International RelationsKashmir

قائداعظم کا وژن اور کشمیر

بانی پاکستان قائد اعظم کا مشہور جملہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے “، کشمیر کی اہمیت کے بارے میں کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم نے اس کے علاوہ بھی متعدد مواقع پر کشمیر کی آزادی کے بارے میں اپنے خیالات کا برملا اظہار کیا ہے۔ قائد اعظم کے ان ارشادات کو پاکستان کی کشمیر پالیسی کے لیے راہنما خطوط کے طور پر ہمیشہ سامنے رکھنے کی ضرورت ہے ۔ دسمبر ۲۰۰۷ء میں تحریر کیے گئے اس مختصر مضمون میں مصنف نے قائد کے فرامین کی روشنی میں موجودہ حالات کے لیے حکمت عملی کو واضح کیا ہے۔ (مرتب)

جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا اہلِ پاکستان پر جو حق ہے، وہ انسانیت، اسلام، اخلاق اور سیاسی، معاشی اور تہذیبی اوامر اور تقاضوں (Imperatives) ہراعتبار سے محکم ہے۔ صد افسوس! پاکستان کی موجودہ قیادت نے اس باب میں نہ صرف مجرمانہ غفلت برتی ہے، بلکہ عملاً فرار اور بے وفائی کی راہ اختیار کر لی ہے، جسے  اللہ، ملت اسلامیہ پاکستان اور تاریخ کبھی معاف نہیں کریں گے لیکن سوال غلط کار حکمرانوں کو معاف کرنے یا ان کے احتساب سے کہیں زیادہ کا ہے۔ جب کوئی قوم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کے بجائے دوسروں کے ہاتھ میں اپنی قسمت کا اختیار دے دیتی ہے تو اس کے مفادات ، اس کی عزت ، اس کی آزادی اور بالآخر اس کا وجود معرض خطر میں ہوتے ہیں ۔ آج پاکستانی قوم کے سامنے ایک ایسا ہی چیلنج ہے۔ ۲۱ دسمبر کو عید الاضحی اور سنت ابراہیمی کی روشن مثال نے ہمارے ضمیر کو جنجھوڑا ہے اور اس سلسلے میں کشمیر کے قائد اور کشمیریوں کی آرزوؤں کے ترجمان سید علی شاہ گیلانی نے جو پیغام اہل پاکستان کو بھیجا ہے، اس پر دل کی گہرائیوں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ پاکستانی قوم اپنی تاریخی  ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے ایک بار پھر کمر بستہ ہو جائے اور حکمرانوں کے فرار، بے وفائی بلکہ غداری کی خلافی کا سامان کر سکے۔ سب سے پہلے سید علی گیلانی کے بیان کا خلاصہ اس توجہ اور یکسوئی سے پڑھ لیجیے کہ ہر لفظ دل میں اُتر جائے۔ اس لیے کہ یہ پیغام جس داعی حق کا ہے، وہ آج اقبال کے اسی شعر کی زندہ تصویر بنا ہوا ہے۔

ہوا ہے گو تند  و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ

کشمیریوں کو نہ بھارت ظلم وستم  جھکا سکا ہے اور نہ پاکستان کے حکمرانوں کی بے وفائی ہمیں اپنی منزل سے مایوس کر سکے گی۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور افسوس اس قلعے کے محافظ مسلسل پسپائی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہم اول روز سے پاکستانی ہیں اور خون کے آخری قطرے تک پاکستان کی بقاء سالمیت اور تحمیل کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ جب میرے یہ حروف آپ کی نظروں سے گزر رہے ہوں گے، تو یقیناً مملکت خداداد پاکستان میں ہر جانب عید کی خوشیاں جلوہ گر ہوں گی ۔ میں چشم تصور سے اپنے خوابوں کی سرزمین کو دیکھتارہتا ہوں ۔ قیام پاکستان سے قبل میں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی تھی، اور ۶۰ برس گزر جانے کے باوجود وہ مناظر ، گلیاں، بازار اور کو چے دل و نگاہ میں بس رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پاکستان سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں اور یہ محبت کسی زمین، رنگ، نسل، زبان کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ وہ محبت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے رشتے سے ہمارے دلوں میں جاگزیں کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اگر اس وقت میں قومی اور ملی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں تو اس مسئلے کا نامناسب حل مسلط کرنے کے بجائے مناسب وقت کا انتظار کیا جائے ۔ ہم نہ تھکے ہیں اور نہ ہمت ہاری ہے۔ ہمارے جذبے ماند نہیں پڑے۔ ہمارے جوان، بوڑھے اور عفت مآب خواتین ہمت اور حوصلے کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ عید کے موقع پر میں تمام اہل پاکستان کو تربیت کا نفرنس اور ریاست جموں و کشمیر کے وفا شعاروں کی طرف سے عید مبارک کہتا ہوں۔

اقبال نے صرف یہ نوحہ ہی نہیں کہا تھا کہ

آج کشمیر ہے  محکوم و مجبور و فقیر                            کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

بلکہ یہ دعوت بھی دی تھی کہ ۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری                    کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

 ۲۵ دسمبر کو ہم نے قائد اعظم کا یوم پیدائیش بھی منایا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ آج ہم کشمیر کے بارے میں قائد اعظم کے وژن عزائم اور پالیسی خطوط کار کو ایک بار پھرا ہوں میں تازہ کریں تا کہ قوم مسندِ اقتدار پر براجمان کو تاہ نظر حکمرانوں کی آزادی کش، بھارت نواز اور دینی اور ملتی تقاضوں کے شعور سے محروم پالیسیوں اور پسپائیوں کا راستہ ترک کر کے اللہ پر بھرو سے اور اپنی تاریخی ذمہ داریوں کے احساس کے ساتھ اصول اور حقیقی ملتی مفاد پر منی جرات مندانہ پالیسیاں اختیار کر سکے۔

ہم کشمیر کے سلسلے میں قائد اعظم کے چند بیانات، بلکہ احکام و ہدایات کو زمانی ترتیب کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اور قوم کو یاد دلا رہے ہیں کہ قائد اعظم نے وہی کہا تھا جو آج سید علی گیلانی کہ رہے ہیں، اور کشمیر کے غیور مسلمان، جناب گیلانی کی قیادت میں عملاً قائد علم ہی کے احکام پر عمل پیرا ہیں، جب کہ قائد کا نام لینے اور ان کے مزار پر چادر چڑھانے اور گارڈز کی ڈیوٹیاں تبدیل کرانے والے حکمران ان احکام کی کھلی کھلی خلاف ورزی اور پاکستان اور مسلمانان جموں وکشمیر سے بے وفائی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی تحریک مزاحمت و حریت ۱۹۳۰ء کے عشرے میں شروع ہوئی اور ڈوگرہ مظالم بھی اسی وقت سے ہر حد کو پار کر گئے ۔ قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پٹنہ اجلاس میں ۲۶ دسمبر ۱۹۳۸ء کو فرمایا:

میں کانگریس سے پوچھتا ہوں کہ وہ کشمیر میں کیا کر رہی ہے؟ آریہ سماجی ، ہندومہاسبھائی، کانگریسی قوم پرست اور کانگریسی اخبارات یہ سب کشمیر کے معاملے میں کیوں چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ کیا اس وجہ سے کہ کشمیر ہندوریاست ہے؟ یا اس وجہ سے کہ کشمیر کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے؟ افسوس کہ آج خود مسلمان حتیٰ کہ پاکستانی مسلمان اور خصوصیت سے وہ قیادت جس کا فرض کشمیر کی تحریک حریت کی پشتی بانی ہے، چپ سادھے بیٹھی ہے۔ قائد اعظم کی روح آج خود ہم سے، پاکستان کی موجودہ قیادت سے وہی سوال کر رہی ہے جو قائد اعظم نے ہند و قیادت سے ۱۹۳۸ء میں کیا تھا! ۱۹۴۴ء میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سپاس نامے کا جواب دیتے ہوئے قائد اعظم نے کشمیر کے بارے میں فرمایا:

مسلمان جغرافیائی حدود کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے اسلامی برادری کے نام پر ہندوستان کے مسلمان آپ کی مدد کے لیے کمر بستہ ہیں۔ اگر آپ پر ظلم ہوایا آپ سے بدسلوکی کی گئی تو ہم بر کار تماشائی کی صورت میں نہیں رہ سکتے۔ ایسی صورت میں برطانوی ہند کے مسلمان آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہو جائیں گے۔ کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم آپ کی مدد کے پابند ہیں۔

آج ہمارے حکمران جہاد کے لفظ سے خائف اور اس پر شرمندہ ہی نہیں ہیں، بلکہ اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو دہشت گردتک قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھیے جب اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے قبائلی مسلمان، وہی قبائلی مسلمان جن پر آج امریکہ کی خوش نودی کے حصول یا اس کے حکم کے تحت پاکستانی فوج کو بم باری اور آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ، ان قبائلی مسلمانوں نے کشمیر کے جہاد میں شرکت کی اور اس پر جب بھارتی گورنر جنرل نے ان کے خلاف اقدام کا مطالبہ کیا تو قائد اعظم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا فرمایا:

”ہم اس کی ذمہ داری لینے پر تیار نہیں اور نہ ہم قبائلیوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ کشمیر کو خالی کر دیں۔ مسلمانان کشمیر نے ڈوگرہ آمریت سے تنگ آکر ہری سنگھ کی گورنمنٹ کو فتح کرنے کے لیے جہاد شروع کر رکھا ہے اور قبائلیوں نے مجاہدین کا ہم مذہب ہونے کی مناسبت سے ان کی امداد کی ہے۔ لہٰذا ہم اس معاملے میں کسی قسم کا دخل دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ مجاہدین کی یہ جنگ آزادی ہے اور کوئی آزادی پسند ملک آزادی کی خاطر لڑنے والوں کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط نہیں کر سکتا۔ اس لیے جن قبائلیوں کو برطانوی حکومت نہ دباسکی ، ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں۔ وہ ایک نصب العین کے لیے نبرد آزما ہیں۔

۳نومبر ۱۹۴۷ء کو قائد اعظم اور ماؤنٹ بیٹن کے مابین ایک کانفرنس کی روداد ملاحظہ ہوئ  اس موقع پر قائد اعظم نے ماؤنٹ بیٹن سے بڑی صفائی سے یہ بھی کہا تھا:

عوام نے متعدد بار را جا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائیں لیکن راجا پر اس مسئلے کا اُلٹا اثر ہوا، اور اس نے عوام کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوششیں کیں۔ اس پر عوام نے بھی طاقت کا جواب طاقت سے دینا شروع کر دیا۔ جب راجا ان کی چوٹ برداشت نہ کر سکا تو اپنا اقتدار ختم ہوتے دیکھ کر اسے ہندوستان میں شامل ہونے کی سوجھی ۔ دراصل کشمیر ہندوستان میں شامل نہیں ہوا ، بلکہ ہری سنگھ شامل ہوا ہے۔ جب ہندوستان میں ہری سنگھ کی شمولیت کے خلاف کشمیری عوام ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے تو ان سے یہ رائے طلب کرنے کی تجویز کہ وہ ہندوستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں ، نہ صرف فریب بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر قائد اعظم نے ماؤنٹ بیٹن سے یہ بھی کہا: کشمیر جہاں اقتصادی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کا ایک جز ہے۔ وہاں سیاسی اعتبار سے بھی اس کا پاکستان میں شامل ہونا ضروری ہے“۔

کشمیر کے بارے میں قائد اعظم کی پالیسی کیا تھی، اس کا اظہار انھی کے الفاظ میں ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے کیا ہے: کشمیر، سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی خوددار ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ اپنی شورگ دشمن کی تلوار کے آگے کر دے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ ہے جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے۔ لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظر انداز نہیں کر سکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی ، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا ایک حصہ ہے اور جب بھی اور جس زاویے سے بھی نقشے  پرنظر ڈالی جائے، یہ حقیقت بھی اتنی ہی واضح ہوتی چلی جائے گی”۔ (قائداعظم کے آخری ایام)

یہی پاکستان کی وہ کشمیر پالیسی ہے کہ جس پر پوری قوم کو مکمل یکسوئی رہی ہے۔ تاریخی تسلسل کے ساتھ ہم اس پر قائم رہے ہیں اور اس کے حصول کے لیے ۱۹۴۷ء سے جموں وکشمیر کے مسلمان جد و جہد کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں ۔ موجودہ حکمرانوں نے اس پالیسی سے انحراف اور بے وفائی کی ہے اور کشمیری مسلمانوں کو مایوس کیا ہے، لیکن الحمدللہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی ہمتیں اب بھی جوان ہیں۔

کیا پاکستانی قوم قرآن کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے مظلوم بھائیوں کا ساتھ نہیں دے گی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا دیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔ (النساء ۴ : ۷۵)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »