جرنیلی آمریت کے جرائم

۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے فوجی انقلاب سے جنرل پرویز مشرف کی حکمرانی کا جو دور شروع ہوا تھا وہ اکتو بر ۲۰۰۲ ء کے جمہوری ڈرامے اور سائن بورڈوں کی تبدیلی کے باوجود جاری ہے۔ ان سات برسوں میں جہاں دستور سول نظام کی حکمرانی اور تمام ہی انتظامی ادارات کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے وہیں اپنے نتائج کے اعتبار سے ملک وقوم کو اس کی تاریخ کے خطر ناک ترین حالات سے دو چار کر دیا گیا ہے۔ ریاست کا ہر ستون آج لرزہ براندام ہے اور ملک کی سالمیت اس کی شناخت بلکہ آزادی خود مختاری اور وجود تک معرض خطر میں نظر آ رہا ہے۔ حکمران آنکھیں بند کیے تباہی اور ایک نئی غلامی کے جال میں پھنتے چلے جارہے ہیں اور قوم کے سامنے یہ تکلیف دہ سوال اُبھر کر سامنے آگیا ہے کہ کیا قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں ملت اسلامیہ پاک و ہند کی تابناک سیاسی جدو جہد اور بے مثال قربانیوں سے قائم ہونے والا پاکستان ایک بار پھر ۱۹۷۱ء کی طرح کے ایک دوسرے تباہ کن دھماکے کی طرف بڑھ رہا ہے؟ عالمی سامراج نے امریکا کی قیادت میں عالم اسلام کی ٹوٹ پھوٹ اور نئی نقشہ بندی کا جو خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے اور اس خطر ناک نقشے میں رنگ بھرنے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے آج کے میر جعفر اور میر قاسم جو کردار ادا کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں ان کا راستہ کس طرح روکا جائے تا کہ اس سامراجی سیلاب کے آگئے قبل اس کے وہ ملت اسلامیہ کو کوئی بڑا نقصان پہنچائے مؤثر بند باندھے جائیں۔
جنرل پرویز مشرف کا حالیہ دورہ ایک آئینہ ہے جس میں اس کھیل کے نقش ونگار کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حالات جس رخ پر جا رہے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ملت اسلامیہ پاکستان کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اُٹھ کھڑی ہو اور ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی آزادی سالمیت اور اسلامی تشخص کی حفاظت کے لیے صف آرا ہو جائے ۔ آج ہماری قومی زندگی کا اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی آزادی اور اپنے سیاسی اور نظریاتی وجود اور تشخص کی حفاظت کی فیصلہ کن جد و جہد ایمان عزم راسخ اور حکمت بالغہ کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر انجام دئے اور ایک ایسی قیادت کو زمام کار سونے جو اللہ کے اس عطیے اور اقبال اور قائد اعظم کی اس امانت کی جواں مردی کے ساتھ حفاظت کر سکے اور نام نہاد دنیاوی سوپر پاورز کے دوسرے اور تیسرے درجے کے سفارت کاروں کی دھمکیوں پر ملک کی آزادی، عزت اور حاکمیت کا سودا کرنے والی نہ ہو بلکہ وقت کے بڑے سے بڑے فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا دفاع کر سکے۔
جنرل پرویز مشرف کی حکومت صرف اصولی طور پر ہی غیر دستوری اور غیر قانونی نہیں بلکہ اس کا سات سالہ ریکارڈ گواہ ہے کہ ہر اعتبار سے یہ پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے اور اب اس کی وجہ سے پاکستان کی آزادی عزت اور وجود کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس نے پاکستان کی آزادی اور حاکمیت کا سودا کیا ہے اور محض اپنے اقتدار کی خاطر پاکستان کے نظریاتی تہذیبی، معاشی اور سیاسی مفادات کو پامال کیا ہے۔ اسے اللہ کی خوشنودی اور پاکستانی عوام کی عزت ان کے سیاسی اور سماجی عزائم اور فلاح وبہبود کے مقابلے میں صدر بش کی خوشنودی اور امریکا کے استعماری پروگرام میں معاونت عزیز ہے اور اس گھناؤنے کھیل میں اپنی خدمات کی داد لینے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد واشنگٹن کی یاترا اس کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے جہاں ’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کا تماشا بار بار اسٹیج کیا جاتا ہے۔
آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہوا ہے — ایک طرف روشن خیالی اور لبرلزم کے نام پر امریکا کی غلامی اور نئے سیاسی اور معاشی سامراجی نظام کی چاکری کا کردار ہے اور دوسری طرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے زندگی کے پروگرام کے مطابق تحریک پاکستان کے اصل مقاصد کے حصول کے لیے فوجی آمریت اور مغرب پرست طبقے سے نجات اور حقیقی اسلامی جمہوری انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی ہمہ گیر جدو جہد اور عزت کی زندگی کی دعوت ہے۔
حکیم الامت نے دل اور شکم کے استعارے میں اُمت کو اس باب میں ایک دوٹوک فیصلے کی جو دعوت دی تھی وہ آج پہلے سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے ؎
ول کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟
جر نیلی آمریت کے جرائم
آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم نے موجودہ نظام کو فوجی حکومت نہیں جرنیلی آمریت کہا ہے اور یہ اس لیے کہ آج ملک کی فوج بھی ایک مخصوص باوردی اور بے وردی ٹولے کے ہاتھوں اسی طرح یر غمال بنی ہوئی ہے جس طرح ملک کا پورا سیاسی نظام ۔ جنرل پرویز مشرف کے نظام کی دو ہی خصوصیات ہیں۔ ایک یہ کہ لیبل کچھ بھی ہو یہ فرد واحد کی آمریت ہے۔ دستور پارلیمنٹ’ سول انتظامیہ حتی کہ فوج سب ایک شخص کے اشارہ چشم وابرو پر گردش کر رہے ہیں اور خود وہ شخص امریکا اور صدر بش کے بل بوتے پر ملک و قوم پر مسلط ہے۔ دوسرے اس کی اُچھل کود کا انحصار امریکی پشتی بانی کے بعد اس وردی ہی پر ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جس کا وہ خود بار بار اعتراف کر رہا ہے۔ اکتوبر ۲۰۰۵ء کے زلزلے کے موقعے پر جنرل پرویز مشرف نے بڑے طمطراق سے اعلان کیا تھا کہ اگر میں وردی میں نہ ہوتا تو فوج اتنی سرعت سے (یعنی تباہی کے تین سے پانچ دن بعد جب کہ کشمیری مجاہد اور پاکستان کی دینی جماعتوں کے کارکن چند گھنٹوں میں محاذ پر موجود تھے) حرکت میں نہ آتی اور اب امریکا میں دعوئی فرمایا ہے کہ اگر میں وردی میں نہ ہوتا تو حدود آرڈی ننس میں ترمیمی بل لانے کی جرات نہیں کی جاسکتی تھی۔ اسے بھول جائیے کہ یہ وردی جناب محترم نے آج نہیں پہنی ہے اور سات سال سے اس وردی کے باوجود انھیں حدود قوانین میں ترمیمی بل لانے کی جرات نہیں ہوئی اور اب لائے ہیں تو جو حشر اس کا ہوا ہے اور جس طرح جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے وہ مضحکہ خیز ہی نہیں، عبرت ناک بھی ہے۔ اس سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ان کی طاقت کا منبع نہ دستور ہے نہ عوام ہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہ ان کی فوج کی سربراہی اور فوج کا ڈسپلن ہے جس کا قطعی نا جائز استعمال کر کے وہ قوم کے سر پر مسلط ہیں اور رہنا چاہتے ہیں اور نتیجتاً ملک اور فوج دونوں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے جرنیلی آمریت کہا ہے اور یہی اس نظام کی اصل شناخت ہے۔
آزادی اور خود مختاری پر کاری ضرب
اس جر نیلی آمریت کا پہلا جرم یہ ہے اس نے ملک کی آزدی حاکمیت اور خود مختاری پر کاری ضرب لگائی ہے اور گذشتہ پانچ سال میں ملک امریکا کی ایک ذیلی ریاست (satellite state) بن کر رہ گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے خود اپنے تازہ ترین انٹرویو میں جوسی ایناین کو ۲۱ ستمبر ۲۰۰۶ء کو دیا گیا ہے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ استمبر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ
be prepared to be bombed: be prepared to go back to the stone age.
اور ہمارے بہادر جرنیل نے جو ایٹمی صلاحیت رکھنے والی فوج کے سربراہ تھے اس مطالبے کو جسے وہ خود نا شائستہ (rude) قرار دے رہے ہیں اور جس کے ساتھ بقول ان کے بہت سے دوسرے مضحکہ خیز (ludicrous) مطالبات تھے یعنی اپنی فضائی حدود کو ہمارے لیے کھول دو فوجی اڈے فی الفور مہیا کرو امریکی فوجوں کو ایک برادر ملک پر حملہ کرنے کے لیے اپنی زمین فراہم کرو اس وقت کی افغان حکومت سے تعلق توڑ لوحتی کہ پاکستان میں امریکا کے خلاف اور افغانستان پر حملے کے خلاف بے چینی کی جو لہر اور مزاحمت کی تحریک ہے اسے دبانے (suppress) کی کاررو ائی کرو —سب مطالبات پر سر تسلیم خم کر دیا۔ ستم یہ ہے کہ جناب جرنیل صاحب امریکا کی اس ظالمانہ کارروائی میں نہ صرف اس تمام دباؤ خوف اور دھمکیوں کے تحت شریک ہو گئے بلکہ اسے اپنی جنگ بنا لیا اور پھر وہ کارنامے انجام دیے کہ بش صاحب بھی جھوم جھوم گئے ۔ غلامی کی زنجیر پہنا ہی کم ستم نہ تھا کہ اسے زیور سمجھ کر نازاں ہونے کی ایکٹنگ بھی کی جانے لگی۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ہر خدمت کے بعد مزید کے مطالبات ہو رہے ہیں اور ذلت کے تمغوں میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔
ہم نے اپنی آزادی ہی کو داؤ پر نہیں لگایا اپنی عزت اور اپنی روایات کو بھی خاک میں ملا دیا جس کی بدترین مثال ان ۶۰۰ سے زائد بے گناہ افراد کو امریکا کی تحویل میں دینا ہے جن میں سے کسی کے خلاف کوئی جرم آج تک ثابت نہیں ہوا لیکن ان کی جانوں اور عزتوں سے امریکا کے گھناؤنے کھیل میں شریک ہو کر ہم خدا اور خلق کے سامنے مجرم بنے اور اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کی روایات کو پامال کیا۔ اس سلسلے کی بدترین مثال پاکستان میں اس وقت کے افغانی سفیر عبدالسلام ضعیف کی ہے جن کو سفارتی تحفظ حاصل تھا لیکن اس جرنیلی قیادت نے بین الاقوامی قانون اور اسلامی احکام کی شرم ناک خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوری ۲۰۰۲ ء میں اس سفارتی تحفظ یافتہ فرشتہ صفت بھائی کو امریکا کی تحویل میں دے دیا جو انھیں مگرام اور گوانتانا موبے لے گیا، بدترین تعذیب کا نشانہ بنایا اور چار سال ٹارچہ کرنے کے بعد بھی ان کا کوئی جرم ثابت نہ کر سکا اور بالآخر ۲۰۰۵ء میں انھیں رہا کرنے پر مجبور ہوا۔ عبدالسلام ضعیف نے اپنی روداد اسیری رقم کی ہے جس کا ایک ایک لفظ اس جرنیلی آمریت کے خلاف فرد جرم ہے جسے پڑھ کر پوری پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ دل اللہ کے غضب کے خطرے سے کانپ اٹھتا ہے اور بے تاب روح سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ خدایا! ایسے ظلم میں شریک ہونے اور اس کا آلہ کار رہنے والوں کا احتساب کب ہوگا؟ ہم دل کڑا کر کے ان کی آپ بیتی سے چند اقتباسات پیش کرتے ہیں تا کہ جو نیلی آمریت کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آسکے:
یہ ۲ جنوری ۲۰۰۲ء کی صبح تھی ۔ پاکستان میں سال نو کی تقریبات اختتام پذیر ہو چکی تھیں۔ میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ معمول کی زندگی گزار رہا تھا اور ہر وقت افغانستان میں رہنے والے اپنے گم شدہ بھائیوں اور شہیدوں کی فکر میں مبتلا رہتا تھا۔ میں اُن کی قسمت پر کڑھتا تھا مگر اپنی تقدیر سے لاعلم تھا۔ تقریباً ۸ بجے کا وقت تھا۔ گھر کے محافظوں نے اطلاع دی کہ چند پاکستانی سرکاری اہلکار آپ سے ملنے آئے ہیں۔ مہمانوں کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بٹھایا یہ تین افراد تھے۔ ان میں ایک پختون اور باقی دو اُردو بولنے والے تھے۔ میں نے افغان روایات کے تحت مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ چائے بسکٹ سے تواضع کی۔ میں تجس تھا کہ وہ کیا پیغام لے کر آئے ہیں۔ اُردو بولنے والے ایک سیاہ رنگ کے موٹے کلین شیو مشخص نے جس کے چہرے سے نفرت اور تعصب ٹپکتا تھا اور وہ کسی دوزخی کا ایلچی لگتا تھا بظاہر بڑے مودبانہ انداز میں بات شروع کی اور پہلا جملہ ادا کیا:
your excellency, you are no more excellency.
پھر وہ بولا : آپ جانتے ہیں کہ امریکا بڑی طاقت ہے اور کوئی اس کے مقابلے کی ہمت نہیں رکھتا۔ نہ ہی کوئی اس کا حکم ماننے سے انکار کی جرات رکھتا ہے۔ امریکا کو آپ کی ضرورت ہے تا کہ آپ سے پوچھ کچھ کر سکے۔ ہم آپ کو امریکا کے حوالے کرنے آئے ہیں تا کہ اس کا مقصد پورا ہو اور پاکستان کو بہت بڑے خطرات سے بچایا جا سکے۔ میں نے بحث شروع کر دی اور کہا کہ چلو مان لیا امریکا ایک سپر طاقت ہے لیکن دنیا کے کچھ قوانین اور اصول بھی تو ہیں جن کے تحت لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ آپ لوگ کن مروجہ یا غیر مروجہ یا اسلامی یا غیر اسلامی قوانین کے تحت مجبور ہیں؟ آپ کا اخلاقی فرض ہے کہ مجھے میرے سوالوں کا جواب دیں اور مجھے اتنی مہلت دیں کہ میں آپ کا ملک پاکستان چھوڑ دوں۔ لگ بھگ ۱۲ بجے کا وقت تھا جب تین گاڑیاں آئیں اور مسلح اہلکاروں نے گھر کا محاصرہ کر کے راستے اور لوگوں کی آمد ورفت بند کر دی۔ مجھے باہر نکلنے کو کہا گیا۔ میں ایسے حال میں گھر سے نکلا جب میرے بیوی بچے چیخ وپکار کر رہے تھے۔ میں اپنے بچوں کی طرف مڑ کے نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ میرے پاس ان کے لیے تسلی کا ایک لفظ تک نہ تھا۔ اسلام کے محافظ پاکستانی حکام سے مجھے ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ مجھے چند پیسوں کی خاطر تحفتاً امریکا کو پیش کر دیا جائے گا۔ میں یہی سوچتا ہوا گھر سے نکلا کہ مجھ پر اتنا ظلم کیوں ہو رہا ہے؟ مقدس جہاد کی باتیں کرنے والوں کو کیا ہو گیا؟ مجھے ایک گاڑی میں درمیان میں بٹھا دیا گیا۔ گاڑی کے شیشے کالے تھے جن کے آر پار کچھ نہ دیکھا جا سکتا تھا۔ آگے سیکورٹی کی گاڑی تھی جب کہ تیسری گاڑی ہمارے پیچھے تھی جس میں مسلح اہلکار تھے۔
یہ تو تھا جرنیلی آمریت کے پاکستانی کارندوں کا سلوک۔ اب ذرا دنیا کی مہذب ترین امریکی حکومت کے نمایندوں کے کارنامے بھی ملاحظہ فرمالیں:
تیسری رات ۱۱ بجے کے لگ بھگ میں نے سونے کا ارادہ کیا کہ اچانک دروازہ کھلا اور شلوار قمیص میں ملبوس چھوٹی داڑھی والا ایک شخص اندر داخل ہوا۔ اس نے کہا ہم آپ کو ایک دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ میں نے یہ نہ پوچھا کہ مجھے کہاں لے جایا جارہا ہے کیونکہ مجھے بیچ کی امید نہ تھی۔ مجھے واش روم استعمال کرنے کے لیے صرف پانچ منٹ دیے گئے۔ رفتہ رفتہ گاڑی ہیلی کاپٹر کے قریب ہوتی گئی اور اس کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے لگی۔ اس دوران مجھے ایک ضرب پڑی اور میری کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی اس ضرب سے نیچے گرگئی یا مجھ سے لے لی گئی۔ مجھے دو افراد کی مدد سے گاڑی سے اُتارا گیا اور ہیلی کاپٹر سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا کر دیا گیا۔ چند لمحوں بعد میں نے خدا حافظ کے الفاظ سنے۔ پھر میں نے کچھ لوگوں کی آوازیں سیٹیں جو انگریزی میں باتیں کر رہے تھے۔ اچانک وہ ریچھوں کی طرح مجھ پہ پل پڑے اور لاتوں گھونسوں اور مکوں کی بارش کرنے لگے۔ کبھی مجھے اوندھے منہ لٹا دیا جاتا، کبھی کھڑا کر کے دھکا دیا جاتا’ میرے کپڑے چاقوؤں کی مدد سے پھاڑ دیے گئے۔ اسی دوران میری آنکھوں سے پٹی اُتر گئی۔ میں نے دیکھا کہ پاکستانی افسر قطار میں کھڑے تھے۔ ساتھ ہی افسروں کی گاڑیاں تھیں جن میں سے ایک پر جھنڈا لگا تھا۔ امریکیوں نے مجھے مارا پیٹا’ بے لباس کر دیا مگر اسلام کے محافظ میرے سابقہ دوست تماشا دیکھتے رہے۔ یہ بات میں قبر میں بھی نہ بھول سکوں گا۔ میں کوئی قاتل چوڑ ڈا کو یا قانون کا مجرم نہ تھا۔ مجھے بغیر کسی جرم کے امریکا کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ وہاں موجود افسر اتنا تو کہہ سکتے تھے کہ یہ ہمارا مہمان ہے۔ ہماری موجودگی میں اس کے ساتھ یہ سلوک نہ کرو۔ وحشی اور بے رحم امریکی فوجیوں نے ایسی حالت میں مجھے زمین پر شیخ دیا کہ میرا جسم تنگا ہو گیا۔ پھر مجھے ہیلی کاپٹر میں دھکیل دیا گیا۔ میرے ہاتھ پاؤں کس کر زنجیروں سے باندھ دیے گئے ۔ آنکھوں پر پٹی پھر باندھ دی گئی۔ میرا چہرہ سیاہ تھیلے سے ڈھانپ دیا گیا۔ میرے جسم کے اردگر دسر سے پاؤں تک رہی لپیٹ کر ہیلی کاپٹر کے وسط میں زنجیر سے باندھ دیا گیا۔ (روزنامہ نواے وقت ۲۲ ستمبر ۲۰۰۶ء)
پوری داستان دل خراش اور آبدیدہ کر دینے والی ہے۔ لیکن یہ سب وہ خدمات ہیں جو اس جرنیلی آمریت نے امریکا کی خوشنودی کے لیے انجام دی ہیں اور اس طرح اپنی آزادی اور خود مختاری کو اپنے ہی ہاتھوں تار تار کیا ہے۔ امریکا پاکستان کے ہر شعبہ زندگی میں مداخلت کر رہا ہے۔ فوجی مشقوں کے نام پر فوج کی قیادت کو دام اسیری میں لایا جا رہا ہے۔ تعلیم میں مداخلت ہے اور نصاب تعلیم میک میں تعلیمی اصلاحات کے نام پر یوایس ایڈ کی دراندازیاں ہو رہی ہیں اور قرآن کی وہ آیات تراش وخراش سے محفوظ نہیں جو جہاد کے بارے میں ہیں۔ معیشت پر گرفت تو پہلے ہی کم نہ تھی مگر اب نج کاری اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے مزید مداخلت کی راہیں استوار ہوگئی ہیں۔ دینی مدارس کو لگام دینے کی خدمت بھی امریکی منصوبے کے تحت کی جارہی ہے اور اب حدود قوانین ناموس رسالت کا قانون اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے والی دستوری ترمیم سب نشانے پر ہیں۔ جرنیل صاحب چاہتے تھے کہ امریکا کا دورہ کرنے سے پہلے اپنی وردی کے زعم پر حدود قوانین میں ترمیم کرالیں لیکن اللہ کی شان ہے کہ وردی کے باوجود ترمیم دھری کی دھری رہ گئی ان تمام خدمات اور سپردگیوں (surrenders) کے باوجود بلکہ ان کے نتیجے میں امریکا اور بھی شیر ہوتا جارہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دورے کے موقع پر اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد صدر بش نے سی این این کے نمایندے وولف بلٹزر (Wolf Blitzer) کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا صدر بش خفیہ ایجنسیوں کی قابل اعتماد معلومات پر القاعدہ کے قائدین کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوج کے ذریعے بلا واسطہ کا رروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، صاف الفاظ میں کہا) absolutely بالکل یقینا) ۔
یہ ہے اس جرنیلی آمریت کے زیر سایہ اب ہماری آزادی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ(sovereignty) کی اصل حقیقت ۔
دفاعی صلاحیت میں کمی
پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی اس خطرناک حد تک تحلیل اور تخفیف (erosion) کے ساتھ دوسرا مسئلہ ہماری دفاعی صلاحیت کے بری طرح متاثر ہونے کا ہے۔ دفاعی صلاحیت میں سب سے اہم چیز قوت اور وسائل میں عدم مساوات کے باوجود مزاحمت مقابلے اور دفاع کے عزم اور قومی مقاصد آزادی اور عزت کے دفاع کے لیے جان کی بازی لگا دینے کا جذبہ ہے۔ لیکن جو فوجی قیادت ذہنی شکست کھا چکی ہو مفادات کے چکر میں پڑ جائے اور سمجھوتوں اور سہولتوں کو شعار بنا لے وہ لڑنے اور جان دینے کے جذبے سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس فوج کو سیاست کا چسکا لگ جائے وہ پھر دفاع کے لائق نہیں رہتی۔ جنرل پرویز مشرف کی پالیسی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان کے دور میں فوج کو سیاست ہی نہیں، معیشت حکمرانی انتظامیات غرض ہر اس کام میں لگا دیا گیا ہے جس کا کوئی تعلق دفاع سے نہیں۔ پھر فوج کو اپنے ہی عوام کو نشانہ ستم بنانے اور انتظامی معاملات حتی کہ انتخابات کے عمل میں اس بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے کہ اس کے نتیجے میں فوج متنازعہ بن گئی ہے اور عوام کی عزت محبت اور توقیر کی جگہ نفرت اور دشمنی کا ہدف بن رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیرستان اور بلوچستان میں جس طرح فوج کو استعمال کیا گیا ہے اس نے صرف جرنیلی آمریت ہی کو نہیں، خود فوج کو ہدف تنقید وملامت بنائے جانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ ملک کی دفاعی صلاحیت کے لیے ایک نا قابل برداشت دھچکا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کے ساتھ سلوک
جرنیلی آمریت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اور اس کے ذریعے سائنس دانوں کی پوری برادری کو جو پیغام دیا ہے نیز ایٹمی صلاحیت کو مسلسل ترقی دینے کے لیے جن راہوں کو کھلا رکھنا ضروری تھا انھیں جس طرح بند کر دیا گیا ہے اس نے ہماری ایٹمی سد جارحیت (nuclear deterrence) کی صلاحیت کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ قابلِ اعتماد ذرائع اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری نے کلیر صلاحیت کو آہستہ آہستہ کمزور اور تحلیل کرنے اور اس پر امریکی اثر کے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو بظاہر غیر محسوس ہے مگر فی الحقیقت خطرناک حد تک یقینی ہوتا جارہا ہے۔ نیز امریکا پر دفاعی ساز وسامان کے لیے محتاجی کا نیا دور شروع ہو رہا ہے حالانکہ اس باب میں امریکا کا قطعاً نا قابل اعتماد ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ ایف ۱۶ کے بارے میں تاریخی دھوکا کھانے کے بعد ملک اور فوج کو ایک بار پھر اسی چکر میں مبتلا کیا جا رہا ہے اور جہاز بھی وہ دینے کی بات کی جارہی ہے جو نہ صرف جدید ترین سے بہت فروتر ہیں بلکہ ان کے استعمال اور نقل وحرکت پر بھی امریکا کی نگاہ رہے گی۔ ایسے جہاز امریکا کی محتاجی کی زنجیر ہوں گے یہ آزادی کے شاہیں نہیں ہو سکتے۔ جرنیلی آمریت جس طرح ملک کی آزادی اور حاکمیت کو مجروح کرنے کا ذریعہ بنی ہے اسی طرح خود فوج کی دفاعی صلاحیت اور ملک کی نیوکلیر استعداد کو کمزور کرنے کی ذمہ دار ہے۔
چھوٹے صوبوں کی محرومی
جرنیلی آمریت کی تباہ کاری کا تیسرا میدان چھوٹے صوبوں کو نا انصافیوں اور محرومیوں کی دلدل میں دھکیل دینا ہے جس کے نتیجے میں مرکز گریز رجحانات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ سندھ میں ایک طرف ایک لسانی تنظیم کی اس طرح سر پرستی کی جارہی ہے کہ صوبہ امن وچین سے محروم ہو گیا ہے ہر طرف بھتہ اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ دوسری طرف فرقہ واریت کو فروغ دیا جارہا ہے اور روز افزوں خون خرابے کے باوجود اصل مجرم محفوظ و مامون بیٹھے ہیں۔
کالا باغ ڈیم کے مسئلے کو اس بھونڈے انداز میں اٹھایا گیا کہ تین صوبے مرکز کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ قومی مالیاتی ایوارڈ کے باب میں مرکز کا کردار نہایت غیر منصفانہ اور غیر حقیقت پسندانہ رہا جس کے نتیجے میں صوبوں کی ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور آج تک صوبوں کو ان کا حق نہیں مل سکا۔ یہ سب مسائل اپنی جگہ لیکن سب سے بڑھ کر اس جرنیلی آمریت نے جس طرح بلوچستان کے مسئلے کو بگاڑا ہے وہ ایک قومی جرم سے کم نہیں۔
بلوچستان کے مسائل حقیقی اور گمبھیر ہیں اور اس صوبے میں محرومی کا احساس بے چینی سے بڑھ کر بغاوت کی حدوں کو چھورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے ہر دور میں نہ صرف وہاں کے مسائل کو مجرمانہ طور پر نظر انداز کیا بلکہ سیاسی مسائل کو قوت کے ذریعے اور صوبے کی سیاسی قوتوں کو بانٹ کر اور اپنے حواریوں کو اقتدار سونپ کر صوبے کے وسائل کو صوبے اور اس کے عوام کے وسیع تر مفاد کے مقابلے میں مفاد پرست عناصر کے کھل کھیلنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ تعلیم روزگار پیداوار صحت انفراسٹر کھر کی ترقی، صنعت غرض ہر میدان میں یہ صوبہ سب سے پیچھے ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال مگر ان وسائل کے ثمرات سے محروم ۔ جب بھی وہاں کے عوام نے اپنے حقوق کی بات کی اس کا جواب بندوق اور توپ سے دیا گیا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال وہ پارلیمانی کمیٹی ہے جو خود چودھری شجاعت حسین صاحب کی سربراہی میں قائم ہوئی تھی اور جس کی ایک سب کمیٹی نے اپنی متفقہ رپورٹ بھی پارلیمنٹ کو پیش کر دی تھی مگر عین اس وقت جب معاملات سیاسی افہام وتفہیم سے طے ہونے کے مراحل میں تھے فوج کشی کا راستہ اختیار کیا گیا اور سارے کیسے دھرے پر پانی پھیر دیا گیا۔ اس کا تباہ کن انجام ۲۵ اگست کو فوجی آپریشن کے نتیجے میں ۸۰ سالہ نواب بلٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت اور اس کے بعد ان کی تجہیز وتدفین کے لیے وہ سفاکانہ اور ہتک آمیز راستہ ہے جس نے پورے صوبے ہی نہیں، پورے ملک میں غم وغصے کی آگ بھڑکا دی ہے۔ یہ سب کچھ محض ایک شخص کی انا کی تسکین کے لیے کیا گیا جس نے کہا تھا کہ یہ ۲۰۰۶ ء ہے ۱۹۷۴ء نہیں ہے اور اب ایسی سمت سے حملہ ہو گا جسے دیکھا بھی نہیں جا سکے گا اور جس نے نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے ظالمانہ اقدام پر فوج کو کامیاب آپریشن پر مبارک باد دی جس پر بعد میں دھول ڈالنے میں عافیت محسوس کی گئی۔
امریکا کا نیا شرق اوسط
اس جرنیلی آمریت نے یہ سب کچھ ایک ایسے پس منظر میں کیا جب اس حسّاس علاقے کے بارے میں بین الاقوامی سازشوں اور شرارتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت ایران افغانستان اور سب سے بڑھ کر امریکہ اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور مقامی عناصر میں سے کچھ اس میں آلہ کار بن رہے ہیں۔ پاکستان کے نقشے کو تبدیل کرنے کے منصوبے نئے نہیں۔ سابقہ امریکی صدر کے ایک یہودی مشیر پروفیسر برنارڈ لیوس (Bernard Lewis) کئی سال پہلے شرق اوسط کے لیے نیا نقشہ پیش کر چکے ہیں اور اس میں بلوچستان کو ایک آزاد ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ عین نواب بگٹی کی ہلاکت سے دو ماہ قبل کولن پاول کے ایک سابق اسٹنٹ رالف پیٹر (Col (r) Ralph Peter) نے امریکا کے نیم سرکاری مجلے Armed Forces Journal میں ایک زہر آلود مضمون لکھا ہے جس کا عنوان Blood Borders ہے اور اس دعوے کے ساتھ لکھا ہے کہ) How a Better Middle East Would Look ایک بہتر شرق اوسط کیسا نظر آئے گا) ۔
اس میں پورے شرق اوسط کی تقسیم در تقسیم کا منصوبہ پیش کیا ہے جس سے امریکا اور اسرائیل کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس وقت اس منصوبے کے تمام پہلوؤں پر کلام مقصود نہیں صرف پاکستان اور بلوچستان کے سلسلے میں اس شر انگیز تجویز پر توجہ مبذول کرانا پیش نظر ہے۔ موصوف پاکستان کو ایک غیر فطری ریاست (an unnatural state) قرار دیتے ہیں اور بلوچستان اور پشتونستان کو اس سے الگ کرتے ہیں اور اس دعوے کے ساتھ کہ یہ سب کچھ موصوف کے اپنے عزائم کے مطابق نقشے کی نئی صورت گری نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی خواہش کا اظہار ہے:
یہ نقشے کو ہماری پسند کے مطابق بنانا نہیں ہے، بلکہ جسے علاقے کے لوگ ترجیح دیتے ہیں وہ ہے۔
اس لیے اس تجویز میں ان کا مرکزی خیال یہ ہے کہ نئی حد بندی علاقائی، لسانی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر ہونی چاہیے:
ہر معاملے میں یہ نئی مفروضہ حد بندیاں نسلی تعلقات اور فرقہ بندی، بعض صورتوں میں دونوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
ہم موصوف کا پیش کردہ نقشہ علاقے کے موجودہ نقشے کے ساتھ پیش کرتے ہیں تا کہ اس علاقے کے بارے میں سامراجی سیاست کاری کے کھیل کا کچھ ادراک ہو سکے۔
دونوں نقشوں پر نظر ڈالیے۔ جغرافیائی سرحدوں کی ساری تبدیلی مسلم ممالک کے لیے مخصوص ہے۔ اتنا بڑا بھارت اس نقشے پر موجود ہے جس میں درجنوں لسانی، مذہبی، ثقافتی اور نسلی آبادیاں موجود ہیں ۔ ۱۶ ۱۷ آزادی کی تحریکیں سرگرم ہیں وہاں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے ۔ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر!
ایک طرف یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے اور دوسری طرف جرنیلی آمریت بعینہ وہ فضا پیدا کر رہی ہے جس میں کچھ عناصر حقیقی مسائل اور محرومیوں کے ساتھ نفرت کی آگ کی آمیزش کر کے حالات کو ایسا رخ دے سکیں جن کے جلو میں سامراجی مقاصد حاصل ہوسکیں۔
ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کو جس طرح بگاڑا جا رہا ہے وہ حد درجہ خطر ناک ہے۔ صوبے کے حقیقی مسائل آج بھی آسانی سے حل ہو سکتے ہیں اس کے لیے سیاسی عمل افہام وتفہیم اور عدل واحسان کا راستہ ہی صحیح راستہ ہے۔ فوج کشی اور عزت سے کھیلنے سے مسائل لا ز ما بگڑیں گے اور حل سے دُور ہوتے جائیں گے۔ جرنیلی آمریت نے جو راستہ اختیا کیا ہے وہ صرف تباہی کا راستہ ہے۔ حالات کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ حکمت عملی کو یکسر بدلا جائے۔ بلوچ قبائل اور عوام کا غم پاکستان کے ہر شہری کا غم ہے اور وہاں کے مسائل ہمارے مشترکہ مسائل ہیں۔ سب کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے اور جو انصاف سے جتنا محروم رہا ہے اس کا اتنا ہی زیادہ حق ہے۔ سیاسی عمل کے ساتھ ساتھ ان دستوری قانونی اور انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے جو حقیقی صوبائی خود مختاری اور صوبے کے وسائل پر اہلِ صوبہ کے حق کو یقینی بنا سکے بلکہ جن صوبوں اور علاقوں کی حالت زیادہ خراب ہے ان کو ملکی اوسط کی سطح تک لانے کے لیے صرف اس صوبے کے نہیں بلکہ متمول صوبوں اور علاقوں کے وسائل کو بھی پس ماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال ہونا چاہیں تا کہ سب کے ساتھ انصاف ہو سکے۔ اس مقصد کا حصول حقیقی جمہوری عمل کے قیام اور انصاف اور حق کے اصولوں کی پاسداری کے بغیر ممکن نہیں۔
مسئلہ طاقت کے استعمال کا نہیں، عقل کے استعمال اور انصاف اور دردمندی کے ساتھ حقیقی مسائل اور مشکلات کو دور کرنے کا ہے۔ یہ تصور کہ مرکز مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا ایک فاسد نظریہ ہے۔ پاکستان کی مضبوطی کے لیے صوبوں اور علاقوں کی مضبوطی ضروری ہے۔ دیوار اتنی ہی مضبوط ہو گی جتنی وہ اینٹیں مضبوط ہوں گی جس سے یہ دیوار بنی ہے۔ آمریت کا مزاج ہی مرکزیت کا مزاج ہے اور جب وہ آمریت جرنیلی آمریت ہو تو پھر اختیارات کے ارتکاز کا عالم اور بھی کمبھیر ہو جاتا ہے اور سیاسی عمل نام نہاد کمانڈ اسٹر پھر تلے دم توڑ دیتا ہے۔ آج بلوچستان کے مسائل شعلہ فشاں ہو گئے ہیں اور قومی سطح پر ان کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ نواب بگٹی کی ہلاکت سے جو بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اسے قومی سطح پر موثر سیاسی حکمت عملی بنا کر اور اس پر سب کی شرکت سے عمل کر کے حالات کو قابو میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے پہنی چاہیے کہ مسائل اور محرومیاں بلوچستان تک محدود نہیں۔ دوسرے صوبوں اور خود پنجاب کے کچھ پس ماندہ علاقوں میں بھی مسائل سلگ رہے ہیں۔ ان کے شعلہ بننے سے پہلے ان کے حل کی ضرورت ہے جو جو نیلی آمریت کے بس کا روگ نہیں۔
مسئلہ کشمیر کی تحلیل
جرنیلی آمریت کا چوتھا نشانہ کشمیر کا مسئلہ ہے جسے جنرل پرویز مشرف نے کمال بے تدبیری کے ساتھ تحلیل کرنے (liquidate) کرنے کی ٹھان لی ہے۔ پہلے دن سے کشمیر کا مسئلہ ایک قومی مسئلہ تھا اور سب جماعتیں اس پر متفق تھیں کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اس لیے کہ یہ تقسیم ملک کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ نیز یہ مسئلہ محض پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی تنازع نہیں بلکہ ریاست جموں وکشمیر کے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے جس سے بھارت نے انھیں محروم رکھا ہوا ہے جو صرف فوجی قوت اور سامراجی تسلط سے ریاست کے دو تہائی حصے پر قابض ہے اور وہاں شہریوں کو جبر اور ظلم کے ذریعے زیر دست رکھے ہوئے ہے اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ پونے پانچ لاکھ افراد ان ۶۰ برسوں میں اپنی آزادی کی جدو جہد کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جان کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستان ان کا وکیل اور ان کے حق کے حصول کی جدو جہد کا پشتی بان ہے اور ان کے اس حق کے حصول کے لیے ہر قربانی دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ پاکستان کی فوج اور دفاعی صلاحیت کا بھی گہرا تعلق بھارت سے آنے والے خطرات کے مقابلے کی استطاعت کے ساتھ کشمیر میں حق خود ارادیت کے حصول کو ممکن بنا لینے سے ہے۔ ورنہ اتنی بڑی فوج کی جس پر قومی وسائل کا ایک معتد بہ حصہ صرف ہو رہا ہے ضرورت نہیں تھی۔
اس سارے پس منظر میں لچک کے نام پر لیکن در حقیقت شکست خوردہ ذہنیت کا اسیر ہونے کے باعث جنرل پرویز مشرف عملاً کشمیر سے دست کش ہو گئے ہیں اور اس طرح پاکستان کے ایک قومی ہدف کو منہدم کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔ فروری ۲۰۰۲ ء سے ان کی پسپائی کے سلسلے کا آغاز ہوا جو اب ہوانا میں من موہن سنگھ سے ملاقات کے وقت اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ اس قومی ہدف پر پہلی ضرب انھوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ایک طرف رکھ دینے کے اعلان کی لگائی۔ پھر جنگ آزادی اور جہاد کشمیر کو عملاً دہشت گردی قرار دے کر اپنی ہی نہیں ساری محکوم اقوام کی آزادی کی جدو جہد پر کالک ملنے کا جرم کیا۔ اوّل اوّل پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے سے احتراز کی بات کی گئی۔ پھر بھارت کو باڑ بندی کا موقع دیا سیز فائر کیا۔ عملا تحریک مزاحمت کی معاونت سے ہاتھ اٹھا لیا اور اب پورے مسئلے ہی سے اس اعلان کے ساتھ دست بردار ہو گئے کہ ایسا حل نکالا جائے جو دونوں فریقوں کے لیے نا قابلِ قبول نہ ہو۔ اس سے زیادہ نا انصافی کیا ہوگی کہ اب کہا جارہا ہے مسئلہ آزادی اور حق خود ارادیت کا نہیں بلکہ کسی ایسی چیز کو قبول کر لینے کا ہے جو غاصب قوت کے لیے قابل قبول ہو۔ اس سے مسئلے کی نوعیت ہی بدل گئی۔
اصل مسئلہ بھارت کے غیر قانونی قبضے (illegal occupation) کا تھا اور اس کا حل جو انصاف اور حق پر مبنی ہو صرف حق خود ارادیت ہی کی شکل میں ہو سکتا ہے جس طرح سامراج سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا کے گوشے گوشے میں ہوا۔ لیکن اب اس مسئلے ہی سے جنرل صاحب دست بردار ہو گئے ہیں اور حق خودارادیت کی جدوجہد دہشت گردی قرار پا گئی ہے جس کا قلع قمع کرنے کے لیے دونوں ملکوں میں مشترک اداراتی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی اس سے بڑی فتح کیا ہوگی کہ اس نے جنرل صاحب سے کہلوالیا کہ اصل مسئلہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی آزادی اور حق خود ارادیت کا نہیں بلکہ سرحدی دراندازی اور نام نہاد دہشت گردی ہے۔ مسئلہ بھارت کا ناجائز قبضہ نہیں بلکہ ناجائز قبضے کے خلاف جائز جنگ آزادی اور تحریک مزاحمت ہے۔ یہ موقف تحریک آزادی کشمیر کے سینے میں خنجر گھونپنے اور اپنے ہاتھوں پاکستان کی شہ رگ پر چھری چلانے کے مترادف ہے جسے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کی عظیم تحریک مزاحمت ہی سے نہیں، پاکستان سے غداری کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کس نے جنرل پرویز مشرف کو کشمیر کی تحریک آزادی کو اس طرح تباہ کرنے کا اختیار دیا کشمیر کے عوام اور پاکستان کے عوام اس بے وفائی کو بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔
اسلام کا مسخ شدہ تصور
جرنیلی آمریت کا ایک اور ہدف اسلام کا وہ انقلابی اور ہمہ گیر تصور ہے جس کے تحت انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں دیتا ہے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شریعت کے تابع کرتا ہے۔ وہ اسلام کی سربلندی کو اپنی زندگی کا مقصد بناتا ہے اور اس کے لیے جہاد کو اپنا شعار قرار دیتا ہے۔ اس تصویر حیات کے مقابلے میں جرنیلی آمریت نے روشن خیال اعتدال پسندی (enlightened moderation) کے نام پر اسلام کا ایک ایسا مسخ شدہ تصور وضع کرنے کی کوشش کی ہے جو مغربی تہذیب و تمدن کا چربہ ہو جس میں حجاب داڑھی اور حیا و شرم کی گنجایش نہ ہو۔ جس میں شراب زنا اور مخلوط معاشرت کے دروازے کھلے ہوں، جس میں جہاد کا ذکر بھی ممنوع ہو جہاں رقص وسرود اور عریانی زندگی کا معمول ہوں، جس میں عیدین تو بس رسمی طور پر منائی جائیں البتہ بسنت نیوایرز ڈے ویلنٹائن ڈے اور اس قسم کی خرافات ترقی کا مظہر قرار پائیں۔ فکری اور سماجی دونوں اعتبار سے اسی تحویل قبلہ کا نتیجہ ہے کہ اخبارات الیکٹرانک میڈیا سرکاری تقریبات حتی کہ سرکاری پارٹیوں اور فائیو سٹار ہی نہیں ان سے بہت چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں اب شراب کھلے بندوں دی جارہی ہے۔ پاکستانی سفارت خانوں میں بیش تر تقریبات میں شراب دی جاتی ہے اور اسلام آباد کے ایک انگریزی روزنامے نے تو حد ہی کر دی کہ اپنے صفحہ اول پر ایک چوتھائی صفحہ کا جلی اشتہار ایک کلینک کی طرف سے اس عنوان کے ساتھ شائع کیا کہ شراب نوشی کوئی قباحت نہیں، صرف بلانوشی نا مطلوب ہے اور اس کا بھی علاج ہم سے کرالی …… انا للہ وانا الیہ راجعون!
یہ جرنیلی آمریت پہلے دن سے بے تاب رہی ہے کہ کسی طرح حدود قوانین کو منسوخ کر دے اور توہین رسالت کے قانون کو کتاب قانون سے خارج کر دے مگر ہمت نہ ہوسکی۔ اب پھر وردی کے زعم پر حدود قوانین میں ترمیم کی کوششیں ہورہی ہیں اور طرح طرح کے ڈرامے رچائے جارہے ہیں۔ بلاشبہہ حدود قوانین کا نفاذ خلوص اور دیانت سے ملک میں نہیں ہوا اور ان کی برکات سے معاشرہ محروم ہے۔ مگر عورتوں پر ظلم کی وجہ یہ قوانین نہیں، مغربی تہذیب وثقافت اور وہ سیکولر اخلاق باختہ اور جاگیردارانہ سماج اور رویہ ہے جو اباحت پرست طبقے کا طرۂ امتیاز ہے۔ مختاراں مائی پر ظلم کسی حدود قوانین کی وجہ سے نہیں ہوا۔ روزانہ جو ہولناک واقعات رونما ہورہے ہیں وہ ان قوانین کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام کے باغی عناصر کی ظالمانہ کارروائیوں اور با اثر افراد کی قانون پر بالادستی کی وجہ سے ہیں۔ اگر یہ قوانین ٹھیک ٹھیک نافذ کیے جائیں تو معاشرہ ان جرائم سے آج بھی پاک ہو سکتا ہے لیکن جرنیلی آمریت اور اس کے آزاد خیال ہم نواؤں کا مقصد معاشرے کو جرم سے پاک کرنا نہیں جرم کو معتبر بنا دینا ہے۔ ابھی امریکا کی جو سرکاری رپورٹ بنیادی حقوق کے نام پر اس ہفتے شائع ہوئی ہے اس میں پوری بے شرمی سے کہا گیا ہے کہ زنا بالرضا کو جرم بنانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسے criminalization of sex کا نام دیا گیا ہے۔ اگر حدود قوانین کے خلاف کی جانے والی کی بحث کا آپ بے لاگ تجزیہ کریں تو یہی اصل مسئلہ سامنے آتا ہے کہ رضا مندی کے ساتھ آزاد شہوت رانی کوئی جرم ہے ہی نہیں کہ اس پر سزا دی جائے۔ برطانوی دور کے ضابطہ فوجداری میں مغربی ممالک کی طرح زنا کا فعل جرم تھا ہی نہیں۔ جسے adultery قرار دیا گیا وہ صرف شادی شدہ عورت سے خاوند کی مرضی کے بغیر جنسی تعلق تھا جس کی وجہ خاوند کی حق تلفی کبھی جاتی تھی یا پھر rape جو عورت پر جبر کی وجہ سے جرم بنتا تھا اور وہ بھی صرف تین سال کی سزا یا جرمانہ کا مستوجب!
حدود قوانین میں اصل ظلم کیا ہی یہ گیا ہے کہ ناجائز جنسی تعلق کو خواہ وہ باہمی رضامندی سے ہو یا جبر کی صورت میں، جرم قرار دیا گیا ہے اور دونوں شکلوں میں اسے مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں کہ زنا بالجبر کے سلسلے میں عورت کی گواہی قابلی قبول نہیں ۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں چند یا صرف ایک عورت کی گواہی پر بھی سزا دی گئی ہے۔ البتہ شریعت کا حد کے باب میں ہر ہر جرم کے سلسلے میں اپنا شہادت کا معیار ہے اور وہ ایک کل نظام کا حصہ ہے۔ اصل مسئلہ اسلام اور مغرب کے جدا گانہ تصور اخلاق نظام معاشرت اور جرم و سزا کے تصورات کا ہے۔ روشن خیال اعتدال پسندی کے نام پر جس دین کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے وہ خالص مغربی معاشرت اور تمدن ہے۔ اس کا اسلام کے نظام اقدار اخلاق اور معاشرت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جرنیلی آمریت بھی بش اور امریکا کے کروسیڈز کے ہم زبان ہو کر اسلامی شریعت کو اپنا مد مقابل سمجھتی ہے اور اب تو جنرل مشرف صاف کہنے لگے ہیں کہ القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ طالبان ہیں اور طالبان صرف افغانستان کے لیے نہیں طالبانائی زیشن (talibanization) پاکستان کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور اس کے لیے انتہا پسند ترقی کے مخالف اور نہ معلوم کون کون سی گالیاں وضع کرلی ہیں لیکن یہ سب در اصل اسوہ محمدی اور شریعت محمدی سے فرار کی راہیں ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ اقبال نے سچ کہا تھا:
اے تهی از ذوق وشوق وسوز ودرد
می شناسی عصر ما با ما چه کرد
عصر ما مارا ز ما بے گانہ کرد
از جمال مصطفٰیؐ بے گانہ کرد
اے شوق ومحبت اور سوز وگداز سے خالی شخص، تجھے خبر ہے کہ زمانے نے ہمارے ساتھ کیا (ظلم) کر دیا ہے۔ زمانے نے ہمیں اپنے آپ سے بے گانہ کر دیا ہے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن کردار سے بھی بے گانہ کر دیا ہے۔
جہاد سے فرار اور خانقاہی نظام کے احیا کے عزائم راہ محمد سے اُمت کو ہٹانے کے شیطانی منصوبے کا حصہ ہے—مذہب انفرادی عمل ہے۔ سیاست ریاست اور تہذیب وثقافت سے اس کا کیا رشتہ؟ ابلیس نے یہی تو کہا تھا:
ہر نفس ڈرتا ہوں اس اُمت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر وفکر صحگاہی میں اسے
پخته تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے
اور اس شیطانی حکمت عملی کے مقابلے میں اقبال نے وہی نسخہ تجویز کیا تھا جو روح اسلام کا مظہر ہے ؎
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری



