مقدمہ تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیات

لا إله إلا الله
خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ
خودی ہے تیغِ فساں لا الہٰ الا اللہ
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہٰ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سودوزیاں لا الہٰ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وَہم و گماں لا الہٰ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہٰ الا اللہ
یہ نغمہ فصلِ گل ولالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہٰ الا اللہ
اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہٰ الا اللہ
علامہ اقبال
مقدمہ
پروفیسر خورشید احمد
تاریخ ایک قوم کا حافظہ ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے حافظے سے محروم ہو جائے تو وہ دراصل اپنی شخصیت اور اپنی شناخت دونوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ قوموں کے ساتھ بھی ہے۔ حافظے کی مضبوطی ہی ایک قوم کی زندگی کی علامت ہے۔ جتنا اس کا حافظہ مضبوط ہوگا اور جس حد تک افراد و قوم میں ان کے اپنے ماضی کا شعور بیدار ہوگا اتنا ہی وہ اعتماد کی دولت سے مالا مال ہوں گے اور مستقبل کی تعمیر کا جذبہ اور ولولہ ان کو بیدار اور متحرک رکھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو ماضی کے جھروکوں میں مقید نہ رہنے دبے اور نہ وہ محض کتابوں اور مخطوطات کی زینت بنیں بلکہ ہر ممکن ذریعے سے ماضی کے روشن کارناموں کونئی نسلوں کی طرف منتقل کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اس طرح کیا جائے کہ وہ ان کے رگ و پے میں رچ بس جائے، ان کو زندگی کے مقاصد کا صحیح شعور دے، ان کے جذبات و احساسات کی صحیح تہذیب کرے تا کہ وہ اپنے ماضی کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کی خدمات انجام دے سکیں۔
اس سلسلے میں سب سے موثر تدبیر ماضی کی ان شخصیات کی زندگیوں اور ان کے کارناموں سے روشناسی ہے جو روشنی کے میناروں کی مانند ہر دور میں تاریکیوں کو چھانٹنے کا ذریعہ رہے ہیں۔ اُمت مسلمہ کی تاریخ اس سلسلے میں بڑی درخشاں ہے۔ کاش ہم ان چراغوں سے روشنی حاصل کرنے کا مناسب ساز و سامان کر سکیں ۔
تاریخ بلاشبہ انسانوں اور تہذیبوں کی زندگی کے نشیب و فراز کی داستان ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں زمین کے طول و عرض میں اور ہر دور میں قوموں کے عروج و زوال اور تہذیبوں کے فروغ اور بربادی کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اول روز سے تاریخ مسلمانوں کی دل چسپی کا ایک اہم موضوع رہی ہے۔خود قرآن پاک میں ماضی کی اقوام کی داستانوں کو جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ تاریخ میں دل چسپی اور تاریخ سے سبق لینے کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ تاریخ کے باب میں پہلی کامیاب اور راہ کشا کوشش مسلمانوں ہی کی رہین منت ہے اور اس کا سہرا ابن خلدون کے سر ہے جس کے مقدمہ تاریخ کے بعد تاریخ کے مطالعہ کا اسلوب ہی بدل گیا۔
گوتاریخ کا کینوس بڑا وسیع ہے اور وہ محض شخصیات کی حیات اور کارناموں کا نام نہیں لیکن اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ تاریخ سازی میں انسانی کردار اور خصوصیت سے قیادت کا کردار بڑا نمایاں رہا ہے۔ کارلائل نے تو مبالغہ کی حد تک دعوی کیا ہے کہ تاریخ گھومتی ہی ہیروز کے ارد گرد ہے لیکن اس بارے میں تو کوئی شک نہیں کیا جاسکتا کہ تاریخ کے بناؤ کو بگاڑ میں نظریہ، وژن اور قوت اور وسائل کے ساتھ قیادت کا ہمیشہ ایک مرکزی کردار رہا ہے اور نظریہ اور وژن کی تشریح و توضیح، قوت کے حصول اور وسائل کے مناسب دروبست اور ترقی میں قیادت کا کردار نمایاں اور فیصلہ کن رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کے عمل، اس کی سمت اور اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ان شخصیات کی زندگی، افکار اور کارناموں سے واقفیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے جو تاریخ کے معمار ہیں۔
مسلمانوں کی تاریخ میں بھی اسی طرح نشیب و فراز نظر آتے ہیں جس طرح کسی اور قوم کی تاریخ میں ملتے ہیں لیکن جو چیز ہماری تاریخ کو ایک حیثیت سے منفرد بنادیتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام تہذیبوں کے آغاز اور عروج کے زمانے میں نمایاں فاصلہ نظر آتا ہے اور پھر بلندی اور تمازت کے ایک دور زریں کے بعد زوال کی طویل داستان شروع ہو جاتی ہے جو بالعموم اس تہذیب کے خاتمے پر منتج ہوتی ہے لیکن اسلامی تاریخ کا یہ امتیازی پہلو ہے کہ اس کا آغاز، عروج اور معیاری دور اس کا اولیں دور ہے جو دور رسالت مآب ﷺ اور دو برخلافت راشدہ کے تقریبا ساٹھ برسوں پر مشتمل ہے اور پھر سارے نشیب و فراز کے باوجود یہ تہذیب دنیا کی دوسری چھتیں تہذیبوں کی طرح دم نہیں تو ڑتی بلکہ اس میں تجدید و احیاء کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری وساری رہتا ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا، جو ختم نبوت کا بھی فطری تقاضا نظر آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نشیب و فراز، شکست وریخت، تعمیر اور احیاے نو، یہ سب دن رات کی طرح ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن ہر نشیب کے بعد فراز اور ہر ٹوٹ پھوٹ کے بعد تعمیر نو اور تشکیل جدید اُمت مسلمہ اور اس کی تہذیب کی اندرونی قوت کی مظہر اور اس کے ابدی کردار کا ثبوت ہے۔ ماہر القادری نے سچ کہا ہے کہ ؎
سلام اس ﷺ پر کہ جس ﷺ کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں
ہر تہذیب اور ہر قوم کی زندگی اور ترقی کا انحصار جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کم از کم تین چیزوں پر ہے، یعنی: نظریہ اور وژن، قوت اور صلاحیت اور قیادت اور سیادت۔ نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ مبارکہ اور خلافت راشدہ کے دور سعادت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں پہلو اس دور میں یہ کمال موجود تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد سے آج تک سوا چودہ سو سال میں جہاں، جب اور جس حد تک یہ امت میں موجود رہے ہیں اتنا ہی تاریخ میں ہمارا کردار مثبت اور موثر رہا ہے۔
نبی اکرم ﷺ جو آخری نبی ہیں ان کے اسوہ مبارکہ میں ان تینوں کا معیاری اور حسین ترین امتزاج نظر آتا ہے اور یہی وہ کلید ہے جس سے ہماری تاریخ میں سیرت پاک اور منبج نبوی کے تاریخی کردار کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے کتاب ہدایت کے ساتھ اپنا رسول سبھی مبعوث فرمایا جو اس ہدایت کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے اور اس کے مطابق زندگی کی تشکیل نو کے لیے عملی جدوجہد کر کے تبدیلی کو صحیح رخ دیتا ہے۔ اسی طرح تاریخ کے دھارے کو موڑنے کے لیے اور اس کے نظریہ صحیح قیادت اور مطلوبہ قوت کی سہ گانہ ضروریات کی تشکیل میں تجدید و احیا کا نسخہ واضح کیا۔
قرآن پاک میں نبی پاک ﷺ کی جو ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں اور کار نبوت کی انجام دہی کے لیے جس مشن پر آپ کو مامور کیا گیا تھا اور جسے جاری رکھنے کی ذمہ داری امت مسلمہ پر ہے اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اسلام کے مزاج، اس کے تاریخی کردار، اور خود ملت اسلامیہ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وہی ہے جس نے اُمیوں (ان پڑھ لوگوں) ہی کے اندر ایک رسول خود انھی میں سے اُٹھایا، جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگی کو سنوارتا ہے، اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (الجمعہ ۲:۶۲)
یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بچھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ٹور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کا فروں کو یہ کہتا ہی نا گوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
(الصف ۸:۶۱۔۹)
ان آیات کریمہ اور اسوۂ نبوی پر غور کرنے سے جو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام انبیاے کرام کا اصل مشن اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا اور ان کو استخلاف کی اس ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے تیار اور برسر کا ر کرنا تھا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضور پاک صلى الله عليه وسلم اللہ کے آخری نبی تھے جن کے ذریعے ہدایت کو بھی مکمل کر دیا گیا۔ اور پھر اس ہدایت کے مطابق زندگی کے پورے نظام کی تشکیل و تعمیر کا بھی بندوبست فرما دیا گیا جسے انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام قرار دیا گیا۔
جس آخری نبی ﷺ کے ہاتھوں اس دین کو مکمل کیا اس کے ذمے جو کام زمین و آسمان کے مالک و آقا نے لگائے، انھیں چھ نکات میں واضح کیا جا سکتا ہے:
۱ ـ اللہ کی نازل کردہ وحی کو من وعن اللہ کے بندوں تک پہنچانا اور اسے اس کی اصل شکل میں محفوظ رکھنا۔
۲ ـ اس ہدایت کی روشنی میں اور اس کے مطابق ان کی زندگیوں کی اصلاح اور تزکیہ، تا کہ اس کام کے انجام دینے کے لائق بن سکیں جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کے سپرد کیا ہے اور جو دنیا و آخرت میں ان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
۳ ـ سیرت سازی اور تعمیر شخصیت کے ساتھ تعلیم الکتاب، تا کہ وہ اللہ کی ہدایت کو سمجھ سکیں اور سوچنے اور غور و فکر کرنے کا وہ طریقہ اختیار کر سکیں جس سے ہر دور میں قرآن کی نگاہ سے دنیا کو دیکھا جا سکے اور اس کتاب سے روشنی حاصل کر کے زندگی کی صورت گری کی جاسکے۔
۴ ـ الکتاب کی تعلیم کے ساتھ حکمت کی تعلیم تا کہ اس کتاب کے احکام اور ہدایات کو نہ صرف سمجھا جائے بلکہ اسوۂ نبوی کی روشنی میں اس سے استفادہ اور اس کے اطلاق کا وہ طریقہ بھی اختیار کیا جا سکے جس سے ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے وقت کے حالات کی روشنی میں دیانت داری اور وفاداری سے اس پر عمل کیا جاسکے اور رشد و ہدایت اور نور اور روشنی کا یہ سفر تا ابد جاری رہ سکے۔
۵ ـ نبی رحمت ﷺ کی دعوت اور تزکیہ اور تعلیم الکتاب والحکمہ کے اس عمل کا فطری نتیجہ انسانوں کے لیے رحمت اور سعادت کی شکل میں رونما ہوگا اور اس کا حاصل آخرت کی کامیابی کے ساتھ دنیوی زندگی کو بھی حقیقی حسنات سے مالا مال کرنا ہے جس کا مظہران کے درمیان انصاف کا قیام ہے۔ اس لیے لِيَقُومَ النَّاسُ بالقسط کو بھی کار نبوت کا ایک ثمرہ فرمایا گیا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پورے نظام زندگی کو اللہ کی ہدایت کے نور سے منور کیا جائے۔
۶ ـ ان پانچوں نکات کا فطری تقاضا شہادت حق اور اقامت دین کی جدوجہد ہے تا کہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت محض کتاب کے اور اق یا افراد کے سینوں نیک محدود نہ رہے بلکہ اللہ کی زمین پر اللہ کی مرضی جاری وساری ہو۔ اسی لیے نبی پاک ﷺ نے اقامت دین اور اللہ کے کلمہ کو تمام کلموں پر فائق اور غالب کرنے کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ عملاً اس دین کو قائم کر کے تاریخ کے دھارے کو اللہ کی اطاعت کے راستے کی طرف موڑنے کا ابدی کارنامہ بھی سرانجام دیا۔
اقامت دین اور کفر اور ظلم کی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ کی مدد کے ساتھ سب سے اہم قوت اخلاقی قوت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ علم کی طاقت اور اس میدان میں دوسروں پر برتری کے ساتھ جسمانی قوت بھی ضروری ہے اس لیے کہ تاریخ کو تبدیل کرنے کے لیے یہ دونوں بھی مطلوب ہیں اور قیادت کے لیے ہدایت پرمینی وژن اور اخلاق کی دولت کے ساتھ علمی اور مادی قوت بھی درکار ہے جس کی طرف حضرت طالوت کو قیادت کے لیے منتخب کرنے کے باب میں واضح اشارہ موجود ہے۔
نبی نے جواب دیا: اللہ نے تمھارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ (البقرہ ۲: ۱۴۷)
ان تمام ارشادات ربانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت حق کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے جن عوامل کی ضرورت ہے ان میں اہم ترین ہدایت یعنی عرفان حق، مقصد اور منزل کا شعور، نظریہ اور وژن ہے۔ پھر اخلاقی قوت اور کردار کی دولت ہے۔ اس کے ساتھ آزادی، خود مختاری، خودانحصاری، اجتماعی امن اور سلامتی ہے۔ لیکن ایک چوتھی ضرورت قوت، وسائل اور مقابلے کی استعداد ہے، جو غنا ہی کے مختلف پہلو ہیں، اور جنھیں حضرت طالوت کے باب میں جسم کی قوت سے ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک قوم اور تہذیب کی قوت کے پہلوؤں میں علمی قوت اور برتری ایجاد و اختراع کی صلاحیت، معاشی اور مادی وسائل پر قدرت اور سیاسی اور عسکری استعداد یہ سب قوت کے وہ پہلو ہیں جو کسی بھی قوم اور تہذیب کے ترقی کے مراحل طے کرنے کے لیے ضروری ہیں اور جن کی کمزوریاں بالآخر زوال اور مغلوبیت کا سبب بنتی ہیں۔ تاریخی عوامل کے اس تجربے کا حاصل یہ ہے کہ اسلام انسانی تہذیب و تمدن کو جن بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ہے اور ہدایت الہی کی روشنی میں تاریخ کے دھارے کو جس رُخ پر چلانے کے لیے اللہ نے اپنے انبیا کو مبعوث کیا اس کے لیے ایمان، ہدایت، اخلاقی اور صحیح وژن کے ساتھ علمی، مادی، معاشی، عسکری، غرض ہر قسم کی قوت کی تسخیر بھی ضروری ہے اور جس امت کو شہدا علی الناس کی ذمہ داری ادا کرنی ہے اس کے لیے ان تمام صلاحیتوں اور استعدادات کا ہونا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو مشن اپنے پاک نبی ﷺ کو سونپا اور شخصی، ادارتی اور اجتماعی زندگی کا جو ماڈل آپ نے پیش فرمایا اور دین اور دعوت دین کا جو نمونہ آپ نے دنیا کے لیے قائم فرمایا وہ اُمت کی امانت ہے اور اُمت مسلمہ کی قرآن نے یہ ذمہ داری مقرر فرمائی ہے کہ جو شہادت حق آپ نے امت کے باب میں انجام دی اب یہ امت روز قیامت تک باقی تمام انسانیت کے لیے اسی ذمہ داری کو ادا کرے، اپنے قول اور عمل اور انفرادی اور اجتماعی شہادت کے ذریعے ۔ قرآن کا بہت صاف الفاظ میں حکم ہے کہ:
اے نبی ﷺ ان سے کہو ، مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک اُمت وسط بنایا ہے تا کہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو۔ (البقرہ ۱۴۲:۲ـ۱۴۳)
یہی وہ عظیم ذمہ داری ہے جو امت مسلمہ کو خیر امت بناتی ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ حق و انصاف کی علم بردار ہو۔
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں اُتارا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (آل عمران ۱۱۰:۳)
اسلامی تاریخ ایک آئینہ ہے جس میں مسلمانوں کے عروج و زوال کے تمام نقوش کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس کا سب سے روشن اور تابناک پہلو یہ ہے کہ ہر دور میں حتی کہ تاریک ترین ادوار میں بھی اُمت کا دامن ایسے نفوس قدسیہ سے خالی نہیں رہا جنھوں نے تاریکی میں روشنی کے چراغ نہ جلائے ہوں اور جن چراغوں کی روشنی سے تاریکیوں کے بادل نہ چھٹے ہوں بلکہ چشم تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھے ہیں کہ جن کے ہاتھوں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بج گئی تھی اور جو معصوم انسانوں کے سروں کے مینار بنانے کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے، ان کی اولا د مشرف بہ اسلام ہوئی اور جن قوتوں نے مسلمانوں کو مغلوب کیا تھا اسلام ان کے دل ودماغ پر غالب ہو گیا اور تاریخ نے نئی کروٹ لے لی۔ اقبال نے اس تاریخی تبدیلی (transformation) کوکس خوب صورتی سے پیش کیا ہے ؎
ہے میاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کہنے کو صنم خانے سے
اسلامی تاریخ کے نشیب و فراز کی اس داستان میں نظریاتی اور تہذیبی قوتوں کا کردار ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ بظاہر روایتی، سیاسی اور عسکری پہلو ہر دور میں نمایاں رہے ہیں لیکن ان کے پیچھے جو نظریاتی، اخلاقی، تربیتی، فکری اور تہذیبی قوتیں کارفرما رہی ہیں ان کو سمجھے بغیر اسلامی تاریخ اور اس کی قوت کے سرچشموں کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یہی وہ کوششیں ہیں جو اپنے وسیع معنی میں تجدید و احیائے دین کی مساعی کا شمرو رہی ہیں۔ ان میں وہ کوششیں بھی ہیں جو ہمہ پہلو اور جامع مساعی تھیں اور وہ بھی ہیں جو بظاہر کسی ایک یا صرف چند پہلوؤں پر مرکوز ہیں لیکن وہ بھی وقت کی ضرورت کے کسی خاص پہلو کو پورا کرنے کی سعی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو کوشش جتنی جامع ہے اتنی ہی منبج نبوت سے قریب ہے اور جو کسی خاص پہلو تک محدود ہے وہ بھی وقت کی ایک خاص ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش سے عبارت ہے۔ یہ سب اپنے اپنے انداز میں بحیثیت مجموعی دین کی تقویت اور اسلامی تہذیب کی حفاظت اور ترقی کا ذریعہ بنیں۔
یہی وجہ ہے کہ تجدید و احیائے دین کی یہ کوشش مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی ہے۔ ایسی شخصیات بھی اس روشن قوس قزح کی زینت ہیں جو جامعیت کے ساتھ فکری، اخلاقی، تہذیبی، سیاسی اور اجتماعی جدو جہد کا مرکز و محور بنی ہیں اور اس اُفق پر ایسے ستارے بھی ہیں جو کسی ایک میدان میں ضوفشانی کرتے نظر آتے ہیں۔ امام حسینؒ کی قربانی اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی احیائے خلافت کی جدو جہد سے جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ لکھی یا جڑوی مساعی کی شکل میں آج تک جاری ہے اور ان شاء الله تا ابد جاری رہے گا۔ اس سلسلے کی ہر کوشش روشنی کا ایک مینار ہے۔ یہی وہ مساعی ہیں جو ہماری تاریخ کا اصل جوہر ہیں اور اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ پوری دیانت اور صداقت سے، لیکن مقصد کے صحیح شعور کے ساتھ، ان عظیم شخصیات کی زندگیوں کے جملہ کارناموں سے قوم اور آنے والی نسلوں کو روشناس کرا دیا جائے جو روشنی کا منبع ہیں۔
علامہ شبلی نعمانی، مولاناسید سلیمان ندوی اور ندوۃ المصنفین کے اہل علم نے اس سلسلے میں بڑی مفید خدمات انجام دی ہیں لیکن تاریخ کی تعبیر نو کے باب میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی مختصرکتاب ”تجدید و احیائے دین“ اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی نسبتا تفصیلی تالیف تاریخ دعوت و عزیمت (پانچ جلدیں) بڑی معرکے کی چیزیں ہیں۔
مصری مصنف عباس محمود اعتقاد نے بھی سلسلہ عبقریات میں اپنے مخصوص انداز میں اس خدمت کو انجام دیا ہے۔ اس سلسلے کو جاری رکھنے کی بے حد ضرورت ہے۔ ہماری تاریخ کے افق پر ایسے سیکڑوں ستارے جگمگا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی زندگیوں اور کارناموں سے نئی نسلوں کو روشناس کرایا جائے۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ عزیزہ ناعمہ صہیب نے پچھلے چند برسوں میں بڑی محبت اور سلیقے سے ہماری تاریخ کی عظیم اور قابل فخر شخصیات کی زندگیوں کے حالات اور تاریخ پر ان کے انمٹ نقوش کو سادہ اور دل نشین انداز میں پیش کرنے کی بڑی کامیاب کوشش کی ہے۔ جسے میں ایک اہم علمی اور دعوتی خدمت سمجھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی اس کوشش کو شرف قبولیت سے نوازے، ہماری نئی نسلوں کو ان چراغوں سے روشنی حاصل کرنے کی توفیق دے، مولفہ کو ان کی اس خدمت پر دنیا اور آخرت میں بہترین اجر دے اور ان کو اس سلسلے کو جاری رکھنے کی توفیق سے بھی نوازے۔
میں نے زیر نظر کتاب کے مسودے کو دل چسپی سے پڑھا ہے اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ عزیزہ ناعمہ صہیب نے ہماری تاریخ کے کچھ زریں ابواب کو بڑی محنت اور خوش اسلوبی کے ساتھ نئی نسلوں کے مطالعہ اور رہنمائی کے لیے پیش کیا ہے۔ انھوں نے شخصیات کا انتخاب بھی بڑی بالغ نظری سے کیا ہے اور پھر ہر ہر شخص کے بارے میں پوری تحقیق کے ساتھ اس کی زندگی اور اس کے دور کے مسائل اور چیلنج کی روشنی میں اس کی خدمات اور کارناموں پر روشنی ڈالی ہے۔ نیز ان کا یہ بیان حشو و زوائد سے پاک ہے۔ شخصیت نگاری کا ایک نیا اسلوب انھوں نے اختیار کیا ہے جس میں شخصیت پرستی سے دامن بچا کر اس شخص کی حقیقی خدمات اور اثرات کو توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ اور اس طرح مطالعہ کا مرکز ومحور متعلقہ شخص سے کہیں زیادہ اس کی خدمات، افکار، اور اثرات رہے ہیں۔ محسن – بیان کی خوبی یہ ہے کہ جس دور میں جو کارنامہ ایک شخص نے انجام دیا ہے فوکس اس سے ہٹنے نہیں پاتا۔ پھر شخصیات کے انتخاب میں بھی تنوع ہے۔ کسی خاص علاقے یا کسی خاص شعبہ زندگی تک اس انتخاب کو محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اُمت کے پورے کینوس پر نظر ڈال کر تاریخ ساز شخصیات کا انتخاب کیا گیا ہے اور پھر ان کی زندگی اور خدمات کے تمام ہی پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ؏
ہر گلے را رنگ و بوے دیگر است
البتہ اس انتخاب کی خوبی یہ ہے کہ گل ہائے رنگ رنگ سے جو گلدستہ بنایا گیا ہے وہ جہاں بڑا خوش رنگ ہے وہاں پھولوں کی خوش بو بھی دل و دماغ کو معطر کرنے کا سامان کرتی ہے اور سب سے بڑھ کر ان چراغوں سے روشنی حاصل کرنے کا جذبہ اور شوق پیدا کرتی ہے تا کہ ہمارے اپنے دور کی تاریکیوں کو دور کرنے کے لیے نیا جذبہ اور داعیہ پیدا ہو، اور اس طرح چراغ سے چراغ جلتے رہیں۔
میری دعا ہے کہ تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات کی طرح موجودہ مجموعہ اسلامی تاریخ کی قابل فخر شخصیات بھی کامیاب ہو اور خصوصیت سے نئی نسل کو نہ صرف اپنی تاریخ کے روشن نقوش سے آگاہ کرے بلکہ اس میں یہ جذبہ بھی پیدا کرے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے زمانے کو بدلنے اور دین کو غالب قوت بنانے کی جدوجہد کریں۔



