ترکستان میں مسلم مزاحمت

آباد شاہ پوری
پیش لفظ
تبدیلی اور انقلاب کا عمل آج کسی نہ کسی صورت میں زمین کے ہر گوشے میں جاری ہے۔ مشرق ہو یا مغرب ، سرمایہ داری سے مغلوب دنیا ہو یا اشتراکیت کے چنگل میں گرفتار انسانیت ، تیسری دنیا ہو یا عالمِ اسلام ۔۔۔تغیر و تبدیلی کا یہ عمل ہر جگہ رْو بہ کارہے ۔ صاف نظر آرہا ہے کہ آج دنیا کا سیاسی ہی نہیں تہذیبی نقشہ بھی بدل رہا ہے۔
اس نازک دور میں سلمان ایک عظیم آزمائش سے دوچار ہیں۔ ایک طرف وقت کی غالب تہذیب اپنا تسلط قائم کرکے رکھنے کی جان توڑ کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف جو تہذیب اسے فی الحقیقت چیلنج کر سکتی ہے اور انسانیت کے سامنے ایک نیا راستہ پیش کر سکتی ہے، وہ اندرونی اور بیرونی اسباب کی بنا پر اپنا اصل کردار ادا کرنے سے معذور ہے۔ گذشتہ ربع صدی میں وہ مسلمان ممالک سیاسی آزادی سے ہمکنار ہوئے ہیں اور دنیا کے معاشی توازن قوت میں مسلمانوں کے حق میں تبدیلیاں آئی ہیں ۔ عالم اسلام کے ہر کونے میں اسلامی احیاء کی لہریں اُبھری ہیں لیکن اسلام اپنے تاریخی کردار کو ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ جو علاقے اسلام کی قوت کے روایتی مرکز رہے ہیں وہ نئے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں ان حالات میں ایران کا اسلامی انقلاب اور افغانستان میں تحریک اسلامی کی قیادت میں جنگِ آزادی کا ظہور روشنی کے معیار ہیں۔ گو ایران کا اسلامی انقلاب انسانی تاریخ کے تمام انقلابوں کی طرح ابھی خود کو مستحکم کرنے کی جد و جہد میں مصروف ہے کامیاب ہونا ہے اور خودافغانستان کے جہادِ حرّیت کو اپنے انقلابی مقاصدکو حاصل کرناہے تو ان اسباب پر نگاہ ہونی چاہئیے جو ماضی کی ناکامیوں کا ذریعہ بنے اور جن کے مؤثر سدِّ باب ہی سے مستقبل کی کامیابیوں کو حاصل کیا جا سکے گا مصنف محترم نےمنصوبہ بندی کی خامیوں، انفاق واتحاد کی کی ایک حکمت عملی او مقابلے کی ٹیکنالوجی سے عدم دلچسپی اور انتظامی اور اداراتی خامیوں کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرائی ہے اور اس سلسلے میں نظریاتی بنیادوں کے تحفظ اور بین الاقوامی فضا سے فائدہ اُٹھانے کی اہمیت کو واضح کیا ہے ۔میری نگاہ میں بحث کا ہر حصہ سب سے زیادہ اہم ہے اور میری خواہش ہے کہ پاکستان تحریک آزادی، افغانستان اور انقلاب ایران کی قیادت ان نکات پر خصوصی تو جّہ دے- ہمیں جذبات سے مغلوب ہوکر ماضی کے تلخ تجربات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ بلاشبہ ہماری نگاہیں مستقبل پر لگی ہوئی ہیں اور اس کے امکانات روشن اور درخشاں میں لیکن ہم اپنی آرزووں کو مستقبل میں اسی وقت حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں جب ہم ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ایسی بھر پور جدوجہد کریں جو مخالف قوتوں کا مکمل اور مؤثر جواب ہو ۔ اور حالت امن میں تو شاید تھوڑی بہت غفلت گوارا کی جا سکتی ہولیکن حالت جنگ نہیں ذراسی غفلت بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔
میں ان احساست کے ساتھ رفیق مکرم ومحترم جناب آبادشاہ پوری صاحب کی تازہ تحقیقی پیشکش ’’ترکستان میں مسلمان مزاہمت ‘‘کا خیر مقدم کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کے یہ کتاب ردّ استعمار تحریک کو فروغ دینے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی ۔ میں ان تمام افراد اور اداروں خصوصاً اسلامک فاؤنڈیشن اور اسلامک سالیڈیرٹی فنڈ کا شکور ہوں جنہو ں نے وسط ایشیا پر تحقیقی کام کے منصوبہ میں ہمارے ساتھ علمی اور مالی تعاون کیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز
خورشید احمد
۳ شوال المکریم ۱۴۰۲ هـ
مطابق ۲۰ اگست ۱۹۸۲ء



