GlobalOpening / Closing RemarksPolitics and Governance

عراق پر حملہ امریکی بالا دستی کا خاتمہ ثابت ہوگا

’’جنگ کا یک طرفہ امریکی فیصلہ ہر قانون و اخلاق کی رو سے ناجائز اور ظالمانہ ہے عالمی رائے عامہ اور دیگر ممالک کی حمایت حاصل نہیں ہوسکی‘‘

 صدر بش محدود اقلیت کے فیصلوں کو نافذ کر رہے ہیں

آئی پی ایس کے سیمینار سے اصغر خان، مشاہد حسین اور اکرم ذکی کا خطاب۔

اسلام آباد (ثناء نیوز)

عراق کے خلاف جنگ کا یکطرفہ امریکی فیصلہ ہر ا خلاق اور قانون کی رو سے ناجائز اور ظالمانہ ہے۔ یہ فیصلہ امریکا کی طرف سے اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ امریکا جنگ کے حق میں عالمی رائے عامہ اور دیگر ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت سلامتی کونسل کی جنرل اسمبلی میں لے جانا چاہیے جہاں دو تہائی اکثریت سے ارکان جنرل اسمبلی اس جنگ کی خدمت میں قرارداد پاس کریں ۔ اس متفقہ رائے کا اظہار اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی انڈیز نے کیا تھا۔ سیمینار سے ائر چیف مارشل (ر) اصغر خان سینیٹر مشاہد حسین سید ، سابق سیکرٹری جنرل خارجہ امور اکرم ذکی نے خطاب کیا جبکہ ’’امریکا عراق جنگ اور پاکستان کے آپشنز کے عنوان سے اس سیمینار کی صدارت انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے چیئر مین اور سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کی ۔ ائر مارشل اصغر خان نے کہا کہ صدر بش انتہائی کم ووٹوں سے صدر بنے ہیں اور وہ ایک محدودا قلیت کے فیصلوں کو ہی نافذ کر رہے ہیں کیونکہ امریکی عوام کی پچاس فیصد اکثریت اقوام متحدہ کی حمایت کے بغیر جنگ کرنے کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ اس جنگ سے عالمی سطح پر عدم تحفظ بڑھ جائے گا اور دہشت گردی کے خطرات زیادہ ہوجائیں گے ۔ انہوں نے پاکستان میں جنگ کے خلاف عوامی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایک سے ڈیڑھ ملین لوگوں نے امریکی صدر کے جنگی جنون کے خلاف مظاہرہ کیا یہ ہمارے ضمیر کی آواز ہے جس کا لازمی اظہار کرنا چاہیے ۔ سابق سیکرٹری خارجہ اکرم ذکی نے کہا کہ ہم صدام حسین کی حمایت نہیں کر رہے بلکہ جنگ کی مخالفت اور عراقی عوام کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ جنگ اسلام اور عیسائیت کی جنگ نہیں ہے لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ جنگیں مسلمان ممالک کے خلاف لڑی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی طرح صدام حسین بھی امریکا کی پیداوار اور ان کے حمایت یافتہ تھے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے جن تین ممالک کو برائی کا مرکز قرار دیا تھا انہی ممالک کے ساتھ یورپ کے تعلقات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکا نے خطرہ کے پیش نظر قبل از وقت جنگی اقدام کرنے کی پالیسی (Doctrine of pre-emption) کا اعلان کیا ہے جو دنیا کے مستقبل کے لئے نہایت خطر ناک ہے کیونکہ استعماری عزائم رکھنے والے دنیا کے دیگر ممالک اس مثال کو چھوٹی اور کمزور قوتوں کے خلاف اپنے مقاصد کیلئے استعمال کریں گے ۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ اگر وہ عراق کے حق میں بول سکتے ہیں تو کشمیر اور فلسطین کے مسٔلوں پر بھی اپنی آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے نئے حقائق کی روشنی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی از سر نو تشکیل کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ پروفیسر خورشید احمد نے بطور صدر اپنے انتقامی کلمات میں کہا کہ یہ مسئلہ صدام حسین کا نہیں ہے وہ ایک آمر ہیں اور ان پر ہماری طرف سے تنقید ہوتی رہی ہے لیکن یہ مسئلہ 28 ملین عراقی عوام کا ہے یہ اصولی مسئلہ ہے ۔ یہ گلوبل سٹم کا مسئلہ ہے اور خاص طور پر چھوٹی اور کمزور قوموں کے مستقبل کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی خدمت کرے تو یہ تاریخ میں ایک نہایت اہم قدم ہوگا انہوں نے کہا کہ اس بحران سے دنیا جو پہلے ایک قطبی تھی اور امریکا واحد سپر پاور تھا۔ اب کثیر قطبی ہوتی نظر آرہی ہے۔ امریکا شاید عراق کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن یہ جنگ خود بالآ خر امریکی دولت و ثروت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں زیادہ عمل و اختیار حاصل ہونے سے امریکا کئی طرح کے فوائد کی توقع رکھتا ہے۔ اس میں اسرائیل کی سلامتی اور تحفظ کے علاوہ معاشی پہلو کا مسئلہ بے حد پیچیدہ ہے پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ 10 نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات نے بش کی اقتصادی اور جنگ کی پالیسیوں کو خود امریکا کے مستقبل کے لئے جاہ کن قرار دیا ہے سیمینار سے دانشوروں غیر ملکی سفارت کاروں صحافیوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »