کشمیر سے دستبرداری پاکستان سے غداری

پاکستان اور اس کے اسٹرے ٹیجک اثاثوں پر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں روشن خیالی لبرلزم لچک ضرورت حتی کہ جرات کے نام پر بجلیاں گر رہی ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا قیمتی اثاثہ مفاد اور اصول اس فائرنگ کی زد (‘in the line of fire’) میں آ کر مجروح ہو رہا ہے یا جان ہی سے ہاتھ دھو رہا ہے۔ لیکن اب جیسے جیسے ۲۰۰۷ء کا انتخابی معرکہ قریب آ رہا ہے اور ملک ایک فیصلہ کن لمحے کی طرف بڑھ رہا ہے جنرل صاحب کی جراحت کا ریاں بھی تیز تر ہوتی جارہی ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں میں تین اہم ترین محاذوں پر انھوں نے جو حملے کیے ہیں ان سے سیاسی نقطہ جنگ بالکل کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اب قوم اس تاریخی موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں پاکستان کے نظریاتی سیاسی اور جغرافیائی وجود کے تحفظ اور اصل منزل کی طرف پیش رفت یا خدانخواستہ تحریک پاکستان اور اس کے ذریعے حاصل کردہ سرمایۂ حیات سے محرومی اور محکومی کے نئے دور کے آغاز میں سے ایک ہمارا مقدر ہوگا:
۱ ۔نظریاتی اعتبار سے دو قومی نظریہ پاکستان کی اسلامی شناخت، شریعت کی بالا دستی اور حدود اللہ کی پاس داری اسلامی تہذیب و ثقافت کی حفاظت وفروغ اور تعلیم میں اسلامی اقتدار اور اہداف کا واضح کردار سب سے اہم اور مرکزی ایشو بن گیا ہے۔ ان پر روشن خیالی اور لبرانزم کے نام پر کھل کر حملہ کیا جا رہا ہے۔
۲۔ اب جملہ داخلی و خارجی امور کا فیصلہ دستور کے تحت ادارے اور عوام کے منتخب نمایندے نہیں کر رہے بلکہ یونٹی آف کمانڈ کے نام پر ایک فرد واحد تمام اصولی تاریخی اور قومی موقف سے انحراف کرتے ہوئے اور جواب دہی سے بالا ہو کر اپنے ذوق، خواہشات اور مخصوص مفادات کی روشنی میں کر رہا ہے اور کرنے کے استحقاق کا دعوی بھی کر رہا ہے۔ یہ پورے سیاسی نظام اور ملت اسلامیہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر محط تخفیخ پھیرنے کے مترادف اور قوم کی آزادی اور عزت دونوں پر شدید ترین حملہ ہے۔
۳۔ نظریاتی اور سیاسی انقلاب معکوس (counter-revolution) کے ساتھ تیسرا خطرہ اب پاکستان کے جغرافیائی وجود کو لاحق ہے۔ اس کے بڑے بڑے مظاہر یہ ہیں: (۱) مرکز اور صوبوں میں بُعد جو اب تصادم کی حدوں کو چھورہا ہے (۲) بلوچستان میں فوج کشی (۳) سندھ میں ایک لسانی مافیا کی سر پرستی (اسے کھلی چھوٹ جو لاقانونیت اور بھتہ خوری سے بڑھ کر اب پھر مہاجر پختون، پنجابی ٹکراؤ اور خون خرابے کی طرف بڑھ رہا ہے) (۴) شمالی اور جنوبی وزیرستان اور باجوڑ میں قوت کا بے محابا استعمال (۵) ایجنسیوں کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی، لسانی اور علاقائی عصبیتوں کا فروغ اور اسے تصادم اور خون ریزی تک لے جانے کی مساعی اور اب (۶) ریاست جموں و کشمیر کے سلسلے میں جنرل صاحب ان کے وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کی سرکاری ترجمانی کے ذریعے دست برداری کے اعلان کی شکل میں وہ ضرب کاری جس کے نتیجے میں خدانخواستہ بر عظیم کا نقشہ ہی بدل سکتا ہے۔
بھارتی ٹی وی نیٹ ورک کو جنرل صاحب کا ۵ دسمبر ۲۰۰۶ء کا انٹرویو در اصل اس پورے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر قوم اب بھی اس خطرناک اور تباہ کن کھیل کا راستہ نہیں روکتی تو ہمیں خطرہ ہے کہ معاملات اس کے ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔
اس انٹرویو میں بہت کچھ کہا گیا ہے مگر دو چیزیں زیادہ اہم ہیں:
اوّل: جنرل صاحب کے سارے کھیل کا انحصار یونٹی آف کمانڈ پر ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر وہ فوج کی سربراہی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ انھوں نے صاف کہا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اس کے لیے تین قوتوں کی تائید حاصل ہے اور اس لیے حاصل ہے کہ وہ خود ان کی سر براہی کر رہے ہیں، یعنی فوج اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کر یہی۔
بات بہت صاف ہے۔ عوام عوامی نمائندوں اور منتخب اداروں، پارلیمنٹ حتی کہ کا بینہ تک کا اس میں کوئی ذکر نہیں اور ذکر کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ کسی شمار قطار میں نہیں۔ یہ سیدھے سید ھے قوت کا کھیل ہے اور اس طرح ایک نوعیت کا نو آبادیاتی (colonial) نظام ہے اور اس کی بقا اور استحکام جنرل صاحب کا مقصد اور ہدف ہے۔
دوم: کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے اصولی تاریخی اور خود پاکستان کی بقا وترقی کے لیے ناگزیر موقف سے مکمل طور پر انحراف جسے یوٹرن اور سمت کی تبدیلی (paradigm shift) کے علاوہ کسی دوسرے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھارت کے موقف کو کھل کر قبول کرنے کے مترادف ہے۔ اب صاف لفظوں میں یہ تک کہہ دیا گیا ہے کہ بھارت سے کشمیر کی آزادی ہمارا مقصد نہیں۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ اصل ایشو نہیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان کشمیریوں کا نعرہ تھا، پاکستان کا ہدف نہیں۔ جموں وکشمیر پر پاکستان کا کوئی حق نہیں ۔ گویا ۵۹ سال تک جو کچھ پاکستان کرتا رہا وہ جھک مارنے سے زیادہ نہیں تھا۔ جو قربانیاں جموں وکشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں نے آج تک دیں اور جن میں ۶ لاکھ افراد کی شہادت ہزاروں خواتین کی عصمت دری اربوں کی املاک کا اختلاف ہزاروں نوجوانوں کی گرفتاریاں، تعذیب اور مستقل معذوری اور بھارت سے پاکستان کی چار جنگیں اور اس پس منظر میں فوج پر کھربوں روپے کا صرف — سب ایک ڈھونگ ایک سیاسی کھیل ایک خسارے کا سودا تھا۔
اب فرد واحد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو سند جواز عطا کر دئے استصواب رائے اور حق خود ارادیت سے دست بردار ہو جائے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو دفن کر دے اور وہاں سے مسئلے کو واپس لینے تک کا اعلان کر دئے آزادی اور تحریک آزادی سے براءت کا اظہار کر دے اور جو نظام جواہر لعل نہرو نے ۱۹۵۱ء میں دے کر ۱۹۵۳ء میں درہم برہم کر دیا تھا اور جس خود مختاری کی خیرات دینے کا اعلان نرسمہا راؤ نے ۱۹۹۵ء اور ۱۹۹۷ء میں بار بار کیا تھا، اس سے بھی کم پر کشمیریوں کا سودا کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا جائے۔ اس سے بھی بڑھ کر خود آزاد کشمیر پر بھی مشترک کنٹرول (joint control) اور مشترک انتظام (joint management) کی باتیں کی جائیں۔ سید علی شاہ گیلانی اور تحریک آزادی کشمیر کے تمام ہی مخلص اور بھارت شناس قائدین نے اسے تحریک پاکستان جموں وکشمیر کے مسلمانوں اور پاکستانی قوم سے غداری قرار دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی قیادت اور جنرل پرویز مشرف کے اس کھیل کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
بات بہت صاف ہے۔ جموں وکشمیر کی ریاست کی قسمت کا فیصلہ وہاں کے عوام کو تقسیم ہند کی اسکیم کے ایک عمل کے طور پر کرنا ہے۔ کشمیر کا قضیہ (dispute) زمین کی تقسیم یا سرحدات کی حدود میں تبدیلی کا مسئلہ نہیں۔ یہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے جس پر ماہ وسال کے گزرنے سے فرق نہیں پڑتا۔ آزادی اور حقوق کی جنگ امروز وفردا کی حدود کی پابند نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے عوام دوصدیوں سے زیادہ عرصے سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ برطانیہ سکھ ڈوگرا بھارتی حکمران ان سب کے خلاف یہ جنگ لڑرہے ہیں اور ہم اس جنگ میں ان کے حلیف اور شریک ہیں۔ اس لیے کہ وہ دینی تہذیبی، معاشی، سیاسی، جغرافیائی ہر اعتبار سے ہمارا حصہ ہیں۔ پاکستان کی جدو جہد میں جموں وکشمیر کے مسلمان برابر کے شریک تھے اور ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کے اجتماع میں انھوں نے قائم ہونے والے پاکستان کے حصے کے طور پر شرکت کی تھی، اور ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام سے قبل انھوں نے اور ان کے منتخب نمایندوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا اور اس اعلان کے تحت انھوں نے لڑ کر جموں وکشمیر کا ایک حصہ عملاً آزاد کروایا جو آج آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی شکل میں پاکستان سے متعلق ہے جسے ہم آزاد کشمیر کی حکومت کہتے ہیں۔ یہ محض ان علاقوں کی حکومت نہیں جو بھارت کے چنگل سے ۴۹ – ۱۹۴۷ء میں آزاد کرا لیے گئے تھے بلکہ دراصل پورے جموں وکشمیر کی آزاد حکومت ہے جس کے تصور سے اب جنرل صاحب اور ان کے حواری تو بہ کر رہے ہیں اور بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کبھی نہیں کہا۔ یہ کہ اٹوٹ انگ ایک بھارتی واہمہ ہے اور ہم نے بھارت کے قبضے کو ہر سطح پر چیلنج کیا ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس بنیاد پر؟ کیا یہ بنیاد اس کے سوا کوئی اور تھی کہ ہندستان کی تقسیم کے فارمولے کے مطابق مسلم اکثریتی مخطہ ہونے کی بنا پر جموں وکشمیر پاکستان کا حق ہے۔ پاکستان کے الفاظ تک میں اک کا تعلق کشمیر سے ہے قرارداد پاکستان میں کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ الحاق پاکستان کی قرارداد سے پاکستان اور کشمیر ایک جسم بن چکے ہیں اور قائد اعظم نے اسی بنیاد پر اسے پاکستان کی شہ رگ کہا۔ اسی بنیاد پر جہاد آزادی کا آغاز ڈوگرہ راج کے خلاف ہوا جو آج تک جاری ہے۔ جموں وکشمیر کے مسلمانوں نے کبھی اپنے کو پاکستان سے جدا تصور نہیں کیا۔
ان کی گھڑیاں پاکستان کی گھڑیوں کے مطابق وقت بتاتی ہیں، پاکستان کی ہر خوشی پر وہ خوش ہر کامیابی پر وہ نازاں اور ہر مشکل پر وہ دل گرفتہ ہیں۔ انھوں نے بھارت کے تسلط کو کبھی قبول نہیں کیا اور بڑی سے بڑی قربانی دے کر اس کے استبداد کا مقابلہ کیا۔ ۱۴ اگست کو وہ یوم آزادی مناتے ہیں اور ۱۵ اگست کو یوم سیاہ۔ بلاشہ تکمیل پاکستان کی اس جدو جہد کے لیے ہم نے بین الاقوامی قانون کی پاس داری کرتے ہوئے استصواب رائے کے قانونی عمل کی بات کی اور جو بھی حق پسند ہو گا وہ اس کا اعتراف کرے گا جیسا کہ امریکا کی قیادت کی وقتی مفادات پر مبنی قلابازیوں کے باوجود امریکا کی سابق وزیر خارجہ میڈیلین آل برائٹ نے ۱۳ دسمبر ۲۰۰۳ء کو خود دہلی کی سرزمین پر برملا کہا تھا کہ: “کشمیری عوام کی خواہشات معلوم کرنے کا واحد راستہ استصواب رائے عامہ ہے”۔
ستم یہ ہے کہ آج وہ جرنیل جن کا فرض منصبی ہی یہ ہے کہ ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کے لیے جان دے دیں، جموں وکشمیر کی جنت نشان زمین ہی نہیں، ایک کروڑ انسانوں کی مقبوضہ ریاست کو تحفتاً بھارت کی غاصب قیادت کو پیش کرنے اور اُمت مسلمہ کے ایک حصے کا سودا کرنے کو تیار ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کیوں نہ خوش ہو۔ سابق وزیر اعظم گجرال کس مسرت سے کشمیر پر جنرل صاحب اور وزارت خارجہ کی ترجمان کے بیان کو سنگِ میل قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ: “کشمیر پر پاکستان کا دعوئی ختم ہونے کے بعد مسئلے کا حل جلد نکل آئے گا”۔
یہ مسئلے کا حل نہیں، یہ پاکستان کی شہ رگ کو ہمیشہ کے لیے دشمنوں کے پنجے میں دینے اور ایک کروڑ انسانوں کو غلامی کی جہنم میں دھکیل دینے کی جسارت ہے۔ یہ آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کو بھارت کی افواج اور سیاسی در اندازیوں کے لیے کھولنے کی غداری ہے۔ یہ پاکستان کے تصور اور قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے نقشہ پاکستان کو درہم برہم کرنے کی سازش ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ کامیاب ہوتی ہے تو ہمیں ڈر ہے کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کا نظریاتی ہی نہیں، جغرافیائی وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
یہ خطرات اب صرف نظری امکان کی حد سے بڑھ کر حقیقی تبدیلی کے دروازے تک پہنچ چکے ہیں اور جس طرح بر عظیم کے مسلمانوں نے قائد اعظم کی قیادت میں وقت کے حقیقی خطرات کا صحیح ادراک کر کے ۱۹۴۰ء میں برطانیہ اور کانگرس کے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے قیام پاکستان کی جدو جہد کا آغاز کیا اسی طرح آج امریکا اور بھارت کے عزائم اور ان کا آلہ کار بننے والے طبقات اور قیادتوں کے مقابلے کا عزم اور پروگرام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
آج ملت پاکستان کی جدوجہد کا ہدف تحفظ پاکستان اور تحفظ کشمیر ہے۔ کشمیر اور پاکستان کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جن کی نظر تاریخ کے حقائق پر ہے وہ جانتے ہیں کہ کشمیر سے پسپائی دراصل پاکستان کے انتشار اور بربادی کا راستہ اور برعظیم کے نقشے کو ایک بار پھر تبدیل کرنے اور اکھنڈ بھارت کے خواب میں رنگ بھرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ملت اسلامیہ پاکستان نے پہلے بھی اپنے نظریاتی، تہذیبی اور جغرافیائی تحفظ کی جنگ ساری بے سروسامانی کے باوجودلڑی ہے اور ان شاء اللہ اب بھی لڑے گی۔ وسائل کے اعتبار سے آج ہم ۱۹۴۰ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ ضرورت بیرونی سہاروں پر بھروسا کرنے کے بجائے اللہ کے بھروسے پر حق وانصاف کے موقف پر ڈٹ جانے اور ہر قربانی کے لیے آمادہ ہونے کی ہے۔
وہ قیادت جو قومی مقاصد کو ترک کر چکی ہے، اب قوم پر ایک بوجھ (liability) ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ملک کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ (security risk) ۔ ایسی قیادت سے نجات اور ایک ایسی متبادل قیادت کو زمام کار سونپنا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ذاتی، گروہی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کی اسیر نہ ہو بلکہ ان پر ضرب لگانے کا داعیہ اور صلاحیت رکھتی ہو جس سے دین اور قوم کے مفاد پر کسی سمجھوتے اور پسپائی کا خطرہ نہ ہو جو خدا کی رضا اور ملت اسلامیہ پاکستان کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگانے کا عزم رکھتی ہو جو اپنی تاریخ اور دنیا کی سامراجی قوتوں، خصوصیت سے امریکا اور بھارت کے عزائم کا شعور رکھتی ہو اور جو قوم کو قربانیوں اور جدوجہد کے راستے پر متحرک کرنے اور اس راہ میں اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھ کر ان کی قیادت کرنے کی مثال قائم کر سکتی ہو۔
آج پاکستانی قوم کے سامنے اصل سوال صرف ایک ہے — کیا اب یہ قوم بیرونی ایجنڈے اور مفاد کی خاطر اصولوں کی قربانی دینے والی قیادت سے نجات کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کے لیے تیار ہے؟ اگر ہمیں اپنا دین اپنی آزادی ملت اسلامیہ پاکستان کی قربانیاں اور پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ عزیز ہے تو جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی سازش کا بھر پور مقابلہ کریں۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان کی جنگ آج کشمیر کے محاذ پر لڑی جارہی ہے اور وہاں پسپائی کے معنی در اصل مظفر آباؤ اسلام آباد پشاور کوئٹہ اور کراچی کو نشانے پر (in the line of fire) لانے کے سوا کچھ نہیں ؏
تیرے نشتر کی زد شریان قیس ناتواں تک ہے



