ArticleIslamIslamic EducationMedia Article

تصورعلم وتعلیم

معالم اور متعلم کا رشتہ محض کسی کتاب کی تدریس و تعلیم تک محدود سمجھنا درست نہ ہوگا۔ علم اور تعلیم کا ایک جامع اور واضح تصور اساتذہ کے ذہن میں موجود ہونا چاہیے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تصور علم و تعلیم پر پروفیسر خورشید احمد صاحب نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد میں دینی مدارس کے ذمہ داران کی ایک تربیتی ورک شاپ میں خطاب کیا، جو در اصل اس کتاب کی تیاری کی اسکیم کا حصہ ہی تھا۔اس علمی خطبے کی اہمیت کے پیش نظر اسے معمولی ادارت کے ساتھ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ (مرتب)

اس وقت جس موضوع پر کچھ گزارشات آپ کے سامنے پیش کرنا میرے پیش نظر ہے ، ہو سکتا ہے کہ اُس میں آپ کے لیے کوئی نئی بات نہ ہو کیونکہ ماشاء اللہ آپ خود اصحاب علم ہیں۔ تاہم میری کوشش یہ ہوگیکہ ہم یہ جانیں کہ فی زمانہ علم اور تعلیم کے بارے میں ہمارا تصور کیا ہونا چاہیے؟ ہمیں اس سے کیا حاصل کرنا چاہیے اور اس فیض کو عام کرنے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟

علم کے کردار اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے میری نگاہ میں ذہن میں تازہ کرنے کے لائق سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارا مقام اس دنیا میں کیا ہے؟ اس مقام کی نوعیت سے ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمیں کس قسم کی صلاحیت کی ضرورت ہے، کون سی استعداد ہمیں پیدا کرنی ہے اور کس طرح ہم اس مقصد کو حاصل اور اس کردار کو ادا کر سکتے ہیں؟

اللہ تعالی نے جب تخلیق آدم کا ارادہ فرمایا اور اپنے اس ارادے کا اظہار فرشتوں کے سامنے کیا تو جو کام، ذمہ داری، اور کردار آدم اور اولاد آدم کو اللہ تعالیٰ نے سونپا،وہ استخلاف ہے:

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً

میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔(البقرۃ: ۳۰)

خلیفہ وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا اور مالک کے دیے ہوئے مشن کو اس کی نیابت میں ، اس کے دیے ہوئے اختیار اور امکان کے ذریعے پورا کرنے کی جدو جہد کرے، اور وہ اُسی کے سامنے جوابدہ ہو۔ غور فرمائیے کہ یہ فرمان سن کر فرشتوں نے فوراً اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ جس مخلوق کو یہ مقام دیا جارہا ہے، وہ فساد کی جانب مائل ہو گی۔ اس خدشہ کی وجہ یہ تھی کہ استخلاف آزادی، عقل، اختیار، خیر اور شر میں تمیز کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور جب کسی کو اختیار دیا جائے گا تو اس اختیار کے منفی استعمال کا امکان بہر حال موجود رہتا ہے جو فساد کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اللہ حکیم و علیم نے فرمایا کہ نہیں ، یہ صرف ایک پہلو ہے، میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ یعنی میں جانتا ہوں کہ میرا مقصد کیا ہے، اسے کیا کام انجام دینا ہے اور کیا صلاحیتیں اور اختیارات میں اسے دینے والا ہوں۔ اس موقع پر دو چیزیں ایسی ہیں جو سب سے پہلے ہمارے مالک نے حضرت آدم کو، یعنی ہمیں، دیں: پہلی علم الاشیاء اور دوسری ہدایت۔ علم الاشیاء کیا ہے؟ علم الاشیاء وہ علم ، صلاحیت، عقل ، شعور اور وجدان کی وہ استعداد جس کے ذریعے اشیاء کی حقیقت کو سمجھا جا سکے۔

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا

اور اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے۔ (البقرۃ: ۳۱)

اسم صرف نام نہیں، اسم نمائندہ ہے کسی شئے کی حقیقت کا۔ اور یہی چیز علم ہے۔ علم کی جو بہترین تعریف علماء نے کی، وہ یہ ہے کہ شئے کی حقیقت کو جاننا۔ یعنی علم الاشیاء عطا فرمانے کا مطلب دراصل اشیاء کی حقیقت کو جاننے کا شعور اور صلاحیت دینا ہے۔ اس سے مراد انسان میں وہ استعداد رکھ دینا ہے جس سے ہم اس حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں۔ اس استعداد کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ خیر اور شر، حق اور باطل، اچھائی اور برائی، مطلوب اور نامطلوب، محمود اور مذموم کی پہچان اور تمیز بھی عطا کی جائے۔ یہ معیار واضح طور پر ہمیں دیا گیا اور ابتدائے تخلیق کے ساتھ ہی یہ بتادیا گیا کہ:

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

 پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔ (البقرۃ:۳۸)

تو گویا علم الاشیاء اور ہدایت یہ دو چیزیں ہیں جو اس زمین پر انسان کے سفر کے آغاز ہی میں اسے دی گئیں۔ اور یہی وہ دو چیزیں ہیں جو اُس کو اللہ کے نمائندے اور خلیفہ کے کردار کو ادا کرنے کے لائق بناتی ہیں۔

اب یہ دیکھیے کہ ہمیں جو علم درکار ہے اس کی طرف کتنے پیارے انداز میں اُن اولین آیات میں رہنمائی فرمائی گئی جن سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ہوا:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ –  خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ –  اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ –   الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ – عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ

پڑھو (اے نبی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔ جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ (العلق: ۵-۱)

اس میں پہلی حقیقت ہمیں یہ سمجھائی گئی کہ علم کا منبع اور مرکز (Source) اللہ تعالیٰ ہے۔ اور اسی نے ہمیں وہ علم دیا ہے جس سے ہم آگاہ نہیں تھے۔ یہ اُس کی عنایت ہے، یہ اُس کی رحمت ہے اور یہ اُس کی حکمت ہے۔ اس لیے کہ استخلاف کی ذمہ داری اُس وقت تک ادا نہیں ہو سکتی جب تک انسان کو اس حوالے سے در کارعلم نہ دیا جائے۔ لیکن ابتدا ہی میں اس بات کو واضح کر دیا گیا کہ یہ علم کس ہستی کی دَین ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ یہ علم محض ایک فرد تک محدود ذہنی کیفیت و معرفت کا نام نہیں ہے۔ لیکن فرمایا گیا کہ یہ علم صرف تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ یہ پہنچانے کے لیے ہے: (اقرأ) صرف جاننا ہی نہیں بلکہ اس جاننے کا اقرار اور اظہار کرنا بھی ہے۔ گویا علم کے لیے دو پہلو ہمارے سامنے آگئے ہیں: ایک حقیقت کو جاننا اور دوسرا جو جانا ہے اُس کو پہنچانا۔

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ

اے پیغمبر! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔) المائدہ: ۶۷)

یوں ابلاغ بھی دراصل علم کا لازمی پہلو ہے۔

تو پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ علم کا منع اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ علم جو دیا گیا ہمیں اشیاء کو سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ تیسری چیز یہ معلوم ہوئی کہ جوعلم ہمیں دیا گیا ہے ہم اُس پر سانپ بن کر نہیں بیٹھیں گے بلکہ اسے آگے پھیلائیں گے۔

اس کے بعد سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دنیاوی اعتبار سے تین میدان ایسے ہیں جن میں ہمیں کارفرما ہونا ہے۔ اور یہ تین میدان حقیقت میں علم کی تین اہم جہتیں ہیں۔ ایک جہت ہے یہ کائنات، اس کا قطعی وجود، اس کے وسائل، اس میں پوشیدہ دولت، وسائل ، امکانات فرمایا : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ یہ عالم خلق ، یہ پوری کائنات اور انسان سمیت جو کچھ اس کے اندر ہے۔ خلق کا لفظ اس پوری طبعی دنیا کا احاطہ کر لیتا ہے۔ یعنی عمل کا پہلا میدان جس میں ہمیں اپنے علم کو کام میں لانا ہے وہ یہ فزیکل ورلڈ ہے۔ دوسری جہت انسان ہے یعنی نفس انسانی۔ انفس اور آفاق باہم منسلک ہیں۔ اسی کا تذکرہ اس وحی میں یوں ہے: خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ یہاں علق کا ذکر اس لیے ہے کہ جسمانی اور مادی وجود یا فزیکل ورلڈ کے ساتھ ساتھ جو دوسری دنیا ہے، یعنی بیالوجیکل ورلڈ، یا حیاتیاتی دنیا، جس میں انسان اور تمام جاندار شامل ہیں، یہ بھی علم کی ایک جہت ہے۔ اور علم کی تیسری جہت اور عالم یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں، استعداد اور عقل کو طبعی اور حیاتیاتی دنیا سے حاصل شدہ وسائل کے ساتھ ملا کر کچھ نئی چیز بناتا ہے۔ اس کے لیے آپ دیکھیے کہ فرمایا: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ لفظ قلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو تحریر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ جو قراءۃ اور ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ قلم مظہر ہے وسائل یعنی ٹیکنالوجی کا، انسان کی کوششوں کے حاصلات کا، کہ کس طرح وہ ایک خام چیز کو ترقی دے کر آگے بڑھنے کا ذریعہ بناتا ہے ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے دنیا میں ساری ترقیاں واقع ہوتی ہیں۔ تہذیب و تمدن کے تمام مظاہر کا وجود اسی عمل سے ہے۔ تو پھر جان لیجیے کہ یہی تین چیزیں —  یعنی طبعی دنیا، حیاتیاتی دنیا اور ٹیکنالوجی —  استخلاف کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ تینوں علم کی مختلف جہتوں اور دائروں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ لیکن اسلام کی منفرد خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ دیگر اقوام نے محدود نظری سے کام لیا ہے۔ کسی نے طبعی دنیا پر انحصار کیا ہے، کسی نے حیاتیاتی دنیا پر کیا ہے اور کسی نے ٹیکنالوجی پر کیا ہے، کسی نے ان تینوں پر کیا ہے۔ لیکن جو اصل منبع اور مرکز ومحور ہے اُسے وہ بھول گئے ۔ وہ ہے اللہ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا علم، رہنمائی، ہدایت۔ اگر یہ تینوں جہاتِ علم اُس مرکزیت کے ساتھ ہوں تو یہ علم اور اس کے تحت کی گئی ہر کوشش اسلام کے تصور کے مطابق ہوگی، اور اگر اُس مرکزیت سے ٹوٹ جائیں، علم پھر بھی رہتا ہے، اُس کے اثرات پھر بھی نکلیں گے، وسائل بھی ملیں گے لیکن وہ پھر اسلام کے تصور سے دور اور فائدے میں کم تر ہو جائے گا۔

آپ غور فرمائیں کہ یہ کیسا انقلابی ، جامع اور روشن تصورِ علم ہے جو ہمیں دیا گیا ہے۔ اور یہی وہ علم ہے جسے نور، رحمت اور حکمت کہا گیا ہے۔ یہ سارے پہلواُسی علم کے اندر ہیں اور صرف اسلام ہی کا تصورِ علم ان تمام پہلوؤں کا جامع ہے۔

اب میں مختصراً ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کروں گا جو میری نگاہ میں اسلام کے تصور علم کے مختلف رخوں کو واضح کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلی نمایاں چیز یہ ہے کہ اسلام میں علم کی بنیاد حق اور یقین پر ہے۔ مغربی دنیا اور خصوصیت سے قدیم یونان یا جدید یورپ کو دیکھیں تو آپ یہ پائیں گے کہ اُن کے ہاں علم کا آغاز شک سے ہوتا ہے۔ بلاشبہ سوال، استفہام جستجو حصول علم کا ایک حصہ ہے۔ لیکن یہ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس نے مستحکم بنیاد کے ساتھ علم انسان کو دیا۔ محض ٹامک ٹوئیاں مارنے کے لیے اور اندھیروں میں گھومنے پھرنے کے لیے نہیں۔ بلکہ یہاں علم کا آغاز روشنی سے، نور سے، ہدایت سے اور یقین سے ہوتا ہے۔ اور اس یقین کے بعد پھر پورا میدان تجربے کا ، دریافت کا، جستجو کا، ایجاد کا،اختراع کا نئی سوچ کا ہمیں دیا۔ لیکن ان سب علمی کاوشوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی۔ تو دراصل حق ، صداقت، اسلام کے تصورِ علم کی پہلی بنیاد ہے۔ اسی طرف اقبال نے بھی اشارہ کیا ہے جہاں اُس نے کہا کہ

سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تو پہلی چیز صداقت ہے، یعنی مبنی برحق ہونا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایمان اور یقین ایک ہی تصویر کے دورُخ ہیں ۔ زبان سے اقرار اور دل سے اُس کی تصدیق۔ تو ہم کسی شک کی بنیاد پر نہیں کھڑے ہیں بلکہ ہم تو بڑی مضبوط بنیاد پر ہیں۔ اور یہی چیز اسلام کو منفرد کرتی ہے باقی تمام علوم سے، اور علوم کے باقی تمام پیراڈائم یا مثالیوں سے۔ تو اس لیے پہلی چیز حقانیت ہے۔

حقانیت کے بعد میری نگاہ میں دوسری چیز کلیت ہے۔ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے، تہذیبوں کو پڑھیے، مذاہب کو دیکھیے۔ انسانوں نے زندگی کو خانوں میں بانٹ دیا ہے اور پھر تخصص (specialization) کے نام پر ایک ہی خانے کو کل سمجھ کر ہر مسئلے کا حل اس میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور نتیجتا ًٹھوکریں کھائی ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوا ہے کہ انسان، انسانی زندگی ، تہذیب و تمدن اور اس کے سارے پہلو، یعنی روحانی اور مادی، انفرادی اور اجتماعی، خاندانی اور معاشرتی ، سیاسی اور معاشی، ہلکی اور بین الاقوامی وغیرہ ، یہ تمام ایک ہی کل کے مختلف پہلو ہیں۔ ان کو خانوں میں بانٹ دینا اور ان میں سے کسی ایک کو لے کر کل سمجھ لینا، یہ وجہ ہے بگاڑ کی اور خامی کی۔ اس کے مقابلے میں یہ تصور کہ زندگی کے تمام پہلو ایک ہی روشنی ، ایک ہی بنیادر کھتے ہیں، سب کا خالق اللہ ہے، سب کو اسی کی طرف جانا ہے، اور اسی بنیاد پر زندگی کو آپ خانوں میں بانٹ نہیں سکتے ، اس جامع سوچ کو جنم دیتا ہے جو انسانی مسائل اور الجھنوں کے حل کے لیے درکار ہے۔ اس کلیت کا تقاضہ کرتے ہوئے اللہ نےفرمایا:

ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ

تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔)البقرة: ۲۰۸)

گویا کلیت اور جامعیت اسلام کے تصورِ علم کا امتیاز ہے کہ اس نے ہر پہلو کو اس میں شامل کیا ہے لیکن جب ہم نے علم کو خانوں کے اندر بانٹ دیا، کچھ کو ہم لے کر بیٹھ گئے اور کچھ کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیا، تو ہم پر بھی وہی کچھ گزری جو دوسری رو بہ زوال اقوام پر گزری تھی۔ ہمارے پاس علم کی ایک ہی کھلی شاہراہ ہے اور ایک ہی منبعِ نور سے زندگی کے سارے میدانوں کے لیے اس طرح روشنی حاصل کرنی ہے کہ ہر پہلو کے تقاضے پورے ہو جا ئیں اور علم و عمل کی کوئی بھی شاخ اصل سے نہ کٹے۔یہ ہے علم کی کلیت اور جامعیت ۔

اسلام کے تصورِ علم میں تیسری اہم چیز نافعیت ہے ، اور یہ وہ چیز ہے جس کی طلب ہمیں خود معلِم کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا

اے اللہ میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں ۔(سنن ابن ماجہ )

علمِ غیر نافع سے پناہ مانگی گئی ہے۔ گویا علم خیر بھی ہو سکتا ہے اور شربھی۔ علم کے ذریعے حاصل شده وسائل ، سوچ ، معلومات، مہارت اور ٹیکنالوجی کو اچھائی اور برائی دونوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے:

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا –  قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا –  وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا

پھر اس کی بدی اور اس کی پر ہیز گاری اس پر الہام کر دی۔ یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہو اوہ جس نے اس کو دبا دیا۔ (الشمس: ۱۰-۸)

تو معلوم ہوا کہ یہ فرق ہمیں کرنا پڑے گا کہ کیا علم نافع ہے اور کیا علم غیر نافع ہے اور کس طرح علم غیر نافع سے اجتناب اور علم نافع کے ذریعے سے اپنی زندگی کی تعمیر کرنی ہے۔ تو نافعیت میری نگاہ میں اسلام کے تصور علم کا تیسرا بڑا اہم پہلو ہے۔

چوتھا پہلو اس کی حرکیت ہے۔ ایک طرف مضبوط بنیاد، یقین ، ابدی ہدایت اور وہ اقدار ہمیں دے دی گئی ہیں، وہ ایمانیات اور وہ حقائق ہمیں بتادیے گئے ہیں جو محکمات ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ زندگی میں تغیر آتا ہے، زمانہ بدلتا ہے۔ تاریخ کے جو قدم آگے بڑھتے ہیں، ٹیکنالوجی میں جو بھی فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں، تمدن میں جتنی بھی گہرائی اور وسعت پیدا ہوتی ہے، باریکی اور پیچیدگی آتی ہے، ان سب کے ساتھ وسائل و معاملات میں ترمیم بہت اہم ہے۔ اس ضمن میں ایک طرف اپنی بنیاد سے جڑے رہنا، اصول اور اقدار کے معاملے میں یکسوئی اور یک رنگی ضروری ہے لیکن دوسری طرف نئے حالات اور نئے مسائل کا ادراک بھی ضروری ہے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری قوموں سے مسابقت بھی ایک مسلسل اور لازمی عمل ہے۔ اور اُس مسابقت میں بھی ہماری سوچ اور کوشش مثبت اور نفع رساں ہونی چاہیے: سَابِقُوا فِی الخَيْرَاتِ۔ حرکیت ہی وہ خوبی ہے جس کی طرف حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ والی مشہور حدیث مبارکہ (سنن الترمذی ) میں رہنمائی دی گئی ہے کہ جو مسائل پیش آئیں، ان کا حل اولاً قرآن اور پھر سنت نبوی صلى الله عليہ وسلم میں تلاش کیا جائے۔ وہاں اگر حکم موجود ہے، تو بلا تر دو اس پر عمل کیا جائے۔ وہاں اگر بظاہر حکم موجود نہیں ہے تو شریعت کا منشا جاننے کی کوشش کی جائے اور اصولوں کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ اسی رہنمائی کی روشنی میں ہمارے بزرگوں نے اصولِ استنباط مرتب کیے ہیں۔ یہی وہ اصول ہیں جن کی روشنی میں ماہرین اجتہاد کر سکتے ہیں۔ اجتہاد بگٹٹ آزادی کا نام نہیں۔ اجتہاد نام ہے دین کے عطاکردہ فریم ورک کے اندر آگے بڑھنے کا اور یہی وہ مشق ہے جو اسلام کو حرکیت عطا کرتی ہے۔ قرآن پاک میں کئی ایسے مظاہر کا تذکرہ ہے جنہیں اُس دور کے اہل علم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، اور آج چودہ سو سال کے بعد غیر مسلم سائنسدان بھی ایسے ہیں جو حالیہ تحقیق کی بنیاد پر قرآن کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔

جو علم اللہ تعالٰی نے دیا اُس میں جو کچھ ہے وہ مبنی برحق ہے۔ تاہم متعدد ایسے امور ہیں جن کے حوالے سے انسان کا علم اس حد تک نہیں پہنچ سکا کہ ان کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہو سکے لیکن وہ معلوم کر سکتا ہے اور اسے معلوم کرنا چاہیے۔ اُس کے لیے جستجو اور کوشش کے لیے ابھارا گیا ہے۔ تو علم کے افق کو برابر آگے بڑھانا اور اپنے مسائل اور اپنے حالات کی مناسبت سے اُس سے کام لینا علم کی حرکیت کی علامت ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام اور خصوصاً حضور اکرم صلى الله عليہ وسلم کا جو وظیفہ قرآن نے بیان کیا ہے اُس میں صرف تلاوتِ آیات ہی نہیں بلکہ تلاوتِ آیات کے ساتھ تزکیہ نفس بھی ہے، تا کہ انسان کی سوچ پختہ اور نگاہ عبرت انگیز ہو اور اس کا تدبر و تفکر راست ہو۔ پھر تعلیم الکتاب کی تلقین ہے۔ فکری طور پر تعلیم الكتاب تلاوت ِکتاب سے زیادہ اہم ہے۔ اس کو تبیین کہا گیا ہے۔ یہی سنت کی شکل میں اور حضور کی نصیحت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیمِ حکمت بھی مطلوب ہے۔ اور تعلیمِ حکمت نام ہے تعلیم الکتاب سے اگلے قدم کا۔ یعنی کس طرح اُس تعلیم کو اپنے حالات کے اوپر منطبق کیا جائے۔ کلام اور تصور، خواہ اُس کا تعلق جسمانی اور مادی (physical) دنیا سے ہو یا انسانی اور حیاتیاتی دنیا سے ہو، یہ بے شمار علوم صرف اللہ کے حکم کو سمجھنے کا ذریعہ ہیں۔

پانچویں خصوصیت عملیت ہے۔ ایمان اور عملِ صالح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ علم اور عمل میں نا قا بلِ انقطاع رشتہ ہے۔ یہ رشتہ اگر ٹوٹ جائے تو علم ثمر آور نہیں رہتا۔ اور عمل اگر علم پر مبنی نہ ہو تو وہ گمراہی اور خسران کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس طرح عملیت علم ہی کا ایک حصہ ہے اور یہ خصوصیت بھی اسلام کی نگاہ میں لازمی ہے۔

میری نگاہ میں اسلام کے تصورِ علم کی تعبیر میں آخری چیز مقصدیت ہے۔ علم محض معلومات جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ معرفت الہی اور معرفت نفس کے لیے ہے۔ علم فلاح اور سعادت، خیر اور شر اور حسنات اور سیئات کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ہے۔ گویا یہ دنیا اور آخرت دونوں کو محیط ہے۔ علم کا مقصد ہی دنیا اور آخرت کو ساتھ ساتھ رکھنا ہے۔ امام غزالی نے اپنی معرکتہ الآراء تصنیف ”احیاء العلوم “میں سب سے پہلی بحث علم ہی کے بارے میں کی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے علم کی مقصدیت کو ایک جملے میں اس طرح واضح فرمایا ہے: ”أَصْل السَّعَادَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ هُوَ الْعِلْمُ “ ( دنیا اور آخرت کی سعادت کی بنیاد یہی علم ہے)۔

اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم سے سفر ِحیات کا آغاز ہوا ہے۔ اور چونکہ علم منصب استخلاف کی ادائیگی کی بنیادی ضرورت ہے اس لیے علم کے لیے درکار استعداد بھی دی گئی ہے اور اس استعداد کے درست استعمال کے لیے رہنمائی بھی دی گئی ہے۔ یوں علم زندگی کو روشن کرنے اور تاریکی کو دور کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی رہنمائی، جو اس نے اپنے انبیائے کرام کے ذریعے سے دی ہے، یہ وہ بنیاد ہے جو ہمیں ایک نعمت کے طور پر حاصل ہے۔ اس نعمت کا ادراک، احسان مندی اور اس سے روشنی حاصل کر کے استخلاف کے مقصد اور مشن کو حاصل کرتا ہمارا مطمحِ نظر ہونا چاہیے، جس پر ہماری کامیابی یا نا کامی کا انحصار ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے، میں پورے عجز کے ساتھ آپ سے یہ بات کہتا ہوں کہ یہ انفرادیت اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اُس نے ایک طرف تو علم کو حیاتِ انسانی کا آغاز اور منتہا قرار دیا ہے۔ اور دوسری جانب نبوت اور قیادت کے لیے علم اور جسم ، یعنی مادی قوت اور علمی قوت ان دونوں کو ضروری قرار دیا۔ نیز اس تسلسل میں علم کو ہر انسان کے لیے فریضہ قرار دیا۔ بلاشبہ اتناعلم حاصل کرنا تو ہر فرد پر، مرد اور عورت ہر ایک پر ، لازمی اور فرض ہے جس سے وہ اللہ کی مرضی سے واقف ہو جائے اور یہ جان لے کہ خیر کیا ہے اور شرکیا ہے اور انسان کی کامیابی اور ناکامی کے دونوں راستوں کے نشانات کیا ہیں۔ یہ علم تو فرضِ عین ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام علوم جو استخلاف کی ذمہ داریوں کو اجتماعی یا انفرادی طور پر ادا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کی حیثیت فرض کفایہ کی ہے۔ یعنی معاشرے میں جتنے افراد اس کے لیے ضروری ہیں، وہ یہ علم حاصل کریں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو سب ذمہ دار ہیں، لیکن اگر یہ ضرورت کچھ افراد کے ذریعے پوری ہو جاتی ہے تو وہ سب کے لیے خیر و برکت کا باعث ہے اور کسی پر بھی اس کی جوابدہی نہیں رہتی۔ امام غزالی نے بھی اور شاہ ولی اللہ نے بھی بڑے اچھے انداز میں اس بات پر بحث کی ہے اور کہا ہے کہ مختلف صنعتیں، مختلف حرفتیں، مختلف کام، یہ سب فرض کفایہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اور یہ سب مل کر مسلم معاشرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ تو فرض کا تصور وسیع اور لچکدار ہے۔ اوروں نے علم کی اہمیت ضرور مانی ہے لیکن علم کو جو مقام اسلام نے دیا ہے اُس کی کوئی اور مثال نہیں ہے۔

غالباً انسانی تاریخ میں یونان اور چین دو تہذیہیں ایسی ہیں جنہوں نے علم کو بڑی اہمیت دی، لیکن میرے مطالعہ کے مطابق، ان دونوں ہی میں علم کا یہ تصور کہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کرے، موجود نہیں ہے۔ بلکہ علم کسی مخصوص طبقہ میں یا ضرورت کی مناسبت سے مختلف گروہوں میں محصور رہا ہے ۔ لیکن اسلام نے علم کا حصول معاشرے کے ہر فرد کا فریضہ بنایا۔ یہ تو ہمارے وجود اور ترقی ، استخلاف کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے ، شہادت حق کا کردار ادا کرنے اور دنیا کی قیادت کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرے میں تعلیم ہر فرد کا حق رہی ہے، اور یہاں معاشرہ اور ریاست دونوں اسے فراہم کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ آج ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب اہل علم اس انداز میں اہل فضل نہیں رہے جیسا کہ ہماری روایت رہی ہے۔ اسلامی تاریخ کے اولین ادوار میں آزادی، حصول علم، تحقیق اور جستجو، حرکیت اور یہ تمام چھے پہلو جن کا میں نے ذکر کیا، یہ سامنے تھے جن کی وجہ سے اسلام کو آمدِ بہار جیسا فروغ حاصل ہوا۔ لیکن جیسے جیسے ہم علم کے میدان سے پیچھے ہٹے، ذہنی، معاشی، تہذیبی اعتبارات سے بھی پیچھے رہ گئے ۔ اگر آج بھی آپ کو قیادت حاصل ہو سکتی ہے تو وہ علم کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ علمی قیادت کے ساتھ جسد یعنی مادی طاقت ( physical power) بھی چاہیے، لیکن بنیاد یہی ہے۔

اب میں موضوع کے دوسرے پہلو کی طرف آتا ہوں ۔ تعلیم نام ہے دراصل اُس نظام کا جس کے ذریعے سے علم کو ان تمام وسعتوں کے ساتھ جس میں معلومات اور مہارت ( skills) شامل ہیں ایک نسل دوسری نسل کو منتقل کرتی ہے۔ اور یہ بھی ایک انسانی اور روحانی ضرورت ہے۔ انسانی ضرورت کس طرح ہے؟ اگر عالم حیوانات پر نظر ڈالی جائے تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانوں کی جبلت میں یہ بات رکھ دی کہ اُن کو اپنی بقا کے لیے جو علم اور مہارت چاہیے وہ اُن کو حاصل ہوگئی ہے۔ ایک مرغی کا چوزا انڈے سے جب نکلتا ہے تو پہلا کام یہ کرتا ہے کہ زمین پر چونچ مارتا ہے۔ اس لیے کہ رزق کے حصول کے لیے اُس کی جبلت نے اُس کی رہنمائی کردی۔ لیکن انسان کے معاملے میں نو مولود کو ماں کی گود کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ماں کے دودھ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن وہ اسے بھی خود نہیں حاصل کر سکتا۔ اسی طرح زندگی و بقا کے لیے جو بھی چیز اُسے مطلوب ہے وہ ماں کی گود، خاندان، معاشرہ، ریاست اور ماحول کی مدد سے اسے حاصل ہوتی ہے اور یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اُسے اس لائق بنائے کہ وہ اپنا کردار ادا کر سکے۔ اور پھر یہ دیکھیے کہ وہ کس طرح اپنا کردار اور اپنی شخصیت حاصل کرتا ہے۔ ماں کی گود اور خاندان سے، مدر سے اور مسجد سے، معاشرے اور معیشت سے اور اردگرد موجود تقریباً ہر انسان کا اس کی شخصیت سازی میں کردار ہوتا ہے۔ یوں تعلیم نام ہے سیکھنے سکھانے کے اُس نظام کا جو گود سے گور تک یا بالفاظِ دیگر مہد سے لحد تک جاری رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں تعلیم کا تصور کسی خاص وقت یا عمر کے ساتھ محدود نہیں ہے، بلکہ تعلیم کا آغاز شعور کی آنکھ کھولنے سے ہے اور اختتام آنکھ بند کرنے پر ہے۔ خواہ اُس علم کا تعلق گردو پیش سے ہو یا خود انسان کے ظاہر و باطن سے ہو۔ یادرکھیں کہ یہ بے شمار علوم صرف اللہ کے حکم کو سمجھنے اور انسان سازی کرنے کے لیے ہیں۔

تعلیم کے لیے جہاں کسی ادارے یا انسٹی ٹیوشن کی ضرورت ہو، وہاں اس کا انتظام کرنا ،تعلیم کے نظام کا حصہ ہے۔ اس انتظام کے ذریعے سے افراد کی صحیح وقت پر صحیح رہنمائی کی جاتی ہے۔ محض بقا (Survival) کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور نئے تجربات کے لیے اور آگے بڑھنے کے لیے بھی یہ تمام پہلو تعلیم کے اس تصور میں شامل ہیں۔ تعلیم در اصل انسان کو انسان بنانا ہے۔ اسی لیے آپ دیکھیے کہ اسلامی تاریخ میں تزکیہ، تربیت، فضل، عمل اور حکمت کی بہت اہمیت رہی ہے۔ اور جہاں تک مجھے یاد ہے، علم اور اس کے متعلقات کا ذکر قرآنِ پاک میں سات سو سے زائد مقامات پر آیا ہے۔ اس طرح علم زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ چنانچہ تعلیم کا ایک وہ نظام ضروری ہے جس میں ہر بچے کو ، اور ہرنئی نسل کو اس لائق بنایا جائے کہ وہ آگے بڑھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کا عمل آخری سانس تک جاری رہنے کا عمل بھی موجود ہو۔ البتہ ہر مرحلے میں وہ انتظام درکار نہیں ہے، انتظام وہ ہونا چاہیے جس کی ضرورت آپ کو عمر کے اُس خاص مرحلے میں ہو۔

بنیادی بات یہ ہے کہ تعلیمی نظام کا مقصد طالب علم میں تین چیزیں پیدا کرنا ہے :

پہلی ہے معلومات، علوم کو منتقل کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے حیوانوں کو اُن کی ترقی کے لیے درکار چیزیں جبلت کے ذریعے دے دی ہیں۔ لیکن انسانی دنیا میں کچھ چیزیں جبلت کے ذریعے ملی ہیں، اور باقی چیز یں تعلیم وتربیت کے ذریعے ملتی ہیں اور پھر وہ انسانی شخصیت کا حصہ بنتی ہیں۔ یہ شخصیت سازی اور تزکیہ تعلیم کا کام ہے۔ ماضی میں جو کچھ بنی نوع انسان نے حاصل کیا ہے یا سیکھا ہے وہ اُسے از خود اپنے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انگریزی میں ایک محاورہ ہے کہ re-inventing the wheel یعنی پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنا۔ یا اُردو میں کہتے ہیں ’تحصیلِ حاصل ‘۔ یعنی وہ چیز حاصل کرنا جو پہلے ہی حاصل ہے۔ یعنی پہیہ تو ایجاد ہو چکا ہے، اور اس کے استعمالات میں بہت تنوع آچکا ہے۔ یہ علم آج کے بچے تک پہنچ جائے تا کہ وہ اس علم کو مزید ترقی دے کر اور آگے بڑھائے معلومات یا علم پہنچانے کا مقصد یہی ہے کہ جو کچھ انسان نے آج تک حاصل کیا ہے اُسے آگے بڑھا کر نئی نسل میں منتقل کرنا ہے۔

 معلومات کی فراہمی کے بعد دوسری چیز انسان میں مہارت، استعداد اور ایسی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہے جس سے وہ خود آگے بڑھ سکے۔ تعلیم کا وہ نظام جو محض نقل پر مبنی ہو، جو عقل کے استعمال کا موقع نہ دیتا ہو، جو جستجو اور تجسس اور ادر اک اور اختراع کے لیے آپ کو آمادہ نہ کرتا ہو، وہ ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس لیے مسئلہ صرف علم دینے کا نہیں ہے بلکہ استعداد بھی پیدا کرنا ہے۔ چینیوں کی بڑی پیاری مثل ہے کہ اگر تم ایک شخص کو ایک وقت کی خوراک دینا چاہتے ہو تو اُسے مچھلی کھانے کو دے دو، لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ وہ زندگی بھر اپنی ضروریات پوری کرتا ر ہے، تو اسے مچھلی پکڑنا سکھا دو۔

If you want to feed a person once, give him fish; but if you want to feed him forever, teach him fishing.

چنانچہ تعلیم کا دوسرا مقصد استعداد پیدا کرنا ہے۔اسی لیے جستجو اور اختراع اور ایجاد ضروری ہے۔ جمود اور تقلید ذہن پر زنگ کا کام کرتے ہیں۔ اگر رٹ کر اور محض یاد کر کے چیزوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے تو اُس سے عقل کو جلا حاصل نہیں ہوتی۔ تو علم کے ساتھ ساتھ استعدادبھی تعلیم کے عمل کا حصہ ہے۔

 تیسری چیز ہے کردار اور اخلاق- علوم کی منتقلی اور استعداد سے کردار اور اخلاق تشکیل پاتے ہیں، تب اسلام کا تعلیمی نظام بنتا ہے، درحقیقت اسلام کے تعلیمی نظام میں ہر دور میں بیک وقت ان تینوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ انسان کو روزی بھی کمانی ہے ، گھر بھی پالنا ہے ، ہال بچوں کی خدمت بھی کرنی ہے، ملکی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے۔ بلاشبہ یہ ساری صلاحیتیں ، استعداد تعلیمی نظام کے ذریعے طلبہ میں پیدا ہونی چاہیں ۔ یہ سب کس لیے ہوں، کن مقاصد کے لیے اور کن اقدار کی روشنی میں ہوں؟ یہ بھی تعلیمی عمل سے وابستہ اساتذہ اور مہتممین کو دیکھنا ہے۔ اور ساتھ ساتھ ڈسپلن یعنی اپنی صلاحیتوں کو ٹھیک سے استعمال کرنا، خیر اور شر میں تمیز بھی ضروری ہیں۔

یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ جب انسان میں پیدا ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کا مطلوبہ نظام ِتعلیم ہے۔

آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں منتشر ہوگئی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں دی جانے والی سیکولر تعلیم کا مقصد صرف استعداد پیدا کرنا اور روزگار کے لیے اہل بنا دینا رہ گیا ہے۔ دینی تعلیم کے نظام میں صرف دینی تعلیم دی گئی ہے لیکن ساتھ ساتھ جس قسم کا کردار اُسے آج معاشرہ سازی اور تاریخ سازی میں ادا کرنا چاہیے، وہ استعداد بالعموم نہیں پیدا کی جارہی ۔ جہاں کہیں اس کی کوئی فکر موجود ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن یہ جس انداز اور مقدار میں ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ پاکستان میں تو ظلم یہ ہے کہ اب ایک نہیں متوازی طور پر تین تین نظام ہائے تعلیم یہاں کام کر رہے ہیں: ایک سرکاری اور سیکولر نظام ہے جس کو دین سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف دنیا کے لیے ہے۔ پھر دینی تعلیم ہے جس میں دنیاوی پہلو کو بالعموم نظر انداز کیا گیا ہے۔ الحمد للہ اب کچھ احساس اور اس کی بنیاد پر عمل شروع کیا گیا ہے لیکن بہر حال وہ کم ہے۔ اور وہاں سے فارغ لوگ زندگی کے ہر شعبے میں کارکردگی اور قیادت کی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے۔ حالانکہ اصولاً ان کے اندر یہ استعداد ہونی چاہیے۔ اور تیسرا خالص غیر ملکی نظام ہے جو ہم پر اولیول اور اے لیول کی شکل میں ٹھونس دیا گیا ہے اور اب لاکھوں افراد ایسے سٹم کے ذریعے تیار (produce) کیے جارہے ہیں جو نہ اپنی مادری زبان سے واقف ہیں، نہ اپنی قومی زبان سے واقف ہیں ، نہ اپنی ثقافت، دین، اقدار و روایات سے۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا یکساں نظام تعلیم ہو جو ان تینوں پہلوؤں کو اپنے اندر سمو سکے۔

یہاں میں آپ کو یاد دلاؤں کہ کس طرح ہر شعبۂ علم، ہر شعبۂ ایجاد و جستجو ہماری تاریخ میں خود قرآن وسنت کی بنیاد اور اس سے تعلق کے نتیجہ میں رونما ہوا۔ سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ قرآن کو محفوظ کرنا صرف حفظ نہیں بلکہ تحریر کی صورت میں بھی۔ تحریر کے بارے میں کئی پہلو سامنے آئے۔ ایک یہ کہ دو چیز جس پر تحریر کیا جائے۔ جس کے لیے ہڈی کا بھی استعمال ہوا ، چمڑا بھی استعمال ہوا اور پھر کاغذ بھی استعمال ہوا ہے، چنانچہ کاغذ کو بہتر سے بہتر بنایا گیا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس سے لکھا جائے یعنی قلم اور روشنائی۔ روشنائی کے بارے میں سوچا گیا کہ اُس روشنائی کو ایسا بنایا جائے جو آسانی سے مٹ نہ پائے اور جو منور ہو۔ یعنی قرآن کی کتابت کے لیے جو روشنائی استعمال ہوتی تھی اس میں چاندی اور سونے کے ذرات کو اس لیے ڈالا گیا کہ یہ حرف ہمیشہ روشن رہیں۔ آپ غور کیجیے کہ قرآن کی حفاظت کی سوچ نے پتھر،تختی ، ہڈی کو چھوڑ کر کاغذ کو ترقی دینے کی طرف لگایا۔ روشنائی کو بہتر سے بہتر بنانے کی سوچ نے کیمسٹری اور کیمیکل سائنس کی طرف ہمیں متوجہ کیا۔ ہماری پوری تاریخ میں کیمسٹری علم کا ایک بڑا اہم میدان رہا ہے۔ پھر قرآن پڑھیں تو اس میں اللہ کی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے (تذکیر بآيات الله ) اور اس میں اہم تاریخی واقعات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے (تذکیر بآیام الله ) ۔ ان تمام چیزوں نے مسلمانوں کو جغرافیے ، تاریخ اور دیگر علوم کی طرف متوجہ کیا۔ پھر قوموں کے عروج و زوال کے اسباب اور اس کے اصول بھی قرآن نے بتائے۔

اسی طرح نماز کے اوقات کا تعین ایک عملی ضرورت ہے، جس نے علم الافلاک کی طرف متوجہ کیا۔ نماز کے لیے قبلہ کی سمت کا تعین کرنا ایک اہم مسئلہ ہے کہ دنیا میں آپ جہاں بھی جائیں آپ کو ایک ہی قبلہ کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھنی ہے۔ اس چیز نے بھی جغرافیہ کی طرف متوجہ کیا۔ اس طرح آپ دیکھیں گے کہ وہ تمام چیزیں جو دین کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے درکار تھیں، اُن پر غور و خوض کیا گیا اور اُن سے مختلف علوم کی شاخیں نکلیں۔ اسی تسلسل میں حدیث کے بارے میں غور کیجیے، علم روایت، علم الرجال علم درایت ، علم الاحکام، یہ سارے علوم کیسے پیدا ہو گئے۔ اس طرح علم التفسیر، علم کلام اور تصوف بھی۔ تو خواہ اُس کا تعلق مادی دنیا سے ہو، یا انسانی دنیا سے ہو، بے شمار علوم صرف اللہ کے حکم کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تلاش اور جستجو کا نتیجہ ہیں۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرض ایسا نہیں ہے جس کی دوا نہ پیدا کی گئی ہو۔ یہ ایک اشارہ ہے علم طب کے لیے۔ چنانچہ اس کی روشنی میں اشیاء کے خواص کو جاننا اور پھر یہ جاننا کہ اُن خواص کا کیا تعلق ہے انسان کی بیماری سے، اور کس طرح پھر اُس کا علاج ہو سکتا ہے۔ اس طرح طب اور حیاتیات سے متعلق علوم میں ترقی ہوتی رہی ہے۔ یوں انفس اور آفاق، دونوں ہمارے میدان ہیں۔ اس میں ہمارا امتیاز یہ ہے کہ اس میں سے ہر ایک اللہ کے بندے کی حیثیت سے، اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی روشنی میں اور اس احساس کے ساتھ کہ جو کچھ ہے امانت ہے، جس کی ہمیں جوابدہی کرنی ہے، تعلیم کے عمل کا حصہ بنتا ہے۔ حسنات دنیا، حسنات آخرت دونوں ہمارا مقصد ہیں، اور ان شاء اللہ فلاح اور سعادت ہماری منزل ہے۔

آج کی اس گفتگو میں میں نے یہ کوشش کی ہے کہ اسلام کے تصور ِعلم اور تصورِ تعلیم کے چند نمایاں پہلو آپ کے سامنے رکھوں۔ وقت اجازت نہیں دیتا کہ اس کی روشنی میں مسلمانوں کی تاریخی روایت کا بھی جائزہ لے لیا جائے ، البتہ میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تعلیم کے سلسلے میں صرف تعلیم کی وسعت اور تعلیم کے ہر پہلو کو اسلام کے نظام تعلیم کا حصہ بنانا ہی نہیں بلکہ تعلیم اور تدریس کے طریقے بھی شامل ہیں۔ یہ سب بھی ہماری روایت کا حصہ ہیں اور اس میں بھی بیش بہا تجربات کیے گئے ہیں۔ بہت سی چیزیں جنہیں آج تدریس کے نئے طُرق کہا جاتا ہے، مسلمانوں کی تاریخ میں اُن پر عمل ہوتا رہا ہے اور ان میں نئے نئے راستے تلاش کیے گئے ہیں۔

اس وقت میرا مقصد دراصل یہ تھا کہ علم اور تعلیم دونوں کے بارے میں اسلام کا جو مزاج اور خصوصی contribution ہے اُس کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں۔ مقصد تمام اہم چیزوں کا استحضار نہیں بلکہ صرف سوچ کا ایک انداز آپ کے سامنے رکھنا ہے، تا کہ اگر آپ محسوس کریں کہ سوچنے کا یہ طریقہ ہمارے لیے فکر اور عمل کے نئے راستے کھولتا ہے تو پھر اس کی روشنی میں جستجو کریں اور محض دوسروں کے شکار پر قناعت نہ کریں بلکہ خود آگے بڑھ کر ان کی روشنی میں اپنا راستہ بنا ئیں اور نئے چراغ جلائیں۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »