نیو ورلڈ آرڈر کا چیلنج اور عالم اسلام

دُنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے نیو ورلڈ آرڈر ( نیا عالمی نظام )جنم لینے سے پہلے ہی اپنی اپیل کھو چکا ہے۔ بیسویں صدی نے بہت سے رہنماؤں کو ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت کے بارے میں باتیں کرتے دیکھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکی صدر وڈرو ولسن [۲۱-۱۹۱۳ء) نے مستقبل کے عالمی نظام کے موضوع پر مباحثے میں جان ڈالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ایک ایسی دُنیا کا خواب دیکھا جس میں کچھ اصولوں اور تسلیم شدہ آفاقی قدروں کی حکمرانی کا تصور تھا۔ یہ خواب مجلس اقوام (لیگ آف نیشنز )کی ناقص ساخت اور اس کے فوری خاتمے کے ساتھ بکھر گیا۔ دنیا نہ ایک نئی جنگ سے بچ سکی اور نہ جمہوریت ہی محفوظ رہی، بلکہ دنیا “دائیں اور بائیں بازو “کی بھول بھلیوں کے نرغے میں گھر گئی۔
امریکہ اور مسلم دنیا کی بے اطمینانی
دوسری جنگ عظیم (۱۹۴۵ء) کے بعد ایک بار پھر نئی امیدیں پروان چڑھنے لگیں۔ اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی اور ایک نئے عہد کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔مگر بہت جلد یہ امیدیں بھی خاک میں مل گئیں اور نسل انسانی تباہ کن سرد جنگ کے دورمیں داخل ہو گئی جو چار عشروں پر پھیلا ہوا ہے۔حالیہ برسوں میں نئے عالمی نظام کی تلاش میں تیزی آئی۔ سرد جنگ کے مفروضہ اختتام پر سابق امریکی صدر جارج بش سینئر [۹۳-۱۹۸۹ء] نے ۱۹۹۰ء کے آغاز میں ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اگست ۱۹۹۰ ء میں کویت پر عراقی حملے اور جنوری ۱۹۹۱ء میں امریکہ کی سرکردگی میں لڑی گئی خلیجی جنگ کو نئے عالمی نظام کا ابتدائیہ قرار دیا گیا۔ یہ دعوی کیا گیا : ” مستقبل میں کوئی جارح اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہ رہے گا اور طاقت کے بل بوتے پر کسی کا قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا: بین الاقوامی سرحدوں میں یک طرفہ طور پر ردو بدل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سب کو انسانی حقوق کی پابندی کرنا پڑے گی اور یہ امر بھی یقینی بنایا جائے گا کہ قومی سرحدوں کی پروا کیے بغیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ دُنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک نیا کردار ادا کرے گی ۔ ان اصولوں کے تعین کے ساتھ یہ باور کر لیا گیا کہ اب نسل انسانی، جمہوریت اور سلامتی کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گی۔
ان اعلیٰ مقاصد کے ساتھ کسے اتفاق نہیں ہو گا ؟ تاہم سوال یہ ہے کہ وہ جو آج کی دنیا میں سیاسی لحاظ سے طاقت ور ہیں، کیا وہ ان مقاصد کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں یا وہ محض اپنے مخصوص سامراجی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے ان نعروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں؟ یہ انتہائی بنیادی اور اہم سوال ہے۔
مسلم دنیا۔ کل اور آج
آج مسلمان دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی تعداد تقریبا ایک ارب ۲۰ کروڑ ہے۔ ۵۳ سے زیادہ آزاد مسلم مملکتوں میں 10 کروڑ سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ یہ مسلم ریاستیں دنیا کے ۲۳ فی صد رقبے پر محیط ہیں۔ اگر چہ مسلم آبادی مشرقی اور وسطی یورپ میں بھی ہے تا ہم البانیہ میں مسلمانوں کی تعداد ۷۳ فی صد ہے جبکہ بوسنیا ہرزی گودینیا میں یہ قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی مسلمان بھاری تعداد میں آباد ہیں بالخصوص یورپ اور امریکہ میں جہاں اسلام عیسائیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے۔
تاہم اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے بارے میں مغرب میں سب سے زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک ایسا مذہب جو امن اور انصاف کا علم بردار ہے اس مذہب کو جنگ اور جنونیت کے مذہب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہزار سال سے زائد کے عرصے میں مسلمان، دُنیا میں نہ صرف ایک غالب قوت رہے ہیں، بلکہ اسلامی تہذیب اور معاشرے نے غیر مسلموں سمیت سب کو امن اور تحفظ فراہم کیا۔ حقیقت میں یہ مسلم دنیا ہی تھی جو ان تمام لوگوں کے لیے پناہ گاہ اور جائے امان رہی، جنھیں دُنیا کے مختلف حصوں، بالخصوص یورپ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مسلم ریاست اور معاشرے جو بڑی حد تک اسلامی تہذیب کے مظہر تھے اس کے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں: مشرق میں تھیا کر یسی فکری لحاظ سے ظالم اور جابر نہیں تھی۔ ہم وہاں ابہام اور جمودسوچ پر پابندی اور فکری اختلاف کے خلاف مسلسل جنگ کا وجود نہیں پاتے، جو یورپی دُنیا کی معروف خصوصیت ہے اور جسے یونان اور روم کی پشت پناہی حاصل تھی ۔برطانوی مستشرق دلیم میور [Muir – (م: ۱۹۰۵ء) واضح الفاظ میں رقم طراز ہے: مفتوحین کے ساتھ [مسلمانوں کی] نرم روی، ان کا انصاف اور دیانت داری رومی حکمرانوں کے ظلم و تشدد اور عدم رواداری کے مقابلے میں ایک متضاد تصویر پیش کرتی ہے۔
شامی عیسائیوں کو عرب فاتحین کے تحت اس سے کہیں زیادہ شہری آزادی حاصل تھی، جتنی انھیں ہرکولیس کے اقتدار میں حاصل تھی، اور انھیں اپنی سابقہ حالت میں لوٹ جانے کی کوئی خواہش نہیں تھی ۔یہ ہے انسانی تاریخ میں مسلمانوں کا ریکارڈ۔ گذشتہ تین صدیوں کے دوران میں صورت حال میں ٹھوس تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس عرصے میں مغربی استعماری طاقتیں دنیا پر حکمران رہی ہیں اور مسلم دنیا بحیثیت مجموعی مغربی ملکوں کے زیر تسلط رہی ہے۔ اس دور میں تیسری دنیا کی اقوام اور عوام کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص استعماری طاقتوں کے ہاتھوں کئی انداز میں نقصان اٹھانا پڑا۔
معروف مورخ اور فلسفی پر و فیسر آرنلڈ ٹائن بی نے مغرب کے ساتھ دُنیا کے تعلقات پر بڑی خوب صورتی کے ساتھ ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے: دنیا اور مغرب کے درمیان تعلقات میں جو گذشتہ چار پانچ سو سال سے چلے آ رہے ہیں، مغرب نہیں بلکہ دنیا ہی اب تک وہ فریق ہے جسے ایک سخت تجر بے سے واسطہ پڑا ہے۔ یہ مغرب نہیں، جس پر دنیا کی ضرب پڑی ہے بلکہ یہ دنیا ہے جسے مغرب کی چوٹ برداشت کرنی پڑی ہے اور یہ چوٹ بہت سخت ہے۔ دُنیا کہے گی کہ مغرب عصر جدید کا سرکردہ جارح ہے۔ یقیناً مغرب کے بارے میں دنیا کا یہ فیصلہ گذشتہ ساڑھے چار صدیوں کے عرصے کے حوالےسے جو ۱۹۵۰ء میں ختم ہوا بجا دکھائی دیتا ہے ۔
حتیٰ کے پروفیسر فلپ ماضی قریب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں:
بد قسمتی سے بالخصوص گذشتہ ایک زمانے سے مغرب کے اثرات سب طرف اچھے نہیں رہے۔ مغربی [ مسیحی مشنریوں، اساتذہ اور مبلغین کے انسانیت نواز نظریات اور یورپی و امریکی سیاست دانوں اور جنگ جوؤں کی طرف سے انسانی اقدار کی بے حرمتی کے واقعات کے درمیان ایک واضح تضاد دکھائی دیتا ہے۔ قول و فعل کے درمیان تضاد ہے اور اس عرصے میں اقتصادی اور قوم پرستانہ اقتدار پر ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دو عظیم جنگوں میں ترقی یافتہ اقوام نے جس انسانیت کش طرز عمل کا مظاہرہ کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ مغرب کے انسان میں (ان شیطانی قوتوں کو جو اس کی سائنس اور مشینوں نے تیار کی ہیں، اور جو اس وقت دنیا کی تباہی کا باعث بن چکی ہیں)ان ہلاکت خیز مشینوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت اور پھر شرق اوسط کے حوالے سے امریکہ ،برطانیہ ،فرانس اور دیگر اقوام کا مسئلہ فلسطین کے بارے میں طرز عمل یہ وہ باتیں ہیں جنھوں نے مشرق قریب کے اس انسان کو مایوس کرنے میں حصہ لیا ہے جو مغرب کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ مغرب کے ان اقدامات سے مشرق کا انسان اس سے برگشتہ ہوا ہے۔ اس کا مغربی انسان کے کردار اور ااخلاق سے چاہے وہ نجی ہویا معاشرتی اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ مسلم دنیا جو ماضی میں مغرب کے ہاتھوں نقصان اٹھا چکی ہے اور جو ابھی تک مادی ،اقتصادی، تکنیکی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہے اسے مغرب کےلیے ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اپنے تشخص کی بازیافت کے لیے مسلمانوں کی کوششوں اور اُن کی طرف سے اپنے معاملات کو درست کرنے کی مساعی کو مغرب کے لیے ایک چیلنج بتایا جا رہا ہے۔ وہ اپنے ہاں جمہوری عمل کی تقویت اور خود انحصاری کے حصول کے لیے جو بے ضررسی کوششیں کر رہے ہیں، انھیں ”اسلامی بنیاد پرستی (Islamic Fundamentalism) “کے خودساختہ دیو کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے سابق صدور جیسے رچرڈ نکسن [۷۴-۱۹۶۹ء] کی Seize The Moment اور رونالڈ ریگن [۸۹-۱۹۸۱ء] کی کتاب An American Life سےلے کر فرانس فوکویاما “The End of History and the Last Man” جیسے دانش وروں نے اور رچرڈ فف جیسے کالم نگاروں اور دوسرے بہت سے مغربی دانش ور اسلام کو مغرب کے لیے ایک خطرے کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ وہ سب یہی ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں : ” اگر کوئی بھوت یورپ اور امریکہ کا پیچھا کر رہا ہے تو وہ اسلامی بنیاد پرستی کا بھوت ہے۔ یہ ایک غیر حقیقی اور یک طرفہ جنگ ہے اور سیاست دان، صحافی اور ذرائع ابلاغ کے لوگ، حتی کہ بعض اہل تحقیق بھی ایسا خوف سے بھر پور منظر نامہ اُبھارنے میں فریق بن چکے ہیں۔ لیکن اس سے بڑھ کر سچائی سے بعید کوئی اور بات نہیں ہو سکتی۔
یہ بجا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں اسلامی احیاء کی تحریک جاری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اپنے ملکوں میں یا ان سے باہر کسی کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔ استعماری تسلط کے دوران مسلمانوں نے نظریاتی ، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی حتی کہ اخلاقی لحاظ سے نقصان اٹھایا ہے۔ تاہم مسلم ریاستوں کی آزادی کے بعد سیاسی لحاظ سے انھوں کے کچھ پیش رفت کی ہے۔ اس وقت ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان ،اقدار اور تاریخ کی روشنی میں اقتصادی، تکنیکی، تعلیمی ،نظریاتی اور ثقافتی پہلوؤں سے اپنی زندگیوں کو استوار کر سکیں ۔ وہ الگ تھلگ ہو کر رہنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتے ہیں، لیکن وہ دوسروں کے باج گزار اور تابع مہمل بن کر نہیں انسانی حلقے کےبا وقار رکن کی حیثیت سے عزت اور احترام کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
بنیاد پرستی کا ہوا
“بنیاد پرستی” واضح طور پر عیسائی مذہب کا ایک مظہر ہے۔ اس کا اسلامی فکر وعمل میں مطلق کوئی مقام نہیں ہے۔ماضی قریب کی مغربی تاریخ میں یہ اصطلاح امریکہ کے ان انجیلی لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے جو بائبل کی لفظی تعبیر کے علم بردار اور کنواری مریم کے بطن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت پر ایمان رکھتے تھے۔ ان لوگوں کی نظر میں نہ صرف ذاتی سیرت و کردار مسیحی اخلاقیات پر مبنی ہونا چاہیئے بلکہ سماجی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد بھی مسیحی اخلاقیات ہے۔ انھوں نے مغربی زندگی اور ثقافت کے بعض پہلوؤں پر کڑی نکتہ چینی کی اور انھیں مسیحی اخلاقیات سے کھلا انحراف قرار دیا۔ ان گروہوں کو مخالفین نے انتہا پسند اور جنونی قرار دیا اس لیے ان کے لیے ”بنیاد پرست“ کی اصطلاح منفی معنوں میں آج کل استعمال کی جانے لگی۔ چنانچہ اس واضح مسیحی اصطلاح کو مسلمانوں پر چسپاں کرنا نہ صرف غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی قابل نفرت ہے۔ اسلام میں روحانی اور مادی زندگی کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ روحانی اور دینی زندگی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اسلام میں سیاست اور مذہب میں اس قسم کی کوئی مغائرت نہیں، جیسی عیسائی دنیا میں موجود ہے۔ قرآن خدا کا کلام ہے اور مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ اس کے ایک ایک لفظ پر ایمان رکھتا ہے۔ پورے قرآن پر ایمان ضروری ہے اور اس میں سے کچھ لینے اور کچھ چھوڑنے کی قطعاً گنجایش نہیں۔
مغرب کے دوہرے معیار
اکا دکا انسانی ناکامیوں کے باوجود تاریخ میں رواداری کے حوالے سے اسلام کاریکارڈ نہایت شان دار ہے۔اسلام اعتدال کا راستہ اختیار کرتا ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو انتہا پسندی سے احتراز کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام رواداری اور دوسروں کے جذبات کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ معاصر مسلمان تشدد اور دہشت گردی کی مخالفت میں کسی بھی مہذب شخص سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو ان دوہرے معیارات پر حیرت ہے جن کا مظاہرہ مغربی دُنیا کی قیادتوں نے کیا ہے۔ اگر کویت کے معاملے میں عراق کا غیر قانونی اور یک طرفہ قبضہ [اگست ۱۹۹۰ء ] ایک جرم تھا، تو فلسطین پر اسرائیلی کشمیر پر بھارتی اور بوسنیا پر سربیا کے قبضے کو بھی ویسا ہی جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ اگر بعض مسلمانوں کے تشدد کی مذمت کی جاتی ہے تو ارض فلسطین میں اسرائیلی شہریوں اور قابض فوجوں کے کہیں زیادہ مظالم کی مذمت کیوں نہیں ہوتی؟ یہی صورت حال بھارت کے مسلم کش فسادات اور کشمیر میں بھارتی مظالم کی ہے۔ جابر حکمرانوں کے ستائے ہوئے افراد کی طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کرنے ے کہیں زیادہ گھناؤنا جرم کسی ریاست کی طرف سے تشدد پر اتر آنا ہے۔ مستعبد طرز حکومت برا ہے لیکن یہ ہر کہیں برا ہونا چاہیے۔ ایسا کیوں ہے کہ دُنیا کے کچھ حصوں میں مستعبد حکومتوں کی حمایت کی جاتی ہے اور کچھ دوسرے حصوں میں ان کی مذمت ! کیا پسند کے ظالم اور پسند کے مظلوم کا یہ فلسفہ منافقت نہیں ہے؟
ہر چند کہ جمہوری عمل پسندیدہ ہے، لیکن اسے ہر کہیں پسندیدہ ہونا چاہیے ۔ مصر الجزائر اور انڈونیشیا وغیرہ کے عوام برابر کا حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کی حکومتیں منتخب کر سکیں ۔ جب ان مسلم ملکوں میں، جن کے حکمران عالمی طاقتوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، آزاد انتخابات سبو تا زکر دیے جاتے ہیں تو مغرب کے بہت سے رہنماؤں کے ضمیر کوئی خلش محسوس نہیں کرتے ۔
جب ترک قبرصیوں کو ہر طرح کے تعصب کا نشانہ بنایا گیا’ ان کے حقوق سلب کر لیے گئے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا حتی کہ ان کا وجود ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو مغرب ٹس سے مس نہ ہوا ۔ حد یہ ہے کہ قبرص میں ضامن طاقت کا کردار رکھنے والی برطانوی حکومت، جس کا قبرص میں فوجی اڈہ تھا، خاموش تماشائی بنی رہی۔ یونانی قبرصیوں کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ حتمی بغاوت برپا کریں۔ لیکن جب ترکی نے دوسری ضامن طاقت کے طور پر اپنا حق استعمال کیا تو ہر طرف ایک کہرام مچ گیا۔ لیبیا کو بھی اسی طرح کی یک طرفہ مداخلت، بین الا قوامی پابندیوں اور بلیک میل کے لیے نشانہ بنایا گیا۔ پھر بوسنیا ہرزی گود بیبیا میں جو کچھ ہوا ہے وہ اس کی ایک اور واضح مثال ہے۔ مغربی طاقتیں، جارح فریق کو یہ پیغام دینے میں ناکام رہی ہیں کہ جارحیت کی کوئی سزا ہے۔ اس کے بجائے تمام اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گویا مغربی دنیا نیٹو اور امریکہ جیسی عالمی طاقت اپنی تمام تر عسکری قوت کے باوجود سر تاپاجارحین کے سامنے بے بس ہے جنھیں اس بات کی کھلی چھٹی ہے کہ وہ جو مظالم چاہیں توڑتے رہیں جس قدر زمین وہ چاہتے ہیں اس پر قبضہ کریں جتنے لوگوں کو چاہیں قتل کریں اور جتنے رقبے کو چاہیں مخالفین کے وجود سے ”پاک“ کر دیں۔
وہ جو بین الاقوامی قانون امن اور سلامتی کے علم بردار ہیں، طاقت کا جواب طاقت سے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ ٹوٹے ہوئے معاہدوں اور مظلوم اور بے بس مسلمانوں کی لاشوں کے ڈھیر پر اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں کہ جارح اپنا کام ختم کر لے اور پھر یہ حرکت میں آئیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جارح اور مظلوم کے درمیان ایک معاہدہ کرا دیں تاکہ جارح نے جو کچھ طاقت کے اندھے استعمال سے حاصل کیا ہے اسے سند جواز حاصل ہو جائے۔ جب مظلوم بوسنیائی مسلمان اپنے دفاع کے لیے امداد اور ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ان کے راستے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں حائل ہو جاتی ہیں ۔ اگر اتفاق سے کچھ ہمدرد مہذب رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو انھیں جنونی اور بنیاد پرست قرار دے دیا جاتا ہے۔ مسلم احیاء اور اس کی رفتار کو ” جنونیت اور بنیاد پرستی“ کہہ دینے سے روکا نہیں جا سکتا ۔ اس سے اور تو کچھ نہیں ہوگا، صرف مسلم عوام کی نظروں میں مغربی قیادت کا اعتمادہی مجروح ہوگا۔
مسلمانوں سے خطرہ؟
مغرب کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس قسم کے کوئی آثار بھی نہیں، بلکہ اس بات کا دُور دُور تک کوئی امکان نہیں ہے کہ مسلمان مسلح ہو کر مغرب پر دھاوا بول دیں یا وہ مغرب کے سیاسی نظام کے لیے کسی قسم کا خطرہ بن جائیں ۔ مسلمان تو محض اپنے معاملات درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اقدار اور تصورات کےمطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں سنوارنے کا حق چاہتے ہیں۔ اسلامی احیاء کی تحریکیں عصری و سائنسی تقاضوں کی افادیت اور جدید کاری (modernization) سے الرجک نہیں ہیں۔ وہ جدید کاری اور مادی ترقی کی حامی ہیں، لیکن یہ جدت اور ترقی وہ اپنی ثقافت اور اقدار کے تناظر میں حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تحریکیں اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتیں کہ ایک روشن تہذیب اور ثقافت کی حامل قوم پر کھلم کھلایا ڈھکے چھپے ہتھکنڈوں سے مغربی تہذیب اور اس کی اقدار عیارانہ طور پر مسلط کر دی جائیں ۔ اقتصادی یا ثقافتی استعمار بھی اتنا ہی بُرا اور تباہ کن ہے جتنا کہ سیاسی استعمار ۔
دُنیا زندگی بسر کرنے کے لیے صرف اسی صورت میں محفوظ جگہ بن سکتی ہے جب تمام قو میں اور عوام یہ اصول تسلیم کر لیں کہ ان میں سے ہر ایک کو اپنا مستقبل، اپنے نظریات اور اصولوں کے مطابق تشکیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ خیالات پر آزادانہ مکالمہ ہونا چاہیے مگر کسی خاص مجموعہ اقدار، ثقافت یا نظام کو دوسروں پر طاقت کے زور سے مسلط کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ زندگی کی بوقلمونی اور ثقافتی و نظریاتی تنوع کو حقیقی اور جائز تسلیم کرنے سے ہی مختلف اقوام اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ امن اور دوستی کی فضا میں رہ سکتے ہیں۔
مسلم عوام کسی خاص ملک کی، چاہے وہ اقتصادی یا فوجی لحاظ سے کتنا ہی طاقت در کیوں نہ ہو بالا دستی تسلیم نہیں کرتے۔ اس دُنیا میں چھوٹی قومیں اور کمزور ممالک بھی زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کا حق رکھتے ہیں۔ امریکی بالا دستی (Pax-Americana) بھی اتنی ہی گھناؤنی چیز ہے جتنی کہ برطانوی بالا دستی (Pax-Britainica) یا ہسپانوی بالا دستی بُری قرار دی جاتی تھی۔ یک قلیمی (uni-polar) دنیا یا ایک عالمی طاقت کی باتیں نئے خوف اور خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔ جس میں ایک نیا استعماری نظام اُبھرتا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی منصفانہ عالمی نظام کسی ایک کی بالادستی پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے وجود میں نہیں لایا جا سکتا۔
مسلم عوام اور تیسری دنیا کی اقوام اس نئی بالا دستی کو کبھی بھی قبول نہ کریں گی۔ چھوٹی اور بڑی غریب اور امیر کمزور اور طاقت ور سب اقوام کو جینے اور اپنی اقدار اور معیارات کے مطابق زندہ رہنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ سب کو پھولنے پھلنے کے برابر کے مواقع ملنے چاہئیں۔ کسی کی طرف سے دوسروں پر اپنی بالادستی کا تسلط ہی بین الاقوامی کشیدگی اور تصادم کی جڑ ہے۔ اگر مغرب انسانیت کو ایک منصفانہ عالمی نظام کی جانب پیش رفت میں مدد فراہم کرنے کے سلسلے میں واقعی سنجیدہ ہے، تو اسے ذرا زیادہ خود احتسابی سے بھی کام لینا چاہیے۔
اسلام اور جمہوریت
یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اسلام جمہوریت کے خلاف ہے۔ اس مفروضےکی بنیا د سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔جمہوریت، فلسفیانہ سطح پر انسان کی حاکمیت اعلیٰ کا اصول تسلیم کرتی ہے نیز ابدی اور حتمی مذہبی یا اخلاقی قدروں سے انکار کرتی ہے۔ جمہوریت کا یہ فلسفیانہ تصور دُنیا اور معاشرے کے سلسلے میں اسلامی نظریے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسلام خدا کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ انسان کو الٰہیرہنمائی کی ضرورت ہے۔ مسلمان کہا ہی اس شخص کو جاتا ہے جو الٰہی قانون کو اپنے انفرادی اور اجتماعی رویے کا سرچشمہ تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اس سے یہ اخذ کرنا کہ اسلام میں جمہوریت کا سرے سے کوئی وجود نہیں غلط فہمی یا دانستہ مغالطہ انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔
اسلام نے انسانی نیابت (خلافت) کا تصور پیش کیا ہے۔ یہ خلافت بحیثیت مجموعی عوام کو حاصل ہے یہ کسی ایک گروہ یا طبقے یا خاندان تک محدود نہیں۔ الٰہی قانون اس کے لیے دائرہ کار فراہم کرتا ہے۔ اس نظام قانون میں لچک اور تبدیلی کی وسیع گنجائش ہے جو مباح کے ذیل میں آتی ہے۔ کتاب اللہ کی تشریح و تعبیر کا حق ہر اس شخص کے لیے ہے جو علم رکھتا ہے اور جس میں اس کی تفہیم و تعبیر کی صلاحیت ہے۔ اسلام کے قانونی نظام کے دائرہ کار میں اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
اسلام میں حکمرانی کا اختیار کسی کو اس کے مذہبی منصب کی بنیاد پر نہیں دیا گیا۔ معاشرے کے تمام افراد کا نہ صرف یہ حق بلکہ فرض ہے کہ وہ اقتدار کی باگ ڈور ان افراد کے حوالے کریں جن پر انھیں اعتماد ہے۔ سیاسی قیادت’ عوام اور خدا کے سامنے بر او ر است جواب دہ ہے۔ اسلام کے سیاسی نظام میں قانون کی حکمرانی ہے اور اس میں اقلیتوں سمیت معاشرے کے تمام ارکان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا اصول موجود ہے۔ حکومت کے جواب دہ ہونے کا تصور اسلامی نظام میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح قیادت کا عوام کی مرضی سے انتخاب اور اس کی برخواستگی مسلمہ اصول ہے اور یہی بات اختلاف رائے اور عدم اتفاق کے سلسلے میں درست ہے۔
عملی سطح پر اسلام کا سیاسی نظام ان اصولوں پر مبنی ہے اور اس طرح جمہوری عمل کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام سیاسی میدان میں جن مقاصد کے حصول کا خواہش مند ہے انھیں مسلم دنیا کی بعض حکومتوں کے طور طریقوں کے ساتھ گڈمڈ نہ کیا جانا چاہیئے ،چاہے وہ اسلام کا نام ہی کیوں نہ استعمال کرتی ہوں۔ یہ سب کچھ معاصر دنیا میں جمہوریت کی ناگوار صورت حال کے قریب قریب ہے۔ بہت سے جمہوریت کے دعوے دار حقیقت میں جمہوری اصولوں کی پاسداری نہیں کر رہے۔ اس انحراف کو جمہوریت کی ناکامی پر محمول نہ کیا جانا چاہیے بلکہ اسے محض کچھ لوگوں یا ملکوں کا انحراف خیال کرنا چاہیے۔
اگر اسلامی جمہوری نظام کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اسے الہٰی تعلیمات پر مبنی جمہوری نظام سمجھا جانا چاہیے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی میں سرکردہ مسلم مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء – ۱۹۷۹ء) نے اسلام کے سیاسی نظام کو الہٰی جمہوری (Theo-democratic) قرار دیا ہے۔ اسلام میں تھیا کریسی کی کوئی گنجایش نہیں ہے کیونکہ تھیو کر یسی میں ایک مخصوص مذہبی گروہ کو مذہبی قانون کی تعبیر کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہی گروہ سیاسی طاقت کا مالک ہوتا ہے۔ اسلام ایسے کسی بھی مذہبی انتظام کی حمایت نہیں کرتا۔اس کے برعکس اسلام قانون کی حکمرانی اور قانون کی نظر میں سب کے مساوی ہونے پر زور دیتا ہے۔ یہ جواب دہی کے اصول اور عوام کی مرضی سے حکومت کی تبدیلی اور تشکیل کا علم بردار ہے۔ آج مسلمانوں کو اس بات پر بجا طور پر تشویش ہے کہ ایک طرف اسلام کو جمہوریت مخالف نظریے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف جمہوری عمل سے ابھرنے والی اسلامی قوتوں کو اپنے ہی ملکوں میں برسراقتدار آنے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے جیسا کہ حال ہی میں الجزائر میں ہوا ہے۔ اسلامی جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے والوں کو مغرب کی پوری تائید حاصل ہے۔
اسلامی احیا اور نیو ورلڈ آرڈر
آج کے مسلم ذہن کو سمجھنے کے لیے اسلامی احیا کے بعض اہم پہلوؤں کا جائزہ فائدے سے خالی نہ ہوگا ۔ مسلمان محض ایک نئے عالمی نظام کے نہیں، بلکہ ایک نئے منصفانہ عالمی نظام کے وجود میں آنے کے شدت سے منتظر ہیں، جس میں کسی ایک ملک کی بالا دستی مقصود نہ ہو۔ اسلامی احیاء نہ صرف منفردشان کا حامل ہے بلکہ عالمگیر بھی ہے۔ اسلام میں تنوع کے ساتھ وحدت ہے اور یہ تنوع انفرادیت کو مجروح نہیں کرتا ۔ اسلام ایک عالم گیر دین ہے۔ اس میں عرب اسلام پاکستانی اسلام ایرانی اسلام” یا ترک اسلام” نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح اسلامی عالم گیریت میں وحدت ہے ثنویت نہیں۔
اسلام میں بعض نمایاں پہلو ہیں، جو ہر جگہ مشترک ہیں۔ لیکن اس سے اسلامی تحریک احیا کی زرخیزی متاثر نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر عربی قرآن اور پیغمبر اسلام کی زبان ہے، لیکن یہ لازمی طور پر تمام مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ اگر چہ ہر ایک مسلمان کچھ نہ کچھ عربی زبان سیکھتا ہے لیکن دیگر زبانیں بولنا اور انھیں ایسے تصورات کو پروان چڑھانے کے لیے جو اسلامی روایات سے مطابقت رکھتے ہوں بطور آلہ استعمال کرنا کچھ کم اسلامی نہیں ہے۔مسلمان اپنا احتساب خود کرتے ہیں۔ وہ سماجی زندگی کے سطحی مظاہر کا جائزہ لیتے رہے ہیں اور قرآن وسنت میں بیان کردہ بنیادی اصولوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اس عمل میں ان علامات مثلاً بعض مخصوص رسوم یا فقہی ضوابط کی بعض تفاصیل وغیرہ سے بے پروائی بھی شامل ہو سکتی ہے جو شروع سے ہی روایات کا حصہ بن چکی ہیں۔ حالیہ تحریک احیائے اسلام کی بنیادی روح یہی اصل کی جانب رجوع ہے۔ بنیادی منابع کی جانب رجوع ایک حریت بخش قوت ہے۔ اسلام میں اس سے ایک متحرک عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ بنیادی منابع کی جانب رجوع “بنیاد پرستی “کو جنم نہیں دیتا جو انسان کو وقت کے ساتھ چلنے نہیں دیتی۔ بلکہ یہ عمل زاویہ نظر کو تازگی، ایک نئی لگن، نیا تحرک اور نئی لچک دیتا ہے نیز نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے۔ لوگ اسلام کو تہذیب اور ثقافت کے ماخذ کے طور پر دوبارہ دریافت کر رہے ہیں ۔ اس دریافت کو معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔
میری رائے میں، جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں مغرب کی غلامانہ نقالی سے دُوری پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں، اس میں فرق آتا جا رہا ہے۔ مغربی تجربے سے ہم متعدد طریقوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر ہم غیر ملکی ثقافتوں کو اپنے ہاں مسلط کرنے کے لیے بطور آلہ کار استعمال ہونے کو تیار نہیں۔بلاشبہ تمام مسلم ممالک کا مغربی ثقافت کی جانب رویہ یکساں نہیں ہے۔ وہ ملک جو کچھ عرصہ پہلے مغربیت پرستی کے ہراول دستے میں شامل تھے وہ اب اسلامی احیاء کے علم بردار ہیں۔ جبکہ ایسے ممالک جو دُنیا سے کافی پیچھے دکھائی دیتے تھے اور اپنی روایات کے ساتھ تختی سے چمٹے ہوئے تھے اب مغربی طرز زندگی اور ثقافت کے دلدادہ ہیں ۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ” کیا مسلم ممالک ترقی اور ٹکنالوجی کے معاملات کو مسترد کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں، جو ان کی علاقائی خوش حالی اور ان کے انسانی وسائل کی ترقی کی بنیاد ہیں؟“ یہ سوال اس مسئلے پر پائے جانے والے اُلجھاؤ کا ایک جامع خلاصہ ہے۔
ترقی اور ٹیکنالوجی سے کسے انکار ہے، لیکن حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ کس قسم کی ترقی اور کن مقاصدکے لیے؟ کیا یہ محض اقتصادی ترقی ہوگی یا مجموعی انسانی ترقی ہوگی جس میں اقتصادی ،سماجی ،اخلاقی اور نظریاتی پہلو شامل ہوں گے اور یہ ترقی منصفانہ سماجی نظام کے قیام پر منتج ہوگی؟ کیا ہر ایک ریاست کے تناظر میں ترقی کا تصور مختلف ہے یا واقعی اُمت مسلمہ کی ترقی مقصود ہے؟ کیا اس کا مطلب مسلم قومی ریاستوں کو ختم کرنا ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم ریاستیں امت مسلمہ کے لیے ایک نئے مستقبل کی تشکیل پر توجہ دیں؟ ہم ماضی قریب کے اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں زیادہ تعمیری انداز میں پیش رفت ضرور کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قومی ریاست (نیشن سٹیٹ کو ایک نکتہ آغاز کے طور پر قبول کر سکتے ہیں، اگر چہ علاقائی یا لسانی قومی ریاست مسلم نقطۂ نظر سے مثالی ریاست نہیں ہے۔ تاہم موجودہ زمانے میں حقیقت یہی ہے۔ جس میں ہم سیاسی نظاموں کو فی الفور ختم نہیں کرنا چاہتے )۔ ہم اُمت مسلمہ میں اتحاد، قریبی تعاون اور مختلف مسلم ریاستوں میں یک جہتی کے احساس کو مزید پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ اسلامی عصبیت کے حوالے سے ہر قومی ریاست بتدر یج ایک نظریاتی ریاست بن جائے گی اور ان کا اتحاد بالآخر اسلامی دولت مشترکہ پر منتج ہوگا۔
مغرب کا ناقص فہم
اسلامی تحریک کی طاقت کیا ہے اور یہ کیا کچھ کر سکتی ہے؟مغرب اسے سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ مغرب نے اس “بنیاد پرست ،جنونی، مغرب مخالف ،بے وقعت،” اور نہ جانے کیا کیا بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ رویہ ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں ممد و معاون نہیں ہو سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ مغرب ایک بار پھر یہ خطرناک غلطی کر رہا ہے کہ وہ ایک مختلف طرز زندگی رکھنے والوں کو اپنے مخصوص معیارات اور مسخ شدہ تصورات کے آئینے میں دیکھ رہا ہے۔ اس افسوس ناک نقطہ نظر کے نتیجے میں انسانیت پر بے پناہ مظالم توڑے گئے ہیں ۔ اس طرح مغرب کے عوام اور پالیسی سازوں کو اسلامی احیاء کی حقیقی نوعیت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ انھیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تاریخ کے ایک ناخوشگوار باب کی روشنی میں ان معاملات کو دیکھیں ۔
تحریک احیائے اسلام مستقبل کی جانب دیکھنے والی ایک تحریک ہے اور عیسائی گروہوں کی بنیاد پرستانہ سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس نے جدید کاری (ماڈرنائزیشن ) سے وابستہ مسائل اور ٹیکنالوجی کے چیلنجوں سے آگاہ ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ اسلام کے اصل ماخذوں یعنی قرآن اور سنت پر اس کا زور دینا اور اس کے ساتھ روح عصر کو سمجھ کر راستہ بنانا اس کی لچک کا مظہر ہے۔ اس میں اختراع (innovation) کی صلاحیت ہے کیوں کہ احیائے اسلام کی تحریک میں قدامت پرستی کا رویہ نہیں ہے کہ کسی مخصوص فقہی مسلک سے ہی منسلک رہا جائے۔ یہ تمام امکانات ان تجزیہ نگاروں کی طرف سے نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، جو موجودہ اسلامی دنیا کو ایسے منطقوں (categories) کی صورت میں دیکھتے ہیں جو اسلامی دُنیا سے متعلق ہی نہیں ۔
موجودہ مسلم ذہن کو اس وقت تک صحیح معنوں میں نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ہمیں اس بات کا احساس نہ ہو کہ موجودہ پریشان کن صورت حال کے بارے میں مسلمانوں کا ادراک محض سیاسی بے چینی سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اسلامی احیاء کو سمجھنے کی کوششیں اکثر سطحی اور متعصبانہ ہیں۔ یہ نظریہ کہ اسلامی احیاء بالخصوص ایران کا تجربہ محض تیز رفتار ترقیاتی کوششوں کا نتیجہ ہے نہایت ہی سادہ توجیہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ترقیاتی پہلو کے اپنے مسائل ہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مسلم عوام کا اسلامی احیاء کی قوتوں کی طرف رجوع تیز رفتار اقتصادی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں پیدا شدہ عناصر سے ظہور میں آیا ہے۔ یہ تشخیص مسلم معاشرے کے جذبوں کے بارے میں لاعلمی پرمبنی ہے۔
اسی طرح اسلامی احیاء کو محض مغربی استعمار کے خلاف عوام کا غم و غصے سے بھر پورحاسدانہ رد عمل قرار دینا بھی گمراہ کن نتیجہ ہے۔ استعمار کے خلاف رد عمل میں کوئی شک نہیں ہے تاہم یہ ردعمل سیاسی طیش کے اظہار سے کہیں زیادہ گہرائی رکھتا ہے۔ اس کی ایک زیادہ گہری وجہ ان تصورات، اقدار ،حکومت کے نظام اور اداروں پر عدم اطمینان ہے جو مغرب سے درآمد کر کے ان پر مسلط کیے گئے ہیں۔ ان کا یہ عدم اطمینان اپنی قیادت سے ہے جسے وہ مغربی مفادات سے وابستہ خیال کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیادت مغربی ترقی کے نمونوں اور اقدار کو مسلم معاشروں پر مسلط کرنے کے لیے محض آلہ کار ہے۔ اس طرح یہ احیاء ایک ہمہ جہتی مظہر ہے۔ ایک طرف یہ عوام کی امنگوں اور تاریخی آئینے میں مسلم تشویش کا اظہار ہے، جو حقیقتا اندرونی اور مقامی عناصر پر مبنی ہے۔ دوسری جانب یہ بیرونی حلقوں کی جانب سے مسلط کردہ فکری اور سیاسی چیلنج کے خلاف ایک رد عمل بھی ہے۔ یہ چیلنج استعمار کے خاتمے پر مسلم معاشرے میں بیرونی مداخلت ہے۔
اسلامی احیاء کی تحریک ، مسلم دنیا کی موجودہ صورت حال کی ناقد ہے۔ یہ ہمارے دور کے غالب کلچر یعنی مغربی تہذیب و ثقافت کی بھی ناقد ہے جو اکثر ملکوں میں چھائی ہوئی ہے۔ یہ تنقید ایک مختلف بنیاد اور مختلف زاویہ نظر یعنی اسلام کے اصل ماخذوں قرآن اور سنت کے حوالے سے ہے۔یہ تحریک ایمان کے احیاء کی نشان دہی کرتی ہے۔ اسلامی احیاء کی یہ جہت بیش تر مغربی تحریروں میں نظر انداز دکھائی دیتی ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ محض سیاسی اور سماجی ترتیب نو کا سوال ہے۔ سماجی نظم یقینا اہم ہے لیکن نکتہ آغاز ایمان کا احیاء اور اس کا استحکام ہے نیز فرد کی اخلاقی شخصیت اور اس کے کردار کی تعمیر نو ہے۔ روحانیت اور عینیت پسندی کا ایک بے پناہ جذبہ ہے جو درست سمت کے لیے ایک نیا احساس اُبھار رہا ہے اور لوگوں کو اپنی دُنیا کی تعمیر نو پر آمادہ کر رہا ہے۔
استعماری دور میں اور اس کے بعد قیادت کا جو نمونہ سامنے آیا اس میں نام نہاد مسلم قوم پرست اور سیکولر قیادت نے ذاتی مفادات کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ اخلاقی قدروں سے تہی دامن ہے اور بدعنوانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ مسلم ملکوں میں بدعنوانی اور استحصال طرز زندگی بن گیا ہے۔ مسلمانوں کی اپنی کمزوریاں اور انھیں عالمی صورت حال میں بہت دھچکے برداشت کرنے پڑے ہیں’ تاہم بدعنوانیوں کا موجودہ طوفان جو آج مسلم دنیا میں دیکھا جا رہا ہے بالکل نئی صورت حال ہے ۔ عام طور پر مسلمان اس صورت حال کو سیکولر ازم اور مغربیت کے اثرات کا منطقی نتیجہ بتاتے ہیں۔ ان کے خیال میں انفرادی اور اجتماعی اخلاق جو تو حید اور سنت رسول سے وفاداری پر مبنی تھے ان غیر ملکی اثرات کے زیر اثر کمزور پڑ گئے ہیں۔ مسلم تجدد پسندی، مسلم ممالک میں سیکولر ازم کے نفوذ کی کوشش تھی۔ اس نے مغربی لبرل ازم کی اقدار کو مسلم معاشرے پر اوپر سے تھوپنے کی کوشش کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے پر روایتی اقدار کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ لیکن اس خلا کو پرکرنے کے لیے کوئی نئی اخلاقیات وجود میں نہ آسکی۔ یہ وہ اخلاقی خلا ہے جس میں اقتصادی ترقی اور مادی خوش حالی کے نام پر ذاتی مفادات کے حصول ،اپنی دولت میں اضافے اور سماجی و اقتصادی استحصال کی کوششیں عام ہو گئیں۔
اسلامی احیاء معاملات کی اس صورت حال کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ تحریک اسلامی اخلاق کی بحالی اور اُمت مسلمہ کے مادی اور انسانی وسائل کو اُمت میں سماجی انصاف اور خود انحصاری کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ مسلم نوجوان اسلام کے فراہم کردہ اصولوں اور سیرت رسول کے مطابق اپنی انفرادی اور سماجی زندگی کی تعمیر نو کے جذبے سے سرشار ہیں۔ وہ نہ صرف ایک نیا سماجی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ نیا عالمی نظام صرف انھی کے لیے نہیں بلکہ دنیا کےتمام پسے ہوئے لوگوں کے لیے امن، وقار اور انصاف کا ضامن بن کر ابھرے۔
آخر میں، میں یہ کہوں گا کہ اسلامی احیاء بنیادی طور پر مسلم معاشرے کی اندرونی ،مقامی، مثبت اور نظریاتی تحریک ہے ۔ یہ لازمی امر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس کا دوسری قوتوں سے ربط ہو بلکہ کشمکش بھی ممکن ہے۔ مسلمانوں کا مغرب کے ساتھ بالخصوص نو آبادیاتی دور میں قریبی ربط اور معاملات کی تفہیم کا رویہ سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ جوابی ردعمل اسلام کا سب سے زیادہ فیصلہ کن عنصر نہیں رہا۔
اسلامی تہذیب کا چیلنج
مسلمان اپنا سماجی اور اقتصادی نظام اسلامی اقدار کے مطابق استوار کرنا چاہتے ہیں۔ تا ہم مسلمانوں کی ان قوتوں سے کشمکش لازمی ہے جو موجودہ حالات (status – quo) کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے حق میں ہیں اس سلسلے میں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ مغربی تہذیب پر مسلمانوں کی تنقید بنیادی طور پر سیاسی تصادم کی کوئی مشق نہیں ہے۔ بلکہ یہ معر کہ دو ثقافتوں اور تہذیبوں کی سطح پر ہوگا۔ ایک تہذیب اسلامی اقدار پر مبنی ہوگی اور دوسری کی اساس مادیت،قومیت پرستی اور سیاسی و اقتصادی لبرل ازم پر ہوگی ۔ اگر مغربی ثقافت، عیسائیت اخلاق کی مستقل اقدار اور ایمان پر مبنی ہوتی تو ربط یا مقابلے کی زبان اور طریق کار کی نوعیت مختلف ہوتی لیکن صورت حال یہ نہیں ہے۔ اب انتخاب “الہامی اصول “اور ایک “سیکولر مادی کلچر” کے درمیان ہے اور یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس مقابلے کو تمام باشعور انسان محض مغرب اور مشرق کی جغرافیائی سیاسی حد بندیوں یا عیسائیت بمقابلہ اسلام کے انداز میں دیکھیں گے۔ در حقیقت وہ تمام انسان چاہے وہ دُنیا کے کسی خطے میں رہتے ہوں، جنھیں ہمارے دور کے روحانی اور اخلاقی بحران پر تشویش ہے وہ اسلامی احیاء پر اطمینان کا سانس لیں گئے نہ کہ وہ اس سے خائف ہوں گے۔
اقدار اور ثقافت کی سطح پر جاری تنازعے کی نوعیت واضح ہو جانے کے بعد میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اس صورت حال کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاناچاہیے۔اورمسلم تحریک احیاء میں عصبیت پر مبنی مغرب مخالف جراثیم نہیں ہیں ۔ مغربی ملکوں اور مسلم دنیا کے درمیان سیاسی تعلق کے حوالے سے یہ تحریک نہ تو آنکھیں بند کر کے مغرب کے حق میں ہے نہ سرتا پا اس کے خلاف۔ حالانکہ مسلم ممالک اور مغرب کے درمیان دور استعمار کی تلخ یادیں موجود ہیں جو تعلقات کو مجروح کرنے کے امکانات رکھتی ہیں ۔ اگر چین اور امریکہ کسی مشترکہ ثقافت اور یکساں سیاسی و اقتصادی نظام کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کر سکتے ہیں، تو مغرب اور مسلم دنیا آپس میں ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟ بہت حد تک اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مغرب اسلامی احیا ءکو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر مسلم ذہن اور مسلم نقطۂ نظر سے مغربی طاقتیں، مسلم معاشرے پر مغربی ماڈل مسلط کرنے اور مسلمانوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مغربی غلبے کے نظام میں جکڑ رکھنے اور مسلم کچر اور سوسائٹی کو براہ راست یا بالواسطہ غیر مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھتی ہیں تو لازمی طور پر کشیدگی بڑھے گی اور باہمی اختلافات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اور اگر معاملات مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے پرامن طور پر اور ایک دوسرے کے حقوق کے احترام کے جذبات سے حل نہ ہوئے تو ان معاملات کے حل کے لیے دوسرے طریقوں پر چل پڑنا نا گزیر ہے۔
دوسری طرف ہم تسلیم کریں کہ یہ ایک مختلف طرز کے معاشروں کی دُنیا ہے۔ مغربی کلچر دوسری ثقافتوں اور تہذیبوں کے شانہ بشانہ ان پر غلبہ پائے بغیر پھل پھول سکتا ہے اور دوسرے لوگ لازمی طور پر دشمن نہیں ہیں۔ اس صورت میں اس بات کا حقیقی امکان ہے کہ ہم اختلاف رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھیں۔
اگر ہم اس نقطہ نظر کی پیروی کے لیے تیار ہیں تو ہم بہت سی مشترکہ بنیادیں اور مشترک چیلنج تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہی مستقبل کے عالمی نظام کی کلید ہے کیا ہم تمام ثقافتوں، مذاہب اور اقوام کی بقائے باہمی، بلکہ انھیں اپنی بقاء میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو مستقبل روشن ہے۔ مسلم دنیا انسانیت کے روشن مستقبل کے لیے جدو جہد کرنا چاہتی ہے تا ہم اس کا زیادہ تر انحصار مغرب کی سیاسی، فکری، فوجی اور ابلاغی قیادت پر ہے کہ وہ اس چیلنج کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کرتی ہے۔


