مولانا مودودی ؒکے معاشی تصورات

مقدمہ
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اسلامی احیاء کی عالمگیر تحریک آج کی دنیا کی صورت گر قوتوں میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے ۔ بات صرت یہ نہیں ہے کہ سامراجی قوتوں سے نبرد آزمائی کے بعد پچاس کے قریب مسلمان ملک آزاد ہو چکے ہیں اور عالمی اْفق پر ایک نئے سیاسی رول کی تلاش میں یا دنیا کی معاشی دولت کی تقسیم میں مسلمان ملکوں اور مسلمان علاقوں کا حصہ کچھ بڑھ گیا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ بلا شبہ یہ دونوں باتیں درست ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے ہر گوشہ اور ہر حصہ میں مسلمانوں میں یہ احساس برابر بڑھ رہا ہے کہ ان کی اصل حیثیت محض ایک جغرافیائی یا نسلی قوم کی سی نہیں بلکہ عقیدہ اور نظریہ پر مبنی ایک اُمت کی ہے جس کا زندگی کے تمام بنیادی امور کے بارے میں اپنا مخصوص نقطہ ٔنظر ہے اور آج کی سب سے بڑی ضرورت اس نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل جدید ہے ۔
یہ ایک عجیب سانحہ ہے کہ استعماری قوتوں کے رخصت ہو جانے کے بعد مسلمان ملکوں میں مغربی تہذیب و تمدن کو وقتی طور پر مزید فروغ حاصل ہوا اور کم و بیش ہر ملک میں یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام یا روس اور چین کے اشتراکی نظام کے زیرِ اثر معاشی اور اجتماعی زندگی کی تنظیمِ نوکی کوششیں کی گئیں۔ ان میں سے کسی ایک راستہ کا اتباع ترقی کے ہم معنی قرار پایا اور تیز رفتارمعاشی ترقی کے نام پرسرمایداری یا اشتراکیت نے ان ممالک میں اپنے قدم جمانے شروع کر دیے لیکن گذشتہ تیس سال کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ہی تجر بے بری طرح ناکام رہے۔ پھر بات صرف معیشت کے میدان تک محدود نہیں ہے۔ اسلامی ممالک کو مغربی تہذیب کے سانچوں میں ڈھالنے کی ہمہ گیر جدوجہد (جس کا تلخ تجربہ ترکی اور ایران میں ہوا) نے پورے عالم اسلام کو اور زندگی کے ہر دائرہ کو متاثر کیا اور ایک وقت میں ایسا بھی آیا کہ یہ محسوس ہونے لگا کہ مسلمان ملک سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد مغرب کی تہذیبی اور معاشی غلامی کے شکنجہ میں آیا ہی چاہتے ہیں ۔ اور یہ غلامی محض سیاسی غلامی سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہوگی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی اختیار کی لہروں نے ان زنجیروں کو توڑنا اورخس وخاشاک کی طرح بہانا شروع کر دیا جو مغرب کے معاشی اور تہذیبی تسلط کے لیے مسلمانوں کو اپنی گرفت میں لے رہی تھیں۔ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ، کشمکش جاری اور روز افزوں ہے لیکن یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح سب کے سامنے آگئی ہے۔ ملت ِاسلامیہ کی روح مغربی تہذیب و تمدن اور مغرب کے عالمگیر سیاسی اور تہذیبی تسلط کی باغی ہے اور آج کا مسلمان اسلام ہی کے نظام ِزندگی میں اپنے حقیقی تشخص کو دوبارہ تلاش کر رہا ہے۔ مغربی اہل قلم اسلامی احیاء کو یا محض ایک منفی عمل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یا زیادہ سے زیادہ اسے سیاسی تحرک (POLITICAL ACTIVISM) اور مذہبی بنیاد پرستی (RELIGIOUS FUNDAMENTALISM) سے عبارت قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقت کی اس سے زیادہ نادرست تعبیر شاید ہی ممکن ہو۔ مغربی اہلِ قلم نے مسلمانوں کے ذہن اور ان کی روح کو ماضی میں سمجھا اور نہ آج سمجھے رہے ہیں۔ مذہبی جنون اور بنیاد پرستی کی پھبتیوں سے حقیقت کو نہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ جھٹلایا جا سکتا ہے۔ عالم ِاسلام کی بیداری کی بنیا د صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مسلمان ایک مخصوص نظریہ ، ایک مخصوص تہذیب اور ایک مخصوص تاریخی مزاج کے حامل ہیں اور صرف اسی نظریہ ، تہذیب اور تاریخی روایات میں یہ اْمت آسودگی پاسکتی ہے۔ . اس سے ہٹ کر کچھ عرصے کے لیے اسے دوسرے نظریوں اور تہذیبوں کی تجربہ گاہ بنایا تو جا سکتا ہے لیکن جلد ہی ملت کی روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے اور اپنی اصل کی طرف مراجعت کے لیے کوشاں ہو جاتی ہے ۔ اس چیز کو مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ میں تقریباً ہر دور اور ہر علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے اور آج بھی اسلامی احیاء کی جو لہر مشرق اور مغرب میں موجزن ہے وہ کسی وقتی حادثہ یا محض چند مذہبی جنونیوں کا کارنامہ نہیں بلکہ ملت ِاسلامیہ کی روح کی ازلی پکا رہے، جس کی پْشت پر ٹھوس فکر اور مضبوط تاریخی روایات ہیں جنہیں سیاسی سازشوں اور معاشی ترغیبات سے ہوا میں نہیں اڑایا جا سکتا ۔
دور ِحاضر میں ملتِ اسلامیہ میں اس شعور کو بیدار کرنے اور فروغ دینے میں جن ہستیوں نے سب سے نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے ۔ ان میں سید ابوالاعلیٰ مود ودیؒ کا نام سرِ فہرست ہے ۔ مولانا مودودیؒ نے پہلی جنگ عظیم کے چند ہی سال بعد ۲۰ سال سے بھی کم عمر میں اپنے فکری اور دعوتی کام کا آغاز کیا اور ساٹھ سال کی شب و روز جد و جہد سے لاکھوں انسانوں تک اسلام کے پیغام کو اس طرح پہنچایا کہ اس نے ان کے فکر وفن ، ان کے اخلاق وکردار اور ان کی سعی و جہد کے محور کو بدل دیا۔ مولانا مودودیؒ تقریباً ڈیڑھ سو کتب ور سائل کے مصنف ہیں ۔ آپ کی تحریریں ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں جن میں آپ نے تفسیِر قرآن اور تشریح احادیث نبویؐ سے لے کر وقت کے سیاسی اور معاشی مسائل تک، ہر موضوع پر نادر ٔروزگار فکری گہرائی اور بالغ نظری سے کام کیا ہے ۔ آپ کی تقریریں اور بیانات بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں جنہیں دس جلدوں میں شائع کیا جا رہا ہے۔ مولانا مودودیؒ کی تحریروں کا ترجمہ دنیاکی تقریباً تیس زبانوں میں، ہو چکا ہے اور آج آپ کرہ ٔارض کے کسی بھی گوشہ میں چلے جائیں ، مولا نا مودودیؒ کی فکر اور ان کی تحریک کے اثرات آپ ہرسو دیکھ سکتے ہیں خصوصیت سے مسلمان نوجوانوں کے ذہن و اخلاق کو متاثر کرنے میں ان کا حصہ غیر معمولی ہے لیے مولانا مودودی صاحب کے اذکار اور ان کے اثرات پر دنیا کی مختلف جامعات اور علمی مراکز میں تحقیق و تجزیہ کا کام ہورہا ہے اور ایک مدّت تک یہ کام جاری رہے گا۔ ان کی وفات پر مسلمان نوجوانوں کی عالمی تنظیم الندوة العالمی للشباب الاسلامی (WORLD ASSEMBLY OF MUSLIM YOUTH) نے دنیا کے مختلف حصوں میں مولانا محترم کے افکار پر مطالعہ وتحقیق کے لیے چند اسکالر شپ کا اعلان کیا۔ ان میں سے ایک کے تحت مولانا مودودیؒ کے معاشی تصورات پر برادر عزیز محمد کریم خاں نے کام کیا ہے۔ ان کے حاصل مطالعہ وتحقیق کو اس کتاب میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے صرف اسلامی احکام ومسائل کی تشریح و توضیح ہی نہیں کی ہے بلکہ اپنے دور کی انسانی فکر کا تنقیدی جائزہ لے کر اسلامی نقطہ ٔنظر سے اس کی اصل قدر وقیمت کا تعین کیا ہے نیز اسلام کو ایک مکمل نظام فکر وعمل اور دین ودنیا کی فلاح کی ایک عالمگیر اصلاحی دعوت و تحریک کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔ ان کا اصل پیغام ہی نے مولانا محترم کی وفات پر لندن کے روزنامہ گارڈین (GARDIAN) کے نمائندہ نے ایک ہی جملہ میں ان کا تعارف اس طرح کرایا تھا کہ اس صدی میں مسلمانوں کے ذہن کو سب سے زیادہ جس شخص نے متاثر کیا وہ مودودیؒ ہی ں البتہ ان کی زندگی کے آخری ایام میں خمینی ان سے آگے نکلتا نظر آرہا ہے ۔
یہ ہے کہ اسلام عقیدہ اور اخلاق سے لے کر قانون ، نظم معیشت اور بین الاقوامی تعلقات تک زندگی کے ہر شعبہ کے لیے اپنے مخصوص نقطہ ٔنظر سے بنیادی اور جامع ہدایات دیتا ہے اور مسلمان فرد یا قوم ہر دو حیثیت سے اسلام کے تقاضوں کو اسی وقت پورا کر سکتے ہیں جب وہ ان ہدایات کی پابندی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کریں اور زندگی کے رُخ اور تاریخ کے دھارے کو اسلام کی مطلوبہ سمت میں پھیر دیں ۔ اسلام کسی باطل نظام کے تحت سکون کی زندگی گزارنے کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے نقشہ کو بدلنے کے لیے آیا ہے اور مسلمان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خدا کی زمین پر خدا کے دین کو قائم کرے اور انسانی معاشرہ کو حق و انصاف کی بنیادوں پر استوار کرے۔ فطری بات ہے کہ جس شخص نے یہ پیغام دیا ہو اور اس کے لیے فکری اور علی جد و جہد بر پا کی ہو وہ معاشی مسائل سے صرفِ نظر کیسے کر سکتا ہے ۔ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ تو یہی فتنہ معاش ہے ، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒنے جگہ جگہ اور بار بار معاشی افکار و مسائل سے بحث کی ہے اور اگر ان تمام مباحث کا جائزہ لیا جائے تو ان کا تصور ِمعیشت نکھر کر سامنے آجاتا ہے ۔
