نئی قومی اسمبلی اور حکومت کرنے کے اصل کام

ویسے تو زندگی کا ہر لمحہ لمحہ امتحان ہے اور زندگی اور موت کا پورا سلسلہ انسان کی آزمایش کے لیے ہے [الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ الملک ۲:۶۷[ لیکن افراد اور قوموں کی زندگی میں کچھ مواقع ایسے آتے ہیں جنھیں بجا طور پر تاریخی اور سنہری موقع قرار دیا جاسکتا ہے اور جن پر صحیح اقدام تاریخ کے رخ کو موڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آج پاکستانی قوم کو ایک ایسا ہی سنہری موقع حاصل ہے۔ ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات کے نتیجے میں جو قومی اسمبلی وجود میں آئی، اس نے سے امارچ سے اپنی زندگی کا آغاز اور ۲۴ مارچ کو قائد ایوان کا انتخاب کر کے مخلوط حکومت کے قیام کی راہ کھول دی ہے۔ توقع ہے مارچ کے آخر تک نئی حکومت اپنی ذمہ داری سنبھال لے گی۔
ہم پیپلز پارٹی کے نامزد وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کی مخلوط حکومت کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ملک وقوم کو اس دلدل سے نکالیں جس میں پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں [خصوصاً مسلم لیگ [ق] اور ایم کیو ایم[ نے پھنسا دیا ہے۔ ہم پورے اخلاص اور دردمندی کے ساتھ ان کی توجہ ملک کو در پیش اصل چیلنج کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان مسائل اور ترجیحات کی نشان دہی کر رہے ہیں جو ان کا فوری ہدف ہونا چاہیں ۔ آج پاکستان کی آزادی، حاکمیت ، دستور اور نظام زندگی کے تحفظ کے لیے حقیقی جدو جہد کی ضرورت ہے۔ ہم صحیح معنوں میں عرصہ محشر میں ہیں اور یہ وقت ذاتی یا سیاسی مفادات کے حصول کا نہیں بلکہ ملک وقوم کو بچانے اور زندگی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کا ہے۔
اولین ترجیح
پہلا اور سب سے اہم مسئلہ گاڑی کو پڑی پر ڈالنے کا ہے۔ گاڑی اپنا مطلوب سفر اسی وقت شروع کر سکے گی جب وہ پڑی پر ہو۔ اس لیے پڑی پر ڈالے بغیر تیز رفتاری کی باتیں کرنا اپنے کر دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ اس غرض کے لیے مندرجہ ذیل اقدام ضروری ہیں:
۱ ـ نظام عدل کی بیجائی کہ عدل کی فراہمی کے مؤثر انتظام کے بغیر کوئی قوم اور ملک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ کفر کی ناؤ چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکمرانی اور عدل سے محرومی تباہی کا راستہ ہے۔
۲ – دستور اور قانون کی حکمرانی کہ مہذب معاشرے کا وجود دستوری نظام کی بالا دستی اور قانون کی اطاعت پر منحصر ہے۔ جب اور جہاں دستور، قانون اور نظام زندگی فرد واحد کا تابع مہمل بن جائے، وہاں تباہی کے سوا کوئی اور نتیجہ رونما نہیں ہو سکتا ۔ استحکام فرد سے نہیں اداروں، قانون اور ضابطے کی عمل داری سے حاصل ہوتا ہے۔ صحیح پالیسیاں مشورے اور افہام و تفہیم سے وجود میں آتی ہیں اور انصاف، استحکام و ترقی اور توازن قوت [balance of power] کا مرہونِ منت ہے، ارکان قوت [concentration of power] کا نہیں۔ اس لیے اختیارات کی تقسیم اور تعیہ ، اور ہر ایک کا اپنے اپنے دائرہ اختیار کا احترام ہی امن کے قیام اور ترقی کے مواقع کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طرز حکمرانی، پالیسی سازی کے اسلوب اور طور طریقوں کی اصلاح اور نظام احتساب کو مضبوط کیے بغیر کوئی ملک ترقی اور استحکام کی منزلیں طے نہیں کر سکتا۔
یہ دو وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کی اصلاح کے بغیر ہماری گاڑی اپنی پڑی پر نہیں آسکتی لیکن اس کے ساتھ ایک تیسری چیز بھی از بس ضروری ہے اور وہ یہ کہ ٹرین کا ڈرائیور ہمارا اپنا ہو اور اس کی باگ ڈور کسی بیرونی قوت کے ہاتھوں میں نہ ہو۔ جب تک یہ تینوں چیزیں ٹھیک نہ ہو جائیں ملک اور قوم اپنی منزل کی طرف سفر نہیں کر سکتے ۔ اس لیے نو منتخب اسمبلی اور مخلوط حکومت کو اولین ترجیح ان تینوں امور کو دینا چاہیے۔ بلاشبہہ معاشی معاملات بھی بے حد اہم ہیں اور اس وقت ہمارے معاشی مسائل بڑے گمبھیر اور پریشان کن ہیں۔ امن وامان کا مسئلہ بھی اہم ہے لیکن ہم پوری دردمندی سے عرض کریں گے کہ الاول فالاول کے اصول پر فوری طور پر اولین ضرورتوں کو پورا کیا جائے اور اس کے ساتھ باقی تمام مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کا اہتمام ہو۔
عدلیہ کی بحالی واستحکام
سب سے پہلی ضرورت اس بگاڑ اور فساد کی اصلاح ہے جس کا آغاز 9 مارچ ۲۰۰۷ء کو ہوا اور جو نومبر ۲۰۰۷ء کے خلاف دستور اقدام کے نتیجے میں اپنی انتہا کو پانچ گیا۔ اس کے کم از کم تین پہلو ایسے ہیں جن کو سمجھنا اور ان کی اصلاح اور آیندہ کے لیے ملک وملت کو ایسے حالات سے بچانے کے لیے موثر تدابیر کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے۔
اولاً، فرد واحد کی طرف سے دستور، قانون، اسلامی اقدار اور مہذب معاشرے کی روایات کے خلاف پہلے صرف چیف جسٹس کو اور پھر عملاً عدالت عالیہ کے ۶۳ جوں کو برطرف کر دینا، ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کرنا، اپنی مرضی کے جوں کا تعین اور اپنے مفید مطلب فیصلے حاصل کرنے کے لیے آزاد عدلیہ کا قتل۔
ثانیاً، فرد واحد کا یہ دعویٰ کہ بندوق کی قوت سے وہ جب چاہے دستور کو معطل کر سکتا ہے، اس میں من امانی ترامیم کر سکتا ہے، ایمر جنسی نافذ کر سکتا اور اٹھا سکتا ہے، اور ملک کے پورے نظام حکمرانی کو موم کی ناک کی طرح جدھر چاہے موڑ سکتا ہے۔
ثالثاً، نام نہاد عدلیہ کا فرد واحد کو درج بالا دونوں حقوق دے دینا، اس کے حکم پر نیا حلف لے لینا، اس کے غیر قانونی اقدام کو جائز قرار دینا اور اسے دستوری ترمیم کا وہ حق بھی دے دینا جوصرف پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کو حاصل ہے، خود سپریم کورٹ کو بھی حاصل نہیں۔
یہ تینوں جرم پوری ڈھٹائی سے کھلے بندوں ۹ مارچ اور ۳ نومبر کو ہوئے، اور پرویز مشرف کی خود ساختہ عدالت عالیہ نے ان پر مہر تصدیق ثبت کر کے پرویز مشرف کے جرم میں برابر کی شریک ہونے کی سعادت حاصل کر لی۔ بلاشبہ ماضی میں بھی یہ کھیل کھیلا گیا ہے اور غلام محمد اور اس کے شریک کار جسٹس منیر سے لے کر پرویز مشرف اور موجودہ عدالت عالیہ نے ایک ہی جرم کا بار بار ارتکاب کیا ہے، اور پارلیمنٹ نے بھی مصالح کا شکار ہو کر دفعہ ۲۷۰،۲۷ اے اور ۰ ۲۷ اے اے کی شکل میں اس سیاسی جرم کو دستور کا حصہ بنانے کی غلطی کی ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ۶۳ دوسرے جھوں نے اس کی مزاحمت کی، پوری وکلا برادری، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں نے ایک سال تک اس اقدام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا بالآخر فروری ۲۰۰۸ء میں عوام نے اس پورے کھیل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا حتمی فیصلہ دے دیا۔ اب اسمبلی اور نئی حکومت کی اولیں ذمہ داری ہے کہ اس بنیادی خرابی کا ہمیشہ کے لیے ازالہ کر دے۔ اس کی مناسب ترین شکل یہ ہے:
۱ – ایک واضح قرارداد کے ذریعے ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کو غیر دستوری، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور بدنیتی پر مبنی [malafide] قرار دیا جائے اور اسے اس کے نفاذ کے وقت سے کالعدم قرار دیا جائے جس کا واضح نتیجہ یہ ہوگا کہ
ا ۔ چیف جسٹس اور تمام حج اسی حالت میں بحال ہو جائیں گے جس میں وہ ۳ نومبر کی صبح تک تھے اور سات ججوں کا وہ فیصلہ جس نے ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کو غیر دستوری قرار دیا تھا، بحال ہو جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے قانون کی گرفت میں آجائیں گے۔
ب – نومبر کے بعد کے تمام اقدامات بشمول دستوری ترامیم اور انتظامی احکامات اصلاً غیر قانونی قرار پائیں گے، الا یہ کہ پارلیمنٹ حقیقی ضرورت کے تحت ان میں سے کسی یا کچھ کو دفع فساد کی بنیاد پر محدود زندگی دے دے۔
۲ ۔ اس قرارداد کے چار حصے ہونے چاہیں:
اوّل: ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کے اقدام کی نفی اور اس کے تحت کیے ہوئے تمام اقدامات کو قانونی جواز سے محروم کرنا۔
دوم: سابقہ صورت حال [status quo] کی بحالی۔
سوم: اس اصول کا برملا اعلان وتصدیق کہ دستور میں ترمیم کا اختیار نہ چیف آف اسٹاف کو ہے، نہ صدر کو اور نہ سپریم کورٹ کو، بلکہ دستور میں ترمیم کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ دفعہ ۲۳۸ – ۲۳۹ میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اس لیے پی سی او کے تحت حلف لینے والی سپریم کورٹ کے 3 نومبر والے اقدام کو جواز دینے کی نفی، اور آئندہ کے لیے تنبیہ کہ کوئی عدالت اس نوعیت کا اقدام کرنے کی مجاز نہیں۔
چہارم: صرف دفع فساد اور نظام کے تسلسل کی خاطر مندرجہ ذیل امور کے لیے ایک نیا قانونی انتظام کیا جائے جس کے خدو خال کچھ یوں ہو سکتے ہیں:
ا– جو بیج پہلے سے عدلیہ میں موجود تھے، وہ بھی معزول کردہ جوں کی طرح اپنے ماضی کے مقام پر بحال رہیں گے۔ اصولی طور پر جو نئے بیج مقرر کیے گئے ہیں، وہ دستور کی دفعہ ۲۰۹ کی میزان پر احتساب کے سزاوار ہو سکتے ہیں۔ ان کو عہدوں سے فارغ کر دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ دستور اور الجہاد ٹرسٹ کے ججوں کے فیصلے کے مطابق فوری کارروائی کر کے اور خالص میرٹ کی بنیاد پر دستور اور ضابطے کی روشنی میں عدلیہ کی بحالی کے ایک ماہ کے اندر اندر فیصلے کر کے نافذ کر دے۔
۳-۲ نومبر والی ایمر جنسی کے تحت حاصل کردہ اختیارات کے تحت جو بھی اقدام ہوئے ہیں وہ سب قرارداد کے منظور ہونے کے تین ماہ کے اندر کالعدم ہو جا ئیں ، بجز ان کے جن کے جاری رکھنے کا فیصلہ ایک پارلیمانی کمیٹی ان تین ماہ کے اندر کرے۔ اگر یہ کمیٹی فیصلہ نہیں کرتی تو وہ اقدام آئندہ کے لیے ختم ہو جائیں گے ، خواہ اس کے اثرات کچھ بھی ہوں، البتہ جن چیزوں پر عمل ہو چکا ہے، ان کو کم تر برائی کے اصول پر گوارا [condone] کیا جاسکتا ہے۔
۴ ـ اس قرارداد کے آخر میں یہ بھی واضح کر دیا جائے کہ نظریہ ضرورت کے تحت عدالتوں کا جواز دینا [validation] اور پھر پارلیمنٹ کا توثیق کرنا [ratification] ایک غلط سلسلہ ہے جسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے۔ یہ بھی مفید ہوگا کہ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی دستور میں دفعہ ۲۷۰ ،۲۷۰ ۷۱، ۲۷۰ اے اے کے تحت ماضی میں جو جواز مہیا [validate] کیسے گئے ہیں ان کے بارے میں بھی طے کرے۔ یہ پارلیمانی کمیٹی تمام قوانین اور اقدامات کا جائزہ لے اور دوسال کے اندر ان قوانین حکم ناموں اور اقدامات کا تعین کر دے جن کو جواز حاصل رہے اور باقی سب کو منسوخ کر دیا جائے گا تا کہ ماضی کے اس پشتارے کی بھی تطہیر ہو جائے۔ ۴۔ اس قرارداد کے منظور ہوتے ہی اس پر عمل شروع کر دیا جائے اور انتظامی حکم کے ذریعے تمام سابقہ جوں کو بحال کر کے عدل وانصاف کے دستوری عمل کو متحرک کر دیا جائے۔ اس قرار داد کوه ۲۷ اے اے اے کے طور پر دستور کا حصہ بنا دیا جائے تا کہ ماضی میں ۲۷۰ کے تحت جواز [validation] دینے کا جو دروازہ چوپٹ کھول دیا گیا تھا، وہ بھی آئیندہ اس دفعہ کے ذریعے ہی بند کر دیا جائے۔ اس طرح ہمیشہ کے لیے دستور میں قانون ضرورت کے دروازے کو بند کرنے کا کام بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔
۵ ۔ اس کے ساتھ دستور کی دفعہ ۶ میں ترمیم کر کے یہ اضافہ کرنا بھی مفید ہوگا کہ دستور کو معطل کرنا یا غیر موثر [in abeyance] کرنا بھی دستور کی تخریب [subvert] کرنے کی طرح جرم ہے، اور ایسے اقدامات کو جواز فراہم کرنا بھی ایک مساوی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ضروری محسوس کیا جائے تو ایک ترمیم دفعہ ۲۳۸/ ۲۳۹ میں بھی ہو سکتی ہے جو بطور وضاحت [explanation] آ سکتی ہے کہ دستور میں ترمیم کا ان دفعات میں بیان شدہ طریقے کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ معتبر نہیں اور اس کی کوئی گنجایش نہیں کہ کسی ماوراے دستور [extra constitutional] طریقے سے کوئی بھی دستوری ترمیم کرے، اور نہ کسی کو ایسی کوئی ترمیم کرنے کا اختیار کسی کو دینے کا حق ہے۔ اگر کوئی دستور میں اس طرح ترمیم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ دستور کی دفعہ کی زد میں آئے گا۔
‘اعلان مری’ کے تقاضے مندرجہ بالا اقدام کے ذریعے پورے ہو سکتے ہیں۔ جوں کی رہائی ایک اچھا اقدام ہے لیکن اصل مسئلہ جوں کی بحالی اور ۳ نومبر کے اقدام کی مکمل نفی کر کے ملک کے دستور اور نظام عدل کو تحفظ دینا ہے۔ یہ اصول تسلیم کیا جانا چاہیے کہ دستور کی دفعہ ۲۰۹ کے سوا کسی اور طریقے سے جوں کی برطرفی غیر قانونی ہے، البتہ اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ جہاں ۶۳ ججوں نے ایک روشن مثال قائم کی ہے اور کچھ دوسرے بچوں نے پی سی او کے تحت حلف لے کر اور اہل اقتدار سے تعاون کر کے بڑی بُری مثال قائم کی ہے، وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ نظام عدل کو دوبارہ معزز ومحترم بنانے کے لیے سب اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ جہاں اصلاح کی ضرورت ہے، وہ ضرور کی جائے مگر صفوں کو پاٹ کر عدلیہ کی عزت اور کارفرمائی کی بحالی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ عدلیہ کے احتساب کے طریقے پر بھی از سرنو غور کیا جائے اور عدلیہ اور انتظامیہ کے تعلقات خصوصیت سے ایک دوسرے سے ربط اور اثر انگیزی اور اثر پذیری کے نازک معاملات پر صدق دل سے غور کر کے نئے ضابطے اور قواعد بنانے کی ضرورت ہے تا کہ عدلیہ حقیقت میں آزاد عدلیہ بن سکے اور اس سے انصاف کے چشمے پھوٹیں اور ہر کسی کو اس پر اعتماد ہو۔ قانونی اور انتظامی اصلاحات کے ساتھ اس پہلو کی فکر بھی از بس ضروری ہے۔
ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ پارلیمنٹ ۳ نومبر کے اقدام کی نفی کس قانونی ذریعے سے کر سکتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک انتظامی حکم جو خود غیر قانونی تھا اور قانون کی نگاہ میں اس کا آئینی [de jure] وجود ہے ہی نہیں، صرف امر واقع [de facto] ہے، ایک دوسرے انتظامی حکم نامے سے کالعدم کیوں نہیں جاسکتا۔ دنیا بھر کے ماہرین قانون نے اس اقدام کو دستور، قانون اور معروف جمہوری قواعد کے خلاف قرار دیا ہے۔ امریکی حکومت اپنے مفادات میں اندھی ہو کر خواہ کچھ بھی کہتی رہی ہو مگر امریکا کے ماہرین قانون نے اس اقدام کو غلط قرار دیا اور خود امریکی کانگرس نے تلافیما فات کرتے ہوئے کے امارچ کی قرارداد کے ذریعے عدلیہ کی برخاستگی کو خلاط اور بحالی کو اصل ضرورت قرار دیا ہے۔ نیو یارک بار ایسوسی ایشن نے، جس کے ۲۲ ہزار مہر ہیں، اسے غلط قرار دیا ہے اور خود ہمارے ملک کے چوٹی کے ماہرین قانون نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اصل اقدام غلط اور غیر قانونی تھا۔ نومبر کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ۳ نومبر کے ایمر جنسی کے اقدام کو غلط اور بدنیتی پر مبنی [malafide] قرار دے دیا تھا اور عدالت عالیہ کا وہی حکم آج بھی لاگو ہے۔ ۳ نومبر کے غیر قانونی اعلان کے تحت حلف لینے والی عدلیہ کا کوئی فیصلہ قانون کا مقام نہیں رکھتا۔ سابق چیف جسٹس صاحبان میں سے جسٹس اجمل میاں، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سعید الزماں صدیقی نے کہا ہے کہ: ۳ نومبر ۲۰۰۷ء کو نافذ کی جانے والی ایمر جنسی کے تحت جھوں کی معطلی غیر دستوری تھی اور ان کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی سے منظور کردہ قرارداد ہی کافی ہوگی۔ یہی موقف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے ۳ درجن سے زائد جوں کا ہے۔ اس کے بعد کسی اور قانونی موشگافی کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔
دستور کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالا دستی
عدلیہ کی بحالی کے ساتھ دوسرا بنیادی مسئلہ دستور کی بحالی، پارلیمنٹ کی بالا دستی، دستوری اداروں کے درمیان تقسیم اختیارات اور پارلیمنٹ کی کارکردگی کو بہتر اور مؤثر بنانے کا ہے۔
دستور کی بحالی کے سلسلے میں ایک اصولی بات تو یہ کہی جاسکتی ہے کہ جلد از جلد ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی صورت حال کو بحال کیا جائے ۔ میثاق جمہوریت اور اعلان لندن میں اس مسئلے پر ایک موقف اختیار کیا گیا ہے، جزوی اختلاف کے ساتھ ہم نے بھی اس کی تائید کی ہے لیکن چند دوسری بڑی اہم ترمیمات دستور میں ہونی چاہیں تا کہ صرف ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ء والی صورت حال، ہی بحال نہ ہو بلکہ دستور کے اسلامی، پارلیمانی، وفاقی اور فلاحی کردار کے تمام تقاضے پورے ہوسکیں۔ اس کے لیے کم سے کم مندرجہ ذیل امور کے بارے میں مناسب دستوری ترامیم افہام وتفہیم اور موثر مشاورت کے ذریعے کرنے کی ضرورت ہے:
۱ ۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف صدر کے ان اختیارات کو ختم کیا جائے جن کے نتیجے میں صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان توازن ختم ہو گیا اور پارلیمانی نظام ایک قسم کا صدارتی نظام بن گیا ہے، بلکہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ پر انتظامیہ کی بالا دستی کو بھی لگام دی جائے اور پارلیمنٹ ہی اصل فیصلہ کن فورم ہو۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل ترامیم ضروری ہیں:
الف۔ ریاست کے رہنما اصول جو پالیسی سازی کی بنیاد ہونے چاہیں، ان کی روشنی میں تمام خارجی اور داخلی امور پر پارلیمنٹ میں بحث ہو اور بحث کے بعد پالیسی ہدایات [directives] کی شکل میں پارلیمنٹ کی ہدایات مرتب کی جائیں، اور ان کے نفاذ کی رپورٹ پارلیمنٹ میں آئے جس پر بحث ہو۔ ضروری ہے کہ اسے ایک دستوری ذمہ داری قرار دیا جائے۔
ب ۔ بجٹ سازی کا طریقۂ کار یکسر تبدیل کیا جائے۔ بجٹ سے چار مہینے پہلے دونوں ایوانوں میں بجٹ گائیڈ لائن پر بحث ہو جس کی روشنی میں بجٹ کی تجاویز مرتب کی جائیں جو ایک ماہ کے اندر دونوں ایوانوں کی متعلقہ کمیٹیوں میں زیر بحث آئیں اور یہ کمیٹیاں اپنی تجاویز وزارت نزانہ کو دیں۔ اصل بجٹ سال کے اختتام سے تین ماہ پہلے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ سینیٹ میں کم از کم تین ہفتے بحث کے لیے دیے جائیں اور اسمبلی میں آٹھ ہفتے ۔ اس طرح دوناہ میں پارلیمنٹ بجٹ منظور کرے۔ دفاع کا بجٹ بھی بجٹ کے حصے کے طور پر پارلیمنٹ میں زیر بحث آئے اور منظوری لی جائے۔
ج – پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنا دینے والی چیزوں میں سے ایک آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی ہے۔ دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں ایسی کوئی گنجایش موجود نہیں ہے اور جہاں عارضی قانون سازی [temporary legislation] کی گنجایش ہے وہاں بھی بڑی سخت تحدیدات ہیں جن میں ایک ہی قانون کے بار بار آرڈی ننس کے ذریعے نافذ کیے جانے کا دروازہ بند کیا جانا بھی ہے۔ اس طرح حقیقی ضرورت کو بھی واضح [define] کرنے بلکہ قانونی احتساب کے دائرہ اختیار میں لانے کی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت اور پارلیمنٹ کا ریکارڈ اس سلسلے میں بڑا پریشان کن ہے۔ موجودہ اسمبلی نے پانچ سال میں صرف ۵۰ قوانین براے نام بحث کے بعد قبول کیے، جب کہ ان پانچ سالوں میں سے قوانین بذریعہ آرڈی نفس نافذ ہوئے، یعنی انتظامیہ نے پارلیمنٹ کے مشورے اور بحث کے بغیر ان کو نافذ کیا۔ دوسرے الفاظ میں عام قانون سازی کے مقابلے میں آرڈی نفس سے قانون سازی ۱۵۰ فی صد زیادہ تھی۔ بھارت میں بھی آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی کا دروازہ کھلا ہے مگر وہاں پانچ سال میں لوک سبھا نے ۲۴۸ قوانین حقیقی بحث و گفتگو کے بعد منظور کیے، جب کہ صدارتی آرڈی ننسوں کی تعداد پانچ سال میں صرف ۳۴ تھی، یعنی پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے قوانین کا صرف ۱۴انی صد۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑے اہم بل پاکستان کی اسمبلی اور سینیٹ میں زیر غور ر ہے مگر ان پر بحث اور منظوری کی نوبت نہیں آ سکی۔
حقیقت یہ ہے کہ آرڈی ننس سے قانون سازی کا دروازہ بند ہونا چاہیے۔ لیکن اگر اسے ضروری تصور ہی کیا جائے تو یہ شرط ہونی چاہیے کہ اسمبلی کے انعقاد سے ۱۵ دن پہلے اور اس کے التوا کے ۱۵ روز بعد تک کوئی آرڈی ننس جاری نہیں ہوسکتا۔ دو اجلاسوں کے دوران اگر غیر معمولی حالات میں آرڈی ننس جاری کرنا پڑے تو اس کی وجوہ بھی آنی چاہیں۔ محض یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ ایسی وجوہ پائی جاتی ہیں۔ ان کو متعین کرنا ضروری ہے تا کہ پارلیمنٹ اور اگر ضرورت ہو تو خود عدالت اس کا جائزہ لے سکے۔ پھر یہ واضح ہونا چاہیے کہ ایک آرڈی نفس لفظی ترمیم کے بعد بار بار نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انتظامیہ جان بوجھ کر پارلیمنٹ کو نظر انداز [by pass] کرنا چاہتی ہے۔ نیز یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ سال میں ایک خاص تعداد سے زیادہ آرڈی ننس جاری نہیں کیے جاسکتے، مثلاً ایک سال میں پانچ سے زیادہ آرڈی ننس جاری نہ ہوں۔ اس طرح پارلیمنٹ میں قانون سازی اور پالیسی سازی بڑھ سکے گی۔
د ـ پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے اور اس کے کردار کو غیر مؤثر بنانے میں مزید دو عوامل بھی اہم ہیں۔ ایک بین الاقوامی معاہدات کا پارلیمنٹ سے بالا ہی بالا منظور ہو جانا۔ برطانوی دور سے یہ کام کا بینہ کر رہی ہے جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ سامراجی دور میں اس کا جواز ہوگا، جمہوریت میں اس کی کوئی گنجایش نہیں ۔ اس لیے تمام معاہدات کا پارلیمنٹ میں پیش ہونا اور ان میں سے اہم کا دونوں ایوانوں میں یا کم از کم سینیٹ میں توثیق[ratification] ضروری ہونا چاہیے۔
دوسرا مسئلہ اہم تقرریوں [appointments] کا ہے۔ جو تقرریاں پبلک سروس کمیشن سے ہوتی ہیں، وہ ایک معقول طریقہ ہے لیکن جو سفارتی اور انتظامی تقرریاں انتظامیہ اپنی صواب دید پر کرتی ہے ان کی جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹیوں یا دونوں ایوانوں کی مشترک کمیٹیوں کا کردار ہونا چاہیے۔ امریکا میں انتظامیہ کو حدود میں رکھنے اور اہم تقرریاں ذاتی رجحانات کے مقابلے میں اصول اور میرٹ پر کرانے کے لیے تقرری سے پہلے کمیٹی میں پیش ہونے کا طریقہ بڑا موثر ہے۔ اگر ہمارے ملک میں بھی اس سلسلے کو شروع کیا جائے تو یہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کے قیام کے لیے بڑا اہم اقدام ہوگا۔
ہ – اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے ایام کار [working days] کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسمبلی کے لیے ۶۰ اون ایام کار قرار دیے گئے تھے جنھیں کم کر کے ۳۰ دن کر دیا گیا۔ پھر ایک تعبیر کے ذریعے اگر دو دن کی چھٹی درمیان میں آجائے تو وہ بھی ایام کار میں شمار ہونے لگی۔ بالعموم ہفتے میں تین دن اسمبلی یا سینیٹ کے سیشن ہوتے ہیں اور اسے سات دن شمار کیا جاتا ہے۔ پھر اوسطاً اڑھائی گھنٹے فی یوم کی کارکردگی رہی، جب کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں پارلیمنٹ پورے سال سیشن میں رہتی ہے بجز دو یا تین چھٹی کے وقفوں کے۔ ہر روز بحث چھے سات گھنٹے ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لیے اس کی بھی ضرورت ہے کہ ارکان اسمبلی وسینیٹ کو ضروری معلومات فراہم کی جائیں، ان کو مطالعے تحقیق اور قانون سازی کے لیے معاونت ملے ۔ عوام کو پارلیمنٹ کی کمیٹی میں پیش ہونے کا موقع دیا جائے۔ پارلیمانی کمٹمت کی کارروائی کھلی ہو، پارلیمنٹ کی کارکردگی بھی براہِ راست عوام تک پہنچے ۔ وزرا کی شرکت لازمی ہو۔ وزیر اعظم کم از کم ہفتے میں ایک بار نہ صرف پارلیمنٹ میں آئیں بلکہ ان کے لیے کم از کم نصف گھنٹہ سوالات کے جوابات دینے کے لیے مختص کیا جائے۔ یہ وہ اقدام ہیں جن سے پارلیمنٹ کی بالا دستی قائم ہوگی اور کارکردگی میں اضافہ ہو سکے گا۔
۲ – پارلیمنٹ کی بالا دستی کے ساتھ دستور میں اور بھی ایسی ضروری ترامیم درکار ہیں جو گذشتہ ۳۵ سال کے تجربات کی روشنی میں دستور کے اسلامی، اور وفاقی کردار کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ جب ہم دستوری ترامیم کے مسئلے پر غور کر رہے ہیں تو ان امور پر بحث اور تجاویز مرتب کرنا ضروری ہے جس کے لیے ایک گل جماعتی پارلیمانی کمیٹی دونوں ایوانوں کے ان ارکان پر مشتمل قائم کی جائے جو قانون پر نگاہ رکھتے ہوں اور وقت کے تقاضے بھی جن کے سامنے ہوں۔
•پہلا مسئلہ صوبائی خود مختاری کا ہے۔ اس میں مشترک فہرست ختم کر کے ان تمام امور کو صوبوں کو منتقل کرنے پر بڑی جماعتوں میں اتفاق ہے اور ہم بھی اسے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم یہ کافی نہیں۔ وفاقی فہرست کے پارٹ بی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور ان میں کئی چیزیں ایسی ہیں جن میں صوبوں کا عمل دخل ضروری ہے جس کا دروازہ کھلنا چاہیے۔ اسی طرح پیشنل ایکونومک کونسل، کونسل آف کامن انٹرسٹ اور قومی مالیاتی اوارڈ کے پورے نظام کو صوبوں کے مشورے سے مؤثر بنانے بلکہ تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ہر ادارے میں وفاقی حکومت کو بالا دستی حاصل ہے جسے بری طرح استعمال کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور انصاف اور برابری کی بنیاد پر فیصلوں میں شرکت اور فیصلوں کی بر وقت منصفانہ محفلید کو یقینی بنانا ہوگا۔
•دوسرا مسئلہ عدلیہ اور انتظامیہ کی عملاً علاحدگی کا ہے، نیز عدلیہ کومکمل آزادی کے ساتھ، ضروری وسائل کی فراہمی اور پھر اس کا ایک مؤثر نظام احتساب اس لیے کہ زیریں سطح پر عدلیہ میں بڑی خرابیاں ہیں۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے لیے بھی احتساب کا نظام موثر اور شفاف ہونا چاہیے، نیز جو بگاڑ ماضی میں انتظامیہ کی مختلف شکلوں میں مداخلت سے پیدا ہوا ہے اس کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ ایک طرف عدلیہ کو مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیے لیکن دوسری طرف اس کے ذریعے ہر شہری کو بلا تاخیر حقیقی انصاف ملنے کا اہتمام ہونا چاہیے اور عدلیہ پر عوام کو مکمل بھروسا ہونا چاہیے۔ وکلا کا کردار بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انصاف کے حصول کا عام شہری کی دسترس سے باہر ہو جانا اور اس سلسلے میں نہ ختم ہونے والی تاخیر، یہ سب مسائل از سر نوغور وفکر اور نظام میں مناسب تبدیلیوں کا تقاضا کرتے ہیں۔
•تیسرا مسئلہ وفاقی شرعی عدالت کا ہے جسے ایک قسم کا دوسرے درجے کا ادارہ بنا دیا گیا ہے جہاں جوں کو سزا کے طور پر بھیج دیا جاتا ہے، اور جس کے بچوں کو وہ تحفظ حاصل نہیں جو باقی عدلیہ کے جوں کو حاصل ہے نیز اس عدالت کے فیصلوں کو اپیلوں کے ذریعے جان بوجھ کر غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
•چوتھا مسئلہ ایک اور اہم دستوری ادارے اسلامی نظریاتی کونسل اور اس کی رپورٹوں کا ہے۔ ۱۹۷۳ء کے دستور کا تقاضا تھا کہ سات سال کے اندر اندر تمام قوانین کو قرآن وسنت سے ہم آہنگ کر دیا جائے۔ نظریاتی کونسل نے درجنوں رپورٹیں تیار کی ہیں اور سیکڑوں قوانین پر اپنی راے کا اظہار اور ضروری ترامیم کی نشان دہی کی ہے مگر پارلیمنٹ نے ان پر غور کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ، جب کہ سینیٹ میں دو ایک رپورٹوں پر مختصر اور بے نتیجہ بحث ہوئی ۔ ستم ہے کہ ان ۳۵ برسوں میں پارلیمنٹ نے ان رپورٹوں پر غور ہی نہیں کیا ہے چہ جائیکہ ان کی روشنی میں قانون سازی اور پالیسی سازی انجام پاتی۔ یہ دستور کی کھلی خلاف ورزی اور قوم کے ساتھ مذاق ہے۔
•پانچواں مسئلہ سول سروس کے کردار کا ہے جسے ایک طرف دستوری تحفظ کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اس کو حقیقی غیر جانبہ ، دار انتظامیہ بنانے کا مسئلہ ہے۔ اس سوال کو بھی اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے کہ ہر آنے والے اسے اپنے لیے سواری کا گھوڑا بنالے۔
فوج کا کردار اور پرویز مشرف کا مستقبل
عدلیہ کی بحالی، دستوری نظام کی اصلاح اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے قیام کے ساتھ ایک اور بنیادی مسئلہ سیاست میں فوج کے کردار اور خود پرویز مشرف کے مستقبل کا ہے، جو اس ناٹک کے اصل ایکٹر رہے ہیں۔ اصولی طور پر فوج کے چیف آف اسٹاف کا یہ اعلان لائق تحسین اور صحیح سمت میں قدم ہے کہ فوج صرف ایک دستوری اور دفاعی کردار ادا کرے اور سول انتظامیہ اور معاشی میدان میں جو کردار اس نے اختیار کر لیا ہے، وہ ختم کیا جائے۔
مخلوط حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ اپنے معاملات کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ پرویز مشرف کے مستقبل کے معاملے کو بھی دوٹوک انداز میں طے کرے۔ پرویز مشرف نے دستور کا تیا پانچا کیا، پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنایا، فوج کو سیاست اور انتظامیہ میں ملوث کیا۔ پرویز مشرف اور دستوری اور جمہوری نظام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ انھوں نے باعزت رخصت ہونے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ دستوری ترامیم کئے ۔ بعد ان کے مواخذے کی تیاری کی جائے۔ ان کے تاریک دور کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک خود ان کا موثر احتساب نہ ہو، تا کہ قوم اور دنیا کے سامنے یہ حقیقت آسکے کہ جو فرد بھی دستور کا خون کرے گا اور اختیارات کا غلط استعمال کرے گا، اس کا احتساب ہوگا اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام نہیں چل سکتا۔
انتخابات سے پہلے امریکا کی من پسند قیادت کو بروے کار لانے کے لیے کیا کیا پاپڑ نہیں پہلے گئے ۔ کیسے کیسے مفاہمت کے ڈرامے اسٹیج کیے گئے۔ اس کھیل میں پرویز مشرف اور ایم کیوایم کا بڑا کلیدی کردار ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ قوم کو اس سلسلے میں ایک بالکل واضح راستہ اختیار کرنا ہے۔
جس طرح پرویز مشرف کا صدارت پر قابض رہنا ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، اسی طرح ایم کیو ایم کا کردار بہت مخدوش ہے جس کی حیثیت پرویز مشرف کے ایک سیح باز و [armed wing] کی ہے اور جس کے ۱۲مئی ۲۰۰۷ ء کے خونی کھیل کو انھوں نے اسلام آباد میں مسلم لیگ [ق] کے ایک مظاہرے میں اپنا کارنامہ اور اپنی طاقت کا مظہر قرار دیا تھا۔ پانچ سال پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کا گٹھ جوڑ رہا ہے اور اس کے باوجود رہا ہے کہ اقتدار میں آکر انھوں نے اسلام آباد میں چند چوٹی کے صحافیوں کی موجودگی میں الطاف حسین کے بارے میں کہا تھا کہHe is a traitor, period :، وہ ایک غدار ہے — اور بس!
الطاف حسین نے خود بھارت کی سرزمین پر بار بار کہا ہے کہ پاکستان کا قیام ایک غلطی تھا اور برطانیہ کی شہریت لے کر تاج برطانیہ کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہے جو ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایم کیوایم نے قوت کے استعمال سے جس طرح کراچی اور حیدر آباد پر قبضہ کر رکھا ہے اور جس طرح اس کے سزا یافتہ کارکنوں کو شریک اقتدار کیا گیا ہے اور اس کی خاطر قومی مفاہمتی آرڈی ننس [NRO] میں ۱۹۸۶ء سے جرائم کرنے والوں کو بری کیا گیا ، وہ کھلی کتاب ہے۔ ایم کیوایم کو امریکا اور برطانیہ کی تائید حاصل ہے اور وہ پرویز مشرف کے ٹرو جان ہارس کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا موقف بالکل درست ہے کہ اس ریکارڈ کی موجودگی کے باوجود ان کے ساتھ اقتدار میں شرکت پرویز مشرف کو تقویت دینے اور مشرف اور امریکا کے کھیل کی سر پرستی کے مترادف ہوگی۔
اس لیے اسمبلی اور نئی حکومت کو جن بنیادی امور کو طے کرنا ہے ان میں سے ایک پرویز مشرف کے قانونی جواز سے محروم صدارتی تسلط سے نجات بھی ہے تا کہ اس کی دہشت گردی کی جنگ سے بھی ہم نکل سکیں اور اپنے معاملات کو اپنے مفادات کی روشنی میں اور اپنے طریقے سے حل کر سکیں۔
امریکی مداخلت اور خارجہ پالیسی
ملک اور قوم کو پڑی پر لانے کے لیے چوتھا بڑا مسئلہ پاکستان کی پالیسیوں اور معاملات میں امریکا کی مداخلت کو لگام دینا ہے، جسے امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دے کر پوری دنیا میں خوف کی فضا قائم کر کے مسلمان ملکوں خصوصیت سے افغانستان، عراق، لبنان، ایران اور خود پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا ہے، وہ مسلمان امت اور پاکستانی قوم کے لیے نا قابل قبول ہے۔ پاکستانی قوم اسے اسلام، مسلمانوں اور خود پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے خلاف جنگ تصور کرتی ہے اور پرویز مشرف نے امریکا کے اس خطر ناک کھیل میں پاکستان اور اس کی افواج کو جھونک کر جو ظلم کیا ہے اور جس کے نتیجے میں پاکستان دہشت گردی اور خودکش حملوں کی زد میں آ گیا ہے، اس صورت حال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا نے پاکستان کی فضائی اور جغرافیائی حدود کی کھلے عام خلاف ورزی کی ہے، اور کر رہا ہے۔ اس کے جہاز ہماری بستیوں میں بم باری کر رہے ہیں اور بغیر پائلٹ کے جہاز لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا کے حکمرانوں کا دعوی ہے کہ وہ یہ سب کچھ پرویز مشرف سے کسی معاہدے کے تحت کر رہے ہیں۔ امریکی ترجمان بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو یہ حق حاصل ہے اور پاکستان کی افواج اور حکومت، امریکا کے ان تمام جارحانہ اقدامات پر نہ صرف خاموش ہے، بلکہ غیرت کا جنازہ نکال کر اس کے ترجمان یہاں تک کہنے کی جسارت کر چکے ہیں کہ کچھ حملے امریکا نے نہیں خود ہم نے کیسے ہیں۔ اب ان حملوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ گذشتہ چھے ماہ میں امریکا نے سیکڑوں افراد کو ہلاک کر دیا ہے اور پاکستانی ترجمان اپنا نام چھپا کر یہ کہنے لگے ہیں کہ حملے امریکا اور ناٹو کی طرف سے ہو رہے ہیں۔ امریکا ہم پر اپنی پالیسیاں اس حد تک مسلط کر رہا ہے کہ علاقے میں مصالحت کی ہر کوشش کو وہ مستر د [ویٹو] کر دیتا ہے۔ صرف فوجی حل مسلط کر رہا ہے اور ہمیں مسلط کرنے پر مجبور کر رہا ہے اور ہماری فوج کی ٹریننگ اور نیوکلیر اثاثوں کی حفاظت کے نام پر ہمارے دفاعی نظام میں گھنے اور اسے اندر سے سبوتا شرکرنے پر تلا ہوا ہے۔ بات اب اس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے اور کھل کر مطالبے کیے جارہے ہیں کہ جس طرح ۲۰۰۱ء میں ہمارے سات مطالبات مانے تھے، اب گیارہ نکات تسلیم کرو۔ ان مطالبات کی فہرست دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا کسی آزاد اور خود مختار مملکت سے اس نوعیت کے شرم ناک مطالبات بھی کیے جاسکتے ہیں اے مارچ ۲۰۰۸ء] ۔ اس کے ساتھ کوشش ہے کہ ملک کی حکومت سازی میں بھی کردار ادا کرے اور اپنی پسند کے لوگوں کو برسر اقتدار لانے کا کھیل کھیلے اور یہ سب کچھ اعتدال پسند اور لبرل قوتوں کی فتح کے نام پر ہو۔
دیگر در پیش چیلنج
ہمیں احساس ہے کہ ان چار امور کے علاوہ بھی بڑے مسائل ہیں جن میں معاشی مسائل، کرپشن، امن و امان کا مسئلہ، بے روزگاری، بجلی اور پانی کا بحران، ہوش ربا مہنگائی اور بلوچستان اور وزیرستان میں فوج کشی سر فہرست ہیں۔ ان میں سے ہر مسئلہ حل کا تقاضا کر رہا ہے اور حکومت کو اس کی طرف توجہ دینا ہوگی ، البتہ گاڑی کو پڑی پر لانا تر جیح اول ہونا چاہیے۔
— جہاں تک وزیرستان اور بلوچستان کا تعلق ہے، حکومت کو فوج کشی ترک کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ تمام معاملات سیاسی طریقہ کار سے بحسن وخوبی حل ہو جائیں گے۔ امریکا سے صاف کہنے کی ضرورت ہے کہ بہت ہو چکی [enough is enough] ۔ موجودہ قیادت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ امریکا کو ہماری ضرورت ہے، ہمیں امریکا کی اتنی ضرورت نہیں۔ اس لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
— معاشی معاملات زیادہ سنجیدہ ہیں، حکومت کو تین چیزیں ضرور کرنی چاہیں:
•پہلی اور سب سے اہم یہ ہے کہ سارے حقائق قوم کے سامنے لائیں اور جھوٹ کی بنیاد پر جو پالیسیاں اور طفل تسلیاں دی جاتی رہی ہیں، ان کا پردہ چاک کیا جائے اور آئیندہ کے لیے پالیسی کی بنیاد حقائق اور قوم کی حقیقی ضروریات اور ترجیحات ہوں۔ بیرونی قوتوں کی ریشہ دوانیاں اور متمول اور بااثر طبقات کے مفادات کا تحفظ نہ ہو۔ یہ ایک انقلابی اقدام ہوگا جو معیشت کی صحیح رخ پر تشکیل نو کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔
•دوسری بنیادی بات حکومت اور اوپر کی ہر سطح پر حقیقی اور قابل لحاظ کفایت شعاری کا اختیار کیا جاتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس سے جو وسائل حاصل ہوں گے، وہ محدود ہوں گے لیکن یہ ایک انقلابی قدم ہوگا کہ قربانیاں صرف غریب نہیں دے رہے ہیں قیادت اس سے زیادہ قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
• تیسری چیز معاشی پالیسیوں پر کھلی بحث اور ملک کے بہترین دماغوں کو سر جوڑ کر حالات پر قابو پانے اور نئی پالیسیاں تشکیل دینے کے کام پر لگا دینا ہے۔ سب سے بڑھ کر ایک نئی اپروچ کی ضرورت ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں دولت کی ریل پیل کے باوجود غربت، افلاس، فاقہ کشی اور خود کشی ہے، جب کہ غزہ میں اسرائیل کے سارے مظالم، پابندیوں اور کاروبار کے قتل کے باوجود، گو غربت کی سطح آبادی کے ۲۰ فی صد تک پہنچ چکی ہے مگر فاقہ کشی سے موت اور معاشی اسباب سے خود کشی کی کوئی مثال نہیں ۔
اس کی بنیادی وجہ غزہ کی آبادی اور وہاں کی قیادت اور متمول افراد کا یہ کردار ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے اس میں تمام شہریوں کو شامل کر رہے ہیں، مسجدوں میں اجتماعی کھانے کا اہتمام ہوتا ہے اور جو جس کے پاس ہے، لے آتا ہے اور سب اس میں شریک ہو جاتے ہیں۔ غربت ہے مگر عزائم بلند ہیں اور اجتماعی کفالت کی بنیاد پر اسرائیل جیسے طاقت ور دشمن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگر غزہ کے مسلمان یہ مثال قائم کر سکتے ہیں تو ہم پاکستانی اس سمت میں کیوں پیش قدمی نہیں کر سکتے؟ معاشی مسائل اور مشکلات حقیقی ہیں لیکن ان کا حل ممکن ہے بشرطیکہ ہم خود غرض، نفس پرست اور ہوس کے پجاری نہ بنیں، بلکہ اسلام کی دی ہوئی ہدایات کی روشنی میں اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
نومنتخب اسمبلی اور مخلوط حکومت تاریخی دوراہے پر ہے۔ صحیح فیصلہ اور صحیح اقدام کر کے وہ ملک کو ایک تابناک مستقبل کی طرف لے جاسکتی ہے۔ کیا مخلوط حکومت اس چیلنج کا مقابلہ ایمان، غیرت اور حکمت سے کرنے کا عزم اور صلاحیت رکھتی ہے؟
دس هدايات
❖ حالات خواہ کیسے ہی ہوں، جب اذان کی آواز کانوں میں پڑے تو نماز کے لیے اُٹھ کھڑے ہو جاؤ۔
❖ تم قرآن کی تلاوت کر دیا اس کا بغور مطالعہ کر دیا اسے دوسروں سے سنو، بہر حال تم اپنے وقت کا کوئی حصہ بھی بے فائدہ کام میں صرف نہ کرو۔
❖ فصیح اور صاف ستھری زبان میں گفتگو کرنے کی کوشش کرو، یہ کام بھی شعائر اسلام میں سے ہے۔
❖ معاملہ خواہ کسی نوعیت کا بھی ہو، اس میں زیادہ بحث وتکرار سے کام نہ لو، کیونکہ بحث وتکرار سے بہتر نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ۔
❖ زیادہ نہ ہنسو، جو دل خدا سے وابستہ ہوتا ہے وہ بے حد پر سکون ہوتا ہے۔
❖ زیادہ بلند آواز میں گفتگو نہ کرو، اس میں تکبر بھی ہے اور دوسرے کے لیے اذیت بھی۔ مسخرہ پن اختیار نہ کرو، مجاہد قوم سنجیدگی کے سوا کسی چیز سے آشنا نہیں ہوتی۔ لوگوں کی غیبت اور دوسروں پر إلزام تراشی سے بچھو تمھاری زبان سے خیر کے سوا کوئی لفظ نہ نکلے-
❖ جس رفیق سے بھی تمھاری ملاقات ہو، اس سے اپنا تعارف کراؤ، خواہ اس نے خواہش کا اظہار کیا ہو یا نہ کیا ہو، کیونکہ ہماری دعوت کی بنیاد محبت اور تعارف پر استوار ہے۔
❖ اوقات سے زیادہ ہیں، لہذا تم اپنے دوسرے رفقاء کی بھی بھر پور مدد کرو تا کہ وہ اپنے رت سے زیادہ استفادہ کر سکیں اور اگر تمھارے ذمے کوئی خاص مہم ہو تو اسے کم سے کم وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچاؤ۔



