كشمير پالیسی :بھٹو سے بے نظیر تک

سوال : چند ماہ پہلے تک امریکہ پاکستان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ کشمیر میں مداخلت بند کرے ورنہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے گا مگر اب امریکی کشمیر کو تنازعہ علاقہ قرار دینے لگے ہیں۔ آپ کے خیال میں اس تبدیلی کا پس منظر کیا ہے؟
جواب : امریکہ پاکستان کو کشمیر کی وجہ سے دہشت گرد قرار نہیں دے رہا تھا، بلکہ اس رویے کی وجہ نیو کلیئر پالیسی تھی اور یہ دھمکی پاکستان کو اس خطے میں امریکی بالا دستی کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے دی جارہی تھی۔ نیو کلیئر پالیسی وہ واحد چیز ہے جس نے اب تک پاکستان کو محفوظ بھی رکھا ہے اور امریکہ کو مجبور بھی کیا کہ وہ برابری کی سطح پر آئے اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے۔ امریکہ پاکستان کو نہ مانی میں دہشت گرد قرار دے سکتا تھا اور نہ آئندہ ایسا کر سکتا ہے اور اگر امریکہ نے ایسا کیا تو امریکہ کو اس کا نقصان ہو گا۔
میری نگاہ میں اس وقت کشمیر کو دو خطرات سے سابقہ در پیش ہے۔ ایک ہندوستان کا غاصبانہ قبضہ اور ظالمانہ نظام اور دوسرا بین الا قوامی سازشیں۔ امریکہ کی خواہش اور کوشش ہے کہ اگر کشمیر ہندوستان کے قبضے سے نکلے بھی تو وہ امریکہ اقوام متحدہ یا عالمی طاقتوں کی گود میں آگرے اور اسی طرح بین الاقوامی سازشوں کی آماجگاہ بن جائے۔ یوں امریکہ کو موقع مل جائے گا کہ وہ پاکستان چین اور ہندوستان کے سر پر بیٹھ جائے۔ اس علاقے سے غنڈہ گردی کی کارروائیاں کر سکے۔
ان خطرات کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تحریک مزاحمت کو تقویت دی جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ ہو۔ اس موقع پر بہت ساری قوتیں کوشش کر رہی ہیں کہ کشمیریوں کو الجھا دیا جائے کہ وہ کسی خود مختار یا پھر اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کے فارمولے پر آمادہ ہو جائیں۔ یہ سازشیں ہو رہی ہیں کہ کشمیریوں کو تحریک آزادی کے ثمرات سے محروم کر دیا جائے جس طرح انہوں نے افغانستان میں کوششیں کیں۔ آج وہی کھیل کشمیر میں کھیلا جا رہا ہے۔ اس لئے اس وقت مجاہدین کشمیر کو اس سے باخبر ہونا چاہئے کشمیر کے عوام کو بھی اور کشمیر کی لیڈر شپ کو بھی۔ کشمیر کی سیاسی اور مجاہد قیادت کو اس وقت کسی حال میں نہیں آنا چاہئے۔
سوال : برطانوی ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے تجویز آئی ہے کہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا جائے۔ اس کی تائید آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے بھی کی اور مقبوضہ کشمیر کے کچھ رہنماؤں نے بھی اس کی تائید کی۔ آپ کے خیال میں کیا اس سے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کوئی مددمل سکتی ہے۔؟
جواب : لیگ آف نیشن اور اقوام متحدہ کا دنیا کو بڑا تلخ تجربہ ہے، اس لئے میں اس تجویز کا مخالف ہوں۔ میرا نقطہ نظریہ ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں فوجیں شامل ہوں ۔ اور ایک عارضی انتظام ہو جو چند ماہ سے زیادہ نہ ہو۔ پھر استصواب رائے کرا دیا جائے۔ یہ ہے وہ ماڈل جس کی روشنی میں کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ورنہ اقوام متحدہ کی قراردادیں فضول ہیں اور اگر کشمیری عوام ٹرسٹی شپ یا کسی اور فارمولے کے چکر میں پڑگئے تو وہ پھر ایک نئی کہانی کا آغاز ہوگا۔
سوال : پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سیاچن پر معاہدے کی خبریں آرہی ہیں۔ اس مرحلے پر کشمیر کے علاوہ کسی دوسرے مسئلے پربات چیت ہندوستان کے ساتھ کیا مفید رہے گی؟
جواب : یہ بڑا ہی خطرناک کھیل ہے۔ اس لئے کہ اصل مسئلہ سیاچن نہیں بلکہ کشمیر ہے۔ ہندوستان بار بار کوشش کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پس منظر میں ڈال کر سیاچن پر بات چیت کی جائے دولر بیراج پر مذاکرات ہوں ۔ دراصل یہ سازشیں ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو الجھانا اور مسئلہ کشمیر کو کمزور کرتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان کو SIDE ISSUUE پر کوئی بات نہیں کرنی چاہئے۔ ساری توجہ مسئلہ کشمیر پر مرکوز کی جائے۔ اگر مسئلہ کشمیر حل ہوگا تو باقی سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
سوال : گزشتہ چار سالہ جہاد کے بعد اب ہندوستان کے رویے میں تبدیلی محسوس کی جاسکتی ہے۔ سیاچن پر مذاکرات اور فوجوں کو ہٹانے پر جیسے بات چیت کا آغاز ہونے والا ہے۔ آپ ہندوستانی ! پالیسی میں اس تبدیلی کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں۔؟
جواب : جہاد کشمیر اور تحریک مزاحمت نے ہندوستان کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے ورنہ ہندوستان کے رویے میں کوئی اخلاقی تبدیلی نہیں آئی۔
اگر اس وقت تحریک مزاحمت کمزور ہو جاتی ہے یا کوئی نیا سیاسی فارمولا تلاش کیا جاتا ہے، تو اصل مسئلہ حل ہونے کے بجائے نئی الجھنوں کا شکار ہو جائے گا۔ بات چیت کی آمادگی بھارت کی ایک چال ہے۔ یہ سب کچھ اندرونی دباؤ اور بین الاقوامی تذلیل کی وجہ سے کر رہا ہے۔ ہمیں اس دباؤ کو بڑھانا چاہئے۔