مولانا مودودیؒ محدود معنی میں ایک ماہر معاشیات (ECONOMIST) نہ تھے لیکن ان کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ مخصوص علم کے جزوی پیمانوں سے ان کے بارے میں گفتگو ہو۔ وہ ایک ایسے مفکر ہیں جنہوں نے خاص الہیات سے لے کر تقریباً تمام ہی عمرانی اور انسانی علوم کے میدانوں میں نہ صرف بالغ نظری کے ساتھ کلام کیا ہے اور اسلام کی تعلیمات کی تشریح و توضیح کی ہے بلکہ ان علوم کی اساسی فکر کی ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ، تشکیل نو کے خطوط بھی واضح کیے ہیں ۔ معاشیات کے میدان میں بھی انہوں نے یہ کارنامہ بڑی خوبصورتی اور بڑی اجتہادی شان کے ساتھ انجام دیا ہے۔ انہوں نے صرف اسلام کے فلسفہ ٔمعیشت کے خدو خال ہی نمایاں نہیں کیے بلکہ دورِ حاضر میں اس کے انطباق کی راہوں کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ اب یہ علمِ معاشیات کے طالب علموں کا کام ہے کہ وہ ان افکار و نظریات کی روشنی میں زیادہ فنی اندازمیں تحقیق وتحلیل کا کام انجام دیں اور علمِ معیشت کی تشکیل جدید اور معاشی پالیسی سازی کے نئے مخطوط نمایاں کریں۔۔ معاشیات کے میدان میں مولانا محترم کے کام کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکا ہے:
اسلامی فلسفہ معیشت کی تشریح
یہ حصہ مولانا کی ان تحریروں اور تقریوں پر مشتمل ہے جن میں انہوں نے اسلام کے فلسفۂ معیشت اقتصادی مسائل کے باب میں اس کے مخصوص اپر وچ اور ان اصول و اقدار کی تشریح و توضیح کی ہے جن پر اسلام انسان کی معاشی زندگی کی تربیت تنظیم کرناچاہتا ہے ۔
معاشی تصورات اور تحریکوں پر تنقید :
دوسرا حصہ ان تحریر دن پر مشتل ہے جن میں مولا نا محترم نے وقت کے معاشی نظریات اوردور ِحاضر کی معاشی تحریکات پر نقد واحتساب کا کام انجام دیا ہے ۔ اس میں علِم معیشت کے چند بنیادی تصورات – مثلاً نظریہ قّلت، نظریہ ملکیت ، نظر یہ آبادی ، نظر یہ سود، تصور محنت وغیرہ اور معاشی نظاموں کی مروجہ اۂتیں ۔ مثلاً زمینداری ، سرمایہ داری ، اشتراکیت ، فاشزم و غیر دونوں ہی پر مولا نانے کلام کیا ہے اور اسلام کے فلسفہا۷ حیات کی روشنی میں ان کے حسن وقبح کو واضح کیا ہے ۔ مولانا کی ان تحریروں میں غیر اسلامی نظریات اور تحریکات پر اسلامی انداز میں احتساب و تنقید کا ایک نیا اسلوب ہمارے سامنے آتا ہے جومستقبل کے محقق کے لیے نشان راہ بن سکتا ہے۔ م
عاشی تعلیمات اور احکام کی تشریح :
ایک اور اہم اور بنیادی کام مولانا محترم نے یہ انجام دیا ہے کہ اسلام کی ان تمام تعلیمات اور ان احکام کی تشریح و توضیح کی ہے جو معاشی زندگی سے متعلق ہیں۔ یہ کام مولانا نے محض روایتی انداز میں انجام نہیں دیا کہ احکام کو بیان کر دیں بلکہ ان کی حکمتوں پہ بھی گفتگو کی ہے اور ان کے اخلاقی ، معاشی اور تمدنی اثرات کی نشان دہی بھی کی ہے تاکہ ان احکام کو اسلامی نظام ِزندگی کے مکمل نقشے ہیں رکھ کر دیکھا جا سکے مولانا کی تحریروں کے اس حصے میں بڑی گہرائی بھی ہے اور تازگی بھی ۔
معاشی نظام کی تبدیلی :
مولانا کی دلچسپی کا ایک اور موضوع یہ بھی ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کو اس دور میں کیسے قائم کیا جائے ؟ نیز اس دور ، جس کے اپنے مخصوص مسائل اور ادارات ہیں ، اسلامی احکام کا انطباق کیوں کر لیکن ہے ۔ اس راہ میں کیا مشکلات ہیں ؟تبدیلی کی حکمتِ عملی اور ترجیحات کیا ہوں ؟ تبدیلی کے بعد نیا نقشہ کیا ہو ؟ یہ وہ سوالات میں جن سے مولانا نے تعرض کیا ہے اور ان کے بارے میں بڑے مفید اشارات پیش فرمائے ہیں تاکہ مسلمان ، اسلام کے نظام کو دوبارہ قائم کر سکیں اور اس اعتماد کے ساتھ یہ جد و جہد کریں کہ وہ وقت کے معاشی مسائل کو حل کر کے دنیا کو ایک بہتر مستقبل کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔
وقتی معاشی مسائل پر اظہار خیال :
اوپر کے چاروں کاموں کے علاوہ مولانا مودودی نے گذشتہ پچاس سال میں اور خصوصیت سے پاکستان کے ۳۲ سال میں ملک کے معاشی مسائل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو تقریروں اور بیانات میں پایا جاتا ہے خواہ مسئلہ معاشی منصوبہ بندی کا ہو یا سالانہ بجٹ کا ، افراطِ زر کی بات ہو یا بیرونی امداد کی، بے روزگاری کا ذکر ہو یا معاشی عدم تفاوت کا ۔ ان تمام امور پر مولانا نے اظہارِ خیال کیا ہے اور محض ایک سیاست دان کے انداز میں نہیں بلکہ ایک مفکر اور مصلح کی حیثیت سے کیا ہے ۔ معاشی پالیسی کے میدان میں یہ بیانات اہم رہنمائی دیتے ہیں۔
معیشت کے باب میں یہ پانچ پہلو میں جومولانا محترم کے کام میں نمایاں محسوس ہوتے ہیں ۔ زیِر نظر کتاب میں پہلے چار کاموں کا بھر پور احاطہ کر لیا گیا ہے اور اس طرح یہ مولانا مودودیؒ کے معاشی افکار و تصورات پر ایک مبسوط تحقیقی کارنامہ ہے ۔ البتہ آخری پہلو پر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں سب سے بری مشکل یہ ہے کہ مولانا محترم کی تمام تقاریب اوران کے بیانات ابھی تک کتابی شکل میں شائع نہیں ہو سکے ہیں ۔ مجھے توقع ہے مولانا کی تقریہ دوں اور بیانات کے اس مجموعہ کی اشاعت کے بعد جو ثروت صولت صاحب نے مرتب کیا ہے اس خلا کو بھی پْر کر لیا جائے گا اور توقع ہے کہ برادرم اکرم خان صاحب یا کوئی اور محقق اس آخری میدان میں بھی مولا نا محترم کے نقطۂ نظر کی ایک مربوط اور متحمل تصویر قوم کے سامنے لانے کی کوشش کریں گے ۔
میں آخر میں برادر عزیز محمد اکرم خان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑی محنت اعرق ریزی اور صحت فکر کے ساتھ مولا نا محترم کے معاشی تصورات پر یہ تحقیقی مقالہ تیار کیا ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں یہ کتاب ہمارے علمی اور حقیقی ذخیرہ میں بڑا قیمتی اضافہ ہے۔ اس سے مولا نا محترم کا فکری اور علمی کارنامہ بالکل نِکھر کر ہمارے سامنے آجاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے تصورِ معیشت کے مختلف پہلو بھی واضح ہو جاتے ہیں ۔ یہ کتاب جہاں مولانا محترم کے افکار نظریت کی تفہیم و تشریح کا ایک مرقع ہے وہیں اسلامی معاشیات کے موضوع پر بھی ایک مستند تحقیق کا رنامہ کی حیثیت رکھتی ہے اور مجھے توقع ہے کہ اسلامی معاشیات کے طالب علم اور اساتذہ اس کتاب کو بے حد مفید پائیں گے ۔
اسلام آباد
۲۵ فروری ۱۹۸۳ء
پروفیسر خورشید احمد
نائب صدر
اداره معارف اسلامی



