EducationForwardSociety

عمرانی علوم کی تدریس کانظریاتی  پہلو

اس صدی میں احیائے اسلام کی جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کے زیر اثر امت مسلمہ میں یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ اسے اپنے نظام تعلیم کو اس طرح استوار کرنا چاہیئے کہ اس کی نئی نسل حقیقی معنوں میں اسلام کی علمبردار ہو —— اس کام میں دیگر مشکلات کے علاوہ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ گذشتہ چند صدیوں   میں علوم کی تدوین مغربی فکر کے زیر اثر ہوئی ہے اس لیے ان میں لادینیت اس طرح رچی بسی ہوتی ہے کہ ان کو پڑھنے والے مسلم طلبہ الحاد کے نہیں تو تشکیک کا شکار تو ہو ہی جاتے ہیں ۔مسلم مفکروں کو اس صورتحال کا احساس ہے اور گزشتہ سالوں میں منعقد ہونے والی چار عالمی تعلیمی کانفرنسوں کے مقالات میں اس بارے میں بنیادی اہمیت کے نکات سامنے آئے ہیں ۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں تعلیم پر تحقیقی مطالعوں کا جو منصوبہ روبہ عمل ہے اس میں نصابیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ ہم اس دائرے میں بالآخر نمونہ کی ایسی درسی کتب پیش کر  سکیں جو ایک اسلامی نظام تعلیم میں استعمال ہو سکیں۔ لیکن ہمارا اول مسئلہ یہ ہے کہ علوم کے بارے میں نقطہ نظر درست ہو۔ اس مقصد سے اس انسٹی ٹیوٹ نے کیمیا اور حیوانیات پر دو مطالعے شائع کیے ہیں اور اب عمرانی علوم پر پر و فیسر عظمت اللہ خان اور پر وفیسرعبد القدیر سلیم کے یہ دو مقالے یکجا شائع کیے جارہے ہیں ۔ پروفیسر عظمت اللہ خان نے عمرانی علوم کی نظریاتی حیثیت کو موضوع بحث بنایا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ان علوم کی تدوین اور ان کے نصابات کے تعین میں نظریہ حیات کو بنیادی دخل ہو گا۔ پروفیسر عبدالقدیر سلیم نے عمرانی علوم کی نوعیت پر ابتدائی بحث کے بعد مختلف تدریسی مراحل کے لیے ان کی تعلیم کے مقاصد متعین کرنے کی بڑی مفید خدمت انجام دی ہے۔ یہ دونوں مقالے عمرانی علوم کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جو نہ صرف طلبہ و اساتذہ بلکہ ملک کے نصاب سازوں کے لیے رہنمائی کا باعث ہوگا۔ نیز ان تمام اہل علم کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا جو انسانی فکر کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل جدید میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں دونوں حضرات کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ کے تعلیمی منصوبہ میں تعاون کیا اور اپنے نتائج فکر و تحقیق ملک و ملت کے سامنے پیش کیے۔ مجھے توقع ہے کہ اسی مقصد کے لیے دوسرے اسلام دوست اہل علم بھی ہمارا ہاتھ بٹائیں گے ، اس کام کو آگے بڑھائیں گے اور دوسرے علوم کے بارے میں بھی غور و فکر کی نئی راہیں کھولنے کی کوششیں تیز تر کر دیں گے انسٹی ٹیوٹ اس مقصد کے لیے کئی سیمینار منعقد کر چکا ہے اور مزید کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں میں تمام اہل علم کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے مشوروں ، تنقیدوں اور مثبت تحریروں سے ہماری مدد کریں ۔

 میں اس موقع پر اپنے عزیز بھائی پر و فیسر مسلم سجاد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے تعلیمی تحقیقی پروگرام کے نگران ہیں اور جن کی مسلسل مساعی سے اسلامی نظام تعلیم کے فکری اور اطلاقی پہلوؤں پر متعدد سیمینار منعقد ہو چکے ہیں اور انسٹی ٹیوٹ کئی قابل قدر کتا بچے شائع کر چکا ہے اس طرح انسٹی ٹیوٹ کے ساتھیوں خصوصیت سے برادران عزیز خالد رحمٰن،  متقین  الرحمٰن اور را ؤمحمد اختر کا بھی ممنون ہوں جن کی پیہم کوشش سے یہ مطالعے ہدیۂ ناظرین کیے جار ہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »