قرآن کریم اور نباتیات و زراعت کی تدریس

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیزمیں تعلیم کے دائرہ میں نصابیات سے متعلق جو مطالعے کئے جارہے ہیں ان کا ایک اہم پہلو جدید سائنسی مضامین کی اسلامی نقطہ نظر سے تدریس کے لیے راہنما خطوط مرتب کرنے کا کام ہے۔ اس ذیل میں انسٹی ٹیوٹ نے دو مطالعے شائع کئے ہیں جو کیمیا اور حیوانیات سے متعلق میں ہے ۔ ان دونوں مطالعوں میں یہ بات پیش کی گئی کہ ان علوم کی تدریس کا بنیادی نقطہ نظر آیات الہی کے اس بیان سے اخذ کیا جانا چاہیئے جو اس دائرہ علم کے بارے میں قرآن میں وارد ہوئی ہوں۔
”قرآن اور سائنس“ اور” اسلام اور سائنس“ مسلم دنیا کی بڑی پرانی بحث ہے۔ اس میں تو افق ڈھونڈ نے اور تضاد ظاہر کرنے کے لیے بڑی بڑی ذہنی جولانیاں کی گئی ہیں لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ نہ ہمیں یہ غلط فہمی ہے اور نہ کسی اور کو ہونا چاہیے کہ قرآن سائنس کی ان معنوں میں کوئی کتاب ہے جن معنوں میں کوئی دوسری سائنس کی کتاب ہوتی ہے ۔ قرآن سائنس پڑھانے کے لیے نازل نہیں کیا گیا ہے قرآن تو کتاب ہدایت ہے اور اسی پہلو سے اس نے انسان کو کائنات میں ہر سو پھیلی ہوئی اور خود انسان کے اپنے اندر پائی جانے والی بے شمار نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ انسان ان کا مطالعہ کرتے ہوئے راہ ہدایت سے بھٹک نہ جائے بلکہ اس راہ پر قائم رہے اورثابت قدم ہو جائے ۔ سائنس کی تدریس میں ان آیات کے تذکرہ کا محل یہی ہے کہ دوران تدریس یہ حقیقت —جس کی طرف قرآن نے بار بار متوجہ کیا ہے اور جو حصول علم کی اصل غایت ہے۔ نظر سے اوجھل نہ رہ جائے ۔
اگر قرآن سے سائنسی حقائق و نظریات کی تائید تلاش کرنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ بعض مسلم مصنفین اپنی سادہ لوحی میں کرتے ہیں ، تو ایک اشکال پیدا ہوتا ہے۔ سائنس کے حقائق و نظریات تو ہر سو دو سو سال بعد تبدیل ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں ساتھ ہی ساتھ قرآن کی تفسیر و تعبیر اور مفہوم کو بدلنے کا فریضہ بھی انجام دینا پڑتا ہے اور قرآن کی حیثیت مجروح ہوتی ہے سائنس کا عالم تو یہ ہے کہ سوا سو سال سے نظریۂ ارتقاء پر سب ایمان لائے ہوئے تھے اور کتنے ہی مفسرین نے اسے قرآن سے ثابت کرنے کی کوششیں بھی کیں، لیکن آج کی جدید حیاتیاتی فکر ارتقاء کی منکر ہو رہی ہے اور بڑے فخر سے یہ کہا جا رہا ہے کہ سائنس تو نام ہی دریافت کے سفر کا ہے اور ہر افق کے پیچھے ایک دوسرا افق موجود ہوتا ہے۔ پس سائنسی مضامین کی تدریس اور قرآن کریم کے باب میں ہمیں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے راہ وسط کو اختیار کرنا ہے۔ نہ سائنس کی تدریس اور قرآن کو اس طرح الگ الگ کر دینا ہے کہ سائنس بے خدا ہو جائے اور نہ قرآن کو اس طرح استعمال کرنا ہے کہ قرآن ہی سائنس کی کتاب ہو جائے دونوں صورتوں میں خطرات ہیں صحیح راستہ یہ ہے کہ سائنسی حقائق کو آیات الہی تصور کیا جائے اور جس طرح قرآن نے ان کو کائنات کے اصل حقائق یعنی توحید باری تعالیٰ اور وقوع آخرت کے استدلال میں پیش کیا ہے ان کی تدریس و مطالعہ میں ان حقائق پر ہمارے استاد اور طالب علم کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہو ۔ نیز وہ ذہن پیدا ہوں جو قدرت کے وسائل کو ان مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے نئے نئے راستے نکال سکیں۔ اور اس طرح فطرت کی یہ قوتیں انسانی معاشرہ میں نیکی اور انصاف کے قیام میں ممدو معاون ہوں۔
ان بنیادی گزارشات کے ساتھ میں اپنے رفیق پر و فیسر ارشد جمیل کا یہ مطالعہ پیش کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس کرتا ہوں۔ پر و فیسر ارشد جمیل گزشتہ بیس سال سے نباتیات کی تدریس سے متعلق ہیں۔ انہوں نے ہماری دعوت پر قرآن کا مکمل مطالعہ کر کے نباتات اور زراعت سے متعلق آیات کا انتخاب کیا۔ ان کا اصل Contribution یہ ہے کہ انہوں نے غور و فکر کر کے ان آیات کو نباتیات و زراعت کے جدید عنوانات کے تحت ترتیب دیا ہے اور عنوانات کے دائرہ کار کی وضاحت بھی کر دی ہے۔ اس کام میں انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن کو اساس بنایا۔ ترجمہ اس سے دیا گیا ہے لیکن تفہیم کے علاوہ انہوں نے تفسیر ابن کثیر، مولانا محمود الحسن کی تفسیر اور شاہ عبد القادر اور محمد مرماڈیوک پکھتال کے ترجمہ سے بھی استفادہ کیا ہے۔ مطالعہ کے آخر میں آیات کی علیحدہ فہرست بھی دے دی گئی ہے تاکہ آئندہ تحقیق کاروں کو سہولت ہو۔
مجھے یقین ہے کہ جناب ارشد جمیل کی یہ کادش جو میری رائے میں اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد کاوش ہے نہ صرف علمی حلقوں سے توجہ حاصل کرے گی بلکہ سائنس کے اساتذہ اور عام طلبہ بھی اس سے استفادہ کریں گے۔ ہمارے منصوبہ میں یہ شامل ہے کہ اس نوعیت کے انتخاب آیات تمام جدید علوم کے بارے میں پیش کریں۔



