ArticleIslamIslamic EducationMedia Article

نظام تعلیم – نظریہ ، روایت، مسائل

مغربی استعمار نے پچھلی تین صدیوں سے عالم اسلامی میں جو تباہی مچا رکھی ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ہر پہلو اپنی جگہ اہم اور دور رس اثرات کا حامل ہے۔ مسئلہ سیاسی ہو یا معاشی، فکری ہو یا ثقافتی اخلاقی ہو یا ساری باڑ کے ہر لکھے میں استعمار کی فول کاری کار فرما نظر آتی ہے۔ لیکن میری نگاہ میں تخریبی قوتوں کا سب سے موثر حملہ جس میدان میں ہوا ہے، وہ تعلیم کا میدان ہے ۔ یہاں حملے کی زد میں فکر ونظر، ایمان وایقان، اخلاق وآداب اور تہذیب وتمدن، غرض ہر وہ چیز ہے جو ہماری شناخت ہے اور جس میں ہماری زندگی اور بقاء کا راز ہے۔ برطانوی فوجوں کو سر زمین پاک وہند سے ایک دن رخصت ہونا پڑا، لیکن میکالے کے تعلیمی نظام نے جس بگاڑ کو جنم دیا اور پروان چڑھایا، اس کی گرفت آج بھی ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر قائم ہے اور ہم آزاد ہونے کے بعد بھی فی الحقیقت آزاد نہیں!

اکبر اللہ آبادی نے سوسال پہلے متنبہ کیا تھا کہ

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

اور حکیم الامت علامہ اقبال نے اس سامراجی سازش کا پردہ یوں چاک کیا تھا کہ

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، ادھر پھیر

حصول پاکستان کے تقریباً نصف صدی بعد بھی ہم اس تعلیمی نظام کی بندشوں میں جکڑے ہوئے ہیں جو برطانوی دور استعمار میں قائم ہوا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ نظام آج بھی وہی قیادت پیدا کر رہا ہے، جو امت مسلمہ اور اس کے عزائم اور تمناؤں سے نا آشنا ہے۔ اور جو مغربی اقوام کی فکری، سیاسی، معاشی اور تہذیبی اقدار کو امت مسلمہ پر مسلط کرنے کی جنگ میں مصروف ہے۔

چھرے اور نام پاکستانی ہیں لیکن فکر اور مقاصد فرنگی:

انھی کی محفل سجا رہا ہوں، چراغ میرا ہے رات ان کی

انھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں، زبان میری ہے بات ان کی

ملت اسلامیہ پاکستان آج جس اندرونی کش مکش کا شکار ہے اور جس کی وجہ سے اس کی توانائیوں کا بڑا حصہ باہم تصادم کی نذر ہو رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ نظام تعلیم کا بگاڑ ہے۔ اور اصلہ کا آغاز بھی اس نظام کی تبدیلی کے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔

مجھے گذشتہ بیالیس برسوں میں تعلیم کے موضوع پر متعدد مضامین لکھنے اور بیسیوں اجتماعات سے خطاب کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان مضامین اور تقاریر کا یہ انتخاب ” نظام تعلیم: نظریہ، روایت اور مسائل” کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے۔ سہولت کی خاطر ان مضامین کو تین حصوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔

پہلا حصہ “نظریہ” سے متعلق ہے جس میں چار مضامین شامل کیے جا رہے ہیں۔ اس حصے میں جمال جدید تعلیمی نظریات پر طلبی تنقید اور برطانوی استعمار کے مسلط کردہ نظام کے نقائص کا جائزہ لیا گیا ہے، وہیں ان میں اسلام کے نظریہ علم اور اصول تعلیم پر بھی بحث کی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں ایک مفصل مقالہ ہے جس میں مسلمانوں کی تعلیمی روایت کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ خصوصیت سے ان تعلیمی تحریکات کا مطالعہ کیا گیا ہے جو برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے درمیان ابھری ہیں اور جن کے ذریعے مغرب کے تعلیمی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

آخری حصہ ہے تعلیمی مسائل کا عنوان دیا گیا ہے، ان ۲۶ مضامین، تقاریر اور شہروں پر مشتمل ہے جن میں تعلیم کے مختلف مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان میں نظام تعلیم کے مجموعی مسائل اور تعلیمی ر ر کنکی مدد سے لے کر تعلیم کے چند متعین مسائل یعنی ذریعہ تعلیم کا جسکہ، پرائمری تعلیم، اسلامیات کی تعلیم، تعلیمی اداروں میں نظم وضبط کا مسلہ، دینی تعلیم کی اصلاح، نبی اور سرکاری شعبہ کے کردار وغیرہ پر بحث کی گئی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس مجموعہ میں ان حضرات کے لیے غور وفکر کا کافی لوازمہ ہے، جو ہمارے تعلیمی مسئلے کو سمجھنا چاہتے ہیں، نیز ہمارے پالیسی ساز بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں –

 میرے یہ مضامین، تقاریر اور شورے شاید آج بھی زیور طباعت سے محروم رہتے، اگر میرے عزیز بھائی سلیم منصور خالد اس امر کا بیڑہ نہ اٹھاتے کہ ان مضامین کو گوشے گوشے سے جمع کر کے ایک ہار میں پرو ڈالیں ۔ تلاش وترتیب کا سارا سہرا بر اور عزیز سلیم منصور خالد کے سر ہے اور اس کتاب کی اشاعت سے اگر کوئی خیر رونما ہو تو اس کا کریڈٹ انھی کو جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں برادرم خالد رحمن اور برادرم مسلم سجاد نے اس پورے عرصے میں نہ صرف مسلسل دلچسپی لی اور تمام مواقع کو دور کرنے میں مصروف رہے بلکہ مسودے کی آخری نوک پلک درست کرنے میں بھی تعاون کیا۔ اللہ تعالیٰ ان تینوں ساتھیوں کو اور ان تمام دوستوں کو جنہوں نے ان سے تعاون کیا بہترین جزاء دے ۔ آمین

آخر میں اپنے دو احساسات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ ملک کے بہی خواہ ہر دور میں تعلیم کے مسلے کو مرکزی حیثیت دیتے رہے ہیں ۔ حضور پاک ﷺ نے “میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں” کے واشگاف اعلان سے اس تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ہماری تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں ہے کہ جس میں منکرین، معلمین، اور سیاسی قیادت تعلیم کے مسئلے سے بے فکر رہی ہو۔ دور استعمار میں بھی ہر اصلاحی تحریک نے تعلیم کی اصلاح کو مرکزی اہمیت دی۔ حضرت شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل شهید، شاه عبد القادر، شاه عبدالعزیز، سرسید احمد خان، اکبر الہ آبادی، شبلی نعمانی، حمید الدین فرای، علامہ اقبال، محمدعلی جوہر، ابوالکلام آزاد قائداعظم اور سید ابوالاعلی مودودی سمیت ملت کا ہر مکمان تعلیم کی اصلاح کے لیے بے چین اور سرگرم نظر آتا ہے۔ لیکن یہ کیسی تاریکی ہے کہ آج کی سیاسی اور دینی قیادت کی فکر اور اس کی عملی جدوجہد میں تعلیم کی اصلاح کا کوئی مرکزی مقام تو ایک طرف رہا ثانوی درجے کا مقام بھی نظر نہیں آتا۔ یہ صورت حال بڑی تشویش ناک ہے اور میں ملک وملت کی قیادت سے پوری دل سوزی کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کرے اور اس کی اصلاح کو اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی میں مرکزی اہمیت دے۔ اس کے سوا اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔

دوسرا میں اپنے اس احساس کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ الحمد اللہ ساری اسلامی دنیا میں اسلامی بیداری کی جو لہر دوڑ رہی ہے اس میں سامراجی تعلیمی نظام سے بغاوت اور ایک نئے اسلامی تعلیمی نظام کی تلاش کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ رات تاریک ہے مگر افق پر بھی اسلامی احیائی تحریک روشنی اور نور کی ہر لمحہ بڑھتی ہوئی کرن بن کر نمودار ہوئی ہے۔ اس سے امت کے مستقبل کو منور کیا جا سکتا ہے اور مغرب جتنا اپنی اسلام دشمنی میں آگے بڑھتا جارہا ہے، مسلمان اتنا ہی اپنی حقیقت کو بچانے اور اپنی شناخت کی بنیاد پر اپنے مستقبل کی تلاش کے لیے کوشاں ہوتا جا رہا ہے اور ملتِ اسلامیہ حکیم است کی اس بصیرت افروز پیش گوئی کی طرف کشاں کشاں بڑھتی نظر آرہی ہے۔

مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفان مغرب نے

تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گھر کی سیرابی

عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے

شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »