ArticleIslamIslamic PoliticsMedia Article

پروفیسر نجم الدین اربکان ایک تاریخ ساز شخصیت

موت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سب کے ساتھ یکساں معاملہ کرتی ہے اور بڑے اور چھوٹے، امیر وغریب، عالم اور عامی، حکمران اور محکوم، سب کو برابر کر دیتی ہے۔ اس حقیقت کو انگریزی محاورے death, the great leveler   کے مختصر جملے میں بیان کیا گیا ہے لیکن اس کلیے میں ایک دوسری حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ موت وہ حقیقت بھی ہے جو جہاں سب کو زمین کی آغوش میں ہمیشہ کی نیند سلا دیتی ہے، وہیں کچھ نفوس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو موت ہی زندہ جاوید بنا دیتی ہے — جن کی یاد حرز جاں بن جاتی ہے اور جن کے جلائے ہوئے چراغ روشنی کے مینار بن کر تاریکیوں کو مسلسل چھانٹنے اور فضا کو منور کرنے کا کام انجام دیتے ہیں، جو ہمارے درمیان سے اُٹھ کر بھی ہم سے دور نہیں ہوتے  ؎

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں کبھی آتے ہیں مرنے کے لیے

۲۷ فروری ۲۰۱۱ء کو عالم اسلام کی ایک ایسی ہی تاریخ ساز شخصیت اور ترکی میں اسلامی احیا کی جدید انقلابی تحریک کا میر کارواں پروفیسر نجم الدین اربکان بظاہر ہم سے رخصت ہو گیا، لیکن ترکی ہی نہیں، عالم اسلام میں روشنی کے ایسے چراغ جلا گیا جو تاریخ کی تاریک راہوں کو مدتوں منور رکھیں گے!  —ان شاء اللہ تعالیٰ!

• نظریاتی کش مکش: ۲۰ ویں صدی میں ترکی کی تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑنے والوں میں چار شخصیات نمایاں ہیں: سلطان عبد الحمید ثانی جو دولت عثمانیہ کا آخری چراغ تھا اور اپنی ۳۳ سالہ جد وجہد (۱۸۷۶ ۱۹۰۹ ء) کے باوجود چھے صدیوں پر پھیلی ہوئی اس عالمی اسلامی قوت کو اندرونی انتشار اور بیرونی یلغار سے نہ بچا سکا۔ پھر ترکی کے افق پر مصطفی کمال پاشا نمودار ہوا جس نے اپنی جدو جہد کا آغاز تو اسلام کے اس آخری حصار کو بچانے اور یورپ کی استعماری قوتوں کی فوج کشی کا مقابلہ کرنے سے کیا اور عالم اسلام نے اسے ایک نجات دہندہ سمجھ کر غازی اور اتاترک کا خطاب دیا، لیکن فوجی محاذ پر یورپی اقوام کے دانت کھٹے کرنے اور ترک قوم اور اناطولیہ کی سرزمین کو استعمار کی گرفت سے بچالینے کے بعد مغربی تہذیب وتمدن اور مغرب کے اندازہ سیاست کا ایسا امیر بنا کہ دین اور سیاست کے رشتے کو پارہ پارہ کر دیا۔ ترک قومیت کو اسلامی شناخت پر غالب کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۲۳ ء میں ترک ری پبلک کے قیام کا اعلان کیا اور ۱۹۲۴ء میں خلافت کی قبا کو بھی تار تار کر دیا، اور پھر ۱۹۲۷ء میں ترکی کو ایک لادینی ریاست بنانے اور مذہب کو اجتماعی زندگی کے ہر شعبے سے خارج کرنے حتی کہ قرآن پاک اور اذان کو بھی ترکی زبان کے سانچے میں ڈھالنے کی جسارت کی۔ عربی رسم الخط کو خلاف قانون قرار دیا اور مغربی قوانین، علوم و افکاراور معیشت، سیاست تعلیم ، ادب اور معاشرت کے ہر میدان میں مغرب کی نقالی کا راستہ اختیار کیا۔ جمہوریت کا لبادہ ضرور اوڑھا مگر فی الحقیقت ایک پارٹی اور ایک شخص کی آمریت قائم کی اور یہ سلسلہ ۱۹۳۸ ء تک جاری رہا۔

مصطفی کمال کے انتقال کے بعد بھی نظام زندگی انھی خطوط پر چلتا رہا، البتہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عوام کو کچھ جمہوری آزادیاں ملیں۔ سیاست میں اتا ترک کی ری پبلکن پارٹی ہی کے بطن سے ڈیموکریٹک پارٹی نے جنم لیا اور عدنان میندریس کی قیادت میں دو پارٹی نظام اور دستوری حکومت کا ایک گونہ آغاز ہوا جس کے نتیجے میں عوام کو اپنے دینی اور تہذیبی جذبات کے اظہار کا کچھ موقع ملا۔ دینی شعائر پر جو پابندیاں تھیں وہ کم ہوئیں، اذان عربی زبان میں بحال ہوئی، قرآن اور دینی کتب سے رجوع بڑھا، دینی مدارس کا احیا امام خطیب اسکول کی شکل میں ہوا، اور اس طرح ترکی نے اپنی اصل شناخت کی طرف مراجعت کے سفر نو کا آغاز کیا۔ سیکولر نظام میں دراڑیں پڑنے لگیں اور اسے خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے ملک کی سیکولر قوتوں نے، جن کے چار ستون فوج، بیوروکریسی، عدالت اور میڈیا تھے، مغربی اقوام کی مدد سے ترکی کی خود اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کے خلاف ایک نئی کش مکش اور تصادم کو فروغ دیا جس نے قوم کی صلاحیتوں کو بڑا نقصان پہنچایا۔ عدنان میندریس کو پھانسی دی گئی اور ۱۹۶۰ ء سے فوجی انقلابات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس کا آخری مظہر فروری ۱۹۹۷ ء کی فوجی مداخلت تھی۔

۲۴- ۱۹۲۳ء سے ۱۹۹۷ء تک کے نظریاتی کش مکش کے اس دور میں عدنان میندریس کے چند سالہ شعلے کے علاوہ جن دو شخصیات نے تاریخ کے رُخ کو موڑنے کا کام کیا ان میں سب سے نمایاں بدیع الزماں سعید نورسی (۱۸۷۶ء ۱۹۶۰ء) اور نجم الدین اربکان (۱۹۲۶ء – ۲۰۱۱ء) ہیں۔ سعید نورسی نے شروع میں اتا ترک کا ساتھ دیا لیکن جب اس نے سیکولرزم اور مغرب کی تقلید کا راستہ اختیار کیا، قومیت کے سیکولر تصور کو قوت کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کی، اور اسلام کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرنے کا ایجنڈا شروع کیا، تو سعید نورسی نے اسے چیلنج کیا اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں لیکن اسلام کی بنیادی دعوت اور پیغام کو زندہ رکھا اور تصوف کے سلسلہ نقشبندی کے فروغ، دینی مدارس کے قیام اور اپنے خطوط اور تحریروں کے ذریعے اسلام کی شمع کو روشن اور عام آبادی کو دین سے وابستہ رکھنے کی خدمت انجام دی۔

• اربکان کا مشن: نجم الدین اربکان نے ان دعوتی اور روحانی کوششوں کو اپنے انداز میں مضبوط اور مستحکم کرنے کے ساتھ دین کے اجتماعی زندگی میں کردار کے احیا کو اپنا مشن بنایا، اور نہایت مشکل حالات میں بڑی حکمت ودانش مندی اور صبر واستقامت کے ساتھ ترکی کو اس کی دینی اور تہذیبی شناخت کے احیا اور اُمت مسلمہ سے ایک بار پھر جڑ کر طاقت کی نئی قوت کے حصول کے راستے پر ڈالا۔ اس کے ساتھ انھوں نے ترکی کو مغرب کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی غلامی سے نکال کر خود انحصاری اور ملت اسلامیہ سے دوبارہ جڑنے اور مربوط ہونے کے نئے تاریخی سفر کا آغاز کیا۔

علامہ اقبال نے مصطفی کمال پاشا کے لادینی نظام کے تجربے کے بارے میں جو گلہ کیا تھا، نجم الدین اربکان نے اپنی ۴ سالہ جدو جہد سے تاریخ کے رُخ کو موڑنے کا انقلابی کارنامہ انجام دیا۔ اقبال نے ترکی کے انقلاب معکوس کے بارے میں کہا تھا  ؎

نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی

کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

اور یہ کہ ؎

لادینی ولاطینی، کس بیچ میں اُلجھا تو

دارو ہے ضعیفوں کا، لا غَالِبَ إِلَّا هُو

اللہ تعالی نے جس شخص کو روح شرق کو ایک بار پھر جسید ترکی میں بیدار کرنے کی سعادت بخشی، وہ پروفیسر نجم الدین اربکان ہیں۔

نجم الدین اربکان ۲۹ اکتوبر۱۹۲۶ء کو بحر اسود کے ساحل پر واقع ایک پرفضا شہر سینوپ (Sinop) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محمد صابری دولت عثمانیہ میں حج کے عہدے پر فائز تھے۔ ابتدائی تعلیم طرابزون (Trabzon) میں اور ہائی اسکول کی تعلیم استنبول کے جدید طرز کے مدرسے Istanbul Lisrei میں ہوئی۔ پھر استنبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں میکنیکل انجینیرنگ میں امتیاز کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی جس کی تکمیل جرمنی کی RWTH Aachen University میں ہوئی جہاں سے انھوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ نیز عملی تجربہ حاصل کرنے کے لیے جرمنی کی ایک بڑی موٹر کمپنی Humbolt Dentz میں کئی سال کام کیا اور اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔ ڈیزل انجن ڈیزائن کے میدان میں نئی دریافت سامنے لائے، اور اُس ٹیم کے چیف انجینیر کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں جس نے جرمنی کے مشہور Leopard IA Tank کو ڈیزائن کیا۔ اس اعلیٰ تعلیمی اور تجرباتی ریکارڈ کے ساتھ ترکی واپس آکر استنبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں ۱۹۵۳ سے ۱۹۶۵ ء تک تدریس کے فرائض انجام دیے اور پروفیسر کے درجے پر مامور رہے۔ اس زمانے میں ترکی میں موٹر انڈسٹری کے فروغ کے لیے بھی سرگرم رہے، اہم صنعتی اداروں میں بحیثیت مشیر کام کیا اور بالآخر ترکی کی صنعت وتجارت کے اعلیٰ ترین ادارے یونین آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جنرل سیکرٹری اور ڈائرکٹر جنرل کی ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ اس زمانے میں انھیں ملک کے بااثر معاشی اداروں سے قریبی تعلقات استوار کرنے کا موقع ملا اور ان عالمی ترجمان القرآن، مئی ۲۰۱۱ء کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ سے خائف ہو کر ان کے ایک سابق کلاس فیلو اور برسر اقتدار حکمران سلیمان ڈیمرل نے چیمبر سے ان کو فارغ کر دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جب نجم الدین اربکان نے عملی سیاست میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

• ملی گورش کا قیام: ۱۹۶۹ء میں انھوں نے دو بڑے اہم فیصلے کیے۔ اسلام کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں فرد اور معاشرے کی تشکیل نو کے لیے نوجوانوں کی ایک منظم تحریک کا قیام جسے ملتی گورش کا نام دیا گیا۔ اس موقع پر اسی نام سے اربکان نے اپنی پہلی تحریر قوم کے سامنے پیش کی جوان کا منشور بن گئی۔ ترکی کی اسلامی تحریک کا منبع اور محور نو جوانوں کی یہی تنظیم ہے۔ چونکہ ترکی قانون کی رُو سے اسلام کا نام استعمال نہیں ہو سکتا، اس لیے اربکان نے ملت کی اصلاح کو اپنے سارے اجتماعی اور دعوتی کام اور نظام حق کو اپنے فکری کام کا ذریعہ بنایا ہے۔ ملتی کورش اس وقت ترکی کے جوانوں کی اہم ترین تنظیم ہے جس کا سارا زور فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے اور اخلاقی، روحانی اور اجتماعی تربیت کے اہتمام اور نوجوانوں میں دعوت اور روحِ جہاد کو منظم انداز میں ترقی دینے پر ہے۔ اس سلسلے میں ملی کورش نہ صرف ترکی کے طول وعرض میں بلکہ جرمنی اور دیگر ایسے تمام ممالک میں بھی (جہاں جہاں ترک موجود ہیں) نوجوانوں کی سرگرمیوں کو منظم کرتی ہے۔ مزید برآں استنبول کے اسلامی قلمرو میں آنے کی مناسبت سے ہر سال ۲۹ مئی کو یوم فاتح کے عنوان سے ایک سالانہ تقریب کا اہتمام کرتی ہے جس میں ترکی سے لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں اور عالم اسلام سے بھی اہم اسلامی شخصیات اس میں شرکت کرتی ہیں۔ محترم قاضی حسین احمد اور مجھے اس میں کئی بار شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ان تاریخی اجتماعات میں پورا اسٹیڈیم لوگوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا، اربکان اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ پورے اسٹیڈیم کا چکر لگاتے اور ان کا استقبال مجاہد اربکان کے فلک شگاف نعروں سے ہوتا تھا۔ اربکان نے اس کے ساتھ خدمت خلق کے دو اہم ادارے قائم کیے: جان سویو اور آئی ایچ ایچ، جن کے ذریعے ترکی اور پوری دنیا میں خدمت خلق کا ایک عالمی نیٹ ورک قائم کیا۔ نظریاتی سیاست اور جدو جہد ریکان نے ترکی پارلیمنٹ کے ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۶۹ء کے انتخابات میں بطور آزاد رکن حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ یہاں سے اسلام کی بنیاد پر نظریاتی سیاست اور اجتماعی تبدیلی کی جدو جہد کا آغاز ہوا۔ ایک سال پارلیمنٹ میں اپنا لوہا منوانے کے بعد دمتی نظام پارٹی کے نام سے پہلی نظریاتی پارٹی قائم کی، جس کے وہ سر براہ تھے۔ اس کے قیام کے ساتھ ہی سیکولر نظام اقتدار اور مغربی اقوام میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ فوج حرکت میں آگئی۔ ملتی نظام پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا لیکن نجم الدین اربکان نے سیکولرزم کے ہوار کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ چار بار ان کی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا گیا اور ہر بار وہ نئے روپ میں اور زیادہ طاقت ور حیثیت سے نمودار ہوئے۔ ایک موقع پر جمہوریت کے مسلّمہ اصول جماعت سازی کے حق کی بنیاد پر ترکی کے عدالتی نظام کا پول کھولنے کے بعد جمہوریت کی علم بردار یورپین عدالت میں بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مقدمہ لڑا۔ اس طرح ساری دنیا کے سامنے اس کا دوغلا پن الم نشرح کر دیا کہ جمہوری یورپ کو اسلام کے نام کے بغیر بھی اسلامی شناخت کو اُجاگر کرنے والی سیاسی جماعت پر پابندی میں کوئی چیز جمہوریت اور انسانی اور سیاسی حقوق کے خلاف نظر نہیں آتی، اور اس نے بھی پوری ڈھٹائی سے ترکی کی عدالت کے فیصلے کی توثیق کردی۔ اربکان نے ملی نظام پارٹی کے بعد نام بدل بدل کر یکے بعد دیگرے ملی سلامت پارٹی، رفاہ پارٹی، سعادت پارٹی اور فضیلت پارٹی کے نام سے سیکولر قوتوں اور فوجی قیادت کے ہر وار کے بعد نئی جماعت قائم کی، اور اس طرح مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے ترکی کی سیاسی فضا کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کا حال یہ رہا کہ ۔

جہاں میں اہلِ ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے ادھر نکلے

اللہ اپنے جس بندے سے جو کام لینا چاہتا ہے، لے لیتا ہے۔ نجم الدین اربکان ترکی کی تاریخ کا رُخ ایک بار پھر اسلام اور اُمت مسلمہ کی طرف موڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ وہ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۹۷ ء تک (ماسوا اُن ادوار کے، جب وہ قید میں تھے یا ان پر سیاست میں شرکت کرنے پر پابندی تھی) پارلیمنٹ کے رکن اور ایک اہم سیاسی پارٹی کے قائد رہے۔ دو بار نائب وزیر اعظم اور ایک بار وزیر اعظم رہے۔ آخری ۱۰، ۱۲ سال ان پر بہت سخت گزرے لیکن وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھے۔ مخالفین کے وار تو وہ ہمیشہ سہتے ہی رہے لیکن اس دور میں ان کو اپنوں سے بھی دُکھ پہنچے۔ اس کے باوجود ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ اکیسویں صدی میں ترکی کے کردار پر جس شخص کا سب سے نمایاں اثر ہے، اور رہے گا وہ نجم الدین اربکان ہیں۔ ان کی بعض آرا یا اقدام کے بارے میں دورا ئمیں ہو سکتی ہیں لیکن ان کے تاریخ ساز کارناموں کا اعتراف دوست اور دشمن بھی کر رہے ہیں اور مستقبل کا مؤرخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ اربکان کی ۴۰ سالہ نظریاتی، اخلاقی اور سیاسی جدو جہد نے ترکی کے سیاسی اور تہذیبیں سفر کے رُخ کو تبدیل کر دیا ہے۔

نجم الدین اربکان سے میرے تعلقات کی داستان بھی نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہماری پہلی ملاقات کراچی میں اس وقت ہوئی جب ۱۹۶۷ ء میں وہ ترکی کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے تھے۔ وہ بڑے اشتیاق سے اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے دفتر، واقع ناظم آباد میں تشریف لائے۔ پھر ہماری ملاقاتیں اسلامک کونسل آف یورپ کے اجتماعات میں بڑی باقاعدگی اور تسلسل سے ہوتی رہیں۔ میں نے ۱۹۶۶ء سے ۲۰۰۷ ء تک ۱۰، ۱۵ مرتبہ ترکی کا دورہ کیا اور ہر بار ان سے ملنے کا موقع ملا حتی کہ جب وہ نظر بند تھے اس وقت بھی مجھے ان سے ملنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۹۰ء کی جنگ خلیج کے موقع پر ، عالمی تحریکات کے وفد میں وہ ہمارے ساتھ تھے۔ اس وفد میں شامل محترم قاضی حسین احمد، ڈاکٹر حسن ترابی، راشد الغنوشی اور دنیا کی اسلامی تحریکات کے ۱۵ قائدین نے اردن، عراق، سعودی عرب اور ایران کا دورہ کیا تھا، تا کہ عرب دنیا کو اس تباہ کن جنگ سے بچایا جاسکے جس کے بادل منڈلا رہے تھے اور جو استعماری ایجنڈے کا اہم حصہ تھی۔ اربکان صاحب نے جماعت اسلامی کی دعوت پر پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ میری آخری ملاقات ان سے ۲۰۰۷ء میں ہوئی جب انھی کی دعوت پر ان کی رہنمائی میں کام کرنے والے تحقیقی ادارے Essam کی سالانہ کا نفرنس میں میں نے کلیدی خطاب کی خدمت انجام دی تھی۔

پروفیسر نجم الدین اربکان کے بارے میں اپنے ذاتی تجربے، اور حالات کے بہ چشم سر مطالعہ کرنے کے بعد جو چند باتیں میں اس موقع پر کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہیں:

• مغرب کی تھذیبی غلامی سے نجات: سب سے اہم چیز پروفیسر نجم الدین اربکان کا وژن ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ وہ ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ انھیں اچھے خاندان، اچھی تعلیم وتربیت اور اچھے ابتدائی تجربات کی نعمت حاصل تھی لیکن سب سے اہم چیز ان کا یہ احساس تھا کہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ترکی اور عالم اسلام کو مغرب کی تہذیبی غلامی سے نکال کر ایک بار پھر اسلام کی شاہراہ پر گامزن کرنا ہے، اور یہ کام اجتہادی بصیرت کے ساتھ ان حالات کے پورے ادراک کے ساتھ انجام دیتا ہے جن میں اس وقت ترکی اور پورا عالم اسلام گھر ا ہوا ہے۔

ان کی زندگی کا پہلا دور اپنی اور اپنے ساتھیوں کی تیاری کا تھا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ وہ دین کا علم بھی رکھتے تھے۔ روحانی اور اخلاقی اعتبار سے انھوں نے اپنے کو اس طرح تیار کر لیا تھا کہ مستقبل کے چیلنج کا مقابلہ کر سکتے تھے، جیسا کہ اقبال نے کہا تھا ؎

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

نقشبندی سلسلے سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ عبادات میں شغف اور تواضع اور خدمت ان کی شخصیت کے دل ربا پہلو تھے ۔ بلاشبہ انھیں اپنی رائے پر بہت بھروسا ہوتا تھا لیکن خوش اخلاقی اور دوسروں کے ساتھ شفقت ان کے کردار کے نمایاں پہلو تھے۔ ان کے فکری کام کا ترکی سے باہر کے علمی حلقوں کو اندازہ نہیں لیکن اس میدان میں بھی ان کی اپنی خدمات کسی سے کم نہیں۔ خود ایک درجن کتابوں کے مصنف تھے اور درجنوں افراد کو تحقیق اور علمی کاموں پر لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میکنیکل انجیر جنگ کے فطری اور عملی دونوں پہلوؤں پر ان کو مکمل عبور تھا، اور بات گہری سوچ اور عملی تجربات کی روشنی میں کرتے تھے۔

• سیکولر نظام میں تبدیلی کی حکمت عملی: ان کا ایک اور بڑا کارنامہ ایک استبدادی سیکو نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے تبدیلی کی راہیں استوار کرنا ہے۔ انھوں نے تبدیلی کے لیے فکری، دعوتی، اخلاقی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ چونکہ اسلام کے نام پر کام مشکل تھا، اس لیے انھوں نے ایک طرف تو ممکنہ حد تک اسلامی علوم اور افکار کی اشاعت کا اہتمام کیا، اور دوسری طرف دعوت اسلامی کو دونئی اصطلاحات اور عنوانات ممت اور حق کے تحت اسلام ہی کی خالص دعوت کو پیش کیا۔ اس طرح ان زنجیروں کو کاٹ دیا جو سیکولر قوانین نے ترک قوم کو پہنا دی تھی۔

انھوں نے سیاسی اور نظریاتی تنظیم کا بھی ایک نیا اسلوب اختیار کیا۔ ملتی گورش کو ایک فکری، نظریاتی اور تہذیبیں تحریک کے طور پر منتظم اور متحرک کیا۔ خدمت کے میدان میں الگ ادارے بنائے، اور خود سیاسی جماعت کے تصور کو بدل کر رکھ دیا جس میں نظریاتی سیاست اور عوامی خدمت اور فلاح کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ طاقت ور اور مفاد پرست طبقوں کے طلسم کو عوامی رابطے، خدمت خلق اور معاشرے اور معیشت کی نئی ابھرتی ہوئی قوتوں کو منظم کرنے اور اپنی جد وجہد میں اپنا دست وباز وبنا کر توڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تنظیم کی بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا، اور انھوں نے ان کا بھر پور استعمال کیا۔ روایت پرستی کی جگہ جدت اور سیاست کو ایک نیا آہنگ دیا جس میں عوامی مسائل کو مرکزیت دی گئی۔ مقامی حکومتوں لوکل باڈین) کو انھوں نے اپنی سیاسی قوت کی بنیاد بنایا۔ انقرہ اور ازمیر کے روایتی مراکز قوت (power-centres) کے مقابلے میں استنبول جیسے بڑے شہر اور پھر ملک بھر کے شہروں اور قصبات میں اپنی تنظیم کے تنظیمی ڈھانچے قائم کیے۔ بورسا کا تاریخی علاقہ ان کی قوت کا بڑا مرکز بن گیا۔ ۱۹۶۹ء میں صرف ایک نشست پارلیمنٹ میں لینے والے مجاہد نے ۱۹۷۳ء میں ملک کے کل ووٹوں کا ۱۲ فی صد حاصل کر کے اسمبلی میں ۴۸ نشستیں حاصل کیں۔ ۱۹۸۵ء میں ووٹوں کی تائید گر کرے فی صد رہ گئی لیکن پھر ۱۹۹۵ء میں ۲۱ فی صد ووٹوں کی بنیاد پر اتنی نمایندگی پارلیمنٹ میں حاصل کر لی کہ ایک دوسری جماعت سے اشتراک کی بنیاد پروزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو سکے ۔ آج کی جسٹس اینڈ ڈائیلاگ پارٹی خواہ ان سے جدا ہو چکی ہے مگر جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے، وہ اسی درخت کا پھل ہے جو پروفیسر نجم الدین اربکان نے لگایا تھا۔

بلا تمثیل یورپ کی تاریخ کا ایک دور ذہن کے اُفق پر ابھر رہا ہے جس میں کارل مارکس نے اشتراکیت کا فلسفہ بڑی قوت کے ساتھ پیش کیا اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ عالمی کمیونسٹ تحریک کا بانی بنا اور عالمی انقلاب کی پیش گوئیاں کیں لیکن ۳۰ سال کی جدو جہد کے بعد اس کی تحریک ایک فکری لنگر کی طرح تو موجود رہی مگر یورپ کی سیاست میں ارتعاش پیدا نہ کرسکا۔ البتہ اس کی خواہش کے علی الرغم خود اس کی ہی فکر کے بطن سے جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی وجود میں آئی، اور مغربی یورپ میں سوشل ڈیموکریسی کی سیاسی لہر اُبھرتی چلی گئی جس نے مارکس کے افکار سے اپنا رشتہ تو باقی رکھا مگر تبدیلی کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ مارکس نے اس سے براءت کا اظہار کیا اور اپنی آخری تحریر Critique of the Gotha (1883) Programme میں اس پر کڑی تنقید کی، البتہ سوشل ڈیموکریٹس کا رد عمل کچھ یوں تھا ؎

اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

کیا اسیری تھی، کیا رہائی ہے

ترکی کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں میں بھی وہی تمام خصوصیات تھیں جو خصوصیت سے ترقی پذیر ممالک کی سیاست کی پہچان بن گئی ہیں، یعنی با اثر طبقات کا تسلط، میڈیا، فوج اور بیور کریسی کا کلیدی کردار، مغربی اقوام کی کاسہ لیسی اور ان ملکی اشرافیہ اور مغربی حکمرانوں کا گٹھ جوڑ، نیز عوام کا استعمال اور استحصال ۔ نجم الدین اربکان نے متوسط طبقات کو زبان اور سیاسی کردار دیا۔ یہ انھی کی سوچ اور مساعی کا حاصل ہے کہ متوسط اور چھوٹے تاجر اور زراعت سے متعلق افراد متحرک ہوئے اور سیاسی مرکزی دھارے میں آگئے۔ ان کی تاریخی خدمات میں دینی شناخت کو تر کی قوم کی شناخت کی حیثیت سے اُبھارنا اور مغرب سے اچھے تعلقات کو نظر انداز نہ کرتے ہوئے بھی شعوری طور پر علاقائی ممالک اور عرب اور اسلامی دنیا سے تعلقات کو استوار کرنا اور اجتماعی مفادات کے نئے رشتوں کو استوار کرنا، سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید اور مغرب کی معاشی اور سیاسی بالا دستی کے چنگل سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنا نمایاں ہیں۔ قومی مفاد پر کسی سمجھوتے کو راہ نہ پانے دینا، عوام سے رابطہ اور ان کی حکومت کو سیاسی جدو جہد کا حصہ بنانا، اور اس کے ساتھ اسلام کو زندگی کی صورت گری کرنے والی ایک قوت کی حیثیت سے پیش کرنا، اور یہ بتانا کہ جس طرح نماز اور روزہ اسلامی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اسی طرح اجتماعی عدل، سماجی تعلقات اور کرپشن سے پاک سیاست بھی اسلام کا تقاضا ہے۔ سود ایک لعنت ہے، اس سے نجات اخلاقی ہی نہیں ایک معاشی ضرورت بھی ہے۔ مغربی سامراج اور صہیونی ایجنڈے کا مقابلہ کرنا بھی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔ یہ سب باتیں وہ ہیں جو ترکی کی سیاسی قیادت بھول چکی تھی اور قوم کا ایجنڈا مغربی تصورات اور مفادات کی روشنی میں بنایا جا رہا تھا۔ یہ اربکان ہی کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ سیاست کا انداز اور قوم کا ایجنڈا تبدیل ہو گیا ہے۔ گویا، ب بھی مخالف قوتیں بڑی مضبوط اور شکست ماننے کو تیار نہیں، لیکن رنگ محفل بدل گیا ہے۔ نجم الدین اربکان کا یہ بھی ایک کارنامہ ہے جس کا باہر کی دنیا میں لوگوں کو پوری طرح شعور نہیں ہے کہ تین میدانوں میں انھوں نے اپنی قوم کی ایسی خدمت انجام دی ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا:

• سیاست کانیا آهنگ: سیاست کو مفادات کی سیاست سے کاٹ کر قوم کے عزائم کے مطابق ڈھالنے اور اسے اصولی اور معاشی ومعاشرتی موضوعات کے گرد سر گرم کرنا، ان کا نمایاں کارنامہ ہے۔ فوج سے ٹکر لیے بغیر، اور فوج کی تمام دراندازیوں اور زیادتیوں کے باوجود، اور اس کی حقیقی دفاعی قوت کو کم کیے بغیر، سیاست میں اس کی مداخلت کے دروازے بند کرنے کی بڑی حکمت سے کوشش کی۔ جب حالات زیادہ خراب ہوتے دیکھے تو تصادم اور غیر جمہوری حربوں کے استعمال کو سختی سے روکا اور جمہوی اور سیاسی ذرائع ہی کے ذریعے نئی نئی راہیں تلاش کیں، اور وہ کر دکھایا جس کی طرف مولانا مودودیؒ نے ۱۹۶۳ء کے جماعت اسلامی کے اجتماع عام کے موقع پر توجہ دلائی تھی: “جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت اور صبر دونوں سے نوازا ہو، وہ جوے رواں کی طرح ہوتا ہے جس کی منزل کوئی چیز بھی کھوئی نہیں کر سکتی۔ چٹانیں منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں اور دریا کسی اور طرف سے اپنی منزل کی طرف بہہ نکلتا ہے”۔ (روداد جماعت اسلامی، هشتم، ص ۵۵)

سیاست کے آہنگ کو بدلنا کوئی معمولی کارنامہ نہ تھا۔ ان کے مخالف بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ ترکی اب وہ نہیں رہا جو اربکان کے سیاست میں آنے سے پہلے تھا۔ امریکا کے با اثر علمی مجلتے فارن پالیسی نے اربکان کے انتقال پر جو نوٹ لکھا ہے اس میں اپنی تمام اگر مگر کے باوجود وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے کہ:

ترکی اربکان کے سیاسی ورثے کی وجہ سے اور اس کے باوجود ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ بلاشیمہ ترکی کی موجودہ سیاسی کیفیت، اربکان نے ترکی کے سیاسی نظام میں جو کچھ کیا، اس کا بلاواسطہ یا بہت سی صورتوں میں غیر ارادی نتیجہ ہے۔ (فارن پالیسی آن لائن، یکم مارچ ۲۰۱۱ء)

اسی مضمون میں آگے چل کر اعتراف کیا گیا ہے:

آج ترکی جو کچھ ہے اس (اریکان) کے بغیر ہونا ممکن نہ تھا۔ ترکی اس کے چھوڑے ہوئے ورثوں کی وجہ سے زیادہ جمہوری اور زیادہ منقسم ہے۔ انھوں نے عوامی ضروریات کو اپیل کرنے اور سماجی تعاون کے حصول کے لیے جو کچھ سکھا یا، ترکی کے قائدین اس کے لیے ان کے احسان مند ہیں۔ سیاسی شراکت اور مخالفوں کے ساتھ اشتراک عمل کے ان کے طے شدہ طرز نے بھی ان اُمیدوں کو قائم کیا کہ ترکی کے سیاسی نظام میں اسلام کو تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔ (ایضاً)

اور اکانومسٹ، لندن یہ لکھنے پر مجبور ہوا ہے کہ:

ان کے سیکولر دشمن ان کو ایک مخطر ناک مذہبی انقلابی قرار دیتے ہیں، جب کہ انھیں ترکی کے اسلام پسندوں کے لیے ایک معتدل قوت کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ عرب دنیا ترکی کو ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے۔ اربکان کے ورثے کو اب اہمیت حاصل ہے۔ )دی اکانومسٹ، ۳ مارچ ۲۰۱۱ء(

ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ وہی فوج جس نے ہر بار اربکان کا راستہ روکا اور انھیں قید اور نا اہلی کی صعوبتوں سے دو چار کیا، اس کا سربراہ جنرل ایک کو سانور (Isik Kosaner) ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے الفاظ میں: “انھوں نے ہمارے ملک کے لیے سائنس اور سیاست کے میدان میں ایک قیمتی انسان کی طرح عظیم خدمات انجام دیں” ۔ (یکم مارچ ۲۰۱۱ء(

کسی نے سچ کیا جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے!

• قبرص میں فوجی مداخلت پر مزاحمت: اربکان کے ایک اور کارنامے کا اعتراف کھلے طور پر نہیں کیا جارہا ۱۹۷۴ ء میں وہ نائب وزیر اعظم اور بلند ایجوت وزیراعظم تھے۔ یونان کی فوجی مداخلت کے ذریعے قبرص میں فوجی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اربکان ترکی کی طرف سے فوجی کارروائی کے حق میں تھے مگر ایجوت فوج بھیجنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ جب اربکان نے کابینہ میں اور کابینہ سے باہر بھی، قبرص پر فوج کشی نہ کرنے کی صورت میں حکومت چھوڑنے کی دھمکی دی، جب ترک فوج کو قبرص کے ترک مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھیجنے کا اقدام ہوا ۔ اس طرح اربکان کے تدبر وجرات اور بروقت اقدام کے نتیجے میں قبرص یونانی کالونی بننے سے بچ گیا، اور ترک قبرص وجود میں آیا۔

• معاشی خود انحصاری: اربکان کا تیسرا بڑا کارنامہ ترکی کو یورپ کی معیشت کی گرفت سے نکال کر خود انحصاری کے راستے پر ڈالنا ہے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے میں جب پانچ چھے سال وہ نائب وزیر اعظم رہے، اس زمانے کا ایک عظیم کارنامہ ترکی میں ہیوی انڈسٹری کا قیام اور استحکام ہے۔ نیز ترکی میں انقرہ اور ازمیر کے سرمایہ داروں کا جو تسلط تھا، اس کو توڑنے اور ترکی کے دوسرے علاقوں کے اُبھرتے ہوئے تجارتی اور نئے گروپوں کو معیشت کے مرکزی دھارے میں لانا ہے۔ یہ اسی معاشی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج ترکی معاشی اعتبار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہورہا ہے۔

ترکی میں اسلامی نظام بنکاری کو رائج کرنے میں بھی اربکان کا بڑا کردار ہے۔ یہ انھی کا دیا ہوا ماڈل تھا جس کے نتیجے میں سیکولر ملک ہوتے ہوئے بھی بلاسود بنکاری کو قانونی تحفظ اور مواقع حاصل ہوئے۔ ترکی کا افراط زر جو ایک زمانے میں ۱۷۰۰ اور ۸۰۰ فی صد سالانہ تھا، اب ۱۵ اور ۶ فی صد کے دائرے میں آگیا ہے۔ قرضوں کا بار اب بھی کافی ہے مگر اب معاشی پالیسی بیرونی احکام اور مطالبات کی روشنی میں نہیں، بڑی حد تک ملک کے اپنے حالات اور ترجیحات کے مطابق ترتیب پاتی ہے۔ معاشی زندگی اور جدو جہد کا رُخ بدل گیا ہے اور ان تمام تبدیلیوں میں ترکی قوم کی مساعی کے ساتھ ان کو صحیح رُخ کی طرف رہنمائی کرنے والے اربکان کے افکار اور سیاسی اور معاشی پالیسی کے میدان میں کردار کا بڑا دخل ہے۔ ترکی ان ۵۰ سال میں تبدیلی کے راستے پر گامزن ہو گیا ہے۔ اریکان نے8D-، یعنی ترقی پذیر آٹھ ملکوں کے اتحاد کا جو خواب دیکھا تھا اور جس کے لیے عملی اقدام کا آغاز کر دیا تھا۔ خدا کرے ترکی اس سلسلے میں خود آگے بڑھے اور عالم اسلام اور خود ترکی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائے، جن کی اربکان نے نشان دہی کی تھی۔ ۲۰۰۷ء میں، آخری ملاقات کے موقع پر 8-D کے منصوبے پر مشتمل کتاب مجھے اپنے دستخطوں سے دیتے وقت جو بات انھوں نے کہی تھی، میں اسے نہیں بھول سکتا۔ کتاب کی ایک مرکزی تصویر پر انگلی رکھ کر انھوں نے کہا: 8 D-کے پہلے اجلاس میں جن آٹھ مسلمان حکمرانوں نے شرکت کی تھی، ذرا غور سے دیکھو ان میں سے کوئی بھی آج منصب اقتدار پر نہیں۔ کیا اب بھی ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز نہیں کریں گے؟

انجینیر استاد، مربی، قائد اور مجاہد نجم الدین اربکان کا سفر آخرت بھی ایک انفرادی شان رکھتا ہے۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ دولت عثمانیہ اور خلافت کے خاتمے کے بعد کسی سیاسی قائد کے جنازے میں عوام کی ایسی شرکت نہیں دیکھی گئی جیسی پروفیسر اربکان کے جنازے میں تھی۔ استنبول کی ہزار مساجد نے جنازہ میں شرکت کا اعلان کیا اور سلطان فاتح مسجد میں اس مجاہد کی نمازہ جنازہ میں ۳۰لاکھ افراد نے شرکت کی۔ صدر مملکت، وزیر اعظم، گرانڈ اسمبلی کا اسپیکر، تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کے قائد، دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کے نمایندے، شمالی قبرص کی حکومت کے صدر اور وزیر اعظم، حتی که ترک افواج کی قیادت، سب نے شرکت کی اور اربکان کی اس خواہش کے احترام میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ ان کا جنازہ معروف اسلامی روایات کے ساتھ اُٹھایا جائے اور سابق وزیر اعظم اور سربراہ حکومت کے جنازوں کے لیے جو سرکاری تام جھام ہوتا ہے اس سے اجتناب کیا جائے۔ پروفیسر اربکان کا جنازہ عوام کے اعتماد اور محبت کا مظہر تھا اور استنبول کی جدید تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترکوں نے اس جنازے میں شرکت سے اربکان کو اپنا آخری سلام ہی پیش نہیں کیا بلکہ یہ جنازہ ایک ریفرنڈم بن گیا۔ ملک میں جو تبدیلی اربکان اور اس کے ساتھیوں کی مساعی کے نتیجے میں رونما ہوئی ہے، ترک عوام کی بڑی تعداد نے اس سے اپنی ہم آہنگی اور اس لہر کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ الحمد للہ اربکان کی موت بھی اس کی زندگی کی طرح اسلامی احیا کی تحریک کی علامت بن گئی ؎

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی کوئی بات نہیں

اللہ تعالی پروفیسر نجم الدین اربکان کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے، ان کی خدمات کے عوض انھیں جنت کے اعلیٰ ترین مقام پر جگہ دے، ان کی قبر کونور سے بھر دے، ان کی بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمائے — اور ترکی کو جس راستے پر گامزن کرنے میں –

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »