EconomicsForwardPakistan Economy

جدید اقتصادی مسائل شریعت کی نظر میں  

عصر ِحاضر کے اقتصادی نظریات اور سماجی و معاشی تحریکات کا چیلنج مسلم مفکرین کے لیے محرک بنا کہ وہ اس حوالہ سے نہ صرف اپنی پوزیشن کا جائزہ لیں بلکہ موجودہ دور کے  مہیب اقتصادی مسائل کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر دنیا کے سامنے پیش کریں۔ استعماری طاقت کے چنگل سے مسلم ممالک کی آزادی اور مسلم عوام میں اسلامی تصورات کی بنیاد پر اپنے معاشروں کی تعمیر کے رحجان میں اضافے کے ساتھ یہ تحریک بھی تیز تر ہوتی گئی۔

آغاز میں ماہرین کی توجہ اسلام کی معاشی تعلیمات کی تشریح اور مغربی نظریات اور پالیسیوں کے تنقیدی جائزے تک ہی محدود رہی۔ اس کام میں زیادہ تر علماء مسلم سماجی مفکرین اور مصلحین شریک تھے۔ تاہم عصری دانشورانہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ماہرین معیشت اور پیشہ ور ماہرین بتدریج میدان عمل میں آتے گئے۔ اور اب ان کی تحقیقات کا دائرہ کسی ایک موضوع تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ انسانی زندگی میں اقتصادیات سے متعلق تمام گوشے ان کی اجتہادی کاوشوں کا حصہ ہیں۔

 البر کہ گروپ آف بنکر ز اینڈ کمپنیز نے علماء فقہ اور ماہرین اقتصادیات کی مدد سے گزشتہ دھائی کے دوران کئی سیمنارز، ورکشاپس اور کانفرنسوں میں اسلامی اقتصادیات کے موضوع پر بحث کی ہے۔ ان سیمنارز میں بنکاری کے عملی معاملات و کاروبار کے اسلامی طریقوں اور ان کے عملی نفاذ میں پائی جانے والی مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے علماء اور ماہرین کی رائے حاصل کی جاتی ہے۔

 البر کہ گروپ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ان سیمنارز میں چوٹی کے علماء اور دانشوروں نے طویل مباحث و تحقیق کے بعد مذکورہ بالا اقتصادی امور پر فتاویٰ کی صورت میں راہنمائی فراہم کی ہے جسے ڈاکٹر یونس تمیمی اور ڈاکٹر احمد محی الدین احمد نے مرتب کیا ہے۔ تاہم یہ ساری کارروائی عربی زبان میں ہونے کی بناء پر عرب دنیا سے باہر اس سے استفادہ ممکن نہیں تھا۔ زیر نظر کتاب میں ان ہی فتاویٰ کو مرتب کر کے پیش کیا گیا ہے۔ فتاویٰ مرتب کرتے ہوئے اس امر کا اہتمام کیا گیا ہے کہ ہر فتویٰ کے ساتھ اس سیمنار کا حوالہ نمبر دیا جائے جس سے وہ فتویٰ جاری ہوا نیز کتاب کے ضمیمہ میں علماء کی فہرست بھی شامل کر دی گئی ہے جنہوں نے ان سیمنارز میں شرکت کی اسی طرح جس فتویٰ پر علماء کی رائے متفق نہیں تھی اسے بھی کثرت رائے کے الفاظ سے ظاہر کر دیا گیا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اس کتاب کی اشاعت سے پاکستان میں اسلامی خطوط پر معیشت کے نظام کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں خاطر خواہ مدد ملے گی نیز علماء، مفکرین، دانشوروں اور پیشہ ور ماہرین کے لیے ان ہی خطوط پر مزید غور و فکر اور تحقیق و تجویز کی نئی راہیں کھلیں گی۔

پروفیسر خورشید احمد

 ۱۳ اگست ۱۹۹۲ء

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »