ArticleIslamMedia ArticleSeerat

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت داعی الی الحق

انسان بنیادی طور پر دو ایسی ضروریات کا محتاج ہے جن سے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی صرف نظر نہیں کر سکتا ۔ ایک طرف اسے ان اشیاء و وسائل کی ضرورت درپیش ہے جو اس کی باری احتیاجات کو پورا کریں، جن کے ذریعہ وہ اپنے جسم اور روح کے رشتے کو قائم و استوار کرنے اور ارتقائے حیات کے مادی تقاضوں کو پوراکر ہے۔ دوسری طرف وہ اس ہدایت اور رہنمائی کا محتاج ہے جس کی روشنی میں وہ اپنی اخلاقی، اجتماعی اور تمدنی زندگی کی تشکیل صحت مند بنیادوں  پر کر سکے اور اس طرح انسانیت کے حقیقی مقاصد کی وحید احسن تکمیل کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ کا تقاضا ہے کہ وہ انسان کی ان دونوں ضرورتوں کو پیدا کرے۔ پہلی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس نے زمین و آسمان میں وسائل معیشت کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ و دیعت کر دیا ہے اور انسان ان وسائل کے ذریعہ اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے۔ پوری کائنات انسان کے لیے اپنا دامن پھیلائے ہوتے ہے اور اپنے سینے سے وہ وسائل اگل رہی ہے جو انسانیت کی بے شمارضرورتوں کو یک مین در خوبی پورا کر رہے ہیں۔

انسان کی دوسری بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت اور اپنے نبی مبعوث فرمائے تاکہ وہ انسان کو زندگی کی حقیقت سے روشناس کرائیں ۔ انہیں زندگی کے معنی اور اس کے مقاصد سے آشنا کریں، انہیں جینے کے طریقے سکھائیں اور اُن اصول تمدن کی تعلیم دیں جو زندگی کو اس کے اصل مقاصد سے ہمکنار کر دیں اور خدا کی زمین پر ایک صحت مند نظام قائم کریں میں میں زمین اپنی نعمتیں اگل دے اور آسمان اپنی برکتیں نازل کرنے تھے۔

انبیاء کی بعثت کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ خدا اور بندے کے تعلق کو توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد کی بنیادوں پر استوار کرائیں اور دعوت دین اور جدوجہد کے ذریعہ تاریخ کی رو کو موڑ دیں اور الہامی ہدایت کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر کریں ۔ سورۃ الحدیدمیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَ ہم نے اپنے رسول واضح نشانیاں دے کر بھیجے انْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالمِيرَاتِ لِيَقُومَ اور ان کے ساتھ قرآن یعنی قانون حیات اور النَّاسُ بِالْقِسْطِ میزان عدل اتاری تا کہ انسانوں پر انصاف قائم کریں۔

سورة الصف میں رب السموات والارض کا ارشاد ہے :

هوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وہی ہے  ذات باری تعالیٰ جس نے اپنے رسول قدين الحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام نظام  زندگی پر غالب کر دے ۔

 یہ ہے انبیاء کا مشن ! اور یہی وجہ ہے کہ نبی کی جو منیت اس کی تمام حیثیتوں سے نمایاں ہے وہ داعی الی الحق کی حیثیت ہے۔ اسلام کا اصل مقصد انسانی زندگی کو ایک خاص نہج پر چلاتا ہے۔ یہ  کوئی پوجاپاٹ کا جامد نظام نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک تحریک فکر میل ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ہدایت الہی کا پابند بناتی ہے ۔ اسلام ایک دعوت ہے جوانسانوں کو خدا کے دین کی طرف بلاتی اور ان کی زندگیوں کو نور الہی سے منور کرتی ہے۔ اسلام ایک مکمل دین’ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے اور اس کی  تمام وسعتوں پر حاکمیت الہی قائم کرنے کا دعویدار ہے۔ انبیاء وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جو اس دعوت کے داعی اور اس تحریک کے قائدین ہیں اور جنکی وجہ سےیہ اصلاحی جہدوجہد بر پا ہوئی اور جس سلسلہ  کی آخری کڑی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ قرآن پاک آپ کی بعثت کا مقصد اس چیز کو قرار دیتا ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
الجمعة 62:2

”وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے“۔

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي القَوْمَ الكَافِرِينَ
المائدة 5:67

اے رسول! جو کچھ تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے، اسے پہنچا دو۔ اور اگر تم نہ پہنچاؤ تو تم نے اس کی رسالت نہیں پہنچائی۔ اللہ تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللہ کافروں کی ہدایت نہیں دیتا۔

ان آیات ربانی سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کی بنیادی تثبیت راحمی کی حیثیت ہے۔ آپ کا اصل مشن یہ تھا کہ خدا کی ہدایت لوگوں تک پہنچادیں، انہیں خدا کی کتاب اور حکمت و دانش کی تعلیم دیں اور انہیں دعوت دیں کہ وہ دین کو اپنی پوری زندگی پر غالب کر دیں پھر جو لوگ اس دعوت پر لبیک کہیں انہیں ایک تحریک اور ایک امت میں منظم کریں، ان کے اخلاق کا تزکیہ کریں، ان میں کردار کے جو ہر پیدا کریں اور اجتماعی جد و جہد کے ذریعہ اپنی قیادت و رہنمائی میں وہ تہذیب و تمدن قائم کریں جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے ۔ اسلام فکر و نظر اور علم وعمل میں ایک ہمہ گیرانقلاب کا داعی ہے۔ وہ انسان کو غیر اللہ کی ہر غلامی سے نجات دلا کر اس کی زندگی کو خدا کے لیے خاص کرنا چاہتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ پر، خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی ‘سماجی ہو یا سیاسی، معاشی ہو یا معاشرتی، قومی ہو یا بین الاقوامی خدا کی حاکمیت قائم کرو۔ ہر اطاعت پر خدا کی اطاعت اور ہر قانون پر خدا کا قانون مقدم ہے۔

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بنده دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعیت حاکمیت انہی کی وہ  دعوت تھی اور آپ کی سیرت پاک کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے دعوت اسلامی کے کام کو باقی تمام کاموں پر مقدم رکھا اور ہر دور اور ہر حالت میں اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہمہ تن مصروف رہے۔ آپ اول بھی داعی تھے اور آخر بھی داعی اور صرف داعی الی اللہ ۔آئیے آپ کی دعوتی زندگی کے چند اہم پہلوؤں کا مطالعہ کریں تا کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو آپ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ادا کرنے کی کوشش کر سکیں۔ اس لیے کہ داعی الی الحق کی جو ذمہ داری آپ کے مبارک شانوں پر تھی اب وہ پوری امت مسلمہ کے کندھوں پر ہے۔

لِتَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَيَكُونَ الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءَ بَيْنَ النَّاسِ )المائدة 5:117-118(

تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ ہوں اور مؤمن لوگوں کو بھی لوگوں کے درمیان گواہ بنایا جائے۔

 یعنی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی شہادت اور گواہی دی اب اسی طرح پوری امت کو تمام انسانیت کے سامنے اس حق کی شہادت دیتی ہے۔

 ا- آپ کی دعوتی زندگی کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ جو تعلیم آپ نے دنیا کو دی اس پر  سب پہلے ایمان لانے والے آپ خود تھے۔

أُنزِلَ عَلَى الرَّسُولِ مَا أُنزِلَ مِن رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُون)جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا، وہ رسول پر نازل کیا گیا اور مؤمنوں پر بھی(لِتَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَيَكُونَ الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءَ بَيْنَ النَّاسِ )تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ ہوں اور مؤمن لوگوں کو بھی لوگوں کے درمیان گواہ بنایا جائے)

آپ اس ہدایت پر  پہلے ایمان لانے والے اور اپنی زندگی کو  پہلے اس کے تابع کرنے والے تھے۔ انا اول المؤمنین میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں۔ آنا اول المسلیین میں سب سے پہلا مسلم ہوں۔ جود عورت آپ نے دی آپ کی پوری زندگی اس کی جیتی جاگتی تصویر تھی ۔ بقول حضرت عائشہ ضی اللہ عنہا آپ کی زندگی قرآن تھی۔ دنیا میں بے شمار مصلح اور فلسفی آئے ۔ جو گفتار کے غازی تو ضرور تھے مگر کردار کے غازی نہ تھے۔ جو تعلیم انہوں نے دی وہ خود اس پر عامل تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ آپ نے اپنی دعوت کے ہر پہلو پر خود عمل کرکے دیکھا دیا اور انسانیت کے لیے بہترین نمونہ پیش فرمایا تاکہ لوگ صرف آپ کے ارشادات ہی ہے دایت حاصل کریں بلکہ آپ کے افعال و اعمال کی بھی پیروی کریں اور زندگی کا کوئی گوشہ اور قلب و دماغ کا کوئی ریشہ ایسا باقی نہ رہے جس پہ آپ کے سیرت و کردار کی گہری چھاپ موجود نہ ہو۔

۲۔ دوسری بنیادی چیز یہ ہے کہ آپ نے جزوی اصلاح کے مقابلے میں بھی انقلاب کی جدوجہدکی۔ آپ کا مقصد چند جزئیات میں تبدیلی پیدا کرنانہ تھا بلکہ پوری زندگی کو ہدایت الہی کے مطابق استوار کرنا تھا۔ آپ نے لوگوں کے خیالات اور نظریات کی اصلاح کی اور انہیں ایک ایمان اور جوش زندگی بخشا۔ آپ نے ان کے اخلاق وکردار کوسنوارا اور ایک نیا انسان پیدا کیا ۔ آپ نے تمدن و معاشرت کی اصلاح فرمائی اور ایک نئی سوسائٹی کی تعمیر کی آپ نے طاغوت کو زندگی کے ہر میدان میں شکست فاش دی اور پھر وہاں حاکمیت الہئ کے تخت بچھائے۔ یہ ایک ممبرگیر انقلاب تھا اور انسانی تاریخ کا وہ واحد انقلاب ہے جس نے انسانیت کی پوری زندگی کی اصلاح و تعمیر کی۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حضور سرور کائنات کو دین کی فتح و کامرانی اور اس کی سربلندی پر ہمیشہ گہرا اور غیر متزلزل یقین رہا۔ بین اُن پر آشوب حالات میں جب مسلمانوں کا شی خانت کی قانونی میں گھری ہوئی تھی اور دور دور ساحل کا کہیں نام ونشان نہ ملا تھا اور روشنی کی کوئی مٹی موجود تھی اُس وقت بھی  مایوس نہ ہوئے ۔  ُن کی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ مسلمان قریش کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے، ہر مسلمان کی جان خطرہ میں تھی۔ بظاہر اسلام کا کوئی مستقبل نظر نہ آرہا تھا اور جو دن گزرتا تھا قیامت معلوم ہوتا تھا۔ ایسی حالت میں ایک مظلوم مسلمان حضرت خیمے سے  آپ کے پاس آئے ۔ آپ بیت اللہ کے سامنے بیٹھے تھے  انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو پانی سر سے گزرا جارہا ہے ۔ آپ ہمارے لیے دعا کیجیے ۔  آنحضرت کا چہرہ سرخ ہو گیا، آپ نے فرمایا   یہ خیال رکھو! پہلی امتوں میں مومن کے ساتھ یہ ہوا کہ اسے گڑھا کھود کر دفن کر دیا گیا، اور اس پر ظلم ڈھایا گیا یہاں تک کہ اس کے بدن کے دو ٹکڑے ہو گئے اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں سے جدا کیا گیا، مگر اس کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔خدا کی قسم! اللہ اپنے دین کو مکمل کرے گا یہاں تک کہ دین کی عمومیت اور غلبہ ایسا ہو گا کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک سیکڑوں میل کی مسافت طے کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا کوئی خوف نہ ہو گا۔اس پر بھی بھیڑیے کا خطرہ نہیں ہو گا کہ وہ اس کی بکریوں پر حملہ کرے۔ لیکن تمہیں صبر اور استقامت کی ضرورت ہے۔

یہ واقعہ کئی لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو اپنی دعوت پر کتنا اعتماد ہوتا ہے، اور بڑی سے بڑی مشکلات اور آزمائشیں بھی اسے اپنے مقصد سے ہٹا نہیں سکتیں۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دین کی عمومیت اور غلبے کا مقصد، اپنے تمام پیچیدہ پہلوؤں کے ساتھ، اس کے سامنے اس قدر اہم تھا کہ حتیٰ کہ ظاہری طور پر غلبہ و حکمرانی ناممکن لگ رہی تھی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ داعی استقامت کے اس مقام پر ہوتا ہے جہاں سے کوئی چیز اس کے ارادے کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے بہت سی مشکلات کے باوجود، اپنے آخری سانس تک، دین کی دعوت کو اس انہماک اور تندرستی کے ساتھ پھیلایا کہ اس کی مثال تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ ﷺ کا ہر لمحہ اسی فکر میں گزرتا تھا کہ کس طرح خدا کا پیغام بندوں تک پہنچایا جائے اور انہیں جہنم کی آگ اور دنیا کے خسران سے بچایا جائے۔

 یہ فکر آپ کو اس درجہ دامن گیر رہتی تھی کہ ایک مرتبہ آپ دن بھر کی تبلیغی جد و جہد اور دشمنوں کی اذیت رسانی سے چور ہو کر رات کو تھکے ہارے گھر واپس آئے۔ بدن بخار سے تپ رہا تھا اور آپ چند منٹ کے لیے لیٹ گئے۔ اتنے میں اطلاع ملی کہ مکہ سے چند میل پر ایک پہاڑی کے نیچے ایک قافلہ آکر رُکا ہے۔ یہ سنتے ہی آپ فورا اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان تک خدا کا پیغام پہنچائیں ، لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ بہت تھکے ہوئے ہیں قافلہ والوں سے کل صبح مل میں آپ نے فرمایا ” کیا معلوم صبح تک مجھے موت آجائے یا وہ قافلہ راتوں رات کہیں اور چلا جائے اور اس صورت میں میرا فرض نامکمل رہ جاۓ۔دیکھیے دعوت اسلامی کے کام کو حضور کتنی اہمیت دیتے ہیں اور فرض کی بجا آوری کو کیا مقام آپ نے دیا۔ فرض شناسی کی یہ مثال ہمارے لیے  روشنی کا مینار ہے ۔

پھر آپ کی دعوتی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ہر مرحلے اور ہر دور کے حالات کے مطابق دعوت دینے کے راستے نکالے اور ہر زمانے میں نہایت حکمت و دانشمندی کے ساتھ کلمہ حق کا اظہار کیا اور بالآخر دین حق کو قائم فرمایا۔

بعثت کے فوراً بعد، خاموشی کے ساتھ آپ ﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز کیا اور قریبی حلقوں میں دین کا پیغام پہنچانا شروع کیا۔ بعثت کے کچھ سال بعد جب دعوت عام کرنے کی اجازت ملی، تو آپ ﷺ نے تمام قریش کو فاران پر جمع کیا اور اسلام کی دعوت ان تک پہنچائی۔ پھر معززین قبیلہ کو خصوصی دعوت دی اور کھانے پر بلا کر قرآن و خدا کے کلام سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺ نے ایک ایک قبیلہ، ایک ایک خاندان، ایک ایک گھرانے اور ایک ایک فرد تک پہنچ کر انہیں اسلام سے روشناس کرایا۔ گفتگو، مکالمات، مذاکرات، تقریر اور وعظ—الغرض ہر ممکن طریقے سے اسلامی تعلیمات کو ان کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی۔ جب تک دعوت کے راستے کھلے، آپ ﷺ نے حق کی طرف لوگوں کو بلاتے رہے۔ اور جب  عام تبلیغ کا امکان نہ رہا، تو خاموشی سے نجی ملاقاتوں کے ذریعے اپنے مشن کی تبلیغ جاری رکھی۔

جب آپ کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا گیا تو آپ خاموشی کے ساتھ جن جن مقامات پر چاہتے تھے اس زمانہ میں بھی ان مقامات پر دعوت پہنچانے سے آپ نہی ر کے پھر جب مکہ میں دعوت کے مزید پھیلانے کا امکان نہ رہا تو آپ نے مکہ سے باہر جاکر دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا ۔بیرون اور ملبوں کے موقع پر باہر کے قبائل سے طائف کا سفر کیا اور دوسرے بیرونی قبائل کو اپنی دعوت کی طرف بلا یا حتی کہ بیرونی قبائل میں اس کوشش ہی کے نتیجہ میں اسلامی دعوت کا نیا مرکز مل گیا اور اہل مکہ کی مفتی اور ان کا نشتہ ذریعہ بنے ۔دین حق کے نئے مرکز مدینہ الرسول کے قیام اور اس کے ذریعہ بالاآخر دعوت اسلامی کے غلبہ کا ! پھر مدینہ میں جب قوت و اقتدار اسلام کو حاصل ہو گیا تو آپ نے ریاست کی تمام طاقتیں دعوت اسلامی کے فروغ کے لیے وقف کر دیں۔ ایک طرف مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی اور دوسری طرف اس ریاست کے ذریعہ تمام عرب اور بالآخر پوری دنیا کو اسلام کی دعوت دی۔

پھر آپ کی زندگی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ اسلامی کا لازمی تقاضا ہے کہ ہر کونے اور ہر جگہ اس کی مخالفت کا سامنا کیا جائے، اور مخالفت کی نت نئی صورتیں سامنے آئیں۔ آپ ﷺ کو مختلف اذیتیں پہنچائی گئیں، راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ ﷺ کو سب وشتم کا نشانہ بنایا گیا، آپ پر پتھر پھینکے گئے، زدو کوب کیا گیا، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا گیا، اور سجدہ کے عالم میں آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی ادجھری تک رکھ دی گئی ۔آپ کے ساتھیوں کو آگ پر لٹایا گیا، ریت پر گھسیٹا گیا، پھر کھائیوں کے نیچے دبا دیا گیا، اتنا مارا گیا کہ بعض شہید ہو گئے۔ لیکن ہر حال میں آپ ﷺ ثابت قدم رہے، دعوتِ اسلامی کا کام جاری رکھا، اور راہ میں آنے والی کوئی بھی مشکل یا مصیبت آپ کی پیش قدمی کو روک نہ سکی ۔اسی طرح کوئی لالچ یا ترغیب، خواہ وہ دولت کی ہو، سرداری کی یا بادشاہت کی، آپ ﷺ کو اپنے مشن سے نہیں ہٹا سکی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں کہ میں تبلیغِ دین کا کام ترک کر دوں، تو مجھے یہ منظور نہیں۔ اگر اس راہ میں مجھے ہلاکت بھی نظر آئے، تب بھی میں پیچھے نہ لوٹوں گا۔”

یہی تھا آپ ﷺ کا عزم۔ اور ظاہر ہے کہ اگر داعی اپنے مشن میں ثابت قدم اور اپنی دھن کا پکا ہو، تو انہی مشکلات سے کامیابی کے راستے پھوٹتے ہیں اور دینِ حق فاتح و کامیاب ہوتا ہے۔ جس طرح کلی کی موت کے بعد پھول خندہ زن ہوتا ہے، اور جس طرح آگ کے بغیر حرارت و روشنی ممکن نہیں، اسی طرح آزمائش اور ابتلاء کے بغیر دعوتِ حق کی کامیابی کا امکان نہیں۔ فتحِ مکہ، شعبِ ابی طالب کی گرفتاری، طائف کی ہزیمت، اور بدر و احد کی خون ریزی کے بعد ہی کامیابی حاصل ہوئی، اور یہی فطرت کا قانون ہے۔ قرآن میں بھی ارشاد ہے:

وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا
اور تم خدا کے طریقے میں تبدیلی نہ پاؤ گے۔

مغربی پاکستان کے دینی مدارس کی تاریخ اور اعداد و شمار پر ایک جامع مطالعہ دو سال قبل شائع ہوئی کتاب میں کیا گیا تھا۔ ملک اور بیرون ملک میں اس خدمت کو سراہا گیا۔ اس وقت دو سال قبل تقریباً دو سو مدارس کے کوائف مہیا نہ ہوئے تھے، لیکن اس عرصہ میں نئے مدارس قائم ہو گئے اور بعض قدیم مدارس نے بھی ترقی کے کئی مراحل طے کر لیے۔

ان حالات میں یہ ضروری ہوگیا کہ تمام قدیم و جدید مدارس کی تاریخ مرتب کی جائے تاکہ ان کے قیام، ترقی اور خدمات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »