مسئلہ کشمیرکا حل؟

پیش لفظ
پاکستان کی موجودہ جرنیلی حکومت کی کشمیر پالیسی (جسے پالیسی کہنا لفظ پالیسی کے ساتھ نا انصافی ہے کہ یہ پالیسی نہیں صرف پسپائی ہی پسپائی ہے) نے پاکستان اور جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو ایک خطرناک صورت حال سے دو چار کر دیا ہے۔ آج تک پاکستان کی کسی حکومت نے اس اصولی پالیسی سے انحراف نہیں کیا کہ کشمیر پر بھارت کا تسلط ناجائز اور غاصبانہ ہے اور مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے عوام کی آزاد رائےسے (عالمی نگرانی میں منعقد ہونے والے استصواب کے ذریعے) اپنے مستقبل کو طے کرنے کے سوا کوئی نہیں۔ پاکستانی قوم اپنے اس موقف پر جو ایک قومی عہد national covenant) کی حیثیت رکھتا ہے قائم ہے جس کا بھر پور اظہار اس سال ۵ فروری کے یوم یک جہتی پر ایک بار پھر ہوا ہے۔ اسی طرح جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی عظیم اکثریت بھی بھارت کے تسلط کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی آزادی کے لیے اب تک ۵ لاکھ سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے اور اب بھی مقبوضہ کشمیر کی عوامی جدوجہد پر تھکاوٹ اور اضمحلال کا کوئی سایہ نظر نہیں آتا بلکہ پاکستان کی طرف سے شدید مایوسیوں کے باوجود کشمیری اپنی جدوجہد اور قربانیاں پورے جوش و خروش سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستانی قوم سے اب بھی مایوس نہیں ہوئے ہیں۔ اس کا تازہ ترین اعتراف بھارت کے موقر مجلے Economic & Political Weekly نے اپنے ۲۷ جنوری ۲۰۰۷ء کے اداریے میں ان الفاظ میں کیا ہے کہ:
دونوں طرف خود مختار مملکتوں کے بغیر لائن آف کنٹرول کو نرم کرنا کوئی قابل عمل تجویز نہیں ہے۔ یہ امر اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان نے تو اپنے مقاصد کے لیے لائن آف کنٹرول کی حوصلہ افزائی کی اور اس سے فائدہ اٹھایا لیکن ۱۹۸۹ء سے وادی میں جو جنگجویانہ شدت ظاہر ہوئی وہ دراصل ریاست میں جاری طرز حکمرانی کے خلاف مضبوط کشمیری مخالفت کا نتیجہ تھی۔ اسی وجہ سے دہشت گردی نے ریاست میں جڑیں پکڑ لیں۔ جوں ہی سری نگر جنسی اسیکنڈل یا افضل گورو کی سزاے موت جیسے مسائل سامنے آتے ہیں احتجاج کا سلسلہ وادی کو ہلا ڈالتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیگانگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ کشمیر کا مسئلہ محض زمین کا مسئلہ نہیں اور نہ اس کا تعلق سرحدوں کو تسلیم کرنے یا نرم کرنے سے ہے۔ اصل مسئلہ جموں وکشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت اور تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کا ہے۔ موجودہ حکومت اس سے دست بردار ہونے کی تاریخی غلطی کر رہی ہے جسے نہ پاکستانی قوم تسلیم کرے گی اور نہ جموں و کشمیر کے مسلمان۔ موجودہ حکومت وہی بات کہہ رہی ہے جو بھارت چاہتا ہے اور بھارت ابھی اس سے بھی زیادہ پاکستان کو ذلیل کرنے پر تلا ہوا ہے۔
Economic & Political Weekly اپنے اس اداریے (۲۷) جنوری ۲۰۰۷ء میں جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پسپائی کا پول اس طرح کھولتا ہے کہ گو ابھی تک:
کوئی بھی واضح بات طے نہیں ہوئی ہے جیسا کہ وزیر خارجہ پر تاپ مکرجی کے گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے دورے میں ظاہر ہوا۔ لیکن پھر بھی امیدوں کے چراغ جلائے جارہے ہیں۔
تا ہم بھارت پاکستان پر نظر رکھنے والوں میں ایک نئی تقریباً نا قابلِ محسوس اُمید کی کیفیت ہے۔لیکن اس کی وجہ اصل مسئلے کے حل کی کوئی راہ نہیں بلکہ پاکستان کی موجودہ قیادت کے دل و دماغ اور عزائم اور اہداف کی تبدیلی ہے۔ اس اداریے میں کہا گیا ہے کہ:
یہ بنیادی طور پر لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد تسلیم کرنے پر پاکستان کی رضا مندی اور بھارت کی طرف سے اس لائن کو نرم کرنے اور جموں و کشمیر میں خود مختار حکومت کی خواہش کے لیے گنجایش پیدا کرنے پر آمادگی سے پیدا ہوتی ہے۔ اُمت کے لیے خود مختاری اور لائن آف کنٹرول کے حوالے سے مجوزہ تبدیلیاں مستقل لیکن سرحد کو تسلیم کرنا دونوں باتیں بھارت کے مفاد میں ہیں۔
اس خطر ناک پس منظر میں قوم کو ایک بار پھر دوٹوک انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسئلے کا اصل حل کیا ہے۔ ہم اس موقع پر ذیل میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کی وہ تقریر شائع کر رہے ہیں جو انھوں نے ۲۵ نومبر ۱۹۶۵ء کو مظفر آباد (آزاد کشمیر) کے کالج گراؤنڈ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ اس جلسے کی صدارت اس وقت کے وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان نے کی اور مولانا کا استقبال ان الفاظ میں کیا: ” میں حاضرین جلسہ کی طرف سے امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے رفقا کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے یہاں آنے کی تکلیف فرمائی لیے ان کی آمد ہمارے لیے باعث سعادت ہے۔ کشمیر کے لیے مولانا مودودی نے ناقابل فراموش کام کیا ہے۔ موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کی خدمات تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ مہاجرین کشمیر کے لیے جماعت اسلامی نے جو کام کیا ہے اسے ہم کبھی نہیں بھول سکتے“۔ مولانا مودودی نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کے متاثرین سے ہمدردی اور ان کی پامردی پر خراج تحسین پیش کرنے کے بعد جو کچھ فرمایا وہ آج ۲۰۰۷ ء میں بھی مشعل راہ ہے۔ (پروفیسر خورشید احمد )
۱۹۶۵ء کی جنگ ستمبر کے بعد پاکستان اور بھارت میں سیز فائر ہو چکا تھا، دونوں ممالک کی فوجیں سرحدوں پر آمنے سامنے موجود تھیں۔ مولانا مودودی نے نومبر ۱۹۶۵ء میں اپنے متعدد رفقا (میاں طفیل محمد نعیم صدیقی اسعد گیلانی صدیق الحسن گیلانی، خلیل حامدی مولا نا فتح محمد) کے ساتھ آزاد کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مولانا کی کوششوں میں ان کا یہ دورہ اہمیت رکھتا ہے۔ سردار عبد القیوم نے کوہالہ پل پر آپ کا استقبال کیا تھا۔ اس دورے میں مولانا نے مظفر آباد اور میر پور میں جلسوں سے خطاب کیا درس قرآن دیا ریڈیو آزاد کشمیر سے تقاریر نشر کیں اور مہاجرین مقبوضہ کشمیر کے کیمپوں میں جا کر ان سے ملے اور ممکن حد تک ان کی دادرسی کی۔



