ArticleLawMedia ArticlePakistan Law

استحقاق کی خلاف ورزی کا تعین

احتساب اسلام اور کسی بھی مہذب معاشرے کی روح ہے۔ احتساب کے ذریعے ہی قانون کی بالادستی قائم ہو سکتی ہے اور احتساب سے کوئی بالا نہیں۔ لیکن جہاں اسلام کا یہ بنیادی اصول ہے وہیں اس کا دوسرا حصہ کسی کے خلاف جھوٹا الزام ہے جو خود اسلام کی نگاہ میں ایک جرم ہے اور اسلام میں ہی وہ قانون ہے جس نے قانون قذف کے ذریعے سے یہ اصول ثابت کیا کہ اگر الزام لگانے والا جھوٹا ہے یا اگر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے تو الزام لگانے والے کو سزاملنی چاہیے۔ اس کے قانونی پہلووں پر اظہار خیال کرتے ہوئے سب سے پہلا اور مرکزی سوال یہ ہے کہ ایک رکن کا استحقاق کسی ایسے مسئلے پر بنتا ہے یا نہیں،  جس میں اس کی عزت پر حرف گیری کی گئی ہو، اس کے کردار کو عوام اور اس کے حلقہ احباب کی نگاہ میں مشتبہ بنایا گیا ہو۔ دوسرا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ایک ایوان کارکن جسے تحفظ حاصل ہے خود قانون استحقاق کے تحت دوسرے رکن کے بارے میں اگر یہ بات کہتا ہے کہ تو کیا اس کا اس پر احتساب ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ تیسرا سوال سزا کی نوعیت اور اس کے لیے اختیار کیے جانے والے راستے سے ہے۔ تو کیا ہمارے قانون کے تحت کوئی گنجائش اس بات کی ہے کہ عدالت سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کیا جاسکے۔ یا صرف عدالت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے ایک ملزم کو سزادی جاسکتی ہے۔ یہ تین قانونی پہلو ہیں جن کی روشنی میں تحریک استحقاق کا فیصلہ فنی بنیادوں پر ہونا چا ہے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کیا چیئر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایک پریس کانفرنس میں ان معلومات کی بنیاد پر یا ان معلومات کے بارے میں جنہیں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ کا حصہ ہونا چاہیے، باہر پریس کانفرنس میں اعلان کر کے استحقاق کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں ؟

                بلاشبہ ہر کمیٹی کی کاروائی جب تک کہ اس کی رپورٹ متعلقہ ایوان میں پیش نہ کر دی جائے ایک امانت ہے اور کوئی بھی، چاہے وہ کمیٹی کا صدر ہویا کمیٹی کا کوئی رکن اگر ان  معلومات کو افشا کرتا  ہے تو یہ ایک استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کمیٹی کی بھی اور اس ایوان کی بھی۔ قومی اسمبلی کے ضوابط میں ضابطہ نمبر ۱۹۲ بہت واضح ہے جو یہ کہتا ہے کہ:

“A Committee may direct that the whole or any part of its proceedings or a summary thereof may be laid on the table. The report of a Committee which has not been presented to the Assembly or the proceedings of a Committee or any part or summary thereof which has not been laid on the table shall be treated as confidential and shall not be open to inspection except with the permission of the Committee. The Speaker may direct that any part of the proceedings may be communicated to the members confidentially before it is laid on the table. A Committee may with the permission of the Speaker make available to government its report or a part thereof before presentation to the Assembly and such report or part shall be treated as confidential by government until presented to the Assembly.”

کوئی کمیٹی یہ ہدایت جاری  کر سکتی ہے کہ کاروائی کا تمام یا اس کا کچھ حصہ یا اس کا خلاصہ منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔ کسی کمیٹی کی رپورٹ جسے اسمبلی کے سامنے پیش نہیں کیا گیا یا کمیٹی کی کارروائی یا اس کا ایک حصہ یا خلاصہ جسے متظر عام پر نہیں لایا گیا، اسے خفیہ خیال کیا جائے گا اور کمیٹی کی اجازت کے بغیر اوپن نہیں کیا جائے گا۔ سپیکر یہ ہدایت دے سکتا ہے کہ کارروائی کا کوئی حصہ ایوان میں پیش ہونے سے پہلے اسے راز دارانہ طریقے سے ممبران کو بتا دیا جائے۔ کمیٹی سپیکر کی اجازت سے اپنی رپورٹ یا اس کا حصہ اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے حکومت کو مہیا  کر سکتی ہے اور یہ رپورٹ یا اس کا حصہ اسمبلی میں پیش کرنے تک حکومت کی طرف سے خفیہ رکھاجائے گا۔

اس سلسلے میں پارلیمانی روایات کے بارے میں تمام کتابیں متفق دکھائی دیتی ہیں کہ اس حد تک آنے سے پہلے معلومات کو افشا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لازما  استحقاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ تاہم میری ذاتی رائے میں اس کا سہارا متعلقہ سینیٹر نہیں لے سکتے۔ یہ جو استحقاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے یہ قومی اسمبلی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہوئی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا قومی اسمبلی کا کوئی بھی رکن اس پر تحریک استحقاق لا سکتا ہے۔ لیکن سینیٹر یا سینٹ اس حصے کا نوٹس نہیں لے سکتا۔

ممبر پارلیمنٹ کی توہین

May کی Parliamentary Practice کے صفحہ ۱۵۹ پر اس مسئلے پر بحث کی گئی:

“Analogous to molestation of members on account of their behaviour in Parliament or speeches and writings reflecting upon their conduct as members.”

(ممبران کے پارلیمنٹ میں رویے کی بناء پر یا بطور ممبران کے طرز عمل کو مطعون کرنے والی تقاریر یا تحریریں جو ممبران کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوں۔) یہ بڑا ہی اہم جملہ ہے جو آپ کو ہر کتاب میں ملے گا کہ جس طرح کسی ممبر کو جبراً اسمبلی یا سینٹ میں آنے سے روک دیا جائے، تنگ کیا جائے، بالکل اسی طریقے سے ایسی تقریریں اور ایسی تحریریں کہ جو ممبر کے کردار پر حرف گیری کرتی ہوں وہ بھی اس زمرے میں شمار کی جاتی ہیں۔

“On 26th February 1701, the House of Commons resolved that to print or publish any libel reflecting upon any member of the House for or relating to the service therein was a high violation of the rights and privileges of the House. Written imputation as affecting a member of Parliament may mount to breach of privilege without perhaps being libeled at common law.”

دار العوام نے ۲۶ فروری ۷۰۱اء کو فیصلہ کیا کہ ایوان کے کسی ممبر کے کام کے سلسلے  میں کوئی تحریر چھاپنا  یا شائع  کرنا جس سے اس کی تو میں مقصود ہو وہ ایوان کے حقوق اور استحقاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ تحریری بہتان، جو پارلیمنٹ کے ممبر کو متاثر کرے، وہ شاید کامن  لاء  میں ہتک آمیز قرار پائے بغیر استحقاق کی خلاف ورزی شمار ہو سکتا ہے۔) یہ بڑا اہم معاملہ ہے کہ ایسے بیانات بھی کہ جو عام قانون کے تحت ہتک آمیز یا تو ہین آمیز نہ بنتے ہوں لیکن ان کے نتیجے کے طور پر اگر ایک رکن پارلیمنٹ کی عزت پر حرف گیری کی جاتی ہے اور ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جس کی بناء پر اپنے ووٹروں اور عوام کی نگاہ میں اس کا کردار مشکوک ہو جائے تو یہ بھی پارلیمنٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔ خواہ عام قانون کے تحت یہ ہتک عزت ہو یا نہ ہو۔ اس کے صفحہ ۱۴۰ پر کئی کیسوں کی مثالیں دی گئی ہیں۔

“Imputations against members serving on Private Bill Committee, imputations against members of corruption in the execution of their duties, asserting that he could control the decision of a Committee on a private Bill and offering to do so for a corrupt consideration, publishing placards reflecting on the conduct of certain members as inhuman and degrading. Reflections on the motives of a member or a group of members. Both Houses will punish not only contempt arising out of facts of which the ordinary courts will take cognizance, but those of which they can not and such as contemptuous insults, gross calumny or foul epithet by word of mouth not within the category of actions slander or threat of bodily injury.”

(پرائیویٹ بل کمیٹی میں کام کرنے والے ممبروں کے خلاف الزام، ممبروں کے خلاف اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بد عنوانی کا الزام، اس دعوے کے ساتھ کہ وہ ایک پرائیویٹ بل میں فیصلے کو کنٹرول کر سکتے ہیں، یا غلط غورو خوض کے لیے ایسا کرنے کی پیشکش کر سکتے تھے، یا ایسے اشتہارات شائع کرنا، جن میں خصوصا ممبران کی غیر انسانی اور گری ہوئی حیثیت سے عکاسی کی گئی ہو۔ ایک ممبر یا ممبران کے ایک گروپ کی نیت پر شبہ کرنا۔ دونوں ایوان نہ صرف حقائق کی بنیاد پر ہونے والی تو ہین  پر جسے  ایک عدالت تسلیم کرے گی، بلکہ ان پر بھی جنہیں وہ نہیں کرے گی سزا دیں گے، ان میں بہتان یا جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی سے متعلق اقدامات ہی نہیں بلکہ الفاظ کے ذریعے نفرت انگیز توہین، فحش بہتان، غلیظ لقب وغیرہ بھی شامل ہیں۔)

 May کی اس تعریف سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ چیزیں جن کا عدالت نوٹس لے اور وہ بھی جن کا عدالت نوٹس نہ لے، ایوان دونوں کا نوٹس لے سکتا ہے اور اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن میں کہ ایک ممبر کی کردار کشی کی گئی ہو۔

اس کے بعد Kaul کی کتاب صفحہ ۲۲۴ سے پیرا گراف ہمیں پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ  Kaul کی جلد نمبر ایک ہے لیکن اسی حصے کے دو پہلے کے پیرا گراف میں جو متعلقہ حصہ تھا، اسے ایوان کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ صفحہ ۲۲۳ پر بحث میں کہا گیا ہے۔

“It is a breach of privilege and contempt of the House to make speeches or to print, publish any libels reflecting on the character or proceedings of the House or its committees or on any member of the House, for or relating to his character or conduct as a member of Parliament.”

(یہ استحقاق کی خلاف ورزی اور ایوان کی توہین ہے کہ ایسی تقاریر کی جائیں، یا کسی بھی تہمت کو چھاپا جائے جس کا تعلق ایوان یا اس کی کمیٹیوں کی کارروائی کی نوعیت یا پارلیمنٹ کے کسی ممبر کے کردار یا  رویے سے متعلق ہو یا کے لیے ہو۔ )

اس میں دو باتیں کہیں گئیں ہیں۔

“On any member of the House, for or relating to his character or conduct as a member of Parliament.”

(اس ایوان کے کسی ممبر کے بارے میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور پر اس کے کردار با رویے سے متعلق یا کے لیے۔) یعنی جو نکتہ میں اٹھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس کے یہ معانی نہیں ہیں کہ صرف پارلیمنٹ کے ممبر کی حیثیت سے کوئی کام کرتے ہوئے آیا اس نے بدعنوانی کی ہے یا نہیں بلکہ وہ تمام چیزیں جو پارلیمنٹ کے ممبر کے کردار کو مجروح کرتی ہوں۔ یہ اعتماد کہ وہ راست بازی کا حامل ہوتا ہے اور اس کے بغیر پارلیمنٹ کی ذمہ داری ادا نہیں ہو سکتی، اس میں دونوں شامل ہیں۔

“speeches and writings reflecting on the House or its committees or members are punished by the House as a contempt on the principle that such acts tend to obstruct the Houses in the performance of their functions by diminishing the respect due to them. The House may punish not only contempt arising out of facts of which the ordinary court will take cognizance but those of which they can not. Thus a libel on a member of Parliament may amount to a breach of privilege without being a libel under the civil or criminal law.”

( ایوان یا اس کی کمیٹیوں یا ممبروں کی توہین کرنے والی تقاریر یا تحریروں کو ایوان اس اصول کی بناء پر سزا دیتا ہے کہ ایسے اقدامات ایوان کے لیے مستوجب احترام میں کمی کے باعث اس کے فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ایوان حقائق پر مبنی ایسی تو مین پر سزا دے سکتا ہے جس پر ایک عام عدالت کارروائی کرے گی اور اس پر بھی جس پر عدالت کارروائی نہ کر سکتی ہو۔ چنانچہ پارلیمنٹ کے ایک ممبر کے خلاف ہتک، سول یا کریمنل لاء کے تحت ہتک قرار نہ پانے کے باوجود بھی ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی شمار ہو سکتی ہے۔)

ممبران کے خلاف شکایت

اسی کتاب کے صفحہ ۲۴۲، ۲۴۳، ۲۴۲، ۲۴۵، ۲۴۶ میں سب سے پہلے یہ بات متعین کی گئی ہے کہ ممبران کے خلاف شکایت ہو سکتی ہے۔

“Where a complaint of an alleged breach of privilege or contempt of the House made by a member, the proceedings in the House dealing with that complaint differ somewhat according to as the person implicated is a member or stranger. The main difference in the two cases is that before making a complaint against a member, a notice is given to him before hand as a matter of courtesy. As a matter of courtesy further, when a member seeks or raises a question of privilege against another member, the Speaker as already stated before gives opportunity to the member complained against, to place before the Speaker of the House such facts he may have in question. However, the complaint was based on newspapers report as alleged.”

( جہاں تک کسی ممبر کی طرف سے استحقاق کی مبینہ خلاف ورزی یا ایوان کی توہین کا تعلق ہے تو اس شکایت کے سلسلے میں ایوان کی کارروائی اس لحاظ سے مختلف ہو گی کہ اس میں ملوث شخص کوئی ممبر ہے یا کہ اجنبی ۔ ان دونوں صورتوں میں سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ ممبر کے خلاف شکایت سے پہلے اسے از راہ اخلاق پیشگی (یہ لازمی نہیں ہے) نوٹس دیا جائے گا۔ لیکن جب ایک ممبر ایک دوسرے ممبر کے خلاف استحقاق کا سوال اٹھانا چاہے تو جیسے کہ پہلے کہا جا چکا ہے۔ سپیکر، جس کے  خلاف شکایت کی گئی ہو، اسے موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ایوان کے سپیکر کے سامنے ایسے حقائق رکھے جن کے بارے میں اسے اعتراض ہو۔ تاہم وہ شکایت جیسے کہ الزام لگایا گیا اخباری اطلاعات پر مبنی تھی۔)

دوسرے ایوان کے ممبر کی توہین

اس کے آگے کی چیز بنیادی ہے کہ شکایت دوسرے ایوان کے ممبر کے بارے میں بھی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس کے سلسلے میں دو چیزوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ ایک وہ بیانات ہیں جو دوسرے ایوان کے اندر اس ایوان کا کوئی رکن دیتا ہے اور ایک وہ بیانات، جو وہ ایوان کے باہر دیتا ہے۔ جہاں تک ایوان کے اندر دیے جانے والے بیانات کا تعلق ہے انہیں استحقاق حاصل ہے اور ان کے بارے میں ادلے کا بدلہ والا رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن استحقاق کی بنیاد پر اس کو نہیں بلایا جا سکتا۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر دوسرے ایوان کے کسی رکن نے ایوان کے باہر دوسرے ایوان کے ممبر کے خلاف الزام تراشی کی ہے تو وہ استحقاق کی  خلاف ورزی بنتی ہے۔

“However, the notice of the breach of privilege or contempt of the House can be taken if the member of the other House or any other legislature has committed it outside the House.”

(تاہم استحقاق کی خلاف ورزی یا ایوان کی توہین کا نوٹس لیا جا سکتا ہے۔ اگر دوسرے ایوان یا قانون ساز ادارے کا ممبر ایوان کے باہر اس کا مرتکب ہوتا

ہے۔)

اس طرح پیرا گراف نمبر ۲، ۳، ۵،۴، میں کہا گیا ہے۔

“On May 11, 1954, a member raised a question of privilege in Rajya Sabha alleging that a member of the Lok Sabha had at the 31st session of the All-India Hindu Mohsabha cast reflections on the proceedings of Rajya Sabha and requested that a step might be taken to investigate the matter. On the following day, the member who was incriminated against raised a question of privilege in Lok Sabha that on the previous night he was served with a notice issued by the Rajya Sabha. The Prime Minister argued that there was nothing objectionable in the letter and pointed out that in the Sundria’s case in 1952, a member of Rajya Sabha was held and investigation being conducted by Lok Sabha. In May, 1954, the Chairman informed Rajya Sabha that he had received a communication from the Speaker enclosing a statement by the member concerned. Covering note, the Speaker referred to the suggestion that he had made in the House that the Privileges Committee of both the Houses should evolve an agreed common procedure for such matter. This was agreed to by Rajya Sabha.”

(گیارہ مئی ۱۹۵۴ء کو ایک ممبر نے راجیہ سبھا میں یہ الزام لگاتے ہوئے استحقاق کا سوال اٹھایا کہ لوک سبھا کے ایک ممبر نے آل انڈیا ہند و سبھا  کے ۳۱  ویں سیشن میں راجیہ سبھا کی کارروائی کو مطعون کیا ہے اور درخواست کی کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے قدم اٹھایا جائے۔ اگلے روز الزام دیے جانے والے ممبر نے لوک سبھا میں سوال اٹھایا کہ گزشتہ رات اسے راجیہ سبھا کی طرف سے جاری کردہ نوٹس کی تعمیل کرائی گئی ۔ وزیر اعظم نے دلیل پیش کی کہ خط میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی اور واضح کیا کہ ۱۹۵۲ء کے سندریہ کیس میں راجیہ سبھا   کے ایک ممبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اور اس سے لوک سبھا کی طرف سے پوچھ گچھ کی گئی۔ مئی ۱۹۵۴ء میں چیئر مین نے راجیہ سبھا کو مطلع کیا کہ اسے سپیکر کی جانب سے پیغام موصول ہوا۔ اس میں متعلقہ ممبر کا بیان بھی تھا۔ اپنی منسلک تحریر میں سپیکر نے اس تجویز کا حوالہ دیا جو اس نے ایوان میں پیش کی تھی کہ دونوں ایوانوں کی استحقاق کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ اس  قسم کے معاملات کے لیے ایک متفقہ مشترکہ ضابطہ کار تیار کرے۔ اس سے اس راجیہ سبھا نے بھی اتفاق کیا۔)

                پورے کیس کی  صورت حال یہ بنتی ہے کہ ایک ایوان کے رکن نے دوسرے ایوان کے رکن کے بارے میں کردار کشی کا کام انجام دیا اس نے اس مسئلے کو اٹھایا۔ کیونکہ یہ اعلان یا یہ بیان ایوان کے باہر دیا گیا تھا اسے استحقاق کی خلاف ورزی سمجھا گیا۔ اب سوال یہ تھا کہ اس کے لیے کیا کیا جائے چونکہ ضوابط میں گنجائش نہیں تھی اس لیے ہندوستان نے یہ راستہ نکالا کہ دونوں ایوانوں کی استحقاق کمیٹیاں مل کر ضابطہ بنائیں۔ اس کے بعد بہت سے کیسوں میں راجیہ سبھا کے سربراہ نے لوک سبھا کے سپیکر کو ریفرنس روانہ کیے۔ کمیٹی نے جائزہ لیا، نتیجتاً یا تو معافی مانگی گئی یا کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں ایک اور کتاب “Privilege of Members of Parliament in India” کے عنوان سے استحقاق کی خلاف ورزی کے بارے میں بتاتی ہے جس کا مصنف ہنس راج ہے۔ اس میں صفحہ 111 پر “Contempt of Members” کے تحت درج ہے:

“Breach of Privilege means:

(c) Libellous reflections against the proceedings of the Assembly; (d) assault, etc.”

استحقاق کی خلاف ورزی کا مطلب ہے

 (سی) اسمبلی کی کارروائی کے خلاف توہین آمیز الزامات

(ڈی) حملہ وغیرہ۔

اور اس کے بعد نمبر (ایف) پر کہتا ہے۔

“(f) maliciously false or scandalous charges or imputation or libellous charges against a member of the Assembly touching his conduct as a member in the Assembly, unduly influencing any witness in regard to any evidence given by him.”

( اسمبلی کے کسی ممبر کے خلاف کینہ توز، غلط یا رسوا کن الزامات، جو اس کے اسمبلی کے ممبر ہونے کی حیثیت کو مجروح کریں اور اس کی طرف سے دی گئی گواہی کے سلسلے میں کسی گواہ کو ناجائز طور پر متاثر کریں۔)

اس کے بعد صفحہ ۱۱۲ پر کہا جاتا ہے کہ

“A contempt can be either by the outsiders or by the House or officers of the House or also both inside and outside the House and also when the House is in session or not in session.”

(توہین باہر کے افراد سے، ایوان سے یا ایوان کے حکام سے یا ایوان کے اندر یا باہر دونوں جگہ سے ہو سکتی ہے اور یہ اس وقت بھی ہو سکتی ہے جب ایوان کا اجلاس جاری ہو یا جاری نہ ہو ۔)

۱۱۲ کے بعد ۱۱۷ صفحہ پر Contempt by member of the same House کے عنوان سے بھی موضوع واضح ہو جاتا ہے کہ کیا چیز استحقاق ہے اور کیا چیز کردار کشی شمار کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے:

“By issuing a press statement attributing motives to a member of the other House or on the deliberations of the other House by issuing a statement at a press conference, publishing an article, imputing motives to another member for a speech delivered by him on the floor of the House, forging signatures, etc. etc.”

(اخباری بیان کے ذریعے دوسرے ایوان کے ممبر سے محرکات منسوب کرنا، یا دوسرے ایوان کی کارروائی کے بارے میں کسی پریس کانفرنس میں بیان جاری کرنا یا کوئی مضمون شائع کرنا، ایوان میں کی گئی کسی ممبر کی تقریر سے محرکات منسوب کرنا، دستخطوں کی جعل سازی وغیرہ وغیرہ۔)

اس کے بعد ۱۱۸ ، ۱۱۹ بالخصوص اس کے متعلق ہے۔

“Contempt by Members of the other House:

(دوسرے ایوان کے ممبران کی طرف سے توہین۔)

“In certain cases members belonging to other  House of the same legislature or some other legislature can commit contempt of the House to which they do not belong. This can be done by attributing motives of slander to any member of the other House, or the House as a whole or by doubting the bonafide of a member e.g., by suggesting that the members of Parliament furnish false accounts. It has all along been held and accepted in India that in so far as powers, privileges and immunities are concerned, both the Houses of Parliament or a state legislature enjoy coequal powers and neither of them should try to establish supremacy over the other.”

(بعض حالات میں ایک ہی مقننہ کے دوسرے ایوان یا کسی دوسرے مقننہ کے ممبر اس ایوان کی توہین کے مرتکب ہو سکتے ہیں جس کے وہ ممبر نہیں۔ اس کا ارتکاب دوسرے ایوان کے کسی بھی ممبر یا پورے ایوان کی طرف بہتان کے محرکات منسوب کر کے کیا جا سکتا ہے یا کسی ممبر کی نیک نیتی پر شک و شبے کا اظہار کر کے، مثلاً یہ کہنا کہ پارلیمنٹ کے ممبر غلط حسابات پیش کرتے ہیں۔ ہندوستان میں تمام عرصہ یہ خیال کیا جاتا رہا اور قبول کیا جاتا رہا کہ جہاں تک اختیارات، استحقاق اور استثنے ٰکا تعلق ہے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان یا ایک ریاستی قانون ساز اسمبلی مساوی اختیارات کی حامل ہیں۔ اور ان میں سے کسی کو دوسرے پر اپنی بر تری قائم نہیں کرنی چاہیے۔)

اس کے بعد وہ ایک کیس کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔

“That on July 30, 1970, Niren Ghosh, a member, said in the House that some influential people were trying to purchase a member of the Lok Sabha. When the matter was taken up by the Speaker of the Lok Sabha with the Chairman of  Rajya Sabha, the latter said, “I am in entire agreement with you that the members of the House should not make allegations on the floor of the House, on the members of the other House.” Similar views were expressed by the Chairman of Rajya Sabha on September 2, 1970 when Bhupesh Gupta a member, alleged on the floor of the House that some members in the Lok Sabha voted so and so.”

(۳۰ جولائی ۱۹۷۰ء کو ایک ممبر نیرن گھوش نے ایوان میں بتایا کہ کچھ با اثر افراد لوک سبھا کے ایک ممبر کو خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب لوک سبھا کے سپیکر نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے ساتھ مل کر معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا تو مؤخر الذ کرنے کہا میں آپ کے ساتھ پوری طرح متفق ہوں کہ ایوان کے ممبروں کو ایوان کے اندر دوسرے ایوان کے ممبروں کے خلاف الزامات عائد نہیں کرنے چاہیں ۔ اسی قسم کے خیالات کا اظہار راجیہ سبھا کے چیئر مین نے ۲۷ ستمبر ۱۹۷۰ء کو کیا جب ایک نمبر بھوپش گپتا نے ایوان میں الزام لگایا کہ لوک سبھا کے کچھ ممبروں نے یوں اور یوں ووٹ دیا۔)

اس کے بعد اس بحث کو سمیٹتے ہوئے مصنف کہتا ہے کہ:

“then obstruction can be created by showing disrespect to the members of the House and downgrading them in the eyes of the public.”

(ایوان کے ممبروں سے احترام کا سلوک نہ کر کے اور عوام کی نظروں میں انہیں گرا کر رکاوٹ کھڑی کی جاسکتی ہے۔)

 یہ بڑا اہم مسئلہ ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبر کو عوام کی نظروں میں گرانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فرائض منصبی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی جارہی ہے۔ اس سے پارلیمنٹ کے ممبر کی شخصیت کی راست بازی قائم نہیں رہتی جو اس کی ذمہ داری کے ناطے سے بہت ضروری ہے۔

“obstruction can be created by showing disrespect to the members of the House and downgrading them in the eyes of the public or by making some false allegations against a member or by another member for what had happened in the House and thereby either casting reflections on the House or giving a different impression about proceedings in the House.”

“Insulting or abusing a member for what he had said in the House and as a consequence giving him a different treatment than what was due to him, has been considered as contempt of the House.”

(ایوان کے ممبرو ں کےلیے توہین  کا اظہار کرکے اور انہیں عوام کی نظروں میں گرا کر  یا  جو کچھ ایوان میں وقوع پذیر ہوا ہے اس بارے میں کسی ممبر کے خلاف یا کسی دوسرے ممبر کی طرف سے جھوٹے الزامات اور اس طرح ایوان کے خلاف بہتان طرازی یا ایوان میں کارروائی کے بارے میں مختلف تاثر دے کر رکاوٹ کھڑی کرنا۔ کسی ممبر کو گالیاں دینا اور اس کی بے عزتی کرنا اور اس کے نتیجے میں اس سے مختلف سلوک سے نوازنا جس کا وہ مستحق تھا، اسے ایوان کی تو بین خیال کیا جاتا ہے۔)

 یہ دونوں چیزیں تو ہین ہیں، یہ چیز کہ ایوان میں کوئی ایسی بات کہی جائے، ایوان میں کہی  گئی کسی بات کے بارے میں کسی قسم کی نفرت کا اظہار کیا جائے یا یہ کہ پارلیمنٹ کے ایک ممبر کی دیانت داری اور کردار کے بارے میں کوئی بات کی جائے ان دونوں کا ایک ساتھ ہونا لازی نہیں، بلکہ وہ تمام چیزیں جن کی بناء پر اس کی دیانت، اس کے کردار اور کریکٹر کو مجروح کیا جائے۔ یہ سب باتیں اس میں آجاتی ہیں۔

توہین کا تصور

اس کے بعد ایک اور کتاب Das and Rath کی Parliamentary Privilege in India جو ۱۹۸۵ء میں شائع ہوئی کے صفحہ ۶۱ پر لکھا ہے۔

“Analogous to molestation of members on account of their behaviour in Parliament or speeches in writing reflecting upon their conduct as members.”

(پارلیمنٹ میں ممبران کے رویے کی بناء پر ان سے چھیڑ چھاڑ کے مترادف۔ یا تقاریر، تحریری صورت میں جن میں بطور ممبر، ان کے کردار کو مجروح کیا گیا ہو۔ )

اس کے بعد صفحہ ۶۵ قابل غور ہے جس میں کہا گیا ہے۔

“Hence if any act though not intending directly to obstruct or impede the House in the performance of its functions has a tendency to produce this result.”

(اس طرح اگر کوئی اقدام جو ایوان کو اس کے فرائض کی ادائیگی میں براہ راست رکاوٹ ڈالنے یا حائل ہونے کا باعث نہ بھی ہو۔ لیکن وہ اس طرح کا نتیجہ پیدا کرنے کا رحجان رکھتا ہو۔)

جس کا مطلب اس کے خیال میں عوام کی نظروں میں اسے گرانا ہے۔

“tendency to produce this result indirectly by bringing the House into odium, contempt or ridicule or by lowering its authority; it consititutes a contempt.”

(کہ ایوان توہین، نفرت اور استہزا کا نشانہ بنے یا اس کے اختیار کو کم تر بنائے ،تو ہین میں شمار ہوتا ہے۔)

اور آگے بڑھیے، صفحہ ۶۶ پر کہا گیا ہے کہ:

“Misbehaviour of a government officer or his giving of wrong information to a Minister, distribution of pamphlets casting aspersions on the House, exhibiting posters at public places, reflecting the dignity of a House, any act on the part of an outsider which lowers the dignity of a member, constitutes contempt and is punishable by the House. The instance include insulting, assaulting, threatening or otherwise molesting a member on account of his conduct in parliament, reflecting upon the conduct of a member in his capacity of a member, tempering with the mail of a legislator, issuing a press statement by an organization alleging certain statement made by a legislator on the floor of the House which was subsequently disowned by the concerned member and actually bribing a member, etc.

(ایک سرکاری افسر کا غلط رویہ یا اس کا کسی وزیر کوغلط  معلومات فراہم کرنا، ایوان کے خلاف نفرت پھیلانے والے پمفلٹوں کی تقسیم، ایوان کے وقار کو مجروح کرنے والے پوسٹروں کی عوامی جگہوں پر نمائش، کسی بیرونی فرد کا کسی ممبر کے وقار کو گھٹانے والا اقدام یا اس کا اپنی ذمہ داریوں کی قانونی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنا تو ہین  شمار ہوتا ہے۔ اور وہ ایوان کی طرف سے قابل سزا ہے۔ اس کی مثالوں میں توہین کرنا، حملہ کرنا، دھمکی دینا یا اس کے برعکس کسی ممبر کو اس کے پارلیمنٹ میں کردار کی بناء پر دق کرنا، یا اس کی ممبر کی حیثیت کے سلسلے میں اسے مطعون کرنا، کسی قانون ساز کی ڈاک میں مداخلت کرنا، کسی تنظیم کی جانب سے ایک اخباری بیان کا اجراء جس میں کسی ممبر پر ایوان میں کوئی خاص بیان دینے کا الزام لگایا گیا ہو اور جس سے متعلقہ ممبر نے لا تعلقی کا اظہار کیا ہو۔ اور کسی ممبر کو رشوت دینا وغیرہ۔)

اس کے بعد یہ پیرا گراف قابل توجہ ہے:

“A member can commit contempt of his own House in several ways…..’

(ایک ممبر مختلف طریقوں سے اپنے ہی ایوان کی توہین کا مرتکب ہو سکتا ہے۔…)

مختلف مثالیں دی گئی ہیں لیکن اہم یہ ہے کہ:

“by trying to go out of the House when doors were closed for a division, by issuing a statement to the press attributing motives to a member of the same House or the other House and by forging signatures of the other member…..”

(جب دروازے رائے شماری کے لیے بند کیے جا چکے ہوں تو ایوان سے باہر نکلنے کی کوشش کرنا، پریس کے لیے بیان جاری کرنا، جس میں اسی ایوان یا دوسرے ایوان کے ممبر سے محرکات منسوب کیے گئے ہوں یا دوسرے ممبر کے دستخطوں کی جعلسازی کرنا۔۔۔)

اس کے علاوہ

“……. or forcing a legislator to join a particular party or cross…”

(یا ایک ممبر کو ایک مخصوص جماعت میں شمولیت پر مجبور کرنا یا کراس کرنا۔)

صفحہ ۴۹ پر لکھا ہے:

“It has all along been held and accepted in India that in so far as powers, privileges and immunities are concerned, both the Houses of Parliament or a State legislature enjoy coequal powers. Hence contempt can be committed by arbitrarily summoning documents, calling for evidence for any member or criticising any other member or officer of the House, by attributing motives of slander to any member of the other House or by doubting the bonafide of a member….”

(ہندوستان میں اس تمام عرصہ میں یہ بات طے  رہی ہے اور تسلیم کی جاتی رہی ہے کہ جہاں تک اختیارات، استحقاق اور تحفظات کا تعلق ہے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان یا ایک ریاستی قانون ساز اسمبلی برابر کے اختیارات کی حامل ہیں۔ چنانچہ توہین کا ارتکاب، یک طرفہ طور پر دستاویزات کی طلبی، کسی بھی ممبر کی گواہی کے لیے  طلبی یا کسی دوسرے ممبر یا ایوان کے افسر پر نکتہ چینی دوسرے ایوان کے کسی بھی ممبر کے خلاف بہتان کے لیے محرکات منسوب کرنا یا کسی ممبر کی راست بازی پر شک کرنا۔۔۔)

اس کے ساتھ ہی کول کا وہ باپ بھی اپنے سامنے رکھا جائے جس میں اس نے پارلیمنٹ کے ممبر کے رویے کے بارے میں بحث کی ہے جو استحقاق کے اس باب کے فوراً بعد آتا ہے یعنی صفحہ ۲۵۰ سے آگے، تو یہ بھی بڑا اہم ہے۔ اس لیے کہ طرز عمل اور غلط طرز عمل کو جب تک ساتھ ساتھ نہ دیکھا جائے تو حقیقت میں استحقاق کا ٹھیک ٹھیک تعین نہیں ہو سکتا اور نہ کردار کے ان اصولوں کا جن کی پاسداری کی توقع پارلیمنٹ کے ممبران سے کی جاتی ہے۔ جب کہ رویہ ہے کہ ان اصولوں کا احترام نہ کیا جائے، اگر کوئی شخص کسی ممبر پر غلط رویے کا الزام لگاتا ہے تو وہ گویا یہ ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبر کے لیے جو اصول ہیں ان کو پورا نہیں کیا گیا۔ میرا کیس ان دونوں بنیادوں پر مبنی ہے یعنی یہ بات کہ کردار کشی ایک مخصوص کار کردگی سے قطع نظر ایک خلاف ورزی ہے۔

 اور اس کو ثابت کرنے کے لیے Conduct of the members of Parliament کے باب کی مثال دی گئی ہے کہ عام حالات میں جب ایک شخص ایک ایوان کا ممبر بن گیا ہے تو اس سے اس ایوان میں کچھ معاملات کی توقع ہے۔ اگر ایک شخص ایوان میں بول رہا ہے تو اس کے سامنے سے فلور کر اس کرنا بھی ایک قسم کا غلط طرز عمل ہے۔ لیکن اس سے اس رویے کی اس ایوان کے باہر بھی توقع ہے، اور اس میں یہ مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک شخص نے پارلیمنٹ کے ممبر کی حیثیت سے حکومت کی رعایت سے کار خریدی اور اس کو اپنے استعمال میں لانے کی بجائے بیچ دیا اور اس کو غلط چلن کی بنیاد پر استقاق کی خلاف ورزی شمار کیا گیا اس کی سرزنش کی گئی۔ متعلقہ شخص نے معافی مانگی اور غلطی کا اعتراف کیا۔

اس طرح یہ بڑا وسیع میدان ہے، اس لیے جس وقت آپ غلط رویے اور کردار کشی کا جائزہ لے رہے ہیں تو ضوابط بھی آپ کے سامنے رہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں کہ جن کی ایک ممبر سے توقع ہے اور اگر یہ ثابت کیا جائے اور عوام کی نظر میں یہ بات پیدا کی جائے کہ فلاں شخص اس معیار پر پورا نہیں اتر رہا اس نے سرکاری یا قومی زمین بیچ کر پیسہ لیا اور پھر اسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈال لیا۔ اس نے غلط قسم کی مراعات بنکوں سے لیں، قرضے معاف کروائے، وغیرہ وغیرہ تو یہ چیزیں پارلیمنٹ کے ایک ممبر کو عوام کی نگاہ میں غلط رویے کا مجرم قرار دیتی ہیں، اور کسی کے بارے میں یہ بات کہنا، خواہ اس نے ایوان میں کیا ہو یا ایوان کے باہر، یہ استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔

دوسرے ممالک کی مثالیں

اس سلسلے میں ایک دلچسپ کیس برٹش پارلیمنٹ کا رام چندرن کی کتاب The Law of Parliamentary Privileges in India میں مذکور ہے جو اس سلسلے میں بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کتاب میں تقریباً کوئی تین، ساڑھے تین سو صفحات میں استحقاق کے شعبے میں جو حالیہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان کا اور استقاق کے قوانین کا جائزہ لیاگیا ہے۔ اس میں دنیا کے سارے ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ تر مثالیں ہندوستان سے ہیں۔ اس میں مختلف کیسوں کا تذکرہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ اور ایسے معاملات بھی ہمارے سامنے آتے ہیں جن میں ہندوستان میں متعد داراکین کو غلط رویے کی بنیاد پر پارلیمنٹ نے ان کی سیٹ سے محروم کر دیا۔ کم از کم سات کیس تفصیل کے ساتھ اس میں بیان کیے گئے ہیں لیکن یہاں اس وقت صرف برطانوی پارلیمنٹ کا ایک کیس پیش کیا جاتا ہے۔

کو نسل کے لارڈ پریذیڈنٹ اور وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو نٹن ہوگ نے چیتم  ہاوس میں جو کہ ایک علمی ادارہ ہے تقریر کرتے ہوئے کہا:

“nevertheless our elbows have been jarred in almost every part of the world by industrial labour members partisanship of subversive activities, that this is the party which is now seeking power.”

(تاہم صنعت سے وابستہ لیبر ممبروں کی جانب سے تخریبی سرگرمیوں کی طرفداری پر ہم دنیا کے ہر حصے میں سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ کہ اب یہ پارٹی اقتدار حاصل  کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔)

اس پر لیبر پارٹی نے استحقاق کی تحریک پیش کی۔ تحریک کو منظور کر لیا گیا۔ جائزے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ لارڈ کونٹین ہوگ نے جو بیان دیا ہے اس کا ہدف لیبر پارٹی کے پارلیمنٹ کے ممبر نہیں تھے بلکہ پارلیمنٹ کے باہر کے ممبر تھے۔ کمیٹی نے معذرت قبول کی اور کہا کہ:

“Lower Committee do not consider that on the facts of this case any question of breach of privi- lege arises.”

(لوئر کمیٹی اس کیس میں حقائق کی بناء پر یہ خیال نہیں کرتی کہ استحقاق کی خلاف ورزی کا کوئی سوال پیدا ہوا ہے۔)

 ہندوستان میں اس قسم کا ایک کیس کرنجیا کا تھا لیکن کمیٹی نے وہی موقف اختیار کیا کہ جسمانی نقصان پہنچانا، یا اخلاقی نقصان کرنا، دق کرنا یا کردار کشی، یہ سب برابر ہیں۔

وزیر کے غیر متعلق حوالے

اس وقت تک پیش کی گئی چیزوں کا تعلق کیس لا ء سے تھا۔ لیکن وزیر صاحب نے چیئر مین کی رولنگ میں سے بھی دو ریفرنس دیے تھے۔ جو میری رائے میں غیر متعلق ہیں۔ نمبر ۲۷۳ پر جو کیس ہے وہ وزیر مملکت برائے اطلاعات نے جماعت اسلامی کے دو رہنماؤں کے بیان سے  منسوب کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شریعت بل کے سلسلے میں جوار کان ان کا ساتھ نہیں دیں گے ان کے ووٹر ان کا احتساب کریں گے۔ اس پر چیئرمین نے جو بات کہی وہ بالکل واضح ہے۔ اس لیے کہ مسئلہ یہ نہیں تھا جو اس وقت یہاں آرہا ہے۔ یہاں پر پارلیمنٹ کے کسی ممبر کے رویے ،اس کی کردار کشی یا اس کے لیے بہتان آمیز الفاظ کے استعمال کے باعث اسے توہین آمیز قرار دینا موضوع نہیں تھا۔ وہاں پر موضوع بحث دو سرا سوال تھا۔

دوسرا کیس جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے وہ بالکل متعلق نہیں ہے بلکہ اس میں چئیر مین نے جو بات بھی ہے وہ قطعی وہی ہے جس کی ہمیں آج ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ “جنگ” نے ایک منی اسملی بلائی تھی جو پارلیمنٹ کی تضحیک  تھی۔ کچھ ارکان اس میں اپنی مرضی سے چلے گئے تھے اور اس پر ایک استحقاق کی تحریک آئی تھی۔ بہر حال جو چیز بھی ہو اس میں چیئر مین نے صاف کہا تھا کہ چونکہ یہ افراد اپنی مرضی سے گئے تھے اور وہاں ایک عام بحث ہوئی اس لیے یہ استحقاق کی تحریک نہیں بنتی لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بات بھی کبھی کہ اگر کسی ایک فرد کے بارے میں وہاں  یہ بات کہی جاتی جو اس کے کیریکٹر کے متعلق ہوتی تو پھر پر استحقاق بن سکتی تھی لیکن چونکہ یہ نہیں کیا گیا اس کے بجائے بات عموماً اسمبلی کے بارے میں کھی گئی تو یہ فیصلہ بھی دراصل ہمارے حق میں جاتا ہے۔ ہمارے خلاف نہیں جاتا۔

خلاصہ دلائل

میرے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی کردار کشی ہو، اس کے خلاف غلط الزامات لگائے جائیں اگر ایسا کوئی کام کیا جائے کہ جس کی بناء پر وہ عوام اور اپنے ووٹوں کی نگاہوں میں گرے اور جس کی بناء پر اسے راست بازی کا حامل نہ سمجھا جائے۔ اور وہ پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے ذمہ داریاں نہ ادا کر سکے خواہ ان معاملات کا تعلق ایوان میں کہی گئی کسی بات سے ہو یا ایوان سے باہر کی کسی بات سے، حال کے واقعہ سے ہو یا ماضی کے واقعہ سے۔ حوالے کے لیے آئین کا وہ حصہ ملاحظہ ہو جس میں اسمبلی اور سینٹ کے ممبروں کی کوالیفکیشن کا ذکر کیا گیا ہے اور جس میں ان کی راست بازی، ان کا ایک خاص اخلاقی معیار کا حامل ہونا دستوری طور پر متعین کیا گیا ہے۔ اگر کسی بھی رکن کے بارے میں ایسی باتیں کہ ی جاتی ہیں کہ وہ بد عنوان ہے، اس نے پیسہ غبن کیا ہے جبکہ اس پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہیں، تو یہ استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ بات چاہے رکن پارلیمنٹ کہے  یا کوئی اور شخص تب بھی یہ استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔ اس میں تھوڑا سا تردد یہ ہے کہ اگر دوسرے ایوان کا کوئی رکن، ایوان کے اندر کوئی بات کہتا ہے تو یہ بات غیر مہذب ہے، غیر اخلاقی اور غیر سیاسی ہے، اسے نا پسند کیا گیا ہے اور ہندوستان اور بیرونی ممالک میں بھی سپیکر نے اس بات کا نوٹس لیا ہے، لیکن اس کو استحقاق کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا۔ لیکن اگر ایک رکن اسمبلی کے باہر کوئی بات کہتا ہے، کسی دوسرے ایوان کے بارے میں، تو یہ استحقاق کی خلاف ورزی ہے اس فرد کی بھی اور ایوان کی بھی۔ اب آپ یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ آخر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ؟

اس ضمن میں ہمارے ضوابط میں یہ ایک سق م ہے اور بہر حال یہ ہم انسانوں کے بنائے ہوئے ضوابط ہیں۔ اور ہمیں اپنے تجربات سے سیکھنا ہے ایسے معاملات کے بارے میں براہ راست کوئی چیز موجود نہیں بالواسطہ یہ بات ممکن ہے کہ اس معاملے کو ہم استحقاق کمیٹی کے سپرد کریں اور میں اپنے بھائی سینٹروں کی اس جرات کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایک فورم کے آگے اپنے آپ کو پیش کیا۔ اور آپ کو یہ راستہ اختیار کرنا چاہیے کہ سپیکر قومی اسمبلی سے بات کر کے اس کو اس بات کی طرف متوجہ کریں اور یہ بات کہیں کہ ضوابط میں سقم ہے اور جس طرح ہندوستان نے اس کا حل نکالا ہمیں پاکستان میں بھی اس کا حل نکالنا چاہیے۔

لیکن فوری طور پر ہم یہ کر سکتے ہیں کہ سپیکر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے متعلقہ فرد کو اجازت دے دے کہ وہ استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہو۔ اس نے اگر پریس کانفرنس میں دو معزز سینٹروں کے خلاف الزام لگایا ہے تو اس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ استحقاق کمیٹی کے سامنے آئے اور ان الزامات کو ثابت کرے۔ لیکن آپ کو اس کے لیے سینٹ کے چیئر مین کے طور پر سپیکر کو متوجہ کرنا پڑے گا کہ یہ بات آپ کے سامنے آئی ہے۔ استحقاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور ضوابط اس معاملے میں خاموش ہیں اس لیے ہندوستان میں نزاعی نظیر کی روشنی میں آپ اس معاملے میں تعاون کریں اور دونوں ایوانوں کی عزت کو محفوظ کرنے اور اسکے ارکان کی عزت کی حفاظت کرنے کے لیے آئیں اور چئیر مین اور سپیکر مل کر راستہ نکالیں۔

 دوسرے افراد یہ راستہ نکالیں کہ اسے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ استحقاق کمیٹی یعنی اسمبلی کے ضوابط میں بھی لائیں اور وہ معاملات جن کا تعلق ارکان اور دونوں ایوانوں سے ہو۔ ان تمام معاملات کو وہ کمیٹی زیر بحث لائے اور یہی صورت ہندوستان میں ہے۔ ہندوستان میں ان کے لیے ضوابط اور اصول بنائے گئے ہیں اور یہ ادارہ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ اور پھر یہ ادارہ ایسے معاملات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کی مثالیں موجود ہیں کہ جب ایک ممبر نے ایسا کام کیا تو اس نے معذرت کی  اور اس کی معذرت کو مان لیا گیا۔ ہمارا مقصد کسی سے ناک رگڑوانا نہیں۔ ہمارا مقصد اس ملک میں بہتر سیاسی اخلاق قائم کرنا ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔ جہاں کسی سے غلطی ہوتی ہے اس کے لیے جو قانون اور دستور میں احتساب کا راستہ ہے وہ اختیار کیا جائے اور اداروں کو تباہ نہ کیا جائے۔

موجودہ طرز عمل اداروں کو تباہ کرنے کا راستہ ہے۔ اس لیے آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ عزت کا تحفظ کیا جائے۔ جس کسی نے غلطی کی ہے اس کا احتساب کیا جائے۔ اس میں کسی کے لیے استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ارکان، پیپلز پارٹی کے اور جو بھی کوئی ہوں، سرکاری ملازم، سیاستدان، سیاسی افراد کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ ہر ایک کو دیانت کا ایک معیار قائم کرنا چاہیے۔ اس کے لیے جواب دہ رہنا چاہیے۔ لیکن یہ بات غلط ہے جس کی چاہیں آپ عزت پر ہاتھ ڈال دیں جس کی چاہیں پگڑی اچھال دیں، الزام لگا دیں، اور اس کے بعد آپ استحقاق کا سہارا لے کر بھاگ جائیں۔ یہ صحیح نہیں ہے۔

 دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اس مقصد کے لیے ایوان کی ایک کمیٹی قائم کریں سپیکر سے کہیں کہ وہ ایک کمیٹی قائم کرے اور اس کے بعد مشترکہ استحقاق کمیٹیاں مل کر اس معاملے میں اصول بنائیں۔ ہندوستان نے غالباً پانچ اصول بنائے ہیں ان کو بھی ہم سامنے رکھ سکتے ہیں۔ اور جنگوں کے معاملات کو بھی سامنے رکھا جاسکتا ہے اور اس کے بعد ہم ایک ایسا راستہ نکال لیں گے کہ جس سے آئندہ ارکان کی عزت سے کھیلنا مشکل ہو جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »