباحثے اور مذاکرے کا اہتمام کریں۔ اس سلسلے میں ہم اپنی گزارشات اُمت کے سوچنے سمجھنے والے عناصر، مسلمانوں کے معاملات کے ذمہ دار حضرات اور ان لوگوں کی خدمت میں عرض کرنے کی جسارت کر رہے ہیں جو اسلامی تحریکات اور مسلم ممالک کی قیادت پر فائز ہیں۔

تین راستے

۱۔    ہماری اب تک کی گزارشات سے یہ بات تو واضح ہو گئی ہے کہ اُمت کے لیے غفلت اور فرار کا راستہ مکمل تباہی کا راستہ ہوگا۔ اس لیے مقابلہ اور مردانہ وار مقابلہ ہی زندگی اور بقا کا راستہ ہے۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ حالات کے آگے سپر ڈالنے کے معنی محکومی اور موت کے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے نتیجے میں ہم سوا ارب کی اُمت ہوتے ہوئے بھی خس و خاشاک سے زیادہ وزن کے حامل نہ ہوں گے اور بالآخر ایک نئی سیاسی، معاشی اور تہذیبی غلامی کی گرفت سے بچ نہ سکیں گے۔ یہ راستہ جس قوم نے بھی اختیار کیا، وہ تاریخ کے اوراق میں  صفحۂ ہستی سے مٹ گئی، عبرت کا نشان بن گئی اور کبھی باقی نہیں رہی۔ افسوس کہ مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے طوعاً یا کرہاً ، لیکن عملاً اس تباہ کن راستے کو اختیار کر لیا ہے۔ کچھ شیطانی قوتوں کے باقاعدہ شریک کار بن گئے ہیں اور کچھ خاموش تماشائی یا نوالہ تر بننے پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔ یہ دراصل ذہنی، فکری اور عملی طور پر ہتھیار ڈال دینا ہے۔ دشمن کے رنگ میں رنگ جانا ہے، جسم کو بچانے کی موہوم امیدوں کے نام پر، ایمان، تہذیب، اقدار، نظریات اور تصورِ حیات تک کی قربانی دے دینا ہے۔ ترکی میں کمال ازم نے یہی راستہ اختیار کیا تھا۔ مغرب اور مغرب کے کاسہ لیس دانش ور، مسلمانوں کو آج بھی سیکولرازم اور قوم پرستی کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ راستہ نہ صرف روحانی اور اخلاقی موت بلکہ تہذیبی موت کا ہے۔

۲۔   دوسرا راستہ یہ ہے کہ شریک کار نہ بنا جائے، نرم چارہ نہ بنا جائے اور بس اپنے آپ کو بچا لیا جائے۔ اسے تحفظ کی حکمت عملی کہتے ہیں۔ اس حکمت عملی پر ایک طبقے نے مغربی اقوام کی استعماری یلغار کے پہلے دور میں بھی عمل کر کے دیکھ لیا لیکن افسوس اس سے ہم نے کوئی سبق نہ سیکھا۔یہ حکمت عملی ہتھیار ڈال دینے (سرنڈر) کی پالیسی سے کچھ بہتر ہے۔ اس میں اپنے آپ کو مسجد، مدرسہ اور خانقاہ میں محصور کرکے تبلیغی سرگرمیوں تک محدود تو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ حکمت عملی بھی ناکافی، نامکمل اور نادرست ہے، اس حکمت عملی میں خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر جمود طاری ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر مغلوبیت اور محکومیت ایسی اقوام کا مقدر بن جاتے ہیں۔

۳۔   تیسرا راستہ تصادم اور انتقام کا راستہ ہے کہ جذبات میں آکرمیدان میں کود پڑو، بس جان کی بازی لگا دو، اڑادو اور تباہ کر دو اور جس چیز پر حملہ آور ہو سکتے ہو، حملہ کر ڈالو۔ یہ بھی کوئی دانش مندی کا راستہ نہیں اور نہ اسے کسی پہلو سے آئیڈیل شکل کہا جا سکتا ہے۔ جذبات کی ایک اہمیت ہے، لیکن جذبات کے ساتھ ساتھ تفکر اور سوچ بچار کی بھی ضرورت ہے۔ قرآن اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریق کار کی تعلیم دی ہے وہ استقامت کے ساتھ حکمت سے عبارت ہے۔ اس میں قوت کا استعمال تو ایک ضروری عنصر ہے مگر قوت کا بے محابا استعمال یا بس اندھی انتقامی کارروائی کا کوئی مقام نہیں۔ اس میں قوت کو حکمت کے ساتھ استعمال کرنا شامل ہے۔ جذبات کی رَو میں بہہ کر تیاری اور صحیح حکمت عملی اور صحیح وقت کا تعین کیے بغیر جنگ کرنا، حماقت اور خودکشی ہے۔

غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳سال تک مکہ میں اپنی دعوت اور اپنے مسلک کے اُوپر قائم رہتے ہوئے ظلم کو برداشت کیا، دعوت کے لیے نئے سے نئے راستے نکالے لیکن عسکری مزاحمت نہیں کی۔ مدینہ آنے کے بعد بھی یک لخت فوج کشی شروع نہیں کر دی، بلکہ دفاعی تیاریاں کیں، اپنی قوت کار کو منظم و مرتب کیا، دشمن کے خلاف اقدام میں پہل نہ کی اور اپنی اجتماعیت کو میثاقِ مدینہ کی شکل میں مستحکم کیا۔ یہودی جو بغل میں بیٹھے ہوئے تھے اُن سے معاملات طے کیے، اور جب جنگ مسلط کر دی گئی تو اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ بلاشبہ رب کی مدد اور نصرت پر بھروسا کیا لیکن اس یقینی بھروسے کے ساتھ ساتھ مادی سطح پر تیاری بھی کی۔ جیسا کہ حضورؐ نے فرمایا: اللہ پر توکل کرو، مگر اونٹ باندھ کر رکھو۔اگر اُونٹ کو آپ باندھیں گے نہیں، تدبیر اور حکمت اختیار نہیں کریں گے تو صرف توکل کی بنیاد پر کوئی ردعمل اسلامی ردعمل نہیں کہلائے گا گویا کہ محض جذباتی ہو کر، وقتی طور پر کچھ کر دینا، یہ بھی ایک راستہ ہے، مگر اس راستے میں خیر کے امکانات بہت ہی کم ہیں، البتہ تباہی اور برس ہا برس کی محنتوں پر پانی پھر جانے کا خطرہ ضرور ہے۔

اصل اور حقیقی اہداف

میں جتنا بھی غور کرتا ہوں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں مسلماُمت کم و بیش اسی نوعیت کے چیلنجوں سے دوچار ہے جو بیسویں صدی کے آغاز پر اسے درپیش تھے۔ بلاشبہ گذشتہ ۵۰ سال میں ہم نے بہت کچھ پیش رفت کی ہے لیکن حالات کی ستمظریفی ہے کہ سیاسی آزادی کے حصول اور معاشی وسائل کی فراہمی کے باوجود ہم ایک بار پھر ویسی ہی استعماری یلغار کی زد میں ہیں جس سے بیسویں صدی کے پہلے ربع میں ہمیں نبردآزما ہونا پڑا۔ اس کربناک ماحول میں اللہ کے چند بندوں نے اُمت کی بیداری اور تنظیمِ نو کا بیڑا اٹھایا اور حالات سے سمجھوتا کرنے کے بجائے استقامت اور حکمت کے ساتھ مقابلے کا راستہ اختیار کیا۔ جمال الدین افغانی، محمد عبدہ، علامہ محمد اقبال،امیرشکیب ارسلان، سعیدنورسی، حسن البنا شہید اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے اپنے عصری حالات و ماحول کی روشنی میں ایک حیات بخش لائحہ عمل تیار کیا اور اُمت کو اس  راستہ پر گامزن کیا۔ آج بھی ان سارے تجربات کو سامنے رکھ کر مقابلے اور تعمیرنو کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اصل اہداف کا تعین کر لیا جائے اور پھر ان اہداف کے حصول کے لیے دیکھا جائے کہ کن خطوط پر حکمت عملی وضع کی جائے۔ صرف تذکیر کی خاطر عرض ہے کہ اس سلسلے میں تین امور مرکزی اہمیت کے حامل ہیں، یعنی:

۱۔ ہدف کا درست تعین:  ہماری نگاہ میں اصل ہدف یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان،اپنے نظرئیے، اپنے نصبالعین سے سرموانحراف نہیں کرنا چاہیے۔ جس چیز کا تقاضا ہمارا ایمان کرتا ہے،وہ اسلام کے بارے میں ہمارا وژن ہے۔ اسلام کے مکمل نظامِ زندگی ہونے پر پختہ ایمان ہو۔ اس میں نبی پاکؐ کی سنت مطہرہ ہمارا طریقہ اور سہارا ہے۔ ہمیں اِس ہدایت کے ماخذ سے روشنی حاصل کر کے نقشۂ زندگی مرتب کرنا ہے۔ اس میں سب سے اہم چیز اپنی شناخت کا تحفظ ہے۔ اگر ہماری شناخت مجروح یا تحلیل ہو جائے تو پھر ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ مادی ترقی اور قوت جیساکہ ہم عرض کریں گے ضروری ہے، مگر پہلی چیز اسلامی شناخت اور حنفیت ہے۔ گویا اس حکمت عملی میں ہمارا پہلا ہدف اپنے وژن، اپنے ایمان، اپنی شناخت اور اپنی منزل کا تحفظ ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔

۲۔   قوت کا حصول:  قوت کے ذریعے ہم اپنے اِس وژن کو صحیح طور سے حاصل کر سکیں گے۔ یہ محض آنکھیں  بند کر کے آگ میں کود جانے والی بات نہیں ہے، بلکہ اخلاقی ،علمی اور اجتماعی قوت اور ساتھ ہی مادی ،سیاسی اور عسکری قوت کا حصول بھی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک منصوص ضرورت ہے۔ قرآن نے اپنے اندر مقابلے کی جو استطاعت پیدا کرنے، گھوڑوں کو تیار رکھنے، اور دیگر وسائل مہیاکرنے کا حکم دیا ہے، ہمیں اس کو سمجھنا چاہیے اور اسے اپنی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت دینا چاہیے۔

۳۔          اُمت کی وحدت:  بظاہر یہ ایک مشکل کام دکھائی دیتا ہے لیکن وحدت اور اپنی قوت کو مجتمع کرنا اشد ضروری ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ مسلم ممالک کے لیے فرداً فرداً اس سیلاب بلا کا مقابلہ مشکل ہے۔ بقا کا ایک ہی راستہ ہے کہ سب مل کر حالات کا مقابلہ کریں۔ اس سلسلے میں دینی قوتوں کا اتحاد پہلی ضرورت ہے لیکن یہ بھی کافی نہیں۔ صرف دین اور اپنی تہذیب کے بقا ہی کے لیے نہیں بلکہ اپنے دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی مسلمان ملکوں کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے کہ مل جل کر حالات کا مقابلہ کریں ورنہ خطرہ ہے کہ :        ؏

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!

)فروری ۲۰۰۳ء(

امریکی عزائم

مقابلہ کی حکمت عملی-مطلوبہ نقشہ  کار کے خدو خال

اصولی لیکن عملی اعتبار سے فیصلہ کن (Crucial) بنیادوں کی پچھلے مضمون  میں وضاحت کے بعد ہم مطلوبہ نقشہ کار کے خدوخال کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں لیکن آگے بڑھنے سے پہلے دو بہت ہی اہم امور کو ایک بار پھر بہت صاف الفاظ میں بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ان پر ساری نظری اور عملی حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار ہے۔

صاحب دعوت اُمت : اولاً ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ایک صاحب دعوت اُمت ہیں ۔مقابلے کے لیے قوت کوئی بھی ہو اور مقابلے کا زمانہ کچھ بھی ہو، ہمارا مقصد دشمن کی تباہی نہیں، انسانیت کی اصلاح اور فلاح ہے اور اللہ کے بندوں کو،خواہ وہ کہیں بھی ہوں اور کسی بھی نظام کے تحت ہوں بالآخر اللہ کے راستے کی طرف لانا ہے۔ مقابلے، لڑائی اور جنگ میں بھی ہمارا مقصود دوسروں کی تباہی نہیں، ان کو خیر کی طرف بلانا ہے۔ اسی لیے آج امریکہ کے استعماری عزائم، فکری اور ثقافتی یلغار، معاشی شکنجوں اور جنگی کارروائیوں تک کے مقابلے میں ہمیں یہ بات سامنے رکھنی چاہیے کہ امریکی عوام کی تباہی ہمارا ہدف نہیں۔ پھر آج کی سوسائٹی کی جو ساخت ہے، اس میں امریکہ محض وہاں کی موجودہ قیادت اور انتظامیہ کا نام نہیں۔ خود اس معاشرے میں متعدد قوتیں برسرکار ہیں اور ان میں خیر اور شر دونوں عناصر موجود ہیں۔ ایک صاحب ِدعوت اُمت اور ایک داعی الی الخیر قوم کی حیثیت سے ہمیں کوئی جذباتی یا یک رخا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔اس لیے ڈائیلاگ کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے اور بگاڑ کو محدود کرنے کے لیے جہاں کہیں سے ہمیں معاون و انصار مل سکیں اس کی ہمیں اتنی ہی فکر کرنی چاہیے جتنی اپنے حقیقی دفاع کی۔ ہر معاشرے میں کچھ خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں اور ہر ملک میں کچھ اچھے نفوس بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلم اُمت کی دفاعی اور جنگی، دونوں حکمت عملیوں کی بھی ایک امتیازی شان ہونی چاہیے۔ عمومی تباہی کبھی ہمارا طریقہ نہیں ہو سکتا۔ شرمحض  کا کوئی وجود نہیں اور خیر جہاں بھی ہو اور جس درجے میں ہو اس کو ہمیں اپنا   اثاثہ بنانا چاہیے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی حکمت عملی، جنگی نقشہ کار اور سفارت کاری میں ہمیں مقابلے اور مذاکرے کا ایک حکیمانہ امتزاج نظر آتا ہے۔ اسے آج بھی ہماری حکمت عملی کا امتیاز ہونا چاہیے۔

کثیر جہتی حکمت عملی: دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ امریکہ جس طرح آج اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ بھی کوئی یک رخی (One dimensional) جنگ نہیں ہے۔ بلاشبہ اس کی عسکری قوت اور فوجی بالادستی اس نقشہ جنگ میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ آج امریکہ کی فوجی قوت دنیا کے باقی تمام ممالک کی مشترک فوجی استعداد سے بھی زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جس ملک پر چاہتا ہے، چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے اور ایک کے بعد دوسرے کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہا ہے ۔ امریکہ اقوامِ متحدہ کو بھی اپنی باندی سے زیادہ وقعت نہیں دیتا۔ لیکن یہ سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوگی کہ یہ جنگ بس ایک عسکری معرکہ ہے۔ نئے استعمار کے دوسرے رُخ  فکری، معاشی، تہذیبی اور ابلاغی بھی اتنے ہی اہم اور نئی غلامی کی زنجیروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے کی حکمت عملی کو بھی کثیرجہتی (Multi-dimensional)  ہونا چاہیے۔ ورنہ جس یلغار کی زد میں ہم ہیں اس کا مقابلہ ممکن نہیں ہوگا۔ ہماری حکمت عملی میں ان دونوں پہلوؤں کا پورا پورا لحاظ رکھا جانا ضروری ہے۔   

حکمت عملی کے تین اہم دائرے

ہماری نگاہ میں پاکستان اور اُمت مسلمہ کو آج جس حکمت عملی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے  اس کے تین دائرے  ہیں:

۱۔       اخلاقی اساس

 ۲۔    تزویراتی اور ادارتی دائرے

۳۔  اطلاقی  دائرہ

 ہم ان تینوں کے بارے میں چند گزارشات پیش کر رہے ہیں:

  اخلاقی اساس: ہماری حکمت عملی کی اساس محض مفاد اور وقتی مصالح نہیں ہو سکتے۔ ملک کا مفاد، اُمت کا مفاد، بلکہ انسانیت کا مفاد ،بلاشبہ اس کا ایک اہم حصہ ہے اور وقتی مصالح سے بھی صرف وہی صرفِ نظر کرسکتا ہے جس کے پاؤں زمین پر نہ ہوں۔ لیکن کسی مسلمان شخص، کسی مسلمان ملک اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ان کی حکمت عملی کی اساس ان کا ایمان، ان کا نظریہ، ان کا تہذیبی مشن اور ان کی اخلاقی استعداد ہو۔ اس لیے ہم جو بھی راستہ اختیار کریں اور جو بھی منصوبہ کار تیار کریں اس میں سب سے پہلی چیز اللہ سے تعلق، اپنے خلیفۃ اللہ ہونے کا شعور اور خیراُمت کی حیثیت سے اپنے تاریخی  کردار کا ادراک ہے۔

۱۔  استعانت باللہ:  یہی وجہ ہے کہ اُمت مسلمہ کی بقا اور اس کے احیا کے لیے جو حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی اس کا اولیں نکتہ استعانت باللہ ہے۔ اقبال نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے یہ حقیقت الم نشرح ہو جاتی ہے کہ اس پوری تاریخ میں مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بچایا بلکہ اسلام نے مسلمانوں کو بچایا ہے۔ مادی قوت، فکری تحرک، عسکری اور سائنسی طاقت سب ضروری ہیں لیکن سب سے اہم چیز اللہ سے تعلق، اللہ کی مدد اور اسلام کی رسّی کو تھامنا ہے۔ نقطۂ آغاز ایک اور صرف ایک ہے:

الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَةٌﺫ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَیْھِ رٰجِعُوْنَﯫﺚ  (البقرۃ ۱۵۶:۲)

جب ان پر تکلیف دہ مصیبت حملہ آور ہوتی ہے تووہ کہتے ہیں، بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ:

اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْﺆ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْۭ بَعْدِھ۪ﺚ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَﯯ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۶۰)

اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے تو اس کے بعدکون ہے جو تمھاری مدد کرے؟ اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسا کرنا چاہیے۔

۲۔  اصلاحِ ذات:  اُمت کی ترقی کا کوئی راستہ محض وسائل کی فراوانی سے استوار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کوئی میکانکی عمل نہیں۔ اس میں اصل قوتِ کار مسلمان مرد اور مسلمان عورت ہے۔ ان کی حیثیت عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹوں کی ہے۔ اگر یہ اینٹیں کمزور اور خستہ ہوں گی تو عمارت مضبوط کیسے ہوگی؟

ذات کی فکر اس معنی میں نہیں ہے کہ ہم تنومند ہو جائیں اور مال دار بن جائیں۔ بلاشبہ اچھی صحت اور مالی قوت بھی درکار ہے، لیکن اصل قوت راسخ ایمان اور مضبوط کردار کی ہے۔ انفرادی تزکیے اور سیرت سازی کے ذریعے ہی اس اُمت کا ہر فرد اُمت کی قوت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور پھر یہ گروہ ایک ایسا گروہ بن سکتا ہے جو لوہے کے چنوں کی مانند ہو کہ کوئی آپ کو چبا نہ سکے اور کوئی چبانے کی کوشش کرے تو اپنے دانت تڑوا بیٹھے۔

۳۔  دعوت الی اللہ:  دعوت الی اللہ ہی اُمت کو بیدار اور متحرک کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کے ذریعے ہم دنیا کے دوسرے لوگوں تک ایک پیغام کے علم بردار بن کر پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کو اختیار کر کے اُمت میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا رواج ہو سکے گا اور معاشرے کی اصلاح واقع ہو سکتی ہے۔ اس سے تعلیمی ترقی کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ معاشرے کو متحرک اور تیار کیے بغیر مسلمان عسکری، سیاسی اور معاشی چیلنج کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ خاندان، معاشرہ اور اجتماعیت ان سب کی قلب ماہیت اگر ہو سکتی ہے تو دعوت الی اللہ کو مرکزومحور بنا کر ہی ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن سے ربط و تعلق اور اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کرنا اور سیرت پاکؐ سے نسبت اور حضورؐ کی محبت اور اطاعت کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ کام باہر نکلے اور لوگوں تک پہنچے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ قرآن اور سیرت نبویؐ سے جو سبق ہم سیکھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے عوام تک پہنچیں۔ انھیں بیدار کرنے اور ان کے اخلاق سنوارنے کے لیے سب مل جل کر کام کریں۔ جب تک ہم سب دعوت کے اس عمل میں مصروف اور متحرک نہیں ہو جاتے، اُمت کو وہ قوت میسر نہیں آسکتی جس سے وہ بیرونی خطرات کا مقابلہ کر سکے۔

۴۔  رواداری اور اخوت:  اختلافات کے سلسلے میں برداشت اور تکثیر(Plurality) کی حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا اور رواداری اور اخوت کی کیفیت پیدا کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ لازمی ہے کہ ہم اپنے دینی، سیاسی اور تہذیبی اختلافات کو حدود میں رکھنا سیکھیں اور اختلاف مسلک کو جنگ و جدال اور تصادم کا رنگ نہ دیں۔ ضروری ہے کہ یہ احساس پیدا کیا جائے کہ دین کے دائرے میں بھی فطری اختلافات لائق احترام ہیں۔ دوسرے الفاظ میں برداشت، افہام و تفہیم، ایک دوسرے کو قبول کرنا ہمارا طریقہ ہو۔ اس لیے کہ اُمت کی وحدت اگر قائم ہو سکتی ہے تو وہ ایمان کے بعد ایک دوسرے کو قبول کرنے سے اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے سے ہو سکتی ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب مسلم قیادت، اپنی ذات سے بلند ہو کر اختلاف کوحدود میں رکھناسیکھے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے درمیان تین روایات کو پروان چڑھانا ہوگا یعنی اختلاف کے باوجود باہم متحد رہنے کا جذبہ، دوسرا افہام و تفہیم کے جذبے سے مسلسل مکالمہ اور تبادلہ خیال اور تیسرے مشاورت اور نصیحت کے نظام کا احیا۔ مشاورت کا دائرہ صرف اپنے تک ہی محدود نہ رہے بلکہ مشاورت کے دائرے کو زندگی کے تمام شعبوں میں رواج دیں۔

حکمت عملی کے یہ چار نظریاتی اور اخلاقی ستون ہیں جنھیں اساسی مقام دینا ناگزیر ہے۔

تزویراتی اور اداراتی  دائرے: حکمت عملی کا دوسرا دائرہ تزویراتی اور اداراتی ہے۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہر مسلمان ملک اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کو اپنے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ ان پہلوؤں کو محض وسطی مدت یا لمبی مدت کی اصلاحات کے نام پر معرض  التوا میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان اصلاحات کی فوری ضرورت ہے اور اس باب میں ایک ایک دن کی تاخیر بھی ملکوملت کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔

۱۔  اظہار کی آزادی:  اس سلسلے کی سب سے پہلی ضرورت آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کا، جن کی ضمانت اسلام دیتا ہے، غیر مشروط تحفظ ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو سوچنے سمجھنے والے ذہنوں پر قفل لگاتا ہے، اظہارِ خیال، افہام و تفہیم، بحث و مذاکرے کے مواقع سے اپنے ہی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور اصل حقائق اور رجحانات کو جاننے، سمجھنے اور ان کی روشنی میں صحیح روئیے اختیار کرنے سے احتراز کرتا ہے وہ قوم کی تخلیقی اور تعمیری قوتوں کو مضمحل کر رہا ہے، اور جھوٹے استحکام کے نام پر فرد اور قوم دونوں کی ترقی کی راہیں مسدود کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تزویراتی  اصلاحات کے باب میں یہ پہلی ضرورت ہے۔

۲۔اپنی قوم پر اعتماد:  دوسری چیز دوسروں کے مقابلے میں اپنی قوم پر اعتماد،  اس کو پالیسی سازی میں شریک کرنا، حقیقی شورائی اور جمہوری نظام کی ترویج اور تمام قومی اور  بین الاقوامی مسائل کے بارے میں معلومات پر مبنی کھلی بحث (Open debate) اور اجتماعی فیصلہ سازی (Decision making) کی روایت کا قیام ہے۔ کسی ایک فرد پر انحصار ہماری سب سے بڑی اور خطرناک غلطی ہوگی۔  مراکز و مجالس دانش (Think tanks) کا قیام، کھلی بحث اور اجتماعی احتساب ہی میں ہماری ترقی اور قوت کا راز مضمر ہے۔

۳۔  تعلیم وٹیکنالوجی : تیسری چیز تعلیم، تحقیق، ایجادو انکشاف اور مادی وسائل اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نہ صرف ترقی بلکہ مقابلے کی ترقی ازبس ضروری ہے۔

۴۔         خود انحصاری:  چوتھی چیزاصولی طور پر تو ہر دور میں لیکن خالص عملی اعتبار سے آج کی دنیا میں، خصوصیت سے عالم گیریت کے ایسے طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ہمیں ہماری معیشت اور ہماری تہذیب کو جڑ سے اکھاڑ دینے پر تلی ہوئی ہے، وہ کچھ دائروں میں ہر مسلمان ملک اور بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ کی خودانحصاری ہے۔ خودانحصاری کے معنی ہر میدان میں خودکفالت نہیں کہ یہ قدرت کی تقسیم وسائل اور صلاحیتوں کے تنوع کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔ نہ اس کے معنی دنیا سے کٹنا اور تجارت، معیشت، مالیات، ثقافت وغیرہ کے میدانوں میں دنیا سے الگ تھلگ ہوجانے  کے مترادف ہے۔ خود انحصاری کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ایک قوم اپنے بنیادی، معاشی، مالیاتی، سیاسی اور ثقافتی فیصلے کسی دباؤ اور مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنے تصورات، اقدار، اصولوں اور منصفانہ مفادات کی بنیاد پر کر سکے اور اپنے اندر ایسی فکری، معاشی اور عسکری قوت رکھتی ہو کہ دوسرے اس کے فیصلوں پر ناروا انداز میں اثرانداز نہ ہو سکتے ہوں۔ اس کے برعکس سامراجی نظام کا خاصا یہ ہے، خواہ کسی شکل میں بھی ہو، وہ دوسروں کو دنیا کا محتاج بناتا ہے اور ان کو فیصلے کی آزادی سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلامی شخصیت کی نفی کے مترادف ہے اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ جو قوم اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکے اور اس کے وجود کا انحصار دوسروں پر ہو، وہ کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ اُمت مسلمہ کو بھی زمین و آسمان کے خالق نے جو مشن دے کر زمین پر برپا کیا ہے وہ ہے:  شھداء علی الناس۔ یہ کردار اور دوسروں کی محکومی یا ان کی محتاجی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

متحدہ حکمت عملی کی ضرورت: اگر یہ اُمت ہی دوسروں کی ذہنی اور فکری طور پر، نظریاتی اور تہذیبی طور پر، اسلامی اور ثقافتی طور پر، مادی اور سائنسی طور پر، سیاسی اور عسکری طور پر دست نگر ہو جائے تو پھر یہ اپنا تشخص کیسے برقرار رکھ سکتی ہے اور اپنا تاریخی کردار کیسے ادا کر سکتی ہے؟ آج پوری دنیا کو اور خصوصیت سے مسلم ممالک کو جو خطرات درپیش ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اگر وہ سب سرجوڑ کر نہیں بیٹھتے اور مل جل کر ایک دوسرے کی قوت کا ذریعہ نہیں بنتے تو ڈر ہے کہ خدانخواستہ ایک ایک کر کے سب پٹ جائیں گے۔ اگر آج عراق نشانہ ہے تو کل ایران ہوگا اور پرسوں پاکستان،    شام، سعودی عرب، انڈونیشیا اور ترکی۔

 اوپر بیان کیے گئے خدشات محض ایک واہمہ نہیں بلکہ آج کی دنیا کے جغرافیائی و سیاسی (Geo-political) حالات پر نظر رکھنے والا ہرشخص اس نقشہ جنگ کو بچشم سر دیکھ سکتا ہے۔ درحقیقت یہ نشانہ بازی شروع ہوچکی ہے اور جن ۲۵ ممالک کے شہریوں سے امریکہ میں امتیازی سلوک قانون کے ڈنڈے کے زور سے شروع ہواہے ان میں سے ۲۴مسلمان ملک ہیں اور سرفہرست وہ ہیں جو اپنے کو امریکہ کا حلیف اور تاریخی اعتبار سے دوست سمجھے ہوئے ہیں۔ عراق کے خلاف محاذ محض عراق کے خلاف نہیں بلکہ ایک عالمی جنگ کا نقطۂ آغاز ہے اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ ابھی ۱۲ جنوری ۲۰۰۳ء کے واشنگٹن پوسٹ میں صدربش کی دو صفحات پر مشتمل ایک نہایت خفیہ (Top secret) دستاویز شائع ہوئی ہے، جو ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعہ سے صرف ۶دن بعد یعنی ۱۷ستمبر کو ضبطِتحریر میں لائی گئی تھی اس میں افغانستان کے خلاف جنگ کی ہدایات کے ساتھ وزارتِدفاع  (Pentagon) کے لیے یہ احکام بھی شامل ہیں کہ:

To begin planning military options for an invasion of Iraq.

عراق پر حملے کے لیے عسکری متبادلات کی منصوبہ بندی شروع کرنا۔

اور پھر ۱۷ جنوری ۲۰۰۳ء کو اسی واشنگٹن پوسٹ میں یہ بات بھی آگئی ہے کہ مقصد عراق کے نام نہاد تباہی کے اسلحے پر قبضہ نہیں بلکہ عراق پر مکمل فوجی قبضہ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان پر قبضے کی طرح امریکی فوج کے حاضر سروس جنرل کے تحت فوجی انتظام و انصرام ہے۔

افسوس کہ ہمارے کمانڈو صدر ۱۱ ستمبر۲۰۰۱ء کا افغانستان اور عراق سے، اور عراق کا ایران، پاکستان اور سعودی عرب سے تعلق (Linkage) دیکھنے سے قاصرہیں اور اس خودفریبی میں مبتلا ہیں کہ ’’تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو!‘‘ ہمیں اس خواب سے اب بیدار ہوجانا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ خودانحصاری اور اُمت مسلمہ کی وحدت کے سوا کوئی راستہ کسی کے لیے بھی بچاؤکا راستہ نہیں۔ ہم مل کر ایک قوت بن سکتے ہیں اور الگ الگ ہر ایک پٹ جائے گا اور خدانخواستہ وہی ہوگا جو دولت عثمانیہ کے انتشار، تقسیم اور علاقائیت کے ہاتھوں ۱۰۰ سال پہلے ہوا یا شمالی عربوں، اور حجازیوں اور یمنی عربوں کی باہمی آویزش اور داخلی نزاعات کے نتیجے میں ۷۰۰سال پہلے اندلس (اسپین) میں ہوا تھا۔

یہ اتحاد دین و ایمان اور نظرئیے اور تہذیب کا تقاضا تو ہے ہی، لیکن آج تو یہ بقائے باہمی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن گیا ہے۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں اور ارباب ثروت کا اپنا مفاد اس میں مضمر ہے کہ وہ امریکہ پر انحصار کو کم کریں اور اپنے معاملات اور اپنے وسائل اپنے تصرف میں لائیں اور مسلم ممالک میں مقابلے کی قوت پیدا کریں۔ ستم ہے کہ اس وقت مسلم ممالک کا 1.3  ٹریلین یعنی ایک ہزار تین سو ارب ڈالر کا سرمایہ امریکہ اور یورپی ممالک میں لگا ہوا ہے اور اب اس رقم کو آسانی سے امریکہ اور یورپی ممالک سے واپس لانا بھی مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ اگر اس رقم کا نصف بھی مسلم ممالک کی معاشی ترقی کے لیے صحیح ترجیحات کے ساتھ استعمال ہو تو چند سال میں مسلمان ممالک ایک عالمی معاشی قوت بن سکتے ہیں۔ جن ممالک اور افراد کا یہ سرمایہ ہے یہ خود ان کے مفاد میں ہے کہ اس کو مغرب کی گرفت سے نکالیں۔

یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنی گردن ان ممالک کے ہاتھ میں دے دیں اور پھر اپنی آزادی اور خودمختاری کا خواب بھی دیکھیں۔ حالات ہمیں اس مقام پر لے آئے ہیں کہ مسلم ممالک میں معاشی، مالیاتی، تعلیمی، سائنسی، عسکری غرض ان سب میدانوں میں خودانحصاری کے حصول کو اولیت دی جائے۔ اس کے بغیران ممالک کے آزاد رہنے اور کوئی مثبت عالمی کردار ادا کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ نظریاتی اور اخلاقی اساس پر ایک مضبوط معیشت ، مادی وسائل کا حصول، ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلے کی مہارت اور عسکری اعتبار سے اتنی قوت کہ آپ اپنا دفاع موثرانداز میں کر سکیں، پوری اُمت کی اجتماعی ضرورت ہے۔ وسائل موجود ہیں۔ امکانات کی کمی نہیں۔ کمی ہے تو وژن کی، منصوبہ بندی کی، اپنے ہی وسائل کے ٹھیک استعمال کی، سمجھ دار اور باصلاحیت قیادت کی۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اب راستے (Options) کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد، مسلمان عوام کی بیداری اور اُمت میں مقابلے کی قوت کو ترقی دینے کے سوا  زندہ رہنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان بنیادی تبدیلیوں اور تزویراتی اصلاحات کے سِوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کا آغاز بلاتاخیر ہو جانا چاہیے لیکن ان کے پورے اثرات رونما ہونے میں ایک وقت لگے لگا۔ فوری تعاون کے راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں اور کیے جانے چاہییں لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ تعاون اور ربط باہمی (Cooperation and Coordination) سے آغاز کر کے اتحاد، انضمام اور انحصارباہمی (Unity, Integration and Interdependence) کی طرف مراجعت کی جائے تاکہ ہمارا اتحاد محض اوپری انداز کا نہ ہو بلکہ اُمت مسلمہ اپنے تنوع کو باقی رکھتے ہوئے ایک حقیقی وحدت کی شکل اختیار کرلے۔ اگر یورپ صدیوں کے جنگ وجدال اور ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونے کے باوجود مصالح کی بنیاد پر ایک معاشی اور سیاسی وحدت بن سکتا ہے تو مسلمان اُمت کیوں نہیں بن سکتے۔ آج بھی اُمت کے عوام میں ہم آہنگی اور یگانگت ہے، حکمران اور مخصوص مفاد کے پرستار اصل رکاوٹ ہیں۔ لیکن اب یہ خود ان کے مفاد میں ہے کہ اپنے اس خول سے نکلیں اور وہ راستہ اختیار کریں جو اُمت کے اور خود اُن کے حق میں بہتر ہے۔

مسلمان عوام آج بھی ہر مسلم مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور جان اور مال سے اس میں شرکت اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں۔ ہمارے لیے اس عوامی جذبے کو اجتماعی نظام کی بنیاد بنانا زیادہ آسان ہے۔ اس گئے گزرے دور میں بھی آخر ۱۹۶۵ء کی جنگ کے موقع پر ایران اور عرب ممالک ہی نہیں ،انڈونیشیا نے بھی بھارت سے اپنے تاریخی تعلقات اور نہروسوئیکارنو دوستی کی روایات کے باوجود صرف سفارتی میدان میں ہی نہیں،  عملی عسکری تعاون کے ذریعے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ ۱۱ستمبر کے بعد پاکستان کی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے میں سعودی عرب اور کویت نے جو تعاون کیا ہے وہ بھی محض خیالی چیز نہیں۔ اس کے باوجود صدر صاحب کا جنوری ۲۰۰۳ء میں لاہور کے دانش وروں کی محفل میں یہ ارشاد کہ ’’ہماری مدد کو کون آیا‘‘ ایک غیر حقیقت پسندانہ ارشاد ہے۔

اطلاقی دائرہ: حکمت عملی کا تیسرا اور فوری توجہ کا حصہ اطلاقی (Operational) ہے۔

امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی:    اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی ہے۔ امریکہ ایک عالمی قوت بلکہ واحد سوپر پاور ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے خلاف محاذ آرائی یا تصادم نہ مطلوب ہے اور نہ یہ کوئی راستہ ہے۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ مسلمان ملک فرداً فرداً اور مل کر امریکہ کو ایک پیغام دیں،ہم دوستی اور تعاون کا راستہ تو اختیار کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی ایسے نظام کو ہرگز قبول نہیں کرسکتے جس میں ایک قوم کی بالادستی سب پر قائم کی جائے۔ شمالی کوریا نے جرأت مندانہ پالیسی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے حالانکہ شمالی کوریا ایک غریب ملک ہے جس کی قومی دولت جنوبی کوریا کا بھی صرف چالیسواں حصہ اور تیل اور خوراک دونوں میں باہر کی سپلائی کا محتاج ہے۔ مسلم ممالک اپنے وسائل، جغرافیائی محل وقوع، معاشی دولت، سیاسی وزن (Leverage) ہر اعتبار سے کہیں زیادہ موثر قوت بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ ذاتی مفاد کے چکر سے نکل کر اجتماعی قوت اور فلاح باہمی کا راستہ اختیار کریں۔ اس کے لیے عزم اور وژن کے ساتھ مکالمے اور اجتماعی تحفظ کے لیے سدِّجارحیت کا راستہ بیک وقت اختیار کیا جائے۔

اس وقت امریکہ نے جن ۲۵ ممالک کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک شروع کیا ہے ان میں سے ۲۴ ممالک مسلمان ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر فوری طور پر پہل قدمی کی ضرورت ہے۔ یہ امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کے لیے ایک مناسب نقطہ آغاز ہے۔ بلاشبہ ہر ملک کو اپنے تحفظ کا اختیار ہے لیکن دہشت گردی کے خطرے کے سدباب کے نام پر کچھ خاص ملکوں کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر، انسانی مساوات کے بنیادی اور مسلمہ اصول اور خود امریکی دستور کی پہلی دفعہ کے خلاف ہے۔ اس پر مستزاد کہ یہ پابندی خصوصی اور امتیازی ہے یعنی دنیا کے ۱۹۰ ممالک میں سے صرف ۲۵ کے خلاف جو بظاہر دوست ملک ہیں اور ان کی عالمی سطح پر امریکہ سے کوئی مخالفت نہیں رہتی۔ بین الاقوامی قانون میں وہ نہ برسرِجنگ ہیں اور نہ اجنبی (Alien) طاقتوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسی طرح یہ پابندی جنس کی بنیاد پر امتیاز کی زد میں بھی آتی ہے کہ صرف۲۱ سال کی عمر کے مردوں پر اس کا اطلاق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے سارے ممالک میں اگر کسی ملک میں امریکیوں کے خلاف دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں تو وہ یونان ہے مگر وہ اس فہرست میں شامل نہیں۔ اگر معاملہ تارکینِ وطن اور خاص طور پر غیرقانونی تارکینِوطن کا ہے تو امریکہ کے اپنے ریکارڈ گواہ ہیں کہ ہر سال امریکہ میں ۳۰۰ملین افراد باہر سے آتے ہیں جن میں سے ۲ ملین واپس نہیں جاتے۔ ان میں سب سے زیادہ لوگوں کا تعلق میکسیکو، پورٹوریکو ،کیوبا اور دوسرے جنوبی امریکہ کے ممالک سے ہے لیکن یہ سب اس فہرست سے باہر ہیں۔ اس لیے سیاسی اور قانونی دونوں محاذ پر اس قانون اور مسلمانوں پر اس کے اطلاق کے خلاف ایک عالم گیر مہم چلانی چاہیے۔

اسی طرح عراق کی جنگ کا مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ عراق تو ایک عالمی استعماری جنگ کے آغاز کا صرف عنوان ہے۔ اصل مسئلہ اصول کا ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے بالا ہو کر امریکہ یا اس کے کسی اتحادی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ محض کسی خیالی خطرے کا سہارا لے کر پیش بندی (Pre-emptive strike) کے نام پر (جس کا بین الاقوامی قانونِ جنگ و صلح میں کوئی مقام نہیں) ایک دوسرے خودمختار ملک پر جو اقوامِ متحدہ کا رکن بھی ہے،  فوج کشی کر سکتا ہے۔ کیا کسی ملک کی حکومت بدلنے کے لیے کسی دوسرے ملک پر فوج کشی، قیادت کے قتل یا بغاوت کو منظم کرنے کا کوئی جواز ہے۔ اسی طرح کیا کسی بھی ملک کو اس بنیاد پر کہ اس کے پاس مہلک ہتھیار ہیں، نشانۂ جنگ بنایا جا سکتا ہے۔ عراق ایک کمزور ملک ہے۔ وہ کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں، اس کے تیل کے ذخائر استعماری طاقتوں کا اصل ہدف ہیں۔

یہ وہ بنیادی ایشوز ہیں جو آج معرضِ خطر میں ہیں۔اگر دنیا کے دوسرے ممالک اور خصوصیت سے مسلم اور عرب ممالک خود کو ان فوجی جولانیوں اور جنگی تباہیوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو آج عراق پر امریکہ  کی دست درازی کو روکنا اس کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوری ۲۰۰۳ء کے وسط میں دنیا کے ۲۵ ممالک میں امریکہ کے جنگی عزائم کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے ہیں اور خود واشنگٹن،نیویارک،لاس اینجلز اور سان فرانسسکو جنگ کے خلاف نعروں سے گونج رہے ہیں۔ جرمنی اور فرانس نے بھی موثر احتجاجی آواز بلند کی ہے اور روس اور چین بھی اس صورتِ حال پر مضطرب ہیں۔ صرف اسرائیل اور بھارت اپنے اپنے استعماری عزائم کی وجہ سے بش کا ساتھ دے رہے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر کلنٹن(Bill Clinton)  بھی کھل کر اس جارحیت کے خلاف شکایت کناں ہیں لیکن اس جارحیت کا اگلا ہدف بننے والے مسلم ممالک منقارزیر پر ہیں۔ یہ وقت جاگنے، احتجاج کرنے اور خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کرنے کا ہے۔ اس کے لیے پاکستان اور تمام مسلم ممالک کو بروقت اقدام کرنا چاہیے۔

مکالمے کا آغاز:  دوسری فوری ضرورت امریکہ اور پوری مغربی دنیا سے معنی خیز مکالمے کا آغاز ہے جس میں صرف حکومتیں ہی نہیں، ان ممالک کے تمام موثر عناصر اور عوام مخاطب اور شریک ہوں۔ اس کے لیے میڈیا کی قوت کا استعمال ازبس ضروری ہے۔ آج دنیا کے ذہنوں پر امریکی میڈیا چھایا ہوا ہے جو خود پنجۂ یہود میں ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل کی ایک ننھی سی آواز ہے جس نے عرب دنیا میں کچھ آگاہی پیدا کی ہے لیکن ضرورت ایک ایسے طاقت ور میڈیا کی ہے جو مسلم ذہن اور عالم اسلامی کے جذبات اور مفادات کا ترجمان ہو لیکن یہ نہ محض سرکاری آواز ہو اور نہ ابلاغ کے جدید ترین اسالیب سے محروم۔ یہ وسائل ہمارے پاس ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں خود اپنا سیٹلائٹ فضا میں آویزاں کیا ہے جو اعلیٰ پیشہ ورانہ انداز میں ہماری آواز پوری دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم اپنی سیاسی بازی محض اپنی بےتدبیری اور بےعملی کی وجہ سے ہار رہے ہیں جسے انگریزی محاورے میں Losing by default کہا جاتا ہے۔ اس کی تلافی کی فوری ضرورت  ہے اور یہ کام مناسب منصوبہ بندی سے ا نجام دیا جائے تو مہینوں نہیں، ہفتوں میں شروع ہوسکتا ہے۔

وسیع تر اتحاد:  ہمیں یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ مسلم دنیا کے اتحاد کے ساتھ دنیا کے ان تمام ممالک، اقوام اور گروہوں کو ہمیں اپنے ساتھ ملانا چاہیے جو آزادیوں کے تحفظ، استعمار کے خلاف جنگ، بین الاقوامی قانون کی پاس داری، انصاف کے قیام کے مقاصد کے حصول کے لیے ہمارے معاون ہو سکتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں ان کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر انھیں مناسب طور پر منظم اور استعمال کیا جائے تو یہ ساری قوتیں اس جدوجہد میں ہماری حلیف اور ساتھی ہیں اور مزید بن سکتی ہیں۔ مکالمے کا ایک کردار یہ بھی ہے کہ جہاں ہم حکومتوں سے مذاکرات کریں، وہیں ہر دوسری سطح پر افہام و تفہیم کا سلسلہ شروع کریں اور اس طرح دنیا کو سب کے لیے ایک زیادہ پُرامن اور منصفانہ مسکن بنانے کی خدمت انجام دے سکیں۔معاشی و عسکری منصوبہ بندی: تیسری ضرورت مکالمے کے ساتھ سیاسی، معاشی اور عسکری محاذوں پر ایسی منصوبہ بندی اور تنظیم کی ہے جو کمزور ممالک کے خلاف جنگی یلغار یا انھیں مغلوب کرنے کی چالبازیوں کے مقابلے میں سِدِّجارحیت کا کردار ادا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نگاہ میں وقت کی اہم ترین ضرورت مغرب پر انحصار کو ختم کرنا، مغرب سے موثر اور معنی خیز مکالمہ شروع کرنا اور خودانحصاری کی بنیاد پر اپنی سدِّجارحیت کی طاقت کو وجود میں لانا ہے۔ یہ کام ٹھوس منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کا متقاضی ہے۔ اس کے لیے معاشی اور عسکری قوت اوراپنے وسائل پر اپنی گرفت ضروری ہے۔ نہ ہم اتنے کمزور ہیں کہ بس گھٹنے ٹیکتے چلے جائیں اور نہ اتنے قوی ہیں کہ فوری تصادم کاخطرہ مول لے سکیں۔ اس لیے استقامت اور حکمت سے راستہ نکالنے ہی میں اُمت کی نجات ہے۔ اس کے لیے جہاں

نظریاتی استحکام ضروری ہے وہیں مادی قوت کا حصول اور اس کا صحیح صحیح استعمال بھی ضروری ہے۔ خطرات کا صحیح شعور اولیں شرط ہے لیکن بلاتیاری مقابلہ اور تصادم کے راستے کو اختیار کرنا بھی خود تباہی کا راستہ ہے۔ اس لیے جو بھی نقشہ کار وضع کیا جائے اسے پوری حکمت ، دانائی اورمومنانہ فراست سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

معاشی ترقی کا کریش پروگرام:  اس سلسلے کی آخری چیز صحیح معاشی منصوبہ بندی اور مسلم ممالک میں ایک ہمہ گیر معاشی ترقی کا کریش پروگرام ہے۔ جس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی معاشی بحالی کے لیے مارشل پلان بنایا گیا تھا اسی طرح اس وقت اسلامی دنیا میں معاشی ترقی، جدید ٹیکنالوجی میں قوت کے حصول، بنیادی صنعتوں اور سرمائے کی تخلیق (Asset creation) کے مقاصد کے لیے فوری اقدام درکار ہیں۔ مسلم سرمائے کو محفوظ کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے کہ وہ مسلم ممالک میں سرمائے کی تخلیق کے لیے استعمال ہو۔ ترکی کے ایک صاحب نظر سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کی پہل قدمی پر D-8 کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اب وقت ہے کہ فوری طور پر اس وژن پر عمل ہو اور اسلامی ترقیاتی بینک، اوآئیسی، اسلامک چیمبر آف کامرس اور دوسرے متعلقہ ادارے فوری طور پر ان ممالک میں متقابل فوائد اور تقسیم کار کے معاشی اصولوں کی روشنی میں معاشی ترقی کا ایک ماسٹر پلان بنائیں اور اس پر عمل شروع کریں۔ کم از کم ۸ مسلمان ملک ایسے ہیں جن کے پاس جدید ٹیکنالوجی اس حد تک موجود ہے کہ وہ مسلم دنیا کے لیے ایک مضبوط اور وسیع صنعتی اساس تعمیر کرسکتے ہیں اور مسلم ممالک خود وسیع مارکیٹ ہیں جو اس کو معاشی استحکام دے سکتے ہیں۔ آج ایسے صاحب نظر لوگوں کی ضرورت ہے جیسے یورپ کو ڈی گال(Charles de Gaulle) اور کونارڈ ایڈینور (Konrad Adenauer)کی شکل میں میسرآگئے تھے۔ کسی بھی اطلاقی منصوبے کا یہ ایک نہایت اہم حصہ ہے۔

پاکستانی قیادت کا مطلوب کردار

آخر میں ہم یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور اس کی قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھے اور امریکہ کی خدمت میں درخواستیں بھیجنے کا رویہ ترک کرے۔ ایک باوقار ملک کی حیثیت سے اور امریکہ کے سابقہ ریکارڈ کی روشنی میں اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کی تشکیل نو کرے۔ قوم پر اعتماد کرے اور اکتوبر۲۰۰۲ء کے انتخابات (خواہ وہ کیسے بھی خام کیوں نہ ہوں) کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کو طاقت ور کرے۔ انھیں ذریعہ بناتے ہوئے قومی بیداری پیدا کرنے اور دُور رس نتائج کی حامل نئی پالیسیاں تشکیل دینے کا یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور اس کا پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہم یہ کلیدی کردار اسی وقت ادا کرسکتے ہیں جب ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت ذاتی مفادات سے بالا ہو کر افہام و تفہیم کے ذریعے بنیادی امور پر ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرے اور پھر دوسرے سارے ممالک کو ایک ایسے مرکزی پروگرام پر مجتمع کرنے کی کوشش کرے جس سے عالم اسلامی اپنی آزادی، معاشی وسائل اور نظریاتی تشخص کی قرار واقعی حفاظت کر سکے اور عالمی سطح پر انصاف کے قیام اور ایک ایسے عالمی نظام کے فروغ کے لیے سرگرم ہو سکے جو انسانیت کو جنگ، تباہی اور معاشی لوٹ کے موجودہ نظام سے نجات دلا سکے اور سب کے لیے عزت، آزادی اور انصاف کا ضامن ہو سکے۔ آج یہ صرف مسلمانوں ہی کی ضرورت نہیں انسانیت کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان اکیسویں صدی کو امن و انصاف کی صدی بنانے کے لیے ایک موثر کردار ادا کر سکتا ہے بشرطیکہ ہماری قیادت اپنے ذاتی مفادات کے خول سے نکلے اور اُمت مسلمہ اور انسانیت کو درپیش خطرات کا استقامت اور حکمت سے مقابلہ کرنے کا راستہ اختیار کرے۔

(فروری ۲۰۰۳ء)

زمانہ کے ساتھ ہم آہنگی؟

غالب تہذیبیں جوں جوں اپنے اثرات کسی بھی معاشرہ پر ڈالتی ہیں’زمانے کے ساتھ ساتھ چلو‘  کا خوشنما نعرہ بہت سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔تہذیبی کشمکش کے حوالہ سے انسانی زندگی کے ہر دور میں اور ہر مقام پر یہ نعرہ لگایا جاتا رہا ہے۔ بادی النظر میں اس سے اختلاف کی گنجائش بھی کم ہی لوگوں کو نظر آتی ہے کیونکہ زمانہ تبدیلی سے عبارت ہے، ہر لمحہ تغیر واقع ہورہاہے اور تبدیلی کو نظرانداز کرنے والے یا اس سے خوفزدہ رہنے والے افراد اور معاشروں کے لیے زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہونا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم تبدیلی کے بارے میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر چیز وقت کے بدلنے اور زمانے اور حالات کے تغیر سے، تبدیل نہیں ہوجاتی اور نہیں ہونی چاہیے۔ کیا کچھ ایسی ابدی حقیقتیں اور صداقتیں ہیں جن پر حالات وواقعات کی تبدیلی اثرانداز نہیں ہونی چاہیے؟ مصنف نے ایسے ہی ابدی حقائق کی نشان دہی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ درست سمت میں تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ان حقائق کی روشنی میں تبدیلی کا لائحہ عمل اپنایاجائے۔

________________

ہر دور کے کچھ مخصوص نعرے ہوتے ہیں، جن کا چلن آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جاتا ہے، حتّٰی کہ وہ ہرشخص کی زبان پر رواں ہوجاتے ہیں اور ہرفرد معمولی سے غور و فکر کے بغیر، انھی کے انداز میں سوچنے اور انھی کی زبان میں بولنے لگتا ہے۔

ان نعروں کا رواجِ عام ہونا، عقلوفہم کی موت کے مترادف ہے۔ جب یہ ذہنوں پر چھا جاتے ہیں تو آزادیِٔ فکر باقی نہیں رہتی۔ عامی اور عالم، اَن پڑھ اور پڑھے لکھے، سب انھی کا سہارا لینے لگتے ہیں اور سمجھ بوجھ کی صلاحیتیں اِس آکاس بیل کے تحت مرجھا جاتی ہیں۔

’زمانے کے ساتھ چلو‘

ہمارے دور میں بھی کچھ خاص نعرے ہیں، جو رواجِ عام اختیار کرتے جارہے ہیں۔ انمیں سب سے نمایاں نعرہ ہے: ’با زمانہ بساز‘۔ آئے دن یہ بات زورشور سے دُہرائی جارہی ہے کہ:زمانہ بدل چکا ہے۔ مذہب کو زمانے کی تبدیلیوں کا ساتھ دیتے ہوئے نئے حالات کے مطابق بدلنا چاہیے۔ اگر مذہب دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا گیا ، تو اس کے خلاف بغاوت ہوجائے گی اور وہ زندگی سے بے دخل ہوجائے گا۔ جمود کا نتیجہ موت ہے۔ ہم کو زمانے کی تبدیلی کے ساتھ بدلنا ہوگا، ورنہ موت کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

آج جسے دیکھو وہ کسی نہ کسی عنوان سے یہی درس دیتا نظر آتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس نعرے پر ’ایمان بالغیب‘ لانے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤ ں پر عقل و تجربے کی روشنی میں غور کیا جائے اور محض اس لیے کسی بات کو قبول کرنے کی غلطی نہ کی جائے کہ اس کا اظہار بہ تکرار ہو رہا ہے۔

کیا ہر تبدیلی خیر ہے؟

اس امر میں شبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ بدلتا رہا ہے، بہت کچھ بدل چکا ہے اورمزید رنگ بدلے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمود ایک مصیبت ہے ، جو قوم کی تخلیقی قوتوں کو یخ بستہ کردیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تبدیلی صحت مند ہے؟ کیا ہرخیر باعث ِ تغیر ہے؟  کیا تاریخ  کا ہر قدم عروج ہی کی طرف اُٹھتا ہے؟ اور کیا ہر حرکت بلندی ہی کیسمت جاتی ہے؟

ان سوالات پر جب آپ تاریخ کی روشنی میں غور کریں گے، تو لازماً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کا جواب نفی میں ہے۔ ہرحرکت لازماً ترقی کے مترادف نہیں۔ ایک نوع کی حرکت اگر آپ کو ثریا کی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے، تو ایک دوسری قسم کی حرکت تحت الثریٰ کی پستیوں میں گرا دیتی ہے ۔ مطلوبِ نفس،محض حرکت نہیں بلکہ صحیح سمت میں حرکت ہے۔

ترقی ایک نسبتی یا اضافی (Relative) اصطلاح ہے۔ ترقی اور تنزل کا فیصلہ منزل کے لحاظ ہی سے ہوسکتا ہے۔ ہم صرف اسی حرکت کو ’ترقی‘ کہہ سکتے ہیں، جو صحیح راستے سے ہمیں اپنی منزل کی طرف لے جارہی ہو۔ جو حرکت منزل کے برعکس سمت میں لے جائے، وہ ترقی نہیں بلکہ تنّزل ہے۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حرکت سے پہلے سمت ِ حرکت اور منزلِمقصود  کا تعین ہونا چاہیے، ورنہ محض جمود کو توڑنے کے شوق میں کوئی حرکت کرکے آپ اپنی منزل سے اور دُور بھی ہٹ سکتے ہیں۔ تمدنی اور تہذیبی زندگی میں اصل معیار وہ مقصد ہوتا ہے، جو آپ حاصل کرنا چاہیں۔ اگر آپ کا مقصد اور آپ کی منزل اسلام ہے، تو پھر ہر وہ حرکت جو اس کی مخالف سمت میں لے جائے، خواہ وہ کتنی ہی سبک خرام کیوں نہ ہو، ترقیِمعکوس ہوگی، بلکہ یہ حرکت جتنی تیز ہوگی، تنّزل اتنا ہی تیز رفتار ہوگا۔

اندھی تقلید مذموم ہے

اسی طرح اندھی تقلید اور کورانہ نقالی صرف ماضی ہی کی نہیں ہوتی۔ یہ حال کے مروّجہ طریقوں اور ضابطوں کی بھی ہوسکتی ہے۔ اور کسی فرد یا قوم کی خودی اور اس کے صحت مندانہ ارتقا کے لیے جتنی مہلک ماضی کے بتوں کی اندھی پرستش ہے، اتنی ہی مہلک حال کے نئے بتوں کی پوجا بھی ہے، بلکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو نقالی دراصل ’جمود‘ ہی کی ایک شکل ہے۔ اگرچہ ہے بڑی پُرفریب! عقل و فکر کو دونوں ہی صورتوں میں معطل کر دیا جاتا ہے۔ ’جمود‘ میں آپ ماضی کی پرستش کرتے ہیں اور لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں، تو نقالی میں آپ ماضی کے بجائے کسی نئے سورج کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کی خودی کے لیے دونوں تباہ کن ہیں۔

جو لوگ زمانے کے چلن کی پیروی کا بلاوا دیتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ شعوری یا غیرشعوری طور پر وہ دراصل دوسروں کی تقلید ہی کی دعوت دے رہے ہیں، اور ’جدید‘ کی تقلید اگر کی جائے تو وہ کوئی  قابل فخر چیز نہیں بن جاتی۔ اُس کے نقصانات علیٰ حالہٖ قائم رہتے ہیں، جن کی بناپر قوم کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں کبھی اُبھرنے نہیں پاتیں۔ اس کی وجہ سے انسان کی روح میں جمود اور احساسِ کمتری پیوست ہوجاتا ہے۔ انجام کار، پوری قوم زمانے کو بدلنے کے بجائے بس خود اپنے ہی آپ کو بدلنے میں لگی رہتی ہے اور دوسروں کی ’شاگردی‘ کے مقام سے آگے بڑھنا کبھی اسے نصیب نہیں ہوتا۔

پھر زمانے کی تبدیلی کا ڈھنڈورا     پیٹنے والے اس امر کو بھی ملحوظ نہیں رکھتے کہ زمانہ تو بدلنے ہی کے لیے بنا ہے۔ آج وہ ایک خاص سمت میں تبدیل ہورہا ہے تو کل کسی دوسری سمت میں تبدیل ہوجائے گا۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے ہمیشہ اپنے ہی دور کی غالب تہذیب کو ترقی کا کمال سمجھتے رہتے ہیں۔

ہر ’عظیم‘ اور قدیم تبدیل ہوا

چشمِ تاریخ نے اس امر کا بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت ور تہذیب بھی ایک دن زوال کی نذر ہوجاتی ہے:

  • یونانی تہذیب کے غلبے کے زمانے میں یونانیت زدہ لوگ اسی کو تہذیب انسانی کاحرفِ آخر سمجھتے تھے اور اس سے انحراف و اختلاف کو دیوانگی، پریشان خیالی اور کفرگردانتے تھے۔ لیکن پھر ایک دن اس تہذیب کی اینٹ سے اینٹ بج گئی، اور اب اس کی حیثیت محض آثارِ قدیمہ کی سی ہے۔
  • روم کے دورِ عروج میں یہی مقام رومی تہذیب کو حاصل ہوا۔ لیکن، بالآخر اس تہذیب کے بھی پرخچے اُڑ گئے، اور آج اس کے آثار بالائے زمین نہیں بلکہ زیرزمین ڈھونڈے جارہے ہیں۔
  • ایرانی تہذیب کی قسمت بھی اس سے مختلف نہ ہوئی۔ بابلی، مصری، آشوری، چینی، گندھارا اور ہڑپا کے ساتھ ساتھ اُن ۲۹تہذیبوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوگزرا، جو اپنے اپنے زمانے میں غالب اور ناقابلِ تسخیر یا ’ترقی یافتہ‘ سمجھی جاتی تھیں۔

اگر ماضی کی تمام غالب تہذیبیں قابلِ تسخیر ثابت ہوئیں، اور ایک دن کامیاب وہی لوگ ہوئے جو ان کی نقالی نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی جگہ ایک دوسرا نظام پیش کرتے تھے تو مستقبل کے متعلق یہ کیوں تصور کرلیا جائے کہ جدید مغربی تہذیب کوباوجود اس کے موجودہ غلبے کے،مسخر نہیں کیا جاسکتا؟

محض یہ چیز کہ آج ایک خاص تہذیب کو غلبہ حاصل ہے، اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ: ’’یہی تہذیب مبنی برحق بھی ہے۔ نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اسی کو ہمیشہ قائم رہنا ہے اور نوعِانسانی کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے آپ کو اسی کے مطابق ڈھال لے‘‘۔

طاقت اور غلبہ، حق کے معیارات کو تبدیل نہیں کردیتے اور اقتدار کسی چیز کو محاسن کا پیکر نہیں بنا دیتا۔ نہ ہر رائج شدہ چیز ناقابلِ تغیر اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہے۔ یہ کمزوروں کی روش دکھائی دیتی ہے کہ وہ طاقت کی پوجا کرتے ہیں اور ہرچڑھتے سورج کے آگے جھک جاتے ہیں۔ یہ کم نظروں کا طریقہ ہے کہ وہ محض اس بناپر کسی مسلک کو اختیار کرلیتے ہیں کہ اسے اقتدار اور غلبہ حاصل ہے اوریہ نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط؟

اصل قدر غلبہ نہیں، سچائی ہے

حالاں کہ دیکھنے کی اصل چیز غلبہ اور طاقت نہیں بلکہ کسی چیز کا حق یا باطل ہونا ہے۔ اگر زمانہ بدل رہا ہے تو اس کو مزید بھی بدلا جاسکتا ہے۔ لیکن محض زمین و آسمان کی گردش اور ماہ و سال کی آمدورفت کی وجہ سے زندگی کے اصول، خیروشر کی تمیز اور حق و باطل کے معیار نہیں بدلے جاسکتے۔

جدید ذہن کی تعمیر جن عوامل نے کی ہے، ان میں وہ فکروفلسفہ بھی شامل ہے، جو ہرنئی چیز کو خوب تر اور قابلِ احترام اور لائقِ اختیار سمجھتا ہے۔ مغرب کے ذہن کو  انسان دوستی (Humanism) کے فلسفے نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس فلسفے کی اساس، تاریخ میں ناگزیر ترقی کا اصول (Inevitability of progress)ہے۔ اس کی رُو سے:’’ہر آنے والا دن، گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔ انسان کا ورثہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ حال، ماضی سے اچھا ہے اور مستقبل، حال سے بہتر ہوگا۔ ہمارے قدم لازماً        ترقی کی طرف اُٹھ رہے ہیں اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں‘‘۔

اس اصول کو فریڈرک ہیگل(Georg Wilhelm Friedrich Hegel) کے’ فلسفۂ جدلیاتی تاریخ، اور کارل مارکس (Karl Marx)کی ’معاشی تعبیرتاریخ، نے بڑی تقویت پہنچائی۔ یہ اسی اندازِ فکر کا نتیجہ ہے کہ ماضی کی ہرچیز کو کم مایہ اور حقیر، اور حال کی ہرشے کو قابلِ قدر سمجھا جا رہا ہے۔ ترقی کا لازمی تقاضا یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ تغیر زمانہ کے نام پر ہرقدیم چیز کو بدل ڈالا جائے۔

یہ نظریہ بدیہی، منطقی اور عقلی طور پر غلط ہے۔ ہمیں انسانی تاریخ میں ارتقا کی کوئی سیدھی لکیر نظر نہیں آتی۔ یہ ’تاریخ‘ بڑی کج رو واقع ہوئی ہے: اس میں ترقی بھی ہے اور تنّزل بھی، عروج بھی ہے اور زوال بھی، ارتقا بھی ہے اور انحطاط بھی، فراز بھی ہے اور نشیب بھی۔ ہربعد کے دور کو پچھلے دُور سے بہتر سمجھنا   تاریخی لحاظ سے ایک بالکل غلط مفروضہ ہے، جسے ہرگز صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

جدید تاریخ کے فلسفیوں میں سے کوئی ایک بھی ہیگل اور مارکس کی اس توجیہ کو صحیح نہیں سمجھتا اور خود تاریخی حقائق اس کی توثیق کرنے سے انکاری ہیں۔ ’مسلسل ارتقا ‘ کا نظریہ آج علمی حیثیت سے ایک متروک نظریہ ہے۔ لیکن اس کے بطن سے جس فاسد تصور نے جنم لیا ہے، وہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے دماغ پر مسلط ہے۔ وہ اپنی ترقی پسندی کا ڈھول    پیٹنے کے لیے محض فیشن کے طور پر ہرقدیم چیز پر ناک بھوں چڑھاتے اور ہرنئی چیز کی طرف بےسوچے سمجھے لپک پڑتے ہیں۔ حالانکہ قدیم کو لازماً بُرا اور جدید کو لازماً اچھا سمجھنا اور تمام قدیم چیزوں کو تبدیلی کے خراد پر چڑھا دینا، ایک غلط روش ہے، جس کے لیے کوئی معقول دلیل موجود نہیں۔

تغیر اور تبدیلی کی بنیاد؟

اسی طرح سوال یہ بھی ہے کہ: ’’زمانے کے تغیر کی نوعیت کیا ہے؟ اور یہ تغیر زندگی کے کس دائرے میں واقع ہو رہا ہے؟‘‘

کائنات کا وہ دور جو زمین پر انسان کی آمد سے شروع ہوا ہے، اب تک جاری ہے۔ ارتقائے کائنات کے نقطۂ نظر سے اگر غور کیا جائے، تو یہ امر صاف ظاہر ہے کہ موجودہ دَور اپنی چند متعین خصوصیات رکھتا ہے، جو انسانی تہذیب کے سارے ہی مرحلوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان خصوصیات میں کوئی اساسی تبدیلی اسی وقت واقع ہوگی، جب یہ دَور ختم ہوجائے گا اور کوئی دوسرا دَور شروع ہوگا، یعنی دورِ آخرت۔

اس پورے زمانے میں انسان کی فطرت، کائنات کے فطری قوانین، انسانی زندگی کے اساسی اصول، حیات و موت کے ضابطے، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں، ہدایت و ضلالت کے قواعد، یہ تمام ایک ہی رہے ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔ افراد پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں۔ تہذیبیں اُبھرتی ہیں اور معدوم ہوجاتی ہیں۔ سلطنتیں بنتی ہیں اور بگڑکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں:

کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍﭩﺊ (الرحمٰن۲۶:۵۵)

ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے ۔

 لیکن قدرتِ حق کے تحت فطرت کے قوانین غیرمتبدل ہیں۔ زندگی کی اصل غیرمتغیر ہے، اور اجتماع و تمدن کے اساسی ضابطے ثابت و مستحکم ہیں۔ ایک ہی اصول ہے جو کارفرما ہے، ایک ہی حقیقت ہے جو جلوہ گر ہے۔

تغیر و تبدل صرف ظاہری اورسطحی چیزوں میں ہے، بنیادی اور اساسی چیزوں میں نہیں۔ اس لیے یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے موجودہ دور میں جو تغیرات بھی واقع ہو رہے ہیں، وہ ایک محدود دائرے میں ہیں۔ بنیادوں میں نہیں۔ صرف فروع میں ہیں، اور ان کی بناپر قدیم و جدید کا جھگڑا بجز کوتاہ نظری کے اور کچھ نہیں۔ بقولِ علامہ محمد اقبال    ؎

زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری، قصۂ جدید و قدیم

محض تبدیلی مذموم نہیں:  ہم تغیر کے وجود کے منکر نہیں ہیں۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ لیکن جس چیز کا سمجھنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اس تغیر کی نوعیت کیا ہے؟ اس لیے کہ اس کی نوعیت کو سمجھے بغیر کوئی صحت مند اجتماعی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔

انسان کی اجتماعی زندگی میں جو تبدیلی بھی آرہی ہے، وہ ذرائع اور رسل کی دنیا میں ہے، مقاصد اور اصول و اَخلاق کی دنیا میں نہیں۔ فنی ایجادات اور تکنیکی انکشافات، انسان کے وسائل اور فطری قوتوں پر اس کے اختیار کو برابر بڑھا رہے ہیں۔ زمان و مکان کی رکاوٹیں دُور ہورہی ہیں اور انسان کا اقتدار بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ ساری تبدیلی ذرائع اوروسائل ہی کی حد تک ہورہی ہے۔ اس تبدیلی کا یہ تقاضا ہرگز نہیں ہے کہ مقاصد ِ زندگی، اُصولِ اخلاق اور اقدارِ حیات کو بھی تبدیل کر دیا جائے۔

اگر ہوائی جہاز، جیٹ اور راکٹ کے استعمال سے زمین کی طنابیں کھنچ گئی ہیں،تو اس کے یہ معنی کب ہیں کہ زنا جو کل تک حرام تھا، آج حلال ہوجائے؟ اگر برقی قوت کے ذریعے انسان کے پاس وہ طاقتیں آگئی ہیں، جو پہلے صرف جنوں اور فرشتوں سے منسوب تھیں، تو اس کا آخر کیا اثر خیروشر کے اصولوں کی صداقت پر پڑتا ہے؟ میزائل اور خلائی راکٹوں کے استعمال کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ جھوٹ، سُود، سٹہ، دھوکا دہی، شراب اور دوسرے منکرات کو جائز قرار دے دیا جائے؟ صنعتی ترقی کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ اصولِ انصاف کو بھی بدل دیا جائے؟

ایجادات کی غلامی نہیں:  جو حضرات سطحی نظر رکھتے ہیں، وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ تغیرات اصولوں میں ردّوبدل کے مقتضی ہیں۔ درحقیقت تمام ایجادات و اکتشافات انسان کے لیے ہیں، انسان ان کے لیے نہیں۔ تمام مادی ترقیات اسی وقت مفید ہوسکتی ہیں، جب وہ انسان کی بھلائی کے لیے استعمال ہوں۔ خود بھلائی اور بُرائی کے اصول، ان کی خاطر نہ بدل جائیں۔ یہ قوتیں جو انسان کو حاصل ہوئی ہیں، اُسی وقت نافع ہیں جب وہ اعلیٰ مقاصد ِ حیات کے تابع ہوں، اپنے ریلے میں وہ ان  اعلیٰ مقاصد ِ زندگی کو بہا کر نہ لے جائیں۔ مقاصد اور اصول کو ان کے مطابق نہیں، بلکہ ان کو مقاصد و اصول کے مطابق بدلنا چاہیے۔ مقاصد اور اصولوں کی حیثیت تو اُن معیارات کی ہے،  جن سے تکنیکی ترقیات کے حُسن و قبح کو ناپا جائے گا۔ اگر ان ترقیات کے باوجود انسان ہی  پریشان و مضطرب رہتا ہے، تو پھر ساری مادی ترقی بے کار ہے    ؎

نہ کلی ہے وجہ نظر کشی، نہ کنول کے پھول میں تازگی
فقط ایک دل کی شگفتگی، سببِ نشاطِ بہار ہے

انسانی زندگی میں تغیر کا اصولی ضابطہ کچھ ایسا ہے کہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ ثبات اور دوام کا بھی ایک پہلو موجود ہے۔ تبدیلی ہرلحظہ آتی ہے، لیکن بنیادی حقیقت کو متاثر کیے بغیر۔

مثال کے طور پر انسان کے جسم اور اس کی ذات ہی کو لیجیے:میڈیکل سائنس کے مشاہدات ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان کے جسمانی نظام میں ہرلمحہ تغیرات ہورہے ہیں۔ ایک بچے کے جسم کا ایک ایک ریشہ جوان ہونے تک بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ برابر جاری رہتا ہے، حتّٰی کہ ایک خاص مدت میں ہر انسان کا جسم اپنے کو بالکل تبدیل کر کے ایک نیا جسم بن جاتا ہے، لیکن اس تبدیلی میں بنیادی نظام وہی رہتا ہے اور ہرشخص کی اساسی شخصیت اور اس کی اَنا (ego) جوہری طور پر غیرمتبدل رہتی ہے۔

اسی کیفیت کو نکولائی بردائیف (Nikolai Berdyaev) نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے: Personality is changelessness in change. (انسانی ذات، تغیرات کے جلو میں عدم تغیر کا نام ہے)۔

اور برگسان(Henri Bergson) نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے:’’ہم میں تغیر تو آتا ہے، لیکن ہماری بنیادی حقیقت معدوم نہیں ہوتی‘‘۔

اسی طرح درختوں کو دیکھیے: ایک درخت، ایک خاص مدت میں اپنے پھول پتّے بالکل تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی نباتاتی زندگی میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ تبدیلی اس کی اصل کو نہیں بدلتی بلکہ اس سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ اس درخت کا ایک بنیادی رنگ اور ایک بنیادی تاثیر ہوتی ہے ،جو بہرصورت غالب رہتے ہیں اور یہی اس درخت کی انفرادیت ہے   ؎

صبحِ بہار آئی ہے لے کر، رُت بھی نئی، شاخیں بھی نئی
غنچۂ و گل کے رُخ پر لیکن، رنگ قدامت آج بھی ہے

زندگی محض تغیرنہیں:  یہ فطرت کا قانون ہے جو ہر شعبۂ زندگی میں جاری و ساری ہے۔ انسان کی اجتماعی اورتہذیبی زندگی میں بھی ہمیں یہی جلوہ گر نظر آتا ہے۔ اسی بنیاد پر علامہ محمداقبال نے کہا تھا:

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ زندگی محض تغیر ہی نہیں، اس میں حفظ و ثبات کا ایک عنصر بھی موجود ہے۔ لہٰذا، اس ہرلحظہ آگے ہی آگے بڑھنے والی حرکت میں، انسان اپنے ماضی کو نظرانداز نہیں کرسکتا،اسی بات کو ہم دوسرے لفظوں میں یوں ادا کریں گے کہ زندگی چونکہ ماضی کا بوجھ اُٹھائے آگے بڑھتی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ جماعت میں تغیر و تبدل کا جو نقشہ بھی ہم نے قائم کیا ہو، اس میں قدامت پسند قوتوں کی قدروقیمت اور وظائف کو فراموش نہ کریں۔ (ڈاکٹرمحمداقبال، تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ ، ترجمہ:سید نذیر نیازی، ص۲۵۷)

مندرجہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ:

  • ہر تبدیلی موجب ِ خیر ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے جوچیز مطلوب ہے، وہ محض تبدیلی نہیں بلکہ صحیح سمت میں تبدیلی ہے۔
  •  محض زمانے کے چلن کا اتباع کسی فرد یا قوم کے لیے فلاح کا باعث نہیں ہوسکتا۔
  •  کسی چیز کے غالب ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ لازماً اچھی اور صحیح بھی ہے، یا یہ کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے۔
  • ناگزیر ترقی کا اصول ایک فاسد اصول ہے، جس کی تائید تاریخ سے نہیں ہوتی۔
  • زمانے کے تغیر کی نوعیت بڑی غورطلب ہے۔ تبدیلی کا دائرہ بڑا محدود ہے۔ تبدیلی بنیادوں میں نہیں، صرف فروع اور ظواہر میں ہوتی ہے۔ انسانی فطرت، کائنات کے بنیادی قوانین اور ہدایت و ضلالت کے ضابطے میں کسی تغیر کا سوال نہیں۔
  • زندگی صرف ’تغیر‘ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ تغیر اور ثبات دونوں کے توازن سے قائم ہے اور صحت مند نظام وہی ہوسکتا ہے، جو دونوں پہلوؤ ں میں کامل توازن قائم کرے۔

ان اُمور کے واضح ہو جانے کے بعد اب مسئلے کا سمجھنابہت آسان ہوجاتا ہے۔

ہدایت الہٰی میں تبدیلی،ناممکن:  اسلام، اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کا نام ہے، جو اس نے اپنے برگزیدہ نبیوں کے ذریعے انسان کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً بھیجی ہے اور جو اپنی آخری اور مکمل شکل میں ہم کو محمدﷺ کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ یہ وہ ضابطۂ حیات ہے، جو عین فطرت کے اصولوں پر قائم ہے اورانسان اسی کے ذریعے سے دنیاوی اور اُخروی دونوں کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔ یہ زندگی کا مکمل قانون ہے۔ اس قانون کو انسان نے نہیں اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ یہ ابدالآباد تک کے لیے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

     لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللہِﺚ (یونس ۶۴:۱۰)

اللہ کی باتیں (یعنی اس کے احکام و فرامین) بدل نہیں سکتیں۔

     وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللہِﺆ (الانعام ۳۴:۶)

اور اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے۔

     لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللہِﺚ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُﺪ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَﭭﺪ

     ( الروم ۳۰:۳۰  )

اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔

     فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللہِ تَبْدِیْلًاﹰ  (فاطر ۴۳:۳۵)

اور تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤگے۔

قرآن پاک کی یہ آیات بالکل صاف اور واضح ہیں، اور اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اللہ کا دین، اس کے احکام اور قوانین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور محض زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تبدیلی زمانے میں کرنی ہوگی، اللہ کے قانون میں نہیں۔ اس پس منظر میں مردود وہ ہیں جو  ؏

خود بدلتے نہیں ، قرآں کو بدل دیتے ہیں

نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ:

 فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أو آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ  (بخاری۳۱:۷۹)

جو بدعت نکالے یا بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

اگر اس مسئلے پر عقلِ سلیم کی روشنی میں غور کیا جائے،تو فکرونظر کا ہر گوشہ اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ اللہ  کے قانون میں کسی تبدیلی کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ اور اس کی وجہ بھی بہت واضح ہے۔ زمانے کی تبدیلی کا اثر اُس قانون اور اصول پر پڑتا ہے، جسے انسان نے بنایا ہو۔

انسانی فکر کی تنگی:  انسانی فکر زمان و مکان (Time and Space) کی حدود میں مقید ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کے تمام حقائق سے واقف نہیں۔ وہ ایک محدود بصیرت کے ساتھ آج ایک چیز کو صحیح سمجھ کر پیش کرتی ہے، مگر کل جب وہ حالات سامنے آتے ہیں، جن کا کوئی تصور پہلے موجود نہ تھا، تو وہ غلط ثابت ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا علم ہرشے پر محیط ہے۔ زمان و مکان کی قیود اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ جو قانون ایسے اللہ کی طرف سے ہو، اس کا کسی ایک مخصوص زمانے کے ساتھ محدود ہوجانا کیسے ممکن ہے۔ اللہ کے علم اور دئیے ہوئے قانون کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کبھی ازکار رفتہ ہوجائے۔ وہ تو ہمیشہ اتنا ہی تازہ رہے گا،جتنی صبحِ نو!

ثانیاً: اللہ کا یہ قانون بنیادی طور پر ہدایت و ضلالت کی حقیقت کو واضح کرتا ہے اور اُن اصولوں اور اُن اقدار کو بیان کرتا ہے جن پر وقت کے تغیرات، تہذیبوں کے عروج و زوال اور ماہ و سال کی آمدورفت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ فطرت کے اصولوں کو بیان کرتا ہے اور فطرت کا قانون قائم و مستحکم ہے۔

ثالثاً: قرآن و سنت اصولی رہنمائی دیتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں فراہم کرتے ہیں اور ان اساسی اداروں کو قائم کرتے ہیں، جنھیں ہر زمانے میں قائم رہنا چاہیے۔ ان چیزوں پر زمان و مکان کے تغیر کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ اصول غیرمتبدل ہیں اور ان میں تبدیلی فطرت کے قانون کے خلاف ہوگی۔

اسلام میں تبدیلی کی بنیاد زمانہ نہیں

ان وجوہ کی بنا پر زمانے کی تبدیلی کے مطابق اسلام میں تبدیلی کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔

یہی چیز ہے،جو انبیاؑ کی سنت اور صلحاء کی قابل قدر زندگیوں کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ ہر نبی ایسے حالات میں مبعوث ہوا، جب زمانے کا بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا اور زندگی کا دریا بالکل غلط رُخ پر رواں دواں تھا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے زمانے کے چلن کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ زمانے کے رنگ سے متاثر نہ ہوئے، بلکہ زمانے کو اپنے رنگ میں رنگنے کی سعی میں مصروف ہوگئے، اور بالآخر اس پر صبغۃ اللہ کو غالب کردیا۔ قرآن میں اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے:

 ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَھ۫ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَھ۫ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّھ۪ وَلَوْ کَرِھَ الْمُشْرِکُوْنَﭘﺟ (الصف  ۹:۶۱)

وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

ہدایت اور دین،حق ہیں ہی اس لیے، کہ انبیاؑ ان کو دنیا کے باقی تمام نظاموں اورطریقوں پر غالب کریں۔ اللہ کا دین اس لیے نہیں ہے کہ اسے زمانے کے چلن کے مطابق بدلا جائے بلکہ اس لیے ہے کہ زمانے کو اس کے مطابق بدلا جائے اور اس کو غلبہ و اختیار کا مقام حاصل ہو۔ مشرکوں، کافروں اور منافقوں کی تو دلی تمنا ہی یہ ہوتی ہے کہ دین کو ان کے منشا کے مطابق بدلا جائے، لیکن اللہ اس بات کو صاف کردیتا ہے کہ ان کی ناخوشی کا ہرگز کوئی خیال نہیں کیا جاسکتا۔ سربلندی دین کو حاصل ہونی چاہیے اور زمانے پر اس کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔

زمانہ نہیں، حق بنیادہے:  انبیاء      کی سیرت اسی حقیقت پر شاہد ہے ۔ حضرت نوحؑ      کی قوم بغاوت پر تلی رہی۔ آپ نے ساڑھے نو سو سال تک دینِ حق کی دعوت دی، لیکن ایک دن کے لیے بھی وہ ’وقت کے تقاضوں‘ کے مطابق دین کو تبدیل کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی دعوت یہی رہی کہ:

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰھٍ غَیْرُھ۫ﺚ (الاعراف ۶۵:۷)

اے برادرانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔

  • ابوالانبیا حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے زمانے کی تہذیب کے کئی بڑے مراکز پر دعوتِ حق دی، لیکن کہیں بھی زمانے کے تقاضوں کے مطابق دین کو نہیں ڈھالا۔ انھوں نے آگ اور جلاوطنی کے مصائب کو انگیز کیا، لیکن دین پر حرف نہ آنے دیا۔
  • حضرت لوط ؑ کی قوم شدید قسم کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھی، مگر آپ نے زمانے کے چلن کو دیکھ کر دین میں ترمیم نہیں کی بلکہ زمانے کے خلاف بغاوت کی۔
  • حضرت ہودؑ نے اپنی قوم کے طور طریقوں کو اختیار کرنے کے بجائے، اسے اللہ کے غیرمتبدل قانون کی پیروی کے لیے پکارا۔
  • حضرت صالح ؑ نے اپنی قوم کو سرکشی کے لیے کوئی الاؤ نس نہ دیا اور انھیں خوش کرنے کے لیے دین میں کسی کمی بیشی کو گوارا نہ کیا۔
  • حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم کی معاشی ’ترقی‘ کی خاطر ان کے ظالمانہ معاشی نظام کو قبول کر کے دین میں ترمیمات نہ کیں، بلکہ ان کو کامل اطاعت کی دعوت دی۔

تمام انبیاؑ کی سنت یہی رہی ہے۔ نبی اکرمؐ کے زمانے میں مشرق سے مغرب تک جو نظام چل رہا تھا، اسے قبول کرنے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے دین کو ڈھالنے کے بجائے آپ ؐنے اسے ایک فاسد نظام قرار دیا:

 ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم ۳۰  :۴۱)

خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے۔

 لیکن اللہ کے نبیؐ نے زمانے کے تقاضوں سے Compromise اور اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے بجائے اس کی ہرہر خرابی کے خلاف جنگ لڑی۔

زمانے کے آگے جھکنے کا مشورہ دینے والوں کو آپؐ کا صاف جواب یہ تھا کہ:

وَاللّٰہِ لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِی یَمِیْـنِی وَالْقَمَر فِی یَسَارِیْ عَلٰی اَنْ اَتَرُکَ ہٰذَا الْاَمْرَ مَا تَرَکْتُہٗ حَتٰی یظہر اللّٰہ اَوْ اہلک فیہ (سیرۃ ابن ہشام ، جلد اول، استمرار رسول اللہ فی دعوتک، ص۲۶۶)

خدا کی قسم! اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر کہیں کہ آفتاب و مہتاب کے عوض میں اس دعوت کو ترک کردوں، تو میں ہرگز اسے ترک نہ کروں گا، یہاں تک کہ یا تو اللہ اس دعوت کو غالب کردے یا مَیں اس راہ میں جان دے دوں۔

پیغمبرانہ سنت، جھکنا نہیں ہے :     انبیاؑ کا طریقہ یہ نہیں رہا کہ وہ زمانے کے آگے جھکیں اور لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کے دین کو بدلیں۔ وہ حق کے پیغامبر ہوتے ہیں اور زمانے کی رَو کے خلاف اپنی دعوت پیش کرکے اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اگر وہی زمانے سے مطابقت اختیار کرلیں تو پھر انسانیت کی فلاح و اصلاح کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔اِس اسوۂ انبیاؑ کے اتباع کی بہترین مثال ہمیں حضرت ابوبکرؓ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ حضور اکرمؐ کے وصال کے بعد یکایک عرب کا نقشہ پلٹ گیا۔ ہر طرف سے بغاوتوں نے سراُٹھالیا۔ جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بہت سے قبائل نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا۔ صحابہ ؓ          کبار تک اس صورتِ حال پر پریشان ہوگئے اور لوگ یہ رائے پیش کرنے لگے کہ: ’’وقتی مصلحت کا تقاضا ہے کہ قبائل کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وقت کی نزاکت کا لحاظ کیا جائے‘‘ مگر حضرت صدیق اکبرؓ کا جواب یہ تھا کہ:

واللہ، مجھ پر یہ فرض ہے کہ جو کام میں رسولؐ اللہ کو کرتے دیکھ چکا ہوں، خود بھی وہی کروں اور اس سے سرِمو انحراف نہ کروں۔ اگر جنگل کے بھیڑیے مدینہ میں داخل ہوکر مجھے اُٹھا لے جائیں تو بھی مَیں وہ کام کرنے سے باز نہ آؤ ں گا، جسے رسولؐ اللہ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔ واللہ، اگر مانعینِ زکوٰۃ اُونٹ باندھنے کی ایک رسّی دینے سے بھی انکار کریں گے، جسے وہ رسولؐ اللہ کے زمانے میں ادا کرتے تھے، تو بھی مَیں ان سے جنگ کروں گا۔ اللہ کی قسم! میں زکوٰۃ اور نمازمیں فرق کرنے والے لوگوں سے ضرور لڑوں گا۔

اسلام عبارت ہی نبیؐ  کی سنت کی پیروی سے ہے۔ اگر زمانے کی سنت نبیؐ  کی سنت سے متصادم ہے تو وہ شخص اپنے دعویٰ ایمان میں جھوٹا ہے، جو نبیؐ کی سنت کو چھوڑ کر زمانے کی سنت اپناتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کا دین ثابت و محکم ہے اور محض زمانے کے انداز دیکھ کر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ خیال کرنا بھی غلط ہوگا کہ زمانے کے تغیرات کو دین اسلام کلّی طور پر نظرانداز کرتا ہے۔ اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ وہ ہدایت و ضلالت کے بنیادی اصول بتادیتا ہے۔ انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے وہ حدود واضح کردیتا ہے، جو انسان کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے درکار ہیں۔ رہے جزوی اور وقتی اُمور، تو ان کو شریعت کے دیے ہوئے بنیادی اصولوں کی روشنی میں اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر ہروقت اور ہر زمانے میں طے کرنے کی اجازت ہے۔ یہ کام اجتہاد کے ذریعے انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعے نظامِ دین میں حرکت و ارتقا کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

تجدّد نہیں، تجدید:  زمانے کے تغیرات پر دو قسم کے جواب (Response) اسلامی تاریخ میں نظر آتے ہیں۔ ایک کا نام ’تجدید‘ ہے اور دوسرے کا ’تجدّد‘۔

’تجدید‘ یہ ہے کہ زمانے کے تغیرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اصل دین کو بلاکم و کاست پیش کیا جائے اور اپنے دور، اپنے زمانے کی زبان میں محکم استدلال کے ساتھ پیش کیا جائے۔ نیز تدبر و اجتہاد کے ذریعے دین کو اپنے دور کے حالات پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ اُن تمام ذرائع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے، جو قدرت نے انسان کو فراہم کیے ہیں، اور اسلامی بصیرت کے ساتھ نئے پیش آمدہ مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں طے کیا جائے۔

’تجدید‘ کے ذریعے ہر زمانے میں دین کی تعلیمات اور زندگی کے بہاؤ کے درمیان تعلق اوررابطہ گہرا ہوتا جاتا ہے اور زندگی کا دریا اسلام کی شاہراہ سے ہٹ کر چلنے نہیں پاتا۔ یہاں مخلصانہ اجتہاد کے ذریعے نئے مسائل اور نئی مشکلات کو حل کیا جاتا ہے اور دین اپنے رنگ پر قائم رہتا ہے۔

’تجدّد‘ اس کے مقابلے میں وہ کوشش ہے، جو زمانے کے تقاضوں کے نام پر خود دین کو بدل ڈالنے کے لیے کی جاتی ہے۔ زندگی اور زمانے کے درمیان ربط اس طریقے سے بھی قائم ہوجاتا ہے، لیکن یہ ربط اسلام کی سرزمین پر نہیں غیراسلام کی سرزمین پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں اسلام کو اصل قرار دے کر،حالات کو اس کے مطابق ڈھالنے کے بجائے زمانے کی چلتی ہوئی تہذیب کو اصل مان کر اُس کے پیدا کیے ہوئے حالات پر اسلام کو ڈھال دیا جاتا ہے۔ اس طریق کار کو اگر مسلمان ہر زمانے میں اختیار کرتے چلے جائیں، تو اسلام کی کوئی چیز بھی اپنی جگہ پر باقی نہیں رہ سکتی، بلکہ اسلام سرے سے کسی متعین مذہب و مسلک اور نظریہ و نظام کا نام ہی نہیں رہتا۔

اسلام میں ’تجدید‘ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اور پوری تاریخ میں اسلام کے سچے خادم یہ کارنامہ انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ’تجدّد‘ کی اس میں کوئی گنجائش نہیں۔ ماضی میں جب بھی ’تجدّد‘ نے سر اُٹھایا ہے، مسلمانوں نے سختی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ہے اور ہر ایسی تخریبی کوشش، ملّت کی رائے عام سے ٹکرا کر آخرکار ختم ہوگئی ہے۔

تجدّد اور تجدید میں کشمکش:  آج بھی بنیادی کش مکش ’تجدید‘ اور ’تجدّد‘ ہی کے درمیان ہے اور ہماری پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دین کو متجدّد  دین کی خاطر نہ کبھی ماضی میں بدلا گیا ہے اور نہ آج بدلا جاسکتا ہے۔ کسی مصطفیٰ کمال، کسی جمال ناصر، یاکسی اور حکمران یا صاحب ِ اثر شخصیت کی یہ طاقت نہیں ہے کہ زمانے کے تقاضوں کا نام لے کر اسلام کو بدل سکے۔ اس معاملے میں جو انجام مغل بادشاہ اکبر کی کوششوں کا ہوچکا ہے، وہی انجام اِن نئے متجدّد دین کے لیے بھی مقدر ہے۔

دین میں مسخ و تحریف کی کوئی تدبیر اگر طاقت کے بل پر زبردستی نافذ کر بھی دی جائے، تواسے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے نہ ماضی میں کبھی قبول کیا ہے اور نہ آج قبول کرسکتا ہے۔ اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے اور اُس نے ایسے ذرائع بھی پیدا کر دیے ہیں کہ اس کی حفاظت ہوتی رہے:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَھ۫ لَحٰفِظُوْنَﭘ  (الحجر ۹:۱۵)

ہم نے ہی اس ذکرکو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

زمانے کو پیچھے چلاؤ

آخر میں ہم ایک اور بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ہمیشہ عظیم کارنامے انھی لوگوں نے انجام دیے ہیں، جو حالات کی رو پر بہنے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنے اُٹھے ہیں۔ زندگی پر اَنمٹ نقوش انھوں نے نہیں چھوڑے جو مرغِبادنما کی طرح ہوا کے رُخ پر مڑتے اور دوسروں کی نقالی کرتے رہے، بلکہ ان لوگوں نے چھوڑے ہیں جو ہوا کے رُخ سے لڑے ہیں اور زندگی کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا ہے۔ بڑے کام مکھی پر مکھی مارنے والوں نے نہیں کیے، اپنی راہ آپ نکالنے والوں نے کیے ہیں۔ بہادر وہ نہیں ہے جو دوسرے کے مارے ہوئے شکار کو کھاتا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اپنا شکار خود کرتا ہے۔ قابلِ تقلید وہ نہیں ہے جو گرگٹ کی طرح صبح و شام رنگ بدلتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خود اپنا کوئی رنگ رکھتا ہے اوردنیا کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔

مسلمان دنیا میں زمانے کے پیچھے چلنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں، وہ تو پوری انسانیت کی طرف اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نیکی کہتا ہے: اس کا حکم دیں، جسے اللہ تعالیٰ بدی کہتا ہے اسے مٹائیں اور دنیا میں اللہ کی اطاعت کی روش کو عام کردیں۔ وہ دوسروں کے رنگ میں رنگے جانے کے لیے نہیں ہیں، دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے ہیں:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ  بِاللہِﺚ (اٰل عمرٰن ۱۱۰:۳)

اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

یہ ہے مسلمانوں کا اصل مقام،مگر انھیں ڈالا کس راہ پر جا رہا ہے؟ بقولِ اقبال   ؎

کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

درحقیقت، مسلمان کے لیے اس سے بڑی ذلّت کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ اللہ کے پیغام کا امین ہونے کے باوجود، زمانے کو اپنے دین کے مطابق بدلنے کے بجائے خود زمانے کی رَو  پربہنے لگے اور اس کے ساتھ اپنے دین کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ بزدلوں اور کم نظر لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جنھیں ہوائیں خس و خاشاک کی طرح اُڑائے لیے پھرتی ہیں، جن کی اپنی کوئی جڑ نہیں ہے کہ وہ اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوسکیں۔ یہ مسلمان کا شیوہ نہیں ہے، مسلمان کا شیوہ تو یہ ہے کہ  ؏

زمانہ با تو نہ سازد ، تو بازمانہ ستیز

(اکتوبر ۲۰۱۶ء)

حصہ  سوم

تہذیبی و سیاسی کشمکش کے

چند اہم عنوانات

  • طرزِ حکومت، جمہوریت اور قانون سازی              
  • مغربی جمہوریت اور اسلامی طرز حکمرانی  :ایک موازنہ
  • آزادیٔ اظہار اور ناموس رسالت ؐ            
  • آبادی، خاندانی منصوبہ بندی اور معاشی ترقی          
  • تہذیبی شناخت اورتعلیم کی دنیا               
  • خاندان: اسلامی تہذیب کی بنیاد             
  • خودکشی کے بڑھتے واقعات    

طرزِ حکومت:   جمہوریت اور قانون سازی

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی نظام اور طرزحکومت کے حوالہ سے مغربی جمہوریت کو آج کی دنیا میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہے۔ لیکن کیا جمہوریت کا کوئی مخصوص مغربینمونہ ہی دنیا کے معاشرہ کے لیے مثالی ہوسکتا ہے بالخصوص جبکہ مختلف معاشروں کی تہذیبی بنیادیں اور زندگی کی بنیادی اقدار اپنے منبع، ماخذ اور انسانی رویوں پر اثراندازی کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوں۔ آنے والے دو  مضامین میں اسی پس منظر میں مغربی اور اسلامی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے جمہوریت کے تصورات اور اس پر عمل درآمد کے حوالہ سے اسلامیفکر کو واضح کیا گیا ہے۔دونوں مضامین  ہارٹ فورڈ سیمزی(Hartford Seminary) امریکہ  کے  مجلے The Muslim World (جنوری تا مارچ ۲۰۰۰ء) میں شائع ہوئےجن کا ترجمہ  جناب نذیر حق نے کیا ۔

________________

۲۱ویں صدی کا آغاز ہو چکا اور عالم انسانیت تیسرے ہزارئیے میں داخل ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہماری دنیا چونکا دینے والے نئے نئے دعوؤں، اضطراب انگیز وسوسوں اور خدشات کے طوفان کی زد میں آ چکی ہے۔

ایک طرف تو کمیونزم کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے دعوے کیے جارہے ہیں، اوراس کےساتھ مغرب کی آزادروی (Liberalism)، معیشت اور سیاست کی آخری فتح کے نقارے بجا کر تاریخ کے خاتمے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔[1]  لیکن دوسری جانب عالمی سطح پر مذہبی احیا اور بنیاد پرستی کا شور برپا ہے، جس میں ایک نئے دور کی آمد آمد کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے جو مختلف تہذیبوں کے درمیان تصادم سے عبارت ہوگا۔[2]

چنانچہ وقت آ گیا ہے کہ متوازن سوچ کے حامل دانش ور، خصوصاً وہ جو مسلم امّہ کی نمائندگی کرتے ہیں، ان افکار و مسائل کی طرف متوجہ ہوں جو علم و دانش کی دنیا اور قوتواقتدار کی غلام گردشوں میں زیر بحث ہیں ۔ ان چیلنجوں کے مقابلے کے لیے اسلام اور مسلم امّہ کی حکمت عملی پراز سر نو غور کریں۔ آج کے چند بڑے مسائل، جن پر انسانیت کو تشویش لاحق ہے اور جو خصوصاً مسلم امّہ سے براہ راست متعلق ہیں، ان میں: عالم گیریت (Globalisation) ، زندگی کے ہر شعبے (مذہب سمیت) میں آزاد خیالی (Liberlism) جمہوریت، نجکاری (Privatisation) اور لادینیت (Secularisation)  شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں مذہبی احیا اور بین الاقوامی دہشت گردی  کا حوّا بھی شامل ہے۔

میں اس مقالے میں جمہوریت کے حوالے سے جاری مباحث کا جائزہ لوں گا۔

اس مقالے کا استدلال یہ ہے کہ وہ جمہوریت جو مغربی تہذیب اور سیاست کی رُو سے فروغ پا چکی ہے، نہ تو مکمل طور پرکوئی یکساں نوعیت کا نظریہ ہے اور نہ ایسا نظریہ ہی ہے کہ جسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جمہوریت تو ایک ایسا کثیر جہتی مظہر ہے جس کے نظریاتی اور عملی اعتبار سے کئی پہلو ہیں ۔ چنانچہ یہ فرض کر لینا کہ:’’ جمہوریت کا کوئی مخصوص مغربی نمو نہ پوری انسانیت اور خاص طور پر مسلم امّہ کے لیے مثالی نظام سیاست کے طور پر تسلیم کر لیا جانا چاہیے‘‘ علمی طور پر نا قابل قبول اور ثقافتی اعتبار سے نا قابل مدافعت ہے۔ مسلم امّہ کی تو اپنی الگ اخلاقی اور نظریاتی پہچان ہے، اور مسلمان تاریخی و ثقافتی اعتبار سے اپنا الگ تشخص رکھتے ہیں۔ ہاں، عالم گیریت اپنی موجودہ شکل میں تاریخ کے رواں دور کا ایک رجحان ضرور ہے، لیکن اسے نئی استعماریت کا پیش خیمہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی،جس کا بڑا خدشہ ہے۔

مغرب کی جمہوری فکر

میرے نزدیک مغرب کی جمہوری فکر اور تجر بہ، اپنی افادیت اور تنوع کے باوجود، گہری سوچ بچار اورمنطقی تجزیے کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتے بلکہ ان میں کئی نقائص ہیں اور وہ عملی تضادات، تصوراتی خامیوں اور ناکامیوں سے عبارت ہیں۔ ڈبلیو بی گیلی(W.B. Gallie) نے بجا طور پر مغربی جمہوریت کو ’’بنیادی طور پر قابل حجت تصور‘‘ قرار دیا ہے۔[3] عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک کو مغربی جمہوریت کی برآمد (Export) کوئی حقیقتپسندانہ طرز عمل نہیں ۔ چنانچہ امریکہ  اور دوسری مغربی طاقتوں کی خارجہ پالیسی کے واضح ہدف کے طور پر دباؤ، دھاندلی، سازشوں یا براہ راست قوت کے ذریعے کسی ملک میں مغربی سیکولر جمہوریت کو بلا امتیاز  ٹھونسنے کی کوشش انتہائی نامناسب ہوگی۔

جمہوریت کی دو اہم جہات:   بہتر ہوگا کہ جمہوریت کی دو اہم جہتوں کے درمیان خط امتیاز کھینچ لیا جائے ۔ پہلی جہت یہ کہ جمہوریت کی فلسفیانہ بنیاد، عوامی خودمختاری کا تصور اور اس کے نتیجے میں عوامی حمایت پرمبنی حکومت کے جواز کا اصول ۔ دوسری یہ کہ اس نظام کو چلانے کے طریقے ، تا کہ کاروبار مملکت میں عوام کی شرکت یقینی بنائی جائے ، اور حکمرانوں کے انتخاب میں اور حکومتی پالیسیوں کی تشکیل اور منصوبوں میں عوام کی شمولیت ممکن ہو سکے۔ میرا یہ مؤقف بھی ہے کہ اسلامی عقائد، ثقافت، تاریخ اور فی زمانہ تجربات کے حوالے سے ایسے رہنما خطوط موجود ہیں جو ایک واضح اور منفرد سیاسی ڈھانچے کی شکل متعین کرتے ہیں۔ جسے صحیح معنوں میں روح (Spirit) اورعمل، دونوں لحاظ سے حقیقی عوامی شرکت کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق ایک ایسا سیاسی نظام قائم کیا جاسکتا ہے، جو عدل و انصاف اور شوریٰ و مشاورت دونوں مقاصد کو پورا کرے جو کسی بھی بر سرِ کار جمہوریت کی حقیقی روح ہوتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نقطۂ نظر مغربی سیکولر جمہوریت کے کئی دیگر تضادات، نزاعات اور ناکامیوں کے لیے بھی تریاق ثابت ہوسکتا ہے۔ خود یہ بات بڑی اہم ہے کہ مسلمامّہ پر سیکولر جمہوریت زبردستی ٹھونسنے کی کوشش صرف جابرحکومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

 حقیقی جمہوری عمل، جس میں عوام کو یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنے تصورات اور خواہشات کے مطابق اپنے معاملات چلاسکیں،زبردستی ممکن نہیں ہے ۔ یہاں دین و دنیا کی تفریق اور سیکولر جمہوریت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ مسلم دنیا میں حقیقی جمہوری عمل جہاں اور جب بھی کارفرما ہوگا آخرکار یہ عمل اسلامی نظام ہی کی طرف رہنمائی کرے گا، کیونکہ امت مسلمہ کے کینوس پر اسلام اور جمہوریت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

اسلامی سیاسی نظام کی بنیادنظریۂ  توحید پر ہے اور یہ نظام عوامی خلافت کی صورت میں برگ و بار لاتا ہے۔ جس کے تحت منتخب حکمران (خلیفہ) شوریٰ کے ذریعے امور حکمرانی بجالاتا ہے، جو انسانوں میں مساوات کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ اس نظام میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، حکمرانوں کا احتساب، سیاسی عمل کا صاف شفاف ہونا اور نظام کے قانونی، سیاسی ، سماجی، اقتصادی اور بین الاقوامی پہلوؤں میں عدل اور صرف عدل کی بالادستی ہی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اسلامی شریعت ایک ایسا وسیع نظم ریاست پیش کرتی ہے جس کے اندر رہتے ہوئے عوام، وحی الہٰی کی رہنمائی میں ایک مہذب معاشرہ اور اس کے معاشرتی ادارے، جن میں ریاست کے تمام  عناصر اورشعبے بھی شامل ہوتے ہیں، تشکیل دیتے ہیں۔ اسلامی طرز حکومت کثیرجہتی اجتماعی اور سیاسی نظام قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ ایسے معاشرے میں مختلف مذاہب اورنسلی اور لسانی گروپوں کے درمیان صحت مندانہ بقائے باہمی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور قومی اور بین الاقوامی  سطح پر مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان باہم تعامل کی فضا کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے تحت معاشرے میں ہر طرح کی ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔ جس کے باعث موجودہ دور میں، جب کہ پوری دنیا ایک عالمی شہر کی شکل اختیار کر چکی ہے، امن کے قیام اور تمام انسانوں کے لیے ایک منصفانہ سماجی و سیاسی نظام کے قیام کویقینی بنایا جاسکتا ہے۔

جمہوریت مغربی تناظر میں

جمہوریت (Democracy) کا لفظ انگریزی زبان میں ۱۹ویں صدی میں فرانسیسی زبان کے لفظ Democratic سے اخذ کیا گیا۔ یہ لفظ اپنے اصل کے اعتبار سے یونانی ہے، جو یونانی زبان کے لفظ Demokratie سے مشتق ہے۔ اس لفظ کی اصل دو الفاظ Demos یعنی عوام ،اور Krato ’حکمرانی‘ ہیں۔ گویا  یہ لفظ دو یونانی الفاظ کا مجموعہ ہے۔

جہاں تک مسلم لٹریچر کا تعلق ہے۔ جمہوریت کی اصطلاح پہلی بار ۱۸ ویں صدی میں ترکی زبان میں استعمال کی گئی۔  یہ لفظ عربی کے لفظ’ جمہور‘ سے نسبت رکھتا ہے، جس کے معانی عوام یا اسمبلی یا عوامی اجتماع ہیں ۔ یہ اصطلاح’ فرانسیسی جمہوریہ‘ کے حوالے سے استعمال کی گئی تھی۔[4]

طبقہ امراء کے مقابلہ میں عوام کی حکومت:   جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے، جس میں طبقۂ امراء یا خواص کی حکومت، بادشاہت، آمریت یا استبدادی حکومت کے برعکس عوام ہی کو اقتدار کا حقیقی سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے۔ حکومتی اصولوں اور طرز حکمرانی کا محور عوام تصور کیے جاتے ہیں، بلکہ تمام اقدار، تصورات اور پالیسیوں کا اصل منبع سمجھے جاتے ہیں۔ عوام ہی کو اقتدار اعلیٰ کا حامل تصور کیا جاتا ہے جنھیں یہ  حق حاصل ہوتا ہےکہ وہ ملک پرحکومت کریں اور ان کے حکمران بھی انہی کے سامنے جواب دہ تصور کیے جاتے ہیں۔

جمہوریت کی اصطلاح سے ان تصورات اور اصولوں کے علاوہ ایک سیاسی نظام بھی مراد ہے جس کے تحت حکمرانی کا نظم قائم ہوتا ہے اور ایک سیاسی و قانونی نظام معرض وجود میں آتا ہے۔ جمہوریت کا اصل امتحان تو جواز (Legitimacy) کا اصول ہے ، جس کے تحت یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اقتدار صرف اور صرف اس وقت جائز ہوتا ہے جب یہ عوامی قوت سے حاصل کیا گیا ہو اور اس کی بنیاد عوام کی مرضی پر رکھی گئی ہو۔

یورپ کی تاریخ میں نشاۃِ  ثانیہ (Renaissance) کے بعد کے دور میں بادشاہوں کے حق حکمرانی کے مقدس دعووں کو چیلنج کیا گیا۔ یورپ کی بادشاہتوں کے خلاف عوامی بغاوت بر پا ہوئی ۔ عوام خواص کی حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کلیسا کی اتھارٹی کو بھی چیلنج کیا اور پادریوں کی حکمرانی (Divine right to rule) کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اسی تناظر میں عوام کی حکمرانی کا اصول وضع کیا گیا ہے، جس کے تحت مذہب اور بادشاہوں کی تقدس مآبی سے سیاست کا رشتہ منقطع کر دیا گیا، عوام کو سیاسی قوت کا اصل منبع اور اپنی قسمت کا حقیقی معمار تسلیم کیا گیا۔ تمام اقدار کی تشکیل اور اختیارات کے استعمال کا تاج ان کے سر پر سجا دیا گیا اور ہر نوع کی سیاسی جدوجہد کا اصل مقصد عوام کا اقتدار اور ان کی فلاح و بہبودقرار پایا۔

اقتدار اعلیٰ کا منبع عوام:   سیکولر جمہوریت کی فلسفیانہ جڑیں عوام کے اقتدار اعلیٰ کے نظریے میں پوشیدہ ہیں۔ جمہوریت ایک طرف تو دائمی مذہبی رہنمائی سے انکار، یا کم از کم ایسی رہنمائی سے لاتعلقی کا اظہارکرتی ہے اور سیاسی حکمرانی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو بھی تسلیم نہیں کرتی، جب کہ دوسری طرف اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ عوام اور عوام کی مرضی اور رائے ہی کو ہرنوع کے اختیارات اور اقتدار کا حقیقی منبع تسلیم کیا جائے۔ مختصر یہ کہ جمہوریت کے تحت قانونی اور سیاسی اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہے، جس کے تحت جمہوری سیاست کی متعدد شکلیں سامنے آ چکی ہیں۔ جن میں: برا ہ راست، بذریعہ نمائندگی، پارلیمانی ،متناسب نمائندگی ، ری پبلکن، وفاقی اور پرولتاری جمہوریت وغیرہ شامل ہیں۔

رچرڈ جے (Richard Jay) کا دعویٰ ہے:’’۱۹ویں صدی کے دوران جمہوری مطالبات کو آگے بڑھانے والا مرکزی اصول عوام کا اقتدار اعلی ہی رہا‘‘ ۔ [5]    بہر حال حاکمیت عوام کا نظریہ، عملی اور نظریاتی طور پر جتنا بھی مبہم اور غیر واضح ہو لیکن مغرب کی لا دینی جمہوریت کی اساس یہی نظریہ ہے۔ اسلام کا تصور سیاست بنیادی طور پر اس سے مختلف ہے۔ حا کمیت زمین و آسمان کے مالک اور خالق کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ الہامی ہدایت اور قانونالہٰی کو بالادستی حاصل ہے، البتہ اس قانون کے عملی نفاذ کے لیے ذمہ دار انسان ہے جو ’عمومی نیابت‘ کے تصور سے عبارت ہے۔ فلسفیانہ اور فکری بنیادوں کے اعتبار سے مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت میں یہی جو ہری فرق ہے۔

جمہوریت کے دوسرے رُخ کا تعلق عوامی حکومت کی مختلف اشکال اور سیاسی فیصلوں میں عوام کی شرکت، مثلاً ریاست کے معاملات کو چلانے کے لیے عوام کی مرضی معلوم کرنے کا سیاسی طریق کار طے کرنے اور اسے ترقی دینے سے ہے۔ جمہوریت کے عملی نمونوں کی بنیاد انسانی مساوات اور آزادی کے اصولوں، آئین و دستور کی پابندی، قانون کی حکمرانی، حکومت کے مختلف شعبوں، یعنی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان تقسیم اختیارات، بنیادی انسانی حقوق جن میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی، پریس اور ابلاغ کی آزادی پر ہے۔ جمہوریت کی حقیقی روح کا اظہار اس حکومت کے وژن میں ہوتا ہے جسے لوگ منتخب کرتے ہیں، جو عوام کی خواہشات اور ترجیحات کے مطابق ان کی خدمت کرتی ہے اور ان کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔

مغربی جمہوریت کا نظام مذہب اور سیاست کے درمیان مکمل علیحدگی کے تصور  پرمبنی  ہے۔ چنانچہ اس کا تعلق لوگوں کی دنیاوی فلاح و بہبود تک محدود ہے۔ اس جمہوریت کے تحت قانون اور انسانی حقوق کے پورے نظام میں یہی جذبہ کارفرما ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کہ مغربی ممالک نے حکومت میں عوام کی شرکت کا نظام وضع کرنے میں نہایت قیمتی تجربات کیے ہیں ۔ کئی جماعتوں پر مشتمل نظام، ایک مخصوص مدت کے لیے سیاسی قیادت کا انتخاب،مختلف النوع  انتخابی طریقے ،انتظامیہ سے عدلیہ کی مکمل علیحدگی، قانون سازی کے لیے اداروں کا نظام جویک ایوانی یا دو ایوانی ہوسکتا ہے، اس سیاسی نظام کے بڑے نمایاں پہلو ہیں۔

خوبی ومعیار کے مقابلہ میں تعداد کی اہمیت:  مغرب کے جمہوری تجربات کی برکتیں بغیر ملاوٹ کے نہیں تھیں ۔ بعض تاریخی کامیابیاں ضرور حاصل کی گئیں لیکن مضبوط اخلاقی بنیادیں نہ ہونے کی وجہ سے ناکامیاں اور خرابیاں بھی ان جمہوریتوں کے حصے میں آئی ہیں۔ چونکہ اس نظام میں مطلق اقدار کا کوئی مقام نہیں ہے، لہذاکسی بات کے صحیح یا غلط ہونے کا معیار عوام کی  خواہش پر چھوڑ دیا گیا ہے، جنھوں نے اخلاقی اقدار میں بھی اسی طرح تبدیلی شروع کر دی جس طرح وہ اپنا لباس یا فیشن تبدیل کرتے ہیں ۔ چنانچہ اسی طرزِ عمل کے نتیجے میں بڑی بڑی غیر اخلاقی سرگرمیوں اور اخلاقی برائیوں کو گناہ یا جرم قرار نہ دینے کا چلن شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں انسانی معاشرہ اخلاقی پستی میں گرتا چلا گیا۔ اکثریت کی حکومت کے نظرئیے سے پیدا ہونے والے ذہنی اور اخلاقی رویے، نسلی، لسانی اور طبقاتی کشیدگی، اقتصادی  چشمک، استحصال اور سب سے بڑھ کر ان بنیادی خوبیوں کا زوال ہے، جنھوں نے انسانی معاشرے کو باہم منضبط کر رکھا تھا۔ یہ اخلاقی بحران اور خانگی انتشار مغربی سیکولر جمہوریت کا ثمر ہے۔

مغربی جمہوریت نے خوبی و معیار کی جگہ محض تعداد اور افراد کے بدلتے ہوئے رجحانات کو دے دی۔ خیر، سچ اور عدل کے مستقل معیار کے بجائے ہاتھوں کی گنتی کو شعار بنالیا۔ تنگ دلی  پرمبنی جماعتی نظام کی سیاست جمہوری نظام کے انحطاط کا باعث بنی ۔ بعض ممالک میں ایک جماعتی نظام متعارف کرا دیا گیا جس کے نتیجے میں جمہوریت کے نام پر ایک پارٹی کی آمریت وجود میں آ گئی۔ جمہوریت کے بعض بنیادی اصولوں میں اس قدر ملاوٹ کر دی گئی کہ جمہوریت کا تصور ہی دھندلا گیا۔ جمہوری عمل اپنے بنیادی نظریات کی پٹڑی سے اتر گیا اور ایک مذاق بن کر رہ گیا۔

سارتوری (Giovanni Sartori)کا کہنا ہے:

کم از کم معیار کے مطابق بھی دیکھا جائے تو تقریباً آدھی دنیا جمہوریت کے دائرہعمل (Realm) میں ہے۔ اوسط معیار کی رو سے دنیا میں جمہوری مما لک کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور اعلیٰ معیار کے مطابق تو ایک درجن یا اس کے لگ بھگ ممالک ہی اطمینان بخش جمہوری معیار کے تحت کام کر رہے ہیں ۔ اس بات کا تصور کرنے کے لیے کچھ زیادہ تر دد کی ضرورت نہیں کہ کسی بھی ملک پر سے جمہوریت کا لیبل کس قدر آسانی کےساتھ غیر جمہوری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف ایک معیار سے دوسرے معیار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک تو جمہوری طرز حکومت میں اتنا وقت گزار چکے ہیں کہ اب وہ جمہوری التباس سے گلو خلاصی کے مرحلے سے گزررہے ہیں ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ جمہوریت کیا ہے، ایک جمہوری اور غیر جمہوری نظام کی حد فاصل آج بھی بالکل واضح ہے لیکن جونہی ہم لفظ جمہوریت کا اطلاق تیسری دنیا، خاص طور پر نام نہاد ترقی پذیر اقوام پر کرتے ہیں، تو جمہوری معیار اتنا گرا ہوامحسوس ہوتا ہے کہ انسان حیرت سے سوچنے لگتا ہے کہ کیا لفظ ’جمہوریت‘آج بھی اپنے اصل معانی کے ساتھ موجود ہے۔[6]

معروف جریده فارن افیئرز کے ایک حالیہ شمارے میں تھامس کیرو تھرز (Thomas Carothers) نے اس بات پر اظہار افسوس کیا ہے کہ ’’دنیا بھر میں برپا ہونے والا جمہوری انقلاب اب ٹھنڈا پڑ رہا ہے‘‘۔ تھامس نے لکھا ہے:

چند سال قبل جو بات بعض جوشیلے افراد کو متحد کر دینے والی ایک عظیم تحر یک محسوس ہوتی تھی، وہ آئندہ چند عشروں میں مغربی دنیا (جس میں لاطینی امریکہ، شمالی یورپ اور سابق سوویت یونین کے بعض علاقے شامل ہیں) اور غیر مغربی دنیا کے درمیان سیاسی تقسیم کو بڑھا سکتی ہے۔ یہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کی کوئی پیش گوئی نہیں بلکہ سہل پسندانہ آفاقیت (Universalism )کے خلاف ایک انتباہ ہے۔[7]

سی بی میک فرسن(C.B. Macpherson) نے’ اژدہام کی قابل نفرت حکومت‘ سے اس وقت ’عالمی محبوب‘  کا درجہ حاصل کرنے تک کے جمہوریت کے سفر کا حال اس طرح بیان کیا ہے:

جمہوریت ایک برا لفظ سمجھا جاتا تھا۔ ہر فرد،وہ کوئی بھی ہو، یہ جانتا تھا :کہ جمہوریت اپنے حقیقی معنوں میں عوام کی اکثریت کی مرضی کے مطابق حکومت، ایک بری بات ہوگی جو فرد کی انفرادی آزادی اور مہذب زندگانی کی تمام خوبیوں کے لیے زہرقاتل ہے۔ جمہوریت کے بارے میں یہ رائےابتدائی تاریخی دور سے کوئی ایک سوسال تک ہر دانش مند فرد کی رائے رہی لیکن اس کے بعد صرف نصف صدی کے عرصےمیں جمہوریت بہت اچھی چیز بن گئی۔[8]

اگر چہ اب ،خصوصاً اشتراکی روس کے انہدام کے بعد، جمہوریت بہت اچھی چیز قرار پاچکی ہے لیکن زیرک مبصر جمہوری قرار دیے جانے والے نظام حکومت کی خامیوں ، تضادات، اصولوں سے انحراف اور دوسری خرابیوں سے صرف نظر نہیں کر سکتے ، جو اب اس نظام کا خاصّہ بن چکی ہیں۔

تاریخ نگار ای ایچ کیر(E.H. Carr) نے جمہوریت کے بارے میں ۵۰ کے عشرے میں جو کچھ کہا تھا، ۲۰ویں صدی کے آخری عشرے کے دوران بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی رہی[9] اور آج ۲۱ویں صدی میں قدم رکھتے وقت اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ایک اور مبصر انتھونی ار بلاسٹر(Anthony Arblaster) تو اس تکلیف دہ نتیجے پر پہنچا ہے کہ : ہرنوع کے بلند بانگ دعووں اور بعض کامیابیوں کے باوجود جمہوریت جدید سیاست کے ایجنڈے کی ایک نامکمل کارروائی ہے۔[10]ووٹ کا حق مل جانے کے باوجود خواتین اور مردوں کو اقتدار میں اپنا صحیح حصہ نہیں مل سکا۔ ’بورژوا جمہوریت بڑی حد تک ایک مصنوعی چہرہ ہے جس کے پیچھے رہ کر سرمایہ دار طبقہ معاشرے پر حکومت کر رہا ہے[11]اور اسی نے اپنی بالادستی قائم کرلی ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں خواتین کے حقوق کی تحریکِ  احیا سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خواتین، مردوں کے مقابلے میں مساوی مقام اور اصناف کے درمیان مساوات کے حصول میں ناکام رہی ہیں بلکہ وہ جمہوری معاشروں میں خواتین کے خلاف بدترین امتیازات کو ختم بھی نہیں کرسکیں۔[12] یہی مصنف اس بات پر بھی افسوس کرتا ہے کہ ’’سیاسی اقتدار میں مساوات کا اصول جو ہر شہری کے ووٹ میں شامل ہے، سیاسی اقتدار کی تقسیم میں نا انصافی اور بدترین عدم مساوات کا شکار بن چکا ہے‘‘۔[13]چنانچہ ار بلاسٹر بھی جمہوریت کے بارے میں اس نتیجے پر پہنچا ہے جو ای ایچ کیر(E.H. Carr)نے اخذ کیا تھا۔ وہ کہتا ہے:”اس لیے ہمیں کم از کم یہ نتیجہ ضرور نکالنا چاہیے کہ عام شہری جس مقصد کےلیے سیاسی جمہوریت کے طالب تھے، یا ووٹ کا حق حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ مقصد کسی بھی ذریعہ سے پورا نہیں ہورہا۔[14] اس نے بالکل صحیح طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ’’یہ تصور کرنا نری حماقت ہوگی کہ مغربی جمہوریت ہی کو تمام متعلقہ با مقصد تجربات پر اجارہ داری حاصل رہے‘‘۔[15]

میری رائے میں مغربی سیکولر جمہوریت کا اپنا مخصوص مزاج ہے۔ چنانچہ اس جمہوریت کی دنیا کے دوسرے خطوں کو بلا امتیاز برآمد سے منصفانہ جمہوری اور مستحکم سیاسی نظام معرض وجود میں نہیں آ سکتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جو متنوع جمہوری تجربات کیے گئے ہیں، بلاشبہ ان سے متعددسبق سیکھے جا سکتے ہیں، لیکن مغرب کے سوا  دنیا کے دیگر خطوں کے عوام ، خصوصاً مسلم امّہ کو جمہوریت کے کسی بھی مغربی ماڈل کی اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بجائے انھیں خود اپنے نظریاتی اور تاریخی مآخذ کوکھنگالنا چاہیے اور ایسے ادارے قائم کرنے چاہیں جو ان کی دینی اقدار اور نظریات کے حامل ہوں۔ بنی نوع انسان نے جو تجربات حاصل کیے ہیں، ان سے سبق سیکھنے میں کوئی حرج نہیں اور مغربی دنیا سے بھی ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ، لیکن صرف وہ نظام  جس کی جڑیں ہماری تاریخ میں ہوں، جو ہمارے تجربات کا ماحصل ہوں، ہماری اقدار کے ڈھانچے کے اندر اور ہمارے قومی ثقافتی مزاج سے ہم آہنگ ہوں، ہمارے ممالک میں حقیقی معنوں میں کامیاب اور ثمر آور ہو سکتے ہیں۔

 اسلام کا سیاسی نظام

 مغربی فلسفہ اور مذہبی لٹریچر میں استعمال ہونے والی مخصوص اصطلاح  مذہب کے محدود معانی کے مطابق اسلام ’مذہب ‘ نہیں ہے۔’ اسلام ‘کے لفظی معانی ہی تسلیم و رضا ہیں۔ اسلامی عقیدے کے تحت بندہ خود کومکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے اور اس عہد کے نتیجے میں اللہ کی مرضی کے تابع ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایت پرعمل کرنے کا پختہ ارادہ کرتا ہے۔ چنانچہ اولین اور بہترین بات یہ ہے:

اسلام، انسان اور الله تعالیٰ کے درمیان ایک رشتے کا مظہر ہے۔

یہ ایک عہد ہے کہ بندہ اس ہدایت پر عمل کرنے کا پابند ہے جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل کی ہے اور جس کا بہترین نمونہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حیات طیبہ کی صورت میں موجود ہے۔

مسلمان اللہ تعالیٰ کو ماننے والوں کی جماعت، یعنی اُمہ کا رکن ہے۔ وہ جماعت جو بنی نوع انسان کو سچائی کے راستے کی طرف بلانے کے لیے قائم ہوئی ہے، حق کا کلمہ بلند کرتی ہے اور غلط باتوں سے روکتی ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے، یہ ایک جامع اور ہمہ گیر طرزِ حیات ہے۔ یہ ایک ’دین‘ ہے جو انسانی وجود کے تمام انفرادی اور عوامی، اخلاقی اور دنیاوی، مادی اور روحانی، قانونی اور سماجی، معاشی اور تعلیمی  ، قومی اور بین الاقوامی پہلوؤں پر محیط ہے۔ دین ہی اس وفاداری اورتشخص کی بنیادہے اور شریعت وہ مقررہ راستہ ہے جو عبادت ، سماجی اور اقتصادی پالیسیوں تک زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی نظام سیاست کوئی آزاد نظم نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی طرز حیات کا ایک حصہ ہے اور اسے دین کے دوسرے پہلوؤں سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

دین اسلام کے تحت زندگی ایک مکمل اکائی ہے، جب کہ ایمان ایک بیج اور نقطۂ آغاز ہے۔ اس سے جو درخت پیدا ہوتا ہے اس کا سایہ انسانی وجود کے تمام پہلوؤں پر محیط ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحی جو قرآن وسنت کی شکل میں موجود ہے، ازلی و ابدی ،قطعی  اور آفاقی ہے۔ یہ ایک ایسا نظم اور ڈھانچا فراہم کرتی ہے جس کے اندر زبردست قوت موجود ہے۔یہ نظم اتنا وسیع و ہمہ گیر ہےکہ ہر زمانے کے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ دین اسلام، انسانی نقطۂ نظر کو انتہائی وسعت بخشتا اور ایک تصور عطا کرتا ہے۔ ہمہ جہتی اقدار فراہم کرتا اور مختلف مقامات پر اور مختلف اوقات میں تفصیلات طے کرنے کے مواقع تفویض کرتا ہے۔ اسلام کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول اور آنے والی ابدی زندگی میں کامیابی کی تمنا ہے۔

دین اور معاشرہ (سوسائٹی) اور دین اور ریاست اسی طرح باہم جزولاینفک ہیں،جس طرح دین میں تقویٰ اور عبادت۔ توحید دین کا عظیم ترین اصول ہے جس پر اسلامی زندگی کا دارومدارہے۔ اس طرح زندگی کے ہر شعبے میں خواہ اس کا تعلق خاندان سے ہو، معاشرے سے ہو، معیشت سے ہو، سیاست سے ہو یا بین الاقوامی تعلقات سے ہو، دین کی اصولی رہنمائی ہر شعبہ زندگی کی رہنما اور صورت گر ہے۔ دین کی اصطلاح کا یہی جامع مفہوم ہے، جو مذہب کے محدود تصور سے یکسر مختلف ہے۔

 اسلام کے سیاسی نظم کے کلیدی عناصر

اس  بنیادی اصول کی روشنی میں اسلام کے سیاسی نظم کے کلیدی عناصر یہ ہیں:

۱۔    اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ خالق، مالک، پالنے والا (رب)، قانون دینے والا اور رہنما ہے۔ انسان اس کی مخلوق، اس کا عبد اور خلیفہ ہے۔ زمین پر انسان کا مشن الله تعالیٰ کی بندگی اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے،  شریعت پر مبنی نظام قائم کرنا ہے جو انسان کی رہنمائی کے لیے بذریعہ وحی نازل کی گئی ہے ،تا کہ انسان اس کائنات میں اور اپنے خالق و مالک کی رہنمائی میں حسن و خوبی کے مطابق زندگی بسر کرے۔ ایسا کرنے سے اس کو دنیا میں امن، انصاف، روحانی مسرت اور ترقی حاصل ہوگی اور آنے والی دنیا (آخرت) میں صحیح معنوں میں نجات ملے گی۔

۲۔   اللہ کے ہاں تمام انسان برابر ہیں اور اس قانون کے تابع ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اسلامی نظام سیاست کی بنیاد الله تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ اور شریعت کی بالادستی پر ہے۔ اس نظام کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی بندگی ، اس سے وفاداری اور اس عزم و عہد سے عبارت ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے گی اور اس کو نافذ کیا جائے گا۔ قرآن حکیم کا اس بارے میں فرمان نہایت واضح اورغیرمبہم ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

اَ لَا لَھُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُﺚ (الاعراف ۷: ۵۴)

خبردار رہو! اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔

اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِﺚ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاھُﺚ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَﭷ( یوسف ۴۰:۱۲)

 فرماں روائی کا اختیار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سواتم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھاطریق زندگی ہے۔

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰٿکَ اللہُﺚ (النساء۴:۱۰۵)

اے نبیؐ، ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمھاری طرف نازل کی ہے تا کہ جو راہراست اللہ نے تمھیں دکھائی ہے، اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔

وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰ۬ئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ… وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰ۬ئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَﭼ… ھُمُ الْفٰسِقُوْنَﭾ (المائده۵: ۴۴  ،۴۵، ۴7)

اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں… اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں… وہی فاسق ہیں۔

۳۔    انسان کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کا ہے۔ یہ منصب ان سب لوگوں کو بخشا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا رب اور حاکم اعلیٰ تسلیم کرتے ہیں۔ ’خلافت‘ کا تصور عام نیابت کا تصور ہے اور اس میں  سب ہی مسلمان شامل ہیں، یعنی ہر مسلمان خدا کا نائب ہے۔ نیابت کا یہ مطلب اور مقصد بھی ہے کہ عوام کو محدود اتھارٹی تفویض کی گئی ہے تاکہ کاروبار حیات کو چلا سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ نیابت کسی مخصوص فرد کو تفویض نہیں کی جاتی اور نہ کسی خاندان، قبیلے یا گروہ کو اس کا سزاوار قرار دیا جاتاہے، بلکہ یہ نیابت ہر مسلمان مرد و زن کو تفویض کی گئی ہے۔ چنانچہ انھی لوگوں (مسلمانوں ) کو یہ اختیارشوریٰ کے اسلامی اصول کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی آخری الہامی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:

وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْﺕ (النور ۵۵:۲۴)

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔

قرآن حکیم کے اس حکم اور دوسرے احکامات کے مد نظر ریاست کا جو نظریہ اُبھر کر سامنے آتا ہے، اس کے مطابق قرآن حکیم نے دو بنیادی اصول پیش کیے ہیں ۔ پہلا اصول اللہ تعالیٰ کا اقتدار مطلق اور دوسرا مسلمانوں کی ’عوامی نیابت‘ (خلافت) ہے۔ چنانچہ اسلامی سیاسی نظام کی بنیاد اولاً: الله تعالیٰ کو قادر مطلق تسلیم کرنے اور اس کے قانون ، شریعت کو بالاترین قانون تسلیم کرنے ، اور ثانياً: معاشرے پرعوام کی مرضی کے مطابق  حکومت کرنے پر استوار ہے۔ جو لوگ برسر اقتدار ہوں انھیں امّہ کی اور مسلمانوں کی حمایت اور تائید حاصل ہونی چاہیے کہ جو خلافت کے اصل امین ہیں ۔ درج بالا قرآنی آیت سے ظاہر ہے کہ زمین پر حکومت کا وعدہ مسلمانوں کی پوری جماعت (اُمّہ)سے کیا گیا ہے، کسی خاص فرد، طبقے ، خاندان یا گروہ سے نہیں مسلمانوں کو جو خلافت بخشی گئی ہے، وہ عمومی نیابت کی طرح ہی ہے اور اسی کے تحت ہر مسلمان کو اور سب کو یہ فرض سونپا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُمّہ کے لیے فیصلے کرنے کے طریق کو’ شوریٰ‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی مسلمانوں کے معاملات باہمی مشاورت سے چلائے جائیں گے۔ (أَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ) معاشرے کے ارکان کے طور پر تمام مسلمان برابر ہیں۔ ان کے معزز ہونے اور قیادت پر سرفراز ہونے کی کسوٹی ان کی اعتماد، تقویٰ اور اہلیت کی خوبیاں، یعنی وہ اللہ پر مکمل ایمان، فرضشناسی اور احتساب کا شعور  رکھتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰٿکُمْﺚ ​ (الحجرات ۴۹: ۱۳)

در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

         اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: تم میں سے ہر ایک گلہبان کی طرح ہے اور ہرشخص سے اس کی زیرنگرانی لوگوں کے بارے میں احتساب ہو گا۔

ذات پات، رنگ ونسل اور قبائلی امتیازات ختم کر دیے گئے ہیں اور انسانوں کے درمیان حقیقی مساوات قائم کر دی گئی ہے (ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی ہے)۔

قرآن حکیم کے مطابق فضیلت کا انحصار تو پاک بازی اور نیکی پر ہے، جس میں علموجسم (عمدہ صحت بدنی قوت) اور تقویٰ (خوفِ خدا اور پاک بازی) شامل ہیں۔

۴۔   اسلامی سیاسی نظام میں حقوق اور فرائض کے حوالے سے اطاعت کے دو نمایاں پہلو ہیں۔ اول: اللہ اور اس کے رسولؐ کی فرماں برداری اور دوم : عوام کا آزادیِ تقرير، بحث و مباحثہ، اختلاف رائے اور فیصلوں میں شرکت کا حق جس میں کسی امر میں اختلاف رائے اور صاحبان اقتدار پر نقد وجرح کا حق شامل ہے۔ چنانچہ ارشاد باریتعالیٰ ہے:


[1]                       فرانسس فوکویاما ،The End of History and the Last Man ،(نیو یارک ،۱۹۹۳ء)

[2]           سیموئیل پی ہن ٹنگٹن?The Clash of Civilizations، جر یده فارن افیرز، ج۷۲، شماره ۳ (موسم گرما ۱۹۹۳ء ص ۲۲-۴۹)۔ اسی طرح تہذیبوں کے تصادم پر مباحثے کے لیے دیکھیے : جریدہ فارن افیرز، ج ۷۲، شماره۴ اور ۵۔ ہن ٹنگٹن کی کتاب The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order (نیویارک، ۱۹۹۹ء)

[3]           ڈبلیوبی گیلی(W.B. Gallie)  Philosophy and the Historical Understanding  (لندن، ۱۹۶۴ء)، ص ۱۵۸

[4]                       انسائیکلوپیڈیا آف اسلام

[5]           رچرڈ جے کا مقالہ ،ڈیموکریسی، Political Ideologies: An Introduction مرتبہ: رابرٹ اکلیشل (Robert Eccleshall) ، (لندن،۱۹۹۴ء)، ص۱۲۴۔

[6]                       انسائیکلوپیڈیا آف سوشل سائنسز، ج۳، (میک ملن)، ص ۱۱۳ – ۱۸ ۱

[7]           تھامس کیروتھرز (Thomas Carothers)، Democracy Without Illusion مجلّہ، فارن افیرز، جنوری ۱۹۹۷ء، ص۹۰۔

[8]           سی بی میک فرسن(C.B. Macpherson)، The Real World of Democracy (اوکسفرڈ، ۱۹۹۶ء)

[9]           ’’آج اگر جمہوریت کے تحفظ کی بات کی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک ایسی بات کا دفاع کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں اور جو اگر چہ عشروں اورصدیوں پر محیط ایک حقیقت ہے مگر ایک خود فریبی اور دھوکا ہے۔ اصول یا ضابطے کا تعین کیا جانا چاہیے۔ محض روایتی اداروں کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اس بات کے پیش نظر کہ  قوت کا منبع کہاں ہے اورکس طرح سے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں جمہوریت ایک متنازع مسئلہ ہے۔ اگر جمہوریت کے کسی اعلیٰ  پیمانے پر پرکھا جائے تو آج کچھ ممالک دیگرممالک کے مقابلے میں زیادہ جمہوری ہیں لیکن کوئی بھی مثالی جمہوری نہیں ہے‘‘۔ (ای ایچ کیر، The New Society لندن، میک ملن، ۱۹۵۱ء ص ۷۶)۔

[10]                     انتھونی ار بلاسٹر Democracy( اوپن یونی ورسٹی، ۱۹۹۴ء)، ص ۹۶۔

[11]                     ایضاً، ص ۹۶۔

[12]                     ایضاً، ص ۹۷۔

[13]                     ایضاً، ص ۹۸۔

[14]                     انتھونی ار بلاسٹر Democracy( اوپن یونی ورسٹی، ۱۹۹۴ء)، ص ۹8۔

[15]                     ایضاً، ص ۱۰۰۔

ٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْﺆ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْھُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِﺚ (النساء ۵۹:۴)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولؐ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول ؐکی طرف پھیر دو، اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

بہترین جہا د جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ نبی کریم ﷺنے مزید فرمایا: اگر تم میں سے کوئی کسی برائی کو دیکھتا ہے تو ہاتھ سے اسے درست کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکتا ہو تو اسے زبان سے برا کہے اور اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو وہ دل میں اس کی مذمت کرے۔ مگر آخری عمل ایمان کی کمزور ترین صورت ہے۔ (مسلم)

ان رہنما خطوط سے اسلامی نظام سیاست کی جو تصویر ابھرتی ہے وہ بالکل واضح ہے۔ مسلمانوں کے معاشرے کی بنیاداللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان سے عبارت ہے۔ اس کا سب سے بڑا ستون اللہ اور اس کے رسولپاکﷺ سے وفاداری ہے۔ مسلم معاشرے میں فیصلے ان اقدار،اصولوں اور احکامالہٰی کے تحت ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور شریعت کی صورت میں موجود ہیں ۔ اس نظام میں کسی مراعات یافتہ طبقے یا پاپائیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ دنیاوی طاقتواقتدار میں معاشرے کے تمام افراد شریک ہوتے ہیں، جو قانون کی نظر میں بالکل برابر ہوتے ہیں۔ ان سب کے حقوق اور ذمہ داریاں بھی مساوی ہیں۔ ہر فرد کے ذاتی، شہری، سیاسی ، سماجی ، ثقافتی اور اقتصادی حقوق کی الوہی قوانین کے تحت ضمانت دی جاتی ہے۔ حکمرانوں کو کوئی یک طرفہ استحقاق و اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ قانون کے سامنے سب یکساں ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ در حقیقت حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی فراہمی کی ضمانت دیں، خصوصاً معاشرے کے کمزور افراد کے حقوق کا خاص خیال رکھیں ۔

شریعت میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور کسی کو ان حقوق سے صرف ِنظر کرنے یا انھیں نظرانداز کرنے کا ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ آزادی اور مساوات اسلامی معاشرے کی روح رواں ہیں ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اس کا زندگی بھر کا مشن ہیں ۔ شوریٰ (مشاورت اور فیصلوں میں شرکت ) اس معاشرے کا طرزِ عمل ہے، فیصلے کرنے کا عمل ہرسطح پر اور ہر معاملے میں جاری و ساری رہتا ہے، خواہ یہ فیصلے سماجی ہوں یا اقتصادی، سیاسی ہوں یا کسی بھی دوسرے امور کے بارے میں ہوں ۔ حکمرانوں کو عوام کا اعتماد حاصل ہونا ضروری ہے اور وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ سیاسی اقتدار و اختیار کی بنیاد شریعت کی بالا دستی ، عوام کی مرضی اور عوامی اعتماد پر ہے۔ حاکم صرف خدا کے سامنے ہی جواب دہ نہیں، بلکہ وہ قانون اور عوام کے سامنے بھی جواب دہ اور قابل احتساب ہے۔کسی بھی نوع کے سیاسی انتظامات ممکن ہیں لیکن  یہ شریعت کی قائم کردہ اقدار اور اصولوں کے اندر ہی ہوں گے۔

چونکہ اسلام کی رہنمائی مکمل ،قطعی، آفاقی، عالم گیراور الوہی ہے، چنانچہ اُمّہ کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے معاشروں کی معاشرتی و تاریخی ضروریات کے مطابق مختلف ادارے اور نظام (مشینری) قائم کریں اور انھیں ترقی دیں۔ اسلام نے سیاسی نظام کا جو ڈھانچا فراہم کیا ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے مختلف النوع انتظامات بالکل ممکن ہیں ۔ بعض ایسے انتظامات کا ماضی میں تجربہ کیا جا چکا ہے۔ آج یا کل نئے انتظامات اور نئے تجربات روبہ عمل لاناممکن ہے کہ یہی اسلام کی خوبی اور آزادیِ عمل کی امتیازی شان ہے۔ مسلمانوں کے تاریخی تجربات کے یہی وہ روشن پہلو ہیں، جو ۱۴ صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔

 اسلامی اصول حکمرانی ۔سات اہم اصول

 رسول اللہﷺ نے نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں بندےاور خدا کے درمیان مضبوط روحانی رشتے کا قابل تقلید نمونہ پیش کیا ، بلکہ انھوں نے ایک ایسا معاشرہ، اور ایک ایسی ریاست بھی قائم کی، جو مسلمانوں کے سیاسی و تاریخی تجربات کے لیے ایک مثال اور نمونہ بنی رہی۔ بیعت عقبہ ثانی اور میثاق مدینہ نے وہ مضبوط بنیادیں فراہم کیں جن پر مدینہ کا معاشرہ اور ریاست کی تعمیر ہوئی ۔ اُمّہ کی نظر میں، اسلامی سیاسی ماڈل حضور نبی کریمﷺ اور ان کے بعد چاروں خلفائے راشدین کے ادوار میں بھی پیش کیا گیا۔ اس سیاسی نمونے کے بعض نمایاں پہلو یہ ہیں:

ا۔    قانون کی حکمرانی اور قانون کے سامنے مساوات، جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔

۲۔   قرآن و سنت کی بالادستی اور جو معاملات ان دونوں مآخذ کی ذیل میں نہ آتے ہوں، ان کے بارے میں اجتہاد کرنا (نئے قانونی نکات اور مسائل کے حل کے لیے شریعت کے عمومی اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا نام اجتہاد ہے)۔

مسلم قوانین کا مجموعہ’ فقہ‘ ایک عوامی، جمہوری اور شعوری عمل کے تحت تشکیل پایا ہوا ہے، جس کے دوران علما اور متعلقہ اصحاب نے علمی بحث و مباحث عملی مسائل و مشکلات کے ادراک اور تجزیہ اور با ہم افہام وتفہیم کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا۔ انفرادی فتووں اور قاضیوں کے فیصلوں کے ساتھ اجتماعی بحث ونظر کے ذریعے فقہ کا  یہ سنہری اثاثہ وجود میں آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ میں اسلامی قانون،مسلمانوں کا شاید سب سے بڑا تحفہ ہے۔

امت مسلمہ نے اس طرح جو قانون سازی کی ، اسے رضا کارانہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کا احترام کرنے ہی سے قانون کے مختلف مکا تب فکر وجود میں آئے۔ یہ تاریخ کا ایک عظیم اور منفرد پہلو ہے کہ مسلم معاشرے میں رواج اور نفاذ پانے والا قانون کبھی بھی حکمران کی مرضی سے نہیں بنایا گیا۔ جیسا کہ دوسرے معاصر غیرمسلم معاشروں اور ثقافتوں کا دستور رہا ہے۔ اسلام کا پورا نظام قانون  سیاسی قوت و اقتدار کی غلام گردشوں سے باہرہی ارتقا پذیر ہوا۔ اہلِ علم و تقویٰ کے بنائے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے بعد حکمران بھی ایک عام آدمی کی طرح اس قانون کے پابند بن گئے ۔ حکمرانوں کے جابرانہ اختیارات پر اسلامی قانون ایک زبردست تحدید ثابت ہوا، اور اسی کی بنا پر مسلمان معاشروں میں ایسی سیاست روبہ عمل آئی،جس میں سب لوگ واقعی شریک تھے۔

جان ایل اسپوزیٹو(John Louis Esposito)  اور جان وول (John O. Voll)نے اپنی (مشترکہ ) تصنیف اسلام اور جمہوریت میں لکھا ہے:

’’مشرق میں مطلق العنانی کا جو تصور عرصہ دراز سے موجود ہے،اس میں طاقت اور اقتدار کی تقسیم یا حکمران کے اختیارات پر قدغن کا کوئی تصور نہیں ۔ لیکن قدیم مسلم معاشروں میں اس نوع کے غیر محدود اختیارات کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ یہ صورت احوال سیاسی ڈھانچے کے بارے میں اسلامی قانون اور حقیقی تاریخی تجربات دونوں میں پوری طرح موجود ہے۔ اسلامی معاشرے میں کسی خلیفہ یا حکمران کے احکام یا قواعد سے نہیں، بلکہ مسلم علما کے درمیان اتفاق رائے سے قوانین مرتب کیے جاتے تھے۔ کوئی حکمران قانون سے بالاتر تصور نہیں کیا جاتا تھا اور تمام حکمرانوں کا احتساب بھی قانون کے مطابق کیا جاتا تھا‘‘۔[1]

۳۔   ہرسطح پر سیاسی قیادت کے انتخاب کے لیےاسلامی قانون کے ارتقا اور نفاذ کے اس منفرد پہلو کا ذکر اور مختلف فیصلوں کے لیے شورائی نظام سے استفادہ کیا جاتا تھا۔ پہلے چاروں خلفائےراشدین کا انتخاب (مسلمانوں کی) جمعیت ہی نے کیا تھا،اگرچہ انتخاب کا طریق کار اور پھر اس کی توثیق کاطریقہ مختلف تھا۔ اس انتخاب میں مشترکہ اصول عوام کی منظوری اور ان کا اظہار اعتماد ہی تھا اور خلفا عوام کے سامنے جواب دہ تھے۔ جب عوام کے مشورے اور معاونت سے انتخاب کا طریقہ ترک کر دیا گیا اور خاندانی حکومت کا طریقہ در آیا  تب بھی بیعت (عوام کی طرف سے حکمران کی قبولیت) کا تصور موجود رہا۔ نصیحت، شوریٰ ، اختلاف رائے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور احتساب کے ادارے ہر دور میں مختلف النوع طریقوں سے اہم کردار ادا کرتے رہے۔

۴۔    انسانی حقوق اور عوام سے کیے گئے وعدوں ،خصوصاً اقلیتوں، ہمسایہ ممالک اور دوست جماعتوں، قبائل وغیرہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر پوری طرح عمل کیا گیا۔ یہ عمل  مسلم سیاست کا مستقل عنوان رہا۔

۵۔   مسلمانوں کے حکومتی تجربے میں انتظامیہ سے عدلیہ کی علیحدگی  اور ہرسطح پر عدلیہ کی مکمل آزادی ایک نمایاں پہلو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کی حکمرانی اور ایوان عدل تک ہرشخص کی آسانی کے ساتھ رسائی مسلم معاشروں کا جزو لاینفک رہی ہے۔ اسی وجہ سے مسلم مملکتوں میں من مانی حکمرانی کے مظالم سے لوگ بڑی حد تک محفوظ رہے۔ اقتدار اور اختیارات کی علیحدگی کا اصول جو خلفائے راشدینؓ کے ادوار میں شروع ہوگیا تھا۔ بعد کے ادوار میں بھی قائم رہا ۔ درحقیقت اس نظام میں بعض خرابیاں دَر آنے کے باوجودیہ قائم رہا ہے۔ آئین یعنی اسلامی شریعت کی بالادستی مسلمانوں کی حکمرانی کا ناگزیر حصہ رہی۔

پروفیسر اسپوزیٹو اور پروفیسر وول نے اس  ضمن  میں ایک اہم پہلو کا سلطنت عثمانیہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ شاہی نظام سے منسلک علما کا یہ حق تسلیم شدہ تھا کہ وہ سلطان کے کسی بھی ایسے حکم کو کالعدم قرار دے سکتے تھے جسے وہ اسلامی قانون کے مطابق درست تصور نہیں کرتے تھے۔ اگرچہ اس اختیار کا استعمال، سیاسی وجوہ کی بنا پر، عام نہیں تھا۔ سلطنت میں علما کے نظام کا سربراہ ’شیخ الاسلام‘ اسلام کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں سلطان کی معزولی کا حکم جاری کر سکتا تھا۔ اگرچہ یہ اختیار کم کم ہی استعمال کیا گیا، تاہم سلطان ابراہیم (۱۶۴۸ء) سلطان محمود چہارم (۱۶۸۷ء) سلطان احمد ثالث (۷۳۰اء) اور سلطان سلیم ثالث (۱۸۰۷ء) کو ان کے ادوارکے شیخ الاسلام نے معزول کیا تھا۔ ان رسمی کارروائیوں سے حکمران کے اختیارات کی تحدید اور یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ علما ہی اسلامی آئین کے نمائندہ تھے ۔ اس سے اسلامی ورثے میں اختیارات کی مکمل اور مؤثر علیحدگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔[2]

۶۔   مسلم تجربے کا ایک اہم پہلو سماجی تحفظ سے تعلق رکھتا ہے ۔ جس کی بنیاد زکوٰة صدقات، وقف، انفاق، وصیّت، وراثت کے تحت تر کہ چھوڑنا اور ہبہ ہے۔ اس سے مسلم معاشرے میں انسانی مساوات پرمبنی سماجی و اقتصادی نظام روبہ عمل آیا ۔ جس کے باعث معاشرے کے تمام افراد کے لیے باعزت زندگی گزارنے کی سبیل پیدا ہوگئی ۔ معاشرے کا اقتصادی نظام ایسا تھا کہ مستضعفین اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور سیاسی و اقتصادی عمل میں حصہ لینے لگے۔

۷۔   مسلم تجربے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اختلاف اور مخالفت کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس عمل کو کوئی اجنبی چیز تصور نہیں کیا گیا۔ ہاں، اختلاف اور فتنے میں فرق ضرور روا رکھا گیا۔ یہ بات بے حد اہم ہے کہ اسلامی قانون کے بعض اہم مکاتب فکر میں بعض مخصوص صورتوں یا مواقع پر پہلے سے معروف شرائط کے تحت، اختلاف بلکہ مسلح بغاوت (خروج) تک کو بھی جواز بخشا گیا ہے۔ پروفیسر اسپوزیٹو اور پروفیسروول تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی حتمی اورمطلق اتھارٹی کے باعث پوری اسلامی تاریخ میں موجود حالات پر نقد و جرح کی بنیاد فراہم ہوئی۔ اسلامی بنیاد پر مخالفت کی تحریکوں،اصلاحات اور تجدید کے عمل کو اسی بنیاد پر جواز اور وجوب ملا۔ دورِ حاضر میں یہی خوبیاں آئین و دستور یت کی بنیاد بن سکتی ہیں جو ریاست کی تعریف اور حزب اختلاف کو تسلیم کیے جانے کا جواز پیش کرتی ہیں۔[3]

یہ سات اصول اسلامی حکمرانی کی بے مثال روایات کا مظہر ہیں اور اس بات کی طرف بلیغ اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام کے تحت جمہوری حکمرانی کا ایک جداگانہ اور عمدہ نمونہ وجود میں لایا جاسکتاہے۔ چنانچہ یہ رہنما اصول عصر حاضر کی دنیا میں اسلامی جمہوری ماڈل وجود میں لانے کے لیے تحرک اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔               

)فروری ۲۰۰۸ء(

مغربی جمہوریت اور اسلامی طرز حکمرانی : ایک موازنہ

گزشتہ مضمون میں کی گئی بحث کی روشنی میں بہتر ہوگا کہ مغربی جمہوریت اور اسلامی طرزحکمرانی کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں کے درمیان بعض بنیادی اختلافات کا تعین کر لیا جائے اور ایسے مشترکہ امور کی بھی نشان دہی کر لی جائے جن میں ایک دوسرے  کے تجربات سے سیکھنا فائدہ مند ہو سکتا ہے ۔

________________

  • اسلام کی حکمت عملی بے مثال ہے ۔ اسلام انسان کو، اس کے روحانی ا ور اخلاقی وجود اور شخصیت کو مرکز بناتا ہے ۔ ہر فرد کی ، روحانی بالیدگی، اخلاقی ترقی اور سعادت کی زندگی ہی اسلامی نظام کا اصل مقصد ہے ۔ تبدیلی کا عمل کسی فرد کے اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی داخلی سطح پر شروع ہوتا ہے ۔ اس کا آغاز ایک فرد میں اخلاقی حس بیدار ہونے سے ہوتا ہے جو ایک با کردار اور منصفانہ معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ مسلم اُمّہ ایک عالم گیر برادری ہے ۔ اس وسیع تر اُمّہ میں  چھوٹے گروپ، بستیاں اور ریاستیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ سب ایک ہی تسبیح کے دانے ہیں۔ اسلام ایک ایسے مہذب معاشرے کی تعمیر کرتا ہے ، جو صحت مند اور فعال اداروں سے عبارت ہوتا ہے ۔ ریاست انھی اداروں میں سے ایک ہے ۔ یہ نہایت اہم اور کئی اعتبار سے دوسرے سب اداروں سے بلند تر ہے لیکن یہ واضح رہے کہ اسلام میں سب سے بالا ادارہ امت مسلمہ کاہے ، اور باقی سب ادارے ہرہرمسلمان (فرد) کی تقویت کے ساتھ اُمت مسلمہ  کے استحکام کے ستون ہیں ۔
  • اسلامی معاشرے کے سماجی ، سیاسی اور اقتصادی اصولوں میں مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے اور یہ سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کرتے ہیں جو نظریاتی سطح پر توحیدوایمان، اتباع سنت، فکری یگانگت اور عدل و احسان کے حسین امتزاج کا مظہر ہوتا ہے۔ یہ معاشرہ انسانی مساوات، اخوت، باہمی تعاون،سماجی ذمہ داری، انصاف اور سب کے لیے مساوی مواقع کی روایات کے خمیرسے تعمیر کیا جاتا ہے۔ یہ قانون کا پابند معاشرہ ہوتا ہے جس میں ہر رکن کے حقوق اور فرائض کا احترام کیا جاتا ہے جن میں اقلیتوں کے حقوق بھی شامل ہوتے ہیں۔ ریاست کا مقصد معاشرےکے ہر رکن کی خدمت اور انسانوں کے درمیان عدل کا قیام ہے۔ اسلامی معاشرے میں آمریت اور استبدادی مطلق العنان حکومت کے لیے کوئی  جگہ نہیں۔
  • اسلامی ریاست سیکولر جمہوریت سے بالکل مختلف ہوتی ہے، کیونکہ اسلامی ریاست عوام کے اقتدار ِاعلیٰ کا نظریہ تسلیم نہیں کرتی ۔ مسلم ریاست میں اللہ تعالیٰ ہی قانون ساز ہے اور شریعت  ہی ریاست کا قانون ہے۔ جو بھی نئے نئے مسائل درپیش ہوں، ان سے نمٹنے کے لیے شریعت کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے حل دریافت کیے جاتے ہیں۔ یہ بات سیکولر جمہوریت اور مسلم ریاست کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ہے۔
  • جہاں تک قانون کی حکمرانی کے اصول،بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ ، عدلیہ کی آزادی، اقلیتوں کے حقوق،ریاست کی پالیسیوں اور عوام کی خواہش کے مطابق حکمرانوں کے انتخاب کا تعلق ہے، اسلام اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ان سب امور کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ان میں سے بعض امور کے متعلق اسلام اور مغربی جمہوریت کے درمیان بعض مشترک بنیادیں موجود ہیں اور ان تمام میدانوں میں مسلمان اپنے معاصر مغربی ممالک کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی مسلمانوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ لیکن دونوں نظاموں کے قوانین کے منابع اور فطرت میں چونکہ بنیادی اختلاف ہے، لہٰذا ان اساسی امور میں دونوں نظام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور اپنا جداگانہ تشخص اور مزاج رکھتے ہیں۔
  • اسلامی ریاست میں شریعت کو بالادستی حاصل ہے۔ اس کے باوجود یہ کوئی  مذہبی حکومت نہیں ہوتی، جیسی کہ تاریخ میں مذکور فرعونوں، بابلیوں، یہودیوں،مسیحیوں، ہندوؤں یا بودھوں کی حکومتیں گزرچکی ہیں۔

ان مذہبی حکومتوں اور اسلامی حکومت میں بنیادی فرق ہے۔ یہ مذہبی حکومتیں اگرچہ ’خدائی حکومت ‘کی دعوے دار تھیں، لیکن وہ’ خدائی حکومت، ایک مخصوص مذہبی طبقے کی حکومت ہوتی تھی، جس کے حکمران کا ہر لفظ قانون تھا، جسے نہ تو کوئی چیلنج کر سکتا تھا اور نہ اس کے خلاف آواز بلند کر سکتا تھا۔ مگر اسلام میں ایسا کوئی حاکم مذہبی طبقہ نہیں ہے۔ الله تعالیٰ ہی اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اور جو اس کی مرضی ہے، وہ قرآن وسنت کی صورت میں موجود ہے۔ شریعت کا سبھی کو علم ہے۔ یہ کوئی ایسا خدائی راز نہیں ہے جس کا علم پادریوں کی طرح صرف مفتی یا مذہبی رہنما کو ہو۔ اسلام میں ایسا کوئی امکان ہرگزنہیں کہ لوگوں کا کوئی گروہ دوسروں پر اپنی ذاتی مرضی ٹھونس سکے یا اللہ کے نام پر دوسروں پر اپنی ترجیحات کو نافذ کر سکے۔ اسلامی نظام میں قوانین کھلے بحث و مباحثے کے بعد ہی تشکیل دیے جاتے اور نافذ کیے جاتے ہیں ۔ سب لوگ اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔

بنیادی فرق:   مذکورہ نکات کی روشنی میں ان دونوں نظاموں کے درمیان اختلافات مختصراً یہ ہیں:

(الف) شریعت جو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور رضا کی حامل اور اس کا مظہر ہے، بالکل اصل صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔ اس میں کسی نوع کی کوئی آمیزش نہیں ہوئی اور نہ بدلے ہوئے حالات میں کسی تبدیلی یا کسی کی مداخلت سے اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہے۔

(ب)    اسلام میں مذہبی متوسلین کا کوئی طبقہ نہیں اور محمد رسول صلی الله علیہ وسلم کے بعد نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ترجمان ہے۔ اللہ کی رہنمائی مکمل ہو چکی ، اب یہ  اُمّہ  کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کو سمجھے، اس کا ادراک کرے اور انسانی معاشرے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس پر عمل پیرا ہو۔

(ج)    فرد معاشرے کا بنیادی عنصر ہے۔ اسلام، فرد کی آزادی،قانون کی حکمرانی ، مخالفانہ آرا اور مخالفوں کی توقیر کی ضمانت خود دیتا ہے۔ اہل دانش اور عوام آزادی کے ساتھ اپنے مسائل پر بحث ومباحثہ کر سکتے ہیں اور باہمی مشاورت کے ذریعے ان کا حل نکال سکتے ہیں۔ پوری اسلامی فقہ ایک ایسے عمل کے ذریعے فروغ پذیر ہوئی ہے، جس کے دوران اُمّہ اور اس کے نمائندوں نے عام بحث مباحثےمیں حصہ لیا۔ اسلامی ریاست اور معاشرے کا انسانوں کی طبعی اور دنیاوی مشکلات و مسائل سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور وہ انصاف اور سماجی بہبود کے اصولوں کے مطابق ان مشکلات و مسائل کاحل تلاش کرتے ہیں۔

  • بلاشبہ زندگی کا وہ حصہ جسے سیکولر (دنیاوی) کہا جاتا ہے اس سے اسلام اور مسلمانوں کا تعلق ہے لیکن اسلامی اور سیکولر رویوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ پیغمبراسلامﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا کی ساری زمین میرے لیے مسجد کی مانند ہے،چنانچہ دنیا کے تمام حصوں اور علاقوں سے اسلام کا گہرا تعلق ہے۔ اسلام نہ شرقی ہے اور نہ غربی، بلکہ صحیح معنوں میں ایک عالم گیر اور آفاقی نظام ہے۔ اسلامی نظام، انسانی زندگی کے تمام روحانی اور دنیاوی معاملات پر محیط ہے۔ اس حد تک اسلام کا سیکولرازم سے کوئی تنازع نہیں ہے۔ مغرب میں سیکولرازم کے غلبے کی وجہ مذہب کا سیکولر معاملات سے لاتعلق ہوجانا اور دنیاوی زندگی کو شیطانی قوتوں کے حوالے کر دینا تھا۔ یہ پوری تحریک دراصل ان مذہبی روایات کا ردّعمل تھی جن کی روسے سیکولر دنیا کو نظرانداز کیا گیا اور اپنے دائرہ عمل کو صرف روحانی دنیا تک ہی محدود رکھا گیا تھا۔

اسی طرح سیکولرازم کی تحر یک کو تقویت دینے والا ایک دوسرا سبب مذہبی عدم رواداری تھی جس میں جبر کے ذریعے ایک مذہب بلکہ ایک فرقے کے نظریات کو دوسرے تمام فرقوں پر مسلط کیا جاتا تھا اور ایک سے زیادہ نقطہ ہائے نظر کو کفر اور بغاوت قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام تکثیر (Pluralism) اور رواداری کے اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ تمام انسانوں کو پیشے اور مذہب کے معاملے میں انتخاب کا حق دیتا ہے اور ثقافتی کثرت اور کسی بھی سماج کے انداز حیات کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اسلام کی منشا کے مطابق ہے۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے:

لَآ اِکْرَاھَ فِی الدِّیْنِﺩ (البقرۃ ۲: ۲۵۶)

دین میں کوئی جبر نہیں۔

سیکولرازم سے اسلام کا بنیادی اور جوہری اختلاف اس کے اس دعوے کے باعث ہے کہ سیکولرازم مذہب سے کسی نوع کے تعلق،الله تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی اور مطلق اخلاقی اقدار کے بغیر تمام انسانی مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ یہ بات زندگی کے بارے میں اسلامی رویے کے بالکل برعکس ہے۔ انھی وجوہ کی بناپر اسلام اور سیکولرازم، دو بالکل مختلف دنیاؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

  • جہاں تک کمیونزم اور فاشزم  کا تعلق ہے یہ کوئی غالب سیاسی نظریات نہیں رہے، لیکن ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو ان دونوں نظریات کے مختلف پہلوؤں سے اتفاق رکھتے ہیں ۔ یہ دونوں نظریات مغربی تہذیب وتمدن کے تناظر میں بعض تاریخی اور سماجی و سیاسی حالات کی پیداوار ہیں۔ ان کی تہہ میں ریاست کی مطلقالعنانیت کا تصور کارفرما رہا ہے۔ مگر یہ دونوں نظریات بھی مختلف النوع آمریت ہی کے نمائندے تھے اور ان کے تحت بھی مطلق العنان حکومت ہی قائم ہوتی رہی۔ اگرچہ ان دونوں نظاموں میں انتخابات اور پارلیمنٹ کے قیام کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا رہا۔
  • اسلام میں یک طرفہ یا مطلق العنان اقتدار کا کوئی تصور نہیں ۔ اسلام میں ریاست تو اُمت ہی کا ایک ادارہ اور شعبہ ہوتا ہے۔ وہ فرد کی مرکزیت ، اس کے حقوق اور سیاسی فیصلوں میں فرد کےکردار کی توثیق کرتا ہے۔ اسلامی ریاست قانون کی تخلیق ہوتی ہے۔ حکمران ریاست کے دوسرے شہریوں کی طرح ہی قانون کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ریاست اپنے عمّال اور کار پردازوں کو وہ خصوصی مراعات اور تحفظات بھی فراہم نہیں کرتی جو کئی مغربی ملکوں کے عمّال کو عام طور پر حاصل ہوتی ہیں۔
  • اسلام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ مقدس امانت ہیں ۔ فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی اور ایک پاکبازمخلوق تصور کیا جاتاہے، جو اپنے اعمال کے لیے آخرکار الله تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ ہرانسان ایک قابل احترام وجود ہے اور اخلاقی طور پر اپنے تمام اعمال اور پسند و ناپسند کے لیے دنیا اور آخرت میں بھی جواب دہ ہے۔ فرد کو معاشرے میں عقل و دانش اور سماجی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنا رویہ متعین کرنا ہوتا ہے لیکن وہ ریاست کی مشین کا کوئی بے جان پرزہ نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے اسلام کے سیاسی نظم اور ہمارے دور کے مطلق العنان اور آمرانہ نظاموں کے درمیان بے حد فرق ہے۔

اس تقابلی تجزئیے سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اسلام کا سیاسی نظام دوسرے سیاسی نظریات کی بعض باتوں میں مماثلت اور مشابہت کے باوجود بے مثال ہے۔ اسلام اساسی اعتبارسے ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جس میں رہتے ہوئے ایک اچھے اور نیک انسان کو  یہ محسوس نہ ہو کہ وہ کسی اجڈمعاشرے میں پھنس گیا ہے یا جانوروں کے کسی باڑے میں د ھکیل کر بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام تمام انسانوں کی ذہنی اور مادی نشوونما ساتھ ساتھ چاہتا ہے تا کہ انسان امن اور انصاف کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور زندگی کی اعلیٰ اقدار ونظریات کی پرورش کر سکیں، جن کے نتیجے میں وہ اس دنیا اور پھر آخرت میں الله تعالیٰ کی رضا جوئی اور الوہی سعادت کے حق دارٹھہر سکیں۔ اسلامی ریاست ایک نظریاتی تعلیمی اور مشاورتی بنیادوں  پر مبنی ریاست ہوتی ہے جو ایک ایسا سماجی و سیاسی ڈھانچا فراہم کرتی ہے جس میں حقیقی جمہوریت پھل پھول سکتی ہے۔ اس میں ایک طرف مستقل اقدار کا دائمی فریمورک ہے جس میں پوری سیاسی اور اجتماعی زندگی مرتب ہوئی ہے تو دوسری طرف اجتہاد کے ذریعے وقت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کا بھر پور سامان ہے۔

مجھے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کہ مسلمان اپنی تاریخ میں اس نظرئیے پرمکمل طور پر عمل کر سکے ہیں۔ بلاشبہ خلافت راشدہ اس کا عملی نمونہ اور ایک مکمل مثا لیے (Paradigm ) کا مظہر تھا مگر بعد کے ادوار میں اصل ماڈل سے انحراف اور انحراف کے بعد اصل کی طرف مراجعت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا ہے۔ البتہ اصل ماڈل ہی تمناؤں کا محور و مرکز رہا ہے اور آج بھی اسی آدرش کی روشنی میں تعمیرنو کی جدوجہد مطلوب ہے۔

 احیائے اسلام اور جمہوریت

تاریخ میں پہلی بار معاصر مسلم دنیا کو ایک منفرد  چیلنج کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کو اقتدار اور بالادستی حاصل نہیں رہی اور پوری مسلم دنیا نو آبادیاتی حکمرانوں کے پاؤں تلے دبی ہوئی ہے۔ نوآبادیاتی اور سامراجی غلبے کی اس طویل، اندھیری رات کے دوران، جو تقر یباً دوصدیوں پر محیط ہے،مسلمانوں کو ذہنی، اخلاقی، معاشی اور ثقافتی طور پر بھی سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ اس طویل ابتلا کا بدترین نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلامی ادارے بتدریج ٹوٹ پھوٹ اور انحطاط کا شکار ہوگئے، جن کے باعث مسلم دنیا تقریباً ۱۲ صدیوں تک اپنے پاؤں پر کھڑی رہی اور اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کرتی رہی ۔ سامراجی حکومتوں کے ادوار ہی میں مغرب سے درآمد شده کئی ادارے اسلامی مملکتوں میں رائج کیے گئے ۔ اسے دوسروں کو نام نہاد تہذیب سکھانے کے مشن کا حصہ (White man’s burden) قرار دیا گیا لیکن درحقیقت یہ سامراج کا بدترین استحصالی عمل تھا۔ چنانچہ اس استحصال کی وجہ سے قانون، عدلیہ،  معیشت تعلیم، انتظامیہ، زبان و ادب، فنون لطیفہ، فن تعمیر، غرض معاشرے کے تمام عناصر کو زبردستی مغربیت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی گئی۔

نوآبادیاتی ، سامراجی نظام کے دوران مسلم معاشرے کے اندر سے ایک نئی قیادت پیدا کی گئی، جسے مورخ آرنلڈ ٹائن بی(Arnold J. Toynbee) نے’ بابو کلاس ‘کا نام دیا ہے۔ یہ لوگوں کا ایک ایسا طبقہ تھا جس کی جڑیں اپنے مذہب، ثقافت اور تاریخ میں نہیں تھیں اور جس نے نوآبادیاتی حکمرانوں کے سائے میں اپنا نیا تشخص بنانے کی کوشش کی۔ اس طبقے نے نہ صرف حکمرانوں کی اقدار اور اخلاقی طرزِعمل اپنانے کی سعی کی، بلکہ مقامی اور بیرونی مفاد پرستوں سے مل کر حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ بھی کیا۔ غیرملکی غلامی سے نجات کے لیے عوامی تحریک بنیادی طور پر آزادی کے تصور اور ایمان کی قوت سے عبارت تھی چنانچہ مسلم دنیا میں نیشنلزم کی قوتوں نے بھی اسلامی تشخص قائم کر لیا تھا لیکن اس ’بابو طبقے ‘اور اس کے زیراثر حلقوں نے مغربی اقدار ہی کو حرز جاں بنائے رکھا اور شعوری یا غیر شعوری طور پر سامراجی قوتوں کے ایجنٹوں کا کردار ادا کیا۔[4]آزادی کے بعد، ان ملکوں میں اقتدار بڑی حد تک اسی مغرب زدہ قیادت کے ہاتھ میں آیا یا لایا گیا جن کی سیاسی تربیت بھی سامراجی دور میں ہوئی تھی۔ اس قیادت کا تعلق مغرب کی ثقافت اور ان کے سیاسی عزائم ہی سے برقرار رہا۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ عالم اسلام میں صرف سرحدوں کا تعین ہی غیرملکی سامراجی آقاؤں نے نہیں کیا تھا، بلکہ نئے ادارے اور نئی قیادت بھی سامراجی دور ہی کی پیداوارتھی ۔ عالم اسلام میں اس وقت جوبحران اور بے اطمینانی محسوس کی جارہی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی صورت احوال ہے۔

احیائے اسلام اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت اور ان کے ذریعے تبدیلی کا عمل جو جمہوریت کی روح ہے، ایک ہی صورت حال کے دو پہلو ہیں۔ اقتدار میں مؤثر عوامی شرکت اور اسلامی تصورات کے مطابق معاشرہ، نیز مسلم سیاست کی تشکیل نو بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔ یہ کام صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون موجود ہو۔ لیکن جن حکمرانوں نے سامراجی آقاؤں ہی سے اقتدار کی وراثت پائی ہے ان کی نظریاتی ، اخلاقی اور سیا سی سوچ عوام سے مختلف ہے۔ حکمران معاشرے اور اس کے اداروں کو مغربی اقدار ونظریات اورمغرب کے نظریاتی نمونوں، سیکولرازم، قومپرستی، سرمایہداری اور نو آبادیاتی نظم کے مطابق ڈھالناچاہتے ہیں۔ وہ اپنے ’زیرتسلط‘ ملکوں میں ایسے قوانین، ادارے اور پالیسیاں روبہ عمل لا نا چاہتے ہیں جومغربی نمونوں سے اخذ کی گئی ہیں مگر عوام یہ سب کچھ اپنے ایمان (عقائد )، اقدار اور امنگوں کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر حصول آزادی کے باوجود حکومتی نظام بعض استثناؤں کے ساتھ جابرانہ اور مطلق العنانیت پر مبنی رہا۔

تاریخ کا سبق تو بڑا ہی واضح ہے اور وہ یہ کہ مسلمان ممالک کو سیکولر مملکت بنانا اور مغربی رنگ میں رنگنا یکطرفہ اور جابر انہ قوت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اقتدار میں عوام کی شرکت حقیقی جمہوری نظام اور اسلام میں کوئی عدم مطابقت نہیں بلکہ عوام کی آزادی، بنیادی حقوق، اقتدار میں عوام کی شرکت پرمبنی جمہوریت اور اسلامی نظام فطری حلیف ہیں ۔ اصل تصادم تو عوام کی اسلامی امنگوں اورحکمران طبقے کے سیکولر مغربی نظریات اور پالیسیوں کے درمیان ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر جابرانہ اور استبدادی قوت کے بغیر غیر اسلامی نظریات و تصورات اور قوانین مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ اصل تضاد ان دونوں ( اسلامی اور مغربی) تصورات میں ہے اور حقیقی جمہوریت مغربی سیکولر بلڈوزر کا پہلا شکار ہے۔ امریکہ کے ایک ماہرعمرانیات فلمر ایس سی نارتھ روپ F.S.C. Northrop) )نے گہرے شعور کے ساتھ کہا ہے۔:’’مجھے یقین ہے کہ یہی وجہ ہے جو اس قسم کے (مثلاً سیکولر ) قوانین عام طور پر پہلے آمر حکمران ہی نافذ کرتا ہے۔ ایسے قوانین کسی عوامی تحریک کا نتیجہ تو ہو نہیں سکتے کیونکہ عوام تو پرانی روایات کے حامل ہوتے ہیں‘‘۔ [5]

پروفیسر ولفرڈ کینٹ ویل سمتھ(Wilfred Cantwell Smith) نے پاکستان کی صورت حال کے حوالے سے نہایت دلچسپ بات کہی ہے:’’ کوئی مملکت جب صحیح معنوں میں جمہوری مملکت بن جاتی ہے تو وہ اپنی فطرت کا اظہار کرتی ہے، چنانچہ ایک مشرقی ملک کی حیثیت میں وہ جتنی جمہوری ہوگی، اتنی ہی مغربی رنگ سے دور ہوتی چلی جائے گی  یہاں تک کہ اگر پاکستان ایک حقیقی جمہوری ملک بن جائے تو جس حدتک وہ جمہوری ہوگا اسی حد تک اسلامی بھی ہو گا‘‘۔[6]

 کینٹ ویل سمتھ نے تو بڑےصاف الفاظ میں یہ بھی کہا ہے کہ ’’اسلام کے بغیر جمہوریت محض ایک بے معنی نعرہ ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ یوں جمہوریت اپنے اسلامی ہونے کےحوالے سے ان (مسلم اُمّہ ) کی اسلامی ریاست کی تعریف کا حصہ بن جاتی ہے‘‘۔[7]

اسپوزیٹو اوروول بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موجودہ دور کی مسلم ریاستوں میں دونوں رجحانات ، یعنی احیائے اسلام اور جمہوریت ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور یہ ان ریاستوں کے کردار کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ وہ معاصر مسلمانوں کے ذہن کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بہت سے مسلم (اسکالرز) اسلامی جمہوریت کی وضاحت میں سرگرمی سے مصروف ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ عالمی سطح پر مسلم ریاستوں میں مذہبی احیا اور جمہوری عمل ایک دوسرےکی تکمیل کررہے ہیں ‘‘۔[8]

حال ہی میں دواسکالروں ڈیل ایکل مین(Dale Eickelman) اور جیمز پسکا ٹوری (James Piscatori)نے مسلم سیاست کے حوالے سے ایک مطالعاتی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ’’مسلمانوں میں اس وقت جمہوریت کے بارے میں جو خیالات پائے جاتے ہیں اور جو ان کی اپنی اقدار اور امنگوں کے مطابق ہیں، ان پرنئے زاویوں سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں میں اسلامی ریاستوں پر مغربی طرز کی جمہوریت کا پیوند لگانے کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے، اسے بھی پیش نظر رکھا جاناضروری ہے‘‘۔ ان دونوں اسکالروں نے اپنی بات اس طرح ختم کی ہے ۔

’’ مسلم سیاست کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے ان چیلنجوں کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جو مستقبل قریب میں پالیسی سازوں کو درپیش ہوسکتی ہیں۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ صرف مغرب زدہ اشرافیہ کی بات نہ سنی جائے بلکہ بہتسی دیگر مسلم آ وازوں پر بھی توجہ دی جائے۔ اس جانب پہلا قدم، یہ معلوم کرنا ہے کہ مسلمانوں میں سند جواز اور عدل کے تہذیبی تصورات کیا ہیں؟ یہ بھی  تسلیم کرنا چاہیے کہ مذہبی یا غیر مذہبی منصفانہ حکومت کا تصور بھی متعین نہیں ہے۔ مسلمانوں کے ان تصورات کی تفہیم بعض لوگوں کے اس ناروا تاثر کو دور کرنے میں ممدثابت ہوگی کہ دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات اکثر معاندانہ ہوتے ہیں اور مسلمانوں کا طرز حکومت لازماً جابرانہ اور آمرانہ ہوتا ہے‘‘۔[9]

 اسلام اور مسلم اُمّہ نے آمرانہ اور جابرانہ حکومت کو کبھی بھی پسند نہیں کیا۔ مسلمانوں میں جہاں کہیں بھی آمرانہ حکومتیں ہیں، وہ نو آبادیاتی سامراج اور مغرب زدگی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا مسلمانوں کے تصورات، تاریخ یا ان کی امنگوں اور آرزوؤں سے کوئی تعلق نہیں ۔ مسلمان مغرب کی سیکولر جمہوریت کو اپنے اصولوں، اقدار اور روایات سے بیگانہ تصور کرتے ہیں ۔ لیکن جمہوریت کی ان شان دار روایات سے ہم آہنگی محسوس کرتے ہیں جس کا تعلق اقتدار میں عوام کی شرکت، جس کے نتیجے میں انصاف کی حکمرانی، ہر سطح پر مشاورت کاعمل، فرد کے حقوق اورحق اختلاف کی ضمانت سے ہے۔ وہ اس کو اشدضروری سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور سیاسی ثقافت میں تکثیر کا تسلسل  یقینی ہو۔ ان کے بارے میں ان کے اپنے تصورات اور تاریخی روایات ہیں۔ چنانچہ اسلام اور جمہوریت کی اس حقیقی روح میں کوئی تصادم یا تضاد نہیں ۔ بعض مسلم ممالک میں جو آمرانہ اور جابرانہ حکومتیں نظر آ رہی ہیں، وہ ان غیر ملکی اور اوپر سے بذریعہ طاقت ٹھونسی گئی روایات کا حصہ ہیں، جن کے خلاف جدوجہد میں احیائے اسلام کی قوتیں مصروف ہیں ۔ اسلام اور حقیقی جمہوریت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ چنانچہ استبدادی اور جابرانہ حکومتیں خواہ شہری ہوں یا فوجی آمریت، نامنہاد جمہوری ہو یا موروثی، یہی جمہوریت کی نفی اور بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کی ذمہدار ہیں ۔ ایسی حکومتیں مغربیت اور لادینیت کا ثمرہ ہیں، اسلام کا نہیں۔ اسی طرح عوامی جمہوریت سے انکار اور اسے دبا کر رکھنے کا عمل اسلام کا نہیں، لادینیت اور مغرب زدگی کا ایجنڈا ہے۔ اسلامیاحکام اور مسلم عوام کی مرضی، خواہشات اور امنگیں تو ایک ہی ہیں۔ جمہوری عمل يقيناً نفاذِ اسلام میں ناگزیر پیش رفت ہے۔ اسلامی امنگوں کی تکمیل جمہوری عمل کے آگے بڑھنے ہی سے ممکن ہے۔ نوآبادیاتی دور کے بعد کے عالم اسلام کی حالیہ تاریخ میں آمرانہ نظام، سیکولرازم یا سوشلزم ایک ساتھ آگے بڑھے ہیں، جب کہ احیائے اسلام، آزادیِ  جمہور اور اقتدار میں عوام کی شرکت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

نو آبادیاتی طاقتوں کے تسلط سے آزادی کے لیے مسلم اُمّہ آج بھی اپنے جمہوری حقوق، اپنے اندازِ سیاست، اپنے تصورات، امنگوں اور نظریات کی روشنی میں اپنے عوام کی اقتصادی حالت بہتر بنانے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ مسلم اُمّہ ایسے احکام، نظریاتی جبر اور ایسے جمہوری نمونوں کے تحت زندگی گزارنے سے انکاری ہے جو اسکے دین سے متصادم ہوں، اس کی اقدار کے منافی ہوں، اس کی تاریخ سے لگّا نہ کھاتےہوں، اور اس کی روایات کے على الرغم ہوں ۔ اگر جمہوریت کا مطلب کسی قوم کا حقخودارادیت اور اپنے بل پر تکمیلِ خودی ہے، تو یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اسلام اور مسلمان روز ِاوّل سے جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ وہ نہ تو اس سے زیادہ کچھ چاہتے ہیں اور نہ اس سے کم پر راضی ہوںگے۔                                            

                                                    (           مارچ۲۰۰۸ء)


[1]           جان اسپوزیٹو، جان وول،Islam and Democracy  (نیویارک، ۱۹۹۶ء) اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ص ۴۱

[2]           جان اسپوزیٹو، جان وول،Islam and Democracy  (نیویارک، ۱۹۹۶ء) اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ص ۴۸-۴۹

[3]           جان اسپوزیٹو، جان وول،Islam and Democracy  (نیویارک، ۱۹۹۶ء) اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس،  ص ۴۱

[4]           ایچ اے آرگب (H.A.R. Gibb)  ،Modern Trends in Islam میں لکھتے ہیں کہ’’ نیشنلزم اپنی مغربی توضیح میں صرف ان دانشوروں تک محدود ہے جن کا مغربی افکار سے براه راست یا گہرا ربط ہے۔ مگر قوم پرستی کے اس نظریے کی جب عام ذہن تک رسائی ہوئی تو اس کی ہیئت میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس تبدیلی سے قدیم جبلی محرکات اور مسلم عوام کی قوت محرکہ کے دباؤ کی وجہ سے بچنا ممکن بھی نہ تھا“ (Modern Trends in Islam) شکاگو، شکاگو یونی ورسٹی پریس، ۱۹۴۷ء ص ۱۱۹)۔

اسی طرح ولفرڈکینٹ ویل اسمتھ (Wilfred Cantwell Smith) Islam in Modern History میں لکھتے ہیں: ”مسلمانوں میں کبھی قومیت کی سوچ نے ارتقا نہیں پایا جس کا مفہوم وفاداری یا کسی ایسی قوم کے لیے تشویش کا پایا جانا ہو، جو اسلام کی حدود کو پامال کر رہی ہو … ماضی میں صرف اسلام ہی نے لوگوں کے اندر اس قسم کا نظم و ضبط تحریک اور قوت پیدا کی ہے“۔ ((Princeton N.J)  ۱۹۵۷ء، ص۷۷)

[5]           فلمر ایس سی نارتھ  روپ(Filmer S.C. Northrop)، Colloquium on Islamic Culture (پرنسٹن  یونیورسٹی پریس، ۱۹۵۳ء، ص۱۰۹)

[6]                       ولفرڈ – سی اسمتھ ،Pakistan as an Islamic State (لاہور،۱۹۵۴ء)، ۵۰

[7]                       ولفرڈ – سی اسمتھ ،Pakistan as an Islamic State (لاہور،۱۹۵۴ء)،ص ۴۵

[8]                       جان اسپوز یٹو (John Louis Esposito) ، جان وول (John O. Voll) ،op.cit ص ۲۱

[9]           Muslim Politics.  Dale F. Eickelman and James Piscatori (Princeton University Press, 1996).

اسلامیاحکام اور مسلم عوام کی مرضی، خواہشات اور امنگیں تو ایک ہی ہیں۔ جمہوری عمل يقيناً نفاذِ اسلام میں ناگزیر پیش رفت ہے۔ اسلامی امنگوں کی تکمیل جمہوری عمل کے آگے بڑھنے ہی سے ممکن ہے۔ نوآبادیاتی دور کے بعد کے عالم اسلام کی حالیہ تاریخ میں آمرانہ نظام، سیکولرازم یا سوشلزم ایک ساتھ آگے بڑھے ہیں، جب کہ احیائے اسلام، آزادیِ  جمہور اور اقتدار میں عوام کی شرکت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

نو آبادیاتی طاقتوں کے تسلط سے آزادی کے لیے مسلم اُمّہ آج بھی اپنے جمہوری حقوق، اپنے اندازِ سیاست، اپنے تصورات، امنگوں اور نظریات کی روشنی میں اپنے عوام کی اقتصادی حالت بہتر بنانے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ مسلم اُمّہ ایسے احکام، نظریاتی جبر اور ایسے جمہوری نمونوں کے تحت زندگی گزارنے سے انکاری ہے جو اسکے دین سے متصادم ہوں، اس کی اقدار کے منافی ہوں، اس کی تاریخ سے لگّا نہ کھاتےہوں، اور اس کی روایات کے على الرغم ہوں ۔ اگر جمہوریت کا مطلب کسی قوم کا حقخودارادیت اور اپنے بل پر تکمیلِ خودی ہے، تو یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اسلام اور مسلمان روز ِاوّل سے جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ وہ نہ تو اس سے زیادہ کچھ چاہتے ہیں اور نہ اس سے کم پر راضی ہوںگے۔                                                                                                 (           مارچ۲۰۰۸ء)

آزادیٔ اظہار اور ناموس رسالت ؐ

آج کے تہذیبی مباحث میں آزادیٔ اظہار اوراختلاف کی آزادی ایک اہم عنوان ہے۔ بلاشبہ اختلاف رائے ایک تسلیم شدہ حق ہے۔ تاہم جس طرح رائے اور اظہار کی آزادی  کا حق تسلیمشدہ ہے اسی طرح یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ حق لامحدود اور غیر مشروط نہیں ہے۔ اس کے باوجود بالخصوص مغربی دنیا سے وقتاً فوقتاً اظہار رائے کے حق کو بنیاد بناکر شانرسالت ؐ میں گستاخی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ بظاہر یہ واقعات انفرادی قرار دیے جاتے ہیں لیکن درحقیقت متعدد مواقع پران کے  پس پردہ حکومتوں اور اداروں کی تائیدوتعاون بھی موجود ہوتا ہے۔  اکتوبر ۲۰۲۰ء میں فرانس کے صدر نے جس طرح اپنے بیانات اور عمل کے ذریعہ توہین رسالت ؐ کی مہم میں شرکت کی اس نے تو اب عام آدمی اور حکومتوں کے طرزعمل میں فرق بھی ختم کر دیا ہے۔ زیرِنظر مضمون میں مصنف نے اس مجموعی تناظر میں اظہاررائے کی آزادی کے تصور، اس کی حدود اور مغرب کے دہرے معیارات پر بحث کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔

________________

فردہو یا قوم، دونوں کے وجود کے دو پہلو ہیں: ایک جسمانی اور طبیعی اور دوسرا روحانی، اخلاقی، نظریاتی اور تہذیبی جس سے اس کی شناخت واضح ہوتی ہے۔ جس طرح نفس اور جسم پر ہروہ حملہ یا ضرب جو قانون سے ماوراہو، ایک جرم اور لائق تعزیر ہے، اسی طرح روحانی اور نظریاتی وجود اور شناخت پر حملہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس جارحیت کے خلاف مزاحمت ہرفرد اور قوم کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ معاملہ ملک کے اندر ہو یا اس کا تعلق اقوامِ عالم سے ہو، انسانوں، معاشروں اور تہذیبوں کے درمیان امن و آشتی اور سلامتی و استحکام کا انحصار قانون اور ضابطوں کے احترام ، ان پر عمل اور ان کی نگرانی پر ہے۔ ان حدود کو پامال کرنے کا نتیجہ انتشار، تصادم اور فساد فی الارض کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔

۱۱ستمبر ۲۰۱۲ء کو اسلام اور نبی پاک ﷺ  کی ذاتِ اقدس پر جو حملہ امریکہ کی کچھ شیطانی قوتوں نے یوٹیوب پر جاری ہونے والی ایک فلم کی شکل میں کیا[1] اور جس سوچے سمجھے انداز میں پوری چابک دستی کے ساتھ مسلمانوں کے ایمان، نظریاتی وجود اورعزتوغیرت کو چیلنج کیا، اور پھر جس تحدی اور ڈھٹائی کے ساتھ اسے آزادیِ اظہار کے نام پر سرکاری تحفظ فراہم کیا گیا، اس نے فطری طور پر عالمِ اسلام میں ایک آگ سی لگا دی۔ امریکی حکومت، میڈیا، دانش وروں اور دوسری مغربی اقوام کے کرتادھرتا عناصر نے، خصوصیت سے فرانس کے میڈیا اور حکومت نے جو رویہ اختیار کیا، اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مصر کے صدر [مرسی] کے استثنا کے ساتھ تمام ہی مسلمان حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور بے عملی نے مسلمان عوام کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے ایمان اور ناموسِرسالتﷺ کے تحفظ کے لیے میدان میں اُتریں۔ یہ ان کا حق ہی نہیں، فرض تھا جسے انھوں نے اور ان کی دینی قیادت نے پورا کیا۔

 یہ امر افسوس ناک ہے کہ کچھ مقامات پر اس ردعمل نے تشدد کا رُخ اختیار کرلیا جس کے نتیجے میں ۵۰سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ بدنما صورت بہت ہی محدود اور انگلیوں پر گنے جانے والے مقامات پر رُونما ہوئی ہے اور وہاں بھی مظاہرین کے بے قابو ہوجانے سے بھی کہیں زیادہ نقصان سرکاری اہل کاروں کے قوت کے استعمال اور تصادم کے نتیجے میں واقع ہوا ہے۔ لیبیا کے واقعے کے علاوہ کہیں بھی تشدد میں پہل مظاہرین نے نہیں کی حالانکہ مغربی میڈیا اور ان کے مقامی نام نہاد لبرل حاشیہ نشین اصل مسئلے سے توجہ کو ہٹاکر تشدد  یا  بے اعتدالی کے معدودے چند واقعات کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ اُمت مسلمہ کی اپنی قیادت نے تشدد کی مذمت کی ہے اور احتجاج کو پُرامن، جمہوری اور اخلاقی حدود میں رکھنے کی سختی سے تلقین کی ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے بحیثیتمجموعی ان آداب کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے۔ بلاشبہ ایک جان کا بھی ناحق جانا غلط اور ناقابلِ معافی ہے، لیکن اُمت مسلمہ کے دینی اور قانونی ردعمل کو مسلمانوں کے غصے (Rage)اور انتقام (Revenge)کا نام دے کر بحث کا رُخ بدلنا ایک شرم ناک کھیل ہے جس کا اسی طرح پردہ چاک کرنے کی ضرورت ہے، جس طرح اصل کروسیڈی اور صیہونیحملے کا مؤثر جواب اور مسئلے کے مستقل حل کے لیے منظم اور مؤثر کوشش ضروری ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس مسئلے کے تمام اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے، بگاڑ کے اصل اسباب کی نشان دہی کی جائے، اور حالات کو سدھارنے کے لیے جس حکمت عملی کو اختیار کرنا ضروری ہے اس کو صاف الفاظ میں بیان کیا جائے۔

ناموسِ رسالت ؐ  پر حملہ یا نئی تہذیبی جنگ

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے بعض قبطی، عیسائی شدت پسند اور اسرائیلی صیہونی  شرپسندوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ایک نہایت گھٹیا، مکروہ اور غلیظ فلم کے ذریعے اسلام اور اس کے پاک نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بناکر پوری اُمت مسلمہ کے خلاف جس جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، اس کے بنیادی حقائق ہرکس و ناکس کے سامنے آگئے ہیں، اس لیے ان کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ نیز یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اسلام اور حضورپاکﷺ کی ذاتِ بابرکات کو سب و شتم، جھوٹ اور افترا اور خبث باطن اور زہرناک دشمنی پر مبنی خیالی الزامات اور اتہامات کا نشانہ بنانا مغربی اہلِ قلم، مشنری اداروں اور میڈیا کا شیوہ رہا ہے، اور اس کا اعتراف مشہور عیسائی مؤرخ ڈبلیو منٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt)نے ان الفاظ میں کیا ہے:’’دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں سے کسی کو بھی محمد ﷺ سے زیادہ بدنام نہیں کیا گیا‘‘۔

لیکن آج جس طرح، جس زبان میں اور جس تسلسل سے یہ جارحانہ کارروائیاں ہورہی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اس پر مستزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کی نئی قوت کہ چشمزدن میں یہ آگ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج مغربی میڈیا، دانش وروں کی اکثریت اور امریکہ اور یورپی اقوام کی سیاسی قوت، سب اپنے اپنے انداز میں اس خطرناک کھیل میں شریک ہیں جس کی وجہ سے مسئلے کی جوہری نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ آج امریکی دستور کی پہلی ترمیم جس کا تعلق مذہب اور ریاست کی علیحدگی اورآزادیٔ رائے اور اظہار کی آزادی سے متعلق ہے، اور اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے اعلامیے کا سہارا لے کر اسلام، پیغمبرؐاسلام اور اُمت مسلمہ کو مطعون کرنے اور ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑکانے اور ان کو صفحۂ ہستی سے مٹادینے کے عزائم اور منصوبوں کا پرچار ہی نہیں، ان پر دعوتِ عمل دینے کا جو کام ہورہا ہے اس کا نوٹس نہ لینا اور حالات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے بروقت اقدام نہ کرنا ایک مجرمانہ غفلت ہوگی۔

علمی تنقید اور دلیل پر مبنی اختلافِ رائے نہ  پہلے کبھی محل نظر تھا اور نہ آج ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کا جو غلغلہ مغربی اہلِ قلم نے برپا کیا، وہ بھی کسی نہ کسی طرح برداشت کر لیا  گیا۔ لیکن جس نظریاتی، تہذیبی اور سیاسی جنگ کو اب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلط کیا جارہا ہے، وہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور یورپی اقوام کی عسکری قوت اور سیاسی معرکے کا اصل ہدف مسلم دنیا بن گئی ہے، اور عالمِاسلام کے سیاسی، معاشی اور تہذیبی نقشے کو اپنے حسبِ خواہش تبدیل کرنے کا عمل بڑی چابک دستی سے کارفرما ہے۔ امریکی قیادت بڑی معصومیت سے کہہ رہی ہے کہ اس فلم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، اور ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے افراد ایسی مذموم اور قبیح حرکتوں کو ناپسند بھی کرتے ہوں گے، لیکن یہ کہنا کہ امریکی اور یورپی قیادت کا دامن اس پورے کھیل سے پاک ہے جو تسلسل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، کسی طرح بھی قابلِ یقین نہیں۔ نائن الیون کے معاً بعد جس جنگ کا آغاز جارج بش نے صلیبی جنگوں Crusadesکی تاریخی اصطلاح کو استعمال کر کے کیا تھا، وہ محض زبان کی لغزش (Slip of the tongue) نہ تھی اور بعد کے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ                                                                             ؏

ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ

گوانتاناموبے میں بار بار قرآنِ پاک کی بے حُرمتی کی گئی ہے، افغانستان کے بگرام کے عسکری اڈے پر ۱۰۰سے زیادہ قرآنِ پاک نذرِ آتش کیے گئے ہیں، امریکہ  کے اعلیٰ فوجی ادارے جوائنٹ فورسز اسٹاف کالج میں اسلام کے خلاف لیکچرز نصاب میں شامل کیے گئے، جن میں اسلامی دنیا کو دشمن قرار دیتے ہوئے مکہ اور مدینہ کو ایٹم بم سے اُڑا دینے تک کا پیغام دیا گیا۔ اسی طرح ڈینش رسالے میں ہتک آمیز خاکے چھاپے گئے۔ امریکی پادری ٹیری جونز (Terry Jones)نے قرآنِپاک جلانے کی ملک گیر مہم چلائی ، فرانس کے رسالے چارلی  ہیبڈو(Charlie Hebdo)  میں رسول پاکؐ کے تضحیک آمیز خاکے شائع ہوئے۔ ہالینڈ میں پارلیمنٹ کے رکن نے اسلام کے خلاف ہرزہسرائی کی، ناروے میں اسلام دشمنی کے نام پر خود اپنے ۷۰سے زیادہ نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔یہ سب غیرمربوط واقعات نہیں ایک پوری اسکیم کا حصہ نظر آتے ہیں۔ اُمت مسلمہ کا ضمیر اس خطرے کو بھانپ رہا ہے، اور حکمرانوں کا رنگ ڈھنگ جو بھی ہو ، عوام امریکہ اور مغربی اقوام پر بھروسا نہیں کرتے اور اپنے دفاع کے لیے مضطرب ہیں۔ اب یہ منظرنامہ اتنا واضح ہوتا جا رہا ہے کہ خود مغرب کے اہلِ نظر کا ایک طبقہ اس خطرناک کھیل پر اپنی پریشانی کا اظہارکر رہا ہے اور اسے خود مغربی اقوام اور خصوصیت سے عوام کے مفاد کے منافی محسوس کر رہا ہے۔

آزادیٔ رائےکی آڑ میں مذموم مقاصد

نکولا بیسلے نکولا(Nakoula Basseley Nakoula) عرف سام بیسائل (Sam Becile)کی ’مسلمانوں کی معصومیت‘ (Innocence of Muslims)کے نام پر امریکی اور یہودی سرمائے سے بنائی ہوئی یہ شیطانی فلم امریکی سفیر رچرڈ  ہوگلینڈ (Richard Eugene Hoagland) کے الفاظ میں: ’’ایک شخص کا ذاتی فعل ہے، یہ سارے امریکہ  کی رائے نہیں‘‘ مگر یہ رائے تسلیم کرنا عقل اور تاریخ دونوں کے ساتھ مذاق ہوگا۔ فلم کتنی قبیح اور اشتعال انگیز ہے اس کے بارے میں صرف ایک پاکستانی صحافی جناب حامدمیر کے یہ الفاظ پڑھ لینا کافی ہیں کہ:

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور القاعدہ کے حملوں سےتین ہزار امریکی مارے گئے تھے لیکن ۱۱ستمبر ۲۰۱۲ء کو یوٹیوب پر جاری کی جانے والی اس فلم نے کروڑوں مسلمانوں کی روح کو زخمی کیا۔ میں اس فلم کو چندمنٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکا۔ اس خوف ناک فلم کی تفصیل کو بیان کرنا بھی میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ بس یہ کہوں گا کہ اس فلم کے چند مناظر دیکھ کر سام بیسائل کے مقابلے پر اسامہ بنلادن بہت چھوٹا انتہاپسند محسوس ہوا۔ یہ اعزاز اب امریکہ  کے پاس ہے کہ اس صدی کا سب سے بڑا دہشت گرد سام بیسائل اپنی انتہائی گندی اور بدبودار ذہنیت کے ساتھ صدراوباما کی پناہ میں ہے۔(روزنامہ جنگ، ۱۷ستمبر ۲۰۱۲ء)

امریکہ ، مغربی حکمران اور میڈیا ’آزادیِ اظہار رائے‘ کے نام پر اس صیہونی اور صلیبیجنگ کے کمانڈروں کا پشتی بان ہے اور مسلمانوں کو درس دے رہا ہے کہ’’ معاملہ آزادی کے بارے میں دوتصورات کا ہے‘‘ (ملاحظہ ہو: Behind Clashes, Two Versions of Freedom، انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون ، ۱۸ستمبر ۲۰۱۲ء)۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آزادی اور اس کے تصورات سے اس معاملے کا دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ بات تہذیبوں کے تصادم سے آگے بڑھ کر امریکہ اوریورپی اقوام کے اسلام اور اسلامی دنیا کے بارے میں عزائم کی ہے، اور جو کردار یہ فلم ساز، خاکہ نگار، صحافی اور سیاسی اداکار انجام دے رہے ہیں وہ امریکہ اور یورپ کی سامراجی قوتوں کے نقشۂ جنگ میں اپنے مقام پر بالکل ٹھیک فِٹ ہوتا ہے اور اب اس کا اعتراف خود ان کے درمیان سے بھی آنے لگا ہے۔

دی گارجین کا کالم نگار سیماس ملن اپنے ۱۸ستمبر ۲۰۱۲ء کے مضمون میں (جس کا عنوان بھی چونکا دینے والاہے، یعنی: ’’تعجب کی بات صرف یہ ہے کہ شرق اوسط میں اور زیادہ پُرتشدد مظاہرے کیوں نہیں ہوئے‘‘)لکھتا ہے:

 رُشدی کے معاملے اور ڈنمارک سے شائع ہونے والے متنازعہ خاکوں کے تناظر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ محمدﷺ کی توہین عام طور پر مسلمان اپنے اجتماعی تشخص پر حملہ سمجھتے ہیں جیساکہ نعروں اور اہداف سے واضح ہے۔ جس چیز نے احتجاج کو بھڑکایا وہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو پہنچنے والا زخم گویا کہ ایک غرور سے بھری طاقت نے لگایا ہے جس نے کئی عشروں سے عرب اور مسلم دنیا پر حملہ کیا ہے، انھیں غلام بنایا ہے، اور ان کی تذلیل کی ہے۔

ایک اور دانش ور جیمز روزلنگٹن (James Roslington)جو کیمبرج یونی ورسٹی میں تاریخ میں پی ایچ ڈی کا محقق ہے، الجزیرہ میں اپنے مضمون میں کہتا ہے:

بیش تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی مسلم دشمن ویڈیو امریکہ  کے لذت پرست کلچر اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا فطری نتیجہ ہے۔ مختصراً یہ کہ بہت سے مسلمانوں کے لیے یوٹیوب کی کلِپ ان کی زندگیوں اور کلچر پر امریکہ  کے بگاڑ پیدا کرنے والے اثرات کی علامت ہے۔

Counter Punchجو ایک مشہور آن لائن رسالہ ہے اس کے ۱۸ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں جیف سپیرو (Jeff Sparrow)اپنے مضمون Islamophobia, Left and Rightمیں لکھتا ہے:

لیکن خود فلم کے بارے میں کیا کہا جائے؟ غیرپیشہ ورانہ فلم کاری کا اتنا پھٹیچر نمونہ ایسا شعلۂ  جوالہ (فلیش پوائنٹ) کیوں بن گیا؟ یہ فلم ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے، جب کہ یورپ اور امریکہ میں دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے ایک ایسا اسلام دشمن نظریہ اپنا لیا ہے جو تقریباً بالکل ٹھیک ٹھیک روایتی یہود مخالف کلیدی طریقوں کو دُہراتا ہے۔

بات صرف اس فضا کی نہیں، اس فضا کو بنانے، اسے تقویت دینے، اسے اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ہے۔ ہدف اُمت مسلمہ کی شناخت اور اس کا سیاسی اور تہذیبی کردار ہے۔ مسئلہ دینی، اخلاقی اور تہذیبی ہے اور بلاشبہ ایک خاص سیاسی اور Geo-strategicتناظر نے اسے اور بھی گھمبیر کردیا ہے۔ بات اب صرف ان افراد تک محدود نہیں جو اس میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، اصل مسئلہ ان قوتوں کا ہے جو ان کو پناہ دیے ہوئے ہیں اور جن کی پالیسیوں، جن کے تضادات اور دوعملیوں اور جن کے سیاسی اور عسکری مفادات ہی نے ان کو یہ کھیل کھیلنے کا موقع دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اور امریکہ اور یورپی ممالک کے جن دستوری حقوق کے نام پر اسلام اور پیغمبرؐاسلام اور مسلم اُمہ پر وَار کیے جارہے ہیں ان کی حقیقت کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔

امریکی دستور اور دیگر قوانین میں آزادیٔ رائےکے دعوے کی حقیقت

امریکی صدر، وزیرخارجہ، سفرا، دانش ور اور صحافی ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں وہ ہے امریکی دستور کی پہلی ترمیم، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور انسانی حقوق کا یورپی کنونشن (European Convention on Human Rights) ۔ دعویٰ ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں مغربی تہذیب اور امریکہ اور یورپ کے سیاسی اور قانونی نظام کی بنیاد فرد کی آزادی ہے اور یہ وہ بنیادی قدر ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا، خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں اور خواہ اس کی زد دنیا کے دوسرے مذاہب، اقوام اور انسانوں کے ایمان، عزت، تہذیب، اقدار اور ثقافتی اور دینی وجود اور شناخت پر کچھ بھی پڑے اور کتنے ہی انسانوں کی دل آزاری اور ان کی مقتدر شخصیات کی بے حُرمتی اور تضحیک ہو۔

ہم بڑے ادب سے عرض کریں گے کہ آزادی بلاشبہ ایک بنیادی انسانی قدر ہے اور ہم اس کی اہمیت اور قدردانی میں کسی سے پیچھے نہیں، لیکن آزادی تو ممکن ہی کسی ضابطۂ کار کے اندر ہوتی ہے ورنہ مادرپدر آزادی جلد انارکی بن جاتی ہے۔

جرمن مفکر ایمانویل کانٹ(Immanuel Kant) نے بڑے دل نشیں انداز میں اس عقدہ کو یہ کہہ کر حل کردیا تھا کہ ’’مجھے ہاتھ ہلانے کی آزادی ہے لیکن میرے ہاتھ کی جولانیاں وہاں ختم ہوجاتی ہیں جہاں سے کسی دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے‘‘۔ آزادی اسی وقت خیر کا ذریعہ ہوگی جب وہ دوسروں کی آزادی اور حقوق پر دست اندازی کا ذریعہ نہ بنے۔ اظہار رائے کی آزادی کے معنی نفرت، تضحیک اور تصادم کے پرچار کی آزادی نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کو باقی تمام اقدار سے الگ کرکے نہیں لیا جاسکتا۔ اس کا واضح ترین ثبوت یہ ہے کہ ہرشخص آزاد ہے لیکن اسے یہ آزادی حاصل نہیں کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے کسی دوسرے شخص کا غلام بن جائے۔ حتّٰی کہ دنیا کے بیش تر قوانین میں آج بھی خودکشی ایک جرم ہے، اس لیے کہ آپ خود اپنی جان لینے کے لیے آزاد نہیں ہیں۔ نہ کوئی دوسرا بلاحق کے آپ کی جان لے سکتا ہے اور نہ آپ خود اپنی جان کو تلف کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

مغرب کے اربابِ اقتدار اور اہلِ دانش اور خود ہمارے ممالک میں ان کے نام نہاد لبرل پیروکار امریکی دستور کی پہلی ترمیم کا راگ الاپ رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امریکی دستور کی بنیاد جیفرسن(Thomas Jefferson) کا یہ مقولہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور قانون اور دستور کے تحت سب کا مساوی مقام ہے۔ امریکی دستور کی پہلی ترمیم اپنی جگہ اہم ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ:

کانگرس کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو کسی مخصوص مذہب کا احترام کرتا ہو، یا ان کے آزادانہ استعمال کو منع کرتا ہو، یا آزادیِ اظہار میں کمی کرتا ہو، یا رائے کی آزادی، پریس کی آزادی، عوام کے جمع ہونے کا حق اور شکایت پیدا ہونے پر حکومت کے پاس درخواست دینے کے حق سے روکتا ہو۔

اس میں ترمیم نمبر۴بھی ہے، جو کہتی ہے:

عوام کا اپنی ذات کی حد تک تحفظ کا حق، مکانات، کاغذات اور سامان کے تحفظ کے حق، اور غیرمعقول تلاشیوں اور ضبطیوں کے خلاف تحفظ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔کوئی وارنٹ جاری نہیں کیا جائے گا جسے کسی ممکنہ جواز کی تائید حاصل نہ ہو، اور جس جگہ کی تلاشی مقصود ہو اور چیزیں قبضے میں لینا ہوں ان کو وضاحت سے بیان نہ کیا گیا ہو۔

اسی طرح ترمیم ۵ہے جس کے ذریعے جان، مال اور آزادی کے لیے Due process of law کے بغیر محرومی کوممنوع کیا گیا ہے۔ ترمیم نمبر۸ہے جس میں Excessive (بہت زیادہ، ظالمانہ) زرضمانت، جرمانہ اور سزا کو منع کیا گیا ہے اور یہ اصول ترمیم نمبر۹میں تسلیم کرلیا گیا ہے کہ :

دستور میں کسی خاص حق کے اندراج کے یہ معنی نہیں لیے جانے چاہییں کہ عوام کو حاصل دوسرے حقوق سے انھیں محروم کیا جائے یا ان کی تحقیر کی جائے۔

سوال یہ ہے کہ پہلی ترمیم جہاں اظہارِ رائے کی آزادی دیتی ہے یا ریاست کی طرف سے مذہب کو مسلط کرنے کا دروازہ بند کرتی ہے وہیں مذہب کی آزادی بھی دیتی ہے۔ نیز اگر دستور میں دیے ہوئے باقی تمام حقوق کو قانون اور اخلاق کا پابند کیا گیا ہے تو اظہارِ رائے کی آزادی کو اس سے آزاد اور مبّرا کیسے کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ  کی سپریم کورٹ نے ۱۹۴۲ء کے اپنے ایک اہم فیصلے میں اس امر کو واضح کردیا ہے مگر امریکی حکمران اور دانشور اس کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے:

تقریروں کی کچھ ایسی متعین اور محدود قسمیں ہیں جن کو روکنے یا سزا دینے پر کوئی دستوری مسئلہ کبھی نہیں اُٹھایا گیا۔ اس میں فحش اور ناشائستہ، ملحدانہ، جھوٹے الزام لگانے والے یا ایسے توہین آمیز اور اشتعال انگیز الفاظ جو اپنی ادائیگی سے ہی امن کا فوری بگاڑ پیدا کریں، شامل ہیں۔ اس بات کا بخوبی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے الفاظ کسی بھی نقطۂ نظر کی وضاحت کا لازمی حصہ نہیں ہوتے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے اتنی کم سماجی قدروقیمت رکھتے ہیں کہ نظم اور اخلاقیات میں کوئی بھی سماجی مفاد جو ان سے پہنچ سکتا ہو، واضح طور پر بے وزن ہوجاتا ہے۔

الجزیرہ میں ۱۸ستمبر ۲۰۱۲ء کو ایرک بلیخ (Erik Bleich) جو مڈل برے (Middlebury)کالج میں علمِ سیاسیات کا پروفیسر ہے، کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عوام اور اہم ادارے ایسی قانون سازی کے حق میں ہیں جس کے نتیجے کے طور پر نفرت پھیلانے والے خیالات کے اظہار کا دروازہ بند کیا جاسکے، جیساکہ کتاب قانون کی حدتک یورپ کے کئی ممالک بشمول ڈنمارک میں ایسے قوانین موجود ہیں۔ گو وہ بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے طوفان کو نہیں روک سکے۔

پروفیسر ایرک بلیخ  کہتا ہے کہ امریکی رائے عامہ کے تمام سروے جو ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۸ء تک ہوئے ہیں ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام کی اکثریت اس کے حق میں ہے کہ ایسی آرا کے پبلک اظہار پر پابندی ہونی چاہیے جو نفرت پھیلانے اور خصوصیت سے دوسری نسل کے لوگوں کے خلاف زہر اُگلنے والےہوں۔

امریکہ اور یورپی اقوام کے دوغلے پن کا سب سے بڑا ثبوت صیہونیت، اسرائیلی اور خصوصیت سے جرمنی میں ہٹلر کے دور میں یہودیوں پر توڑے جانے والے مظالم جن کو ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے ، کے بارے میں قانون سازی اور عملاً Anti-Semitism(یہود مخالف)کے نام پر اسرائیل، یہودیت، صیہونیت کے بارے میں کسی بھی مخالف رائے کا اظہار یا ہولوکاسٹ کے انکار، حتّٰی کہ صیہونیوں کے پروپیگنڈے کے بارے میں کسی بھی شک و شبہے تک کا اظہار قانوناً جرم بنا دیا گیا ہے۔ دسیوں افراد کو ان قوانین کے تحت سزائیں دی گئی ہیں، اس سے اظہارِرائے کی آزادی کے مقدس اصول پر کوئی حرف نہیں آیا۔

رابرٹ فسک(Robert Fisk) نے لندن کے اخبار انڈی پنڈنٹ کے ۱۳ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں نیوزی لینڈ کے ایک ایڈیٹر سے اپنی گفتگو نقل کی ہے، جس نے بڑے فخر سے دعویٰ کیا کہ اس نے نبی پاک ﷺ  کو نشانہ بنانے والے ڈینش کارٹون اپنے اخبار میں شائع کیے:

 جب میں نے اس سے یہ پوچھا کہ جب اسرائیل لبنان پر دوبارہ حملہ کرے گا تو کیا تم ایک ایسا کارٹون شائع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہو جس میں ایک ربی (Rabbi) کے سر میں بم لگا ہو، تو اس نے مجھ سے فوراً اتفاق کیا کہ یہ یہود مخالف ہوگا۔

امریکی دستور کی پہلی ترمیم کی دہائی دینے والوں اور آزادیٔ اظہارِ رائے کا دعویٰ کرنے والوں کا یہی وہ تضاد ہے جس نے ان کی اصول پرستی، آزادی نوازی اور جمہوریت پسندی کا پول کھول دیا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے خبث باطن کو واشگاف کردیا ہے۔

یورپ کے ۳۴ممالک میں Anti-Semitismاور ہولوکاسٹ کے خلاف قوانین موجود ہیں جن کے تحت اس بارے میں ہر نوعیت کا منفی اظہارِ رائے جرم ہے جس پر قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ امریکہ میں بھی ایک دوسرے انداز میں قانون تک موجود ہے جسے Global Anti-Semitism Review Act of 2004کہا جاتا ہے اور عملاً جس کے نتیجے میں یہودی مذہب تک کو تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ اگر صیہونی  لابی کے زیراثریہ قانون سازی ہوسکتی ہے تو ۶ء۱؍ارب مسلمانوں اور ان کی ۵۷آزاد مملکتوں کے جائز دینی اور تہذیبی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی جاسکتی؟

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے The Universal Declaration of Human Rights کی دفعہ ۲۹میں قانون کے تحت معقول پابندیوں کا ان الفاظ میں واضح ذکر موجود ہے:

 اپنے حقوق اور آزادیوں کے استعمال میں ہرشخص ایسی حدود کا پابند ہوگا جن کا تعین قانون محض اس مقصد سے کرے گا کہ دوسروں کے حقوق اور آزادی کا تحفظ اور احترام ہو، اور اخلاقیات اور امن و امان اورجمہوری معاشرے میں عوامی بہبود کے منصفانہ تقاضوں کو پورا کیا جاسکے۔

اسی طرح European Convention on Human Rightsکی دفعہ۱۰میں اظہارِ رائے کی آزادی اور اس کی حدود دونوں کا واضح الفاظ میں اظہار کیا گیا ہے:

۱۔     ہرشخص کو آزادیِ اظہارکا حق حاصل ہے۔ اس میں رائے قائم کرنے کی آزادی، سرکاری مقتدرہ کی مداخلت یا سرحدوں سے بے نیاز ہوکر معلومات اور خیالات کو وصول کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی آزادی شامل ہے۔ یہ دفعہ حکومت کو اس بات سے نہیں روکے گی کہوہ  براڈ کاسٹنگ، نشرواشاعت، ٹیلیویژن اور سینما کے لیے لائسنس جاری کرنے کا اختیار رکھے۔

۲۔   ان آزادیوں کے استعمال میں ان کے ساتھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی ہیں، ایسی شرائط، پابندیوں یا جرمانوں کی پابندی ہوگی جو قانون نے طے کیے ہوں اور  ایک جمہوری معاشرے میں ضروری ہوں۔ ملک کی سلامتی، علاقائی یک جہتی، عوامیتحفظ، بد امنی اور جرائم کی روک تھام اور صحت عامہ اور اخلاق کے تحفظ، دوسروں کی شہرت اور حقوق کا تحفظ، اور ایسی معلومات کے  منکشف کرنے سے روکا جاسکے جو اعتماد اور نیک نیتی سے دی گئی ہوں یا عدلیہ کی بالادستی اور عدالت کی غیرجانب داری کو برقرار  رکھنے کے لیے ضروری ہوں۔ (آرٹیکل ۱۰)

 آزادیٔ رائے: حدود کے تعین کی ضرورت

امریکہ سے آنے والی فلم اور اس پر عالمِ اسلام کے ردعمل کی روشنی میں اس وقت پوری مغربی دنیا کے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کی ایک تعداد میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ آزادیٔ اظہاررائے کی حدود کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ آزادی اور اس کا ذمہ دارانہ استعمال ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان ملکوں کی قیادت ان حالات میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور جو قربانیاں مسلمان عوام دے رہے ہیں، کیا ان کو کسی مثبت پیش رفت کا ذریعہ بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے؟

انڈی پنڈنٹ اخبار نے اپنے حالیہ ادارتی کالم میں اس ضرورت کا اعتراف کیا ہے۔ فرانسیسی اخبارچارلی ہیبڈو (Charlie Hebdo)میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کے بارے میں انڈی پنڈنٹ کہتا ہے:

ایک آزاد پریس کا دفاع کرنے کی اس کی خواہش قابلِ تعریف ہوسکتی ہے لیکن اس نتیجے سے بچنا ناممکن ہے کہ اس کا رویہ (یعنی ایسے خاکوں کی اشاعت) غیرذمہدارانہ ہے۔ اس اقدام سے لازماً دوسرے مشتعل ہوں گے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ یہ لازماً تشدد کو اُبھارے گا اور اموات واقع ہوں گی۔ سنسرشپ کی مذمت کی جانی چاہیے لیکن دوسروں کے گہرے عقائد کا لحاظ نہ کرنا بھی قابلِ مذمت ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر کو اپنا رسالہ فروخت کرنے سے پہلے ان خاکوں کو ہٹا لینا چاہیے اس سے قبل کہ دیر ہوجائے۔

لندن کے اخبار دی آبزروَر ۲۳ستمبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں ہنری پورٹر (Henry Porter) اپنے مضمون میں اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ: ’’ہمارا یہ فریضہ ہےکہ ہم آزادیٔ رائےکو ذمہداری سے استعمال کریں۔ یورپ اور امریکہ  میں مذہبی اور نسلی جذبات اُبھارنے کے خلاف قوانین موجود ہیں جن کو فلم اور کارٹونوں نے توڑا ہوگا‘‘۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون Free Speech Issue Bedevils Web Giants(آزادیٔ رائےکے مسئلے نے ویب کے بڑوں کو چکرا دیا ہے)میں یہ چبھتے ہوئے سوالات اُٹھائے گئے ہیں کہ اگر گوگل کے خیال میں اس بے ہودہ فلم کو یوٹیوب پر ڈالنا اظہارِ رائے کی آزادی کا حصہ ہے تو پھر اسی گوگل نے لیبیا اور مصر کے لیے اس کی اشاعت کیوں روک دی ہے۔ اسی طرح انڈیا اور انڈونیشیا کے لیے بھی اسے روکا گیا ہے۔ اگر ان ممالک کے لیے روکا جاسکتا ہے تو باقی دنیا کے لیے کیا چیز مانع ہے؟ کیا اسی کا نام اصول پرستی ہے؟

بات صرف اس حد تک دوغلے پن اور دھاندلی کی نہیں۔ Counter Punch کے ایک مضمون نگار نے ۱۴ستمبر ۲۰۱۲ء کی اشاعت میں گوگل کے بارے میں ناقابلِ انکار شواہد کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہودی پریس (Jewish Press)کی یکم اگست ۲۰۱۲ء کی اشاعت کے مطابق گوگل نے ایک نہیں ۱۷۱۰ویڈیوزجن میں خاصی بڑی تعداد کا تعلق ہولوکاسٹ سے تھا ۲۴گھنٹے کے اندر اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیں۔ اسی طرح جولائی ۲۰۱۱ء میں فیس بک نے اسرائیل کے کہنے پر فلسطینی اداروں کے درجنوں اکاؤنٹ بند کردیے حالانکہ ان کے مندرجات کسی قانون سے متصادم نہ تھے۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ فرانس کی حکومت نے مشہور مصنف اور نام وَر فلسفی روجر گارودی(Roger Garaudy) کو اسرائیل کے بارے میں ایک کتاب لکھنے پر قید کی سزا دی تھی اور آسٹریا میں ۱۹۸۹ء میں انگریز مؤرخ ڈیوڈ ارونگ (David Irving)کو ہولوکاسٹ کے بارے میں اپنی تحقیق شائع کرنے پر تین سال جیل کی سزا بھگتنا پڑی تھی۔

اس وقت جو احتجاج پوری دنیا میں ہوا ہے اس سے مغربی اخبارات میں پہلی بار یہ آواز اُٹھنا شروع ہوئی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک کیا جارہا ہے، اور آزادیِ اظہار رائے کے نام پر کیا جارہا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ ہے وہ وقت کہ جب مسلم اُمہ کی سیاسی قیادت اپنی ذہنی غلامی اور سیاسی محکومی کے شکنجے سے نکلے اور اُمت اور اپنے دین کے حقوق کی پاس داری کے لیے مؤثر اور متحدہ اقدام کرے۔

۲۳ستمبر ۲۰۱۲ء کے  ہفت روزہ دی آبزروَر(The Observer London) نے ’مسلم غصہ اور برہمی‘ کے عنوان سے اپنے اداریے کا اختتام ان الفاظ پر کیا ہے کہ خود مغرب کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ تصادم کے بجائے تعاون کا کوئی راستہ نکل سکے:

اس لیے کہ اسلامی دنیا کو بالغ نظری سے ہرسطح پر سمجھنے کا متبادل یہ ہے کہ مغرب عالمی آبادی کے ایک بڑے حصے کو صرف دشمن کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کے ان اختلافات اور سطحات اور دائروں کا احساس کرے جہاں گفتگو اور رضامندی ممکن ہے۔ یہی وہ کانٹے کی بات ہے جو لامحالہ تنازع اور تصادم کی بنیاد ہے۔

مسئلہ کسی خوش فہمی کا نہیں۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت اپنے مفادات کا صحیح اِدراک کرے اور اپنے مقاصد اور اہداف کو حاصل کرنے کے لیے صحیح حکمت عملی اختیار کرے تو نئے راستے استوار ہوسکتے ہیں۔

اُمت مسلمہ کے لیے حکمت عملی

ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ،مغربی اقوام اور مقتدر حلقوں کا رویہ معاندانہ ہے اور ان کے کھیل کو سمجھ کر اپنے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے حکمت عملی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وار کیے جارہے ہیں ان پر مؤثر اور بروقت احتجاج اور اپنی اصولی پوزیشن کو جرأت کے ساتھ پیش کرنا اولین ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں قرآن نہ فرار اور مداہنت کو گوارا کرتا ہے اور نہ عدل اور توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے اور انتقام میں حدود کو پامال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اللہ اور اللہ کے رسولﷺ سے محبت، ان کی اطاعت اور ان سے وفاداری اسلام کی اساس اور مسلمان کی شناخت ہے اور ناموسِ رسولؐ کی حفاظت ہر مسلمان کا تقاضائے ایمان ہے۔ یہ رشتہ ایمان کا، اطاعت کا اور محبت کا رشتہ ہے۔ آپؐ رحمت للعالمین تھے اور ہرمسلمان کے لیے فرداً فرداً اور پوری اُمت کے لیے نمونہ ہیں۔

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ  (الاحزاب ۲۱:۳۳)

اتباعِ رسولؐ ہی اللہ سے محبت کا تقاضا ہے۔

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْﺚ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌﭮ  (اٰل عمرٰن ۳۱:۳)

اے نبیؐ، لوگوں سے کہدو کہ ’’ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ (الاحزاب ۶:۳۳)

قرآن پاک میں صاف ارشاد ہے کہ ہم نے اللہ کے رسولؐ کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ اور اس کا (یعنی رسولؐ کا) ساتھ دو۔ اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو ۔

اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاﭗﺫ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِھ۪ وَتُعَزِّرُوْھُ وَتُوَقِّرُوْھُﺚ وَتُسَبِّحُوْھُ بُکْرَةً وَّاَصِیْلًاﭘ  (الفتح  ۸:۴۸-۹)

 یہی وجہ ہے کہ قرآن نے صاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو اذیت دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رُسواکن عذاب مہیا کردیا گیا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَھ۫ لَعَنَھُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًاﮈ (الاحزاب ۵۷:۳۳)

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رُسوا کُن عذاب مہیا کر دیا ہے۔

ان آیات کی روشنی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو تعلق امت مسلمہ کا قائم ہوا ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپؐ کی اہانت کو کسی صورت میں بھی برداشت نہ کیا جائے اور ہر وہ اقدام کیا جائے جس سے آپؐ کی عزت قائم و دائم ہو۔ ان حالات میں جب اسلام اور مسلمانوں سے زیادتی کی جارہی ہو تو مسلمانوں کا رویہ انصاف اور حق پر مبنی مزاحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ ہدایت ربّانی ہے کہ:

وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَﭶ وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُھَاﺆ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُھ۫ عَلَی اللہِﺚ اِنَّھ۫ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَﭷ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِھ۪ فَاُولٰ۬ئِکَ مَا عَلَیْھِمْ مِّنْ سَبِیْلٍﭸﺚ اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّﺚ اُولٰ۬ئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌﭹ (الشورٰی ۳۹:۴۲-۴۲)

اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے، پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

ہمیں یہ اصولی ہدایت بھی دی گئی ہے کہ:

ذٰلِکَﺆ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِھ۪ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْھِ لَیَنْصُرَنَّھُ اللہُﺚ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌﮋ (الحج ۶۰:۲۲)

یہ تو ہے ان کا انجام۔ اور جو کوئی بدلہ لے، ویسا ہی جیسا اس کے ساتھ کیا گیا اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔

 اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی بہت واضح الفاظ میں دے دی ہے کہ اصل اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ برائی کو برائی سے بدلنے کے بجائے اسے نیکی، خیر اور حسن سے بدلنے کی سعی کی جائے، تاکہ اللہ کی زمین برائی سے پاک ہو اور خیر اور حسنات سے معمور ہوسکے۔

 اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَﺚ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَﮯ (المومنون ۹۶:۲۳)

اے نبیؐ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہے۔

 نیز ارشاد ربانی ہے کہ:

وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُﺚ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَھ۫ عَدَاوَةٌ  کَاَنَّھ۫ وَلِیٌّ حَمِیْمٌﭱ   (حٰم السجدہ ۳۴:۴۱)

اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

مختصراً یہ ہے وہ ہدایتِ ربانی جس کی روشنی میں مسلم اُمت کو آج کے حالات میں اپنی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ہمیں ہر مداہنت سے اپنے دامن کو بچانا ہے اور پوری دیانت سے دین اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور آپؐ کی عزتو شخصیت کا دفاع کرنا ہے تو دوسری طرف اپنے مخالفین کے مقابلے کے لیے وہ طریقے اختیار کرنا ہیں جن سے بالآخر خیر رُونما ہو اور دنیا ان مقاصد کی طرف بڑھ سکے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو مطلوب ہیں۔

بات بہت واضح ہے۔ جو کچھ آج ہورہا ہے وہ نہ صرف غلط اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی کھلی جارحیت ہے بلکہ اس کے پیچھے جو مقاصد ہیں اور جو جو قوتیں پشت پناہی کررہی ہیں ان کا اِدراک اور توڑ دونوں ضروری ہیں۔ امریکی حکومت کا یہ دعویٰ کہ اس کا کوئی ہاتھ اس کے پیچھے نہیں ہے، ناقابلِ یقین ہے۔ امریکی ریاست اور سول سوسائٹی بشمول میڈیا ڈھکے اور چھپے کردار اداکررہے ہیں۔ آزادیِ اظہار کے نام پر ان قوتوں کو تحفظ دینا اس کی کھلی مثال ہے۔معاملہ محض چندسرپھرے انتہاپسندوں اور مذہبی جنونیوں کا نہیں، اس پردۂ زنگاری کے پیچھے بہت سے کردار ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ بلاشبہ ہرواقعہ افسوس ناک، دل خراش اور مناسب ردعمل کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت کا فرض ہے کہ بروقت اس کا نوٹس لے اور مناسب اور مؤثر ردعمل کا اظہار کرے لیکن جیساکہ ہم نے عرض کیا اصل مسئلہ ان واقعات کے پیچھے جو ذہن (Mind-set) ، جو پالیسیاں، جو خطرناک عزائم اور دیرپا اور اسٹرے ٹیجک منصوبے اصل کارفرما قوت ہیں ان کا مقابلہ اس سے بھی کچھ زیادہ ضروری ہے۔

حکمت عملی کے تین اہم پہلو

اس سلسلے میں جو حکمت عملی بنائی جائے اس کے کم از کم تین پہلو ایسے ہیں جن میں سے ہرایک اہم ہے اور ہر ایک کے لیے ضروری اقدام اُمت مسلمہ اور اس کی قیادت کی ذمہداری ہے:

اوّل:    اسلام کی دعوت کو اس کی اصل شکل میں پیش کرنے کا اہتمام اور کم از کم مسلم ممالک میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ایسے معاشرے اور ریاست کا قیام جو اس پیغام کا صحیح نمونہ اور عَلَم بردار ہو۔ اسلام کے خلاف جو طوفان برپا کیا ہوا ہے اس کا جواب بھی اسلام کی صحیح دعوت کو پہنچانے میں ہے۔ ہرمخالفت دعوت کے لیے ایک تاریخی موقع بھی فراہم کرتی ہے تاکہ جو بات جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے اس کا پردہ چاک کیا جاسکے اور حقیقت اپنے اصل رنگ میں سب کے سامنے آجائے۔

دوم:    سیاسی، سفارتی اور قانونی سطح پر ایسے انتظامات کا اہتمام کرنا، جس سے اللہ اور اس کے رسولوں کی توہین کا یہ سلسلہ ختم ہوسکے اور آزادیِ اظہار کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ اور ان آداب کے فریم ورک میں ہوسکے جو مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان ڈائیلاگ اور افہام و تفہیم کا ذریعہ بنیں اور نفرتوں کے طوفانوں سے انسانیت کو محفوظ کیا جاسکے۔ اس کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں بشرطیکہ صحیح خطوط پر مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ کوشش کی جائے۔

سوم:   مسلم ممالک میں تعلیم اور اخلاقی اقدار کے فروغ اور انصاف اور حقوق و فرائض کے احترام اور معاشی اور سماجی فلاح پر مبنی معاشرے اور ریاست کا قیام ۔ مغربی اقوام سے مشترک مقاصد اور مفادات کی بنیاد پر باعزت دوستی اور اچھے معاشی تعلقات سب کے لیے مفید اور تقویت کا باعث ہوسکتے ہیں، لیکن محکومی کا جو نقشہ آج نظرآتا ہے وہ دُنیاوی اور دینی ہردواعتبار سے بڑے خسارے کا سودا ہے۔ انسانی اور مادی وسائل کے باب میں اُمت مسلمہ کسی سے پیچھے نہیں لیکن آج ہمارے وسائل دوسروں کی خدمت کے لیے استعمال ہورہے ہیں ۔ مسلمان عوام ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکمران ذاتی عیش و عشرت اور مغربی اقوام کی خوش نودی کے حصول میں مصروف ہیں، بلکہ اپنی بقا اور اپنے اقتدار کے لیے ان کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اُمت کے مفادات کا سودا کرتے ہیں۔ جب تک گھر کی اصلاح نہ ہو اور اُمت کے وسائل اُمت کی فلاح، استحکام اور تقویت کے لیے استعمال نہ ہونے لگیں، حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ صحیح قیادت ہی حالات کو نیا رُخ دے سکتی ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ اسلام، اللہ کے رسولؐ اور اُمت مسلمہ کے خلاف عالمی سطح پر کیا کچھ ہورہا ہے اور مسلمان حکمران اپنے خول میں بند اور اپنے مفادات کے حصول میں مگن ہیں۔ صرف ایک سربراہ مملکت نے امریکہ کے صدر سے صاف الفاظ میں کہا کہ امریکی سفارت کاروں کی ہلاکت پر افسوس ہے لیکن اصل مسئلہ اسلام کے خلاف وہ جارحانہ اقدام ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو احتجاج پر مجبور کیا ہے۔ ہمارے اپنے حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ اصل واقعہ کے سات دن کے بعد جب ملک بھر میں احتجاج کی گونج برپا ہوگئی تو انھیں ہوش آیا اور پھر بھی ناموسِ رسالتؐ پر حملہ کرنے والوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کے بجائے عشق رسولؐ کے نام پر تعطیل میں عافیت تلاش کی۔ احتجاجی تحریک میں اس قیادت کا کوئی وجود نظر نہ آیا اور امن و امان کے قیام اور احتجاج کو صحیح انداز میں مؤثر بنانے میں ان کا کوئی کردار نہ تھا۔ عالمی سطح پر بھی اُمت کے نقطۂ نظر کو پیش کرنے اور مسلم ممالک کو منظم کرنے اور متحرک کرنے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔ یہ بڑی اندوہناک صورتِ حال ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام اور قیادت کی سوچ اور ترجیحات میں بُعدالمشرقین ہے۔ اغیار کی جارحانہ کارروائیوں پر احتجاج اُمت کا حق بھی ہے اور فرض بھی،لیکن اصل مسئلہ صرف احتجاج کا نہیں، اپنے گھر کو درست کرنے، صحیح قیادت کو بروئےکار لانے اور اپنی قوت کو اس طرح مجتمع کرنے اور ترقی دینے کا ہے کہ اُمت اپنا تاریخی کردار ادا کرسکے۔

                                                                                                                                                                (اکتوبر ۲۰۱۲ء)


[1]           ۱۴منٹ دورانیہ کی توہین رسالت پر مبنی فلم بعنوان ’’مسلمانوں کی معصومیت‘‘امریکی شہری نکولا باسیلے نکولا (Nakoula Basseley Nakoula)نے  تیار کی اور ستمبر ۲۰۱۲ء میں یوٹیوب پر  پیش کی۔ جس کے نتیجے میں مصر، عرب اور دیگر مسلم ممالک میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ۔بعض جگہ تشدد کی بناء پر تقریباً۵۰افراد جان بحق ہوئے ۔لیبیا کے علماء نے فلم بنانے والے نکولا کے قتل کا فتویٰ دیا جبکہ پاکستانی سیاستدان  غلام احمد بلور نے اسے قتل کرنے والے کو انعام دینے کا اعلان کیا۔ اس فلم کے حوالے        سے مغرب اور اسلامی ملکوں میں آزادی اظہار کی حدود اور انٹر نیٹ پر سنسر شپ کی بحث ایک بار پھر چل نکلی۔

آبادی، خاندانی منصوبہ بندی اور معاشی ترقی

آبادی کی تحدید آج کی غالب تہذیب کے ایک اہم ہدف کے طورپر سامنے آتی ہے۔ چنانچہ آبادی یا خاندانی منصوبہ بندی کے عنوان سے دنیابھر میں ایک جارحانہ مہم طویل عرصے سے جاری ہے۔ اس ضمن میں ہرسال ۱۱جولائی کو عالمی یوم آ بادی بھی منایا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے ترقیاتی اور امدادی پروگراموں میں بھی آبادی کی منصوبہ بندی پر زور دیا جاتا ہے۔آبادی منصوبہ بندی کے نام پر آبادی کو کم کرنے کی ان مہمات کا قانونی، اخلاقی اور معاشرتی و معاشی نقطۂ نظر سے کیاجواز ہے؟ اس ضمن میں اسلامی نقطۂ نظر اور صحیح حکمت عملی کیا ہے؟ یہ اور ان جیسے سوالوں کا جواب مصنف نے اس مضمون میں دیا ہے جو عالمی یوم آبادی ہی کے موقع پر پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک خطاب کے پس منظر میں تحریر کیا گیا۔

________________

فرد ہو یا قوم معاشرہ ہو یا ریاست، ان کی ترقی اور استحکام کے لیے چند عوامل مرکزی اور اساسی حیثیت رکھتے ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم ترین چیز  مقصد حیات اور اس کے نصبالعین کے باب میں مکمل یکسوئی اور جمعیت خاطر ہے۔ جن کا حال یہ ہو کہ             ؎

 چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

وہ زندگی میں  کبھی کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتے۔ ان کا حال تو قرآن کے الفاظ میں یہ ہے:

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَﺣ لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَا۬ئِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَا۬ئِﺚ (النساء ۱۴۳:۴)   

 دو منزلوں یعنی( کفر و ایمان کے درمیان)   ڈانوا ڈول ہیں،  نہ پورے  اس طرف ہیں اور نہ پورے اُس طرف۔

وہی افراد اور اقوام تاریخ سازی کا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں اور زندگی کی رفعتوں کو چھو سکتے ہیں جو اپنے مقصد کا واضح شعور رکھتے ہوں اپنے  بصیرت پر مکمل یقین رکھتے ہوں اور اس کے حصول کے لیے جان اور مال کی بازی لگانے کا داعیہ رکھتے ہوں۔ بقول اقبال         ؎

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیر ملت ہے

 اس کے لیے وحدت افکار اور وحدت کردار دونوں ضروری ہیں۔              ؎

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا نہ  فقیہ
 وحدت افکار کی ،بے وحدتِ کردار، ہے خام!

مقصد کے باب میں یکسوئی اور وحدت افکار اور وحدت کردار کے ساتھ دوسری ضرورت اپنے زمانے کے حالات، درپیش خطرات اور وقت کے چیلنجوں کا ادراک اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اخلاقی اور مادی وسائل کا حصول اور ان کا بہترین استعمال ہے۔ جو فرد یا قوم اس مجموعی  تناظر میں محنت، جدوجہد، قربانی اور جہاد کے لیے تیار نہ ہو، وہ کبھی اپنی منزل مقصود کو حاصل نہیں کر سکتی۔

۱۱جولائی کو عالمی یوم آبادی کے موقع پر ملک کے فوجی صدر کی جانب سے جن پالیسی رہنما خطوط کا اعلان کیا گیا ہے ان کے آئینے میں موجودہ قیادت ان امراض کی گرفت میں آجانے کا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔

مسلم معاشرے کا اپنا دینی، اخلاقی، تہذیبی اور تاریخی تشخص ہے۔ تحریک پاکستان کا اصل مقصد اور امت مسلمہ کا اصل مشن اس تشخص کو مستحکم کرنا اور خدا کی زمین پر خدا کی مرضی قائم کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ یہ جذبہ اس امت کے رگ و پے میں اس طرح سمایا ہوا ہے کہ آج تک کوئی قوت اسے دبا نہیں سکی ہے۔ ہر زمانے میں اندرونی فساد اور بیرونی یلغار نے اسے تہہ وبالا کرنے کی کوشش کی ہے مگر ایسی ہر کو شش بالآخر ناکام و نامراد رہی ہے۔ لیکن ایک مختصر سا طبقہ، جو دور استعمار کی پیداوار اور آج کے عالمی استعماری نظام کا آلہکار ہے،برابر یہ کوشش کر رہا ہے کہ مسلم معاشرے کو اس کی اصل بنیادوں سے کاٹ کر یہاں مغرب کے سیکولر نظریات، اخلاق باختہ تہذیب و تمدن اور ظلم و ناانصافی پر مبنی سرمایہدارانہ نظام کو مسلط کرے۔ اس کے لیے شب و روز نت نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔

تازہ حملہ خاندانی منصوبہ بندی کی شکل میں ہے جسے بڑے مغالطہ کن (Deceptive)  معاشی نعروں کے ساتھ جنگی بنیادوں (War footing) پر سر کرنے کے عزائم کا اظہار کیا گیا ہے۔ جو حضرات بھی موجودہ قیادت کو اس راہ پر ڈال رہے ہیں ،اور جو ذمہداران مملکت اس کھیل کو کھیلنے کے لیے آمادہ ہو گئے ہیں وہ مسلم معاشرے اور اسلامی اقدار کو درہم برہم کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جن معاشی مقاصد کی دہائی دے کر یہ کام کیا جا رہا ہے یہ محض ایک دھوکا اور واہمہ ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کی عالمی تحریک دین و ایمان اورتہذیب و اخلاق کے خلاف ایک گھناؤنی سازش اور مغربی اقوام کے باقی دنیا پر سیاسی غلبے اور تہذیبی تسلط کا ایک پروگرام ہے۔ اگر دینی احکام، ملی ترجیحات اور عالمی حالات اور سازشوں کے علم کے بغیر یہ کام ہو رہا ہے تو یہ جہالت افسوس ناک لیکن ناقابل معافی ہے۔ اور اگر یہ کام عالمی تحریک کا آلہ کار بن کر کیا جا رہا ہے تو ایک قومی جرم اور اللہ اور اس کے رسولﷺ اور مسلم معاشرے اور امت اسلامیہ کے خلاف جنگ کے مترادف ہے۔

ضبط ولادت پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رہنمائی

امت مسلمہ کے معتبر دینی اور فکری قائدین اس امر پر تقریباًمتفق ہیں کہ اگر چہ شریعت انفرادی حالات میں کچھ شرائط کے ساتھ اور شریعت کی نگاہ میں معتبر مصالح کی خاطر ضبط ولادت کی محدود اجازت دیتی ہے اور وہ بھی بہ اکراہ،مگراس بات کا کوئی جواز نہیں کہ اسے ایک قومی تحریک کی طرح سرکاری سرپرستی میں زبردستی یا ترغیب کے سہارے ملک و ملت پر مسلط کیا جائے۔ بڑے مضبوط اور محکم دلائل کے ساتھ یہ بات بار بار واضح کی جا چکی ہے۔ پاکستان میں مرکزی حکومت کے استصواب پر دستور کی دفعہ ۲۲۷ کے تحت قائم اسلامی نظریاتی کونسل جو تمام مکاتب فکر کے علماء کے علاوہ قانونی اور معاشی ماہرین اور خواتین کے نمایندوں پر مشتمل ہے اپنی رائے بڑی تفصیل کے ساتھ اور متفقہ طور پر دے چکی ہے۔ کونسل نے آیات قرآنی، احادیث اور فقہائے امت کے اقوال کی روشنی میں اس رائے کا اظہار کیاہے:

رسول اللہﷺ کے اس طرز عمل سے عزل کا جواز بلاکراہت قطعاً ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کا جواز  نکلتا ہے۔ اس کی مثال طلاق کی سی ہے۔ طلاق کو گو جائز قرار دیا گیاہے لیکن اسے کبھی پسند نہیں کیا گیا۔ یعنی جس طرح طلاق جائز ہے لیکن اس کو قومی پیمانے پر رواج دینے کی پالیسی اسلام میں ناپسندیدہ اور معاشرے کے لیے ضرر رساں ہے ،لہٰذاممنوع ہے۔ اسی طرح ممانعت حمل کی تدابیر کو قومی پیمانے پر رواج دینے اور اسی طرح فحاشی کو فروغ دینے کی پالیسی اسلام میں ناپسندیدہ اور معاشرے کے لیے ضرر رساں ہے،لہٰذا ممنوع ہے۔ البتہ انفرادی سطح پر اگر کسی شادی شدہ عورت کو حمل سے یا بچہ پیدا کرنے سے جان کا خطرہ ہو تو اسے خاص اس کے اپنے حالات کے لیے اجازت دی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا احادیث صرف ضرورت کے وقت انفرادی صورتوں میں کراہت کے ساتھ مانع حمل تدابیر کی اجازت دیتی ہیں۔ علمائے اسلام کے جن فتاویٰ میں عزل یا منع حمل کی تدابیر اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس کا تعلق بھی غیرمعمولی انفرادی ضرورت سے ہے۔ لیکن قومی پیمانے پر ملکوملت کا کروڑوں روپے کا قیمتی سرمایہ برباد کرکے مانع حمل تدابیر کو فروغ دینا اور اس طرح براہ راست فحاشی کو عام کرنا اسلام میں کسی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (رپورٹ خاندانی منصوبہبندی، اسلامی نظریاتی کونسل، اسلامآباد، اپریل۱۹۸۴ء ،ص۱۰)۔

کونسل نے اپنے دلائل دینے کے بعد یہ سفارش کی ہے:

مندرجہ بالا دلائل و براہین کی روشنی میں کونسل شدت سے محسوس کرتی ہے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر ضبط تولید (خاندانی منصوبہ بندی) کی مہم نہ صرف اسلام کے منافی ہے بلکہ پاکستانی معاشرے کے لیے ہر لحاظ سے سخت تباہ کن ہے، لہٰذا متفقہ طور پر سفارش کرتی ہے کہ:

۱۔    سرکاری سطح پر ضبط تولید کی مہم فوراً بند کی جائے اور معاشی منصوبہ بندی میں سے ضبط تولید کا پروگرام خارج کیا جائے۔

۲۔   تمام دوا فروشوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ ضبط تولید کی ادویات و آلات صرف ان شادی شدہ جوڑوں کو فراہم کریں جو نکاح نامہ اور کسی منظور شدہ ڈاکٹر سے اس امر کا سرٹیفکیٹ پیش کریں کہ متعلقہ خاتون کو حمل سے ایسا جانی نقصان پہنچ سکتا ہے جس کا انسداد کسی اور طرح ممکن نہیں۔ اسی قسم کی ہدایت ڈاکٹروں کو نس بندی کے سلسلے میں بھی جاری کی جائیں (ایضاً، ص۲۰)۔

وزارت صحت کے مزید استصواب پر جو مسز انور رضا کے مسودہ کتاب اسلامی قانون اورخاندانی منصوبہ بندی اور ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ کے نوٹ پر مشتمل تھا اور جس میں خاندانی منصوبہ بندی کے جواز کے دلائل دیے گئے تھے، نظریاتی کونسل نے مفصل محاکمہ کیا اور ایک بار پھر اپنی اس رائے کا اظہار کیا:

قرآن و حدیث کی ان تصریحات کی روشنی میں ہم ضبط تولید کو ایک عمومی تحریک کی صورت میں ملک کے اندر چلانا اور خاندانی منصوبہ بندی کے عنوان سے آبادی کو محدود کرنے کی کوشش کرنا مسلمان معاشرے کے لیے انتہائی مضر اور نقصاندہ سمجھتے ہیں اور بہ شدت اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے عورتوں کے جسم و نفس کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس پر طبی دلائل موجود ہیں، معاشرتی نقصان بھی ہے بلکہ حقیقتاً دیکھا جائے تو اس سے معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔ آبادی کا اضافہ ہو گا تو ذہن و دماغ اور ہاتھ پیر رکھنے والے نوجوان مزید کوشش اور محنت و مشقت کرنےکے نئے نئے وسائل معیشت دریافت کریں گے اور آبادی کے اضافے کے ساتھ معاشی سرگرمی بھی تیز تر ہو جائے گی۔ اگر آبادی محدود ہو گی تو وہ محدود وسائل پر قناعت کر کے محدود دائرے میں رہیں گے اور معاشی ترقی رکی رہے گی۔ درحقیقت ہماری مخالفت کی اصل وجہ تو شرعی ہے اورشرعاً ایسی تحریک کے ممنوع ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس سے یہ سارے نقصانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اجمالاً ان کی طرف اشارہ کر دیا (ایضاً، ص ۷۶)۔

نیز اپنا فیصلہ یوں بیان کیا:

از روئے شریعت ضبط تولید (عزل) کی اجازت انفرادی صورتوں میں مندرجہ ذیل حالات کے پیش نظر ہے:

۱۔     جب کہ حمل کا ہونا بیوی کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔

 ۲۔   جب کہ بیوی بیمار ہو اور حمل کے باعث اس کی بیماری میں اضافے کا اندیشہ ہو۔

 ۳۔   جب کہ ماں کا حاملہ ہونا ماں کی چھاتی سے دودھ پیتے بچے کی پرورش کے لیے نقصان دہ ہو۔

یہاں اس حقیقت کا واضح کر دینا ضروری ہے کہ اسلامی شریعت میں رزق کی تنگی کا خوف (خشیۃ املاق )ضبط تولید کے لیے کبھی جائز سبب کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔  دیکھیے (انعام[1]:۱۵۱ ،بنی اسرائیل[2]: ۳۱)

ضبط تولید کا جسے خاندانی منصوبہ بندی (اور اب آبادی کی منصوبہ بندی )کہا جاتاہے، ریاست کی باقاعدہ پالیسی کے طور پر اپنانا اسلامی شریعت کی روح کے خلاف ہے۔ ضبط تولید کی وجہ سے معاشرہ اعتقادی ارتداد ،بے حیائی، قومی سطح پر جنسی بےراہروی، ملکی دفاع اور اقتصادی ترقی کے لیے در کار افرادی قوت میں کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نیز اس سے نفسیاتی و اعصابی تناؤ کے سبب بسااوقات ماؤں اور بچوں کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

 کونسل نے اس دلیل کو رد کرتے ہوئے کہ آبادی میں اضانے سے قومی وسائل کم پڑ جائیں گے رائے ظاہر کی کہ یہ دلیل اعداد و شمار کی رو سے غلط ثابت ہو چکی ہے۔ لیکن مغرب کے پروپیگنڈے باز اپنی بد نیتی کے باعث اسے تیسری دنیا کے ممالکواقوام کے سامنے برابر پیش کیے جا رہے ہیں۔ لہٰذا کونسل سفارش کرتی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو حکومتی سطح پر ترک  کیا جائے (ایضاً  ص۸۰-۸۱)۔

اسلام نے بحث و مباحثہ اور تحقیق و جستجو کی آزادی ہر مسلمان کو دی ہے اور اختلافی امور میں تمام آرا کے احترام کی روایت قائم کی ہے لیکن یہ بھی اسلام کا مزاج اور مسلم معاشرے کی شناخت ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر سرتسلیم خم کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُھ۫ٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ  لَھُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِھِمْﺚ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَھ۫ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاﭳﺚ (الاحزاب ۳۳: ۳۲)

کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ؐ کی نافرمانی کرے تو وہ  صریح گمراہی میں پڑ گیا۔

آبادی کی تحدید کے لیے حکومتی پالیسی- قول وفعل کا تضاد

ایک طرف پاکستان کی اسلامی فلاحی ریاست کی بات کی جاتی ہے اور نظریاتی اور تہذیبی فریم ورک کا ریفرنس دیا جاتا ہے تو دوسری طرف ایک واضح خلاف شریعت پالیسی کو جنگی بنیادوں پر ملک و ملت پر مسلط کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ صدر مملکت اپنی تمام ’شرعیوجاہت‘ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ”ماہرین کے مطابق ان مسائل کا بنیادی سبب آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور مقابلتاً معاشی وسائل کا سست روی سے بڑھنا ہے۔ وسائل اور مسائل میں توازن پیدا کرنے کے لیے ہمیں آبادی میں اضافہ کو معتدل سطح پر لانے کی سعی کرنا ہو گی جس سے ملک کی ہمہ پہلو ترقی کے ساتھ ساتھ عام آدی با لخصوص  زیریں طبقوں کی ترقی و خوش حالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایک اسلامی فلاحی مملکت کی حیثیت سے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے“۔  (عالمییوم آبادی ،۱۱ جولائی ۲۰۰۰ء، وزارت بہبود آبادی اسلام آباد، صدر کا پیغام)

اس کتابچے میں قومی پالیسی برائے آبادی کے مرکزی اہداف کے چوتھے نکتے میں ’’پاکستان کے عوام کی مذہبی ،اخلاقی اور تہذیبی اقدار کی حدود‘‘ اور نمایاں جھلکیوں میں ’’بچوں کی پیدائش کے معمول میں رضاکارانہ تبدیلی‘‘ کی بات کی گئی ہے۔

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب نے اپنی تقریر میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد اور اس ’مقدس‘ اعلان کے ساتھ کہ: میں امید کرتا ہوں کہ اضافہ آبادی کی شرح کم کرنے کا حتمی مقصد نظریاتی اور ثقافتی  طور پر قابل قبول فریم ورک میں حاصل کیا جائے گا، فرمایا ہے کہ:

اس بات کی کافی شہادت موجود ہے کہ آبادی میں بے روک ٹوک اضافے نے قوم کی ترقیاتی کوششوں اور انفرادی فلاح و بہبود پر نقصان دہ اثر ڈالا ہے۔ اس لیے مجھے یہ معلوم کرکے مسرت ہوتی ہے کہ گو کہ پاکستان نے آغاز کرنے میں تاخیر کی ہے لیکن اب وہ اس حوالے سے تبدیلی کے دائرے میں داخل ہو گیا ہے اور اس کی اضافہ آبادی کی شرح ۲.۲ فی صد تک گر گئی ہے۔ لیکن سہل انگاری کی گنجائش نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کھوئے ہوئے وقت کی کمی پوری کرنے کےلیے ہمیں مسئلے کو جنگی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔

چیف ایگزیکٹو(جنرل مشرف) صاحب نے آبادی میں اضافے کی شرح کو ۱.۹فی صد تک لانے کی تاکید فرمائی ہے اور کہا ہے کہ کاش آبادی کم کرنے کا کام پہلے سے شروع ہو جاتا تاکہ ملک کی آبادی ۳۵ ۱ملین کی بجائے زیادہ سے زیادہ ۸۰ یا ۹۰ ملین ہوتی۔ انھوں نے وہی گھسے پٹے دلائل بھی نقل فرما دیے ہیں جن کا وعظ گذشتہ کئی دہائیوں سے مغربی سیاست دان اور استعماری ادارے کر رہے ہیں اور جن کی جگالی تیسری دنیا کے سارے ہی ممالک کے حکمران اور این جی اوز کر رہے ہیں۔

محترمہ عطیہ عنایت اللہ اس وقت کی وزیر(آبادی منصوبہ بندی)،جنرل ضیاء الحق، وزیراعظم جونیجو اور وزیراعظم نواز شریف کے قابل اعتماد حلقےکی رکن رکین رہی ہیں اور اب چیف ایگزیکٹو کی قومی سلامتی کونسل کی رکن اور ان کی اس مہم کی سپہ سالار ہیں،سن ۲۰۰۳ء تک شرح آبادی میں اضافے کو۱.۹ فی صد تک لانے کے عزم کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ مانع حمل ادویہ اور آلات کو ۴۰فی صد آبادی تک لے جانے کی قسم کھارہی ہیں اور اسکولوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی تعلیم عام کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ انھوں نے ایک پیراگراف میں ۳ بار ’’ان شاء الله‘‘کہہ کر اس جہاد کا اعلان کیا ہے۔ وہ جنرل مشرف صاحب کی پشت پناہی پر نازاں ہیں اور ان کو اپنی اچھی توقعات کی خوش خبری سنارہی ہیں۔

ایک طرف اسلام کے دعوے اور دستور کی اسلامی دفعات کے احیا کا کارنامہ ،اور دوسری طرف ’’بسم اللہ‘‘ اور’’ ان شاء اللہ‘‘ کے ساتھ خدا اور اس کے رسولؐ کے احکامات اور مسلم معاشرے کی اقدار اور شناخت کے خلاف اعلان جنگ،یہی وه قول و عمل کا تضاد ، فکرونظر کی ژولیدگی اور قوم اور اس کے جذبات و احساسات سے تصادم اور ٹکراؤ ہے جو ہماری قومی زندگی کو اندر سے گھن کی طرح کھا رہا ہے اور وسائل کے ضیاع کا باعث بنا ہوا ہے۔ چیفایگزیکٹو صاحب شکایت کناں ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کی کوشش عوام کی شرکت نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو رہی لیکن وہ اتنا سمجھنے سے عاری ہیں کہ اگر آپ ان کے ایمان ، اقدار اور مذہبی روایات کے خلاف جنگ کریں گے تو وہ آپ سے تعاون کیسے کر سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رحمت اور برکت اس نظام کو کیسے حاصل ہو سکتی ہے جو اللہ سے بغاوت، نظریاتی تناقض اور تہذیبی شترگر بگی کا شکار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو ایسے لوگوں کو بھی سخت تنبیہ کی ہے اور یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ ہمیں معمولی تنبیہ ہی کر رہا ہے ورنہ ہماری قیادت تو اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دے رہی ہے۔

کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللہِ فَاَخَذَھُمُ اللہُ بِذُنُوْبِھِمْﺚ اِنَّ اللہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِﮃ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْﺫ (الانفال ۵۳-۵۲:۸)

انھوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انھیں پکڑ لیا۔ اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی۔

العياذ بالله، اللہ تعالیٰ اس قوم کو اور اس کے رہنماؤں کو ہدایت دے کہ وہ اللہ سے بغاوت اور ظلم کے راستے سے بچیں ،اللہ کی اطاعت کریں اور مسلم معاشرے کے مزاج اور روایت کے مطابق راه عمل اختیار کریں۔ اللہ اس قوم کو اپنے عذاب سے محفوظ رکھے اور اسے توفیق دے کہ وہ حکمرانوں کے ان غلط طور طریقوں اور پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے سینہ  سپر ہو جائے۔ یہی راستہ اللہ کے غضب سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔

ایک مسلمان معاشرے اور قوم کی حیثیت سے ہمارے لیے سب سے اہم پہلو دینی اور اخلاقی ہی ہے کہ اس پر ہماری دنیا اور آخرت کا انحصار ہے۔ لیکن صرف اطمینان قلب کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مسئلے کے سیاسی اور معاشی پہلوؤں کا مطالعہ کر لیا جائے تاکہ قوم اور اس کے حکمرانوں کے سامنے دلائل پوری قوت کے ساتھ سامنے آجائیں اور جو کھیل عالمی سطح پر کھیلا جا رہا ہے اس کا پورا تانا بانا بے نقاب ہو جائے۔ جہاں ہمارا دل اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ہر حکم پر مطمئن اور مسرور ہے وہیں ہم الحمدللہ بڑے مضبوط اور محکم عقلی اور تاریخی دلائل کی بنیاد پر خاندانی منصوبہ بندی کو انسانیت کے خلاف ایک ظلم، تہذیب و شرافت کے خلاف ایک جنگ اور معاشی اعتبار سے ایک مکمل خسارے کا سودا سمجھتے ہیں ہم بڑے انکسار لیکن بڑے اعتماد کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے موئدین اور پرچارکوں سے کہتے ہیں:

ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﮾  (البقرۃ ۱۱۱:۲)

لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔

بچوں کی تعداد کا تعین: حق کسے حاصل ہو؟

 بنیادی سوال یہ ہے کہ افراد خاندان کی تعداد کے تعین کا اختیار کسے حاصل ہے؟ یہ تحدید نسل اور خاندانی منصوبہ بندی کی تحریک کا بنیادی نکتہ ہے۔ آیا یہ حق شوہر اور بیوی کا ہے کہ اللہ کی مشیت کے تحت اپنی آزاد مرضی سے اپنے خاندان کے معاملات کو طے کریں یا یہ حق کسی حکومت ،عالمی ادارے ،اقوام متحده یا سوپر پاور کا ہے کہ وہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے یہ طے کریں کہ ان کے خاندان میں کب اضافہ ہو اور وہ کتنا بڑا خاندان رکھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آبادی کی منصوبہ بندی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے تحت ہو رہی ہے اور اس میں انسان کا دخل جزوی اور محض ایک وسیلے کا ہے۔ لیکن اللہ کی اس مشیت کے تحت شرف آدمیت کے بھی کچھ اصول و آداب ہیں اور ان میں انسانی نسل کی بقا اور افزائش کے لیے نکاح اور خاندان کا نظام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

جس طرح جبر کا نکاح باطل ہے اسی طرح جبریا بیرونی حکم اور پلان کے تحت افزائش نسل کی صورت گری فرد (شوہر اور بیوی) کے بنیادی حقوق کی نفی، شرف انسانی کی تذلیل اور ایک نوع کی غلامی کی ترویج کے مترادف ہے۔ جو لوگ انسانی حقوق کا راگ دن رات الاپتے رہتے ہیں اور نظری طور پر انسانی حقوق میں خاندان قائم کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں ان کے لیے یہ مؤقف اختیار کرنے کا کیا جواز ہے کہ یہ حق خاندان کے کار فرما (شوہر اور بیوی) کا نہیں کہ وہ اپنے مالک کے فضل سے اپنے لیے اپنی اولاد کی شکل میں آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل کریں بلکہ یہ اختیار حکومت کا  اور اس سے بھی آگے بڑھ کر  عالمی اداروں اور این جی اوز کا ہے کہ وہ ان کے لیے افراد خاندان کی تعداد طے کریں۔ کوئی بیرونی قوت کیوں یہ طے کرے کہ ایک خاندان میں ایک بچہ ہونا چاہیے یا دو یا تین ،اور ایک ملک کی آبادی میں اضافے کی شرح ۲.۲فیصد ہو یا ۱.۹فی صد اور ایک ملک کی آبادی ۱۴ کروڑ ہو یا ۸کروڑ۔

سب سے اہم سوال انسانی حقوق اور شرف انسانیت کے تحفظ کا ہے۔ اور اس پہلو سے تحدید نسل اور خاندانی منصوبہ بندی کی عالمی تحریک اور حکومتی حکمت عملی ایک نئی طرز کی غلامی اور محکومی کا نظام ہے۔ جس طرح ماضی کے غلاموں کو یہ حق نہ تھا کہ اپنی مرضی سے شادی کریں اور خاندان آباد کریں، اسی طرح آزادی اور حقوق انسانی کے سارے دعوے کے باوجود خاندان کے دائرے میں جبر کے اس نظام کے تحت فردسے اس کا یہ حق چھینا جا رہا ہے اور اسے حکومت اور عالمی طاقتوں کے حکم کا تابع مہمل بنایا جارہا ہے۔ غلامی کے یہ طوق بڑے خوب صورت ناموں سے ہماری گردنوں میں ڈالے جارہے ہیں، کبھی اسے ضبط ولادت کہا جاتا ہے، کبھی خاندانی منصوبہ بندی، کبھی خاندانی بہبود! ایک طرف تولیدی حقوق کی بات ہوتی ہے تو دوسری طرف تولیدی نظام کو حکومتی فیصلے اور جبر سے بلکہ جنگی بنیادوں پر مسلط کرنے کے عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔

اسلام تو اس معاملے میں اتنا حساس ہے کہ عائلی زندگی میں شوہر اور بیوی کو باہم مشورے اور رضامندی سے حقوق کی ادائیگی کا سلیقہ سکھاتا ہے اور عزل، جس کی خاص حالات میں بہ کراہت اجازت ہے، اس کے بارے میں فقہا کی ایک تعداد نے یہ وضاحت بھی ضروری سمجھی ہے کہ شوہر، بیوی کے مشورے اور اجازت سے کرے۔ لیکن تحدید نسل کے فلسفے اور اس کی عالمگیر تحریک نے شوہر اور بیوی کے اس حق پر شب خون مارا ہے اور اس انفرادی، نجی، نازک اور اخلاقی معاملے کو وزارت آبادی اور عالمی اداروں کے احکام کا پابند کرنے کا شیطانی کھیل کھیلا ہے۔ اس کے لیے وہ ذرائع تجویز کیے ہیں جو معاشرےسے شرموحیا کو رخصت کر دیں، جنسی شعور (Sex awareness) اور جنسی تعلیم کے نام پر آزاد جنسی زندگی کے دروازے کھولے جارہے ہیں تاکہ خاندان اور معاشرہ بے راہ روی اور تباہی کا شکار ہو جائے۔

یہ تحر یک انسان کی آزادی، خاندان کے نظام اور معاشرے میں عفت و عصمت کے تحفظ کے لیے ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ خاندانی معاملات میں حکومت این  جی اوز اور عالمی ایجنسیوں کی مداخلت کا ایک ایسا نظام ہے جو درحقیقت غلامی کا ایک نیا جال ہے۔

رضاکارانہ فیصلے کی حقیقت:  بظاہر خاندانی منصوبہ کا یہ نظام رضاکارانہ کہا جاتا ہے مگر اس کے لیے ترغیب و ترہیب کا ہر ہتھکنڈا استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیرونی امداد اس کے ساتھ مشروط ہے۔ پروپیگنڈے کا ایک طوفان ہے، جس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور ہٹلر کے وزیر اطلاعات جنرل گوئبلز(Joseph Goebbels) کے اس اصول پر کہ ایک جھوٹ کو اتنی بار اور اس تعدی سے نشر کرو کہ اس کو سچ مان لیا جائے، عمل ہو رہا ہے۔ کبھی سائنس کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کبھی معاشیات کی دہائی دی جاتی ہے۔ کبھی صحت اور توانائی کا رونا رویا جاتا ہے اور کبھی قحط اور افلاس کے عفریت سے ڈرایا جاتا ہے۔ ثقافتی استعمار کا ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ جبر کے کھلے اور چھپے ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اس لیے کہ اس تحریک کی سو سالہ تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ:

 تیسری دنیا کی حکومتیں اب ضبط ولادت کی تعلیم کی پشت پناہی کر رہی ہیں لیکن چین میں اس کے سفاکانہ اطلاق کے ذریعے کامیابی کی مثال کے علاوہ اس نے آبادی میں تیز رفتار اضافے کو کم کرنے میں ابھی تک کوئی اثر نہیں ڈالا ہے۔

  A History of the World in the Twentieth Century) ،  از جے اے ایس گرن ویل(J.A.S. Grenville) ، ہارورڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۴ء ،ص ۲)۔

حقیقت ہے کہ چین ]مابعد ماؤ (Mao Zedong)کا دور[ہو یا بھارت (اندرا گاندھی کی متشددانہ پالیسی)، جہاں جبری نس بندی اور لازمی تحدید کی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ریاست کی قوت، جیل، جرمانہ اور جسمانی تشدد کے حربے استعمال کیے گئے، سب کچھ عالمی اداروں، خصوصیت سے ورلڈبینک اور اقوام متحدہ کے شعبہ آبادی کے ایما اور ان کی آشیرباد سے کیا گیا۔ بقول الزبتھ لیاگن (Elizabeth Liagin):

حقیقت یہ ہے کہ’’ ایک جوڑا، ایک بچہ‘‘ کی بدنام زمانہ چینی پالیسی، جو نس بندی اور آخری مہینوں تک کے اسقاط حمل کے ساتھ ایک مکمل پالیسی تھی ورلڈ بینک کی۸۰ کے عشرے میں آبادی، غذا اور صحت کے شعبے کے لیے ۲۰۰ ملین ڈالر کی بہت بڑے پیمانے پر مدد سے نافذ کی گئی۔ بھارت میں ’’آبادی ایمرجنسی‘‘ کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی جبری نس بندی ہوئی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں۔ اسے ورلڈ بینک نے ۱۹۷۱ء کے اپنے آبادی پراجیکٹ میں ۲۱ملین ڈالر کی امداد دی۔  (Excessive Force: Power, Politics and Population Control، از الزبتھ لیا گن ، واشنگٹن ، ص ۸۲)

ورلڈ بینک  نے انسانی حقوق کے مسئلے سے کس طرح کنی کترائی ہے اس کا اندازہ اس بحث سے کیجیے جو اس ادارے کے ایک ورکنگ پیپر(Costs, Payments and Incentives in Family Planning Programs) میں کی گئی ہے۔ پہلے ذرا سوال کو سمجھ لیں:

اخلاقی مخمصے کا ایک نازک پہلو اس کشمکش میں پایا جاتا ہے جو ایک حکومت کےاپنی موجودہ اور مستقبل کی نسلوں کے تحفظ کے معمول کے فرائض اور موجودہ افراد کے اپنے خاندان کے افرادکی تعداد طے کرنے کے حق کے آزادانہ استعمال کے درمیان ہوتی ہے۔

اسی لیے ۱۹۷۴ء میں اقوام متحدہ کی ایک دستاویز World Population Plan of Action نے بھی بڑی چابک دستی سے اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور مذکورہ ورکنگ پیپر میں بھی اس دستاویز کا یہ حوالہ دیا گیا ہے کہ تمام جوڑوں اور افراد کو اپنے بچوں کی تعداد اور پیدائش کے وقفوں کا آزادانہ اور ذمہ دارانہ انداز سے تعین کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ لیکن یہ حق تسلیم کرنے کے بعد نتیجہ اور فیصلہ کیا کیا جاتا ہے؟ ذرا غور سے پڑھیے:

تضادات واضح ہیں۔ جوڑے اور افراد’’ آزادانہ‘‘ فیصلہ کر سکتے ہیں مگر یہ ذمہدارانہ بھی ہو اور دیگر ضروریات کی روشنی میں بھی۔ جیسا کہ دوسرے بہت سے انسانی حقوق کے بارے میں ہے، یہ امر کہ لوگ اپنے بچوں کی تعداد اور پیدائش میں وقفوں کے تعین کا حق رکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت اس میں ہرگز مداخلت نہیں کر سکتی۔] (ملاحظہ ہو: Ethical Approach to Family Planning in Africa فریڈ ٹی سا ئے (F. T. Sai) اور کے نیومین [(K. Newman)

لیجیے، ایک جملے سے سارے انسانی حقوق کا جنازہ نکل گیا۔ اصل مسئلہ جیسا کہ ہم آگے ثابت کریں گے انسانی حقوق یا انسانی مفاد کا نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات، عالمی بالادستی اور کلچرل بالادستی کا ہے۔ اس کے لیے فرد کی آزادی کی نفی اور قوموں کی  محکومی دونوں ضروری ہیں۔ ضرورت ترقی پذیر ممالک کی نہیں سامراجی قوتوں کی ہے اور سب کو اس کے لیے آلہ کار بنایا جا رہا ہے۔ الزبتھ لیاگن صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ:

ستم ظریفی یہ ہے کہ ورلڈ بینک اس واضح تصور کے ساتھ جسے بعض اوقات واضح طور پر بیان بھی کر دیا جاتا ہے  کہ تحدید آبادی جنوبی کرہ ارض کی ترقی پذیر معیشتوں کے لیے غیر ضروری اور ضرر رساں ہے لیکن اس کے متوازی ورلڈبینک اپنے تحدید آبادی کے پروگراموں کوروبہ عمل بھی لاتا ہے(ایضاً، ص۸۳)۔

فرد کی یہ تذلیل، حقوق انسانی کی یہ پامالی اور شرف انسانیت کی یہ تحقیر آزادی، جمہوریت اور معاشی ترقی کے نام پر کی جا رہی ہے اور اس پر کوئی شرم اور ندامت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ کھلے بندوں اپنے اس ’’حق‘‘ کا اعلان ہوتا ہے کہ عالمی اداروں اور مغربی اقوام کے لیے دوسروں کی نسل کشی جائز ہے اور ان کے لیے یہ سب حلال ہے! مغربی تہذیب کے ایک بڑے علم بردار اور دانشور برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell)نے اپنی کتاب Marriage and Morals (مطبوعہ لندن ۱۹۸۵ء ،ص ۱۶۱) میں پوری صفائی اور ڈھٹائی سے کہہ دیا تھا کہ:

اگر دوسری قومیں [مراد ہے: مشرقی اور افریقی قومیں، خصوصاً مسلم اقوام[ اپنی زیادہ شرح پیدائش سے دنیا میں توازن اقتدار پلٹ رہی ہیں تو [ہماری  یعنی مغربی[ طاقت ور فوجی  قوتیں اس صورت حال پر آرام سے نہیں بیٹھی رہیں گی۔

اپنے مفادات اور بالادستی کے تحفظ کے لیے اگر وہ جنگ کے ذریعے آبادیوں کا صفایا کریں، یا خانہ جنگیوں  کو پروان چڑھا کر (جیسا روانڈا میں حال ہی میں کیا گیا) [3]یا اختیاری اور جبری تحدید نسل اور خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے کسی ملک کی آبادی کو محدود کر دیں تو یہ بھی ان کا ’’حق‘‘ہے۔ اقبال نے مغربی تہذیب کے اسی جنون کا ادراک کرتے ہوئے کہا تھا :       ؎

تہذیب کا کمال، شرافت کا ہے زوال
غارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش

ہر گرگ کو ہے برۂ معصوم کی تلاش

تخلیق کا حق کسے حاصل ہے؟    دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ جو خود اس دنیا میں آگئے اور اس کی نعمتوں سے دل کھول کر متمتع ہو رہے ہیں انھیں کس دلیل اور کس کی سند پریہ  اختیار حاصل ہے کہ وہ دوسروں کے اس دنیا میں آنے پر پابندیاں لگائیں اور گنتی کر کے طے کریں کہ اتنے انسان پیدا ہو سکتے ہیں اور اتنے نہیں؟ اللہ نے تو یہ حق اپنے لیے محفوظ رکھا تھا:

ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَا۬ئُﺚ ( اٰل عمرٰن ۶:۳)   

اللہ ہی وہ ذات ہے کہ وہ جس طرح چاہتا ہے رحم مادر میں تمھاری صورت گری کرتا ہے۔

یَھَبُ لِمَنْ یَّشَا۬ئُ اِنَاثًا وَّیَھَبُ لِمَنْ یَّشَا۬ئُ الذُّکُوْرَﮀﺫ اَوْ یُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًاﺆ وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَا۬ئُ عَقِیْمًاﺚ (الشورٰی  ۴۲ : ۴۹- ۵۰ )

وہ جس کو چاہے لڑکیاں دے اور جس کو چاہے لڑکے دے اور جس کو چاہے لڑکے اورلڑکیاں، دونوں دے اور جس کو چاہے بانجھ بنا دے کہ اس کی اولاد نہ ہو۔

مگر اب خدائی کے دعوے دار وه بن گئے ہیں جو بزعم خود یہ جانتے ہیں کہ کتنے انسانوں کا دنیا میں آنا باعث خیر ہے اور کتنوں کا راستہ روکنا ان کا استحقاق ہے۔ محترمہ عطیہ عنایت اللہ اس طرح گوہر افشانی فرماتی ہیں کہ اس سال کی عالمی رپورٹ کا مرکزی خیال خطرات سے محفوظ زچگی (Safe motherhood) ہے۔ اس حوالے سے اضافہ آبادی کی شرح میں کمی کا براہ راست اور فوری نتیجہ، نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت میں کمی ہے۔ آزمودہ حکمت عملی کے ذریعے ہم اللہ کی مرضی سے ۲۰۰۳ء تک ہر روز ۴۵۰ بچوں اور ۲۰ ماؤں کی زندگی بچاسکتے ہیں۔

اور اس لن ترانی میں وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ حکومت کی ان دست درازیوں سے کتنی گودیں ہری ہونے سے رہ گئیں، کتنی ہی معصوم جانوں کا دنیا میں آنے سے پہلے ہی گلا گھونٹ دیا گیا، کتنے غنچے کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے، کتنے خاندان اپنے مستقبل کے  نگہبانوں سے محروم رہ گئے اور کتنے ماں باپ یہ کہتے رہ گئے کہ’’اے مرے لخت جگر ،نور نظر ،پیدا نہ ہو!‘‘

یہی وہ  دعویٰ ہے جو تحریک تحدید نسل کے سارے مبلغ بڑے زعم سے کرتے ہیں۔ مغرب میں ان کے سرخیل  کنگز لے ڈیوس (Kingsley Davis) اور پال اہرلش (Paul Ehrlich) ہیں۔ ڈیوس کا ارشاد ہے:

مجھے آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ ہمیں ان  اضافی۲ کروڑ ۳لاکھ افراد کی کیا ضرورت  ہے۔  (نیوز ویک ۳۰مارچ ۱۹۷۰ء، ص ۸۷)

اور پال اہرلش کا فتویٰ ہے:

میں کسی ایسے سبب کا تصور نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے امریکہ میں ۵ا کروڑ سے زیادہ افراد ہوں؟ اور نہ کسی دوسرے شخص نے اب تک مجھے ایسا کوئی سبب بتایا ہے۔ (Saturday Review ،۱۱مارچ ۱۹۷۲ء، ص ۴۵)

امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کا پروفیسرجولین سائمن(Julian Simon) جس نے آبادی کے مسئلے پر دسیوں کتب تصنیف کی ہیں اور جس کی تحقیقات کو جرمن نوبل انعام یافتہ پروفیسر ہائک(Friedrich August Von Hayek)’’دور حاضر کی بہترین تحقیقی کتب‘‘ قرار دیتا ہے، ان دعووں کی قلعی یوں کھولتا ہے:

آبادی کے بارے میں جتنا لٹریچر  میں نے پڑھا ہے اس میں ایک بات کا ذکر نہ ہونے سے حیرانی ہوئی ہے اور تکلیف بھی۔ ایک انسان وجود میں لانا اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنانا اسی طرح ایک اچھی بات ہے جس طرح ایک زندہ انسان کی زندگی بچانا اور تحفظ دینا ایک اچھی بات ہے۔ بلاشبہ موت اور کسی پیدائش کو روکنا ایک جیسی بات نہیں ہے، تاہم میں ان لوگوں کی فکر میں کوئی منطق نہیں پاتا جو ایک دور دراز ملک میں نسبتاً کم تعداد لوگوں کے بھوک سے مرجانے پر خوفزدہ ہیں ،(اور بہ ظاہر اس سے زیادہ خوف زدہ جتنے کہ وہ اس دور دراز ملک میں سیاسی قتل کے ذریعے ہونے والی اموات پر ہیں ،یا خود اپنے ملک میں حادثات میں ہونے والی اموات پر ہیں) لیکن اس بات پر خوشی مناتے ہیں کہ ایسے لاکھوں کروڑوں لوگ اس دنیا میں اپنی زندگی نہیں گزاریں گے جو اگر ان کی پیدائش رو کی نہ جاتی تو گزارتے۔ میں ڈیو س اور اہرلش کو زیادہ بچے پیدا کرنے اور ملک میں زیادہ تارکین وطن لینے کے لیے ایک سے زیادہ اسباب بتا سکتا ہوں جن میں سب سے کم اہم یہ ہے کہ زیادہ آبادی کا مطلب ہمارے پوتوں اور پڑپوتوں کے لیے زیادہ بلند معیار زندگی ہو گا۔] The Ultimate Resource  ازجولین سائمن (Julian Simon)، یونی ورسٹی آف  پرنسٹن پریس ۱۹۹۶ء ص [xxxii

قرآن نے کتنے غضب ناک انداز میں ان معصوم لڑکیوں کے بارے میں جواب دہی اور بازپرس کی وعید دی ہے جو زندہ درگور کی جاتی تھیں۔

وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْﭗﺗ بِاَیِّ ذَنْۭبٍ قُتِلَتْﭘﺆ ‏ ( التكوير ا۸: ۹-۸)

اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری  گئی ؟

کیا جن معصوم جانوں کو آنے سے پہلے ہی ختم کیا جا رہا ہے ان کے بارے میں سوال نہ ہو گا، خواہ ان کووجود میں آنے سے روکنے کے لیے کوئی بھی طریقہ اور راستہ اختیار کیا جائے؟

اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے اور اس کے لیے زمین و آسمان کی وسعتوں کو مسخر کر دیا ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًاﮕﺟ ( بنی اسرائیل ۷۰:۱۷)

 ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انھیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔

رزق کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اس نے افلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے کو حرام قرار دیا:

  وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍﺚ نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْﺚ (بنی اسرائیل ۳۱:۱۷)

اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمھیں بھی۔

اولاد کا قتل  یا ان کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی روک دینا اللہ کے باغیوں کو بڑا اچھا لگتا ہے مگر اللہ اسے بربادی کا راستہ قرار دیتا ہے:

 وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِھِمْ شُرَکَا۬ؤُھُمْ لِیُرْدُوْھُمْ وَلِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْﺚ ( الانعام ۶: ۷ ۱۳)

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنا دیا ہے تا کہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں۔

انسان پر اس سے بڑا ظلم کوئی اور نہیں کیا جا سکتا کہ محض اپنے عیش و آرام کے تحفظ کی خاطر خدا کی خدائی میں دخل اندازی کی جائے اور آنے والی روحوں کا راستہ ایسے موہوم، بودے اور بر خود غلط تصورات کی بنیاد پر روکاجائے کہ وسائل کم ہیں، معاشی ترقی رک جائے گی، زمین پر گنجائش نہیں، ماحول خراب ہو رہا ہے، معیار زندگی بلند نہیں ہو پا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں سب کے لیے وافر گنجائش پیدا کر رکھی ہے، کمی اگر ہے تو انسانی کوشش اور جدوجہد کی۔ شیخ سعدی ؒ نے درست فرمایا:

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکار اند
تا تو نانے بہ کف آری و بہ غفلت نہ خوری
ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرماں بردار
شرط انصاف نہ باشد کہ تو فرماں نہ بری

(ابر،ہوا، سورج، آسمان، ان سب کی مدد سے تو اس قابل ہوتا ہے کہ ایک روٹی اپنے ہاتھ میں لے۔ اسے غفلت سے نہ کھا ۔ یہ سب تیرے لیے ہر وقت مصروف ہیں اور تیرے فرماں بردار ہیں۔ یہ انصاف کی بات نہیں کہ تو فرماں بردار نہ بنے )۔

(اگست۲۰۰۰ء)

تہذیبی شناخت اورتعلیم کی دنیا

تہذیبی شناخت اور قومی نفسیات کی تشکیل میں ’تعلیم‘ اور تعلیمی نظام کی اہمیت کے بارے میں دو آراء نہیں ہوسکتیں۔ پاکستان میں یوں تو تعلیمی نظام کی اسلامی تشکیل کے حوالہ سے کسی بھی دور کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں اس نظام میں موجود ’خیر‘ کو مٹانے اور اس کی سمت کو تبدیل کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ بظاہر یہ تمام کوششیں خوش نما نعروں کے ساتھ اور ان کی تکمیل کے نام پر سرانجام دی جاتی ہیں۔ لیکن کیاحقیقت یہی ہے؟ ان کے پس پردہ امریکی ومغربی وسائل میں کیا ایجنڈا کارفرما ہے۔ مختلف تحریروں پر مبنی زیرنظر مضمون میں اس حوالہ سے حقائق کی نشان دہی کی گئی ہے ۔

________________

ہر دور میں جنگ، جنگ کا اسلوب اور جنگی ہتھیار بدلتے رہے ہیں اور نئے نئے ہتھیار اسلحہ خانے کی زینت اور انسانیت کے لیے مصیبت بنتے رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر اگست ۱۹۴۵ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ کے ایٹمی حملے نے اجتماعی تباہی کے ہتھیار  Weapons of Mass Destruction (WMD)کی اصطلاح کو عالمی سیاست اور جنگ و صلح کی لغت میں ایک خاص مقام دے دیا۔ کیمیاوی، حیاتیاتی اور گیس پر مبنی اسلحے کے لیے یہ لفظ    اس سے پہلے بھی استعمال ہوتا تھالیکن دورِ جدید میں ڈبلیو ایم ڈیز(WMDs) نے بڑی اہمیت اختیار کرلی ہے۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد ’دہشت گردی‘ اور ’خودکش حملوں‘ کو بھی ایک قسم کا اجتماعی تباہی کا ہتھیار(WMD) ہی بناکر پیش کیا جا رہا ہے اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کو نہ صرف دہشت گردی کے ایک بدترین عفریت کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے، بلکہ اس نام نہاد جنگ کے پردے میں کچھ دوسری ہی قسم کے  اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں سے دنیا کے مختلف ممالک اور تہذیبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان میں میڈیا کی ثقافتی یلغار اور مسلم ممالک کے تعلیمی نظام پر ایک کاری وار خصوصیت سے اہمیت اختیار کرگئے ہیں، جن کو ہم وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں  (WMDs) ہی کی تازہ ترین شکل سمجھتے ہیں۔ اجتماعی تباہی کے ہتھیار جس طرح انسانوں اور شہروں کو جسمانی طور پر تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اسی طرح یہ نئے علمی اور فنی ہتھیار قلب و نظر کو مسخر کرنے، افراد، معاشروں اور تہذیبوں کے تشخص کو تہ وبالا کرنے اور ایک نوعیت کی نظریاتی نسل کشی(Ideological Genocide) کا مقصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ ویسے تو استعماری قوتوں نے ایسے حربے ہمیشہ ہی استعمال کیے ہیں اور اکبرالٰہ بادی نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ      ؏

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے!

لیکن اپنی کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے تعلیم پر جدید حملے تباہی کے مہلک ہتھیار کی شکل اختیارکرگئے ہیں۔ ان حملوں کے اہداف کیا ہیں؟ علامہ اقبال نے اس خداداد صلاحیت کی بنیاد پر جو فراست ایمانی اور تاریخی اور تہذیبی شعور کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی، اُن سے اُمت مسلمہ کو بہت پہلے متنبہ کر دیا تھا۔ ضربِ کلیم میں ’نصیحت‘ کے عنوان سے شیطان کے اس حربے کو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم
بَرّے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر
سینے میں رہے رازِملُوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر
تاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

امریکہ  کی سامراجی اور صلیبی قیادت اس وقت عالمِ اسلام اور خصوصیت سے اس کی احیائی تحریکوں اور جہادی قوتوں کو زیر کرنے کے لیے جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اس میں فوجی قوت، معاشی دباؤ اور پروپیگنڈے کی نفسیاتی جنگ کے ساتھ جو سب سے خطرناک ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے وہ تعلیم کے نظام کو تبدیل کرواکے ذہنوں کو مسخر کرنے کے ذریعے اُمت کو غلامی کے نئے شکنجوں کی گرفت میں لینا ہے۔ فوجی قوت سے بلاشبہ کچھ تھوڑے عرصے کے لیے مقابل قوت کو قابو میں کیا جا سکتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر استعمار اور قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت جلد یا بدیر رونما ہوتی ہے۔ معاشی دباؤ  بھی ایک عرصے تک چلتا ہے اور نفسیاتی حربے اور پروپیگنڈے کی تاثیر بھی محدود ہے۔ البتہ ذہنی غلامی، تعلیم کے ذریعے دل و دماغ کو مسخر کرنا، سوچنے کے انداز اور نفع و نقصان، خیروشر اور مطلوب اور نامطلوب کے پیمانوں کو بدل دینا ہی وہ حربہ ہے جس سے محکومی کو دوام      دیا جاسکتا ہےاور اس وقت امریکی دانشور، اس کی  سیاسی قیادت اور اس کے ’مراکز دانش‘ (Think tanks) عوامیتباہی کے جس ہتھیار کواستعمال کرنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین ہیں، وہ نظام تعلیم کی تبدیلی اور نصاب تعلیم میں ایسے تغیرات ہیں جو سوچنے کے انداز کو بدل سکیں اور اسلام کے انقلابی پیغام کو کسی ایسی شکل میں تبدیل کرسکیں کہ مذہبی حِس بھی تسکین پالے اور اسلام کا جہاں بانی اور تاریخ سازی کا کردار بھی ختم ہوجائے۔

اصل ہدف اسلام کا تصور، اس کا تاریخی کردار اور وہ احیائی قوتیں ہیں جو اسلام کو محض گھر اور مسجد تک محدود نہیں کرتیں بلکہ زندگی کے پورے نظام کو اس کے تابع لانا چاہتی ہیں، اور اس سے بھی بڑھ کر دنیا میں ظلم کے ہر نظام کو چیلنج کر کے انسانوں کو انصاف اور عزت کے حصول کے راستے کی دعوت دیتی ہیں۔ استعمار کا یہ وہی حربہ ہے جسے اقبال نے یوں بیان کیا تھا:

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رمِ آہُو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہٗ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

سارا ہدف یہ ہے کہ اسلام ایک اجتماعی قوت کی حیثیت اختیار نہ کرے، دین و سیاست میں تفریق ہو، اور اہل ایمان کفر اور ظلم کی قوتوں کے خلاف ایک تحریک اور ایک چیلنج بن کر نہ ابھر سکیں، آپس میں بٹ جائیں اور ہر ملک اور ہر گروہ صرف اپنے آپ میں مگن ہو (’سب سے پہلے پاکستان‘ میں اس کی بازگشت سنی جاسکتی ہے)، اور ایک دوسرے کا معاون و مددگار بن کر انصاف کے حصول اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے پہلوتہی کرلے۔اقبال نے متنبہ کیا تھا کہ:

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد
اے مردِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد


[1]           اے نبیﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی ، اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ ۔ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو ۔

[2]            اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔

[3]           Population Policy at Community Level in Rwanda. (Tallon F. December 22, 1991)

            America’s Secret Role in the Rwandan Genocide (Helen C. Epstein, The Guardian. Sep. 12, 2017)

مگر اب خدائی کے دعوے دار وه بن گئے ہیں جو بزعم خود یہ جانتے ہیں کہ کتنے انسانوں کا دنیا میں آنا باعث خیر ہے اور کتنوں کا راستہ روکنا ان کا استحقاق ہے۔ محترمہ عطیہ عنایت اللہ اس طرح گوہر افشانی فرماتی ہیں کہ اس سال کی عالمی رپورٹ کا مرکزی خیال خطرات سے محفوظ زچگی (Safe motherhood) ہے۔ اس حوالے سے اضافہ آبادی کی شرح میں کمی کا براہ راست اور فوری نتیجہ، نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت میں کمی ہے۔ آزمودہ حکمت عملی کے ذریعے ہم اللہ کی مرضی سے ۲۰۰۳ء تک ہر روز ۴۵۰ بچوں اور ۲۰ ماؤں کی زندگی بچاسکتے ہیں۔

اور اس لن ترانی میں وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ حکومت کی ان دست درازیوں سے کتنی گودیں ہری ہونے سے رہ گئیں، کتنی ہی معصوم جانوں کا دنیا میں آنے سے پہلے ہی گلا گھونٹ دیا گیا، کتنے غنچے کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئے، کتنے خاندان اپنے مستقبل کے  نگہبانوں سے محروم رہ گئے اور کتنے ماں باپ یہ کہتے رہ گئے کہ’’اے مرے لخت جگر ،نور نظر ،پیدا نہ ہو!‘‘

یہی وہ  دعویٰ ہے جو تحریک تحدید نسل کے سارے مبلغ بڑے زعم سے کرتے ہیں۔ مغرب میں ان کے سرخیل  کنگز لے ڈیوس (Kingsley Davis) اور پال اہرلش (Paul Ehrlich) ہیں۔ ڈیوس کا ارشاد ہے:

مجھے آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ ہمیں ان  اضافی۲ کروڑ ۳لاکھ افراد کی کیا ضرورت  ہے۔  (نیوز ویک ۳۰مارچ ۱۹۷۰ء، ص ۸۷)

اور پال اہرلش کا فتویٰ ہے:

میں کسی ایسے سبب کا تصور نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے امریکہ میں ۵ا کروڑ سے زیادہ افراد ہوں؟ اور نہ کسی دوسرے شخص نے اب تک مجھے ایسا کوئی سبب بتایا ہے۔ (Saturday Review ،۱۱مارچ ۱۹۷۲ء، ص ۴۵)

امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کا پروفیسرجولین سائمن(Julian Simon) جس نے آبادی کے مسئلے پر دسیوں کتب تصنیف کی ہیں اور جس کی تحقیقات کو جرمن نوبل انعام یافتہ پروفیسر ہائک(Friedrich August Von Hayek)’’دور حاضر کی بہترین تحقیقی کتب‘‘ قرار دیتا ہے، ان دعووں کی قلعی یوں کھولتا ہے:

آبادی کے بارے میں جتنا لٹریچر  میں نے پڑھا ہے اس میں ایک بات کا ذکر نہ ہونے سے حیرانی ہوئی ہے اور تکلیف بھی۔ ایک انسان وجود میں لانا اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنانا اسی طرح ایک اچھی بات ہے جس طرح ایک زندہ انسان کی زندگی بچانا اور تحفظ دینا ایک اچھی بات ہے۔ بلاشبہ موت اور کسی پیدائش کو روکنا ایک جیسی بات نہیں ہے، تاہم میں ان لوگوں کی فکر میں کوئی منطق نہیں پاتا جو ایک دور دراز ملک میں نسبتاً کم تعداد لوگوں کے بھوک سے مرجانے پر خوفزدہ ہیں ،(اور بہ ظاہر اس سے زیادہ خوف زدہ جتنے کہ وہ اس دور دراز ملک میں سیاسی قتل کے ذریعے ہونے والی اموات پر ہیں ،یا خود اپنے ملک میں حادثات میں ہونے والی اموات پر ہیں) لیکن اس بات پر خوشی مناتے ہیں کہ ایسے لاکھوں کروڑوں لوگ اس دنیا میں اپنی زندگی نہیں گزاریں گے جو اگر ان کی پیدائش رو کی نہ جاتی تو گزارتے۔ میں ڈیو س اور اہرلش کو زیادہ بچے پیدا کرنے اور ملک میں زیادہ تارکین وطن لینے کے لیے ایک سے زیادہ اسباب بتا سکتا ہوں جن میں سب سے کم اہم یہ ہے کہ زیادہ آبادی کا مطلب ہمارے پوتوں اور پڑپوتوں کے لیے زیادہ بلند معیار زندگی ہو گا۔] The Ultimate Resource  ازجولین سائمن (Julian Simon)، یونی ورسٹی آف  پرنسٹن پریس ۱۹۹۶ء ص [xxxii

قرآن نے کتنے غضب ناک انداز میں ان معصوم لڑکیوں کے بارے میں جواب دہی اور بازپرس کی وعید دی ہے جو زندہ درگور کی جاتی تھیں۔

وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْﭗﺗ بِاَیِّ ذَنْۭبٍ قُتِلَتْﭘﺆ ‏ ( التكوير ا۸: ۹-۸)

اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری  گئی ؟

کیا جن معصوم جانوں کو آنے سے پہلے ہی ختم کیا جا رہا ہے ان کے بارے میں سوال نہ ہو گا، خواہ ان کووجود میں آنے سے روکنے کے لیے کوئی بھی طریقہ اور راستہ اختیار کیا جائے؟

اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے اور اس کے لیے زمین و آسمان کی وسعتوں کو مسخر کر دیا ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًاﮕﺟ ( بنی اسرائیل ۷۰:۱۷)

 ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انھیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔

رزق کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اس نے افلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے کو حرام قرار دیا:

  وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍﺚ نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْﺚ (بنی اسرائیل ۳۱:۱۷)

اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمھیں بھی۔

اولاد کا قتل  یا ان کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی روک دینا اللہ کے باغیوں کو بڑا اچھا لگتا ہے مگر اللہ اسے بربادی کا راستہ قرار دیتا ہے:

 وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِھِمْ شُرَکَا۬ؤُھُمْ لِیُرْدُوْھُمْ وَلِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْﺚ ( الانعام ۶: ۷ ۱۳)

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنا دیا ہے تا کہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں۔

انسان پر اس سے بڑا ظلم کوئی اور نہیں کیا جا سکتا کہ محض اپنے عیش و آرام کے تحفظ کی خاطر خدا کی خدائی میں دخل اندازی کی جائے اور آنے والی روحوں کا راستہ ایسے موہوم، بودے اور بر خود غلط تصورات کی بنیاد پر روکاجائے کہ وسائل کم ہیں، معاشی ترقی رک جائے گی، زمین پر گنجائش نہیں، ماحول خراب ہو رہا ہے، معیار زندگی بلند نہیں ہو پا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں سب کے لیے وافر گنجائش پیدا کر رکھی ہے، کمی اگر ہے تو انسانی کوشش اور جدوجہد کی۔ شیخ سعدی ؒ نے درست فرمایا:

ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکار اند
تا تو نانے بہ کف آری و بہ غفلت نہ خوری
ہمہ از بہر تو سرگشتہ و فرماں بردار
شرط انصاف نہ باشد کہ تو فرماں نہ بری

(ابر،ہوا، سورج، آسمان، ان سب کی مدد سے تو اس قابل ہوتا ہے کہ ایک روٹی اپنے ہاتھ میں لے۔ اسے غفلت سے نہ کھا ۔ یہ سب تیرے لیے ہر وقت مصروف ہیں اور تیرے فرماں بردار ہیں۔ یہ انصاف کی بات نہیں کہ تو فرماں بردار نہ بنے )۔

(اگست۲۰۰۰ء)

تہذیبی شناخت اورتعلیم کی دنیا

تہذیبی شناخت اور قومی نفسیات کی تشکیل میں ’تعلیم‘ اور تعلیمی نظام کی اہمیت کے بارے میں دو آراء نہیں ہوسکتیں۔ پاکستان میں یوں تو تعلیمی نظام کی اسلامی تشکیل کے حوالہ سے کسی بھی دور کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں اس نظام میں موجود ’خیر‘ کو مٹانے اور اس کی سمت کو تبدیل کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ بظاہر یہ تمام کوششیں خوش نما نعروں کے ساتھ اور ان کی تکمیل کے نام پر سرانجام دی جاتی ہیں۔ لیکن کیاحقیقت یہی ہے؟ ان کے پس پردہ امریکی ومغربی وسائل میں کیا ایجنڈا کارفرما ہے۔ مختلف تحریروں پر مبنی زیرنظر مضمون میں اس حوالہ سے حقائق کی نشان دہی کی گئی ہے ۔

________________

ہر دور میں جنگ، جنگ کا اسلوب اور جنگی ہتھیار بدلتے رہے ہیں اور نئے نئے ہتھیار اسلحہ خانے کی زینت اور انسانیت کے لیے مصیبت بنتے رہے ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر اگست ۱۹۴۵ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ کے ایٹمی حملے نے اجتماعی تباہی کے ہتھیار  Weapons of Mass Destruction (WMD)کی اصطلاح کو عالمی سیاست اور جنگ و صلح کی لغت میں ایک خاص مقام دے دیا۔ کیمیاوی، حیاتیاتی اور گیس پر مبنی اسلحے کے لیے یہ لفظ    اس سے پہلے بھی استعمال ہوتا تھالیکن دورِ جدید میں ڈبلیو ایم ڈیز(WMDs) نے بڑی اہمیت اختیار کرلی ہے۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد ’دہشت گردی‘ اور ’خودکش حملوں‘ کو بھی ایک قسم کا اجتماعی تباہی کا ہتھیار(WMD) ہی بناکر پیش کیا جا رہا ہے اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کو نہ صرف دہشت گردی کے ایک بدترین عفریت کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے، بلکہ اس نام نہاد جنگ کے پردے میں کچھ دوسری ہی قسم کے  اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں سے دنیا کے مختلف ممالک اور تہذیبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان میں میڈیا کی ثقافتی یلغار اور مسلم ممالک کے تعلیمی نظام پر ایک کاری وار خصوصیت سے اہمیت اختیار کرگئے ہیں، جن کو ہم وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں  (WMDs) ہی کی تازہ ترین شکل سمجھتے ہیں۔ اجتماعی تباہی کے ہتھیار جس طرح انسانوں اور شہروں کو جسمانی طور پر تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اسی طرح یہ نئے علمی اور فنی ہتھیار قلب و نظر کو مسخر کرنے، افراد، معاشروں اور تہذیبوں کے تشخص کو تہ وبالا کرنے اور ایک نوعیت کی نظریاتی نسل کشی(Ideological Genocide) کا مقصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ ویسے تو استعماری قوتوں نے ایسے حربے ہمیشہ ہی استعمال کیے ہیں اور اکبرالٰہ بادی نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ      ؏

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے!

لیکن اپنی کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے تعلیم پر جدید حملے تباہی کے مہلک ہتھیار کی شکل اختیارکرگئے ہیں۔ ان حملوں کے اہداف کیا ہیں؟ علامہ اقبال نے اس خداداد صلاحیت کی بنیاد پر جو فراست ایمانی اور تاریخی اور تہذیبی شعور کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی، اُن سے اُمت مسلمہ کو بہت پہلے متنبہ کر دیا تھا۔ ضربِ کلیم میں ’نصیحت‘ کے عنوان سے شیطان کے اس حربے کو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسر سے
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم
بَرّے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر
سینے میں رہے رازِملُوکانہ تو بہتر
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر
تاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

امریکہ  کی سامراجی اور صلیبی قیادت اس وقت عالمِ اسلام اور خصوصیت سے اس کی احیائی تحریکوں اور جہادی قوتوں کو زیر کرنے کے لیے جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اس میں فوجی قوت، معاشی دباؤ اور پروپیگنڈے کی نفسیاتی جنگ کے ساتھ جو سب سے خطرناک ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے وہ تعلیم کے نظام کو تبدیل کرواکے ذہنوں کو مسخر کرنے کے ذریعے اُمت کو غلامی کے نئے شکنجوں کی گرفت میں لینا ہے۔ فوجی قوت سے بلاشبہ کچھ تھوڑے عرصے کے لیے مقابل قوت کو قابو میں کیا جا سکتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ہر استعمار اور قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت جلد یا بدیر رونما ہوتی ہے۔ معاشی دباؤ  بھی ایک عرصے تک چلتا ہے اور نفسیاتی حربے اور پروپیگنڈے کی تاثیر بھی محدود ہے۔ البتہ ذہنی غلامی، تعلیم کے ذریعے دل و دماغ کو مسخر کرنا، سوچنے کے انداز اور نفع و نقصان، خیروشر اور مطلوب اور نامطلوب کے پیمانوں کو بدل دینا ہی وہ حربہ ہے جس سے محکومی کو دوام      دیا جاسکتا ہےاور اس وقت امریکی دانشور، اس کی  سیاسی قیادت اور اس کے ’مراکز دانش‘ (Think tanks) عوامیتباہی کے جس ہتھیار کواستعمال کرنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین ہیں، وہ نظام تعلیم کی تبدیلی اور نصاب تعلیم میں ایسے تغیرات ہیں جو سوچنے کے انداز کو بدل سکیں اور اسلام کے انقلابی پیغام کو کسی ایسی شکل میں تبدیل کرسکیں کہ مذہبی حِس بھی تسکین پالے اور اسلام کا جہاں بانی اور تاریخ سازی کا کردار بھی ختم ہوجائے۔

اصل ہدف اسلام کا تصور، اس کا تاریخی کردار اور وہ احیائی قوتیں ہیں جو اسلام کو محض گھر اور مسجد تک محدود نہیں کرتیں بلکہ زندگی کے پورے نظام کو اس کے تابع لانا چاہتی ہیں، اور اس سے بھی بڑھ کر دنیا میں ظلم کے ہر نظام کو چیلنج کر کے انسانوں کو انصاف اور عزت کے حصول کے راستے کی دعوت دیتی ہیں۔ استعمار کا یہ وہی حربہ ہے جسے اقبال نے یوں بیان کیا تھا:

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رمِ آہُو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہٗ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

سارا ہدف یہ ہے کہ اسلام ایک اجتماعی قوت کی حیثیت اختیار نہ کرے، دین و سیاست میں تفریق ہو، اور اہل ایمان کفر اور ظلم کی قوتوں کے خلاف ایک تحریک اور ایک چیلنج بن کر نہ ابھر سکیں، آپس میں بٹ جائیں اور ہر ملک اور ہر گروہ صرف اپنے آپ میں مگن ہو (’سب سے پہلے پاکستان‘ میں اس کی بازگشت سنی جاسکتی ہے)، اور ایک دوسرے کا معاون و مددگار بن کر انصاف کے حصول اور ظلم کے خلاف جدوجہد سے پہلوتہی کرلے۔اقبال نے متنبہ کیا تھا کہ:

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خداداد
اے مردِ خدا تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

دین کے رشتے کو کمزور کرنے اور دین کے فہم کو مسموم کرنے کی اسی سازش سے اقبال نے خبردار کیا تھا کہ:

اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
اُس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف

تعلیم: نقشۂ جنگ کا ایک اہم میدان:   ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد جس نقشۂ جنگ کو ترتیب دیا گیا ہے اس میں فوج کشی، معاشی دباؤ  اور نفسیاتی اور ابلاغی جنگ کے ساتھ مسلمانوں کے دینی تعلیمی نظام کو سبوتاژ کرنا اور اسے دنیاوی علوم اور عصری مسائل کے نام پر اپنی جڑوں سے اکھاڑدینا ہے۔ جدیدتعلیمی نظام میں جس حد تک بھی اسلام کے انقلابی تصورِ حیات اور خصوصیت سے حق و باطل کی کش مکش میں مسلمانوں کے کردار اور اجتماعی مقاصد اور وحدت اُمت کے تصورات پائے جاتے ہیں، ان کو تار تار کرنا اور محض دنیاطلبی، عیش پرستی، ہوسرانی، اور طاؤ س و رباب کی زندگی کا رسیا بنانا ہے۔اس کے لیے اصل ہدف اسلام کا یہ تصور زندگی ہے کہ مسلمان ایک نظریاتی اُمت ہیں، ایک جسم کے اعضا کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا اپنا اخلاقی، معاشی، سیاسی، تہذیبی، مالیاتی اور ثقافتی نظام ہے۔ وہ ایک نظامِ نو کے داعی اور تہذیب و تمدن کے ایک منفرد تصور کے مطابق انفرادی اوراجتماعی زندگی کی تشکیل کی جدوجہد میں اپنا مستقبل دیکھتے ہیں۔ یہ تصور آج کی امریکی قیادت کی نگاہ میں اس کے مفادات کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور وہ اسے ’خطرہ‘ بناکر ایک طرف مسلمانوں کی عسکری قوت کو غیرمؤثر بنانے، ان کے معاشی وسائل کو گلوبلائزیشن کے نام پر اپنی گرفت میں لانے اور سب سے بڑھ کر فکری یلغار اور تعلیم کے بطور ایک مہلک ہتھیار کے بے محابا استعمال سے ان کو اپنی غلامی میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کام سرکاری ذرائع کے ساتھ مسلمان ملکوں کے اپنے حکمرانوں، لبرل طبقات اور بیرونی سرمائے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے ذریعے انجام دینا چاہتے ہیں جس کے لیے سرمایہ پانی کی طرح بہایا جارہا ہے اور مفید مطلب حکمرانوں کو آلۂ کار بنایا جا رہا ہے۔

اسلام کے تصورِحکومت، ملّت کی وحدت، جہاد اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے جذبے کو اصل ہدف بنایا گیا ہے۔ بنیاد پرستی، عسکریت، تشدد، انتہاپسندی اور اس نوعیت کے تمام اتہامات مسلمانوں پر اور خصوصیت سے دینی قوتوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ مسلم دنیا میں حکمرانوں اور عوام میں کش مکش برپا کرنے اور ان کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراکرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جارہے ہیں، اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس کے لیے چھتری کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر ایک طرف حفظ ماتقدم حملے(Pre-emptive strike) اور حکومتوں کی تبدیلی(Regime change) کی حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے تو دوسری طرف دینی تعلیم کے نظام کو تبدیل کرنے، اسے سرکاری گرفت میں لانے، اور ملکی تعلیمی نظام میں نصاب اور تعلیمی اہداف کو تبدیل کرانے اور ذہنوں کو تبدیل کرنے اور اپنا ہم نوا بنانے کے منصوبوں پر پوری شدومد کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کو تو مکمل طور پر اپنے زیرتسلط لے آیا گیا ہے لیکن اس تہذیبی اور تعلیمی جنگ کا ہدف پورا عالمِ اسلام ہے جس میں خصوصیت سے اس وقت سعودی عرب، مصر اور پاکستان نشانہ ہیں۔

امریکی حکمت عملی

امریکہ  کی اس حکمت عملی کی یہ جھلکیاں صدربش سے لے کر ان کے دفاع کے وزیر رمزفیلڈ، قومی سلامتی کی مشیر کنڈولیزا رائس اور وزیرخارجہ کولن پاول کے بیانات میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کا بہت واضح اور مکمل اظہار حال ہی میں شائع ہونے والی دو اہم رپورٹوں میں ہوا ہے جس میں جنگ کا پورا نقشہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ وہاں کے مشہور تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے قومی سلامتی کے تحقیقی شعبے نے تیار کی ہے اور Civil Democratic Islam: Partners, Resources and  Strategies کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ اسے Cheryl Benard نے مرتب کیا ہے۔ اس کی تیاری میں آٹھ دوسرے دانشوروں نے شرکت کی ہے جن میں کابل میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد بھی شریک ہیں۔

رپورٹ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ آج اسلام ایک دھماکا خیز شکل اختیار کرگیا ہے جو اندرونی اور بیرونی جدوجہد میں مصروف ہے تاکہ اپنی اقدار اور اپنے تشخص کو ابھارسکے اور ان کی روشنی میں دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکے۔ اس پس منظر میں امریکہ اور مغربی دنیا کا مفاد اور ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اسلامی دنیا ایک ایسی صورت اختیار کرے جو مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہویعنی جمہوری اس معنی میں کہ سماجی اعتبار سے ترقی پسند (Socially  progressive) ہو اور بین الاقوامی طور پر قابلِ قبول رویہ اختیار کرے۔ اس کے لیے امریکی پالیسی کیا ہو؟ رپورٹ کہتی ہے:

اس لیے دانش مندی کی بات یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے جو عالمی امن اور عالمی برادری سے ہم آہنگ ہیں اور جمہوریت اور جدیدیت کو پسند کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں مسلمانوں کو چار بڑے بڑے زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:

۱۔    بنیاد پرست (Fundamentalists)جو مغربی تہذیب کے خلاف ہیں اور اسلامی قانون اور اخلاقیات کا وہ تصور رکھتے ہیں جو رپورٹ کے مصنفین کی نگاہ میں جدیدیت سے متصادم ہے۔ یہ مغرب کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور نتیجتاً اہم ترین دشمن ہیں۔

۲۔   دوسراگروہ قدامت پسندوں (Traditionalists)کا ہے جو تبدیلی، تجدد اور جدیدیت سے خائف ہیں اور روایت کے اسیر رہنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی ہمارے دشمن ہیں مگر نمبر ایک کے مقابلے میں غنیمت ہیں۔

۳۔   تیسرا گروہ جدیدیت پسندوں (Modernists)کا ہے جو اسلامی دنیا کو آج کی مغربی دنیا (جسے رپورٹ عالمی برادری Global community قرار دیتی ہے)سے ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اسلام کو جدید بنانے کے خواہاں ہیں۔ یہ ہمارے لیے قابلِ قبول ہیں باوجودیکہ یہ گروہ اسلام سے رشتہ باقی رکھنا چاہتا ہے۔

۴۔ چوتھا گروہ جو مغرب کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے وہ لادینیوں (Secularists) کا ہے جو دین و دنیا اور مذہب اور سیاست کی علیحدگی کے کھلے کھلے قائل ہیں، اور مغرب کے ماحول کی مکمل پیروی کرتے ہوئے مذہب کو ذاتی مسئلے اور اجتماعی امور کو مغربی صنعتی جمہوریتوں کے طور طریق  پر چلانا چاہتے ہیں۔

اصل رپورٹ میں ان چاروں کے درمیان بھی تقسیم در تقسیم کی نشان دہی کی گئی ہے جن میں سب سے ’فسادی‘ اور خطرناک وہ  بنیاد پرست ہیں جو ان کی نگاہ میں تشدد کے طریقےاختیار کرتے ہیں۔ تمام بنیاد پرست دہشت گرد نہیں خطرناک ضرور ہیں۔ اسی طرح قدامت پسندوں، جدیدیت پسندوں اور لادینیوں میں بھی کم از کم دو ، دو گروہ ہیں۔

اس رپورٹ کے مصنفین نے مقابلے کے لیے جو بنیادی حکمت عملی پیش کی ہے ، اس کے اہم نکات یہ ہیں:

یہ طرزِ فکر ترقی، جدیدیت اور تہذیب یافتہ جمہوری اسلام کی تشکیل کو مضبوط کرنا اور فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ مختلف حالات سے ان کی مناسبت سے نمٹنے کے لیے ضروری لچک فراہم کرتا ہے، اور غیر مطلوب (Unintended)منفی خطرات کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ درج ذیل خاکے سے واضح ہوتا ہے کہ ایسی حکمت عملی کیا ہوگی:

  • پہلے قدم پر جدیدیت پسندوں کی حمایت کی جائے۔ انھیں اپنے نظریات مرتب کرنے اور پھیلانے کے لیے وسیع پلیٹ فارم فراہم کرکے، ان کے تصورِ اسلام کو روایت پسندوں کے تصور کے مقابلے میں زیادہ وقعت دے کر۔ انھیں، نہ کہ روایت پسندوں کومعاصر اسلام کے حقیقی نمائندے کے طور پر تیار کیا جائے اور عوامی سطح پر پیش کیا جائے۔
  • لادینیت پسند عناصر میں سے ہر ایک کی اس کی کیفیت اور ضرورت کی مناسبت سے (Case by case)  حمایت کی جائے۔
  • لادینی ،تہذیبی اور ثقافتی اداروں اور پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
  • روایت پسندوں کی اس حد تک پشت پناہی کی جائے جو انھیں بنیاد پرستوں کے مقابلے کے قابل رکھے (اگر اور جہاں، یہ ہمارا انتخاب ہو) اور دونوں گروہوں کے درمیان قریبی اتحاد کوروکا جائے۔ روایت پسندوں کے اندر ہمیں انتخاب کر کے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے جو جدید سول سوسائٹی سے نسبتاً بہتر مناسبت رکھتے ہوں۔مثال کے طور پر بعض اسلامی فقہی مکاتب ہمارے انصاف اور انسانی حقوق کے تصور سے بہ نسبت دوسروں کے زیادہ قریب ہیں۔
  • آخری بات یہ کہ بنیاد پرستوں کے اسلامی اور نظریاتی موقف میں کمزور مقامات پر پوری قوت سے حملہ کیا جائے تاکہ وہ باتیں کھل کر سامنے آئیں جو ان کے مخاطب لوگوں میں سے نوجوان مثالیت پسند اور نیکوکار روایت پسند ٹھیک نہ سمجھیں: ان کی بدعنوانی، ان کی بے رحمی، ان کی جہالت، اسلام کے اطلاق میں ان کا تعصب اور واضح غلطیاں، اور قیادت کرنے اور حکومت کرنے کی ان کی نااہلیت۔

اس مجموعی طرزفکر کی تقویت کے لیے کچھ اضافی زیادہ براہ راست سرگرمیاں ضروری  ہوں گی جیسی کہ ذیل میں درج ہیں:

  • اسلام کی تعریف کرنے، تشریح کرنے اور تعبیر کرنے پر بنیاد پرستوں اور روایت پسندوں کے اجارے کو توڑنے میں مدد دی جائے۔
  • ایسے مناسب جدیدیت پسند علما کی شناخت کرنا جو ایسی ویب سائٹ چلائیں جس میں روزمرہ کے معاملات کے بارے میں سوالات کے جواب دیے جائیں اور جدید اسلامی فقہی آرا پیش کی جائیں۔
  • نصابات کی تشکیل اور درسی کتب لکھنے کے لیے جدیدیت پسند اسکالروں کی حوصلہافزائی کی جائے۔
  • زرتلافی شامل کر کے کم قیمت پر تعارفی کتب کی اشاعت کی جائے اور انھیں اسی طرح دستیاب کیا جائے جس طرح بنیاد پرست مصنفوں کے کتابچے دستیاب ہیں۔
  • مقبول عوامی ذرائع ابلاغ، جیسے ریڈیو کو استعمال کر کے جدیدیت پسند مسلمانوں کی فکر اور عمل کو عام کیا جائے تاکہ اسلام کا جو مطلب ہے اور جو مطلب ہو سکتا ہے اس کا عالمی دائرہ  وسیع تر ہو۔ (ص ۴۸-۴۷)

اس حکمت عملی کے بنیادی نکات یہ بیان کیے گئے ہیں:

۱۔    قائدین اور رول ماڈل تیار کرنا۔ وہ جدیدیت پسند جن کے ستائے جانے کا اندیشہ ہے ان کو شہری حقوق کے حوصلہ مند قائدین کے طور پر سامنے لایا جائے جو وہ فیالحقیقت ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ یہ مفید مطلب ہے۔

۲۔   سیاسی حد رسائی (Outreach)کے معاملات میں جدیدیت پسند عام مسلمانوں کو شامل کیا جائے تاکہ آبادی کی  بنیاد  پر حقیقی  صورت حال کی صحیح عکاسی ہو۔ مسلمانوں کی اسلامیت کو مصنوعی طور پر ابھارنے سے احتراز کیا جائے۔ اس کے بجائے ان کو اس بات کا عادی بنایا جائے کہ اسلام ان کی شناخت کا بس ایک حصہ ہو سکتا ہے۔

۳۔   اسلامی دنیا میں سول سوسائٹی کی حمایت کی جائے۔ یہ بحرانی حالات میں مہاجروں کی دیکھ بھال اور تنازعے کے بعد کی صورت حال میں خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ اس صورت میں ایک جمہوری قیادت سامنے آسکتی ہے اورمقامی این جی اوز اور دوسری شہری انجمنوں کے ذریعے عملی تجربہ حاصل کر سکتی ہے۔ دیہی اور پڑوسی کی سطح پر بھی یہ انجمنیں ایک ایسا انفراسٹرکچر ہیں جو سیاسی شعور بیدار کرسکتی ہیں اور معتدل جدیدیت پسند قیادت ابھار سکتی ہیں۔

۴۔   مغربی اسلام ، جرمن اسلام اور امریکی اسلام وغیرہ کو تشکیل دینا۔ اس کے لیے ان معاشروں کی ہیئت کا اور ان کے ہاں رائج فکروعمل کے ارتقا کا بہتر فہم حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان کے نظریات کا استنباط کرنے، اظہار کرنے اور ان کو قانونی شکل دینے (Codifying)میں مدد دی جائے۔

۵۔   انتہاپسند اسلام سے وابستہ افراد اور موقفوں کو بے جواز قرار دیا جائے۔ بنیاد پرست خودساختہ قائدین کے غیراخلاقی اور منافقانہ افعال کو عام کیا جائے۔ مغرب پر بداخلاقی اور سطحیت کے الزامات  بنیاد پرستوں کے اسلحہ خانے کا پرکشش حصہ ہیں، جب کہ  انھی نکات پر وہ خود بہت زیادہ حملے کی زد میں ہیں۔

۶۔   عوامی ذرائع ابلاغ میں عرب صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرنا کہ وہ بنیاد پرست قائدین کی زندگیوں، عادات و اطوار اور بدعنوانیوں پر تفتیشی رپورٹنگ کریں۔ ان واقعات کی تشہیر کی جائے جو ان کی بے رحمی کو ظاہر کرتی ہے، مثلاً حال ہی میں آتش زنی کے واقعے میں سعودی اسکول میں لڑکیوں کی اموات، جب کہ مذہبی پولیس نے آگ بجھانے والوں کو جلتے ہوئے اسکول کی عمارت سے لڑکیوں کو نکالنے سے ہاتھ پکڑ کر روکا کیونکہ وہ باپردہ نہ تھیں۔ اور ان کی منافقت جس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ سعودی مذہبی انتظامیہ تارک وطن کارکنوں کو اپنے نئے پیدا ہونے والے بچوں کی تصویریں منگوانے سے اس بنیاد پر روکتی ہے کہ اسلام میں تصویر بنانا منع ہے، جب کہ ان کے اپنے دفاتر میں شاہ فیصل وغیرہ کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں ہیں۔

۷۔   دینی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے نظام کو درہم برہم کیا جائے، اس لیے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو وسائل فراہم کرنے میں خیراتی اداروں کا کردار ۱۱ستمبر کے بعد زیادہ واضح طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ ضروری ہوگیا ہے کہ سرکاری سطح پر تحقیقات ہوں اور مسلسل جاری رہیں۔

۸۔   خوش حال اور معتدل اسلام کے نمونے کے طور پر مناسب نظریات رکھنے والے  ممالک اور علاقوں یا گروپوں کی شناخت کرکے اور ان کی سرگرمی سے مدد کرکے تشہیر کی جائے۔ ان کی کامیابیوں کو شہرت دی جائے۔

۹۔    تصوف کے مقام ومرتبے کو بلند کیا جائے۔ مضبوط صوفی روایات کے حامل ممالک کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اپنی تاریخ کے اس حصے کو اہمیت دیں اور اسے اپنے اسکول کے نصاب میں شامل کریں۔ صوفی اسلام پر زیادہ توجہ دی جائے۔

۱۰۔ انقلابی اسلامی تحریکوں کے بڑی عمر کے وابستگان کے نظریات تبدیل ہونے کی آسانی سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ لیکن اگر جمہوری اسلام  کا پیغام متعلقہ ممالک کے اسکول نصابات میں اور سرکاری میڈیا میں داخل کر دیا جائے تو ان کی نوخیز نسل پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔ انقلابی بنیاد پرستوں نے تعلیم میں رسوخ حاصل کرنے کے لیے بہت بڑی کوششیں کی ہیں اور اس کا امکان بہت کم ہے کہ وہ کسی لڑائی کے بغیر اپنی قائم شدہ  جڑیں چھوڑ دیں۔ یہ میدان ان سے واپس حاصل کرنے کے لیے ایک بھرپور کوشش کی ضرورت ہوگی۔

اس ۱۰ نکاتی حکمت عملی کو بروئے کار لانے کے لیے ایک مفصل پروگرام اور ترجیحات ہی نہیں بلکہ پورے سیاسی اور نظریاتی کھیل کا نقشۂ کار بھی رپورٹ کی زینت ہے۔ میکیاولی کی سیاست تو مشہور تھی ہی، مگر بش کے امریکہ نے میکیاولی کی سیاست کا جو اکیسویں صدی کا ایڈیشن مرتب کیا ہے، اس کے خدوخال ہی دیکھ لیں اور اس آئینے میں غیروں ہی کے نہیں اپنوں کے بیانات، عزائم اور اعلانات کی تصویر بھی دیکھ لیں کہ کس طرح ماڈرن اور ماڈریٹ اور روشن خیال اسلام کا  تانابانا بنا جا رہا ہے:

مجموعی حکمت عملی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوگاکہ درج ذیل خصوصی سرگرمیاں بھی کی جائیں:

  • جدیدیت پسندوں اور معروف سیکولرسٹوں کی اس طرح سے مدد کی جا سکتی ہے:
  • ان کے افکار کی توسیع واشاعت کی جائے۔
  • ان کی عوام اور نوجوانوں کے لیے لکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے۔
  • اسلامیات کے نصاب میں ان کے افکار کو متعارف کروایا جائے۔
  • ان کو عوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔
  • مذہب کے بنیادی تصورات کے بارے میں ان کے افکار ونظریات کو ان بنیاد پرستوں اور روایت پسندوں کے مقابلے میں عام کیا جائے جو پہلے سے ہی اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے ویب سائٹس، اشاعتی ادارے، تعلیمی ادارے اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔
  • غیرمطمئن مسلم نئی نسل کے لیے جدیدیت کو متبادل ثقافت کے طور پر پیش کیا جائے۔
  • قبل از اسلام اور غیر اسلامی تاریخ اور ثقافت سے متعلق بیداری کو سہولت پہنچاکر اور حوصلہ افزائی کرکے متعلقہ ممالک کے میڈیا اور نصاب کے ذریعے عام کیا جائے۔
  • لادینی شہری اور ثقافتی اداروں اور پروگراموں کی حوصلہ افزائی اور امداد کی جائے۔
  • روایت پسندوں کی بنیاد پرستوں کے مقابلے میں حمایت اس طرح سے کی جائے:
  • روایت پسندوں  کی بنیاد پرستوں کے تشدد اور انتہاپسندی پر تنقید کو عام کر کے، اور روایت پسندوں  اور بنیاد پرستوں کے درمیان اختلاف کو ہوا دے کر۔
  • روایت پسندوں اور بنیاد پرستوں کے درمیان اتحاد کی روک تھام کرکے۔
  • ان جدیدیت پسندوں اور روایت پسندوں  کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے جو اس تناظر میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ روایت پسندوں  کے اداروں میں جدیدیت پسندوں کی موجودگی اور حیثیت کو بڑھا یا جائے۔
  • روایت پسندوں  کے مختلف حلقوں کے درمیان امتیاز برتا جائے۔
  • ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے جو جدیدیت سے قریب تر ہیں جیساکہ دوسروں کے مقابلے میں فقہ حنفیہ۔ ایسے فتاویٰ جاری کیے جائیں جو قبولیت عام حاصل کرکے دقیانوسی وہابی فتووں کی حیثیت کو کمزور کریں۔
  • صوفی ازم کی شہرت اور مقبولیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
  • بنیاد پرستوں کا اس طرح مقابلہ کیا جائے اور مخالفت کی جائے:
  • اسلامی تعبیرات کے سوال پر ان کے نقطہ ہائے نظر میں پائے جانے والے اختلافات کو چیلنج کرکے اور بے نقاب کر کے۔
  • غیرقانونی گروپوں اور سرگرمیوں سے ان کے تعلقات کو بے نقاب کر کے۔
  • ان کی پُرتشدد سرگرمیوں کے نتائج کو عام کر کے۔
  • اپنی اقوام کی فلاح و بہبود کے صحیح رخ پر تعمیروترقی کرنے کی نااہلیت کو ظاہر کرکے۔
  • ان پیغامات کوبالخصوص نوجوانوں، نیک روایت پسند آبادی، مغرب میں مسلم اقلیتوں اور خواتین کو پہنچاکر۔
  • انتہا پسند بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کے کارہائے نمایاں کی تعریف کرنے اور انھیں احترام دینے سے اجتناب کرکے اور اس کے بجائے انھیں خبطی اور بزدل، نہ کہ بدی کے ہیرو کے طور پر پیش کر کے۔
  • صحافیوں کی حوصلہ افزائی کر کے کہ وہ بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کے حلقوں میں تفتیشی رپورٹنگ کے ذریعے بدعنوانی، منافقت اور اخلاقی گراوٹ کے معاملات کو سامنے لائیں۔
  • صرف لادین عناصر کی حمایت کی جائے:
  • بنیاد پرستی کو بطور مشترکہ دشمن تسلیم کرنے کی حوصلہ افزائی کر کے، قوم پرستی اور بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر امریکہ مخالف قوتوں کے ساتھ لادینی عناصر کے اتحادوں کی حوصلہ شکنی کر کے۔
  • اس نظرئیے کی حمایت کر کے کہ مذہب اور ریاست اسلام میں بھی جدا جدا ہوسکتے ہیں اور اس سے ایمان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ (ص ۶۶-۶۱)

تہذیبی، فکری اور تعلیمی جنگ کا پورا نقشۂ کار آپ کے سامنے ہے۔ اگر اب بھی کسی کو امریکی سامراج کی تازہ ترین صلیبی جنگ کے اصل اہداف، مقاصد اور مضمرات کو سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہے تو اس کی وجہ امریکی دانش وروں کی صاف گوئی کی کمی نہیں، اپنی کج فہمی یا تغافل جاہلانہ ہوسکتی ہے۔ رہے ہمارے حکمران اور لبرل دانش ور، تو ذرا امریکہ بہادر کے ان ارشادات کا موازنہ اپنے حکمرانوں، وزرائے تعلیم بلکہ کچھ ’علمائے کرام‘ کی گوہرافشانیوں سے کرکے دیکھ لیجیے۔ صاف نظر آجائے گا کہ                             ؎

انھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں، زباں میری ہے بات ان کی
انھی کی محفل سنوارتا ہوں، چراغ میرا ہے رات ان کی

دوسری طرف اس سے بھی زیادہ اہم رپورٹ وہ ہے جو ایک اعلیٰ اختیاراتی مشاورتی گروپ نے مرتب کی ہے جس میں ۱۴؍ اہم سابق سفیر اور چوٹی کے دانش ور شامل تھے ۔ اس کے صدر سابق سفیر ایڈورڈ پی ڈجرجن(Edward P. Djerejan) تھے اور جسے امریکی ایوان نمائندگان کی Committee on Appropriationنے مرتب کرایا ہے۔ اس گروپ نے مسلم دنیا کے اہم ممالک کا دورہ کیا اور جہاں نہ جا سکا وہاں ٹی وی کانفرنس کے ذریعے وہاں کے اہم لوگوں سے رابطہ کیا۔ مدیر ترجمان القرآن  کی حیثیت سے راقم کو بھی ایک ایسی ہی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ رپورٹ اکتوبر ۲۰۰۳ء میں:

Changing Minds, Winning Peace: A New Strategic Direction for U.S. Public Diplomacy in the Arab and Muslim World

کے نام سے شائع ہوئی ہے، اور امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس سے استفادہ کیا ہے۔[1]

اس رپورٹ کا مثبت پہلو تو یہ ہے کہ اس میں امریکہ کے بارے میں عالمِ اسلام اور  عرب دنیا میں پائی جانے والی بے چینی بلکہ نفرت کا واضح اعتراف موجود ہے۔ اصلاحِ احوال کے لیے امریکہ  کی پالیسیوں پر نظرثانی کا تو  یہ بالکل ضمنی طور پر ذکر کرتی ہے لیکن اصل توجہ اس پر ہے کہ دنیا ہمیں صحیح طور پر سمجھ نہیں رہی، اس لیے خوب وسائل خرچ کر کے امریکی نقطہ نظر کو دنیا کو سمجھانے اور عرب اور اسلامی دنیا کے تعلیمی، سیاسی اور سماجی نظام میں ایسی تبدیلیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو امریکہ  کی ساکھ کو بڑھانے اور ان کو امریکہ کا ہمنوا بنانے میں مؤثر ہوسکیں۔ سرمائے کا بے محابا استعمال، نظام تعلیم کو متاثر کرنا، ریڈیوا ورٹی وی کا مؤثر استعمال، وفود کے تبادلے، طلبہ قیادتوں، فوجی ذمہ داروں کے تبادلہ پروگراموں، امریکی لٹریچر کی ان ممالک کی زبانوں میں فراہمی، امریکی سینیٹرز کا قیام، امریکہ  میں ان ملکوں کی زبانوں کے جاننے والوں کا خصوصی پروگرام وغیرہ بھی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ اس خدشے کا بھی اعتراف ہے کہ جمہوریت کے فروغ سے کہیں مذہبی انتہاپسند ان ممالک میں غلبہ نہ حاصل کرلیں۔

ہم ان تمام اخباری مضامین اور بیانات سے صرفِ نظر کر رہے ہیں جن میں مدرسے کی تعلیم، جہادی کلچر کی فسوں کاریوں اور نام نہاد بنیاد پرست تنظیموں کی سرگرمیوں کو ہدف تنقیدوملامت بنایا گیا ہے اور جس نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پیالی میں طوفان (Storm in a cup of tea) کا سماں پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ  کے کارفرما عناصر کے ذہن کو بنانے اور خود پالیسی ساز اداروں کو متاثر کرنے میں اس کا بھی بڑا دخل ہے۔ پالیسی ساز اداروں اور ’مراکز دانش‘ کی رپورٹوں کے جائزے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم اس وقت خاص ہدف ہیں۔

پاکستان میں حکومتی اقدامات

اس پس منظر میں پاکستان میں جنرل پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کے ذریعے جو تبدیلیاں نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں لائی جا رہی ہیں، ان کے بے لاگ جائزے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے کہ سرکاری اعلانات برأت کے علی الرغم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان نام نہاد اصلاحات کے ڈانڈے امریکی پالیسی اور مطالبات سے ملتے ہیں جس کا اعتراف امریکی وزیرخارجہ جناب کولن پاول نے امریکہ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے اپنے ایک بیان میں ۱۰ مارچ ۲۰۰۴ء کو ان الفاظ میں کیا کہ: ’’پاکستانی مدارس دہشت گردوں کی آماجگاہ ہیں جس کے لیے ہم مشرف اور دیگر اسلامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح امریکہ کی سلامتی کی مشیر کونڈولیزارائس (Condoleezza Rice)کا یہ بیان بھی ایک جہانِ معنی اپنے اندر رکھتا ہے کہ ’’اسلامی ممالک بشمول پاکستان کا تعلیمی نصاب    بڑا مسئلہ تھا اور ہم اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی مشاورت سے بڑی تبدیلیاں کررہے ہیں‘‘۔

ہماری وزیرتعلیم خواہ کتناہی یہ کہتی رہیں کہ: ’’نصاب میں تبدیلی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی منصوبہ بندی ہماری اپنی ہے، کوئی امریکی یا بیرونی دباؤ  کا شاخسانہ نہیں‘‘۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ کی عالمی حکمت عملی  کا دباؤ  موجود ہے اور ایک موقع پر   تو کونڈولیزارائس نے یہ کہہ  بھی دیا تھا کہ: ’’پاکستان میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے پیچھے  ہماری ہدایات کارفرما ہیں‘‘۔اب تو ’زبانِ خنجر‘ اور ’آستیں کا لہو‘ دونوں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ  تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب دونوں میں کی جانے والی تبدیلیوں کی اصل شان نزول کیا ہے؟

بلاشبہ یہ تبدیلیاں ۱۱ستمبر کے واقعے کے بعد ہی شروع ہوگئی تھیں اور ان میں سے کچھ جنرل پرویز مشرف کے اپنے سیکولر اور لبرل رجحانات کے زیراثر بھی ہوسکتی ہیں لیکن تعلیم کو سیکولرائز کرنے کی مہم میں تیزی ۱۱ستمبر کے بعد کی امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں آئی ہے۔

اس پس منظر میں کچھ تبدیلیاں تو وہ ہیں جو خاموشی سے وزارتِ تعلیم کے ذریعے لائی جارہی تھیں لیکن ایک دھماکا اس رپورٹ کی اشاعت سے ہوا جسے مغربی سرمائے کے بلبوتے پر ایک این جی او نے سیکولر اور لبرل دانش وروں کے ایک گروہ سے تیار کروایا۔ The Subtle Subversionکے نام سے یہ رپورٹ اے ایچ نیّر اور احمدسلیم کی ادارت میں Sustainable Development Policy Institute (SDPI) نے شائع کی جس پر وزارت تعلیم کی ایک کمیٹی نے باقاعدہ غور کیا۔ خدا بھلا کرے ان اہلِ قلم اور پارلیمنٹ کے ارکان کا جنھوں نے اس پر بروقت گرفت کی اور وزارتِ تعلیم کو ایک دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔ یہ رپورٹ اس ذہن کی کھلی عکاسی کرتی ہے جو تعلیم کے نظام کو کلی طور پر غیراسلامی بناکر مغرب کے لبرل فریم ورک میں لانا چاہتا ہے اور جو امریکہ کے اصل اہداف کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔ اس گروہ نے کوشش تو یہ کی تھی کہ وزارتِ تعلیم کے ذریعے اپنے مذموم اہداف کو حاصل کر لے لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے کہ وہ شر سے کبھی کبھی خیر بھی نمودار کرتا ہے، اسی طرح جس طرح رات سے دن رونما ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مخالف قوتوں کا پورا کھیل سامنے آگیا۔ قوم جو ایک حد تک غفلت کا شکار تھی، چونک اٹھی اور جو تبدیلیاں خاموشی سے لائی جارہی تھیں وہ ایک دم سب کے سامنے آگئیں۔

اس طرح نظام تعلیم اور نصابِ تعلیم کا مسئلہ قومی بحث اور پارلیمنٹ میں احتساب کا موضوع بن گئے۔ ہم نے جو پس منظر پیش کیا ہے اس میں اس بحث کی اصل معنویت کو سمجھا جا سکتا  ہے۔                                                                                                                                                                         (جون ۲۰۰۴ء)

تعلیم: اصل المیہ

پاکستان کے ایک تحقیقی ادارے   Social Policy and Development Centre  نے ۲۰ دسمبر ۲۰۰۳ کو اپنی ایک رپورٹ پاکستان کے تعلیمی حالات پر شائع کی ہے جس پر قومی سطح پر غور نہ کرنا ایک مجرمانہ غفلت ہوگا۔ یہ رپورٹ کسی سیاسی ادارے کی طرف سے نہیں آئی اور اس کا مقصد کسی ایک حکومت کا احتساب نہیں بلکہ اصل میں پوری قوم کا احتساب ہے اور اب تک کی ساری ہی حکومتوں کی ناکامی پر قومی گرفت کی ضرورت کی دعوت ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ۱۹۷۲ء میں پاکستان میں ۲ کروڑ ۸۰ لاکھ افراد نا خواندہ تھے جن کی تعداد اب ۴ کروڑ ۶۰ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔[2]   ۵ سے ۹ سال کی عمر کے بچوں کے اسکول میں داخلے کی صورت حال بھی اندوہناک ہے۔ ایسے ۵ کروڑ بچوں میں سے عملاً صرف ایک کروڑ ۳۰لاکھ پرائمری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان میں بھی اسکول چھوڑنے والوں کی شرح جو ۹۶-۱۹۹۵ء میں ۴۰ فی صد تھی وہ ۱۹۹۹-۲۰۰۰ء میں بڑھ کر ۵۴ فی صد ہوگئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک سے مقابلے کا تو کیا سوال اس وقت عالم یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھی پاکستان ناخواندگی اور اسکول میں داخلوں کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال بھی ہم سے آگے ہیں ۔ اسی طرح ہم دنیا کے ان ۱۲ ممالک میں شامل ہیں جو اپنی قومی آمدنی کا ۲ فی صد سے بھی کم تعلیم پرخرچ کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں گذشتہ ۵۰ سال کا اوسط 1.8فی صد ہے۔

اس کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ تعلیم کے نظام میں یکسانیت کی کمی ہے جس سے قوم طبقوں میں بٹ رہی ہے اور بالکل مختلف ذہنی رویے وجود میں آرہے ہیں ۔ اس وقت نظام تعلیم اپنے میں مگن تین منطقوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ایک طرف انگریزی میڈیم اسکول ہیں جو بالکل دوسرا ذہن پیدا کر رہے ہیں اور دوسری طرف اردو میڈیم اسکول ہیں جن کی تعلیمی حالت بھی دگرگوں ہے اور ان کا ذہنی افق بھی بالکل مختلف ہے۔ تیسرا طبقہ دینی تعلیمی اداروں کا ہے جو ان دونوں سے مختلف ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق انگریزی میڈیم کے طلبہ کا دو تہائی بھارت سے دوستی ،آزاد پریس،عورتوں کی مساوات ،جمہوریت اور کشمیر کے مسئلے پر بھی صرف پرامن ذرائع کا قائل ہے، جب کہ ایک تہائی یا اس سے بھی کم جہادکشمیر اور شریعت کے نفاذ کے حق میں ہے۔ اس کے برعکس اردو میڈیم اور دینی مدارس کے طلبہ کی عظیم اکثریت شریعت کے نفاذ اور جہاد کشمیر کے حق میں ہے۔ رپورٹ کے مرتبین یہ کہنے پرمجبور ہیں کہ:

ہم ملک میں ایک سے زیادہ پاکستان تخلیق کر رہے ہیں ۔ یہ طلبہ زندگی کے بارے میں متضاد نظریے رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک غیرمستحکم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔  (ڈان ۲۱دسمبر  ۲۰۰۳ء)

یہ رپورٹ ہمارے علم میں کوئی اضافہ نہیں کرتی لیکن جس طبقے کی طرف سے یہ آئی ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ملک کی سیکولر لیڈرشپ بھی حالات پر پریشان ہے۔ بنیادی مسائل دو ہی ہیں: ایک تعلیم پر توجہ ،وسائل اور مؤثر قومی جدو جہد کی کمی اور دوسرے نظریاتی ،اخلاقی اور تہذہبی اعتبار سے تعلیم کا معاشرے اور قومی مقا صد سے متصادم ہونا ۔ وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی صاحب نے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ایک ہی مثبت بات کہی تھی کہ تعلیم کو ملک کی شناخت سے ہم آہنگ کرنا اور ملک میں ایک نصاب کی ترویج ۔ لیکن عملاً ابھی تک اس کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ استعماری مفادات کی اسیر این جی اوز نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔

آج کمیت (Quantity) اور کیفیت (Quality) دونوں اعتبار سے تعلیم کی حالت، زارو زبوں ہے۔ یہ قوموں کی ترقی نہیں تنزل اور تباہی کا راستہ ہے۔ قوم اور پارلیمنٹ کو تعلیم کے مسئلے کو اولیت دینی چاہیے اور کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے اصلاح احوال کی فوری فکر کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں اسلامی جمعیت طلبہ تمام طلبہ تنظیموں اور اساتذہ کے تعاون سے جو کوشش کر رہی ہے وہ بہت لائق تحسین اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ لیکن یہ کام تمام دینی اور سیاسی جماعتوں اور سب سے بڑھ کر حکومت اور پارلیمنٹ کے کرنے کا ہے۔ اور ترجیحی بنیادوں پر کرنے کا ہے تا کہ ہم اپنی نئی نسلوں کو تباہی سے بچاسکیں اور پاکستان عالمی برادری میں اپنا مقام حاصل کر سکے۔                                                       (جنوری ۲۰۰۴ء)

تعلیم اور سامراجی یلغار

سامراجی قوتوں نے ہمیشہ اور دنیا کے ہر حصے میں تعلیم کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اس لیے کہ جسم پر قبضہ تو فوج اور مالی قوت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے مگر دل و دماغ  اور فکر و خیال کو صرف تعلیم ہی کے ذریعے پابند سلاسل کر ناممکن ہے۔ استعمار کے جدید دور میں تعلیم کی اس قوت کو سیکولر تہذیب کے علم برداروں نے بھی استعمال کیا ہے اور مغربیتہذیب نے اپنے تمام سیکولر دعاوی کے علی الرغم اسے مذہب اور مشن کی چھتری تلے استعمال کیا ہے ۔ عیسائی مشنری تحریک اور ان کے تعلیمی اداروں کا یہ کردار اب تاریخی حقائق اور ناقابل انکار شواہد سے ثابت ہے ۔ خود مغربی جامعات میں دسیوں تحقیقی مقالے اس موضوع پر لکھے جا چکے ہیں اور مذہبی اور فکری تحریکوں کی اعلیٰ قیادت بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہوئی ہے۔ ۱۹۷۶ء میں سوئٹزرلینڈ میں شمباسی (Chambesy) کے مقام پر جو کرسچن مسلم مشاورت ہوئی تھی اور جس کے داعی ورلڈ کانگریسں آف چرچز جنیوا اور اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر (برطانیہ)تھے اور خود راقم کو اس کا شریک صدرنشین ہونے کا شرف حاصل ہے اس کے اعلامیے میں اس حقیقت کا اعتراف چوٹی کی عیسائی مشنری قیادت نے ان الفاظ میں کیا تھا:

مسیحی شرکا اپنے مسلمان بھائیوں سے ان زیادتیوں پر ہمدردی کا اعلان کرتے ہیں جو مسلم دنیا کے ساتھ نوآبادکاروں اور ان کے شرکائے جرم کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ کانفرنس آ گاہ ہے کہ مسلم عیسائی تعلقات بے اعتمادی، شبہات اور خوف سے متاثر ہوئے ہیں۔ اپنی مشترکہ بھلائی کے لیے تعاون کرنے کے بجائے مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے سے اجنبی اور علیحدہ رہے ہیں ۔ استعمار کی ایک صدی کے بعد جس کے دوران بہت سی مشنریوں نے جانتے بوجھتے یا لاعلمی میں نوآبادیاتی طاقتوں کے مفادات کی خدمت کی، مسلمان عیسائیوں سے تعاون میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جن سے وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے آلہ کار کے طور پر لڑے۔ گو کہ ان تعلقات میں نیا ورق الٹنے کا وقت يقيناً آ گیا ہے، مسلمان اب بھی قدم اٹھاتے ہوئے رکتے ہیں کیونکہ مسیحی اداروں کے بارے میں ان کے خدشات موجود ہیں۔ اس کی وجہ یہ نا قابل تردید حقیقت ہے کہ بہت سی مسیحی مشنری خدمات کو آج بھی ناپسندیدہ محرکات کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کی جہالت، تعلیم، صحت، ثقافتی اور معاشرتی خدمات کی ضرورت مسلمانوں کے سیاسی بحران اور دباؤ، ان کی معاشی  محتاجی، سیاسی تقسیم، عمومی کمزوری اور زد پذیری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقدس تبلیغ کے علاوہ دوسرے مقاصد کی خاطر مشنری خدمات انجام دی ہیں، یعنی مذہب کی کشش کے علاوہ دوسری وجوہات سے عیسائی آبادی میں اضافہ کرنا ۔ ان میں سے بعض خدمات کے بارے میں حال ہی میں معلوم ہونے والی اس بات نےکہ ان کے رابطے بڑی طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں سے ہیں ،پہلے سے موجود خراب صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ کانفرنس ان خدمات کے اس طرح کے غلط استعمال کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ ( کانفرنس کی روداد جلد LXV، اکتوبر۱۹۷۶ء)

ہم نے اس حقیقت کا اعادہ اس لیے ضروری سمجھا کہ سامراج اپنے نئے دور میں، جس میں اب امریکہ ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ایک بار پھر مشنری تعلیمی اداروں اور اینجی اوز کی چھتری تلے مغرب کی تہذیبی یلغار کو مؤثر بنانے کے لیے پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں بالخصوص اور افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر ممالک  میں بالعموم ایک نئے جارحانہ اقدام کا آغاز کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں ایک محاذ این جی اوز نے سنبھالا ہے تو دوسری طرف عیسائی مشنری ادارے تعلیم کے دائرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایک بار پھر میدان میں آ گئےہیں۔ ایف سی کالج لاہور اور اس کے متعلقہ اداروں کو امریکہ کے پریسبی ٹیرین چرچ (Presbyterian Church) کے حوالے کیا جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس ناپاک مہم میں عیسائی مشنری اداروں کے پڑھے ہوئے سول اور فوجی افسران ایک نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔ ایف سی کالج یہ ایک علامتی معاملہ (Test case) ہے۔ حکومت نے امریکی اثرات اور ملک کے ذہنی غلامی کے شکار اور مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے افراد کی چالوں کا شکار ہو کر اس اہم تعلیمی ادارے کو چرچ کو واپس کر دیا ہے جس نے اس کے لیے امریکہ سے نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس ادارے کو نجکاری کے نام پرمشنری طاقتوں کو سونپا جا رہا ہے جو صاف اعلان کر رہے ہیں کہ جلد اس ادارے کی مکمل نج کاری ہوجائے گی اور اسے قومی تعلیمی دھارے سے نکال کر مارکیٹ کے نام پر فیسوں کے نئے نظام کے ذریعے اشرافیہ اور دولت مند طبقوں کی اولاد کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایف سی کالج ہی وہ ادارہ ہے جس کے ایک سابق پرنسپل سے انگریزی حکومت کے دور میں جب اس ادارے کے مشنری سربراہ اور مالیات فراہم کرنے والے نے سوال کیا کہ ہم نے اس ادارے پر اتنا سرمایہ اور اتنا وقت صرف کیا ہے ،بتاؤ تم نے کتنے طلبہ کو عیسائی بنایا تو اس پر نسپل کا جواب (جو آج تاریخ کا حصہ اور ملت اسلامیہ پاکستان کے لیے ایک تازیانہ ہے) یہ تھا:’’ مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ کتنے طلبہ کو ہم نے عیسائی بنایا؟ یہ پوچھو کہ کتنوں کو اسلام پر قائم نہیں رہنے دیا۔ ہم نے ایک ایسی نسل تیار کی ہے جواب اسلام سے وفادار نہیں رہی اور یہی ہماری محنتوں کا حاصل اور ہماری اصل کامیابی ہے‘‘۔

جناب ذوالفقارعلی بھٹو نے بہت سے غلط کام کیے لیکن جن چند اچھے کاموں کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے ان میں دستور ۱۹۷۳ء کو ایک متفقہ دستاویز بنانے اور نیوکلیر استعداد کے لیے ڈٹ جانے کے ساتھ عیسائی مشنری تعلیمی اداروں کو قومی دھارے میں لانا اور استعماری چھتری کو اکھاڑ پھینکنا تھا۔ ایف سی کالج کو بھی دوسرے مشنری تعلیمی اداروں کی طرح قومی تحویل میں لیا گیا اور اس طرح یہ سامراجی چوکیاں ختم ہو گئیں ۔ افسوس کہ پچھلے دو فوجی حکمرانوں کے ادوار میں بیرونی اثرات کے تحت ان اداروں کو بار بار سابق مشنری قوتوں کی تحویل میں دینے کی کوشش ہوئی اوربالآخر اب  ایف سی کالج کو پریسبی ٹیرین چرچ کے حوالے کرنے سے اس خطرناک کھیل کوعمل کا جامہ پہنایا جارہا ہے۔اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَیْھِ رٰجِعُوْنَ! ایف سی کالج کے اساتذہ اور طلبہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ اس تہذیبی حملے اور مفاد پرست طبقے کے جاں گسل وار کے خلاف سینہ پر ہو گئے ہیں اور پولیس کی لاٹھیاں کھا کر بھی اس خطرناک کھیل کو روکنے کی جدو جہد کر رہے ہیں لیکن محض ان کو ہدیہ تبریک  پیش کرنا مسئلے کا حل نہیں ۔ ان کا ساتھ دینا اور اسے ایک قومی قرارداد کی شکل دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ہم ملک کی تمام دینی اور محب وطن قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ گر بہ کشتن روز اول کے اصول پر اس رجعت قہقہر ی کو رکوانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔ پنجاب کے گورنر اور وزیراعلیٰ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ خود اس پر ناخوش ہیں مگر ’’ اوپروالوں ‘‘کے اشاروں پر یہ کچھ ہونے دےرہے ہیں اور خاموش تماشائی بن گئے ہیں ۔ اگر یہ روایت ہے تو وہ بھی برابر کے مجرم ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سب اس خطرناک کھیل کا پردہ چاک کرنے اور اس کے آگے سدِّ سکندری بننے کی تحریک میں سرگرم ہوں اور ایف سی کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ایک


[1]                       اس رپورٹ کا تعارف جناب سلیم منصور خالد ترجمان القرآن مارچ ۲۰۰۴ ءمیں کرا چکے ہیں۔

۱            واضح رہے کہ یہ  مضمون جنوری۲۰۰۴ء  میں شائع ہوا۔

قومی مسئلہ ہے اور ایک بڑی سازش کا حصہ۔ یہی موقع ہے کہ اس کو ناکام بنا دیا جائے۔ ایف سی کالج اور ایسے تمام اداروں کو قومی تعلیمی دھارے کا حصہ رکھا جائے اور ان کے تعلیمی معیار اور تعلیمی سہولتوں کو قومی تعلیمی پالیسی کے فریم ورک میں ترقی دینے کی کوشش کی جائے۔ وزیراعظم صاحب ایک طرف تو نظریہ پاکستان اور حب الوطنی پر مبنی مشترک تعلیمی نصاب کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ۳۰ سال سے قومی دھارے کا حصہ ہونے والے تعلیمی اداروں کو باہر والوں یا اوپر والوں کے اشاروں پر عالمی سامراجی اور تہذیبی فوج کشی کا نشانہ بننے کا بے بسی سے نظارہ کر رہے ہیں ۔ اسے برداشت کرنا ایک ناقابل معافی جرم ہوگا ۔                          ؎

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی
 دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

(اپریل ۲۰۰۳ء)

خاندان: اسلامی تہذیب کی بنیاد

   عصرحاضر کے بہت سے تہذیبی و سماجی مسائل میں سے ایک مسئلہ ’پسند کی شادی ‘ کے نام پر والدین سے بغاوت اور گھروں سے فرار کے واقعات بھی ہیں۔ چندسال قبل پاکستان میں دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے، اپنے والدین سے بغاوت کرکے ’پسند کی شادی‘ کی۔ اسی تسلسل میں گھر سے فرار ، تھانے اور کچہری کے چکر اور مقدمہ کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہیں۔ واقعات اور ان کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ایک وجہ اس نوعیت کے موضوعات میں کچھ خاص قسم کی این جی اوز اور ان کی سرپرست بین الاقوامی ایجنسیوں کی دلچسپی بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ کیس نہ صرف پاکستان بلکہ بینالاقوامی میڈیا کی زینت بنااور اسے بنیاد بناکر اسلام کے خاندانی نظام اور عائلی قانون کا بینالاقوامی میڈیاٹرائل کیا گیا۔ یوں یہ واقعہ محض ایک انفرادی کیس نہیں بلکہ دونظریات  اور دوتہذیبی روایات کی بحث میں تبدیل ہوگیا۔ زیرنظرمضمون میں مجموعی تہذیبی تناظرمیں اس موضوع کے اہم پہلوؤ ں کو اجاگرکیا گیا ہے ۔

________________

اسلام محض ایک روایتی مذہب نہیں، ایک مکمل دین اور جامع نظام زندگی ہے جو عقیدے، عبادات، انفرادی اخلاق ، اجتماعی نظام ، قانون، عدالت ، دعوت و تبلیغ اور ان کے زیر اثر وجود میں آنے والی عالم گیر اور درخشاں تاریخی روایت سے عبارت ہے ۔ اسلام کی یہ جامعیت ایک نظری و عملی حقیقت اور اس کی امتیازی شان ہے ۔ جہاں اس امر واقعی کا احساس اور اس پر افتخار بجا،وہاں اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ آج بڑی حد تک پوری اسلامی دنیا میں اور خصوصیت سے پاکستان میں مسلم معاشرہ اپنی اصل شان کھوتا جا رہا ہے۔

 بنیادی طور پر ایک’’اسلامی معاشرہ‘‘کی بجائے آج ہمارا سابقہ ایک ایسے مخلوط معاشرے سے ہے جس میں اسلام اور غیر اسلام گڈ مڈ نظر آتے ہیں ۔ ایک طرف اسلامی تعلیمات اور ہماری تہذیبی روایات کی روشن جھلکیاں ہیں تو دوسری طرف برصغیر کے جاہلی تاریخی اثرات اور مغربی تہذیب و ثقافت کے بڑھتے ہوئے تاریک سائے ہیں۔ بہت سے  خیر اور بظاہر بڑی قیمتی دینی علامات کی موجودگی کے علی الرغم بڑے پیمانے پر معاشرہ غفلت کا شکار ہے اور روح اسلام اور اس جوہر کی کمی نظر آتی ہے جو فکرو نظر اور سماج اور تمدن  کو امتیازی اسلامی شان عطا کرتے ہیں۔ بقول اقبال             ؎

نماز و روزہ و قربانی و حج 
یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے!

اس غفلت اور محرومی کا احساس اس وقت اور بھی شدید  ہو جاتا ہے جب معاشرے میں کوئی چونکا دینے والا واقعہ رونما ہو جائے اور سارے دل خوش کن دعووں اور احساسات کے باوجود ایک لمحے کے لیے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں ہمارا حال بھی خوش فہمی میں مبتلا اس خود پسند بادشاہ کا ساتو نہیں جو بر ہنہ ہونے کے باوجود اس زعم  میں مبتلا تھا کہ وہ قیمتی لباس میں ملبوس ہے اور ایک بچے کے معصوم مگر بے باک اظہار خیال نے کہ ’’ بادشاہ تو ننگا ہے‘‘ اس کی خود پسندی اور خود ستائی کا سارا طلسم کا فور کر دیا ۔

گذشتہ ایک سال سے ہماری عدالت اور ہماری صحافت ایک ایسے ہی چونکا دینے والے واقعے کے مالہ وما علیہ سے نبرد آزما رہی ہے۔ والدین کے خلاف ایک دینی گھرانے کی نوجوان لڑکی کی بغاوت’پسند کی شادی‘ گھر سے فرار، تھانے اور کچہری کے چکر، مقدمہبازی، قید و رہائی، ا پنوں کی گراں باریاں ، نا م نہاد این جی اوز اورانسانی حقوق کے نام لیواؤں کی کرمفرمائیاں، میڈیا کی کرشمہ سازیاں،ملکی ہی نہیں  بین الاقوامی ایجنسیوں کی دلچسپیاں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک تکلیف دہ  واقعہ کا عدالتی تصفیہ مطلوب نہیں بلکہ اسلام، اس کے عائلی قانون بلکہ پوری تہذیبی روایت پر تحکیم کی کوشش اور وہ بھی میڈیا ٹرائل کی شکل میں اصل  ہدف ہے! ایک خاندان ہی نہیں پورا ملک اس کرب ناک عمل سے گزرا ہے اور عدالت کے فیصلے کے بعد بھی یہ ٹرائل جاری ہے۔ گویا دو نظریات اور دو مذہبی روایات دست و گریبان ہیں۔ اس طرح یہ واقعہ محض ایک فرد یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں رہا ہے۔ بلکہ ایک ایسی بحث کا عنوان بن گیا ہے جس کی زد میں ہمارا خاندانی نظام بلکہ پوری اسلامی معاشرت ہے۔ نیز  اجتماعی اصلاح اور بگاڑ کے سلسلے میں والدین، عدالت اور صحافت کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں بھی غور و فکر کے متعدد گوشے ہیں جو اس قضیے میں سامنے آئے ہیں۔ ان تمام پہلوؤں پر تفکر اور عبرت کی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے تا کہ اصلاح احوال کے لیے مناسب تدابیر اور اقدامات کی نشان دہی کی جا سکے۔ زندگی کے ان تلخ حقائق اور معاشرے کے رستے ہوئے ناسوروں سے صرف نظر کرنا یا ان پر پردہ ڈالنا مسائل کا حل نہیں، نہ ہی آنکھیں بند کرنے سے خطرات کبھی ٹلا کرتے ہیں۔خطرات کا مردانہ وار مقابلہ ہی تاریکیوں کو روشنی سے بدل سکتا ہے۔ آج بھی ضرورت ہے کہ ٹھنڈے دل سے مرض کی تشخیص اور صبرو ہمت سے علاج کا سامان کیا جائے۔

خاندانی و معاشرتی مسائل کی نوعیت:  جن خاندانی ،معاشرتی اور تہذیبی مسائل سے اس وقت ہمارا معاشرہ دوچار ہے وہ محض کسی خاص فردیا چند افراد اور خاندانوں کا معاملہ نہیں اور مسئلہ بھی صرف یہ نہیں ہے کہ ایک مسلمان لڑکی اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں یا ولی کی مرضی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ بلاشبہ یہ معاملات بھی اپنی جگہ اہم ہیں اورشریعت نے ان کے بارے میں غیر مبہم رہنمائی فراہم کی ہے، لیکن اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان معاشرے میں ایسے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں؟ بحیثیت مجموعی خاندانی نظام اور معاشرےکی عمومی صحت کی کیا کیفیت ہے؟ اسلام نے عائلی زندگی اور معاشرت کے بارے میں جو اخلاقی اورقانونی  ہدایات دی ہیں، ان کا فہم و ادراک اور ان پر عمل کی کیا کیفیت ہے؟ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے تعلق اور شریعت، اس کے احکام اور ان کی روح کی پاسداری کے باب میں ہم کہاں  کھڑے ہیں ؟ معاشرہ اسلام سے مطابقت اور ہم آہنگی کی طرف جا رہا ہے یا انحراف اور بغاوت کی سمت؟ ان حالات میں مسلمانوں کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی کیا ذمہ داری ہے؟ والدین، اساتذه، علما،ارباب صحافت، سیاسی قیادت غرض ہم میں سے ہر ایک کا کیا رول ہے؟ کیا حضورﷺ کا یہ ارشاد ہمیں دعوت عمل نہیں دے رہا کہ جب کچھ لوگ کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کر رہے ہوں تو کشتی کے دوسرے لوگوں کو خاموش اور بے نیاز نہیں رہنا چاہیے’’اب اگر وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو اسے بھی بچاتے ہیں اور خود بھی بچتے ہیں۔ لیکن اگر اسے چھوڑ دیتے ہیں (یعنی کشتی میں سوراخ کرنے دیتے ہیں)  تو اسے بھی ہلاک کرتے ہیں اور خود بھی ہلاک ہوتے ہیں“۔ (مشكوٰة)

ہم پورے شرح صدر کے ساتھ اور مشرق و مغرب کا ذاتی مشاہدہ کرنے کے بعد یہ اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ آج کا مسلم معاشرہ اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود اپنے اندر بڑا خیر رکھتا ہے اور اخلاق اور سماجی استحکام کے اعتبار سے مغرب کے نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ بلکہ اس کا اعتراف نہ کرنا کفران نعمت کے مترادف ہو گا۔ جن لوگوں کی نگاہ مغربی تہذیب اور اس کے جلو میں آنے والی اخلاقی تباہی ،خاندانی نظام کی زبوں حالی، عصمت و عفت کی تحقیروتذلیل اور بےحیائی اور بےوفائی کی توقیر ،بچوں کی کس مپرسی، بے باپ گھرانوں کی بہتات،  طلاق کی فراوانی اور ان کے جلو میں رونما ہونے والے طوفان پر ہے، وہ پکار رہے ہیں کہ                                ؎

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انسان کے لیے اس کا ثمر موت 

نوبل انعام یافتہ فرانسیسی سائنس دان الیکسس کاریل (Alexis Carrel) اقبال کا ہم نوا ہو کر اپنی کتاب ’’انسان نامعلوم‘‘ (Man the Unknown) میں کہتا ہے:

’’ہم جائز و ناجائز کی تمیز کھو چکے ہیں، ہم نے قوانین طبیعیا ت کی خلاف ورزی کر کے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کا مرتکب سزا پائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جب بھی کوئی شخص زندگی سے ناجائز امر کی اجازت لیتا ہے، زندگی اس کے جواب میں اسے کمزور بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیب روبہ زوال ہے‘‘۔

لیکن کیا ستم ہے کہ آج اس روبہ زوال مغربی تہذیب و ثقافت کے تاریک سائے ہمارے نظام معاشرت و تمدن پر بڑھتے جا رہے ہیں اور ہماری بنیادی اقدار اور روایات بھی ان کی زد میں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقفیت اور اس حقیقت سے اغماض ہے کہ ہمارا اپنا معاشرہ حقیقی اسلامی معاشرہ نہیں بلکہ ایک ایسا مخلوط معاشرہ ہے جس میں اسلامی تعلیمات اور روایات کے ساتھ برصغیر کی ہندو تہذیب کی بہت سی روایات مل جل گئی ہیں۔ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کے کچھ اجزا ضرور ہماری روایت کا حصہ ہیں لیکن اس کے بہت سے دوسرے نہایت اہم اجزا ہم نے شعوری یا غیر شعوری طور پر ترک کردیے ہیں اور شریعت کے مقاصد اور اس کے اصل مشن اور روح سے ہم بے پروا ہو گئے ہیں۔ اس سب پر مستزاد مغربی افکار و اقدار کے اثرات ہیں جو ہماری معاشرت کا شیرازہ منتشر کرنے پر منتج ہو رہےہیں۔ اور یہ تباہی صرف مغرب کی فکری یلغار اور میڈیا کے سامراجی حملوں ہی کے ذریعہ نہیں آرہی بلکہ ہم  ہی میں سے کچھ عناصر اس ثقافتی  استعمار کے کارندوں اور اس دور کے میرجعفر اور میر صادق کا کردار اداکر رہے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو جاہلی اثرات سے بالکل ممیز کیا جائے۔ خاندان اور معاشرے کے حقیقی اسلامی تصور کو اسلامی احکام اور ان کی روح کے مطابق سمجھا اور نافذ کیا جائے۔ مغرب کی نقالی سے احتراز کیا جائے اور خالص اسلامی بنیادوں پر فرد اور معاشرے کی تعلیم اور تشکیل نو ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اسلام کی تمام برکتوں سے فیض یاب ہو سکیں گے اور وقت کے چیلنج کا جواب دینے کے لائق بن سکیں گے۔

خاندان: اسلامی معاشرہ کی بنیاد

اسلامی معاشرے کی بنیاد مسلمان فرد اور مسلمان خاندان ہے۔ اسلام نے انسانی اجتماعیت کے دونوں بڑے مسائل مرد اور عورت کا رشتہ اور فرد اور اجتماع کے تعلق کو بڑی خوش اسلوبی سے حل کیا ہے۔ دور جدید ہی کے نہیں انسانی تاریخ کے بڑے بڑے تہذیبی فتنے انھی دونوں رشتوں میں بگاڑ ،افراط و تفریط اور کمزوری اور انتشار کے پیداکردہ ہیں۔

اسلام نے اپنی دعوت کا اولیں مخاطب فرد کو بنایا ہے اور اس کے قلب و نظر کو ایمان کا گہوارہ قرار دیا ہے۔ ہر فرد کی سیرت سازی اس کا پہلا ہدف ہے۔ ہر مرد اور عورت کو ایک اسلامی شخصیت سے آراستہ کرکے ہی اسلام معاشرتی اور تہذیبی انقلاب برپا کر تا ہے۔ فرد کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ اسلام اس کا رشتہ معاشرے سے جوڑتا ہے اور اس کے لیے ایسے ادارے قائم کرتا ہے جو زندگی میں استحکام پیدا کر سکیں اور تمام انسانوں کی قوت و صلاحیت کو تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کر سکیں۔ اسلامی اجتماعیت میں فرد اور معاشرہ اور ریاست کے درمیان تعلق، کشمکش اور محض حقوق کی جنگ سے عبارت نہیں بلکہ اس کی اصل ،تعاون اور تکافل کا رشتہ ہے۔ شریعت کی روشنی میں دونوں کے رول متعین ہیں اور دونوں ایک ہی مقصد یعنی اعلائے کلمتہ اللہ کے لیے مصروف کار ہیں۔

الہامی ہدایت کا نتیجہ:           اس طرح مرد اور عورت کا رشتہ بھی الہامی ہدایت کے تحت استوار کیا گیا ہے۔ خاندان کا نظام محض انسانی تجربے کا حاصل اور ٹھوکریں کھانے کے بعد کسی موہوم معاشی مفاد کے حصول کا ذریعہ نہیں ( جیسا  کہ  مارکس(Karl Marx) ،اینجلز (Friedrich Engels) اور دارخائم (Émile Durkheim)نے اپنے اپنے انداز میں کہا ہے) بلکہ یہ پہلا انسانی ادارہ ہے جسے وحی کے تحت قائم کیا گیا اور جس سے انسانی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ کی شریعت نے اس ادارے کے مقاصد اور خطوط کار متعین کر دیے ہیں ۔ اسلامی تہذیب  و ثقافت  کا تناور پودا  اور پھل دار درخت اسی بیج کی پیداوار ہے۔

 قرآن کا ارشاد ہے:

 وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ (الذاریات ۴۹:۵۱) 

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے ہیں۔

جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًاﺆ یَذْرَؤُ  کُمْ فِیْھِﺚ

(الشورٰی  ۱۱:۴۲)

 اللہ نے تمھارے لیے خود تمھی میں سے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے ۔ اس طریقے سے وہ تم کو روئے زمین پر پھیلاتا ہے ۔

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَا۬ئًﺆ (النساء ۱:۴)

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں دنیا میں پھیلا دیے۔

 یہاں زوجی رشتے اور تناسل کے تخلیقی عمل کے تعلق کو واضح کر کے خالق کائنات نے اس ادارےکی ایک ابدی حکمت کی طرف انسان کو متوجہ کیا ہے۔ دوسری آیات میں خاندان کے دوسرے وظیفے  یعنی محبت، مودت اور سکینت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَمِنْ اٰیٰتِھ۪ٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةًﺚ (الروم ۲۱:۳۰)

 اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے در میان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔

 اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

 ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَاﺆ

(الاعراف  ۷:۱۸۹)

وہی ہے جس نے تم کو تن واحد سے پیدا کیا اور اس کے لیے خود اسی کی جنس سے ایک جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔

اسلام نے خاندان کے نظام کو جو تقدس عطا کیا ہے وہ منفرد ہے۔ یہ محض انسان کی تلاش و جستجو اور تجربے سے حاصل ہونے والا ادارہ نہیں بلکہ اللہ کا قائم کردہ نظام ہے جو انسان کی فطرت کا تقاضا ہے اور معاشرے اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس الہامی طور پر قائم ہونے والے ادارے کے بارے میں ساری ضروری ہدایات خود اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں فراہم کر دی گئی ہیں۔ قرآن پاک میں جو قانونی احکام ہیں ان کا دو تہائی صرف خاندان کے مسائل کے بارے میں ہے اور مسلم معاشرے کو آج تک اسلام کی بنیاد پر قائم رکھنے اور ہر انحراف کے بعد اصل کی طرف رجوع کی تحریک پیدا کرنے والے عوامل میں سب سے اہم قرآن و سنت کی موجودگی کے بعد خاندان ہی کا ادارہ ہے۔ یہی ادارہ ہمار اصل قلعہ اور مامن رہا ہے، جس کے حصار میں اس امت نے بڑے سے بڑے فتنے کے مقابلے میں پناہ لی ہے اور جس سے وہ انسان رونما ہوتے رہے ہیں جن کے ہاتھوں تجدید و احیاء کی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔

 مسلمان خاندان اور خصوصیت سے مسلمان ماں وہ اہم ترین جائے پناہ رہی ہے جس نے اس امت کو راہ ثواب پر قائم رکھا ہے اور ہر پستی کے بعد نئی بلندی کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دشمن انھی چیزوں کو خاص نشانہ بنا رہا ہے یعنی وحی اور الہامی ہدایت (قرآن و سنت) اور خاندان کا نظام۔ اس  دشمن کا ہدف مسلمان عورت کو اس کے دین سے برگشتہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ  کے عالمی پروگراموں سے لے کر غیرملکی اور ملکی این جی اوز اس ’مقدس جہاد ‘ میں مصروف ہیں۔

اسلام میں خاندان کے نظام کا اپنا مخصوص مزاج اور متعین نظام ہے۔ اسے انسانی تہذیبوں کے دوسرے نمونوں (Models) سے کنفیوز نہیں کیا جاتا ہے۔ خواہ ہندو مذہب اور سماج میں پروان چڑھنے والا تصور خاندان ہو، یا یونان، روم اور کلیسا کے دور کا خاندانی نظام یا صنعتی انقلاب اور مغربی اقدار کے زیر اثر رونما ہونے والا مختصر بلکہ منتشر خاندان کا یورپی اور امریکی نمونہ، ان سب کے مقابلے میں اسلام نے خاندان کا جو تصور دیا ہے وہ بالکل مختلف اور منفرد ہے۔ اسے تاریخ کے پدری (Patriarchal) نظام یا مغربی ممالک کی   نشاۃِ ثانیہ کے زیراثر آزاد محبت رانی (Romantic love) دونوں سے کوئی نسبت نہیں۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ اسلام کے خاندانی نظام کی حقیقت اور اس کی روح کو اچھی طرح سمجھا جائے اور نئی نسلوں میں اس کی صحیح تفہیم پیدا کی جائے۔

عائلی نظام اور اس کی بنیادیں:   اسلام میں نکاح محض شہوت کی تسکین کا ایک راستہ نہیں گو جنسی عمل اور فطرت کے حقیقی تقاضوں کی جائز تسکین اس کا ایک حصہ ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ایک نئے خاندان کے قیام کا ذریعہ، دو خاندانوں میں نئے روابط کی ایک صورت ،اور معاشرے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور استوار رکھنے کا ایک تخلیقی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناجائز سے بچنے اور جائز ذریعے سے شہوت کی تسکین کو بھی لائق اجر عمل قرار دیا گیا ہے۔ نکاح کی حیثیت ایک سنت اور کچھ حالات میں سنت مؤکدہ کی ہے اور اس نئے خاندان کے قیام کے عمل کو محض وقتی جذبات پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس کے لیے بڑے واضح اصول اور ضوابط مقرر کیے گئے ہیں اور ایسے تحفظات کا اہتمام کیا گیا ہے جو اس عمل کو محض ایک کھیل اور تجربہ نہ بننے دیں۔

اسلام نے اپنے پوری عائلی نظام کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی ہے وہ یہ ہیں:

۱۔    اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت، انسان کی خدائی کی جگہ رب العالمین کی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور بندگی اور اطاعت کے راستے کو خوش دلی سے اور والہانہ انداز میں اختیار کرنا۔

۲۔   اللہ کی حاکمیت کے عقیدے کا لازمی نتیجہ انسانوں کی مساوات اور برابری، حقوقوفرائض کی پاسداری اور ایک ہی مقصد اور منزل کی جستجو میں رفاقت اور ہم سفری کا احساس اور تجربہ ہے۔ یہ تمام انسانوں کو ،مرد اور عورت کو، شوہر اور بیوی کو، والدین اور اولاد کو، بزرگوں اور بچوں کو، غرض معاشرے کے ہر فرد کو ایک دوسرے سے ایک نئے رشتہ میں جوڑ دیتا ہے اور زندگی گزارنے کے ایک نئے اسلوب اور آہنگ سے روشناس کرتا ہے جسے قرآن نے بڑے حسین انداز میں کامیابی کے معیار کی صورت میں پیش کیا ہے۔

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّا۬ئِمِیْنَ وَالصّٰٓـئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ اللہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ ﺫ اَعَدَّ اللہُ لَھُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِیْمًاﭲ ‏ (الاحزاب ۳۳ : ۳۵ )

بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں۔ اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزے رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کررکھا ہے۔

دنیا اور آخرت میں برتری اور کامیابی کا معیار نہ صنف (gender) ہے ،نہ نسب، نہ دولت اور نہ  اقتدار، مرد اور عورت سب کے لیے صرف تقویٰ ہی واحد معیار ہے۔

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَا۬ئِلَ لِتَعَارَفُوْاﺚ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰٿکُمْﺚ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌﭜ (الحجرات ۱۳:۴۹)

لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔

اور پھر سورۃ التوبہ میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا رفیق اور مددگار بنایا۔ دونوں کے لیے کار گہ حیات میں ذمہ داریاں متعین کیں اور دنیا اور آخرت میں اصل کامیابی کا ایک ہی راستہ اور ایک ہی معیار اس دو ٹوک انداز میں مقرر فرمایا:

وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَا۬ئُ بَعْضٍﺭ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَیُطِیْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَھ۫ﺚ اُولٰ۬ئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللہُﺚ اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌﮖ ‏ (التوبہ  ۷۱:۹)  

ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار ہیں، وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ ان پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ بلاشبہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

مسلم خاندان اور مسلم معاشرہ زندگی اور کامیابی کے اس انقلابی اصول پر قائم ہوتا ہے اور یہ مسلم امت کو ان تمام گمراہ کن بحثوں سے نجات دے دیتا ہے جن میں دور غلامی سے لے کر مادر پدر آزادی تک کے انسانی سماج میں وہ الجھا رہا ہے۔ اسلام نے زندگی گزارنے کے لیے جو میدان کار (matrix) ہمارے لیے  بنایا ہے وہ سب سے جدا اور سب سے نرالا ہے۔

۳ ۔   اسلام کے عائلی نظام کی تیسری بنیاد مہر و محبت اور صلہ رحمی ہے۔ نکاح دراصل اخلاق اور عصمت کے تحفظ کے لیے قلعے کی مانند ہے اور اس قلعے کے مکین ایک دوسرے کے لیے تسکین، محبت اور رحمت کا سرچشمہ ہیں۔  

لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةًﺚ  (الروم ۲۱:۳۰) 

تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔

 اور اس رشتے کو ایک دوسرے کے لباس کے قریبی رشتے سے تعبیر کیا گیا ہے۔  

ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّﺚ (البقرة ۲:۱۸۷)

تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔

پھر اس رحمت اور محبت کو ازواج یا اولاد تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ صلہ رحمی کے حکم کےذریعے وسیع تر خاندان اور تمام دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس کی ٹھنڈک اور مٹھاس میں شریک کر لیا گیا ہے۔

۴۔   اللہ کی حاکمیت اس کے تحت رونما ہونے والی مساوات اور شرکت مقاصد ، عصمت کی حفاظت اور محبت اور رحمت کے بعد چوتھی بنیاد عدل و انصاف ہے۔ اسلام میں کوئی کسی کی مِلک نہیں اور کوئی کسی کا  تابع مہمل  نہیں۔ سب حقوق و فرائض کے ایک الہامی اور منصفانہ نظام کے پابند ہیں۔ اور اگر ایک طرف اختیارات اور ذمہداریوں کی تقسیم اور خاندانی نظام کے کامیاب نظم کی خاطر مرد کو بجا طور پر’ ایک درجہ فوقیت‘ دی گئی ہے تو دوسری طرف یہ اختیار بھی قانون کے تابع اور جواب دہی کے نظام سے مشروط ہے۔ جبر اور من مانی کا اختیار (Arbitrary power) شريعتالہٰی کے نظام میں کسی کو حاصل نہیں ،مرد کونہ عورت کو!

وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِﺕ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَةٌﺚ (البقرۃ ۲۲۸:۲  )    

 عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔

ہر فرد اپنے اعمال کا ذمہ دار اور ان کے لیے جواب دہ ہے۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰ۬ئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا﯋ ‏ (النساء ۱۲۴:۴)

اور جو نیک عمل کرے گا ،خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطے کہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔

اختیارات ذمہ داریوں اور جواب دہی کے اس نظام کو حضور اکرم ﷺ نے بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے: ’’تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ امام اپنے لوگوں کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی، آدمی اپنے اہل پر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپرس ہوگی اور عورت اپنے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی“۔  (بخاری)

اس پس ِمنظر میں آیت کریمہ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ نے الہٰی قانون کے تحت منظم اور مرتب ہونے والے اس ادارے کے مزاج اور طرز کار کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ جس طرح اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرہ ایک شورائی ریاست اور شورائی معاشرہ ہیں، اسی طرح اسلام میں خاندان بھی ایک شورائی ادارہ ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒاس آیہ کریمہ کی شرح و تفسیر میں لکھتے ہیں:

اسلامی طرز زندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتا جائے،گھر کے معاملات ہوں تو میاں اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان ہو جائیں تو انھیں بھی شریک مشورہ کیا جائے۔ خاندان کے معاملات ہوں تو ان میں کنبے کے سب  عاقل و بالغ افراد کی رائے  لی جائے۔ (تفہیمالقرآن، جلد۴ ،صفحہ ۵۰۹)

۵۔   عدل و انصاف اور مشاورت کے اس نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مسلمان خاندان کی پانچویں بنیاد  فرد کی معاشی آزادی اور اجتماعی تکافل کا ایک ایسا نظام ہے جو مرد اور عورت کی عزت نفس اور آزادی کی مکمل ضمانت کے ساتھ ان کے درمیان تعاون اور شراکت کا رشتہ استوار کرتا ہے۔ دونوں کو اپنی اپنی ملک پر پورا اختیار دیتا ہے، مرد کو نان نفقہ کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور عورت کو محض دودھ پلانے والی اور جبری طور پر گھر کا کام کاج کرنے والی نہیں بناتا بلکہ ان تمام معاملات کو ان کی اہمیت اور خاندانی نظام کی ضرورت کے مطابق حقوق کی باہم پاس داری کے ساتھ انجام دلانا چاہتا ہے ۔ اس کے ساتھ  ہی گھر کے اندر بھی اور خاندان اور معاشرے کے وسیع تر میدان میں ایک ایسا نظام قائم کرتا ہے کہ جو بھی مالی اعتبار سے مضبوط ہو ،وہ مالی اعتبار سے کمزوروں کی مدد، ان کے ایک حق کی ادائیگی کے جذبہ سے کرے۔ یہ عمل زندگی اور موت دونوں صورتوں میں جاری رہے ، یعنی نفقہ، صدقات، صلہرحمی،وراثت، ولایت اور نفقہ لاقارب کے قوانین اور ہدایات کی روشنی میں۔

مسلم خاندان کی ان امتیازی خصوصیات پر اگر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام دوسری تہذیبوں اور سماجوں میں پائے جانے والے خاندانی نظام سے بہت مختلف ہے۔ یہ ایک دینی اور شرعی اداره ہے، اس کی حد بندی اور کارکردگی خود الہامی ہدایت کی روشنی میں اور آخرت کی کامیابی کے جذبے سے کی جاتی ہے۔ یہ عصمت و عفت کی حفاظت کے لیے ایک قلعہ ہے۔ یہ انسانی فطرت کے تقاضوں کی تسکین اور تکمیل کے لیے ایک موزوں اور دلکش انتظام ہے، یہ نئی نسلوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے بہترین گہوارہ ہے۔ یہ جسم اور روح کو محبت، مودت اور سکینت سے شاد کام کرنے اور اس پاکیزه فضا میں نئی نسلوں کو پروان چڑھانے اور اپنے دین، تہذیب اور تمدن اور انسانی معاشرے کے علوم و فيوض سے روشناس کرانے کا ایک نظام ہے۔ یہ معاشی تكافل اور سوشل سیکورٹی کا ایک فطری نظام ہے جس میں عزت نفس کی مکمل پاسداری کے ساتھ خاندان کے افراد ایک دوسرے کے لیے سہارا بنتے ہیں اور سب کو معاشی دوڑ میں شرکت اور وسائل سے استفادے کا موقع دیتے ہیں۔ خاندان کا یہ نظام سیرت کے نکھار، معاشرتی استحکام اور تہذیبی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔

اصلاح کے لیے ہمہ پہلو توجہ کی ضرورت

ملت اسلامیہ کا اصل مشن ایسے خاندانی نظام کا قیام اور استحکام ہے جو ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ آج جس بگاڑ سے ہم دو چار ہیں وہ اچانک رونما نہیں ہوا اور محض کسی ایک سبب کی بنا پر پیدا نہیں ہوا۔خرابی  کی اصل جڑ دین کے علم کی کمی، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام اور تعلیمات سے عدم واقفیت اور عملی غفلت، مقصد زندگی کے شعور کی کمی اور جاہلی افکار کا غلبہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مؤثر قیادت کا فقدان، معاشی ذمہ داریوں سے اغماض، دور غلامی کے اثرات اور مغربی ثقافت کے زیر اثر حالات کا مزید بگاڑ، مفاد پرستی،محض  معاشی اور مادی ترقی کے بتوں کی پوجا، علما، مشائخ ،اساتذه، والدین اور میڈیا کی اپنے اصل فرائض کی انجام دہی  میں کوتاہی اور بہت سے غلط اثرات کے فروغ کا ذریعہ بن جانےاور معاشرے میں اچھی مثالوں کی کمی، وہ چند موٹے موٹے اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ صورت حال رونما ہوئی ہے۔اب اصلاح کا راستہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی انفرادی واجتماعی ترجیحات کو درست کریں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کی طرف خلوص اور یکسوئی کے ساتھ مراجعت کریں۔ اس وقت تو حال یہ ہے کہ ہم متضاد اور متناقض سمتوں کی طرف لپک رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ   ؎

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہ رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راه بر کو میں!!

 ہم میں سے ہر شخص کو ان حالات پر بڑی سنجیدگی اور دل سوزی سے غور کرنا چاہیے اور بحیثیت فرد اور من حیث القوم یکسو ہو جانا چاہیے کہ ہمیں کہاں جانا ہے؟ ہماری منزل کیا ہے؟ کسی فرد اور کسی قوم کے لیے اس سے زیادہ بے کسی اور بالآخر تباہی کا راستہ کیا ہو گا کہ اس کا حال یہ ہو جائے کہ              ؎

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

اگر ہماری منزل اسلام ہے تو پھر دو رنگی اور تضاد عملی کو ترک کرنا ہو گا۔ ایمان اور جہل ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسلام تو علم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا راستہ ہے۔ کیا تعجب ہے کہ مسلمان معاشرے کی اکثریت کو دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی آگہی نہیں۔ نئی نسلوں کو اسلامی آداب اور شعائر سے آشنا نہیں کیا جا رہا۔ میڈیا ایک دوسری ہی تہذیب اور ثقافت کا پرچارک ہے جو مسلسل ذہنوں کو مسموم اور اخلاق اور معاشرت کو انتشار کا شکار کر رہا ہے۔ بااثر افراد کا ایک گروہ ہے جو بڑے منظم طریقے پر نوجوانوں کو بےراہ روی اور اباحیت پسندی کی طرف لے جا رہا ہے اور ہمارے علما، دانش ور اور ارباب سیاست اپنے اپنے ذاتی،گروہی، مسلکی اور سیاسی مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں۔ عدالتیں، برطانوی قانونی روایت کے تتبع میں قانون کے الفاظ کو انصاف کے حصول پر فوقیت دے رہی ہیں۔ جن معاملات کو گھر کی چار دیواری اور خاندان کے حصار میں طے ہونا چاہیے ان کو تھانے اور کچہری کی نذر کیا جارہا ہے۔ سارے گندے کپڑےسرعام دھوئے جارہے ہیں اور صحافت تشہیر فحش کی ”مقدس خدمت‘‘ انجام دیتے ہوئے اس گندگی کو ملک کے طول و عرض میں پھیلانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ علما اور سیاست دانوں کو فرصت ہی نہیں کہ ان معاشرتی ناسوروں کے علاج کی فکر کریں۔

ان حالات میں ملک کے تمام سوچنے سمجھنے  والے عناصر اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ ملک و ملت کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیں۔ سیاست محض نعروں کا نام نہیں، سیاست تو تدبیر منزل سے عبارت  ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ایک گروہ اصلاح کے لیے عملاً میدان میں اتر جائے۔ تعلیم اور خیرو شر  میں  تمیز کے احساس کو بڑے پیمانے پر پیدا کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ بلاشبہ حکومت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، لیکن اگر حکومت اپنی اس ذمہ داری کو ادا نہیں کر رہی تو کیا حالات کو تباہی  کی طرف جانے کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کشتی میں تو ہم سب ہی بیٹھے ہیں۔ اس کو بچانے کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے۔ اگر دوسرے اس میں سوراخ کر رہے ہیں تو ہم ان سب کو ڈبونے کا موقع کیسے دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی ذمہ داری تحریک اسلامی اور معاشرے کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی ہے۔

ہماری پہلی ضرورت منزل کے صحیح تعین اور اس کے حصول کے لیے یکسو ہو کر جدوجہد کرنے کی ہے۔ مغربی ثقافت کی نقالی اور تہذیب نو کی یلغار کے آگے سپر ڈالنا ہمارے لیے موت کے مترادف ہے۔ جو کش مکش آج برپا ہے اور جس کا ایک ادنٰی سا عکس حالیہ عدالتی فیصلے[1] اور اس کے تحت رونما ہونے والی بحثوں میں دیکھا جا سکتا ہے، وہ ہمیں دعوت غور و فکر ہی نہیں، دعوت عمل و جہاد بھی دیتی ہے۔

 آئیے سب سے پہلے اپنی منزل کے بارے میں یکسو ہو جائیں۔ اگر وہ اسلام ہے، اور اسلام کے سوا کوئی دوسرا راستہ زندگی کا راستہ ہو ہی نہیں سکتا، تو پھر بیک وقت دو مختلف سمتوں میں جانے والی کشتیوں میں سواری کرنے کا احمقانہ ہی نہیں خطرناک راستہ ہمیں ترک کرنا ہو گا۔ فرد کی ذاتی تربیت سے لے کر خاندان کے نظام کی تشکیل، معاشرے کا سدھار، معیشت کی تنظیم نو، صحافت، سیاست ،قانون اور عدالت کے نظام کی اصلاح اس کا لازمی حصہ ہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور مہلت بہت کم ہے۔ ہم ملک کے اہل نظر کو دعوت دیتے ہیں کہ ان بنیادی مسائل کے بارے میں عوام کی مؤثر رہنمائی کریں۔ ناخوشگوار واقعات پر سے صرف کبیدہ خاطر ہو کر گزر نہ جائیں بلکہ اصلاح کے لیے عملی اقدام کریں۔                                              

    (جون ۱۹۹۷ء)

خودکشی کے بڑھتے واقعات

 تہذیب حاضر کی ایک بڑی کارکردگی انسان کے لیےآسائشوں کی فراہمی اور فراوانی بیان کی جاتی ہے جو غلط نہیں ہے۔ تاہم دنیابھر میں خودکشی کے واقعات کاجائزہ لیاجائے تو مادی ترقی اور زندگی کی بہترین سہولتوں سے آراستہ ہونے کے باوجود مغربی اور غیرمسلم معاشروں میں اس کا رجحان مسلم معاشروں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ نظرآتا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ سالوں میں مسلم معاشروں اور خود پاکستان میں بھی ایسے واقعات کی خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہورہی ہیں جن سے اس رجحان کے بڑھنے کااندازہ ہوتا ہے کہ لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لے رہے ہوں۔
 کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا اس کے پس منظر میں مخصوص معاشرتی، سیاسی وتہذیبی اسبابوعوامل ہیں؟ ان اسباب وعوامل کا تدارک کیسے کیاجائے؟ زیرنظر مضمون میں ایسے تمام سوالات  پر گفتگو کی گئی ہے۔

___________________

قرآن پاک کے اعجاز اور اس کی انفرادیت کے بلاشبہ بے شمار پہلو ہیں جن پر اہل علم نے سیرحاصل کلام کیا ہے اور اس کے نئے نئے پہلوؤں پر ہمیشہ غور و فکر اور کلام و بیان کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس وقت قرآن کے بیان کردہ ایک ایسے بدیہی اصول کی طرف توجہ مبذول کرانا مقصود ہے جو انسانی تاریخ کے دینی، قانونی اور عمرانی ادب میں منفرد اور بے مثال ہےیعنی:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۭا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاﺚ وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاﺚ (المائده  ۳۲:۵ )

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا، کسی اور وجہ سے قتل کیا،اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔

انسان خدا کی زمین پر اس کا خلیفہ اور نمائنده ہے۔ اس کی جان بھی ایک امانت ہے اور ہر انسان تمام انسانوں کے جان و مال کا امین اور محافظ ہے ۔وہ خود اپنی جان اور اپنے مال کا بھی امین اور محافظ ہے ،اور صرف اللہ کے قانون کے مطابق تصرف کا حق اور اختیار رکھتا ہے۔ اللہ کی شریعت کا بنیادی مقصد ہی دین کی حفاظت کے ساتھ جان، مال، آبرو، عقل اور مال کی حفاظت ہے اور اسلام کا تعزیری نظام اسی بنیادی مقصد کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسلام نے انسانی جان کے احترام کو اہمیت دی ہے۔ اس کی بنا پر زندگی کے احترام  کو اس کے اخلاقی، تمدنی اور قانونی نظام میں مرکز اور محور کی حیثیت حاصل ہے ۔ حقوق العباد میں سرفہرست انسان کی جان کا تحفظ و احترام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّﺚ (الانعام ۱۵۱:۶)

  اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے،ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔

 اوردوسروں اور خود اپنی جان کی حفاظت اور احترام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْﺚ اِنَّ اللہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًاﭬ (النساء ۲۹:۴)

اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمھارے اوپر مہربان ہے۔

اس آیت کریمہ میں جہاں دو سروں کی جان کو بلاحق تلف کرنے کی ممانعت ہے وہاں خود اپنی جان لینے کی حرمت بھی واضح کر دی گئی ہے۔ یہی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی واضح ہو جاتی ہے۔ آپؐ نے خودکشی کرنے والے کی سزا جہنم بتائی ہے:

جس نے اپنے آپ کو لوہے (یعنی دھار والے آلے) سے قتل کیا تو وہ لوہا جہنم میں اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر کھا کر ہلاک کیا جہنم میں اس کے ہاتھ میں زہر ہو گا، وہ اس سے ہمیشہ اپنے آپ کو ہلاک کرتا رہے گا۔


[1]           اشارہ ہے لاہور ہائی کورٹ کے مارچ ۱۹۹۷ء میں آنے والے’’صائمہ لو میرج کیس‘‘ کی جانب۔  فیصلہ میں کہا گیا کہ صائمہوحید اور ارشد احمد کے سرپرستوں کی رضا مندی کے بغیر نکاح جائز ہے لیکن ججوں نے اپنے فیصلے میں تجویز کیا ہے کہ عائلی قوانین میں ترمیم کرکے نکاح کے سلسلے میں والدین کے اختیار کو قائم کیا جائے اور شادی سے قبل کورٹ  شپ کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایک اپیل پر فیصلہ دیتے ہوئے ’ولی‘ کے بغیر بالغ لڑکی کے اپنی مرضی سے نکاح کو وفاقی شرعی عدالت کے ۱۹۸۱ء کے فیصلے کی روشنی میں جائز قرار دے دیا۔

فقہا نے اسے حرام موت قرار دیا ہے۔ احکام القرآن کے مولف ابو بکر الجصاص نے سورة النساء کی مندرجہ بالا آیت کی روشنی میں خود کشی کو سنگین جرم اور اللہ پر ایمان کے منافی قرار دیا ہے اور تقریباً تمام فقہی مذاہب میں خود کشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اگر خود کشی کرنے والا مرجائے تو کوئی سزا نہیں کیونکہ موت سے سزا ساقط ہو جاتی ہے لیکن بچ جانے کی صورت میں بطور تعزیر سزا ہے اور موت کی صورت میں بھی کچھ فقہا کی نگاہ میں( امام شافعیؒ اور اماماحمدؒ) خودکشی کرنے والے کے مال میں کفارہ لازم ہے۔ نیز اس جرم میں شریک کو بھی سزا کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ خواہ اس نے شرکت بذریعہ تحریص کی ہو یا اس نے اتفاق کرتے ہوئےاعانت کی ہو۔ (ملاحظہ ہو التشريع الجنائی الاسلامی ،از عبد القادر عوده شہيد، ترجمہ اسلام کا فوجداری قانون ،جلد اول، ص ۵۳۸-۵۳۶)

خودکشی کی حرمت کیوں

خودکشی کی یہ حرمت ایمان باللہ، عقیدہ آخرت اور اسلام کے مزاج کا لازمی تقاضا ہے۔ اللہ کو خالق ،رب اور صاحب امرو قدر مان لینے کے بعد انسان کے لیے جان، مال، وقت ہر چیز ایک امانت، ایک مہلت اور ایک امتحان بن جاتی ہے۔ جان، مال اور آبرو کی حرمت کوئی وقتی مصلحت نہیں بلکہ دین کی بنیادی اقدار ہیں۔ اچھے اور برے حالات، دولت اور عسرت، فراوانی اور تنگی، صحت اور بیماری ،قوت اور ضعف ،کامیابی اور ناکامی یہ سب آزمائش اور امتحان بن جاتے ہیں جن سے صحیح صحیح  گزرنے میں دنیا اور آخرت کی اصل کامیابی ہے۔ صلاحیت، وسائل اور مواقع کا فرق قدرت کا قانون ہے اور انسان کا امتحان ہر اس حالت میں ہے جس میں وہ ڈالا گیا ہے۔

نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ  لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاﺚ وَرَحْمَةُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَﭯ (الزخرف ۳۲:۴۳)

دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں،اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تا کہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (ان کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں۔

وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰ۬ئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ  اٰتٰٿکُمْﺚ (الانعام ۱۶۵:۶)

وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ،اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے، تا کہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمائش کرے۔

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِﺚ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَﯪﺫ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَةٌﺫ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَیْھِ رٰجِعُوْنَﯫﺚ   (البقرۃ ۲: ۱۵۶-۱۵۵)

ہم ضرور تمھیں خوف و خطر،  فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ’’ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘انھیں خوش خبری دے دو ۔

وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَةًﺚ وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَﭲ  (الانبياء ۳۵:۲۱)

 اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ آخر کار تمھیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔

ایمان باللہ، عقیده آخرت اور اسلام کے نظام زندگی کا مرکزی پیغام ہی زندگی کے امتحان اور آزمائش ہونے کا تصور ہے جس میں خیر اور شر ،دولت اور غربت، عطا اور محرومی دونوں صورتیں آزمائش کی صورتیں ہیں۔ کہیں دے کر آزمایا جا رہا ہے اور کہیں لے کر۔ دونوں حالتوں میں اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق کوشش اور جدوجہد اور نتائج پر قناعت اور شکر یہی اسلامی زندگی کی امتیازی شان ہے:         ؎

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا

 خودکشی یا اپنے ہاتھوں اپنی جان کو تلف کرنا اللہ پر ایمان اور جان کے اللہ کی امانت ہونے کے تصور  کے منافی ہے۔ یہ انسانی زندگی کے تقدس کے اسلامی اصول کی ضد ہے۔ یہ اللہ پر بھروسے اور اس سے امید،دعا اور طلب کی نفی ہے۔ یہ صبر اور استقامت کے احکام سے متصادم ہے۔ یہ ہمت ہار دینے اور مایوسی کی پیداوار ہے جسے قرآن کفر کی علامت قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خودکشی تو در کنار، موت کی خواہش تک  کو اسلام نے منع کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مومن کا معاملہ  عجیب و غریب ہے۔ اس کا تو ہر معاملہ اس کے حق میں سراپا خیر ہوتا ہے۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ اگر اسے خوشی اور راحت پہنچے تو شکر ادا کرتا ہے، تویہ اس کے لیے خیر ہو تا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے ،تو یہ بھی اس کےلیے سراسر خیر ہوتا ہے۔(مسلم)۔

مومن کو اپنی اولاد اور اپنے اعزہ کے سلسلے میں رنج و مصیبت پہنچتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے اس حالت میں ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔(موطا امام مالک)۔

تم میں سے کوئی شخص اس تکلیف و ضرر کی وجہ سے جو اسے  پہنچی  ہو موت کی تمنا نہ کرے ۔(بخاری، مسلم)۔

 آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے آدم کے بیٹے ! اگر تو نے صدمے کے شروع میں صبر کیا اور میری رضا اور اجر و ثواب کو پیش نظر رکھا تو میں تیرے لیے جنت سے کم اور اس کے سوا کسی اجر و ثواب پر راضی نہ ہوں گا۔

یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرے اور تمدن میں خودکشی کے واقعات شاذ شاذ ہی رونما ہوتے ہیں۔ ہر دور میں مسلمان ہی وہ قوم ہے جس کے یہاں خود کشی کا تناسب نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ فلپ کے ہٹی (Philip K. Hiti) نے اپنی کتاب تاریخ عرب ((History of the Arabs  میں اپنے اس استعجاب کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں خود کشی کی کوئی روایت موجود نہیں۔ آج بھی دنیا میں خودکشی کے بارے میں جو بھی تحقیق ہوئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ساری خرابیوں اور بیرونی تہذیبی اثرات کے باوجود اس کا رواج مسلم معاشرے اور ممالک میں سب سے کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ “Social Forces” مطبوعہ جون ۱۹۸۹ءمیں شائع شدہ ایک شماریاتی رپورٹ[1] میں مصنفین  اس امر کا اعتراف کرتے ہیں:

آبادی میں مسلمانوں کی فی صد تعداد کسی قوم کی خودکشی کی شرح سے منفی نسبت رکھتی ہے اور  یہ حقیقت معاشی، اجتماعی اور آبادیات کے عوامل کے جدید ہونے کے باوجود قائم رہتی ہے۔ Vol-67 No. 4, pp 945-964))

یہ اسلام کی فطرت اور اس کے تاریخی اور تہذیبی کردار کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے ایک طرف ایمان اور عقیدہ توحید و آخرت پر مبنی تصور حیات اور زندگی کے امتحان اور آزمائش ہونے کے نظرئیے پرانفرادی اور اجتماعی اخلاق کی صورت گری کی، تو دوسری طرف ایسا اجتماعی نظام اور کفالت عامہ کا انتظام کیا کہ افراد زندگی کی دوڑ میں ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں اور خاندان، معاشرہ اور ریاست وہ حالات  پیداکریں جن میں فرد زندگی کے تلخ تھپیڑوں کا مردانہ وار مقابلہ کر سکے۔

پاکستان میں بڑھتے واقعات

اس پس منظر میں پاکستان میں کچھ عرصہ سے خود کشی اور خود سوزی کے جو واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں اس  پر صرف تشویش اور غم و غصے کا اظہار کافی نہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس صورت حال کا گہرائی  میں جا کر تجزیہ کیا جائے، اسباب کا تعین کیا جائے اور اصلاح کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ یہ رجحان ہمارے ایمان ،ہمارے عقیدے، اور ہماری تاریخی روایت کی ضد ہے اور ان کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے سہل انگاری سے نظرانداز کر دینا ایک مجرمانہ غلطی ہو گی جسے خدا اور تاریخ معاف نہیں کریں گے۔

جنگ لندن کی ۴ فروری ۱۹۹۹ ءکی اشاعت میں مظفر گڑھ میں دو بہنوں کی خود کشی کی خبر ہے جنھوں نے فاقے سے تنگ آکر اپنے بوڑھے باپ کے گھر لوٹنے کا انتظار کیے بغیر اپنے ہی دو پٹوں سے خود کشی کرلی۔۷ فروری کے اخبار میں مصطفی آباد کے شادی شدہ بےروزگار نوجوان کی خود کشی کی خبر ہے۔ اس سے ذرا پہلے گوجرانوالہ کے نوجوان کی خودسوزی کی اطلاع ہے۔ ۱۶ جنوری کے اخبارات میں عارف والا کے نو بچوں کے باپ کی عین عید سے چنددن قبل خودکشی کا ذکر ہے۔ اس سے چند دن پہلے حیدر آباد کے سرکاری ٹرانسپورٹ کے دو ملازمین کی مہینوں سے تنخواہ نہ ملنے پر خود سوزی اور خود لاہور میں وزیراعظم کی کھلی کچہری کے سامنے کراچی کے چن زیب کی وحشت ناک خود سوزی کی خبریں ہیں۔ انجمن حقوق انسانی سندھ نے پچھلے چند مہینوں کے جو اعداد و شمار اپنی ایک رپورٹ (جسارت، ۱۹ جنوری ۱۹۹۹ء) میں دیے ہیں، ان میں صرف چند بڑے بڑے شہروں میں غربت، بے روزگاری اور فقر و فاقہ سے تنگ آ کر خودکشی کرنے والوں کی تعداد ۲۶۸ بتائی گئی ہے: حیدر آباد میں ۲۲، فیصلآباد۹،  ملتان ۷۹،لاہور۷۵ ،راولپنڈی ۶۴، پشاور ۱۱، اسلام آباد ۵ اور کوئٹہ ۳۔ یہ اعداد و شمار حالات کی مکمل تصویر کشی نہیں کرتے۔ ان کی حیثیت نمونے اور مثال کی ہے جن سے مرض کی شدت اور ہولناکی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور جن پر ہر باغیرت انسان اور پوری پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔

یہ صورت حال ایک خطرناک اخلاقی بگاڑ کی نشاندہی کر رہی ہے جس کے بارے میں گہرے غور و فکر کی  ضرورت ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد، میلاد النبیﷺ کے جلوسوں کی رونق اور حج اور عمرے کی کثرت   سے قوم اور اس کی دینی اور اجتماعی قیادت کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ دین کا علم، اسلامی احکام سے کماحقہ واقفیت اور بحیثیت مجموعی ان احکام کی پاسداری کے سلسلے میں جو کمی ہے وہ ایک وبا اور عمومی  بلوےکی سی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ خودکشی جیسی قبیح اور قابل نفرت حرکت ایک عام سی چیز سمجھی جانے لگی ہے۔ خود سوزی کو بھی احتجاج کی ایک قابل قبول شکل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنےوالوں کو ہیرو تک بنا کر ابھارا جا رہا ہے۔ حالات کتنے ہی خراب ہوں، اور بلاشبہ وہ بہت خراب ہیں، لیکن مسلم معاشرے میں احتجاج اور اصلاح کی کچھ حدود ہیں، جن کو پامال کر کے ہم بگاڑ کو بڑھا تو سکتے ہیں، حالات کو درست نہیں کر سکتے۔ اس لیے سب سے پہلے اخلاقی پہلو کے حوالے سے خود کشی اور ایسی ہی دوسری  قبیح حرکتوں کے سلسلے میں جو اسلامی احکام اور اصلاح احوال کے اسلامی طریقے ہیں ان کی تعلیم اور ان پرعمل کی انفرادی اور اجتماعی کوشش وقت کی اولیں ضرورت ہے۔ حکومت، اخبارات ،میڈیا ،علما، اساتذہ، سماجی کارکن،سیاسی قیادت سب کا فرض ہے کہ مسلم معاشرے کی بنیادی اقدار کے تحفظ کی فکر کریں، اسلامی تعلیمات کو عام کریں، لوگوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت و تعلیم پر توجہ دیں۔ گھر، محلہ ،مسجد اسکول، بازار، غرض ہر جگہ بنیادی اسلامیاقدار کے احیا اور باہم تعلیم و تلقین کا اہتمام کریں،اور جن اقدار اور روایات کی چودہسوسال سے حفاظت کی ہے اور جو ہماری دینی اور تہذیبی شناخت ہیں ان کی فکر کریں۔ اس کے لیے رجوع الی اللہ، آخرت کا خوف ،تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی ضرورت ہے جو ہم میں سے ہرفرد، ہر مسلمان مرد اور عورت کی ذمہداری ہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے فرشتے نہیں آئیں گے، یہ ہماری ذمہداری ہے اور ہم سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

اسباب کیاہیں:   اخلاقی پہلو کے ساتھ ساتھ اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسے حالات کیوں پیدا ہو رہے ہیں کہ لوگ خودکشی اور خود سوزی جیسے قابل نفرت اور دنیا اور آخرت دونوں کو خراب کرنے والے اقدام پر مجبور ہو رہے ہیں۔ دینی شعور کو بیدار کرنا، صبرواستقامت کی تلقین ،ایمان کی آبیاری اور اخلاقی قوت کی تعمیر اپنی جگہ اور بلاشبہ یہ سب باتیں بہت اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ ملک کے اجتماعی نظام کی اصلاح بے حد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں ظلم و استحصال کا خاتمہ ہو، ملک کے غریب عوام کے مسائل سے اغماض اور بے توجہی دور ہو،ذمہ دار افراد کی غیر ذمہ داریوں  اور غلط کاریوں پر پکڑ ہو، معاشرے کے اہل ثروت اور مترفین کی مستحقین کی طرف سے چشمپوشی ختم ہواور حکومت کی بے راہ روی اور مجرمانہ پالیسیوں پر احتساب ہو۔

اسلام نے جہاں ایمان اور اخلاق کے اسلحے سے بگاڑ کی قوتوں کا صبر و ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا  درس دیا ہے وہیں وہ اجتماعی زندگی میں ایسی بنیادی اور انقلابی اصلاحات کا داعی ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے صحت مند اور پاک زندگی (حیات طیبہ )کی راہیں ہموار کر سکیں ۔نیز معاشرے اور تمدن سے ان ناانصافیوں، بے اعتدالیوں اور ناہمواریوں کا ازالہ کر سکیں جو خودکشی اور خود سوزی جیسے  قبیح  اقدامات کا سبب بنتے ہیں۔ معاشرے میں ظلم، حقدار کو اس کے حق سے محروم رکھنا، عام انسانوں کی بنیادی  ضروریات کا عزت سے پورا نہ ہونا، دولت کا چند ہاتھوں میں مرکوز ہو جانا، بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریت کا دندناتے پھرنا ، ارباب حکومت کی شاہ خرچیاں اور عوام کی ضروریات سے غفلت،  یہ سب وہ چیزیں ہیں جو  اجتماعی بگاڑ کا سبب بنتی ہیں اور ان کی اصلاح کے بغیر صرف اخلاقی تلقین سے مطلوبہ تبدیلی نہیں آسکتی۔ دونوں کا ساتھ ساتھ بروئے کار آناہی اصلاح کا ضامن ہو سکتا ہے اور یہی اسلام کا بتایا ہوا منہج اور راستہ ہے۔

غربت اور آمدنی میں بڑھتا تفاوت:    پاکستان کی حالت آج یہ ہے کہ چار کروڑ سے زیادہ انسان افلاس کا شکار ہیں۔ ساتکروڑ افراد کو صاف پینے کا پانی میسر نہیں۔ ساڑھے سات کروڑ علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ آزادی کے وقت دنیا کی نگاہیں قیادت کے لیے پاکستان کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ آج عالم یہ ہے کہ غربت ، انسانی وسائل میں محرومی،    قرض کے بوجھ اور اس قرض پر سود کی ادائیگی کے جتنے بھی اشاریے دیکھے جائیں تشویشناک صورت حال سامنے آتی ہے۔  دوسری جانب غربت دور کرنے، تعلیم پھیلانے ، صحت و صفائی کا اہتمام کرنے کے لیے جو وسائل درکار ہیں وہ سب عالمی اور ملکی ساہوکاروں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کی نذر ہو رہے ہیں۔ ترقیاتی مصارف میں برابر کمی ہو رہی ہے۔ بے روزگاری روزافزوں ہے اور  ملک کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں نئے روزگار فراہم ہونے کی بجائے برسر روزگار افرادہی کی مزید چھانٹی ہو رہی ہے۔

ایک طرف عام انسانوں کے یہ حالات ہیں تو دوسری طرف ۶۰ فی صد زرعی زمین پر صرف چند ہزار بڑے بڑے خاندان قابض ہیں جو ہر قسم کے آمدنی اور دولت ٹیکس تک سے مستثنیٰ ہیں۔ نئے سرمایہ داروں کے دو ہزار خاندان ہیں جن کے ہاتھوں میں ساری قومیدولت مرکوز ہے۔ وہ ایک طرف بینک کاری نظام کے اربوں روپے کے نادہندہ ہیں تو دوسری طرف ملکی دولت سے اربوں ڈالر بیرونی ملک لے جا چکے ہیں۔ حکومت کی شاہخرچیوں میں کوئی کمی نہیں اور اس کی ساری تگ و دو نئے قرضوں کے حصول اور چند نمائشی  کاموں تک محدود ہے۔ نہ خود انحصاری کی فکر ہے، نہ ظلم و استحصال کے نظام کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔ غربت اور افلاس کے خلاف جنگ، دولت کی ناہمواریوں کو کم کرنا اور اجتماعی کفالت کے ایک ایسے نظام کا قیام جو ملک کے تمام شہریوں کو بنیادی ضروریات فراہم کر سکے اور وہ زندگی کی  دوڑ میں آزادی کے ساتھ شریک ہو سکیں، یہ سارے امور نہ آج کی حکومت کے ایجنڈے پر کوئی اہمیت رکھتے ہیں نہ کل تک حکمرانی کرنے والوں کو ان کی فکر تھی۔ حالانکہ پاکستان کی بقا اور اس کے استحکام کا انحصار نظام کی تبدیلی اور ان اسباب کے دور کرنے پر ہے جو قوم میں مایوسی ،بے اعتمادی اور منفی اقدامات کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اسلام کے نظام کی امتیازی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ فریاد سے پہلے دادرسی کا انتظام کرتا ہے اور حکمرانی کی جگہ خد مت کو ہر سطح پر قیادت کی اصل ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ:

جس شخص نے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی ذمہ داری قبول کی اور پھر اس نے ان کے ساتھ  خیر خواہی  نہ کی اور ان کے کام انجام دینے میں خود کو اس طرح نہ تھکایا جس طرح وہ اپنی ذاتی ضرورت کے لیے خود کو تھکاتا ہے تو خدا ایسے شخص کو منہ کے بل جہنم میں گرا دے گا۔

تکافل کے اجتماعی نظام میں آتی کمزوری:       پاکستان کے مسلم معاشرے کے بگاڑ میں اخلاقی اور روحانی اسباب کے ساتھ ساتھ اجتماعی نظام کے فساد کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ اسلام نے جو تکافل اجتماعی کا نظام قائم کیا ہے وہ مسلمان مرد و عورت کے ساتھ مسلم خاندان، مسلم معاشرے اور اجتماعی خلافت سے عبارت ہے۔ یہ چار ستون ہیں جن پر اسلامی نظام زندگی قائم ہوتا ہے اور آج ان چاروں ہی کا حال دگرگوں ہے۔

قرآن نے کامیاب فرد اور ناکام فرد اور کامیاب زندگی اور ناکام زندگی کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا ادا کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، بلکہ ایک حیثیت سے حقوق اللہ کے مقابلے میں حقوق العباد کی ادائیگی کچھ زیادہ ہی اہم قرار دی گئی ہے کہ حقوق  اللہ کی ادائیگی میں کمی یا غفلت کو رب رحیم و غفور معاف بھی کر دے گا مگر حقوق العباد کے بارے میں جب تک وہ معاف نہ کریں جن کے حقوق پامال کیے گئے ہیں، اللہ رب العزت جو عادل اور صاحب قسط ہے ان حق تلفیوں کو معاف نہیں کرے گا۔ حضورﷺسے مروی ہے: میری امت میں غریب وہ ہو گا جو قیامت کے دن ،نماز ،روزے ،زکوٰة اور دوسرے نیک اعمال کا پشتاره لیے حاضر ہو گا مگر اس نے کسی کی بے عزتی کی ہوگی، کسی پر الزام تراشی کی ہوگی، کسی کا مال اور حق ہڑپ کیا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو تکلیف پہنچائی ہو گی اور پھر اس کی تمام نیکیاں ان لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں گی جن کے حقوق پر اس نے دستدرازی کی ہوگی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس کے کھاتے میں منتقل کر دیئے جائیں گے  اور آخرکار وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔


[1]           Social Economic Development, Suicide and Religion, A test of Durkheim’s Theory of Religion and Suicide، از          مِلز سمپسن (M.E. Simpson) اور  جارج کنکلن (G.H. Conklin)

حقوق العباد پر عدم توجہ:    جس معاشرے میں حقوق العباد ادا کیے جا رہے ہوں اس میں غربت، افلاس، ناداری، ظلم اور استبداد نہیں پنپ سکتے۔ اس میں غریب غریب تر اور امیر امیرنہیں ہو سکتے۔ اس میں ایک طرف  دولت کی فراوانی اور نمائش اور دوسری طرف غربت، بھوک اور جہالت ممکن نہیں، اس لیے کہ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کو انفاق، اخوت، تعاون باہمی اور انصاف کی بنیادوں پر استوار کیا ہے۔ مسلم خاندان اجتماعی کفالت کا ایک نظام ہے۔ مسلمان محلے اور بستی کے کچھ حقوق اور ذمہ داریاں ہیں جن کے بغیر وہ مسلم معاشرے کا حصہ نہیں بنتے اور پھر مسلمان حکومت اور ریاست کے کچھ فرائض ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی کے بغیر کوئی خاندان کوئی معاشرہ اور کوئی حکومت حقیقی معنوں میں اسلامی اور مسلم ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ قرآن نے تو ہمیں جس دین کی طرف بلایا ہے وہ یہ ہے:

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰ۬ئِکَةِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّ۪نَﺆ وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّھ۪ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِﺫ وَالسَّا۬ئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِﺆ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَﺆ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْاﺆ وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَا۬ئِ وَالضَّرَّا۬ئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِﺚ اُولٰ۬ئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاﺚ وَاُولٰ۬ئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَﰀ  ( البقرۃ ۲: ۱۷۷)

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال، رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر ،مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر،اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اوریہی لوگ متقی ہیں۔

 اس کے بر عکس یوم آخرت کا انکار کرنے والے اور ناکام لوگ وہ ہیں جن کا یہ حال ہو کہ:

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِﭐﺚ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَﭑﺫ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِﭒﺚ  (الماعون ۱۰۷: ا۔ ۳)

تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جویتیم  کو دھکے دیتا ہے ،اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔

 یَتَسَا۬ءَلُوْنَﭷﺫعَنِ الْمُجْرِمِیْنَﭸﺫمَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَﭹقَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَﭺﺫ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَﭻﺫ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَا۬ئِضِیْنَﭼﺫ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِﭽﺫ (المدثر ۷۴: ۴۶-۴۰)

وہ مجرموں سے پوچھیں گے ” تمھیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟ ‘‘وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے ،اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ،اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے، اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے۔

ناکام وہ ہے جو دولت کو جمع کرے، حق دار کا حق ادا نہ کرے تو دولت کے یہ ڈھیر اس کے کچھ بھی کام نہ آئیں گے ۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللہِﺚ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللہِﺫ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍﭱﺫ یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْﺚ ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَﭲ (التوبہ ۹: ۳۵-۳۴)  

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان اہل کتاب کے اکثر علما اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انھیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا،یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔

 مسلم معاشرے کی بنیاد ہی انفاق اور قرابت داروں، ہمسایوں اور ضرورت مندوں کے حق کی ادائیگی پر ہے۔

وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّھ۫ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاﭩ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِﺚ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّھ۪ کَفُوْرًاﭪ (بنیاسرائیل ۷ا: ۲۷-۲۶)    

رشتے دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق۔ فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔

وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَﰋﺟ (البقرۃ ۲: ۱۸۸)

 اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طريقے سےکھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً  ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔

اسلام کا تقاضا ہے کہ ہر گھر اور ہر محلہ اجتماعی تکافل کی ایک اکائی بن جائے اور باہم خیر خواہی اور ایک دوسرے کی پاسداری سے زندگی گزارے تا کہ وسائل حیات سے کوئی محروم نہ رہے۔ کوئی کسی کا محتاج  نہ ہو۔               ؎

 کس نباشد در جہاں محتاج کس
نکتہ ٔ شرعِ مبین این است و بس

ترجمہ : دنیا میں کوئی شخص محتاج نہ ہو، سچی شریعت کا اصل نکتہ بس  یہی ہے۔

بھوک، ظلم، ناہمواری اور محتاجی سے وہی معاشرہ نجات پا سکتا ہے جو قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پراپنی چمن بندی کرے۔

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِھ۪ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی والْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْۭبِ وَابْنِ السَّبِیْلِﺫ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْﺚ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاﭳﺫ اۨلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَیَکْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰٿھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِھ۪ﺚ وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًاﭴ (النساء ۴: ۳۷-۳۶)    

 اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور پڑوسی رشتے دار سے ،اجنبی ہمسائے سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمھارے قبضے میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔ اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

پڑوس کے ساتھ تعلق میں کمی:    حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ: جو شخص اس حال میں راستہ گزارے کہ وہ تو شکم سیر ہو مگر اس کا پڑوسی بھوکا ہو اور اس کے بھوکے ہونے کا علم بھی رکھتا ہو تو وہ مومن نہیں۔ اس معاملے میں اسلام تو اتنا حساس ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: اپنے پڑوسی کو اپنے پکے ہوئے کھانے کی خوشبو سے تکلیف نہ دو ،اگر تم ان کھانوں میں سے کچھ اسے دے نہیں سکتے، نیز یہ کہ جب پھل خرید و تو اپنے پڑوسی کو بھی تحفہ بھیجو اور اگر نہ بھیجنا چاہو تو اسے چھپا کر اندر لے جاؤ۔ تمھارا بچہ بھی اسے لے کر باہر نہ نکلے تا کہ پڑوسی کا بچہ اسے دیکھ کر رنجیدہ  نہ ہو جائے۔

واضح رہے کہ پڑوسی محض ملحقہ گھرہی کے لیے نہیں بلکہ احادیث و آثار کی روشنی میں چالیس گھراور کچھ کی رائے کے مطابق چاروں اطراف کے چالیس گھر کے لوگ پڑوس ہیں۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ جس بستی میں ایک شخص بھی رات کو بھوکا سو جائے اللہتعالیٰ اس بستی  سے اپنی حفاظت کا ہاتھ اٹھا دیتا ہے۔ حضرت علیؓ  کا ارشاد ہے کہ ’’اگر کوئی شخص بھوکا سو جائے تو جان لو کہ کسی اور نے اس کا حق دبا رکھا ہے‘‘۔ فقہا نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی بستی میں کوئی شخص بھوک سے مرجائے اور اہل بستی کے علم میں یہ بات ہو کہ وہ بھوک سے مرا ہے اور انھوں نے اس کی بھوک مٹانے کا کوئی بندوبست نہیں کیا تو اس بستی کے لوگوں سے اس شخص کی موت پر دیت لی جائے۔

یہ تو ہے ایک مسلمان معاشرے کی شان۔ لیکن آج ہمارا کیا حال ہے کہ مترفین دولت میں جھول رہے ہیں  اور انھی کے محلوں میں لوگ فاقوں  سے تنگ آکر خودکشی کر رہے ہین ۔ نہ اجتماعی تکافل کا کوئی نظام ہے اور نہ اجتماعی احتساب کا ۔

حکومت کی لاپروائی اور لاتعلقی :       حالات کے اس بگاڑ کی سب سے زیادہ ذمہ داری ملک کی قیادت اور ارباب حکومت پر آتی ہے جو اس ظالمانہ نظام کے پشتی بان بنے ہوئے ہیں اور ملکی وسائل کو اصل حق داروں کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنی شان و شوکت کے لیے بے تحاشا خرچ کر رہے ہیں۔ اسلام میں ریاست اور حکومت کی اولیں ذمہ داری ہے کہ معاشرے کے تمام افراد کے لیے بنیادی ضروریات کی فراہمی کا بندوبست کریں۔ ملک کی اجتماعی دولت پر سب سے پہلا حق ملک کے غریبوں مسکینوں، یتیموں اور مفلوک الحال انسانوں کا ہے اور یہ ان کا حق ہے ،رعایت نہیں۔ قرآن مجید کہتا ہے:

وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌﭧﺗ لِّلسَّا۬ئِلِ وَالْمَحْرُوْمِﭨﺗ (المعارج  ۷۰:۲۵-۲۴)   

اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے۔

دولت کی گردش پورے معاشرے میں ہونی چاہیے، محض دولت مندوں کے درمیان نہیں۔

مَآ اَفَا۬ئَ اللہُ عَلٰی رَسُوْلِھ۪ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ  وَابْنِ السَّبِیْلِﺫ کَیْ  لَا یَکُوْنَ دُوْلَةًۭ بَیْنَ الْاَغْنِیَا۬ئِ  مِنْکُمْﺚ ‌ (الحشر۷:۵۹)

جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول ﷺ کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول ﷺاور رشتے داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تا کہ وہ تمھارے مال داروں ہی کے در میان گردش نہ کرتا رہے۔

اسلام میں محاصل کے نظام کا مقصد ہی دولت کی منصفانہ تقسیم ہے۔ حضورﷺکا ارشاد ہے:

 توخذ من اغنياء هم وترد الى فقراء هم (بخاری)

یہ ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں کو لوٹا دیے جائیں گے۔

خلافت راشدہ اس نظام کی عملی مثال تھی اور حضرت عمر فاروق ؓ نے عملاً ایک ایسا اجتماعی تکافل کا نظام قائم کر دیا تھا جس میں کوئی بچہ، بوڑھا ،مرد ،عورت ،مسلمان ہو یا نہ ہو بھوکا ننگا نہیں تھا۔ ایک ایک بچے کا روزینہ مقرر تھا اور وہ غیر مسلم جو اپنی ضروریات نہ پوری کر سکیں ان کا بھی بیت المال کفیل تھا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ: ”دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی اگر ضائع ہو جائے تو مجھے ڈرہے کہ الله تعالیٰ مجھ سے باز پرس کرے گا‘‘۔

ماوردی نے الاحکام السلطانیہ میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ:

محتسب کو چاہیے کہ اگر ملازم مردوں اور عورتوں پر زیادتی ہو رہی ہو تو اس کے مالکوں سے باز پرس کرے اور حکم دے کہ ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ لیں۔ اسی طرح اگر مالک اپنے (ملازموں ہی نہیں) جانوروں کو بھی پوری خوراک نہ دیں یا طاقت سے زیادہ کام لیں تو ان سے مواخذہ کرے۔

اور جب یہ نظام قائم ہو جاتا ہے تو پھر حقیقی خوش حالی رونما ہوتی ہے اور انسان شرف انسانیت کا نشان بن جاتا ہے۔ لیکن اگر اللہ کے راستے سے ہٹتے ہیں تو پھر سخت گرفت میں آتے اور ان کے مقدر میں خساره ہی خسارہ رہ جاتا ہے۔

وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَا۬ئِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَﮯ (الاعراف ۹۶:۷)

      اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی روش اختیارکرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر انھوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انھیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔

آج پاکستانی معاشرہ جس عذاب میں مبتلا ہے، خودکشی کا روز افزوں رجحان اسی عذاب کی ایک صورت ہے۔ حرام موت کا یہ سلسلہ ہماری تاریخ میں پہلی بار اس انداز میں اور اس تعداد میں سامنے آرہا ہے۔ بلاشبہ یہ نتیجہ ہے اللہ کے راستے سے ہٹنے کا اور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں زمام کار دینے کا جو اللہ سے غافل اور اس کے بندوں کے مسائل و مصائب سے بےپروا ہیں۔ یہ حالات ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ پچھلے پچاس سال کے مسلسل بگاڑ کا نتیجہہیں۔ معاشرے میں خیر کی قوتیں بھی کار فرما رہی ہیں لیکن غالب قوت شر اور بگاڑ کی رہی ہے ۔ غلط پالیسیوں اور غلط کاریوں اور عوام کی غفلت اور سپر اندازی نے حالات کو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ اب لوگ انقلاب اور بغاوت تک کی باتیں کرنے لگے ہیں اور عالم یہ ہے کہ ؏

وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

اصلاح احوال کے لیے انفرادی و اجتماعی جدوجہد کی ضرورت

لیکن باد صر صر باد بہاراں تو نہیں ہو سکتی! علاج ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ  کی طرف پلٹنا اپنے گناہوں اور اپنی غفلتوں سے توبہ ،شر اور ظلم سے مصالحت کی بجائے اس کا مردانہ وار مقابلہ۔ انفرادی اصلاح اور اخلاقی قوت کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایسی اجتماعی جدوجہد جس سے اس بگڑے ہوئے نظام اور اس کے ظالم کارپردازوں سے نجات پائی جا سکے اور ایک صالحنظام اور ایمان دار قیادت بروئے کار آسکے۔ نبی کریمﷺکا ارشاد ہے کہ: لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ ان پر عذاب نازل کردے۔

جب کسی معاشرے میں فساد اور بگاڑ بلوہ عام کی شکل اختیار کر لے اور اہل خیر اپنا فرض انجام دیتےہوئے اس معاشرہ کو تبدیل کرنے ،اسے ظالموں کے پنجے سے نکالنے اور اسے حق و انصاف کی بنیادوں پر از سر نو استوار کرنے کی جدوجہد نہ کریں تو پھر جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ اس معاشرے کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو صرف مفسدین ہی تباہ نہیں ہوتے ،بلکہ سب لوگ اس مصیبت کا نشانہ بنتے ہیں۔

وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَا۬صَّةًﺆ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِﭨ (الانفال۲۵:۸)

اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

آج پاکستانی قوم بھی ایک ایسی ہی نازک اور فیصلہ کن صورت حال سے دوچار ہے۔ پانی سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے اور اگر خیر کی تمام قوتیں اجتماعی شر اور فساد کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں نہیں آتیں توکچھ پتا نہیں کہ کتنی مہلت اور مل سکے۔ عوام کی بیداری ،علما کا گروہی مفادات سے بلند ہو کر اپنے اصل مشن یعنی اقامت دین اور قیام عدل کے لیے عوام کی  صحیح راہنمائی کے لیے تن من دھن سے مصروف ہو جانا، سیاسی کارکنوں کا گھر گھر جا کر عوام کو حق و انصاف کا ساتھ دینے، ظالموں کے خلاف صف آرا ہونے اور ملت اسلامیہ پاکستان کی حقیقی آزادی، عزت اور حقوق کی حفاظت کے  نقطۂ نظر سے ملک گیر جدوجہد کے لیے منظم اور متحرک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کام میں کتنا وقت لگتا ہے اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ اصل چیز اس جدوجہد کا صحیح خطوط پر اور صحیح مقاصد کے لیے شروع ہو جانا اور جو لاوا زیرزمین پک رہا ہے اسے کسی غلط رخ پر جانے سے روک کر ایک حقیقی اور پائیدار اسلامی انقلاب کے لیے استعمال کرنا ہے۔

ہماری ذمہ داری جدوجہد اور کوشش ہے، نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر خلوص، ایمان اور احتساب سے صحیح مقاصد اور اہداف کے لیے جدوجہد کی جائے تو وہ راہ کی مشکلات کو آسان کر دیتا ہے، مخلصین کے ضعف کو قوت سے بدل دیتا ہے، جہاد کرنے والوں کی اپنے فرشتوں سے  مددکرتا ہے اور انھیں دنیا اور آخرت میں کامیاب و کامران فرماتا ہے۔

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَاﺚ (العنکبوت ۲۹ :۶۹) ۔                            ؎

 آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا

(مارچ ۱۹۹۹ء)

حصہ  چہارم

احیائے تہذیبِ اسلامی

  • احیائے تہذیب اسلامی اور فکر اقبالؒ     
  • مسلمان غیرمسلم معاشرہ  میں

احیائے تہذیب اسلامی اور فکر اقبالؒ

عصر حاضر میں تہذیب اسلامی کے احیاء کی بات ہو تو اس موضوع پر علامہ اقبال کے افکار کو سمجھے بغیر کوئی کوشش مکمل نہیں ہوسکتی۔ بجاطورپر انہیں اس دور میں فکراسلامی کے احیاء کی جدوجہد کے نمایاں ترین اسکالرزمیں شمار کیاجاتا ہے۔ اس مختصر مضمون میں مصنف نے اسی حوالہ سے اقبال کی سوچ و فکر کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

________________

بیسویں صدی میں جن شخصیات نے اسلامی فکرو تہذیب پر ٹھوس علمی لٹریچر پیش کیا، جنھوں نے فکرِاسلامی کی تشکیلِ نو کے احساس اور جذباتی رجحان کو تبدیل کرنے میں اہم کردار اداکیا، ان میں ایک نمایاں ترین شخصیت علامہ محمد اقبال (۱۸۷۷ء-۱۹۳۸ء) کی ہے۔ اس بنا پر ہم ان کو دورِ جدید میں تجدیدِ فکر اسلامی کی روایت کا بانی اور بیسویں صدی میں ملّت اسلامیہ پاک و ہند کے ذہن کا اوّلین معمار قرار دیتے ہیں۔

علامہ محمد اقبال کی علمی اور ادبی زندگی کا آغاز انیسویں صدی کے آخری عشرے میں ہوگیا تھا، فروری ۱۹۰۰ء سے وہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسوں میں شریک ہونے لگے تھے۔ لیکن قومی زندگی پر ان کے اثرات یورپ سے واپسی (۱۹۰۸ء) کے بعد مرتب ہونا شروع ہوئے۔ ۱۹۱۵ء میں انھوں نے اسرارِخودی شائع کی، جس نے مسلم تصوف سے منسوب جامد سوچ میں ایک تحرک پیدا کیا، اور افرادِ اُمت کو ’اپنی دنیا آپ پیدا کر‘  کا زریں نکتہ سمجھایا۔ اس سے ہماری ملّی زندگی کے نئے باب کا افتتاح ہوا۔ پھر انھوں نے ۲۰جولائی ۱۹۲۶ء کو مجلس قانون ساز پنجاب کے انتخاب میں حصہ لے کر اور اس طرح عملی سیاست میں شریک ہوکر تغیر اور تعمیر کے عمل میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کی مساعی کا ثمرہ اسلامی فکر کی تشکیلِ نو، ملّت کی مزاجی کیفیت کی نئی تعمیر، ایک آزاد قوم کے احیا اور ایک عظیم مسلم مملکت کے قیام کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔[1] ساتویں صدی ہجری (تیرہویں صدی عیسوی) میں جو کام مولانا جلال الدین رومیؒ (۱۲۰۷ء۔۱۲۷۳ء) نے مثنوی کے ذریعے انجام دیا تھا، اسے بیسویں صدی عیسوی میں علامہمحمد اقبالؒ نے اوّلاً اسرارِخودی (۱۹۱۵ء) اور رموزِ بے خودی (۱۹۱۸ء)، پھر جاویدنامہ (۱۹۳۲ء)، پس چہ باید کرد، اے اقوام شرق (۱۹۳۶ء) کے ذریعے انجام دیا۔ اسرارِخودی میں جمود اور انحطاط کے اصل اسباب کی نشان دہی کی گئی، تصوف پر یونانی اور عجمیاثرات کی وجہ سے جو حیات کُش تصور مسلمانوں پر مسلط ہوگیا تھا، اس کی تباہ کاریوں کو واضح کیا۔ اسرارِ خودی کا مرکزی تصور ایمان کی یافت اور اس کی قوت سے ایک نئے انسان (مرد مومن) کی تشکیل ہے۔ رموز بے خودی میں اس اجتماعی، اداراتی اور تاریخی تناظر کو بیان کیا گیا ہے، جس میں یہ انسان اپنا تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔ فرد اور ملّت کا تعلق، اجتماعی نصبالعین، خلافتِ الٰہی کی تشریح و توضیح، اجتماعی نظم اور ادارات (خاندان، قانون، شریعت وغیرہ) کی نوعیت اور خودی کی پرورش اور ملّی شخصیت کے نمو میں تاریخ کے حصے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔جاوید نامہ علامہ محمد اقبال کے روحانی سفر کی داستان ہے، جس میں وہ عالمِ افلاک کی سیر کرتے ہیں، دنیا اور اس کے ماورا  پر بصیرت کی نظر ڈالتے ہیں اور مشرق و مغرب کی نمائنده شخصیات کی زبان سے آج کی دنیا کے حالات، مسائل و افکار اور مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے نقوش کو نمایاں کرتے ہیں۔’ پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘ میں مغربی تہذیب کے چیلنج کا مطالعہ کرکے بتایا گیا ہے کہ یورپ کی ترقی کا اصل سبب کیا ہے اور مغربی تہذیب کے روشن اور تاریک پہلو کیا ہیں۔ مغرب کی اندھی تقلید سے قوم کو متنبہ کیا گیا ہے، اور ترقی کے راستے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پیامِ مشرق اور ارمغانِ حجاز میں یہی پیغام دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے، اور اس کا اظہار اُردو کلام میں بھی ہوا ہے۔ خصوصیت سے بانگِ درا کی قومی نظموں میں اور بال جبریل کی ولولہ انگیز غزلوں میں۔ ضربِ کلیم کے بےباک رجز کو خود اقبال نے: ’دورِحاضر کے خلاف اعلانِ جنگ ‘ قرار دیا ہے۔


[1]           یہاں علامہ اقبال کی فکربلند کا تجزیہ پیش نظر نہیں۔ تاہم اختصار کے ساتھ اس امر کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے کہ فکرِاقبال نے ادبی اور فکری روایت پر کس کس پہلو سے اثر ڈالا۔]دیکھیے: جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال : زندہ رود۔ سید علی گیلانی : اقبال، روح دین کا شناسا۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی:عروجِ اقبال، پروفیسر محمد منور: میزانِ اقبال، ایقانِ اقبال۔پروفیسر رفیع الدین ہاشمی: علامہ اقبال، شخصیت، فکراور فن۔ ڈاکٹر خالد علوی: اقبال اور احیائے دین۔ حیران خٹک: اقبال اور دعوتِ دین[

علامہ محمد اقبال کی نثر کا بہترین حصہ انگریزی میں ہے۔ ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ انھوں نے  The Development of Metaphysics in Persia کے نام سے پیش کیا ہے۔ یہ محض ایک فکری تاریخ نہیں ہے، بلکہ اس کے آئینے میں اسلام پر عجمی اثرات کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اقبال نے تصوف کا جو تنقیدی جائزہ لیا ہے، وہ اصل مآخذ کے وسیع مطالعے پر مبنی ہے۔

علامہ محمد اقبال نے اسلام کے تصورِ مذہب کی علمی اور فلسفیانہ تعبیر اپنے معروف انگریزی خطبات The Reconstruction of Religious Thought in Islam (تشکیلِ جدید الہٰیاتِ اسلامیہ) میں پیش کی ہے۔ اس کتاب میں بنیادی طور پر مغرب کے فکری رجحانات کو سامنے رکھ کر انسان، کائنات اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں اسلامی تصور کی وضاحت کی گئی ہے، مذہب اور سائنس کے تعلق سے بحث کی گئی ہے اور ذرائع علم کا تنقیدی جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ عصرِحاضر کے یک رُخے پن کے مقابلے میں اسلام کس طرح عقل، تجربے اور وجدان کی ہم آہنگی قائم کرتا ہے۔ اس بنیادی فکر کی روشنی میں آزادی اور عبادت کے تصور کو واضح کیا گیا ہے، اور ان تصورات کی بنیاد پر قائم ہونے والے تمدن کی خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز اسلامی قانون کی مثال دے کر یہ دکھایا گیا ہے کہ اسلامیتمدن میں ثبات اور تغیر کا حسین امتزاج کس طرح قائم ہوتا ہے اور اس کے اندر ہی سے زندگی اور حرکت کے چشمے کس طرح پھوٹتے ہیں۔

مذکورہ بالا انگریزی کتابوں کے علاوہ وقت کے علمی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی مسائل کے بارے میں اقبال نے اپنے خیالات کا اظہار متعدد مضامین، تقاریر، بیانات اور خطوط کے ذریعے بھی کیا ہے۔ یہ سارا نثری ذخیرہ اُردو اور انگریزی مجموعوں کی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔[1]

اگرچہ اقبال کی مخاطب پوری ملت اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت ہے، لیکن انھوں نے خصوصیت سے مسلم قوم کے ذہین اور بااثر تعلیم یافتہ طبقے کو خطاب کیا۔ یہ مؤثر اور کارفرما طبقہ، ذہنی اور لسانی روایات سے وابستہ تھا۔ اقبال نے اپنے افکار کے اظہار کے لیے بنیادی طور پر شعر کا پیرایہ اختیار کیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک شکست خوردہ قوم کو حرکت اور جدوجہد پر اُبھارنے کے لیے عقلی اپیل کے ساتھ ساتھ جذباتی اپیل کی ضرورت بھی تھی۔ وقت کے چیلنج کا تقاضا محض عقل کو مطمئن کرنا نہیں تھا، بلکہ اہمیت اس امر کو بھی حاصل تھی کہ جذبات میں تموج برپا کرکے اس جمود کو توڑا جائے، جس میں یہ ملّت گرفتار تھی۔ نیز ایک مدت سے برعظیم پاک و ہند کی ملّت اسلامیہ دولخت شخصیت (Split personality) کے مرض میں مبتلا تھی، یعنی اس کے عقیدے اور عقل میں یکسانی اور مطابقت باقی نہ رہی تھی۔[2]

دوسرے لفظوں میں عقیدہ تو موجود تھا، مگر اس میں وہ حرارت نہ تھی جو جذبے کی خنکی یا سردمہری کو دُور کرسکے اور بے عملی اور مایوسی کی برف کو پگھلا دے۔ عقیدے کا چراغ اگر ٹمٹما رہا تھا تو عشق کی روشنی بھی باقی نہ رہی تھی۔ اس کیفیت نے ’روحانی فالج‘ کی صورت اختیار کرلی تھی، جس سے دین داری کی حِس مجروح ہورہی تھی                 ؎

بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

اس کیفیت میں دیرپا تبدیلی اور دُور رس انقلاب کے لیے صرف عقل کی روشنی کافی نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے جذبے کی تپش بھی درکار تھی (یہی اقبال کے پیش کردہ تصورِعشق کا پس منظر ہے)۔  علامہ محمداقبال نے جذبے کو مہمیز لگا کر انقلاب پیدا کرنے کے لیے شعر کا جادو جگایا (دوسری جانب اسی زمانے میں مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کام کو انجام دینے کے لیے خطابت کا طوفانی راستہ اختیار کیا تھا)۔

مسلم فکر کے زندہ موضوعات، لوازمے اور مباحث میں اقبال کا جو منفرد حصہ ہے، ذیل میں اس کے چند اہم پہلوؤں کی طرف مختصراً اشارہ کیا جاتا ہے:

تقلید نہیں ، تخلیقی اجتہاد

 قدیم و جدید کے درمیان کش مکش کو علامہ محمداقبال نے ’دلیل کم نظری‘ قرار دیا ہے۔ اگرچہ انھوں نے خود ان دونوں مآخذ سے پورا پورا استفادہ کیا، مگر کسی ایک کے سامنے آنکھیں بند کرکے سپر نہیں ڈالی۔ علامہ محمد اقبال کی نگاہ میں زندگی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے جس میں ثبات اور تغیر دونوں کا اپنا اپنا فطری مقام ہے۔ اسلام کا اصل کارنامہ ہی یہ ہے کہ اس نے فطرت کے اس اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اعتدال کے راستے کو نمایاں کیا۔ علامہاقبال نے بتایا کہ صحت مند ارتقا اسی وقت ممکن ہے، جب تمدن کی جڑیں ایک جانب ماضی کی روایت میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہوں، اور دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حال کے مسائل اور مستقبل کے رجحانات سے پوری طرح مربوط ہوں۔ اقبال کی نگاہ میں فدویانہ تقلید، خواہ وہ ماضی کی ہو یا اپنے ہی زمانے کے چلتے ہوئے نظاموں کی، فرد اور قوم دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔ صرف تعمیری اور تخلیقی اجتہاد ہی کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے، جو علامہ محمد اقبال نے اختیار کیا۔[3]

تصوف نہیں، حرکت و عمل

 علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے ماضی اور حال دونوں پر تنقیدی نگاہ ڈالی۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انھوں نے غیر اسلامی اثرات کے تحت ایک ایسے تصورِ حیات کو شعوری طور پر اختیار کرلیا جو اسلام کی کھلم کھلا ضدپر مبنی تھا۔ اس سے ان کی صلاحیتیں زنگ آلودہ ہوگئیں، اس طرح وہ تاریخ اور زمانے کی اہم ترین قوت ہوتے ہوئے بھی تمدنی زوال، سیاسی غلامی اور فکری انتشار کا شکار ہوگئے۔ اس سلسلے میں یونانی اور عجمی مآخذ سے حاصل کیا ہوا تصوف اور اشراق، حددرجہ مہلک اور حیات کُش ثابت ہوا، جس نے مسلمانوں میں زندگی کا غیرحرکی اور جمود زدہ تصور رائج کر دیا۔[4] نفی ذات کے فلسفے نے یہاں بھی گھر کرلیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے ترکِ دنیا، ترکِ آرزو اور ترکِ عمل کی بنیاد پر جمود اور انحطاط کے مہیب سائے مسلط ہوگئے۔

مرد مومن کے لیے لائحہ عمل

 بگاڑ کے اسباب کی تشخیص کے بعد، علامہ محمد اقبال نے اسلام کے تصورِ حیات اور اس کی بنیادی اقدار کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا۔ اسلام کی جو تشریح و توضیح اقبال نے کی ہے، اس کی امتیازی خصوصیت اس کا حرکی (Dynamic) اور انقلابی (Revolutionary) پہلو ہے۔ کائنات کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تخلیقی عمل اور ارتقا جاری ہے۔ کائنات کسی تخلیقی حادثے کا مظہر نہیں ہے، بلکہ اس میں خالق کائنات کی جانب سے کُن اور فیکون کا سلسلہ جاری و ساری ہے، گویا ’جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی‘۔ پھر کائنات کی حقیقت کو ’خلق‘ اور ’امر‘ کی نوعیت پر غور کرکے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔[5]    اگر ’خلق‘ میں پیدائش اور وجود کی طرف اشارہ ہے تو ’امر‘ میں سمت اور منزل کی طرف رہنمائی ہے۔

ہر چیز ایک مقصد کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ وجود کا اساسی پہلو بھی احساسِ سمت، مقصدیت، حرکت اور مطلوب کی طرف سعیِ مراجعت ہے۔ کائنات، انسان اور تاریخ، ہرایک میں یہی حرکی اصول کارفرما ہے۔ جسم اگر خلقت کا مظہر ہے، تو روح امن کی آئینہ دار ہے۔ خودی اور اس کی تعمیر اس حرکی اصول کا لازمی تقاضا ہے۔ ترقی اور بلندی کی راہ نفیِ ذات نہیں، اثباتِ خودی ہے، جو خود ایک ارتقائی (Evolutionary) اور حرکی عمل ہے۔ روح کی معراج، ذاتِ باری تعالیٰ میں فنا ہوجانا نہیں، بلکہ خالقِ حقیقی سے صحیح تعلق استوار کرنا ہے۔ ایمان اس کا نقطۂ آغاز ہے، عمل اس کا میدانِ کار ہے اور عشق اس کی ترقی کا راستہ۔

یہی اصولِ حرکت تاریخ میں بھی کارفرما ہے۔ تاریخی اَحیا محض ماضی کے صحت مند رجحانات کے بقا و استحکام کا نام نہیں ہے، بلکہ ابدی اقدار اور تمدّنی نصب العین کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے میدانوں میں تخلیقی اظہار اور تعمیر اور تشکیلِ نو سے عبارت ہے۔ انسان ہی اس ارتقائی عمل کا اصل کارندہ ہے۔ اگرچہ کائنات کی ہر شے اس کی مدد کے لیے فراہم کی گئی ہے، لیکن انسانی زندگی کچھ اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول کے لیے ہے، اور یہ مقصد ہے منصبِ نیابتِ الہٰی۔[6]

اسلام وہ طریق زندگی ہے، جو انسان کو اس کام کے لائق بناتا ہے اور تاریخ میں اس حرکت کو صحیح سمت دیتا ہے۔ مردِ مومن اور ملتِ اسلامیہ  کائنات کی اصلی معمار قوتیں ہیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری صحیح طور پر انجام نہ دیں تو بگاڑ رونما ہوگا، خود ان کے درمیان بھی اور کائنات میں بھی۔

عقل اور وجدان کا تعلّق

علامہ محمد اقبال نے مذہب کی بنیاد عقل یا سائنس پر نہیں رکھی، بلکہ انھوں نے عقل، تجربے، سائنس اور وجدان، ہر ایک کی اصل حقیقت کو واضح کیا، اور ان کی مجبوریوں اور دقتوں پر روشنی ڈالی۔ اقبال نے بتایا کہ جبلت، عقل اور وجدان کے نقائص کو وحی کی روشنی اور تربیت کے ذریعے ہی دُور کیا جاسکتا ہے۔ ان تینوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کر کے انسان کی خدمت اور رہنمائی کے صحیح مقام پر فائز کیا جاسکتا ہے۔[7]نومعتزلائی عقلیت اور مغرب کی بے جان سائنس کے مقابلے میں یہ عقلِ سلیم کی فتح تھی۔ اس طرح نبیکریمﷺ  کا تجربہ اور مشاہدہ مذہبی فکر میں ایک اساسی حیثیت قرار پایا۔ روحانی اور مادیتقسیم کا باطل نظریہ ترک ہوا، اور دونوں کے امتزاج (Synthesis) سے متوازن اسلامی زندگی کی تعمیر کی راہ روشن ہوئی۔

حرکی تصور میں خودی کا مقام

ایمان اور عمل کا باہمی تعلق واضح کرنے کے لیے علامہ محمداقبال نے غیرمعمولی ندرت (Innovation) کا ثبوت دیا۔ اقبال کے نظامِ فکر کے مطابق زندگی کا حرکی تصور آپ سے آپ عمل کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ پھر مذہبی تجربے کی اساسی اہمیت بھی اس سمت میں اشارہ کرتی ہے۔ اثباتِ خودی اور تعمیر شخصیت ایک مسلسل عمل ہے، جس کے بغیر انسان مقامِ انسانیت کو حاصل نہیں کرسکتا۔ نیابتِ الہٰی کے تقاضے صرف تسخیرکائنات اور اصلاحِ تمدّن ہی کے ذریعے انجام دیے جاسکتے ہیں۔ ’خودی‘ ایک بے لگام قوت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خداپرستی اور اخلاقی تربیت سے ترقی پاتی ہے۔ عشق اس کی قوتِ محرکہ ہے، جب کہ مادی قوت کو دین کی حفاظت اور پوری دنیا میں نظامِ حق کے قیام کے لیے استعمال کرنا اس کی اصل منزل ہے۔ یہی خلافتِ الٰہی ہے، اور یہی انسان کا مشن ہے۔[8]   اقبال نے مذہب کا یہ انقلابی تصور دیا، جس نے ملّتِ اسلامیہ میں حرکت اور ہلچل پیداکر دی۔

اسلامی ریاست، بنیادی تقاضا

 اس تصورِ حیات اور اس مشن کا لازمی تقاضا ہے کہ خود سیاسی اقتدار اسلام کے تابع ہو۔ نہ صرف یہ کہ اسلام میں دین و دنیا کی کوئی تقسیم نہیں ہے، بلکہ مذہب اور ریاست ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ اگر دین اور سیاست جدا ہوجائیں تو دین صرف رہبانیت بن جاتا ہے اور سیاست چنگیزیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کی ذہنیت ان کے دین اور دین سے ذہنی وابستگی ہی سے تشکیل پاتی ہے۔ ان کی ریاست، معاشرت اور معیشت، دین کے مقاصد ہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام اپنے اظہار کے لیے ریاست اور تمدن کے روپ میں ظاہر ہو۔ مسلمانوں کو ایسے خطۂ زمین کی ضرورت ہے، جہاں وہ اغیار کے اثرات سے آزاد ہوکر اپنے تمدنی وجود کا مکمل اظہار کرسکیں، اور پھر اس روشنی کو باقی دنیا میں پھیلا سکیں۔ اسی عمل کو اقبال نے اسلام کی مرکزیت کہا ہے، اور اسی کے لیے انھوں نے ایک آزاد خطۂ زمین کا مطالبہ کیا۔ آزاد اسلامی ریاست صرف مسلمانوں کی سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ خود اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔[9]

تہذیبی غلامی، ایک زہر قاتل

علامہ اقبال نے مغربیت اور اس کے بطن سے رونما ہونے والی مختلف تحریکوں، خصوصیت سے لادینیت، مادّیت پسندی، قومیت پرستی، سرمایہ داری، اشتراکیت اور اباحیّت پسندی پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے بتایا کہ ان باطل افکار و نظریات کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، نیز یہ کہ فی الحقیقت یہی تحریکیں انسان کے دکھوں اور پریشانیوں کا سبب ہیں۔[10] مسلمانوں کی نجات ان کی پیروی میں نہیں، بلکہ اپنی خودی کی یافت اور دین اسلام کے احیا میں ہے۔ اقبال نے بار بار خبردار کیا کہ اگر انھوں نے مغرب کی تقلید کی روش کو اختیار کیا، تو یہ راستہ ان کی خودی کے لیے زہرقاتل ہوگا۔ زندگی اور ترقی کا راستہ نہ تو ماضی کی اندھی تقلید میں ہے اور نہ وقت کے نظاموں کی فدویانہ پیروی اور جاہلانہ غلامی میں یہ راستہ اسلامی تعمیرنو کا راستہ ہے، جو اثباتِ خودی، احیائے ایمان، تعمیراخلاق، اجتماعی اصلاح اور سیاسی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سیاسی غلامی سے بھی نجات حاصل ہوسکے گی، بلکہ اس سے زیادہ خطرناک ذہنی، تمدنی اور تہذیبی غلامی سے بھی رہائی مل جائے گی۔ پھر وہ جو ’زمانے کے غلام‘ بننے پر قناعت کر رہے ہیں وہ آگے بڑھ کر ’زمانے کی امامت‘ کا فریضہ  انجام دے سکیں گے، اور یہی ملت اسلامیہ کے کرنے کا اصل کام ہے۔

علامہ محمد اقبال نے ایک طرف دینی فکر کی تشکیلِ نو کی اور اسلامی قومیت کے تصور کو نکھارا، دوسری طرف ملّی غیرت اور جذبۂ عمل کو بیدار کیا۔ مغربی افکار کے طلسم کو توڑا اور قوم کو تمدنی اور سیاسی اعتبار سے اسلام کی راہ پر گامزن کرنے میں رہنمائی دی۔ یہی اقبال کا اصل کارنامہ ہے اور اسی بنا پر وہ بیسویں صدی کی اسلامی فکر کے امام اور اس میں تجدید کی روایت کے بانی اور رہبر ہیں۔                                                                                                                    (نومبر ۲۰۱۱ء)


[1]                       تفصیل کے لیے دیکھیے: رفیع الدین ہاشمی: تصانیف اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ۔

[2]           ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی: برعظیم پاک و ہند کی ملّت اسلامیہ، ص ۴۳،نیز ڈاکٹر سید عبداللہ: میرامن سے عبدالحق،  ص۲۳۷-۲۴۶۔

[3]           The Reconstruction of Religious Thought in Islam، باب ششم ٭سید ابوالحسن علی ندوی: نقوشِاقبال۔ ٭پروفیسر خورشیداحمد: اقبال اور اسلامی قانون کی تشکیلِ جدید، مشمولہ  چراغ راہ، اسلامی قانون نمبر، ج۲، ۱۹۵۸ء۔

[4]           علامہ اقبال مکتوب بنام محمد اسلم جیراج پوری (۱۷مئی ۱۹۱۹ء) میں لکھتے ہیں: ’’تصوف سے اگر اخلاص فی العمل مراد ہے (اور یہی مفہوم قرونِ اولیٰ میں اس سے لیا جاتا تھا) تو کسی مسلمان کو اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ہاں، جب تصوف فلسفہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور عجمی اثرات کی وجہ سے نظامِ عالم کے حقائق اور باری تعالیٰ کی ذات کے متعلق موشگافیاں کرکے کشفی نظریہ پیش کرتا ہے، تو میری روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے‘‘۔ (اقبال نامہ [یک جا] مرتبہ: شیخ عطامحمد، اقبال اکادمی پاکستان، طبع نو و تصحیح شدہ،ص ۱۰۰)۔ سید سلیمان ندوی کے نام (۱۹۱۷ء) لکھتے ہیں: ’’تصوف کا وجود ہی سرزمینِ اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے، جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے‘‘ (ایضاً)۔ بنام اکبر الٰہ آبادی: (۲۵؍اکتوبر ۱۹۱۵ء): ’’صوفیا کی دکانیں ہیں ، مگر وہاں سیرتِ اسلام کی متاع نہیں بکتی‘‘۔ (اقبالنامہ[یک جا]، ص۳۸۱-۳۸۲) بنام اکبرالٰہ آبادی (۱۱جون ۱۹۱۸ء): ’’عجمی تصوف سے لٹریچر میں دل فریبی اور حسن و چمک پیدا ہوتا ہے۔ مگر ایسا کہ طبائع کو پست کرنے والا ہے‘‘ (ایضاً، ص ۳۸۷)۔ ٭پروفیسر حمیداحمد خاں: اقبال کی شخصیت اور شاعری ٭ڈاکٹر صابر کلوروی: تاریخ تصوف۔

[5]                       اشارہ ہے قرآنی آیت اَ لَا لَھُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط (اعراف۷:۵۴) کی طرف۔

[6]           ڈاکٹر محمد اقبال : The Reconstruction of Religious Thought in Islam ، باب اوّل، دوم، سوم۔٭اسرارِ خودی٭رموزبے خودی ٭خضرراہ، بانگِ درا٭ساقی نامہ اور زمانہ، دربال جبریل، نوائے وقت، درپیامِ مشرق۔

[7]                       The Reconstruction of Religious Thought in Islam ، باب دوم و ہفتم

[8]                       اسرارِ خودی اور رموز بے خودی۔

[9]           ڈاکٹر محمداقبال: خطبۂ صدارت ۱۹۳۰ء۔ ٭نیز ملاحظہ ہو: The Reconstruction of Religious Thought in Islam ،  باب ششم و ہفتم ٭رموز بے خودی۔ ٭پروفیسر محمدسلیم: علامہ اقبال کی سیاسی  زندگی٭محمد احمد خاں: اقبال کا سیاسی کارنامہ ٭محمد حمزہ فاروقی: اقبال کا سیاسی سفر۔

[10]         پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق ٭ضربِ کلیم ٭جاوید نامہ ٭پیامِ مشرق۔ اس سلسلے میں دیکھیے: جنوری ۱۹۳۸ء کا سالِ نو کا پیغام، جو اقبال کی آخری تحریروں میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

مسلمان غیرمسلم معاشرہ  میں

 بڑھتی ہوئی عالمگیریت کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ تعلیم ، روزگار اور دیگر ضروریات کے لیے مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مسلم ملکوں سے مغربی دنیا میں منتقل ہوچکی ہے ۔ بعض صورتوں میں ان مسلمانوں کی اب دوسری ہی نہیں تیسری نسل وہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب ایک تعداد ان مقامی لوگوں کی بھی ہے جو اسلام کی حقانیت کے قائل ہوکرمسلمان ہوجاتے ہیں۔ غیرمسلم معاشرہ میں بطور اقلیت رہتے ہوئے ان مسلمانوں کے لیے معاشرتی وسماجی دائروں میں کیا مسائل پیدا ہورہے ہیں اور ان مسائل کو وہ کس طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ اس مضمون میں عمومی طورپر لیکن بالخصوص امریکہ کے حوالہ سے زیربحث لایا گیا ہے۔ مضمون انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں منعقدہ ایک نشست کے مباحث سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس کا انگریزی متن انسٹی ٹیوٹ کے جریدے پالیسی پرسپیکٹوز کے شمارہ نمبر۵:۱ میں شائع ہوا۔

________________

اسلام کے بنیادی عقائد پوری دنیا میں یکساں ہیں، تاہم ان کا عملی اظہار ہر علاقے میں مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ’شادی ‘اسلامی عقائد کا ایک بنیادی جزو ہے جس کا مرکزی نکتہ ’نکاح‘ ہے لیکن جنوبی ایشیا میں شادی کی تقریب مختلف رسوم ، مثلاً مہندی، مایوں اور بارات پرمشتمل ہے، اور یہ رسوم ہندو معاشرے سے اخذ کی گئی ہیں۔ بالکل اسی طرح چونکہ مغرب میں اسلامی تہذیب کا ارتقا ایک نئے عمل کی حیثیت رکھتا ہے، اور ان معاشروں میں اسلامی روایات ابھی پوری طرح نشوونمانہیں پارہی ہیں، اس لیےمختلف قسم کے مسائل سامنے آرہے ہیں اور بےشمار معاملات ایسے ہیں جنھیں زیر بحث لایا جاسکتا ہے۔ اس گفتگو میں موضوع بحث مغرب اور مسلمان ہیں ، لیکن بحث کا غالب حصہ امریکہ کے حوالے سے پیش کیا جارہا ہے۔

بحیثیت اقلیت

اس مسئلے کا تعلق نسبتاً ایک نئی صورت حال سے ہے، مغرب میں بسنے والے مسلمان اپنے اپنے اسلامی ممالک سے تعلیم یا بہتر روز گار کی تلاش کے لیے اپنی مرضی سے ایک بڑے وسیع غیر مسلم معاشرے میں اقلیت کی حیثیت سے آباد ہورہے ہیں۔ آج وہاں پر مسلمان، یورپ کی آبادی کا۳ فی صد اور امریکہ  کی آبادی کا۲ فی صد ہیں۔ اس ضمن میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انھیں نہ تو وہاں پرزبردستی جانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور نہ انھیں وہاں محکومیت کا سامنا ہے۔ دوسرے یہ کہ نقل مکانی کر کے یہاں آنے والے مسلمانوں کی دوسری نسل اور مقامی مسلمانوں کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ لہذا اس صورت حال کے متعلق مغرب میں ان امور پر مکالمہ زوروں پر ہے کہ ان ممالک میں ایک اقلیت کی حیثیت سے کیسے گزر بسر کی جائے؟ اس مخلوط تہذیبی ماحول میں کس انداز سے سماجی زندگی گزاری جائے، اور دیگر مذاہب یا مقامی لوگوں سے تعلقاتِ کار کی کیا حدود ہیں؟ یہاں کے سیاسی عمل میں کیسے شرکت کی جائے؟ ان ممالک کی افواج میں شمولیت وغیره جیسے عنوان بھی ان مباحث کا حصہ ہیں۔

 یہ اس نوعیت کے بنیادی مسائل ہیں جن کے متعلق عام لوگ، علما، مفکرین اور دانشور، خواتین اور حضرات سوچ و بچاراور بحث و مباحثے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے کچھ علما اور مفکرین کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو بحیثیت اقلیت، اپنے قواعد وضوابط خود وضع کر لینےچاہییں ۔ اس کے برعکس مغرب میں موجودبعض قابل ذکر علما اور مفکرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ان ممالک میں خود کو اقلیت سمجھنے کا خیال ترک کر دینا چاہے، کیونکہ اسلام کا پیغام آفاقی ہے۔ اس لیے اگر مسلمان خود کو اقلیت سمجھتے رہیں گے تو وہ نفسیاتی طور پر ہمیشہ ایک ایسی حالت میں گرفتار رہیں گے، جہاں وہ بحیثیت مسلمان ایک تابع مہمل اور دبی دبی کیفیت کا شکار رہیں گے، اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے، اور یوں اکثریت سے کٹ کر رہ جائیں گے۔ بلاشبہ مسلمان عددی لحاظ سے اقلیت میں ہیں، لیکن انھیں چاہیے کہ وہ اپنے وجود اور اپنے عمل سے معاشرے کے لیے ایک  تعمیری حصہ ثابت ہوں ۔ وہاں پر ان کا یہی کردار دعوتِ اسلام کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو۔

جو مسلمان ان غیرمسلم معاشروں میں بحیثیت اقلیت زندگی گزار رہے ہیں، ان کے متعلق نظریاتی اور فکری سطح  پر ایک نیا ماحول اور فضا تشکیل پارہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں پر مسلم اہل  علم دار الحرب اور دارالاسلام پر بحث کے بجائے دارالصلح (ہم آہنگی کی سرزمین)، دار الامن (امن کی زمین)، دار العہد ( معاہدے کے تحت سکونت کی زمین) اور دارالدعوۃ (وہ سرزمین جہاں تبلیغ کی جا سکے ) جیسے نئے تصورات  پر بات کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی شناخت اور پہچان کے بارے میں مختلف آرا پیش کی جارہی ہیں، مثلاً مسلمانوں کو امریکی مسلمان کہنا چاہیے یامسلم امریکی کے نام سے پکارنا چاہیے۔

 مسجد کا کردار

اس تہذیبی منظر نامے کی دوسری خصوصیت ’مسجد کا کردار‘ ہے۔ اکثر مسلم ممالک کی مساجد نماز پنجگانہ کی ادائیگی اور قرآن مجید کی تعلیم کے لیے استعمال ہورہی ہیں ۔ بعض مسلم ممالک میں تو مساجد سرکاری یا ریاستی اوقاف کے زیرانتظام ہیں، بعض ممالک میں مساجد سیاسی نوعیت اختیار کرگئی ہیں اور انھیں غیر جمہوری حکومتوں، عوام کی محرومیوں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کرنے کے مراکز کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

بہرحال مغرب، خاص طور پر امریکہ  میں مسجد ایک اسلامی مرکز کی حیثیت سے ایک نیا  کردار اختیار کر رہی ہے۔ ممکنہ طور پر جگہ اور سماجی تقاریب کے لیے جگہوں (Venues) کی کمی کے باعث مسجد جملہ اسلامی تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز بنتی جارہی ہے۔ ان تقاریب میں نماز پنجگانہ ،مذہبی و دینی تعلیم، جداگانہ طور پر مردوں، عورتوں اور نوجوانوں کے باہم تبادلۂ خیال، میل جول اور نکاح کی تقاریب وغیرہ شامل ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تقریباً تمام بڑے بڑے اسلامی مراکز کے ساتھ باسکٹ بال کھیلنے کے میدان، تفریحی مقامات اور نوجوانوں کے لیے عمارت کے اندر کھیلوں کے لیے جگہیں مخصوص ہیں۔ بعض اوقات ایک بڑی مسجد کے احاطے میں بنیادی طور پر ورزشی کھیلوں کے لیے ایک بڑا کمرہ اور ایک ریستوران واقع ہوتا ہے، تا کہ نوجوانوں کو صحت بخش سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے، جب کہ نماز کی ادائیگی کے لیے مخصوص بڑا کمرہ تعمیر کردہ عمارت کے ایک ذیلی حصے پرمشتمل ہوتا ہے۔ مزید برآں کھیلوں کے لیے مخصوص بڑا کمرہ (جمنازیم) نماز پنجگانہ ،نمازِ جمعہ اور عیدین کی نمازوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یوں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغرب میں مساجد سیاسی، سماجی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہورہی ہیں۔ گرجا گھروں کے طالب علم یا پادری اکثر نمازجمعہ کے دوران میں مساجد کا دورہ کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان بھی مقامی غیرمسلم رہنماؤں، مثلاً سیاستدانوں،  پولیس انسپکٹروں یا مقامی تعلیمی بورڈ کے انتظامی عہدےداروں کو اپنے ہاں مسجد میں مدعو کرتے ہیں۔ پھر نماز جمعہ کے بعد عام طور پر تین قسم کے اعلانات ہوتے ہیں، مثلاً        گاڑی غلط طور پر کھڑی کرنےاور گاڑی کھڑی کرنے کے آداب کے متعلق، خواتین، مردوں اور نوجوانوں کے آئندہ اجلاس کے متعلق، اور کانگریس کے کسی رکن ،کسی متوقع رکن یا ناظم شہر کے متعلق جو مسلمانوں سے ملاقات کا خواہش مند ہوتا ہے۔

بڑے اسلامی مراکز میں سماجی سرگرمیوں کے لیے معقول اور اچھی طعام گاہیں موجود ہیں۔ مسلمان عام طور پر انہیں شادی ،منگنی یا سالگرہ کی تقریبات کے لیے کرائے پر دے دیتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسجد جو مرکز اسلامی کا ایک حصہ ہوتی ہے نوجوانوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے گہرے اطمینان ، سکون اورتشفی کا باعث ہو۔ نیوجرسی کی ایک مسجد میں ۳ کروڑ ڈالر کی لاگت سے پانچ سالہ توسیعی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بزرگ شہریوں کے لیے ۳۰ گھر بھی تعمیر کیے جائیں گے، تا کہ بڑی عمر کے بے شمار افراد کو اسلامی مراکز اور مساجد کی سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔

خواتین 

خواتین کی سماجی سرگرمیاں، اس اسلامی تہذیبی تحرک کی ایک اور خصوصیت ہے۔ اگر برعظیم پاک و ہند میں کچھ دینی عقائد کے ساتھ بعض سماجی روایات پر نظر ڈالیں، تو اکثر خواتین کو عید کی نماز یا نمازِ جمعہ میں شرکت کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ لیکن مغرب میں اس امر کا تصور ہی محال ہے کہ ان نمازوں میں خواتین شریک نہ ہوں۔ کچھ مساجد میں خواتین اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ نماز فجر بھی ادا کرتی ہیں۔ مزید برآں خواتین ان اسلامی مراکز کا لازمی حصہ بنتی جارہی ہیں۔ وہ مسجد یں جہاں ممکنہ طور پر جگہ کی کمی ہے، وہاں پر دینی احکامات کے باعث خواتین شرکت نہیں کرسکتیں، تاہم عموماً خواتین کے لیے جگہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

امریکہ  میں موجود مساجد میں سے تقریباً ۷۰ فی صد مساجد میں ہفتہ وار اسکول( یعنی سیٹرڈے اسکول اور سنڈے اسکول) قائم ہیں، جہاں زیادہ ترتعلیمی سرگرمیوں کا انتظاموانصرام خواتین کے ہاتھ میں ہے۔ ان سرگرمیوں کامنطقی نتیجہ یہ ہے کہ علوم اسلامیہ میں خواتین اسکالروں کو ایک مقام حاصل ہو رہا ہے۔ شمالی امریکہ  کی اسلامی سوسائٹی نے ۲۰۰۶ء میں ایک خاتون ڈاکٹر انگٹ میسن (Inget Mason) کو اپنا صدرمنتخب کیا جو کینیڈا کی شہری تھیں  اورمسلمان ہوگئی ہیں اور یہ خاتون اس وقت ہرٹ فورڈسیمنیری (Hartford Seminary) میں اسلامیات کی پروفیسر ہیں۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران شمالی امریکہ   کی ایک اور اسلامی تنظیم مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (MSA)کی قومی سطح کی صدر ایک خاتون تھیں۔

نوجوان

مغرب میں مسلمان نوجوانوں کو بھی بہت سے مسائل و معاملات درپیش ہیں۔ ان ممالک میں مسلمان تارکین وطن کی پہلی نسل ،مختلف تہذیبوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ نوجوان دوسری نسل یا مقامی مسلمانوں کے بجائے اپنے تہذیبی علاقوں میں رائج اسلامی روایات، عقائد اور عادات کو اپنانا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات مقامی مسلمان، افریقی نژاد امریکی یا سفید فام امریکی عربی لباس یا جنوبی ایشیائی لباس شلوارقمیض پہنتے ہیں۔ ان کے اس طرزعمل کے باعث اس بحث کا آغاز ہوا ہے کہ اسلامی روایتی لباس کون سا ہے؟ کیونکر ممکن ہے کہ ایک اسلامی تہذیبی علاقے میں استعمال ہونے والا لباس دوسرے تہذیبی علاقے میں اسلامی تصور نہ کیا جاتا ہو۔ مغرب میں مقیم تقریباً ہر اسلامی گھر، اجتماع اور رہائش گاہوں میں یہ بحث معمول کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ دوسری نسل کے لیے سب سے بنیادی مسئلہ ستر ڈھانپنے( لباس کے شرعی ضابطے) سے تعلق رکھتا ہے، کہ ایسا لباس نہ پہنا جائے جس سے پوشیدہ اعضا کی نمائش ہو۔ اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ ڈھیلی ڈھالی پتلون اورقمیض پہنیں، جو انھیں اسلامی تشخص مہیا کرے، جس طرح قمیض شلوار یا عربی عبا کو اسلامی لباس سمجھا جاتا ہے۔

یہ مسئلہ اور معاملات میں بھی زیر بحث رہتا ہے  مثلاً یہ کہ مسلمان بچے بچیوں کے رشتے کیسے ڈھونڈے جائیں؟ آیا والدین کو اس کے متعلق فیصلہ کرنا چاہیے یا بچوں کو یہ ذمہداری خود سنبھال لینی چاہیے۔ یا والدین اور بچوں کو باہمی رضامندی سے یہ معاملات طے کرنے چاہییں؟ نیز یہ بھی کہ شادی کرنے والے بچوں کو شادی /منگنی سے پہلے ایک دوسرے سے بات چیت یا سماجی میل جول رکھنا چاہیے یا نہیں رکھنا چاہیے؟

مزید برآں مغرب میں مسلمان نوجوانوں کا ایک اور مسئلہ ان کی شناخت اور پہچان کےمتعلق ہے۔ مثال کے طور پر پہلی نسل کے لیے یہ کہنا بہت آسان ہے کہ وہ پاکستانی نژاد امریکی مسلمان ہیں، تاہم شناخت اور پہچان کا  مسئلہ ان نوجوانوں کے لیے مبہم صورت اختیار کر جاتا ہے جو مغرب میں پیدا ہوتے یاشعور کی آنکھ کھولتے ہیں۔ کچھ مغربی لوگ اسلام کو ایک خارجی مظہرتصور کرتے ہیں اور اسلام کے متعلق ہر چیز کو اجنبی اور خارجی سمجھتے ہیں، تاہم دوسری نسل اور مقامی مسلمانوں کے لیے اسلام بالکل ایک فطری دین ہے۔

سماجی سرگرمیوں میں شرکت

نائن الیون کے بعد ایک نئی صورت حال یہ ہے کہ سماجی خدمت کے شعبے میں مسلمانوں کی شرکت بڑھتی جارہی ہے۔ مسلمان طبی اور غذائی مراکز ،غربا کے لیے خوراک کی فراہمی اورمستحقین کے لیے دیگر سرگرمیوں اور خدمات کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں غیر مسلم افراد پہلے ہی کافی کچھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ امریکہ میں موجود یہودیوں کے زیرانتظام مقامی طور پر تقریباً ۶۰۰ سماجی خدمت کی تنظیمیں اور ادارے کام کررہے ہیں۔ مالی مدد و اعانت کے طور پر یہ ادارے اور تنظیمیں مختلف سماجی سرگرمیوں اور خدمات کے لیے اپنے ہم مذہبوں، شہروں، ریاستوں اور حکومتوں سے تقریبا ۴ ارب ڈالر سالانہ حاصل کررہے ہیں۔ کیتھولک مسیحیوں نے بھی دو بڑی سماجی تنظیمیں قائم کررکھی ہیں۔ انھیں سالانہ تقریباً ۷؍ارب ڈالر وصول ہوتے ہیں جن میں سے ۶۲ فی صد رقوم شہروں، ریاستوں اور امریکی وفاقی حکومت سے اکٹھی کی جاتی ہیں ۔ مسلمان بھی اس طرز عمل کے متعلق سیکھ رہے ہیں۔

مساجد سماجی سرگرمیوں کے لیے مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ماہ رمضان میں افطار کی تقریبات مساجد میں منعقد ہوتی ہیں ۔ مساجد کی انتظامیہ، افطاری کی تقریبات کو بڑے منظم انداز سے مشتہر کرتی ہے۔ عام طور پر ایک وقت میں افطار کے وقت ایک ہزار سے پندرہسو افراد موجود ہوتے ہیں۔ امریکہ  کے بہت سے شہروں میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمان غربا کے لیے قربانی کا گوشت اکٹھا کرتے ہیں، یا اسے غذائی مراکز کو بطور عطیہ دے دیتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان اقدامات کو مشتہر کیا جاتا ہے۔

نائن الیون کے بعد مسائل و معاملات

نائن الیون کے بعد مسلمان تارکین وطن کی پہلی نسل اپنے اپنے وطن واپس جانے کے لیے سوچ رہی تھی، لیکن واپسی کا یہ خواب اس وقت بکھر کر رہ گیا جب ان کی دوسری نسل نے کھل کر مغرب ہی کو اپنا وطن قرار دینے کا اظہار کیا۔ اس نسل کے لیے ان کے والدین کے سابق وطن   صدمہ دینے والے کسی تجربے سے زیادہ مقام نہیں رکھتے، جب کہ پہلی نسل سے تعلق رکھنے والے مسلم تارکین میں یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ ان کا خالق ان سے پوچھے گا کہ انھوں نے اپنے علاقوں میں اسلام کی کیا خدمت سرانجام دی، اور انھوں نے اسلام کو دنیا کے سامنے کس طرح پیش کیا۔ اگرچہ مسلمانوں کو ذرائع ابلاغ، گرجا گھروں کی انتظامیہ اور مراکزدانش (Think tanks)کی جانب سے اسلام کے خلاف سخت پروپیگنڈے  کا سامنا ہے، تاہم اسلام کو غیرمسلموں کے سامنے پیش کرنے کے نئے اور بہتر مواقع بھی میسر آرہے ہیں۔ یوں مسلمان ذرائع ابلاغ کے مرکزی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ صورت حال نائنالیون سے قبل ممکن  نہ تھی۔ اب مقامی ریڈیو، سی این این، دیگر ٹی وی چینل، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، کرسچین سائنس  مانٹیر اور دیگر اہم اخبارات میں مسلمانوں کی سرگرمیاں نمایاں طور پر جگہ پارہی ہیں۔

مغرب میں رہنے والے مسلمان تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ صورت حال ان کے لیے کسی اذیت ناک مسئلے سے کم نہیں ہے۔ نائن الیون سے پہلے اسلام کیا ہے؟  کا جواب نہایت ہی سادہ تھا کہ ’’اسلام ایک عقیدہ اور دین ہے‘‘۔ اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے، کیونکہ اب مسلمانوں سے غیر مسلم بہت ہی سنجیدہ سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب اور اپنے ملک کے معاملات میں اسلام کے کردار کے متعلق سنجیده جوابات کے طالب ہوتے ہیں۔

 ریاست اور مذہب

امریکہ اور یورپ میں چرچ (مذہب) اور ریاست کی علیحدگی کا مسئلہ ایک مختلف مطلب اختیار کر چکا ہے۔ کچھ علما اور مفکرین کے نزدیک امریکہ میں چرچ اور ریاست کی علیحدگی سے مرادکاروبار ریاست کو مذہب کی مداخلت سے محفوظ رکھنا ہے۔ مغرب میں موجود کچھ مسلمان علما اور مفکرین اسلامی ریاست سے متعلق مباحث کا جواب دینے میں مصروف ہیں، مثلاً: اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کا کردار، مسلمانوں کا اپنا مذہب ترک کر کے دوسرا مذہب اختیار کرنے کا معاملہ، خواتین کا سماجی اور معاشی زندگی میں کردار اور تفریح کے مختلف ذرائع مثلاً موسیقی وغیرہ کا جواز۔

مختصر یہ کہ مغرب میں اسلام کے موضوع پر سنجیدہ فکر انگیز گفتگو اور مثبت اور تعمیری بحث کا رجحان زور پکڑ رہا ہے جس میں مسلمان علما اور مفکرین فعال اور بصیرت افروز کردار ادا کررہے ہیں، اور متعدد امور انھیں اجتہادی حل پیش کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

اختتامی کلمات

مغرب میں اپنا دائرہ اثر بڑھاتی ہوئی اسلامی تہذیب کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ عام مسلمان، علما اور مفکرین اس موضوع کے بارے مسلسل مباحث میں مصروف ہیں۔ انھیں یہ احساس ہو چکا ہے کہ ان مشکل حالات کا بہر صورت سامنا کرنا ہوگا۔ ان کا یہی رویہ اور طرزِعمل مختلف افراد، معاشروں اور اقوام کے لیے حقیقی اور سچی امید اور روشنی کا باعث ہے۔ جو افراد حوصلہ مندی اور جرأت سے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہیں، وہ دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں، اور جو لوگ مشکل حالات کے سامنے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں، وہ مایوسی اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مغرب میں اس وقت مسلمانوں کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے، ان میں پہلے ’اسلام بحیثیت دین‘ اور’ اسلام  بحیثیت تہذیب وثقافت‘ کا سوال اور دوسرے ’اسلام کی بحیثیت اقلیت موجودگی‘ شامل ہیں۔

پہلا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ درحقیقت’ اسلام بحیثیت دین‘ اور’ اسلام بحیثیت تہذیب و ثقافت ‘کے درمیان فرق سنتِ رسولﷺ پر بحث کے تناظر میں ہمیشہ بہت ہی نازک، حساس اور اہم نوعیت کا مسئلہ رہا ہے۔ جب مسلمان حضور نبی کریم ﷺکی سنت پرعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو پھر مسلمان اس بحث کا بھی سامنا کرتے ہیں کہ آپؐ کی سنت کا کون سا حصہ، خاص طور پر آپؐ کی عادات، آپؐ کے زمانے کے رسم و رواج اور روایات کا مظہر تھا؟ پھر ان آفاقی اور یکساں رویوں اور طرز ہا ئے عمل کے برعکس سنتِرسولﷺکے تابع وہ کون سے پہلو ہیں کہ جن کی تقلید مسلمانوں کے لیے لازم ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اقدار اور تہذیب باہمی طور پر ایک ہی نوعیت کے حامل مظاہر ہیں۔ بہرحال جب اقدار، رسم ورواج اور روایات، ایک مخصوص تہذیب کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتی ہیں، تو پھر گاہے گاہے ان میں امتیاز اور تفریق بھی اسی طرح لازمی ہے۔ ابتدائی تاریخ اسلام کے زمانے ہی سے  اسلامی تہذیب وثقافت میں ارتقا اور ترقی ، اسلام کی جغرافیائی حدود میں اضافے اور پھر مختلف تہذیبی معاملات نے مسلمانوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ مختلف تہذیبی مثالوں اور نمونوں کے تحت ادارہ جاتی ارتقا اور ترقی کے مسئلے کا سامنا کریں۔ مثال کے طور پر وہ یہ فیصلہ کریں کہ کن روایات و اقدار کو انھوں نے ترک کرنا ہے اور کون سی روایات و اقدار بطور’عرف ‘اختیار کرنی چاہییں؟ کون سے ادارے ان کے لیے مفید ہیں، کون سے اداروں میں تبدیلی مقصود ہے اور کون سے ادارے قابل استرداد ہیں؟مخصوص حالات میں مخصوص اقدار کے نفاذ واطلاق  پر مبنی  ایک انتہائی تخلیقی عمل اور کوشش کے ذریعے مسلمانوں نے اسلامی قواعد وضوابط وضع کیے ہیں۔ ان قواعد وضوابط میں تنوع کے باعث ان علاقوں کے مختلف زمینی حقائق کا اظہار ہوتا ہے جہاں جہاں  یہ قواعدوضوابط ارتقا پذیر ہوئے، مثلاً مد  ینہ، بغداد، دہلی ، سمرقند، اسپین وغیرہ۔

امریکہ  اور یورپ میں رہنے والے مسلمان اسی مسئلے کا ایک مختلف طریقے کے ذریعے سامنا کررہے ہیں۔ خود ان مسلمانوں میں ممکنہ طور پر رسم و رواج، اقدار، اصولوں اور روایات میں اختلاف بہت کم ہے۔ اس تناظر میں اسلام کی یہ ایک نمایاں خصوصیت رہی ہے کہ مختلف اختلافات کے باوجود اسلام کی متحدہ نوعیت قائم رہتی ہے، خواہ یہ اختلاف زمانے اور علاقے کی حیثیت سے کتنے ہی وسیع کیوں نہ ہوں ۔ مزید برآں، اسلام اپنی اقدار اور تہذیبی معاملات کے درمیان تعلق قائم رکھتا ہے۔ اگرچہ اس تعلق کی نوعیت بہت ہی نازک ہے لیکن اس تہذیبی اظہار میں بظاہر اونچ   نیچ کا ہونا ناگزیر ہے۔

تاریخی طور پر اس تمام صورت حال کو ایران کے پس منظر میں بھی دیکھنا چاہیے، جو ظہور اسلام سے قبل ایک نہایت ترقی یافتہ تہذیب تھی مگر تہذیبی، لسانی، تاریخی، جغرافیائی اور روایتی اختلافات اور تضادات کے باوجود ایران میں اسلام کی روشنی پھیلتی چلی گئی۔ لہذا، اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر امریکہ ، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں اسلام کی کرنیں پھیلتی ہیں تو امریکی اسلام،  یورپی اسلام، پاکستانی اسلام اور عربی یا ایرانی اسلام کا تصور ایک بےمعنی مفروضہ ہے۔

 مغرب میں اقلیت کی حیثیت سے مسلمانوں کی موجودگی بھی نہایت اہم مسئلہ ہے۔ ممکن ہے جغرافیائی لحاظ سے’اقلیت‘ کا تصور حقیقت ہو، لیکن بحیثیت مجموعی ’اقلیت‘ پرمبنی اندازِفکر غیر ضروری بھی ہے اور سخت نقصان دہ بھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اقلیتوں نے اپنے اپنے معاشروں میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ انسانی تاریخ نے یہ مشاہدہ بارہا کیا ہے کہ اقلیتیں ارتقائی مراحل میں سے گزرتے ہوئے اکثریت میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ایک ایسی اقلیت جو دینی اقدار ،نظرئیے اور مقصد کی علم بردار ہو، اسے اپنی کم تعداد کے باعث ’اقلیت‘  کا سا انداز فکر اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ چونکہ ان کے پاس ان کا اپنا ایک لائحہ عمل اور طریقہکار موجود ہے۔ جس کے تحت وہ ارتقائی منازل اور مراحل طے کر سکتے ہیں اور ہر ملک اور معاشرے میں اپنا اہم کردار انجام دے سکتے ہیں۔ عصر حاضر کی یورپی تاریخ میں، اقلیتوں نے مختلف قسم کے تصورات، نظریات، نظام قومیت، انسانی حقوق اور جمہوریت کے ارتقا اور ترقی کے ضمن میں ایک مؤثر طبقے کا کردار ادا کیا ہے۔ ان میں سے بعض اقلیتوں نے اپنے دفاع اور بقا کے لیے جدوجہد کی اور بعض اپنی اقدار اور انداز فکر ونظرئیے کی پاس داری کے لیے کوشاں رہیں۔ اس طور ،کسی قوم کی بحیثیت اقلیت موجودگی کسی بھی طرح کا کوئی جرم یا احساس محرومی کا مظہر نہیں ہونا چاہیے۔

مغرب میں مسلمانوں کی تیسری نسل کا ارتقا ایک ایسے اہم مسئلے کی حیثیت سے سامنے آیا ہے جس کا تجزیہ ہونا ضروری ہے۔ جنوری ۲۰۰۷ء میں ایک مرکز دانش ’پالیسی ایکسچینج‘ نے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی پہلی، دوسری اور تیسری نسل کے انداز فکر اور سوچ کے بارے ایک جائزہ پیش کیا۔ اس جائزے کے مطابق تیسری نسل (۱۶ تا ۲۴ سال) کے ۷۴فیصد افراد نے مسلمان خواتین کے نقاب یا حجاب اوڑھنے کے حق میں رائے دی، جب کہ پہلی نسل (۵۵ سال یا زائد) کے ۲۸ فی صد افراد نے مخالفانہ رائے کا اظہار کیا۔ جب برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں سے یہ پوچھا گیا کہ آیا وہ شریعت (اسلامی مذہبی قوانین) کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو پھر تیسری نسل(۱۶ تا۲۴ سال) کے ۳۷ فی صد افراد نے اس کی تائید میں جواب دیا، جب کہ پہلی نسل (۵۵ سال سے اوپر)کے ۱۹ فی صد افراد نے شریعت کے تحت زندگی گزارنے کے نظرئیے کی حمایت نہیں کی۔[1]

اس وقت تین مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق بطور خاص مغرب میں مقیم مسلمانوں کو سوچ بچار کرنی چاہیے اور ان کے حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ ان میں سے پہلا مسئلہ ریاست اور مذہب کے درمیان تعلق سے متعلق ہے۔ دوصدی قبل امریکی آئین نے اس معاملے کو ریاست اور مذہب کے درمیان جداگانہ حیثیت دینے کی کوشش کی، مگر یہ مسئلہ اپنی پوری شدت کے ساتھ آج بھی زندہ اور موجود ہے۔ ایک دینی نظام کا خاکہ تو ایک طرف رہا، خود خالص لادینی نظام کا نقشۂ کار بھی صفحہ ہستی سے مٹتا جارہا ہے۔ ممکن ہے کہ لادینی نظام ۱۹ویں صدی کے روشن خیال نظام کے ساتھ موجودرہتا، جہاں زندگی دو خانوں:خود کفالت اور آزاد روی میں تقسیم ہو چکی تھی لیکن یہ نظریہ اور اندازِ فکر عہد حاضر میں تقریباً  ناممکن ہے۔ عصر ِحاضر میں حکمت عملی کی تیاری، تعلیم اور معاشرتی معاملات میں ریاست کا کردار لازمی اور ناگزیر ہے۔ اس لیے غیر جانب داری کا قطعی طور پر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلاشکوشبہ جو لوگ ابھی تک اس لکیر کو پیٹ رہے ہیں، وہ معاشرے اور ریاست کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے۔ لادینیت اور دینی نظام دو انتہائیں ہیں جن کے درمیان طویل فاصلہ موجود ہے، جہاں بے شمار تضادات کے باوجود ہم آہنگیاں موجود ہوسکتی ہیں۔ بہرحال مسلمان مفکرین، دانش وروں اور سیاست دانوں کے سامنے غور وفکر کا یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کو کسی نہ کسی طرح حل کرنا ہوگا۔

دوسرا مسئلہ ریاست، قوم اور امت کے درمیان تعلق کا ہے۔ عالم گیریت کے اس دور میں قومی ریاست کے خاتمے یا غیر مؤثر وجود کے تصور کے حوالے سے بہت سے مباحث ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ اس لیے جب بھی اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت اور مسلمانوں کے متعلق مباحث کی ابتدا ہوتی ہے، تو اکثر لوگ دم توڑتی قوم پرستی کے تناظر میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک بہت ہی اہم پہلو عوام کی بیداری اور بنیادی سطح پر انقلاب ہے۔ ماضی میں عوام کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور نہ ان کی کہیں شنوائی تھی، مگر عالم گیریت کے اس عہد میں ایک طرف تو جابرانہ استبداد کا دور ہے، تو دوسری طرف عوام میں اپنے لیے کچھ حاصل کرنے کی خواہش پر مبنی ایک نئی لہر بھی ہے۔ یہ لہر ایک ارتقاپذیرعظیم ترین طاقت ہے۔ جو لوگ انسانی حقوق، انصاف،غربت کے خاتمے، استعماریت، ملوکیت اور سرمایہ داری جیسے چیلنجوں کا جواب دینے میں دل چسپی  رکھتے ہیں، ان سب کا مفاد ایک اور مقصد یکساں ہے۔ عراق میں امریکی جارحیت کے خلاف مغرب میں ہونے والے احتجاج میں دائیں بائیں اور دیگر نظریات کے حامل تمام طبقوں نےشرکت کی۔ اس لیے امت کا تصور ایک عظیم رحمت و برکت ہے اور عالم گیریت کے تصور کے لیے ایک مثال اور نمونہ ہے۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ موجودہ بین الاقوامی پس منظر میں بین المذاہب مکالمہ اور مذاکرات انتہائی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان سب سے پہلامکالمہ ۱۹۵۲ء میں لبنان میں منعقد ہوا۔ بعدازاں یہ عمل مختلف سطحوں پر جاری رہا۔ ان مباحث میں بہرحال اس چیز کا موقع ہوتا ہے کہ اسلام کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا جا سکے۔

آج پوری دنیا مسلمانوں کے لیے اشاعت دین کا میدان بھی ہے اور حصول علم و روزگار کا ذریعہ بھی۔ ان مقاصد کے لیے انھیں مختلف تہذیبوں اور مختلف مذاہب اور نظاموں کے زیراثر علاقوں میں جانا ہوگا۔ بعض جگہ وہ جبری طور پر بھیجے جائیں گے اور بعض ممالک میں وہ اپنے ارادے اور اپنے عزم سے جائیں گے۔ ان میں صورت جو بھی ہو، انھیں بہرحال وہاں خاصے مختلف طرز حیات سے سابقہ پڑے گا۔ معاشی، سماجی، سیاسی، حکومتی، نفسیاتی اور فکری یا مذہبی دباؤ سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ یہ سارے دباؤ اور تجربات علمی چیلنج بھی پیش کریں گے اور عملی تقاضوں کا سوال بھی پیش کریں گے۔

اسلام دین فطرت ہے، تمام زمانوں اور تمام زمینوں کے لیے ابدی ہدایت ہے۔ اس بنیادی حقیقت کا تقاضا ہے کہ تھڑدلی ، مایوسی اور پسپائی کے بجائے دین کی رہنمائی میں اور دین کے سائے میں راہیں تلاش کی جائیں۔

اصل  انگریزی مضمون Islam in the West: Policy Perspectives  جنوری- جون ۲۰۰۸ء ،جِلد ۵ نمبر۱۔صفحہ ۱۳۲،آئی پی ایس اسلامآباد کے شمارہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔                                                                                                                 

(اپریل ۲۰۰۸ء)

اشاریہ

 آ

آبادی ایمرجنسی, 208

آبادی کی تحدید, 195, 202

آبرو کی حرمت, 263

آبزروَر لندن(Observer London) ،ہفت روزہ, 186, 187

آخری الہامی کتاب, 150

آرنلڈ ٹائن بی(Arnold J. Toynbee), 5, 166

آزاد پریس, 186, 236

آزاد خیالی, 136

آزاد روی, 25, 33, 52, 69, 78, 135, 304

آزاد یٔ رائے, 176, 177, 180, 185, 186

آزادیٔ فکر, 113

آزادی کی تحریک, 30

آزادیوں کا تحفظ, 110

آسٹریا(Austeria), 187

آسٹریلیا (Australia) کی نیشنل یونی ورسٹی, 75

آشوری(تہذیب), 116

آفاقی اقدار, 71

آل سعود, 74

آمرانہ نظام, 32, 34, 171

  ا

اباحت پسندی, 258, 292

ابدی زندگی, 148

ابن خلدون, 29

ابو بکر الجصاص, 263

اجتماعی احتساب, 102/اجتماعی اخلاقیات, 5/ اجتماعی تہذیب, 78

اجتماعی تباہی کے ہتھیار, 217

اجتماعی تکافل, 255, 274, 276, 277/ اجتماعی کفالت, 270, 272

اجتماعی خلافت, 271

 اجتماعی فیصلہ سازی, 102

اجتماعیت, 94, 101, 248

اجتہاد, 77, 129, 130, 154, 165, 287

احترامِ انسانیت, 80

احسان, 18, 86, 160, 275

احکام القرآن, 263

احکامالہٰی, 152

احمدسلیم, 234

احیائے اسلام, 167, 170

احیائے تہذیب اسلامی, VII

اخلاق باختہ تہذیب و تمدن, 197

اخلاقی اساس, 99, 105/اخلاقی اقدار, 3, 24, 25, 34, 55, 140, 142, 163, 193/اخلاقی انحطاط, 23/ اخلاقی بحران, 142/اخلاقی بنیادیں, 5, 10/اخلاقی تصورات, 15

اخوان المسلمون, 50, 73

ارتقائے کائنات, 119

ارجنٹائن (Argentina), 61

اُردن (Jordan), 32

اردو میڈیم اسکول, 236/ انگریزی میڈیم اسکول, 236

ارشد احمد, 259

ارمغانِ حجاز(علامہ محمد اقبال), 285

ازدواجی زندگی, 80

اسامہ بن لادن, 53, 178

اسپین(Spain), 105, 302

استبدادی حکومت, 139

استحصال, 4, 8, 13, 17, 25, 142, 166, 270

استخلاف, 16

استعانت باللہ, 99

استعماری گرفت, VI/استعماری نظام کے شکنجے, V

استعماری ادارے, 203/استعماری اہداف, 62/استعماری عزائم, 97, 109/استعماری قوتوں, 66, 218/ استعماری مفادات, 237/استعماری مملکت سازی, 61/ استعماری یلغار, 93, 94

استعماریت, 24, 305

استنبول(Istanbul), 60

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ(امریکہ), 232

اسرارِخودی(علامہ محمد اقبال) , 283, 284

اسرائیل(Israel), 51, 67, 72, 109, 179, 183, 184, 187, 201, 214

اسرائیلی صہیونی شرپسندوں, 175/اسرائیلی فوج, 67

اسلام آباد, 198, 202, 267

اسقاط حمل, 208

اسلام  کا نظریہ کائنات, 16/اسلام پر عجمی اثرات, 285/ اسلام کا تعزیری نظام, 262/اسلام کا حقیقی قلعہ, 56/اسلام کا سیاسی نظام, 146, 164/اسلام کا فوجداری قانون, 263/اسلام کی حکمت عملی, 19, 159/اسلام کا خاندانی نظام, 243, 251/ اسلام کے لفظی معانی, 146/اسلام کی دعوت, 43, 192/ اسلام  مغرب میں , 306

اسلامائزیشن, 34

اسلامک ٹیررزم (اسلامی دہشت گردی), 49, 50

 اسلامک چیمبر آف کامرس, 111

اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر, 238

اسلامی اجتماعیت, 248

اسلامی احکام, 171, 247, 268/اسلامی احیا, 20, 21, 23, 24, 25, 26, 54, 55/اسلامی آداب, 258/اسلامی اصلاحات, 30/اسلامی اصول حکمرانی, 153/اسلامی افکار, 23/اسلامی اقدار, 25, 31, 56, 197, 268/ اسلامی انقلاب, 46, 55, 280/اسلامی تاریخ, 99, 129, 157/اسلامی تحریک, 20, 31, 32, 50, 57/ اسلامی تحریکات, 23, 24, 55, 91, 92, 258/اسلامی ترقیاتی بینک, 111/اسلامی تعمیرنو, 292/اسلامی تمدن, 285/اسلامی تہذیب, VII, 48/ اسلامی تہذیب  و ثقافت, 248, 302/ اسلامی تہذیب  کا ارتقا, 293/اسلامی جمعیت طلبہ, 237/ اسلامی جمہوریت, 141, 169/اسلامی حکمت عملی, 14/ اسلامی دعوت, 54/اسلامی دفعات, 204/اسلامی دہشت گردی, 49/اسلامی دولت مشترکہ, 22/ اسلامی  روایت, 293 , 298

اسلامی ریاست, 15, 160, 161, 162, 164, 165, 168, 255, 291, 301

اسلامی زندگی, 21, 148, 265, 290/اسلامی سوسائٹی, 297

اسلامی سیاسی نظام, 138, 150, 151/اسلامی شریعت, 138, 200/اسلامی شناخت, 95/ اسلامی طرز حکومت, 138, 159/اسلامی طرز حیات, 147/اسلامی طرز زندگی, 255/اسلامی عالمیت, 20/اسلامی عقائد, 137, 293/اسلامی فقہ, 162/اسلامی فقہی مکاتب, 225/اسلامی فکر, 22, 135, 283, 292/اسلامی فلاحی ریاست, 202/اسلامی قانون, 155, 156, 199, 285, 287/اسلامی قومیت, 292/اسلامی قیادت, 56/اسلامی لہر, 37/اسلامی معاشرتی تبدیلی, 12/ اسلامی نشاۃِ   ثانیہ, 20, 21, 22, 23, 24, 140, 251/ اسلامی نظریاتی کونسل, 197, 198/ اسلامی ورثہ, 157

اسلامیات, 229, 297

اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر, 286

اشتراکی تصورات, 31

اشتراکی روس, 144

اشتراکیت, 48, 292

اشرافیہ, 24, 32, 34, 239

اصلاحِ ذات, 100

اصولِ حرکت, 289

اطلاقی  دائرہ, 99

اظہار رائے کی آزادی, 102, 141, 173, 181, 182, 187

اعتدال پسند مسلمانوں, 72

اعتقادی ارتداد, 201

افتخار احمد صدیقی، ڈاکٹر, 284

افریقہ(Africa), 20, 29, 66, 239

افریقی قومیں, 210/افریقی نژاد, 298

افسر برائے آگاہی اطلاعات(امریکہ), 64

افطار, 80, 299

افغانستان(Afghanistan), 46, 47, 48, 51, 53, 59, 60, 66, 75, 104, 177, 222

افغانستان کے خلاف جنگ کی ہدایات, 104

افکار, 44, 52, 136, 166, 196, 220, 229, 247, 283, 284, 286, 292

افلاس, 201, 208, 214, 269, 270, 272

اقامت دین, 21, 77, 279

اقبال(علامہ محمد) , VII, 57, 81, 94, 99, 120, 122, 132, 196, 211, 218, 220, 221, 244, 246, 281, 283, 284, 285, 286, 287, 288, 289, 290, 291, 292

اقبال اکادمی پاکستان, 288

اقتدار اعلیٰ کے نظریے, 140

اقتصادی جائزہ, 39

اقتصادی ناہمواری, 37

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ, 138

اقوام متحدہ, 60, 63, 68, 98, 107, 108, 176, 180, 184, 205, 208, 209, 250/  اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر/اقوام متحدہ کے چارٹر, 60, 107, 108/اقوام متحدہ کا شعبہ آبادی, 208

اکانومسٹ(Economist)،لندن, 48

اکبر الٰہ آبادی, 218, 288

اکبر، مغل بادشاہ, 130

اکیسویں صدی, 3, 6, 73, 94, 112, 135, 135, 145, 229/ ۲۰ ویں صدی, 46, 145

اٰل عمرٰن(سورۃ), 28, 85, 89, 100, 131, 189, 211

الاحزاب(سورۃ), 83, 188, 189, 202, 252

الاعراف(سورۃ), 79, 86, 126, 149, 250, 278

الانبياء(سورۃ), 264

الانعام(سورۃ), 81, 124, 214, 249, 262, 264

الانفال(سورۃ), 204, 88

البقرۃ(سورۃ), 79, 80, 86, 89, 99, 163, 205, 254, 264, 272, 274

التكوير(سورۃ), 213

التوبہ(سورۃ), 253, 273

الجاثیہ(سورۃ), 83

الحج(سورۃ), 190

الحجر(سورۃ), 131

الحجرات(سورۃ), 151, 252

الحشر(سورۃ), 277

الذاریات(سورۃ), 248

الرعد(سورۃ), 82

الروم(سورۃ), 124, 127, 249, 253

الزخرف(سورۃ), 263

السجدہ(سورۃ), 85, 90, 191

الشورٰی(سورۃ), 87, 88, 190, 211, 249

الصف(سورۃ), 126

الفاطر(سورۃ), 124

الفتح(سورۃ), 189

الفرقان(سورۃ), 79

العصر(سورۃ), 9

العنکبوت(سورۃ), 36, 280

الماعون(سورۃ), 16, 273

المائدہ(سورۃ), 86, 261

المدثر(سورۃ), 273

المعارج(سورۃ), 276

المومن(سورۃ), 81

المومنون(سورۃ), 190

النحل(سورۃ), 85, 86, 87, 89

النساء(سورۃ), 152, 195, 249, 254, 262, 263, 275

النور(سورۃ), 150

التشريع الجنائی الاسلامی, 263

الجزیرہ(Al Jazeera)، ٹی وی, 109, 179, 183

الحاد, 220

الرحمانیہ, 29

الزبتھ لیاگن(Elizabeth Liagin), 208, 210

الفجر(رسالہ), 32

القاعدہ, 50, 53, 178

اللہ کا قانون, 125

المعارفہ(رسالہ), 32

الہامی اصول, 25/الہامی ضابطہ حیات, 18/الہامی ہدایت, V, VI, 141, 248, 250, 256

الوہی انتظام, 11

الیکسس کاریل (Alexis Carrel) ،فرانسیسی سائنسدان, 246

الیگزنڈرکنگ(Alexander King), 7

امام ابن تیمیہؒ, 50

امام رازی, 89

امام شافعیؒ, 263

امت وسط, 78, 79

امربالمعروف اور نہی عن المنکر, 100

امریکہ کی سپریم کورٹ, 182

امریکہ کی عالمی حکمت عملی, 234

امریکی آئین, 304/امریکی اسلام, 227, 303/امریکی ایوان نمائندگان, 232/امریکی پالیسی, 62, 223, 233/امریکی جارحیت, 305/ امریکی جمہوریت, 65/ امریکی جنگی عزائم, 61, 109/امریکی حکمت عملی, 50, 222/امریکی حکومت, 174, 191/ امریکی حکومت  کے عالمی ایجنڈے, VII/امریکی دستور, 63, 108, 176, 180, 181, 184/امریکی ڈرون حملے, 38/امریکی رائے عامہ, 183/امریکی ریاست, 191/امریکی سامراج, 231/ امریکی سفارت کار, 193/امریکی سینیٹرز, 232/امریکی صدر, 49, 62, 63, 64, 180/امریکی عوام, 97, 183/ امریکی فوج, 104/امریکی فوجی قوت, 98/ امریکی قوم, 52/ امریکی قیادت, 62, 70, 73, 176, 221 / امریکی کانگریس, 65, 232/ امریکی مسلمان, 295, 298/ امریکی میڈیا, 109/ امریکی نظریاتی جنگ, 69

امن اور سلامتی, 55

امن فوج, 75

امیرشکیب ارسلان, 94

انبیاؑ کا طریقہ, 128, 125

انتہاپسند اسلام, 227

انتہاپسندی, 59, 222, 230

انتھونی ار بلاسٹر(Anthony Arblaster), 145, 146

انٹرنیٹ, 38, 174

انجمن حقوق انسانی, 267

انجمن حمایت اسلام, 283

اندرا گاندھی, 208

اندلس (اسپین), 105

اندھی پرستش, 115

انڈونیشیا(Indonesia), 72, 104, 106, 187

انڈی پنڈنٹ(Independent)،نیوز پیپر, 184, 186

انڈیا, 51, 187

انسان دوستی, 5, 117

انسان کی جان کا تحفظ, 262

انسانی حقوق, 19, 65, 75, 102, 138, 141, 153, 156, 160, 164, 170, 206, 209, 225, 303, 305

انسانی تاریخ, 248, 261, 303/ انسانی تعلقات میں عدل, 16/ انسانی تہذیب, 7, 119, 251, 154/ انسانی ترقی, VII/انسانی حقوق کا یورپی کنونشن, 180/انسانی سماج, 253/انسانی فطرت, 36, 123, 256/انسانی فکر, 16, 19, 125/ انسانی مساوات, 3, 107, 141, 157, 160/ انسانی مفاد, 210

انسانیت کے ارتقا, V

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز, 70

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(IPS),, VI 293, 306

انفاق, 80, 157, 272, 274/انفاق فی سبیل اللہ, 80

انقلاب پسند, 23

انقلاب یاسمین, 27, 28, 33, 39

انقلابی بنیاد پرست, 228

انگٹ میسن (Inget Mason), 297

انور رضا، مسز, 199

اہل کفر, 84/اہل کلیسا, 221/اہل مغرب, 21, 24

او آئی سی, 111

اوباما(Barack Obama) ،صدر, 178

اوسوالڈ سپنگلر(Oswald Spengler), 5

اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس, 144, 155, 157, 158

اولاد آدم, 151

اولاد کا قتل, 214

اے اقوام شرق(علامہ اقبال), 284, 292

ای ایچ کیر(E.H. Carr), 144, 145

اے ایچ نیّر (A.H. Nayyar), 234

ایڈمرل جان پوائن ڈیکسٹر(John Poindexter), 65

ایٹم بم, 177/ایٹمی حملہ, 63, 217

ایجادات کی غلامی, 120

ایچ اے آرگب(H.A.R. Gibb), 166

ایڈورڈ پی ڈجرجن(Edward P. Djerejan), 232

ایڈولف ہٹلر(Adolf Hitler), 69, 183, 207

ایران, 36, 46, 60, 65, 66, 104, 106, 303

ایران پر جوہری صلاحیت کے حصول کے الزامات, 75

ایرانی اسلام, 20, 303/ایرانی تہذیب, 116

ایرک بلیخ(Erik Bleich), 183

ایشیا کے ترقی پذیر ممالک, 239

ایف سی کالج لاہور, 239

ایک جماعتی نظام, 142

ایلیٹ کوہن(Eliot A. Cohen), 68

ایمان بالغیب, 114

ایمان باللہ, 263, 264

ایمانویل کانٹ(Immanuel Kant), 181

این جی اوز, 34, 47, 52, 65, 203, 206, 222, 227, 237, 239, 243, 244, 250

اینجلز(Friedrich Engels), 248

 ب

بابلی, 116, 161

بابو کلاس, 166

بادشاہت, 74, 139

بارات, 293

باسکٹ بال, 295

بال جبریل(علامہ اقبال) , 285

بالی(Bali) ،انڈونیشیا, 72

بانجھ, 211

بانگِ درا(علامہ اقبال) , 285, 289

بائبل(The Bible), 69

بتوں کی پوجا, 115, 257

بخاری شریف (صحیح), 255, 265, 277

بدعت, 124

براڈ کاسٹنگ, 185

بربر(افریقی قوم), 29

برٹرینڈ رسل(Bertrand Russell), 210

برٹرینڈ شینڈر (Bertrand Schneider), 7

برصغیر(ہند), 244

برصغیر کی ہندو تہذیب, 247

برطانوی استعمار, 76

برطانوی قانونی روایت, 258

برطانیہ, 51, 61, 238, 304

برعظیم پاک و ہند, 286, 297

برقی قوت, 120

برگسان(Henri Bergson), 122

برلن(Berlin)،دیوار , 20, 60, 66, 48

برنک لِنڈسے(Brink Lindsey), 72

بڑی ساختوں (Superstructures), 10

بش،جارج ڈبلیو،صدر (George W. Bush),51, 60, 68, 69, 72, 104, 109, 177, 222, 228

بعث پارٹی, 20/بغداد, 302/بگرام(افغانستان), 177

بلور،غلام احمد, 174

بلی گراہم (Billy Graham), 69

بینک کاری نظام, 270

بنگلہ دیش, 32, 235

بنی آدم, 214

بنی اسرائیل, 80, 82, 89, 274

بنی نوع انسان, 8, 9, 146, 147

بنیاد پرست, 23, 56, 223, 224, 226, 227, 233

بنیاد پرستی, 21, 67, 72, 73, 135, 222, 231

بنیادی حقوق, 31, 167, 176, 206

بھارت, 67, 106, 109, 208/بھارت سے دوستی, 236

 بھارتیہ جنتا پارٹی, 67

بورژوا جمہوریت, 145

بوسنیا(Bosnia), 66

بے باپ گھرانے, 246

بے روزگاری, 37, 39, 267, 269, 270

بیت المال, 277

بیعت عقبہ ثانی, 154

بین الاقوامی ایجنسیوں, 243, 244/ بین الاقوامی برادری, 25/ بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں , 52/ بین الاقوامی دہشت گردی, 136/ بین الاقوامی عدالتی کمیشن, 53/ بین الاقوامی قانون, 60, 108/ بین الاقوامی قانون کی پاس داری, 110

بین المذاہب مکالمہ, 305

 بین الاقوامی میڈیا, 243/ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا, 38, 233

بیوروکریسی(Bureaucracy), 34

 پ

پاپائیت, 152

پادری, 140, 161, 177, 296

پادریوں کی حکمرانی, 140

پارلیمنٹیرینز کی تربیت, 52

پاکستان اکنامک سروے, 39

پاک امریکہ تعاون, VI

پاکستان کی نظریاتی اساس, VI

پاکستان کے تعلیمی حالات, 235

پاکستان کے جوہری وسائل, 75

پاکستانی اسلام, 20, 303/پاکستانی سیاستدان, 174/ پاکستانی قیادت, 111/پاکستانی مدارس, 233/پاکستانی معاشرہ, 278/پاکستانی نژاد, 298

پال اہرلش(Paul Ehrlich), 212

پال ولفووٹز(Paul Wolfowitz), 70

پالیسی ایکسچینج‘, 304

پالیسی پرسپیکٹوز(Policy Perspectives), 293

پٹرم سورو کن (Pitirim Alexandrovich Sorokin)  , 5

پرائمری تعلیم, 235

پرتگال(Portugal), 26

پرستش, 39, 115

پرنسٹن  یونیورسٹی پریس, 213, 168

پروفیسر حمیداحمد خاں, 288

پروفیسر خورشید احمد, VIII, VI, 287

پروفیسر رفیعالدین ہاشمی, 284

پروفیسر محمد منور, 284

پروفیسر محمدسلیم, 291

پروفیسر ہائک(Friedrich August Von Hayek), 213

پروفیسر ولفرڈ کینٹ ویل سمتھ(Wilfred Cantwell Smith) , 166, 168

پروفیسرجولین سائمن(Julian Simon), 212, 213

پرولتاری جمہوریت, 140

پریس کی آزادی, 181

پریسبی ٹیرین چرچ(Presbyterian Church), 239, 240

پسند کی شادی, VII, 243

پشاور, 267

پشتو, 65

پنجاب کے گورنر, 240

پنجۂ یہود, 109

پہلا عالمگیر انقلاب, 7

پہلی جنگ عظیم, 66

پورٹوریکو (Puerto Rico), 108

پولیس اسٹیٹ, 31, 36, 37

پیامِ مشرق(علامہ اقبال), 285

پیٹ رابرٹسن(Pat Robertson)   , 69

پیٹرپرسٹن(Peter Preston), 61

پیدائش میں وقفہ, 209

پیش بندی کے طور پر حملہ, 53, 60

پیغمبرانہ سنت, 128

پینٹاگون(Pentagon), 54

پیوٹن (Vladimir Putin) ، صدر, 68

 ت

تارکینِ وطن, 108, 227

تاریخ اسلام, 302 /تاریخ مسلمانوں کی, 266

تاریخ انسانی کے ۲۰ اہم موڑ, 48

تاریخ عرب, 266

تاریخ کا مطالعہ, 5, 78

تاریخی اَحیا, 289/تاریخی رومانویت, 21

تبدیلی کے لیے اسلامی اپروچ, 12

تبلیغی جماعت, 31/تبلیغی سرگرمیوں, 93

تجارت, 103

تجدّد, 129, 130

تجدید, 129, 130, 157, 250, 283, 292

تحدید نسل, 205, 206, 207, 211

تحریف, 130

تحریک پاکستان, 196

تحریک تحدید نسل, 212

تحفظ کی حکمت عملی, 93

تخلیق آدم, 13

تخلیقی اجتہاد, 287

تخلیقی حادثے, 289

ترجمان القرآن(لاہور), 232

ترقی اور جدیدیت, 30

ترقی پذیر اقوام, 143/ترقی پذیر ممالک, 210, 239

ترقی کی حدود, 8

ترقیاتی مصارف, 270

ترکِ آرزو, 288

ترکِ دنیا, 288

ترکِ عمل, 288

ترکی(Turkey), 61, 71, 92, 104, 111/تر کی اسلام, 20/ ترکی زبان, 139/ ترکی ،جدید, 70

ترمذی(امام), 87

تزویراتی اصلاحات/تزویراتی اور ادارتی دائرے, 99, 102

تسبیح, 159, 189

تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ(علامہ محمد اقبال), 122, 285

تصوف, 29, 220, 228, 285, 288/تصوف پر یونانی اور عجمی اثرات, 284

تعدّدِ ازدواج, 31

تعلیم وٹیکنالوجی, 102

تعلیمی پالیسی کے فریم ورک, 241

تعلیمی ترقی, 100/ تعلیمی نظام, 217, 218, 221, 222, 234

تعلیمی نصاب, 233, 234

تغیر زمانہ, 118

تفہیمالقرآن(ابوالاعلیٰ مودودی), 255

تقویٰ, 148, 151, 155, 252

تکافل, 248, 271/تکافل اجتماعی, 271

تکثیر, 101, 163, 170

تکنیکی ترقی, 24

تناسل, 249

تھامس فریڈمین(Thomas Friedman), 71

تھامس کیرو تھرز(Thomas Carothers), 143

تہذیب اسلامی کا احیاء, 283

تہذیب انسانی, 116

 تہذیب  روبہ زوال, 247

تہذیب کا بحران, VII, 1, 3, 5, 9

 تہذیب کا عروج, 6

تہذیب نو کی یلغار, 259/ تہذیبی یلغار, 44, 45, 70, 239

تہذیب و تمدن, 4, 30, 45, 154, 221, 250

تہذیب و ثقافت, 21, 24, 30, 244, 247, 301

تہذیب یافتہ جمہوری اسلام, 224

تہذیبوں کا تصادم, 136, 144, 176, 178

تہذیبوں کے درمیان مسابقت, 45

تہذیبی اختلافات, 101

تہذیبی بنیادیں, 135

 تہذیبی تسلط, 197

تہذیبی تصادم, 49, 57

تہذیبی جال, 32

تہذیبی حقوق, 184

 تہذیبی روایت, 70, 244

تہذیبی زوال, 73

 تہذیبی شناخت, 133, 217, 268

تہذیبی غلامی, 92, 292

تہذیبی فریم ورک, 202

تہذیبی کشمکش, VII, VIII, 27, 43, 44, 45, 113

 تہذیبی مباحث, 173

تہذیبی مشن, 99

تہذیبی مکالمے, 54

تھنک ٹینکس(Think Tanks), 47, 48

توحيد, 16, 148, 266

توسیع پسندانہ عزائم, 25

تولیدی حقوق, 207/تولیدی نظام, 207

توہین رسالتؐ, VII, 173, 174

تیجانیہ, 29

تیسری دنیا, 137, 143, 201, 208

تیل کے چشمے, 61/تیل کے ذخائر, 51

تیونس, 1, 27, 28, 29, 30, 32, 33, 35, 36, 37, 38, 39

ٹ

ٹریڈ ٹاور, 54

ٹموتھی ایش(Timothy Garton Ash)  , 66

ٹیری جونز(Terry Jones), 177

ٹیکنالوجی, 3, 4, 22, 102, 105, 111

ٹیلیویژن, 185

 ث

ثقافت, 10, 21, 54, 103, 137, 166, 170, 229, 257, 258, 305

ثقافتی استعمار, 208, 247/ثقافتی تبدیلی, 14

ثقافتی کثرت, 163/ثقافتی نظام, 221/ثقافتی یلغار, 97, 218

 ج

جا ہلیت, 43/ جاہلی افکار, 257

جاپان(Japan), 104

جارج کنکلن(G.H. Conklin), 266

جامعہ الزیتونیہ, 29

جامعہ تیونس, 31

جان ایل اسپوزیٹو(John Louis Esposito), 155, 156, 157, 158, 169

جان مل (John Stuart Mill), 5

جان وول(John O. Voll), 155, 157, 158, 169

جبر کا نکاح, 206

جبریہ نس بندی, 208

جبلت, 290

جدید تعلیمی نظام, 221

جدید صنعتی معاشرے, 7

جدید مغرب کی اقدار, 74/جدید مغربی تہذیب, 117

جدیدیت, 25, 33, 223, 224, 225, 226, 227, 229, 230/جدیدیت پسندوں, 224, 225, 229, 230

جرمن(German), 181, 213

جرمن اسلام, 227

جرمنی, 61, 109, 183

جریده فارن افیئرز, 143

جسارت(روزنامہ), 69, 92, 267

جماعۃ الاسلامیہ, 31

جماعت اسلامی پاکستان, 50, 55

جماعتی نظام کی سیاست, 142

جمال الدین افغانی, 94

جمال ناصر, 130

جمہوری اسلام, 228/جمہوری انقلاب،, 143/ جمہوری فکر، مغرب کی،,137/جمہوری نظام, 70, 102, 142, 143, 167

جمہوریت کا فروغ, 65/جمہوریت کا ارتقا, 303/ جمہوریت کے تصورات, 135/ جمہوریت کی روح, 167/جمہوریت کی فلسفیانہ بنیاد, 137/ جمہوریت مغربی تناظر میں, 139

جمی کارٹر(Jimmy Carter), 62

جنرل پرویز مشرف, 38, 195, 202, 203, 204, 233, 234

جنرل ضیاء الحق, 203

جنرل گوئبلز(Joseph Goebbels), 207

جنسی بےراہروی, 201/جنسی تعلیم, 207/جنسی زندگی, 207/جنسی شعور, 207

جنگ عظیم ،دوسری, 104, 108, 111, 217

جنگ(روزنامہ), 178, 267

جنوب مشرقی ایشیا, 76

جنوبی امریکہ, 108

جنوبی ایشیا, 235, 293

جنوبی ایشیائی لباس, 298

جنوبی کوریا(South Korea), 61, 107

جنیوا(Geneva), 237

جہاد, 46, 55, 72, 76, 80, 152, 196, 204, 222, 259, 280

جہادکشمیر, 236

جہادی قوتوں, 219

جہنم, 262, 270, 271, 274

جوائنٹ فورسز اسٹاف کالج, 177

جوزف اے کامیلیری(Joseph A. Camilleri), 6

جے اے ایس گرن ویل(J.A.S. Grenville), 208

جیری فال ویل(Jerry Falwell Sr.), 69

جیف سپیرو(Jeff Sparrow), 179

جیفرسن(Thomas Jefferson), 181

جیمز پسکا ٹوری(James Piscatori), 169

جیمز روزلنگٹن(James Roslington), 179

 چ

چارلی  ہیبڈو(Charlie Hebdo), 177

چرچ, 239, 300

چیریل بینارڈ(Cheryl Benard), 223

چن زیب, 267

چنگیزیت, 291

چین(China), 35, 48, 51, 59, 109, 208, 219

چینی, 62, 116, 208, 232

 ح

حاکمیت, 63, 141, 251, 252, 254

حامدمیر, 178

حبیب بورقیبہ, 30, 35

حج, 244, 268

حجاب, 30, 304/ نقاب, 205, 230, 304

حدود, 17, 18, 80, 87, 101, 125, 129, 166, 173, 174, 175, 185, 186, 188, 202, 268, 294, 302

حرام, 120, 214/حرام موت, 263, 278

حزب النہضہ, 31

حسن البنا, 95

حضرت آدم علیہ السلام, V, 43

حضرت ابراہیم ؑ, 127

حضرت ابوبکرؓ, 128

حضرت شعیبؑ, 127

حضرت صالح ؑ, 127

حضرت علیؓ, 276

حضرت عمر فاروق ؓ, 277

حضرت لوط ؑ, 127

حضرت نوحؑ, 126

حضرت ہودؑ, 127

حضرت محمدﷺ(رحمت للعالمین) , V, 15, 17, 24, 68, 69, 77, 79, 80, 82, 93, 95, 98, 123, 124, 127, 147, 179, 188, 189, 191, 201, 250, 262, 265

حفظ ماتقدم ،حملے, 222

حقوق  اللہ, 271

حقوق العباد, 16, 262, 271, 272

حقیقی اسلامی معاشرہ, 247

حکمت بالغہ, 90

حکمرانوں کا احتساب, 138, 155

حکومتوں کی تبدیلی, 222

حلال, 120, 210

حمل, 198, 199, 200

حنفی مسلک, 29/حنفیت, 95

حواری بومدیان(Houari Boumediene), 30

حیات طیبہ, 147, 269/ سیرت پاکؐ, 77, 101/سیرت خیرالانامؐ, 84

حیدر آباد, 267

حیران خٹک, 284

 خ

خالدرحمٰن, VIII, VI

خالد علوی ،ڈاکٹر, 284

خالق سماوات والارض, 78/خالق کائنات, 249, 289

خاندانی نظام, 206, 245, 246, 248, 250, 251, 254, 256/خاندانی نظام کی زبوں حالی, 246

خاندانی منصوبہ بندی, VII, 133, 195, 197, 199, 201, 203, 204, 205, 206, 211

خانقاہ, 31, 93

خانگی انتشار, 142

خدائی حکومت, 161

خشیۃ املاق(مفلسی کا ڈر), 200

خطرات سے محفوظ زچگی, 212

خلافت, 17, 138, 149, 150, 277, 291

خلافتِ الٰہی, 284, 289, 291

خلافت راشدہ, 165, 277

خلائی راکٹ, 120

خلفائے راشدین, 154, 155, 156

خلیفۃ الله, 16, 99/خلیفہ فیالارض (Vicegerent), 11/ خلیفہ، زمین کا, 264

خواتین کے حقوق کی تحریکِ  احیا, 145

خواص کی حکومت, 139

خود دفاعی, 63

خودانحصاری, 25, 102, 103, 105, 110, 270/ خود کفالت, 304

خودسوزی, 28, 267, 268, 269

خودکشی, VII, 93, 133, 181, 261, 262, 263, 265, 266, 267, 268, 269, 276, 278

خودمختاری کا خواب, 105

خودی, 115, 171, 219, 221, 284, 289, 290, 291, 292

خیراتی ادارے, 228

 د

دار الامن, 295/دار الحرب, 295/دار العہد, 295/ دارالاسلام, 295/دارالدعوۃ, 295/دارالصلح, 295

دارخائم(Émile Durkheim), 248

داعی الی الخیر, 97

درسی کتب, 226

دری, 65

دریائے فرات, 277

دستور پارٹی, 30

دشمنی کے آداب, 79

دعوتِ اسلام, 295

دعوت الی اللہ, 100

دہشت گرد, 23, 51, 56, 64, 67, 69, 73, 178, 224, 230, 231, 233

دہشت گردی, VI, VIII, 37, 38, 39, 49, 50, 55, 56, 59, 69, 73, 74, 107, 108, 217, 222, 228

دہشت گردی کے خلاف جنگ, VI, 39, 59, 222

دہلی(Dehli), 302

دھوکا دہی, 120

دورِ آخرت, 119

دور غلامی کے اثرات, 257

دولت عثمانیہ, 105

دی ایشین ایج (The Asian Age), 73

دی گارجین،ہفتہ روزہ(The Guardian) , 32, 60, 61, 65, 66, 67, 179

دین اسلام, 17, 148, 292

دینی تعلیم, 70, 222, 295

 ڈ

ڈبلیو بی گیلی(W. B. Gallie), 137

ڈبلیو منٹگمری واٹ(W. Montgomery Watt), 175

ڈنمارک(Denmark), 179, 183

ڈی گال(Charles de Gaulle), 111

ڈیل ایکل مین(Dale Eickelman), 169

ڈینش رسالے, 177

ڈینش کارٹون, 184

ڈینیل پائیس(Daniel Paice), 47

ڈیوڈ ارونگ(David Irving), 187

  ذ

ذرائع ابلاغ کےاثرات, 9/ عوامی ذرائع ابلاغ, 226, 227

ذہنی غلامی, 32, 219

ذوالفقارعلی بھٹو, 240

 ر

رابرٹ اکلیشل(Robert Eccleshall), 141

رابرٹ فسک(Robert Fisk), 184

رامی جی خوری(Rami G. Khouri), 36

راولپنڈی, 267

ربی(Rabbi), 184

رجعت پسندی, 21

رچرڈ  ہوگلینڈ(Richard Eugene Hoagland), 178

رچرڈ جے(Richard Jay), 140, 141

رحم مادر, 211

ردِ جارحیت, 63

رُشدی(سلمان), 179

رمزفیلڈ (Donald Rumsfeld), 222

رموزِ بے خودی(علامہ اقبال), 284

رہبانیت, 291

رواداری, 73, 77, 78, 80, 163

رواداری اور اخوت, 101

روایتی جنگ, 63

روجر سکروٹن(Roger Scruton), 74

روجر گارودی(Roger Garaudy), 187

روحِ قانون, 78

روحانیت, 13, 23

روزگار, 29, 270, 293, 306

روزہ, 31, 80, 187, 244, 252, 271

روس(Russia), 20, 46, 47, 48, 51, 61, 67, 109

روس کی  فوج کشی, 46

روشن خیال اسلام, 229/روشن خیال نظام, 304/روشن خیالی, 33

روم(Rome), 116, 251

رومی تہذیب, 116

ریاست کا کردار, 304

ریڈیو, 226, 300

رینڈ(RAND) کارپوریشن, 49, 223

ریگن، صدر (Ronald Reagan), 65

 ز

زبان و ادب, 166

زرداری، آصف علی, 38

زرعی زمین, 270

زکوٰة, 90, 128, 157, 253, 271, 272

زلمے خلیل زاد, 223

زمانے کی سنت, 129

زمین کی طنابیں, 120

زندگی کی بنیادی اقدار, 135

زین العابدین بن علی, 28, 30, 32, 35, 36

 س

سارتوری(Giovanni Sartori), 143

سام بیسائل(Sam Becile), 177, 178

سامراج, 30, 32, 52, 166, 170, 239

سامراجی ایجنڈے, 30/سامراجی طاقت, 52/ سامراجی غلبے, 165/ سامراجی کھیل, 22/ سامراجی منصوبوں, 22/سامراجی نظام, 59, 103, 166/ سامراجی یلغار, 61, 237

سان فرانسسکو (San Francisco), 109

سائنس, 3, 29, 207, 285, 290, 300

سبزخطرہ, 47

سپرپاور, 47

سپریم کورٹ, 259

سِدِّجارحیت, 110

سرخ خطرہ, 47

سرد جنگ, 46, 47, 48, 66, 135

سرمایہ دار طبقہ, 145

سرمایہ داری, 37, 292, 305

سرمائے کی تخلیق, 111

سری لنکا, 235

سعودی اسکول, 227/سعودی بادشاہت, 74/ سعودی حکمران, 73/ سعودی عرب, 66, 67, 107/ سعودی قیادت, 73/ سعودی مذہبی انتظامیہ, 227/ سعودی وزیرداخلہ, 73/سعودی ولی عہد, 71

سعیدنورسی, 95

سفارت کاری, 98

سفید فام امریکی, 298

سفید فام نسل, 22

سلامتی کونسل(Security Council), 68, 203

سلطنت عثمانیہ, 156/ سلطان ابراہیم, 157/سلطان احمد, 157/سلطان سلیم, 157/سلطان محمود, 157

سماجی امراض, 7/سماجی تحفظ, 157/سماجی تعلقات, 8/ سماجی ذمہ داری, 160, 164

سمرقند(Samarkand), 302

سنت موکدہ, 55, 251

سندھ, 267

سنڈے اسکول, 297/ سیٹرڈے اسکول, 297/ ہفتہ وار اسکول, 297

سنسر شپ, 174

سوپر پاور(Super Power), 46, 107, 205

سُود, 120

سوشل سیکورٹی, 256

سوشلزم, 20, 171

سوشلسٹ, 20, 25/سوشلسٹ عرب, 20

سول سوسائٹی, 76, 191, 225, 227

سوویت یونین(Soviet Union), 20, 144

سوئٹزرلینڈ(Switzerland), 237

سی این این(CNN), 300

سی آئی اے(Central Intelligence Agency), 51, 64

سی بی میک فرسن(C.B. Macpherson), 144

سیاسی آزادی, 31, 94

سیاسی اقتدار, 15, 140, 145, 153, 291

 سیاسی اور تہذیبی نقشہ, 48

 سیاسی اور معاشی طاقت, 17

 سیاسی تبدیلی, 32

 سیاسی حد رسائی, 226

 سیاسی حکمت عملی, 98

سیاسی قتل, 213

 سیاسی محکومی, 32, 187

 سیاسی منظر نامے, 23

مسلمانوں کے سیاسی بحران, 238

سیٹلائٹ(Setellite), 109

سید ابوالحسن علی ندوی, 287

سید سلیمان ندوی, 288

سید عبداللہ, 286

سید علی گیلانی, 284

سید قطب, 50

سید نذیر نیازی, 122

سیدی بوزید, 28

سیرۃ ابن ہشام, 128

سیکولر اشرافیہ, 21/ سیکولر تہذیب, 31/ سیکولر لیڈرشپ, 236/سیکولر ملک, 71/سیکولر نظریات, 197/ سیکولر یلغار, 31

سیکولرازم(Secularism), 33, 37, 71, 93, 162, 163, 167, 171

سیکولرسٹ, 56

سیماس ملن (Seamus Mullan), 179

سیموئیل پی ہن ٹنگٹن (Samuel P. Huntington), 47, 136

سیول، کوریا(Seoul, Korea), 60

 ش

شادی, 198, 199, 206, 244, 245, 259, 267, 293, 296, 298

شام(Syria), 20, 32, 104, 131, 189

شاہ فیصل, 228

شراب, 31, 120

شرح پیدائش, 210

شرف آدمیت, 206/شرف انسانی, 206

شرق اوسط, 61, 66, 67, 74, 179

شريعت الہٰی, 254/شریعت کی بالادستی, 149, 156/ شریعت کا قانون, 30/ شریعت کے مقاصد, 247/ شریعت کا نفاذ, 236

شعبہ آگاہی اطلاعات(امریکہ), 64

شکاگو(Chicago), 166

شمالی امریکہ, 297/شمالی عربوں, 105/شمالی کوریا, 60, 107

شمالی یورپ, 144

شمباسی(Chambesy), 237

شہوت, 251

شہید, 38, 87, 95

شورائی ادارہ, 255/شورائی ریاست, 255/ شورائی معاشرہ , 255/ شورائی نظام, 155

شیخ راشد الغنوشی, 31, 32

شیخ عطامحمد, 288

شیشان, 67

شیطان, 218, 274

شیطانی فلم, 178

 ص

صابر کلوروی ،ڈاکٹر, 288

صاحب دعوت اُمت, 97

صائمہ وحید لو میرج کیس, 259

صحابہ ؓ                                                     کبار, 128

صدائے ہوش, 37

صدقات, 157, 256

صلہ رحمی, 80, 253, 254, 256

صلیبی جنگ, 178, 231/صلیبی قیادت, 219

صنعتی انقلاب, 251/صنعتی پیداوار, 7/صنعتی ترقی, 120

صیہونی(Zionist), 178/صیہونی حملے, 175/  صیہونی لابی, 184/ صیہونیوں, 183

صوفی ازم, 230/صوفی اسلام, 228

 ض

ضبط تولید, 199, 200, 201

ضبط ولادت, 197, 207, 208

ضربِ کلیم(علامہ اقبال), 218, 285, 292

 ط

طاغوت, 80, 81

طاغوتی طاقت, V

طاقت کا توازن, 63

طاقت ور فوجی  قوتیں, 210

طالبان, 53

طبقاتی کشیدگی, 142

طبقہ امراء, 139

طبی اور غذائی مراکز, 299

طلاق, 198, 246

 ظ

ظفر(بہادر شاہ), 236, 265

ظفر اللہ جمالی, 236

ظلم و استحصال, 269

ظہور اسلام, 303

 ع

عالم اسلام, 51, 67, 68, 74, 167, 171, 174, 222

عالمِ افلاک, 284

عالم عرب, 33, 67

عالم گیر انقلاب, 7, 8/عالم گیر بحران, 6/عالم گیر برادری, 159

عالم گیریت(Globalization), 34, 52, 103, 136, 221, 293, 305

عالمی ادارے, 205/عالمی استعماری جنگ, 108/ عالمی استعماری نظام, 197/عالمی اقدار, 69/عالمی امن, 223/عالمی ایجنسیاں, 207/عالمی بالادستی, 210/ عالمی برادری, 223, 224, 237/ عالمی بینک, 195/ عالمی جنگ, 104/ عالمی رائے, 60, 62, 63/ عالمی سلامتی, 60, 63/عالمی شہر, 138/عالمی صلح و جنگ کا نظام, 63/عالمی طاقتیں, 206/عالمی کانفرنس, 26/ عالمی مذاہب, 10, 14/عالمی معاشی قوت, 105/عالمی نظام, 3, 15, 16, 18, 19, 20, 63, 112/عالمی نظام کی اسلامی تشکیل, VII, 16/عالمی یوم آ بادی, 195

عائلی قانون, 31, 243, 244/عائلی نظام, 251, 253

عبد القادر عوده شہيد, 263

عبدالحمید ابن بادیس, 30

عبدالفتاح مورو, 31

عبدالناصر, 20

عثمانی دور, 29

عثمانیہ, 29

عجمی مآخذ, 288

عدل کی بالادستی, 138/عدل کی روش, 85

عدل و انصاف, 15, 85, 137, 254, 255

عدلیہ, 141, 142, 156, 166, 170, 185/ عدلیہ کی آزادی, 160

عراق(Iraq), 20, 51, 53, 60, 61, 66, 67, 103, 104, 109, 222, 305/عراق کی جنگ, 108

عرب اسلام, 20/عرب دنیا, 20, 65, 109, 232/ عرب صحافیوں, 227/عرب قوم پرستی, 20

عربی, 65, 82, 139, 303

عربی عبا, 298/عربی لباس, 298

عروسیہ, 29

عزل, 198, 200, 207

عسکری اسلام, 69/عسکری مزاحمت, 94

عسکریت پسند, 68

عشق رسولؐ, 193

عصمت, 207, 246, 253, 254, 256

عصمت و عفت کی تحقیروتذلیل, 246

عطیہ عنایت اللہ، ڈاکٹر, 199

عفوودرگزر, 85, 86, 89

عقائد کا احیا, 21

علاقائی مفادات, 13

علامہ ابن عربی مالکی, 89

علامہ قرطبی, 89

علم دین, 70

علمِ سیاسیات, 183

علمائے اسلام, 198

علوم اسلامیہ, 297

عمرانی ادب, 261

عمرانیات, 168

عمومی تباہی کے ہتھیار, 60, 63, 64, 75

عوام کا اقتدار, 140, 141/عوام کی حکمرانی, 140/عوام کی حکومت, 139/عوامی خودمختاری کا تصور, 137

عورتوں کی بیداری, 65/عورتوں کی مساوات, 236

عید کی نماز, 297

عیدالاضحیٰ, 299

عیسائی, 29, 69, 175, 237, 238, 239, 240/عیسائی آبادی, 238/عیسائی شدت پسند, 175/ عیسائی مشنری, 238, 239, 240/عیسائی یلغار, 29

 غ

غربت, 4, 6, 8, 9, 37, 39, 72, 264, 267, 269, 270, 272, 305

غریب ممالک, 4

غلام, 136, 155, 179, 181, 292/غلامی, 27, 33, 98, 103, 166, 187, 206, 207, 219, 220, 222, 239, 253, 288, 292

غیر ایٹمی ممالک, 63

غیرخونیں انقلاب, 35

غیرقانونی تارکینِوطن, 108

غیرمسلم معاشرہ, 293

 ف

فارسی, 65

فارن افیرز, 136, 144

فاشزم(Fascism), 163

فاطمی, 29

فاقہ کشی, 264

فتاویٰ, 198, 230

فجر, 297

فحاشی, 198

فرانس(France), 29, 32, 61, 109, 173, 174, 177, 187/فرانس کی تہذیب, 30/فرانس کے وزیر داخلہ, 35

فرانسیسی اخبار, 186/فرانسیسی جمہوریہ, 139/فرانسیسی زبان, 139/فرانسیسی سامراج, 30, 37

فرانسس فوکویا ما(Yoshihiro Francis Fukuyama), 47

فرائڈ (Sigmund Freud), 5

فرشتے, 27, 120, 124, 268, 280

فرعون, 161

فریڈ ٹی سا ئے(F.T. Sai), 209

فریڈرک ہیگل(Georg Wilhelm Friedrich Hegel), 118

فرینکلن گراہم(William Franklin Graham Jr.), 69

فسطائی قیادت, 34/فسطائی نظام, 34

فطرت کا قانون, 122, 125

فقہ, 29, 154/فقہ حنفیہ, 230

فکراسلامی کے احیاء, 283/فکرِاسلامی کی تشکیلِ نو, 283/ فکری انقلاب, 32

فلپ کے ہٹی(Philip K. Hiti), 266

فلسطین(Palestine), 54, 66, 71/فلسطینی ادارے, 187

فلسفۂ جدلیاتی تاریخ, 118

فلمر ایس سی نارتھ روپF.S.C. Northrop) ), 168

فن تعمیر, 166

فنون لطیفہ, 166

فنی ایجادات, 120

فوجکشی, 53, 75

فوجی بالادستی, 60, 98

فیس بک, 38, 187

فیصل آباد, 267

 ق

قادریہ, 29

قاضی محمد اقبال, 26

قانون کی بالادستی, 31/قانون کی حکمرانی, 34, 138, 141, 154, 156, 160, 162

قانونِ وراثت, 31

قبطی, 175

قدامت پر ست, 56/قدامت پسند, 224

قدرت کا قانون, 37, 263

قرآنِ کریم, V/قرآن کی تعلیم, 72

قرآن و سنت,V, 79, 125, 250

قرآن و سنت کی بالادستی, 154

قرآنی حکمت عملی, 77, 91

قرآنی منہج, 55

قربانی, 24, 52, 57, 92, 196, 244, 299

قرضوں کی لعنت, 37

قوانین طبیعیا ت, 246

قوم پرستی, 93, 166, 167, 231, 305

قوم سازی, 52

قومی پالیسی برائے آبادی, 202

قومی حاکمیت اعلیٰ, 63

قومی حکمت عملی کی دستاویزات, 62/قومی ریاست, 22, 305/قومی سلامتی کی دستاویزات, 63/قومی نفسیات  , 217/قومیدولت, 270

قیام عدل, 17, 19, 279

قیاماللیل, 80

 ک

کارل مارکس(Karl Marx), 5, 118, 248

کانگرس, 181

کائنات کے بنیادی قوانین, 123

کثیر جہتی حکمت عملی, 98

کراچی, 267

کرسٹیناروکا(Christina Rocca), 71

کرسچن مسلم مشاورت, 237

کرسچین سائنس مانیٹر(اخبار), 300

کشمیر, 54, 236/کشمیر کی جہادی تحریک, 54

کلب آف روم, 7

کلچر, 52, 233/کلچرل بالادستی, 210

کلنٹن (Bill Clinton) ، صدر, 109

کلیسا کا دور, 251

کمال ازم, 93

کمانڈو صدر, 104

کمیونزم(Communism), 135, 163

کنڈولیزا رائس (Condoleezza Rice), 222

کنگز لے ڈیوس(Kingsley Davis), 212

کوپن ہیگن(Copenhagen), 60

کورٹ  شپ, 259

کوسووو(Kosovo), 66

کولن پاول (Colin Powell), 222, 233

کونرڈ  ایڈنوئر (Konrad Adenauer), 111

کویت(Kuwait), 107

کوئٹہ, 267

کے نیومین(K. Newman), 209

کیتھولک مسیحی, 299

کیلی فورنیا(California), 175

کینتھ ایڈلمین(Kenneth L. Adelman), 68

کیمبرج (Cambridge)یونی ورسٹی, 179

کیوبا(Cuba), 108

 گ

گرجا گھروں, 296, 300

گروہی مفادات, 14, 279

گندھارا, 116

گوانتاناموبے(Guantanamo Bay), 177

گوجرانوالہ, 267

گوگل(Google), 186, 187

گیس کے ہتھیار, 63

 ل

لادین مادی ثقافت, 25

لادینی مغربیت, 25/لادینی نظام, 304

لادینیت, 13, 25, 31, 136, 170, 292, 305

لادینیت پسند, 225

لاس اینجلز(Los Angeles), 109

لاطینی امریکہ(Latin America), 20, 143

لاہور, 60, 107, 168, 259, 267, 283

لاہور ہائی کورٹ, 259

لباس کے شرعی ضابطے, 298

لبرل ازم(Liberalism), 25, 33, 52

لبرل پیروکار, 181

لبنان(Lebanon), 184, 306

لذت پرست کلچر, 179

لزبن(Lisbon), 26

لندن(London), 32, 60, 61, 66, 70, 137, 141, 145, 184, 186, 210

لونڈی, 275

لیبیا(Libya), 32, 174, 187

لیکود (Likud) پارٹی, 67

 م

ماحولیاتی ابتری, 9

مادی ترقی, 3, 4, 24, 25, 36, 95, 121, 257, 261

مادیت, 13, 25, 26, 292

ماڈرن اسلام, 75/ ماڈریٹ اسلام, 59, 69, 76, 91

ماڈرنسٹ, 56

مارشل پلان, 111

مارکیٹ اکانومی, 34, 37

مالکی مذہب, 29

مالیات, 70, 103, 239

مانع حمل, 198/مانع حمل ادویہ, 203

ماہ رمضان, 299

ماؤزے تنگ،صدر (Mao Zedong), 208

ماوردی(اسلامی اسکالر), 277

مایوں(رسم), 293

مبنی برعدل تصورِ حیات, 78

متجدّد  دین, 130

متناسب نمائندگی, 140

مجلس قانون ساز پنجاب, 283

محاصل کے نظام, 277

محمد احمد خاں, 291

محمد البوعزیزی, 28

محمد حمزہ فاروقی, 291

محمد عبدہ, 94

مخابرات, 32

مخلوط تہذیبی ماحول, 294

مد  ینہ, 302

مدارس, 29, 56, 236/مدرسہ, 31, 93/مدرسے کی تعلیم, 233

مدنی زندگی, 90

مدینہ, 94, 128, 154, 177

مذاہب کی تاریخ, 78

مذہبی احیا, 135, 136, 169/مذہبی آزادی, 74, 141/ مذہبی پولیس, 227/ مذہبی روایات, 21, 163, 204, 245/ مذہبی متوسلین, 162/ مذہبی مدارس, 72, 75

مراکز و مجالس دانش, 102, 300

مراکش, 32, 61

مرسی ،محمد (صدر مصر), 174

مریضانہ رویے, 7

مساوات و اخوت کا اسلامی تصور, 17

مستضعفین, 157

مستقل اقدار, 165

مسجد, 30, 31, 38, 57, 70, 93, 162, 219, 268, 295, 296, 297

مسجد قرطبہ, 57

مسلح پولیس فورس, 36

مسلک اعتدال, 78

مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن, 297

مسلم اقوام, 210/مسلم امّہ, 136, 138, 146, 159, 168, 170, 171/مسلم تصوف, 283/مسلم خاندان, 253/  مسلم دنیا, VII/مسلم روحانیت, 24/مسلم ریاست , 22, 23, 160, 169

مسلم سرمایہ, 111

مسلم سیاست, 156, 167, 169

مسلم علما, 155

مسلم عیسائی تعلقات, 238

مسلم قیادت, 101

مسلم لٹریچر, 139

 مسلم ممالک, 22, 23, 27, 33, 34, 51, 65, 72, 92, 96, 103, 105, 107, 109, 111, 170, 174, 192, 193, 218, 295

مسلم سجاد, 26

مسلمان امت, 46/مسلمان تارکین وطن, 297, 299/ مسلمان خواتین, 304/مسلمان عورت, 30, 100, 250/مسلمان ممالک, 64

مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر, 130/مسلمانوں کی تاریخ, 266/  مسلمانوں کی جہالت, 238/ مسلمانوں کی معصومیت, 174, 177

مسیحؑ, 68, 161, 305

مسیحی ادارے, 238/مسیحی مشنری خدمات, 238

مشاورت کا اصول, 255

مشائخ, 257

مشرقی یورپ, 20

مشنری ادارے, 175, 239, 240

مصر, 20, 32, 61, 174, 187, 222

مصطفی آباد, 267

مصطفیٰ کمال, 130

مطلق اقدار, 142

مطلق العنان حکومت, 160, 164/مطلق العنانی, 155

مظفر گڑھ, 267

معاشرتی تبدیلی, 11, 14/معاشرتی مسائل, 245/معاشرتی نظام, 19, 20/معاشرتی و ثقافتی علوم حرکیات, 5

معاشرے کی اصلاح, 100/معاشرے کی تعمیر نو, 19

معاشی استحصال, 25, 37/معاشی انصاف, 31/معاشی پالیسی, 14/معاشی ترقی, 8, 31, 33, 37, 70, 105, 133, 195, 200, 210, 215/معاشی ترقی کا کریش پروگرام, 111/معاشی تعبیرتاریخ, 118/معاشی چیلنج, 100/معاشی گرفت, 32/معاشی مفادات, 75/ معاشی نظام, 25, 38, 127/معاشی و عسکری منصوبہ بندی, 110

مغرب زدہ اشرافیہ, 169/مغرب کا زوال, 5/مغرب کا غلبہ, 74/مغرب کے اہل علم, 23/مغرب کی تہذیبی یلغار, 239/مغرب کی ثقافت, 167/مغرب کی جمہوری فکر, 137/مغرب کی فکری یلغار, 247/ مغرب کی لا دینی جمہوریت, 141

مغربی استعمار, 70

مغربی اسلام, 227

مغربی اقوام, 31, 32, 34, 35, 36, 37, 49, 93, 174, 177, 188, 193, 197, 210

مغربی اہلِ قلم, 175, 176

مغربی تہذیب, 22, 25, 45, 48, 58, 136, 285

مغربی تہذیب کی بالا دستی, 46

مغربی تہذیب کی سرخیل, VII

مغربی تہذیب و ثقافت, 22

 مغربی ٹیکنالوجی, 74

مغربی ثقافت کی نقالی, 259

مغربی جامعات, 237

مغربی جرمنی(West Germany), 66

 مغربی دنیا, 144, 146, 223, 293

مغربی سیکولر جمہوریت, 137, 138

مغربی صنعتی جمہوریتوں, 224

مغربی طاقتوں کی خارجہ پالیسی, 137

مغربی فلسفہ, 146

 مغربی لادینی اقدار, 24

 مغربی ممالک, 142, 143, 160, 251

مغربیت, 31, 37, 166, 170, 292

مقاصد ِ حیات, 121

مکالمے کی ضرورت, 89

مکہ, 15, 94, 177

مکی زندگی, 90

ملائکہ, 272

ملتِ اسلامیہ, 283, 290, 291/ملت اسلامیہ پاکستان, 239, 279

ملتان, 267

مِلز سمپسن(M.E. Simpson), 266

ملوکیت, 305

ممانعت حمل, 198

منافقین, 56, 126

منصفانہ سماجی و سیاسی نظام, 139

منصورہ, 55

منکرات, 120

منگنی, 296, 298

مہندی, 293

مودودی (مولانا سید ابوالاعلیٰ), 95, 255

موسیقی, 301

موطا امام مالک, 265

مولانا ابوالکلام آزاد, 287

مولانا جلال الدین رومیؒ, 284

میانہ روی, 80, 84

میثاقِ مدینہ, 94

میڈیکل سائنس, 121

میر جعفر, 247

میر صادق, 247

میزائل(Missile), 54, 120

میکیاولی(Niccolò Machiavelli), 228

میکسیکو(Mexico), 108

میلاد النبیﷺ, 268

 ن

ناروے(Norway), 177

ناصرازم, 72

ناگاساکی(Nagasaki), 217

ناموسِ رسولؐ, 188

نامیاتی (organic) ارتقا, 7

نان نفقہ, 256

نائن الیون(۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء) , 47, 48, 49, 53, 104, 176, 178, 217, 221, 299, 300/نائن الیون کمیشن, 49

نجکاری, 136, 239

نجم الدین اربکان, 111

نذیر حق, 135

نرم انقلاب, 66

نس بندی, 199, 208

نسب, 252

نسل انسانی, 8, 12, 15

نسل کشی, 210

نصابِ تعلیم, 233, 235

نظامِ تعلیم, 52, 56, 221, 233

نظام اقدار, 9, 74/ نظامِ حق, 291/نظام قومیت, 303

نظریاتی ریاست, 22/نظریاتی نسل کشی, 218

نظریۂ  توحید, 138/نظریہ پاکستان, 241

نظم ریاست, 138

نفسِ امارہ, 43/نفسِ مطمئنہ, 43

نفسیاتی جنگ, 219

نفی ذات کے فلسفے, 288

نقشہ جنگ, 47, 98, 104, 221

نکاح, 199, 206, 251, 253, 259, 293, 295

نکولا بیسلے نکولا(Nakoula Basseley Nakoula), 177

نکولائی بردائیف(Nikolai Berdyaev), 121

نماز, 16, 90, 244, 253, 271, 272, 273, 295, 296, 297/نمازِ جمعہ, 296, 297

نہرو(Nehru), 106

نو آبادیاتی حکمرانوں, 165/نو آبادیاتی دور, 23, 29, 24, 171/نوآبادکاروں, 238/نوآبادیاتی طاقتوں, 238

نوائے وقت, 71, 289

نوبل انعام, 62, 213, 246

نوسامراجی انتظام, 34

نومعتزلائی عقلیت, 290

نیا سیکورٹی نظام, 64

نیا عالمی نظام, 10, 12, 13, 19, 22

نیابتِ الہٰی, 290

نیال فرگوسن(Niall Furguson), 51

نیپال(Nepal), 235

نیٹو (NATO)کے سیکرٹری جنرل, 47

نیشنلزم, 166

نیوز ویک(Newsweek)،ہفت روزہ, 212

نیوزی لینڈ(New Zealand), 184

نیوکلیر استعداد, 240

نیویارک(New York), 54, 60, 109, 136, 155, 157, 158, 178, 186, 300

نیویارک ٹائمز, 72, 186, 300

نئے استعمار, 63, 98/نئی استعماریت, 136

نئے اقتصادی نظام, 10

نئی خلافت, 48

نئی عالم گیر سیاسی تنظیم, 10

و

واشنگٹن(Washington), 60, 104, 109, 208, 300

واشنگٹن پوسٹ, 104, 300

والدین سے بغاوت, 243

وجدان, 285, 290

وحی, V, 3, 12, 82, 138, 147, 148, 248, 250, 290

وراثت, 157, 167, 256

ورلڈ بینک, 208, 209, 210

ورلڈ کانگریسں آف چرچز, 237

وزیراعظم جونیجو, 203/وزیراعظم نواز شریف, 203

وسط ایشیا, 47, 74

وسطی امریکہ, 20

وفاقی شرعی عدالت, 259

وقف, 15, 157

ولایت, 256

ولسن (Woodrow Wilson), 67

ولی, 71, 82, 83, 85, 191, 245, 259

ولیم پاف(William Pfaff)  , 74

وہابی اسلام, 67/وہابی علما, 74/وہابی فتووں, 230/ وہابی فرقے, 74

ووٹ کا حق, 145

ویٹو(Veto) , 68

  ہ

ہارٹ فورڈ سیمزی(Hartford Seminary), 135, 297

ہارورڈ یونی ورسٹی پریس(Harvard University Press), 208

ہالینڈ(Holland), 177

ہائی جیکر, 53

ہبہ, 157

ہٹلر(Adolf Hitler), 183, 207

ہدایت الہٰی, 123

ہڑپا, 116

ہسپانیہ(Hispania), 29

ہشام مطار, 32

ہمالہ, 219

ہمہ جہتی یلغار, 47, 55

ہندو بنیاد پرستی, 67/ہندو مذہب, 251/ہندو معاشرہ, 293/ ہندو, 161

ہندوستان, 67

ہولوکاسٹ(Holocaust), 183, 184, 187

ہیرالڈ ٹریبیون (Herald Tribune), 36, 72, 74, 75, 76, 178

ہیروشیما (Hiroshima), 217

 ی

یاسرعرفات, 66

یتیم, 16, 273, 277

یمنی عرب, 105

یہودی مذہب, 184

یوٹیوب, 174, 178, 179, 186

یورپ(Europe), 29, 33, 46, 67, 106, 111, 140, 178, 179, 180, 183, 184, 186, 283, 294, 300, 302, 303

یورپ کی ترقی, 284

یورپی اقوام, 176, 178, 183/یورپی تاریخ, 303/یورپی یونین, 176

یوسف (سورۃ), 149

یونان(Greece), 108, 251

یونانی تہذیب, 116/یونانی زبان, 139

یونانیت زدہ, 116

یونس(سورۃ), 82, 123

یونیورسٹی آف میری لینڈ, 212

 



[1]           Islam in the West: Policy Perspectives Vol. 5. No.1. Jan. to June 2008 Published by IPS. Islamabad. Page 132

خاری شریف (صحیح), 255, 265, 277

بدعت, 124

براڈ کاسٹنگ, 185

بربر(افریقی قوم), 29

برٹرینڈ رسل(Bertrand Russell), 210

برٹرینڈ شینڈر (Bertrand Schneider), 7

برصغیر(ہند), 244

برصغیر کی ہندو تہذیب, 247

برطانوی استعمار, 76

برطانوی قانونی روایت, 258

برطانیہ, 51, 61, 238, 304

برعظیم پاک و ہند, 286, 297

برقی قوت, 120

برگسان(Henri Bergson), 122

برلن(Berlin)،دیوار , 20, 60, 66, 48

برنک لِنڈسے(Brink Lindsey), 72

بڑی ساختوں (Superstructures), 10

بش،جارج ڈبلیو،صدر (George W. Bush),51, 60, 68, 69, 72, 104, 109, 177, 222, 228

بعث پارٹی, 20/بغداد, 302/بگرام(افغانستان), 177

بلور،غلام احمد, 174

بلی گراہم (Billy Graham), 69

بینک کاری نظام, 270

بنگلہ دیش, 32, 235

بنی آدم, 214

بنی اسرائیل, 80, 82, 89, 274

بنی نوع انسان, 8, 9, 146, 147

بنیاد پرست, 23, 56, 223, 224, 226, 227, 233

بنیاد پرستی, 21, 67, 72, 73, 135, 222, 231

بنیادی حقوق, 31, 167, 176, 206

بھارت, 67, 106, 109, 208/بھارت سے دوستی, 236

 بھارتیہ جنتا پارٹی, 67

بورژوا جمہوریت, 145

بوسنیا(Bosnia), 66

بے باپ گھرانے, 246

بے روزگاری, 37, 39, 267, 269, 270

بیت المال, 277

بیعت عقبہ ثانی, 154

بین الاقوامی ایجنسیوں, 243, 244/ بین الاقوامی برادری, 25/ بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں , 52/ بین الاقوامی دہشت گردی, 136/ بین الاقوامی عدالتی کمیشن, 53/ بین الاقوامی قانون, 60, 108/ بین الاقوامی قانون کی پاس داری, 110

بین المذاہب مکالمہ, 305

 بین الاقوامی میڈیا, 243/ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا, 38, 233

بیوروکریسی(Bureaucracy), 34

 پ

پاپائیت, 152

پادری, 140, 161, 177, 296

پادریوں کی حکمرانی, 140

پارلیمنٹیرینز کی تربیت, 52

پاکستان اکنامک سروے, 39

پاک امریکہ تعاون, VI

پاکستان کی نظریاتی اساس, VI

پاکستان کے تعلیمی حالات, 235

پاکستان کے جوہری وسائل, 75

پاکستانی اسلام, 20, 303/پاکستانی سیاستدان, 174/ پاکستانی قیادت, 111/پاکستانی مدارس, 233/پاکستانی معاشرہ, 278/پاکستانی نژاد, 298

پال اہرلش(Paul Ehrlich), 212

پال ولفووٹز(Paul Wolfowitz), 70

پالیسی ایکسچینج‘, 304

پالیسی پرسپیکٹوز(Policy Perspectives), 293

پٹرم سورو کن (Pitirim Alexandrovich Sorokin)  , 5

پرائمری تعلیم, 235

پرتگال(Portugal), 26

پرستش, 39, 115

پرنسٹن  یونیورسٹی پریس, 213, 168

پروفیسر حمیداحمد خاں, 288

پروفیسر خورشید احمد, VIII, VI, 287

پروفیسر رفیعالدین ہاشمی, 284

پروفیسر محمد منور, 284

پروفیسر محمدسلیم, 291

پروفیسر ہائک(Friedrich August Von Hayek), 213

پروفیسر ولفرڈ کینٹ ویل سمتھ(Wilfred Cantwell Smith) , 166, 168

پروفیسرجولین سائمن(Julian Simon), 212, 213

پرولتاری جمہوریت, 140

پریس کی آزادی, 181

پریسبی ٹیرین چرچ(Presbyterian Church), 239, 240

پسند کی شادی, VII, 243

پشاور, 267

پشتو, 65

پنجاب کے گورنر, 240

پنجۂ یہود, 109

پہلا عالمگیر انقلاب, 7

پہلی جنگ عظیم, 66

پورٹوریکو (Puerto Rico), 108

پولیس اسٹیٹ, 31, 36, 37

پیامِ مشرق(علامہ اقبال), 285

پیٹ رابرٹسن(Pat Robertson)   , 69

پیٹرپرسٹن(Peter Preston), 61

پیدائش میں وقفہ, 209

پیش بندی کے طور پر حملہ, 53, 60

پیغمبرانہ سنت, 128

پینٹاگون(Pentagon), 54

پیوٹن (Vladimir Putin) ، صدر, 68

 ت

تارکینِ وطن, 108, 227

تاریخ اسلام, 302 /تاریخ مسلمانوں کی, 266

تاریخ انسانی کے ۲۰ اہم موڑ, 48

تاریخ عرب, 266

تاریخ کا مطالعہ, 5, 78

تاریخی اَحیا, 289/تاریخی رومانویت, 21

تبدیلی کے لیے اسلامی اپروچ, 12

تبلیغی جماعت, 31/تبلیغی سرگرمیوں, 93

تجارت, 103

تجدّد, 129, 130

تجدید, 129, 130, 157, 250, 283, 292

تحدید نسل, 205, 206, 207, 211

تحریف, 130

تحریک پاکستان, 196

تحریک تحدید نسل, 212

تحفظ کی حکمت عملی, 93

تخلیق آدم, 13

تخلیقی اجتہاد, 287

تخلیقی حادثے, 289

ترجمان القرآن(لاہور), 232

ترقی اور جدیدیت, 30

ترقی پذیر اقوام, 143/ترقی پذیر ممالک, 210, 239

ترقی کی حدود, 8

ترقیاتی مصارف, 270

ترکِ آرزو, 288

ترکِ دنیا, 288

ترکِ عمل, 288

ترکی(Turkey), 61, 71, 92, 104, 111/تر کی اسلام, 20/ ترکی زبان, 139/ ترکی ،جدید, 70

ترمذی(امام), 87

تزویراتی اصلاحات/تزویراتی اور ادارتی دائرے, 99, 102

تسبیح, 159, 189

تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ(علامہ محمد اقبال), 122, 285

تصوف, 29, 220, 228, 285, 288/تصوف پر یونانی اور عجمی اثرات, 284

تعدّدِ ازدواج, 31

تعلیم وٹیکنالوجی, 102

تعلیمی پالیسی کے فریم ورک, 241

تعلیمی ترقی, 100/ تعلیمی نظام, 217, 218, 221, 222, 234

تعلیمی نصاب, 233, 234

تغیر زمانہ, 118

تفہیمالقرآن(ابوالاعلیٰ مودودی), 255

تقویٰ, 148, 151, 155, 252

تکافل, 248, 271/تکافل اجتماعی, 271

تکثیر, 101, 163, 170

تکنیکی ترقی, 24

تناسل, 249

تھامس فریڈمین(Thomas Friedman), 71

تھامس کیرو تھرز(Thomas Carothers), 143

تہذیب اسلامی کا احیاء, 283

تہذیب انسانی, 116

 تہذیب  روبہ زوال, 247

تہذیب کا بحران, VII, 1, 3, 5, 9

 تہذیب کا عروج, 6

تہذیب نو کی یلغار, 259/ تہذیبی یلغار, 44, 45, 70, 239

تہذیب و تمدن, 4, 30, 45, 154, 221, 250

تہذیب و ثقافت, 21, 24, 30, 244, 247, 301

تہذیب یافتہ جمہوری اسلام, 224

تہذیبوں کا تصادم, 136, 144, 176, 178

تہذیبوں کے درمیان مسابقت, 45

تہذیبی اختلافات, 101

تہذیبی بنیادیں, 135

 تہذیبی تسلط, 197

تہذیبی تصادم, 49, 57

تہذیبی جال, 32

تہذیبی حقوق, 184

 تہذیبی روایت, 70, 244

تہذیبی زوال, 73

 تہذیبی شناخت, 133, 217, 268

تہذیبی غلامی, 92, 292

تہذیبی فریم ورک, 202

تہذیبی کشمکش, VII, VIII, 27, 43, 44, 45, 113

 تہذیبی مباحث, 173

تہذیبی مشن, 99

تہذیبی مکالمے, 54

تھنک ٹینکس(Think Tanks), 47, 48

توحيد, 16, 148, 266

توسیع پسندانہ عزائم, 25

تولیدی حقوق, 207/تولیدی نظام, 207

توہین رسالتؐ, VII, 173, 174

تیجانیہ, 29

تیسری دنیا, 137, 143, 201, 208

تیل کے چشمے, 61/تیل کے ذخائر, 51

تیونس, 1, 27, 28, 29, 30, 32, 33, 35, 36, 37, 38, 39

ٹ

ٹریڈ ٹاور, 54

ٹموتھی ایش(Timothy Garton Ash)  , 66

ٹیری جونز(Terry Jones), 177

ٹیکنالوجی, 3, 4, 22, 102, 105, 111

ٹیلیویژن, 185

 ث

ثقافت, 10, 21, 54, 103, 137, 166, 170, 229, 257, 258, 305

ثقافتی استعمار, 208, 247/ثقافتی تبدیلی, 14

ثقافتی کثرت, 163/ثقافتی نظام, 221/ثقافتی یلغار, 97, 218

 ج

جا ہلیت, 43/ جاہلی افکار, 257

جاپان(Japan), 104

جارج کنکلن(G.H. Conklin), 266

جامعہ الزیتونیہ, 29

جامعہ تیونس, 31

جان ایل اسپوزیٹو(John Louis Esposito), 155, 156, 157, 158, 169

جان مل (John Stuart Mill), 5

جان وول(John O. Voll), 155, 157, 158, 169

جبر کا نکاح, 206

جبریہ نس بندی, 208

جبلت, 290

جدید تعلیمی نظام, 221

جدید صنعتی معاشرے, 7

جدید مغرب کی اقدار, 74/جدید مغربی تہذیب, 117

جدیدیت, 25, 33, 223, 224, 225, 226, 227, 229, 230/جدیدیت پسندوں, 224, 225, 229, 230

جرمن(German), 181, 213

جرمن اسلام, 227

جرمنی, 61, 109, 183

جریده فارن افیئرز, 143

جسارت(روزنامہ), 69, 92, 267

جماعۃ الاسلامیہ, 31

جماعت اسلامی پاکستان, 50, 55

جماعتی نظام کی سیاست, 142

جمال الدین افغانی, 94

جمال ناصر, 130

جمہوری اسلام, 228/جمہوری انقلاب،, 143/ جمہوری فکر، مغرب کی،,137/جمہوری نظام, 70, 102, 142, 143, 167

جمہوریت کا فروغ, 65/جمہوریت کا ارتقا, 303/ جمہوریت کے تصورات, 135/ جمہوریت کی روح, 167/جمہوریت کی فلسفیانہ بنیاد, 137/ جمہوریت مغربی تناظر میں, 139

جمی کارٹر(Jimmy Carter), 62

جنرل پرویز مشرف, 38, 195, 202, 203, 204, 233, 234

جنرل ضیاء الحق, 203

جنرل گوئبلز(Joseph Goebbels), 207

جنسی بےراہروی, 201/جنسی تعلیم, 207/جنسی زندگی, 207/جنسی شعور, 207

جنگ عظیم ،دوسری, 104, 108, 111, 217

جنگ(روزنامہ), 178, 267

جنوب مشرقی ایشیا, 76

جنوبی امریکہ, 108

جنوبی ایشیا, 235, 293

جنوبی ایشیائی لباس, 298

جنوبی کوریا(South Korea), 61, 107

جنیوا(Geneva), 237

جہاد, 46, 55, 72, 76, 80, 152, 196, 204, 222, 259, 280

جہادکشمیر, 236

جہادی قوتوں, 219

جہنم, 262, 270, 271, 274

جوائنٹ فورسز اسٹاف کالج, 177

جوزف اے کامیلیری(Joseph A. Camilleri), 6

جے اے ایس گرن ویل(J.A.S. Grenville), 208

جیری فال ویل(Jerry Falwell Sr.), 69

جیف سپیرو(Jeff Sparrow), 179

جیفرسن(Thomas Jefferson), 181

جیمز پسکا ٹوری(James Piscatori), 169

جیمز روزلنگٹن(James Roslington), 179

 چ

چارلی  ہیبڈو(Charlie Hebdo), 177

چرچ, 239, 300

چیریل بینارڈ(Cheryl Benard), 223

چن زیب, 267

چنگیزیت, 291

چین(China), 35, 48, 51, 59, 109, 208, 219

چینی, 62, 116, 208, 232

 ح

حاکمیت, 63, 141, 251, 252, 254

حامدمیر, 178

حبیب بورقیبہ, 30, 35

حج, 244, 268

حجاب, 30, 304/ نقاب, 205, 230, 304

حدود, 17, 18, 80, 87, 101, 125, 129, 166, 173, 174, 175, 185, 186, 188, 202, 268, 294, 302

حرام, 120, 214/حرام موت, 263, 278

حزب النہضہ, 31

حسن البنا, 95

حضرت آدم علیہ السلام, V, 43

حضرت ابراہیم ؑ, 127

حضرت ابوبکرؓ, 128

حضرت شعیبؑ, 127

حضرت صالح ؑ, 127

حضرت علیؓ, 276

حضرت عمر فاروق ؓ, 277

حضرت لوط ؑ, 127

حضرت نوحؑ, 126

حضرت ہودؑ, 127

حضرت محمدﷺ(رحمت للعالمین) , V, 15, 17, 24, 68, 69, 77, 79, 80, 82, 93, 95, 98, 123, 124, 127, 147, 179, 188, 189, 191, 201, 250, 262, 265

حفظ ماتقدم ،حملے, 222

حقوق  اللہ, 271

حقوق العباد, 16, 262, 271, 272

حقیقی اسلامی معاشرہ, 247

حکمت بالغہ, 90

حکمرانوں کا احتساب, 138, 155

حکومتوں کی تبدیلی, 222

حلال, 120, 210

حمل, 198, 199, 200

حنفی مسلک, 29/حنفیت, 95

حواری بومدیان(Houari Boumediene), 30

حیات طیبہ, 147, 269/ سیرت پاکؐ, 77, 101/سیرت خیرالانامؐ, 84

حیدر آباد, 267

حیران خٹک, 284

 خ

خالدرحمٰن, VIII, VI

خالد علوی ،ڈاکٹر, 284

خالق سماوات والارض, 78/خالق کائنات, 249, 289

خاندانی نظام, 206, 245, 246, 248, 250, 251, 254, 256/خاندانی نظام کی زبوں حالی, 246

خاندانی منصوبہ بندی, VII, 133, 195, 197, 199, 201, 203, 204, 205, 206, 211

خانقاہ, 31, 93

خانگی انتشار, 142

خدائی حکومت, 161

خشیۃ املاق(مفلسی کا ڈر), 200

خطرات سے محفوظ زچگی, 212

خلافت, 17, 138, 149, 150, 277, 291

خلافتِ الٰہی, 284, 289, 291

خلافت راشدہ, 165, 277

خلائی راکٹ, 120

خلفائے راشدین, 154, 155, 156

خلیفۃ الله, 16, 99/خلیفہ فیالارض (Vicegerent), 11/ خلیفہ، زمین کا, 264

خواتین کے حقوق کی تحریکِ  احیا, 145

خواص کی حکومت, 139

خود دفاعی, 63

خودانحصاری, 25, 102, 103, 105, 110, 270/ خود کفالت, 304

خودسوزی, 28, 267, 268, 269

خودکشی, VII, 93, 133, 181, 261, 262, 263, 265, 266, 267, 268, 269, 276, 278

خودمختاری کا خواب, 105

خودی, 115, 171, 219, 221, 284, 289, 290, 291, 292

خیراتی ادارے, 228

 د

دار الامن, 295/دار الحرب, 295/دار العہد, 295/ دارالاسلام, 295/دارالدعوۃ, 295/دارالصلح, 295

دارخائم(Émile Durkheim), 248

داعی الی الخیر, 97

درسی کتب, 226

دری, 65

دریائے فرات, 277

دستور پارٹی, 30

دشمنی کے آداب, 79

دعوتِ اسلام, 295

دعوت الی اللہ, 100

دہشت گرد, 23, 51, 56, 64, 67, 69, 73, 178, 224, 230, 231, 233

دہشت گردی, VI, VIII, 37, 38, 39, 49, 50, 55, 56, 59, 69, 73, 74, 107, 108, 217, 222, 228

دہشت گردی کے خلاف جنگ, VI, 39, 59, 222

دہلی(Dehli), 302

دھوکا دہی, 120

دورِ آخرت, 119

دور غلامی کے اثرات, 257

دولت عثمانیہ, 105

دی ایشین ایج (The Asian Age), 73

دی گارجین،ہفتہ روزہ(The Guardian) , 32, 60, 61, 65, 66, 67, 179

دین اسلام, 17, 148, 292

دینی تعلیم, 70, 222, 295

 ڈ

ڈبلیو بی گیلی(W. B. Gallie), 137

ڈبلیو منٹگمری واٹ(W. Montgomery Watt), 175

ڈنمارک(Denmark), 179, 183

ڈی گال(Charles de Gaulle), 111

ڈیل ایکل مین(Dale Eickelman), 169

ڈینش رسالے, 177

ڈینش کارٹون, 184

ڈینیل پائیس(Daniel Paice), 47

ڈیوڈ ارونگ(David Irving), 187

  ذ

ذرائع ابلاغ کےاثرات, 9/ عوامی ذرائع ابلاغ, 226, 227

ذہنی غلامی, 32, 219

ذوالفقارعلی بھٹو, 240

 ر

رابرٹ اکلیشل(Robert Eccleshall), 141

رابرٹ فسک(Robert Fisk), 184

رامی جی خوری(Rami G. Khouri), 36

راولپنڈی, 267

ربی(Rabbi), 184

رجعت پسندی, 21

رچرڈ  ہوگلینڈ(Richard Eugene Hoagland), 178

رچرڈ جے(Richard Jay), 140, 141

رحم مادر, 211

ردِ جارحیت, 63

رُشدی(سلمان), 179

رمزفیلڈ (Donald Rumsfeld), 222

رموزِ بے خودی(علامہ اقبال), 284

رہبانیت, 291

رواداری, 73, 77, 78, 80, 163

رواداری اور اخوت, 101

روایتی جنگ, 63

روجر سکروٹن(Roger Scruton), 74

روجر گارودی(Roger Garaudy), 187

روحِ قانون, 78

روحانیت, 13, 23

روزگار, 29, 270, 293, 306

روزہ, 31, 80, 187, 244, 252, 271

روس(Russia), 20, 46, 47, 48, 51, 61, 67, 109

روس کی  فوج کشی, 46

روشن خیال اسلام, 229/روشن خیال نظام, 304/روشن خیالی, 33

روم(Rome), 116, 251

رومی تہذیب, 116

ریاست کا کردار, 304

ریڈیو, 226, 300

رینڈ(RAND) کارپوریشن, 49, 223

ریگن، صدر (Ronald Reagan), 65

 ز

زبان و ادب, 166

زرداری، آصف علی, 38

زرعی زمین, 270

زکوٰة, 90, 128, 157, 253, 271, 272

زلمے خلیل زاد, 223

زمانے کی سنت, 129

زمین کی طنابیں, 120

زندگی کی بنیادی اقدار, 135

زین العابدین بن علی, 28, 30, 32, 35, 36

 س

سارتوری(Giovanni Sartori), 143

سام بیسائل(Sam Becile), 177, 178

سامراج, 30, 32, 52, 166, 170, 239

سامراجی ایجنڈے, 30/سامراجی طاقت, 52/ سامراجی غلبے, 165/ سامراجی کھیل, 22/ سامراجی منصوبوں, 22/سامراجی نظام, 59, 103, 166/ سامراجی یلغار, 61, 237

سان فرانسسکو (San Francisco), 109

سائنس, 3, 29, 207, 285, 290, 300

سبزخطرہ, 47

سپرپاور, 47

سپریم کورٹ, 259

سِدِّجارحیت, 110

سرخ خطرہ, 47

سرد جنگ, 46, 47, 48, 66, 135

سرمایہ دار طبقہ, 145

سرمایہ داری, 37, 292, 305

سرمائے کی تخلیق, 111

سری لنکا, 235

سعودی اسکول, 227/سعودی بادشاہت, 74/ سعودی حکمران, 73/ سعودی عرب, 66, 67, 107/ سعودی قیادت, 73/ سعودی مذہبی انتظامیہ, 227/ سعودی وزیرداخلہ, 73/سعودی ولی عہد, 71

سعیدنورسی, 95

سفارت کاری, 98

سفید فام امریکی, 298

سفید فام نسل, 22

سلامتی کونسل(Security Council), 68, 203

سلطنت عثمانیہ, 156/ سلطان ابراہیم, 157/سلطان احمد, 157/سلطان سلیم, 157/سلطان محمود, 157

سماجی امراض, 7/سماجی تحفظ, 157/سماجی تعلقات, 8/ سماجی ذمہ داری, 160, 164

سمرقند(Samarkand), 302

سنت موکدہ, 55, 251

سندھ, 267

سنڈے اسکول, 297/ سیٹرڈے اسکول, 297/ ہفتہ وار اسکول, 297

سنسر شپ, 174

سوپر پاور(Super Power), 46, 107, 205

سُود, 120

سوشل سیکورٹی, 256

سوشلزم, 20, 171

سوشلسٹ, 20, 25/سوشلسٹ عرب, 20

سول سوسائٹی, 76, 191, 225, 227

سوویت یونین(Soviet Union), 20, 144

سوئٹزرلینڈ(Switzerland), 237

سی این این(CNN), 300

سی آئی اے(Central Intelligence Agency), 51, 64

سی بی میک فرسن(C.B. Macpherson), 144

سیاسی آزادی, 31, 94

سیاسی اقتدار, 15, 140, 145, 153, 291

 سیاسی اور تہذیبی نقشہ, 48

 سیاسی اور معاشی طاقت, 17

 سیاسی تبدیلی, 32

 سیاسی حد رسائی, 226

 سیاسی حکمت عملی, 98

سیاسی قتل, 213

 سیاسی محکومی, 32, 187

 سیاسی منظر نامے, 23

مسلمانوں کے سیاسی بحران, 238

سیٹلائٹ(Setellite), 109

سید ابوالحسن علی ندوی, 287

سید سلیمان ندوی, 288

سید عبداللہ, 286

سید علی گیلانی, 284

سید قطب, 50

سید نذیر نیازی, 122

سیدی بوزید, 28

سیرۃ ابن ہشام, 128

سیکولر اشرافیہ, 21/ سیکولر تہذیب, 31/ سیکولر لیڈرشپ, 236/سیکولر ملک, 71/سیکولر نظریات, 197/ سیکولر یلغار, 31

سیکولرازم(Secularism), 33, 37, 71, 93, 162, 163, 167, 171

سیکولرسٹ, 56

سیماس ملن (Seamus Mullan), 179

سیموئیل پی ہن ٹنگٹن (Samuel P. Huntington), 47, 136

سیول، کوریا(Seoul, Korea), 60

 ش

شادی, 198, 199, 206, 244, 245, 259, 267, 293, 296, 298

شام(Syria), 20, 32, 104, 131, 189

شاہ فیصل, 228

شراب, 31, 120

شرح پیدائش, 210

شرف آدمیت, 206/شرف انسانی, 206

شرق اوسط, 61, 66, 67, 74, 179

شريعت الہٰی, 254/شریعت کی بالادستی, 149, 156/ شریعت کا قانون, 30/ شریعت کے مقاصد, 247/ شریعت کا نفاذ, 236

شعبہ آگاہی اطلاعات(امریکہ), 64

شکاگو(Chicago), 166

شمالی امریکہ, 297/شمالی عربوں, 105/شمالی کوریا, 60, 107

شمالی یورپ, 144

شمباسی(Chambesy), 237

شہوت, 251

شہید, 38, 87, 95

شورائی ادارہ, 255/شورائی ریاست, 255/ شورائی معاشرہ , 255/ شورائی نظام, 155

شیخ راشد الغنوشی, 31, 32

شیخ عطامحمد, 288

شیشان, 67

شیطان, 218, 274

شیطانی فلم, 178

 ص

صابر کلوروی ،ڈاکٹر, 288

صاحب دعوت اُمت, 97

صائمہ وحید لو میرج کیس, 259

صحابہ ؓ                                                     کبار, 128

صدائے ہوش, 37

صدقات, 157, 256

صلہ رحمی, 80, 253, 254, 256

صلیبی جنگ, 178, 231/صلیبی قیادت, 219

صنعتی انقلاب, 251/صنعتی پیداوار, 7/صنعتی ترقی, 120

صیہونی(Zionist), 178/صیہونی حملے, 175/  صیہونی لابی, 184/ صیہونیوں, 183

صوفی ازم, 230/صوفی اسلام, 228

 ض

ضبط تولید, 199, 200, 201

ضبط ولادت, 197, 207, 208

ضربِ کلیم(علامہ اقبال), 218, 285, 292

 ط

طاغوت, 80, 81

طاغوتی طاقت, V

طاقت کا توازن, 63

طاقت ور فوجی  قوتیں, 210

طالبان, 53

طبقاتی کشیدگی, 142

طبقہ امراء, 139

طبی اور غذائی مراکز, 299

 

 آ

آبادی ایمرجنسی, 208

آبادی کی تحدید, 195, 202

آبرو کی حرمت, 263

آبزروَر لندن(Observer London) ،ہفت روزہ, 186, 187

آخری الہامی کتاب, 150

آرنلڈ ٹائن بی(Arnold J. Toynbee), 5, 166

آزاد پریس, 186, 236

آزاد خیالی, 136

آزاد روی, 25, 33, 52, 69, 78, 135, 304

آزاد یٔ رائے, 176, 177, 180, 185, 186

آزادیٔ فکر, 113

آزادی کی تحریک, 30

آزادیوں کا تحفظ, 110

آسٹریا(Austeria), 187

آسٹریلیا (Australia) کی نیشنل یونی ورسٹی, 75

آشوری(تہذیب), 116

آفاقی اقدار, 71

آل سعود, 74

آمرانہ نظام, 32, 34, 171

  ا

اباحت پسندی, 258, 292

ابدی زندگی, 148

ابن خلدون, 29

ابو بکر الجصاص, 263

اجتماعی احتساب, 102/اجتماعی اخلاقیات, 5/ اجتماعی تہذیب, 78

اجتماعی تباہی کے ہتھیار, 217

اجتماعی تکافل, 255, 274, 276, 277/ اجتماعی کفالت, 270, 272

اجتماعی خلافت, 271

 اجتماعی فیصلہ سازی, 102

اجتماعیت, 94, 101, 248

اجتہاد, 77, 129, 130, 154, 165, 287

احترامِ انسانیت, 80

احسان, 18, 86, 160, 275

احکام القرآن, 263

احکامالہٰی, 152

احمدسلیم, 234

احیائے اسلام, 167, 170

احیائے تہذیب اسلامی, VII

اخلاق باختہ تہذیب و تمدن, 197

اخلاقی اساس, 99, 105/اخلاقی اقدار, 3, 24, 25, 34, 55, 140, 142, 163, 193/اخلاقی انحطاط, 23/ اخلاقی بحران, 142/اخلاقی بنیادیں, 5, 10/اخلاقی تصورات, 15

اخوان المسلمون, 50, 73

ارتقائے کائنات, 119

ارجنٹائن (Argentina), 61

اُردن (Jordan), 32

اردو میڈیم اسکول, 236/ انگریزی میڈیم اسکول, 236

ارشد احمد, 259

ارمغانِ حجاز(علامہ محمد اقبال), 285

ازدواجی زندگی, 80

اسامہ بن لادن, 53, 178

اسپین(Spain), 105, 302

استبدادی حکومت, 139

استحصال, 4, 8, 13, 17, 25, 142, 166, 270

استخلاف, 16

استعانت باللہ, 99

استعماری گرفت, VI/استعماری نظام کے شکنجے, V

استعماری ادارے, 203/استعماری اہداف, 62/استعماری عزائم, 97, 109/استعماری قوتوں, 66, 218/ استعماری مفادات, 237/استعماری مملکت سازی, 61/ استعماری یلغار, 93, 94

استعماریت, 24, 305

استنبول(Istanbul), 60

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ(امریکہ), 232

اسرارِخودی(علامہ محمد اقبال) , 283, 284

اسرائیل(Israel), 51, 67, 72, 109, 179, 183, 184, 187, 201, 214

اسرائیلی صہیونی شرپسندوں, 175/اسرائیلی فوج, 67

اسلام آباد, 198, 202, 267

اسقاط حمل, 208

اسلام  کا نظریہ کائنات, 16/اسلام پر عجمی اثرات, 285/ اسلام کا تعزیری نظام, 262/اسلام کا حقیقی قلعہ, 56/اسلام کا سیاسی نظام, 146, 164/اسلام کا فوجداری قانون, 263/اسلام کی حکمت عملی, 19, 159/اسلام کا خاندانی نظام, 243, 251/ اسلام کے لفظی معانی, 146/اسلام کی دعوت, 43, 192/ اسلام  مغرب میں , 306

اسلامائزیشن, 34

اسلامک ٹیررزم (اسلامی دہشت گردی), 49, 50

 اسلامک چیمبر آف کامرس, 111

اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر, 238

اسلامی اجتماعیت, 248

اسلامی احکام, 171, 247, 268/اسلامی احیا, 20, 21, 23, 24, 25, 26, 54, 55/اسلامی آداب, 258/اسلامی اصلاحات, 30/اسلامی اصول حکمرانی, 153/اسلامی افکار, 23/اسلامی اقدار, 25, 31, 56, 197, 268/ اسلامی انقلاب, 46, 55, 280/اسلامی تاریخ, 99, 129, 157/اسلامی تحریک, 20, 31, 32, 50, 57/ اسلامی تحریکات, 23, 24, 55, 91, 92, 258/اسلامی ترقیاتی بینک, 111/اسلامی تعمیرنو, 292/اسلامی تمدن, 285/اسلامی تہذیب, VII, 48/ اسلامی تہذیب  و ثقافت, 248, 302/ اسلامی تہذیب  کا ارتقا, 293/اسلامی جمعیت طلبہ, 237/ اسلامی جمہوریت, 141, 169/اسلامی حکمت عملی, 14/ اسلامی دعوت, 54/اسلامی دفعات, 204/اسلامی دہشت گردی, 49/اسلامی دولت مشترکہ, 22/ اسلامی  روایت, 293 , 298

اسلامی ریاست, 15, 160, 161, 162, 164, 165, 168, 255, 291, 301

اسلامی زندگی, 21, 148, 265, 290/اسلامی سوسائٹی, 297

اسلامی سیاسی نظام, 138, 150, 151/اسلامی شریعت, 138, 200/اسلامی شناخت, 95/ اسلامی طرز حکومت, 138, 159/اسلامی طرز حیات, 147/اسلامی طرز زندگی, 255/اسلامی عالمیت, 20/اسلامی عقائد, 137, 293/اسلامی فقہ, 162/اسلامی فقہی مکاتب, 225/اسلامی فکر, 22, 135, 283, 292/اسلامی فلاحی ریاست, 202/اسلامی قانون, 155, 156, 199, 285, 287/اسلامی قومیت, 292/اسلامی قیادت, 56/اسلامی لہر, 37/اسلامی معاشرتی تبدیلی, 12/ اسلامی نشاۃِ   ثانیہ, 20, 21, 22, 23, 24, 140, 251/ اسلامی نظریاتی کونسل, 197, 198/ اسلامی ورثہ, 157

اسلامیات, 229, 297

اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر, 286

اشتراکی تصورات, 31

اشتراکی روس, 144

اشتراکیت, 48, 292

اشرافیہ, 24, 32, 34, 239

اصلاحِ ذات, 100

اصولِ حرکت, 289

اطلاقی  دائرہ, 99

اظہار رائے کی آزادی, 102, 141, 173, 181, 182, 187

اعتدال پسند مسلمانوں, 72

اعتقادی ارتداد, 201

افتخار احمد صدیقی، ڈاکٹر, 284

افریقہ(Africa), 20, 29, 66, 239

افریقی قومیں, 210/افریقی نژاد, 298

افسر برائے آگاہی اطلاعات(امریکہ), 64

افطار, 80, 299

افغانستان(Afghanistan), 46, 47, 48, 51, 53, 59, 60, 66, 75, 104, 177, 222

افغانستان کے خلاف جنگ کی ہدایات, 104

افکار, 44, 52, 136, 166, 196, 220, 229, 247, 283, 284, 286, 292

افلاس, 201, 208, 214, 269, 270, 272

اقامت دین, 21, 77, 279

اقبال(علامہ محمد) , VII, 57, 81, 94, 99, 120, 122, 132, 196, 211, 218, 220, 221, 244, 246, 281, 283, 284, 285, 286, 287, 288, 289, 290, 291, 292

اقبال اکادمی پاکستان, 288

اقتدار اعلیٰ کے نظریے, 140

اقتصادی جائزہ, 39

اقتصادی ناہمواری, 37

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ, 138

اقوام متحدہ, 60, 63, 68, 98, 107, 108, 176, 180, 184, 205, 208, 209, 250/  اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر/اقوام متحدہ کے چارٹر, 60, 107, 108/اقوام متحدہ کا شعبہ آبادی, 208

اکانومسٹ(Economist)،لندن, 48

اکبر الٰہ آبادی, 218, 288

اکبر، مغل بادشاہ, 130

اکیسویں صدی, 3, 6, 73, 94, 112, 135, 135, 145, 229/ ۲۰ ویں صدی, 46, 145

اٰل عمرٰن(سورۃ), 28, 85, 89, 100, 131, 189, 211

الاحزاب(سورۃ), 83, 188, 189, 202, 252

الاعراف(سورۃ), 79, 86, 126, 149, 250, 278

الانبياء(سورۃ), 264

الانعام(سورۃ), 81, 124, 214, 249, 262, 264

الانفال(سورۃ), 204, 88

البقرۃ(سورۃ), 79, 80, 86, 89, 99, 163, 205, 254, 264, 272, 274

التكوير(سورۃ), 213

التوبہ(سورۃ), 253, 273

الجاثیہ(سورۃ), 83

الحج(سورۃ), 190

الحجر(سورۃ), 131

الحجرات(سورۃ), 151, 252

الحشر(سورۃ), 277

الذاریات(سورۃ), 248

الرعد(سورۃ), 82

الروم(سورۃ), 124, 127, 249, 253

الزخرف(سورۃ), 263

السجدہ(سورۃ), 85, 90, 191

الشورٰی(سورۃ), 87, 88, 190, 211, 249

الصف(سورۃ), 126

الفاطر(سورۃ), 124

الفتح(سورۃ), 189

الفرقان(سورۃ), 79

العصر(سورۃ), 9

العنکبوت(سورۃ), 36, 280

الماعون(سورۃ), 16, 273

المائدہ(سورۃ), 86, 261

المدثر(سورۃ), 273

المعارج(سورۃ), 276

المومن(سورۃ), 81

المومنون(سورۃ), 190

النحل(سورۃ), 85, 86, 87, 89

النساء(سورۃ), 152, 195, 249, 254, 262, 263, 275

النور(سورۃ), 150

التشريع الجنائی الاسلامی, 263

الجزیرہ(Al Jazeera)، ٹی وی, 109, 179, 183

الحاد, 220

الرحمانیہ, 29

الزبتھ لیاگن(Elizabeth Liagin), 208, 210

الفجر(رسالہ), 32

القاعدہ, 50, 53, 178

اللہ کا قانون, 125

المعارفہ(رسالہ), 32

الہامی اصول, 25/الہامی ضابطہ حیات, 18/الہامی ہدایت, V, VI, 141, 248, 250, 256

الوہی انتظام, 11

الیکسس کاریل (Alexis Carrel) ،فرانسیسی سائنسدان, 246

الیگزنڈرکنگ(Alexander King), 7

امام ابن تیمیہؒ, 50

امام رازی, 89

امام شافعیؒ, 263

امت وسط, 78, 79

امربالمعروف اور نہی عن المنکر, 100

امریکہ کی سپریم کورٹ, 182

امریکہ کی عالمی حکمت عملی, 234

امریکی آئین, 304/امریکی اسلام, 227, 303/امریکی ایوان نمائندگان, 232/امریکی پالیسی, 62, 223, 233/امریکی جارحیت, 305/ امریکی جمہوریت, 65/ امریکی جنگی عزائم, 61, 109/امریکی حکمت عملی, 50, 222/امریکی حکومت, 174, 191/ امریکی حکومت  کے عالمی ایجنڈے, VII/امریکی دستور, 63, 108, 176, 180, 181, 184/امریکی ڈرون حملے, 38/امریکی رائے عامہ, 183/امریکی ریاست, 191/امریکی سامراج, 231/ امریکی سفارت کار, 193/امریکی سینیٹرز, 232/امریکی صدر, 49, 62, 63, 64, 180/امریکی عوام, 97, 183/ امریکی فوج, 104/امریکی فوجی قوت, 98/ امریکی قوم, 52/ امریکی قیادت, 62, 70, 73, 176, 221 / امریکی کانگریس, 65, 232/ امریکی مسلمان, 295, 298/ امریکی میڈیا, 109/ امریکی نظریاتی جنگ, 69

امن اور سلامتی, 55

امن فوج, 75

امیرشکیب ارسلان, 94

انبیاؑ کا طریقہ, 128, 125

انتہاپسند اسلام, 227

انتہاپسندی, 59, 222, 230

انتھونی ار بلاسٹر(Anthony Arblaster), 145, 146

انٹرنیٹ, 38, 174

انجمن حقوق انسانی, 267

انجمن حمایت اسلام, 283

اندرا گاندھی, 208

اندلس (اسپین), 105

اندھی پرستش, 115

انڈونیشیا(Indonesia), 72, 104, 106, 187

انڈی پنڈنٹ(Independent)،نیوز پیپر, 184, 186

انڈیا, 51, 187

انسان دوستی, 5, 117

انسان کی جان کا تحفظ, 262

انسانی حقوق, 19, 65, 75, 102, 138, 141, 153, 156, 160, 164, 170, 206, 209, 225, 303, 305

انسانی تاریخ, 248, 261, 303/ انسانی تعلقات میں عدل, 16/ انسانی تہذیب, 7, 119, 251, 154/ انسانی ترقی, VII/انسانی حقوق کا یورپی کنونشن, 180/انسانی سماج, 253/انسانی فطرت, 36, 123, 256/انسانی فکر, 16, 19, 125/ انسانی مساوات, 3, 107, 141, 157, 160/ انسانی مفاد, 210

انسانیت کے ارتقا, V

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرے ٹیجک اسٹڈیز, 70

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(IPS),, VI 293, 306

انفاق, 80, 157, 272, 274/انفاق فی سبیل اللہ, 80

انقلاب پسند, 23

انقلاب یاسمین, 27, 28, 33, 39

انقلابی بنیاد پرست, 228

انگٹ میسن (Inget Mason), 297

انور رضا، مسز, 199

اہل کفر, 84/اہل کلیسا, 221/اہل مغرب, 21, 24

او آئی سی, 111

اوباما(Barack Obama) ،صدر, 178

اوسوالڈ سپنگلر(Oswald Spengler), 5

اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس, 144, 155, 157, 158

اولاد آدم, 151

اولاد کا قتل, 214

اے اقوام شرق(علامہ اقبال), 284, 292

ای ایچ کیر(E.H. Carr), 144, 145

اے ایچ نیّر (A.H. Nayyar), 234

ایڈمرل جان پوائن ڈیکسٹر(John Poindexter), 65

ایٹم بم, 177/ایٹمی حملہ, 63, 217

ایجادات کی غلامی, 120

ایچ اے آرگب(H.A.R. Gibb), 166

ایڈورڈ پی ڈجرجن(Edward P. Djerejan), 232

ایڈولف ہٹلر(Adolf Hitler), 69, 183, 207

ایران, 36, 46, 60, 65, 66, 104, 106, 303

ایران پر جوہری صلاحیت کے حصول کے الزامات, 75

ایرانی اسلام, 20, 303/ایرانی تہذیب, 116

ایرک بلیخ(Erik Bleich), 183

ایشیا کے ترقی پذیر ممالک, 239

ایف سی کالج لاہور, 239

ایک جماعتی نظام, 142

ایلیٹ کوہن(Eliot A. Cohen), 68

ایمان بالغیب, 114

ایمان باللہ, 263, 264

ایمانویل کانٹ(Immanuel Kant), 181

این جی اوز, 34, 47, 52, 65, 203, 206, 222, 227, 237, 239, 243, 244, 250

اینجلز(Friedrich Engels), 248

 ب

بابلی, 116, 161

بابو کلاس, 166

بادشاہت, 74, 139

بارات, 293

باسکٹ بال, 295

بال جبریل(علامہ اقبال) , 285

بالی(Bali) ،انڈونیشیا, 72

بانجھ, 211

بانگِ درا(علامہ اقبال) , 285, 289

بائبل(The Bible), 69

بتوں کی پوجا, 115, 257

بخاری شریف (صحیح), 255, 265, 277

بدعت, 124

براڈ کاسٹنگ, 185

بربر(افریقی قوم), 29

برٹرینڈ رسل(Bertrand Russell), 210

برٹرینڈ شینڈر (Bertrand Schneider), 7

برصغیر(ہند), 244

برصغیر کی ہندو تہذیب, 247

برطانوی استعمار, 76

برطانوی قانونی روایت, 258

برطانیہ, 51, 61, 238, 304

برعظیم پاک و ہند, 286, 297

برقی قوت, 120

برگسان(Henri Bergson), 122

برلن(Berlin)،دیوار , 20, 60, 66, 48

برنک لِنڈسے(Brink Lindsey), 72

بڑی ساختوں (Superstructures), 10

بش،جارج ڈبلیو،صدر (George W. Bush),51, 60, 68, 69, 72, 104, 109, 177, 222, 228

بعث پارٹی, 20/بغداد, 302/بگرام(افغانستان), 177

بلور،غلام احمد, 174

بلی گراہم (Billy Graham), 69

بینک کاری نظام, 270

بنگلہ دیش, 32, 235

بنی آدم, 214

بنی اسرائیل, 80, 82, 89, 274

بنی نوع انسان, 8, 9, 146, 147

بنیاد پرست, 23, 56, 223, 224, 226, 227, 233

بنیاد پرستی, 21, 67, 72, 73, 135, 222, 231

بنیادی حقوق, 31, 167, 176, 206

بھارت, 67, 106, 109, 208/بھارت سے دوستی, 236

 بھارتیہ جنتا پارٹی, 67

بورژوا جمہوریت, 145

بوسنیا(Bosnia), 66

بے باپ گھرانے, 246

بے روزگاری, 37, 39, 267, 269, 270

بیت المال, 277

بیعت عقبہ ثانی, 154

بین الاقوامی ایجنسیوں, 243, 244/ بین الاقوامی برادری, 25/ بین الاقوامی تجارتی کمپنیوں , 52/ بین الاقوامی دہشت گردی, 136/ بین الاقوامی عدالتی کمیشن, 53/ بین الاقوامی قانون, 60, 108/ بین الاقوامی قانون کی پاس داری, 110

بین المذاہب مکالمہ, 305

 بین الاقوامی میڈیا, 243/ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا, 38, 233

بیوروکریسی(Bureaucracy), 34

 پ

پاپائیت, 152

پادری, 140, 161, 177, 296

پادریوں کی حکمرانی, 140

پارلیمنٹیرینز کی تربیت, 52

پاکستان اکنامک سروے, 39

پاک امریکہ تعاون, VI

پاکستان کی نظریاتی اساس, VI

پاکستان کے تعلیمی حالات, 235

پاکستان کے جوہری وسائل, 75

پاکستانی اسلام, 20, 303/پاکستانی سیاستدان, 174/ پاکستانی قیادت, 111/پاکستانی مدارس, 233/پاکستانی معاشرہ, 278/پاکستانی نژاد, 298

پال اہرلش(Paul Ehrlich), 212

پال ولفووٹز(Paul Wolfowitz), 70

پالیسی ایکسچینج‘, 304

پالیسی پرسپیکٹوز(Policy Perspectives), 293

پٹرم سورو کن (Pitirim Alexandrovich Sorokin)  , 5

پرائمری تعلیم, 235

پرتگال(Portugal), 26

پرستش, 39, 115

پرنسٹن  یونیورسٹی پریس, 213, 168

پروفیسر حمیداحمد خاں, 288

پروفیسر خورشید احمد, VIII, VI, 287

پروفیسر رفیعالدین ہاشمی, 284

پروفیسر محمد منور, 284

پروفیسر محمدسلیم, 291

پروفیسر ہائک(Friedrich August Von Hayek), 213

پروفیسر ولفرڈ کینٹ ویل سمتھ(Wilfred Cantwell Smith) , 166, 168

پروفیسرجولین سائمن(Julian Simon), 212, 213

پرولتاری جمہوریت, 140

پریس کی آزادی, 181

پریسبی ٹیرین چرچ(Presbyterian Church), 239, 240

پسند کی شادی, VII, 243

پشاور, 267

پشتو, 65

پنجاب کے گورنر, 240

پنجۂ یہود, 109

پہلا عالمگیر انقلاب, 7

پہلی جنگ عظیم, 66

پورٹوریکو (Puerto Rico), 108

پولیس اسٹیٹ, 31, 36, 37

پیامِ مشرق(علامہ اقبال), 285

پیٹ رابرٹسن(Pat Robertson)   , 69

پیٹرپرسٹن(Peter Preston), 61

پیدائش میں وقفہ, 209

پیش بندی کے طور پر حملہ, 53, 60

پیغمبرانہ سنت, 128

پینٹاگون(Pentagon), 54

پیوٹن (Vladimir Putin) ، صدر, 68

 ت

تارکینِ وطن, 108, 227

تاریخ اسلام, 302 /تاریخ مسلمانوں کی, 266

تاریخ انسانی کے ۲۰ اہم موڑ, 48

تاریخ عرب, 266

تاریخ کا مطالعہ, 5, 78

تاریخی اَحیا, 289/تاریخی رومانویت, 21

تبدیلی کے لیے اسلامی اپروچ, 12

تبلیغی جماعت, 31/تبلیغی سرگرمیوں, 93

تجارت, 103

تجدّد, 129, 130

تجدید, 129, 130, 157, 250, 283, 292

تحدید نسل, 205, 206, 207, 211

تحریف, 130

تحریک پاکستان, 196

تحریک تحدید نسل, 212

تحفظ کی حکمت عملی, 93

تخلیق آدم, 13

تخلیقی اجتہاد, 287

تخلیقی حادثے, 289

ترجمان القرآن(لاہور), 232

ترقی اور جدیدیت, 30

ترقی پذیر اقوام, 143/ترقی پذیر ممالک, 210, 239

ترقی کی حدود, 8

ترقیاتی مصارف, 270

ترکِ آرزو, 288

ترکِ دنیا, 288

ترکِ عمل, 288

ترکی(Turkey), 61, 71, 92, 104, 111/تر کی اسلام, 20/ ترکی زبان, 139/ ترکی ،جدید, 70

ترمذی(امام), 87

تزویراتی اصلاحات/تزویراتی اور ادارتی دائرے, 99, 102

تسبیح, 159, 189

تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ(علامہ محمد اقبال), 122, 285

تصوف, 29, 220, 228, 285, 288/تصوف پر یونانی اور عجمی اثرات, 284

تعدّدِ ازدواج, 31

تعلیم وٹیکنالوجی, 102

تعلیمی پالیسی کے فریم ورک, 241

تعلیمی ترقی, 100/ تعلیمی نظام, 217, 218, 221, 222, 234

تعلیمی نصاب, 233, 234

تغیر زمانہ, 118

تفہیمالقرآن(ابوالاعلیٰ مودودی), 255

تقویٰ, 148, 151, 155, 252

تکافل, 248, 271/تکافل اجتماعی, 271

تکثیر, 101, 163, 170

تکنیکی ترقی, 24

تناسل, 249

تھامس فریڈمین(Thomas Friedman), 71

تھامس کیرو تھرز(Thomas Carothers), 143

تہذیب اسلامی کا احیاء, 283

تہذیب انسانی, 116

 تہذیب  روبہ زوال, 247

تہذیب کا بحران, VII, 1, 3, 5, 9

 تہذیب کا عروج, 6

تہذیب نو کی یلغار, 259/ تہذیبی یلغار, 44, 45, 70, 239

تہذیب و تمدن, 4, 30, 45, 154, 221, 250

تہذیب و ثقافت, 21, 24, 30, 244, 247, 301

تہذیب یافتہ جمہوری اسلام, 224

تہذیبوں کا تصادم, 136, 144, 176, 178

تہذیبوں کے درمیان مسابقت, 45

تہذیبی اختلافات, 101

تہذیبی بنیادیں, 135

 تہذیبی تسلط, 197

تہذیبی تصادم, 49, 57

تہذیبی جال, 32

تہذیبی حقوق, 184

 تہذیبی روایت, 70, 244

تہذیبی زوال, 73

 تہذیبی شناخت, 133, 217, 268

تہذیبی غلامی, 92, 292

تہذیبی فریم ورک, 202

تہذیبی کشمکش, VII, VIII, 27, 43, 44, 45, 113

 تہذیبی مباحث, 173

تہذیبی مشن, 99

تہذیبی مکالمے, 54

تھنک ٹینکس(Think Tanks), 47, 48

توحيد, 16, 148, 266

توسیع پسندانہ عزائم, 25

تولیدی حقوق, 207/تولیدی نظام, 207

توہین رسالتؐ, VII, 173, 174

تیجانیہ, 29

تیسری دنیا, 137, 143, 201, 208

تیل کے چشمے, 61/تیل کے ذخائر, 51

تیونس, 1, 27, 28, 29, 30, 32, 33, 35, 36, 37, 38, 39

ٹ

ٹریڈ ٹاور, 54

ٹموتھی ایش(Timothy Garton Ash)  , 66

ٹیری جونز(Terry Jones), 177

ٹیکنالوجی, 3, 4, 22, 102, 105, 111

ٹیلیویژن, 185

 ث

ثقافت, 10, 21, 54, 103, 137, 166, 170, 229, 257, 258, 305

ثقافتی استعمار, 208, 247/ثقافتی تبدیلی, 14

ثقافتی کثرت, 163/ثقافتی نظام, 221/ثقافتی یلغار, 97, 218

 ج

جا ہلیت, 43/ جاہلی افکار, 257

جاپان(Japan), 104

جارج کنکلن(G.H. Conklin), 266

جامعہ الزیتونیہ, 29

جامعہ تیونس, 31

جان ایل اسپوزیٹو(John Louis Esposito), 155, 156, 157, 158, 169

جان مل (John Stuart Mill), 5

جان وول(John O. Voll), 155, 157, 158, 169

جبر کا نکاح, 206

جبریہ نس بندی, 208

جبلت, 290

جدید تعلیمی نظام, 221

جدید صنعتی معاشرے, 7

جدید مغرب کی اقدار, 74/جدید مغربی تہذیب, 117

جدیدیت, 25, 33, 223, 224, 225, 226, 227, 229, 230/جدیدیت پسندوں, 224, 225, 229, 230

جرمن(German), 181, 213

جرمن اسلام, 227

جرمنی, 61, 109, 183

جریده فارن افیئرز, 143

جسارت(روزنامہ), 69, 92, 267

جماعۃ الاسلامیہ, 31

جماعت اسلامی پاکستان, 50, 55

جماعتی نظام کی سیاست, 142

جمال الدین افغانی, 94

جمال ناصر, 130

جمہوری اسلام, 228/جمہوری انقلاب،, 143/ جمہوری فکر، مغرب کی،,137/جمہوری نظام, 70, 102, 142, 143, 167

جمہوریت کا فروغ, 65/جمہوریت کا ارتقا, 303/ جمہوریت کے تصورات, 135/ جمہوریت کی روح, 167/جمہوریت کی فلسفیانہ بنیاد, 137/ جمہوریت مغربی تناظر میں, 139

جمی کارٹر(Jimmy Carter), 62

جنرل پرویز مشرف, 38, 195, 202, 203, 204, 233, 234

جنرل ضیاء الحق, 203

جنرل گوئبلز(Joseph Goebbels), 207

جنسی بےراہروی, 201/جنسی تعلیم, 207/جنسی زندگی, 207/جنسی شعور, 207

جنگ عظیم ،دوسری, 104, 108, 111, 217

جنگ(روزنامہ), 178, 267

جنوب مشرقی ایشیا, 76

جنوبی امریکہ, 108

جنوبی ایشیا, 235, 293

جنوبی ایشیائی لباس, 298

جنوبی کوریا(South Korea), 61, 107

جنیوا(Geneva), 237

جہاد, 46, 55, 72, 76, 80, 152, 196, 204, 222, 259, 280

جہادکشمیر, 236

جہادی قوتوں, 219

جہنم, 262, 270, 271, 274

جوائنٹ فورسز اسٹاف کالج, 177

جوزف اے کامیلیری(Joseph A. Camilleri), 6

جے اے ایس گرن ویل(J.A.S. Grenville), 208

جیری فال ویل(Jerry Falwell Sr.), 69

جیف سپیرو(Jeff Sparrow), 179

جیفرسن(Thomas Jefferson), 181

جیمز پسکا ٹوری(James Piscatori), 169

جیمز روزلنگٹن(James Roslington), 179

 چ

چارلی  ہیبڈو(Charlie Hebdo), 177

چرچ, 239, 300

چیریل بینارڈ(Cheryl Benard), 223

چن زیب, 267

چنگیزیت, 291

چین(China), 35, 48, 51, 59, 109, 208, 219

چینی, 62, 116, 208, 232

 ح

حاکمیت, 63, 141, 251, 252, 254

حامدمیر, 178

حبیب بورقیبہ, 30, 35

حج, 244, 268

حجاب, 30, 304/ نقاب, 205, 230, 304

حدود, 17, 18, 80, 87, 101, 125, 129, 166, 173, 174, 175, 185, 186, 188, 202, 268, 294, 302

حرام, 120, 214/حرام موت, 263, 278

حزب النہضہ, 31

حسن البنا, 95

حضرت آدم علیہ السلام, V, 43

حضرت ابراہیم ؑ, 127

حضرت ابوبکرؓ, 128

حضرت شعیبؑ, 127

حضرت صالح ؑ, 127

حضرت علیؓ, 276

حضرت عمر فاروق ؓ, 277

حضرت لوط ؑ, 127

حضرت نوحؑ, 126

حضرت ہودؑ, 127

حضرت محمدﷺ(رحمت للعالمین) , V, 15, 17, 24, 68, 69, 77, 79, 80, 82, 93, 95, 98, 123, 124, 127, 147, 179, 188, 189, 191, 201, 250, 262, 265

حفظ ماتقدم ،حملے, 222

حقوق  اللہ, 271

حقوق العباد, 16, 262, 271, 272

حقیقی اسلامی معاشرہ, 247

حکمت بالغہ, 90

حکمرانوں کا احتساب, 138, 155

حکومتوں کی تبدیلی, 222

حلال, 120, 210

حمل, 198, 199, 200

حنفی مسلک, 29/حنفیت, 95

حواری بومدیان(Houari Boumediene), 30

حیات طیبہ, 147, 269/ سیرت پاکؐ, 77, 101/سیرت خیرالانامؐ, 84

حیدر آباد, 267

حیران خٹک, 284

 خ

خالدرحمٰن, VIII, VI

خالد علوی ،ڈاکٹر, 284

خالق سماوات والارض, 78/خالق کائنات, 249, 289

خاندانی نظام, 206, 245, 246, 248, 250, 251, 254, 256/خاندانی نظام کی زبوں حالی, 246

خاندانی منصوبہ بندی, VII, 133, 195, 197, 199, 201, 203, 204, 205, 206, 211

خانقاہ, 31, 93

خانگی انتشار, 142

خدائی حکومت, 161

خشیۃ املاق(مفلسی کا ڈر), 200

خطرات سے محفوظ زچگی, 212

خلافت, 17, 138, 149, 150, 277, 291

خلافتِ الٰہی, 284, 289, 291

خلافت راشدہ, 165, 277

خلائی راکٹ, 120

خلفائے راشدین, 154, 155, 156

خلیفۃ الله, 16, 99/خلیفہ فیالارض (Vicegerent), 11/ خلیفہ، زمین کا, 264

خواتین کے حقوق کی تحریکِ  احیا, 145

خواص کی حکومت, 139

خود دفاعی, 63

خودانحصاری, 25, 102, 103, 105, 110, 270/ خود کفالت, 304

خودسوزی, 28, 267, 268, 269

خودکشی, VII, 93, 133, 181, 261, 262, 263, 265, 266, 267, 268, 269, 276, 278

خودمختاری کا خواب, 105

خودی, 115, 171, 219, 221, 284, 289, 290, 291, 292

خیراتی ادارے, 228

 د

دار الامن, 295/دار الحرب, 295/دار العہد, 295/ دارالاسلام, 295/دارالدعوۃ, 295/دارالصلح, 295

دارخائم(Émile Durkheim), 248

داعی الی الخیر, 97

درسی کتب, 226

دری, 65

دریائے فرات, 277

دستور پارٹی, 30

دشمنی کے آداب, 79

دعوتِ اسلام, 295

دعوت الی اللہ, 100

دہشت گرد, 23, 51, 56, 64, 67, 69, 73, 178, 224, 230, 231, 233

دہشت گردی, VI, VIII, 37, 38, 39, 49, 50, 55, 56, 59, 69, 73, 74, 107, 108, 217, 222, 228

دہشت گردی کے خلاف جنگ, VI, 39, 59, 222

دہلی(Dehli), 302

دھوکا دہی, 120

دورِ آخرت, 119

دور غلامی کے اثرات, 257

دولت عثمانیہ, 105

دی ایشین ایج (The Asian Age), 73

دی گارجین،ہفتہ روزہ(The Guardian) , 32, 60, 61, 65, 66, 67, 179

دین اسلام, 17, 148, 292

دینی تعلیم, 70, 222, 295

 ڈ

ڈبلیو بی گیلی(W. B. Gallie), 137

ڈبلیو منٹگمری واٹ(W. Montgomery Watt), 175

ڈنمارک(Denmark), 179, 183

ڈی گال(Charles de Gaulle), 111

ڈیل ایکل مین(Dale Eickelman), 169

ڈینش رسالے, 177

ڈینش کارٹون, 184

ڈینیل پائیس(Daniel Paice), 47

ڈیوڈ ارونگ(David Irving), 187

  ذ

ذرائع ابلاغ کےاثرات, 9/ عوامی ذرائع ابلاغ, 226, 227

ذہنی غلامی, 32, 219

ذوالفقارعلی بھٹو, 240

 ر

رابرٹ اکلیشل(Robert Eccleshall), 141

رابرٹ فسک(Robert Fisk), 184

رامی جی خوری(Rami G. Khouri), 36

راولپنڈی, 267

ربی(Rabbi), 184

رجعت پسندی, 21

رچرڈ  ہوگلینڈ(Richard Eugene Hoagland), 178

رچرڈ جے(Richard Jay), 140, 141

رحم مادر, 211

ردِ جارحیت, 63

رُشدی(سلمان), 179

رمزفیلڈ (Donald Rumsfeld), 222

رموزِ بے خودی(علامہ اقبال), 284

رہبانیت, 291

رواداری, 73, 77, 78, 80, 163

رواداری اور اخوت, 101

روایتی جنگ, 63

روجر سکروٹن(Roger Scruton), 74

روجر گارودی(Roger Garaudy), 187

روحِ قانون, 78

روحانیت, 13, 23

روزگار, 29, 270, 293, 306

روزہ, 31, 80, 187, 244, 252, 271

روس(Russia), 20, 46, 47, 48, 51, 61, 67, 109

روس کی  فوج کشی, 46

روشن خیال اسلام, 229/روشن خیال نظام, 304/روشن خیالی, 33

روم(Rome), 116, 251

رومی تہذیب, 116

ریاست کا کردار, 304

ریڈیو, 226, 300

رینڈ(RAND) کارپوریشن, 49, 223

ریگن، صدر (Ronald Reagan), 65

 ز

زبان و ادب, 166

زرداری، آصف علی, 38

زرعی زمین, 270

زکوٰة, 90, 128, 157, 253, 271, 272

زلمے خلیل زاد, 223

زمانے کی سنت, 129

زمین کی طنابیں, 120

زندگی کی بنیادی اقدار, 135

زین العابدین بن علی, 28, 30, 32, 35, 36

 س

سارتوری(Giovanni Sartori), 143

سام بیسائل(Sam Becile), 177, 178

سامراج, 30, 32, 52, 166, 170, 239

سامراجی ایجنڈے, 30/سامراجی طاقت, 52/ سامراجی غلبے, 165/ سامراجی کھیل, 22/ سامراجی منصوبوں, 22/سامراجی نظام, 59, 103, 166/ سامراجی یلغار, 61, 237

سان فرانسسکو (San Francisco), 109

سائنس, 3, 29, 207, 285, 290, 300

سبزخطرہ, 47

سپرپاور, 47

سپریم کورٹ, 259

سِدِّجارحیت, 110

سرخ خطرہ, 47

سرد جنگ, 46, 47, 48, 66, 135

سرمایہ دار طبقہ, 145

سرمایہ داری, 37, 292, 305

سرمائے کی تخلیق, 111

سری لنکا, 235

سعودی اسکول, 227/سعودی بادشاہت, 74/ سعودی حکمران, 73/ سعودی عرب, 66, 67, 107/ سعودی قیادت, 73/ سعودی مذہبی انتظامیہ, 227/ سعودی وزیرداخلہ, 73/سعودی ولی عہد, 71

سعیدنورسی, 95

سفارت کاری, 98

سفید فام امریکی, 298

سفید فام نسل, 22

سلامتی کونسل(Security Council), 68, 203

سلطنت عثمانیہ, 156/ سلطان ابراہیم, 157/سلطان احمد, 157/سلطان سلیم, 157/سلطان محمود, 157

سماجی امراض, 7/سماجی تحفظ, 157/سماجی تعلقات, 8/ سماجی ذمہ داری, 160, 164

سمرقند(Samarkand), 302

سنت موکدہ, 55, 251

سندھ, 267

سنڈے اسکول, 297/ سیٹرڈے اسکول, 297/ ہفتہ وار اسکول, 297

سنسر شپ, 174

سوپر پاور(Super Power), 46, 107, 205

سُود, 120

سوشل سیکورٹی, 256

سوشلزم, 20, 171

سوشلسٹ, 20, 25/سوشلسٹ عرب, 20

سول سوسائٹی, 76, 191, 225, 227

سوویت یونین(Soviet Union), 20, 144

سوئٹزرلینڈ(Switzerland), 237

سی این این(CNN), 300

سی آئی اے(Central Intelligence Agency), 51, 64

سی بی میک فرسن(C.B. Macpherson), 144

سیاسی آزادی, 31, 94

سیاسی اقتدار, 15, 140, 145, 153, 291

 سیاسی اور تہذیبی نقشہ, 48

 سیاسی اور معاشی طاقت, 17

 سیاسی تبدیلی, 32

 سیاسی حد رسائی, 226

 سیاسی حکمت عملی, 98

سیاسی قتل, 213

 سیاسی محکومی, 32, 187

 سیاسی منظر نامے, 23

مسلمانوں کے سیاسی بحران, 238

سیٹلائٹ(Setellite), 109

سید ابوالحسن علی ندوی, 287

سید سلیمان ندوی, 288

سید عبداللہ, 286

سید علی گیلانی, 284

سید قطب, 50

سید نذیر نیازی, 122

سیدی بوزید, 28

سیرۃ ابن ہشام, 128

سیکولر اشرافیہ, 21/ سیکولر تہذیب, 31/ سیکولر لیڈرشپ, 236/سیکولر ملک, 71/سیکولر نظریات, 197/ سیکولر یلغار, 31

سیکولرازم(Secularism), 33, 37, 71, 93, 162, 163, 167, 171

سیکولرسٹ, 56

سیماس ملن (Seamus Mullan), 179

سیموئیل پی ہن ٹنگٹن (Samuel P. Huntington), 47, 136

سیول، کوریا(Seoul, Korea), 60

 ش

شادی, 198, 199, 206, 244, 245, 259, 267, 293, 296, 298

شام(Syria), 20, 32, 104, 131, 189

شاہ فیصل, 228

شراب, 31, 120

شرح پیدائش, 210

شرف آدمیت, 206/شرف انسانی, 206

شرق اوسط, 61, 66, 67, 74, 179

شريعت الہٰی, 254/شریعت کی بالادستی, 149, 156/ شریعت کا قانون, 30/ شریعت کے مقاصد, 247/ شریعت کا نفاذ, 236

شعبہ آگاہی اطلاعات(امریکہ), 64

شکاگو(Chicago), 166

شمالی امریکہ, 297/شمالی عربوں, 105/شمالی کوریا, 60, 107

شمالی یورپ, 144

شمباسی(Chambesy), 237

شہوت, 251

شہید, 38, 87, 95

شورائی ادارہ, 255/شورائی ریاست, 255/ شورائی معاشرہ , 255/ شورائی نظام, 155

شیخ راشد الغنوشی, 31, 32

شیخ عطامحمد, 288

شیشان, 67

شیطان, 218, 274

شیطانی فلم, 178

 ص

صابر کلوروی ،ڈاکٹر, 288

صاحب دعوت اُمت, 97

صائمہ وحید لو میرج کیس, 259

صحابہ ؓ                                                     کبار, 128

صدائے ہوش, 37

صدقات, 157, 256

صلہ رحمی, 80, 253, 254, 256

صلیبی جنگ, 178, 231/صلیبی قیادت, 219

صنعتی انقلاب, 251/صنعتی پیداوار, 7/صنعتی ترقی, 120

صیہونی(Zionist), 178/صیہونی حملے, 175/  صیہونی لابی, 184/ صیہونیوں, 183

صوفی ازم, 230/صوفی اسلام, 228

 ض

ضبط تولید, 199, 200, 201

ضبط ولادت, 197, 207, 208

ضربِ کلیم(علامہ اقبال), 218, 285, 292

 ط

طاغوت, 80, 81

طاغوتی طاقت, V

طاقت کا توازن, 63

طاقت ور فوجی  قوتیں, 210

طالبان, 53

طبقاتی کشیدگی, 142

طبقہ امراء, 139

طبی اور غذائی مراکز, 299

طلاق, 198, 246

 ظ

ظفر(بہادر شاہ), 236, 265

ظفر اللہ جمالی, 236

ظلم و استحصال, 269

ظہور اسلام, 303

 ع

عالم اسلام, 51, 67, 68, 74, 167, 171, 174, 222

عالمِ افلاک, 284

عالم عرب, 33, 67

عالم گیر انقلاب, 7, 8/عالم گیر بحران, 6/عالم گیر برادری, 159

عالم گیریت(Globalization), 34, 52, 103, 136, 221, 293, 305

عالمی ادارے, 205/عالمی استعماری جنگ, 108/ عالمی استعماری نظام, 197/عالمی اقدار, 69/عالمی امن, 223/عالمی ایجنسیاں, 207/عالمی بالادستی, 210/ عالمی برادری, 223, 224, 237/ عالمی بینک, 195/ عالمی جنگ, 104/ عالمی رائے, 60, 62, 63/ عالمی سلامتی, 60, 63/عالمی شہر, 138/عالمی صلح و جنگ کا نظام, 63/عالمی طاقتیں, 206/عالمی کانفرنس, 26/ عالمی مذاہب, 10, 14/عالمی معاشی قوت, 105/عالمی نظام, 3, 15, 16, 18, 19, 20, 63, 112/عالمی نظام کی اسلامی تشکیل, VII, 16/عالمی یوم آ بادی, 195

عائلی قانون, 31, 243, 244/عائلی نظام, 251, 253

عبد القادر عوده شہيد, 263

عبدالحمید ابن بادیس, 30

عبدالفتاح مورو, 31

عبدالناصر, 20

عثمانی دور, 29

عثمانیہ, 29

عجمی مآخذ, 288

عدل کی بالادستی, 138/عدل کی روش, 85

عدل و انصاف, 15, 85, 137, 254, 255

عدلیہ, 141, 142, 156, 166, 170, 185/ عدلیہ کی آزادی, 160

عراق(Iraq), 20, 51, 53, 60, 61, 66, 67, 103, 104, 109, 222, 305/عراق کی جنگ, 108

عرب اسلام, 20/عرب دنیا, 20, 65, 109, 232/ عرب صحافیوں, 227/عرب قوم پرستی, 20

عربی, 65, 82, 139, 303

عربی عبا, 298/عربی لباس, 298

عروسیہ, 29

عزل, 198, 200, 207

عسکری اسلام, 69/عسکری مزاحمت, 94

عسکریت پسند, 68

عشق رسولؐ, 193

عصمت, 207, 246, 253, 254, 256

عصمت و عفت کی تحقیروتذلیل, 246

عطیہ عنایت اللہ، ڈاکٹر, 199

عفوودرگزر, 85, 86, 89

عقائد کا احیا, 21

علاقائی مفادات, 13

علامہ ابن عربی مالکی, 89

علامہ قرطبی, 89

علم دین, 70

علمِ سیاسیات, 183

علمائے اسلام, 198

علوم اسلامیہ, 297

عمرانی ادب, 261

عمرانیات, 168

عمومی تباہی کے ہتھیار, 60, 63, 64, 75

عوام کا اقتدار, 140, 141/عوام کی حکمرانی, 140/عوام کی حکومت, 139/عوامی خودمختاری کا تصور, 137

عورتوں کی بیداری, 65/عورتوں کی مساوات, 236

عید کی نماز, 297

عیدالاضحیٰ, 299

عیسائی, 29, 69, 175, 237, 238, 239, 240/عیسائی آبادی, 238/عیسائی شدت پسند, 175/ عیسائی مشنری, 238, 239, 240/عیسائی یلغار, 29

 غ

غربت, 4, 6, 8, 9, 37, 39, 72, 264, 267, 269, 270, 272, 305

غریب ممالک, 4

غلام, 136, 155, 179, 181, 292/غلامی, 27, 33, 98, 103, 166, 187, 206, 207, 219, 220, 222, 239, 253, 288, 292

غیر ایٹمی ممالک, 63

غیرخونیں انقلاب, 35

غیرقانونی تارکینِوطن, 108

غیرمسلم معاشرہ, 293

 ف

فارسی, 65

فارن افیرز, 136, 144

فاشزم(Fascism), 163

فاطمی, 29

فاقہ کشی, 264

فتاویٰ, 198, 230

فجر, 297

فحاشی, 198

فرانس(France), 29, 32, 61, 109, 173, 174, 177, 187/فرانس کی تہذیب, 30/فرانس کے وزیر داخلہ, 35

فرانسیسی اخبار, 186/فرانسیسی جمہوریہ, 139/فرانسیسی زبان, 139/فرانسیسی سامراج, 30, 37

فرانسس فوکویا ما(Yoshihiro Francis Fukuyama), 47

فرائڈ (Sigmund Freud), 5

فرشتے, 27, 120, 124, 268, 280

فرعون, 161

فریڈ ٹی سا ئے(F.T. Sai), 209

فریڈرک ہیگل(Georg Wilhelm Friedrich Hegel), 118

فرینکلن گراہم(William Franklin Graham Jr.), 69

فسطائی قیادت, 34/فسطائی نظام, 34

فطرت کا قانون, 122, 125

فقہ, 29, 154/فقہ حنفیہ, 230

فکراسلامی کے احیاء, 283/فکرِاسلامی کی تشکیلِ نو, 283/ فکری انقلاب, 32

فلپ کے ہٹی(Philip K. Hiti), 266

فلسطین(Palestine), 54, 66, 71/فلسطینی ادارے, 187

فلسفۂ جدلیاتی تاریخ, 118

فلمر ایس سی نارتھ روپF.S.C. Northrop) ), 168

فن تعمیر, 166

فنون لطیفہ, 166

فنی ایجادات, 120

فوجکشی, 53, 75

فوجی بالادستی, 60, 98

فیس بک, 38, 187

 ق

فیصل آباد, 267

قادریہ, 29

قاضی محمد اقبال, 26

قانون کی بالادستی, 31/قانون کی حکمرانی, 34, 138, 141, 154, 156, 160, 162

قانونِ وراثت, 31

قبطی, 175

قدامت پر ست, 56/قدامت پسند, 224

قدرت کا قانون, 37, 263

قرآنِ کریم, V/قرآن کی تعلیم, 72

قرآن و سنت,V, 79, 125, 250

قرآن و سنت کی بالادستی, 154

قرآنی حکمت عملی, 77, 91

قرآنی منہج, 55

قربانی, 24, 52, 57, 92, 196, 244, 299

قرضوں کی لعنت, 37

قوانین طبیعیا ت, 246

قوم پرستی, 93, 166, 167, 231, 305

قوم سازی, 52

قومی پالیسی برائے آبادی, 202

قومی حاکمیت اعلیٰ, 63

قومی حکمت عملی کی دستاویزات, 62/قومی ریاست, 22, 305/قومی سلامتی کی دستاویزات, 63/قومی نفسیات  , 217/قومیدولت, 270

قیام عدل, 17, 19, 279

قیاماللیل, 80

 ک

کارل مارکس(Karl Marx), 5, 118, 248

کانگرس, 181

کائنات کے بنیادی قوانین, 123

کثیر جہتی حکمت عملی, 98

کراچی, 267

کرسٹیناروکا(Christina Rocca), 71

کرسچن مسلم مشاورت, 237

کرسچین سائنس مانیٹر(اخبار), 300

کشمیر, 54, 236/کشمیر کی جہادی تحریک, 54

کلب آف روم, 7

کلچر, 52, 233/کلچرل بالادستی, 210

کلنٹن (Bill Clinton) ، صدر, 109

کلیسا کا دور, 251

کمال ازم, 93

کمانڈو صدر, 104

کمیونزم(Communism), 135, 163

کنڈولیزا رائس (Condoleezza Rice), 222

کنگز لے ڈیوس(Kingsley Davis), 212

کوپن ہیگن(Copenhagen), 60

کورٹ  شپ, 259

کوسووو(Kosovo), 66

کولن پاول (Colin Powell), 222, 233

کونرڈ  ایڈنوئر (Konrad Adenauer), 111

کویت(Kuwait), 107

کوئٹہ, 267

کے نیومین(K. Newman), 209

کیتھولک مسیحی, 299

کیلی فورنیا(California), 175

کینتھ ایڈلمین(Kenneth L. Adelman), 68

کیمبرج (Cambridge)یونی ورسٹی, 179

کیوبا(Cuba), 108

 گ

گرجا گھروں, 296, 300

گروہی مفادات, 14, 279

گندھارا, 116

گوانتاناموبے(Guantanamo Bay), 177

گوجرانوالہ, 267

گوگل(Google), 186, 187

گیس کے ہتھیار, 63

 ل

لادین مادی ثقافت, 25

لادینی مغربیت, 25/لادینی نظام, 304

لادینیت, 13, 25, 31, 136, 170, 292, 305

لادینیت پسند, 225

لاس اینجلز(Los Angeles), 109

لاطینی امریکہ(Latin America), 20, 143

لاہور, 60, 107, 168, 259, 267, 283

لاہور ہائی کورٹ, 259

لباس کے شرعی ضابطے, 298

لبرل ازم(Liberalism), 25, 33, 52

لبرل پیروکار, 181

لبنان(Lebanon), 184, 306

لذت پرست کلچر, 179

لزبن(Lisbon), 26

لندن(London), 32, 60, 61, 66, 70, 137, 141, 145, 184, 186, 210

لونڈی, 275

لیبیا(Libya), 32, 174, 187

لیکود (Likud) پارٹی, 67

 م

ماحولیاتی ابتری, 9

مادی ترقی, 3, 4, 24, 25, 36, 95, 121, 257, 261

مادیت, 13, 25, 26, 292

ماڈرن اسلام, 75/ ماڈریٹ اسلام, 59, 69, 76, 91

ماڈرنسٹ, 56

مارشل پلان, 111

مارکیٹ اکانومی, 34, 37

مالکی مذہب, 29

مالیات, 70, 103, 239

مانع حمل, 198/مانع حمل ادویہ, 203

ماہ رمضان, 299

ماؤزے تنگ،صدر (Mao Zedong), 208

ماوردی(اسلامی اسکالر), 277

مایوں(رسم), 293

مبنی برعدل تصورِ حیات, 78

متجدّد  دین, 130

متناسب نمائندگی, 140

مجلس قانون ساز پنجاب, 283

محاصل کے نظام, 277

محمد احمد خاں, 291

محمد البوعزیزی, 28

محمد حمزہ فاروقی, 291

محمد عبدہ, 94

مخابرات, 32

مخلوط تہذیبی ماحول, 294

مد  ینہ, 302

مدارس, 29, 56, 236/مدرسہ, 31, 93/مدرسے کی تعلیم, 233

مدنی زندگی, 90

مدینہ, 94, 128, 154, 177

مذاہب کی تاریخ, 78

مذہبی احیا, 135, 136, 169/مذہبی آزادی, 74, 141/ مذہبی پولیس, 227/ مذہبی روایات, 21, 163, 204, 245/ مذہبی متوسلین, 162/ مذہبی مدارس, 72, 75

مراکز و مجالس دانش, 102, 300

مراکش, 32, 61

مرسی ،محمد (صدر مصر), 174

مریضانہ رویے, 7

مساوات و اخوت کا اسلامی تصور, 17

مستضعفین, 157

مستقل اقدار, 165

مسجد, 30, 31, 38, 57, 70, 93, 162, 219, 268, 295, 296, 297

مسجد قرطبہ, 57

مسلح پولیس فورس, 36

مسلک اعتدال, 78

مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن, 297

مسلم اقوام, 210/مسلم امّہ, 136, 138, 146, 159, 168, 170, 171/مسلم تصوف, 283/مسلم خاندان, 253/  مسلم دنیا, VII/مسلم روحانیت, 24/مسلم ریاست , 22, 23, 160, 169

مسلم سرمایہ, 111

مسلم سیاست, 156, 167, 169

مسلم علما, 155

مسلم عیسائی تعلقات, 238

مسلم قیادت, 101

مسلم لٹریچر, 139

 مسلم ممالک, 22, 23, 27, 33, 34, 51, 65, 72, 92, 96, 103, 105, 107, 109, 111, 170, 174, 192, 193, 218, 295

مسلم سجاد, 26

مسلمان امت, 46/مسلمان تارکین وطن, 297, 299/ مسلمان خواتین, 304/مسلمان عورت, 30, 100, 250/مسلمان ممالک, 64

مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر, 130/مسلمانوں کی تاریخ, 266/  مسلمانوں کی جہالت, 238/ مسلمانوں کی معصومیت, 174, 177

مسیحؑ, 68, 161, 305

مسیحی ادارے, 238/مسیحی مشنری خدمات, 238

مشاورت کا اصول, 255

مشائخ, 257

مشرقی یورپ, 20

مشنری ادارے, 175, 239, 240

مصر, 20, 32, 61, 174, 187, 222

مصطفی آباد, 267

مصطفیٰ کمال, 130

مطلق اقدار, 142

مطلق العنان حکومت, 160, 164/مطلق العنانی, 155

مظفر گڑھ, 267

معاشرتی تبدیلی, 11, 14/معاشرتی مسائل, 245/معاشرتی نظام, 19, 20/معاشرتی و ثقافتی علوم حرکیات, 5

معاشرے کی اصلاح, 100/معاشرے کی تعمیر نو, 19

معاشی استحصال, 25, 37/معاشی انصاف, 31/معاشی پالیسی, 14/معاشی ترقی, 8, 31, 33, 37, 70, 105, 133, 195, 200, 210, 215/معاشی ترقی کا کریش پروگرام, 111/معاشی تعبیرتاریخ, 118/معاشی چیلنج, 100/معاشی گرفت, 32/معاشی مفادات, 75/ معاشی نظام, 25, 38, 127/معاشی و عسکری منصوبہ بندی, 110

مغرب زدہ اشرافیہ, 169/مغرب کا زوال, 5/مغرب کا غلبہ, 74/مغرب کے اہل علم, 23/مغرب کی تہذیبی یلغار, 239/مغرب کی ثقافت, 167/مغرب کی جمہوری فکر, 137/مغرب کی فکری یلغار, 247/ مغرب کی لا دینی جمہوریت, 141

مغربی استعمار, 70

مغربی اسلام, 227

مغربی اقوام, 31, 32, 34, 35, 36, 37, 49, 93, 174, 177, 188, 193, 197, 210

مغربی اہلِ قلم, 175, 176

مغربی تہذیب, 22, 25, 45, 48, 58, 136, 285

مغربی تہذیب کی بالا دستی, 46

مغربی تہذیب کی سرخیل, VII

مغربی تہذیب و ثقافت, 22

 مغربی ٹیکنالوجی, 74

مغربی ثقافت کی نقالی, 259

مغربی جامعات, 237

مغربی جرمنی(West Germany), 66

 مغربی دنیا, 144, 146, 223, 293

مغربی سیکولر جمہوریت, 137, 138

مغربی صنعتی جمہوریتوں, 224

مغربی طاقتوں کی خارجہ پالیسی, 137

مغربی فلسفہ, 146

 مغربی لادینی اقدار, 24

 مغربی ممالک, 142, 143, 160, 251

مغربیت, 31, 37, 166, 170, 292

مقاصد ِ حیات, 121

مکالمے کی ضرورت, 89

مکہ, 15, 94, 177

مکی زندگی, 90

ملائکہ, 272

ملتِ اسلامیہ, 283, 290, 291/ملت اسلامیہ پاکستان, 239, 279

ملتان, 267

مِلز سمپسن(M.E. Simpson), 266

ملوکیت, 305

ممانعت حمل, 198

منافقین, 56, 126

منصفانہ سماجی و سیاسی نظام, 139

منصورہ, 55

منکرات, 120

منگنی, 296, 298

مہندی, 293

مودودی (مولانا سید ابوالاعلیٰ), 95, 255

موسیقی, 301

موطا امام مالک, 265

مولانا ابوالکلام آزاد, 287

مولانا جلال الدین رومیؒ, 284

میانہ روی, 80, 84

میثاقِ مدینہ, 94

میڈیکل سائنس, 121

میر جعفر, 247

میر صادق, 247

میزائل(Missile), 54, 120

میکیاولی(Niccolò Machiavelli), 228

میکسیکو(Mexico), 108

میلاد النبیﷺ, 268

 ن

ناروے(Norway), 177

ناصرازم, 72

ناگاساکی(Nagasaki), 217

ناموسِ رسولؐ, 188

نامیاتی (organic) ارتقا, 7

نان نفقہ, 256

نائن الیون(۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء) , 47, 48, 49, 53, 104, 176, 178, 217, 221, 299, 300/نائن الیون کمیشن, 49

نجکاری, 136, 239

نجم الدین اربکان, 111

نذیر حق, 135

نرم انقلاب, 66

نس بندی, 199, 208

نسب, 252

نسل انسانی, 8, 12, 15

نسل کشی, 210

نصابِ تعلیم, 233, 235

نظامِ تعلیم, 52, 56, 221, 233

نظام اقدار, 9, 74/ نظامِ حق, 291/نظام قومیت, 303

نظریاتی ریاست, 22/نظریاتی نسل کشی, 218

نظریۂ  توحید, 138/نظریہ پاکستان, 241

نظم ریاست, 138

نفسِ امارہ, 43/نفسِ مطمئنہ, 43

نفسیاتی جنگ, 219

نفی ذات کے فلسفے, 288

نقشہ جنگ, 47, 98, 104, 221

نکاح, 199, 206, 251, 253, 259, 293, 295

نکولا بیسلے نکولا(Nakoula Basseley Nakoula), 177

نکولائی بردائیف(Nikolai Berdyaev), 121

نماز, 16, 90, 244, 253, 271, 272, 273, 295, 296, 297/نمازِ جمعہ, 296, 297

نہرو(Nehru), 106

نو آبادیاتی حکمرانوں, 165/نو آبادیاتی دور, 23, 29, 24, 171/نوآبادکاروں, 238/نوآبادیاتی طاقتوں, 238

نوائے وقت, 71, 289

نوبل انعام, 62, 213, 246

نوسامراجی انتظام, 34

نومعتزلائی عقلیت, 290

نیا سیکورٹی نظام, 64

نیا عالمی نظام, 10, 12, 13, 19, 22

نیابتِ الہٰی, 290

نیال فرگوسن(Niall Furguson), 51

نیپال(Nepal), 235

نیٹو (NATO)کے سیکرٹری جنرل, 47

نیشنلزم, 166

نیوز ویک(Newsweek)،ہفت روزہ, 212

نیوزی لینڈ(New Zealand), 184

نیوکلیر استعداد, 240

نیویارک(New York), 54, 60, 109, 136, 155, 157, 158, 178, 186, 300

نیویارک ٹائمز, 72, 186, 300

نئے استعمار, 63, 98/نئی استعماریت, 136

نئے اقتصادی نظام, 10

نئی خلافت, 48

نئی عالم گیر سیاسی تنظیم, 10

و

واشنگٹن(Washington), 60, 104, 109, 208, 300

واشنگٹن پوسٹ, 104, 300

والدین سے بغاوت, 243

وجدان, 285, 290

وحی, V, 3, 12, 82, 138, 147, 148, 248, 250, 290

وراثت, 157, 167, 256

ورلڈ بینک, 208, 209, 210

ورلڈ کانگریسں آف چرچز, 237

وزیراعظم جونیجو, 203/وزیراعظم نواز شریف, 203

وسط ایشیا, 47, 74

وسطی امریکہ, 20

وفاقی شرعی عدالت, 259

وقف, 15, 157

ولایت, 256

ولسن (Woodrow Wilson), 67

ولی, 71, 82, 83, 85, 191, 245, 259

ولیم پاف(William Pfaff)  , 74

وہابی اسلام, 67/وہابی علما, 74/وہابی فتووں, 230/ وہابی فرقے, 74

ووٹ کا حق, 145

ویٹو(Veto) , 68

  ہ

ہارٹ فورڈ سیمزی(Hartford Seminary), 135, 297

ہارورڈ یونی ورسٹی پریس(Harvard University Press), 208

ہالینڈ(Holland), 177

ہائی جیکر, 53

ہبہ, 157

ہٹلر(Adolf Hitler), 183, 207

ہدایت الہٰی, 123

ہڑپا, 116

ہسپانیہ(Hispania), 29

ہشام مطار, 32

ہمالہ, 219

ہمہ جہتی یلغار, 47, 55

ہندو بنیاد پرستی, 67/ہندو مذہب, 251/ہندو معاشرہ, 293/ ہندو, 161

ہندوستان, 67

ہولوکاسٹ(Holocaust), 183, 184, 187

ہیرالڈ ٹریبیون (Herald Tribune), 36, 72, 74, 75, 76, 178

ہیروشیما (Hiroshima), 217

 ی

یاسرعرفات, 66

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »