سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ اور صدر زرداری کا طبل ِجنگ

پروفیسر خورشید احمد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اشارات
جمہوریت میں عوام کے ووٹ اور انتخابی عمل کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے لیکن جمہوریت پر اس سے بڑے ظلم کا تصور مشکل ہے کہ اسے مخلص انتخابی عمل تک محدود کر دیا جائے۔ قیادت کا انتخاب بلا شبہ عوام کی آزاد مرضی سے ہونا چاہیے اور عوام کے سامنے قیادت کی باربار جواب رہی انتخابی عمل کا اہم ترین حصہ ہے۔ تاہم جمہوریت کا اصل جو ہر قانون کی حکمرانی اور دستور کے تحت تمام اداروں کی کارفرمائی ہے، اور ان حدود کی پاس داری ہے جو کاروبار ریاست کی انجام دہی کے ضمن میں ہر ادارے کے لیے دستور نے قومی اتفاقی راے سے مقرر کی ہیں۔ جمہوری نظام کی کامیابی کے لیے بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی آزادی، راے کے اظہار کی ضمانت، صحافت کی آزادی اور قیادت کا پارلیمنٹ ، قانون اور عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ضروری ہے۔
جمہوری ریاست اور معاشرے میں تمام ادارے دستور اور قانون کی پیداوار ہوتے ہیں۔ ان اداروں کے درمیان مکمل تعاون اور توازن ہیں جمہوری نظام کی کامیابی کے ضامن ہوتے ہیں۔ جو بھی قانون سے بالاتر ہونے یا دستوری تحدیدات اور مواقع سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل جمہوریت پر میشہ چلانے کا مجرم ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ یہاں جمہوری عمل کو خطر ہ باہر کی قوتوں سے کہیں زیادہ، اندر کے طالع آزماؤں اور ذاتی مفاد کے امیروں سے رہا ہے۔ اگر قوم اور ملک کی سیاسی قیادت موجودہ حالات میں دستور کی تمام اور جمہوری عمل کے آداب و روایات کی مکمل پاس داری کے باب میں کسی طرح کی کرنا بھی دکھاتے ہیں تو یہ ملک اور اس کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ہوگا فوجی آمر سے نجات ، عدلیہ کی بحالی اور صحافت کی آزادی سے جمہوری عمل کے فروغ اور احکام کے جو مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہ ذراسی غلطی سے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
قومی مصالحتی آرڈی ننس (این آراو) کے بارے میں ۱۲ دسمبر ۲۰۰۹ء کے سپریم کورٹ کے۱۷رکنی فل بنچ کے متفقہ فیصلے سے ملک میں قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے اور اسے کرپشن اور بد عنوانی کی سیاست سے بچانے کے جو روشن امکانات پیدا ہوئے ہیں، وہ زرداری گیلانی حکومت کے جار حانہ اور گاہے بچگانہ رویے سے معروضِ خطر میں پڑ سکتے ہیں۔ ۲۷ دسمبر کو بے نظیر بھٹو صاحبہ کی دوسری برسی پر صدر آصف علی زرداری صاحب نے جو تقریر کی ہے اور جس لب ولہجے میں کی ہے وہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے ایک فال بد اور قومی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔ زرداری صاحب اور ان کے حواریوں کی طرف سے پہلے بوکھلاہٹ اور پھر تصادم کی سیاست کے اشارے تو ۱۷ دسمبت ہی سے ملنے لگے تھے لیکن طبلِ جنگ اب ۲۷ دسمبر کو بجایا گیا ہے۔
نام نہا دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ کو جس طرح پاکستان کی جنگ بنا دیا گیاہے، اس نے ایک طرف ملک کی آزادی اور خودمختاری پر کاری ضرب لگائی ہے، دوسری طرف ملک کو لاقانونیت، تشدد، خانہ جنگی، اور معاشی تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جس قومی یک جہتی اور سیاسی بالغ نظری کی ضرورت ہے، موجودہ پر پر اقتدار قیادت کا د امن اس دانش سے خالی نظر آ رہا ہے، اور جس راستے پر یہ قیادت آگے بڑھنے لگی ہے وہ تصادم اور تباہی کا راستہ ہے۔ امریکا کی جنگ سے خلاصی، معاشی مسائل کے حل اور ملک اور جمہوریت کی اصل دشمن قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے بجائے وہ عدلیہ ، فوج ، میڈیا اور حزبِ اختلاف کو نشانہ بنانے کی خطرناک حکمت عملی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کا یہ عمل خودان کے لیے اور پھر وطن عزیز کے لیے ایک خودکش حملے سے کم نہیں۔ یہ وقت تصادم کا نہیں، قومی سلامتی اور پاکستانی قوم اور معاشرے کی حقیقی ترجیحات کی روشنی میں حقیقی قومی مفاہمت پیدا کرنے ، اور دستور کی مکمل پاس داری کے ذریعے درپیش سنگین مسائل کا حل تلاش کرنے کا ہے۔
عوام نے پیپلز پارٹی کو جو اختیار حکمرانی فروری ۲۰۰۸ ء کے انتخابات کے ذریعے دیا تھا، بد قسمتی سے اسے موجودہ حکمرانوں نے یکسر نظر انداز کر دیا ہے، اور اس کی ساری تگ و دوذاتی مفادات کے حصول پر مرکوز نظر آرہی ہے۔ بد انتظامی اور بد عنوانی کے سیلاب نے پورے ملکی نظام کی چولیں ہلا دی ہیں۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے اور اصل مسائل کے حل کے لیے مل جل کر حکمت عملی اور نقشہ کا ربنانے اور اس پر سختی سے کاربند ہونے کا راستہ اختیار کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ۳۱ جولائی اور۱۶دسمبر ۲۰۰۹ء کے فیصلوں کے ذریعے جو شمع روشن کی ہے، اس سے تاریکیوں کا سینہ چیر کر ملک کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ اس کا راستہ با ہم مشاورت دستور کا احترام، قانون کی پاسداری، مفاد کی سیاست سے اجتناب اور ملک کی آزادی، سلامتی اور نظریاتی تشخص کی حفاظت کے ساتھ عوام کی مشکلات اور مصائب کو حل کرنے کی بھر پور کوشش ہے۔ پاکستان نہ کل ایک نا کام ریاست تھا اور نہ آج ایسا ہے۔ ناکامی اگر ہے تو وہ قیادت کی ہے اور ابھی وقت ہے کہ حالات کو تباہی کے راستے پر جانے سے بچانے کے لیے قومی یک جہتی کے حصول اور صحیح حکمت عملی کی ترتیب و تنفیذ کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نام نہاد قومی مصالتی آرڈی نفس کی اصل حقیقت اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مضمرات اور تقاضوں کو ٹھیک ٹھیک کھا جائے۔ این آر اوزده قیادت نے حالات کو جو زاویہ نظر دینے کی کوشش کی ہے، اس کا پردہ چاک کر کے اصلاح اور نجات کی راہ کو واضح کیا جائے۔ پاکستان کی آزادی اور خود مختاری، دستور، قانون اور پارلیمنٹ کی بالادتی کو یقینی بنایا جائے تا کہ بد عنوانی کی سیاست سے نجات اور عوام کے حقوق کی حفاظت اور مسائل کے حل کی عوامی جد و جہد میں سرگرم حصہ ادا کیا جاسکے۔
ملکی تاریخ کا شرمناک باب
وہ آرڈی ننس جو جنرل پرویز مشرف نے فوجی وردی میں اپنے ناجائز صدارتی انتخاب( ۲ اکتوبر ۲۰۰۷ء) سے صرف ۲۴ گھنٹے پہلے قومی مصالحت کے نام پر جاری کیا تھا، وہ پاکستان کی تاریخ کا نہایت شرمناک فرمان تھا۔ یہ فرمان دنیا کی تاریخ میں اس پہلو سے منفرد تھا کہ بد عنوانی تو انسانی زندگی پر ایک بدنما اور قابلِ ندمت داغ کی حیثیت سے ہمیشہ سے رہی ہے، لیکن اس داغ کو مفاہمت کے نام پر دستور، قانون، اخلاق اور سیاسی اصول و آداب کا خون کر کے بے حمیتی کے ساتھ دوسیاسی قوتوں کا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسے قانون قرار دیا، اور اس سیاہ کاری کو’’ تمغا ئے بحالی جمہوریت‘‘کا نام دیا نہ ماضی میں کہیں دیکھنے میں آیا اور نہ مستقبل میں کسی مہذب معاشرے میں یہ ممکن ہوگا لیکن یہ سیاہی جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے نہ صرف اپنے چہرے پر ملی بلکہ پاکستان کے چہرے کو بھی داغ دار کیا۔ اب کہ جب سپریم کورٹ نے سیاسی قیادت کو اصلاح احوال کا ہر موقع فراہم کرنے کے بعد اس نام نہاد قانون کو کالعدم قرار دیا ہے تو اپنی غلطی کے اعتراف کے بجاۓ جمہوریت کے خلاف سازشوں کا افسانہ تراشا جا رہا ہے اور ملک کو ایک نئے تصادم اور انتشار کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
ریکارڈ کی درستی کے لیے ضروری ہے کہ قوم کے سامنے تمام حقائق بے کم و کاست پیش کیے جائیں۔ حق وانصاف اور پاکستان اور جمہوریت کے مفاد میں وہ راستہ اختیار کیا جائے، جو اصلاح احوال کا ذریعہ بنے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت کسی کو ادا کرنی پڑے۔ ہم ان تمام حقائق کو جن کو سمجھے بغیر قوم اصل صورت حال کا ادر اک اور خرابیوں کی تلافی کا اہتمام نہیں کر سکتی، پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
’’میثاقِ جمہوریت ‘‘جس پرلندن میں ۴امئی ۲۰۰۶ کو دیگر چھوٹی پارٹیوں کے علاوہ پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بے نظیر بھٹو اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے دستخط کیے اور جس کی تیاری میں تقریباً دو سال لگے ، اس معاہدے کو سب ہی نے پاکستان میں جمہوریت اور دستور کی بالادستی کی طرف ایک سنگ میل قرار دیا۔ اس میں مِن جملہ اور عہد و پر ان کے، یہ باتیں طے کی گئی تھیں۔
۱۔ بد عنوانی اور سیاسی انتقام سے نجات اور ارباب اختیار کی حقیقی اور مبنی بر انصاف جواب دعا کے لیے ایک سچائی اور مفاہت کا کمیشن( Truth and Reconciliation Commission) قائم کیا جائے گا ، جو ۱۹۹۲ء سے تمام حالات کا جائزہ لے کر ملک کے مجرموں کی گرفت کرے، اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والوں کی پاک دامنی کے اظہار کی راہ ہموار کرے۔
ب۔ عوام کے مینڈیٹ کے مکمل احترام کے ساتھ اس میں یہ بھی عہد و پیمان کیا گیا تھا کہ: ہم کسی فوجی حکومت یا فوج کی حمایت یافتہ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔ کوئی پارٹی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے، یا اقتدار میں آنے کے لیے فوج کی حمایت حاصل نہیں کرے گی۔
لیکن جس وقت اس میثاق کی نوک پلک درست کی جارہی تھی اور اس پر دستخط ثبت کیے جارہے تھے اس وقت پیپلز پارٹی کی قیادت، دوسری سیاسی پارٹی (مسلم لیگ ن ) اور قوم کوتاریکی میں رکھ کر جنرل پرویز مشرف اور اس کے باوردی نمائندوں سے سیاست کے نئے نقشے کے خدوخال طے کر رہی تھی جس کا حاصل نام نہاد قومی مصالحت کا آرڈی ننس ہے۔ اس کا اعلان پرویز مشرف نے ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۷ء کو کیا اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اسمبلیوں سے استعفا دینے کے بجائے پرویز شرف کے بے معنی صدارتی انتخاب کے بعد، اس کے ساتھ سیاسی اشتراک کا معاملہ طے کیا۔ اس طرح ملک پر وہ قانون مسلط کیا جس کے ذریعے قومی دولت لوٹنے، اختیارات کے غلط استعمال کرنے اور تھی کہ فوجداری جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو دستور، قانون اور اخلاق کے تمام قاضوں کو بالائے طاق رکھ کر پاک دامنی کا سرٹیفیکیٹ دیا جا سکے، تا کہ وہ اس ناپاک عسل کے ذریعے ایک بار پھر قوم کی قسمت سے کھیلنے کے لیے اقتدار پر براجمان ہو سکیں۔
جنرل پرویز مشرف سے اس زمانے میں سارے معاملات طے کرنے کی داستان خود بے نظیر صاحبہ نے اپنی کتاب Reconciliation ( مفاہمت ) میں بیان کی ہے، جس سے چند اقتباس صرف اس لیے پیش کیے جارہے ہیں کہ اس دوغلی سیاست کا اصل چہرہ خود ان کے الفاظ میں دیکھا جا سکے۔ مشرف کے دور کے آغاز سے اس کی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مسلسل مکالمہ جاری رہا۔
اس کا ایک نمونہ موصوفہ کے الفاظ میں وہ رابطہ بھی ہے جو ۲۰۰۲ ء میں آئی ایس آئی کے اعلیٰ باوردی ذمہ داروں کی آصف زرداری صاحب سے ملاقات کی صورت میں سامنے آیا جس کے دوران میں خودان سے، جب وہ کیلی فورنیا، امریکا میں تھیں مشورہ کیا گیا اور معاملہ طے کرنے کے لیے شرائط پیش کی گئیں۔ پھر ۲۰۰۴ء میں آصف زرداری صاحب کی رہائی عمل میں آئی۔
اس کے بعد جنرل مشرف سے بے نظیر صاحبہ کی ملاقات کا انتظام شروع ہوا اور بقول بے نظیر بھٹو، جنرل صاحب کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کے لیے میری اس شرط پر عمل ہوا کہ جنرل مشرف نے خود مجھ سے ٹیلی فون کر کے اپنے نمائندوں کے مینڈیٹ کا اعتراف کیا۔ ادھر مئی ۲۰۰۶ء کے میثاق جمہوریت پر دستخط ہو رہے تھے اور ساتھ ہی مشرف سے سلسلہ جنبانی اپنے عروج پر تھا اور بالآخر اگست۲۰۰۶ ء میں جنرل مشرف سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا اور بطور اعتماد سازی اقدام اس قانون کو اسمبلی سے منظور کرایا گیا، جس میں حدود قوانین میں ترمیم کی گئی تھی۔ جنرل شرف اور اس کی ٹیم سے جو معاملات طے ہو رہے تھے، ان میں لندن اور واشنگٹن کے حکمران بھی شریک تھے اور فوجی قیادت میں اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ بھی۔ اس سیاسی جوڑ توڑ اور معاملہ طے کرانے میں، یہ بھی کردار کویا ضمانت کار کی حیثیت رکھتے تھے پھر جنوری ۲۰۰۷ ء اور جولائی ۲۰۰۷ء میں بے نظیر صاحبہ اور جنرل مشرف کی ملاقاتیں ابوذہبی میں شیخ زاید کے محل میں ہوئیں اور اس طرح ہر دو اطراف کے نمائندوں کی شب و روز کی محنت سے اکتوبر ۲۰۰۷ میں این آراو کی ولادت واقع ہوئی ۔امریکا، انگلستان، بے نظیر صاحبہ اور جنرل شرف میں جرائم کی سیاہی کو پاک دامنی کا چوغا پہنانے کا جو معاہدہ ہوا، اس کا اصل مقصد انھی کے الفاظ میں یہ تھا کہ موڈریٹ یعنی روشن خیال قیادت کو بر سر اقتدار لایا جائے اور جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی مل کر آگے کے مراحل کو طے کریں:
جنرل مشرف اور ان کے نمائندے مجھے برابر یقین دلاتے رہے کہ اسٹریٹجک فیصلہ کیا جاچکا ہے کہ انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں، اعتدال پسند فورم بنا کرمل جل کر کام کیا جائے۔اس سلسلے میں دستاویزات کا با قاعدہ تبادلہ ہوتا رہا اور بے نظیر صاحبہ کے الفاظ میں: ’’ این آراو کے تبادلے میں ہماری طرف سے یہ کیا گیا کہ ہم نے اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیے گو کہ اس کو ووٹ بھی نہیں دیا ‘‘۔
اس کہانی سے صاف ظاہر ہے کہ این آراو کا قانون اپنی اصل کے اعتبار سے دستور، قانون، سیاست اور اخلاق ، ہر پہلو سےغلط اور گندا قانون تھا، بلکہ انگریزی محاورے میں: it was conceived in sin and fraud’’اس کی تشکیل میں دھوکا دہی اور گنا ہ دونوں شامل تھے۔‘‘
اب یہ جناب نواز شریف ہی کی ’’وسعت قلبی ‘‘ہے کہ اس پوری داستان سے واقفیت کے باوجود وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں شریک ہوئے، پھر وعدہ خلافیوں کے نام پر باہر نکلے اور اب تک فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
قانون اور انصاف کا خون
آئے اب دیکھیں کہ یہ قانون تھا کیا اور اس کے ذریعے کس طرح دستور، قانون، انصاف، سیاست اور اخلاق کو قتل کیا گیا۔
ا۔ اس کے ذریعے ۱۸۹۸ کے ضابطہ قانون فوجداری ( Code of Criminal Procedure) کی دفعہ ۴۹۴ میں ترمیم کی گئی کہ وہ تمام فوجداری مقدمات جو یکم جنوری ۱۹۸۶ء سے لے کر ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ء تک قائم کیے گئے ہیں، ان کو مقدمے کی تکمیل کے بغیر ایک نظر ثانی بورڈ کے ذریعے مرکز اور صوبوں میں ختم کیا جاسکتا ہے۔
۲- عوامی نمائندگی کے قانون ۱۹۷۶ ء میں یہ ترمیم کی گئی کہ ریٹرننگ افسر الیکشن کے نتائج کی ایک نقل امیدوار اور اس کے نمائندوں کو دے گا۔
۳۔قومی انتساب آرڈی ننس ۱۹۹۹ء میں یہ ترمیم کی گئی کہ کسی رکن پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کو کسی پارلیمانی اخلاقی کمیٹی کی سفارش کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔
۴- اسی قومی انتساب آرڈی نفس میں یہ ترمیم کہ نیب کے وہ تمام مقدمات جو ۱۲ را کتوبر ۱۹۹۹ء سے قبل ملک کے اندریا ملک سے باہر چلائے گئے ہیں، فوراً واپس لے لیے جائیں گے۔ ان کے صاف معنی یہ ہیں کہ فوجداری اور بد عنوانی کے وہ تمام مقدمات جو ۱۹۸۶ء اور ۱۹۹۹ء کے درمیان قائم کیے گئے ہیں، قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر محض سیاسی مفاد پرستی اور نام نہاد روشن خیال قوتوں کو شریک اقتدار کرنے کے لیے ختم کر دیے جائیں گے اور اس طرح دیوانی اور فوجداری دونوں نوعیت کے ملزموں کو مفاہمت کے نام پر شیل بے گناہی دے کر فارغ کر دیا جائے گا۔
بلالحاظ اس امر کے کہ اس آرڈی ننس کا فائدہ کس کو پہنچا ہے اور کس کس قسم کے جرائم کی اس کے ذریعے تطہیر اور صفائی کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے، ہم پہلے چند اصولی باتیں عرض کریں گے جن کی تائید عدالت عظمیٰ کے مختصر فیصلے سے بھی ہوتی ہے۔
۱۔قانون کو سیاسی مقاصد اور مفادات کے لیے بالائے طاق رکھا جا رہا ہے اور ملزموں کو ان کے دفاع کا پورا موقع دے کر جرم کے ارتکاب کے تعین یا بے گناہی کے تعین کو یکسر نظر انداز کر کے حتیٰ کہ سچائی اور اعتراف گناہ کے قانون اور اخلاقی عمل تک سے بے نیاز ہو کر محض سیاسی بنیادوں پر اور جوڑ توڑ کے ذریعے ملزموں کو قانون اور عدالت کی گرفت سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ امر انصاف اور قانون کی حکمرانی کے مسلمہ اصولوں کی کھلم کھلا اور شرمناک خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ ریاست، مجرموں کو معاشرے کے نمائندے کے طور پر انصاف کے کٹہرے میں لاتی ہے۔ اصول قانون کا یہ مسلمہ کلیہ و قاعدہ ہے کہ جو چیز معاشرے کے خلاف جرم ہے، اس کے مرتکب کو قانونی ضابطے کے عمل سے گزارے بغیر جرم کے الزام سے بری نہیں کیا جا سکا۔ ریاست کا یہ اختیار ہے ہی نہیں کہ جب ایک مقدمہ عدالت کے سامنے آگیا تو وہ اسے واپس لے سکے۔ جرم کا اثبات یا انکار اب عدالت کا کام ہے، سیاسی قیادت یا حکومت کی اجارہ داری نہیں ہے۔ حکومت کا دائرہ کار وہاں ختم ہو جاتا ہے، جب استغاثہ کسی مقدمے کو عدالت کے سامنے لے آتا ہے۔ اس لیے یہ قانون اپنے پہلے ہی دن سے اصول قانون کے مسلمات کے خلاف تھا اور قانون کی نگاہ میں ایک گھناؤنا قانون تھا ، جس کا نفاذ ہی ایک جرم تھا، جس کی سزا اس قانون کے بنانے والوں کوملنی چاہیے نہ کہ اس کے سہارے ملزموں کو غسلِ صفائی دیا جائے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کے جرائم کو داخل دفتر کر دیا جائے۔ معاشرہ اور ان جرائم کا نشانہ بننے والے مظلوم انسانوں کو بے سہارا چھوڑ دیا جائے اور ملک اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو عامیوں کی ہوسِ زر پوری کرنے کے لیے چاندی کی پلیٹ پر سجا کر دے دیا جائے۔
ب۔ دستور نے جن بنیادی حقوق کی ضمانت تمام انسانوں کو دی ہے، ان میں قانون کی نگاہ میں برابری اور مساوات ایک بنیادی حق ہے (دفعہ ۲۵)۔ اس نام نہاد صدارتی فرمان کی شکل میں دستور کی اس مشق اور انصاف کے بنیادی اصول کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے کہ یکم جولائی ۱۹۸۲ اور ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے درمیان کیے جانے والے جرائم، بد عنوانی اور لوٹ مار کو کھلی چھوٹ مل جائے۔ البتہ ان تاریخوں سے پہلے یا ان کے بعد کیے جانے والے جرائم تو جرائم رہیں اور مجرموں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے نیز ان تاریخوں کے درمیان بھی فوجداری اور جواب دہی کے قانون کی گرفت میں آنے والے سب ملزموں کو خلاصی کی یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی، بلکہ صرف ان خصوصی ملزموں یا مجرموں کو رعایت حاصل کی ہوگی، جن کے مقدمات کو سرکار واپس لے۔ اس عمل کو قانون کی زبان میںdiscrimination [امتیازی یا جانب دارانہ سلوک ]کہا جاتا ہے جو دستور، قانون اور اخلاق کے خلاف ہے۔ اس طرح قانونی برابری کے اصول کا خون کیا گیا ہے اور ایسا قانون ایک لمحے کے لیے بھی قانونی درجہ نہیں پاسکتا۔
قرآن و سنت اور دستور کی صریح خلاف ورزی
یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ دستور نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے اصول کو محکم بنیا دوں پر قائم کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ پر دو پا بندیاں لگائی ہیں۔ ان پابندیوں کی خلاف ورزی پارلیمنٹ اپنے قانون سازی کے اختیار کے استعمال کے باب میں نہیں کر سکتی اور نہ ان کے برعکس کوئی آرڈی نفس کی انتظامیہ لاسکتی ہے۔ یہ پابندیاں دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۸ اور دفعہ ۲۷۷ میں درج ہیں، یعنی بنیادی حقوق کے خلاف اور قرآن و سنت کے احکام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی اور یہ قانون ان دونوں دفعات کی رو سے دستور پاکستان کے خلاف ہے۔
دستور کی دفعہ ۸صاف الفاظ میں کہتی ہے۔
آرٹیکل۸ بنیادی حقوق کے نقیض یا منافی قوانین کا لعدم ہوں گے۔
ا۔ کوئی قانون یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، تنافض کی اس حد تک کالعدم ہوگا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کر دہ حقوق کا نقیض ہو۔
۲۔ مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کر دہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے، اس خلاف ورزی کی حر تک کا لعدم ہوگا۔
دستوں کی دفعہ ۷۷ ۲کہتی ہے:
تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا، جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے، اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مز کور ہ احکام کے منافی ہو۔
قرآن و سنت کے احکام اس سلسلے میں بالکل واضح ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤلُوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تحْكُمُوا بِالْعَلَلِ (النساء ۵۸:۴)
’’ مسلمانو! اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپر د کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔‘‘
مسلمانوں کی صفت قرآن کے الفاظ میں یہ ہے کہ
وَالَّذِيْنَ هُمْ لَا مَانْتِهِمْ وَعَهْدِهِم راعون (المومنون (۸:۲۳) ’’اور جو امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
ارشاد باری تعالی ہے۔
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَ تُكْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مَنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ہ (البقرہ ۱۸۸:۲)
’’ اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال نا روا طر یقے سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمھیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔‘‘
خیانت کی ہر شکل کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔
يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَكُونُوا لَمَشْتِكُمْ وَأَنتُمْ تعْلَمُونَ (الانفال (۲۷۸)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو جانتے بوجھتے اللہ اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ بنو حالانکہ تم جانتے ہو۔‘‘
وَ مَنْ يُقْلُلْ يَأْتِ بِمَا عَلَّ يَوْمَ الْقِيْمَةِ ثُمَّ تُوفَى كُلِّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُم لا يُظْلَمُونَ ( ال عمران (۱۲۱۳)
’’اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا اور ہر نفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔‘‘
اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روز قیامت جب حساب کتاب کے لیے بارگاہ الہی میں پیشی ہوگی اور آدمی کے پاؤں اپنی جگہ سے سرک نہ سکیں گے جب تک مِن جملہ اور باتوں کے، اس سے یہ پوچھ کچھ نہ کرلی جائے گی:
وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وفيما أنفقه ، یعنی مال کے بارے میں کہ کہاں سے اور کن طریقوں سے اسے حاصل کیا اور کن کاموں پر اور کن راہوں میں اس کو صرف کیا۔
ارشاد نبیؐ برحق ہے کہ جس شخص نے کسی دوسرے کی کچھ بھی زمین ناحق لے لی تو قیامت کے دن وہ اس زمین کی وجہ سے (اور اس کی سزا میں ) زمین کے ساتوں طبق تک دھنسا دیا جائے گا۔
وَمَنْ أَحَلَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ حُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيْمَةِ إِلَى سَبْعِ اوھین (بخاری)
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے،
عَنْ إِنْتَهَبَ نَهْبَةٌ فَلَيْسَ مِنَّا (در مذی)’’جس نے کسی کی کوئی چیز زبر دستی چھین لی اور لوٹ لی تو وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
اللہ کے رسول نے جہاں مسلمانوں کے درمیان ہدیوں کے تبادلے کو محبت میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا ہے وہیں حاکم وقت اور فرماں روا کے لیے ہدیوں کے لینے کی مخالفت کی ہے اور انھیں خیانت اور ایک طرح کی رشوت قرار دیا ہے هَدَايَا الْإِمَامِ غُلُول (امام وقت کے ہویے غلول، یعنی ایک طرح کی رشوت اور خیانت اور نا جائز استعمال کی قبیل سے ہیں)
راشی اور رشوت دینے والے دونوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي كلاهما في النار ، اور حضورؐ کا ارشاد ہے۔
لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامٍ يَتَصَلُقَ مِنْهُ فَيُعْلَ مِنْهُ ، وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَ فِيْهِ ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلَفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ (مسند احمد)
’’ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بندہ کسی نا جائز طریقے سے حرام مال کمائے اور اس میں سے پہلے صدقہ کرے، تو اس کا صدقہ قبول ہو اور اس میں سے خرچ کرے تو اس میں برکت ہو، اور جو شخص حرام مال (مرنے کے بعد ) پیچھے چھوڑ جائے گا تو وہ اس کے لیے جہنم کا توشہ ہی ہوگا۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قانون کے نفاذ میں انسانوں کے درمیان تفریق نہ کرو اور وہ وقو میں جو کمزور لوگوں کو تو قانون کے مطابق سزا دیتی ہیں، مگر صاحب ِ اختیار اور طاقت ور اور بالائی طبقے کے لوگوں کو سزا سے بچالیتی ہیں وہ تباہی کا راستہ ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیے جاتے۔
یہ ہیں اللہ، اللہ کے رسول اور خود ہمارے دستور کے واضح احکامات۔ این آراوان سب کی کھلی کھلی خلاف ورزی تھا اور اپنے اعلان کے پہلے دن ہی سے ایک نا جائز حکم نامہ تھا۔ اچھا ہوا سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے ختم کر دیا ، خس کم جہاں پاک۔
اس قانون سے فائدہ اُٹھانے والے
یہ تو اس قانون کے بارے میں اصولی پوزیشن تھی لیکن ذرا یہ بھی دیکھ مجھے کہ اس قانون سے فائدہ اٹھانے والوں پر کیا کیا الزامات تھے اور ان میں کیسے کیسے نام ور شامل تھے ۔
نہ من تنہا درین میخانہ مستم
جنید و شیلی و عطار ہم مست
اس بدنام زمانہ قانون سے فائدہ اٹھانے والوں کی مکمل تعداد ۸۰۴۱ بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے ۷۷۹۳ کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ ۳۰۰ اہم سیاست دانوں اور بیوروکریٹس نے اپنے مقدمات ختم کرائے ہیں جس کے نتیجے میں صرف ان ۳۰۰ افراد نے این آراو کے تحت ۱۲۵ ارب روپے کی بدعنوانیوں، اختیارات کے اغلط استعمال اور غبن کے مقدمات معاف کروا کر اپنے کو ’’پاک‘‘ کرا لیا ۔دی نیوز اخبار کی ۲۰ نومبر ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں یہ اطلاع قابل اعتبار ذرائع سے دی گئی ہے۔ ۱۶۵ ارب روپے کا اندازہ اصل رقم سے بہت کم ہے، جب کہ صحیح رقم ایک ہزار ارب روپے بنتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے اور اغلب یہی ہے کہ اصل رقم ایک ہزار ارب ہے تو صرف اتنی بات پیش نظر کھی جائے کہ صرف یہ رقم جو ۱۲ارب ڈالر بن جاتی ہے پانچ سال میں امریکا سے ملنے والی مدد (۵ء۷ بلین ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے اور ملک کے لیے بیرونی امداد کی بھیک مانگنے والی تمام رقوم سے زیادہ ہے۔ حکومت پنجاب نے جوے کے افراد کی فہرست عدالت عظمیٰ کو بھجوائی ہے اس میں صرف ایک سابقہ رکن قومی اسمبلی نے ، ۱۷۰ملین ڈالر کا فائدہ اٹھایا ہے۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی حکومت کے وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو نے جو فہرست عدالت کو دی ہے اور اب وہ اس وزارت سے فارغ کر دیے گئے ہیں اور ان کی جگہ ایک ایسے سینیٹر کو وزارت قانون و انصاف کا قلم دان سونپ دیا گیا ہے جن پر حارث اسٹیل مل کے مقدمے میں ساڑھے تین کروڑ روپے ججوں کو خرید نے کرنے کے لیے دیے جانے کا الزام ہے اور بحیثیت وزیر قانون قومی احتساب بیورو (NAB) کا محکمہ خودان کے ماتحت ہوگا۔ اس فہرست کی رو سے اس قانون سے عظیم ترین فائدہ اٹھانے والوں میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن اور موجودہ صدر مملکت جناب آصف زرداری ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعد اد یعنی سو ہزار کے سو ۷۵ افراد بھی اس سے مستفید ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے لیڈر جناب الطاف حسین کے خلاف اہم مقدمات تھے، جن میں سے ۳۱کا تعلق قتل اور ۱۱کا اقدام قتل سے تھا۔ واضح رہے کہ روزنامہ دی نیشن کی اطلاع کے مطابق (۱۹ نومبر ۲۰۰۹ ء ) اس قانون کے آنے کے بعد ان آٹھ ہزار سے زائد مقدمات کی واپسی کے علاوہ نیب سے ۳۰۰ مزید ان مقدمات کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، جو ابھی زیر تفتیش تھے۔ اس کے علاوہ ساڑھے پانچ ہزار کے قریب مزید مقدمات ہیں جن کی قومی احتساب بیورو اب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پیروی میں مشکل محسوس کر رہا ہے۔
قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں لیکن پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۸ کے تحت صدر مملکت اور گورنر صاحبان کو ان کے دور اقتدار میں ہر قسم کی فوجداری جواب دہی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ جو اسلامی احکام ور روایات اور خود جمہوری ممالک کے تعامل سے متصادم ہے۔ کیا امریکا کے دو سابق صدور رچرڈ نکسن اور کلنٹن صاحبان پر عدالت کے ذریعے فوجداری تفتیش و جواب دہی کا معاملہ نہیں ہوا، کہ جس کے نتیجے میں ۱۹۷۴ء میں صدر نکسن کو استعفیٰ دینا پڑا۔ کیا اٹلی کے موجودہ وزیر اعظم سلو ایو بر یا سکونی کو ایسی رعایت ختم کر کے وہاں کی عدالت عظمیٰ نے ، ان کے خلاف مقدمات کا دروازہ نہیں کھولا۔ حتیٰ کہ اسرائیل میں اس کے ایک صدر اور ایک وزیر اعظم پر دور اقتدار میں کیا فوجداری اور کرپشن کے مقدمات قائم نہیں ہوئے؟ کیا اس مشکل سے وہاں کا سیاسی نظام اور جمہوریت کسی خطرے کا شکار ہوئے؟ زرداری صاحب نے این آر او سے جس فیاضی سے فائدہ اٹھایا ہے، اس کی تفصیل سنئر قانون دان جناب محمد اکرم شیخ نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ دی نیوز (۱۸ا کتوبر ۲۰۰۹ ء ) میں دی ہے، جو اہل ِنظر کے لیے چشم کشا ہے۔
- ۵ فروری ۲۰۰۸ء کو زرداری صاحب نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے تمام زیر سماعت مقدمات سے این آر او کے تحت گلو خلاصی کی درخواست دی، اور ۲۸ فروری کو اس وقت پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے عدالت کو ہدایت دی کہ عدالت ان کے مقدمات کو تیزی سے نمٹا رے، نتیجہ یہ کہ ۲۴ گھنٹے میں سندھ ہائی کورٹ نے معاملہ ختم کر دیا۔
- مارچ ۲۰۱۸ء کو زرداری صاحب نے محمد نواز شریف صاحب کے ساتھ معاہدہ مری کیا۔ اس کے چار دن بعد ۱۲ مارچ کو سوئٹزرلینڈ کے ایسی جی اس کو ٹیکنا مقدمے سے زرداری صاحب کو بری کر دیا گیا۔ ۱۴ مارچ ۲۰۰۸ کوبی ایم ڈبلیو مقدمہ ختم ہوا۔ ۲۲ مارچ ۲۰۰۸ کو جسٹس نظام اور ان کے صاحبزادے کے قتل کے مقدمے سے زرداری صاحب کو بری قرار دیا گیا۔۸ اپریل ۲۰۰۸ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے مقدمے سے نجات مل گئی۔ ۱۶ اپریل ۲۰۰۸ ء عالم بلوچ کے قتل کے مقدمے سے موصوف کو فارغ کر دیا گیا۔ ۱۳مئی ۲۰۰۸ ء کو موصوف اور ان کے دوسرے شریک جرم واحد شمس الحسن (برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر اور سوئس مقدمے کی دستاویزات کے ۱۲ڈبوں کو بنفسِ نفیس سوئس عدالت سے لانے کی شہرت کے مالک) کے ساتھ اسمگلنگ کے مقدمے سے نجات مل گئی۔ اسی طرح ۱۹ مئی ۲۰۰۸ء کو لاہور سے اسمگلنگ ہی کے ایک مقدمہ کا تیا پانچا کر دیا گیا۔ یوں جناب چیئر پرسن مکمل غسل کرنے کے بعد مملکت خداداد پاکستان کی صدارت کی کرسی پر رونق افروز ہو گئے۔
بلاشبہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے سب افراد اب آزمایش کی کسوٹی پر ہیں۔ انھیں اپنے اوپر عائد شدہ الزامات کا کھلے انداز میں مقابلہ کرنا چاہیے اور ایک غیر جانب دار عدالتی انتظام کے سامنے اپنی بے گناہی کو ثابت کرنا چاہیے، یا پھر اپنے کیے کی سزا بھگتنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ اب اس دلدل سے نکلنے کا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی ذمہ داری خود جناب آصف علی زرداری کی ہے۔
سب سے پہلے یہ پاکستان کے مجبور و مقہور عوام کا حق ہے کہ ان کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے والوں کا انتساب ہو اور حقیقی مجرموں کی قرار واقعی سزا ملے قوم کی دولت ان سے واپس لی جائے، نیز جو لوگ بے جا طور پر سیاسی انتقام کا نشانہ بے ہیں، ان کی پاک دامنی قابل بھروسا اور شفاف عدالتی عمل کے ذریعے ثابت ہو، اور پاکستان کے عوام ان کے بارے میں مطمئن ہوسکیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کی ساکھ کو ساری دنیا میں جو شدید نقصان پہنچا ہے، اس کی تلافی بھی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اب بڑے اور چھوٹے سب کو عدالت کے سامنے لایا جائے ، اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ ۱۶ دسمبر ۲۰۰۹ء کو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ملک ہی میں نہیں پوری عالمی برادری میں آصف زرداری صاحب کے معاملے کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ محض سیاسی شعبدہ بازی سے اب اس مسئلے کو قالین کے نیچے نہیں چھپایا جا سکتا۔ ۱۷ دسمبر کے اخبارات نے جو کچھ لکھا، وہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں موجودہ پر پر اقتدار قیادت اپنا اصل چہرہ اور پاکستان کو در پیش اصل چیلنج کے صحیح خد و خال دیکھ سکتی ہے۔ ریکارڈ کی خاطر چند نمونے پیش کیے جاتے ہیں:
لندان کے اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ ملاحظہ ہو۔
پاکستان کے سیاسی لیڈروں میں بد عنوانی بہت پھیلی ہوئی ہے لیکن زرداری کی سرگرمیاں مبینہ طور پر جس بڑے پیمانے پر جاری ہیں اس نے تجزیہ کار مبصرین کو بھی صدمے سے دو چار کر دیا۔ صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی ذرائع سے دنیا بھر میں ۵ء۱ارب ڈالر جمع کیے ہیں۔ نیب نے عدالت کو جو رپورٹ دی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ زرداری کی دولت ذرائع آمدن سے بہت زیادہ ہے۔ بیورو کے عہدے دار نے بتایا کہ کمیشن اور رشوت سے جمع رقم میں سے ۲۰ ملین ڈالر سوئس بینک میں زرداری اور بے نظیر بھٹو کے اکاؤنٹ میں ہیں۔ ایک سوئیس عدالت نے زرداری اور بے نظیر بھٹو کو مجرم قرار دیا اور چھے ماہ کی سزاۓ قید دی جسے اپیل پر معطل کر دیا گیا۔ جناب زرداری عدالت میں کبھی پیش نہیں ہوئے۔
نيويارك نائمز اس طرح اس مسئلے کو بیان کرتا ہے۔
کسی دہشت گرد کے حملے کانشانہ بننے سے خوف زدہ مسٹر زرداری ایوان صدر سے شازہی باہر آتے ہیں۔ گذشتہ ۱۰ دنوں میں جب سپریم کورٹ ان کے اختیارات پر بحث کر رہی تھی وہ بیش تر وقت ایوان صدر میں رہے۔ گذشتہ ہفتے جب این آراو پر سماعت شروع ہوئی تو پاکستان کے ایک معروف اخبار نے ایک دفعہ پھر انہیں ایسے آدمی کی حیثیت سے پیش کیا جسے عام طور پر بد عنوان سمجھا جاتا ہے۔
خلیج ٹائمز بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
بدھ کو آنے والا فیصلہ مایوس کن حد تک غیر مقبول زرداری پر ایک بڑاحملہ تھا جو اس کے زوال کا نقطہ آغاز ثا بت ہو سکتا ہے۔
حقائق کا سامنا کرنے کی ضرورت
بات صرف پاکستانی دانش وروں ، سیاسی کارکنوں، صحافیوں ہی کی نہیں، پوری دنیا زرداری صاحب کے معاملے کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھتی ہے، اور اب اس سے فرار کی کوئی راہ نہیں بچی۔ اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہو سکے اور ہم نے اتنی قید کاٹ لی ہے، اس لیے اب ہم قانون کی گرفت سے آزاد ہیں یا یہ کہ سب کچھ سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھا۔
ہر کوئی جانتا ہے اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور مشہور قانون دان ایس ایم ظفر صاحب نے، کہ جو سچائی سے واقف ہیں، صاف لفظوں میں کہا ہے کہ بد عنوانی کے مقدمات کے فیصلے نہ ہونے میں بڑا دخل اس حکمت عملی کا تھا کہ ملزموں نے عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے، بار بار اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے۔ اس کا ثبوت وہ حلفیہ بیانات بھی ہیں جو ملزموں کے یا ان کے وکیلوں نے عدالت کے سامنے پیش کیے اور پیشی پر پیشی لینے چلے گئے۔ سوئٹزرلینڈ کی عدالت کے سامنے زرداری صاحب کے وکیلوں نے ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ تک دیے کہ وہ ایسی بیماری (Dementia) میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے حافظہ متاثر ہوتا ہے اور مریض بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا لیکن اس سب کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کھلی عدالت میں شفاف طریقے سے جب تک کوئی الزام ثابت نہ ہو، وہ الزام ہی رہتا ہے لیکن عدالتی عمل کی طوالت کا بہانہ بنا کر جرم سے فرار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زرداری صاحب کے معاملے میں تو بین الاقوامی اداروں اور آزاد اخبارات کی اپنی تحقیق کئی مغربی ممالک بشمول سوئزرلینڈ، اسپین، فرانس اور انگلستان میں عدالتوں کی تحقیق اور کارروائیاں بھی موجود ہیں جن کا انکار ممکن نہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنی ۹ جنوری ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں اپنے نمائیندے جان ایف بورس (John F. Burus) کی مفصل رپورٹ جو
House of Graft: Tracing the Bhutto Millions A Special Report
کےعنوان سے شائع کی ہے، جس میں اخبار نے اپنے ذرائع سے تحقیق کا بھی حوالہ دیا ہے، جو قابل توجہ ہے۔
بھٹو خاندان کے بارے میں پاکستانی تفتیش کاروں کی جانب سے دستاویزات سامنے آنے کے بعد مسٹر بھٹو اور مسٹر زرداری کے بارے میں کچھ تفصیل گذشتہ برس یورپی اور امریکی اخباروں میں آنا شروع ہوئی ۔ لیکن زیادہ واضح تصویر اس وقت ابھر کر سامنے آئی جب اکتوبر میں نیویارک ٹائمز کو دستاویزات کی کئی جلدیں فراہم کی گئیں۔ ٹائمز نے پاکستان، مشرقی وسطیٰ، یورپ اور امریکا میں تین ماہ تک خود تحقیقات کی اور ان مرکزی شخصیات سے انٹرویو بھی کیے جن کا ذکر پاکستانی تفتیش کاروں نے کیا تھا۔ پاکستان میں تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تک جن ۱۰۰ ملین ڈالر کا پتا چلا ہے وہ بد عنوانیوں کی کل یافت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ۱۹۹۲ء میں بے نظیر بھٹو کی برطرفی کے بعد جو تحقیقات شروع کی گئی تھیں ان سے معلوم ہوا تھا کہ ان کے خاندان اور ساتھیوں نے سرکاری کاموں کے تقریباً ہر دائرے میں چاولوں کے سودے، سرکاری زمین کی فروخت اور سرکاری ویلفیئر اسکیموں سے حصہ غیر قانونی منافع اور رشوت کی شکل میں ۵ء۱ارب ڈالر تک جمع کیے۔
اس سلسلے کی سب سے ہوش ربا شہادت امریکا کے ادارے نیشنل سیکورٹی ایجنسی (NSA) کی وہ ٹیلی فون ریکارڈنگ ہے، جو نومبر ۲۰۰۷ ء میں خودمخترمہ نے اپنے صاحبزادے بلاول زرداری سے دبئی سے کی تھی، اور جس میں اپنے بنک اکاؤنٹس کی تفصیل اور ضروری ہدایات دی گئی تھیں۔ یہ پوری تفصیل رون سسکنڈ(Ron Suskind) نے اپنی کتاب The Way of The World (مطیور ۲۰۰۸ء) میں دی ہے۔
یہ سب باتیں ساری دنیا میں زبان زد خاص و عام ہیں اور ان کا سامنا کیے بغیر ان الزامات سے گلو خلاصی ممکن نہیں۔ ہم اب بھی یہی کہتے ہیں کہ الزامات میں بز اوزن ہے اور واقعاتی شہادت زوردار ہے، تاہم مسئلے کا حل وہی ہے جو عدالت عظمیٰ نے تجویز کیا ہے، یعنی مقدمات اور الزامات کا کھلی عدالت میں مقابلہ سب کو اپنے دفاع کا پورا حق اور موقع ملنا چاہیے مگر شخص سیاسی انتقام کا واویلا حقائق سے فرار اور الزامات کو ختم نہیں کرتے بلکہ شبہات کو بڑھا دیتے ہیں۔
سرے محل اور سوئس بینک کے ۶۰ ملین ڈالر تو زرداری صاحب کے اپنے تحریری اعتراف کے مطابق ان کی ملکیت ہیں۔ لیکن جو دستا ویزات موجود ہیں ان کے مطابق تو دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے پاس یہاں پاکستان میں ۲۲ کروڑ اور ملک سے باہر ۵ء۱بلین ڈالر کے اثاثہ جات ہیں۔ اگر یہ ہوائی بات ہے تو سچائی کو ثابت کرنا چاہیے اور اگر یہ رقوم اور اثاثہ جات ہیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کیسے حاصل کی گئیں۔ اس لیے کہ زرداری صاحب نے ۱۹۹۰ء میں پارلیمنٹ کے سامنے اپنے اثاثہ جات میں اپنی جس دولت اور آمدنی کا ذکر کیا ہے، اس سے تو آج کی دولت کے عشر عشیر کی بھی تو جیہ ممکن نہیں ہے۔ اس لیے سیاسی محاذ آرائی مسئلے کا حل نہیں۔ حقائق کا سامنا کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
ہم یہ سب حقائق بڑے دکھ بلکہ شرمندگی کے احساس کے ساتھ نذر قارئین کر رہے ہیں لیکن یہی ہے وہ داستان جس نے پوری دنیا میں پاکستان کی عزت کو خاک میں ملا دیا ہے۔ پورے عالمی میڈیا میں ہماری سیاسی قیادت اور کار فرما عناصر کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے، وہ ہر پاکستانی کے لیے شرم اور خفت کا باعث ہے۔ ملک کو بد عنوانی کا جو نا سور کھائے جا رہا ہے، اس نے ملک کو اخلاقی بگاڑ ، معاشی تباہی اور سیاسی خلفشار کی آماج گاہ بنا دیا ہے۔
ہماری اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے کہ کھلی کھلی بد عنوانی و بد دیانتی کے مرتکب افراد اپنے گھناؤنے کرتوتوں پر نادم ہونے کے بجائے چوری اور سینہ زوری کی راہ پر گامزن ہیں قتل اور اغوا کے ملزم سر عام کہ رہے ہیں کہ ہم پر کرپشن کا تو کوئی الزام نہیں ہے۔ گویا مال لوٹنے والوں کے مقابلے میں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا ،بوریوں میں لاشوں کے تحفے بھیجنا اور زندہ انسانوں کو تعذیب اور ان کی ہڈیوں کو برموں سے چھیدنا (drilling) کوئی جرم نہیں، اجتماعی خدمت تھی۔ جو قوم اپنے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لا سکے، وہ اجتماعی بگاڑ اور تباہی سے بچ نہیں سکتی۔ ہی وجہ ہے کہ پوری قوم نے عدالت عظمی کے ۱۶ دسمبر کے فیصلہ پر شکر کا سانس لیا ہے اور عدلیہ کے اس اقدام سے مظلوم انسانوں کی آنکھوں کو امید کی ایک کرن نظر آنے لگی ہے لیکن جہاں اس ملک کے عوام اور تمام مظلوم طبقات نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور چین کا سانس لیا ہے، وہیں اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ مفاد پرست عناصر اور ان کے نام نہاد لبرل دانش ور میدان میں کود پڑے ہیں اور جمہوری نظام کے خلاف سازشوں اور اداروں کی کش مکش کا واویلا کر رہے ہیں۔
عدلیہ کے فیصلے پر اعتراضات
یہ بھی ایک عجب تماشا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر پیپلز پارٹی کے ترجمانوں اور اس کے ہم نوا دانش وروں اور صحافیوں نے کھل کر تنقید کی ہے۔ بلاشبہ ہر فیصلے کا قانون اور مسلمہ اصول ، انصاف کی روشنی میں جائزہ لیا جانا چاہیے، تاہم جو اعتراضات کیے جارہے ہیں ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سیاسی اعتراضات جن میں کہا گیا ہے عدالت نے مسئلے کو سیاسی رنگ دے دیا ہے اور فیصلے میں ایک سیاسی پیغام بھر دیا ہے۔ کچھ نے اس سے بھی بڑھ کر کہا ہے کہ جج انتقام لے رہے ہیں۔ کچھ تو یہاں تک چلے گئے ہیں کہ اسے ججوں اور فوجی مقتدرہ کی طرف سے جوابی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہماری نگاہ میں یہ تمام اعتراضات نہ صرف یہ کہ سچائی سے کوئی نسبت نہیں رکھتے ، بلکہ بیمار ذہنوں اور مجرم ضمیروں کی عکاسی کرتے ہیں۔ زرداری صاحب کی ۲۷ دسمبر ۲۰۰۹ ء کی توڈیرو کی تقریر بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے اور ان کی پوزیشن کو مزید کمزور کرنے کا باعث ہوئی ہے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت فرار اور تصادم کا یہ راستہ اختیار نہ کرے۔ اس میں ان کا اور ملک کا خسارہ ہے۔ حقائق کا سامنا کرے اور دستور اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا دفاع کرے۔ اس کے بغیر اسے نہ سند جواز حاصل ہو سکتی ہے اور نہ اعتباری بحال ہو سکتا ہے۔
رہے دوسرے اعتراضات، تو ان کا دلیل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہم مختصراًان کا جائزہ لیتے ہیں۔
- اختیارات سے تجاوز
پہلا اعتراض یہ ہے کہ سپریم کورٹ عدالتی فعالیت (judicial activism) کا راستہ اختیار کر رہی ہے اور یہ اس کا اپنے دائرہ کار سے باہر جانے اور
انتظامیہ اور پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں مداخلت کے مترادف ہے ہماری نگاہ میں عدالتی فعالیت اور عدالتی نظم وضبط دونوں کے حق میں مضبوط دلائل موجود ہیں اور دنیا کے مہذب اور جمہوری ممالک میں دونوں ہی کی مثالیں ملتی ہیں۔
ہماری دیانت دارانہ رائے ہے کہ مارچ ۲۰۰۹ ء میں عدلیہ کی بحالی کے بعد سے عدلیہ نے پھونک پھونک کر قدم رکھا ہے اور دستور کے تحت دیے گئے اختیارات سے کہیں تجاوز نہیں کیا۔ دستور کی وقعہ (۳) ۱۸۴یزی واضح ہے کہ عدالت کو بنیادی حقوق کی حفاظت کے باب میں عوامی اہمیت کے مسائل پر از خود کارروائی کا اختیار ہے۔ عدالت نے اس اختیار کو عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پوری احتیاط سے استعمال کیا ہے۔ لیکن چونکہ اس کی ز د حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور بے اعتدالیوں پر پڑتی ہے، اس لیے وہ اس پر چیں بہ جبیں ہیں۔ اس نوعیت کی عدالتی فعالت کی مثالیں امریکا، یورپی ممالک اور خود بھارت میں بے شمار موجود ہیں حتیٰ کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے تو دہلی میں بسوں سے خارج ہونے والے دھوئیں تک کا نوٹس لیا اور حکومت نے عدالت کے احکام کی پاس داری کی۔
ہماری نگاہ میں اداروں کے تصادم کی جو بات کی جارہی ہے وہ حقائق کے منافی تو ہے ہیں لیکن ان کے اندر ملک میں خسارہ خرابی اور بگاڑ کی کیفیت پیدا کرنے کا خطرہ ہے اور یہ سب کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ملک کی سیاسی قیادت، خصوصیت سے حزبِ اختلاف اور میڈیا کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور برائی کو آغاز پر بھی منانے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
- فرد یا جماعت کو ہدف بنانا :
دوسرا بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں خاص طور پر ایک فردیا جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میڈیا کے کچھ عناصر اس سلسلے میں بہت منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہماری نگاہ میں یہ الزام بھی کلی طور پر بد نیتی رہتی ہے۔ عدالت کے مذکورہ فیصلے میں کسی فرد کا ذکر نہیں ہے۔ تمام بات اصولی اور عمومی حوالہ لیے ہوئے ہے۔ اب اگر اس کی زد چند خاص افراد یا جماعتوں پر پڑتی ہے تو یہ ان کو سمجھنا چاہیے کہ اس کی وجہ ان کے اپنے رویے اور طور طریقے ہیں، چین کی اصلاح کے لیے انھیں فکر کرنی چاہیے نہ کہ آئینے میں چہرے کے داغ دیکھ کر وہ آئینے کو چکنا چور کرنے کی سعی بلیغ فرمائیں۔
اس باب میں یہ بات بھی بڑی پریشان کن اور نقصان دہ ہے کہ میڈیا کی آزادی اور خصوصیت سے چند لائقِ احترام صحافیوں اور اینکر پر سنز کو نشا نہ بنایا جا رہا ہے۔ صدرسے لے کر وزیروں اور پارٹی لیڈروں تک نے ان پر رکیک حملے کیے ہیں۔ یہ آمرانہ ذہن اور مجرم ضمیر کی علامت ہے۔ قوم کو ایسی جارحیت کا دلیل کے ساتھ اور جم کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور بڑی جد و جہد اور قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ ان پر اقتدار کا یہ حملہ ہرگز قابل برداشت نہیں۔ صحافیوں کو نشانہ بنانے کی بات تو اب اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ وزرا کے بچے تک ان کو دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اگر اس روش کا فوری طور پرا ور سختی سے سدباب نہ کیا گیا تو یہ شاخسانہ ملک کی آزادی اور اس کے اداروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
- مہلت کیوں دی؟
ایک تیرا اعتراض یہ ہے : اگر عدالت کو اس آرڈی ننس کو اس کے یوم پیدائیش سے باطل قرار دیا تھا تو اس کو چار مہینے کی نئی زندگی عطا کر کے پارلیمنٹ کو کیوں بھیجا؟ بلا شبہ ہماری نگاہ میں اس کی ضرورت نہیں تھی اور عدالت اپنے اس جولائی کے فیصلے میں بھی اسے باطل قرار دے سکتی تھی ، لیکن غالباً اس نزاکت کی بنا پر ایسانہ کیا گیا ، چونکہ اس کو بظاہر سیاسی مصالحت کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس لیے یہ موقع پارلیمنٹ اور سیاسی عمل کو دیا جائے کہ وہ خود اس کی اصلاح کرلیں۔ پارلیمنٹ کا کام محض اس آرڈی ننس کی تائید اور منظوری نہیں بلکہ اس کی تبدیلی بھی ہو سکا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلے تو اس کو اندھا دھند طریقے سے منظور کرانے کی کوشش کی اور کمیٹی میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے اسے تقریباً منظور کر لیا، لیکن پھر پارلیمنٹ اور عوام کا ردِ عمل دیکھ کر اسے واپس لیا۔ یہ ساری کارستانی حکومت کی بد نیتی کا بین ثبوت ہے۔ حالانکہ حکومت کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی پارٹیوں کو شریک مشورہ کر کے اس کو یکسر بدل ڈالتی اور بد عنوانی کی دھلائی کے بجائے اسے حقیقی بد عنوانی پر گرفت کا قانون بنا دیتی۔ چونکہ پارلیمنٹ اس امتحان میں ناکام رہی اور عدالت نے بجا طور پر ایک غلط قانون کو غلط قرار دے کر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے، اس پر اس کی تحسین ہونی چاہیے، نہ کہ نکتہ چینی !
- دستور کی اسلامی دفعات پر اعتراض :
چوتھا اعتراض سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے اور اس ملک کے نام نہاد لبرل طبقے کے ذہن کا ترجمان ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسی حقوق انسانی کی علم بردار خاتون بھی اس فیصلے پر تلملا اٹھی ہیں کہ عدالت نے دستور کی دفعہ الف ، ۲۲ ۲۳۰ اور ۲۲۷ کا حوالہ کیوں دے دیا۔ یہ اس طبقے کے اسلام سے گریز پا (الر جیک) ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ ان کو یہ بھی اعتراض ہے کہ دستور میں یہ ترامیم جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ہوئیں لیکن وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ پارلیمنٹ نے ان کی توثیق کی ہے، تمام جماعتوں نے ان کو قبول کیا ہے اورمیثاقِ جمہوریت میں دستور کے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی شکل میں بحالی کا جو عہد و پیمان کیا گیا ہے ان میں یہ سب دفعات من وعن شامل ہیں۔ ایوب خان کے مسلط کردہ مسلم فیملی لاز پر تو کبھی یہ تشویش اس طبقے کو نہیں ہوئی کہ ایک آمر مطلق نے اسے مسلط کیا تھا اور دستور میں بھی اسے تحفیظ ایک آمرہی نے دیا تھا، لیکن پاکستان کے اسلامی تشخص اور کردار کو دستور میں واضح کرنے والی جو ترمیم بھی ہوئی وہ ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔
اسی سلسلے میں یہ بے ہودہ اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ امانت، دیانت اور صادق وامین ہونے کا تعین کون اور کیسے کرے گا؟ حالانکہ دنیا کے تمام قانونی اور اخلاقی ضابطوں میں یہ بات معروف ہیں۔ برطانوی دستور و قانون کے بہترین شارح سر آئیور بینگر نے اپنی کتاب Cabinet Government وزارتی حکومت میں کھل کر یہ بحث کی ہے کہ جمہوریت میں ارباب اختیار واقدار کے لیے سب سے ضروری وصف دیانت اور امانت ہے۔ اگر اہلیت کی کمی ہو تو وہ مشیروں اور اہل ترین افراد کی مشاورت سے دُور کی جاسکتی ہے، لیکن اگر دیانت نہ ہو تو پھر ایسے فرد کا حکمرانی کاحق ختم ہو جانا چاہیے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے بد دیانت اور بد عنوان افراد کبھی بھی عوام یا قانون کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکے۔
ان اعتراضات کے علاوہ ایک سلسلہ اس بد زبانی اور یاوہ گوئی کا ہے، جس کا سہرا زرداری صاحب کے خاص حواریوں کے سر ہے۔ زرداری صاحب خود اداروں کے تصادم اور مخالفین کی آنکھ پھوڑنے کی باتیں کر رہے ہیں اور من چہ می سرایم و طنبور ہ من چہ می سراید کے مترادف جو گل کھلا رہے ہیں ان پر ماتم تو کیا ہی جائے گا، لیکن وہ خطرے کی گھنٹی کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما اور اسمبلی میں چیف وہپ خورشید شاہ صاحب ذرا محتاط انداز میں ’’سندھ کارڈ‘‘ان الفاظ میں استعمال کرتے ہیں کہ ”سندھ نے وفاق کے لیے دووزرائے اعظم کی قربانی دی ہے، اب مزید کوئی قربانی نہیں دیں گے ، جب کہ سندھ کے صوبائی وزیر اور قومی اسمبلی کی ان سپیکر صاحبہ کے شوہر نامدار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پاکستان کو توڑنے اور بموں سے جہاز اڑانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی صدر رانا آفتاب صاحب، سینئر صوبائی وزیر را جا ریاض مزاحمت کی سیاست کی وارنگ دیتے ہیں ، لاشوں کو گرانے کی بات کرتے ہیں۔
یہ سارے بیانات بڑے تشویش ناک اور خطرناک رجحانات اور عزائم کی خبر دیتے ہیں۔ جمہوریت کو خطرہ عدلیہ یا صحافت سے نہیں، بدعنوانی کے مرتکب، افراد اور تصادم کی سیاست کے ان دعوے داروں سے ہے۔ اس روش کو برداشت کرنا ملک و قوم کے لیے زہر قاتل کی مانند ہے۔ تمام دینی اور سیاسی قوتوں کا فرض ہے کہ سیاست کے اس زرخ پر سختی سے انتساب کریں اور جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے نہ اتر نے دیں۔
احتساب کے مؤثر نظام کی ضرورت
آخر میں ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں حکومت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے اس اور دوسرے تمام فیصلوں پر دیانت سے ان کے الفاظ اور اس کی روح کے مطابق عمل کرے اور اس رونی سیاست کو ترک کر دے کہ زبان سے کہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن عملاً اس فیصلے کے ہرتقاضے کو نہ صرف نظر انداز کرے بلکہ اس کے برعکس اقدام کرے۔
ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر قومی احتساب کا موثر اور قابل اعتماد نظام قائم کیا جائے۔ نیب کا ادارہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور یر وزارت قانون کی گرفت میں ہے جس سے کسی خیر کی توقع نہیں۔ آزادانہ قانونی کارروائی اور ایسی قابل بھرو ساعدالتی اتھارٹی جو سب کو شفاف انصاف دے سکے وقت کی اولین ضرورت ہے۔ میثاقِ جمہوریت میں دونوں بڑی جماعتوں نے اس کا وعدہ بھی کیا ہے۔ کرپشن کے عفریت کو قابو میں کرنے کے لیے تفتیش اور تحکیم کے آزاد اور قابل اعتماد ادارے کا وجود ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ میں جو مسورہ قانون حکومت لائی ہے، وہ غیر تسلی بخش اور نا قابل قبول ہے۔ وہ بد عنوانی کے تحفظ کا ذریعہ تو بن سکتا ہے، اس کے خاتمے کا منبع نہیں بن سکا۔ اس لیے اولین اہمیت انتساب اور تفتیش کے مناسب ادارے اور انتظام کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور بے لاگ طور پر اس ادارے کا قیام ہے ورنہ ملک بد عنوانی کی لعنت سے نجات نہیں پاسکے گا اور قومی دولت، قوم کی بہبود کے لیے استعمال ہونے کے بجاے چند مفاد پرستوں کی عیاشیوں کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔ اس طرح ملک کو بالاثر تصادم اور انارکی کی طرف جانے سے روکنا مشکل ہوگا۔ تفتیش کا آزاد انتظام، احتساب کا قابل اعتماد ادارہ اور آزاد میڈیا ملک کو اس دلدل سے نکالنے میں سب سے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں، نیز قانون کے ساتھ اخلاق کی قوت کا استعمال بھی وقت کی ضرورت ہے۔ کسی قوم کی قوت کا آخری منبع افراد اور قوم کا اخلاق ہے۔ خود قانون بھی اخلاق کے بغیر اپنا اصل کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اخلاق محض وعظ و نصیحت کا نام نہیں ہے، بلکہ ہر سطح پر کردار سازی اور قیادت کا بہتر نمونہ اس کا اصل سرمایہ ہے۔ مقصد کا شعور، خود اعتمادی ،نظم و ضبط اور اتحاد اور یگانگت کے اصول ہی قوموں کو ترقی کی راہ پر لے جاتے ہیں۔ خود غرضی ،ظلم اور حقوق کی پامالی ، نفسانفسی اور تصادم زوال کا باعث ہوتے ہیں۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے وقت ۱۱ا گست ۱۹۴۷ء کو دستور ساز اسمبلی سے جو خطاب کیا تھا، اس میں ایک بڑا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ کرپشن اور بد عنوانی کے ساتھ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ لا اینڈ آرڈر کے قیام اور جان و مال کے تحفظ کے بعد جس چیز کو قائد اعظم نے سب سے اہم قرار دیا وہ رشوت اور کرپشن سے نجات ہے۔ قائد اعظم کا ارشاد تھا۔
( رشوت اور بد عنوانی) در اصل یہ ایک زہر ہے۔ ہمیں نہایتسختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کریں گے، جتنی جلد اس اسمبلی کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔
۲ دسمبر ۲۰۰۹ ء کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد قائد اعظم کے اس ارشاد پر فوری عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ کیا یہ قوم اور قومی قیادت ایک بار پھر اس نا در موقع کو ضائع کر دے گی، یا وقت کی ضرورت کا احساس کر کے ہم سب اس لعنت کا قلع قمع کرنے کے لیے قانون، اخلاق، رائے عامہ اور اجتماعی اصلاح کا پر امن اور معقول راستہ اختیار کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں گئے؟ قائد اعظم نے اپنا آخری پیغام اس قوم کو ۶ ماگست ۱۹۴۸ کو عید الفطر کے موقع پر دیا اور آج ہم پاکستان کے تمام لوگوں کو اس پیغام کی یا ددیانی کراتے ہیں:
میں آپ سے یہ اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں، آپ اسے الفاظ اور زبان کا کوئی سا جامہ پہنا دیں، میرے مشورے کا لب لباب یہی نکلے گا کہ ہر مسلمان کو دیانت داری، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے۔



