PakistanPolitics and Governance

تحریک مزاحمت : نئے مرحلے میں

اگست ۲۰۱۰ء میں ایک مؤقر بھارتی جریدے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی نے اپنے اداریے میں ’’کشمیریوں کی سول نافرمانی‘‘ کے زیر عنوان کشمیر کی تحریک آزادی کے اتار چڑھاؤ اور موجودہ مرحلے پر اظہار خیال کیا اور تسلیم کیا کہ کشمیر کے لیے نئی دہلی کی پالیسی اور رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بھارتی دانشوروں کی جانب سے وہاں کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ایسی دیگر فکر انگیز تحریروں سے بھی بجا طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کشمیری عوام کی قربانیوں اور ان کی مسلسل جد و جہد کا ایک اہم نتیجہ ہے۔

مصنف نے اس تناظر میں تحریک مزاحمت کے ۲۰۰۸ ء سے شروع ہونے والے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہوئے حالات کا درست ادراک کرنے اور اس کی روشنی میں حکمت عملی متعین کرنے کی جانب متوجہ کیا ہے۔ (مرتب)

ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان ایک طویل عرصے سے برطانوی ڈوگرہ اور بھارتی سامراجیوں کے مختلف النوع ظلم اور استبدار کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ ان کے جسم کی پور پور زخموں  سے چور ہے اور ان کا بدن خون سے لہو لہان ہے ۔ لیکن اپنے ایمان اور اپنی آزادی کی حفاظت کے عزم اور جدوجہد  میں انھوں نے کوئی کمی نہیں آنے دی۔ ہر دور میں اور ہر حال میں استعماری قوتوں کی مزاحمت اور آزادی کی جدو جہد میں قربانیوں اور استقامت کی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جو ظلمت کے شکار ساری دنیا کے انسانوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوگی۔ اس وقت کشمیر میں جو تحریک اپنے شباب پر ہے، اس میں جہاں ایک طرف بھارتی سامراج کے ظلم و استبداد کے تمام ہتھکنڈوں کی ناکامی الم نشرح ہے، وہیں کشمیر کے بوڑھوں اور جوانوں ہی نے نہیں، بچوں اور خواتین کے ایک سیلاب نے سب کو ششد کر دیا ہے۔ احتجاج اور قربانیوں کا یہ حال ہے کہ شہدا کے سروں کی فصل کاٹی  جارہی ہے مگر سرفروشوں کی فراوانی میں کوئی کمی نہیں۔ ہر گھر ماتم کدہ بن گیا ہے مگر خون اور آنسو اس تحریک کے لیے مہمیز کا کام کر رہے ہیں اور جموں و کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کا علم لے کر اٹھ کھڑا ہوا ہے، اور بوڑھے مگر جوان ہمت قائد سید علی شاہ گیلانی کی آواز پر ان سطور کے لکھے جانے کے وقت تک ۸۱ ویں روز بھی ہڑتال جاری ہے اور قائد کے الفاظ میں: کشمیری عوام نے واپسی کی کشتیاں جلادی ہیں۔ بھارت ان کی کنپٹی  پر بندوق رکھ کر انھیں خاموش نہیں کر سکتا۔ کشمیرکا پتا پتا بوٹا بوٹا بھارتی قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

ویسے تو کشمیر کی بد قسمت تاریخ کے دور کا آغاز دو صدیوں پہلے برطانوی سامراج کے اس ظالمانہ اور غاصبانہ اقدام سے ہوا جس میں ایک پوری ریاست اور ایک پوری قوم کو چند ٹکوں کے عوض ڈوگروں کے ہاتھوں فروخت کر کے ایک استبدادی نظام اور بیرونی سیاسی غلامی کے تحت ایک اور بھی قبیح تر غلامی کا درو بست قائم کیا گیا۔ برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی تحریک جب نئی کروٹیں لے رہی تھی تو کشمیر کے مسلمانوں نے بھی ڈوگرہ سامراج اور برطانوی اقتدار کے خلاف اس جدو جہد میں بھر پور حصہ لیا، اور اپنے مخصوص حالات کی روشنی میں ۱۹۳۰ ء ہی کے عشرے میں تحریک پاکستان سے بھی ۰ اسال قبل اپنی آزادی کی تحریک کا آغاز کیا اور اس طرح برعظیم کی آزادی کی تاریخ جدید میں جدو جہد، مزاحمت اور قربانیوں کا ایک نیا روشن باب رقم کیا۔

تقسیم ملک کے فیصلے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کی اسمبلی کے مسلمان ارکان نے الحاق پاکستان کا اعلان کیا، اور ریاست گیر تحریک برپا کی جسے قوت کے ذریعے کچلنے میں ڈوگرہ راج نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اہلِ اقتدار نے بھارتی قیادت کا ساتھ دیا اور ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف نے ہر اصول اور وعدے کو پامال کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کا راستہ صاف کیا۔ پاکستان کی افواج کے برطانوی کمانڈر نے قائد اعظم کا حکم ماننے سے انکار کر کے پاکستان کے متبادل اقدام کو نا کام کیا جس کے  رد عمل میں عوامی تحریک نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ قبائل کے مجاہدین نے اس میں شرکت کی اور اس جدو جہد سے ریاست کا ایک حصہ بھارتی تسلط سے بچایا جا سکا لیکن اس مزاحمت میں محتاط اندازے کے مطابق ۵ لاکھ شہید ہوئے اور لاکھوں کے گھر بار لٹ گئے اور انھیں ہجرت کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب عوامی تحریک اور پاکستان نے جو پہل کی اسے غیر مؤثر کرنے کے لیے عالمی سیاست کا کھیل شروع ہوا۔ بھارتی وزیر اعظم شکست سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف دوڑے اور امریکہ اور برطانیہ کے کلیدی کردار اور پاکستانی حکومت کی خود فریبی، نا تجربہ کاری اور سادہ لوحی کے نتیجے میں جیتی جانے والی بازی سیز فائر اور استصواب کے وعدوں کی نذر ہوگئی۔ بھارت کی فوجوں نے جموں و کشمیر کی ریاست کے بڑے حصے پر قبضہ ضرور کر لیا اور اپنی من پسند حکومتوں کو بھی وہاں مسلط کر دیا لیکن جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے دلوں کو وہ مسخر نہ کر سکے اور ان کی تحریک مزاحمت زیر زمین اور بر سر زمین جاری رہی۔

بھارت کے وعدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے غیر مؤثر ہونے، پاکستان اور بھارت کی سیاسی، عسکری اور معاشی قوت کے تفاوت اور پاکستان کی حکومتوں کی غلطیوں، کمزور ہوں ، پسپائیوں اور قول وعمل میں بعد ، نیز ۱۹۷۱ء کے سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے کے اثرات کی روشنی میں کشمیر کی تحریک مزاحمت کا دوسرا دور اندر سے تبدیلی کی ایک کوشش تھا۔ ۱۹۷۲ء میں پہلی دفعہ اسلامی تحریک کے قائدین نے کشمیر کی آزادی کے لیے اپنے اہداف پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر نئی حکمت عملی مرتب کی اور برطانوی سامراج کے خلاف تحریک آزادی کی دستوری جد و جہد کی کتاب تاریخ سے استفادہ کرتے ہوئے انتخابات میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ سید علی شاہ گیلانی ۱۹۷۲ء ۱۹۷۷ء اور ۱۹۸۷ء میں ریاست جموں و کشمیر کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اسمبلی کے اندر اور باہر استصواب اور الحاق پاکستان کی مہم کی قیادت کی ۔ مگر بھارتی حکومت نے جب جمہوری عمل کے ذریعے بھی تبدیلی کا راستہ بند کیا تو تحریک مزاحمت کے سامنے اس کے سوا کوئی دوسر ار استو ند رہا کہ عوامی تحریک کو جاری رکھنے کے لیے قوت کی عدم مساوات کے باوجود عسکریت کا راستہ اختیار کرے، جس طرح دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں نے ریاستی قوت اور دہشت گردی کے مقابلے میں ممکنہ وسائل اور ذرائع سے ریاست کی قوت پر ضرب لگانے اور مزاحمت کی عسکری حکمت عملی اختیار کی۔

تحریک مزاحمت کا یہ تیسرا دور ۱۹۸۹ء سے شروع ہوا ہے اور مختلف نشیب و فراز کے باوجود جاری ہے۔ یہ بات اچھی طرح  یاد رکھنے کی ہے کہ کشمیری عوام نے یہ راستہ بھارتی حکومت کی جمہوریت کش پالیسی اور تشدد کے ذریعے عوام کے سیاسی حقوق اور سیاسی عزائم کو قوت کے ذریعے دبانے اور عالمی معاہدات اور وعدوں سے فرار کے نتیجے میں اختیار کیا اور اس کا اعتراف آزاد متقین نے تو بار بار کیا ہی ہے۔ لیکن اب تو اس کا اعتراف بھارتی پالیسی کے معذرت خواہ (Apologists ) اہل قلم بھی کر رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال اصغرعلی انجینئر کا وہ مضمون ہے جس میں اب بھی وہ بھارت کے دستور میں رہتے ہوئے کسی حل کی بات کرتے ہیں مگر ساتھ ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ:

حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں مسلح مزاحمت ۱۹۸۹ء میں اس وقت شروع ہوئی جب انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور ایک اسکول کے استاد صلاح الدین کو، جو اب حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں، نا کام قرار دیا گیا، جب کہ بیش تر کشمیری سمجھتے تھے کہ وہ انتخاب جیتے ہیں۔

بات صرف ایک صلاح الدین کی نہیں، تحریک مزاحمت اور متحدہ محاذ کی پوری قیادت کی ہے اور حکمت عملی کی اس تبدیلی کی پوری ذمہ داری بھارت اور اس کی پالیسیوں پر ہے۔ نیز یہ بات بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ یہ صورت حال صرف جموں و کشمیر میں رونما نہیں ہوئی ، سامراج کی پوری تاریخ اس پر شاہد ہے کہ بیرونی قبضے کے خلاف کسی نہ کسی مرحلے پر تحریک مزاحمت کو قوت کے نشے میں مست حکمرانوں کے بالمقابل آکر مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ آج اقوام متحدہ کے ۹۲ ار کن ممالک میں سے تقریباً ۱۶۰ ایسے ہیں جو سیاسی اور عسکری مزاحمت کے نتیجے میں آزادی حاصل کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے امریکہ، روس، بھارت اور اسرائیل کی ساری کوششوں کے باوجود تحریک آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے کی جانے والی عسکری مزاحمت کو دہشت گردی قرار نہیں دیا اور یہ مقولہ ایک عالمی صداقت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کہ کچھ کی نگاہ میں جو دہشت گرد ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں آزادی کا سپاہی ہے ۔ اس کی تاریخی مثال خود امریکی ریاست کا بانی جیفرسن ہے جسے امریکہ آزادی کا سپاہی اور اس وقت کا برطانیہ دہشت گرد قرار دیتے تھے۔ نیز مشہور امریکی دانش در پرو فیسر ہن ٹنگٹن بھی یہ کہنے پرمجبور ہوا کہ دہشت گردی طاقت ور اور منہ زور قوتوں کے خلاف کمزوروں کا ہتھیار ہے۔

(Terrorism is the weapon of the weak against the strong)

جموں وکشمیر میں ۱۹۸۹ء میں برپا ہونے والی اس تحریک نے اپنے اثرات قدم قدم پر مرتسم کیے ہیں اور سارے نشیب و فراز کے باوجود اور قوت کے محیر العقول تفاوت کے علی الرغم بھارت کے اقتدار کی چولیں ہلا دی ہیں۔ بلاشبہ ۹۰  ہزار سے زیادہ شہدا کے لہو نے اس تحریک کو سیراب کیا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک نہیں بھارت کے کم از کم تین چیف آف اسٹاف اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ عسکری قوت سے تحریک مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تازہ ترین اعتراف بھارت کے موجودہ آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کا ہے جو انھوں نے ا جولائی ۲۰۱۰ ء کو اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ہے کہ بھارتی فوج جو کچھ کرسکتی تھی، اس نے کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ اس کے بس کی بات نہیں۔ مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے:

بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا اس پرتعمیر نہیں کر سکے ۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ سیکورٹی فورسز کی حیثیت سے بہت کام کیا جا چکا ہے۔ حالات کو ایک ایسی سطح تک لایا گیا جہاں حالات بہتر کرنے کے لیے دوسرے اقدامات کیے جانے چاہیے تھے۔

بھارتیفل برائٹ اسکالر لود پوری نے جو نیو یارک یونی ورسٹی میں پڑھا رہا ہے، بھارتی رسالے اکا نوک اینڈ پولیٹیکل ، ویکلی  کی ۷اگست ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں اپنے مضمون میں بھارت کے آرمی چیف کے اس بیان کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ فوج کے سربراہ وی کے سنگھ نے سیاسی اقدام کے لیے درست طور پر نشان دہی کی ہے۔ اسی مضمون میں مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کا یہ اعتراف بھی دیا گیا ہے کہ مسئلہ قانون اور امن و امان کا نہیں بلکہ نظریات کے تصادم کا ہے، اور مقبوضہ کشمیر کے وزیر  پارلیمانی امورعلی محمد اصغر کا یہ اعتراف بھی ہے کہ : We cannot fight our people ہم اپنے ہی لوگوں سے نہیں لڑ سکتے۔

اس کے ساتھ اگر بھارتی صحافی اور سفارت کار کلدیپ نائر کا یہ اعتراف بھی نظر میں رہے تو بھارت کی عسکری پالیسی اور قوت سے کشمیر کو قابو میں رکھنے کی پالیسی کی ناکامی اور کشمیری عوام کی تحریک مزاحمت اور اس کے ہر دور کی کارفرمائی کو سمجھنے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہتی ہے: ”یقین کیجیے کہ میں عوام کی قربانیوں کی اہمیت کم نہیں کر رہا۔ دنیا میں بہت کم تحریکیں اتنی پُر عزم اور اتنی دیر پارہی ہیں“۔

تحریک مزاحمت کے اس تیسرے دور کے اثرات اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ااستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد حالات نے ایسی کروٹ لی اور انھیں اس رخ پر ڈالنے میں امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور بھارت نے اہم کردار ادا کیا کہ تحریکات آزادی اور بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت کی مندرجہ بالا حکمت عملی کی راہ میں مشکلات بڑھ گئیں اور بیرونی دباؤ اور سیاسی اور سفارتی تعاون کرنے والے ممالک اور قوتوں کی قلابازیوں کے باعث عسکری مزاحمت کو ثانوی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔ یہ بھی تاریخ کی ایک ستم ظریفی ہے کہ ان تمام تبدیلیوں کے باوجود چند سو یا چند ہزار مزاحمت کار بڑی بڑی افواج اور مہلک ترین ہتھیاروں سے مسلح عالمی اور علاقائی قوتوں کے ریاستی دہشت گردوں کو ناکوں چنے چبوار ہے ہیں اور عملاً غیر مؤثر کیے ہوئے ہیں۔ عراق، افغانستان، غزہ، لبنان اور کشمیر ہر جگہ یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ کشمیر کے پس منظر میں اس مضحکہ خیز صورت حال کو کشمیر ٹائمز کی انتظامی مدیر انورادھا بھسین جیموال بھارتی رسالے اکنامک اینڈ پولیٹیکل ویکلی  میں اپنے ایک مضمون میں اس طرح بیان کرتی ہے کہ:

تمام سرکاری اندازوں کے مطابق اس وقت پوری ریاست میں ۶۰۰ سے زیادہ جنگ جو کارروائیاں نہیں کر رہے۔ ان کے مقابلے کے لیے وہاں اب بھی ۶/۷ لاکھ فوجی موجود ہیں، جنھیں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے خصوصی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

مزاحمت کی عسکری تحریک نے اس دباؤ کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ البتہ اپنی حکمت عملی میں حالات اور وسائل کی روشنی میں ضروری تبدیلیاں کیں اور ایک بار پھر اولیت کا مقام سیاسی مزاحمت اور غیر عسکری جدو جہد نے لے لیا، اور اس طرح یہ تحریک اپنے چوتھے دور میں داخل ہوئی جس میں بندوق کے مقابلے میں بندوق اور گولی کے جواب میں گولی کی جگہ نعرے،  جھنڈے، ہڑتال اور پتھر نے لے لی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اس دور کا آغاز اا جون ۲۰۱۰ء کو ۷ اسالہ طفیل احمد منٹو کی شہادت سے ہوا۔ بلاشبہہ ا۱جون کے واقعے نے اس تحریک پر گہرا اثر ڈالا اور اسے ایک نئے فراز کی طرف متحرک کیا مگر حقائق کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ صورت حال کا صیح جائزہ لیا جائے۔

تحریک کے اس دور کا آغاز ۲۰۰۸ء کے موسم گرما میں ہوا۔ جب حکومت نے کشمیر کی ۱۱۰۰ ایکٹر اراضی امر ناتھ ٹرسٹ کو منتقل کی اور اس کے خلاف سول تحریک کا آغاز سید علی شاہ گیلانی کی پکار پر ہوا۔ پُر امن احتجاج ، ہڑتال اور گولی کے جواب میں پتھر کے ہتھیار کا استعمال اس موقع پر ہوا اور اس طرح تحریک کشمیر نے فلسطین کی تحریک مزاحمت سے سبق سیکھتے ہوئے غیر مسلح سیاسی جدو جہد کے عنوان کے طور پر پتھر کے استعمال کا آغاز کیا اور حکومت کو اپنے اس اقدام سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اس تبدیلی کو موقر بھارتی جریدے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی نے اپنے ایک اداریے میں اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے اور اس اداریے کا عنوان Kashmiris Civil Disobedience رکھا ہے اور ذیلی عنوان میں اصل حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ : یہ صرف بھارتی حکومت ہے جس پر موجودہ بحران کا الزام عائد ہوتا ہے۔اس بھارتی جریدے کے تجزیے سے مکمل اتفاق نہ کرتے ہوئے بھی ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور کو سمجھنے کے لیے اس نکتے کو سامنے رکھنا مفید ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ احتجاج اور بغاوت کے موجودہ مرحلے کا براہِ راست تعلق اس سال مژھل میں تین شہریوں کے سفاکانہ قتل سے ہے جو فوجی افسروں نے کیا اور ان پر دہشت گردی کا جھوٹا الزام رکھا۔ اس پر وہ انعامات اور ترقیاں چاہتے تھے۔ یہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسے واقعات کی طویل  فہرست ہے جس میں بے گناہ عوام کو اٹھایا جاتا ہے اور سکیورٹی فورسز جنھیں کسی بھی سزا سے تحفظ حاصل ہے، انھیں قتل کر دیتی ہیں۔ کشمیر کے عوام کے لیے عرصے سے انڈیا کا مطلب بندوق کی نالی ہے، گو کہ انھوں نے جمہوری حل کے لیے فیصلہ کن ووٹ دیا ہے ۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ کشمیر کے عوام گاندھی کی اس ہدایت کی پیروی کر رہے ہیں کہ جب ریاست کرپٹ ہو اور اس میں قانون پر عمل داری نہ ہو تو سول نافرمانی ایک مقدس فریضہ بن جاتی ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی کی حکومت جو مہاتما گاندھی کا نام جیتی رہتی ہے صرف فوجی عملہ بڑھانے اور بدعنوان اور غیر متعلق لوگوں سے معاملات چلانے کا سوچ سکتی ہے۔ اگر بھارت کی حکومت اپنا جمہوری دستور ایک طرف ڈال دے اور سامراجی ریاست کے راستے پر چلے تو اس کا انجام معلوم ہے۔ اس کا حل سری نگر کی سڑکوں پر نہیں بلکہ نئی دہلی کی پالیسی اور رویوں میں تبدیلی سے ظاہر ہونا ہے  اور اسی جریدے کے اس جولائی کے شمارے میں ایک مکتوب نگار فیاض احمد بھٹ نے کشمیر کے تمام نو جوانوں کے جذبات کا اس طرح اظہار کیا ہے۔

یہ  لشکر طیبہ یا علیحدگی پسند نہیں ہیں جو کشمیر میں نو جوانوں کو پتھر مارنے پر ابھارتے ہیں۔ ریاست کی حکومت اور دہلی کی حکومت دونوں اس کی ذمہ دار ہیں۔ مرکز اور ریاست وادی کشمیر کے عوام میں بے معنی بیانات، اور کمیشنوں اور تحقیقات کے ڈراموں سے علاحدگی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ میں ایک نام نہاد تعلیم یافتہ فرد ہوں لیکن حکومت کے طریقہ کار سے مجھے غصہ آتا ہے اور میں خود پتھر پھینکنا چاہتا ہوں۔

کشمیر کی تحریک مزاحمت کے اس موجودہ مرحلے کو جو جون ۲۰۰۸ء سے شروع ہو کر جون ۲۰۱۰ ء اور اس کے بعد کے واقعات کی بنا پر ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اچھی طرح سمجھنا اور اس کے مزاج اور انداز کار پر بھی نگاہ ضروری ہے نیز اہداف کے بارے میں جو محسوس اور غیر محسوس تبدیلی واقع ہو رہی ہے اس کے ادراک کی بھی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی موجودہ قیادت کو بدلتے ہوئے حالات کا کوئی ادراک نہیں، یا اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی ترجیحات پاکستانی قوم کی  ترجیحات، پاکستان اور امت مسلمہ کے مفادات اور کشمیری عوام کے عزائم ، جذبات اور احساسات سے کوئی نسبت اور تعلق نہیں رکھتیں جو پاکستان، پاکستانی قوم اور جموں و کشمیر کے مسلمانوں سے بے وفائی کے مترادف ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوم کے سامنے سارے حقائق رکھے جائیں اور دینی اور سیاسی قوتوں کو دعوت دی جائے کہ وہ دوسرے سارے مسائل اور مشکلات کے علی الرغم پاکستان کی زیست اور بقا کے اس پہلو پر بھی بھر پور توجہ دیں۔

زمینی حقائق

ہماری نگاہ میں تحریک کا یہ چوتھا مرحلہ بہت اہم اور غالباً فیصلہ کن ہے لیکن یہ اپنے پیش رو مراحل کا تسلسل ہے، ان سے انحراف نہیں، حالانکہ بھارتی اور کچھ مغربی تجزیہ کار اسے یہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے حالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ چند بنیادی امور کو سامنے رکھا جائے تاکہ صحیح پالیسی سازی اور عملی اقدام ممکن ہوسکیں۔

۱استمبر ۲۰۰۱ء کے جو منفی اثرات مقبوضہ ممالک میں تحریک مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد پر پڑے ہیں اور جس میں امریکہ، اسرائیل، روس اور بھارت نے ایک خاص کر دار ادا کیا ہے، نیز پاکستان کی مشرف حکومت اور موجودہ زرداری گیلانی حکومت دونوں اس کی گرفت میں آگئی ہیں۔ اس گرفت سے پہنی اور عملی دونوں سطحوں پر نکلنا اولین ضرورت ہے۔ امریکہ نے نائن الیون کے سہارے عالمی دہشت گردی کا جو بازار گرم کیا ہے، وہ اب دم توڑ رہا ہے۔ عراق سے فوجوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے اور افغانستان سے نکلنے کے راستے تلاش کیے جارہے ہیں۔ یہ سارا عمل بھی نہ شفاف ہے اور نہ حقیقی لیکن حالات میں جو جو ہری فرق واقع ہو رہا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا ۔ آزادی کی تحریکات کو دہشت گردی کا عنوان دے کر کھلتا ناممکن ہے۔ امریکہ نے عالمی عسکری دہشت گردی کے ساتھ جس پہنی اور نظریاتی دہشت گردی کا ہدف پوری دنیا کو بنایا ہے اور بین الاقوامی قانون اور سیاست اور سفارت کاری کے اصول و آداب کو جس طرح مسخ کیا ہے، اس کے خلاف را عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ بھی اپنے نتائج دکھائے گا۔ دہشت گردی کے نام پر مسلط کی جانے والی امریکہ کی جنگ کے جو نقصانات پاکستان کو ہوئے ہیں، ان کا بھی اب ادراک ہو رہا ہے۔ خود حکومت کے تازہ ترین جائزوں میں یہ بات آرہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں ہی اس کی وجہ سے تہ و بالا نہیں ہوئیں بلکہ پاکستان کی فوج اور حکومت عوام سے نبرد آزما ہو گئے ہیں اور ملک خانہ جنگی کے خطرناک راستے پر پڑ گیا ہے، نیز معاشی طور پر اس نے ملک کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے تازہ ترین مطالعات کی روشنی میں پاکستان کے غریب عوام اس جنگ کی جو قیمت ادا کر رہے ہیں وہ ۰۵-۲۰۰۴ ء میں اگر اء ۲۸۹ ارب روپے تھی تو وہ بڑھ کر ۰۹-۲۰۰۸ء میں ۶۷۷۶۷۹ ارب روپے ہوگئی ہے، اور اس طرح صرف پانچ برسوں میں کل معاشی چوٹ (Economic cost) جو اس غریب، قرض میں جکڑی ہوئی قوم پر پڑی ہے وہ ۱۲ ۲۰۸۳ ارب روپے ہے جو ۱۵۰ ارب ڈالر سے متجاوز ہے اور غالباً ۱۰-۲۰۰۹ ء اور ۱۱-۲۰۱۰ء میں یہ سالانہ ضرب ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔

اس جنگ کی دلدل سے نکلے بغیر ہمارے لیے زندگی اور ترقی کا کوئی راستہ نہیں ۔ اس سے عملاً بھی نکلنا ضروری ہے اور علمی اور سیاسی سطح پر دہشت گردی اور جنگ آزادی کے فرق کو جس طرح ختم کیا گیا ہے اس کے خلاف بھی بغاوت ضروری ہے۔ کشمیر کی تحریک مزاحمت اور اس کا موجودہ فر از اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس سیاسی مخمصے سے نجات حاصل کی جائے بلکہ اسے چیلنج کیا جائے جو اس صورت حال کا ذمہ دار ہے۔

 دوسری بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ کشمیر کی تحریک مزاحمت کا راستہ ان شاء اللہ کوئی نہیں روک سکتا۔ بھارت کی افواج ہی نہیں، اب وہاں کے دانش ور اور تجزیہ کار بھی بادل ناخواستہ اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کشمیر میں بھارت کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں۔ قوت سے اہل کشمیر کو ہمیشہ کے لیے محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ نوجوانوں اور خواتین کے میدان میں آنے اور پوری قوم کے ان کے ساتھ کھڑے ہونے نے اب یہ ثابت کر دیا ہے ۱۹۳۰ء میں جو تحریک شروع ہوئی تھی دو چاہے جن مراحل سے بھی گزری ہو اور اس کے اسلوب کار میں جو بھی تبدیلیاں واقع ہوئی ہوں اس کا اولین ہدف صرف دو ہیں ۔اولاً بھارت کے قبضے سے نجات اور آزادی کا حصول، دوم: اپنے اسلامی اور کشمیری تشخص کی حفاظت اور دینی، تہذیبی اور تاریخی رشتوں کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کا عزم ۔

ہم بڑے دُکھ سے اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومتوں کی ہولناک غلطیوں، کمزوریوں اور قلابازیوں کی وجہ سے پاکستان سے محبت، عقیدت اور یگانگت کے احساسات کے ساتھ اس کی قیادت سے مایوسی اور اس پر بے اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے جو پچھلے دور کی مشرف حکومت اور موجودہ زرداری گیلانی حکومت کی بے عملی اور بدعملی کی وجہ سے خطرناک حدود کو چھورہا ہے۔ بھارت کے خلاف ان کے جذبات میں نہ صرف کوئی کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ اب خود بھارت کے اخبار ہندوستان ٹائمنر کے سروے کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے ۷ ۸ فی صد نے بھارت سے آزادی کی تائید کی ہے۔ جموں و کشمیر میں غیر مسلم آبادی کے باوجود ۸۷ فی صد کے بھارت کے چنگل سے نکلنے کے عزم کا اظہار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کے منسلک رہنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، البتہ پاکستانی قوم اور قیادت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کشمیری عوام نے اب تک پاکستان کی قیادت اور پالیسیوں سے تو مایوسی بلکہ برأت کا اعلان کیا ہے لیکن پاکستانی قوم سے ابھی تک انھیں امید ہے ۔ گو ان کی  یہ امید روز بروز بڑھ رہی ہے، اگر اب بھی ہم کسی پالیسی اختیار کریں اور اس کی روشنی میں صحیح اقدام بھی کریں تو پاکستان سے رشتہ جوڑنا جو ان کے دل کی آواز اور تاریخی آرزو ہے ایک بار پھر ان کی اولین ترجیح بن سکتا ہے۔ البتہ بھارت سے آزادی ان کا وہ ہدف اور تاریخ کا وہ اشارہ ہے جو نوشتہ دیوار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کا احساس اب بھارت کے سوچنے سمجھنے والے طبقوں میں بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی تجزیہ نگار بھی اس کا احساس و اعتراف کر رہے ہیں، مثلاً روز نامہ دی گارڈین لندن کے مقالہ نگار سائمن ٹس ڈال کے مطابق :

۱۹۴۷ء میں تقسیم کے بعد سے، دہلی کی کشمیر پالیسی بینی استصواب رائے عامہ کے اقوام متحدہ کے مطالبے کو نظر انداز کرنا، انتخابات میں دھاندلی کرنا، منتخب حکومتوں کو استعمال کرنا یا ان کا تختہ الٹ دینا اور معاشی ترقی کو نظر انداز کرنا مسئلے کی اصل جڑ ہے۔  

تشدد اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بہت سے کشمیری ابھی تک اپنے آپ کو بھارت کا حصہ نہیں سمجھتے اور اعلان کرتے ہیں کہ آئیندہ بھی ہرگز نہیں سمجھیں گے۔ بھارت نے کئی لاکھ فوجیوں اور نیم تو جیوں پر مشتمل فوج کشمیر میں رکھی ہے جس نے گرمائی صدر مقام سری نگر کو ایک مسلح کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں اکثر کرفیو ہوتا ہے اور ہمیشہ سر پر بندوق ہوتی ہے۔ میڈیا سخت پابندیوں کے تحت کام کر رہا ہے۔ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور ٹارچر کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جس کا فلسطینیوں سے اسرائیل کے سلوک سے تقابل نا مناسب نہیں۔

گارڈین ہی کی ایک اور مضمون نگار کیتھرین لیوک پاکستان کے سیلاب پر مغربی اقوام کے رد عمل کے موضوع پر حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بھارت اور اس کی کشمیر پالیسی کا بھی تنقیدی جائزہ لیتی ہے اور اس نتیجے پر پہنچتی ہے جس کی طرف او پر اشارہ کیا گیا ہے۔

بھارت کے اپنے گھر میں بھی خود کی حالات کی پیدا کردہ بغاوت موجود ہے۔ شمال مشرق میں نیکسلائٹ اور ماؤ دہشت گرد بھارت کے استحکام کے لیے خطرناک چیلنج ہیں۔ یہ انتہا پسندی جس کی وجہ غربت ہے عالمی مذمت کا نشانہ نہیں بنتی۔ جولائی کے اقوام متحدہ کے اشاریے سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی آٹھ ریاستوں میں افریقہ کے صحرائی خطے کے ۲۶ ممالک سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہیں۔ بالآخر پریس میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ گذشتہ ۲۰ برس سے کشمیر کا تنازعہ حل نہ ہونے کی ذمہ داری زیادہ قطعیت سے بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

خود بھارتی روز نامہ دی ہندو اپنے ایک حالیہ اداریے میں کشمیر کی موجودہ صورت حال کی پوری ذمہ داری بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی حکومت اور اس کے استبدادی ہتھکنڈوں اور قوت سے سیاسی مسائل کو ختم کرنے کی پالیسی پر ڈالتا ہے۔

فیصلہ کن مرحلہ

کشمیر کے حالات ایک تاریخی موڑ پر آگئے ہیں۔ تبدیلی دستک دے رہی ہے اور وہ کسی کا انتظار نہیں کرے گی کہ کشمیری قوم نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی لگا چکی ہے۔ اب فیصلہ پاکستان کی حکومت اور پاکستانی قوم کو کرتا ہے کہ تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر ان کا کردار کیا ہوگا ؟ صاف نظر آرہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دباؤ اور مقامی زبانوں کے میڈیا کے شور و غوغا اور تشدد  کو تیز تر کرنے کے واویلے  کے باوجود بھارت کے سوچنے سمجھنے والے عناصر اور خود پالیسی سازان حالات کو بہ امر مجبوری تسلیم کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی ہر سطح پر نہ صرف مزاحمت ہے بلکہ بھارتی دانش ور چانکیہ کی ہدایات کی روشنی میں اپنے تسلط کوکسی نہ کسی شکل میں باقی رکھنے تھر یک مزاحمت کو تقسیم کرنے ، اس کی مخلص اور پرکھی ہوئی قیادت کے خلاف نت نئی چالیں چلنے، پاکستان کی حکومت کو نئے کھیلوں اور پھندوں میں اُلجھانے اور امریکہ اور اسرائیل کے تعاون سے اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ جہاں تاریکی چھٹنے اور نئی صبح طلوع ہونے کے امکانات ہیں، وہیں ابھی سازشوں اور سامراجی ہتھکنڈوں کے جاری رہنے کا بھی پورا امکان ہے۔ اہل کشمیر اور پاکستان کو ہوا کے رخ کو تو ضرور سمجھنا چاہیے مگر یہ جان کر کہ ابھی ظلم وستم کی حکمرانی قوت کے استعمال کے نئے تجربات، سیاسی سمجھوتوں اور دھوکوں کے نئے کھیل اور تقسیم کرو اور مسلط رہو کی سامراجی پالیسی کے نئے ماڈلز کے تجربوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں!

بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی اسٹریٹجک پارٹنرشپ بھی اس مسئلے کے معتدل ، مبنی برحق اور فوری حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اسرائیل کی حکومت اور فوج دونوں بھارتی حکومت اور فوج کی کارروائیوں  [i]میں شریک ہیں۔ نیز امریکہ اور بھارت کے اسٹریٹجک تعاون کے نتیجے میں امریکہ کی عالمی حکمت عملی اور پاکستان پالیسی ی مار نہیں ہوئی بلکہ شمیرکی تحریک مزاحمت اور اس مسئلے کے منصفانہ حل کے سلسلے میں بھی امریکہ کا رویہ یکسر بدل گیا ہے۔

کیا یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کی خاطر نہ صرف بھارت پر دباؤ ڈالنے سے گریز کر رہا ہے بلکہ بھارت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے بھارتی الزامات کا سہارا لے کر پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور صاف ظاہر کر رہا ہے کہ وہ کس کا دوست ہے اور کس کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔بھارت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی اور پاکستان کی کوششوں میں وقتی کامیابی کے بعد فوری ناکامی کا ثبوت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دو بیانات ہیں، جو ایک ہفتے کے وقفے سے جاری ہوئے۔ پہلے بیان میں کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بھارت اور پاکستان کو مسئلے کے حل کے لیے ترغیب دی گئی، جبکہ دوسرے بیان میں پہلے بیان سے برأت کا اعلان کیا گیا۔

عالمی ادارے، امریکہ اور یورپی اقوام اور مغربی میڈیا سب کچھ جانتے ہوئے بھی مفادات کی دوڑ میں بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس کے مظالم اور سامراجی ہتھکنڈوں تک کا ذکر الا ماشاء اللہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ اب اس صحافتی بددیانتی ، طاقت اور مفادات کی جنگ میں کھلی کھلی جانب داری کے خلاف بھی آوازیں اُٹھنے لگی ہیں لیکن یہ آواز میں ابھی بہت ہلکی ہیں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ دنیا بھر میں پاکستانیوں، کشمیریوں اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے اور سامراجی قوتوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں، اداروں اور میڈیا کو متحرک کیا جائے لیکن یہ کون کرے، جب کہ پاکستان کی قیادت، اس کے سفارت خانے اور اس کے وسائل پاکستان اور کشمیر کے مفاد میں استعمال نہیں ہور ہے۔

کشمیر کے اس اہم سیاسی اور انسانی مسئلے کے بارے میں تغافل اور جانب داری کے سلسلے میں سیاسی قوتوں اور میڈیا کی ناکامی کے بارے میں جو آواز میں اب اُٹھنے لگی ہیں ان کو پروجیکٹ کرنے اور مزید تائیدی قوتوں کو متحرک کرنے کے جتنے امکانات آج ہیں پہلے کبھی نہیں تھے لیکن کون ہے جو ان سے فائدہ اٹھائے؟

بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا اور پاکستانی قیادت اور سفارت کار خاموش ہیں، جب کہ مغرب کے ایوانوں میں خواہ کتنے ہی مدھم سُروں میں ہو، یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ بھارت ظلم اور دھو کے کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، حقائق بھارت کی تصویر کشی سے بہت مختلف ہیں اور کشمیر کے مجبور انسانوں کی آواز کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت میں ارون دھتی رائے اور دوسرے دانش ور بھارت کی کشمیر پالیسی کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں بھی یہ احساس تقویت پارہا ہے۔ نیو یارک ٹائمنر کی نمائندہ Lyndia Polgreen سری نگر سے اپنی رپورٹ میں تازہ صورت حال کی پوری تصویر کشی کرتی ہے۔

اسکول طالب علم۱۹سالہ فدا نبی جس کے دماغ میں گولی پیوست تھی ، چھے دن زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا رہ کر جان کی بازی ہار گیا۔ کشمیر کے موجودہ خونیں موسم گرما میں یہ ہلاک ہونے والا ۵۰ واں فرد تھا۔

کئی عشروں سے بھارت نے کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوج پاکستان کی بر پا کردہ بغاوت کو فرو کرنے کے لیے لگا رکھی ہے۔ پاکستان اس سرحدی علاقے پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ بغاوت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے لیکن بھارتی افواج اب تک یہاں ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو در پیش خطرے کا سامنا کر رہی ہیں: ایک انتفاضہ کی طرح کی عوامی بغاوت جس میں نہ صرف پتھر پھینکنے والے نوجوان شامل ہیں بلکہ ان کی بہنیں، مائیں ، چچا اور دادا بھی شامل ہیں۔ یہ احتجاج مسلسل تیسرے موسم گرما میں پھوٹ پڑے ہیں ۔ انھوں نے بھارت کو اپنی حالیہ تاریخ کے سنگین ترین داخلی بحران سے دوچار کر دیا ہے، احتجاج کی شدت اور استقلال کی وجہ سے نہیں بلکہ کشمیریوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے پیسہ، انتخابات اور بہت بڑے پیمانے پر طاقت کے عشروں تک کے استعمال کی ناکامی کا اعلان ہونے کی وجہ سے۔

جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی دہلی کے پروفیسر ایک کشمیری ہندو امیتاب متو کا کہنا ہے کہ ہمیں کشمیر میں اپنی پالیسیوں پر مکمل طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ پیسے کا مسئلہ نہیں ہے، آپ نے بڑے پیمانے پر پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ منصفانہ انتخابات کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں کی ایک ایسی نسل تک پہنچنے کا مسئلہ ہے جوسمجھتےہیں کہ بھارت ایک بہت بڑا بھوت ہے جس کی نمائندہ اس کی افواج اور ان کے مورچے ہیں۔

بلاشبہ حق خود ارادی کے لیے کشمیریوں کا مطالبہ علاقے کی تاریخ میں اتنا شدید پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ یہ ایسے وقت میں ہورہا ہے اور یہ اس وجہ سے بھی ہے کہ تنازعے کے حل کی سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہیں۔ لینڈا اپنی حیرت کا اظہار کرتی ہے کہ:

اس موسم گرما میں احتجاج کرنے والوں اور فوجیوں کے درمیان ۹۰۰ کے قریب جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ۵۰ شہری ہلاک ہوئے ہیں، جو زیادہ تر بندوق کی گولی کے زخم سے ہلاک ہوئے ہیں۔ پتھر پھینکنے والے مجمعوں نے ۱۲۰۰ فوجیوں کو زخمی کیا ہے اور کوئی بھی اس احتجاج میں ہلاک نہیں ہوا۔ جس سے یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ بھارت کی سکیورٹی فورسز غیر مسلح شہریوں کے خلاف اتنی زیادہ طاقت کیوں استعمال کر رہی ہیں اور کیوں اس پر بین الاقوامی احتجاج اتنا کم ہے؟ اسکول کے ۳۱ سالہ استاد الطاف احمد کا کہنا ہے کہ جب کشمیری سڑکوں پر مرتے ہیں تو دنیا خاموش رہتی ہے۔

بھارت کی غلط بیانیوں کا ذکر لینڈا اپنے اس اہم صحافتی مراسلے میں اس طرح کرتی ہے: بھارتی حکام پتھر پھینکنے والے نو جوانوں کو سرحد پار کی پاکستان کی جہادی طاقتوں کے ناخواندہ ساتھی کی شکل میں پیش کرتے ہیں، اور تجویز دیتے ہیں کہ معاشی ترقی اور ملازمتیں نو جوانوں کو سڑکوں سے ہٹانے کی کلید ہے۔ مگر پھر پھینکنے والے بہت سوں کو نا خواندہ نہیں کہا جاسکتا۔ وہ فیس بک میں میں کشمیری پتھر پھینکنے والا ہوں کے نام سے گروپ بناتے ہیں۔ ایک نوجوان جو احتجاج میں با قاعدگی سے شریک ہوتا ہے اور خالد خان کے نام سے جانا جاتا ہے، ایم بی اے ہے اور اچھی آمدنی والی ملازمت پر ہے۔

ہفت روزہ نیوز ویک ۷ جولائی کی اشاعت میں مصنف اور تجزیہ کارJereny Kahn کا مضمون شائع کرتا ہے جو وزیر اعظم من موہن سنگھ کو مشورہ دیتا ہے کہ مسئلے کی اصل جڑ کی طرف توجہ دو: بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے لیے تشدد کی لہر ایک مشکل چیلنج ہے۔ انھیں اپنی حکومت کے عقابوں کو بھی روکنا ہے، جیسے ان کے وزیر داخلہ چدم برم جو طاقت کے بہت زیادہ استعمال کا جواز پیش کرتے ہیں اور موجودہ احتجاج کو پرانی طویل بغاوت سے جوڑ کر اور کسی ثبوت کے بغیر الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان اور لشکر طیبہ ان ہنگاموں کی ڈور ہلا رہے ہیں۔ من موہن سنگھ کو اس احتجاجی تحریک کو وہی سمجھنا چاہیے جو یہ ہے۔ یہ ان نو جوان کشمیریوں کے غصے اور محرومی کا احساس ہے جو اپنے آپ کو بقیہ بھارت سے الگ محسوس کرتے ہیں۔ وہ ریاست میں مواقع کے فقدان سے مایوسی کا شکار ہیں اور مقبوضہ لوگوں کی طرح رہنے سے تنگ آچکے ہیں۔ بھارت کے لاکھوں فوجی اور پولیس کے سپاہی کشمیر میں موجود ہیں اور وادی میں ہر جگہ ان کی موجودگی نظر آتی ہے۔ ان سکیورٹی فورسز کو قانونی تحفظ حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ صورت حال طاقت کے غلط استعمال کو دعوت دیتی ہے۔ طارق علی لندن کے جریدہ لندن ریویو آف بکس کی ۲۲ جولائی ۲۰۱۰ ء کی اشاعت میں ایک مضہ Not Crushed, Merely Ignored میں بڑے دُکھ کے ساتھ پوری مغربی صحافت بشمول بائیں بازو کے دانش ور اور قلم کار سے شکایت کرتا ہے کہ کشمیر میں مظالم کے کیسے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں اور انسانیت خاموش تماشائی ہے جتنی کہ پاکستان کی قیادت اور میڈیا بھی اس بے حسی کا شکار ہیں۔ کشمیر میں اموات کی خبریں تو غائب ہو جاتی ہیں، لیکن تہران کو جانے دیجیے، تبت کے معمولی سے واقعے کو بھی خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف دشمنی پر فخر بھارت کے تشدد کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو مارنے کی کھلی چھٹی مل گئی جب کشمیر کی آزادی کی جدو جہد کو آسانی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جوڑ دیا گیا اور اسرائیل کے فوجی افسروں کو اکھنور کی فوجی چھاؤنی میں بلایا گیا تا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بارے میں مشورہ دیں۔ ویب سائٹ انڈیا ڈیفنس میں ستمبر ۲۰۰۸ ء میں بتایا گیا کہ گذشتہ ہفتے میجر جنرل اے وی مزراہی نے کشمیر کے متنازعے علاقے کا دورہ کیا تا کہ بھارتی فوج کومسلمان باغیوں سے لڑائی میں جو چیلنج درپیش ہیں ان کو قریب سے دیکھ سکیں۔ تین دن وہ بھارت میں رہے اور فوج کی اعلیٰ قیادت سے اس منصوبے پر گفتگو کی کہ اسرائیلی کمانڈو بھارت کی افواج کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی تربیت دیں۔ ان کا واضح مشورہ یہ تھا کہ وہی کرو جو ہم فلسطین میں کرتے ہیں اور ہمارا اسلحہ خریدو۔ ۲۰۰۲ء کے بعد چھے سالوں میں بھارت نے اسرائیل سے ۵ ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔

طارق علی بھارت کے مظالم کی کچھ جھلکیاں اس طرح دکھاتا ہے:

بھارتی وزیر اعظم کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۲۰۰۸ء میں خط لکھا تھا جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیل بیان کی تھی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں ۱۹۸۹ء سے جاری مسلح جدو جہد میں جولوگ غیر قانونی طور پر قتل کیے گئے ، ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا، لاپتا افراد اور دوسری زیادتیوں کا شکار ہوئے ان کی باقیات دفن ہیں۔ صرف اُوڑی ضلع کے ۱۸ دیہاتوں میں ۹۴۰ افراد کی قبریں پائی گئیں ۔ ایک مقامی این جی او، آئی پی ٹی کے کا کہنا ہے کہ ماوراے عدالت قتل اور ٹارچر وادی میں عام طور پر ہوتے ہیں اور مغربی ادارے نئی دہلی سے تعلقات خراب ہونے کے خدشے سے اس بارے میں کچھ کرنے کی کوشش تک نہیں کرتے۔

آئی پی ٹی کےفراہم کردہ اعداد و شمار حیرت ناک ہیں۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۹ء تک کشمیر میں فوجی قبضے کے دوران ۷۰ ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ یہ رپورٹ ان دعووں کو علیم نہیں کرتی کہ یہ قتل انفرادی فعل ہیں۔ اس کے بر خلاف یہ قبضہ کرنے کے با قاعدہ عمل کا حصہ  ہیں۔ ان کو دورانِ ملازمت کار کردگی سمجھا جاتا ہے اور اس پر ترقی اور مالی انعامات دیے جاتے ہیں اور دعووں کی تصدیق کر کے ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ اس گھناؤنے اور مسلسل جاری تنازعے میں ۵ لاکھ سے زیادہ فوجی اور نیم فوجی عملہ ( عراق اور افغانستان میں موجود امریکی افواج سے زیادہ) کسی سزا کے خدشے کے بغیر کشمیر بھر میں انعام برقرار رکھتا ہے اورلوگوں کی آمد ورفت کو کنٹرول کرتا ہے۔

راقم الحروف مغربی اخبارات اور رسائل کا مطالعہ گذشتہ ۴۰ سال سے کر رہا ہے۔ کشمیر میں بھارت کے مظالم اور اس کی کشمیر پالیسی کے سلسلے میں جو معلومات اب آنا شروع ہوئی ہیں اس کی پہلے نظیر نہیں ملتی۔ لیکن افسوس ہے کہ پاکستان کی حکومت، اس کے سفارت کار اور خود اس کا میڈیا ( چند اخبارات کو چھوڑ کر ) اس سلسلے میں جس بے حسی اور بے بصیرتی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہ مجرمانہ غفلت سے بھی کچھ بڑھ کر ہے!

اہل کشمیر سے یک جہتی کا تقاضا

بھارت اس وقت پریشان ضرور ہے مگر اپنی شاطرانہ چال بازیوں سے باز نہیں آیا۔ وہ اس وقت بھی جب کشمیر کا چپہ چپہ اس کے خلاف بغاوت کی علامت بن گیا ہے، نت نئی چالوں میں مصروف ہے۔ پاکستان سے مذاکرات اور مذاکرات میں اصل مسائل سے فرار، نیز پاکستان کو بلیک میل کر کے دباؤ میں رکھنے کی کوشش اس کا حصہ ہے۔ اب تک ۱۵۰ سے زیادہ مذاکراتی نشستیں ہو چکی ہیں لیکن نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوا اور نہ مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر آ رہا ہے مگر پاکستان کو الجھا کر رکھنا اور بلیک میل کرنا دونوں کام جاری رہیں گے۔ کشمیر کی تحریک مزاحمت کے سلسلے میں اس کی ترجیح اس کو تقسیم کرنے ، مذاکرات کا دھو کہ دے کر تحریک کو تحلیل کرنے اور سب سے بڑھ کر اصل ایشو یعنی حق خود ارادیت سے توجہ کو ہٹا کر معاشی پیکج  اور علاقائی خودمختاری کا جھانسا دینا ہے جس کا تجربہ اہل کشمیر باربار کر چکے ہیں، اور شیخ عبداللہ ۱ا سال کی قید کے بعد اور خود اپنے ہی کہے کو نظر انداز کرنے کے بعد دوبارہ برسر اقتدار آئے لیکن ان کی موجودہ خود مختاری کا کیا حشر ہوا؟ خود کلدیپ نائر کے الفاظ میں سن لیں اور کشمیر کی قیادت اس سے سبق لے۔

شیخ عبداللہ اقتدار میں واپس آئے اور اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے یہ معاہدہ کیا جس سے وہ خود مختاری بحال ہوگئی جونئی دہلی میں ان کی غیر حاضری میں ختم کر دی گئی تھی ۔ لیکن شیخ عبداللہ کو آزادی سے کام کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ بیورو کریسی اور خفیہ ایجنسیاں جو مضبوط ہو چکی تھیں اس کو کام کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں۔ شیخ نے مجھ سے کہا کہ وہ اکثر مجھ سے چپڑاسی کا سلوک کرتے تھے ۔

آج بھی خود مختاری کی باتیں ہو رہی ہیں اور تو اور خود کلدیپ نائر بھی یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ الحاق اور آزادی دونوں ممکن نہیں۔ الحاق کا حشر دیکھ لیا اور آزادی ان کے بقول بھارت اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں، اس لیے معاملہ خود مختاری پر طے ہو جانا چاہیے۔ حالانکہ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ اہلِ جموں و کشمیر کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے اور وہ تقسیم ملک کے فارمولے، بھارت کے عہد و پیمان، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوتوں کے پختہ وعدوں کی روشنی میں اپنا مستقبل طے کریں۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول نہ بین الاقوامی سرحد تھی اور نہ آج ہے۔ کشمیر کے لوگوں کی اس سرحد کے پار آمد ورفت ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخلہ یا اخراج کی حیثیت نہ رکھتے تھے اور نہ آج رکھتے ہیں۔ یہ ساری بحث کہ کس سرحد سے کون کہاں جا رہا ہے کشمیر کی حد تک غیر متعلق ہے۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اور کشمیریوں کا حق خود ارادیت محض وقت گزر جانے سے معدوم نہیں ہو جا تا اور اس حق کی حفاظت کشمیری عوام نے اپنے خون سے کی ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک بین الا قوامی مسئلہ ہے جس کے کم از کم تین فریق ہیں: یعنی بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام ۔ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی رُو سے چوتھا فریق عالمی برادری بھی ہے۔ مسئلے کا محض دو طرفہ حل ناممکن ہے۔ حال ہی میں بی بی سی کی اُردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے خود عمر عبداللہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے۔

کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اسے بھارت اور پاکستان کو مل کر حل کرنا ہوگا۔ ایسا حل نکالنا ہوگا جو جموں و کشمیر کے عوام کے لیے قابل قبول ہو۔ سب سے بڑا مسئلہ سیاسی ہے۔ بات چیت کا سلسلہ بحال کرنا ہوگا۔

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ بنیادی مسئلہ ہے ہی حق خود ارادیت کا اور اس میں پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام تینوں کی شرکت اور اتفاق ضروری ہے، اور ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ آخری حق اور اختیار جموں وکشمیر کے عوام کا ہے۔ جو بھی رو لے کریں اسے قبول کیا جانا چاہیے اور مستقبل کا نظام ان کی مرضی سے قائم ہونا اور چلنا چاہیے۔ اس کے سوا کوئی راستہ علاقے میں سلامتی اور استحکام کے حصول کا نہیں۔ اس کے لیے پاکستانی قوم اور حکومت اور عالمی برادری کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ سمجھوتوں کی سیاست ناکام رہی ہے۔ اصول اور حق و انصاف پر مبنی حل ہی مسئلے کا حل ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت حالیہ عرصے میں جس روش پر گامزن ہے وہ کشمیر، پاکستان، امت مسلمہ اور تاریخ سے غداری کی روش ہے اور پاکستانی قوم کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس غلط کار حکومت کو یا اس راستے سے مضبوط ارادے کے ساتھ روک دے یا اقتدار ان لوگوں کے سپرد کر دے جو ملک، علاقے اور مسلمانانِ پاکستان و کشمیر کے مفادات کی حفاظت کر سکیں۔ کشمیر کا مسئلہ فقط زمین کا تنازعہ نہیں جموں و کشمیر کے سوا کروڑ سے زائد عوام کی آزادی اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے، نیز ان کے ایمان، تصورِ حیات اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ اصولی بنیاد سے ہٹ کر اس کا کوئی حل نہیں نکالا جا سکتا۔ یہ اہلِ کشمیر کا حق ہے، یہی پاکستان کا مفاد ہے اور یہی اسلام کا تقاضا ہے۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں نے ہر طرح سے قربانی دے کر اپنی منزل اور اپنے اہداف کا اظہار و اعلان کر دیا ہے اور وہ کسی بھی سامراجی قوت کے آگے سپر ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔

بھارت کے مظالم ہر انتہا کو پار کر گئے ہیں اور دنیا کی بے حسی افسوس ناک اور شرم ناک ہے لیکن پاکستان کے غیور مسلمانوں اور پوری اُمت مسلمہ کے لیے خاموش تماشائی کا کردار دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے کا سودا ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کے لیے صحیح موقف کو کسی زورعایت کے بغیر واضح کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجُنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا وَ اجْعَلُ لَّنَا مِنْ لَّدُنكَ وَلِيًّا وَّ اجْعَلُ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيرًا ه

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔“ (النساء۷۵:۴)

بلاشبہ آج پاکستان ایک عظیم آزمایش سے دو چار ہے۔ سیلاب کے طوفان نے ایک چوتھائی ملک کو تاراج کر دیا ہے اور ہر علاقہ اور ہر خاندان متاثر ہے لیکن موجودہ حالات میں بھی اُمت مسلمہ کو جس کردار کی تلقین کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں اپنے ملک کے بھائیوں اور بچوں کے دُکھوں میں شریک اور ان کو اس آزمایش سے نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں، وہیں ان حالات اور مشکلات کے علی الرغم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی مدد کی بھی بھر پور انداز میں نظر کریں اور ان کی جدو جہد کی تقویت اور ان کی تحریک کی کامیابی کے لیے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں ، اور سب سے اہم اپنے اور ان کے اصولی موقف پر سختی سے جم جائیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی صحیح نیت سے بندہ جتنا خرچ کرتا ہے اللہ اسے اور دیتا ہے۔

قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَ يَقْدِرُلَهُ وَ مَا انْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَ هُوَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ

اے نبیؐ! ان سے کہہ دو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محدود کرتا ہے۔ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو، اس کی جگہ وہ تمہیں عطا کرتا ہے، اور وہ سب رازقوں میں سب سے بہتر ہے۔ (سبا ۳۹:۳۴)

اہل ایمان کو یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ فراخی اور غنی کے عالم میں دینا تو معمول کی کارروائی ہے، اصل امتحان اس میں ہے کہ تنگی اور سختی کے عالم میں اپنے دوسرے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرو۔ قرآن نے جہاں فے کی تقسیم کا اصول بیان کیا ہے وہاں اہلِ ایمان کو یہ ابدی ہدایت بھی دی ہے کہ :

وَالَّذِينَ تَبَوَّوُا الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ .

اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں ۔ (الحشر ۹:۵۹)

یہ اسلام کے ابدی اصول ہیں اور فرد، معاشرہ اور ریاست ہر ایک کو ان کی روشنی میں اپنی پالیسی بنانے کی ہدایت ہے۔ ان احکام کا تعلق محض انفرادی سطح پر انفاق تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج جن حالات میں پاکستانی قوم ہے اس میں ان سے روشنی لیتے ہوئے ہمیں اپنی کشمیر پالیسی قومی یک جہتی کے ساتھ وضع کرنی چاہیے۔ امریکا کی مسلط کردہ دہشت گردی کی جنگ سے نجات، بھارت کے سلسلے میں اصول اور حق و انصاف پر مبنی رویے اور جموں و کشمیر کی تحریک آزادی سے اپنے تعلق اور اس میں اپنے بھر پور کردار کی ادائیگی کی مگر اسی احساس ذمہ داری کے ساتھ کرنی چاہیے جس سے ملک کے اندرونی مسائل حل، ضرورت مندوں کی مدد، غلط کاروں کا احتساب ہو سکے۔ بحیثیت مجموعی اصلاح احوال کی جدو جہد کرنا ہم پر فرض ہے۔ مسلمان کا شیوہ زمانے کے رُخ پر چلنا ، اور مصائب اور مشکلات کے آگے سپر ڈالنا نہیں بلکہ مخالف لہروں سے لڑنا اور حالات کے رُخ کو موڑنا ہے۔

زمانہ ب تو نسازد تو با زمانہ ستیز

اور

تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

(ستمبر ۲۰۱۰ء)


بھارتی روز نامہ انڈین ایکسپریس کے ۸ جولائی ۲۰۱۰ء کے شمارے میں ایک مضمون Calming Kashmir میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے جنگ جو حلیفوں کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کے حل کا جو نسخہ پیش کیا گیا ہے وہ بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے پاکستان افضل خاں کی شیطانی پالیسی پر چل رہا ہے۔ اس کا جواب وہی ہے جو شیواجی نے دیا تھا۔ یہ اس تاریخی واقعے کی طرف اشارہ ہے جب مرہٹہ سردار شیواجی نے مسلمان سپہ سالار افضل خاں کو امن مذاکرات کے لیے بلا کر قتل کر دیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »