کشمیر، ایک لمحہ فکریہ

پرانے یہودیوں (اسرائیل) کے حصے میں تاریخ کی لعنت و ملامت آئی، اور دوسری طرف نئے یہودیوں (انڈیا) کے لیے تاریخ کا تازیانہ تیار ہے۔ آج ظالموں کے خلاف فلسطینی عوام کی فدا کاریوں کے تذکرے عام ہیں آسمانوں میں، تو دوسرے ظالموں کے خلاف ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری مظلوموں کا خون عالمی ضمیر کی عدالت میں سراپا سوال ہے۔ تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کا یہ باب ۷ ۱۹۴ ء سے آج ۲۰۲۵ء تک حل طلب ہے۔
• خود مختار کشمیر کا سراب: اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ دو آپشن سے ہٹ کر تیرے راستے خود مختار کشمیر کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ خود مختار کشمیر کے تصور سے وابستہ بے خبر نو جوانوں اور زندگی کے گرم و سرد سے آشنا افراد کے لیے در ددل سے دعوت ہے کہ وہ یہاں سے ڈیڑھ ہزار کلو میٹر دور بنگلہ دیش کی تاریخ اور منظر کو ضرور دیکھ لیں، جہاں قیام پاکستان کے چند ہی ماہ بعد جھوٹ اور بیچ کی آمیزش سے ایسی فضا پیدا کی جانے لگی کہ پاکستان کے تصور سے الگ ہو کر خود مختاری چاہیے، (ایسی خود مختاری، جس کا سر پرست اور مددگار انڈیا ہو )۔ ۲۳ برس کے دوران مبالغے کی ماہر قیادت نے واقعی پاکستان سے علیحدگی اختیار کر کے ایک ایسی نخود مختاری حاصل کر لی، جس میں اُن کا جھنڈا بھی تھا، ترانہ بھی اور ایک نقشہ بھی۔ لیکن ۵۳ برس گزرنے کے بعد اسی بنگلہ دیش کی تیسری نسل نے ، انڈین غلامی کی آکاس بیل میں لپٹی نام نہاد آزادی پر چار حرف بھیج کر، ۵ اگست ۲۰۲۴ ء کی دو پہر ایک عوامی انقلاب برپا کر دیا۔ اس لہر میں قوم کا بچہ بچہ اور پیر و جوان کو انڈین غلامی کی زنجیروں میں اپنا دم گھٹتا دکھائی دیا۔
سقوط مشرقی پاکستان (۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ ء) سے پہلے بھی وہاں نو جوانوں کو ہم سمجھاتے رہے، جھنجھوڑتے اور پکارتے رہے کہ ہمدردی کے زہر میں لپٹی دشمن کی یہ سر پرستی در حقیقت غلامی کا شکنجہ ہے۔ یہاں گھر میں اپنے بھائیوں سے لڑ جھگڑ کر حقوق لیے جا سکتے ہیں، لیکن دشمن کی نام نہاد ہمدردی کے نام پر حاصل کردہ غلامی سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہو گا۔ اور آج صورت حال یہ ہے کہ نفرت کا الاؤ بھڑ کانے والے نام نہاد آزادی کے علم بردار مجیب اور ان کی بیٹی حسینہ واجد کے ہاتھوں، اسی سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش کا بال بال غلامی کی زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے ۔ حکومت تو تبدیل کر لی گئی ہے، لیکن معاشی، تہذیبی، سیاسی، جغرافیائی اور دفاعی آزادی کے حصول کے لیے بنگلہ دیشی بھائیوں کو ابھی کئی دریا عبور کرنے ہوں گے ۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستانی فریم ورک میں حقوق کا حصول دو چار سال میں ممکن نظر آتا تھا، لیکن اب نصف صدی بھسم کرنے کے بعد بھی بے بسی کا نیا شکنجہ، وہاں کے قومی وجود کو گرفت میں لیے سب کے سامنے ہے۔
وہ نوجوان جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہیں، یا آزاد کشمیر اور بیرون پاک و ہند میں ہیں، انھیں خوب اچھی طرح یہ بات جان لینی چاہیے کہ خود مختار کشمیر انڈیا کی دوسری دفاعی لائن ہے، بنگلہ دیش سے بھی زیادہ بے بس سیاسی وجود ۔ انڈیا کے پالیسی سازوں کی یہ پوری کوشش رہی ہے کہ استصواب رائے (Plebiscite) نہ ہو، اور اگر بظاہر پیچھے ہٹنا پڑے تو ثالثی یا سودا بازی کر کے پورے کشمیر کو خود مختار کا درجہ دیتے ہوئے، اپنی ایک باج گذار گماشتہ ریاست بنالیا جائے، جیسے بھوٹان وغیرہ۔ اسی لیے بڑی تیزی سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام پر دن رات کام کیا جا رہا ہے، اور آبادی کا تناسب بڑی تیزی سے بگاڑا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں ہم دعوت دیتے ہیں کہ نئی نسل ہوش کا دامن تھام کر، دشمن سے ملنے والی چمک کو روشنی نہیں بلکہ ظلمت کی سیاہی سمجھ کر جان و مال اور صلاحیت لگائے۔ جو مسائل ہیں، انھیں پاکستانی فریم ورک میں حل کرنا آسان بھی ہوگا اور فطری و معقول بھی۔ کسی چیز میں کمی بیشی ممکن ہے، لیکن بہر حال پاکستان ہی نے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیا، جب کہ دشمن نے ۱۹۴۷ء سے پہلے اور ۱۹۴۷ء کے بعد بھی جان و مال کی قربانی کی ہے۔ اس لیے دور اندیشی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، بنگلہ دیش کے تجربے سے سبق سیکھیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کے طے شدہ فارمولے ہی پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔
• آزاد کشمیر حکومت کا بنیادی کردار: آزاد کشمیر حکومت کا بنیادی مقصد، استصواب رائے کے لیے عوامی رائے کو منظم اور تحریک آزادی کشمیر کی آبیاری کرنا تھا۔ مگر مظفر آباد حکومت کے کردار کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گفتی کی دو تین قابل قدر مثالوں کو چھوڑ کر عملاً حکومت آزادکشمیر، سیاست دانوں کی میوزیکل چیئز کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ چند لوگوں کا ایک گروہ ہے جو پارٹیاں بدل بدل کر حکومت کرتا ہے۔ یہ افسوس ناک صورتِ حال تبدیل ہونی چاہیے ۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آزاد کشمیر حکومت، محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں ہے، بلکہ پورے جموں و کشمیر کی آزاد حکومت ہے، بدقسمتی سے جو اپنا کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس کی منصبی ذمہ داریوں کا اور اک اور اس کے اصل کردار کا احیا وقت کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر میں خواندگی کی سطح، پاکستان کے کسی بھی صوبے سے بلند تر ہے ۔ مگر حکومت آزاد کشمیر کی بے سمتی کا یہ نتیجہ ہے کہ ان پڑھے لکھے لوگوں میں اپنے محکوم کشمیری بھائیوں کے لیے دکھ درد کے احساس کی وہ کسک ایک تحریک کی صورت میں دکھائی نہیں دیتی ، کہ جو یہاں پیدا ہونی چاہیے تھی ، اور اسے مجبور بھائیوں کی آواز بن جانا چاہیے تھا۔
پھر آزاد کشمیر حکومت نے کم و بیش ایسا رویہ اختیار کیا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو پروان چڑھانے کے لیے شب و روز کوششیں کرنے کے بجائے ذاتی اور گروہی مفاد کو زندگی کی کامیابی سمجھ لیا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرنے کے لیے کشمیری اہل اقتدار کو اپنا طرز عمل بدلنا چاہیے اور یہ جو وقفے وقفے سے یہاں پر بظاہر چند مطالبات کے لیے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اس کی اصل بنیاد کو سمجھنا اور اس کے حل کے لیے با معنی کوششیں کرنی چاہئیں۔ محض نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ ، حکومت آزاد کشمیر کی بے عملی کا جواب نہیں۔ ایسا مریضانہ رویہ دشمن کے مقاصد پورا کرنے کے لیے زرخیز زمین تیار کرتا ہے اور قومی مفاد کو بربادی کی تصویر بنانا ہے۔
• پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا مسئله: پاکستانی پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی، ہمیشہ سے ایک معمار ہی ہے سمجھنے اور سمجھانے کا ۔ ایک طویل مدت سے اس کے سر براہ منتخب نمائندے ہی چلے آ رہے ہیں۔ لیکن بڑے دکھ کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نواب زادہ نصر اللہ خاں صاحب کی مثال کو چھوڑ کر کبھی یہ کمیٹی متحرک اور منصبی ذمہ داریاں ادا کرتی دکھائی نہیں دی۔ بلاشبہ کمیٹی کے سربراہ کو مراعات اور پروٹوکول کی تمام بیساکھیاں تو میسر ہوتی آئی ہیں لیکن ۱۹ اکھ مسلح فوجیوں کے زیر تسلط دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تڑپتے ، سکتے اور خوف و درندگی میں محکومانہ زندگی گزارتے مظلوموں کے جسم کو ڈھنے والے سانپ کے زہر کا تریاق نظر نہیں آیا۔ مایوسی کے اندھیروں میں اُمیدوں کے ٹمٹماتے چراغوں کو روشن کرنے والے کشمیری بھائیوں کی ابلاغی اور سفارتی دست گیری کرنے میں، اگر کشمیر کمیٹی نے کچھ کام کیا ہے تو اسے ضرور سامنے آنا چاہیے اور جنھوں نے وقت اور وسائل ضائع کر کے بے نواؤں کی امیدوں کے چراغ گل کیے ہیں، ان کا سخت احتساب ہونا چاہیے۔ چند ملکوں کا سیاحتی دورہ اور خانہ پری کے لیے چند نام نہاد سیمینار منعقد کرنا، کشمیر کمیٹی کے دائرہ کا ر اور چارٹر سے کوئی نسبت نہیں رکھتے ۔
•مقتدر حلقوں کی فہم سے بالاتر پالیسی: پاکستان کی مسلح افواج کی تشکیل قوم کے آئینی فیصلے کے نتیجے میں ہوئی ہے اور وہ آئین ہی کے تابع رہ کر اپنے فرض منصبی کو انجام دینے کی پابند ہیں۔ بلاشبہ دفاع پاکستان میں مسلح افواج کے غازیوں اور شہیدوں کی لازوال قربانیاں قدم قدم پر عظمت کے نشان بلند کیسے ہوئے ہیں۔
تاریخ میں بہت زیادہ دور جانے کے بجائے ہم اس ایسے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں ، جس نے بعض اوقات کھلنڈرے پن سے مسئلہ کشمیر اور جدوجہد آزادی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جس طرح کہ مطلق العنان حاکم جنرل پرویز مشرف نے کشمیر میں ۷۶۷ کلومیٹر طویل کنٹرول لائن پر باڑ لگانے کے لیے انڈیا کو یک طرفہ سہولت دی۔ انڈیا نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان بجلی سے لیس خاردار تاروں کی باڑ نصب کر کے اس میں بجلی کی ہائی ووشیج رو دوڑائی ہے، ساتھ ساتھ بار دوی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، اور جس جگہ باڑ نہیں لگ سکتی، وہاں پر لیزر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس باڑ کو لگانے کی اجازت دینے کا کوئی جواز نہیں تھا کہ بطور سرحد اسے دونوں ملک تسلیم نہیں کرتے ،مگر یک طرفہ انڈیا کو سہولت دینا کسی بھی اصول اور قاعدے کے مطابق معقول حرکت نہیں تھی۔ پھر انھوں نے آؤٹ آف باکس مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ حالانکہ پاکستان کے کسی بھی حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کشمیر کے عوام کو نظر انداز کر کے کوئی ایسا قدم اُٹھائے، جو ہمارے اصولی اور بین الاقوامی طے شدہ موقف سے ٹکراتا ہو۔
اسی طرح فروری ۲۰۲۱ء میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اچانک فوجی کمانڈروں کی سطح پر مذاکرات کیے۔ پھر دو ماہ بعد چند صحافیوں کو کھانے پر بلا کر یہ کہا:”ہم بیک ڈور مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہمیں ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے“ ۔ ان چیزوں کو’باجوہ ڈاکٹرائن‘، بھی کہنا شروع کیا۔ یہ سب وہ چیزیں تھیں جن سے حکومت اور قوم دونوں بے خبر تھے۔ ان اقدامات نے پاکستان کے دفاعی دید ہے (deterrence) کو سخت نقصان پہنچایا اور دشمن کے حوصلے بلند کیے اور اپنے حق خود ارادیت کے لیے کوشاں تمام متعلقہ حلقوں کو مایوس کیا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی سوچ کی بر ملا اور واضح الفاظ میں نفی کی جانی چاہیے، تاریخ اور قوم کے موقف کو روندنے کے ہر عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ . ح
•حکومت پاکستان سے گزارشات : آج مقبوضہ کشمیر پر خوف کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس قبرستان کی سی خاموشی کا ایک سبب پاکستان کی مختلف حکومتوں ، وزارتوں، ترجمانوں اور ذمہ دار افراد کے عاجلانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات ہیں ۔
۵ /اگست ۲۰۱۹ء کو انڈیا کی جانب سے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی یک طرفہ منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات نے تیزی سے پلٹا کھایا۔ نسل پرست ہندوتوا نے اپنی سر پرست آرایس ایس کی نگرانی میں یہ قدم کسی الگ تھلگ عمل کے لیے نہیں اٹھا یا تھا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ سلسلہ وار اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ جن کے مطابق:
• مسلمانوں کو’ گھر واپسی‘کے نام پر مرتد کرنا یا پھر اس قدر دبا دینا کہ وہ علامتی مسلمان رہیں، اور پھر ایک دو نسل بعد عملاً اسلام سے لاتعلق ہو جائیں ۔
• خطے میں مسلم آبادی، اسلامی ثقافت اور اسلامی پہچان سے دست بردار ہو جائیں یا اس سمت دھکیلا جا سکے۔ اس طرح آبادی کو گھٹا کر ہندو آبادی کو بڑھایا جائے۔
• تعلیمی سطح پر اردو کا گلا گھونٹ کر نبی نسل کو اسلام کے علمی و تہذیبی ورثے سے کاٹ دیا جائے۔
• میڈیا اور اخبارات پر ایسی پابندیاں عائد کی جائیں کہ آزادی کی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے اور دہلی حکومت کے اشارے پر کام کرنے والے میڈ یا مراکز کو کشمیر کی فضاؤں پہ مکمل طور پر حاوی کر دیا جائے ۔
• یہاں سے مظلومیت کی آہوں کو باہر آزاد دُنیا میں جانے سے روک دیا جائے ۔
• مسجدوں، مزاروں اور قبرستانوں پر کنٹرول بڑھا کر عوام کو مجتمع ہونے سے روکا جائے ۔
• ہر مزاحمتی آواز کو کچل دیا جائے، یا پھر حد درجہ مخوف زدہ کر دیا جائے۔ خاص طور پر دینی تنظیموں کو پابندیوں سے بے بس کر دیا جائے۔
• اسکولوں، کالجوں، یونی ورسٹیوں میں آزادی پسند اساتذہ پر کڑی نظر رکھتے ہوئے انھیں بر طرف کر دیا جائے یا پھر زبان بندی پہ مجبور کیا جائے۔
• بیرون ممالک زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے اہل خانہ کو خوف زدہ کر کے ان کی جائیدادوں کو ہتھیا یا جائے۔
• با صلاحیت نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پکڑ کر دُور دراز جیلوں میں پھینک دیا جائے یا غائب کر دیا جائے، یا پھر شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر ہمیشہ کے لیے زبان بندی کر دی جائے۔
• پاکستان کو سفارتی دباؤ میں لایا جائے، اور آزاد کشمیر میں بدامنی کے کسی بھی چھوٹے سے واقعے سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا جائے۔
اس صورت حال میں حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام پر لازم ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے مظلوم بھائیوں کو یا در کھتے ہوئے:
• سفارتی کوششیں با معنی بنا ئیں اور انھیں سوچ سمجھ کر تیز کریں۔
• میڈیا اور سوشل میڈیا پر فعال حکمت عملی کے تحت پیش رفت کریں۔
• سیاسی، دینی، سماجی، رفاعی اور ابلاغی تنظیمیں مظلوم کشمیری بھائیوں کی حمایت میں فعال کردار ادا کریں۔
• قانون اور تحقیق کے میدان میں مربوط اقدامات کریں۔
• اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ جد و جہد کرنے والوں کی اخلاقی تائید وحمایت کریں۔
• پاکستان میں امن وامان برقرار رکھنے اور ایک دوسرے سے باہم دست وگریباں ہونے سے اجتناب کریں۔
• حکومت اپنی سطح پر حزب اختلاف سے مکالمے کو آگے بڑھائے۔
• مسلح افواج کی تمام کوششوں کا مرکز صرف اور صرف دفاع پاکستان ہو۔
• اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے علاوہ سامنے آنے والی کسی تجویز کے پھندے سے اپنے آپ کو بچائیں اور اس واحد تسلیم شدہ حل کے لیے پوری قوت جھونک دیں۔ سمجھ لینا چاہیے کہ نام نہاد ثالثی قسم کی تجویزیں اور ڈرائنگ روموں میں وضع کردہ فارمولے قومی خودکشی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو وقت تیزی سے گزرتا جائے گا اور کشمیر دوسرا اسپین بن کر رہ جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پاکستان، یہاں کے اہل حل و عقد اور خردمند اس المیے کا کردار بنا چاہتے ہیں؟



