ArticleLawMedia ArticlePakistan Law

دستور پر حملہ

دستور کسی ملک کی سب سے اہم اور مقدس قانونی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ تمام اختیارات کا سرچشمہ اور ریاستی اداروں کے حدود کار، حکمرانی کے اصول وآداب اور خود قانون سازی اور پالیسی کے خطوط کار اور ان کی صورت گرمی کے دروبست کو متعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے قانون اساسی [fundamental law] کہا جاتا ہے اور اس میں ترمیم کو مشکل بنایا جاتا ہے بلکہ اب تو یہ اصول بھی قبولِ عام حاصل کر چکا ہے کہ دستور کے بنیادی ڈھانچے اور ریاست کے کردار میں محض ترمیم دستور سے تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اگر اس کی نوبت آئے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام سے استصواب کیا جائے تا کہ دستور کی تشکیل نو کے لیے وہ نئی دستور ساز اسمبلی کی تشکیل کریں۔ وہ پارلیمنٹ جو ایک دستور کے تحت وجود میں آئی ہو اور خواہ اس دستور کے تحت وہ دستور میں ترمیم کا حق رکھتی ہو تب بھی وہ دستور کے مقاصد اور بنیادی ڈھانچے کے اندر رہ کر تو ترمیم کرسکتی ہے مگر خودان بنیادوں کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ گویا ترمیم کا اختیار دو تہائی اکثریت کو بھی غیر مشروط اور لامتناہی [absolute and unlimited] نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستور کے تحت اعلیٰ ترین عدالت اس قانون کو جو دستور سے متصادم ہو، خواہ اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا ہو، غیر دستوری [ultra vires of the constitution] قرار دے سکتی ہے اور دستور سے تصادم کی بنیاد پر ایسا قانون غیر موثر قرار دیا جا سکتا ہے۔

دستور کی اس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ان مجوزہ دستوری ترامیم کے جائزے کی ضرورت ہے جسے دستوری پکیج [constitutional package] کا نام دیا گیا ہے اور جو بظاہر عدلیہ کی آزادی اور بحالی اور دستور کے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی شکل میں بحال کیے جانے کے لیے کی جارہی ہیں مگر فی الحقیقت دستور پر ایک نئے حملے کی شکل رکھتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ ان کو ان کی موجودہ شکل میں منظور کر لیا جاتا ہے تو اداروں اور اشخاص کے درمیان قائم کیا جانے والا تقسیم اختیارات اور توازن قوت کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور اس سے بھی زیادہ خطر ناک پہلو یہ ہے کہ دستور اور اعلیٰ عدالتی نظام میں مخصوص افراد کو نواز نے اور کچھ کو پابند کرنے کے لیے فرد کی ضرورت کے تحت [person-specific] ترمیمات تجویز کی جارہی ہیں جن کے نتیجے میں یہ پورا عمل بُری طرح سیاست زدہ اور شخصی[personalize]  ہو جاتا ہے۔ خطرہ ہے کہ اس سے وہ پنڈورا کا صندوق [pandora’s box] کھلے گا جس سے نکلنے والے عفریت کو پھر قابو میں لانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام نہاد دستوری پیج دستور اور قانون پر گہری نظر رکھنے والوں نے نہیں بنایا بلکہ ڈرائنگ روم کی سیاست کرنے والوں نے اپنی پسند اور ناپسند کو دستور پر مسلط کرنے کے لیے دستور کی ۸۰ دفعات میں تراش خراش کی جسارت کی ہے۔ اس کا جہاں علمی جائزہ لینے کی ضرورت ہے، وہیں اس سیاسی کھیل کے پردے کو بھی چاک کرنا ضروری ہے جو مخلوط حکومت کی سب سے بڑی پارٹی پیپلز پارٹی کی قیادت نے ملک وقوم کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے۔

مینڈیٹ کا اصل تقاضا

ان دستوری سفارشات کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ اس بات کا تعین کر لیا جائے کہ ۲۰۰۷ ء کے عدالتی بحران اور ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کے عوامی مینڈیٹ کا اصل تقاضا کیا ہے اور اس سلسلے میں نئی حکومت کی اولین ذمہ داری کیا تھی۔ کیا یہ دستوری سفارشات اس ضرورت کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں یا ان کے ذریعے کوئی نیا ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

سب سے پہلا مسئلہ ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کو غیر قانونی طور پر معزول کیے جانے والے ججوں کی بحالی تھا جسے نئی حکومت کو برسر اقتدار آتے ہی انجام دے دینا چاہیے تھا، مگر اس نے ایک متناقض موقف اختیار کر کے اصل تاریخی لمحے کو ضائع کر دیا اور قوم کو ایک نئے سیاسی بحران میں مبتلا کر دیا جس کے اثرات ملکی سیاست، انتظام حکومت، قانون کی حکمرانی اور معاشی مسائل کے مزید الجھ جانے کی شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف تو وزیر اعظم صاحب نے قائد ایوان منتخب ہوتے ہی وزارت عظمیٰ کے حلف تک کے لینے سے پہلے ہی معزول جموں کی رہائی کا حکم دے دیا اور ان کو رہا کر بھی دیا گیا لیکن دوسری طرف بار بار کے اس اعلان کے باوجود کہ جنرل پرویز مشرف کا ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کا اقدام غیر قانونی اور خلاف دستور تھا، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے ان ججوں کو آج تک بحال نہیں کیا جو جائز حج ہیں اور ایک ناجائز [illegitimate] پی سی او کے تحت حلف لینے والے جج صاحبان آج بھی بلا اختیار عدالت کا کاروبار چلا رہے ہیں اور اب کوشش کی جارہی ہے کہ حق دار اور بلا حق کام کرنے والوں کو ان ناروا دستوری ترامیم کے ذریعے برابری کے مقام پر لے آیا جائے۔ یہ ملک کے نظام عدل کو تہ و بالا کرنے کا مجرب نسخہ ہے اور جس کے دماغ کی بھی اختراع ہے اسے ملک و قوم کا مخلص قرار دینا مشکل ہے۔

اصل ضرورت صرف اتنی تھی کہ:

ا۔ ایک انتظامی حکم کے ذریعے ان بچوں کو جن کو ایک غیر قانونی حکم نامے کے ذریعے جبری طور پر معزول کیا گیا تھا ان کو اپنے اصل مقام پر بحال کیا جاتا اور جو غیر قانونی طور پر عہدوں پر فائز کر لیے گئے تھے انھیں کسی معقول طریقے سے فارغ، یا ان کے ماقبل کے مقام پر بھیج دیا جاتا یا زیادہ سے زیادہ کچھ کو ایڈ ہاک ججوں کے طور پر کچھ عرصے کے لیے رکھ لیا جاتا اور بالآخر انھیں فارغ کر دیا جاتا تا کہ ایک بھونڈے کام کو بھی سلیقے ہی سے انجام دیا جائے۔

ب- پارلیمنٹ ایک قرارداد کے ذریعے ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کو غیر قانونی، خلاف دستور، نا قابل قبول قرار دیتی اور وزیر عظم کو ہدایت دیتی کہ وہ خوش اسلوبی سے اس کے غلط اقدامات اور اثرات سے ملک کو پاک اور محفوظ کرنے کے لیے جملہ اقدام کریں۔ ج ۳ نومبر کے اقدام کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزادی جاتی، البتہ جو قوانین، فیصلے اور اقدام ہو چکے ہیں ان کے صرف ناگزیر پہلوؤں کو بہ اکراہ تحفظ دیتے ہوئے آئیندہ کے لیے غیر موثر کیا جاتا اور متبادل جائز قانونی یا انتظامی احکام کے ذریعے جن چیزوں کو باقی رکھنا ضروری ہے انھیں باقی رکھا جائے۔

اس پورے کام کے لیے کسی دستوری ترمیم کی ضرورت نہ تھی۔ ملک کے چوٹی کے قانون دانوں اور دستور کے ماہروں کی یہی رائے تھی اور ہم بھی اس راے کو صائب سمجھتے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے امریکا اور برطانیہ کی سفارت کاری کے ذریعے جو معاملات پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص جناب آصف علی زرداری اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان طے ہوئے تھے اور جن کے نتیجے میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے قومی مفاہمت کے نام پر لوٹ کھسوٹ اور سیاسی اور مالی بدعنوانیوں حتی کہ فوجداری جرائم تک سے درگزر کر کے ان کے مرتکبین کو معافی اور فارغ خطی کا پروانہ دے دیا گیا تھا اور اس کا فائدہ اٹھانے والوں میں ہزاروں افراد تھے جن میں سب سے اہم پیپلز پارٹی کی قیادت کے نمایاں افراد اور ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکن تھے۔ ان کا پلڑا بھاری رہا ہے اور ان ہی کی مرضی آگے بڑھائی جارہی ہے۔ اگر ایسا ہو تو پھر یہ احساس بھی صحیح ہی معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے اصل مسئلے یعنی عدلیہ کی بحالی اور پرویز مشرف سے نجات کو تو پس پشت ڈال دیا ہے اور دستوری پیج کے نام پر این آراو ]قومی مصالحتی آرڈی نس] کے تحفظ اور عدلیہ کو ایک ایسے شکنجے میں کہنے کا کھیل شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں عدلیہ کبھی بھی سیاسی قیادت کی گرفت سے باہر نہ نکل سکے اور جنرل پرویز مشرف کی صدارت اور این آراو کی ضمانت کو چیلنج نہ کیا جاسکے۔

جو کام سیدھے سیدھے انتظامی حکم اور زیادہ سے زیادہ پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے ہو سکتا تھا اسے تعویق میں ڈال کر غیر متعلقہ معاملات میں اُلجھا دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پوری قوم فکری انتشار، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کو اُمید کی جو کرن رونما ہوئی تھی اور عوام نے نئی زندگی اور سیاست دانوں کے نئے کردار کا جو خواب دیکھا تھا وہ زرداری صاحب کی مصلحتوں کی بنا پر چکنا چور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مشرف صاحب کی مقبولیت تو خاک میں مل چکی ہے لیکن اب زرداری صاحب کی مقبولیت کا گراف بھی تیزی سے نیچے جا رہا ہے جس کا اندازہ ہر سیاسی کارکن کو ہورہا ہے اور جس کی کچھ جھلک رائے عامہ کے اس تازہ ترین جائزے میں دیکھی جاسکتی ہے جو ایک امریکی ادارے Terror Free Tomorrow نے ۲۵ مئی سے یکم جون تک لیا ہے اور جس کے مطابق پاکستان کی آبادی کا ۷۳ فی صد مشرف کی اقتدار سے علیحدگی چاہتا ہے۔ اس وقت مقبول ترین قیادت وہ ہے جو ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس مطالبے کو ۹۵ فی صد آبادی کی تائید حاصل ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ [ن] کے سر پرست نواز شریف سب سے زیادہ مقبول ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کی حکومتی کارکردگی پر لوگ مطمئن نہیں اور اس کی مقبولیت کم ہو کر ۲۶ فی صدرہ گئی ہے، جب کہ اس کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی مقبولیت صرف ۱۳ فی صد پر آگئی ہے۔ [نواے وقت، ۲۲ جون ۲۰۰۸ء]

دستوری تجاویز یا زھر کی گولیاں

ججو کی بحالی، عدلیہ کی حقیقی آزادی صحافت کی آزادی اور مشرف سے نجات کے سلسلے میں جو رویہ زرداری صاحب کے زیر اثر پیپلز پارٹی نے اختیار کیا ہے اس نے عوام میں مایوسی پیدا کی ہے اور وہ اسے ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کے عوامی مینڈیٹ سے کھلا کھلا انحراف تصور کرتے ہیں اور دستوری ترامیم کے پشتارے کا جو ڈراما رچایا جا رہا ہے اسے مسئلے کو الجھانے اور قوم کے اہداف کو غتر بود کرنے کا کھیل سمجھ رہے ہیں۔ ہم ان باتوں کا اظہار بڑے دکھ سے کر رہے ہیں کہ ہماری پوری خواہش تھی کہ آمریت سے نجات اور جمہوریت کی طرف پیش قدمی کا سفر مخلوط حکومت کے ہاتھوں انجام پاتا لیکن نظر آ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کچھ قائدین اور اس کے ووٹروں کی شدید خواہش کے باوجود آصف علی زرداری اور ان کے زیر اثر جماعتی قیادت روایتی بایت حاکمہ [establishment] ہی کے مقاصد پورے کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ پرویز مشرف پر نمایشی دباؤ تو کبھی کبھی ڈال دیا جاتا ہے مگر نہ ان سے نجات پانے کے لیے ضروری اقدام کیے جارہے ہیں اور نہ عدلیہ کی بحالی کی کوئی موثر کوشش کی گئی ہے جس سے ملک کا نظام عدل بحال ہو سکے اور عوام کے لیے حصول انصاف کے دروازے کھل سکیں۔ بلکہ دستوری ترامیم کا جو پیکچ پیش کیا گیا ہے اس نے تو رہی سہی امید بھی خاک میں ملادی ہے اور اگر خدا نخواسته دستور میں یہ ترامیم ہو جاتی ہیں تو پھر جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کا قصر چکنا چور ہو جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ان شاء اللہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس میں کامیاب نہیں ہوگی اس لیے کہ عوام ان کی بھر پور اور مؤثر مخالفت کریں گے اور وکلا اور اہم سیاسی کارکنوں نے اس عزم کا انتظہار بھی کر دیا ہے۔ البتہ اس امر کی ضرورت ہے کہ ان ترامیم اور ان کے مضمرات کو اچھی طرح سمجھا جائے اور چند مفید چیزیں جو ان میں شامل ہیں ان سے دھوکا نہ کھاتے ہوئے جو أصل کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کا پردہ چاک کیا جائے اور ملک کو اس آفت سے محفوظ رکھا جائے۔ آئیے دیکھیں ان تجاویز میں کتنی کڑوی گولیاں بلکہ زہر کی گولیاں ہیں جو شکر میں لپیٹ کر اس قوم کو دی جارہی ہیں :

۳ نومبر کے اقدام کا تحفظ

ان کا پہلا اور سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان میں کھلے اور صاف الفاظ میں ۳ نومبر۲۰۰۷ء کے غیر قانونی اقدام کو رد نہیں کیا گیا اور اس کے مرتکبین کو موجب سزا قرار نہیں دیا گیا، بلکہ کمال ہوشیاری سے اس اقدام کو اور اس کے تحت عدلیہ کو تباہ کرنے والوں اور ان کے شرکائے کار کو تحفظ دیا گیا ہے، عدلیہ میں ۳ نومبر کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کے لیے مستقل گنجایش پیدا کی گئی ہے، ان کے ان تمام اقدامات کو جو نومبر کے بعد کیے گئے ہیں تحفظ دیا گیا ہے اور صاف لفظوں میں کہے بغیر اس سب کو سند جواز دی گئی ہے جو ایک قومی جرم ہے۔ ۱۸ فروری کے انتخاب کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کا تو مینڈیٹ ہی یہ ہے کہ وہ نومبر کے غیر قانونی اقدامات کا قلع قمع کرے اور ہمیشہ کے لیے ملک و قوم کو ایسی طالع آزمائی اور اس کی معاونت کرنے والوں سے محفوظ کرے لیکن ان ترامیم کے ذریعے وہی ظلم کیا جا رہا ہے جو ۱۹۵۸ء، ۱۹۶۹ء، ۱۹۷۷ء ، ۱۹۹۹ء اور ۲۰۰۷ء کے غیر قانونی اقدامات کو تحفظ دے کر ماضی میں کیا گیا ہے۔ جو کچھ جسٹس منیر، جسٹس انوار الحق ، جسٹس ارشاد اور جسٹس ڈوگر نے کیا، جناب زرداری صاحب اور فاروق نائیک صاحب وہی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس حمود الرحمن نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے والے غاصبوں سے ڈیل کرنے کا جو مبنی بر حق و انصاف راستہ دکھایا تھا اسے یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور ہوشیاری کے ساتھ آرٹیکل AAA ۲۷۰ اور CC ۲۷۰ کے ذریعے اس پورے سیاہ دور کو تحفظ عطا فرمایا گیا ہے البتہ کمال عنایت سے دفعہ ۶ میں ترمیم کر کے کل کلاں ایسا کرنے والوں کو سزا کی وعید سنائی جا رہی ہے۔ حالانکہ اگر آج کے مجرموں کو سزا نہیں ملتی تو پھر گویا کبھی بھی مجرموں کو سزا نہیں مل سکے گی۔ یہ ترامیم دستور کی ۱۹۹۹ء کی شکل میں بحالی کی نوید سے یکسر خالی ہیں اور دستور کو مزید سخ کرنے اور جو سلوک اس کے ساتھ ماضی کی ترامیم جن میں خصوصیت سے پہلی، تیسری، چوتھی، پانچویں ، چھٹی، ساتویں، آٹھویں اور ے اویس ترامیم قابل ذکر ہیں جن کے ذریعے عدلیہ کو پابند یا متاثر کرنے اور دستور کے پارلیمانی کردار کو مسخ کرنے کی خدمت انجام دی گئی اور فوجی آمریتوں کی کارگزاریوں کو تحفظ دیا گیا۔

این آراو کا تحفظ

ان ترامیم کا دوسرا پہلو این آراد کا تحفظ ہے جس کے لیے ایک بار نہیں دو بار آرڈی ننس کی چار ماہ کی عمر کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے اس این آراو کو، جس نے بدعنوانی اور کرپشن پر سفیدی پھیر دی ہے اور اس کے مرکمین کو ہمیشہ کے لیے مکمل طور پر بری کر دیا ہے، مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔ ہم نے بار بار اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ جہاں یہ غلط اور بدترین ظلم ہے کہ کسی معصوم انسان کو محض سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر بدعنوانی اور کرپشن کا ملزم بنایا جائے، وہیں یہ بھی اتنا ہی غلط اور ایسا ہی ظلم ہے کہ سیاسی مصالح اور اپنی صف بندیوں کو محفوظ کرنے کی خاطر ان لوگوں کو جو بد عنوانیوں کے مرتکب ہوئے ہوں اور جنھوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہو اور ملک کی دولت کو لوٹا ہو، ان کو مکمل معافی اور چھٹی دی جائے۔

این آراو ایک شرمناک قانون ہے اور اس کے تحت پاک دامنی کا دعوی کرنے والے کبھی پاک دامن تسلیم نہیں کیے جاسکتے۔ اس مسئلے کا واحد حل وہ ہے جسے خود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے میثاق جمہوریت میں تسلیم کیا ہے مگر ان ترامیم میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اس میثاق میں دونوں نے قوم سے عہد کیا ہے کہ جہاں سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی سے اجتناب کیا جائے گا وہیں احتساب کے لیے ایک اعلیٰ عدالتی نظام قائم کیا جائے جو بے لاگ انداز میں سیاسی قیادت اور دوسرے ان تمام افراد کا جو ذمہ داریوں کے مناصب پر فائز رہے ہوں، احتساب کرے۔

این آراو کے پاک بازوں کے دامن کو تو اس وقت تک صاف اور بے داغ قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ کسی معتبر عدالتی ادارے میں اپنی پاک دامنی ثابت نہ کر لیں، لیکن جس محنت اور غیر معمولی اہتمام سے ان ترامیم میں این آراو کو تحفظ دیا گیا ہے وہ شکوک وشبہات کو بڑھانے والا ہے، ختم کرنے والا نہیں۔

اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ این آراد کو تحفظ ہر گز نہیں دینا چاہیے، اعلیٰ عدالت کو تمام حالات کا جائزہ لینا چاہیے اور آئندہ کے لیے اس کا مستقل انتظام ہونا چاہیے کہ کوئی بھی اختیارات کا ناجائز استعمال اور قومی وسائل کو ذاتی منفعت کے لیے استعمال کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جو کرے وہ قانون اور احتساب کی گرفت سے نہ بچ سکے۔ یہ عمل سیاسی در اندازیوں اور انتقامات اور شک وشبہے سے پاک اور بالکل شفاف ہو ۔ یہ سب کے لیے ہو اور جو بھی اجتماعی زندگی میں سرگرم ہے اسے اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دستوری ترامیم کے ذریعے این آراد کو دوام بخشا ایک قومی جرم ہے اور اس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

عدلیہ پر پانچ وار

ان ترامیم کا تیسرا بڑا ہی تباہ کن پہلو عدلیہ کے پورے نظام کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کرتا ہے۔ اس کے پانچ بڑے بڑے پہلو ایسے ہیں جن کا پردہ چاک کرنا ضروری ہے تا کہ ان کا کھل کر مقابلہ کیا جا سکے۔

ا-  عدلیہ کی آزادی کا انحصار جن چیزوں پر ہے ان میں عدلیہ میں نئے جوں کی تقرری بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس عمل کو خالص میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے جس میں قانونی مہارت کے ساتھ دیانت وامانت اور اصول اور حق پرستی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ عمل سیاسی اثر اندازیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ بلاشبہہ یہ کام مشکل ہے اور دنیا کے تجربات اس ضمن میں بڑی ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔ خود ہمارے یہاں جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ ہرگز قابل فخر نہیں۔ ایک نہیں متعدد جوں کی خود نوشتیں طبع ہو چکی ہیں اور وہ ایسی داستانوں سے بھری ہوئی ہیں جن پر سر شرم سے جھک جاتا ہے، لیکن جو تجویز اب جناب فاروق نائیک نے جناب زرداری صاحب کی ہدایت پر پیش کی ہے، اس کے بعد تو سیاست کا عمل دخل آسمان پر پہنچ جائے گا اور خواہی نہ خواہی یہ ادارہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔ مرکزی اور صوبائی وزراے قانون کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ ایک مشترک پارلیمینٹری کمیٹی آخری فیصلہ کرے گی ۔ پاکستان کے حالات میں پارلیمانی کمیٹی کے سپرد اس کام کو کرنا اپنے اندر بڑے خطرات رکھتا ہے اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے نام پر عدلیہ پر یہ ضرب ملک کو بڑی مہنگی پڑے گی۔ یہ مسئلہ بڑی سنجیدہ سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ خود امریکا میں بھی اس نظام پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور بش کے تو ۲۰۰۰ ء کے انتخاب ہی کو سیاسی عدلیہ کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ب۔ دوسرا مسئلہ جوں کی میعاد [tenure] کی حفاظت کا ہے۔ اگر جج کو میعاد کی ضمانت نہ ہو تو یہ پورے نظامِ عدل کو متزلزل کر دیتا ہے۔ دستور کی دفعہ ۲۰۹ کی جو نئی شکل تجویز کی جارہی ہے وہ خطرناک، بھونڈی اور ناقابل عمل ہے۔ چیف جسٹس اور اعلیٰ جوں کی قسمت سابق جوں اور سیاسی عناصر کے ہاتھوں میں دی جارہی ہے اور اس جلادی تجویز کے ساتھ کہ کسی بھی حج بشمول چیف جسٹس اگر کوئی بھی شخص اس کے خلاف استغاثہ دائر کردے تو صدر فی الفورا سے جبری رخصت پر بھیج سکتا ہے۔ جبری رخصت کے سلسلے میں ۲۰ جولائی کے سپریم کورٹ کے فل بینچ نے بڑا واضح فیصلہ دیا ہے مگر اسے بالکل نظر انداز کر کے ترمیم میں وہ موقف اختیار کیا گیا ہے جو جنرل پرویز مشرف کا تھا۔ مجوزه کمیشن کے سابق ججوں کے لیے صلاحیت، دیانت، تجربہ شہرت کی کوئی شرط نہیں۔ اگر کوئی شرط ہے تو یہ کہ وہ غیر سیاسی ہوں مگر غیر سیاسی کی کوئی تعریف متعین نہیں کی گئی۔ کون ساج سیاسی ہے اور کون سا غیر سیاسی — اور حاضر سروس چیف جسٹس اور تمام اعلیٰ جوں کی قسمت کا فیصلہ پانچ سابق ججوں اور تین دوسرے سیاسی عمل سے نامزد افراد کو سونپا گیا ہے۔ یہ بھی بڑا خطرناک کھیل ہے اور ہمیں اپنی عدلیہ کو ایسے خام تجربات کے لیے تخت مشق ہر گز نہیں بنانا چاہیے 

ج۔ ایک بنیادی خرابی اس پوری تجویز میں پی سی او کے تحت حلف لینے والے جوں سے عزت سے نجات حاصل کرنے کے بجائے انھیں عدالت کا حصہ بنانا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف عدالت کا وقار اور اس پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ عدلیہ بھی مستقل کش مکش اور باہم تناؤ کا شکار رہے گی اور اس طرح سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس اپنا دستوری کردار ادا کرنے کے لائق نہیں رہیں گے۔ ۱۹۹۰ء میں بھی عدلیہ کے بٹ جانے اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کا تلخ معاملہ پیش آچکا ہے اور اب تو با ضابطہ انداز میں عدالت پر اس کو مسلط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جو انصاف کے نظام کو قتل کرنے کے مترادف ہوگا۔

د – ایک اور ظلم جو ان تجاویز میں کیا گیا ہے اور بڑے معصوم انداز میں کیا گیا ہے وہ سپریم کورٹ کو اس اختیار ہی سے محروم کر دیتا ہے جس کے تحت وہ عوام کے ساتھ کیے جانے والے مظالم اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر عوام کی دادرسی کے جواب میں یا از خود نوٹس لے کر ان کو انصاف مہیا کرنے کے لیے کر سکتے تھے۔ دفعہ [۳]۱۸۴ میں ایک معصوم کی ترمیم کے ذریعے ظلم اس ملک کے عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو قابل نفاذ حکم [mandatory] سے نکال کر محض اعلان [declaratory] بنانے کی جسارت کی جارہی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ عدالت بس وعظ ونصیحت اور مشورہ اور تجویز کر سکے گی اور اس کا حکم ان معاملات میں آپ سے آپ لاگو نہیں ہو سکے گا۔

انالله وانا اليه راجعون!

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اعلیٰ انتظامیہ کو جو سبق سکھایا تھا، غالباً یہ اس کا جواب ہے! اور وہ بھی کسی پولیس یا آرمی افسر یا بیوروکریٹ کی طرف سے نہیں عوام کے نمایندے جناب زرداری صاحب اور جناب فاروق نائیک کی طرف سے! پانچواں مسئلہ چوں کی میعاد [tenure] کی مدت یعنی ریٹائرمنٹ کی عمر کا ہے اور ر –  چیف جسٹس صاحبان کے بحیثیت چیف جسٹس مدت کے تعین کا ۔ اس وقت سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائر منٹ کی عمر ۶۵ سال اور ہائی کورٹس کے جوں کی ۶۲ سال ہے۔ اب اسے بڑھا کر ۶۸ اور ۶۵ کرنے کی تجویز ہے۔ اس تجویز پر خالص میرٹ کی بنیاد پر غور ہو سکتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں اعلیٰ عدالتوں کے چوں کے لیے لازمی ریٹائرمنٹ کی کوئی مدت مقرر نہیں بلکہ موت، استعفا یا معذوری ہی کی شکل میں وہ اپنے منصب سے فارغ ہوتے ہیں اور اس طرح انھیں میعاد کی مکمل ضمانت حاصل ہوتی ہے اور ریٹائر منٹ کے بعد کسی دیگر نفع بخش کام کی فکر سے بھی آزاد رہتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں یہ مسئلہ خاص افراد کے لیے جگہ بنانے یا چیف کے درجے تک ترقی ممکن بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے جو نا قابل قبول ہے۔ یہی کھیل ایل ایف او میں بھی کھیلنے کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ یہ اس کا replay ہے اور پہلے سے بھی زیادہ بھونڈے انداز میں! اسی طرح عدلیہ کی بحالی کی صورت میں ایک خاص حج کی بحالی کو ناممکن بنانا بھی فرد کے لیے مخصوص [person-specific] ترمیم کے زمرے میں آتا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کو باہر رکھنے کے لیے یہ تجویز لائی جارہی ہے۔ چیف جسٹس کی میعاد کی تحدید تین سال ہو یا پانچ سال، یا اس سے کم زیادہ بھی اسی قبیل کی شے ہے۔ ایک خاص شخص سے نجات اور کسی خاص شخص کو اس عہدے پر لانے کے لیے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے جو دستور کے ساتھ بد دیانتی بلکہ بدفعلی کے مترادف ہے۔ جو قیادت عدلیہ کے ساتھ یہ کھیل کھیل رہی ہے اور ساتھ ہی عدلیہ کی آزادی کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے اس کی عقل کا ماتم کیا جائے یا دیانت کا نوحہ!

صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات

صدر کے اختیارات کم کرنے اور وزیر اعظم کو اختیارات کا محور اور مرکز بنانے کے لیے بھی اس میں متعدد ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ہم خود صدر کے صواب دیدی اختیارات کے خلاف ہیں اور پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم اور وزرا، جو عوام کے بلاواسطہ منتخب کردہ ہیں، وہی اصل انتظامی اختیار کے مستحق ہیں لیکن اس سلسلے میں بھی چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے اور علم سیاست کے جدید مباحث میں ان پر کھلے انداز میں گفتگو ہورہی ہے۔ پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم کے ڈکٹیٹر بننے کا خطرہ موجود ہے اور اس کے لیے علم سیاست میں آج کل ایک دل چسپ اصطلاح) استعمال کی جارہی ہے یعنی Prime Ministerial System ۔ پارلیمانی نظام کو پارلیمانی نظام ہی رہنا چاہیے، اسے وزیراعظمی نظام نہیں بن جانا چاہیے۔ تقسیم اختیارات کے معنی یہ ہیں کہ وزیر اعظم اپنے سے مساوی افراد میں پہلا ہو، خود ہی سب کچھ نہ بن جائے۔

اس کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایک کا بینہ کی اجتماعی ذمہ داری، دوسرے ہر وزیر کے اپنے اختیارات جو وہ وزیر اعظم کی مداخلت کے بغیر انجام دے سکے، تیسرے وزیر اعظم کی پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہی جس کے لیے خصوصی وقفہ سوالات کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ کچھ ممالک میں وزیر اعظم کو وزرا کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہے مگر ہر وزیر اور اس کے شعبے کی پارلیمنٹ میں توثیق ضروری ہے اور جسے پارلیمنٹ اعتماد نہ دے وہ وزیر نہیں بن سکتا۔ نیز وزیر اعظم پر بے اعتمادی کا ووٹ بھی اسی نوع کی ایک تدبیر ہے۔ اب جو دستوری ترامیم پیپلز پارٹی کی قیادت لائی ہے اس میں وزیر اعظم کو نہ صرف یہ کہ کلی اختیارات دے دیے گئے ہیں بلکہ ایک ایسی ترمیم بھی تجویز کی ہے جو ۱۹۷۳ء میں دستور سازی کے وقت رکھی گئی تھی اور جسے اس اسمبلی نے، جس نے دستور کو منظور کیا ، رد کر دیا تھا اور بڑی سخت تنقید کے بعد رد کیا تھا۔ تجویز یہ ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اس وقت تک نہیں لائی جاسکتی جبmتک اس تحریک میں متبادل قائد ایوان کا نام نہ شامل ہو۔ گویا ایک وزیر اعظم پر بے اعتمادی اور دوسرے شخص پر اعتماد کا اظہار ایک ہی قرار داد کے ساتھ ہو۔ یہ سرتاسر غیر معقول تجویز ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی تحریک آہی نہ سکے۔ جب ۱۹۷۳ء کے دستور میں یہ تجویز رکھی گئی تھی تو محمود علی قصوری صاحب نے اس پر بڑی سخت تنقید کی تھی اور صرف اپوزیشن ارکان نے ہی نہیں سرکاری اتحاد کے لوگوں نے بھی اسے رد کر دیا تھا۔ معلوم نہیں فاروق نائیک صاحب اس مسترد تجویز کو قبر میں سے نکال کر پھر سے کیوں لے آئے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی صاحب کے تحفظ کے لیے تو یہ ہو نہیں سکتی۔ کیا زرداری صاحب اپنے آئیندہ تحفظ کا ابھی سے یہ سامان کرنا چاہتے ہیں؟ رہا معاملہ اپنے اتحادی حلیفوں کا، تو ۸۰ نکات کے اس پہلچ میں دوبا روز یر اعظم بننے کے بعد تیسری بار پر پابندی ختم کر کے اس کا دروازہ نہیں کھولا گیا۔ غالبا محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی نظر میں یہ ترمیم غیر ضروری تھی۔

صدر کے اختیارات میں کمی  —تین شبھات

دیسے تو صدر کے اختیارات کو کم کرنے کا کام انجام دیا گیا ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ وہ صواب دیدی اختیارات ہیں جن کی وجہ سے صدر پارلیمنٹ اور انتظامیہ پر حاوی ہو گیا تھا یعنی ۲/۵۸ – بی) اور اہم تقرریوں کے بارے میں اس کے گلی اختیارات۔ ان امور پر صدر کو وزیر اعظم اور کابینہ کی ایڈوائس کا پابند کرنا ضروری ہے اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ اس سلسلے میں تین چیزیں ایسی ہیں جو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں:

ا ـ آرٹیکل ۴۵ کا تعلق معافی [amnesty] کے معروف مسئلے سے ہے جس کے تحت صدر عدالتوں سے دی جانے والی سزاؤں میں تخفیف یا معافی کا حق رکھتا ہے۔ بلاشبہہ اسلامی قانون کے تحت حدود کے معاملے میں اسے یہ اختیار نہیں لیکن باقی امور میں مروجہ قانونی روایات کی روشنی میں اس کی گنجایش ہے۔ اس دفعہ میں ایک نئی ترمیم کے ذریعے صدر کو سند جواز عطا کرنے [validation] کا ایسا لا محدود [open ended] اختیار دیا جا رہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا اور جسے اگر غلط استعمال کیا جائے تو انتظامیہ اس کے سہارے پر قانون اور ضابطے کے پورے عمل کو سبوتاثر کر سکتی ہے۔ ایک تو معاملات کے دائرے کو عدالتی فیصلوں کے دائرے سے نکال کر عالم گیر وسعت دینا اور پھر ہر معاملے کو سند جواز عطا کرنے کا اختیار اس کو دیا جا رہا ہے جو انصاف، اصول حکمرانی اور جمہوری احتساب ہر عتبار سے غلط ہے۔ اس وقت جو دفعہ ہے وہ یہ ہے:

دفعه ۴۵: صدر کو کسی عدالت ٹریبونل یا دیگر هیئت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے، ملتوی کرنے اور کچھ عرصے کے لیے روکنے اور اس میں تخفیف کرنے، اسے معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا۔ تجویز ہے کہ amnesty   کے بعد اضافہ کر دیا جائے۔

“or indemnify any act whatsoever”

دیکھیے اس ایک جملے سے معاملے کی نوعیت ہی بدل گئی۔ اب عدالتی عمل کے تحت دی جانے والی سزا میں جو تخفیف یا معافی کی گنجایش تھی وہ بدل کر ہر قسم کی بدعنوانی، لاقانونیت، ضابطے کی خلاف ورزی، اختیار کے غلط استعمال، استحصال گویا کسی بھی اقدام کو indemnify قانونی ذمہ داری سے بری کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ حق انتظامیہ اپنے لیے لے رہی ہے۔ یہ دستور کی دفعہ ۲۷۰ کا ایک بدل ہے کہ جب اور جس عمل کو سند جواز دینا [validate] ہو، صدر کو اس کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ انصاف، قانون، ضابطہ اور اخلاق ہر ایک کا خون ہے اور قانون کی خلاف ورزی کے لیے دروازے کھول دینے کے مترادف ہے۔

ب۔ افواج کے سربراہان [service chiefs] کے تقریر کا اختیار بھی صدر کو حاصل ہے۔ یہ بھی صواب دیدی اختیار تھا مگر اسے ۷ اویں ترمیم میں وزیر اعظم سے مشورے سے مشروط کیا گیا تھا۔ نہ معلوم کیوں اب وزیرا عظم کے مشورے کے حصے کو حذف کیا جا رہا ہے۔ غالباً اس بنیاد پر کہ صدر وزیر اعظم کے مشورے [advice] پر یہ کام کرے گا لیکن بات صراحت کے ساتھ واضح نہیں ہو رہی۔ موجودہ سربراہوں کو تین نام اپنی ترجیح کے مطابق دینے کی شرط عائد کی جارہی ہے، جب کہ عملاً یہ پہلے سے ہو رہا ہے البتہ اس وقت صدر کو یہ اختیار ہے کہ وہ تجویز کردہ ناموں کے باہر سے بھی تقریر کر سکتا ہے اور کئی تقرریاں چھے اور سات افراد کو پھلانگ کر کے بھی کی گئی ہیں۔ نئی تجویز میں ریٹائر ہونے والے سربراہ کو فیصلہ کن پوزیشن دے دی گئی ہے جو حل نظر ہے۔ ایک تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ تقرری مدد کرے گا یا صدر وزیر اعظم کے مشورے پر کرے گا جیسا کہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو تھا۔ البتہ اس نازک معاملے کے صحیح صحیح انجام پانے کے لیے کچھ دوسری احتیاطیں بھی ضروری ہیں جن پر اس وقت غور کرنا چاہیے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ بالعموم یہ تقرری سینیارٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں سروس میں بھی اطمینان ہوگا کہ ہر شخص کو اس کے حق اور صلاحیت کے مطابق موقع ملے گا اور تقرری کی دوڑ میں جو سیاسی یا رقابتی اثرات کارفرما ہو جاتے ہیں ان سے بچا جاسکے گا۔ البتہ اس کی گنجایش رکھی جاسکتی ہے کہ کسی غیر معمولی صورت میں کسی اعلیٰ کمیشن کے مشورے سے اس قاعدے میں نرمی ہو سکتی ہے لیکن وجوہ ریکارڈ پر لاکر، ذاتی پسند ونا پسند کی بنیاد پر نہیں۔ لیکن ایک دوسری بات کا اہتمام بھی ضروری ہے جسے ہماری نگاہ میں دستوری ترمیم کا حصہ ہونا چاہیے کہ یہ عہدے اپنی میعاد کے ساتھ متعین ہوں گے۔ ان میں توسیع کا امکان بالکل ختم ہونا چاہیے۔ ہمارے یہاں بڑا بگاڑ اسی راستے سے آیا ہے کہ جو بھی چیف آف اسٹاف بنا ہے اس نے مدت عہدہ میں توسیع کی کوشش کی ہے۔ جنرل ایوب سے اس کا آغاز ہوا اور جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے اسے استعمال بد کی حد تک پہنچا دیا۔

بھارت میں گذشتہ 4 سالوں میں کوئی ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ کسی بھی سروس کے چیف کو اس کی مدت پوری ہونے کے بعد تو سیع دی گئی ہو۔ امریکا، برطانیہ اور مغربی ممالک میں بھی یہی روش ہے۔ اگر توسیع کے دروازے کو بند کر دیا جائے اور خالص میرٹ پر سینیارٹی کی بنیاد پر افواج کے سربراہان کی تقرریاں ہوں تو فوج کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہوگا اور سیاست پر شب خون مارنے کی راہیں بھی مسدود ہوں گی۔

اسلام پر کاری ضرب

ان ترامیم میں اسلام پر بھی ایک کاری ضرب لگائی گئی ہے اور بڑے معصوم انداز میں ۔ وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ کار کو پہلے ہی روز اول سے محدود کیا ہوا ہے اور آرٹیکل بی ۲۰۳ کے پیراگراف [س] کے تحت بہت سے قوانین کو اس کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، خاص طور دستور، عالی، قانون عدالتی ضابطے وغیرہ لیکن ملک کے مالیاتی اور محصولاتی نظام کو صرف دس سال کے لیے اس کے دائرے سے باہر رکھا گیا تھا جو ۱۹۹۵ء میں ختم ہو گیا ہے۔ اسی کی روشنی میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعہ بینچ نے سود کے مسئلے پر اس مدت کے ختم ہو جانے کے بعد اپنے فیصلے دیے ہیں۔ اب اس ترمیم کے ذریعے دس سال کی مدت والے جملے کو حذف کیا جا رہا ہے لیکن اس چابک دستی کے ساتھ کہ ملک کا پورا مالیاتی اور محصولاتی نظام ایک بار وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہو جائے۔ اگر دلیل یہ ہے کہ دس سال کی مدت ہو چکی اور یہ حصہ اب غیر ضروری ہے تو پھر دس سال سے شروع ہونے والے جملے کو اختام تک حذف کرنا چاہیے تھا تا کہ موجودہ قانونی پوزیشن مستقل ہو جائے ۔ لیکن دراصل جس طرح یہ ترمیم تجویز کی جارہی ہے وہ سودی نظام کے تحفظ کی شرمناک اور اللہ سے بغاوت کی ایک بے باک کوشش ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار سے یہ تمام امور نکل جائیں گے جو دس سال کے استثنا کے بعد اب اس کے اختیار میں ہیں۔ یه قرآن وسنت کے کھلے احکام کے خلاف قانون سازی کی ایک افسوس ناک کوشش ہے جسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایک طرف سینیٹ متفقہ طور پر تجویز کر رہا ہے کہ پورے ملک میں اسلامی فنانس اور بنکاری کو فروغ دیا جائے اور دوسری طرف ملک کے پورے مالیاتی اور محصولاتی نظام کو دوبارہ اور ہمیشہ کے لیے وفاقی شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تفو بر تو چرخ گرداں تفو!

ایک عجوبہ ترمیم

ان ترامیم میں ایک عجوبہ وہ ترمیم ہے جو بظاہر دستور توڑنے والوں کے لیے سزا اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے والے فوجیوں اور دستور میں دیے ہوئے حلف کے برعکس حلف لینے والے جوں کو بغاوت کا مرتکب قرار دینے اور مستوجب سزا بنانے کے لیے کی جارہی ہے مگر فی الحقیقت جو زبان اور انداز اختیار کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں سزا ایسے حج کو نہیں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو دی جائے گی اور اسی ترمیم [ آرٹیکل ۲۷۶] میں “a person” کے لفظ کو اتنے ڈھیلے [loose] انداز میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی زد میں پارلیمنٹ کے ارکان تک آ سکتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ اس سزا کا اطلاق ان لوگوں پر نہیں ہوتا جنھوں نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء یا ۳ نومبر ۲۰۰۷ ء کو دستور کی تخریب [subvert] کی، اور وہ حج بھی اس سے مستقلی ہیں جو دستور کی اس تخریب کو سند جواز دینے والے ہیں بلکہ اس کا اطلاق صرف مستقبل پر ہو گا۔ یہ عجیب جرم ہے کہ اس کے آج کے ارتکاب کرنے والے محفوظ ہیں مگر یہ صرف آنے والوں کے لیے اختباہ ہے، چاہے آج کے مجرم دندناتے ہی کیوں نہ پھر رہے ہوں۔

عدالت کے سلسلے میں ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جوں کی جگہ any court including a high court and the supreme court ]کوئی بھی عدالت بشمول کوئی عدالت عالیہ اور عدالت عظمی[ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ عدالت کے بینچ کے ان بچوں کو بھی سزا ہوگی جنھوں نے اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کیا ہو اور مارشل لا یا دستور کی تخریب کی تائید نہ کی ہو؟ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سزا کی کیا شکل ہوگی؟ کیا یہ عدالتیں قانون کی نظر میں ایک فرد ہیں یا ان عدالتوں کو تباہ کر دیا جائے گا — کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

اسی طرح فوج کے ذمہ داروں کی طرف سے حلف کی خلاف ورزی کی بات بڑی مہم ہے۔ حلف میں تو صرف سیاست میں حصہ نہ لینا ہے—  کیا ایک فوجی کا کسی سیاسی شخصیت سے ملنا، کسی سیاسی جلسے میں شرکت خواہ وہ انتخابی جلسہ ہی کیوں نہ ہو، حلف کی خلاف ورزی ہوگا؟ دستور توڑنا، اقتدار پر قبضہ اور چیز ہے اور ایک فوجی کا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیتا دوسری چیز ۔ جرم اور سزا میں مطابقت بھی انصاف کا اساسی اصول ہے۔ غداری[high treason]   کا تعین واضح طور پر ہونا چاہیے۔ اتنی مہم بات کہ حلف کی پاسداری نہ کرے، یا دستور میں دیے گئے حلف کے الفاظ سے ہٹ کر حلف لے، وہ غداری کا مرتکب ہوگا محل نظر ہے۔ ان معاملات کو زیادہ سوچ سمجھ کر اور قانون کی باریکیوں اور اس کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر طے ہونا چاہیے۔ جس طرح یہ ترامیم تیار کی گئی ہیں، اس سے بے حد جلد بازی کا اظہار ہو رہا ہے۔

ان ترامیم میں ایسی چیزیں بھی ہیں جن پر ہمدردی سے غور ہو سکتا ہے مثلاً صدر کی طرف سے نظر ثانی کے لیے قانون یا ایڈوائس بھیجنے کی مدت میں کمی، سینیٹ میں بجٹ پر غور کی مدت میں اضافہ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ادارے کو بحال اور متحرک کرنا، دستور کے بہت سے فالتو [redundant] حصوں کو حذف کر دینا، مصاحتی [reconciliation] کمیٹی کے طریق کار کوختم کر دینا، صدر کی جگہ وفاقی حکومت کو اختیار دینا وغیرہ۔

بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی حکمت اور مصلحت کے باب میں ایک سے زیادہ آرا ہیں مثلاً اقلیتوں کا مطالبہ تھا کہ جدا گانہ انتخاب کا طریقہ ختم کیا جائے اور اس کے لیے ملک اور ملک سے باہر سیکولر اور لبرل لابی نے مہم چلائی جس کی بنیا د حکمت ومصلحت اور نمایندگی کے حقوق سے کہیں زیادہ نظریاتی تھی۔ لیکن جب انھیں مخلوط انتخاب مل گیا تو پھر اب جدا گانہ نمایندگی کا مطالبہ چہ معنی دارد؟ — اگر مخلوط انتخاب چاہتے ہیں تو اس کے آداب اور اصولوں کا بھی احترام کیجیے اور عام سیاسی پارٹیوں کے ذریعے سب کے ووٹ سے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں تشریف لائیے۔ ہم نے تو جدا گانہ انتخاب کے طریق کار کے ذریعے اقلیتوں کی نمایندگی اور موجودگی کو یقینی بنایا تھا، اسے آپ نے نظریاتی بنیادوں پر رد کر دیا۔ اب مخلوط انتخاب کے ساتھ مخصوص نمایندگی کا مطالبہ انمل بے جوڑ ہے۔ اب مخلوط قومیت کا وہ نظریہ کیا ہوا؟ انگریزی محاورے میں:

You want to eat your cake and have it too.

یہ سراسر تضاد اور زیادتی بھی نیز یہ دیانت کے اصولوں سے بھی ہم آہنگ نہیں۔

الیکشن کمیشن قومی مالیتی کمیشن، قومی معاشی کونسل، مشترک مفادات کی کونسل وغیرہ کے سلسلے میں ترامیم میں کئی چیزیں اچھی اور مناسب ہیں اور کچھ میں مزید اصلاح کی گنجایش ہے۔ خصوصیت سے قومی اقتصادی کونسل اور قومی مالیاتی کمیشن میں سینیٹ سے نمائندگی کے مسئلے پر غور ہونا چاہیے جو وفاق کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ مشترک فہرست میں سے صرف چند کو خارج کرنا اور باقی پر مرکز کی قانون سازی کے حق کو باقی رکھنا بھی صحیح نہیں۔ مشترک فہرست کو مکمل طور پر ختم ہو جانا چاہیے اور یہ صوبائی خود مختاری کا کم سے کم تقاضا ہے۔ اس کا وعدہ ۱۹۷۳ء میں کیا گیا تھا کہ دس سال میں یہ کام ہو جائے گا۔ آج ۳۵ سال کے بعد بھی پیپلز پارٹی کی قیادت اس کے لیے تیار نہیں حالانکہ بلوچستان کمیٹی میں دستوری ترامیم کی بحث کے موقعے پر پیپلز پارٹی نے مشترک فہرست کو ختم کرنے کے حق میں اظہار کیا تھا، اور غالباً میثاق جمہوریت میں بھی اس کا اعادہ کیا گیا تھا، آخر یہ رجعت تہعہبری کیوں؟

یہ اور دوسرے متعدد امور ایسے ہیں جن پر کھلی بحث ہونی چاہیے اور افہام و تفہیم اور عوامی خواہشات کی روشنی میں دستوری اصطلاحات کا کام ہونا چاہیے۔ کچھ اور دستوری امور ایسے ہیں جن کو ان ترامیم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے مثلاً آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی، ذیلی [subordinate] قانون سازی کے نام پر پارلیمنٹ کو قانون سازی کے ایک بڑے دائرے سے باہر کر دینا اور اسے مکمل طور پر انتظامیہ کے ہاتھوں میں دے دینا حتی کہ یہ قانون سازی اور ضوابط کاری پارلیمنٹ کے علم تک میں نہیں آتی ہے۔ اسی طرح بیرونی معاہدات اور مالیاتی معاہدوں کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کے باب میں پارلیمنٹ کے عمل دخل کو بڑھانے اور ان میں سے کچھ کو قابل داوری [justiciable] بنانے کا مسئلہ بھی اہم ہے اور اس پر از سر نو غور کی ضرورت ہے۔ اسلامی قانون سازی اور ملکی قوانین کو قرآن وسنت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دستور نے سات سال کی مہلت رکھی تھی، آج اس مدت کو ختم ہوئے ۲۸ سال ہو رہے ہیں۔ اس طرح قومی زبان اُردو کے نفاذ کے لیے ۱۵ سال کی مدت رکھی گئی تھی، اس مدت کو ختم ہوئے ۲۰ سال ہو گئے ہیں۔ کیا ان سب امور پر غور اور دستور کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے نئی تدابیر اختیار کرنے کا وقت نہیں آیا۔ کیا دستور میں دی ہوئی مدت میں متعین کام نہ کرنا اور مسلسل ٹال مٹول کرنا دستور کی خلاف ورزی اور تخریب [subversion] نہیں ہے اور ایسی صورت میں دفعہ 4 کا اطلاق کس پر ہوگا؟ قومی اسمبلی کی مدت 3 پانچ سال یا چار سال اور اس مدت کے خاتمے کے بعد نئے انتخابات کا انعقاد یا اس مدت کے پوری ہونے سے قبل انتخابات کا معاملہ جیسا کہے اویں ترمیم کے ذریعے تبدیلی سے پہلے تھا۔ ہمارے خیال میں اسے اصل شکل میں بحال کرنا بہتر ہوگا ۔ یہ اور بہت سے دوسرے. امور ہیں جن پر بھی اس موقع پر غور ہو سکتا ہے تا کہ دستوری ترامیم زیادہ سے زیادہ جامع ہوں اور بار بار یہ کام انجام نہ دینا پڑے۔

دستوری ترامیم کا ہمارا یہ جائزہ اس معنی میں ہر لحاظ سے مکمل نہیں کہ اس میں تمام امور کا احاطہ کیا گیا ہو۔ ہم نے صرف چند بنیادی اور مرکزی اہمیت کے امور کو موضوع بحث بنایا ہے، جب کہ اس سلسلے میں اصل دستاویز کے شق وار مطالعہ اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اہم ہے مگر وقت طلب بھی ہے اور اس کا حق ادا کیا جانا چاہیے۔ دستور میں روز روز ترمیم نہیں ہوتی اور آج جن ترامیم کی ضرورت ہے مناسب معلوم ہوتا ہے قومی بحث ومباحثہ اور پارلیمنٹ میں کھلے تبادلہ خیال کے ذریعے انھیں کر لینا چاہیے۔ اس میں نہ غیر ضروری تاخیر کی جائے، نہ غیر مناسب عجلت سے یہ کام انجام دیا جائے۔ اس لیے ہم ایک بار پھر اس امر کا اعادہ کرتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی کے مسئلے کو کسی تاخیر کے بغیر حل کیا جائے تا کہ عدالتی نظام اور اس پر اعتماد بحال ہو۔ اس وقت جو اعلیٰ عدالتیں ہیں، ہمیں دکھ سے کہنا پڑتا ہے، کہ ان پر نہ قوم کو ان پر اعتماد ہے اور نہ وکلا برادری کو ۔ یہ سلسلہ جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔ بجٹ منظور ہو گیا ہے۔ اب اولیت اس مسئلے کو دی جائے اور بجٹ کے بعد پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلا کر اس مسئلے کو حل کر دیا جائے۔ رہا معاملہ دستوری ترامیم کا، تو اس پر گفتگو ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔ عملی تجربات کی روشنی میں ان تمام اہم امور کا احاطہ کیا جائے جن کی اصلاح وقت کا تقاضا ہے۔ یہی زندہ قوموں کا شعار ہے۔ ہمیں اپنی ترجیحات صحیح کرنی چاہیں۔ اس کے نتیجے میں قوم کے اندر تعاون کی بہتر فضا قائم ہوسکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »