تحریک پاکستان اورتحریک اسلامی

پروفیسر خورشید احمد
تعارف مقصد
عجیب بات ہے کہ پاکستان میں جب بھی اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی مہم کامیابی کی منزل کے قریب پہنچتی نظر آتی ہے۔ پریس اور پلیٹ فارم سے اچانک پروپیگنڈے کا ایک جلی و خفی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اخبارات میں قلمی اور فرضی ناموں سے مضامین ومراسلات اور لک کے بڑے بڑے شہروں میں پوسٹروں اور ہینڈ بلوں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس مہم کے وریہ ایک طرف مسلمانوں کے درمیان فروعی اختلافات کی آگ بھڑکانے اور ملت اسلامیہ کو انتشار میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری طرف مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت الزامات کو بار بار دہرانے، پھیلانے اور جماعت اسلامی کے بارے میں لوگوں کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کیا یہ محض حسین اتفاق ہے ؟ یا پاکستان میں بھی یورپ اور امریکہ کے یہو دیوں کی طرح ایک ایسا گروہ موجود ہے جو اسلام سے دلی عناد اور خوف رکھتا ہے اور جب اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے نفاذ کی تحریک قوت پکڑ گئی ہے اور انگریز سے ورثے میں ملے ہوئے لادینی نظام حکومت کی جڑیں اکھاڑ کر قرآن و سنت کا نظام نافذ کرنے پر تل گئی ہے تو وہ اس تحریک کی قوت کو توڑنے کے لیے کذب وافتراء کے زہریلے تیروں سے مسلح ہو کر اپنی خفیہ کمین گاہوں سے رائے نام پر شب خون مارنے لگتا ہے ۔
پاکستان میں اسلامی نظام کے مطالبے نے جب بھی زور پکڑا ہماری آنکھوں نےیہی ڈرا ما دیکھا اور ہر بار اسلام کے لیے عوامی جوش و جذبے کو پہلے مکرو فریب اور پھر جبر و تشدد کے ہتھکنڈوں سے دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ پچھلے اکتیس سالوں میں حکومتیں چاہے کوئی بھی رہی ہوں یہ گروہ ہر حکومت میں با اثر اور معتمد رہا اور اس کا طریقہ واردات اور اپنے سازشی کھیل کھیلنے کا وقت اور موقع بھی ہمیشہ ایک ہی رہا۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور جماعت اسلامی کو راستے سے ہٹانے اور اسلامی نظام کی تحریک کا گلا گھونٹنے کے لیے قید و بند سے لے کر تختہ دار تک سارے حربے آزمائے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ جھوٹ کے مقدر میں ہی شکست و نامرادی ہے اور حق ہر افترا پردازی کیسے دھول چھٹنے کے بعد پھر اسی طرح چمکتا دمکتا نظر آتا ہے ۔
بھٹو کی اسلام دشمن آمریت ان قوتوں کا سب سے بڑا سہارا تھی۔ انہوں نے اس سے بڑی امیدیں باندھ رکھی تھیں، لیکن نفاذ شریعت اور بکائی جمہوریت کی عصر آفرین تحریک نے اس آمریت کا طلسم بھی چکنا چور کر دیا اور پورے ملک نے نظام اسلام کے حق میں ایسے بے مثال اتحاد اور ناقابل فراموش قربانیوں کا مظاہرہ کیا کہ اسلام دشمن قوتوں کے حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ۔ پاکستان میں اسلام کے اس ناقابل تسخیر جذبے کا زور توڑنے کے لیے پھر چھپ کر حملہ کرنے کی پرانی تیکنیک آزمائی گئی اور پھر مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کو پاکستان کا دشمن اور مخالف ثابت کرنے کے لیے دشنام و اشتہام کی دھواں دھار گولہ باری شروع کر دی گئی ۔
یہ پمفلٹ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’تحریک آزادی ہند اور مسلمان ‘‘کے مقدمہ سے ایک مناسب حال اقتباس ہے ۔ یہ مقدمہ پروفیسر خورشید احمد نے لکھا ہے ۔ اس مقدمہ میں مولانا مودودی کے خلاف تحریک پاکستان کی آڑ میں کی جانے والی الزام تراشیوں اور افترا پردازیوں کا پردہ فریب تار تار کر دیا گیا ہے۔ زیر نظر پمفلٹ میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قبل تقسیم کی تحریروں کے اقتباسات کے علاوہ ایسے مسلم لیگی اکابر اور اہل علم حضرات کی جانب سے بھی مولانائے محترم کی مساعی جمیلہ کا اعتراف و اظہار ہے جنہوں نے تحریک پاکستان کی داستان کو آنے والی نسلوں کے لیے مرتب و محفوظ کرنے کا اہتمام کیا ہے ۔
ہمیں توقع ہے کہ اس پمفلٹ کو ملک کے گوشے گوشے میں پہنچایا جائے گا تا کہ کذب افترا کا پردہ فاش ہو اور اصل حقیقت پھر ایک بار عوام کے ذہنوں میں تازہ ہو جائے ۔
(1)
برطانوی ہند کے مسلمانوں کو انگریز کی غلامی کے دور میں جو سب سے بڑا خطرہ پیش آیا وہ ’’متحدہ قومیت ‘‘کا تھا۔ یہ خطرہ ۱۹۲۵ء میں تحریک خلافت کے غیر موثر ہو جانے کے بعد سے شدید تر صورت اختیار کرتا چلا گیا مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ ہر میدان میں شکست پر شکست کھانے سے ان پر شدید مایوسی کا غلبہ تھا۔ کوئی قومی تنظیم باقی نہیں رہی تھی۔ قومی لیڈر ایک ایک کرکے یا تھک گئے تھے یا اللہ کو پیارے ہو گئے تھے اور یا پھر قوم کا اعتماد کھو بیٹھے تھے ۔ نت نئے فتنے اُبھر رہے تھے اور کوئی نہ تھا جو ان کا مقابلہ کرے ۔ ان حالات میں کانگریس نے مسلمانوں کو نرم نوالہ سمجھ کر نکل لینا چاہا اور اس غرض کے لیے متحدہ قومیت کی تحریک کو تیز تر کر دیا۔ عملی میدان میں مغرب کی پوری سیاسی فکر کی بناء پرمتحدہ قومیت کے تصور کو پیش کیا جارہا تھا اور کوئی اس سیلاب کا مقابلہ کرنے والا نہ تھا۔ رابطہ عوام (MASS CONTACT) کے نام پر مسلمانوں کو ان کی اپنی تنظیمات سے کاٹ کر کانگریس میں ضم کرنے کی سعی بڑے وسیع پیمانے پر ہو رہی تھی پھر مسلم نام رکھنے والے اہل قلم روٹی کے مسئلہ کو سب سے اہم مسئلہ قرار دے کر اشتراکیت کی تبلیغ بالکل کھلے بندوں اور جمیعت العلماء کے اخبارات یک کے ذرایعہ کر رہے تھے ۔علماء کا ایک بڑا طبقہ انگریز کی مخالفت میں متحدہ قومیت تک کی تائید پر اتر آیا تھا۔ ان حالات میں صاف نظر آرہا تھا کہ ملت اسلامیہ ہند کی کشتی ڈانواں ڈول ہے اور اگر حالات کو بدلنے کی فوری کوشش نہ کی گئی تو اس کشتی کو بچانا ممکن نہ رہے گا ۔
یہ ہے وہ پس منظر جس میں زیرِ نظر مضامین لکھے گئے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے، ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں، ان کی حقیقی کمزوریاں کیا ہیں، ان کو بے جا استعمال کرنے کی کیا کوششیں ہو رہی ہیں، انہیں کون کون سے خطرات درپیش ہیں اور ان خطرات کا مقابلہ وہ کیونکر کر سکتے ہیں، پھر ان میں کانگریس کی متحدہ قومیت کی تحریک کا پورا پس منظر اور اس میں مسلمانوں کے لیے پوشیدہ خطرات کا مفصل جائزہ ہے۔ یہ وہ پہلی کوشش ہے جس میں متحدہ قومیت پر علی اور عملی تنقید کی گئی ہے اور اتنے بلند علمی معیار سے کی گئی ہے کہ آج تک اس کے پائے کی کوئی دوسری چیز ٹنگ کے سامنے نہیں آئی ۔ بلاشبہ بر صغیر ہند و پاکستان سے شائع ہونے والے بیسویں صدی کے لٹریچر میں متحدہ قومیت کے بارے میں علامہ اقبال اور مولانا مودودی کی تحریرات اپنی نظیر نہیں رکھتیں۔
پھر مولانا کے ان مضامین کی یہی خصوصیت نہیں ہے کہ اپنے علمی اور منطقی طرزِ استدلال، تاریخی اشتہاد ،حسن بیان اور قوت اثر کی بناء پر یہ منفرد ہیں، بلکہ ان کا عظیم ترین کارنامہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے اسلامی تصور قومیت نے ایک سیاسی نصب العین کی شکل اختیار کی اور مسلمانوں کے سامنے ایک جداگانہ قوم ہونے اور اپنی جدا گانہ قومیت اور تہذیب کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے اپنی آزاد مملکت قائم کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوا۔
تحریک ِپاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی ۔ اس تصور کو پیش کرنے، اُسنے بچھارنے اور فروغ دینے میں مولانا مو دودی صاحب کی تحریرات کا حصہ کیا تھا ا سے اُس شخص کی زبان سے سینے جو قائد اعظم اور خان لیاقت علی خان کا دست راست تھا۔ یعنی آل انڈر مسلم لیگ کے جائنٹ سیکرٹری اُس کی مجلس عمل (COMMITTEE OF ACTION) اور مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سیکرٹری جناب ظفر احمد انصاری صاحب۔ وہ لکھتے ہیں :
” اس موضوع پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے مسئلہ قومیت کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکمی، زود استدلال اور زور بیان کے باعث مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور جس کا چرچا بہت تھوڑے عرصے میں اور بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں میں ہو گیا ۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریہ پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسئلہ پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی ضرب. کانگریس اور جمعیت العلمائے ہند کے پورے موقف پر پڑتی تھی۔ ہندوؤں کیسے سب سے خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے اُن کی جدا گانہ قومیت کا احساس کسی طرح ختم کر کے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کر دی جائیں جو مسلم لیگ نے اس بات کی کوشش کی کہ اس بحث کا مذہبی پہلو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے تا کہ عوام کانگریس کے کھیل کو سمجھ سکیں اور اپنے دین وایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوں ۔ “
آگے چل کر مولانا انصاری صاحب پھر لکھتے ہیں :
” دراصل پاکستان کی قرار داد سے پہلے ہی مختلف گوشوں سے حکومت الٰہیہ، مسلم ہندوستان اور خلافت ربانی وغیرہ کی آواز میں اٹھنے لگی تھیں۔ علامہ اقبال نے ایک مسلم ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا۔ مودودی صاحب کے لٹریچر نے حکومت الٰہیہ کی آواز بلند کی تھی۔ چوہدری فضل حق نے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مولانا آزاد سبحانی نے خلافت ربانی کا تصور پیش کیا تھا۔ جگہ جگہ سے اس آواز کا اٹھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اپنے مخصوص طرز فکر کی حکومت قائم کرنے کی ضرورت پوری شدت سے محسوس کر رہے تھے اور حالات کے تقاضے کے طور پر ان کے عزائم خفتہ ابھر کر سامنے آرہے تھے ۔
علامہ اقبال مرحوم مولانا مودودی کی ان تحریرات سے بے حد متاثر تھے۔ بقول میاں محمد شفیع مدیر اقدام علامہ موصوف ترجمان القرآن کے ان مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے ۔ انہی سے متاثر ہو کر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدر آباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی اور اسی دعوت پر مولانا ۱۹۳۰ ء میں پنجاب آئے۔ میاں محمد شفیع صاحب لاہور کی ڈائری میں لکھتے ہیں :
” مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی تو در حقیقت نیشنلسٹ مسلمانوں کی ضد تھے اور میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت علاقہ اقبال کی زبان سے کم و بیش اس قسم کے الفاظ سنے تھے کہ مودودی ان کا نگری مسلمانوں کی خبر لیں گے ۔ جہاں علامہ اقبال بالکل واضح طور سے آزاد اور مدنی کے نقاد تھے وہاں وہ مولانا کا ترجمان القرآن جستہ جستہ مقامات سے پڑھوا کر سُننے کے عادی تھے اور اس امر کے متعلق تو میں سو فی صدی ذمہ داری سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدر آباد (دکن) کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی، بلکہ وہ خطہ انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا
مارشل دور حکومت کے قائم کردہ دستوری کمیشن کے مشیر اور کمپنی لاء کمیشن کے صدر سید شریف الدین پیرزادہ صاحب اپنی تازه ترین کتاب ارتقائے پاکستان”( EVOLUTION OF PAKISTAN) میں لکھتے ہیں :
مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے ایک سلسلہ مضامین کے ذریعے جو ۱۹۳۸ اور ۱۹۳۹ء میں شائع ہوئے کا نگر یس کے چہرے سے نقاب اتاری اور مسلمانوں کو متنبہ کیا۔ موصوف نے بر صغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لیا۔ کانگریس کی لادینیت کی قلعی کھولی اور یہ ثابت کیا کہ ہندوستان کے مخصوص حالات میں اس کے لیے جمہوریت ناموزوں ہے۔ اس لیے کہ اس میں مسلمانوں کو ایک ووٹ اور ہندوؤں کو چار ووٹ ملیں گے ۔
انہوں نے ہندوؤں کے قومی استعمار کی بھی مذمت کی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ محض مخلوط انتخاب یا اسمبلیوں میں کچھ زیادہ نمائندگی (WEIGHTAGE) اور ملازمتوں میں ایک شرح کا تعین مسلمان قوم کے سیاسی مسائل کا حل نہیں ہے ۔ جو تجویز انہوں نے پیش کی اس میں تین
متبادل صورتوں کی نشاندہی کی گئی تھی ۔
ان صورتوں میں آخری صورت تقسیم ملک کی تھی یہی وجہ ہے کہ سید شریف الدین پیرزادہ صاحب ارتقائے پاکستان کے سلسلہ میں جس نتیجہ پر پہنچے ہیں، اس میں اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ :
وہ تجاویز اور مشور سے جو (۱) سرعبداللہ ہارون (۲) ڈاکٹر لطیف (۳) سر سکندر حیات (۳) ایک پنجابی (۵) سید ظفر الحسن (۶) ڈاکٹر قادری
(۷)مولانا مودودی (۸) چودھری خلیق الزمان (۹) مولانا عبد الودود خان اور پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن وغیرہ نے دیے وہ ایک معنی میں پاکستان تک پہنچنے والی سڑک کے سنگ ہائے میل ہیں ۔
ہمیں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے مندرجہ بالا اقتباسات کی ضرورت نہ تھی، لیکن صرف ان لوگوں کی سہولت کے لیے جو اس زمانہ کی پوری تاریخ سے واقف نہیں ہیں ہم نے یہ چند تائیدی بیانات بھی شامل کر لیے ہیں۔ ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آزادی ہند کی جدوجہد میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش اور مسئلہ قومیت نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔
(۲)
قیام پاکستان کے لیے مسلم لیگ نے جو جدوجہد کی اس میں مولانا مودودی صاحب نے عملاً جس وجہ سے شرکت نہیں کی وہ مسلم لیگ کے طریق کار سے مولانا کا اختلاف تھا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ :
(۱) اگر ہمارے پیش نظر ایک اسلامی ریاست ہے تو ضروری ہے کہ ہم قوم کو اس مقصد کے حصول کے لیے اخلاقی حیثیت سے بھی تیار کریں صرف سیاسی جنگ اس کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اس کے لیے علمی، فکری، اخلاقی، تہذیبی ، سیاسی غرض ہر میدان میں کام کرنا ہو گا۔ اس کے بغیر اس مقصد کا حصول مشکل ہے۔
(ب) تحریک کی ہمہ گیر اور اس کے ہر شعبہ اور سطح کی قیادت کے انتخاب میں پوری اختیا سے کام لینا ہوگا، اشتراکیوں، ملحدوں اور بے دینوں، جاگیر داروں اور زمینداروں، سب کو بلا سوچے سمجھے ایک ساتھ جمع کر دینے سے جو بھیٹر جمع ہو جاتی ہے وہ کبھی بھی قوم کی رہنمائی صحیح سمت میں نہیں کر سکتی۔ یہ تو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے اور اپنے اپنے مقاصد کے لیے قوم کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اور نتیجتہ اصل منزل کھوٹی ہو جائے گی۔ (ج) مسلمانوں کی بنیادی حیثیت ایک اصولی جماعت اور داعی گروہ کی ہے اور کسی قیمت پر بھی یہ حیثیت متاثر نہیں ہونی چاہیے ۔
طریق کار کے اختلاف کو مولانا نے صاف طور پر ظاہر کر دیا تھا؛ چنانچہ آل انڈیامسلم لیگ کی مجلس عمل کے ایک خط کے جواب میں مولانا نے لکھا تھا آپ حضرات ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ میں اس کام میں کسی قسم کے اختلافات کی وجہ سے حصہ لینا نہیں چاہتا۔ دراصل میری مجبوری یہ ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حصہ لوں تو کس طرح ادھوری تدابیر میرے ذہن کو بالکل اپیل نہیں کرتیں۔ نہ داغ دوزی (PATCH WORK) سے ہی مجھ کو کبھی دلچسپی رہی ہے ۔ اگر کلی تخریب اور کلی تعمیر پیش نظر ہوتی تو میں یہ دل وجان اس میں سر خدمت انجام دینے کے لیے تیار تھا۔ میرے لیے یہی مناسب ہے کہ اس باب میں عملاً کوئی خدمت انجام دینے کے بجائے ایک طالب علم کی طرح دیکھتار ہوں کہ سوچنے والے اس جزوی اصلا تو تعمیر کی کیا صورتیں نکالتے ہیں اور کرنے والے اسے عمل میں لا کر کیا نتائج پیدا کرتے ہیں۔ اگر فی الواقع انہوں نے اس طریقہ سے کوئی بہتر نتیجہ نکال دکھایا تو وہ میرے لیے ایک انکشاف ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کو دیکھ کر میں مسلک کلی سے مسلک جزئی کی طرف منتقل ہو جاؤں؟
اندیشے صحیح ثابت ہوئے :
یہ تھا طریق کار کے بارے میں مولانا کا اختلاف اور اس کی نوعیت ہے۔ مولانا کی رائے کے بارے میں دو آراء ہو سکتی ہیں، لیکن مستقبل کا مورخ بمشکل ہی اس بات کو نظر انداز کر سکے گا کہ تقسیم ملک کے بعد پاکستان میں اسلامی نظام کو قائم کرنے کی راہ ہیں جو ملک جو مشکلات پیش آئی ہیں اور آرہی ہیں اور آزادی کے سولہ سال کے بعد بھی ملک ابھی تک صرف اصولاً ہی ایک اسلامی ریاست ہے، عملاً حقیقی اسلامی ریاست میں تبدیل نہیں ہو سکا ہے، بلکہ اسلامی خطوط پر تبدیل کرنے والوں کو جس طرح جیل، قتل اور پھانسی سے سابقہ پیش آرہا ہے اُس کا پیشگی شعور مولانا مودودی صاحب کی تحریرات میں صاف پایا جاتا ہے اور آنے والے واقعات نے ان کے اندیشوں کی تکذیب کرنے کے بجائے توثیق کی ہے۔
(۳)
یہ تھے وہ وجوہ جن کی بناء پر مولانا نے عملاً شرکت نہیں کی، لیکن علمی طور پر وہ نظریہ پاکستان کی برابر خدمت کرتے رہے۔ اسلام کے نظام حیات کے خدوخال واضح کرتے رہے اور تصویر پاکستان کی بھی تائید کرتے رہے۔ جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے تو مولانا سید ابوا علی مودودی نے کہا :
مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے ۔ تمام روئے زمین ایک ملک ہے ۔ انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئیندہ مزید تقسیم ہو جائے گی تو کیا مگر جائے گا۔ اس ثبت کے ٹوٹنے پر تڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہو ۔ مجھے تو اگر یہاں ایک مربع میل کا رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرہ خاک کو تمام ہندوستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا ۔
جس وقت پاکستان کے مطالبہ کو اسرائیل کے مطالبہ کے مثل قرار دیا گیا تو مولانا مودودی صاحب نے اس کی پر زور تردید کی اور لکھا :
میرے نزدیک پاکستان کے مطالبہ پر یہودیوں کے قومی وطن کی تشبیہ چسپاں نہیں ہوتی ۔ فلسطین فی الواقع یہودیوں کا قومی وطن نہیں ہے یہو دیوں کی اصل پوزیشن نہیں ہے کہ ایک ملک واقعی ان کا قومی وطن ہے اور وہ اسے تسلیم کرانا چاہتے ہیں، بلکہ ان کی اصل پوزیشن یہ ہے کہ ایک ملک اُن کا قومی وطن نہیں ہے اور ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم کو دنیا کے مختلف گوشوں سے سمیٹ کر وہاں لا بسایا جائے اور اسے بزور ہمارا قومی وطن بنا دیا جائے۔ بخلاف اس کے مطالبہ پاکستان کی بنیاد یہ ہے کہ جس علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے وہ بالفعل مسلمانوں کا قومی وطن ہے۔ مسلمانوں کا کہنا صرف یہ ہے کہ موجودہ جمہوری نظام میں ہندوستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ لگے رہنے سے ان کے قومی وطن کی سیاسی حیثیت کو جو نقصان پہنچتا ہے اس سے ان کو محفوظ رکھا جائے اور متحدہ ہندوستان کی ایک آزاد حکومت کے بجائے ” ہندو ہندوستان اور مسلم ہندوستان کی دو آزاد حکومتیں قائم ہوں۔ بالفاظ دیگر مسلمان یہ نہیں کہتے کہ ہمارے لیے ایک قومی وطن بنایا جائے، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا قومی وطن جو بالفعل موجود ہے۔ اس کو اپنی آزاد حکومت الگ قائم کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے ۔
یہ چیز وہی ہے جو آج کل دنیا کی ہر قوم چاہتی ہے۔ ہم اصولاً اس بات کے مخالف ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم کسی دوسری قوم پر سیاسی و معاشی حیثیت سے مسلط ہو۔ ہمارے نزدیک اصولاً مہر قوم کا حق ہے کہ اس کی سیاسی و معاشی باگیں اس کے اپنے ہاتھوں میں ہوں اس لیے ایک قوم ہونے کی حیثیت سے اگر مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں تو جس طرح دوسری قوموں کے معاملہ میں یہ مطالبہ صحیح ہے اسی طرح ان کے معاملہ میں بھی صحیح ہے۔
ریفرنڈم میں پاکستان کی حمایت :
صوبہ سرحد اور سلہٹ کے ریفرنڈم کے موقع پر مولانا مودودی صاحب نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالنے کا مشورہ دیا اور لوگوں کو اس پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا :
“اگر میں صوبہ سرحد کے رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑھتا۔ اس لیے کہ جب ہندوستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیت کی بنیاد پر ہو رہی ہے تو لا محالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔”
اسی موقع پر پاکستان کے آئیندہ نظام کے سلسلہ میں مولانا نے فرمایا :
” وہ نظام اگر فی الواقع اسلامی ہوا جیسا کہ وعدہ کیا جا رہا ہے تو ہم دل و جان سے اس کے حامی ہوں گے اور اگر وہ غیر اسلامی نظام ہوا تو ہم اسے تبدیل کر کے اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کی جدو جہد اسی طرح کرتے رہیں گے جس طرح موجودہ نظام میں کر رہے ہیں ۔
۱۹ ۱۰ر مئی ۱۹۴۷ کے کل ہند اجتماع میں، اور جون ہم کی تجویز تقسیم سے قریباً ایک ماہ قبل، مولانا مودودی نے خطاب عام کے اختتام پر فرمایا :
اب یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ ملک تقسیم ہو جائے گا۔ ایک حصہ مسلمات اکثریت کے سپرد کیا جائے گا اور دوسرا حصہ غیر مسلم اکثریت کے زیر اثر ہوگا۔ پہلے حصہ میں ہم کوشش کریں گے کہ رائے عامہ کو ہموار کر کے اس دستور و قانون پر ریاست کی بنیاد رکھیں جسے ہم مسلمان خدائی دستور و قانون مانتے ہیں۔ غیر مسلم حضرات وہاں ہماری مخالفت کرنے کے بجائے ہمیں کام کرنے کا موقع دیں اور دیکھیں کہ ایک بے دین قومی جمہوریت کے مقابل میں یہ خدا پرستانہ خلافت و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت پر قائم ہوگی کہاں تک خود باشندگان پاکستان کے لیے اور کہاں تک تمام دنیا کے لیے رحمت و برکت ثابت ہوتی ہے ۔
یہ تھے وہ جذبات جن کا اظہار مولانا مودودی صاحب نے تقسیم سے قبل کیا اور اس طرح علمی حیثیت سے ایک محاذ کو مضبوط تر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جن مقامات پر علمی اور عملی تعاون ہو سکتا تھا، اس سے کبھی گریز نہیں کیا ۔
اسلامی تصور قومیت پر ان کے مضامین مسلم لیگ کے حلقوں میں بہت بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے اور سب سے بڑھ کر جب یورپی مسلم لیگ نے اسلامی نظام مملکت کا خاکہ تیار کرنے کے لیے علماء کی ایک کمیٹی بنائی تو مولانا مودودی صاحب نے اس کی رکنیت قبول کی اور کام میں پوری دلچسپی لی۔ حال میں وہ مسودہ چھپا ہے جو اس کمیٹی سے وابستہ ایک معاون تحقیق مولانا محمد اسحاق سندیلوی نے بطور ا بتدائی خاکہ (WORKING PAPER) تیار کیا تھا۔ اس کے پیش لفظ میں مولانا عبدالماجد دریا بادی صاحب تحریر فرماتے ہیں :
غالباً ۱۹۴۰ ء یا شاید اس سے بھی کہ قبل جب مسلم لیگ کا طوطی ہندوستان میں بول رہا تھا ، ارباب لیگ کو خیال پیدا ہوا کہ جس اسلامی حکومت (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ شد و مد سے کیا جارہا ہے خود اس کا نظام نامہ یا قانونِ اساسی بھی تو خالص اسلامی بنانا چاہیے۔ اس غرض سے یو ۔پی کی مسلم لیگ نے ایک چھوٹی سی مجلس ایسے ارکان کی مقرر کر دی جو اس کے خیال میں شریعیت کے ماہرین تھے کہ یہ مجلس ایسا نظام نامہ مرتب کر کے لیگ کے سامنے پیش کرے۔ اس مجلس نظام اسلامی کے چار ممبران کے نام تو اچھی طرح یاد ہیں :
) ۱)مولانا سید سلیمان ندوی (۲) مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
(۳)مولانا آ زاد سبحانی ) ۴)عبد الماجد دریا بادی
اس سلسلہ میں قمر الدین خان صاحب ریڈر سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ کے ایک حالیہ مضمون کا اقتباس بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا ۔ موصوف نے لکھا ہے :
کہ وہ مولانا مودودی کے ایماء پر ۱۹۴۱ء میں قائد اعظم سے ملے اور راجہ آف محمود آباد کی مدد سے گل رعنار دہلی میں ہماری ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ قائد اعظم پینتالیس منٹ تک بڑے میرے میری بات سنتے رہے اور پھر کہا کہ مولانا (مودودی) کی خدمات کو وہ نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا حصول اُن کی زندگی اور کردار کی تعمیر سے زیادہ فوری اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اور لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ جماعت اگر ایک اعلیٰ مقصد کے لیے کام کر رہی ہے تو لیگ اس فوری حل طلب مسئلے کی طرف متوجہ ہے جسے اگر حل نہ کیا جا سکا تو جماعت کا کام مکمل نہ ہو سکے گا ۔
یہ ہے تحریک پاکستان کے بارے میں مولانا مودودی صاحب کی اصل پوزیشن۔ افسوس ہے کہ کچھ نا عاقبت اندیش حضرات نے اصل حقائق کو جاننے اور سمجھنے کے بجائے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر ان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ توقع ہے کہ ہماری مندرجہ بالاگذارشات اصل حقیقت کو واضح کرنے میں مدد دیں گی ۔
قیام پاکستان کی مخالفت کا الزام سراسر غلط ہے
(مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ایک سوال کا جواب دیتے ہیں)
س : آپ کے بارے میں یہ الزام بھی بار بار دہرایا گیا ہے اور انتخابات کے دور میں اور بھی شدت سے دہرایا جارہا ہے کہ آپ نے تحریک پاکستان کی مخالفت کر کے کانگریس کے ہاتھ مضبوط کیے تھے ۔ اس سلسلے میں آپ کی تیس پینتیس سال پہلے کی تحریروں کے حوالے دیے جاتے ہیں جو آپ کے ماہنامہ ترجمان القرآن میں شائع ہوئی تھیں۔ اس الزام کے متعلق بھی کچھ وضاحت فرمائیں ؟
ج : یہ الزام بھی اسی زمانے میں خان حبیب اللہ خان صاحب نے بڑے زور شور سے اخبارات میں پیش کیا تھا اور اس کا جواب بھی میں نے ڈھاکہ کی اسی تقریر میں دے دیا تھا جس کا ابھی میں نے حوالہ دیا ہے۔ وہی جواب میں آپ کو پڑھ کر سنائے دیتا ہوں :
مجھ پر پہلا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ مودودی نظریہ پاکستان کا مخالف تھا اور کفر کا نگریسی تھا۔ جہاں تک کانگریسی ہونے کا تعلق ہے۔ یہ بالکل صریح غلط بیانی ہے ۔ اپنی پوری زندگی میں کبھی میں کانگریس سے وابستہ نہیں رہا اور اس کا دو آنے والا یا چار آنے والا ممبر بھی کبھی نہیں بنا۔ جہاں تک نظریہ پاکستان کی مخالفت کا تعلق ہے یہ سراسر ایک غلط بات ہے۔ ۱۹۳۷ ء میں جب پہلی مرتبہ ہندوستان کے چھ صوبوں میں کانگریسی وزارتیں بر سراقتدار آئیں، اس وقت سب سے پہلے میں نے ہی آگے بڑھ کر مسلمانوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جو کانگریس کے بر سر اقتدار آ جانے کے بعد رونما ہونے والا تھا۔ میری کتاب’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ حصہ اول آج بھی موجود ہے۔ ہر شخص اس کو پڑھ کر دیکھ سکتا ہے کہ اس وقت میں نے مسلمانوں کو کن چیزوں سے خبردار کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کے اندر اپنی مستقل قومیت کا احساس پیدا کرنے کے لیے کیا کچھ کیا تھا۔ آج ہزار ہا ایسے مسلم لیگی موجود ہیں جو اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اُس وقت میری وہی کتاب تھی جسے سب سے بڑھ کر انہوں نے مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا تھا اور جس کی بدولت مسلم لیگ کی تحریک عوام میں مقبول ہوئی۔ اس کے بعد ۱۹۳۰ ء میں میں نے سیاسی کش کش حصہ دوم شائع کی اور اس کے اندر نہایت تفصیل کے ساتھ اس امر پر بحث کی کہ کانگریس واحد قومیت کی بنیاد پر جس طرز کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے وہ مسلمانوں کے لیے کس طرح سے تباہ کن ہوگا۔ اس کتاب کے آخر میں میں نے خود تقسیم کا نظریہ پیش کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اگر ایک متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ کی کوئی صورت نہیں بن سکتی تو پھر تقسیم کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اس سلسلے میں میں نے صرف تقسیم کی اسکیم ہی پیش نہیں کی تھی، بلکہ یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ تبادلۂ آبادی کا بھی انتظام اس کے ساتھ کیا جائے۔
زیادہ ترا عتراض مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش کے تیسرے حصے پر کیا جاتا ہے جو میرے ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۱ء تک کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کے اقتباسات کو سیاق وسباق سے الگ کر کے اور اُن حالات کو نظر انداز کر کے جن میں وہ مضامین لکھے گئے تھے، یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ میں قیام پاکستان کو مخالف تھا ۔ حالانکہ اصل صورت معاملہ کچھ اور ہے جسے میں مختصراً بیان کرتا ہوں۔ جس وقت مسلم لیگ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ملک کو تقسیم کرانے کے لیے جد و جہد کرے گی، اس وقت میرے سامنے دو بڑے اہم سوالات تھے جن پر ہیں۔ اپنی راتوں کی نیند یں حرام کر کے غور کر تا رہا۔ ایک یہ کہ اگر خدا نخواستہ تقسیم کے لیے جد و جہد کرنے کے بعد مسلم لیگ ناکام ہو جائے اور ملک تقسیم نہ ہو سکے پھر مسلمانوں کا کیا حشر ہوگا ؟ اس وقت تو در کنار ۱۹۳۷ء کے آغاز تک یہ امر یقینی نہ تھا کہ پاکستان واقعی بن جائے گا۔ اور بات ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ جو جماعت کسی مقصد کے لیے لیکر آخر کار ہار جائے اس کے لیے پھر ملک میں کام کرنے کے مواقع باقی نہیں رہتے اس صورت میں ایک دوسری دفاعی لائن (SECOND DEFENCELINE) ضروری تھی۔ تا کہ اگر خدا نخواستہ اس مقصد میں ناکامی ہو تو کوئی دوسرا گروہ ایسا موجو د ہے جو مسلمانوں کو سنبھال سکے ۔ اسی غرض کے لیے اگست ۱۹۴۱ ء میں جماعت اسلامی قائم کی گئی۔ میں نے اگر پانچ چھ سو آدمیوں کو الگ سے کر ایک منظم اور تربیت یافتہ گروہ اس غرض کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی کہ بعد میں وہ کام کر سکے تو کیا یہ کوئی گناہ تھا جس کی آج مجھے سزادی جائے ۔
دوسرا اہم سوال میرے سامنے یہ تھا کہ اگر ملک تقسیم ہو جائے تو ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا کیا حشر ہوگا ؟ اور پاکستان میں اسلام کا کیا حشر ہوگا ؟ جہاں تک ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا تعلق تھا، تقسیم کے بعد مسلم لیگ کے لیے اس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ وہاں وہ ان کے لیے کچھ کر سکے ۔ اسی طرح نیشنلسٹ مسلمانوں کے لیے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے کسی کام آسکیں۔ میں نے ۱۹۴۷ء کے آغازہ میں ہی اس بات کو صاف صاف کر دیا تھا کہ نیشنلسٹ مسلمانوں کو ہندوستان میں وہ حیثیت بھی حاصل نہیں ہوگی جو کبھی انگریزوں کے دور میں خان بہادروں کو حاصل رہی ہے۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ ایک ایسی منظم جماعت موجود رہے جو تقسیم کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو سنبھال سکے۔ ایسی ہی ایک منتظم جماعت پاکستان کے لیے بھی درکار تھی تاکہ تقسیم کے بعد وہ اس قومی ریاست کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کر سکے ۔ پاکستان کی تحریک میں جو متضاد عناصر پیش پیش تھے۔ اُن کے اعمال اُسی وقت سامنے موجود تھے. جن کو دیکھ کر ہر صاحب عقل آدمی یہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ لوگ ایک قومی ریاست تو بنا سکتے ہیں مگر ان میں نہ یہ صلاحیت ہے اور نہ ان کے اندر اس بات کی کوئی آمادگی ہی پائی جاتی ہے کہ یہ فی الواقع اسے اسلامی ریاست بنا دیں ۔ لازم تھا کہ ایک ایسا پہلے سے منظم تیار رہے جو اسلام سے انحراف کرنے والوں کا ہاتھ پکڑ سکے اور اس ریاست کو اسلام کی طرف موڑ سکے جو کچھ اس زمانے میں میرے اندازے تھے ، ان کو میں نے صاف صاف لکھ دیا تھا ، آج سولہ سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو کچھ اندیشے اُس وقت میں نے ظاہر کیے تھے ، اُن میں سے ایک ایک چیز واقعہ کے طور پر لوگوں کے سامنے آگئی ۔ جو کچھ ان لوگوں کے ہاتھوں سے اسلام کا حشر ہوا اور جس جس طرح سے اسلام سے فرار کیا گیا اس سے آج کوئی نا واقف نہیں ہے ۔ اس لیے ان چیزوں کا پیشگی اندازہ کر کے میں نے وہ جماعت تیار کی جس کو آج جماعت اسلامی کی حیثیت سے سب لوگ جانتے ہیں اور میں بجائے اس کے کہ کسی کے الزامات سے مرعوب ہو کر یہ کہوں کہ میں نے غلطی کی تھی، میں اللہ کے فضل سے پورے فخر کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اندازہ کیا تھا، ٹھیک ٹھیک اسی کے مطابق حالات پیش آئے اور وہی کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا جو میں نے کیا اور اگر میں یہ نہ کرتا تو غلطی کرتا۔
حوالہ جات
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ۱۹۲۶ ء میں خود مسلم لیگ کیبنٹ مشن اسکیم کو قبول کر کے عملاً اس بات کے لیے تیار ہو گئی تھی کہ پاکستان کے علاوہ بھی کسی دوسری تجویز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے پوری مسلمان قوم کے مسئلہ کا حل نکل آئے ۔
تقسیم کے وقت جماعت اسلامی کے ارکان کی کل تعداد ۷۲۵ تھی، جن میں سے ۲۴۰ ہندوستان میں رہ گئے اور ۳۸۵ پاکستان میں موجود تھے ۔ اس قلیل تعداد کے تحریک پاکستان میں حصہ لینے یا نہ لینے سے کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا تھا لیکن اگر اس وقت ان لوگوں کو تربیت دے کر ایک منتظم جماعت نہ بنائی جاتی تو اس کے نتائج کا اندازہ شاید آج کے لوگ نہ کر سکیں لیکن مستقبل کا مورخ جب بر صغیر ہند میں مسلمانوں کی تاریخ کا بے لاگ جائزہ لے گا اس وقت وہ ان کا صحیح اندازہ کر سکے گا۔
ایک صاحب نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر دور اندیشی کی بنا پر تم نے اُس وقت ایک دوسری دفاعی لائن کی ضرورت محسوس کی بھی تو کیا اب جو جد وجہد تم کر رہے ہو اس کے ناکام ہونے کا اندیشہ نہیں ہے؟ پھر اس کے لیے بھی تم نے کوئی دوسری دفاعی لائن تیار کی ہے ؟ میری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ جی ہاں، میں نے اس کے لیے ایک دفاعی لائن تیار کر رکھی ہے اور وہ میرا لٹریچر ہے جو میں اس ملک میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جماعت اسلامی کوئی ہوائی تحریک نہیں ہے جو محض تقریروں کے بل پر چلی ہو ، بلکہ وہ اپنی پشت پر ایک مستقل لٹریچر رکھتی ہے جو انشاء اللہ صدیوں تک یہاں باقی رہے گا اور جب تک وہ باقی رہے گا، میں اللہ کے فضل سے یہ امید رکھتا ہوں کہ اس سرزمین میں نسل پرنسل ایسی اٹھتی چلی جائے گی جو ہر گراہ من تحریک کے مقابلے میں سینہ سپر رہے گی ۔
یہ بات ۶۳ء میں کہی گئی تھی۔ آج تئیس سال بعد بھی واقعات میرے ان اندازوں کی صداقت پر گواہی دے رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا وجود جین لوگوں کو ناگوار ہے وہ جو کچھ چاہیں کہتے رہیں لیکن پچھلے تیئیس سال کے حالات کو جن لوگوں نے بے غرضی کے ساتھ اسلام کے ایک خیر خواہ کی حیثیت سے دیکھا ہے. ان کے دل یہ گواہی دیں گے کہ اگر جماعت اسلامی یہاں موجود نہ ہوتی تو چین فتنوں کے طوفان یہاں اُٹھتے رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ ہوتا۔ یہ محض اللہ کا فضل تھا کہ تقسیم سے پہلے ہی جماعت اتنی مضبوط تنظیم بن چکی تھی کہ اس ۲۳ سال کی مدت میں مخالفت طاقتیں اور حکومتیں اپنا سارا زور لگا کر بھی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔



