PakistanPolitics and Governance

نواز مسلم لیگ اور بينظيرحکومت کی معاشی کارکردگی

میاں محمد نواز شریف صاحب نے اپنی مسلم لیگ کا نیا منشور قوم کے سامنے پیش کرتے وقت کم از کم ایک بات ایسی کہی ہے جو خود ان کی جماعت اور دوسری سیاسی جماعتوں کو پرکھنے کے لیے میزان اور کسوٹی کا کام دے سکتی ہے ۔ ان کا ارشاد ہے کہ قوم سیاسی قیادت اور اس کے دعووں کو حقیقت اور اصل کار کردگی کے معیار پر جانچے ۔

آئیے ان ہی کے تجویز کردہ اس معیار پر ان کی کار کردگی کا جائزہ لیں ۔

نواز شریف صاحب کی کار کردگی کا حقیقی جائزہ لینے کے لیے یہ بات نگاہ میں رکھنی ہو گی کہ وہ گزشتہ دس سال سے اقتدار میں رہے ہیں۔ وہ دو تین برس پنجاب کے وزیر خزانہ رہے ۔ بالخصوص مارچ ۱۹۸۵ء سے اکتوبر ۱۹۹۰ء تک ساڑھے پانچ سال وہ پنجاب کے ایسے حاکم اعلیٰ تھے کہ سارے اختیارات ان کے ہاتھوں میں مرکوز تھے ۔ آخری آڑھائی سال وہ پاکستان کے وزیر اعظم تھے اور وہ بھی اس شان سے کہ انہیں اولین ڈیڑھ سال اسمبلی میں وہی دو تہائی اکثریت حاصل رہی جس کی وہ آج بار بار تمنا بھی کرتے ہیں اور یہ اعلان بھی فرماتے ہیں کہ ” اگر انہیں اب کے دو تہائی اکثریت نہ ملی تو شاید وہ وزیر اعظم بننا پسند ہی نہ کریں ” ۔ یہی اکثریت اور طاقت تھی کہ جس کے بل بوتے پر جس مسوده قانون حتی ٰکہ دستوری ترمیم جسکو وہ فی الحقیقت منظور کرانا چاہتے تھے اسے انہوں نے ہفتوں یا دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں منظور کرا لیا ۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنے منشور اور وعدوں سے رو گردانی کی وجہ سے اپنے مخلص ساتھیوں اور ہم سفروں کی حمایت کھو دی لیکن بالکل آخری دنوں میں بھی انہیں قومی اسمبلی میں اتنی طاقت ضرور حاصل تھی کہ پنجاب پر وفاقی حاکمیت کا معاملہ اعتراضات کے علی الرغم دیکھتے دیکھتے نٹا دیا ، یہ اور بات ہے کہ کچھ دوسرے عوامل آڑے آئے اور ان کی لاہور کا قلعہ سر کرنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ میاں صاحب نے سیاسی معاملات میں جو انداز اختیار کیا ، بعض اہم امور کے ضمن میں وہ جس لا پروائی اور سہل انگاری سے کام لیتے رہے اور اپنی ذات کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہو کر رفاقت ، مشاورت اور تنظیم کی ضرورت سے وہ جس طرح اغماض برتتے رہے اس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ وہ ان امور کے بارے میں نہ بنیادی معلومات کی فکر و جستجو کرتے ہیں اور نہ اس فہم و فراست کی انہیں فکر ہے جو قومی زندگی کی اعلیٰ سطح پر تشکیل و تسخیر کے لیے درکار ہے ۔ دو تہائی اکثریت کے حوالے سے روزنامہ نوائے وقت (اداریہ ۱۰ ستمبر ۱۹۹۳ء ) نے کھیلن کو مانگے چاند‘‘ کی جو پھبتی کسی ہے وہ بے جا نہیں لگتی ۔ ان کا طرز عمل مسلسل اس بات پر گواہ ہے کہ یہ اکثریت انہیں کسی بہتر قومی مقصد کے لیے نہیں بلکہ صرف انا کی تسکین اور اپنی ذات میں اختیار کلی کے حصول کے لیے درکار ہے اور یہی وہ چیز ہے جو بالاخر شخصی حکومت اور آمریت پر منتج ہوتی ہے ۔

ان کو نواز شریف صاحب سے البتہ ایک امید ضرور تھی کہ ایک تاجر اور صنعتکار وزیراعظم اقتصادی امور میں مناسب معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرے گا ۔ افغانستان کے حوالے سے معاہدہ پشاور ایک نازک تاریخی لمحہ تھا ۔ یہ ایک جاں نسل گسل کشمکش کے بعد افغان قوم کی آزادی اور ملی سرخروئی کی گھڑی تھی لیکن اس وقت بھی ہمارے وزیر اعظم کے سر پر اقتصاد کا بھوت سوار تھا اور وہ فرما رہے تھے کہ وسط ایشیاء کی طرف اب راستہ کھل جائے گا ہم تجارت کریں گے ، خوب کمائیں گے اور ترقی کریں گے ۔ اس ذہنی ساخت اور فکر کا حامل فرد اقتصادی معاملات میں تو کوئی عذر پیش نہیں کر سکتا ۔ خود ان کا دعویٰ بھی ہمیشہ یہی رہا ہے کہ میرا اصل میدان معاشی ترقی تھا اور مجھے اسی بنا پر نکالا بھی گیا ہے اپنے موجودہ منشور میں وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ محض میرا دعویٰ  نہ دیکھا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ میرا ریکارڈ کیا ہے ۔ اگرچہ میاں صاحب پر کئی حوالوں سے مدلل گرفت کی جا سکتی ہے لیکن ان کے دعویٰ اور خواہش کو پیش نظر رکھ کر ہم ان کی معاشی پالیسیوں اور ان کے نتائج تک اپنی بحث محدود درکھیں گے ۔

معاشی پالیسیاں

معیشت و اقتصاد کے حوالے سے مختلف شعبوں اور صیغوں کا نسبتاً گہرائی میں جا کر تجزیہ کرنے سے پہلے چند اصولی باتوں کا مختصر تذکرہ ضروری ہے ۔ پرائیوٹائزیشن یا نجکاری ، ڈی ریگولیشن یا ضابطوں میں نرمی اور بیرونی سرمایہ کاری کو میاں نواز شریف اپنے بہت بڑے کارنامے شمار کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ معاش و تصورات دو اڑھائی برس پہلے کی اختراع نہیں ہیں ۔ مارشل لاء کے خاتمے کے بعد جو نیجو دور ، بے نظیر حکومت اور آخر میں نواز شریف حکومت میں ان امور کو قریب قریب یکساں ترجیح حاصل رہی اگرچہ رفتار ، تنفیذ اور نتائج کا فرق یقیناً موجود رہا ۔ بیرونی سرمائے کو ترغیب دینے کی کوشش تو ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور کم و بیش کامیابی کے دعوے ہر حکومت نے کئے جس کا بیشتر انحصار مقامی طور پر امن و امان اور تحفظات اور بیرون ملک سرمائے کی موجودگی اور آمادگی پر رہا ۔ نج کاری اور ضابطوں میں نرمی کے تجربات بھی عالمی سطح پر شروع ہوئے ڈیڑھ دو دہائیاں ہو چکی ہیں ۔ چونکہ یہ ایک آہستہ رو عمل ہے اور اس کے نتائج فوری ظاہر نہیں ہوتے اس لیے دنیا بھر میں حکومتیں احتیاط سے جائزہ لے کر آمادہ عمل ہوئیں بالآخر جب سابق سوویت یونین میں گلا سناسٹ (GLOSNOST) تیز آندھی چلی اور اقتصاد میں مرکزی کنٹرول کی کمزوریاں اور کوتاہیاں روز روشن کی طرح عیاں ہونے لگیں تو ہر جگہ نج کاری اور آزاد منڈی کا عمل بھی تیز ہوا پاکستان میں ۱۹۸۵ء سے ۱۹۹۳ء تک تین بڑے ادوار حکومت میں رفتار اور تنفیذ کا فرق اور اصل اسی وجہ سے ہے ورنہ اصولی طور پر ان امور میں ایک طرح کی قومی مفاہمت موجود رہی ہے جس کا ثبوت تمام اہم پارٹیوں کے منشور اور پروگرام میں اس نقطہ پر بڑی حد تک اتفاق ہے اور کسی کو بھی یہاں تک کہ نیشلائزیشن کی پاکستانی چیمپئن پیپلز پارٹی کو بھی اس . سے نہ ۱۹۸۸ء میں اختلاف تھا اور نہ آج ہے ۔ غرض نواز حکومت کے دوارن نج کاری کا عمل تیز ہوا ، قوانین ، ضابطوں اور ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی طرف پیش رفت ہوئی ، زر مبادلہ کے قوانیں میں وسعت اور نرمی لانے کے لیے قوانین بدلے گئے ۔ گرین چینل کا آغاز ہوا ۔ پیلی ٹیکسی کے نام سے ٹرانسپورٹ اور مواصلات کی ایک واضح عمل درآمد ہوا اور موٹروے اور بندرگاہوں کی تعمیر کے فیصلے ہوئے ۔ ان سب فیصلوں سے پہلے حکومت کے ابتدائی ایام میں ہی دریائے سندھ کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے صوبوں کو راضی کیا گیا اور فنانشل ایوارڈ کے ذریعے قومی مالیات کی تقسیم کے اصول طے ہوئے ۔ گویا ان اقدامات کے ذریعے ایک اچھا خاصا فریم ورک مہیا ہو گیا جو ثبت اور تعمیری پروگراموں کی تشکیل اور تنفیذ میں کافی مددگار ثابت ہو سکتا تھا اور بالخصوص صنعت ، زراعت اور مواصلات کے شعبوں میں تیز رفتار پیش رفت میں کوئی قابل ذکر رکاوٹ باقی نہیں رہنی چاہیے تھی ۔ کسی پروگرام کی کامیابی کا اظہار محض پالیسی بیان ، بالائی سطح پر تیز رفتار فیصلوں اور ترجیحات بدل کر یا ہر قیمت پر قرضے لے کر رقوم کی فراہمی سے نہیں ہوتا ۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس پروگرام پر عمل درآمد کیسے ہوتا ہے ، کس طرح کی مشیزی سے کام لیا جاتا ہے ، اور موجودہ نتائج کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ چونکہ ان حوالوں سے ریکارڈ قابل رشک نہیں بلکہ مایوس کن ہے اس لیے میاں صاحب کی حکومت کی طرف سے کئی طرح کے عذر پیش ہوئے ہیں ۔ ان میں سے جو تین عذر قابل توجہ ہیں ، آگے بڑھنے سے پہلے ہم ان کا جائزہ لے لیتے ہیں ۔

نواز شریف صاحب کے عذر

۱۔بین الاقوامی کساد بازاری :

 ایک عذر بین الاقوامی کساد بازاری (RECESSION) کا پیش کیا جاتا ہے ۔ اصحاب علم جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ آج اچانک ہی نہیں آکھڑا ہوا بلکہ جونیجو دور میں شروع ہوا اور اسے اب کم و بیش چھ سات برس ہو چکے ہیں ۔ بعد میں آنے والوں کا امتحان یہی تھا کہ وہ صورت حال کا ادراک کر کے سمت اور جہت کی تبدیلی کا بروقت فیصلہ کرتے اور نئی راہیں سوچتے ۔ آخر یہ کیوں فرض کیا گیا کہ کپاس اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی ہماری مخصوص منڈیاں ہمیشہ ہمارے ہاتھ میں رہیں گی ۔ لازمی تھا کہ بدلتے تیوروں پر نگاہ رہتی اور بدلتی ضرورتوں کا بروقت ادارک کر کے مناسب اقدامات کئے جاتے ۔ کیا ہم بنگلہ دیش بھی گئے گزرے تھے جس نے اسی عرصہ میں ریڈی میڈ گارمنٹس کے لیے نئی منڈیاں تلاش بھی کیں اور معیار برقرار رکھ کر ان منڈیوں کو ہاتھ سے نکلنے بھی نہ دیا ۔ یہی معاملہ تھائی لینڈ ، ملائشیا اور سری لنکا تک کا ہے۔

۲۔سیلاب :

دوسرا اہم عذر گزشتہ برس کے سیلاب کا ہے جس نے خریف کی فصل کو بالعموم اور کپاس کو بالخصوص بہت نقصان پہنچایا ۔ سیلاب سے نقصان ایک فطری اور قابل قبول عذر ہے ۔ یہ بات بھی قابل تحسین ہے کہ نواز حکومت نے اس مشکل گھڑی میں مدد کر لیے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے وسائل پر انحصار کا فیصلہ کیا ۔ لیکن اس ضمن میں چند باتیں قابل غور ہیں ۔

پہلی یہ کہ کپاس کو سارا نقصان سیلاب سے نہیں پہنچا بلکہ اس میں قابل لحاظ حصہ ایک وائرس (CURLLEAF) کا بھی ہے ۔ ایک برس پہلے ( ۹۲ – ۱۹۹۱ء ) کے اکنامک سروے میں فصلوں پر چھڑکی جانے والی دواؤں کے ضمن چھڑکی جانے والی دواؤں کے ضمن میں ملاوٹ کی شکایت سامنے آئی تھی ۔ اس کا اقرار نواز حکومت کی زرعی پالیسی میں بھی ہے ۔ گویا ۱۹۹۲ء کی کپاس کی کاشت سے پہلے ہی معلوم تھا کہ ایک خرابی موجود ہے جو کافی بڑے نقصان سے دو چار کر سکتی ہے ۔ اس کا بروقت تدارک کیوں نہ ہو سکا ؟ دوسری بات یہ کہ وائرس یا کوئی دوسری بیماری اچانک پھیل کر فصل کو نقصان تبھی دے سکتی ہے جب کھیتوں میں مدافعت (RESISTANCE) سے عاری اقسام بڑے پیمانے پر موجود ہوں ۔ یہ کیسے ہوا کہ زرعی تحقیق کے مختلف مراحل سے گزرنے والی زیر کاشت گوناگوں اقسام ایک ساتھ ہی وائرس کی لپیٹ میں آگئیں ؟ تیسری اہم بات یہ ہے کہ محققین اور ماہرین معاشیات ایک مدت سے توجہ دلاتے آرہے تھے کہ زرعی نمو (GROWTH) میں ایک ہی نقد آور جنس پر مسلسل تکیہ کئے رکھنا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ زرعی کمیشن کی رپورٹ ( اپریل ۱۹۸۸ء ) مرتب کرنے والوں ، زرعی پالیسی (۱۹۹۱ء ) دینے والوں اور شعبہ زراعت کے ضمن میں ترغیبات (INCENTIVES) کے تین پیکج (تا اکتوبر ۱۹۹۲ء ) پیش کرنے والوں نے اس ناصحانہ تنبیہ  کو کس حد تک در خور اعتنا سمجھا ؟

 اگر چہ بات لمبی ہو رہی ہے لیکن اس ضمن میں ایک ضروری گزارش بھی ہے ۔ سیلاب وغیرہ سے کپاس اور دیگر فصلوں کے نقصان کا تخمینہ ۲۰ ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ اس سے پاکستان کی ۹۳ پاکستان کی ۹۳ – ۱۹۹۲ء کی معاشی شرح افزائش میں کمی کا اندازہ ڈیڑھ فیصد تھا ۔ چونکہ ابتدائی ہدف ۶۰۵ فیصد کا تھا اسی لیے سرتاج عزیز صاحب اصرار کرتے رہے کہ اصل شرح نمو ۵۰۰ فیصد ہو گی ۔ اب یا تو ہمارے یہ ماہر اقتصادیات سابق وزیر خزانہ صاحب معیشت کے دیگر شعبوں کی زبوں حالی سے نا واقف تھے جو نااہلیت کے مترادف ہے ۔ بہ صورت دیگر وہ اس بات کا سہارا لے رہے تھے کہ ۳۰۰۳ فیصد شرح نمو ( اکنامک سروی ۹۳ – ۱۹۹۲ء ) آخر ایک ابتدائی تخمینہ ہی تو ہے جسے بدل کر کم زیادہ کرنے کی روایت اور اجازت موجود ہے ، لہٰذا ۵۰۰ فیصد پر اصرار کئے جاؤ اور بعد میں اعداد ” درست ” کر کے اپنے قول کی صحت ثابت کر دو ۔ اسی طرز عمل کو اعداد کی بازیگری کہا جاتا ہے ۔ جناب سرتاج عزیز صاحب اس کا مظاہرہ حکومت میں آنے کے پہلے ہی برس کر چکے تھے جب انہوں نے ۹۰ – ۱۹۸۹ء کے لیے شرح نمو ۵۰۲ فیصد سے گھٹا کر ۲۰۶ فیصد کر دی تھی ۔ حقیقت کچھ بھی ہو اس وقت ان کا اصل مقصد بے نظیر حکومت کا استحقاف تھا گویا معاشی حقائق کو بھی سیاسی ضرورتوں کا تابع رکھا گیا ۔

۳۔ سیاسی استحکام :

 نواز شریف حکومت کا اقتصادی خرابی کے لیے پیش کیا جانے والا تیسرا عذر سیاسی عدم استحکام ہے ۔ سوال یہ ہے کہ “آ بیل مجھے مار ” کے سے انداز میں یہ بے وقت پنگا کس نے لیا ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر بے نظیر حکومت کا بیس ماہ تک ناطقہ بند رکھنے والے میاں نواز شریف جب اپنی ذاتی ضرورت کے تحت آٹھویں ترمیم ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی سے در پردہ پینگیں بڑھا رہے تھے تو وہ اس بات سے بے فکر کیسے ہو گئے تھے کہ پیپلز پارٹی ۱۹۸۸ء کا زخم بھولی نہیں اور وقت آنے پر ہر بے اصولی کو روا رکھ کر بدلہ ضرور چکائے گی ۔ نیز متاثر ہونے والا فریق ( صدر مملکت ) دم دم کی خبریں خود میاں صاحب کے ساتھیوں کی وساطت سے حاصل کر کے جوابی اقدامات کے لیے صفیں درست کر سکتا ہے ۔

سو ، اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست

بے نظیر صاحبہ سے سلسلہ جنبانی کا مقصد دو تہائی اکثریت کا حصول تھا جس کے بغیر آٹھویں ترمیم ختم نہیں کی جا سکتی تھی ۔ اب حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اہم قومی کام کرنا ہی تھا تو اس وقت کیوں نہ کیا گیا جب ابتدا میں آئی جے آئی کی شکل میں مطلوبہ اکثریت موجود تھی ۔ یہ ذلت تو نہ اٹھائی جاتی کہ جہنیں  قومی غدار اور ملک توڑنے والا ٹولہ سمجھا جاتا رہا اور اب بھی کہا جا رہا ہے ، ان سے مطلب براری کے لیے ہاتھ ملائے جاتے ۔ ان کو محب وطن ہونے کا سرٹیفکیٹ بنفس نفیس میاں صاحب نے دیا اور محترمہ بے نظیر کو ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کا صدر بنایا ۔ لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات ! درج بالا اہم ابتدائی معروضات کے بعد معیشت کے چند موٹے موٹے اشار یوں (INDICATORS) کے حوالے سے نواز شریف حکومت کی کار کردگی کا جائزہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے ۔ چونکہ ہم بات بیشتر ۱۹۸۸ء سے کر رہے ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کی کار کردگی بھی خود بہ خود سامنے آتی جائے گی۔

مجموعی ملکی پیداوار میں اضافہ کی شرح

۱۹۸۰ء کے بعد کے دس گیارہ برسوں میں ملکی پیداوار میں اضافہ کی شرح (GROWTH) میں حسب سابق اتار چڑھاؤ ضرور آتا رہا لیکن اوسطاً یہ شرح قریباً ۶۰۰فیصد رہی ۔ جونیجو دور حکومت کے تین برسوں میں اوسط اضافہ ۰۲ ۷ فیصد بنتی ہے جبکہ ۴۰۶۷ بے نظیر حکومت کے دوسالوں کی اوسط ۶۷ ۴۰ فیصد ہے ۔ نواز حکومت کا ہدف ۷۰۰فیصد تھا ۔ لیکن ان تین برسوں میں اوسط اضافہ ۴۲ ۵۰ ہے ۔ یہ شرح ۹۱ – ۱۹۹۰ء میں ۵۷ ء۵تھی جو اگلے برس بڑھ کر ۶۷ ء۷کو پہنچی لیکن ۹۳ – ۱۹۹۲ء میں گذشتہ دہائی کے کسی بھی  سال کی کمترین سطح سے بھی نیچے یعنی ۳۰۰۳ ہو گئی ۔

۹۲ – ۱۹۹۱ءکی بہتر کار کردگی کی اصل وجہ شعبہ زراعت کی ۷۱ ۹۰ شرح افزائش ہے جو قریب کلتیہ کپاس کی اچھی پیداوار کی رہین منت ہے ۔ ۹۳ – ۱۹۹۲ ء کے دوران زراعت میں شرح نمو منفی ۸۹-۳ رہی ۔ وجہ اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے کہ کپاس کی فصل اچھی نہ ہوئی تو پورا سیکٹر ہی بیٹھ گیا ۔ صنعت میں بھی بے نظیر دور کی طرح معتد بہ کمی ہوئی اور سرمایہ کاری خصوصاً بیرونی سرمایہ کاری اور سٹاک اینج کے حوالے سے خوش آئند اعلانات اور دعوؤں کے باوجود شرح نمو ۶۳ ۵۰ فیصد تک گر گئی ۔ ایسی ہی کمی دیگر شعبہ جات میں بھی دیکھنے میں آئی ۔ اشیاء کے پیداواری سیکٹر (COMMODITY PRODUCING) کی حالت بھی کافی پتلی رہی ۔ یہاں شرح نمو جو ۱۹۹۱۹۲ء میں ۸۰۸۲ تھی ، محض ۱۰۱۵فیصد رہ گئی ۔

زراعت

یہاں زراعت کا بہ طور خاص تذکرہ ضروری ہے کیونکہ اس شعبہ کا تعلق ملک کی قریباً فیصد آبادی سے بھی ہے اور اس کی مثبت اور منفی کارکردگی کے اثرات پوری ملکی معیشت خصوصاً تجارتی ادائیگیوں کے توازن پر بہت گہرے پڑتے ہیں ۔ ۹۲ – ۱۹۹۱ء کے دوران حکومت نے بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ زرعی پالیسی بھی دی اور پھر اس کے تحت ترغیبات کے تین پیج اور پیداوار بڑھانے کا پروگرام بھی سامنے آئے لیکن ان کے کوئی مثبت اثرات زرعی شعبے پر مرتب دکھائی نہ دیے بلکہ شرح نمو منفی (۸۹-۳) سطح تک اتر گئی ۔ کپاس کی فصل ۹۲-۱۹۹۱ء کی ۱۲۰۸ ملین گانٹھ سے کم ہو کر ۹۳-۱۹۹۲ء میں ۳ ء۹ملین گانٹھ رہ گئی یعنی ۲۷ فیصد کمی ہوئی ۔

اکتوبر ۹۲ء کی بارشوں کے نقصانات خریف کی فصل کو تو پہنچے لیکن اندازہ تھا کہ اس کا فائدہ فصل ربیع خصوصاً گندم کو پہنچے گا جو کل زیر کاشت رقبے کے انداز کے ۳۹ فیصد پر کاشت ہوئی لیکن اس فصل میں اضافہ صرف ۴۰۵ فیصد ریکارڈ ہوا اور یہ بھی اس لیے کہ گندم کے زیر کاشت رقبے میں ۴۰۴ فیصد کا اضافہ ہوا ۔ تاہم گندم میں یہ اضافہ چنے کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے بے کار گیا ۔ گنا تم خوار فصل ہے ۔ ۱۹۹۲ء کی آخری چوتھائی میں وافر نمی کا اس فصل پر بھی اچھا اثر ہونا چاہیے تھا لیکن حقیقتاً پیداوار میں 41 فیصد کمی ہو گئی ۔ چاول کپاس کی طرح ہمارا زر مبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہے لیکن اس کی پیداوار بھی ۲۰۹ فیصد کم رہی ۔ یاد رہے کہ ۹۲ – ۱۹۹۱ء کے اکنامک سروے میں چاول کی پیداوار مسلسل کمی کی دو بڑی وجوہات کا ذکر تھا یعنی کھاد ( خصوصاً فاسفورس کھاد ) پر سے زر تلافی کی واپسی جس پر بین الاقوامی اداروں کے دباؤ کے تحت ایک تدریج کے ساتھ عمل شروع ہو گیا تھا ، اور زرعی قرضوں پر مارک اپ یعنی سود کی اونچی شرح – زر تلافی کی واپسی اور گراں شرح کے قرضوں کے نتیجے میں خوردنی اجناس پر کھاد کا استعمال کم بھی ہوا اور غیر متوازن بھی ہو گیا ۔ یعنی فاسفورس والی کھادیں ضرورت سے کم استعمال ہوئیں ۔ کلی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ۱۹۸۶۸۷ء کے بعد سے خوردنی اجناس کی پیداوار اور فی کس خوراک کی رسد مسلسل کم ہوتی آرہی ہے اور معاملہ ۲۵۰۰ کلوري ف کس روزانہ سے گر کر ۲۳۰۰ کلوری (۱۹۹۱۹۲ء ) کے آس پاس آپہنچا ہے ۔ اس کا دوسرا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خوراک خصوصاً گندم اور خوردنی تیل کا درآمدی بل مسلسل بڑھ رہا ہے جس پر قیمتی زرمبادلہ کا ایک بڑا حصہ صرف ہو رہا ہے ۔

 ۹۲ – ۱۹۹۱ء کے دوران ۲ ملین ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی جس پر ساڑھے آٹھ ارب روپے کے قریب خرچ ہوئے ۔ ۹۳-۱۹۹۲ء میں جولائی تا مارچ کے ۹ ماہ کے دوران ۲۰۲۳ ملین ٹن گندم کی درآمد ہوئی جس کا خرچ ۱۱ارب روپے سے زیادہ تھا ۔ خوردنی تیل کئی برسوں سے سالانہ اوسطاً املین ٹن منگایا جا رہا ہے جس کا در آمدی بل قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۹۳ – ۱۹۹۲ء ( جولائی ۔ مارچ ) کے نو ماہ کا بل تقریباً ۱۰ ارب روپے ہے ۔ اس طرح گندم اور خوردنی تیل کی صرف دو مدوں میں ۹ ماہ کے دوران ۲۱ ارب روپے کا زر مبادلہ اٹھ گیا جو مناسب کوشش اور توجہ سے بچایا جا سکتا تھا لیکن زرعی سیکٹر کو جو توجہ ملی اس کا اندازہ جناب سرتاج عزیز صاحب کے پیش کردہ ۹۴۔۱۹۹۳ء کے بجٹ سے بہ خوبی ہو جاتا ہے جس میں ۹۳-۱۹۹۲ء کے مقابلہ میں نصف سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے ۔ یعنی ۹۳-۱۹۹۲ء کے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں مہیا کیے گئے ۱۴۶۲۱ ملین روپے کے مقابلے میں ۹۴-۱۹۹۳ء کے لیے صرف ۶۰۰ ملین روپے کے مقابلے میں موجودہ سال کا تخمینہ محض ۶-۱۴۶ ملین روپے ہے ۔ دعوئی اور ریکارڈ کا فرق یہاں آکر اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے ۔ پاکستانی زراعت کے دو بڑے بنیادی مسائل کا تعلق پانی سے ہے ۔ کہیں تو زمینیں پانی کے انتظار میں افتادہ پڑی ہیں کیونکہ ہمارے سالخوردہ نہری نظام اور فرسودہ آب رسانی کے طریقوں کے نتیجے میں پانی کی بہت بڑی مقدار ضائع چلی جاتی ہے ۔ اور کہیں اسی پانی کی زیادتی نے سیم و تھور کی شکل میں لاکھوں ہیکٹر زمین ہڑپ کر لی ہے ۔ جونیجو دور کے بعد یہ دونوں بڑے مسائل پس منظر میں جا پڑے ہیں اور شعبہ زراعت کو بے نظیر اور نواز شریف حکومتوں کے دوران خالی خولی نعروں یا لیپا پوتی کے سوا کچھ نہیں ملا۔

تقسیم :

فی کس آمدنی زر کے ظالمانہ استحصالی نظام کی موجودگی میں قومی پیداوار اور اوسط فی کس آمدنی میں اضافے کی باتیں نری لفاظی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ اعداد عام غریبوں کو سہانے خواب تو دکھا دیتے ہیں ان کا پیٹ نہیں بھرتے ۔ لیکن ان اعداد سے اتنا ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ بہ حیثیت مجموعی ملکی معیشت کا رجحان کیا ہے ؟ ۸۱ – ۱۹۸۰ء (CONSTANTFACTOR COST) کی بنیاد پر ۸۸-۱۹۸۷ء میں فی کس آمدنی ۴۳۲۰ روپے تھی ، ، ۱۹۸۹-۹۰ء میں ۲۴۵۱ روپے اور ۹۲-۱۹۹۱ء میں ۴۶۳۶ روپے ہو گئی ۔ نواز شریف صاحب کے حکومت چھوڑنے پر ( ۹۳ ۱۹۹۲ء ( فی کس آمدنی کا تخمینہ ۴۶۲۶ روپے تھا یعنی ۹۲-۱۹۹۱ء کی بہ نسبت ۱۴ روپے کی کمی واقع ہوئی ، اور وہ چیونٹی کی رفتار سے ہونے والا اضافہ بھی نہ ہو سکا ۔ نواز شریف صاحب کے دور میں یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ فی کس آمدنی میں کمی ہوئی ورنہ اس سے پہلے ہمیشہ تھوڑا ہی ہیں ، کچھ نہ کچھ انصافہ ہوتا رہا ہے ۔

بجٹ کا خسارہ

بجٹ کا خسارہ پاکستانی معیشت کا ایک مستقل روگ بن گیا ہے ۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ خسارہ روز افزوں ہے اور ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہا ہے ۔ ہر برس اربوں کے نئے ٹیکس بھی لگ رہے ہیں جو بالعموم بالواسطہ ہونے کے سبب غریب اور متوسط طبقات کی کمر توڑے دیتے ہیں ، اخراجات جاریہ میں کمی کے وعدے اور اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن خسارہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔

۱۹۸۵-۸۶ء میں بجٹ خسارہ ۲۵ ۳۹ بلین روپے تھا جو بے نظیر دور کے آخری برس ( ۱۹۸۹-۹۰ء ) میں ۰۶-۵۶ بلین تک پہنچ گیا ۔ نواز حکومت کے دوران کیفیت مزیدبگڑ گئی  ۹۱ – ۱۹۹۰ء کا خسارہ ۱۹-۸۹ بلین تھا ۔ ۹۲-۱۹۹۱ ء میں ٹیکس اور خدمات کے معاوضے (CHARGES SERVICE) بڑھا کر خسارہ کسی نہ کسی طرح ۷۸۰۶۵ تک اتارا گیا جو پھر بھی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا ۶۰۵ فیصد بنتا تھا ۔ ۹۳-۱۹۹۲ء کے لیے بجٹ خسارے کا تخمینہ ۶۴۰۵۹ بلین روپے کا تھا لیکن مالی سال ختم ہونے پر پتہ چلا کہ حقیقی خساره ۹۵۰۰ بلین روپے ہے ۔ یہ جناب سرتاج عزیز کی بجٹ تقریر میں بیان شدہ اعداد ہیں ۔ انہوں نے تقریباً ساڑھے تیس ارب روپے کے اس فرق کی مناسب توجہہ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی ۔ ۱۹۹۲ء کے اختتام تک یہ بات سامنے آچکی تھی کہ ٹیکسوں سے وصولی کم ہو رہی ہے ۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۳ء تک بجٹ اندازوں کے مقابلے میں ٹیکس آمدنی میں کمی کا اندازہ ۱۵ ارب روپے تھا ۔ کئی نئے ٹیکسوں کے باوجود جون ۱۹۹۳ء تک کل آمدنی گزشتہ برس سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں تھا لیکن سیلاب اور سیاسی اتھل پتھل کا رونا رونے والوں نے ان حقائق کا سامنا نہیں کیا اور خسارے کی سرمایہ کاری خصوصاً قرضے لیتے رہنے اور نئے نوٹ چھاپنے کو ہی ہر مرض کا علاج سمجھا ۔ انہیں اس بات کی کم ہی فکر تھی کہ اس طرز عمل سے افراط زر کن نئی بلندیوں کو پہنچے گا اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے عام شہری بالخصوص غریب اور متوسط طبقوں کی زندگی کتنی اجیرن ہو گی ۔ موجودہ بجٹ ( ۹۴-۱۹۹۳ ء ) میں خسارے کا اندازہ ۱۲۵ ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ لیکن پچھلا تجربہ بتا رہا ہے کہ اگر حکومت ایک بار پھر نواز شریف صاحب جیسے لا پرواہ شاہ خرچوں ، یا پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ہاتھ لگی تو یہ خسارہ ۱۵۰ بلین سے کسی طرح کم نہیں ہوگا اور یہ ایک ایسی صورت حال ہو گی جس کا کوئی قابل عمل آبرو مندانہ حل کسی کے پاس نہیں ہوگا ۔ جناب معین قریشی کی نگراں حکومت جس طرح ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوتی ہے وہ بھی مسئلہ کا حل نہیں صرف قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کا ذریعہ ہو گا ۔

گراف نمبرا

توازن ادائیگی کا خسارہ

بجٹ خسارے کی طرح تجارتی خسارے کی کہانی بھی ایک عرصے سے انتہائی مایوس کن ہے ۔ پاکستان کبھی بھی خود انحصاری کی کوئی ایسی مستحکم پالیسی نہ اپنا سکا کہ ہم تجارتی خسارے کے اس مستقلاً بگڑے ہوئے رجحان کو اپنے حق میں کر سکیں ۔ جونیجو دور کے پہلے برس یعنی ۸۲-۱۹۸۷ء میں تجارتی خسارہ ٣ بلین ڈالر تھا ۔ خوش قسمتی سے اس سال ملک پاکستانیوں کی ترسیلات ۲۰۶ بلین ڈالر کے قریب تھیں جس سے صورت حال کو کچھ سنبھالا ملا اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس منفی ۲-۱ بلین ڈالر سے کچھ زیادہ رہا ۔ ۸۸۔۱۹۸۷ء تک تجارتی خسارہ کم ہو کر ۲۰۶ بلین ڈالر ہو گیا لیکن بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی جانی والی رقم قریباً ۲ ۰ ۰ بلین ڈالر کم ہو گئی ۔ لہذا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس بڑھ کر منفی ۶۸ ۱۰ بلین ڈالر ہو گیا ۔ بے نظیر دور میں تجارتی خسارہ ۸۸ – ۱۹۸۷ء کی سطح کے قریب رہا لیکن چونکہ پاکستانیوں کی ترسیلات مسلسل کم ہو رہی تھی اس لیے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مزید بڑھ کر منفی ۱۰۸۹ بلین ڈالر ہو گیا ۔

نواز حکومت کے دوران ۹۱ – ۱۹۹۰ء میں تجارتی خسارہ ۴۸ ۲ بلین ڈالر اور ۹۲ – ۱۹۹۱ء ۲ء میں کچھ کم ہو کر ۲۴ ۲۰ بلین ڈالر تھا ۔ ۹۳ – ۱۹۹۲ء کے ابتدائی ۹ماہ (جولائی ۔ مارچ ) کے دوران تجارتی خساره ۲ بلین ڈالر سے کچھ زیادہ تھا اور سال ختم ہونے پر اندازاً ۲۰۹ بلین ڈالر کو جا پہنچا جبکہ بجٹ میں خسارے کا اندازہ ۸۷ – ۱ بلین ڈالر تھا ۔ پاکستانیوں کی ترسیلات کم ہو کر ۹۲ – ۱۹۹۱ء میں ۱۰۴۷ بلین ڈالر رہ گئیں ۔ اگر چہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں جو ۹۱۔۱۹۹۰ ء میں منفی ۲۰۱۷ بلین ڈالر ہو چکا تھا ۹۲ – ۱۹۹۱ء کے دوران کمی ہوئی اور یہ عدد منفی ۱۰۵ بلین ڈالر تک اترا – ۹۳ – ۱۹۹۲ء کے بجٹ میں اس خسارے کا تخمینہ ایک بار پھر بڑھ کر ۲۰۲۱ بلین ڈالر لگایا گیا ۔ اندازہ یہی ہے کہ تجارتی خسارے کی طرح خسارہ بھی ابتدائی تخمینوں سے کافی زیادہ ہو گا ۔

برآمدات میں متعدبہ کمی اور درآمدات میں زیادتی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے  اکنامک سروے (۹۳ – ۱۹۹۲ء ) پھر سیلاب ، عالمی کساد بازاری اور سیاسی ابتری کا رونا روتا ہے ۔ ہم اوپر ان تینوں عوامل کا مختصر جائزہ لے چکے ہیں ۔ جو بات البتہ نہیں بتائی جاتی وہ یہ ہے کہ پیلی ٹیکسیوں کے نام پر کتنی بے تحاشہ درآمدات کی گئیں جن کا منفی اثر تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر پر پڑنا لازمی تھا ۔ اس حوالے سے مکمل تجزیہ ذرا بعد میں پیش کیا جا رہا ہے۔

گراف نمبر ۲

قرض اور ادائیگیاں

 پاکستان اس وقت قرض اور سود کی دلدل میں ناک تک دھنس چکا ہے ۔ بڑھتے ہوئے بجٹ کے خسارے اور تجارتی عدم توازن کی بنا پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا حجم بے تحاشہ بڑھ گیا ہے ۔ اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ قرض کی مد میں اصل اور سود کی ادائیگی ۹۳ – ۱۹۹۲ء میں دفاعی اخراجات کے مقابلے میں بڑھ گئی ۔ اس برس کے آخر تک اندرونی قرضے 4۰۱ بلین روپے سے بھی بڑھ گئے جو مجموعی ملکی پیداوار کا ۲ – ۲۴ فیصد بنتے ہیں ۔ بیرونی قرضہ جات ( زیر تکمیل معاہدات سمیت ) کا اندازہ ۲۸ بلین ڈالر ہے ۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کا تخمینہ (بجٹ ۹۳ – ۱۹۹۲ء ) ۵۳ – ۷۵ بلین روپے ہے ۔ مجموعی قومی پیداوار کا ۶ ۵۰ فیصد۔ جس میں سے وفاق کا حصہ ۲۶ – ۷۲ بلین روپے بنتا  ہے ۔ یاد رہے کہ ۸۶ – ۱۹۸۵ء میں اندرونی قرضہ ۲۰۳ بلین سے کچھ زیادہ تھا جو گزشتہ سات برس میں بڑھ کر تین گنا ہو گیا ۔ اس برس کا اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی۷۳ ء ۱۹ء بلین روپے تھی ۔مجموعی ملکی پیداوار (GDP ) کا ۳۰۸ فیصد تھی ۔

 اندرونی قرضے ۹۰ – ۱۹۸۹ء کے آخر تک ۱۳ء ۳۸۱ بلین روپے تھے جو مسلم لیگ (نواز) حکومت کے دو تین برسوں میں ۶۰۱بلین تک جا پہنچے ۔ اصل قابل توجہ بات یہ ہے کہ اندرونی قرضوں کے حصول میں طریق کار کی تبدیلی یعنی بنک ذرائع پر زیادہ انحصار اور کھلی نیلامی نے حصول قرض کا خرچ کم از کم اڑھائی گنا بڑھا دیا ہے ۔ وہی قرض جو کم بیش ۶ فیصد سود پر ملتا تھا اس پر ۱۵ تا ۱۷ فیصد ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ انتہائی گراں قرض کسی حقیقی پیداواری مقصد کے لیے نہیں بلکہ بیشتر حکومت کے بڑھتے ہوئے جاری اخراجات کے لیے حاصل کیے گئے ۔

 بیرونی قرضوں پر ، جو کنسورشیم ، ورلڈ بنک ، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک جیسے مالیاتی اداروں سے لیے گئے ، اصل زر اور سود کی ادائیگی میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ ۸۶ – ۱۹۸۵ء میں اصل زر میں ۱۳ء ٦٠٣ ملین ڈالر اور سود میں ۰۷۹ ۳۰۲ ملین ڈالر کی ادائیگی ہوئی تھیں ۔ ۹۳ – ۱۹۹۲ء میں اصل رز کی ادائیگی کا تخمینہ ۰۰۷ ۹۶۲ ملین ڈالر اور ۵۵۷۰۳ رقم صرف اس مد سود کا تخمینہ ۰۰۳ ۵۵۷ ملین ڈالر تھا ۔ گویا کل ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائدمیں صرف ہوئی ۔ موجودہ یعنی ۹۴ ۱۹۹۳ء کے بجٹ میں اندرونی قرض کی کل ادا ادائیگی کا تخمینہ ۰۴ ۱۲۱ بلین روپے ہے جس پر سود کی رقم۶بلین روپے بنتی ہے ۔ تقابل کے لیے دیکھتے کہ اندرونی قرضہ پر ادائیگی موجودہ بجٹ کا ۳۶۰۵ فیصد ہے جبکہ دفاع کا خرچ ۲۶۰۸ فیصد اور ترقیاتی پروگرام کا حصہ ۲۲۰۵ کا حصہ ۲۲۰۵ فیصد ہے ۔ ۸۶ – ۱۹۸۵ء میں اندرونی قرض کے لئے بئرر بونڈز  BEARER BONDS ) ) پر انحصار ۲ ۲۰ بلین روپے کی حد تک تھا جو ۱۹۹۹۲ میں پانچ گنا بڑھ کر اندازاً۱۰۰ بلین روپے ہو گیا ۔ سب جانتے ہیں کہ بیئرر کی پشت پر کار فرما اصل تصور کالے دھن کو سفید کرنا تھا۔ کالے دھن کے سامنے یہ اعتراف شکست حد درجہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے لیکن صرف بے روح معاشی نکتہ نظر سے بھی دیکھیں تو اس سکیم نے کالے دھن کو وسعت ہی دی اور معیشت کا بھلا پھر بھی نہ ہوا ۔

قرض کی وصولی اور ادائیگی کو ایک اور انداز سے دیکھیے ۔ ٨٦۔ ۱۹۸۵ء میں جتنا اندرونی قرض لیا گیا اس کا ۲۶ فیصد حصہ پرانے قرض کی ادائیگی میں کھپ گیا ۔ ۹۰ – ۱۹۸۹ء میں یہ حصہ ۴ فیصد ہوا اور ۹۳ – ۱۹۹۲ء میں ۸۰ فیصد تک پہنچ گیا ۔ قرائن بتا رہے کہ یہ صورت حال مزید بگڑے گی اور ایک دو برسوں میں حالت یہ ہوگی کہ جتنا قرض لیا جائے گا نہ صرف وہ سب واپس قرض خواہوں اور ساہو کاروں کو واپس ملے گا بلکہ اپنے پہلے سے بھی بہت کچھ قرق کرانا پڑے گا ۔ حقیقتاً معاملہ اب بھی یہی ہے کہ قرض کی ادا ئیگی لیے گئے قرض سے زیادہ ہوتی ہے اور اس طرح ہر نئے لیے جانے والے قرض کا حجم پہلے سے بڑھ جاتا ہے ۔

سودی نظام پر اصرار کرنے اور معیشت کو قرضوں کے سہارے دھکیلنے والے شاید اب بھی سمجھ نہیں پائے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ و علیہ الہ وسلم سے جنگ لڑنے والے پوری قوم کو کس ہولناک انجام سے دوچار کرانے والے ہیں ۔ اگر وہ جانتے بوجھتے قومی اور بین الاقوامی ساہو کاروں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں تو ہماری آخری مخلصانہ تنبیہ سن لیں کہ قوم ڈوبے گی تو وہ بھی سلامت نہیں رہیں گے کہ رب کا ئنات کا یہی فیصلہ اور انسانی تاریخ کی یہی گواہی ہے ۔

افراط رز

۸۶ – ۱۹۸۵ء میں افراط رز (SPI) ٣ فیصد تھا – ۹۱ – ۱۹۹۰ء میں ۰۵۸ ۱۲ فیصد ، ۹۲۔ ۱۹۹۱ء میں ۲۹ ، ۹ فیصد اور ۹۳ – ۱۹۹۲ء (جولائی تا مارچ )۷۸ ۱۰۰ فیصد تھا ۔ مالی سال ۹۳ – ۱۹۹۲ء کے آخر میں اندازہ ۱۵ فیصد اور نواز حکومت کے خاتمے پر تخمینہ ۲۰ فیصد کا لگایا گیا ہے ۔ ۹۴ – ۱۹۹۳ء کے بجٹ پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے ، جو کئی قومی اخبارات میں شائع ہوا ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے بروقت انتباہ کیا تھا کہ اگر حالات کو قابو میں رکھنے کی تدبیر نہ ہوئی تو بات ۱۰ فیصد کے آس پاس نہیں رہے گی بلکہ جلد ہی ۳۰ فیصد تک پہنچ جائے گی اور معیشت کا ستیاناس ہو جائے گا ۔ اگر مسلم لیگ کی حکومت قائم رہتی اور اس کے لچھن وہی رہتے تو اب تک یہ گمان ایک خوفناک حقیقت کا روپ دھار چکا ہوتا ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »