امت مسلمہ کا مستقبل

پروفیسر خورشید احمد
کر اچی کے مشہور و معروف اسلامی تہذیبی مرکز جمعیت الفلاح کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ گذشتہ اڑتیس سال سے یہاں ملک کی اہم شخصیات ملت کو درپیش اہم ترین مسائل پر اظہار خیال کرتی رہی ہیں ۔ جمعیت الفلاح میں انسٹی ٹیٹوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد کے چئیرمین پروفیسر خورشید احمد نے ” امت مسلمہ کا مستقبل ” پر خطاب فرمایا۔ اسے خطاب کا مکمل متن کتابی شکل میں شائع کیا جارہا ہے ۔
اس خطاب کے موقع پر جمعیت الفلاح کے صدر کمانڈر (ریٹائرڈ) محمد ادریس خان نے مقرر مذکور کا تعارف کرایا ۔ صدر جمعیت الفلاح کا یہ تعارف مقرر اور مضمون پر مختصر مگر جامع تبصرہ ہے۔ اس لئے اسے ہی پیش لفظ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
طابع : پروفیسر سید لطف الله
اشاعت : پہلی بار نومبر ۱۹۸۸ء
پیش لفظ
آج جمعیت الفلاح کے اس فورم سے پروفیسر خورشید احمد صاحب کو خوش آمدید کہتے ہوئے اور ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے میرا دل انبساط اور مسرت سے معمور ہے۔ پروفیسر صاحب کا تعارف کرانا تو یقیناً ایسا ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ وہ خود خورشید ہیں اور آفتاب آمد دلیل آفتاب کے مصداق کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس برصغیر میں جو تحریک برپا کی۔ اس نے ہمارے معاشرے کے انتہائی فعال ، ذہین، صاحب ِکردار اور صاحبِ فکر و نظر نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچا اور ان کے اندر اپنے کردار کو درست اور آراستہ کرنے کا احساس بیدار کیا۔ اور ان کے اندر اپنی روح بھرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ پروفیسر خورشید احمد انہی چند با کردار نو جوانوں میں سے ہیں جو مولانا محترم کی فکری گرمی کے صحیح جانشین ہیں ۔ آپ نے اجتماعی زندگی کے ہر میدان میں، خواہ وہ ادب کا میدان ہو، تاریخ کا میدان ہو ، معاشیات کا میدان ہو، معاشرتی میدان ہو، دستوری تجدید ہوں، ہر میدان میں ہمہ پہلو جد و جہد سے ثابت کر دیا کہ آپ اس کے حقیقی معنوں میں مستحق ہیں ۔ خاص طور پر مولانا کے بعد تو ہم سب کی نظریں کسی بھی مشکل وقت میں فکری رہنمائی کے لئے جن چند گنے چنے لوگوں کی طرف اٹھتی ہیں، ان میں خورشید صاحب سر فہرست ہیں۔ اسلام کا اساسی نظریہ ہو یا اسلامی ریاست کی تشکیل ہو، اسلامی قانون کے مسائل ہوں یا سوشلزم کی بحث، ادبیات مودودی ہوں یا تفہیم القرآن کا تعارف ہو۔ تمام موضوعات پر آپ نے مولانا کی فکر کو پھیلایا ہے بلکہ بے شمار مقامات پر اپنی طبع خداداد سے اس میں اضافہ اور اس کی شرح بھی کی ہے۔ آج امت مسلمہ کے مستقبل پر آپ کا خطاب حقیقتاً آپ کے مرتبہ کے شایان شان ہے، اس لئے کہ مستقبل کے بارے میں وہی کچھ کہنے کی اہلیت رکھتا ہے جو ماضی سے باخبر ہو اور جس کی نظر حال پر ہو، اور اتنی گہری نظر ہو کہ وہ حال کے تانے بانے سے اور ماضی کے تاروں سے وہ سلسلہ رکھے کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں بے شمار جگہ ذکر کیا ہے کہ تمہارامستقبل تمہارے ماضی اور تمہارے حال سے وابستہ ہے ، جب تک ان کے اوپر کسی کی نظر نہیں ہوگی اس وقت کہناممکن ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں کوئی ایسی بھر پور پر بات کہہ سکے جو ذہنوں کو متاثر کرے اور جو ہمیں نشان راہ دکھا سکے۔ خورشید صاحب حقیقتاً اس کے اہل ہیں ، اور میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ آج کا ان کا خطاب ہمارے لئے فکری اور عملی رہنمائی کی راہیں متعین کرے گا۔ میں جمعیت الفلاح کی جانب سے آپ کو یہاں خوش آمدید کہتے ہوئے قلبی مسرت محسوس کرتا ہوں ۔ اب میں آپ کے اور ان کے در میان مزید حائل نہیں ہونا چاہنا اورمحترم خورشید صاحب کو دعوت خطاب دیتا ہوں ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم کما نڈر ادریس صاحب، محترم پروفیسر لطف اللہ صاحب اور میرے نہایت محترم اور عزیز دینی بھائیو۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ میں جمعیت الفلاح کے لئے نیا ہوں اور نہ جمعیت الفلاح میرے لئے نئی ہے، میں ان جذبات کے لئے کمانڈر صاحب کا ممنون ہوں، جن کا انہوں نے اظہار کیا ہے ۔ یہ مجھے شرمسار کرنے کے لئے کافی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے صرف یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے میرے بھائیوں کی تمناؤں کے مطابق بننے کی توفیق دے اور جو تھوڑی بہت خدمت کی توفیق وہ اپنے فضل سے دے رہا ہے اسے قبول فرمائے۔
برادران محترم! آج آپ نے مجھےجس موضوع پر گفتگو کی دعوت دی ہے وہ ہے ’’امت مسلمہ کا مستقبل‘‘ اس امت کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تھوڑی سی بات اس کےماضی اور اس کے حال کی کی جائے۔ اسی سے مستقبل کے نقوش ابھریں گے اور اس کی راہیں زیادہ نمایاں طور پر نظر آسکیں گی۔
یہ امت اپنا ایک خاص مزاج رکھتی ہے
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
علامہ اقبال نے بہت صحیح کہا تھا۔ اس لئے کہ دنیا میں قومیں اور تہذیبیں ، نسل کی بنیاد پر، زبان کی بنیاد پر، مقام ، زمین ، علاقہ کی بنیا دوں پر، مشترک تاریخ ،معاشی مفاد اور سیاسی مفادات کی بنیادوں پروجود میں آئیں خصوصیت سے اس دور میں جب نبی اُمی محبوب خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی دعوت انسانوں کے سامنے پیش کی۔ اس وقت تین بڑے بڑے بت تھے جن کی پوجا مختلف شکلوں میں پوری دنیا میں ہو رہی تھی۔ ایک خون اور نسل کا بت تھا۔ نسلی برتری کا تصور کوئی بہت جدید تصور نہیں ہے۔ ہمیں یہ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے کہ اس تصور کی تاریخ پیدائش ڈارون کے تصورات کے سماجی اثرات سے شروع ہوتی ہے یا ہماری اپنی صدی میں ہٹلر نے نسلی برتری کی بنیاد پر ایک عالمی طاقت قائم کی حقیقت یہ ہے کہ خون اور نسل کی بنیاد پر تحریک، سماج حتیٰ کہ مذہب کی تعمیر کا کام بڑا پرانا ہے اور یہودی مذہب اور یہودی تہذیب اس کی مثال ہے جس میں مذہب کو اور خدا کی مرضی کو بھی ایک مخصوص نسل سے وابستہ کر دیا گیا تھا۔ دوسرابت ، زمین ، علاقہ اور وطن کا تھا، یہ وبا بھی اس دور کی ساری معلوم دنیا میں پھیلی ہوئی تھی خواہ آپ یورپ کو دیکھیں، افریقہ کو دیکھیں یا ایشیا کو ، یہ تصور عام تھا۔ اگر قبائلیت کی بنیاد خون پر تھی تو وطنیت کی بنیاد زمین پر تھی اور اپنی زمین کے حوالے اپنی شناخت تلاش کرنا، اس کی خاطر جینا اور اس کی خاطر مرنا عام تھا۔ اور تیسرابت ، دولت اور معاشی قوت کا تھا۔ یہ تین بڑے بڑے بت تھے جن کی پوجا تہذیب کے آغاز سے ہی انسان کرتا رہا ہے۔
جس وقت حضورؐ نے اپنی دعوت اور تحریک کا آغاز کیا، ا س وقت یہ تینوں تصورات دنیا کے سامنے اس دور کے ماڈرن آئیڈیل کے طور پر موجود تھے لیکن آپ ؐنے لا الٰہ کے ذریعے ان تینوں خداؤں کو پاش پاش کیا۔ آپؐ نے اس کے مقابلے میں انسانی زندگی کا ، انسانی تہذیب کا، انسانی معاش کا اور انسانی اجتماع کا ایک نیا تصور پیش کیا۔ وہ تصور یہ تھا کہ انسانوں کو انسان بنانے والی اور جوڑنے والی قوت ایمان ہے یعنی اللہ کواپنا ا لٰہ تسلیم کرنا اور اللہ کے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہادی اور رہنما ماننا۔
لا الٰہ الا الله محمد رسول اللہ کا یہ اعلان ایک بندے کو بیک وقت رب سے جوڑتا ہے اور دوسری طرف انسانی اجتماع کی بنیاد رکھتا ہے۔ ہر وہ فرد جو اس کلمے پر ایمان رکھتا ہو ، جوا سے حق تسلیم کرتا ہوا جو اس میں اپنی زندگی کے معنی تلاش کرتا ہو اور جو اس کے مطابق جینے اور مرنے کا عزم رکھتا ہو، وہ ایک امت ، ایک اجتماع اور ایک سوسائٹی بنتا ہے۔ اس کے ذریعہ ایک تہذیب وجود میں آتی ہے۔ یہ وہ انقلابی تصور تھا جو محمد عربی ؐنے انسانیت کے سامنے پیش کیا۔ اسی ایک کلمے کی بنیاد پر وہ جو جگری دوست تھے ایک دوسر سے کٹ گئے اور جو بیگانے تھے اس کلمہ پر جمع ہو کر جگری دوست بن گئے۔ ایک باپ اور ایک ہی ماں کی دو اولادیں اگر ایک ایمان کے راستے کو اختیار کرتا ہے اور دوسرا کفر کے راستے کو اختیار کرتا ہے تو زندگی میں ان کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ عزوہ بدر میں اسلام کے قافلے میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ اور کفار قریش کی طرف سے ان کے اپنے لخت جگر لڑ رہے تھے۔ ان کے صاحبزادے نے جو بعد میں ایمان لے آئے ایک مرتبہ اپنے والد سے کہا کہ ابا جان ، غزوہ بدر میں ایک نازک لمحہ ایسا بھی آیا تھا کہ آپ کی گردن میری تلوار کی زد میں تھی لیکن میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ باپ نے کیا کہا۔ انہوں نے کہا کہ اے لخت جگر اگر تم میری تلوار کی زد میں آتے تو میں تمہیں کبھی نہ بخشا۔ آپ نے دیکھا کہ خون کے رشتے پر ایمان کا رشتہ غالب ہوا۔ یہ تھا وہ انقلابی تصور۔ آخر کیا حکمت ہے کہ مسلمان اپنا کیلنڈر، اپنی تاریخ اور اپنے دور کا آغاز نہ اس دن سے کرتے ہیں جس دن حضورؐ پیدا ہوئے ، نہ اس دن سے کرتے ہیں جب آپؐ کا وصال ہوا حتیٰ کہ اس دن سے بھی نہیں کرتے جب پہلی وحی نازل ہوئی بلکہ اس دن سے کرتے ہیں ۔ جب آپ نے اپنے وطن کو چھوڑا اور صرف اس لئے چھوڑا کہ اللہ کا دین سر بلند ہو۔ آپ کے پیش نظر یہ تھا کہ اس کلمے کی بنیا دپر ایک نئی تہذیب قائم ہو اور ایک نیا معاشرہ وجود میں آئے۔ اسلام کا زندگی کے بارے میں دراصل نقطہ ءنظریہ ہے اور امت مسلمہ کی اصل خصوصیت اور اس کا مزاج یہ ہے۔ یہ امت کوئی معروضی چیز نہیں ہے جو ہمیں محض ماں باپ سے خون کے رشتے سے مل رہی ہو۔ کوئی مفاد کا معاملہ نہیں ہے۔ کسی مخصوص زمین کی حفاظت کے لئے وجود میں نہیں آئی ہے۔ مکہ مقدس اور مکرم اس وقت بھی تھا جب ہجرت کی گئی۔ ہجرت کے بعد بھی مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ بے چین ہو کرباہر نکلتے تھے کہ صرف اس رخ پر دیکھ لیں جہاں مکہ ہے، جہاں بیت اللہ ہے، لیکن جب اس سرزمین پر اللہ کے دین کے لئے گنجائش نہ رہی تو پھر زمین کی، وطن کی اور اس جگہ کی محبت جہاں وہ پیدا ہوا تھا، کسی کی اہمیت نہ رہی بلکہ ایمان کا امتحان یہ ٹھہرا کہ اب اتنی پاک سر زمین کو بھی چھوڑ دیا جائے۔
برادران محترم !میری نگاہ میں امت مسلمہ کا مزاج جن تین چیزوں سے عبارت ہے۔ ان میں پہلی چیز ایمان ہے اور یہی اس کی امتیازی شان ہے۔ یہ ایمان کی بنیاد پر انسانوں کو منظم اور مجتمع کرتی ہے۔ انہیں سوچنے کا ایک انداز، غور و فکر کا ایک اسلوب اور تدبر و تفکر کی ایک نہج دیتی ہے اور دوسری طرف اسی ایمان کی بنیاد پر امت کو وجود میں لاتی ہے۔
دوسری چیز جس سے اس اُمت کا مزاج عبارت ہے، ہجرت ہے۔ ایمان کو قبول کر لینے کے بعد بدی سے ہجرت اور نیکی کی طرف مراجعت ہوتی ہے۔ یہ انسان کے لئے زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ ہے ۔ ہجرت اس بات سے شروع ہوتی ہے کہ میں ہر اس چیز کو چھوڑ دوں جس میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہو، جسے وہ ناپسند کرتے ہیں وہ مجھے ناپسند ہو جائے، جسے وہ پسند کرتے ہیں اسے میں پسند کرلوں ، اور یہ سب سے پہلی ہجرت ہے اور پھر یہ ہجرت اپنی انتہا کو اس وقت پہنچتی ہے جب ہر وہ چیز جو اسلام کی راہ میں خارج ہو رہی ہو، حتیٰ کہ میرا وطن احتیٰ کہ میرے ماں با پ سب کو چھوڑ دینے میں تکلف نہ ہو، آپ کو معلوم ہے کہ ہجرت کرنے والوں میں جو پیچھے رہ گئے ، ان سے رشتے ٹوٹ گئے۔ حتیٰ کہ اگر شوہر چلا گیا ہے اور بیوی رہ گئی ہے تو ان میں رشتہ باقی نہیں رہا۔ ایمان اور ایمان کے مطابق ہجرت اور پھر اس ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اجتماعی جد و جہد یعنی جہاد تیسری چیز ہے جس سے امت مسلمہ کا مزاج عبارت ہے۔ یہی تین امت مسلمہ کے تشکیلی عناصر ہیں۔
یہاں میں نہایت اختصار سے تین دوسری باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
یہ امت دنیا کے سامنے انقلاب کا جو بالکل نیا اسلوب پیش کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک انسان کو تبدیل نہ کیا جائے انسان کو اندر سے نہ بدلا جائے ، اس کی قلب ماہیت نہ ہو، اس کے مزاج کو، اس کے کردار کو تبدیل نہ کیا جائے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی۔ انقلاب کے وہ سارے نعرے اور سارے دعوے جھوٹے ہیں جن میں اندر سے انسان کو بدلے بغیر کوئی تبدیل مسلط کی جائے۔ آپ دیکھئے خواہ یونان کے حکمار ہوں، چین کے مفکر ہوں ، ہندوستان کے دانشور ہوں یا دور جدید کے فلسفی اور مفکر ہوں سب یہ کہتے ہیں کہ اگر انسان کو بدلنا ہے تو تعلیم کو بدل دو، معاشرے کے قانون کو بدل دو انسان بدل جائے گا لیکن یہ بڑا ناقص اور خام تصور ہے۔ اس لئے کہ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اگر انسان کو، اس کے مزاج کو، اس کے اخلاق کو اور اس کے کردار کو نہ بدل جائے تو تعلیم سے آراستہ ہو کر وہ چور جو پہلے دیوار پر سے چھلانگ لگا کہ چوری کیا کرتا تھا آج بہترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے وہی کام کرتا ہے۔ تنظیم کتنی ہی عمدہ کر دی جائے۔ اگر دل سے برائی دور نہیں ہوئی تو جتنی زیادہ تنظیمی قوت اور نئی ٹیکنالوجی حاصل ہوگی، برائی اتنی ہی زیادہ منظم ہو کر اتنے ہی زیادہ نئے ہتھیاروں سے آراستہ ہو کر حملہ آور ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ جتنی قوت بڑھتی جائے گی بگاڑ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ تو نہ تعلیم، نہ قانون، نہ تنظیم، نہ ٹیکنالوجی کوئی بھی انقلاب کی ضمانت نہیں ہے جب تک کہ انسان کی اصلاح نہ ہو جائے۔
رفقاء محترم ! اس امت نے جو طریقہ اصلاح دنیا کے سامنے پیش کیا اس کی بنیا د انسان کو اندر سے بدلنا اور اس کے مزاج کو تبدیل کر دینا ہے۔ لیکن کچھ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام یہاں پر رک نہیں جاتا۔ انسان کے مزاج اور اس کے اخلاق اور کردار کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اسی انداز پر معاشیت کے پورے نظام کو بھی تبدیل کرنا ضروری قرار دیا۔ تعلیم ، قانون، ٹیکنالوجی ، ادارے، ان سب کی تبدیلی اسلام کی نگاہ میں ناگزیر اور ضروری ہے لیکن نقطہ آغازہ یہ ہے کہ انسان کو اندر سے بدلا جائے اور پھر قانون معاشرت، معیشت ، تہذیب و تمدن، فنون اور عمارات، عدالت، سیاست بین الاقوامی تعلقات غرض زندگی کے ہر شعبہ کو اس نئے اسلوب اور نئے انداز کے مطابق ڈھالا جائے اور نئی بنیادوں پران کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ پس ہجرت کا پیغام یہی ہے کہ مزاج تبدیل کرو اور اس مزاج کے مطابق نظام تبدیل کرو۔ اس مزاج سے محض نئے افراد ہی تیار نہیں کرنا ہیں بلکہ اسی مزاج کا معاشرہ ، ریاست ، معیشت اور تمدن بھی بنانا ہے۔ اس مزاج اور مزاج کے مطابق نظام بنانے کے ساتھ ساتھ اسلام چاہتا ہے کہ آپ زمانے کو بدلیں۔ اسلام اس لئے نہیں آیا کہ دنیا میں دوسرں کا تابع ہو کر رہے۔ اسلام تو وہ انقلابی پیغام لے کر آیا ہے جس سے دنیا کی قیادت کی ذمہ داری اس گروہ اور اس امت کے ہاتھوں میں آتی ہے جو اس پیغام کی علمبردار ہے، اسے صرف اپنے ہی کو نہیں بدلنا ، صرت اس نئے نظام ہی کو اپنے اوپر قائم نہیں کرنا، بلکہ دنیا کے نظاموں کو بھی تبدیل کرنا ہے۔ یعنی زمانے کو بدل دینا ہے۔ کتنے ظلم اور افسوس کا مقام ہے کہ جو مسلمان زمانے کو بدلنے کے لئے آئے تھے وہ بھی کبھی کبھی یہ سوچنے لگتے ہیں کہ زمانے کے ساتھ ساتھ چلو اور ہوا کے رخ پر جیو ۔ یہ امت ہوا کے رخ پر اپنا رخ بدلنے کے لئے نہیں آئی ہے۔ یہ امت اس لئے وجود میں آئی ہے کہ پہلے اس نظام کو بدلے اور پھر زمانے کے مزاج کو بدلے تاکہ پوری انسانیت کے سوچنے کا انداز تبدیل ہو جائے۔ خیر و شر کے وہ پیمانےچلیں جو اللہ اور اس کے رسول نے دیئے ہیں اور جاہل تہذیبوں نے کامیابی اور ناکامی کے جو تصورات دیئے ہیں انہیں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جا۔
قرآن کہتا ہے:
“كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ“
“تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے بھیجی گئی، کہ تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔“
اور یہ اس لئے کہ تم اللہ پر ایمان رکھنے والے ہو۔ کسی مصلحت کی بناء پر نہیں ، کسی سیاسی بازی گری کے لئے نہیں محض دولت جمع کرنے کے لئے نہیں، محض اپنا اقتدار چمکانے کے لئے نہیں ، صرف اس لئے کہ یہ تمہارے ایمان کا تقاضا ہے۔ اس کے نتیجے کے طور پر ایک کشمکش پیدا ہونی چاہیے ۔ یہ کشمکش سب سے پہلے تمہارے اپنے اندر پیدا ہوگی تا کہ تم بدی اور نیکی میں تمیز کرسکو۔ غفلت انسان کے لئے سب سے بڑا مرض ہے ۔نیکی بھی اگر غفلت کے ساتھ ہو تو اپنی قدر کھو دیتی ہے۔ اسی لئے حضور نے فرمایا ۔
انما الاعمال بالنيات
اور نیت تازہ کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ نیکی بھی غفلت سے نہ کرو نیکی بھی سوچ سمجھ کے کیا کرو۔ اللہ کی خاطر کر و، اللہ سے اجر کی توقع کے ساتھ کرو۔ یہی چیز اس کو شعور کے مقام پر لے آتی ہے پھر یہ کشمکش معاشرہ میں برپا ہو ، خیر کی قوتوں کو مضبوط کرو، باطل کی قوتوں سے ٹکرلو ،باطل کو انگیز کرنا، باطل کو برداشت کرنا بھی باطل کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔ باطل تو اس لئے کہ اس کا مقابلہ کیا جائے۔
جاء الحق وزهق الباطل، أن الباطل كان زهوقا
تو امت مسلمہ کا مزاج یہ ہے کہ یہ ایک نظریاتی امت ہے، یہ ایک ایک دعوت اور تحریک کی علمبردار امت ہے اور اسے انسانیت کی امامت اور قیادت کے لئے بھیجا گیا ہے دوسروں کےپیچھے چلنے کے لئے نہیں۔
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
اللہ تو وہ ہے جس نے اپنے نبیؐ کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ بھیجاتا کہ اس دین کو دنیا کی تمام تاریکیوں ں کے اوپر غالب کر دیا جائے۔
یہ ہے در اصل اس امت کا مزاج۔ حقیقت یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قیادت میں عملاً یہ تہذیب قائم ہوئی اور جب اس امت نے ایمان ، ہجرت اور جہاد، ان تینوں چیزوں کو تھام لیا تو آپ دیکھئے کہ سو سال کے اندر اندردنیا کے بڑے رقبہ پر مسلمان غالب تھے ۔ وہ جد ھر چلے جاتے مظلوم انسان بڑھ کر ان کا خیر مقدم کرتے تھے۔ پھر تاریخ نے یہ مثال بھی دیکھی کہ مقامی آبادیاں مسلمانوں کا خیر مقدم کرتی ہیں اور یہ کہتی ہیں کہ یہ ہمیں ہمارے حقوق دلانے کے لئے آئی ہیں۔ انہوں نے ہمیں ظلم کی چکی سے نجات دی ہے پھر تاریخ نے یہ مثالیں بھی دیکھیں کہ اگر کسی علاقہ کی حفاظت مسلمان نہیں کر سکتے تھے اور وہاں سے اپنی فوجیں واپس لے جاتے ہیں تو وہاں کے غیر مسلم یہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں کن کے ہاتھوں چھوڑ کے جا رہے ہو۔ تم نے تو ہماری عورتوں کی عصمتوں اور عزتوں کو بچایا ہے ۔ تم نے ہمیں ظالم کے ظلم سے اور لوٹنے والوں کی لوٹ سے نجات دلائی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے قدم پیچھے ہٹتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان سے جو جذیہ لیا تھا وہ ان کو واپس کر دیں ، اگر ہم ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہمیں جذیہ لینے کا حق نہیں ہے۔ ایران کے بادشاہ کے درمیان مسلمان سفیر پہنچتا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم لوگ کس لئے آئے ہو، تم لوگ بھوکے ہو، تمہیں مال و دولت چاہیے۔ گھوڑے اور اونٹ چاہئیں تو لے جاؤ۔ انہوں نے کہا، ہم اس لئے نہیں آئے ہیں ۔ ہم صرف اس لئے آئے ہیں کہ انسان پر سے انسان کی حکومت ختم کریں اور اللہ کی حکومت قائم کریں۔ اس وقت یہ ا نداز تھے اسی لئے صرف سو سال میں مسلمان پوری دنیا پر چھا گئے اور پھر یہ محض سیاسی غلبہ نہیں تھا۔ ہم نے وہ کلمہ پیش کیا جس کا کوئی توڑا انسان کے پاس نہیں تھا وہ دلیل اور فکر پیش کی جو دلو ں پر چھا گئی اور جس نے لوگوں کے سوچنے کے اندازہ کو بدل دیا۔ اس نے ان علاقوں پر ہی نہیں جہاں مسلمان تھے بلکہ ان مقامات پر بھی جہاں مسلمان کبھی نہیں پہنچے ، وہاں بھی افکار کو متاثر کیا۔ توحید کے تصور کے اثرات ان علاقوں تک بھی پہنچے ہیں جہاں تک مسلمان نہیں پہنچ پائے تھے۔ جو علمی چلینج کہیں سے آیا، مسلمانوں نے اس کے مقابلہ میں اس سے بڑھ کر تخلیقی قوت کا مظاہرہ کیا۔ علوم القرآن ہوں، علوم الحدیث ہوں یا علم الکلام ہو ہر میدان میں مسلمانوں نے اپنا سکہ منوایا۔ پھر بات صرف فکر تک ہی نہیں تھی ، مسلمان ٹیکنا لوجی کے میدان کے بھی امام تھے۔ انسانیت کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچانا مسلمانوں کا شیوہ تھا۔
آپ کو معلوم ہے کہ سائنسی طریقہ یعنی مشاہدہ اور تجربہ کا طریقہ مسلمانوں نے دنیا میں رائج کیا۔ یونان کی سائنس تخیلات اور ظن و تخمین پر مبنی تھی مسلمانوں نے حقائق مشاہدہ اور تجربہ کا راستہ اختیار کیا اور فکر اور عمل کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا جس وقت امیر معاویہ کے زمانے میں مسلمانوں نے قسطنطینہ پر لشکر کشی کی تو پانی کے سینکڑوں جہاز ان کے ساتھ تھے۔ یہ وہ ٹیکنا جی تھی جو سو سال کے اندر اندر حاصل کی گئی تھی۔ پھر اس نے ادب ، شعر ، فن تعمیر ، غرض زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا۔ مسلمانوں نے قرآن کی حفاظت کیلئے کتابت شروع کی کتابت کے لئے روشنائی بنائی۔ روشنائی کی تلاش میں کیمیائی تجزیہ شروع کیا۔ کا غذ بنا یا ، چرم سازی کی ، ایسی رو شنائیاں بنائیں جو صدیوں زندہ رہ سکیں ۔جس میں میدان میں انہوں نے قدم رکھا وہاں انہوں نے اپنا نقش چھوڑا اور ایک نئی چیز وجود میں آئی ۔
رفقا محترم ۔یہ حق تخلیقی قوت تھی اس کا اصل منبع ایمان ، ہجرت اور جہاد تھا۔ اس ہدف نے کہ ہمیں انسان میں ایک نیا مزاج پیدا کرنا ہے، ایک نیا نظام قائم کرنا ہے اور زمانہ کے مزاج کو بدل دینا ہے ، انسان کے اندر سے تخلیق کے چشمے جاری کر دیئے۔ اور پھر تاریخ نے یہ مثالیں دیکھیں کہ فتح ایران کے وقت ایک معمولی سپاہی بادشاہ کا تاج لیکر کمانڈر کے پاس آتا ہے اور اس کی خدمت میں پیش کرتا ہے کہ یہ میں نے حاصل کیا ہے۔ کمانڈر کی آنکھیں اس امانت اور دیانت پر کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔
وہ اس کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔ اور پوچھتے ہیں کہ تمہارا نام کیا ہے اور وہ سپاہی جواب دیئے بغیر خیمے سے نکل جاتا ہے اور یہ جملہ کہتا ہے، جس کے لئے میں نے کیا ہے وہ میرا نام جانتا ہے۔ میں اتنا بھی نہیں چاہتا کہ تم یہ جانو اور یہ بھی تاریخ کا واقعہ ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ جب قحط پڑتا ہے تو خود گوشت کھانا ترک کر دیتے ہیں۔ گھی کھانا ترک کر دیتے ہیں کہ جب تک تمام مسلمانوں کو یہ چیزیں میسر نہیں آئیں گی یہ چیزیں ان کے لئے بھی جائز نہیں۔ جب سیدنا عمر بن عبد العزیزؓ سے ملنے کے لئے کوئی آتا ہے اور نجی معاملات پر گفتگو شروع کرتا ہے تو آپ اسے کہتے ہیں کہ ذرا ٹھہرو۔ وہ چراغ بجھا دیتے ہیں اور معمولی ساد و سرا چہانے لے آتے ہیں۔ وہ پوچھتا ہے کہ ایسا آپ نے کیوں کیا۔ وہ کہتے ہیں یہ جو چراغ تھا بیت المال کے پیسوں سے تھا۔ اور جب تم نے نجی گفتگو شر وع کر دی تو پھر یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے جو میرا ہے۔ تو یہ ہے اس امت کا مزاج ۔ ایمان ، ہجرت اور جہاد فرد میں نیا کردار پیدا کرتے ہیں۔ ان افراد کے ذریعے نیا نظام بناتے ہیں اور یہ فرد اور یہ نظام، زمانہ کو تبدیل کرنے کے لئے جد و جہد کرتے ہیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ہلاکو کی فوجوں نے مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔مسلمانوں کے پاس قوت تھی۔ ان کی سلطنت بڑی وسیع تھی ۔ شان و شوکت تھی۔ رعب دبدبہ تھا۔ دولت تھی لیکن ایمان کمزور ہو گیا تھا۔ وہ مزاج باقی نہیں رہا تھا۔ وہ اس نظام کو بھول گئے تھے۔ وہ ملو کیت کے پنجے میں آگئے تھے۔ وہ انصاف کے ان احکام اور ان روایات کو ترک کرنے لگے تھے جن پر یہ امت قائم ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے مشن کو ترک کر دیا۔ انہوں نے کمر کھول دی اور عیش و آرام کی تلاش میں لگ گئے۔ وہ سمجھنے لگے کہ محض بڑی عمارتیں تعمیر کر دینے کا اور اچھے اچھے لباس پہن لینے کا نام تہذیب ہے۔ تو پھر ان فوجوں نے جنہیں تہذیب کی ہوا بھی نہیں لگی تھی اس پورے نظام کو ہلا دیا ۔لیکن دیکھئے،مسلمانوں پر ضرب لگی وہ شکست کھا گئے لیکن اسلام ان وحشی قوموں کو جنہوں نے مسلمانوں کو شکست دی تھی فتح کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک ہی صدی کے اندر اندر اسلام نے اس قوم کو مسخر کر لیا۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کیا ہے :
پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے
یہ معجزہ کیسے ہوا؟ یہ معجزہ اسلام کے پیغام کی بناء پر ہوا ۔اسی ایمان، اسی اخلاق اور اسی مزاج کی وجہ سے ہوا میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میں تفصیل میں جاؤں لیکن کا شغر کا صرف ایک واقعہ آپ کو بتلاتا ہوں کہ تیمور کس طریقے سے مسلمان ہوتا ہے۔ یعنی ابھی وہ بادشاہ نہیں ہوا تھاولیعہد تھا کہ ایک موقع پر اس کو ایک بزرگ، جنگل میں ملے اور اس نے بڑی تحقیر کے ساتھ ان سے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تم زیادہ اچھے ہو یا میرا کتا زیادہ اچھا ہے۔ ان بزرگ نے کہا کہ میں ابھی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس نے کہا۔ آخر کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ اگر میرا خاتمہ ایمان پر ہو تو میں اچھا ہوں اور اگر میرا خاتمہ ایمان پر نہ ہو تو یہ کتا مجھ سے اچھا ہے۔ یہ ایک جملہ اس کے دل پر اثر کر گیا اس نے کہا کہ تم مجھ سے میرے محل میں آکر ملنا۔ وہ بزرگ یہی تمنا دل میں لئے مر گئے۔ مرتے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کر گئے کہ تم میرے مرنے کے بعد بادشاہ کے پاس جانا اس کو بتانا کہ میرے باپ نے یہ کہا کہ الحمد للہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا۔ اس وقت تک تیمور بادشاہ بن چکا تھا یہ بادشاہ کے محل پر پہنچ گئے۔ مگر کسی نے اندر نہ جانے دیا۔ باہر جھونپڑا ڈال لیا۔ ایک دن فجر کی اذان دے رہے تھے تو وہ آواز بادشاہ تک پہنچی اور اس نے کہا یہ کون ہے جو شور مچارہا ہے اسے بلاؤ ۔ جب اسے بلایا گیا تو اس نے کہا کہ اس کا جواب تو ہیں بعد میں دوں گا کہ میں کیا کر رہا تھالیکن ایک امانت ہے جو مجھے آپ تک پہنچانی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک ایسا واقعہ آپ کے ساتھ ہوا تھا اور وہ میرے والد تھے جن سے آپ نے یہ سوال کیا تھا اور انہوں نے یہ جواب دیا تھا۔ الحمد للہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ امانت آپ تک پہنچا دوں۔ تو دراصل یہ تھا وہ ایمان ، یہ تھا وہ مزاج کہ جس نے ساری کایا پلٹ دی۔ اس تہذیب کی اینٹ سے اینٹ بج گئی جو قائم ہوئی تھی لیکن پھر ایمان کی قوت سے دوبارہ نیا دور شروع ہوا اور پھر سات آٹھ سو سال تک اسلامی تہذیب کو ایک نئی قوت اور ایک نیا دور نصیب ہوا۔
میں نے تاریخ کی صرف چند جھلکیاں آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ اب آئیے اپنے حال پر نظر ڈالیں۔ میری نگاہ میں اس وقت چار خصوصیات ایسی ہیں جن سے امت مسلمہ کی موجودہ کیفیت کو سمجھنا آسان ہو سکتا ہے۔
پہلی چیز یہ ہے کہ تعداد کے اعتبار سے آج اُمت مسلمہ انسانیت کا ایک بڑا اہم حصہ ہے۔ آج دنیا میں تقریباً ایک ارب مسلمان موجود ہیں۔ ہر پا نچ میں سے ایک فرد مسلمان ہے۔ انچاس ریاستیں ایسی ہیں جن میں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے اور دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے چاہے وہ کتنا ہی دور دراز کیوں نہ ہو خواہ وہ آرکٹک ہو یا آئس لینڈ ہو یا گرین لینڈ ہو۔ جہاں کوئی نہ کوئی مسلمان موجود نہ ہو۔ ایک ارب مسلمانوں میں سے دو تہائی وہ ہیں جو آزاد مسلمان ریاستوں میں رہ رہے ہیں اور ایک تہائی وہ ہیں جو مسلم اقلیت کے طور پر رہ رہے ہیں یا ابھی تک سامراجی نظام کے تحت ہیں جیسے وسط ایشیا، جہاں مسلمان ریاستیں ہیں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن اشتراکی استعمار کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے اور بہت بڑی قوت ہے۔ یہ دنیا کی آبادی کا تقریباً بائیس فی صد بنتا ہے۔ پھر آپ دیکھیں کہ دنیا کا وہ علاقہ جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے کتا ہے۔ یہ دنیا کی خشکی کا تقریباً ۲۴ فیصد ہے ۔ یہ عام قسم کا علاقہ نہیں بلکہ جنگی حکمت عملی کے نقطہ نظر سے اہم ترین علاقہ ہے۔ دنیا کے جتنے اہم آبی راستے، جتنے اہم فضائی راستے، جتنے اہم تری راستے ہیں وہ سارے کے سارے مسلمانوں کے علاقہ سے گزر کر تے ہیں۔ قدرتی وسائل کے اعتبار سے خواہ وہ معدنی وسائل ہوں یا زراعت، یہ علاقے نہایت زرخیز ہیں او ر نہایت قیمتی وسائل کے امین ہیں۔ ہم نے ان سے کتنا فائدہ اٹھایا ہے یہ الگ سوال ہے لیکن جہاں تک قدرت کے انعامات کا سوال ہے اس میں مسلم دنیا اپنا جواب نہیں رکھتی ۔ تیل کی دولت تو صرف اس میں سے ایک چیز ہے ۔ اور تیل کی قیمتوں کے بڑھنے اور گھٹنے سے اس معاشی قوت اور سطوت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے مسلم دنیا میں ودیعت کر دی۔ پھر دو سال کے سامراجی اقتدار کے بعد گزشتہ تیس پینتیس سال میں چھیا لیس مسلمان ممالک آزاد ہوئے ہیں۔ سیاسی آزادی بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی دین ہے۔ یہ ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ آپ کو ایک موقع دیا گیا ہے کہ جو عددی قوت اور جو وسائل آپ کو دیئے گئے ہیں، سیاسی آزادی کے ذریعے انہیں استعمال کر کے آپ اپنے مقصد، اپنے نصب العین، اپنے مشن کو پورا کریں اور وہ نصب العین اور مقصد ہی دراصل سب سے بڑی دولت ہے، اور وہ ہے اسلام ، وہ ہے ایمان ۔ وہ ہے قرآن اور وہ ہے سیرت النبیؐ ۔ جیسا کہ امام مالک نے کہا تھا کہ اس امت کے آخری دور میں اس کو اٹھانے والی چیز بھی وہی ہوگی جو اس کو اس کے اولین دور میں اٹھانے والی تھی اور وہ قرآن ہے۔
تو آج کی اسلامی دنیا کی خصوصیت اسلامی نشاۃ ثانیہ ہے یعنی اسلامی تحریکوں اور منظم جدوجہد کے ذریعہ اسلام کو زندگی کی غالب قوت بنایا جائے ۔ آج دنیا کے گوشے گوشے میں یہ کام ہو رہا ہے ۔ الحمد لله ثم الحمد للہ ، کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں کسی نہ کسی شکل میں آج یہ اجتماعی جد و جہد بر پا نہ ہو۔ اسلام کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے قبول کرنا ، اسلام کو ایک دعوت اور تحریک کی حیثیت سے قبول کرنا اور اسلام کو قائم کرنے کے لئے اجتماعی اور منظم جد و جہد کرنا اللہ کا کرم ہے کہ اس میں سب سے زیادہ نمایاں کردار آج مسلمان نوجوان ادا کر رہے ہیں۔ یہ احساس اور یہ شعور سب سے زیادہ جن لوگوں میں بیدار ہو رہا ہے وہ قوم کی نئی نسلیں ہیں۔ آپ انڈونیشیا، ملائشیا، سینیگال، نائیجیریا ، نائجر ، جنوبی افریقہ، پاکستان ، ، مصر، ترکی، ایران دنیا کے جس گوشے میں جائیں بلالحاظ اس بات کے کہ مسلمان اکثریت میں میں یا اقلیت میں ہیں، نوجوانوں میں یہ نئی تحریک ہے، یہ ایک نئی روح ہے، یہ ایک نیارحجان ہے ۔ یہ چاروں چیزیں آج کی مسلمان دنیا میں امید کا سر چشمہ ہیں ۔ لیکن نا انصافی ہوگی اگر میں یہ بات نہ کہوں کہ اس کے ساتھ سا چار بڑے امراض بھی ہیں جن میں آج مسلمان مقبول ہیں اس میں سب سے پہلی چیز دین اور دنیا کی تفریق ہے جو کچھ طبقوں اور کچھ گروہوں میں شعوری یا غیر شعوری طور پر قبول کرلی گئی ہے۔ اسلام تو آیا ہی اس لئے تھا کہ دین و دنیا کی تفریق کو مٹاد سے حضور ؐنے فرمایا، یہ ساری زمین مسجد ہے، کوئی چپا بھی ایسا نہیں ہے جو شیطان کی بندگی کے لئے بنا ہو، یہ سب اللہ کی بندگی کے لئے بنا ہے۔ یہ کلیسا کا تصور تھا کہ خدا کو وہ دو جو خدا کا ہے اور بادشاہ کر وہ دو جو بادشاہ کا ہے۔ اسلام نے تو یہ کہا کہ جو کچھ ہے اللہ کو دو غیر کو دینے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے آج مسلمانوں میں ان کے با اثر طبقوں میں حتیٰ کہ ان کے دینی عناصر میں بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر عملاً دین و دنیا کی تفریق کے طریقہ کار ختیار کر لیا گیا۔ یہ پہلا مرض ہے۔ دوسرا مرض ہے قول و عمل کا تضاد مسلمان تو نام ہی اس کا ہے کہ وہ جس بات کو قبول کرتا ہے اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لیتا ہے حضورؐ نے فرمایا کون ہے جو اس جہاد میں شرکت کرے اور جنت کو پائے۔ تو ایک صحابی کھجوریں کھا رہے تھے جیسے ہی یہ الفاظ ان کے کان میں پڑے فوراً حضورؐ کے پاس آئے۔ فرمایا کہ کیا آپ ؐنے کیا کہا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ ہاں کون ہے، جو اس جہاد میں شریک ہو اور جنت کو پائے ۔ تو جو کھجور منہ میں تھی اس کو بھی پھینک دیا کہ پھر میرے اور جنت کے درمیان یہ کھجوریں کیوں حائل ہوں۔
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو وہ لہو گیا ہے
اسلام کا تو پیغام ہی یہ ہے۔ لم تقولون مالا تفعلون ۔وہ بات کہتے کیوں ہو جو تم کرتے نہیں ۔
اللہ کو یہ بہت نا پسند ہے کہ تم کہو کچھ اور کرو کچھ ۔تیسری چیز فرقه بندی ، گروہ بندی اور عصبیت ہے ۔ اسلام اس لیئے آیا تھا کہ تمام لوگوں کو ایک کلمہ پر جمع کرے لیکن آج ہم نے اسلام کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ مجھے بتائیے کہ کیا رسول پاکؐ اور آپنے کے صحابی کرام ؓسنی تھے ،شیعہ تھے، اہل حدیث تھے ، دیوبندی تھے ، بریلوی تھے کس چیز کی طرف انہوں نے قوم کو بلایا۔ ان کی تو ایک ہی دعوت تھی ۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ
’’اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کر جس نے تم کو پیدا کیا۔‘‘
یہ ایک ایسی دعوت تھی جس کو قبول کر کے اختلافات ختم ہوتے تھے اور انسان ایک امت بنتے تھے لیکن ہم نے ایک کو دوسرے کے خلاف صف آراء کر دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ در آنحالیکہ اسلام تو پوری انسانیت کو ایک کلمہ پر جمع کرنے کے لئے آیا تھا۔ مسلمانوں کا طرہ امتیاز یہ تھا کہ جب وہ نبی اکرم ؐکو اپنا بادی اور اپنا محبوب مان لیتے تھے تو پھر وہ کسی دوسری گروه بندی یا عصبیت کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ علماء کے درمیان اختلافات رہے ہیں ۔ فکر کے مختلف نتائج ہوتے ہیں۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن امت کا یہ شعار کبھی نہیں رہا کہ فرقہ بندی اور فرقہ کی طرف دعوت دی جائے۔ یا اسلام سے اور اللہ اور اس کے رسول سے ہٹ کر کسی دوسرے مسلک کی طرف بلایا جائے۔ کیا آپ کو یہ علم نہیں کہ امام شافعی جو خود شافعی مکتبہ فکر کے بانی تھے اور اپنی رائے کے بارے میں بہت حساس تھے لیکن جب وہ بغداد میں اس مسجد میں آتے ہیں۔ جہاں امام ابوحنیفہ مدفون تھے تو باوجود اس کے کہ امام شافعی آمین بالجہر اور رفع یدین کے قائل تھے آپ نے نماز میں نہ آمین ز ور سے کہی اور نہ رفع یدین کیا۔ ان کے شاگردوں نے پوچھا اے امام ساری عمر آپ ہمیں تلقین کرتے رہے کہ ایسا کرو مگر آپ نے خود نہیں کیا۔ تو ان کا جواب یہ تھا کہ اس بزرگ کے احترام میں جو یہاں مدفون ہے میں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ رائے میری اب بھی وہی ہے جو پہلے تھی لیکن یہ ایمان اور کفر کا مسئلہ نہیں یہ صرف ترجیح کا مسئلہ ہے۔ اپنے محترم بزرگ کے احترام میں اگر میں رفع یدین اور آمین بالجہر نہیں کروں گا تو ایمان میں کوئی خامی نہیں آئے گی اور نہ ایمان میں کوئی خرابی واقع ہوگی۔
مولانا قاسم نانوتوی جن پر بریلوی بھائیوں نے کفر کافتویٰ لگایا جب وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ دہلی تشریف لائے تو ان کے ایک شاگرد نے دوسرے شاگرد سے کہا کہ فلاںمسجد کے امام صاحب کی قرائت بہت اچھی ہے کل فجر کی نمازہہم ان کے پیچھے پڑھیں گے تو دوسرے نے بڑے غصے میں کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم وہاں لے جاتے ہو حالانکہ اس مسجد کا امام تو وہ ہے جو ہمارے اُستاد کو کافر کہتا ہے او را حمد رضا صاحب کا ماننے والا ہے۔ یہ بات مولانا قاسم نانوتوی کے کان میں پڑ گئی۔ اگلے دن صبح نماز سے پہلے اپنے سارے شاگردوں کو لیکر وہ خود اس مسجد میں گئے اور فجر کی نماز اسی امام کی اقتداء میں ادا کی ۔ امام صاحب ان کو تو جانتے نہیں تھے لیکن اس خیال سے کہ اتنے بزرگ اور ثقہ افراد یہاں جمع ہیں وہ ملے۔ جب تعارف ہوا اور یہ بتا یا گیا کہ یہ مولانا قاسم ناتوی ہیں اور یہ ان کے شاگر دہیں تو امام صاحب سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے نہایت التجا کے ساتھ کہا میں بڑا نادم ہوں میں تو آپ کو کا فرکہتا رہا یہ آپ کی عظمت ہے کہ آپ نے میرے پیچھے نماز پڑھی۔ مولانا قاسم نانوتوی نے کہا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ بلاشبہ تم نے مجھے کافر کہا لیکن میں تمہاری اس رائے کی قدر کرتا ہوں اس لئے کہ تم نے کفر کا جو فتویٰ دیا ہے وہ اس بنیاد پر دیا ہے کہ میں توحید ورسالت اور آخرت کا منکر ہوگیا ہوں ۔ گویا تم نے حضورؐ کی عزت کی حفاظت کے جذبے سے یہ فتویٰ دیا اور یہ خبر ہے جس کی بنا پر تم نے مجھے کافر کہا ۔ البتہ خبر جو تمہیں پہنچی وہ غلط ہے۔ میں نے کوئی ایسی غلطی نہیں کی ، کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے حضورؐ کی توہین ہوتی ہو ۔میں تمہارے جذبے اور تمہاری ا نیست کی قدر کرتا ہوں، البتہ تمہاری اطلاع صحیح نہیں تھی۔ آپ دیکھیئے کہ ہمارے بزرگوں نے کیا مثال قائم کی ہے۔ اُمت کے لئے تیسرا بڑا فتنہ فرقہ بندی ، گروہ بندی اور اس کی بنیاد پر مسلمانوں کو پھاڑ دینا ہے۔
چوتھا مرض اس وقت مسلمانوں میں یہ ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے کے چلینجز کو قبول کرنا اور اپنے زمانہ کے وسائل کو اسلام کے لئے مسخر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جہاں اسلام ایمان، اخلاق، اصول و مقاصد اور نصب العین کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا ، وہاں اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کی زمین . پر اور آسمان کے نیچے جو کچھ دیا گیا وہ اس لئے کہا اسے اسلام کے لئے مسخر کیا جائے محض گھوڑے تیار رکھنا اصل مقصد نہیں۔ اصل مقصدہ قوت حاصل کرنا ہے جس سے تم دین کی خدمت کر سکو ا اور زمانہ کو سکو ہم نے اس کو بھی دوسروں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔
یہ چار بڑے بڑے امراض ہیں جن میں آج اُمت مسلم مبتلا ہے۔
ایک طرف وہ چار خوبیاں ہیں جو ہمارے لئے قوت کے خزانے اور طاقت کے سر چشمے ہیں انہی کی وجہ سے ہم نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان مراض میں مبتلا ہونے کے باوجو د کفار میں اس بات پر پریشانی اور تشویش ہے کہ یہ امت پھر اٹھ رہی ہے، شریعیت کی بالادستی چاہتی ہے اور خدا کے قانون کو پھر قائم کرنا چاہتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن نے گوربا چوف اور ریگین کی سربراہ کا نفرنس سے پہلے امریکہ کے نہایت وقیع رسالے فارن افیرٔز میں ایک مضمون لکھا جس میں یہ بتایا کہ سپر پاورز کے سربراہ کن مسائل پر غور کریں اور کیا تیاری کریں اورقت کے کیا چیلنجز ہیں۔ ان میں سرفہرست یہ بات رکھی گئی کہ ریگن اور گوربا چوف کو اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئیے کہ اسلامی بنیاد پرستی کا جو طوفان اٹھ رہا ہے وہ مغربی تہذیب اور اشتراکیت کے لئے مشترکہ خطرہ ہے۔ ہمیں مل کر سوچنا چاہیے کہ اس کو کیسے روکیں۔ اس سلسلے میں اس نے خصوصیت سے پاکستان ، ایران اور افغانستان کا ذکر کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ یہ خطرہ نا رکا تو یہ وسط ایشیا تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ یورپی دنیا اس پر پریشان ہے اور اسے پریشان ہونا چاہئیے ۔ بلاشبہ مغرب نے بڑی ترقی کی ۔ آج غالب تہذیب مغربی تہذیب ہے ، ٹیکنا لوجی میں مہارت وہ قوت ہے جن سے وہ پوری دنیا کو ایک بار نہیں سو بار تباہ کر سکتے ہیں۔ دنیا میں جو ایٹمی اسلحہ تیار ہوا ہے وہ دنیا کی ساری آبادی کو سو بارہ تباہ کرنے کے لئے کافی ہے لیکن اس کے انبار میں اضافہ کرنے کی حرص میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ان کے باوجود مغربی تہذیب کی مثال اس درخت کی سی ہے جو دیکھنے میں بڑا مضبوط اور تناور ہے لیکن اندر سے اس کو گھن کھا چکا ہے ۔ اس کی بنیادیں ہل چکی ہیں ۔ اس نے انسان کو تشکیک دی ہے۔ اس نے خاندان کے نظم کوتہ و بالا کر دیا ہے۔ شوہروں کو بیویوں پر اعتماد نہیں اور بیویوں کو شوہروں پر اعتماد نہیں۔ ماں جو اپنی اولاد کے لئے جان دیا کرتی تھی آج اپنی عیاشی کے لئے اولاد کو اپنے ہاتھوں ماررہی ہے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سال کے بچوں کو اپنے گھر میں بھوکا پیاسا چھوڑ کر چلی جاتی ہے جو بلک بلک کر مر جاتے ہیں۔ اس کی مامتا کو کیا ہو گیا ہے کیا آج ماں سے اس کی مامتا چھین لی گئی ہے ۔ جتنی وسائل میں ترقی ہے اتنی ہی جرائم میں ترقی ہے۔ امریکہ میں ہر آٹھویں منٹ کے بعد ایک شخص کا قتل کیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں شام کے بعد ایک عام شہری کے لئے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ نسلی فسادات، جنوبی افریقہ ہو یا نیو یارک ہو، ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ میڈیکل سائنس نے ترقی کی انتہا کو چھو لیا ہے۔ سرجری کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے لیکن ذہنی بیماریاں جنسی بیماریاں اور نئی نئی بیماریاں ہیں کہ پھلتی جارہی ہیں کہ خدا سے بغاوت کی بنا پر جو اخلاق اور تمدن وجود میں آتا ہے وہ انسان کے پورے نظام کو ختم کر دیتا ہے۔ ایڈز کی بیماری آج ایک وباء کی حیثیت سے پھیل رہی ہے جو انسان کے دماغی نظام کو ختم کر دیتی ہے۔ جس ملک میں جتنی زیادہ خوشحالی ہے دولت کی فراوانی ہے وہاں اتنی ہی زیادہ بے اطمینانی ہے اور اتنا ہی زیادہ انتشار ہے اس کی ایک علامت خود کشی کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔ دنیا میں جو اسلح جمع کیا جا رہا ہے۔ یہ محض اس کے اوپر بیٹھنے کے لئے نہیں ہے۔ اگر ایک چنگاری کہیں سے پھوٹ پڑی تو یہ سب کو لے ڈوبے گی اور سب کو بھسم کر دے گی۔
دوستو جب تک امت مسلمہ اپنے فرض کو نہیں پہچانے گی اور اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرے گی مستقبل جس روشن دور کی طرف آپ کو بلا رہا ہے وہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ میں بہت پرامید ہوں۔ میں نے مشرق اور مغرب میں گھوم کر دیکھا ہے۔ انسانیت کو اسلام کی ضرورت ہے اس میں وہ سارے وسائل موجود ہیں جن سے اس دنیا کے مسائل حل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ انسان خدا کی رسی کو تھام لے، اس اخلاق کو قبول کرلے جو محمد عربیؐ نے انسانیت کو سکھلایا تھا اور اس پیغام کو عام کرے جس کے ذریعے انسان انسان بنتا ہے۔ عالم اسلام کے اندر جستجو اور پیاس موجود ہے ۔وہ خواب غفلت سے بیدار ہو رہا ہے ۔ دنیا کے کسی ملک میں، کوئی گوشہ بھی اس نئی روشنی اور نئی لہر سے محروم نظر نہیں آتا۔ ملائشیا اور انڈونیشیا کے حکمرانوں نے اپنے ملک کے نوخیز نوجوانوں کو حتیٰ کہ اسکول کے بچوں کو بھی امریکہ، انگلستان اور آسٹریلیا تعمیر کے لئے بھیجا اور پورا خطرہ تھا کہ وہاں کی تہذیب ان کو کھا جائے گی لیکن خدا سا لشکر ہے کہ وہاں پر نوجوانوں کی تحریکیں ابھریں اور وہ وہاں سے زیادہ ایمان ، بہتر اسلامی جذبہ اور طاغوت سے ٹکر کا عزم لے کر واپس آئے۔
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
یہ نئی تحریک مجھے امید دلاتی ہے کہ دنیا کی تہذیب جس انتشار سے دو چار ہے اور میں تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہے وہ مسلمانوں کے ہاتھوں آئے گی اور انشااللہ ضرور آئے گی۔ دوسری طرف آپ دیکھیں کہ عالم اسلام میں جو غیر اسلامی تجربہ ہوا اس کی چمک دمک چند دن تک باقی رہی ۔ سب سے زیادہ مغربیت کا تجربہ ترکی میں ہوا اور ایران اور مصر میں اور یہاں برصغیر میں ہوا ۔ ترکی میں تو حالات ایسے ہوئے کہ قانون کے ذریعے سے عورت سے اس کا حجاب چھینا گیا مغربی لباس مسلط کیا گیا۔ مغربی قانون مسلط کیا گیا مغربی زبان مسلط کی گئی ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کا ترک نوجوان خود کمال اتا ترک کی تقاریر کو نہ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس لئے کہ لاطینی رسم الخط نافذ کر کے مسلمانوں کو عربی اور ان کی اسلامی سرچشموں سے محروم کرنے کے لئے جو سازش کی گئی تھی ، خود کمال اتا ترک اس کا شکار ہوا لیکن کیا اس طرح مسلمانوں کو اسلام سے ہٹایا جا سکتا ہے ؟ ۲۸ سال تک ترکی میں عربی زبان میں اذان نہیں ہو سکی لیکن جب پہلی مرتبہ عربی میں اذان دینے کی اجازت ملی تو عالم یہ تھا کہ جس وقت استنبول کی مسجدوں سے اذان کی آواز آئی تو جو جہاں تھا سجدے میں گر گیا۔ لوگ زارو قطار وئے۔ اور اس کے بعد سے آج تک پوری آزادی ہونے کے باوجود ایک بار بھی عربی کے سوا کسی زبان میں اذان نہیں دی گئی۔ اس نے ثابت کردیا کہ ۲۸ سال تک ترکی میں جوازان دی گئی وہ جبر کی بنیاد پر دی گئی ۔ ایران کو دیکھئے ۔ بہت دور کی بات نہیں ہے ۔ ۱۹۷۸ رجب کارٹر اور شاہ ایران کی ملاقات ہوئی تو کارٹر صاحب نے جو جام صحیت پیا اس میں شاہ کو علاقہ کے استحکام کی علامت کے طور پر خراج تحسین پیش کیا ۔ لیکن یہ استحکام چند ماہ بھی باقی نہ رہ سکا اور اس طرح رخصت ہوا کہ اسے سر چھپانے کے لئے کوئی ملک نہ ملا ۔امریکہ بھی اس کو پناہ نہ دے سکا جس کا مطلب یہ ہے کہ مغربیت کے پاؤں بڑے کمز ور ہیں ۔مسلمانوں نے اشتراکیت کا تجربہ بھی کیا ۔ عراق نے کیا، نشام نے کیا،ا لجیریا نے کیا یمن نے کیا خود ہم نے بھی کیا لیکن اس نے ہمارے کوئی معاشی مسائل حل نہ کئے ۔اس نے ہمیں آزادیوں سے محروم کیا۔ اس نے ظلم کی نئی ریت قائم کی ۔عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا اور عوام پکار اٹھے کہ یہ ہمیں قبول نہیں۔ ہر جگہ اس کو اُٹھا کر پھینک دیا گیا ہے وہ دم توڑ رہا ہے۔ میں پرامید ہوں ۔ آج عالم اسلام اسی مشن کی طرف بڑھ رہا ہے جو امت مسلمہ کا مشن ہے۔ اس کے لئے ہمیں جد وجہد اور محنت کرنی ہوگی ۔ اس کے لئے ہمیں قربانیاں دینی ہونگی۔ اس کے لئے ہمیں طاغوت کو چیلنج کرنا ہو گا۔ جو کچھ ذہنوں میں بیرونی نظریات اور بیرونی نظاموں کا جو خوف اور Complex ہے اسے اُٹھا کر پھینک دیجئے۔ اسلام وہ بہترین نظام ہے جو کسی زمانہ میں بھی کسی دور میں بھی خواہ وہ آج سے چودہ سو سال پہلے کا ہو یا آج سے چودہ سو سال بعد کا ہو، اس سے زیادہ جانداں اس سے زیادہ ہمارے مسائل کو حل کرنے والا ، اس سے زیادہ ترقی کا ضامن ، اس سے زیادہ فلاح کا ضامن کوئی اور نظام نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کے لئے آپ کو انہی تین باتوں کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔ ایمان ،ہجرت اور جہاد۔ اس کے لئے آپ کو ، ہر فرد کو اپنا مزاج بدلنا ہوگا۔ اللہ کی بندگی قبول کرنا ہوگی اور بندگی کے ذریعے وہ عظمت اور وہ کردار پیدا کرتا ہو گا جو دنیا کے سامنے وہ نمونہ رکھ سکے جس کے لئے وہ ترس رہی ہے اور پھر وہ نظام قائم کرے جو زندگی کے مسائل کو اور ان کی مشکلات کو حل کر سکے۔ اسلام اس لئے آیا تھا کہ انسانیت کو بھوک اور خوف سے نجات دلائے اور ان کو امن ، عزت اور خوشحالی فراہم کر ہے۔ کیا آپ بھول گئے کہ حضور پاکؐ نے مکی دور میں جب ایک ایک مسلمان کو نشانہ ستم بنایا جارہا تھا اور ان کے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو حضرت خباب نے کہا کہ یا رسول ؐاللہ شدائد کی انتہا ہو رہی ہے ۔اللہ کی مدد کب آئے گی تو آپ ؐنے فرمایا خباب تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ جن لوگوں نے تم سے پہلے اس کا کلمہ قبول کیا تھا ان کے گوشت کو ان کی ہڈیوں سے لوہے کے کنکھوں سے جدا کر دیا گیا تھا۔ ان کے جسموں کو آروں سے چیر دیا گیا تھا لیکن وہ اللہ کی راہ پر استقامت سےڈٹے رہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا کی قسم وہ وقت آئے گا کہ ایک بڑھی تن تنہا عرب کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جائے گی اور اسے کسی چیز کا خطرہ نہ ہوگا۔ اسلام کو غلبہ حاصل ہو گا۔ انسان کو امن میسر آئے گا۔ عزت اور آبر و اس طرح محفوظ ہو جائے گی کہ کسی کو لیٹروں کا ،قاتل کا حقوق سلب کرنے کا، ظالم کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے گا۔ تو یہ ہیں انسان کے مسائل،ہمیں ان مسائل کو حل کرنا ہے اور وہ نظام قائم کرنا ہے جس سے خدا کی زمین خدا کے بندوں کے لئے پھر سکون کا گہوارہ بن جائے۔ پھر زمین اپنے خزانے اُگل دے اور آسمان اپنی برکتیں بارش کی طرح نازل کر دے ۔کیا حضور ؐنے یہ نہیں فرمایا کہ جس معاشرہ میں زکوٰۃ رواج پاتی ہے وہاں خوشحالی آتی ہے اور جہاں زنا پروان چڑھتی ہے وہاں بد حالی آتی ہے۔
اور ساتھیو ! ہمیں صرف اپنے ہی ملکوں میں نظام کو نہیں بدلنا بلکہ ہمیں بالآخر زمانے کو بدلنا ہے۔ ہمیں ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔



