بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات

یہ بات مسلم ہے کہ سر براہی اجلاس اور ملکوں کے مابین مذاکرات بین الاقوامی سیاست میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، جو قوموں کی زندگی میں بڑے اہم مواقع پر کیے جاتے ہیں۔ بھارت، پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم سر براہی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب ۱۹۵۰ء میں بھارت نے اپنی فوجیں پاکستان کے بارڈر پر لگا دی تھیں۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم لیاقت علی خان دہلی تشریف لے گئے۔ انہوں نے وہاں بھارت کے پہلے منتخب وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے ملاقات کی۔ اور یوں وہ نازک لمحہ ٹل گیا۔ اس کے بعد چین کے بھارت پر حملے کے تناظر میں بھارت کے وزیر اعظم یہاں آئے۔
اہم بین الاقوامی مذاکرات کے موقع پر خواہ مسئلہ سیاسی اور معاشی ہو یا عوامی اور فوجی، جمہوری ممالک کی روایات یہ ہیں کہ ایسی ملاقاتوں سے پہلے پارلیمنٹ سے مشورہ کیا جاتا ہے اور بعد میں بھی اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ یہاں موجودہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا سیاچن کے مسئلے پر جولائی ۱۹۸۹ء کا ایک بیان پیش نظر رکھنا مفید ہوگا، وہ اپنے مجموعہ مضامین “The Way Out” کے ص ۲۱۱ اور ۲۱۲ پر لکھتی ہیں :
“سب سے پہلے تو میں نام نہاد منتخب اراکین کی سرد مہری کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتی ہوں جو انہوں نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے مسئلے پر دکھائی ہے۔ یہ ایک معمول کی بات ہے کہ جب کبھی سرحدوں پر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو پارلیمینٹ کے ایوان اپنی آنکھیں اور کان بند نہیں کر لیتے بلکہ ان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے۔”
سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کی سینیٹ میں کی گئی تقریر (۲۰ جولائی ۱۹۸۹ء) اس کتاب میں بطور مقدمہ پیش کی جارہی ہے۔
پاک بھارت مذاکرات
صبح و شام جمہوریت کا نام الاپنے والے بھول گئے کہ جن امور کے سلسلہ میں وہ پہلے مطالبہ کرتے رہے ہیں اس کا تقاضا تھا کہ اس موقع پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ در حقیقت قومی اسمبلی اور سینیٹ ہی وہ فورم ہیں جنہیں تمام معاملات اور خصوصیت سے اہم بین الاقوامی مسائل پر بروقت اعتماد میں لینا، اور ان سے مشورہ کرنا چاہیے۔ بلکہ زیادہ صحیح تو یہ ہے کہ کم از کم خارجہ پالیسی کے میدان میں ہم ملک میں جماعتی سیاست سے بالاتر قومی پالیسی وضع کرنے کی کوشش کریں اور محض پارٹی کی بنیاد پر کام کرنے کی بجائے پوری قوم، ایوان اور تمام پارٹیوں کو اعتمادمیں لیں۔ شاید پاکستان کی تاریخ میں برسر اقتدار حکومت کی پوزیشن اتنی نازک اور اتنی کمزور کبھی نہیں تھی جتنی آج اس وقت ہے، اس لیے کہ جس پارٹی کو اقتدارملا ہے اور جو حکومت کی پالیسی بنانے اور چلانے کی کوشش کر رہی ہے، اسے عوام کی اکثریت نے اپنا اعتماد نہیں دیا۔ اس کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کا سہارا لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں اس بات کی از بس ضرورت ہے کہ اصولی، اور نظریاتی نہیں بلکہ عملی سیاست کی بنیاد پر حکومت ، جماعتی وابستگی سے بالاتر اندرونی اختلافات سے قطع نظر کم از کم متفقہ خارجہ پالیسی اختیار کرے۔
ایک وقت تھا جب مرحوم ذو الفقار علی بھٹو صاحب بھارت سے ایک ہزار سال لڑنے کا عزم ظاہر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے ہی اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں (جولائی ۱۹۷۳ء) میں شملہ معاہدہ کیا اور پانچ سال پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ (شملہ معاہدہ کے تین سال بعد بھارت سے سفارتی تعلقات بحال ہوئے) لیکن ان کے اپنے بقیہ پانچسالہ دور میں اصل مسئلہ یعنی مسئلہ کشمیر جس کے بارے میں پاکستانی قوم ایک لمحے کے لیے بھی سمجھوتہ کرنے کا تصور نہیں کر سکتی، خواہ اس کے لیے اسے ہزاروں سال لڑائی لڑنی پڑے، تقریباً بھلا دیا گیا۔
شملہ معاہدہ اور کشمیر
شملہ معاہدے کی منظوری کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم کی تقریر کے چند نکات ہمارے پیش نظر رہنا چاہیں ،جس سے ہمارے ذہن میں وہ سوالات پیدا ہوتے ہیں،جن کے جواب ہم ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔ اندرا گاندھی ۱۳اگست ۱۹۷۳ء کو لوک سبھا میں اپنی تقریر میں فرماتی ہیں:
” شملہ معاہدہ کی رو سے بھارت نئے اٹھنے والے مسائل کا سامنا کرنے کی زیادہ بہترپوزیشن میں ہے۔ اس معاہدے سے بھارت مستقبل کا سامنا زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے گا۔ حقیقت میں میں یہ کہوں گی کہ معاہدہ شملہ ان داخلی اور بین الاقوامی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہے جن پر بھارت تمام سالوں میں عمل پیرا رہاہے۔”
یہ بیان بڑا قابل غور ہے۔ ۱۹۷۰ء میں بھارت نے مشرقی پاکستان کو کاٹنے کے لیے اپنی خصوصی جارحانہ سفارتی پالیسی کا آغاز کیا، اور فوجی مداخلت کے ذریعے سے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر دیا۔ یہ چیز ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھارت کی حکومت نے پاکستان اور عالمی طاقتوں کو تحریری طور پر یقین دھانی کرائی تھی کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا، لیکن اپنی اس یقین دھانی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے مداخلت کا ارتکاب کیا۔ یہ وہ پس منظر تھا جس کےبارے میں انہوں نے کہا:
“حقیقت میں میں یہ کہوں گی کہ شملہ معاہدہ ان داخلی اور بین الاقوامی پالیسیوں کوآگے بڑھانے کے لیے ہے جن پر بھارت تمام سالوں میں عمل پیرا رہا ہے۔ ” میں نہیں جانتی کہ ہم دوسرے مرحلے میں مزید آگے جا سکیں گے لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں سے واپسی مشکل ہے۔ اگر کوئی تکلیف دہ واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے جیسے کہ میں نے دوسرے ایوان، لوک سبھا اور دیگر جگہوں پر کہا ہے کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ تب ہم یہ نہیں کہہ سکتے ” نہیں ” ہم نے امن کو قبول کیا ہے اس لیے ہم حملے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ “
اس کے بعد وہ فرماتی ہیں:
” پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اس کا خواہشمند نہ ہو لیکن اس نے اس کا فیصلہ کیا ہو یا نہ کیا ہو، تبدیلی آچکی ہے۔ وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ یہ تبدیلی جنم لے چکی ہے۔ صدر بھٹو نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی کے خالق تھے، اور اب خود اعتراف کرتے ہیں کہ صورت حال آج تبدیل ہو چکی ہے اور وقت کی ضرورت امن ہے۔ یوں حالات تبدیل ہو چکے ہیں، حزب اختلاف کے کچھ ارکان نے میری اور سردار سورن سنگھ کی اس وجہ سے خبر لی کہ ہم قطعی وثوق سے یہ نہیں کہ سکے ہیں کہ جنگ نہیں ہو گی، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ صدر بھٹو ایک مختلف قسم کے آدمی ہیں۔ میں دہراتی ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ صدر بھٹو ایک مختلف قسم کے آدمی ہیں۔”
اندرا گاندھی کی اس تقریر سے شملہ معاہدے کا حقیقی متن ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ بھارت کا ایک معروف صحافی کلدیپ نیر، جس کے بھارتی اداروں سے بڑے قریبی تعلقات ہیں، لکھتا ہے کہ شملہ معاہدے کا ایک غیر تحریری حصہ بھی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں کنٹرول لائن کو بتدریج بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے گا، معروف پاکستانی صحافی اور کالم نگار عبد القادر حسن نے اسی زمانے میں معاہدے کے غیر تحریری حصہ کا حوالہ دیا جس کے مطابق کشمیر کی کنٹرول لائن کو ہی بطور بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے گا۔ اگرچہ ان خبروں کی تصدیق کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے تاہم بھارتی اور پاکستانی صحافیوں کے یہ دونوں بیانات بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں سامنے آئے تھے۔ شملہ معاہدے کے بعد سے ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کو اس زمانے کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھانے سے احتراز کیا۔ حالانکہ معاہدہ شملہ بین الاقوامی سٹیج پر کشمیر کے مسئلے کو اٹھانے کی راہ میں مائع نہیں ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خوداندرا گاندھی اس بات کا اپنی راجیہ سبھا کی ایک تقریر میں اعتراف کرتی ہیں:
“میں اب اقوام متحدہ کے دھندے میں نہیں پڑنا چاہتی۔ اور مجھے اس کی پروا نہیں ہے کہ وہ (پاکستان) اقوام متحدہ میں جاتے ہیں یا نہیں جاتے، مجھے اپنے بارے میں اعتماد ہے اور ہم جو بھی وفد وہاں بھیجیں، اس کے بارے میں اعتماد ہے۔ اگر پاکستان اقوام متحدہ میں جاتا ہے تو ہم ان سے وہاں نبٹ لیں گے، ہم ان کے بارے میں وہاں کسی مسئلہ پر بچ نکلنے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہ اگر جنگ کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے ہم جنگ کرنا نہیں چاہتے۔ میں کہتی ہوں ہمیں ہر طریقے سے کوشش کرنی چاہیے کہ جنگ نہ ہو۔ لیکن اگر وہ حملہ کریں تو ہم بھی اس کے لیے تیارہیں، میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں۔”
تو گویا اندرا گاندھی نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھی پاکستان جا سکتا ہے لیکن پاکستان (۱۹۷۷ء تک) نہیں گیا، اگر یہ بات صحیح نہیں ہے تو حقائق کو سامنے لایا جائے اور بتایا جائے کہ فلاں تاریخ اور فلاں پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیا ہے۔ البتہ اس کے بعد کے دور میں، جو بات موجودہ حکومت کے حلق میں ہڈی کی طرح اٹک گئی ہے ، کشمیر کے مسئلے کو ہربین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھایا گیا ہے، ان میں اقوام متحدہ، غیر جانب دار کانفرنس، غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کا نفرنس، آئی ایل او، جنیوا، پیرس، واشنگٹن حتٰی کہ ہرارے کے بین الاقوامی اجلاس میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا۔ کشمیر کا مسئلہ ہمارے لیے ایک بنیادی مسئلہ ہے، اور اگر بھارتی دورے اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے ہیں تو یہ قوم اسے کبھی قبول نہیں کر سکتی۔
شملہ معاہدہ کے بعد
ان تمام حالات کا بالترتیب مطالعہ کریں تو ۲۱ سالوں میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ بھارت شملہ معاہدے کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے ہر گز تیار نہیں، اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمہ جہتی کوششوں سے روک دے، ان میں بین الاقوامی سطح پر سرگرمیاں اور عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے اور اسے بھارت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کے اقدامات بھی شامل تھے۔ اور اس کے ساتھ وہ ہمیں اپنی قوت بڑھانے سے بھی روکنا چاہتا تھا، تاکہ ہم سفارتی طریقے سے جائز حق نہ ملنے کی صورت میں اسے اپنے زور بازو سے بھی حاصل نہ کر سکیں۔
جب کہ بھارت نے ہر ہر قدم پر معاہدہ شملہ کی خلاف ورزی کی، اس نے سرحدی کنٹرول لائن کو تسلیم کرنے کے بعد اسے چیلنج کیا ہے۔ سیاچن میں عملاً جارحیت کا مرتکب ہوا ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ شملہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، پاکستان کے دفاعی مفادات کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ پاکستانی قوم پیٹ پر پتھر تو باندھ لے گی لیکن اپنے مفادات پر کبھی کوئی سودا نہیں کرے گی۔ شملہ معاہدے کے بعد ایک اہم تبدیلی نے جنم لیا، ارباب اقتدار کی نگاہیں بدلنا شروع ہو گئیں، بھارت کے بارے میں زبان مختلف ہو گئی، پاکستان کے لیے دفاعی معاملات کو اٹھانا اور اس کے لیے بین الاقوامی اورملکی سطح پر کام کرنا مشکل ہو گیا، آزادکشمیر کو پاکستان میں ضم کرنے اور اس کے صدر کو گرفتار اور معطل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ کوشش کی گئی کہ کسی طرح ایک اٹل حقیقت کے طور پر صرف آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے اور مقبوضہ کشمیر کے معاملات کو بھول جایا جائے۔ اس کے بعد محبت کا ایک طوفان پھر سے ابھرا جب بھارت نے اس وقت بر سر اقتداربھٹو فیملی کی تعریف شروع کی، اس کا اندازہ انڈیا ٹوڈے میں محترمہ نصرت بھٹو کے پہلے انٹرویو سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے پاکستان سے رخصت ہونے کے بعد پیرس میں دیا۔
“Pakistan may break-up” (پاکستان ٹوٹ سکتا ہے۔) کے عنوان سے ۱۵ جنوری ۱۹۸۳ء کو شائع ہونے والے اس انٹرویو کے دو تین اقتباسات ملاحظہ ہوں:
“ملک کے اندر اور ملک سے باہر بہت سے ہمدرد اور خیر خواہ تھے اور ضیاء کے نام مسز گاندھی کا خط تھا۔ وہ واحد سر براہ مملکت تھیں جنہوں نے کھلے عام کہا کہ مجھے بہتر طبی سہولتوں کے حصول کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔”
اس کے بعد سوال کیا جاتا ہے
کیا بھٹو نا قابل اصلاح حد تک بھارت کا مخالف تھا اور وہ بھارتی عظمت سے نفرت کرتا تھا ؟
محترمہ نصرت بھٹو جواب دیتی ہیں کہ : اس کے برعکس وہ بھارت کے ساتھ پائیدار دوستی کے خواہشمند تھے، وہ چاہتے تھے کہ پاکستان اور بھارت امن پر یقین کرلیں، وگرنہ وہ شملہ نہ جاتے اور نہ ہی معاہدے کو ایک کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ، وہ بھارتیوں کے مداح تھے۔ “
اس کے بعد وہ سوال پوچھتے ہیں کہ : جب آپ نے سنا کہ مسز گاندھی نے جنرل ضیاء سے آپ کو بیرون ملک علاج کے لیے اجازت دینے کی درخواست کی ہے تو آپ کا رد عمل کیا تھا؟
جواب:
مجھے خوشی نہیں ہوئی، میں نے سوچا کہ بھارتی کتنے خوش قسمت ہیں، ان کے پاس نہ صرف ایک جمہوری ذہن رکھنے والا راہنما ہے بلکہ ایک نظام بھی۔ میں نے کراچی سے انہیں خط لکھا: آپ کا شکریہ۔
اس طرح دلوں کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ملکوں کی قسمتیں بھی بدلنے لگیں۔ ۱۹۸۴ء میں بھارت نے پاکستان میں فوجی بغاوت برپا کرانے کی کوشش کی، بھارت سے پیسہ آیا، پاکستانی فوجی اور سیاسی مہرے بھی استعمال ہوئے۔ مقدمہ چلا، لیکن اس کے بعد اس خاندان کے لوگ بھارت جا کر ان کے مہمان بنے، ان سے دوستیاں استوار کیں اور عہد و پیماں کئے، کہ الذو الفقار کے لوگوں کو، جنہوں نے جہاز اغواء کیا تھا، بھارت نے پناہ دی۔پاکستان کے احتجاج پر بھارت نے اس کی تردید کی، گو پاکستان نے بھارت کو ناقابل تردید ثبوت فراہم کیا۔ اس ضمن میں جنرل کے ایم عارف کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔
بھارت نے پی آئی اے کا جہاز اغواہ کرنے والوں سے اعلیٰ سطحی روابط رکھ کر انہیں اپنا مہمان بنا کر اور سفر کی سہولت دے کر اپنے بین الاقوامی وعدے کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی۔ جب پاکستان نے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے، تو بھارتی حکومت نے انہیں سفر کی سہولت فراہم کرنے کااعتراف کر لیا۔” دوسری جانب پاکستان میں انتخابات کے موقع پر بھارت کے اخبارات اور بھارت کے ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا جیسے یہ انتخابات پاکستان کی پارٹیوں کے درمیان نہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔ پھر پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو بھارت کے سرکارمی حلقوں میں جشن منایا گیا۔
اس پس منظر میں ہمیں یہ امید دلائی جاتی ہے کہ بھارت سیاچن کے مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ذرائع ابلاغ اور دانشوروں نے ایک مہم کے تحت کہاکہ بھارت کو بے نظیر حکومت کو تقویت مہیا کرنے کے لیے پاکستان کی امداد کرنا چاہیے۔ نہایت اہم مسائل سے صرف نظر کر کے چند ترجیحی مسائل، مثلا ًسیا چین ،پر گفتگو کرنی چاہیے سیا چین میں بھارت کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے، وہاں فوجی نقصانات کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ ان کے تقریباً ایک سو سے زائد تربیت یافتہ افراد ہر سال وہاں مر رہے ہیں۔ اس بنا پر ان کے خیال میں اگر وہ پاکستان کے ساتھ سیاچن پر کوئی معاہدہ کر لیں تو یہ ان کے لیے ایک اچھی ابتداء بن سکتی ہے۔ یہ “رعایات” کی اصطلاح ان کی ہے، جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ تمام علاقہ پاکستان کا ہے جس پر بھارت نے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قبضہ کر رکھا ہے۔
اس پس منظر میں 1979ء میں ہمارے وزیر دفاع سے میٹنگ کے بعد بھارتی سیکرٹری خارجہ کی موجودگی میں پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے اعلان کیا کہ بھارت اور پاکستان نے اتفاق کیا ہے کہ سیاچن کے علاقے میں دونوں اطراف کی افواج شملہ معاہدے سے پہلے کے مقامات پر واپس چلی جائیں گی۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے اس موقع پر تو اس کی تردید نہیں کی، لیکن دہلی پہنچ کر اس کی طرف سے تردیدی بیان آگیا۔ سندھو دیش کے قیام کے لیے بھارت نے کچھ عرصہ قبل ایمن آباد کے مقام پر کانفرنس کی ہے جس میں ایک سو افراد نے شرکت کی، اور سندھو دیش کے قیام کے لیے کام کرنے والے سندھی ہندوؤں کی تنظیم ورلڈ سندھ کانگریس کے وفد نے بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اس سے پہلےان کی کانفرنس کا افتتاح دہلی میں اندرا گاندھی کر چکی ہے۔ ان سارے حقائق سے صرف نظر کر کے بھارت اور پاکستان کے معاملات کا سامنا کرنا صحیح نہیں ہو گا۔
بھارتی عزائم
ہمیں تھوڑا وقت یہ متعین کرنے کے لیے صرف کرنا پڑے گا کہ پاکستان کے بارے میں بھارت کے پالیسی مقاصد کیا ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معروضی تجزیے کے ذریعے بھارت کے قول اور فعل میں تضاد کا جائزہ لے۔ جواہر لال نہرو نے پاکستان بننے کے بعد اپنے متعدد بیانات میں پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے کو احمقانہ قرار دیا، ان کے تمام پالیسی تجزیہ نگار بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ لکھتے ہیں کہ برطانوی اقتدار کی جانشین قوت صرف بھارت ہے،جبکہ پاکستان علیحدہ ہونے والی طاقت (Seconding Power) ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تین جون کے پلان کے تحت پاکستان اور بھارت دونوں جانشین قوتیں ہیں۔ ہم نے اُس اقتدار اعلی کو، جو ہم سے چھینا گیا تھا دوبارہ پایا ہے۔ لیکن بھارتی تجزیہ نگار، ماہرین قانون اور بین الاقوامی قوانین پر لکھنے والوں نے اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ اپنے ملک کے باہر، اقوام متحدہ تک میں متذکرہ دعوے کودہرایا ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے خارجہ پالیسی بیان کرتے ہوئے اپنی حکومت کا موقف واضح کیا کہ وہ عمومی طور پر کانگریس کا انداز نظر اپنائے گی، جس کا مطلب فرقہ وارانہ تعصب اور فرقہ واریت کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنا ہے، اس کا اشارہ واضح طور پر پاکستان کی جانب ہے۔ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے ۱۴ جون ۱۹۴۷ء کو خارجہ پالیسی کے سلسلے میں جو قرار داد پاس کی اس کے الفاظ کے مطابق:
“بھارت کے جغرافیہ، پہاڑ اور سمندر کی تشکیل اور صورت کو کوئی انسانی ارادہ تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کے آخری مقدر کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے، اقتصادی حالات اور بین الاقوامی معاملات کے تقاضے بھارت کے اتحاد کو اور ضروری کر دیتے ہیں۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سنجیدگی سے یہ یقین رکھتی ہے کہ جب موجودہ جذباتی ہیجان بیٹھ جائے گا تو بھارت کے مسائل صحیح تناظر میں دیکھے جائیں گے اور بھارت میں دو قوموں کا باطل نظریہ مسترد اور غیر معتبر قرار پائے گا۔”
یوں دو قومی نظریہ جس پر پاکستان مبنی ہے، ہمارے اور ان کے درمیان اصل وجہ نزاع ہے۔ اس وقت کے کانگریس کے صدر مسٹر اچاریہ نے کہا :
ہمیں اب اپنی تمام توانائیاں اپنی اس سرزمین کو متحد کرنے کے لیے وقف کردینی چاہیں۔ پٹیل نے یہ کیا کہ :
آج تقسیم ہند ایک طے شدہ حقیقت ہے تاہم یہ ایک غیر فطری حقیقت ہے، تقسیم سے بھارت کے جسد سیاست سے زہر نکل جائے گا، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ علیحدہ ہونے والے علاقوں میں باقی ماندہ بھارت سے پھر آملنے کی خواہش پیدا ہوگی، بھارت ایک ہے اور ناقابل تقسیم ہے۔ “
اسی طرح کے بیسیوں حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں۔
اسی بنیاد پر لندن اکانومسٹ نے ۷ امئی ۱۹۴۷ء کے اپنے اداریے میں یہ بات لکھی تھی کہ” کا نگریس موجودہ منصوبہ پر مبنی تقسیم ہند پر اس امید سے عمل کرے گی کہ بالآخر بھارت کا اتحاد دوبارہ عمل میں آجائے گا۔”
یوایس باجپائی کی مرتب کردہ اہم دستاویز “انڈیا سیکورٹی” پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جسے بین الاقوامی امور کے ماہرین، خارجہ پالیسی کے مشیروں اور سابق خارجہ سیکرٹریوں نے مل کر مرتب کیا۔ اس میں انہوں نے بھارت کے آئندہ بیس سالوں کے دوران پالیسی کا خاکہ مرتب کیا ہے۔ جسے ۱۹۸۳ء میں شائع کیا گیا۔ اگر ہم پچھلے چند سال کا جائزہ لیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ اس دستاویز میں تجویز کردہ باتوں پر عمل ہوا ہے۔ اس میں بھارت سے سیاسی اور عسکری قوت کو بڑھانے کو اولین اہمیت دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق اس قسم کی قوت کے ذریعے ہی بھارت ایک مؤثر سفارتی پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔ اس میں بھارت کے دفاع کے لیے بحریہ کو ترقی دینے کی ترجیح کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق” بھارت کے مد نظر صرف بحر ہند کا ہی دفاع نہیں ہے ،بلکہ اسے ماریشس سے لے کرفجی تک کے تمام علاقے کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے” ، دستاویز میں صاف الفاظ میں یہ لکھا ہے کہ “بھارت اور پاکستان کا اصل جھگڑا دو قومی نظریہ ہے ۔” ہمارے دفتر خارجہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھارت کی سیاسی قیادت کے اصل ذہن کو سمجھے۔
اگر ہمیں پاکستان کے ساتھ کوئی با معنی معاہدہ کرنا ہے تو ہمیں سب سے پہلے اس قسم کے معاہدے کی بنیادی شرائط کا تعین کرنا ہو گا۔ بھارت کے ساتھ معاملات کے ضمن میں پاکستان کی پالیسی کے دو اجزاء امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات اور دوقومی نظریہ ہے۔” اس رپورٹ میں کم از کم ایک درجن مقامات پر پاکستان کو بنیاد پرست کہا گیا ہے، پاکستان کا مسلمان ہونا، اس کا دو قومی نظریہ، کشمیر کو اس دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلم انڈیا کا حصہ نہ سمجھنا اور پاکستان کا اس کے اوپر استحقاق جتانا، بھارت اور پاکستان کے درمیان اصل وجہ نزاع ہیں۔ جس کی موجودگی میں پاکستان سے کوئی با مقصد معاہدہ اور دوستی نہیں ہو سکتی۔ دستاویز میں بار بار دوستی اور امن کی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ پاکستان کمزور ہو اور وہ اپنے آپ کو بھارت کے مساوی نہ سمجھے ، دو قومی نظریے کے بعد سے بھارت کا عمل اور رویہ یہ رہا ہے کہ پاکستان یا کوئی بھی ملک اس علاقے میں بھارت کی برابری کا رویہ اختیار نہ کرے۔
میں نے بھارت میں شائع ہونے والے مضامین اور خاص طور سے مشرقی پاکستان پر حملہ اور بنگلہ دیش بننے کے بعد سو ،سوا سو سے زیادہ جو کتابیں شائع ہوئی ہیں ان کے بارے میں تحقیق کی ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھارت کا شروع سے ہی مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو دو حصوں میں کاٹ دیا جائے۔ اس لیے کہ وہ پاکستان کے دو بازوؤں کو بھارت کے لیے خطرہ اور ان سے مقابلہ کرنا مشکل تصور کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھارت کی پاکستان میں علاقائی عصبیتوں کو ابھارنے اور اس کے اندرونی معاملات کے بارے میں اس کے رویے کو مد نظر رکھا جائے تو ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیش نظر دو قومی نظریے کا خاتمہ اور پاکستان میں لادین یا سوشلسٹ حکومت کا قیام ہے۔ اس کے نزدیک نظریاتی حدوں کے خاتمے سے ہی اس کے ساتھ دوستی قائم ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ وہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان معاشی، اخلاقی، سیاسی اور فوجی اعتبار سے اپنے دفاع کا اہل نہ ہو، وہ مالدیپ کی طرح اتنا کمزور ہو کہ بھارت سے فوجیں منگوائے۔ اسے پاکستان سے دراصل شکایت ہی یہ ہے کہ پاکستان نے اس سے مساوی ہو کر اور آزادی اور خود مختاری کو ایک حقیقت سمجھ کر بات کی ہے، جس سے اس کا علاقے میں سپر پاور بننے کا خواب چکنا چور ہو جاتا ہے۔ پنڈت نہرو نے اپنی کتاب Discovery of India میں، جو انہوں نے ۱۹۴۵ء میں جیل میں لکھی ، صاف کہا ہے کہ :
“بھارت کی حیثیت اور مقام ہی ایسا ہے کہ وہ دنیا میں دوسرے در جے کا کردار ادا نہیں کر سکتا، یا تو بہت اہم کردار یا کچھ بھی نہیں۔ درمیانی پوزیشن اس کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی، اور نہ ہی میرے خیال میں ایسی کوئی پوزیشن قابل عمل بھی ہے۔”
پہلی ایشیائی کانفرنس منعقدہ دہلی (۱۹۴۷ء) میں مجھے ایک طالب علم کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پنڈت نہرو نے وہاں یہ الفاظ استعمال کیےتھے:
“ایشیاء اور دنیا کے مستقبل میں ایک اہم کردار بھارت کے لیے مقدر ہے۔”
اس بناء پر بھارت نے کبھی بھی اپنے آپ کو محض اس علاقے کا ایک ملک نہیں سمجھا ۔اس نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا حریف گردانا۔ اس نے چین سمیت ہر اس ملک کو، جس سے اسے خدشہ تھا ،چیلنج کیا۔ چین کو جب اس نے ایک طاقت کی حیثیت سے ابھر تے دیکھا تو ا سے لڑائی میں الجھا دیا۔ میکس ویل کی کتاب India’s China War میں ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر یہ بات دکھلائی گئی ہے کہ اس جنگ کی منصوبہ بندی خود بھارت نے کی اور اسی نے اس کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد غیر جانبدار ممالک اور اس علاقے میں چین کی ابھرتی ہوئی حیثیت کو نا کام کرنا تھا۔ اس کے ساتھ وہ اس بہانے امریکہ سے دوستی کے دروازے کھولنا اور اس سے خاص قسم کا اسلحہ حاصل کرناچاہتا تھا۔
ڈاکٹر پانیکر ،انڈیا کی خارجہ پالیسی کا فلاسفر اور متعدد کتابوں کا مصنف ہے۔ اس کی کئی کتابوں مثلاً ,India and World Affairs اور India and the Indian Oceanمیں بالکل یہی بات لکھی گئی ہے کہ بھارت اس علاقے کی علاقائی طاقت ہے، اور جب تک علاقائی طاقت کی حیثیت سے وہ اپنا مقام حاصل نہیں کر لیتا یعنی تیسری بڑی عالمی طاقت نہیں بن جاتا، اس وقت تک اس کی خارجہ پالیسی کامیاب نہیں ہو گی۔ پانیکر کے الفاظ میں:
“جب تک سنگا پور، ماریشس، عدن، چکوترا جیسے دور دراز کے مقامات مضبوطی سے قابو نہیں کئے جاتے اور جب تک ان کی معقول حفاظت کے لیے بحریہ کو ترقی نہیں دی جاتی، بھارت کو سلامتی یا حفاظت میسر نہیں آئے گی۔”
گویا بھارت کی سلامتی کے لیے انہیں ساری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنا ضروری ہے۔ یوں جوسامراجی ذہن برطانیہ کا تھا، اسی سامراجی ذہن کا حامل بھارت ہے۔ خارجہ پالیسی کا ایک اور ماہر ڈاکٹر ایس آر پٹیل، جس کی شناخت ہی بھارت کی خارجہ پالیسی کا موضوع ہے، کہتا ہے:
” جغرافیہ ایک نہایت ہی اہم پہلو ہے، بھارت کا اپنے زمینی یا سمندری حدود سے قریبی علاقوں کے ساتھ خصوصی مفاد وابستہ ہے۔ اس وجہ سے بھارت کے لیے نیپال،پاکستان، افغانستان، چین، برما، ملائیشیا، انڈونیشیا اور سیلون بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے بھارت کو اپنے دروازوں یعنی سنگا پور اور سویز کو کنٹرول کرنا چا ہے۔ اس لیے بھارت کو اپنے دروازوں سنگا پور اور سویز کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ اگر ان کلیدی مقامات پر مخالف طاقتوں کا قبضہ رہے تو بھارت کا وجود اور آزادی خطرے میں رہیں گے۔ افغانستان ایک طویل عرصہ تک بھارت کا حصہ رہا ہے (یہاں لفظ افغانستان استعمال ہوا ہے لیکن افغانستان بھارت کا حصہ ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ پاکستان بھارت کا حصہ نہ ہو جائے) ۔ جدید دور میں تیل کی ضروریات کے پیش نظر ایران بھارت کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس علاقے میں بھارت تیل کی ضروریات اسے پھر سے عرب خطے سے وابستہ کرتی ہیں۔ موجودہ وقت میں عراق کا تیل بھارت کو عراق کے قریب لے آیا ہے۔”
اور یہ جملہ بہت اہم ہے: “برطانیہ کے جانے سے پیدا ہونے والے طاقت کے خلاء کو پر کرنے کی ضرورت ہے، بھارت کو چاہیے کہ وہ مستقبل کی ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے سنگا پور سے سویز تک بحر ہند کو اپنی جھیل بنا لے۔”
یہی وہ ذہن ہے جس کی نشاندہی ۱۹۸۳ء کی دستاویز سے ہو رہی ہے، یہی ذہن پنڈت نہرو کی اور اندرا گاندھی کی تقاریر میں جھلکتا ہے۔ مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد مسلمانوں سے ایک ہزار سال کا بدلہ لینے کی بات کہی گئی، اس کے الفاظ تھے۔
“آج ہم نے دو قومی نظریے کو دفن کر دیا ۔”
یہ وہ ذہن تھا، اور یہی وہ سوچ ہے جس کی روشنی میں آج بھی بھارتی قیادت اپنی پالیسی سازی کر رہی ہے۔ دفتر خارجہ حقائق سے منہ نہ موڑے، کچھ عرصہ قبل “ایک بڑی طاقت کا احیاء” کے عنوان سے ٹائمز میگزین میں چھپنے والے مضمون کے مندرجات پر غور کرے۔ اس مضمون میں دراصل امریکی، آسٹریلوی، بھارتی اور یورپی سوچ کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس میں ان سب کا مشترکہ نکتہ یہ ہے کہ بھارت کو اس علاقے کی سپر پاور تسلیم کیا جائے۔ وہ ایک سپر طاقت ہے اس کے پاس فوج، اسلحہ اور اقتصادی قوت ہے یوں وہ اس علاقے میں اگر پولیس مین کا کردار انجام دینا چاہے تو امریکہ کو، اپنے آپ کو اس سے ہم آہنگ کرنا چاہیے۔
یہی بات کچھ عرصہ قبل امریکہ کے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری برائے مملکت اور تین چار مزید پروفیسروں نے کہی ہے۔ سابق امریکی صدر ریگن کا وہ بیان بھی سامنے رہنا چاہیے جس میں اس نے بھارت کے سری لنکا میں اپنی فوجیں بھیجنے کے بارے میں کہا تھا کہ بھارت نے اس علاقے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مالدیپ میں جب بھارت نے فوجیں بھیجی ہیں تو بھی امریکہ نے اسے یہی اہمیت دی۔ یوں اس پورے علاقے میں بھارت کی بالادستی کو ثابت کروانے، منوانے اور مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھارت کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کرنے کی بات بھی کی جارہی ہے۔
بھارت کی فوجی تیاریاں
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں صرف تین ملک ہندوستان، اسرائیل اور روس ایسے ہیں جنہوں نے قوت اور فوج کا استعمال کر کے اپنی حدود کو وسیع کیا۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد جونا گڑھ، مناودار، حیدر آباد اور کشمیر پر فوج کشی کی گئی، بھوپال کا گلہ گھوٹنے کے ساتھ گوا پر قبضہ کیا گیا، سکم کو ہضم کیا گیا، سری لنکا اور نیپال میں بھی فوجیں بھیجی گئیں۔ یہ ساری کی ساری چیزیں، بالکل اسی طرح ہیں جس طرح کہ اسرائیل نے ۱۹۴۸ء سے لے کر آج تک برہنہ طاقت استعمال کر کے اپنی سرحدوں کو بڑھایا ہے۔ ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم کو نظر انداز کر کے بنائی گئی خارجہ پالیسی پاکستان کے لیے سخت نقصان دہ ہو گی۔ ہندوستان نے اپنی دو تہائی آبادی کو بھوکا رکھ کر اپنی فوجی قوت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ جبکہ ہمیں وہ غربت کے بارے میں درس دیتا ہے۔ ہندوستان سب سے پہلے اپنی فوجی قوت کو بڑھا کر اسے ۱۹۷۰ء کے مقام پر لے آیا جہاں پاکستان سے تین سے پانچ گنا زیادہ فوجی قوت اس کو حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے ایٹمی قوت اور بحریہ پر اپنی پوری توجہ مبذول کی ۔ ۱۹۹۰ء سے اِس وقت تک ہندوستانی بحریہ میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ہمارے اور ہندوستانی بحریہ کے درمیان اس وقت ایک اور گیارہ بلکہ ایک اندازہ کے مطابق تو ایک اور اکیس کا فرق ہے۔ یہ کام ایک خاص منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔ جہاں تک ایٹمی پالیسی کا تعلق ہے، ہم اس بارے میں اظہار کرتے ہوئے شرماتے اور دوسروں کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔ جبکہ ہندوستان اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کرتا ہے اور ۱۹۷۴ء میں عملاً دھماکہ کر بھی چکا ہے۔ یہاں پنڈت جواہر لال نہرو کے بیان کا حوالہ بے جا نہ ہو گا جو انہوں نے اٹامک انرجی کمیشن کے چیئر مین کے طور پر دیا تھا:
“ہمیں اٹامک ٹیکنالوجی میں بہر صورت مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ ہم یہ ٹیکنالوجی پر امن مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ،لیکن بحیثیت قوم اگر ہمیں اسے کبھی دوسرے مقاصد پر استعمال کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تو مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کے استعمال کی مخالفت نہیں کرے گا۔”
آگے فرماتے ہیں:
” مجھے توقع ہے کہ ہندوستان کے سائنسدان ایٹمی توانائی کو تعمیری مقاصد کے لیے پورے طور پر بروئے کار لائیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کبھی ہندوستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اس کے دفاع کے لیے دیگر ممکنہ وسائل کی طرح اس قوت سے بھی بھرپور فائدہ اٹھائے گا اور ایٹم بم بنائے گا۔”
ہندوستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے چیئر مین نے جس کا نام “انڈین بم مین ” رکھا گیا تھا، صاف الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ ہمیں یہ بم بنانا چاہیے اور بم بنانے کے سوا ہمارے لیے کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔” ایٹم بم بنانے کی مخالفت صرف وہی لوگ کریں گے جو چاہتے ہیں کہ بھارت، روس یا چین کے تسلط میں چلا جائے۔ “
بھارت ایٹمی توانائی اور بحریہ کے ساتھ ساتھ درمیانی اور لمبی مار کے بیلسٹک میزائل بنانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس نے اگنی کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس نے یہ بات متعدد بار کھل کر کہی ہے کہ ہمیں اس کے ساتھ دوستی کے لیے اس کی بالادستی تسلیم کرنا ہو گی۔ کشمیر اور ایٹمی توانائی سے دست کش ہونا ہو گا۔ اس صورت میں امن ہی امن ہے، اور اسی صورت میں تجارتی اور ثقافتی ہر قسم کے روابط استوار ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کسی بھی ملک سے معاملات طے کرتے ہوئے غیر مساوی حیثیت تسلیم نہیں کر سکتا۔ ہندوستان کی بالادستی اس علاقے میں ہمیں نہ قبول تھی، نہ ہے اور نہ کبھی ہو گی، اور یہی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہونی چاہیے۔ ہم دوستی چاہتے ہیں، لیکن یہ دوستی عزت اور وقار، خود مختاری اور تاریخی، دینی، نظریاتی اور سیاسی مقام کے تحفظ کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے۔ اگر چہ ہم بہت سی خرابیوں کے باعث اپنا تاریخی کردار ادا نہیں کر سکے، لیکن ہمارا ماضی بڑا شاندار ہے اور ہم ہمت ہارنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم اپنے نظریے کی بنیادوں کو ثقافت اور تجارت کے نام پر کمزورہونے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتے۔
دس بنیادی اصول
آخر میں ان دس بنیادی معاملات کا حوالہ دوں گا، جن کے سلسلے میں یقین دہانی کی بنیاد پر ہی ہندوستان کے ساتھ دوستی کی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
دو قومی نظریہ
ا -دو قومی نظریہ ہماری بنیاد ہے جس کا ہمیں تحفظ کرنا ہے۔ اسلامی تشخص، اسلامی ثقافت اور اسلامی کلچر کو فروغ دینا ہے، کسی مشترک کلچر کو نہیں۔ ہمارا اور ہندو ؤ ں کا تمدن بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ وہ بت پرست ہیں ہم توحید پرست ہیں۔ کسی بھی پہلو سے دیکھ لیجیے، پر کھ لیجیے، ہم ان سے جدا ہیں۔ ان سے مختلف ہیں۔ ہم لڑ کر ہندوستان سے الگ ہوئے ہیں، ہم ایک نہیں ہو سکتے۔
یہاں راجیو گاندھی کی وہ تقریر قابل توجہ ہے جو انہوں نے پاکستان میں اپنے اعزاز میں ۱۹۸۹ء میں ضیافت کے موقع پر کی ہے۔ اس نے یہاں آکر ہمارے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا ہے کہ کی ہماری تاریخ اور ہمارا کلچر ایک ہے، اور ہمارے درمیان کسی نوعیت کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کی یہ باتیں پاکستان کے بنیادی تصور کے بالکل منافی ہیں۔ قائد اعظم نے متعدد بار واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمانوں کا مذہب، کلچر، تعلیم، ثقافت، زبان ہر چیز ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہم نے ہندوؤں کے ساتھ ایک ہزار سال رہ کر ان کی ذہنیت کو سمجھا ہے اور ہم نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہم اور وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے الفاظ تھے:
“ہم مسلمان اور ہندو ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہمارا مذہب، تہذیب، ثقافت، تاریخ، زبان، فن تعمیر، موسیقی، علم ِقانون، معاشرہ اور ہمارا لباس ایک دوسرے سے ہر لحاظ سے مختلف ہے۔ ہم ان تضادات کی موجودگی میں اکھٹے نہیں رہ سکتے ۔ “
راجیو گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ وہ چار سال کے تھے جب پاکستان بنا ، جبکہ آپ (بے نظیر صاحبہ) تو پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے آپ کو کیا پتہ کہ پاکستان بننے کے لیے کیا کچھ ہواہے ؟ لیکن پاکستان میں ابھی ان لوگوں کی کمی نہیں ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے ہندوؤں کے مظالم دیکھے ہیں، ایسی ٹرینیں دیکھی ہیں جن میں لاشوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ہمیں پتہ ہے کہ پاکستان کس قیمت پر بنا ہے اور اگر پاکستان نہ بنتا تو مسلمانوں کا کیا حشر ہوتا۔
مسئلہ کشمیر
۲۔ دوسری بنیادی بات مسئلہ کشمیر ہے، جسے حل کیے بغیر ہندوستان سے دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیاقت علی خان کو بھی اسی چکر میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیاقت علی خان نے ۱۴ فروری ۱۹۵۰ء کو پنڈت نہرو کو لکھا :
“آپ “جنگ نہ کرنے کے معاہدہ ” کی بات کرتے ہیں، ہم اس کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ آپ کو ان مسائل کا اعتراف کرنا ہو گا جو ہمارے درمیان حل طلب ہیں اور ان کے حل کے لیے ایک ٹائم ٹیبل کا تعین کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ مدت مقررہ کے اندر اگر ہمارے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا تو ہم ثالثی کے ذریعے اپنے مسائل کو طے کریں گے۔ اس دائرہ کار میں اگر ہندوستان تیار ہے تو ہم جنگ نہ کرنے کے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔”
لیاقت علی خان نے جس صاف اور کھلے انداز میں ہندوستان کی عیارانہ چال کو ناکام بنایا،پاکستان کے دفتر خارجہ کو اس پر غور کرنا چاہیے ۔وہ کہتے ہیں: “پاکستان بنیادی مقاصد کے مشترکہ اعلامیہ کے اجراء کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے، جس کا مقصد ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ دونوں حکومتیں تنازعات کے حل کے لیے جنگ سے اجتناب کریں گی۔”
بڑی اچھی بات ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ اعلامیے کی روح کے مطابق ٹھوس اقدامات بھی اختیار کیے جائیں، کیونکہ مسائل اور حکومتیں محض باتوں کی بہ نسبت عملی اقدامات کے ذریعے پر کھی جاتی ہیں۔ میری حکومت کی نظر میں واضح طریقہ کار ایک طے شدہ ٹائم ٹیبل کی صورت میں ہونا چاہیے، دونوں حکومتیں پابند ہوں کہ اس کے اندر اپنے تنازعات کے حتمی پر امن حل تک پہنچیں۔ مثال کے طور پر ہم کئی مہینوں کے عرصے کا تعین کر سکتے ہیں۔”
اور اس کے بعد لکھتے ہیں: “اگر وہ اس عرصے میں کی کاروائی میں ناکام رہیں تو مسئلہ خود بخود کسی طے شدہ طریقے کے مطابق ثالثی کے لیے پیش ہو گا۔”
یہ وہ فراست اور طریقہ تھا جس سے آپ ایک ہندو سے معاملہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ قدم بہ قدم ڈپلومیسی سے معاملات طے کرنے کا معاہدہ کر آتے ہیں اور پھر دونوں طرف سے غفلت اوربےپروائی کا شکار ہو جاتے ہیں تو یہ معاملات حل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔
کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، کشمیر کے معاملے میں ہماری خاموشی قومی غداری کے مترادف ہے۔ آج جموں و کشمیر میں وہاں کے مسلمان جدوجہد آزادی میں مصروف ہیں، وہ اپنے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں، جیلوں میں جارہے ہیں، لیکن ہم ان کی حمایت میں آواز تک اٹھانے کی جر أ ت نہیں کرتے۔ دسمبر ۱۹۸۹ء میں راجیو گاندھی نے ہمارے منہ پر کہہ دیا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اس وقت ہم سے ایک جملہ ادا نہ ہو سکا، پھر اس نے ہمارے منہ پر طمانچہ مارا اور یہ کہا کہ رائے شماری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور شملہ معاہدہ کے بعد اس سے پہلے کئے گئے سارے معاہدے منسوخ ہو گئے اور ہم صرف اتنا ہی کہہ پائے کہ نہیں، آپ کی رائے اور ہے، ہماری رائے اور ہے۔ ہم سے یہ نہ کہا گیا رائے شماری ہی اس کے حل کاواحد راستہ ہے۔
عدم مداخلت
۳۔ ہندوستان کو پاکستان کے فوجی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے، ہم ہندوستان سے اجازت لے کر اپنی ایئر فورس، بحریہ اور فوج کو منظم نہیں کریں گے۔ ہندوستان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو غیر جانبدار تحریک (NAM) کا ممبر اور غیر جانبدار ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ اس تحریک کے بنیادی اصول دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے منع کرتے ہیں لیکن وہ امریکہ سے پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے لیے کہتا ہے، پاکستان کو میزائل بنانے سے روکنے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول سے باز رکھنے کے لیے کہتا ہے۔ ہندوستان کو اس قسم کی باتوں کا اختیار حاصل نہیں ہے، ہم ایک خود مختار ملک ہونے کی حیثیت سے دیکھیں گے کہ ہمارے لیے کیا صحیح اور کیا غلط ہے۔
ڈیٹر نٹ پالیسی
۴-پاکستان کوایک مؤثرڈیٹرنٹ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ہمارے تحفظ، ہماری بقا، ہماری آزادی، اور ہماری خود مختاری کا انحصار مناسب ڈیٹرنٹ پالیسی کو پروان چڑھانے پر ہے۔ اگر یہ ہم نہ کر سکے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ یہ تاریخ کا ناقابل انکار درس ہے کہ وہ قومیں جو اپنے اندر قوت پیدا نہ کر سکیں وہ بالآخر زندہ نہیں رہا کرتیں۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بات چیت کرنے سے پہلے ہی اپنے سارے کارڈ میز پر ڈال دیے جائیں، اور امریکہ کو قسمیں کھا کھا کر اور ناک رگڑ رگڑ کر یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ہم کوئی بم نہیں بنا رہے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کو ڈیٹر نٹ کے طور پر استعمال نہیں کر رہے۔ کچھ عرصہ قبل انگلستان میں ہماری وزیر اعظم صاحبہ نے (اپنے پہلے دور میں) بیان دیا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو تخفیف اسلحہ کی بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ سپر پاورز بھی یہ باتیں کر رہی ہیں۔ سپر پاورز تو یہ بات اس لیے کر رہی ہیں کہ ان کے پاس اسلحہ کے بہت بڑے ذخائر ہیں۔ ان کے پاس جس قدر ایٹم بم ہیں ان سے وہ دنیا کو پچاس مرتبہ تباہ کر سکتی ہیں۔ اس قوت کے بعد وہ تخفیف اسلحہ کی بات کر رہی ہیں۔ تخفیف اسلحہ کے معنی ایک خاص صورت حال کو بر قرار رکھنا ہوتا ہے۔ آج فوجی اعتبار سے ہندوستان کو بالادستی حاصل ہے۔ ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ ہم وہ طریقہ اختیار کریں جس سے ہم بہترین ڈیٹرنس کو پروان چڑھا سکیں اور یہی بہترین فوجی اور نظریاتی پالیسی ہے، اس میں ہمیں ایسی ٹیکنالوجی کو اس مقام تک لے جانا ہے، جہاں ہندوستان یا دنیا کی کوئی دوسری طاقت پاکستان پر دست درازی کی جرأت نہ کر سکے۔ اس طرح ہم زندہ رہ سکتے ہیں اور ترقی کر سکتے ہیں۔
اب ہندوستان کیمیاوی ہتھیاروں میں بھی اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ وہ انہیں دنیا کے دوسرے ممالک کو برآمد کر رہا ہے۔ ابھی ایک جرمن کمپنی کے ذریعے اس نے ایران میں یہ کیمیکل بھیجے ہیں۔ کیمیاوی اور ایٹمی جنگ کے خلاف ہونے کے باوجود بھی ایٹمی، کیمیاوی اور نظریاتی ڈیٹرنس (deterrence) کے بغیر پاکستان اپنی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ یہ ہمارا حق ہے اور امریکہ، ہندوستان یا دنیا کے کسی ملک کو ہمیں یہ بتانے کا حق نہیں ہے کہ ہم ایٹمی ٹیکنالوجی کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ امریکہ تو اس میدان میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل جنوبی افریقہ اور برازیل کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا،بلکہ الٹا ان کی مدد کی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے دو سو ایٹم بم تیار کیے ہیں جبکہ وہ اب ہائیڈروجن بم بنا رہا ہے۔ خود ہندوستان ہائیڈروجن بم بنانے کی طرف جا رہا ہے جبکہ ہم سے اسے ترک کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ بلکہ یہ یقین دہانی بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نہ ہم نے بم بنایا ہے نہ ہمارے پاس ہے اور نہ ہم بنائیں گے۔
پاکستان کو یہ کہنا چاہیے کہ کسی کو ہمیں یہ بتانے کی کہ کس حد تک اپنی ٹیکنالوجی کو بڑھائیں، کوئی حق نہیں ہے۔ ہمارا مقصد پر امن ہے اور اگر ہمیں اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہو گی تو ہم ضرور بنائیں گے ، ضرور بنائیں گے، اور ضرور بنائیں گے۔
سیاچن کا محاذ
۵-پاکستان کی سرحدوں میں بیرونی مداخلت میں سر فہرست سیاچن کا مسئلہ ہے کہ ہندوستان نے شملہ معاہدے کے بعد دھو کہ دے کر اور ہماری غفلت سے فائدہ اٹھا کر ہمارے ایک اہم حربی اور فوجی اہمیت کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ ہماری فوجوں نے اس کی اس جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اسے مان نہیں لیا، قربانیاں دیں اور کچھ علاقہ واپس لیا اور کچھ نئی چوکیاں قائم کیں۔ اس معاملے میں ہمارے فوجی جوانوں نے جو قربانیاں دی ہیں، اور جس جذبہ سے ملک کا دفاع کیا ہے وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ ان میں سے کچھ کے خطوط اور شہید ہونے والوں کی وصیتیں پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔آج بھی الحمد للہ ہمارے ایسے نوجوان ہیں جو اللہ اور اس کے دین اور اس ملک کی خاطر اپنے سے کئی گنا قوت والے ملک سے لڑنے اور اسے نیچا دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ بلاشبہ سیاچن کے مسئلہ پر بات چیت ہونی چاہیے لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ سیاچن کی ایک منفرد نوعیت ہونے کے باوجود اس کا حتمی تعلق کشمیر کے مسئلہ سے ہے در حقیقت یہ کشمیر کے مسئلہ کا ہی ایک حصہ ہے۔
سندھ میں مداخلت
۶-سندھ میں ہندوستان کی مداخلت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہندوستان نے مشرقی پاکستان کے لیے بھی ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے مطابق ۱۹۴۹-۱۹۵۰ء سے ہندو پروفیسروں، کلکتہ کے دانشوروں اور اخبارات نے مشرقی پاکستان کے مختلف عناصر کو متحرک کیا اور نتیجتاً ہمیں سقوط مشرقی پاکستان کے المیہ سے دو چار ہونا پڑا۔ اگر ہماری اُس وقت کی حکومتیں صحیح رویہ اور مبنی بر انصاف پالیسی اختیار کرتیں، ۱۹۷۰ء کے انتخابات کو مان لیا جاتا اور جس پارٹی کو اکثریتی ووٹ ملے تھے، اسے اقتدار منتقل کر دیا جاتا تو شاید یہ المیہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔ یہی کھیل اب ہندوستان سندھ میں کھیل رہا ہے، مرحوم محمد خان جونیجو صاحب کو داد دینی چاہیے کہ پنجاب کے سوال پر راجیو کے اعتراضات پر انہوں نے اسے بتایا کہ پاکستان کے پاس جنوبی ہندوستان میں راجھستان کے ۳۷ ایسے مراکز کے فوٹو اور اطلاعات ہیں جہاں ہندوستان کمانڈوز اور تخریب کار تیار کر کے سندھ میں بھیج رہا ہے۔ یہ تب کی بات تھی جبکہ بعد میں ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے سیکرٹری اور وزرائے خارجہ معاہدہ کرتے ہیں کہ سندھ اور پنجاب کی سرحدوں پر مشترکہ گشت ہو گی۔ سندھ اور پنجاب کی سرحدیں تقریباً برا بر ہیں، لیکن پنجاب کے لیے ۸ چوکیاں اور سندھ کے لیے صرف دو چوکیاں ہم نے مانیں ہیں، کیا ہماری ٹیم کو یہ پتہ نہیں تھا کہ تخریب کار کہاں سے آتے رہے ہیں، کم از کم برابری کی ہی بات منوالی جاتی۔
ہندوستان کے مسلمان
۷۔ ہندوستانی مسلمان، پاکستان کی تحریک اور مسلم امت کا ایک نہایت اہم حصہ ہیں۔ ہمیں جمہوریت کا درس دیا جاتا ہے، اور بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس جمہوریت میں اچھوتوں اور ۱۵ کروڑ سے زائد مسلمانوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ ۱۵ کروڑ مسلمان آج بھی کل آبادی کا ۱۴ فیصد بنتے ہیں، لیکن ملازمتوں میں تناسب صرف ۲ فیصد ہے۔ ان کی مسجدیں محفوظ نہیں ہیں، بابری مسجد کو تباہ کر کے اُس کی جگہ رام جنم بھومی بنائی جارہی ہے۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ کی طرف سے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں ساڑھے آٹھ ہزار نسلی فسادات، جنہیں مسلم کش فسادات کہنا زیادہ صحیح ہے ، ہوئے ہیں۔ لیاقت، نہر و معاہدے میں دیگر مسائل کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری حکومتوں پر عائد کی گئی تھی۔ مسلمان دنیا میں جہاں بھی ہوں ان کے ساتھ ظلم کی صورت میں ہم ان کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔ کیا وجہ ہے روس میں یہودیوں کو ملک سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ملنے پر ساری دنیا کے یہودی شور مچاتے رہے ہیں اور امریکہ کی حکومت، روس کے ساتھ تجارت کو یہودیوں کے بیرون ملک جانے کی اجازت کے ساتھ مشروط کرتی ہے۔ ہندوستان کا مسلمان ہمارا حصہ نہیں، ہم نے برصغیر میں ان کے ساتھ قیام پاکستان کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ہے۔ ان کا حق ہے کہ ان پر ظلم ہو تو ہم ظلم کرنے والوں کے خلاف ان کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔
بھارت کی بالادستی
۸۔ اس علاقے میں ہندوستان کے ڈرانے دھمکانے اور چودھراہٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے کہ ہم اس علاقے کے پورے ممالک سے اپنے تعلقات اور معاملات کو ان خطوط پر استوار کریں کہ ہندوستان ان علاقوں پر ظلم نہ کرے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ہم سب کو بخوبی علم ہے۔ فرخا بیراج کے ذریعے وہاں سیلاب اور قحط کی مصنوعی صورت حال پیدا کی جا رہی ہے یہ ایک سازش ہے جس کے تحت وہ بنگلہ دیش کے شہریوں کو ہر وقت دبائے رکھنا چاہتا ہے اور جب یہ کافی نہیں ہوا تو ہندوستان نے چٹا گانگ کے پہاڑی علاقوں میں اپنے کمانڈوز اور تخریب کار بھیجے۔
نیپال کا ہندوستان کے ساتھ راہداری اور تجارت کا ایک معاہدہ تھا، ہر طرف سے گھرے ہوئے ملک کی حیثیت سے نیپال کو بین الاقوامی قانون کے تحت راہداری کا حق حاصل ہے۔ اس کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن ہندوستان تجارت اور راہداری کو ساتھ ملاتا رہا ہے۔ جس کے لیے نیپال تیار نہیں ہوا تو جواب میں ہندوستان نے ان کی خوراک، دوائیں اور تیل روک دیا، ہندوستان اور نیپال کامقابلہ ہی مضحکہ خیز ہے۔
سری لنکا میں ہندوستان نے ۱۹۸۳ء سے تامل باغیوں کو تربیت دینا شروع کر رکھی تھی، مدراس میں کے لیے تربیتی کیمپ بنائے گئے ، وہاں سے برابر لوگوں کو بھیجا گیا۔ اندرا گاندھی کے زمانے میں بننے والے منصوبے کو راجیو گاندھی کے زمانے میں آگے بڑھایا گیا۔ سری لنکا نے اس پر ہندوستان سے بین الاقوامی سطح پراحتجاج کیا، خود پاکستان نے اس پر احتجاج کیا۔ جب حالات مزید خراب ہوئے، تو اس نے اپنے جہاز بھیج دیے، جب کوئی اور چارہ کار نہ رہا تو سری لنکا نے فوجیں منگوائیں۔ ان فوجوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا کہ وہ سری لنکا کی حکومت کے کہنے پر واپس چلی جائیں گی، اور وہ آٹھ دن کے اندر اندر خطے میں امن قائم کر دیں گی۔ لیکن وہ سری لنکا کے مطالبے کے باوجود وہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ وہ رویہ ہے جسے گوارا نہیں کیا جا سکتا،یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پورے علاقے کا معاملہ ہے۔ ہندوستان سے اس کا ہمسائیوں کے ساتھ رویہ درست ہوئے بغیر معاملات نہیں ہو سکتے اسے اپنا رویہ درست کرنا پڑے گا اور اگروہ اپنے رویے اور طور اطوار کی اصلاح نہیں کرتا اور وہ اس علاقے کا چوہدری بنتا ہے تو پھر ہماری اس سے کوئی دوستی نہیں ہو سکتی۔
پاکستان دشمن مہم پر معافی
۹-ہندوستان نے ماضی میں پاکستان کے خلاف جو مہم چلائی، خصوصیت سے اس نے جس طرح نے “الذو الفقار” کو پیسہ اور دوسرے ذرائع سے مدددی اور تحفظ فراہم کیا، اس پر اسے پاکستان سے اعلانیہ معافی مانگنی چاہیے اور یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ وہ آئندہ اس قسم کی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔
ترجیحات کا تعین
۱۰- آخری بات یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان سے تعلقات استوار کرنے میں ایک ترتیب ہونی چاہیے، اور وہ ترتیب یہ ہو کہ جب تک ہمارے درمیان سنگین مسائل حل نہیں ہو جاتے ہم محض سفارتی مذاکرات کے میدان میں کوئی پیش قدمی نہیں کریں گے۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ زیر بحث نہ آئے اور دیگر مسائل پر بات چیت کے نتیجہ میں اسے کشمیر میں اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت مل جائے۔ وہ مذاکرات کے لیے اسی وجہ سے تیار ہوا ہے کہ اس طرح اسے وقت مل رہا ہے۔ ہمیں اس صورتحال کو سمجھ کر حکمت عملی اختیار کرتی چاہیے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہش کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل نہیں ہو جاتا، بھارت کے ساتھ ہمارے کوئی بھی مذاکرات بےمعنی ہیں اس مسئلہ کو نظر انداز کر کے ہمیں ہندوستان کے ساتھ کوئی تعلق اور دوستی قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو بھی جال اور ایک چال کے طور پر پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب تک ہندوستان اصل مسئلہ پر بات کرکے اس ےحل نہیں کر لیتا، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کوفروغ دینے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ بلکہ ہمیں تو اس کی کوشش کرنی چاہیے کہ مسلمان ممالک اور دوسرے ملک بھی ہندوستان کا تجارتی مقاطعہ کریں تاکہ بین الاقوامی معاشی دباؤ کے نتیجہ میں وہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے پر آمادہ ہو سکے۔ یہ ہیں وہ بنیادیں جن کی روشنی میں ہندوستان کے بارے میں ہمارے خارجہ پالیسی کی از سر نو تشکیل و ترتیب ضروری ہے۔



