دینی مدارس تبد یلی کے رجحانات

پیش لفظ
آج دنیا میں دینی مدارس عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں ۔ اس کے پس منظر میں مغرب کا یہ احساس یا پرو پیگنڈا ہے کہ یہ ادارے دہشت گردی کے تربیتی کیمپ ہیں، یا کم تر درجہ میں اُن کا یہ خوف ہے کہ یہ مغرب کی تہذیب و ثقافت کے لیے ایک چیلنج ہیں۔
بچوں کو اسلامی تعلیم دینے والے ادارے کے لیے مدرسہ کی اصطلاح انگریزی زبان میں بھی اب عام استعمال ہوتی ہے۔ مغرب کے بہت سے ادارے، تحقیق کار اور این جی اوز اپنے اپنے مقاصد کے تحت مدرسہ کے ادارہ کو اپنی تحقیق اور توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہیں اور اس کے نظام میں تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔ یہ تبدیلی وہ مسلم ممالک کی حکومتوں کے ذریعے سرکاری دباؤ کے تحت یا مسلم معاشروں میں اپنے ہم خیال افراد، اداروں اور میڈیا کے ذریعے عام معاشرتی دباؤ کے ساتھ اور کہیں براہ راست یا بالواسطہ مالی معاونت کے ذریعے بھی کرنا اور کروانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دینی مدارس میں اس رویہ کے خلاف شدید ردعمل کی کیفیت پائی جاتی ہے اور مسلمان عوام بھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنی دینی زندگی میں مداخلت کی ایک شکل سمجھتے ہیں۔
فہمیدہ دینی حلقوں میں البتہ بجا طور پر یہ احساس ابھر رہا ہے کہ آج دنیا میں جس تیز رفتاری سے تبدیلیاں آرہی ہیں، دینی مدرسہ کا یہ ادارہ اس کا ساتھ نہیں دے پا رہا ہے۔ نئے ماحول، نئے حالات اور نئی ضروریات کے مطابق مدرسہ کے ماحول، نصاب، انتظامات اور طریق تدریس میں ایسی تبدیلیاں– جو مدرسہ کے سماجی اور دینی کردار کو معاشرہ میں مضبوط تر بنائیں ، نہ کہ اسے محدودتر کریں– خود ہماری اپنی ضرورت ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ اس ضرورت کا احساس و ادراک تاریخ میں پہلی مرتبہ ہورہا ہے۔ گزشتہ چودہ سو سال میں ایسی تعلیمی تحریکیں اٹھی ہیں جن کے زیر اثر تعلیمی نظام اور خود مدارس کے نصاب اور انتظام کار میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ مغرب کے دباؤ اور مغرب کی لائن کو آگے بڑھانے والوں کے اثر میں تبدیلی اگر سم قاتل اور مکمل طور پر نامطلوب ہے تو اپنے حقیقی مقاصد کے مناسب تر انداز میں حصول کے لیے خود دینی بنیادوں پر تبدیلی ہماری اپنی ضرورت ہے اور اس سے اغماض کسی جہت سے بھی مفید نہیں ہوسکتا۔ اسی سوچ اور اس سوچ کے تسلسل میں کیے جانے والے فیصلوں کے نتیجے میں بعض بڑے مدارس نے پہل قدمی کی ہے۔ موجودہ مطالعہ میں پہل قدمی کے اسی عمل کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان مدارس کی رجحان ساز حیثیت کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ بڑے مدارس میں تبدیلی کا عمل جس سمت میں اور جس رفتار سے جاری ہے ، ملک کے تمام مدارس رفتہ رفتہ اسی سمت میں آگے بڑھتے جائیں گے۔
ایک احساس یہ بھی ہے کہ مدرسہ کی اصل صورت حال سے واقفیت کا کوئی مناسب انتظام خود مدارس کی جانب سے موجود نہیں ہے یا نا کافی ہے، چنانچہ مدارس کے بارے میں ایک پر اسراریت کی چادر تنی رہتی ہے اور یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شائد مدرسہ ایک جامد اور نئی روشنی سے بے بہر ہ کوئی ادارہ ہے۔
زیر نظر مطالعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پاکستان میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے بڑے دینی مدارس سے براہ راست رابطہ کے نتیجہ میں تبدیلی کے حوالہ سے ان کے احساسات، خدشات ، تجربات، اقدامات اور عزائم ہمارے سامنے لاتا ہے۔ جس سے نہ صرف مدارس کی موجودہ عملی صورت حال سامنے آتی ہے بلکہ مستقبل کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس مطالعہ کے نتیجے میں جو تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ملی جلی ہے۔ جہاں ایک طرف اطمینان ہوتا ہے کہ تبدیلی کے حوالے سے داخلی سطح پر احساس موجود ہے، وہاں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس جانب پیش رفت قدرے سست ہے۔ اور ابھی کرنے کے کام بے شمار ہیں جن سے زیادہ دنوں تک صرف نظر ممکن نہیں۔
یہ مطالعہ ایک جانب خود مدرسہ کے نظام سے وابستہ لوگوں کے لیے مفید ہے تو دوسری جانب ان تمام لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جو مدرسہ کے حوالہ سے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہیں اور تبدیلی کے عمل کو سمجھنے یا اُسے آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پروفیسرخورشید احمد



