حدود قوانین میں ترمیم کا مطالعہ

پروفیسر خورشید احمد
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
خواتین سے ہمدردی کے نام پر متعدد معصومانہ اقدامات بہر صورت اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں حکومت یا اپوزیشن اور مغرب پرستوں یا علما کرام کی تقسیم سے بالاتر ہو کر براہِ راست قرآن و سنت اور معاصر دنیا کے احوال و ظروف کی روشنی میں پرکھا جائے۔ اخبارات اور بالخصوص ٹیلی ویژن یا مغربی سامراج کے زیر اثر ابلاغی اداروں نے یک طرفہ طور پر حدود قوانین پر جس جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ہر صاحب ایمان کے لیے پریشانی کا باعث اور ایک سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان میں اعلیٰ درجے کے دو ماہ ناموں میں دینی نقطہ نظر کی یہ وضاحت اس سوال کا ایک شافی جواب پیش کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عالم اسلام کے معروف اسکالر محترم پروفیسر خورشید احمد (مدیر ترجمان القرآن لاہور نمبر سینیٹ آف پاکستان ) اور ممتاز محقق جناب حافظ حسن مدنی (مدیر محدث لاہور) کے یہ مقالات یک جا شائع کیے جارہے ہیں۔
نگہت منصور
صدر، تنظیم اساتذہ پاکستان، خواتین
حدود اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ
پروفیسر خورشید احمد
۱۵ نومبر ۲۰۰۶ء پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن شمار کیا جائے گا۔ اس روز سیاہ ملک کی قومی اسمبلی نے اسلام اور شریعت اسلامی کے خلاف امریکی اور یورپی استعمار کی کھلی جنگ میں جنرل پرویز مشرف کے حکم اور دباؤ کے تحت ان کے ایک آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہوئے تحفظ نسواں کے نام پر انہدام حدود اللہ کے ایک قانون کو پاکستانی عوام کے شدید احتجاج کے باوجود منظور کر لیا اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں کتاب قانون سے ایک شرعی حد اور چند دوسرے اسلامی احکام کو خارج کرنے کا کارنامہ انجام دے کر قرآن وسنت اور اُس دستور پاکستان کی کھلی کھلی خلاف ورزی کی جس کا حلف اُٹھا کر یہ وجود میں آئی تھی۔ پھر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے احکام کے خلاف اس بغاوت پر جنرل صاحب نے سارے دستوری سیاسی اور اخلاقی آداب کو بالائے طاق رکھ کر اپنے ہم رکاب آزاد خیال ترقی پسند اور اباحیت پرست عناصر کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ ایک نئی صف بندی اور سیاسی جنگ کا اعلان بھی کر دیا جس سے اس قانون کے اصل مقاصد اور اہداف کے بارے میں کوئی شک وشبہہ باقی نہیں رہا۔ یہ بل گویا نظریاتی اور تہذیبی جنگ کا عنوان ہے اور یہی وہ خاص پہلو ہے جسے ملک اور ملک کے باہر تمام آزاد خیال اور بش کے ہم نوا عناصر پیش کر رہے ہیں۔ دوسروں کو سیاست چمکانے کا طعنہ دینے والے خود اپنی اصل سیاست کا چہرہ حدود اللہ پرضرب لگانے والے جرنیل کے ان الفاظ میں دیکھ سکتے ہیں:
معاشرے کے ترقی پسند اور اعتدال پسند عناصر کو جو اکثریت میں ہیں، اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور اپنی حقیقی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اعتدال پسند اور ترقی پسند قو تیں غالب آئیں گی۔ بہت نازک وقت ہے۔ آپ کو بنیاد پرست اور انتہا پسند طاقتوں کو مسترد کر دینا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ترقی پسند لوگوں کو منتخب کریں گے۔
واشنگٹن ٹائمز جنرل صاحب کو اس امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر کھل کر داد دیتا ہے اور کہتا ہے کہ:
بدھ کو پاکستان کے ایوان زیریں نے جو قانون منظور کیا ہے وہ حقوق نسواں اور سیکولر قانون کے غلبے دونوں کے لیے پیش رفت ہے۔ پوری مسلم دنیا میں اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی میں مسلم دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے بشمول ایران اور سعودی عرب جہاں حدود آرڈی ننس جیسے قوانین ہیں، غیر معمولی اہمیت کا سبق ہے۔
ٹونی بلیر اور امریکہ کے وائٹ ہاؤس کے ترجمان، دونوں نے اس بل کا خیرمقدم کیا ہے اور اپنی “ہل من مزید“کی روایت پر قائم رہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ناکافی ہے؛ آگے بڑھو اور تمام بنیاد پرست دینی قوانین سے نجات حاصل کرو! جنرل صاحب کا سیکولر ایجنڈا تو پہلے دن سے سر اٹھا رہا تھا، مگر بار بار کی کوشش کے باوجود وہ اس سمت میں کوئی بڑا قدم اٹھانے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے جو مغرب کی ان سیکولر قوتوں کو خوش کرے جو شرعی قوانین خصوصیت سے حدود، تحفظِ ناموسِ رسالت، ختمِ نبوت اور پھر دینی تعلیم، دینی مدارس اور اسلام کے تصورِ جہاد کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
بش کی دہشت پسندی کے خلاف نام نہاد جنگ نے جنرل صاحب کو اپنے قدم جمانے اور بیرونی سہاروں پر اپنے باوردی اقتدار کو مستحکم کرنے کا موقع دیا اور پھر وہ فیصلہ کن گھڑی آگئی جب بش اور مغربی اقوام نے ان کی وفاداری کے ثبوت کے لیے ان سے مطالبہ کیا کہ خود اپنی قوم کے نوجوانوں کو قتل کریں، جہاد کی ہر شکل سے برأت کا اعلان کریں، خصوصیت سے کشمیر کی جدو جہد آزادی سے دست کش ہوں جسے پاکستانی عوام ہی نہیں پوری اُمت اسلامیہ ایک مبنی برحق جہاد سمجھتی ہے۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ حدود قوانین کو کتاب قانون سے ساقط کر کے اپنی روشن خیالی، مگر بالفاظ صحیح تر بش خیالی اور آزاد روی کا ثبوت دیں اور بالآخر ارکان پارلیمنٹ حتیٰ کہ ان کی اپنی پارٹی کی ایک معتد بہ تعداد ( آخری رائے شماری میں سرکاری پارٹی کے ۴۲ ارکان نے شرکت نہیں کی جن سے جواب طلبی کی جارہی ہے ) کے عدم تعاون کے باوجود جنرل صاحب نے پیپلز پارٹی سے بے نظیر صاحبہ کے خصوصی حکم نامے کے تحت کمک حاصل کر کے صدر بش کے اسلام کی اصلاح (reforming Islam) کے کروسیڈ میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی متاثر ہوا۔ حزب مخالف نہ صرف بٹ گئی بلکہ جیسا کہ بی بی سی کے مبصر نے کہا: حدود بل مستقبل میں صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کی ورکنگ ریلیشن شبپ کا سنگ بنیاد ثابت ہوگا، اور سیکولر دانش وروں اور صحافیوں کے گرو امتیاز عالم صاحب نے اسے اس طرح بیان کیا کہ:
در حقیقت اس بل نے سیاسی قوتوں کی نئی صف بندی کے امکانات کا راستہ کھول دیا ہے اور انتخابات سے پہلے آزاد رو بمقابلہ قدامت پسند قوتوں کی محاذ آرائی کے لیے فضا تیار کر دی ہے۔ اس [ مشرف ] کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ لبرل پلیٹ فارم سے ملاؤں کا مقابلہ کریں۔ حدود قوانین میں تبدیلی کے اقدام کا جائزہ خالص شرعی اور اعتقادی پہلوؤں کے ساتھ آج کے اس ملکی اور بین الاقوامی سیاسی پس منظر میں لیا جانا ضروری ہے۔
عراق پر حملے اور حدود اللہ پر حملے کے لیے بش اور مشرف کی یکساں حکمت عملی
عراق پر صدر بش کے جارحانہ حملے اور جنرل پرویز مشرف کی شرعی قوانین پر عیارانہ یلغار میں تین اہم مشترک عناصر ہیں اور استعماری اور آمرانہ قوتوں کی ذہنی ساخت (mindset) اور جنگی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے ان کا ادراک ضروری ہے:
جھوٹا جواز اور غلط بیانی
صدر بش اور ان کی پوری ٹیم نے صریح جھوٹ غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کر کے جنگ کا جواز پیدا کیا۔ تباہ کن ہتھیاروں کا واویلا کر کے طبل جنگ بجایا اور عراق میں آگ اور خون کی ہولی شروع کر دی۔ سیکولر اور لبرل قوتوں نے پاکستان کے دینی اور تہذیبی تشخص کو تہ و بالا کرنے کے لیے بھی حدود قوانین کے بارے میں صریح جھوٹ، غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کر کے ان پر حملہ آور ہونے کا راستہ استوار کیا۔ بھر پور میڈیا ٹرائل کیا گیا اور صاف نظر آ رہا ہے کہ تین صریح غلط بیانیاں (established lies ) ہیں جن پر اس جنگ کی بنیاد ہے یعنی :
ا: یہ قوانین ایک فرد واحد کے مسلط کردہ ہیں اور انھیں کوئی سیاسی حمایت حاصل نہیں۔
ب: یہ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہیں۔
ج: زنا بالجبر ( rape) کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیے عینی گواہ لانا ضروری ہے ورنہ ان کو زنا بالرضا کے جرم میں دھر لیا جاتا ہے مرد چھوٹ جاتا ہے اور عورت محبوس کر دی جاتی ہے۔
غلط بیانیاں تو اور بھی ہیں مگر ان تین باتوں کو اس تسلسل اور تکرار سے پھیلایا گیا ہے اور اس سلسلے میں حقائق کو اس طرح مسخ کیا گیا ہے کہ بش کے تباہ کن ہتھیاروں والے بڑے جھوٹ (big lie) کے علاوہ اس کی کوئی دوسری نظیر حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہم ان تینوں کے بارے میں اصل حقائق پیش کریں گے تا کہ اس طائفے کی دیانت اور اس کے دعوؤں کے قابلِ اعتبار ہونے کی حقیقت سامنے آسکے۔ جس مقدمے کی بنیاد ہی جھوٹ اور غلط بیانی پر ہو اس کا حشر بش کی عراقی مہم جوئی سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟
ظاہری مقاصد اور حقیقی اہداف میں فرق:
دوسری مماثلت کا تعلق اعلان شده مقاصد (declared objectives) اور حقیقی اہداف (real targets) میں نمایاں فرق بلکہ بعد المشرقین سے ہے۔ عراق کی جنگ کے لیے تباہ کن ہتھیاروں کی تلاش کے ساتھ جمہوریت کے فروغ کو مقصد بتایا گیا، جب کہ اصل مقصد عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ، مشرق وسطی کے سیاسی نقشے کی تبدیلی اور عراقی حکومت کو ختم کر کے اسرائیل کے لیے غیر محدود مدت کے لیے تحفظ کا حصول تھا۔ اسی طرح حدود قوانین پر حملہ بظاہر عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور قانون کے غلط استعمال کے دروازے بند کرنا ہے مگر فی الحقیقت یہ ملک کو سیکولر بنانے اور اس کی اسلامی شناخت ختم کرنے کے امریکی اور لبرل عناصر کے ہمہ گیر منصوبے کا پہلا کلیدی اقدام ہے۔ اصل ایشو دین اور ریاست کے تعلق اور اجتماعی زندگی اور قانون سازی میں الہامی ہدایات اور دینی احکام کے فیصلہ کن کردار کا ہے۔ حدود قوانین کی بحث میں مرکزی نکتہ ہے ہی یہ کہ اصل حاکم کون ہے؟ مغربی اقوام کو شریعت سے جو کہ ہے اس کی بنیاد بھی یہی ہے کہ اقدار اور اساسی قانون کا منبع انسانی تجربہ ہے یا الہامی ہدایت؟ انفرادی دین داری جسے صوفی اسلام کا نام دیا جارہا ہے اس سے مغرب کے استعماری نظام کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اسلام کا وہ تصور جو انسانی زندگی کے جملہ معاملات کے لیے بنیادی رہنمائی اللہ اور اس کے رسول کی فراہم کردہ ہدایت سے حاصل کرتا ہے اور جس کے نتیجے میں اُمت مسلمہ ایک تاریخ ساز قوت بنتی ہے وہ سیاسی اسلام (political Islam) بن جاتا ہے اور جو بنیاد پرستی (fundamentalism) اور انتہا پسندی (extremism) قرار پاتی ہے۔ حدود قوانین تو صرف پانچ ہیں جو مقاصد شریعت کے محافظ ہیں، ان سے خطرہ ہی یہ ہے کہ اس طرح شریعت رہنما قوت بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حدود کا حقیقی نفاذ تو آج تک ہوا ہی نہیں لیکن یہ بھی گوارا نہیں کہ حدود کتاب قانون کا حصہ ہوں کہ کہیں کل ان کا مکمل نفاذ نہ ہو جائے ۔ نیز حدود پر حملہ مسلم اُمت کی اس صلاحیت کو آزمانے (test) کے لیے ہے کہ یہ قرآن وسنت کے احکام میں تبدیلی کو کس حد تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایک حد کو پامال کیا جائے گا اور اسے برداشت کر لیا جائے گا تو پھر کل ایک ایک کر کے دوسری تمام حدود کو بھی پامال کرنے کی طرف پیش قدمی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک معمولی اقدام نہیں بلکہ اس کے دُور رس اثرات ناگزیر ہیں۔ یہ ایک نظریاتی ، اخلاقی اور تہذیبی کش مکش کا عنوان ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغربی اقوام کے چوٹی کے ماہرین حکمت عملی (strategists) بار بار یہ کہ رہے ہیں کہ اسلامی دنیا کو قابو میں کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ اسلام میں تبدیلی کی جائے۔ روشن خیال اور اعتدال پسند اسلام اور بنیاد پرست اور جہادی اسلام کی تفریق اس کا مظہر ہے۔ حدود قوانین پر تازہ حملہ عورتوں کے تحفظ کے لیے ایک اقدام نہیں، مسلم معاشرے اور اُمت مسلمہ کو شریعت اور اسلامی اقدار کی بنیاد پر اجتماعی زندگی کا نقشہ تعمیر کرنے کے عزائم سے روکنے کا پیش خیمہ ہے۔ یہ اسلام کی اصلاح بالفاظ دیگر مرمت کرنے(reforming Islam) اور دنیا میں اسلام کونئی شکل دینے (restructuring) کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
حکمت عملی میں یکسانیت:
معرکہ عراق اور حدود پر یورش میں تیسری مماثلت اُس تکنیک میں ہے جس سے ان معرکوں کے لیے صف بندی کی گئی ہے۔ دستور قانون اخلاقی، سیاسی روایات سب کو بالائے طاق رکھ کر ایک فرد واحد کا قوت اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو استعمال کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر کسی ملک کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ دوسرے آزاد ممالک پر فوج کشی کرے لیکن عراق پر اقوام متحدہ کو نظر انداز کر کے بش نے اقدام کیا اور یہاں جنرل پرویز مشرف نے اپنی وردی کے سہارے ارکان پارلیمنٹ کو طاقت کا ہر حربہ استعمال کر کے اپنا آلہ کار بنایا۔ اپوزیشن کو تقسیم کرنے اور سرکاری پارٹی کو بلیک میل کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے۔ پارٹی میں اختلاف کرنے والوں کا منہ بند کیا گیا اور ہر نوعیت کے دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ حدود قوانین کے ناقدین کے سرخیل امتیاز عالم بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ : حدود قوانین میں ترمیم کرنے کی کوششوں کو حکمراں پارٹی مسلم لیگ (ق) اور ملاؤں کی طرف سے سخت مزاحمت پیش آئی ہے۔ صدر مشرف نے بازو مروڑ کر یہ ممکن بنایا کہ مسلم لیگ (ق) سیلیکٹ کمیٹی کے بل کو آگے بڑھائے۔
یہ وہی حربے ہیں جن سے بش نے اپنا نام نہاد حلیفوں کا اتحاد بنایا۔ اسی طرح جنرل مشرف نے حدود کے خلاف جنگ میں حلیفوں کو ساتھ لیا اور ملک کو ایک نظریاتی جنگ میں جھونک دیا۔
جھوٹ اور غلط بیانیاں
حدود قوانین کے خلاف مقدمہ سراسر جھوٹ اور غلط بیانیوں پر مبنی ہے جو اس پوری جدوجہد کو بد نیتی پر مبنی (malafide) ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
حدود قوانین میں بہتری کے لیے ترامیم
ایک بات یہ کہی جارہی ہے کہ ہم قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کرنا چاہتے اور حدود قوانین اور حدود میں فرق کرنا ضروری ہے۔ پھر بڑے دھڑلے سے کہا جاتا ہے کہ حدود قوانین انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور وہ مقدس نہیں، انھیں بدلا جا سکتا ہے۔ ان قوانین میں بہتری پیدا کرنے عملی مشکلات کو دُور کرنے اور قانون کو اس کی اسپرٹ کے مطابق نافذ کیے جانے کے عمل کو موثر بنانے کے بارے میں ہر سوچ بچار جائز بلکہ ضروری ہے اور اس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عملاً اس سلسلے میں کئی کوششیں ہوئی ہیں جن کا کوئی ذکر اس بحث میں نہیں کیا جاتا۔ اگر اسلامی نظریاتی کونسل کی کارروائیوں اور رپورٹوں کا مطالعہ کیا جائے تو ایک درجن سے زیادہ مواقع پر کونسل نے ان قوانین کو موثر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں اور وزارت قانون سے ردو کر کی ہے مگر سیکولر ذہن رکھنے والی انتظامیہ کے ہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
حد زنا آرڈی ننس ۱۰ فروری ۱۹۷۹ء کو ملک میں جاری اور نافذ ہوا۔ اس قانون میں کم از کم پانچ ترامیم گذشتہ ۲۷ برسوں میں ہوئی ہیں جو اس کا ثبوت ہیں کہ حد میں نہیں البتہ حدود آرڈی ننس میں کسی اصلاح یا تبدیلی کی ضرورت ہے تو وہ کی گئی ہے اور کی جاسکتی ہے۔
- ۱۹۸۰ء میں آرڈی ننس کی دفعہ ۲۰ میں ترمیم کرتے ہوئے طے کیا گیا کہ اس آرڈی ننس کے تحت کسی بھی مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ میں ہوگی اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۳۰ کے تحت با اختیار مجسٹریٹ کی عدالت میں نہیں ہوگی۔
- ۱۹۹۷ء میں آرڈی نفس کی دفعہ ۱۵ کی ذیلی دفعہ (۳) میں ترمیم کرتے ہوئے زنا بالجبر کے جرم میں کم از کم چار سال قید کی سزا کی حد مقرر کی گئی۔
- . اسی طرح ۱۹۹۷ء میں ذیلی دفعہ (۴) کا اضافہ ہوا اور گینگ ریپ کی صورت میں ہر ملزم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی۔
- . تعزیر کی صورت میں کوڑوں کی سزا کوختم کیا گیا۔
- ۲۰۰۴ء میں ضابطہ فوجداری میں دفعہ ۱۵۶ کا اضافہ کیا جس کے مطابق زنا بالرضا کے مقدمات میں مقدمے کی تفتیش کے لیے ایس پی سے کم درجے کا کوئی پولیس افسر تفتیش نہ کر سکے گا نیز عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ملزم گرفتار بھی نہیں کیا جائے گا۔
اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ طریق کار کے (procedural) معاملات میں اصلاح کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور آئندہ بھی اس سلسلے میں تجربات کی روشنی میں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں البتہ ضابطے کی اصلاحات کے نام پر حدود کی تبدیلی یا ان کو غیر مؤثر بنادینا قابل برداشت نہیں۔ یہاں ضمناً حکومت کے منفی رویے کی عکاسی کے لیے ایک اور مثال بھی ریکارڈ پر لانا ضروری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹۸۹ء میں زنا بالجبر کے سلسلے میں اپنے ایک فیصلے میں زنا آرڈی ننس کی دفعات ۸ اور ۹ (۴) میں تین ترامیم کا فیصلہ دیا اور صدر مملکت سے گزارش کی کہ یکم فروری ۱۹۹۰ ء تک مذکورہ دفعات میں ترمیم کر دیں ورنہ دستور کے تحت مذکورہ بالا دفعات قابلِ نفاذ نہ ہوں گی اور شرعی قوانین پر عمل ہوگا۔ لیکن حکومت نے ترمیم کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کی شریعہ بینچ میں اپیل کر دی جس کا آج تک فیصلہ نہیں ہوا ہے یعنی ۶ سال سے یہ ترامیم متعلق ہیں۔ حدود قوانین میں ترمیم، بشرطیکہ وہ شریعت کے مطابق اور ان قوانین کے مقاصد کے حصول کے لیے ہو کوئی رکاوٹ نہیں ۔ مخالفت ان ترامیم کے باب میں ہے جو حدود کو ختم یا غیر مؤثر کرنے کے لیے کی جائیں، جیسا کہ حالیہ تحفظ نسواں قانون کے ذریعے کی جارہی ہیں۔
حدود قوانین فردِ واحد کا اقدام دوسری صریح غلط بیانی کا تعلق دن رات کے اس دعوے سے ہے کہ حدود قوانین جنرل ضیاء الحق کا ذاتی اقدام تھا جو سعودی عرب کے دباؤ میں کیا گیا۔ جہاں تک ان کے نفاذ کے لیے صدارتی آرڈی ننس کے طریقے کو اختیار کیے جانے کا سوال ہے وہ ایک حقیقت ہے لیکن اسی طرح کی ایک حقیقت ہے جیسی دوسرے سیکڑوں آرڈی ننس قوانین کی شکل میں ملک کی کتاب قانون میں موجود ہے۔ جنرل ایوب سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک ہر فوجی حکمران نے سیکڑوں قوانین صدارتی فرمان کے ذریعے نافذ کیسے ہیں اور پارلیمنٹ کی موجودگی میں بھی ۹۰ فی صد قانون سازی آرڈی ننسوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اس پر اصولی تحفظات اپنی جگہ لیکن صرف اسی ایک آرڈی نفس کو مطعون کرنا قرین انصاف نہیں۔
جہاں تک محدود قوانین کا تعلق ہے ان کی حیثیت بہت مختلف ہے۔ یہ قوانین کسی انسان کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ قرآن وسنت کے طے کردہ ہیں اور ان پر اُمت مسلمہ کی پوری تاریخ میں عمل ہوتا رہا ہے۔ دور رسالت مآب سے لے کر مغربی استعمار کے قبضے تک یہ مسلمان ممالک میں جاری وساری تھے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی مسلمان بادشاہوں پر تنقید کے ساتھ اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ: حالانکہ اور کچھ ان بادشاہوں کے عہد میں تھا یا نہ تھا لیکن قانون جہاں تک میں جانتا ہوں ہر زمانے میں، مسلمانوں کی کسی حکومت کا کسی ملک میں، کوئی قانون اسلام کے سوا نافذ نہ رہا۔ مسلمانوں کے ہاتھ میں دنیا کی سیاست کی باگ ڈور جب تک رہی اسلامی قانون کے ساتھ اس کی وفاداری مسلسل رہی۔
سلاطین دہلی کے نظام حکومت کی عمومی کیفیت مولانا سعید احمد اکبر آبادی یوں بیان کرتے ہیں: مسلمان بادشاہوں کی یہ خصوصیت رہی کہ ان میں جو بادشاہ متقی اور پرہیز گار تھے وہ تو خیر اسلامی شعائر و حدود کا احترام کرتے ہی تھے ان کے علاوہ جو سلاطین عشرت پسند اور لذت کوش ہوتے (باستثنا معدودے چند ) وہ بھی اسلامی احکام کا احترام ملحوظ رکھنے میں کسی سے کم نہ تھے، نیز عدالتوں کے فیصلے قرآن وحدیث کی روشنی میں ہوتے تھے۔ ہندوستان میں اسلام کا قانون فوجداری صدیوں نافذ رہا۔ یہ کوئی آج کا عجوبہ نہیں۔ ہندو مؤرخ وی ڈی مہاجن لکھتا ہے:
جرائم کی تین قسمیں تھیں، یعنی خدا کے خلاف جرائم ریاست کے خلاف جرائم اور افراد کے خلاف جرائم ۔ سزاؤں کی چار قسمیں یہ تھیں : حد تعزیز قصاص، تشہیر ۔ قرآن وہ بنیاد تھی جس پر قوانین مبنی تھے۔ اکبر تک نے فوجداری جرائم کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جو اسلامی قانون تھا۔
ایک اور ہندو مورخ آرسی موجدار لکھتا ہے:
اسلامی فوجداری قوانین اور سزائیں پورے مغل دور میں نافذ رہیں، حتی ٰکہ اکبر نے بھی فوجداری قانون میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی ۔
حدود کے نفاذ کا قانون کسی خلا میں نہیں بنایا گیا۔ ایک طویل تاریخی روایت کا تسلسل ہے اور اس کی جمہوری اساس مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان پر ہے کسی ووٹ پر نہیں ۔ قیام پاکستان کی جدوجہد میں اسلامی قانون کے نفاذ کا دعویٰ بار بار ہوا اور خود قائد اعظم نے نصف درجن سے زیادہ مواقع پر شریعت اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا ذکر کیا ہے۔ پھر تحریک نظام مصطفیٰ کا مرکزی مطالبہ اسلامی شریعت کا نفاذ تھا جس کا آغاز خود جناب ذوالفقار علی بھٹو نے امتناع شراب کے آرڈی ننس سے کیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے حدود قوانین اس کا تسلسل تھے۔
یہ بھی کہنا غلط ہے کہ جنرل ضیا الحق نے سعودی قانون کا چربہ یہاں نافذ کیا۔ سعودی عرب میں اس سلسلے میں کوئی باضابطہ قانون (legislation) نہیں ہے۔ وہاں جوں کے بنائے ہوئے قانون (Judge made law) کا نظام نافذ ہے جو قرآن و سنت سے براہِ راست استفاده کر کے قانون نافذ کرتے ہیں۔ نیز جو قوانین جنرل ضیاء الحق کے دور میں مرتب ہوئے وہ اس وقت کی اسلامی نظریاتی کونسل کے تیار کردہ مسودے پر بنی تھے ۔ جس کونسل نے یہ مرتب کیے اس میں جسٹس محمد افضل چیمہ ،جناب خالد اسحاق ،مولانا محمد یوسف بنوری، خواجہ فخر الدین سیالوی ،مفتی سیاح الدین کاکاخیل، مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا ظفر احمد انصاری جناب جعفر حسین صاحب مجتہد مولانا محمد حنیف ندوی اور ڈاکٹر ضیاء الدین احمد، علامہ سید محمد رضی، مولانا شمس الحق افغانی اور ڈاکٹر مسز خاور خان چشتی ۔
اس قانون کی تسوید میں کسی سعودی عالم کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جن تین عالمی شہرت کے ماہرین قانون نے مدد کی وہ ڈاکٹر معروف دوالیسی، سابق وزیر اعظم شام، ڈاکٹر مصطفی احمد زرقا ،پروفیسر قانون جامعہ شام اور ڈاکٹر حسن ترابی سابق اٹارنی جنرل سوڈان تھے۔ ڈاکٹر معروف اور ڈاکٹر حسن ترابی فرانس کی سو بورن یونی ورسٹی سے قانون میں پی ایچ ڈی کی سند رکھتے تھے اور یونی ورسٹی پروفیسر کی خدمات انجام دے چکے تھے۔ جس کا بینہ نے اس کی سفارش کی اس میں جناب اے کے بروہی، جناب شریف الدین پیرزادہ جناب غلام اسحاق خان جناب محمد علی خان ہوتی ، جناب چودھری ظہور الہی، جناب خواجہ محمد صفدر، جناب محمد خاں جونیجو تھے اور اس قانون کو مسلم لیگ، جمعیت علماے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام جماعت اسلامی اور نواب زادہ نصر اللہ کی پی ڈی پی کی حمایت حاصل تھی۔ بلاشبہ اس وقت پارلیمنٹ نہیں تھی مگر تین سیاسی جماعتوں کے سوا پوری قوم نے اس کی تائید کی تھی۔ انھیں محض ایک شخص کی اختراع کہنا حقائق کی صحیح ترجمانی نہیں۔
خواتین پر مظالم میں اضافہ تیسری بڑی غلط بیانی یہ ہے کہ قانون کے بننے کے بعد عورتوں پر مظالم میں اضافہ ہو گیا ہے ان کے خلاف امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جیلیں عورتوں سے بھر دی گئی ہیں، زنا بالجبر کے مقدمات میں شہادت نہ ہونے پر زنا بالرضا میں عورتوں کو دھر لیا جاتا ہے، عورتوں کو بے دریغ سزائیں دی جارہی ہیں، اور یہ کہ زنا کے سلسلے میں عورت کی گواہی قبول نہیں کی جاتی وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک ناخوش گوار حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں دوسرے مظلوم طبقات کی طرح عورت ہی ناروا سلوک اور ظلم کا شکار ہے اور اس کی بڑی وجہ جاگیردارانہ نظام بااثر طبقات کا قانون سے بالا ہونا، ہر سطح پر کرپشن، پولیس اور عدالت کے نظام کی خرابیاں اور قانون کے احترام کی روایت کا فقدان ہے۔ اس کا تعلق محض حدود قوانین سے نہیں اور ساری خرابیوں کو ان حدود قوانین سے جوڑ دینا صریح نا انصافی ہے۔ پھر جو دعوے حدود قوانین کے سلسلے میں پورے دھڑلے سے کیے جاتے ہیں وہ ذہنی اختراع سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ ہم صرف چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ ہزاروں خواتین ان قوانین کی وجہ سے جیلوں میں ہیں، حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وومن ایڈ ٹرسٹ کے ایک جائزے کے مطابق جو ستمبر ۲۰۰۳ ء میں ملک کے تین جیلوں کے کوائف پر مبنی ہے صورت حال یہ سامنے آتی ہے: اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کل ۱۲۵ خواتین تھیں جن میں سے ۲۴٫۸ فی صد حدود کے تحت تھیں ۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں یہ تناسب ۴۹ فی صد تھا جہاں کل تعداد ۹۷ تھی ۔ کراچی سنٹرل جیل میں تعداد سب سے زیادہ تھی، یعنی ۲۸۰ اور حدود کے تحت مقدمات میں ماخوذ کا تناسب ۲۸ فی صد تھا۔ ان تین جیلوں میں حدود کے مقدمات میں ماخوذ خواتین کا تناسب اوسطاً اس فی صد تھا۔ حال ہی میں صدارتی آرڈی ننس کے تحت جن خواتین کو جیلوں سے رہا کیا گیا ہے ان کے جو اعداد و شمار اخبارات میں آئے ان سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حدود قوانین کے تحت محبوس خواتین کا تناسب ایک تہائی سے کم تھا۔
اسی طرح حدود قوانین کے اجرا سے پہلے اور ان کے نفاذ کے بعد کے کوائف کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زنا بالرضا کے جرم بننے کے باوجود آبادی میں تناسب کے اعتبار سے کوئی نمایاں فرق نہیں پڑا۔ اگر پاکستان اور بھارت میں جنسی جرائم کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو پانچ سال میں (۱۹۹۱ء تا ۱۹۹۵ء ) بھارت میں جہاں حدود قوانین سے قبل ہی کا برطانوی قانون نافذ ہے پاکستان کے مقابلے میں ۵۰۰ فی صد زیادہ اضافہ ہوا ہے جب کہ بھارت میں صرف زنا بالجبر جرم ہے جب کہ پاکستان میں اس زمانے میں زنا بالجبر اور زنا بالرضا دونوں جرم تھے :
١٩٩١ء ۱۹۹۵ء اضافہ
بھارت میں زنا بالجبر ۹۷۹۳ ۱۳۷۹۵ ۴ء۴۰
پاکستان زنا بالجبر + بالرضا ۱۴۸۲ ۱۲۰۲ ۷ء۷
پاکستان میں زنا اور زنا بالجبر کے واقعات میں جو اضافہ ہوا ہے اگر آبادی میں اضافے کے تناظر میں دیکھا جائے تو کسی اعتبار سے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ حدود قوانین کے بعد جیلیں عورتوں سے بھر دی گئی ہیں۔ زنا بالجبر کے جو واقعات رپورٹ ہوئے وہ ۱۹۴۹ء میں ۵۲۱ تھے ۱۹۸۰ء میں ۷۳۹ ہو چکے تھے۔ ان قوانین کے نفاذ کے بعد ۱۹۸۱ء میں یہ تعداد ۱۰اتھی جو ۲۰۰۴ء میں ۲۳۶۵ ہوگئی ۔ آبادی کے تناسب سے ایک لاکھ میں ۰ ءا اور ۶ء کے درمیان رہی ۔ مسلم معاشرے میں یہ بھی بہت شرم ناک اور افسوس ناک ہے۔ سعودی عرب میں جہاں حدود قوانین کو ٹھیک ٹھیک نافذ کیا گیا ہے جرائم میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی اور آج بھی یونیسکو کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب میں جرائم کا تناسب دنیا میں سب سے کم ہے جب کہ بھارت اور مغربی ممالک میں جہاں کوئی حدود قوانین موجود نہیں، زنا بالجبر نے سوسائٹی کی چولیں ہلا رکھی ہیں۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق جسے پارلیمنٹ میں جولائی ۲۰۰۶ ء میں پیش کیا جانا تھا، ہر آدھے گھنٹے میں ایک عورت کی جبری عصمت دری کی جاتی ہے اور ہر ۷۵ منٹ پر ایک کو قتل کیا جاتا ہے۔ نیز صرف ۲۰۰۴ء میں ۲۰۰۳ء کے مقابلے میں ملک کے ۳۵ بڑے شہروں میں جبری عصمت دری میں ۳۰ فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں برٹش کرائم سروے کے مطابق ۰۵-۲۰۰۴ء میں ۱۶ سال کی عمر سے بڑی خواتین میں سے ۲۳ فی صد نے اعتراف کیا کہ ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک سال میں عورتوں کی کل آبادی کے ۳ فی صد نے اعتراف کیا کہ اس سال ان کی عصمت دری کی گئی ہے۔ پاکستان میں جنسی جرائم کا تناسب ایک لاکھ کی آبادی میں ۶ ءا ہے جب کہ انگلستان میں یہ ۳ فی صد یعنی ایک لاکھ میں ۳۰۰۰ بنتا ہے۔ امریکا میں ۱۹۸۶ء سے ۲۰۰۵ء تک اوسطاً ہر سال ایک لاکھ خواتین جبری عصمت دری کا نشانہ بن رہی ہیں، جسے وہاں forceable rape کہا گیا ہے۔ بحوالہ سرکاری رپورٹ (Crime in the United States 2005)۔ یہ دعویٰ کہ حدود قوانین کی وجہ سے پاکستان میں جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور جیلیں عورتوں سے بھر دی گئی ہیں، سرتا سرا تہام اور غلط بیانی پر مبنی ہے۔ پھر یہ دعویٰ بھی ایک سفید جھوٹ ہے کہ کسی ایسی خاتون کو جو زنا بالجبر کا نشانہ بنی ہو اور الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں اسے زنا بالرضا کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔ شریعت کورٹ کے ججوں اور قانونی ماہرین کا دعوی ہے کہ ایسا ایک واقعہ بھی وجود پذیر نہیں ہوا۔ امریکی محقق پروفیسر چارلس کینیڈی نے پاکستان میں حدود قوانین کے نفاذ پر جو تحقیق کی ہے اس میں پانچ سال کے تمام واقعات اور مقدمات کا تجزیہ کر کے وہ جس نتیجے پر پہنچا ہے وہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے روشن خیال کذب فروشوں کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ان کے جھوٹے دعوے کی حقیقت دیکھی جاسکتی ہے چارلس کینیڈی اپنے مضمون Implementation of the Hudood Ordinance میں، جو اولاً امریکی جریدے Asian Survey میں شائع ہوا تھا اور پھر اس کی کتاب Islamization of Laws and Economy (مطبوعہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیرہ اسلام آباد ۱۹۹۶ء) میں، لکھتا ہے:
شاید حدود آرڈی ننس کا سب سے زیادہ اہم پہلو اس قانون کا خواتین کے حقوق پر مبینہ اثر ہے۔ کئی حالیہ مطالعوں میں یہ کہا گیا ہے کہ ضیاء کا نظام مصطفیٰ اور خاص طور پر حدود آرڈی ننس خواتین سے امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ اسلامیانے کے عمل کے خواتین کے مقام پر جو اثرات ہوئے ہیں، اس کا جائزہ لینا اس مضمون کے دائرے سے باہر ہے۔ ہماری تحقیق حتمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ حدود آرڈی ننس کے نفاذ کے محدود دائرے میں عورتوں کے خلاف کوئی واضح امتیازی رجحان نہیں ہے ۔ حقیقت اگر کچھ ہے تو وہ مردوں ہی کے خلاف تھوڑا بہت جنسی امتیاز ہے۔ حدود آرڈی نفس کے تحت ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالتوں میں جو مجرم قرار دیے گئے ان کے ۸۴ فی صد مرد ہیں، اور جن کی سزائیں وفاقی شرعی عدالت میں برقرار رہیں ان میں ۹۰ فی صد مرد ہیں۔ سب سے زیادہ کھل کر سامنے آنے والی حقیقت تو زنا کی تعزیر کے حوالے سے یہ ہے کہ یہ جرائم کرنے میں کوئی جنسی تفریق نہیں ہے لیکن ڈسٹرکٹ اور سیشن کورٹ سے مجرم قرار پانے والوں کے ۵۶ فی صد اور وفاقی شرعی عدالت سے سزا پانے والوں میں ۹۰ فی صد مرد ہیں۔ ثانی الذکر تحقیق ویز (Weiss) کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے جسے عام طور سے مغربی اور پاکستانی پریس درست سمجھتا ہے کہ پاکستان میں زنا کی سزا مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو زیادہ دی جارہی ہے۔ کسی کو حدود آرڈی نفس کی تنفیذ کے خلاف جائز شکایت ہوسکتی ہے۔ لیکن عورتوں کے خلاف جنسی امتیاز ان میں سے ایک نہیں۔
چارلس کینیڈی نے پہلے پانچ سال (۸۴-۱۹۸۰ء) کے تمام مقدمات کا جائزہ لے کر اعداد و شمار سے اسے ثابت کیا ہے۔ زنا بالرضا کی دفعہ ۱۰ (۲) کے تحت ڈسٹرکٹ کورٹ میں ۱۴۵ مردوں اور ۱۱۴ خواتین کو ملزم قرار دیا گیا لیکن وفاقی شرعی عدالت نے اے مردوں اور صرف ۳۰ خواتین کو سزا دی۔ گویا ۲۵۹ میں سے ۱۵۸ کو رہا کر دیا اور ا۱۰ کی سزا برقرار رکھی، جب کہ زنا بالجبر دفعہ ۱۰ (۳) کے ۱۶۵ مقدمات میں جن میں سیشن کورٹ نے ۱۶۳ مردوں (یعنی ۹۹ فی صد ) اور صرف ۲ خواتین (یعنی صرف ایک فی صد) کو سزا دی تھی لیکن وفاقی شرعی عدالت نے ان ۶۵ متقدمات میں صرف ۵۹ مردوں کی زنا بالجبر کی سزا باقی رکھی۔ دونوں خواتین کو رہا کر دیا اور ان مردوں کو بھی جن کے بارے میں شہادت محکم نہیں تھی۔ پانچ سال میں کل ۱۶۰ افراد کوان دونوں جرائم میں سزا ہوئی اور وہ بھی تعزیری۔
بعد کے اعداد و شمار اس تفصیل سے موجود نہیں لیکن بین الاقوامی یونی ورسٹی سے شائع شدہ کتاب پاکستان میں حدود قوانین حدود قوانین کے نفاذ کے ۲۵ سالہ جائزے میں ۲۰۰۳ ء تک کے جو اعداد وشمار دیے گئے ہیں، وہ اس رجحان کی تائید کرتے ہیں۔ چارلس کینیڈی کے تحقیقی مقالے میں درج شدہ حاصل تحقیق کا خلاصہ اس حقائق کو سمجھنے میں مددگار ہوگا۔ چارلس کینیڈی جس نتیجے پر پہنچا ہے وہ یہ ہے:
ا۔ حدود آرڈی ننس کے نفاذ کے نو سال بعد سب سے بڑا نتیجہ یہ ظاہر ہوتا ہے: حدود آرڈی ننس کے نفاذ کا پاکستان کے فوجداری قانونی نظام پر نہایت معمولی اثر ہوا ہے۔ پاکستان اور مغرب دونوں جگہ عام خیال تھا کہ حدود کا نفاذ ( قطع ید اور رحم) پاکستان میں عام ہو جائیں گے۔ فروری ۱۹۸۸ء تک ملک میں حد کی کوئی سزا نہیں دی گئی ہے۔ حد کی صرف دوسزاؤں کو (دونوں چوری کی) وفاقی شرعی عدالت نے برقرار رکھا ہے۔ یہ دونوں سزائیں سپریم کورٹ نے بعد میں ختم کر دیں۔
۲- اسی طرح حدود آرڈی ننس کے نفاذ سے پاکستان میں عورت کی حیثیت پر کوئی مضرت رساں اثر نہیں ہوا ہے جیسا کہ اکثر الزام لگایا جاتا ہے۔
۳۔حدود کے تحت انصاف فراہم کرنے کے عمل نے زیادہ تر اعلیٰ عدالتوں پر بہت زیادہ بوجھ کی وجہ سے سول لا کے تحت طریق کار کے مقابلے میں بہت کم وقت لیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے قیام نے جس کا فوجداری قانون کا نہایت محدود دائرہ ہے طریق کار کو رواں کیا ہے۔
یہاں یہ اضافہ مفید ہوگا کہ چارلس کینیڈی کی تحقیق کے مطابق وفاقی شرعی عدالت میں ایک مقدمہ اوسطاً چار مہینے میں ہر مرحلہ طے کر کے فیصلے پر منتج ہوتا ہے جب کہ عام عدالتوں میں یہ مدت ۱۸ ماہ سے کئی کئی سال اور کچھ مقدمات میں ۱۵ اور ۲۰ سال پر پھیلی ہوئی ہے۔
۴۔یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے ( گو کہ اس کے لیے شہادت لا نا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کہ حدود کی سزاؤں کا اندیشہ متعلقہ جرائم کے ارتکاب کرنے میں ایک روک (deterrant) ثابت ہوا ہے۔
ان چار ثبت اثرات کے ساتھ چارلس کینیڈی کے اس تحقیقی جائزے سے تین منفی نتائج بھی سامنے آتے ہیں جو غور طلب ہیں:
۵- اس قانون کے نفاذ نے عدالتی اور سیاسی اداروں کے تعلقات میں کوئی واضح تبدیلی نہیں کی ہے نہ اس نے پاکستان میں عدالتی طریق کار کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جسے ہم آخر میں بتائیں گے وہ دوغلا نظام ہے جو ملک پر مسلط ہے یعنی ایک چھوٹے سے دائرے میں شرعی قوانین اور پورا نظام دور استعمار کے تیار کردہ قانونی نظام اور ضابطہ فوجداری اور سول قانون کی گرفت میں !
منفی لحاظ سے دیکھا جائے تو حدود آرڈی ننس کے نفاذ نے خاندانی اور سماجی تنازعات میں ایک اضافی راستہ فراہم کیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت میں اپیل کیے جانے والے مقدمات کے ۵۰ فی صد کا تبدیل ہونا یہ حقیقت سامنے لاتا ہے کہ عدالتوں میں بہت سے مقدمات اس لیے لائے جاتے ہیں کہ سوشل کنٹرول کو رو بہ عمل لایا جا سکے۔ والدین، شوہروں اور سر پرستوں کو معمول کے مطابق سوشل کنٹرول کے جو طریقے مہیا ہیں، حدود آرڈینس کے آنے سے ان کو اضافی طور پر یہ اختیارات حاصل ہوئے ہیں کہ اپنے بچوں یا بیویوں کو حقیقی یا مخفی دھمکیاں دے سکیں۔
آخری نکتہ بھی پاکستان کے سماج اور سیاسی اور معاشرتی نظام اور مجموعی طور پر جو طبقاتی گروہی اور اشرافیہ کے اقتدار کا نظام ہے اس کو سمجھنے اور اس کی اصلاح کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے، یعنی:
آخری بات یہ ہے کہ حدود آرڈی نفس کی زد میں غیر متناسب طور پر پاکستان میں معاشی طور پر کم حیثیت طبقہ رہا ہے۔ متوسط طبقے یا اعلیٰ طبقے کے پاکستانی بہت کم اس کے تحت ملزم قرار دیے گئے ہیں۔ نہ یہ عدالتوں کا قصور ہے نہ قانون کا بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کی ساخت میں موجود عدم مساوات کا عکاس ہے۔
ہم نے ایک غیر مسلم مغربی محقق کے مطالعے اور حاصل مطالعہ کو اس لیے پیش کیا ہے کہ حدود قوانین پر جذباتی اور بیرونی پروپیگنڈے کے زیر اثر کلام کرنے کے بجاے معروضی انداز میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خرابی ان قوانین میں نہیں بلکہ:
۱۔اس سماجی معاشی اور قانونی نظام میں ہے جو دور استعمار کے ورثے میں ہم پر مسلط ہے۔
۲۔ان بااثر طبقات کے ظلم و ستم اور قانون کے غلط استعمال میں ہے جو عوام پر غلبہ پائے ہوئے ہیں۔
۳۔پولیس، زیریں عدالتوں اور مقدمے کے طریق کار کی خرابیوں کی وجہ سے ہے جن کی اصلاح کی طرف سے غفلت برتی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ مقدمے کے طریق کار کا سارا قانون procedural law) وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے دستوری قدغن کے ذریعے باہر کر دیا گیا ہے اور اس باب میں وہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بن کر رہ گئی ہے۔
عورت کی گواهی
ایک اور غلط بیانی جو بڑے دھڑلے سے کی جارہی ہے، عورت کی گواہی کے بارے میں ہے، خصوصیت سے زنا بالجبر کے سلسلے میں۔ بلاشبہ شریعت نے اس زنا کے سلسلے میں حد کے نفاذ کے لیے قابلِ اعتماد مرد گواہوں کی شرط رکھی ہے اور اس کی بڑی مصلحتیں ہیں۔ لیکن جرم زنا اقدام زنا، تشدد اغوا براے زنا و مختبہ گری ان سب کے سلسلے میں تعزیر کے لیے عورت کی گواہی نہ صرف معتبر ہے بلکہ کچھ حالات میں جیسا کہ علامہ ابن قیم نے لکھا ہے ضروری ہے اور معتبر ترین ہے۔ یہی بات وفاقی شرعی عدالت نے اپنے واضح فیصلوں میں کہی ہے اور اس پر عمل کیا ہے۔ اس پر بھی بڑا واویلا ہے کہ زنا بالجبر کی نشانہ بننے والی عورت سے گواہوں کا مطالبہ ظلم ہے حالانکہ زنا بالجبر ہی وہ صورت حال ہے جس میں عورت پر زیادتی کی صورت میں فطری طور پر وہ چیخ و پکار کرے گی اور اس طرح لوگ اس کی مدد کو آسکتے ہیں جو گواہ بن سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات صریح جھوٹ ہے کہ مظلوم عورت کی اپنی گواہی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عورت کی گواہی اس جرم کی صورت میں بڑی اہم اور مرکزی حیثیت کی حامل ہے اور اس کے ساتھ قرائنی شہادت مجرم کے جرم کے ثبوت کا ذریعہ بنتی ہے۔ دور رسالت مآب اور دورِ خلافت راشدہ میں اس جرم کا نشانہ بنے والی خواتین کی گواہی پر سزا ہوئی ہے اور خود پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت عورت کی گواہی پر زنا بالجبر کے مجرموں کو سزا دی ہے۔
آج تک کسی خاتون کو کسی بھی عدالت میں محض اس بنا پر گواہی دینے سے نہیں روکا گیا کہ وہ عورت ہے۔ حد زنا کے ہر مقدمے میں لیڈی ڈاکٹر بطور گواہ عدالتوں میں پیش ہوتی ہیں اور ان کی گواہی کی بنا پر سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ ایسے مقدمات کی تعداد بے شمار ہے جن میں محض عورت کی اکیلی گواہی ہی پر سزائیں دی گئیں۔ اس کی صرف چند مثالیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:
- ایک مقدمے محمد علی بنام سرکار میں ۹/۸ سال کی بچی سے زنا بالجبر کا ارتکاب کرنے والے ملزم کو عمر قید ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ۳۰ کوڑوں کی سزا صرف خواتین کی عینی گواہیوں کی بنیاد پر سنائی گئی۔
- ایک اور مقدمے محمد اقبال عرف بالا بنام سرکار میں زنا بالجبر کی شکار ۱۳ سالہ بچی اور اس کی ۱۰سالہ سہیلی کی گواہی پر ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
- اسی طرح ایک اور مقدمے محمد نعیم بنام سرکار میں چھٹی جماعت کی طالبہ کی گواہی پر تین ملزموں کو ۲۵٬۲۵ سال قید با مشقت اور ۳۰٬۳۰ کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
- اسی طرح عبید الرحمٰن بنام سر کار میں ایک شخص نے اپنی ۱۳ سالہ بھانجھی کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا اور اس کی اکیلی گواہی پر ملزم کو ۲۵ سال قید با مشقت اور محمود اسٹیڈیم رحیم یار خاں میں سرعام ۳۰ کوڑے مارنے کی سزادی گئی۔
وفاقی شرعی عدالت نے اسی موضوع کو زیر بحث لاتے ہوئے ایک مقدمہ رشیدہ پٹیل بنام وفاق پاکستان میں درج ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے:
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام اپنے منفرد معاشرتی نظام میں خواتین کو بار شہادت سے حتی الوسع بری الذمہ رکھنا چاہتا ہے۔تاہم خصوصی حالات میں اگر کوئی واقعہ (بشمول حدود وقصاص) صرف ان کی موجودگی ہی میں درپیش ہو اور کوئی مرد موجود نہ ہویا ان کی تعداد ان کے بغیر مطلوبہ نصاب شہادت کے مطابق نہ ہویا وہ واقعہ اندرون خانہ ہی وقوع پذیر ہوا ہو تو ایسی صورتوں میں ان کو شہادت سے روکنا ان کی گواہی کو نا جائز سمجھتے رہنے پر اصرار کرنا اور ایسے مقدمات میں سرے سے ان کو ساقط الاعتبار ٹھیرانا قرآن مجید کے عمومی احکام سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ اس کے مثالی نظام عدل سے اور نہ اسوہ حسنہ اور عہد خلافت راشدہ سے اس کی تائید کی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر ان اداروں میں جہاں صرف خواتین کام کرتی ہیں یا رہائش پذیر ہوتی ہیں (مثلاً گرلز ہوسٹل، نرسنگ ہوم و یمن سنٹر وغیرہ) یا ان اوقات میں جب ان کے مرد گھروں میں موجود نہ ہوں، اگر اس قسم کے جرائم کا ارتکاب ہو تو ایسی صورت میں اثبات جرم کا کیا طریقہ ہوگا ؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ایسے مقامات جہاں صرف خواتین ہی گواہ ہوں یا صرف غیر مسلم موجود ہوں اس جرم کے ارتکاب کی شہادت دینے کون آئے؟ بہر حال ہمارے نزدیک مخصوص حالات میں خواتین کی گواہی حدود و قصاص سمیت سب معاملات میں کی جاسکتی ہے البتہ ایسی شہادتوں پر حد کی سزا نہیں دی جائے گی اور صرف تعزیری سزا کے لیے انھیں قبول کیا جائے گا۔
ہمیں اس سے انکار نہیں کہ دوسرے تمام قوانین کی طرح حدود قوانین کو بھی پولیس اور مفاد پرست طبقات نے حتی ٰکہ کچھ حالات میں ظالم رشتہ داروں یا سابق شوہروں نے غلط استعمال کیا ہے اور اس کی سب سے شرم ناک مثال حدود آرڈی ننس کی دفعہ ۱۶ کا غلط استعمال ہے جس میں عورت ملزم ہو ہی نہیں سکتی لیکن اس کے باوجود سیکڑوں خواتین کو اس دفعہ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے لیکن ان تمام زیادتیوں کا ازالہ حدود قوانین کو تبدیل کرنے سے نہیں، نظام کی اصلاح سے ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے بار بار اس طرف متوجہ کیا ہے مگر حکومت اور پارلیمنٹ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہم وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کا ایک حصہ نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ خرابی کہاں ہے۔ غلام نبی کا ٹھیو بنام سرکا ر ایک عبرت ناک منظر پیش کرتا ہے۔
ایک مقدمے میں ایک شخص نے حسن جونیجو ولد محرم جونیجو کے خلاف مقدمہ درج کروایا کہ اس نے اس کی بیٹی مسماۃ بے نظیر کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن متعلقہ پولیس افسر نے مقامی زمیندار کے کہنے پر اصل ملزم کو گرفتار کرنے کے بجاے مقامی زمیندار کے ایک مخالف غلام نبی کا ٹھیو ولد مہرو کا ٹھیو کو نہ صرف گرفتار کیا بلکہ پورا مقدمہ اسی کے خلاف قائم کیا جس کے نتیجے میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اسے ۱۰ سال قید بامشقت اور ۲۵ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت عالیہ نے اس مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پولیس کا رویہ حیران کن اور متعلقہ حج کا رویہ اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ ایک سینئر جج جو سیشن جج کے مرتبے پر فائز ہے اور پورے حیدر آباد ڈویژن کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کا جج ہے اس سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی جو اس نے کیا۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فاضل جج جناب عبدالغفور حسین نے چالان کے مندرجات کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ورنہ اس پر صورت حال واضح ہو جاتی ۔ ملزم چونکہ غریب آدمی تھا اور وکیل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا تھا، لہٰذا اس کے مقدمے کی سماعت بغیر وکیل کے ہوئی۔ وہ چونکہ غیر تعلیم یافتہ اور ان پڑھ آدمی تھا لہٰذا اپنا دفاع کرنے کے قابل نہ تھا۔ لہٰذا یہ عدالت کی ذمہ داری تھی کہ ایک ایسے شخص کو انصاف فراہم کرتی جو پولیس اور مقامی زمیندار کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوا تھا۔ پولیس افسر سے جب اس بات کی وضاحت طلب کی گئی کہ اس نے حسن کے بجاے غلام نبی کو کیوں گرفتار کیا۔ اس نے کہا کہ حسن اصل میں غلام نبی کا بھائی تھا اور مدعی مقدمہ نے غلطی سے غلام نبی کے بجاے اس کے بھائی حسن کا نام لکھوا دیا۔ لیکن وہ یہ محسوس نہ کر سکا کہ جس فرد کا نام ایف آئی آر میں ہے وہ غلام نبی کا بھائی نہیں ہوسکتا کیونکہ حسن محرم کا بیٹا ہے اور اس کی ذات جونیجو ہے، جب کہ غلام نبی مہرو کا بیٹا ہے اور اس کی ذات کا ٹھیو ہے۔ مختلف ذات اور مختلف ولدیت کے افراد آپس میں بھائی کیسے ہو سکتے ہیں۔ فیصلہ مکمل کرنے سے پہلے ہم کچھ سوالات اٹھانا چاہیں گے :
۱- آخر کب تک پولیس اور زمینداروں کے ہاتھوں اس ملک میں غریب اور معصوم ظلم کا شکار ہوتے رہیں گے؟
۲۔آخر کب تک اصل مجرموں کو چھوڑا جاتا رہے گا اور بے گناہ لوگوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا ؟
۳۔ آخر کب تک یہ نا انصافیاں جاری رہیں گی اور قانونی طریق کار کو غلط طور پراستعمال کیا جاتا رہے گا؟
۴۔ آخر کب تک معصوم شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی واضح پامالی ہوتی رہے گی؟
۵- آخر کب تک اس ملک کے معصوم ان پڑھ اور غریب شہری جو کہ اسی طرح انسان ہیں جس طرح دولت مند نام نہاد طاقت ور اور بڑے شہری ہیں ان افراد اور حکام کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہوتے رہیں گے جن کی ذمہ داری ہے کہ ان کی زندگی آزادی عزت جایداد اور عقائد کی حفاظت کریں۔ عدلیہ انتظامیہ پولیس اور تمام متعلقہ لوگوں پر ان سوالوں کا جواب قرض ہے۔
نسواں بل میں قرآن و سنت کے خلاف ترامیم
ہمارے اس جائزے سے یہ حقیقت ثابت ہو جاتی ہے کہ اصل حدود قوانین پر تنقیدسراسر غلط اور بے محل ہے بلکہ یہ کذب غلط بیانی اور بددیانتی پر مبنی ہے۔ البتہ جہاں اصلاح کی ضرورت ہے وہ حدود قوانین اور تمام قوانین کے نفاذ کے نظام : پولیس انتظامی اور عدالتی مشینری عوام اور سرکاری کار پردازوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے نظام احتساب (accountablity) میں ہے۔ تحفظ نسواں کے نام پر ان اصل خرابیوں کی طرف توجہ دیے بغیر حدود قوانین میں ایسی تبدیلیاں کرنے کی شرم ناک جسارت کی جارہی ہے جو شریعت کے مسلمہ احکام کے خلاف ہیں اور قرآن وسنت کے نصوص اور ان کی اسپرٹ سے متصادم ہیں ۔ ہم برادر عزیز و محترم مولانامحمد تقی عثمانی کا مقالہ اس شمارے میں شائع کر رہے ہیں جو اس کے مختلف پہلوؤں کو مسکت دلائل کے ساتھ واضح کر دیتا ہے۔ ہم صرف اختصار کے ساتھ اتمام حجت کے لیے اس قانون کے ذریعے قرآن وسنت کے خلاف کی جانے والی ترامیم کا ذکر کر دیتے ہیں۔
قرآن وسنت اور اجماع کی رُو سے زنا بالرضا کی طرح زنا بالجبر بھی حد ہے لیکن اس قانون کے ذریعے حدود قوانین کی دفعہ ۶ اور۷ کو منسوخ کر کے زنا بالجبر کی حد کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حدود قوانین کی دفعہ ۴ اور ۵ جنھیں باقی رکھا گیا ہے ان کا تعلق صرف زنا بالرضا سے ہے اور زنا بالجبر ان کے دائرے سے باہر ہے۔ اور نئی دفعہ جو زنا بالجبر (rape) کے بارے میں ضابطہ فوجداری میں شامل کی جارہی ہے اس میں حد کی سزا نہیں ہے بلکہ دریدہ دینی کی انتہا ہے کہ اس قانون کے مقاصد کی تشریح کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے: ”زنا بالجبر کے جرم کے لیے حد نہیں ہے اس کے لیے تعزیر ہے۔ یہ قرآن وسنت کے خلاف اتہام اور ایک جرمِ عظیم ہے اور اللہ سے بغاوت کے مرتادف ہے۔
۲۔زنا بالرضا کو ضابطوں کی تبدیلی کے ذریعے ریاست اور معاشرے کے خلاف جرم (crime against state and society) کی جگہ جو اسلام کے تصور قانون کا حصہ ہے صرف فرد کے خلاف جرم کی سطح پر لے آیا گیا ہے جو اسلام کے فلسفہ قانون کی نفی ہے۔
۳۔حدود قوانین کی دفعہ ۳ کو منسوخ کر کے شرعی قوانین اور احکام کی دوسرے قوانین پر بالا دستی کو ختم کر دیا گیا ہے جو اسلام کے پورے نظام قانون پر ایک ضرب اور اس کی بے وقعتی کے مترادف ہے۔
۴۔ اسلامی قانون میں حدود اور تعزیرات ایک جامع نظام کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ حدود قوانین میں متعلقہ تعزیری احکام بھی شامل کیے گئے تھے۔ ان تمام احکام کو حدود قوانین سے نکالنا اسلام کے نظام قانون پر ضرب اور اسلام سے انحراف ہے اور قانون کے دو غلے نظام (dual system) کو جو ویسے بھی غلط ہے ان جرائم پر بھی مسلط کرنا ہے جو حدود کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس کے دو بڑے اہم نتائج ہوں گے: ایک یہ کہ یہ تمام جرائم وفاقی شرعی عدالت کے دائرے سے باہر ہو جائیں گے اور ہر کارروائی عام عدالتوں میں ہوگی اور دوسرے یہ کہ عام سیکولر قوانین، خصوصیت سے عائلی قوانین، جن کا گہرا تعلق ان حالات سے ہے ان کو اپنے اپنے دائرے میں بالا دستی حاصل ہو جائے گی اور شرعی قوانین کی ان پر بالا دستی ختم ہو جائے گی۔ دستور کی دفعہ ۲۲۷ اس سلسلے میں بے کار ہے اس لیے کہ اس کے نتیجے میں کسی سیکولر قانون پر شرعی قانون کی بالا دستی نافذ نہیں کی جاسکتی۔
۵۔ حد کے معاملے میں کسی حکومت حتیٰ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تخفیف یا معافی کا اختیار نہیں۔ اس نئے قانون کے نتیجے میں صوبائی اور مرکزی حکومت کو سزا میں تخفیف یا معافی کا اختیار مل جاتا ہے جو قرآن وسنت کے احکام کے خلاف ہے۔
۶۔قذف کے قانون میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ بھی قرآن وسنت کے احکام کے خلاف ہیں۔
۷۔لعان کے بارے میں بھی شریعت کے احکام کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اسے صرف طلاق کا ایک سبب بنا دیا ہے جب کہ شریعت کے مطابق قسم نہ کھانے کی صورت میں سزا اور اعتراف کی صورت میں حد کا اطلاق ہوتا ہے۔
یہ سات چیزیں مجوزہ قانون میں صراحتاً قرآن و سنت کے خلاف ہیں اور اگر ان کو پارلیمنٹ ملکی قانون کا درجہ دیتی ہے تو یہ قرآن وسنت سے بغاوت کے مترادف ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس پر ملک گیر احتجاج کیا جائے اور اسمبلی سے مستعفی ہو جایا جائے۔ اللہ کی ایک حد کو قائم کرنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ۴۰ سالوں کی بارشوں سے بہتر ہے اور ایک حد کو جانتے بوجھتے پامال کرنا تمام حدود سے بغاوت کے مترادف ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت یا ایک حکم کا انکار پورے قرآن کے انکار کے مترادف ہے اور انسان کو اگر وہ جانتے بوجھتے اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو کفر اور ارتداد کی طرف لے جاتا ہے۔ اور اس بارے میں مداہنت پورے دین سے مداہنت قرار پائے گی۔ نیز یہ جرم اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ اگر کسی ملک میں شرعی حدود کتاب قانون کا حصہ نہیں ہیں تو یہ ایک کوتا ہی اور نافرمانی ہے لیکن ایک مرتبہ کتاب قانون کا حصہ بنانے کے بعد اسے خارج کرنا صریح انکار بغاوت اور احکام الہی پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔
ایک معمولی مثال سے اسے یوں سمجھیے کہ روزہ نہ رکھنا ایک گناہ اور کوتاہی ہے مگر روزہ رکھ کر توڑ دینا ایک جرم ہے اور اس کا کفارہ ہے ( اور کفارہ بھی بہت سخت کہ مسلسل ۶۰ دن تک روزے رکھے جائیں) اور روزہ کو حکم الہی ماننے سے انکار کفر کا درجہ رکھتا ہے اور انسان کو ارتداد کی سرحدوں پر لے جاتا ہے۔ جنرل مشرف اور ان کے حواری اس قانون کے ذریعے جو کام کر رہے ہیں وہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے والا عمل ہے اور اُمت مسلمہ کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اور اگر اس پر بھر پور احتجاج نہ کیا جائے اس اقدام کو روکنے کے لیے مؤثر جدو جہد نہ کی جائے اور اگر یہ مسلط کر دیا گیا ہے تو اسے بدلنے کے لیے ہر ممکن اقدام نہ کیا جائے تو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے وفائی ہوگی جو اپنی دنیا اور آخرت خراب کرنے کا راستہ ہے۔ یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل، کوئی اگر دفتر میں ہے۔



