ForwardIslamIslamic Education

خاندانیت

معاشرہ ہو یا تہذیب و تمدن، ان کی ترقی اور استحکام ہی نہیں بقا کا انحصار تین چیزوں پر ہے۔ پہلی اور سب سے اہم چیز وہ اقدار، تصورات ، نصب العین اور اہداف ہیں جن پر کوئی تہذیب قائم ہوتی ہے اور جو اس کی اصل شناخت ہیں۔ اسے وژن کہا جا سکتا ہے۔ دوسری چیز فرد ( مرد اور عورت) کا کردار اور صلاحیتِ کار ہے جو اس وژن کا امین اور علم بردار ہو اور اس معاشرے اور تہذیب کے لیے Building Block کی حیثیت رکھتا ہو۔ تیسری چیز وہ ادارے (Institutions)ہیں جو معاشرے اور تمدن کی عمارت کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور تہذیب و تمدن کے تسلسل اور دوام کے ضامن ہیں۔

قرآن وسنت اور انسانیت کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اور تہذیب وتمدن کی اصل شناخت اس کی ربانیت ہے، فکر و عمل کا اصل محور اللہ سے رشتہ، اور توحید کی مرکزیت پر وجود میں آنے والی زندگی ہے۔ اللہ کی زمین پر انسان کا کردار اللہ کے خلیفہ اور نمایندے کا ہے جس کا مقصد وجود اللہ کی زمین پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنے کی جدو جہد کے ذریعے اپنے مالک کی رضا کا حصول ہے۔ اسلام کے دنیاوی کردار کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے تو وہ استخلاف ہے۔ جو عقیدہ، عمل، نظام کار اور تاریخی مشن، سب کا احاطہ کر لیتا ہے۔ یہ دین کا ایک ایسا انقلابی تصور ہے جس کے نتیجے میں فرد، قوم اور انسانیت ، سب کی روح اور بدن کی تمام قوتیں خیر و صلاح کے فروغ ،حق کی خدمت اور ترویج، عدل و انصاف کے قیام اور انسانیت کو اللہ کے بتائے ہوئے طرزِ حیات کی سر بلندی کے لیے سرگرم ہو سکیں ۔ یہ اخلاقی اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر زندگی کی تعمیر وتشکیل کی دعوت ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ ہے۔

اسلامی معاشرے اور تمدن کے قیام و دوام کا انحصار جن اداروں پر ہے ان میں سب سے پہلا اور اہم ترین ادارہ خاندان کا ادارہ ہے۔ بلاشبہ خاندان کے ساتھ مسجد ومدرسہ (اقامتِ صلوٰۃ ) بیت المال اور نظامِ تکافل (ایتائے زکوٰۃ ) ، نظام امر کا قیام اور عدل وقضا کا اہتمام (امر بالمعروف و نهی عن المنکر) اور امت کی وحدت اور خلافت کی بنیاد پر اس کی تنظیم اور استحکام دوسرے اساسی ادارے ہیں۔ ان اداروں کی تقویت اور ترقی کے لیے مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں بہت سے دوسرے اہم ادارے قائم کیے ہیں لیکن اداروں کے اس جھرمٹ میں خاندان کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ادارہ انسانیت کے سفر کے آغاز ہی میں آدم و حوا کے رشتہ ازدواج کے نتیجے میں وجود میں آیا اور اسے ہر اعتبار سے ایک ربانی ادارہ (Divinely established institution)کہا جا سکتا ہے۔ باقی تمام اداروں کی ضرورت انسان کے اپنے تاریخی تجربات کے دوران محسوس کی گئی اور ان میں سے کچھ اشارے ہدایت ربانی میں بھی بلاشبہ موجود تھے لیکن اس ربانی نقشہ کار(Scheme of things) میں جو اولیت اور مرکزیت خاندان کے ادارے کو حاصل ہے وہ منفرد ہے۔

یہی وجہ ہے قرآن پاک میں جو احکام اور قوانین دیے گئے ہیں ان کا سب سے بڑا حصہ خاندان کے نظام کے بارے میں ہے اور اس ادارے کی بنیاد انسانی ضرورت کے ساتھ حکم ربی پر رکھی گئی ہے۔ رحم کے رشتے کا احترام اپنی جگہ لیکن اسلام میں رشتۂ ازدواج ایمان کے اشتراک پر مبنی ہے اور کوئی ایک فریق بھی اگر ایمان کے دائرے سے نکل جائے تو یہ رشتہ آپ سے آپ ٹوٹ جاتا ہے اور وراثت کا حق بھی اشتراکِ ایمان سے مشروط ہے۔ فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، عقیدہ اور عبادات کے بعد سب سے زیادہ اور تفصیلی احکام اگر زندگی کے کسی شعبے کے بارے میں دیے گئے ہیں تو وہ یہی خاندان کا ادارہ ہے۔ اس ادارے کا سر براہ بلاشبہ شوہر ہے، مگر اس کا محور اور مرکزی کردار ماں اور صرف ماں ہے۔

اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں پر نشیب و فر از کے بے شمار دور آئے ہیں اور عروج و زوال سب ہی ہماری قسمت کا حصہ رہے ہیں، لیکن خواہ ترقی کا دور ہو یا تنزل اور ابتری کا……. ترقی انھی ادوار میں ہوئی ہے جب خاندان کا ادارہ مضبوط تھا اور مسلمان عورت اپنا کلیدی کردار بخوبی انجام دے رہی تھی ، اور زوال ، تنزل اور تباہی کے ایام میں بھی اگر ہماری قوت کا کوئی آخری منبع اور پناہ کے لیے آخری حصار تھا تو وہ ماں کی گود اور خاندان کا ادارہ ہی تھا۔ یہ شیر مادر کی پاکی تھی جس نے نئی نسلوں کو ہر نشیب کو فراز سے نمٹنے کا حوصلہ اور صلاحیت دی۔ اس میں بھی ذرا شک نہیں کہ انسانیت کی پوری تاریخ میں عروج و زوال کی داستان کو خاندان ، گھر اور عورت کے کردار کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ آج جو انتشار اور بگاڑ تمام تر سائنسی ترقی اور معاشی فراوانی کے باوجود مغربی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے، اس کی اہم ترین وجہ روح پر بدن کے غلبے کے ساتھ عورت کے کردار کی قلبِ ماہیت اور خاندان کے نظام کا انہدام ہے۔

بیسویں صدی کے عظیم ترین مورخ پروفیسر آرنلڈ جے ٹائن بی، جس نے ۳۶ تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستان رقم کی ہے اور بارہ جلدوں پر مشتمل اس کی کتاب A Study of History میں بڑے شرح وبسط سے پیش کی گئی ہے۔ اس نے اپنی کتب میں تہذیبوں کے عروج وزوال کے اسباب پر گہری نظر سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ اپنی تحقیق اور مطالعے کا نچوڑ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

’ تاریخ میں عموماً معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کے ادوار و ہی رہے ہیں جن میں عورت نے اپنا گھر چھوڑا ہے۔ پانچویں صدی کے یونان میں جو کلاسیکی تاریخ کا نقطۂ عروج تھا، عورتیں گھروں میں رہتی تھیں۔ سکندر اعظم کے زمانے کے بعد جب شہری ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں تو ہمارے زمانے کی طرح تحریک آزادی نسواں جاری تھی‘ ۔ (World Review، مارچ ۱۹۴۹ء)

ایک اور ماہر علوم عمرانی Anthony M. Ludivici لکھتا ہے:

’محض یہ واقعہ کہ زوال کے تمام ادوار میں عورت ہمیشہ آگے ہوتی ہے، اس ( تاریخی حقیقت کو ) ظاہر کرتا ہے کہ تحریک آزادی نسواں مردوں کے انتشار (Disintegration) کا عمل ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا‘۔  (بحوالہ: A Woman Vindication)

تاریخ کی ایک مستند کتاب Universal History of the World ہے جو آٹھ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے اور اس کتاب کو انسائیکلو پیڈیا کے اصول پر مرتب کیا گیا ہے، اس کی جلد ہفتم میں Feminine Influence in Politics کے باب میں مقالہ نگار مختلف تہذیبوں اور تاریخی ادوار کا جائزہ لینے کے بعد لکھتا ہے کہ:

’جود ور عورتوں کے حقوق و اختیار اور قوت و غلبہ کا دور ہے وہ مرد آبادی میں سب سے زیادہ پستی کا دور ہوتا ہے‘۔ (بحوالہ: Universal History of the World Vol VI, p 3985)

مقالہ نگار مردوں اور عورتوں کے دائرہ ہائے کار کے امتیازی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے بعد مضمون کا اختتام ان الفاظ پر کرتا ہے:

ہمارا جو موقف ہے اور جو کچھ تاریخی اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں، اس استدلال کا محکم ثبوت ہیں کہ تاریخ کا صحت مند ترین دور وہ رہا ہے، جب کہ آبادی میں سے مرد آبادی اپنی سماجی ذمہ داریوں اور کردار اور خواتین سے تعلق میں اس طرح فرق کرتے تھے کہ سیاست میں خواتین کا بلواسطہ یا بلا واسطہ کردار ممکن نہ تھا۔ خواتین کے غلبے کا دور ایک کلیے کے طور پر عمومی زوال کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ (  ایضاً، ص ۴۰۰۴)

ایک خاتون صحافی ڈور تھی تھا مپسن (Dorothy Thompson) دورِ جدید میں عورت کے نازن بنا دیے جانے کے سانحے پر یوں نوحہ کناں ہے: جو عورتیں ٹھیک ٹھیک مردوں کی جیسی سطح پر ہوں وہ فی الواقع عورت نہیں رہتیں۔

اقبال نے بھی اس حقیقت کو اپنے انداز میں یوں بیان کیا ہے:

تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگ  امومت

ہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موت

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت

برطانوی فلسفے کا ایک استادسی ای ایم جوڈ جو ایک زمانے میں تحریک آزادی نسواں (Feminist Movement) کا پر زور حامی اور مداح تھا، اپنی آخری کتاب میں جو اس کی سوانح عمری پر مشتمل ہے، بڑی پتے کی بات بڑے عام فہم اور دل نشیں انداز میں بیان کرتا ہے:

’اگر آپ کوئی پل یا ٹاؤن ہال تعمیر کرنا چاہیں تو آپ راہ چلتے اتفاقی لوگوں کو پکڑ کر نہیں کہتے کہ وہ یہ کام کریں بلکہ آپ ایک ماہر انجینئر اور آرکیٹکٹ کو بلاتے ہیں، لیکن جب آپ کو کوئی ایسی چیز بنانی ہو جو پل یا ٹاؤن ہال سے زیادہ اہم ہو، یعنی ایک جدید شہری، تو آپ اس کام کو ایک ایسے اتفاقیہ جوڑے کے حوالے کر دیتے ہیں جو اسے پیدا کر سکتا ہو۔ دو مختلف جنسوں کا ایک جوڑا، ایک شہری پیدا کر سکتا ہے اور بلاشبہ یہ کام بہت آسان ہے، لیکن بچے کی پیدایش کی اہلیت اور تعلیم و تربیت ،تعمیر کردار ،عقل و شعور کی طرف رہنمائی اور شخصیت کی تشکیل کی قابلیت ایک ہی بات نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ ہم چوں کہ شہری تیار کرنے کا کام اتفاقیہ جوڑے کے سپرد کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے پل ہمارے شہریوں سے بہت بہتر ہیں، جب کہ بحیثیت مجموعی ہم ظالم،  تند خو، نا اہل، بد نما اور کند ذہن ہیں جیسا کہ ہمارے گرد و نواح میں لوگ پائے جاتے ہیں‘۔ (  The book of Jood از پروفیر ای ایم جوڈ، ص ۲۶)

پروفیسر جوڈ اپنے ایک انٹرویو میں صاف الفاظ میں یہ پیغام انسانیت کو دیتا ہے:

 ’ مجھے یقین ہے کہ دنیا ایک خوش گوار جگہ ہوگی اگر عور تیں اپنے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال پر مطمئن رہیں خواہ اس سے معیار زندگی میں کچھ کمی ہی کیوں نہ آجائے‘۔( ماہنامہ Variety ، لندن دسمبر ۱۹۵۲ء)

مغربی معاشرے میں رشتہ نکاح کی بے وقعتی اور خاندان کے انتشار نے جو حالات پیدا کر دیے ہیں، ان سے پریشان ہو کر دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نکاح اور خاندان کی اہمیت اور بازیافت اور اس رشتے کو مذہب کی رسی سے باندھنے اور مضبوط رکھنے کی ضرورت کا اظہار کر رہی ہے۔ ڈاکٹر سائرل گار بٹ اپنی کتاب In an age of Revolution میں اسی ضرورت کی اسی طرح نشان دہی کرتا ہے :

’یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مردوں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد شادی کے کسی خیال کے بغیر تعلق قائم کرتے ہیں۔ یہ دونوں جنسوں کے نو جوانوں میں زیادہ آزادی، جنگ کے اعصابی دباؤ اور جذباتی فلموں اور ناولوں کی نہ ختم ہونے والی یلغار اور ان حالات میں زندگی بسر کرنا جو جنس سے پر ہیز کو بہت زیادہ مشکل بنا دیتے ہیں، کا نتیجہ ہے۔ صرف متعین اخلاقی احساس جو مذہبی عقائد پر مبنی ہو ضروری ضبط نفس فراہم کرتا ہے‘۔ (In an age of revolution by Dr. Cyrill Garbett, p 76 )

اکبر الہ آبادی نے آج سے سو سال قبل انہی ایشوز پر بڑے پتے کی باتیں کہی ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں ؎

تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے مگر

خاتونِ خانہ ہوں، وہ سبا کی پری نہ ہوں

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند  بیبیاں

اکبر زمیں میں غیرت ِقومی سے گڑ گیا

پوچھا جو ان سے ، آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

اقبال نے بھی مغرب کے سماجی اور معاشی استحصال کے نظام پر بھر پور گرفت کی ہے:؎

کوئی پوچھے حکیم یورپ سے

ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال

مردبے کار و زن تہی آغوش

اقبال نے عورت کے مقام اور کردار کو کس خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے ؎

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

 اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مُشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کا دُر مکنوں

مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی ،لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں

آج امت مسلمہ بالعموم اور مسلمان عورت بالخصوص ایک فیصلہ کن دوار ہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف مغربی تہذیب و ثقافت کا سیلاب ہے جو وقت کی ٹیکنالوجی کے مؤثر ترین آلات سے آراستہ ہو کر ہمیں اپنے دین و ایمان اور اپنی تاریخ اور روایت سے کاٹ کر مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھال دینا چاہتا ہے اور دنیوی ترقی اور ثروت کے طلسم سے ہماری آنکھوں کو خیرہ کرنے میں مصروف ہے، تو دوسری طرف قدامت اور روایت کے کچھ علم بردار بھی اپنے خلوص کے باوجود رسم و رواج کو اقدار اور اصول کا درجہ دے کر وقت کے حقیقی تقاضوں سے مکمل صرف ِنظر کر رہے ہیں اور زمانے کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے بجائے ماضی کے حصار میں محصور ہو جانے میں عافیت دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں ہی راستے زندگی اور ترقی کے راستے نہیں ، اس لیے ؎

دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت

ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ

اور اگر ہم اپنی بنیادوں کو کمزور اور مضمحل ہونے دیتے ہیں یا وقت کی ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو مغرب کی یلغار کا مقابلہ ہمارے لیے ممکن نہیں۔ مغلوبیت اور محکومیت سے بچنے کا راستہ وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے اور جسے صلحائے امت نے اپنے اپنے دور میں کامیابی سے آزمایا ہے، یعنی اصول اور اقدار کے سلسلے میں مکمل استقامت اور ذرائع اور وسائل کے باب میں ضروری لچک اور وسعت۔ اس لیے:؎

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن  پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

اسلام نے فرد، خاندان، معاشرہ اور ریاست کی جس طرح نظریاتی اور اخلاقی بنیادوں پر صورت گری کی ہے وہ انسانیت پر اللہ کا بہت بڑا احسان اور ہمیشہ کے لیے رہنمائی کا مینار ہے۔ بد قسمتی سے آج فرد، خاندان اور معاشرہ اور ریاست سب ہی انتشار اور خلفشار کا نشانہ بن رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ جہالت اور غفلت کے ساتھ وہ اثرات بھی ہیں جو دوسری تہذیبوں کی طرف سے امت مسلمہ پر پڑ رہے ہیں اور خصوصیت سے مغربی تہذیب کی وہ یلغار جو مسلم معاشرے کو پچھلے پانچ سو سال سے نشانہ بنا رہی ہے لیکن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی قوت کی بنا پر اس میں بڑی تیزی آگئی ہے اور مسلم معاشرہ ہی نہیں پورے انسانی سماج کو تہہ و بالا کرنے کا یہ کارنامہ بڑی دیدہ دلیری اور مہارت سے انجام دیا جا رہا ہے۔

میری نگاہ میں جو چیلنجز مسلم دنیا اور انسانیت کو آج درپیش ہیں ان میں سب سے اہم چیلنج کا تعلق اسی معاشرتی اور تہذیبی یلغار سے ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ عزیزہ سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کے لیے اس موضوع کو پسند کیا اور بڑی محنت اور دیانت کے ساتھ اس کے مختلف پہلوؤں پر پتامار تحقیق کے بعد ایک قابل قدر مقالہ تیار کیا جس پر انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے ملی اور جسے استفاد ؤ عام کے لیے اب شائع کیا جارہا ہے۔ سمیحہ قاضی نہ صرف ایک اچھی محققہ ہیں، بلکہ دل اور دماغ کی تمام قوتوں کو اسلامی تعلقات، دور حاضر کے رجحانات اور مسلم امت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنے کا جذبہ اور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کا مقالہ اس سلسلے کی بڑی کامیاب کوشش ہے جس کے لیے میں ان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ پاکستان ہی نہیں، مسلم امت کے نوجوان دانشور اور پالیسی ساز اس سے بھر پور استفادہ کریں گے اور امت کے تمام اداروں کو اس تباہی سے بچانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے جو ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔

یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مستند دستاویز ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی معلومات سے بھی مالا مال ہے جو صرف خاندان اور سماج ہی نہیں بلکہ دوسرے معاشرتی اور تہذیبی ایشوز پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقالے کا کینوس بہت وسیع ہو گیا ہے اور اپنے موضوع پر اس کی حیثیت ایک انسائیکلوپیڈیا کی ہوگئی ہے جس کے صفحات پر بکھری ہوئی معلومات کا یہ انمول خزانہ قاری اور کل کے محقق کے لیے مطالعہ، تفکر اور تحقیق کے لیے بڑا لوازمہ پیش کرتا ہے۔ البتہ اس کا یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موضوعات کا یہ تنوع قاری کا فوکس مرکزی خیال سے کہیں کہیں ہٹا سکتا ہے۔

اس مقالے کی ایک اور خصوصیت اس میں علمی اور تحقیقی لوازمے کے ساتھ ساتھ جذبات اور ایک داعیہ کا یہ عزم بھی ہے کہ اسے حالات کی اصلاح کرنی ہے اور مسلم معاشرے اور انسانی تہذیب و تمدن کی تعمیر نو کے لیے علم کو استعمال کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں علم کے ساتھ ساتھ جذبات کی فراوانی ہے جو اس کے پڑھنے والے کو Motivate کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ یہ کتاب اسلامی دنیا کی بیداری کی موجودہ لہر کو مہمیز دینے میں ممد و معاون ہوگی۔ صاحبہ مقالہ نے اپنے ذاتی تجربات، خاندانی ماحول اور تحریکی زندگی، ملکی اور عالمی محاذ پر تعمیرِ نو کے لیے اپنے عزائم اور جذبات کو بھی اپنے اس مقالے میں سمو دیا ہے جو میری نگاہ میں اس تحریر کو ایک خاص نوعیت کی انفرادیت بہم پہنچاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ کی اس کوشش کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں اس خدمت پر اسے اپنے بہترین اجر سے نوازے۔ آمین!

پروفیسر خورشید احمد

 اسلام آباد

جولائی 2011ء

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »