ArticleInternational RelationsMedia ArticleMuslim World

اسرائیل، پاکستان اور اُمت مسلمہ

                الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانا اور اختلافی امور کو حل کرنا حکمت و دانائی کا شیوہ ہے مگرا سے کیا کہا جائے کہ اب اقتدار پر قابض جرنیل اور ان کے ہم نوا دانش ور طے شدہ معاملات کو متنازع بنانے کی مشق بڑی بے دردی سے کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اندرونی مسائل اور مشکلات کی دلدل سے نکلنے کی کوئی راہ پیدا ہورہی ہے اور نہ خارجہ سیاست میں کہیں روشنی کی کوئی کرن ہی نظر آ رہی ہے۔ ژولیدہ فکری تضادات اور کہہ مکرنیوں کے سیلاب کے ساتھ اب اصولی موقف اور قومی زندگی کے ثابت اور محکم امور بھی مشتبہ اور غیر معتبر ہوتے جارہے ہیں اور مفاد کے نام پر ہر اصول ، ہر حقیقت اور ہر مسلمہ کلیے سے انحراف کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔ چنانچہ صرف کنفیوژن میں اضافہ ہو رہا ہے ، پالیسی کے روشن خطوط دھندلا گئے ہیں اور دلیل کی جگہ ایک ایسے شور و غوغا نے لے لی ہے کہ  کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!

مصائب تو بہت تھے مگر ذہنی  افلاس اور بے اصولی کا جو منظر خارجہ سیاست کے میدان میں نظر آ رہا ہے اس نے ملک و ملت کو ایسے خطرات سے دوچار کر دیا ہے جن کا اگر بر وقت مقابلہ نہ کیا گیا تو پاکستان کے نظریاتی وجود اور تاریخی کردار کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ ان تمام معاملات کا تعلق محض وقتی مصلحتوں سے نہیں بلکہ معاملہ اصول اور ملک و ملت کے اسٹرے ٹیجیک مفادات کا ہے جنھیں محض کسی کی خوشنودی یا کچھ مراعات کی توقع کی خاطر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال بڑے شدومد سے اٹھایا گیا ہے۔ باہر کے دشمن اور اندر کے سازشی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے فضا ہموار ہو ۔

یہ ایک بڑا چونکا دینے والا سوال ہے کہ آخر اس وقت یہ شوشہ کیوں چھوڑا گیا ہے؟ فلسطین میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ انتفاضہ الاقصیٰ کو تیسر ا سال ہے۔ ڈھائی تین ہزار مسلمان مرد عورت اور بچے اس عرصے میں شہید ہو چکے ہیں۔ فلسطین میں انسانی حقوق کے ادارے “لاء” (law) کی رپورٹ کے مطابق صہیونیوں نے ۱۹۴۸ء سے لے کر اب تک ۱۵ لاکھ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان کو ٹا رچر  کا نشانہ بنایا ہے اور طویل عرصے تک بلا مقدمہ چلائے جیلوں میں رکھا ہے۔ تین لا کھ فلسطینیوں کو زخمی کیا اور ان میں سے ۴۰ ہزار سے زیادہ کو مستقلاً معذور کر  دیا۔سرزمین فلسطین سے   اس کے اصل عرب باشندوں میں سے اتنی بڑی تعداد کو ملک بدر کیا ہے کہ اب فلسطین سےباہر فلسطینی  مہاجرین کی تعداد۵ ۴ لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو اسرائیل کی پوری یہودی آبادی کے برابر ہے۔ آج بھی مہاجر کیمپوں میں رہنے والوں کی تعداد ۸ لاکھ کے قریب ہے۔170 ہسپتالوں ۱۳۱۵ سکولوں اور سات یونی ورسٹیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

عرب علاقے کے 60  فی صد کھیت کھلیان جلا کر خاکستر کر دیے گئے ہیں، ۳۷۰ فیکٹریاں تباہ  کی ہیں ؟6  لاکھ سے زائد  جانوروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور اب عرب علاقوں میں ۲۱۰ میل لمبی آہنی فصیل بنائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں عربوں کی لٹی  پھٹی زمین کا مزید 10 ،15 فی صد پر اسرائیلی قبضہ ہو گا ۔جس علاقے کو مستقبل کی عرب ریاست کا محل سمجھا جا رہا ہے وہ ٹکڑوں میں بٹ جائے گئی اور اسرائیل کی فوج اور آبادکار ان پر بدستور قابض رہیں گے۔

 ظلم و ستم کی اس نہ ختم ہونے والی سوچی سمجھی اسٹرے مجھی کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اسرائیل  امن کی کسی بھی تجویز پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نام نہاد روڈ میپ اور اپنی پسند کے فلسطینی  وزیر اعظم اور پولیس سربراہ کے تقرر  کے باوجود نہتے عوام پر ٹینکوں اور ایف – ۱۶ سے حملے ہو رہے ہیں۔ ہدف بنا کر سیاسی قائدین اور علما کوقتل کیا جا رہا ہے۔ پوری عرب آبادی کو فصیلوں کے ذریعے محصور کیا جا رہا ہے۔ حتی کہ یاسر عرفات کو بھی کونے سے لگا دیا گیا ہے۔ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جسے” روڈ میپ“ کہا جا رہا ہے وہ ایک سراب سے زیادہ نہیں کہ فلسطینیوں کے قدموں تلے کوئی روڈ ہی نہیں ، میپ“ کی تو بات ہی کیا!

ایک طرف حالات کی یہ ہولناک صورت ہے اور دوسری طرف جنرل پرویز مشرف کے کیمپ ڈیوڈ کے دورے سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے سوال پر اچانک خود کلامی شروع ہو گئی۔ اس کے بعد سیکرٹری وزارت خارجہ اور سیکرٹری اطلاعات نے اسرائیل کےتسلیم کیے جانے کے حق میں وعظ شروع کر دیا۔ جنرل صاحب کے علاوہ وزیر داخلہ اور سردار عبدالقیوم بھی میدان میں کود پڑے اور جولائی ۲۰۰۳ء کے Jan’s Intelligence Digest نے تو اعلان ہی کر دیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اس کے الفاظ میں:

پاکستان کے حکام خصوصیت سے مشرف سے قریب فوجی قیادت اسرائیل کے ساتھ براہ راست روابط قائم کرنے کا پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے۔ مشرف اپنے ایجنڈے کے ساتھ مستقبل قریب میں آگے بڑھنے کے لیے پر عزم ہیں۔ دفائی امور کے اس      مجلے  کے مطابق یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ اس سے پاکستان اور اس کی فوج کو بھارت اور امریکہ سے تعلقات کے باب میں اور اسلحے کی خریداری کے لیے کچھ سہولتیں حاصل ہو جائیں گی

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ پاکستان کو مستحکم کرنے کی جنرل پرویز مشرف کی کوششوں، نیز ان کے اپنے سیاسی مستقبل پر لازما اہم اثرات مرتب کرے گا۔

 دفاعی امور کے بارے میں سراغ رسانی کی اس رپورٹ کا ماحصل یہ ہے کہ فیصلہ تو ہو چکا ہے البتہ جنرل مشرف اندرون ملک اور بیرون ملک اس کے ممکنہ اثرات کو ضرور جانچنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی رائے تو دلائل کے ساتھ پیش کریں گے لیکن اپنی بحث کا نتیجہ بالکل واضح الفاظ میں پہلے ہی بیان کر دینا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ہماری  سب  سے بڑی غلطی ہوگی جو قوم کے احتجاج اور نفرت ہی نہیں، خدا نخواستہ اللہ کے غیض و غضب کو بھی دعوت دینے کا ذریعہ بنے گی۔ یہ پاکستان اور جنرل مشرف کے سیاسی مستقبل کو استحکام بخشنے کا نہیں، فوری طور پر عدم استحکام کی نذر کرنے کا ذریعہ ہوگا۔ اس شوشے کے چھوڑے جانے کے بعد سے آج تک جو کچھ اس کے بارے میں لکھا گیا ہے یا تقاریر اور تبصروں میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ انگلیوں پر گنے جانے والے افراد کے سوا پوری قوم تمام اہم کالم نگاروں اور تمام قابل ذکر سیاسی حلقوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

اسے قومی مفاد اور پاکستان کے تاریخی اور اصولی موقف کی ضد اور ایک بے وقت کی راگنی قرار دیا ہے اور اس شبہہ  کا اظہار کیا ہے کہ یہ پاکستان کے اندر سے اُبھرنے والا ایک رجحان نہیں بلکہ باہر سے ہم پر مسلط کیا جانے والا ایک فتنہ ہے۔۔۔ کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں!

کسی ملک کے جائز ہونے کی بنیادیں

کسی ملک کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا سوال بین الاقوامی قانون سفارت کاری اور تجارت سے متعلق ہے۔ دنیا کے ہر ملک کے لیے ضروری نہیں کہ ہر دوسرے ملک کو لاز ما تسلیم کرے یا اس سے سفارت کاری اور تجارت کا رشتہ استوار کرے۔ بنیادی طور پر اس مسئلے کا تعلق د وہی پہلوؤں سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کیا وہ ریاست یا ملک جس سے معاملہ کیا جا رہا ہے ایک مبنی برحق اور صاحب اقتدار ملک ہے یا نہیں؟ اور دوسرے یہ کہ اس سے سفارتی یا تجارتی رشتہ استوار کرنا ہمارے مفاد میں ہے یا نہیں؟ پہلا سوال اپنے قانونی، سیاسی اور اخلاقی پہلو رکھتا ہے اور دوسرا خالص مفادات سے متعلق ہے۔ بین الاقوامی قانون اور روایات کی روشنی میں یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر وہ ملک جس سے آپ حالت جنگ state of war میں نہ ہوں آپ لازم اسے تسلیم  کریں یا اس سے سفارتی اور تجارتی تعلقات کا رشتہ استوار کریں ۔ نیز مختلف وجوہ سے دنیا کے دسیوں ممالک نے بر سہا برس تک دوسرے ممالک کو تسلیم نہیں کیا اور کوئی آسمان نہیں گر پڑا ۔

 خالص قانونی نقطہ نظر سے کسی ملک کو تسلیم کرنے کے معنی اسے ایک جائز وجود ( legitimate entity )تسلیم کرنا  ہے۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے اس کے لیے اس ملک کے بارے میں چار امور یقینی ہونا چاہیں :

  1. متعین جغرافیائی حدود defined geographical borders) )
  2. آبادی
  3. اپنے حدود میں مکمل آزادی
  4. قبضہ

یہ  حاکمیت (Sovereignty) کے لازمی اجزا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے کوئی ملک ان میں سے کسی پہلو سے بھی متنازع ہو تو اسے تسلیم کرنے میں تردد کیا جاتا ہے۔ وہ ملک یا علاقہ جوکسی دوسری قوت کے تابع (کنٹرول میں) ہوا سے آزاد تسلیم نہیں کیا جاتا یا اگر کسی اور وجہ سے اسے جواز (legitimacy) سے محروم تصور کیا جاتا ہو تب بھی اسے تعلیم نہیں جاتا ہے  اور یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ فاک لینڈ پر انگلستان کے قبضے کو ڈیڑھ سو سال سے زیادہ ہونے کے باوجود ارجنٹائن نے اسے آج تک قبول نہیں کیا۔ روس، چین، تائیوان سب ان مراحل سے گزرے ہیں۔ جموں و کشمیر کے دو تہائی حصے پر بھارت کا قبضہ ہے مگر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کی وجہ سے صرف قبضے کی بنیاد پر اسے قانونی جواز حاصل نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے تسلیم  کیے جانے کے سلسلے میں بھی سب سے پہلا اصولی، قانونی ،اخلاقی اور سیاسی سوال یہی ہے کہ کیا  اسرائیل ایک مبنی برحق جائز“ (legitimate) ریاست ہے؟ اس کے عملی وجود (de facto existence)سے تو کوئی انکار نہیں کرتا۔ جس طرح صدیوں پر محیط بر طانوی، فرانسیسی، اطالوی ،ہسپانوی، ولندیزی اور دوسرے استعماری طاقتوں کے وجود کا انکار نہیں کیا جاسکتا یا جس طرح جنوبی افریقہ میں سفید فام یورپیوں کی نسلی ریاست (apartheid state) کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان ریاستوں کو محض قبضے اور اقتدار کی وجہ سے جائز تسلیم نہیں کیا گیا اور بالآخر حالات کی تبدیلی سے آزاد قومی ریاستیں وجود میں آئیں جن کو یو این چارٹر کے تحت سند جواز حاصل ہوئی۔

اسرائیل کی حیثیت

اسرائیل کا معاملہ دنیا کے باقی تمام ممالک سے بالکل مختلف ہے۔ ارض فلسطین بنی اسرائیل کا اصل مسکن نہ تھا۔ یہ اس سر زمین پر 13سو برس قبل مسیح میں داخل ہوئے اور ۲۰۰ سال کی کش مکش کے بعد اس پر قابض ہو گئے۔ دوبار یہ اس سر زمین سے بے دخل کیے گئے ۔ ۱۳۵ء میں رومیوں نے بنی اسرائیل کو ارض فلسطین سے مکمل طور پر نکال باہر کیا۔ گذشتہ 4 ہزار سال کی تاریخ میں شمالی فلسطین میں بنی اسرائیل کا قیام چار پانچ سو برس  اور جنوبی فلسطین میں کل آ ٹھ نو سو برس رہا جبکہ عرب شمالی فلسطین میں ڈھائی ہزار سال سے اور جنوبی فلسطین میں تقریباً ۲ ہزار سال سے مسلسل آباد چلے آ رہے ہیں۔

ارض فلسطین پر یہودیوں کے دعوے کی بنیاد بائبل میں درج نام نہاد الہی وعدے پر ہے جسے زیادہ سے زیادہ ایک خیالی مفروضہ (myth) قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تصوراتی استحقاق کی بنیاد پر انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے دولت مند اور سیاسی طور پر طالع آزما یہودی قیادت نے فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کے لیے ایک سیاسی تحریک صہیونیت (Zionism) کا آغاز کیا۔ انھوں نے دولت، ظلم و تشد،د سیاسی جوڑ توڑ اور سامراجی سازشوں کے ذریعے بالآخر عربوں اور ترکوں کو لڑا کر بر طانوی انتداب (mandate) کے دور میں اس سر زمین پر اپنے قدم جمائے۔ یوں 14 مئ  ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے تحت، لیکن دراصل فوجی قوت اور اہل فلسطین کے جبری انخلا اور نسل کشی (genocide) کے ذریعے اسرائیل کے قیام کا ہدف حاصل کیا گیا۔ ایک یہودی دانش ور اور ادیب آرتھر کو ئسلر (Arther Koestler) اپنی جوانی میں صہیونیت کے ظلم کا شکار تھا اور جرمنی میں اپنا گھر بار چھوڑ کر فلسطین کی صہیونی بستیوں (kibbutz) میں نقل مکانی کرنے والوں میں شامل تھا ۔ مگر جب اس نے بچشم  سر اس ظلم کو دیکھا جس کا نشانہ اہل فلسطین کو بنایا گیا تو اس نے ایک مختصر جملے میں اس تاریخی  ظلم کو یوں بیان کیا:

کیا ستم ہے کہ ایک قوم نے ایک دوسری قوم کو ایک تیسری قوم کا ملک ( بڑی فیاضی سے ) تحفتا دینے کا حلفیہ وعدہ کیا ۔(آرتھر کو مسلم Promise and Fulfilment لندن ۱۹۴۹، ص۴)

1914ء میں فلسطین میں صرف تین ہزار یہودی گھرانے آباد تھے اور پہلی جنگ عظیم کے بعد وسیع پیمانے پر یہودیوں کو غیر قانونی طور پر ارض فلسطین منتقل کرنے کے باوجود فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی صرف ۵۶ ہزار تھی، جب کہ اس وقت فلسطینی عربوں کی تعداد ۶ لاکھ ۴۴ ہزار تھی ۔ ساری قتل و غارت گری اور تشدد کے باوجود ۱۹۴۸ء میں جب اسرائیل کو جبر ا  ریاستی حیثیت دی گئی یہودی ارض فلسطین میں صرف ۵.۶ فی صد زمین کے مالک تھے اور فلسطین کی آبادی میں ان کا حصہ بمشکل 33فی صد تھا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ۳۰ سال میں دنیا کے ۸۰ ممالک سے چن چن کر یہودیوں کو لا کر یہاں آباد کرنے اور خود فلسطینیوں کو ان کے گھر بار سے نکالنے اور ان کی بستیوں کی بستیوں کو تاراج کرنے کے ذریعے یہودی آبادی، 10 گنا سے زیادہ بڑھالی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے یہودیوں کو ارض فلسطین کا 56   فی صد سونے کی طشتری میں رکھ کر دے دیا گیا اور باقی ۴۴ فی صد فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو دیا گیا لیکن اسرائیل کے جنگجو گروپوں نے عملاً ۱۹۴۸ء ہی میں ارض فلسطین کے ۷۸ فی صد پر بزور قبضہ کر لیا اور پھر ۱۹۶۷ء میں باقی تمام فلسطین بشمول مشرقی بیت المقدس اپنے قبضہ میں لے لیا۔

مقصد یہاں ظلم کی یہ پوری دل خراش داستان بیان کرنا نہیں بلکہ اس تاریخی حقیقت کو نمایاں کرنا ہے کہ اسرائیل ایک حقیقی اور فطری ریاست نہیں جو ایک علاقے میں اس کے رہنے والوں کے حق خودارادی کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو بلکہ ایک چرائی ہوئی (stolen) ریاست ہے جو ایک سرزمین کے اپنے باسیوں کو بے دخل کر کے باہر سے لائے ہوئے افراد (colonisers) کے تسلط کو قائم کرنے سے وجود میں آئی ہے۔ اس ریاست کے قیام کے اس عمل (genesis) کو سمجھے بغیر علاقے میں اس کی نوعیت کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یہ مشرق وسطی کی ایک ریاست نہیں بلکہ مشرق وسطی کے قلب ۔۔۔ فلسطین میں ایک یورپی استحصالی قوم کے تسلط اور غلبے سے عبارت ہے جو بین الاقوامی قانون میں ہر جواز (legitimacy) سے محروم ہے اور رہے گی۔۔۔ اس کے جواز کی صرف ایک بنیاد ہے اور وہ ہے جبر  کے ذریعے قبضہ ( occupation by force) اور محض قبضے کو کسی بھی ملک کے لیے جو از تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں بین الاقوامی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بھی ہے۔

امریکی اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبون (۲۵ جولائی ۲۰۰۳ء) میں ایک مضمون نگار   John  Whitbeek جو بین الاقوامی قانون کا ماہر ہے  قرار دے رہا ہے۔ اس نے مسئلے کی  صحیح تنقیح کی ہے۔

“The roadmap builds on a false premise, that the real problem is Palestinian resistance to the 36 years of occupation and not THE OCCUPATION ITSELF.”

موصوف نے صحیح نتیجہ نکالا ہے کہ مسئلہ فلسطینیوں کی طرف سے تشدد نہیں بلکہ ان کی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ ہے۔ جب تک قبضہ ختم نہیں ہو گا امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس ریاست کی نوعیت اور اس کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل حقائق نگاہ میں رکھنا ضروری ہیں:

جبری تسلط : اسرائیلی یہودی اس علاقے کے اصل باسی نہیں تھے اور آج تک نہیں ہیں۔ انھیں ساری دنیا سے لاکر ملک کے اصل باشندوں کو اپنے گھروں سے بے گھر کر کے ناجائز طور پر محض قوت کے بل بوتے اور استعماری تحفظ کی چھتری تلے دوسروں کے ملک پر غلبہ دیا گیا اور پھر اقوام متحدہ کو استعمال کیا گیا تا کہ کوئی قانونی جواز فراہم کیا جاسکے۔ یہ باہر سے آئے ہوئے اپنے کلچر اور زندگی کو اس علاقے پر مسلط کر رہے ہیں اور صرف قوت کے بل بوتے پر موجود ہیں۔

 استصواب کے بغیر : اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے وجود میں آیا ہے اور وہ بھی اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جس کی رو سے صرف کسی علاقے کے لوگ اپنی آزاد مرضی اور استصواب رائے کے ذریعے اپنی آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ چونکہ مسلمان عرب فلسطین کی آبادی کا66 فی صد تھے اس لیے اقوام متحدہ نے امریکہ، بر طانیہ اور روس ں کی ملی بھگت سے استصواب کے طریقے کو ماننے  سے انکار کر دیا اور محض اقوام متحدہ کی قرارداد سے فلسطین کو تقسیم کر کے دوریاستوں کے قیام کی قرارداد منظور کی۔ یہ بھی اس طرح کیا گیا کہ جنرل اسمبلی میں ووٹ کو دوبار موخر کیا گیا ۔ اس لیے کہ اس وقت کے 56 ممالک میں سے صرف 30 اس قرارداد کے حق میں تھے 13خلاف تھے اور13 غیر جانب دار تھے اور اس طرح دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو پارہی تھی۔

دو بار ووٹ مؤخر کر کے امریکہ اور عالمی صہیونی ایجنسی نے اپنا اثر اور سر ما یہ استعمال کر کے تین غیر جانب دار ممالک( ہ،یٹی فلپائن اور لائبریا ۔۔۔ جو سب امریکہ کے زیر اثر تھے ) کوتقسیم کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ گویا اقوام متحدہ کے چارٹر کی تین کھلی کھلی خلاف ورزیوں پر یہ قرار داد منظور ہوئی۔

 (الف) استصواب کے بغیر ایک ملک کے مستقبل کا فیصلہ

 (ب) دو بار ووٹ موخر کرنا

 (ج) تین ملکوں سے زبر دستی (under dures)   تائید حاصل  کرنا

( یہ تمام حقائق  تا ریخ  کا حصہ ہیں اور امریکی کانگریس میں اہم ارکان کی تقریروں میں اعتراف کی شکل میں موجود ہیں)۔

قانون اور عالمی آداب کی خلاف ورزیاں یہاں تک ہی محدود نہ تھیں بلکہ قرارداد منظور ہونے سے پہلے اسرائیل کا اپنی قوت سے حاصل کردہ غیر متعین علاقے پر اپنی حکومت کا اعلان اور اس کا امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے تسلیم کیا جانا (recognition) بھی قانون اور عالمی آداب کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ یہ ہیں تاریخی حقائق ۔۔۔ اور اسرائیل کو تسلیم کرنا اس پورے تاریخی ظلم اور دھاندلی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

غیر متعین سرحدیں: اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کا قیام وجود اور انحصار آبادی کے مسلسل غیر فطری انتقال، تشدد اور قوت کے ذریعے علاقے پر قبضے اور جنگ اور قوت کے ذریعے مسلسل اپنی سرحدوں میں اضافے پر ہے۔ آج بھی اس کی حدود متعین نہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں ارض فلسطین کا ۵۶ فی صد اسے حاصل ہوا جسے فوج کشی کے ذریعے ۱۹۶۷ ء تک ۷۸ فی صد کر لیا گیا ۔ ۱۹۶۷ ء کی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد ۲۴۲ اور ۳۸۳ کے ذریعے جنگ سے قبل کی حدود پر واپسی کے احکام جاری کیے گئے اور ۲۰ سے زیادہ قراردادوں میں اس کا اعادہ کیا گیا مگر اسرائیل نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اب جس روڈ میپ کی بات ہو رہی ہے اس میں عملی فلسطینیوں کے باقی ماند ۲۲۰ فی صد میں سے بھی تقریبا ۴۰ فی صد عملا اسرائیل کے قبضے میں ہوگا اور باقی علاقہ جسے ابھی فلسطین اتھارٹی اور ۲۰۰۵ء کے بعد فلسطینی ریاست کہا جائے گا کسمپرسی اور بے چارگی کے عالم میں ہوگا ۔ وہ سارا علاقہ نہ آپس میں مربوط ہوگا اور نہ ایک حصے سے دوسرے حصے میں اسرائیلی چوکیوں سے گزرے بغیر آمد ورفت ممکن ہوگی۔ نیز یہ نام نہاد ریاست ہمیشہ فوج سے بھی محروم رہے گی اور اس کی امن عامہ کی دیکھ بھال (policing) اسرائیل کی ذمہ داری ہوگی جس کا اقتدار شاہراہوں اور پانی کے تمام ذخائر پر ہوگا۔ جو لوگ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں وہ کس چیز کو تسلیم کرنے کے مدعی ہیں۔۔۔ ہماری نگاہ میں تو اسرائیلی ریاست کا وجودہی ہر جواز سے محروم ہے لیکن جو اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر دو ریاستوں کی بات کرتے ہیں ان کو اتنا تو صبر کرنا چاہیے کہ نام نہاد ریاستوں کے حدود تو واضح ہو جائیں۔ لچک دار، غیر متعین تبدیل ہونے والی سرحدات ( flexible, undefined changing boundries) کی حالت کو تسلیم کرنے کے کیا معنی ہیں؟

توسیع پسندی: یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ اسرائیل ریاست کی نظریاتی اساس ہی وسعت پذیر حدود ( expanding boundries) پر ہے جو امپیریلزم کا دوسرا نام اور پورے علاقے کے لیے مسلسل خطرے کا پیغام ہے۔ اسرائیل اور اس کی قیادت نے اس معاملے کو ڈھکا چھپا نہیں رکھا ہے اور علی الاعلان کہا ہے کہ ہمارا ہدف عظیم تر اسرائیل (greater Israel) ہے ۔ بن گورین ۱۹۴۸ء میں اس کا اظہار اس طرح کرتا ہے:

عرب اتحاد کا زد پذیر پہلو لبنان ہے۔ اس ملک میں مسلمانوں کی برتری مصنوعی ہے اور اسے بآسانی ختم کیا جا سکتا ہے۔ وہاں ایک عیسائی ریاست بننی چاہیے۔ جس کی جنوبی سرحد Litani ہو۔ ہم اس ریاست کے ساتھ اتحاد کا ایک معاہدہ کریں گے۔ اس طرح سے جب ہم عرب  ریجن کی طاقت کو توڑ دیں گے اور عمان پر بم باری کر چکے ہوں گے تو اس کے بعد شام کا سقوط ہوگا۔ اور اگر مصر نے ہم پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم پورٹ سعید، اسکندریہ اور قاہرہ کو بم باری کا نشانہ بنائیں گے۔ اس طرح سے ہمیں اس جنگ کا خاتمہ کرنا  ہے اور یوں ہم اپنے آبا و اجداد کی طرف سے مصر،اسیر یہ اور چائے یہ کا بدلا اتار دیں گے ۔ (بن گورین کی ڈائری کی ۱۹۳۸ء)

اس سے پہلے عالمی صہیونی تحریک (World Zionist Organization) نے 1919 ء میں ور سائی امن کانفرنس (Versailles Peace Conference) کے موقع پر اپنی مجوزہ یہودی ریاست کا جو نقشہ پیش کیا تھا۔ اس کی رُو سے اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ان میں دریائے نیل تک مصر پورا اُردن، پورا شام، پورا لبنان ،عراق کا بڑا حصہ ترکی کا جنوبی علاقہ اور مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔

) D.H Miller: My Diary at the Conference of Paris with Documents, Vol v, p 17(

اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے یکم جنوری ۱۹۸۲ء کو کیمپ ڈیوڈ کے تین سال بعد اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset))  میں تقریر کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا تھا:

                 اصولی طور پر مملکت اسرائیل کی شمالی سرحد میں گولان ہائٹس کو شامل ہونا چاہیے۔ ۱۹۱۸ء میں سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹنے اور فلسطین پر برطانیہ کے انتداب کے قیام کے بعد استعماری حکمرانوں کے ایسے عہد میں یک طرفہ فیصلوں کی وجہ سے یہ شامل نہ ہو سکا جو گزرچکا ہے اور اب بھی نہیں لوٹے گا۔ ہم ان یکطرفہ فیصلوں کے پابند نہیں ہیں۔

عالمی صہیونی تحریک اور اسرائیلی قیادت نے علاقے کی تمام وسعتوں پر اپنا حق جتایا اور قوت سےانھیں حاصل کرنے کے بارے میں کبھی کسی تحفظ کالحاظ نہیں رکھا۔

فلسطین ایک علاقہ ہے جس کا نمایاں جغرافیائی فیچر یہ ہے کہ دریا ئے  اُردن اس کی حدود متعین نہیں کرتا بلکہ اس کے بیچ میں بہتا ہے۔ (ولادیمیر جیبوٹس سولہویں صہیونی کانگریس ۱۹۲۹ ء کے موقع پر ) مثال کے طور پر امریکہ کے اعلان آزادی کو لیجیے۔ اس میں علاقائی حدود کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ہمارے  لیے ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنی ریاست کی حدود بیان کریں۔(بن گورین کی ڈائری ۱۴مئی ۱۹۴۸ء)

 صورت حال کو علٰی حالہ ہی باقی رکھنے سے بھی کام نہیں چلے گا۔ ہمیں ایک ایسی حرکی ریاست قائم کرنا ہے جو تو سیع پسند ہو ۔

   ) Ben Gurion in Rebirth and Destiny of Israel دی فلاسو فیکل پریس ،نیو یارک ۱۹۵۴ء)

گذشتہ 16 سوبر سوں میں ہمارے لوگ ایک ملک اور قوم کی تعمیر اور اس کی توسیع، مزید یہودی جمع کرنے اور اضافی آبادیاں قائم کرنے میں مصروف رہے ہیں تا کہ اپنی حدود کو وسیع کریں ۔ کوئی یہودی یہ نہ کہے کہ یہ عمل ختم ہو گیا ہے کوئی یہودی یہ نہ کہے کہ ہم منزل کے قریب ہیں۔

(موشے دیان MAARIV ‘جولائی ۱۹۶۸ء)

اسرائیل کے وزیر دفاع موشے دیان نے دی ٹائمز کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا:

 ہمارے آبا ؤاجداد ان حدود تک پہنچ گئے جو تقسیم کے منصوبے میں تسلیم کیے گئے تھے۔ ہماری نسل ۱۹۴۹ء کی حدود تک پہنچ گئی۔ اب شش ایام کی نسل سویز، اردن اور گولان ہائٹس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ منزل نہیں ہے۔ موجودہ جنگ بندی لائن کے بعد نئی جنگ بندی لائنیں ہوں گے ۔ یہ اردن سے شام تک جائیں گے شاید لبنان تک اور شاید وسط شام تک ( دی ٹائمز لندن ۲۵ جون ۱۹۷۹ء)

یہ ہے اسرائیل کا اپنے عزائم اور اہداف کا کھلا کھلا اظہار کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسرائیل ایک امن پسند ریاست نہیں ایک سامراجی قوت ہے جس کو تسلیم کرنے کے معنی سامراج کو سند جواز دیتا ہے۔ ذرا یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ سامراجیت کی تعریف کیا ہے۔ شہور ویبسٹر ڈکشنری اس کی تعریف یوں کرتی ہے:

اپر یلیزم :کسی قوم کا اپنے اختیار اور حدود  کو  توسیع دینے کی پالیسی، عمل یا وکالت، خصوصاً بر اہ  راست علاقے حاصل کر کے یا دوسرے علاقوں کی سیاسی اور معاشی زندگی کے اوپر بالواسطہ کنٹرول حاصل کرکے۔(ویبسٹر نئی کالج نکشتری ،۱۹۸۴ء)

مناسب ہوگا کہ اس موقع پر ایسی اسرائیلی ریاست کے بارے میں مغرب کے چند اہم افراد کی آرا اور خیالات کو بھی پیش کر دیا جائے:

 اگر ایک ایسی یہودی ریاست کی تشکیل نو مناسب ہے جس کا وجود 3ہزار سال سے نہ تھا تو ایک ہزار سال مزید پیچھے کیوں نہ جائیں اور کین اینائٹ (cannanite) ریاست کو کیوں نہ دوبارہ قائم کریں۔ یہودیوں کے برخلاف کمین اینا ئٹس اب بھی وہاں ہیں (ایچ جی ویلز )

 فلسطین میں بدامنی کا سبب اور واحد سبب صیہونی  تحریک اور اس کے ساتھ ہمارے وعدے ہیں۔( ونسٹن چرچل، تقریر دار العوام ۱۴ جون ۱۹۲۱ء)

فلسطین میں صہیونی ریاست صرف جبر کے ذریعے قائم کی جاسکتی ہے اور قائم رکھی جاسکتی ہے اور ہمیں اس میں فریق نہ ہونا چاہیے۔ (صدر روز ولٹ ۵ مارچ ۱۹۴۵ء ) .

 یہودی ریاست کے تخیل کی میرے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا ہوں کہ اس کی ضرورت کیا ہے۔ اس کا تعلق تنگ نظری اور معاشی رکاوٹوں سے ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بدی  ہے۔ میں ہمیشہ اس کا مخالف رہا ہوں ۔ (البرٹ آئن سٹائن ۱۹۴۶ء) یہ تمام حوالے امریکی پروفیسر ولیم بیکر کی چشم کشا کتاب Theft of a Nation سے لیے گئے ہیں۔ ولیم بیکر خود بشریات (Anthropology) اور تاریخ کا پروفیسر ہے اور وہ جس نتیجے پر پہنچا ہے وہ یہ ہے:

آئیے غور کریں ۱۹۱۷ء سے اب تک کیا ہوا ہے۔ سیاسی صہیونیوں نے فلسطین کا پورا ملک لے لیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا نے ایک قوم سے ایک ملک کی چوری میں شرکت کی ہے، حمایت کی ہے اور اس پر یقین رکھا ہے۔ زمینیں، مکانات رسوم و رواج ،معیشت، غرض جو چیز بھی عربوں کی تھی اس کی جگہ اسرائیلی کنٹرول اور اثر نے لے لی ہے۔ یہاں تک کہ ملک کا نام بھی۔

یہ مفروضہ کہ فلسطین یہودیوں کا وطن ہے اور انھیں جو ان کا حق ہے اس کو واپس لینے میں ان کی مدد چاہیے اس کا اتنا زور دار پرو پیگنڈا کیا گیا ہے کہ جو کوئی فلسطین پر یہودیوں کے قبضے کی حمایت نہ کرے تو اس پر امتیاز کرنے (discrimination) اور یہودیت دشمنی (anti semitism) کا الزام لگ جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے لیے بیج رو یہ صرف یہ ہے کہ دوسروں کے جذباتی ردعمل کو نظر انداز کر کے حقائق کو پیش کرنے پر اصرار کریں۔۔ اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پھر اس المناک نا انصافی کا کوئی مستقل اور منصفانہ حل کبھی نہیں ہوگا۔ (جورے پبلی کیشنز لاس اینجلس ۱۹۸۹ء)

                نسل پرست ریاست : بات یہیں تک نہیں۔ اسرائیل صرف ایک سامراجی اور اپنی سرحدوں کو مسلسل بڑھانے والی ریاست ہی نہیں وہ ایک نسل پرست (racist) ریاست بھی ہے۔ اگر دنیا کے کسی حصے میں یہودیوں کی اکثریت ہو اور وہ وہاں ایک یہودی ریاست قائم کرنا چاہیں تو جس طرح دنیا میں ہندو ریاستیں (نیپال ) ہیں، یا بدھ مت ریاستیں ہیں (تھائی لینڈ سری لنکا) یا عیسائی ریاستیں ہیں بشمول (Vatican) اسی طرح اگر ایک یہودی ریاست بھی ہو تو کیسے  اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن اسرائیل کی بنیاد یہ نہیں ہے۔ دوسروں کی زمین پر ،ان کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے جبر اور ظلم کے ذریعے ریاست قائم کرنے کے ساتھ دعوی ٰ یہ بھی ہے کہ یہودی قوم نسلی بنیادوں پر دوسری اقوام سے مختلف اور بالاتر ہے اور دوسرے کم تر ہیں ۔ اس لیے یہ ایک بالاتر ریاست کی حیثیت سے ان پر حکمران ہونے کا حق رکھتی ہے ۔ یہ بالکل جنوبی افریقہ کی نسل پر ستانہ ذہنیت ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور انٹرنیل چارٹر آف ہیومن رائٹس کے برعکس ایک نسل پرست ریاست بناتی ہے اور علاقے کے تمام ممالک اور اقوام کے لیے خطرہ بناتی ہے جب کہ عسکری اعتبار سے اور ایٹمی صلاحیت سے آراستہ ہونے کی وجہ سے اسے علاقے کے سہارے ممالک پر ویسے بھی بالا دستی حاصل ہے۔

صہیونی عالمی تحریک کے صدر ڈاکٹر ویز مین نے جو اسرائیل کا پہلا صدر بنا، ۱۹۱۸ء میں بالفور اعلان کے ضمن میں جمہوریت کے بنیادی اصول اکثریت اور اقلیت کا مذاق اڑاتے ہوئے عربوں کو حقارت سے مقامی (native) اور یہودیوں کو ان سے صلاحیت (qualititavely) کے اعتبار سے مختلف قرار دیاتھا۔

جمہوری اصول تعداد کو اہمیت دیتا ہے اور خوف ناک تعداد ہمارے خلاف پڑتی ہے اس لیے کہ ایک یہودی کے مقابلے میں پانچ عرب ہیں۔ یہ نظام اس حقیقت کو ملحوظ نہیں رکھتا کہ ایک یہودی اور ایک عرب میں ایک بنیادی فرق ہے جو یہودی کی صلاحیت میں فوقیت پر مبنی ہے۔ موجودہ نظام یہودی کواس سطح پر لے آتا ہے جس پر ایک مقامی ہے۔ جب آئن سٹائن نے ڈاکٹر ویز مین سے پوچھا کہ اگر فلسطین یہودیوں کو دے دیا جائے تو پھر عربوں کا کیا ہو گا تو ویز مین نے کہا: کون سے عرب؟ ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟

 پروفیسر مین زبون دی نور (Prof. Ben Zion Dinar) اسرائیل کا پہلا وزیر اعظم تھا۔ اس نے History of the Haganah کے پیش لفظ میں صاف لکھا ہے:

ہمارے ملک میں صرف یہودیوں کے لیے جگہ ہے۔ ہم عربوں سے کہیں گے : باہر نکل جاؤ۔ اگر وہ یہ نہ مانیں اور مزاحمت کریں تو پھر ہم ان کو طاقت کے زور سے نکال باہر کریں گے ۔ ( راجر گارودی، (The Case of Israel: A Study of Political Zionism, London, 1983

                یہی وہ تصور ہے جس کے تحفظ کے لیے عربوں کو اسرائیل میں دوسرے اور تیسرے درجے کی شہریت کے حقوق بھی حاصل نہیں اور دوسری طرف قانون مراجعت (Law of Return) کے تحت دنیا کے ہر یہودی کو اسرائیل کی شہریت حاصل کرنے کا نسلی اختیار حاصل ہے۔ ابھی اس جولائی ۲۰۰۳ ء کو اسرائیل کی پارلیمنٹ نے جو قانون منظور کیا ہے اور جس کی تنسیخ کا مطالبہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک عرب فلسطین کے مغربی کنارے کا رہنے والا اسرائیل میں کسی عرب خاتون سے جو اسرائیل کی شہری ہے شادی کرتا ہے تو انھیں اسرائیل میں رہنے کا حق نہیں ہو گا۔ یا دونوں الگ الگ رہیں یا اسرائیل کو چھوڑ دیں۔ اس سے زیادہ اس کا کیا ثبوت درکار ہے کہ اسرائیل ایک جمہوری نہیں، ایک نسل پرست ریاست ہے اور اس کو تسلیم کرنا انسانیت کے آج تک کے حاصل شدہ اکرام کی نفی ہوگا۔ فرانس کا مشہور مفکر راجہ گارودی اسرائیل کے خلاف اپنی چارج شیٹ میں صاف الفاظ میں لکھتا ہے:

  1. اسرائیلی ریاست جہاں قائم کی گئی ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کا ریکا رڈا سے ان بدترین ریاستوں میں شمار کراتا ہے جن سے اس کے قریبی روابط ہیں: ۱- امریکہ ۲۔ جنوبی افریقہ ۳- ایل سیلوے ڈور ،گوئٹے مالا پیرا گوئے۔
  2.  اسرائیلی ریاست کا بنیادی عقیدہ (سیاسی صہونیت ) یہودی روایت سے پیدا نہیں ہوا۔ وہ صرف مغربی قوم پرستی بلکہ 19 ویں صدی کی استعماریت سے وجود میں آیا ہے۔ یہ نسل پرستی، قوم پرستی اور استعماریت کی ایک شکل ہے۔
  3.  یہ ریاست اقوام متحدہ کے ایک غلط فیصلے ،دباؤ اور بدعنوانی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔ اور مغرب سے ملنے والے اسلحے اور مال کے زور پر قائم ہے اور ان سب سے بڑھ کر امریکہ کی غیر مشروط اور غیر محد ود مدد پر۔
  4.  یہ کوئی مقدس ریاست نہیں ہے۔ (ایضاً، ص ۱۵۷-۱۵۸)

فلسطینی ریاست کی کسمپرسی: اسرائیل کا جو کر دار گذشتہ ۵۵ سالوں میں رہا ہے اور جو مظالم وہ اس وقت بھی فلسطینیوں پر ڈھا رہا ہے ان کو نظر انداز کر کے اور فلسطین اتھارٹی کی بے بسی کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نام دینا ایک ایسی جسارت ہے جو کوئی شخص بہ قائمی ہوش و حواس نہیں کر سکتا ۔ ۲۲ عرب ملکوں میں سے صرف دو (یعنی مصر اور اردن) نے اعلانیہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کیا ہے مگر شدید مجبوری کے تحت۔ ان دونوں نے بھی ایک عرصے سے اپنے سفیروں کو واپس بلایا ہوا ہے۔ رہا معاملہ یاسر عرفات اور فلسطین اتھارٹی کا تو وہ تو ابھی ریاست کے مراحل کے دور دور بھی نہیں اور محض اسرائیل کے چنگل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ ان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات بالکل ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی یہ کہے کہ قائد اعظم نے بر طانوی سامراج کو تسلیم کر لیا تھا کیونکہ جد وجہد آزادی کے مراحل میں وہ انڈین قانون ساز اسمبلی میں شریک ہو گئے تھے۔ فلسطینی آج اپنے حالات کے مطابق سیاسی اور جہادی ہر راستے سے اپنی آزادی حاصل کرنے کی جد و جہد کر رہے ہیں ۔

اسے “تسلیم کرنا” قرار دینا حقائق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اور دوسرے ممالک کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسرائیل پر جو بھی تھوڑا بہت عالمی دباؤ ہو سکتا ہے اسے بھی کسی فیصلہ کن مرحلے سے گزرے بغیر ختم کر دیا جائے ۔ یہ اہل فلسطین کی جد و جہد آزادی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کےمترادف ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے: اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ محض ایک ریاست کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ نہیں ۔ ارض فلسطین صرف فلسطینیوں اور عربوں کے لیے اہم نہیں، تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے بھی اہم ہے۔ القدس ہمارے لیے حرم کا درجہ رکھتا ہے جہاں مسجد الاقصی اور قبہ الصخر یٰ واقع ہیں اور جو حرم مکہ اور مسجد نبوی کے بعد قبلہ اول کی حیثیت سے دنیا کی تمام مساجد کے مقابلے میں سب سے محترم عبادت گاہ ہے جس کی تقدیس پر قرآن گواہ ہے:

سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ أَيْتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُه ( بني اسرائیل (۱:۱۷)

پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تا کہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے ۔ حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا الاقصیٰ پر یہودیوں کا قبضہ اور پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنا —محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!

 پاکستان سے دشمنی : پاکستان پہلے دن سے اور خصوصیت سے نیو کلیر صلاحیت کے حصول کے بعد اسرائیل کا ایک واضح ہدف ہے اور بھارت کے ساتھ مل کر اسرائیل اس پورے علاقے اور خصوصیت سے پاکستان کو غیر محکم (de-stabilize) کرنے میں عملا سر گرم ہے۔ بن گورین نے صاف لفظوںمیں اسرائیل کے عزائم کو بیان کر دیا تھا، کیا ہماری قیادت ان حقائق سے نا آشنا ہے۔جیوئش کرانیکل کے ۱۹ اگست ۱۹۶۷ء کے شمارے میں بن کورین کا اعلان ان الفاظ میں موجود ہے:

 ہماری عالمی صہیونی تحریک کو فوری طور پر ان خطرات کا نوٹس لینا چاہیے جو ہمیں مملکت پاکستان کی طرف سے ہیں۔ اب عالمی صیہوئی تحریک کا ہدف اول پاکستان ہونا چاہیے کیونکہ یہ نظریاتی ریاست اسرائیل کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور اس (پاکستان) کا ہر باشندہ عربوں سے لگاؤ رکھتا ہے اور یہودیوں سے نفرت کرتا ہے۔ یہ (پاکستان) عرب کا شیدائی ہمارے لیے عربوں سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ چنانچہ صہیونیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدامات کرے۔

اس کے بعد گورین نے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کو سراہتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ چونکہ ہندستان میں بسنے والوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے، جن کے دلوں میں صدیوں سے مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور نفرت بھری پڑی ہے اس لیے ہندستان ہمارے لیے اہم ترین اڈہ ہے جہاں سے ہم پاکستان کے خلاف ہر قسم کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس نہایت کار آمد اڈے سے پورا فائدہ اٹھا ئیں اور انتہائی چالاک اور خفیہ کارروائیوں سے پاکستانیوں پر زیر دست وار کر کے انھیں کچل  کر رکھ دیں۔

ایک دوسرے اسرائیلی وزیر اعظم شیمون پیریز نے نمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے کے بعد نیوزویک کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور جنرل مشرف اب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں لیکن ذرا انداز بیان کا تیکھا پن ملاحظہ ہو۔ صدر بش کی دہشت پسندی کے خلاف اسٹرے ٹیجی اور اس کے ذیل میں اسرائیل کے گرم جوشی سےحصہ نہ لینے (low profile) کے ضمن میں فرماتے ہیں:

میں نے اسے بتایا ہم تمھاری حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ ایک اچھے یہودی لڑکے کی طرح میں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ میں پاکستان کے صدر مشرف کی حفاظت کے لیے دعا کروں گا۔ یہ ایک بہت ہی زیادہ غیر متوقع تجربہ ہے۔ لیکن ہم آپ کی حکمت عملی کو سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ خود اپنا کوئی ایجنڈ اوضع کریں۔ ( نیوزویک ۵ نومبر ۲۰۰۱، ص۳۳)

اس انٹرویو میں طالبان کے بعد عراق پر حملے کا مشورہ بھی موجود ہے اور واضح رہے کہ پس منظر میں کہوٹہ پر بھارت یا اسرائیل کے پیشگی حملے (pre-emptive strike) کے خدشات بھی موجود ہیں۔ عین اس وقت جب جنرل صاحب اور ان کے ہم نوا اسرائیل کو تسلیم کرنے پر قومی بحث کی بات کر رہے تھے اسرائیل کے سرکاری نمائندے نے اعلان کیا ہے کہ اپریل شیرون ستمبر میں بھارت کا دورہ کریں گے اور یہ کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے تب بھی اسرائیل پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے (اوصاف لندن ۱۲ جولائی ۲۰۳)۔

 اس سے پہلے 9 جنوری کے دی نیشن میں پیریز کا بیان بھی قابل توجہ ہے جو عین بھارت کی لام بندی کے وقت دیا گیا تھا کہ اگر ہندستان کی پاکستان سے جنگ ہوتی ہے تو ہندستان جو بھی فیصلہ کرے گا اسرائیل ہندستان کا ساتھ دے گا“۔ کیا یہی وہ اسرائیل ہے جس سے دوستی اور خیر کی توقعات باندھی جاری ہیں

دیکھیے  پاتے ہیں عشاق بتوں  سے کیا   فیض 

اقبال اور قائد اعظم کا واضح موقف

 علامہ اقبال اور قائد اعظم کے وژن کی باتیں ہماری قیادتیں بہت کرتی ہیں۔ لیکن کیا ان کو اسرائیل اور صہیونی عزائم اور ایجنڈے کے بارے میں اقبال اور قائد اعظم کے خیالات اور احساسات کا کوئی پاس ہے۔ علامہ اقبال کو یورپ کے پنجہ یہود میں ہونے کا مکمل ادر اک تھا اور صہیونی دعوے کے بارے میں بڑے واضح الفاظ سے انھوں نے کہا تھا کہ؛

ہےخاکفلسطین  پہ یہودی کس  اگر  حق

 ہسپانیہ پر حق نہیں  کیوں اہل    عرب کا

اور قائد اعظم نے ۱۲۵ اکتوبر ۱۹۴۷ ء رائٹر کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ:

 فلسطین کے بارے میں ہمارے موقف کی وضاحت ہمارے نمائندے نے اقوام متحدہ میں کر دی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد کر دیا جائے گا ورنہ ایک خوفناک کش مکش اور تصادم نا گزیر اور لازمی امر ہے۔ یہ کش مکش محض عربوں اور تقسیم کا منصوبہ نافذ کرنے والوں کے درمیان نہ ہوگی بلکہ پوری اسلامی دنیا اس فیصلے کے خلاف بغاوت کرے گی کیونکہ ایسے فیصلے (اسرائیل کے قیام ) کی حمایت نہ تو تاریخی اعتبار سے کی جاسکتی ہے اور نہ سیاسی اور اخلاقی طور پر ۔ ایسے حالات میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کا رنہ ہو گا کہ عربوں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرے اور (عربوں کے خلاف ) اشتعال اور دست درازیوں کو روکنے کے لیے جو کچھ بھی اس کے بس میں ہو، پورے جوش اور جذبے اور طاقت سے بروے کارلائے۔

                ۱۹۳۳ء سے ۱۹۴۸ء تک قائد اعظم کے کم از کم ایک درجن بیان اور خود امریکی صدر ٹرومین کے نام ان کا خط اسرائیل کے خلاف ان کے موقف کا منہ بولتا اعلان ہے۔ لیکن ہماری قیادت کا حال یہ ہے کہ آنکھیں ہیں مگر دیکھتی نہیں، کان ہیں مگر سنتے نہیں، اور دل ہیں کہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے ۔ اسلام نے خارجہ سیاست کے جو اصول دیے ہیں ان کی روشنی میں بھی ہمارے لیے اس امر کا کوئی جواز نہیں کہ اسرائیل جو ایک کھلی کھلی جارح قوت ہے اور ہمارے کلمہ گو بھائیوں اور مظلوم انسانوں پر ظلم کے پہاڑ تو ڑ رہا ہے ہم کسی موہوم مفاد کی خاطر اس ہمہ گیر خون خرابے کے لمحے اسے سند جواز فراہم کریں اور فلسطین عرب اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور مظلوم عوام سے اپنے کو کاٹ لیں ۔ عرب عوام ہمارے اصل شریک کاررواں ہیں، ہمارے ہم راہی وہ حکمران اور مفاد پرست عناصر نہیں جن کو اُمت کا مفاد عزیز نہیں اور جو مغرب کے آقاؤں کی خوشنودی کو اپنی معراج سمجھتے ہیں۔

 حال ہی میں فلسطین میں جو سروے ہوا ہے اس کی رو سے آبادی کا 87.9فی صد الاقصیٰ انتفاضہ کے حق میں ہیں ۔ ۳. ۶۵ فی صد اسرائیل کے علاقوں میں اور ۲۰.۵ فی صد مقبوضہ غربی حصوں میں عسکری اور جہادی اقدام کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ 29.9 فی صد خودکش حملوں کے حق میں ہیں۔ ابو مازن کو جن کا اعتماد حاصل ہے وہ آبادی کا صرف 1.8فی صد ہیں اور ۲۷.۸ فی صد کا خیال ہے کہ موصوف کو وزیر اعظم صرف بیرونی دباؤ میں بنایا گیا ہے البتہ ۹. ۵۱ فی صد کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں مسئلے کا حل دو آزاد ریاستوں کے قیام کی شکل میں ممکن ہے بشرطیکہ فلسطین کی ریاست بھی حاکمیت کے معیار پر پوری اترے اور اپنے معاملات کی خود مختار ہو (امپیکٹ انٹر نیشیل ، مئ ۲۰۰۳ ص ۱۳) لیکن ظاہر ہے کہ فی الحال ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان دُور دُور تک نظر نہیں آتا ۔ ایسے حالات میں اپنے اصولی موقف سے ذرا سا بھی ہٹنا حد درجہ تباہ کن ہوگا۔ ان حالات میں ہمارا کام اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر کے اس کے ہاتھ مضبوط کرنا نہیں۔۔۔ اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی ہر ممکن مدد اور ان کی حوصلہ افزائی ہے۔ قرآن تو صاف کہتا ہے:

لا يتهكُمُ الله عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِى الذِيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ عِبَارِكُمْ أَنْ رُوهُمْ وَتَقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ وَ إِنَّمَا يَنهُكُمُ اللَّهُ عَنِ الذينَ قُتِلُوكُمْ فِي الدَيْنِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظُهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنَّ تَوَلَّوهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الممتحنه ۸:۱۰-۹ )

اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے  دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ وہ تمھیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »