ولر کنارے۔ پیش لفظ

پیش لفظ
آج سید علی گیلانی محض ایک شخص کا نام نہیں۔ وہ سوا کروڑ مظلوم انسانوں کی اس زریں تاریخی جد و جہد کا عنوان اور علامت ہے جو ایک سرفروش قوم ، اپنی آزادی کے حصول اور اپنے دین و ایمان اور اپنی روحانی اور تہذیبی شناخت کے تحفظ اور ترقی کے لیے ایک ایسی قابض قوت کے خلاف کم از کم پچھلے ۶۵ سال سے پوری استقامت کے ساتھ انجام دے رہی ہے جس نے عسکری قوت اور سیاسی عیاری کے بل پر اسے اپنا غلام بنا رکھا ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ، اور خود اپنے عہد و پیماں کو تار تار کر کے ان پر اپنا ظالمانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔ اس استبداد کے نتیجے میں یہ قوم صرف اپنی آزادی اور حق خود ارادیت ہی سے محروم نہیں کر دی گئی ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کے جان، مال، آبرو، اقدارِ حیات، تہذیبی اور نظریاتی ۔ غرض ہر شے کوتہس نہس اور برباد کیا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی اور بستیوں اور کھیت اور کھلوان کی تباہی روز مرہ کا معمول بن گئی ہے۔ جموں و کشمیر کی سرزمین پر مسلمانوں کے خون کی ارزانی کی وہ کیفیت ہے جسے نسل کشی (Genocide) کے سواکسی اور لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ایک طرف ظلم کی نہ ختم ہونے والی خوں چکاں داستان ہے تو الحمد للہ دوسری طرف ظلم کے اس نظام کو چیلنج کرنے اور تاریکیوں کے سینے کو چاک کر کے آزادی اور سرفروشی کے چراغوں کو روشن کرنے کی تابناک اور روز افزوں جدو جہد بھی جاری ہے جو صبح نو کی آمد کی نوید دے رہی ہے۔
’’ولر کنارے ‘‘ایک ایسی سوانح حیات ہے جس میں سید علی گیلانی کی مقصدیت سے بھر پور مگر ہنگامہ خیز زندگی کی داستان ہے، جس کے آئینے میں پوری کشمیری قوم کی روح پرور اور ایمان افروز مگر نشیب و فراز سے بھر پور زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے، کہ گیلانی کا طرہ امتیاز ہے کہ ع
جو غم ہمیں ملا، غمِ جاناں بنا دیا
تمام تخلیقی اصنافِ ادب میں غالبا ”سوانح حیات“ سب سے زیادہ نازک، حساس اور مشکل صنف ہے۔ اُردو کے ذخیرۂ سوانح حیات میں افراط و تفریط نظر آتی ہے۔ کہیں پوری داستان’’ در مدح خود می گوید‘‘ کی گردان بن جاتی ہے اور کہیں کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں سب کچھ ہوتا ہے مگر شخصیت کی اصل تصویر نا دیدہ ہی رہتی ہے، گویا
ہم گئے تھے عرض کرنے مدعا
اور عرضِ مدعا ہی رہ گیا
ولر کنارے ایک کامیاب سوانح حیات ہے کہ اس میں سید علی گیلانی کی اصل شخصیت اپنی تمام تر تا بانی کے ساتھ لیکن گوشت پوست کی شکل میں چلتی پھرتی دیکھی جاسکتی ہے اور صرف ان کا ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن بھی کسی تصنع اور پردہ داری کے بغیر دیکھا اور پہچانا جاسکتا ہے۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ ان کی داستان کا اصل محور ذات نہیں بلکہ وہ مقصد حیات ہے جس نے ان کی زندگی کو معنویت دی ہے۔ پھر وہ جدو جہد ہے جس کے لیے انھوں نے زندگی کو وقف کیا ہے، یعنی اقامتِ دین، اسلام کی سر بلندی اور انسانیت کی حقیقی کامیابی اور نجات کی طرف رہنمائی اور کشمیری قوم کی آزادی اور خوش حالی۔ اس داستان کی بے ساختگی ، ان کی زندگی کی سادگی ، ظاہر اور باطن کی یکسانی، مصائب اور مشکلات پر صبر و استقامت، پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد حیات کی خدمت اور زمانے کے تمام ہی نشیب و فراز کا حکمت، دیانت، حلم اور توازن کے ساتھ مقابلہ ان کی شخصیت اور جدو جہد کو ایسا حسن عطا کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام ہی کہا جاسکتا ہے۔ خود پسندی ،نفس کی پرستش، انتقام اور حْبِّ دنیا کا کوئی شائبہ اس زندگی میں نظر نہیں آتا۔ وہ جو اقبال نے کہا تھا کہ
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
ولر کنارے میں ہمارے اپنے دور میں اس کی ایک مثال دیکھی جاسکتی ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ مجھے محترم گیلانی صاحب سے زندگی میں صرف تین بار ملنے کا موقع ملا ہے جن میں سے دو بار یہ سعادت حرم کعبہ کے زیر ِسایہ حاصل ہوئی۔ ان کی تحریروں کا خاصا حصہ میری نظر سے گزرا ہے اور ملاقاتوں میں ان سے بات چیت بھی ہوتی رہی ہے۔ اگر چہ ان کی تحریر اور تقریر دونوں ہمیشہ اس پہلو سے متاثر کن رہی ہیں کہ وہ صحت فکری کے ساتھ ساتھ حُسنِ خیال اور حسنِ بیان کا بہترین مرقع ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل شخصیت سے کچھ واقفیت حاصل کرنے کے لیے جتنا مفید اور مددگار میں نے ولر کنارے کو پایا، وہ شخصی رابطےسے بھی کہیں زیادہ مفید بلکہ چشم کشا تھا، گویا
اصغر سے ملے لیکن اصغر کو نہیں پایا
اشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے
اصغر کے باب میں جو کام اشعار نے انجام دیا، سید گیلانی کی یافت کے سلسلے میں وہی ولر کنارے“ نے انجام دیا۔ دوحصوں میں ۱۹۲۹ ء سے لے کر ۱۹۹۶ء تک کی یہ کہانی ایک شخص کی زندگی کے آئینے میں ایک عہد اور ایک عہد آفریں جدو جہد کی داستان سے ہمیں شاد کام کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ گیلانی صاحب کو تیسری جلد لکھنے کی توفیق سے بھی نوازے تا کہ بقیہ داستان بھی صفحہ قرطاس پر محفوظ ہو جائے اور اس طرح ایک مخلص خادمِ دین کے نقوشِ پا آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ راہ بن سکیں اور یوں انشاء اللہ چراغ سے چراغ جلتے رہیں۔ ولر کنارے میں گیلانی صاحب کی نجی زندگی کا تذکرہ اس حد تک موجود ہے جس کا اظہار مسلم معاشرہ اور اسلامی ثقافت کی درخشاں روایات میں ممکن اور مناسب ہے۔ ان کی سادہ زندگی ، اہل ِخانہ سے گہری محبت ، خوش کن لمحات میں تشکر اور مصیبت اور رنج و غم کے موقع پر صبر و تحمل، وسائل کی تنگی اور مشکلات کی یلغار کی صورت میں بھی مایوسی ، غصے اور فرار سے گریز ، اوقات کار کا ڈسپلن اور تحریکی اور سیاسی مصروفیات کے اثر دھام کے باوجود بھی نجی معاملات میں دلچسپی اور ذمہ داری اور تعلقات کو نبھانے کی سعی مسلسل یہ کردار کے وہ پہلو ہیں جو مسلم معاشرے کا طرۂ امتیاز رہے ہیں اور نئی نسلوں کی طرف ان کو منتقل کرنا گیلانی صاحب کی نسل کی ذمہ داری تھی جسے انھوں نے بڑے سلیقے سے پورا کیا ہے کہ وہ بہت کچھ جو’’ حجاب ‘‘تھا ’’پردہ ساز‘‘ بن کر جلوہ گر ہے۔ اس داستان کا ایک بڑا متاثر کن پہلو ذاتی تعلقات اور انسانی بنیادوں پر دوست اور دشمن سب سے تعلق خاطر اور ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام ہے۔ مخالفین کی خوبیوں کا اعتراف اور اپنوں کی کمزوریوں پر بے جا پردہ ڈالنے یا ان کے دفاع کی کوشش سے اجتناب بڑا متاثر کن پہلو ہے نیز بے جا تجسس، چغلی، غیبت اور دوسروں پر اپنی برتری کے اظہار سے بھی ان کا دامن پاک رہا ہے۔ شیخ عبداللہ کاذکر پوری کتاب میں جس دیانت اور جرأت کے ساتھ ساتھ احتیاط اور توازن سے کیا ہے، وہ بڑے خاصے کی چیز ہے۔ شیخ عبداللہ سے سیاسی اختلاف کو ذاتی مراسم میں بگاڑ کا سبب نہیں بننے دیا۔ گیلانی صاحب نے سیاسی اور نظریاتی میدان میں موصوف پر بھر پور تنقید کی ہے، مگر ان کے مثبت رویوں ، ان کے ہاں مشرقی اور خاندانی روایات کے اہتمام کی تحسین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اسی طرح سخت شدید مخالفین کے غم اور دکھ درد میں شرکت سے اپنے کردار کی عظمت کا ثبوت دیا ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کی خود قرآن نے تلقین کی ہے، یعنی اخلاق نبوی صلى الله عليه وسلم ہے۔
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَانَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ( حم السجده ۳۴)
’’اور اے نبی نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے‘‘۔
گیلانی صاحب کا قرآن سے گہرا تعلق اور زندگی کے ہر مرحلے اور ہر موقعے پر قرآن سے استشہاد کا نقش ’’ولر کنارے ‘‘کے صفحات پر نمایاں ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں مولانا سید سلیمان ندوی کی گواہی تھی کہ ’’الہلال ‘‘نے ہم پر یہ راز فاش کیا کہ قرآن ہمارے دور کے ہر مسئلے کے بارے میں بھی ایسی رہنمائی دیتا ہے کہ معلوم ہو کہ یہ ہدایت آج ہی نازل ہو رہی ہے۔ گیلانی صاحب کی تحریر اور تقریر کا یہ اعجاز ہے اس میں ہر موقع پر قرآن کی روشنی کا نور نظر آتا ہے اور تفہیم القرآن کی تشریح اس نور کو نور علی نور کا رنگ دے دیتی ہے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
سید علی گیلانی کی زندگی اور ان کی تحریر اور تقریر دونوں پر جن دو شخصیات کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہیں وہ علامہ محمد اقبالؒ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒہیں اور بجا طور پر یہ دونوں بیسویں صدی میں اسلامی احیاء کے صورت گر ہیں۔ اقبال نے فکر اور جذبہ دونوں کو صحیح راہ پر لانے کی تاریخ ساز کوشش کی اور سید مودودیؒ نے فکر کی تشکیل ِنو اسلام کے حقیقی ویژن کو مسکت عصری دلائل کے ساتھ پیش کر کے نئی نسل کو اسلام کا صحیح شعور ہی نہیں دیا بلکہ اُن کو اسلام کے قیام کی جدو جہد کی انقلابی راہ بھی دکھائی اور اس طرح نہ صرف فکری اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی بلکہ اسلامی احیاء کی جدو جہد کو بر پا کر کے پوری اْمّت کے لیے ایک روشن شاہ راہ کھول دی۔ سیّد مرحوم کے بارے میں جس نے بھی کہا صحیح کہا ان کی تحریر یں زندہ اور جاوید ہیں اور یہ اس لیے ہے کہ ان کے پیچھے صرف فکر کی پختگی اور حسن ِخیال کے ساتھ بلاغت اور اعجاز کا کمال ہی نہیں بلکہ کردار کی عظمت اور قول وفعل کی یکسانی بھی کارفرما ہے۔ ایسی تحریر اور تقریر نہ صرف زندہ رہتی ہے بلکہ دوسروں کو زندگی دیتی ہے اور مخالفت کے طوفان بھی نہ اسے محو کر سکتے ہیں اور نہ محدود۔ گیلانی صاحب انہی دونوں تاریخ ساز شخصیتوں کے پیغام اور اسلوب کے امین اور ترجمان ہیں اور جس طرح ان دونوں کا پر تو گیلانی صاحب کی تحریر میں جلوہ گر ہے اس کے بارے میں تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
وہ تو وہ ہیں تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
ایک نظر تم میرا محبوب نظر تو دیکھو
اس حسین تذکرہ میں ایک اور شخصیت جس کی بڑی دلر با تصویر ابھرتی ہے وہ جماعت ِاسلامی جو کشمیر کے بانی مولاناسعد الدین صاحب کی ہے۔ ان کے فہم وفراست، ان کے علم و تقویٰ ، ان کے حسن اخلاق اور طریق تربیت ، اور ان کے تحریکی شعور اور سیاسی امور میں صاحب ادراک ہونے کا جو نقش “ولر کنارے” کے مطالعہ سے دل پر مرتسم ہوتا ہے وہ زبان پر بے ساختہ کچھ اس طرح ادا ہو جاتا ہے۔
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی !
’’ولر کنارے“ کا ایک اور بڑا روشن پہلو یہ ہے کہ دعوتی اور تحریکی زندگی اور اس کے تقاضوں کا یہ بڑا حسین مرقع ہے۔ جماعت اسلامی کے پیغام کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرنے اور جماعت کے نظم سے رشتہ استوار کرنے کے بعد انسان میں کیا تبدیلی آنی چاہیے اور اسے کس طرح زندگی کے پورے طول و عرض میں جاری وساری ہونا چاہیے خواہ وہ ایک کارکن کی ذمہ داری ادا کر رہا ہو یا قائد کی۔ اس کے چار پہلو گیلانی صاحب کی زندگی اور جدوجہد میں نمایاں ہیں، یعنی (i) حصول علم کی نہ ختم ہونے والی جد و جہد جسے Self-Development بھی کہا جاسکتا ہے۔ (ii) ابلاغ اور دعوت کا اہتمام، خواہ کہیں بھی ہوں اور موقع اور محل کی مناسبت سے اپنے پیغام کو حکمت اور جرأت کے ساتھ بیان کرنا اور اس کا موقع نکالنا، (iii) حصولِ علم اور ابلاغ کے ساتھ خوش اخلاقی، انسانی خدمت، دوسروں کے دکھ درد میں شرکت اور ان کو مادی اور اخلاقی ہر دو اعتبار سے اوپر اٹھانے کی جدوجہد کی فکر اوراس میں انہماک اور (iv) نو جوانوں پر خصوصی توجہ کہ مستقبل کی طاقت کا وہی ذریعہ ہیں۔ یہ چار عناصر انسان کو داعی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ گیلانی صاحب نے کشمیر کے مقدمے کو کتاب میں بڑے سلیقے اور محکم دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کا سیاسی اور دینی پہلوان کے یہاں ایک ہی سکّے کے دورخ ہیں جن کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ شیخ عبداللہ کے خیالات اور سیاسی کردار پر احتساب کے باب میں ان کا نقطۂ نظر بہت واضح اور محکم ہے جس کا کتاب میں بار بار اور بڑے سیلقے سے اظہار ہوتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس مقدمے کا بہترین Presentation اُس خط میں ہے جو انھوں نے بھارت کے ایک وزیر اعظم و شیوا ناتھ پرتاب سنگھ کو ۳۱ دسمبر ۱۹۸۹ء کو لکھا تھا۔ یہ خط سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہے۔ اس خط میں یہ پہلو بھی بڑا متاثر کن ہے کہ کشمیر کے مقدمہ سے پہلے انہوں نے خود اسلام کی دعوت اور پیغام کو اختصار لیکن پوری دیانت اور حکمت سے بیان کیا ہے اور بالکل وہی طریقہ اختیار کیا ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل میں خواب کی تعبیر بیان کرنے کے موقع پر تعبیر خواب سے پہلے رب کی عظمت اور بندگی کی دعوت دی تھی۔ اسی طرح کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے مسلم متحدہ محاذ کے نمایندے کے طور پر اپنے رفقا کے ساتھ جو استعفیٰ انھوں نے ۳۰ اگست ۱۹۸۹ء کو دیا تھا وہ بھی ان کے موقف کی ترجمانی کا شاہکار ہے۔ سیاسی میدان میں گیلانی صاحب نے جس حکمت اور فراست سے نازک ترین معاملات کو Handle کیا ہے۔ اس کے لیے دل سے بہترین دعائیں نکلتی ہیں۔ مقصد کی لگن اور ترجیحات کا صحیح ادراک کامیاب سیاست کے لیے ضروری ہے۔ مخالفین سے معاملہ کرنے سے بھی زیادہ مشکل کام ان لوگوں کے ساتھ چلنا اور ان کو اپنے ساتھ چلانا ہے جو جزوی اتفاق کے ساتھ بڑے بڑے معاملات پر بھی اختلافی رائے رکھتے ہیں۔ اس میں گیلانی صاحب ہراچھے سیاست دان کی طرح کبھی کامیاب ہوئے اور کبھی نا کام لیکن جس طرح انھوں نے مشترکات کی خاطر دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے وہ ایک اچھی اور روشن مثال ہے۔ ایک بڑا نازک مسئلہ جمہوری عمل کو ناکام بنا دینے کے بعد تحریکاتِ آزادی کا تحریکِ مزاحمت میں تبدیل ہونا اور بند دروازوں کو توڑنے کے لیے قوت کے ناقابل تصور عدم تعاون کے باوجود کسی نہ کسی درجہ میں متوازی قوت کے استعمال کا ہے۔ بلاشبہ اس سلسلے میں کم از کم دوسو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغربی سامراج کے مقابلے میں ایک خاص مرحلے پر معروف جمہوری قوتوں اور تحریکات نے بھی مجبور ہو کر جمہوری طریقوں سے ہٹ کر ایک صحیح کاز کے لیے اقدام کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں خود برصغیر میں بھگت سنگھ اور سبھاس چندر بوس کی مثالیں آج بھی کانگریس کی تحریکِ آزادی کی جدو جہد کا قابل ِفخر حصہ قرار دی جاتی ہیں۔ لیکن حالیہ دور میں اور خصوصیت سے نائن الیون کے بعد اس سلسلے میں جنگِ آزادی اور دہشت گردی کے درمیان جو فرق ہمیشہ تسلیم کیا جاتا تھا، اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گیلانی صاحب نے کشمیر کی جدو جہد کے پس منظر میں اس نازک مسئلے پر بڑے اعتدال اور دانش مندی سے کلام کیا ہے۔ دونوں کے جو ہری فرق کو دلیل کے ساتھ واضح کیا ہے، جائز اور ناجائز کی حدود کی وضاحت کی ہے، ان اسباب کی نشان دہی کی ہے جن کی وجہ سے آزادی کے متوالے دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور پھر ان حدود کو بھی نمایاں کیا ہے جن کا احترام اس پْر خار راستے کو اختیار کرنے کے باوجود از بس ضروری ہے۔ اور یہ سب اسلام کے تصوِر جہاد اور آدابِ جہاد کے فریم ورک میں ہے جس کا ادراک ان کو نو جوانی ہی سے ہو گیا تھا جس کا اظہار طالب علمی کے دور میں ہی گاندھی جی کے عدم تشدد کے موضوع پر سری نگر میں منعقد ہونے والے ایک مباحثہ میں انھوں نے کیا تھا۔ بلاشبہ زیادہ یقین و اعتماد کے ساتھ اس کا اظہار کشمیر میں انھوں نے ۱۹۸۵ء کے بعد کے حالات میں کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
محترم گیلانی صاحب کو اپنی طویل تحریکی اور سیاسی جدو جہد میں مخالفت و مخاصمت ، قید و بند، تشدداور تعذیب کے جن مراحل سے گزرنا پڑا اور ان سب آزمائشوں میں اللہ کے فضل و کرم سے وہ جس صبر وثبات سے اپنے موقف پر قائم رہے اور حد درجہ ناسازگار حالات میں بھی دعوت کے لیے راستے تلاش کرتے رہے، وہ سیاست اور دعوت کے تمام طالب علموں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ان کے خلاف جسمانی تشدد سے لے کر نفسیاتی دہشت گردی تک کے تمام ہی حربے اربابِ وقت اور سیاسی مخالفین نے استعمال کر لیے۔ جب ظلم کے ہتھیار کارگر نہ ہوئے تو ترغیب کے حربے استعمال کیے گئے اور وزارت اور ایک موقع پر وزارت عظمیٰ تک کا لالچ دیا گیا مگر احمدللہ!
دیر و حرم بھی منزلِ جاناں میں آئے تھے
صد شکر ہے کہ بڑھ گئے دامن بچا کے ہم
گیلانی صاحب نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل ہیں اور’’ ولر کنارے ‘‘اس ماڈل سے استفادے کے لیے ایک مفید مینول (Manual) کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کا علمی اور ادبی مقام اپنی جگہ، لیکن تحریکِ اسلامی کی نئی نسل کو تحریکِ اسلامی کے مقاصد ، مشن اور اس کے لائحہ عمل اور مزاج سے روشناس کرانے کے لیے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔ کوئی انسان خطا سے پاک نہیں اور ہمارے لیے اصل نمونہ صرف رسول پاکؐ مہینے کی ذات مبارک اور آپ صلى الله عليه وسلم کا اسوہ مطہرہ ہے لیکن یہ بھی اسی اسوہ کا کمال ہے کہ جس دور میں بھی جس نے اس کا دامن پکڑ لیا وہ خود بھی ایک روشن چراغ بن جاتا ہے۔ تحریک اور اجتماعی زندگی میں کبھی کبھی بڑے نازک مقامات بھی آتے ہیں ان میں کوئی بھی انسان سہو و خطا سے پاک نہیں ہو سکتا لیکن بحیثیت مجموعی گیلانی صاحب کی زندگی میں پوری یکسوئی اور تسلسل کے ساتھ مقصد سے لگن اور وفاداری کے ساتھ اگر کہیں کوئی بھول چوک ہوئی ہے تو وہ انسان کے انسان ہونے کا ثبوت اور اجتماعی زندگی کے گرداب میں زندگی کی کشتی کو ساحل کی طرف لے جانے والے مراحل کا حصہ ہے اور ایسے حالات میں ہرمتلاشی حق کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ
برنگ بحر ساحل آشنا ره
کف ِساحل سے دامن کھینچتا جا
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ گیلانی صاحب کی اس کاوش کو شرف ِقبول سے نوازے، اس کی روشنی ہر سو پھیلے اور اس سلسلے کی تیسری جلد بھی وہ جلد لا سکیں تا کہ داستان کا یہ آخری مرحلہ بھی ضو فشاں ہو سکے۔ وما توفیقی الا بالله
اسلام آباد ، پاکستان
پروفیسر خورشید احمد
رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ/ ۲۶ جولائی ۲۰۱۲ء



