نیا استعمار :اہداف، حکمت عملی اور جوابی لائحہ عمل

افراد کی کامیابی اور ناکامی، فوجوں کی فتح و شکست، قوموں کے عروج و زوال، حکومتوں کے بناؤ اور بگاڑ اور تہذیبوں کے غلبے اور پسپائی کے کچھ اٹل ،طبعی اور اخلاقی قوانین ہیں جن کی کار فرمائی زندگی کے ہر میدان اور تاریخ کے ہر دور میں دیکھی جا سکتی ہے۔
حقیقت پسندی کا راستہ
کچھ لوگوں کی نگاہیں صرف طبعی عوامل پر مرکوز ہوتی ہیں، لیکن بالآخر طبعی عوامل کی تنگ دامانی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ کچھ دوسرے افراد صرف اخلاقی عوامل کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھی تصویر کا صرف ایک رُخ دیکھتے اور پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک طبعی اور اخلاقی دونوں عوامل کا مکمل اور مربوط ادر اک نہ ہو حقیقت پر پوری گرفت ممکن نہیں— اسی طرح حالات کا ہر وہ تجزیہ نامکمل ہوگا جو صرف فوری عوامل اور اثرات تک محدود ہو اور جس میں نہ حقیقی اسباب کا صحیح ادراک ہو اور نہ مستقل اور دیر پا نتائج کا شعور۔
افغانستان میں بہ ظاہر امریکہ کو فوجی کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن فی الحقیقت اسے تاریخ کی بدترین اخلاقی شکست ہوئی ہے۔ طالبان کی حکومت ختم کر دی گئی ہے اور ان کی بےسروسامانی، سیاسی تدبر کی کمی اور عسکری حکمت عملی کی خامیاں تو بیان کی جاسکتی ہیں لیکن اپنے اصول اور روایات کی پاس داری کے باب میں ان کی اخلاقی برتری سے انکارناممکن ہے۔
افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوج کشی کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوا چاہتا ہے۔ ۱۱ ستمبر کے واقعات نے جس طوفان کو جنم دیا تھا اور جس نے ۷ اکتوبر کو افغانستان کو اپنے شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا تھا، وہ ایک غریب، تباہ شدہ اور بدنصیب مگر غیرت مند ملک کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی کامیابی کے شادیانے بجاتے ہوئے نئے سے نئے شکاروں کی تلاش میں کروٹیں لے رہا ہے۔ طالبان کی حکومت کو ختم کر کے امریکہ نے جرمنی کے شہر بون میں مذاکرات کے ذریعے ایک نیا سیاسی بندوبست قائم کیا ہے۔ جسے وہ اپنے نقشے کے مطابق تصور کرتا ہے اور اسے اپنے اور اپنے اتحادیوں کی عسکری قوت کے سائے میں مستحکم کرنے کی اُمید رکھتا ہے۔ طالبان کی قوت بہ ظاہر منتشر ہو گئی ہے، اسامہ بن لادن تادم تحریر عسکری اور سیاسی غلبہ پانے والوں کی گرفت سے باہر ہیں، لیکن ان کی القاعدہ تنظیم کے کچھ مجاہد خاک وخون میں لوٹ چکے ہیں، ایک تعداد جیلوں میں بدترین تشدد کا سامنا کر رہی ہے اور باقی در بدر ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ جنرل کولن پاول نے فخر سے اعلان کیا:” ہم نے افغانستان میں القاعدہ کو تباہ کر دیا ہے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی پناہ گاہ کی حیثیت سے افغانستان کے کردار کو ختم کر دیا ہے“ ۔امریکی وزیر دفاع رمس فیلڈ نےخود اپنے تباہ کردہ کابل پر شاہانہ نزول کے موقع پر کہا:” ہم نے دہشت گردی کا افغانستان سے صفایا کر دیا ہے اور ان کو پناہ دینے والی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے“۔ نئی افغان حکومت آئندہ بھی ان کے عزائم میں شریک کار رہے گی اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہماری سوچ ایک ہی ہے۔ اور امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈ الیزا رائس دوسرے شکاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں:” کوئی بھی یہاں قبل از وقت فتح کا اعلان کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور فتح صرف اسی وقت حاصل ہوگی جب ساری دنیا میں القاعدہ کا جال توڑ دیا جائے گا“۔
گویا ایک مرحلہ پورا ہو گیا، آگے کے مرحلوں کا انتظار کرو— یہ ہے ۱۱ستمبر کو اٹھنے والے طوفان کی آج تک کی حشر سامانی کا ایک پہلو ۔ لیکن اس مرحلے پر، اب تک کے اقدامات کا اس پہلو سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ امریکہ، عالمی برادری اور افغانستان اور خودا استمبر کے ذمہ داروں نے اس سارے خونی عمل سے کیا پایا اور کیا کھویا تا کہ آئندہ کے اقدامات سے پہلے ،غور و فکر اور تحلیلی تجزیے کے ذریعے پالیسی سازی کے لیے مفید مطلب بنایا جا سکے۔ دنیا کی اقوام اور لوگ محض جذبات کی رو میں آگے بڑھتے نہ چلے جائیں بلکہ رک کر تھوڑا سا جائزہ بھی لے لیں اور انسانیت کو بگاڑ کے مقابلے میں بناؤ اور بہتری کی طرف لے جانے کی فکر کر سکیں۔ آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہی تیار ہو جائیں کہ خطرے کی خبر بھی خطرے سے بچنے اور پیش بندی کرنے میں مددگارہوتی ہے۔
طالبان کا کردار
۱۱ستمبر کے واقعات کا جو بھی ذمہ دار ہے (اور سارے خون خرابے کے باوجود دنیاابھی تک شبہات کے دھندلکوں سے باہر نہیں آسکی ) اس نے عالمی سطح پر ایسے حالات کو پیدا ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے جن کے نتیجے میں سیاست کا نقشہ بدل گیا ہے یا صحیح تر الفاظ میں: جس طرف مقتدر قو تیں اسے لے جانا چاہتی تھیں وہ ممکن ہو گیا ہے۔
اسی طرح افغانستان پر حکومت کرنے والے طالبان کے فیصلوں پر بھی مدتوں بحث ہوگی: وہ اگر ایسا کرتے تو کیا ہوتا اور ایسا نہ کرتے تو کیا ہو سکتا تھا؟ آج تو صرف ان میں کیڑے نکالنے ہی کی خدمت انجام دی جارہی ہے اور ہر برائی ان کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہے۔ بلاشبہ ان کے سات سالہ دور حیات اور پانچ سالہ دور اقتدار کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں، جن کے بارے میں تاریخ کا قاضی اپنا بے لاگ فیصلہ ایک نہ ایک دن ضرور دے گا۔
بظاہر طالبان آندھی کی طرح اٹھے اور دو سال میں افغانستان کے ۹۰ فی صد علاقے پر کسی بڑے پیمانے کی جنگ و جدل کے بغیر چھا گئے ۔ ۲۰۰۱ء کے آخری تین مہینوں میں دنیا کی سب سے طاقت ور سوپر پاور کی یلغار اور اپنوں کے دباؤ (جنھوں نے ہوا کا رُخ دیکھ کر آنکھیں پھیر لیں) کے مقابلے میں ان کی مزاحمت دم توڑ گئی— کچھ حلقوں میں ان کی اصول پرستی اور قبائلی روایات کی پاس داری کی باتیں ہوں گی تو کچھ کی نگاہ میں ان کی سیاسی نا پختگی اور عسکری بے تدبیری قابل ذکر ہوگی، بلکہ وہ اپنی تباہی کو خود دعوت دینے کے مرتکب بھی قرار پائیں گے۔ افغانستان کے تباہ شدہ کھنڈرات، بے یارو مددگار لاشوں کے انبار اور بے گھر خاندانوں کے قافلے اپنی اپنی داستانیں سناتے رہیں گے۔ جب کہ سوچنے والے سوچتے رہیں گے اور غم کرنے والے نوحہ کناں رہیں گے ؎
غزالاں تم تو واقف ہو ،کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا، آخر کو، ویرانے پہ کیا گزری
اگر طالبان محض ایک حکومت تھے تو وہ ختم ہو گئے اور اگر وہ فی الحقیقت ایک تحریک تھے تو تحریکیں محض سیاسی نشیب و فراز سے ختم نہیں ہوتیں۔ خود احتسابی کی یہاں بھی ضرورت ہے اور تاریخ تو ہر کسی کا احتساب برابر کرتی رہے گی۔ نئی حکومت کو بھی اپنے احتساب سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ نہ وہ انتظام ابدی تھا اور نہ یہ بندوبست مستقل ہو سکتا ہے: ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ۔ جس نوعیت کی کش مکش میں آج افغانستان، بلکہ پوری امت مسلمہ مبتلا ہے اس میں وقتی تبدیلیاں اور فتح و شکست فیصلہ کن بھی ہو سکتی ہیں اور گمراہ کن بھی! جو بازی آج کھیلی جا رہی ہے اس کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ
کبھی جیت کر نہ جیتی، کبھی ہار کر نہ ہاری
اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ پورے عالمی تناظر میں نگاہ ڈالیں ۔ گویا انگریزی محاورے کے مطابق درخت پر ہی نہیں اس جنگل پر بھی نظر رکھیں، جس کے یہ شجر صرف چندہی شریک کار ہیں یعنی Seeing the wood and not merely some of the trees ۔ اس خوں آشام اور حسرت ناک جوار بھاٹے کی آغوش سے جو افغانستان سیاسی نقشے پر ابھرنے والا ہے، اور جن حالات کی طرف مسلم دنیا ہی نہیں، تیسری دنیا ، بلکہ صحیح تر الفاظ میں پوری دنیا کشاں کشاں بڑھ رہی ہے، اس کے ادراک کی ضرورت ہے۔ یہ حالات دنیا بھر کے امن پسند اور انصاف کے طالب انسانوں کے لیے ایک گراں قدر لمحہ فکریہ فراہم کر رہے ہیں —اور مسلمان ممالک اور اسلامی قوتوں کے لیے تو یہ فیصلے کی گھڑی ہے!
۱
۱۱ستمبر کے بارے میں ایک جملہ میڈیا سے لے کر سیاسی قائدین اور کالم نگاروں تک سب ہی کی زبان اور نوک قلم پر گردش کر رہا ہے: ”اس دن کے بعد دنیا بدل گئی اور زمانہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا“ ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ یہی جملہ اس سے پہلے بھی بہت سےتاریخی لمحات کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے۔
نئے استعمار کی پیش رفت
١٩٨٩ء میں دیوار برلن کے انہدام پر، ۱۹۷۹ء میں انقلاب ایران کے موقع پر، ۱۹۱۷ء میں اشتراکی انقلاب روس کے غلغلے پر اور خصوصیت سے ۱۷۸۹ء کے انقلاب فرانس کے تاریخی لمحات کے بارے میں بھی کثرت سے یہ جملہ دہرایا گیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ انقلاب فرانس کے دو سو سال بعد عوامی جمہوریہ چین کے دانش ور وزیر اعظم چواین لائی [م:۱۹۷۶ء] نے برملا کہا تھا: ”انقلاب فرانس کے بارے میں یہ اظہار رائے ذرا قبل از وقت ہی ہے! ابھی اور انتظار کرو “۔ اس لیے ا۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بارے میں تو معلوم نہیں ابھی کتنے انتظار کی ضرورت ہوگی—
لیکن کچھ پہلو ایسے ہیں جن پر فوری غور وفکر اور بحث و گفتگو کی ضرورت ہے:
ا –صدر بش کا نشہ کامرانی: اس واقعے کے بعد جس طرح صدر جارج بش نے امریکہ میں لام بندی کی ہے، جذبات کو ایک خاص انداز میں ابھارا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالم گیر جنگ کی نفیر دی ہے، اس کا سب سے زیادہ فائدہ خود جارج بش کی ذات کو پہنچا ہے۔ ان کی صدارت جس طرح وجود میں آئی، وہ اخلاقی اور ایک حد تک قانونی جواز سے محروم تھی۔ چار ارب ڈالر کی صدارتی انتخابی مہم چلانے کے بعد بھی عام ووٹوں کی حد تک ریپبلکن صدارتی امیدوار جارج بش کو اپنے مد مقابل سے پانچ لاکھ ووٹ کم ملے تھے۔ انتخابی ادارے (الیکٹورل کالج) کے سہارے فلوریڈا کی ریاست کے ووٹوں پر، جہاں خود ان کے بھائی گورنر تھے، ان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار تھا۔ لیکن اسی ریاست میں ووٹوں کی گنتی وجہ نزاع بن گئی۔ پھر تقریبا چھ ہفتے پر پھیلی ہوئی سیاسی اور عدالتی جنگ کا آغاز ہو گیا ، جس کے بارے میں بہت سی کہانیاں سامنے آئیں۔ اس طرح تیسری دنیا کے ممالک میں ہونے والے بہت سے کرتب اور کرشمے امریکہ کی ترقی یافتہ جمہوریت کی قسمت کا فیصلہ کرتے نظر آنے لگے۔ بالآخر عدالت عظمی کے ایک ووٹ کے سہارے ان کو صدارت مل گئی۔ یہ عدالت بھی ججوں میں اس طرح تقسیم تھی کہ ایک پارٹی کے دور کے نامزدایک طرف اور دوسری پارٹی کے زمانے کے نامزد جج دوسری طرف ہو گئے ۔ نتیجتاً جارج بش کی صدارت، حلف صدارت اٹھانے کے باوجود حقیقی سند جواز کی تلاش میں تھی۔
۱۱ستمبر نے وہ نادر موقع فراہم کر دیا اور چند گھنٹے زیرزمین اور چند گھنٹے آسمان کی فضاؤں میں حفاظت کی تلاش کے بعد وہ واشنگٹن کی زمین پر اس طرح اترے کہ امریکی قوم کے جذبات کو ایک نئی جنگ کے لیے متحرک کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ ۲۰ ستمبر کو امریکی مقنّنہ کے دونوں ایوانوں سے خطاب نے ان کو ایک نئے فراز سے نوازا۔ جسے نصف سے کم ووٹوں کے نصف سے بھی کم کی تائید حاصل تھی، وہ ۸۲ فی صد کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس تائیدی لہر پر دنیا بھر کو اپنے جھنڈے تلے لانے اور افغانستان پر حملہ کر کے قوم کے جوش انتقام کو استعمال کرنے میں مصروف ہو گیا۔ ان کے گرد عقابوں (hawks) کا دائرہ مضبوط تر ہوتا گیا اور ایک جنگجو لیڈر بلکہ فاتح صدر کی حیثیت سے ان کا سربلند ہو گیا۔
۱۱ستمبرکے پیچھے امریکی انتظامیہ کی جو ناکامیاں اور خصوصیت سے سیاسی اور خفیہ ایجنسیوں کی کوتاہیاں تھیں، ان سب پر پردہ پڑ گیا ۔ دنیا کے سب سے کمزور اور معاشی اعتبار سے پس ماندہ ملک افغانستان، ایک فرد واحد (اسامہ بن لادن ) اور اس کے چند سو یا چند ہزار ساتھیوں پر دنیا کی واحد سوپر پاور نے اپنے اتحادیوں کی بے پناہ تائید، اپنی تمام عسکری، تکنیکی، عددی، معاشی اور ابلاغی (media) قوت کے ساتھ حملہ کیا اور دو چار دن نہیں پورے دو مہینے میں اسے مغلوب کر دینے کا ”تاریخی کارنامہ“ انجام دیا۔ گویا مرے کو مارے شاہ مدار! اس ”عظیم فتح“ نے ماضی کی تمام ہزیمتوں کو دھوڈالا اور امریکہ اور اس کے صدر کے لیے کامیابیوں اور عالمی بالا دستی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ یہ ہے وہ شے جسے American triumphalism (فتح ہمیشہ امریکہ کی) کہا جا رہا ہے اور سوپر پاور خوشی اورفخرسے جامے میں پھولے نہیں سما رہی !
۲- ناقابل تسخیر ھونے کا زعم: ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی تباہی سےجس ضرب پذیری کا اظہار ہوا تھا، اس طرح اس کا تدارک بھی ہو گیا۔ گو یا کمزوری اور زخم خوردگی کا احساس ختم ہوا اور امریکی قوت کا دبد بہ ایک بار پھر قائم ہوگیا۔ اس میں تین پہلو ایسے مزید سامنے آئے جن کی وجہ سے امریکہ کو بلاشرکت غیرے دنیا کی بالاترین قوت ہونے اور اپنی اس حیثیت کو ثابت کرنے کا موقع مل گیا۔ اولاً: دوسرے ۴۰ ، ۵۰ ملکوں کا طوعاً وکر ہا ًامریکہ کے اشارے پر صف بند ہو جانا، ثانیا: افغانستان کی جنگ میں ایسی ٹکنالوجی کا استعمال جس نے فنی اعتبار سے امریکہ کو (افغانستان تو بے چارہ کس شمار قطار میں تھا) یورپ، لاطینی امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں بھی ان سے انچوں نہیں گزوں بلند ہونے کے مظاہرے کا موقع مل گیا۔ لڑاکا طیارے ہوں یا جاسوسی کا نظام، بم ہوں یا جنگ کا دوسرا اسلحہ، ہر باب میں امریکہ نے گذشتہ دس سال میں جو غیر معمولی ترقی کی تھی اس کا بھر پور اظہار ہوا ۔
اس حملے سے معلوم ہوا کہ افغانستان میں جنگ فلوریڈا سے بیٹھ کر لڑی جاسکتی ہے۔ ایک ایک غار اور ایک ایک نشانے پر مار کرنے کا حکم بارہ ہزار کلو میٹر دُور سے دیا جا سکتا ہے۔ یہ بالکل ایک دوسری ہی قسم کی جنگ تھی جس نے روایتی جنگ کے سارے طور طریقے بدل کر رکھ دیے۔ اب نہ مد مقابل سے لڑنے کی ضرورت ہے، نہ زمینی فوجوں کی حاجت ہے۔ بس فضا سے آگ برساتے رہو اور مقابل قوت کو پارہ پارہ کر دو۔ میدانِ جنگ میں دو دو ہاتھ کرنے کا جن کو شوق ہو، وہ شوق دھرے کا دھرا رہ جائے ۔ حتٰی کہ اگر جیل کے بے بس قیدیوں کو بھی خاک و خون میں تڑپانا ہو تو اس کے لیے بھی آسمان ہی سے آگ برسائی جا سکے۔ انسانوں کے بغیر مشینوں کے ذریعے سارا کام لیا جائے، معلومات کا بھی اور بم برسانے کا بھی۔ اس سے جنگ کی پوری بساط ہی بدل جاتی ہے۔ اب اس میدان میں بہ ظاہر امریکہ کا کوئی حریف نظر نہیں آ رہا۔
اس سے تیسرا پہلو یہ ابھرا کہ اب لڑائی حملہ آور قوت کے لیے انسانی جانوں کی قربانی دیے بغیر فتح کا پیغام لاسکتی ہے۔ ساری جانی قربانی مقابل فریق کو دینی ہوتی ہے۔ جنگ بھی بڑی حد تک یک طرفہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اپنے دعوے کے مطابق: ”افغانستان میں ان ۱۰ ہفتوں میں اس کے صرف ۷ افراد ہلاک ہوئے ہیں“۔۔۔ جو مرنے والے اخباری نامہ نگاروں کی تعداد سے بھی کم ہیں ۔ اور ان سات میں سے بھی تین خود اپنے ہی گولوں کا نشانہ بنے، جس کے لیے friendly fire کی لطیف اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ ایسی ”ہاتھ کی صفائی“ روایتی جنگوں میں کہاں ممکن ہے! اس طرح امریکہ کو صرف فوجی اور سیاسی فتح ہی نصیب نہیں ہوئی بلکہ فنی مہارت اور ٹکنالوجی کی بالا دستی کا وہ مقام بھی حاصل ہو گیا جس نے اسے ایک بار پھر نا قابل تسخیر (invincible) ہونے کے زعم اور اعتماد سے نواز دیا ۔
۳– حلیفوں کا اختلافی پہلو: امریکہ نے دوسروں کو ساتھ رکھنے کا محض تکلف کیا، جب کہ دراصل یہ سارا کھیل امریکہ اور صرف امریکہ کا مرہون منت تھا۔ اولین فیصلہ بھی امریکہ نے تن تنہا کیا اور ساری سیاسی اور عسکری مہم بھی عملا ًاس طرح چلائی کہ سب کچھ اس کے اشارہ چشم و ابرو کا کرشمہ تھا۔ ایسے نازک لمحات بھی آئے جب خود بر طانیہ کو بھی، جو ”شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار“ کا کردار ادا کر رہا تھا، بار بار جھینپ کر قدم پیچھے بنانے پڑے اور فوجوں کو میدان میں اترنے کی ہدایات دے کر واپس بلانا پڑا۔ یہی کیفیت جرمن شہر بون کے سیاسی مذاکرات کی میز پر بھی رہی، اور یہی رنگ ڈھنگ کارزار جنگ کا تھا۔ ایک امریکی سیاسی تبصرہ نگار چارلس کرد تھا میر (Charles Krauthammer) نے جو واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ ہے، امریکہ کے اس ’انا ولا غیری‘ والے کردار کی بڑے طمطراق سے عکاسی کی ہے۔ کر د تھا میر کا مضمون America Rules OK گارڈین میں بھی شائع ہوا ہے او راپنی نظیر آپ ہے:
یہ پورا تصور کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ ”امریکی اتحادی“ لڑ رہے ہیں، مضحکہ خیز ہے۔ آخر مصر نے کیا دیا ہے؟ معروف عسکری تجزیہ نگار جے لینو (Jay Leno) کے مطابق: ”فرانس نے مزار شریف میں اپنی فوجیں لڑائی ختم ہونے کے بعد بھیجیں“۔ (کیا ان کا مشن یہ تھا کہ طالبان کو ہتھیار ڈالنا سکھائیں!) کیا کوئی اسلامآباد میں کسی جگہ اتحادیوں کا دفتر بتا سکتا ہے؟ کیا کوئی اتحادیوں کے ترجمان کا نام ہی بتا سکتا ہے جو جنگ کے بارے میں اعلانات کرتا ہے؟
اتحادی افواج امریکی ہوائی جہاز امریکی خصوصی افواج اور زمین پر موجود اس وقت کے افغان دوستوں سے زیادہ پر مشتمل نہیں۔ خلیجی جنگ کی طرح افغان جنگ بھی یک فریقی ہے جس پر کثیر فریقی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔ ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ کوئی ہمارے ساتھ نہ آیا تو پھر بھی ہم آگے جائیں گے۔ حیرت ہے کہ پھر بھی دوسرے پیچھے آئے۔
صرف خود ہی لڑنے والے فریق کو اس پر اعتراض نہیں ہوتا کہ دوسرے اس کے ساتھ جنگ میں شریک ہو جائیں۔ اس کو اعتراض تب ہوتا ہے جب کلنٹن کی طرح دوسروں کو ساتھ لے کر لڑنے والے کوسووا میں بم باری کے ہدف کے تعین میں ۱۸ ملکوں کو ویٹو پاور دے دیتے ہیں۔
افغان جنگ کسی کمیٹی کے زیر سر کردگی نہیں لڑی جا رہی۔ یک طرفہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم دوسروں کو، خواہ وہ کتنے ہی خیر خواہ کیوں نہ ہوں ،یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ امریکہ اور آزاد دنیا کے سلامتی کے بنیادی مفادات کے حصول میں مزاحم ہوں۔ یہ بش کی خارجہ پالیسی کی اصل قوت محرکہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اتنی کامیاب رہی ہے۔
اس مضمون پر ڈیلی گارڈین میں ڈاکٹر ڈریو وہائٹ ورتھ (Drew Whitwurth) کا خط شائع ہوا ہے، جو امریکہ کے اس نئے ذہن اور نام نہاد لبرل جمهوریت کے اصل عزائم کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود اس کے حلیف ملک کے دانش ور بھی امریکہ کے اس چہرے کو کس طرح دیکھ رہے ہیں : ” تنازعے کے دونوں طرف جنگ کا بڑھاوا دینے والوں کو خوش ہونے کے لیے حال ہی میں بہت کچھ ملا ہے۔ ویڈیو فلم میں ہم نے بن لادن کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے انہدام پر بے حد خوشی کا اظہار کرنے پایا اور اب اس طرح کی ایک خود کو مبارک باد چارلس کرد تھا میر کی جانب سے گارڈین میں آئی ہے۔
ڈاکٹر ڈریو وہائٹ ورتھ، آنے والے ۵۰ برسوں میں دنیا کی جو خاصی واضح تصویر دیکھ رہا ہے، ہمارے سامنے لاتا ہے: ”ایک ایسی دنیا جس میں کسی ملک کے شہریوں کو، سوائے امریکہ کے، جوہری حملوں یا ماحولیاتی نقصان سے تحفظ حاصل نہ ہو، ایک ایسی دنیا جہاں اگر نتائج امریکی مفادات کے خلاف ہوں تو جمہوریت کوئی معنی نہیں رکھتی، ایک ایسی دنیا جس میں ان مفادات سے اختلاف کا اظہار دہشت گردی کا ٹھپا لگا دے، اور نگرانی ،ظلم و جبر اور ہلاکت کا جواز فراہم کرے“ ۔
۴–جبری تائید کا ردعمل: اس ذہنی فضا کو پیدا کرنے میں امریکی ذرائع ابلاغ (میڈیا) نے بڑا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور سیاسی قیادت اور میڈیا دونوں نے حب الوطنی کے جذبے کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شدید جذباتی فضا پورے ملک میں قائم کی گئی ہے۔ دستور ،قانون، اخلاق، انصاف ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور سیاسی اختلاف کو” غداری “کا نام دیا گیا ہے۔ میڈیا نے افغان جنگ کے صرف وہ مناظر دکھائے، جن سے امریکی فتح کی نوید ملتی ہے۔ جو ظلم وہاں کے عوام پر ہوا ہے اور جس طرح ملک کو تباہ اور معصوم انسانوں کو ہلاک کیا گیا ہے، ان مناظر کو پالیسی کے طور پر بلیک آؤٹ کیا گیا ہے۔ حتٰی کہ قلعہ جھنگی میں زیر حر است سیکڑوں انسانوں پر بم باری اور ان کے قتل عام کی ایک جھلک بھی ٹی وی اسکرین پر نہیں آنے دی گئی ہے۔ امریکہ میں رائے عامہ کو سیاسی مصالح کا قیدی بنا کر نام نہاد سیکولر جمہوریت کے اس کرب ناک پہلو پر سے پردہ اٹھا دیا گیا۔ ملک کو جس جبری تائید (conformism) کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور جسے عوامی تائید کا نام دیا جا رہا ہے وہ دراصل ایک مصنوعی اور سوچے سمجھے انداز میں رائے عامہ کی تشکیل کا کارنامہ ہے۔ جسے چومسکی نے manufactured consent (وضع کردہ رضامندی) کا نام دیا ہے۔ اس پر خود امریکہ کے لوگ اب دل گرفتہ اور نوحہ کناں ہیں۔
وبے لفظوں میں تو لوگ شروع ہی سے شکایت کر رہے تھے ،پھر آہستہ آہستہ اخبارات کے کالموں اور اداریوں میں ایک نئے میکارتھی ازم (Me Carthism) کے خدشات کا اظہار شروع ہوا اور اب شہری آزادیوں کی تنظیمیں عوامی احتجاج پر مجبور ہوری ہیں۔ نیویارک ٹائمز میں فرینک رچ (Frank Rich) نے ایک دہلا دینے والا مضمون لکھا ہے “Yes, I am a Traitor” ۔ جس میں امریکی اٹارنی جنرل جان ایش کرافٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے محافظوں کا اب وہی رویہ ہے جو کبھی سر پھرے بادشاہوں کا ہوا کرتا تھا۔ فرینک لکھتا ہے:
جارج بش یا اس کی انتظامیہ میں کسی پر تنقید صرف سیاسی طور پر غلط نہیں ہے— بلکہ اس وقت یہ غداری ہے۔ سینٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے جان ایش کرافٹ نے اعلان کیا کہ”جو ہماری دانش کو چیلنج کرتے ہیں، وہ دہشت گردوں کے مددگار ہیں“ اور ”امریکہ کے دشمنوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں“۔ بڑے سخت الفاظ ہیں! آپ کو تعجب ہوتا ہے کہ جو شخص ہمیں القاعدہ کو تازیانے لگانے میں مدد دے رہا ہے، کس چیز سے خوف زدہ ہے۔ جو نمایاں ”غدار“ نظر آ رہے ہیں وہ تو شہری آزادیوں کے معمول کے محافظ ہیں یا ایک دو غیر معروف سینیٹر جنھیں ان کے حلقہ انتخاب سے باہر کوئی نہیں جانتا۔ رائے عامہ کے جائزوں کےمطابق عوام اٹارنی جنرل کے مکمل طرف دار ہیں اور وہ چند نام نہاد دانش در جو اس پر کڑی تنقید کرتے ہیں، انھیں ان کے صحافی دوست حقارت سے ہیجان زدہ قرار دیتے ہیں، جو شہری آزادیوں سے متعلق شور مچانے میں اتنے الجھ گئے ہیں کہ یہ بھول گئے ہیں کہ ’ایک جنگ جاری ہے‘۔
میں اس کو غداری کہنے کی جرأت تو نہیں کروں گا، لیکن یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے، کہ جس وقت ایش کرافٹ، رچ تھامسن کی ٹیم داخلی محاذ پر اتنی ہی نااہل ثابت ہورہی ہے جتنی کہ بیرونی محاذ پر ڈک چینی، ڈونلڈ رمس فیلڈ، پاول، رائس کی ٹیم مستعد ،ہم اس سے آنکھیں بند کر لیں۔ افغانستان جنگ کے بعد داخلی محاذ پر صومالیہ کی طرح جنگ کا اگلا تھیٹر بننے کا امکان رکھتا ہے۔ مسٹر ایش کرافٹ اور بش انتظامیہ کے دوسرے سست روؤں کو کھلا راستہ دینا حب الوطنی نہیں ہے— یہ حقائق سے چشم پوشی ہے جس کی بسااوقات بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اگر جنگ کے وقت اپنے رہنماؤں کی قابلیت کے بارے میں سوال اٹھانا غداری ہے، تو مجھے قریب ترین فوجی ٹریبونل کی طرف لے جائیے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جو بات ہم نے ا۱ستمبر کو منگل کی صبح سیکھی ہے، اس کے مطابق آئندہ یہ سوال اگلی صبح اٹھانے سے بہتر ہے کہ آج ہی اٹھا لیا جائے۔
۵– اسی هنگامے میں مقاصد کا حصول: امریکی قیادت نے ایک اور کامیابی بھی گھر یلو محاذ پر حاصل کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو قانون سازی معرض التوا میں پڑی ہوئی تھی، خصوصیت سے دفاعی بجٹ کے سلسلے میں ،وہ چشم زدن میں دونوں ایوانوں سے منظور کر لی گئی ۔ بجٹ میں دفاع اور انٹیلی جنس کے لیے علی الترتیب اصل مطالبہ زر سے ۵۰ اور ۲۰ ملین ڈالر زیادہ حاصل کر لیے گئے۔ قومی دفاعی چھتری (شیلڈ ) کا جو منصوبہ ڈانواں ڈول تھا، وہ بھی منظور کرالیا گیا ہے۔ اے بی ایم (اینٹی بیلاسٹک میزائل پروگرام) کے جس عالمی معاہدے سے نکلنے کے لیے امریکی حکومت پر تول رہی تھی، اس خواہش کو بھی عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ توانائی کے باب میں اس کی صنعت کے جو مطالبات تھے وہ بھی پورے ہو گئے ہیں اور ان کے بارے میں ساری مخالفت پادر ہوا ہوگئی ہے۔ تیل کی کمپنی Enron جس سے بش فیملی، ڈک چینی (نائب صدر ) اور حکمران گروہ کے نصف در جن افراد وابستہ رہے ہیں، وہ ملک کو ۸۰ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا کر دیوالیہ ہو گئی، لیکن کوئی شدید رد عمل نہیں ہوا ۔ یہ سب کچھ حب الوطنی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی دھول میں گم ہو گیا ہے۔
صدر جارج بش اور امریکی انتظامیہ کی یہ وہ بڑی بڑی کامیابیاں ہیں جو اسامہ بن لادن، القاعدہ اور طالبان کے نام پر حاصل کی گئی ہیں۔ ان کی بنیاد پر ”تہذیب ،آزادی، حقوق انسانی اور جمہوریت“ کی خاطر ایک نئے عالمی سامراج کے دروبست تعمیر ہو رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعات نے ان رکاوٹوں کو ہٹا دیا اور وہ سارے بند اس ریلے میں بہہ گئے جو امریکہ کے عالمی عزائم کے اظہار اور ان کے حصول کے لیے جارحانہ اقدام کی راہ میں حائل تھے۔
بہ ظاہر یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن دراصل یہ دہشت گردی کے خلاف واویلے کی آڑ میں ایک نئی سامراجی جنگ کا آغاز ہے جس کا پہلے ہدف مسلمان ممالک اور خصوصیت سے اسلامی احیا کی تحریکیں ہیں۔ بالآخر اس کا مقصد دنیا کے سارے ہی ممالک پر مغربی اقوام اور خصوصیت سے امریکہ کی بالا دستی کا قیام، ان کے وسائل پر مکمل قبضہ، مغربی اور صہیونی استعمارانہ نظام سرمایہ داری کے خلاف سیاسی آزادی کی تحریکوں اور سیاسی اور اداراتی احتجاج کی جدو جہد کو لگام دینا اور انھیں امریکی پالیسی سازوں کے مسلط کردہ نئے ”عالمی نظام “کے آگے سپر ڈالنے پر مجبور کرتا ہے۔ جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ایک بڑے منصوبے کے سارے خدو خال دیکھے جاسکتے ہیں ؎
کھول کر آنکھیں مرے آئینہ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
۲
امریکہ اور مغربی اقوام جو کچھ حاصل کر رہی ہیں یا کرنا چاہتی ہیں وہ اپنی جگہ، لیکن ان چند مہینوں میں تیزی سے رونما ہونے والے واقعات اور ان کے تانے بانے سے عالمی سیاست اور نئے نظام کا جو نقشہ اُبھر رہا ہے، وہ اپنے دامن میں انسانیت کے لیے بڑے گھمبیر خطرات لیے ہوئے ہے۔
دنیا کو در پیش نئے خطرات
فتح کے شادیانوں کے جلو میں جو طوفان مغرب اور مشرق کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے، تہذیب و تمدن کے دفاع کے نام پر تہذیب و تمدن کو جن خطرات سے دو چار کیا جا رہا ہے اور امن و انصاف کے باب میں جو کچھ انسانیت نے بڑی جدو جہد کے بعد حاصل کیا تھا، اسے جس طرح معرض خطر میں ڈالا جا رہا ہے ،اس کا ادراک وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس منظر نامے میں، مسلمان تو نشانہ خاص ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نئی یلغار کی زد میں پوری انسانیت ہے۔ آج امریکہ کے طاقت در طبقات پوری دنیا کو، حتٰی کہ خود اپنے اور یورپی ممالک کے عام انسانوں کو بڑے ہی پر فریب انداز میں ایک نئی غلامی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان مہیب سایوں کا اس وقت ادراک نہ کیا گیا تو تاریکی پورے انسانی افق پر چھا سکتی ہے، ایک نئے تاریک دور (dark ages) کا آغاز ہو سکتا ہے اور مسلمان ہی نہیں، پوری دنیا کے امن و انصاف پسند انسان بڑے خسارے اوربڑی تباہی سے دو چار ہو سکتے ہیں۔
دہشت گردی کا مفہوم
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جس چیز کو ”دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ“ کا نام دیا جا رہا ہے، اور جس کا پہلے ہدف افغانستان بنایا گیا ہے اور القاعدہ کے ہاتھ نہ آنے والے کارکنوں کی تلاش میں جس طرح درجنوں ممالک کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں وہ ایک ایسا جامہ ہے کہ جس کا نہیں سیدھا اُلٹا۔ جس چیز کے خلاف امریکہ لڑ رہا ہے اس کی کوئی واضح اور متفق علیہ تعریف موجود نہیں ۔ اقوام متحدہ بار بار کوشش کے باوجود کسی ایک تعریف پر متفق ہونے میں ناکام رہی ہے۔ چند ہفتے پیش تر ا استمبر کے واقعات پر بحث کے دوران ایک بار پھر جنرل اسمبلی دہشت گردی کی کوئی متعین تعریف وضع کرنے میں نا کام ہو چکی ہے۔ خود امریکہ کی ۲۰ سے زیادہ سرکاری دستاویزات کا تجزیہ کرنے والے محققین اور ماہرین قانون شکایت کناں ہیں کہ ان میں کہیں بھی اس کی متعین تعریف نہیں دی گئی۔ مختلف دستاویزوں میں مختلف اعمال اور سرگرمیوں کو دہشت گردی کہا گیا ہے؟
اسی طرح نیلسن منڈیلا نے ۷ اکتوبر کو افغانستان پر امریکی فضائی حملے شروع ہونے پر اقوام متحدہ میں کہا ہے:” میں ایک زمانے میں دہشت گرد تھا اور اس کے بعد سر براہ مملکت ۔ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں، کسی کو علم نہیں ۔ آکسفورڈ ڈکشنری آف پالیٹکس کے مطابق امریکی ڈالر پر شائع ہونے والی جارج واشنگٹن کی تصویر بھی آزادی کے سپاہی کی یا کسی دہشت گرد کی ہوتی ہے “(ص ۴۹۳) ۔ گویا ؎
لائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگ!
اس سلسلے میں آکسفورڈ کنسائزڈ ڈکشنری آف پالیٹکس کا یہ اقتباس حرف معتبر کہا جا سکتا ہے:
دہشت گردی: حکومتوں یا اہل علم تجزیہ نگاروں کے درمیان اس کی کوئی متفق علیہ تعریف نہیں ہے۔ بالعموم جانی نقصان پہنچانے والی ان سرگرمیوں کو بیان کرنے کے لیے یہ بلا استثنا، بُرے مفہوم میں استعمال کی جاتی ہے جو خود ساختہ نیم سرکاری گروه سیاسی مقاصد کی خاطر انجام دیتے ہیں۔ لیکن اگر یہ سرگرمیاں کسی مقبول عام مقصد کے حصول کے لیے کی جائیں، مثال کے طور پر وچی فرانس کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مارکولیس کی کوشش، تو پھر لفظ ”دہشت گردی “کے استعمال سے عام طور پر احتراز کیا جاتا ہے، اور اس کے بجائے کوئی زیادہ دوستانہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک شخص: کسی کے خیال میں دہشت گرد اور دوسرے فرد کے نزدیک آزادی کا سپاہی ہوتا ہے۔
بعض اوقات دہشت گردی، نیم سرکاری اداروں کے بجائے حکومتوں کے لیے بھی برے مفہوم میں استعمال کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ریاستی دہشت کی اصطلاح بعض اوقات گسٹاپو، کے جی بی اور مشرقی جرمنی کی اسٹیٹ سائی اور ان جیسے دوسرے اداروں کے بارے میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ جنھیں سرکاری طور پر خود اپنے ہم وطن شہریوں میں سے اختلاف کرنے والے یا نسلی اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری ریاستوں میں اس پالیسی کے تحت بلاواسطہ انجام دی جانے والی پُر تشدد کارروائیاں یا ان میں بالواسطہ مدد کو بھی ریاستی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں مختلف رجحان رکھنے والے ممالک انھی کاموں کے لیے دوسرے ملکوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے، اسی طرح کی سرگرمیوں میں خود ملوث رہے ہیں۔ مثال کے طور پر رونالڈ ریگن کے دور صدارت میں خود امریکہ نے مختلف حکومتوں، خاص طور پر لیبیا کو، مورد الزام ٹھہرایا۔ جب کہ اس وقت نکاراگوا کے خلاف نیم سرکاری تشدد کی کھلے عام پشت پناہی کی حالانکہ نکاراگوا کی حکومت کے ساتھ اس کے مکمل سفارتی تعلقات قائم تھے۔ اس طرح کی کھلے عام عدم مطابقت سے شاید ہم کو زیادہ حیرت زدہ نہیں ہونا چاہیے، اگر ہم یہ یاد رکھیں کہ امریکی ڈالروں کے نوٹوں پر سیاسی مقاصد کے لیے نیم سرکاری تشدد کرنے والی ایک مشہور و معروف شخصیت یا دہشت گرد یا آزادی کے سپاہی یعنی جارج واشنگٹن کی تصویر ہوتی ہے۔
وراصل جو سوال پوری انسانیت کے لیے بڑا اہم ہے، وہ یہ کہ ایک ایسے معاملے میں جس کو متفق علیہ طور پر متعین نہیں کیا گیا، اور نہ بہ آسانی کیا جا سکتا ہے، ایسی صورت حال میں بھلا کسی ملک یا گروہ کو یہ اختیار کیسے مل جاتا ہے کہ وہ جس پر چاہے حملہ آور ہو جائے اور جس فرد، گروہ، تنظیم، حکومت حتٰی کہ ملک کو تباہ کرنا چاہے، تباہ کر ڈالے ۔ انسانیت کو اس سے زیادہ بڑا خطرہ اور کون سا ہو سکتا ہے!
کارروائی کا اختیار؟
دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر دہشت گردی کا ایک مفہوم متعین بھی کر لیا جائے تو یہ کون طے کرے گا کہ دہشت گردی کیا ہے؟ کس نے اس کا ارتکاب کیا ہے اور اس پر گرفت کس طرح کی جائے؟ اور معقول اور متناسب سزا کیا ہو سکتی ہے؟ مسئلہ ہر ملک کے اندر بھی ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر اور عالمی شراکت کے ساتھ بھی۔ ہر دو صورتوں میں کسے یہ اختیار ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا اقدام کرے۔ ملک کے اندر یہ کام محض انتظامیہ کا نہیں بلکہ ملک کے قانون اور عدالتی نظام کا ہے، جس میں انتظامیہ اپنا کردار ادا کرے اور عدالت، جرم کی تحقیق اور سزا کا تعین کرے۔ دہشت گردی کا مقابلہ اگر دہشت گردی ہی کے ذریعے کیا جائے گا تو معاشرہ اور بالآخر دنیا جہنم بن جائے گی۔ اگر دہشت گردی کی عالمی پہنچ ہو تو یہ کام کسی بین الاقوامی عدالتی نظام ہی کے ذریعہ ہو سکتا ۔
ہر کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ جسے چاہے دہشت گرد قرار دے کر اس کی گردن مارنا شروع کر دے۔ یہ تو پوری دنیا کو تباہی میں جھونکنے کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہوگا۔ عملا ًامریکہ نے ۱۱ستمبر کے بعد یہی سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ نے اندھا دھند افغانستان کا جو حشر کیا ہے کل وہی کسی دوسرے ملک کا بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی انتظامیہ کسی عدالتی کارروائی کے بغیر جس طرح تھوک کے بھاؤ سے افراد اور تنظیموں پر پابندیاں لگا رہی ہے اور دوسرے ممالک کو پابندیاں لگانے پر مجبور کر رہی ہے، وہ بھی عالمی دہشت گردی کی ہولناک مثال ہے۔
امریکی دانش در نوم چومسکی (Noam Chomsky) نے نومبر میں اپنے دورہ بھارت و پاکستان میں بار بار اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ : ”اسامہ بن لادن دہشت گرد ہے مگر اس کی دہشت گردی ابھی شبہ ہی کے زمرے میں ہے اور معروضی تجزیے کے تحت ثابت نہیں ہوئی، مگر جو کچھ صدر بش نے کیا ہے وہ ثابت شدہ دہشت گردی اور بن لادن کی دہشت گردی سے بڑھ کر دہشت گردی ہے“۔ بھارت کا رپورٹر مرلی دھر ریڈی لکھتا ہے:
جب نوم چومسکی نے زور دے کر کہا کہ امریکی صدر بش ، اسامہ بن لادن سے زیادہ بڑے دہشت گرد ہیں، اس لیے کہ اسامہ کے خلاف امریکی صدر کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، مگر دوسری جانب افغانستان میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام امریکی صدر کے خلاف ثبوت ضرور ہے ،تو ہال میں موجود لوگوں نے پر جوش انداز میں تالیاں بجائیں۔
حقیقت ہے کہ جس طرح امریکہ نے ”دہشت گردی “کے لفظ کو اپنی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں ایک حربے کے طور پر استعمال کیا ہے، وہ استعماریت کی تاریخ میں ایک سیاہ اور ہولناک باب کا اضافہ ہے۔
چومسکی نے بھارت میں فرنٹ لائن کے سیمی نار میں اس موضوع پر بڑی کھری کھری باتیں کیں:
چومسکی نے دہشت گردی کے تصورات کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے: ایک لغوی اور دوسرا پرو پیگنڈے والا۔ دہشت گردی کا لغوی تصور جو امریکہ کے سرکاری دستاویزات میں بھی اختیار کیا گیا ہے، یہ ہے کہ ”دہشت گردی: تشد د،یا تشدد کی دھمکی کانپا تلا استعمال ہے جو دباؤ ڈال کر اور جبر یا خوف پیدا کر کے سیاسی، مذہبی یا نظریاتی نوعیت کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کیا جائے“۔ چومسکی نے تسلیم کیا کہ امریکہ کی استعماری پالیسی نے لغوی تعریف کو پرو پیگنڈے والی تعریف کے حق میں دست بردار کر دیا ہے۔ اس کے مطابق، جو کوئی بھی امریکہ [کی سیاسی اور فوجی پالیسیوں] کے خلاف ہے، اس کے دوستوں یا حلیفوں کے خلاف ہے، دہشت گرد ہے ۔
امریکہ کی اس جارحانہ پالیسی نے پوری دنیا کے امن کے لیے شدید خطرات کو جنم دیا ہے ۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اگر اس سلسلے کو روکنے کی کوئی موثر کوشش نہ کی گئی تو دنیا ایک عالمی عدم استحکام (Global destabilization) کی دلدل میں پھنس کر رہ جائے گی۔ عالمی امن اور انسانوں اور اقوام کے درمیان انصاف کے قیام کے لیے بیسویں صدی میں جو بھی کوششیں ہوئی ہیں، آج وہ معرض خطر میں ہیں۔ انسانیت ایک بار پھر بڑی تیزی سے جنگل کے قانون کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بلاشبہ اس ترقی معکوس کی سراسر ذمہ داری امریکہ اور اس کے جنگی اتحادیوں پر ہے۔ ظلم کے خلاف جدو جہد، آزادی کے لیے جنگ، ایمان اور سلامتی کی حفاظت کے لیے مزاحمت ، بیرونی غاصبانہ قبضے کے خلاف لڑائی، انسانیت کے ان بنیادی حقوق میں سے ہیں جو ظلم کے خلاف برسر پیکار ہونے کے لیے قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ جب کہ دہشت گردی کے شبہ اور احتمال کی بنیاد پر دوسروں پر حملہ انسانیت کے خلاف جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس پس منظر میں اگر حقیقی دہشت گردی اور ظلم کے خلاف مزاحمت میں فرق نہ کیا گیا تو پھر جو ظالم اور جابر ایک بار کسی ملک یا قوم پر مسلط ہو گیا اس سے نجات کی کیا راہ باقی رہ جائے گی؟ امریکہ نے محض اپنے اسٹرے ٹیجک مفادات کے حصول کے لیے، جو کچھ افغانستان، طالبان اور اسامہ بن لادن کے خلاف اقدام کیا ہے، لا ریب اس کا نہ قانونی جوازہے اور نہ اخلاقی۔
روز نامہ گارڈین کی ایک مضمون نگار میڈیلین بٹنگ، بنیادی نکتے پر بحث کے دوران اپنے مضمون A Fairy Tale at Christmas میں جس نتیجے پر پہنچتی ہے، وہ بہت اہم ہے:
امریکہ انتقام لینا چاہ سکتا تھا، لیکن یہ ہرگز ایسی بات نہیں جس کے اخلاقی طور پر درست ہونے کا کوئی دعویٰ کر سکے۔ اب امریکیوں نے خارجہ پالیسی کے لیے ایسا راستہ کھول دیا ہے، جس کے مطابق دہشت گردی کا مقابلہ زیادہ بڑی دہشت گردی سے کرنا جائز قرار پایا ہے— وہ جو شرق اوسط میں تباہی پھیلا رہا ہے، اور جو کشمیر میں غاصبانہ راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، زیادہ تباہی لا سکتا ہے۔ امریکیوں کا یہ اقدام چین سے زمبابوے تک سنگ دلانہ جبر و تشدد کا اختیار دیتا ہے۔
جنگ اور ضابطہ
” دہشت گردی کے خلاف جنگ “کی اصطلاح کا استعمال بھی ایک ناروا اقدام اور معروف قانونی اور سیاسی ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی قانون میں جنگ کا ایک واضح تصور ہے۔ استعارے کے طور پر غربت کے خلاف جنگ اور بیماری اور جہالت کے خلاف جنگ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ،مگر فوج کشی کے معنی میں جنگ کا استعمال نہ ان میں سے کسی کے بارے میں جائز ہے اور نہ دہشت گردی کے لیے۔
دہشت گردی بلاشبہ ایک جرم ہے اور اس کے خلاف اقدام قانون اور نظام انصاف (judicial process) کے مطابق ہی ہو سکتا ہے۔ اور خود امریکہ نے، خواہ وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ۱۹۹۳ء کی دہشت گردی کا معاملہ ہو یا اوکلاہاما کا ۱۹۹۵ء کا واقعہ ،جس میں ۱۶۰ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے، یا اس کے اپنے بحری جہاز ایس ایس کول پر حملہ جس میں سے ۱۷فوجی ہلاک ہوئے، یا پان امریکن جہاز کا اغوا اور تباہی جس میں ۲۵۰ افراد مارے گئے— ان سب جرائم کا تعاقب قانون کے مطابق عدالتوں کے ذریعے کیا گیا۔ لیکن ۱۱ستمبر کے الم ناک واقعات پر ایک من مانے انداز میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایک آزاد اور خود مختار ملک کے خلاف جو اقوام متحدہ کا رکن ہے جنگی جارحیت کا ارتکاب کر دیا گیا اور اس کی حکومت کو بہ زور بدلنے کا کام پوری ڈھٹائی کے ساتھ کیا گیا۔ یہ بین الاقوامی قانون کو بدلنے یا rewrite کرنے کی ایک ایسی مذموم اور تباہ کن کوشش ہے جو مستقبل میں عالمی امن کو تہ و بالا کرنے کا باعث ہوگی۔
قانون شکنی کی مثال
بین الاقوامی قانون کی یہ خلاف ورزی صرف دہشت گردی کو جنگ کی بنیاد قراردے کر ہی نہیں کی جارہی بلکہ کم از کم آٹھ ایسے جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک انسانیت کے خلاف جرم کا درجہ رکھتا ہے:
۱- محض شبہ کی بنا پر، خواہ وہ کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو، انصاف اور قانون کے عمل کو یکسر نظر انداز کر کے، محض اپنی طاقت کے بل پر افراد، اقوام اور ممالک کو سزا دینا اور ان کے خلاف فوج کشی کرنا۔
۲- باقاعدہ اعلان جنگ کے بغیر ایک ملک پر حملہ کرنا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف تنازعات کے پر امن حل کے راستے کو ترک کر کے قوت کا استعمال کرنا۔
۳ – افراد کے جرائم (اگر جرائم ثابت ہو جائیں تب بھی) کی سزا کسی ملک، اس کی حکومت اور اس کے عوام کو دینا۔ یہ اصول انصاف اور بین الاقوامی قانون کےخلاف ہے۔
۴ – ذاتی دفاع یا قومی دفاع (self defense) کے معروف تصور کے برعکس اپنے دفاع کے نئے تصور کے نام پر ہزاروں کلو میٹر دور، ایک آزاد ملک پر حملہ کرنا اور اس طرح دوسرے ممالک کے لیے جارحیت اور جنگل کے قانون کا راستہ ہموار کرنا۔ امریکہ کے اس اقدام کا فوری اثر یہ ہوا کہ اسرائیل نے” اپنے دفاع ہی کے نام پر “فلسطین اتھارٹی اور غزہ اور غرب اُردن کے علاقوں پر ایف ۱۶ ،گن شپس اور ٹینکوں سے حملے شروع کر دیے اور برملا امریکہ کی مثال کو بطور جواز پیش کیا ہے۔ اس پر بھارت نے بھی یہی راستہ اختیار کیا ہے جو روزانہ دس، پندرہ ، بیسں مسلمان نوجوانوں کو مقبوضہ کشمیر میں قتل کر رہا ہے۔ بھارتی وزیرا عظم واجپائی اور وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی دونوں اس مقصد کے لیے امریکہ کی افغانستان کی کارروائی کا سہارا لے رہے ہیں۔ –
۵ – قانون کی ایک معروف اصطلاح collateral damage (ضمنی نقصان) کی نئی تعریف کو وضع کیا گیا ہے، جس کے مطابق جس کے ذریعے ہزاروں انسانوں کی ہلاکت اور پورے پورے ملک کی تباہی کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک قابل قبول ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔
۶ – امریکہ نہ صرف خود دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ دہشت گردی کی ایک اورشکل intimidation and threat of violence یعنی خوف زدہ کرنے اور تشدد کی دھمکی کے ذریعے دوسرے ملکوں کو اپنی صف میں شامل کر رہا ہے۔ یہ فلسفہ کہ: ”یا ہمارے ساتھ ہو ورنہ ہمارے مخالف“—یا” دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے حلیف بنو ورنہ تم خود دہشت گرد قرار دے دیے جاؤ گئے“— یہ وہ شیطانی فلسفہ ہے جس نے جرمن قوم پرست لیڈر ہٹلر (م: ۱۹۴۵) کے فلسفہ جارحیت کو بھی مات کر دیا ہے۔ اس ”جدید فلسفے“ کا نشانہ پاکستان جیسے ملک ہی نہیں بنے یورپی ممالک کو بھی اسی طرح بل ڈوز (bulldoze) کر دیا گیا ہے۔
ہالینڈ کے وزیر خارجہ کے بارے میں اخباری اطلاع ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ جنرل پاول نے ان سے دھونس کے اسی اصول کے مطابق تعاون مانگا تو انھوں نے با ادب کہا “Yes General!”:
۷ – جرم و سزا اور جنگ کے باب میں انصاف کے اصولوں میں مرکزی اہمیت کے حامل نکات: ضرورت (necessity) اور اس کا جواز (legitimacy) تو ہیں ہی، لیکن توازن اور تناسب بھی اس کا ایک اہم تقاضا ہیں۔ افغانستان پر مسلط کردہ امریکی ”جنگ “میں ان میں سے ہر ایک کو پامال کیا گیا ہے۔
۸ – افغانستان میں جو جنگی اسلحہ(weaponary) استعمال کیا گیا، کارپٹ بم باری اور ڈیزی کٹرہم کا استعمال، زیر حر است قیدیوں پر بم باری، ہتھیار ڈالنے پر جان کی امان دینے سے انکار، عام شہری ٹھکانوں، مساجد ہسپتال اور ریڈ کر اس کے دفاتر پر بم باری، اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرنا (brutalization) یہ سب اقدام کھلے جنگی جرائم (war crimes) کے زمرے میں آتے ہیں۔
لیکن محض طاقت کے گھمنڈ میں نہ صرف ان گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے، بلکہ انھیں جرم بھی شمار نہیں کیا جا رہا۔ یہ بین الاقوامی قانون کو بالکل ہی بدل ڈالنے کی بدترین مثال ہے۔
پسند کے ظالم
امریکہ جس راستے پر چل پڑا ہے نظر آ رہا ہے کہ افغانستان صرف پہلا قدم ہے۔ عراق، صومالیہ، یمن، شمالی کوریا ، سوڈان کا تو کھلا کھلا ذکر کیا گیا ہے اور پر تو لے جا رہے ہیں کہ اگلا نشانہ کون ہو۔ پھر سعودی عرب، شام، ایران اور پاکستان کی باتیں بھی دبی زبان سے ہو رہی ہیں۔ ایک طرف تو امریکہ انھیں اپنا طرف دار قرار دے رہا ہے لیکن در پردہ ان سب کے بارے میں بڑی خطرناک منصوبہ بندی ہو رہی ہے، جس کی کچھ جھلکیاں سامنے آ رہی ہیں۔
سعودی عرب کے خلاف ایک منظّم پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔ ابھی واضح نہیں کہ اس کا مقصد وہاں کے نظام کی تبدیلی ہے یا صرف بلیک میل کرنا، جیسا کہ ایران میں ۷۰ کے عشرے میں ایران کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اسی طرح شام اور ایران بھی زد میں ہیں۔ پاکستان کو ”دلیر ساتھی“ قرار دے کر اور اس کی فوجی حکومت ” جمہوریت دوست“شمار کی جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف اس کے ایٹمی پروگرام، نظام، تنظیمات اور تنصیبات پر قبضے، نگرانی، اثر اندازی کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں ۔ فوج اور عوام میں اسلامی رجحانات کو لگام دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ فلپائن اور انڈونیشیا کا بھی ذکر ہے اور ۴۰ سے ۶۰ ممالک کو القاعدہ کے سلسلے میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ بات صرف القاعدہ کی نہیں، ہر وہ ملک جس سے امریکہ کے مفاد کو کسی شکل میں بھی خطرہ ہو اسے دہشت گردی کے نام پر مطیع بنانے کی کوشش ہے۔
بات صرف دہشت گردی کی نہیں اب تو صاف کہا جا رہا ہے کہ: ”دہشت گردی کوپیدا کرنے والی سب سے اہم قوت نام نہاد مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی تعلیم کا نظام ہے اور جب تک ان کو ختم نہیں کیا جائے گا دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی“۔ بڑی ہوشیاری اور شاطرانہ انداز سے اسلام، اسلامی احیا کی تحریکوں، اسلامی فلاحی اداروں اور دینی تعلیمی نظام کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور زہریلا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ:” اسلام میں ’اصلاح مذہب (reformation) ‘کی ضرورت ہے، مذہب اور سیاست کی تفریق وقت کی سب سے بڑی ضرورت اور ترقی کا اہم ترین ذریعہ ہے، سیکولر ازم اور مغربی لبرلزم کے فروغ کے بغیر دہشت گردی سے نجات ممکن نہیں“۔
۳
یہ سارا کام ایک وسیع تر عالم گیریت اور جدیدیت کا حصہ ہے اور پوری دنیا کی نجات اس راستے کو اختیار کرنے میں ہے ورنہ اسے اس پر مسلط کیا جائے گا اور یہ سب امریکہ کے اپنے دفاع (self defense) ہی کا ایک حصہ ہے۔
نیوز ویک، ٹائم، اٹلانٹک، جیسے معروف رسائل اور تمام اہم روزنامے تک ایسے مضامین، ادارتی تبصروں اور خطوط سے بھرے ہوئے ہیں جن میں جہادی کلچر، سیاسی اسلام (political Islam) اور اسلامی بنیاد پرستی (Islamic fundamentalism) پر کاری ضرب لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
نئے استعمار کا ایجنڈا
یہ نئے استعمار کا ایجنڈا ہے جس کے چار بڑے بڑے میدان ہیں:
۱ – سیاسی اعتبار سے امریکہ کی بالا دستی اور اس امر کا اہتمام کہ یہ بالا دستی اکیسویں صدی میں قائم رہے اور اس کے لیے کوئی حریف اُبھرنے نہ پائے۔
۲ – امریکہ کی فوجی برتری اور اس کو نہ صرف نا قابل تسخیر رکھنا بلکہ ساری دنیا میں اس کی موجودگی یا اس کے قائم مقام عناصر (surrogates) کی حفاظت جو اس کے آلہ کار کے طور پر کام کر سکیں اور دنیا کا نقشہ ان خطوط پر قائم رکھ سکیں جو امریکہ کو مطلوب ہے۔ نیز اس بات کی ضمانت کہ کسی شکل میں بھی ایسی عسکری صلاحیت دوسرے ملکوں میں پیدا نہ ہو جو امریکہ اور اس کے حواریوں خصوصیت سے اسرائیل کے لیے چیلنج بن سکے۔
۳ – دنیا کے معاشی وسائل پر امریکہ، اس کے اتحادیوں اور اس کے زیراثر ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور مغرب کے استعماری مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم کار این جی اوز کا قبضہ ہے۔ اس سلسلے میں ایک فیصلہ کن ہدف تیل اور گیس کے تمام اہم ذرائع اور ترسیل کے راستوں پر قبضہ ہے۔
۴ – تہذیبی میدان میں مغربی کلچر اور ثقافت کا عالم گیر غلبہ اور دین و مذہب خصوصیت سے اسلام کی بنیاد پر اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی کے امکانات کو معدوم کرنا۔
نئے سامراج کا یہ ایجنڈا کسی پردے کے بغیر اب سرعام پیش کیا جا رہا ہے اور اس پر عمل کرانے کے لیے پروپیگنڈے سے لے کر عسکری قوت تک ہر حربہ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
امریکی سامراج کے یہ عزائم تو پہلے بھی ظاہر تھے، مگر دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ نے ان عزائم کونئی زندگی اور ان پر عمل کو نئے امکانات فراہم کر دیے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں: کیا دہشت گردی کا آغاز ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ ء سے ہوا؟ اور کیا افغانستان اور القاعدہ کی تباہی سے دہشت گردی روے زمین سے فنا ہو جائے گی؟ جسے بنیاد پرستی کہا جا رہا ہے کیا اس کا وجود صرف مسلم دنیا میں ہے یا خود امریکہ میں بنیاد پرستوں کی ایک نہیں درجنوں تحریکیں سرگرم کار ہیں؟ کیا خود جارج بش کی صدارت کے پیچھے امریکی بنیاد پرستوں کا کوئی کردار نہیں؟ کیا اسرائیل کی لیکود پارٹی اور وزیر اعظم شیرون، صہیونی بنیاد پرستی کے بدترین مظاہر نہیں؟ کیا بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ، بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد، ہندو بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے سوا کچھ اور ہیں؟ کون سا ملک ہے جہاں انتہا پرستی موجود نہیں اور کون سا دور ہے جو انتہا پرستی سے پاک رہا ہے۔
پھر ”دہشت گردی“ کے خلاف تو بہت کچھ بخار نکالا جا رہا ہے، مگر اس کی کوئی فکر نہیں کہ وہ حقیقی اسباب کیا ہیں، جن کے نتیجے میں: امریکہ اور مغربی اقوام کے خلاف نفرت کے طوفان امنڈ رہے ہیں، سرمایہ داری کے خلاف لاوا پک رہا ہے، مظلوم انسانوں کی ایک تعداد مایوس ہو کر اپنی جان تک پر کھیلنے کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
ہدف بنائی جانے والی ”دہشت گردی“ ایک معمول کی کارروائی نہیں، ایک غیر معمولی رویے کی مظہر ہے۔ یک رخے پن سے اس کو نہ سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ختم کیا جا سکتا ہے، جب تک ان اسباب کا کھوج نہ لگایا جائے جن کے بطن سے یہ جنم لیتی ہے۔ ان کے تدارک کے بغیر اس سے نجات ممکن نہیں ۔ فلسطین ہو یا کشمیر، چیچنیا ہو یا فلپائن، اسپین ہو یا کیوبک (کینیڈا)، آئرلینڈ ہو یا تھائی لینڈ، سوڈان ہو یا صومالیہ، کیوبا ہو یا نکاراگوا ، فیجی ہو یا ہیٹی، اراکان (میانمار) ہو یا کو سووا ،جہاں بھی ظلم ہوگا، اس کا رد عمل بھی رونما ہوگا۔ جو جائز کے ساتھ ناجائز اور پر امن کے ساتھ خونی اور تشدد کے راستے بھی اختیارکر لیتا ہے۔
جس طرح غربت خود کشی کی طرف لے جاتی ہے، اسی طرح مظلومیت اور محردمی تشدد اور دہشت گردی کے روپ بھی دھار لیتی ہے۔ جرم کا خاتمہ محض قانون اور جبر سے نہیں ہو سکتا۔ جب جرم کے اسباب ختم ہوں گے تو اسی وقت جرم میں بھی کمی آئے گی اور حقیقی امن و آشتی کے امکانات روشن ہوں گے۔ بدقسمتی سے سامراجی ذہن اس سامنے کی حقیقت کو سمجھنے، اور سامراج کی آنکھ اس کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ محض جبر اور طاقت سے اپنی بالادستی قائم رکھنے کے زعم میں مبتلا ہے۔ خدا کی زمین پر ظلم کی فراوانی اور انسانوں کے درمیان کش مکش اور شورش کی بڑی وجہ یہی ذہنیت اور یہی سیاست ہے۔ آج امریکہ اس ذہنیت اور سیاست کا سب سے بڑا علم بردار اور عالمی اقتدار کا ٹھیکے دار بن گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اسی سامراجی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
بڑا ہدف: اسلامی تحریکات
امریکی سامراج اور مغربی تہذیب کا ہدف تو پوری دنیا ہے ،لیکن فوری طور پر پہلا اور بڑا ہدف اسلامی دنیا اور اسلامی احیا کی تحریکات اور ادارے ہیں، اور ان پر ہی اس وقت اصل توجہ مرکوز ہے۔ نیوز ویک کا ڈاؤس خصوصی ایڈیشن (دسمبر ۲۰۰۱ – فروری ۲۰۰۲، جو” ۲۰۰۲ء کے مسائل“ کے بارے میں ہے) اس عالمی ایجنڈے کا خلاصہ پیش کر رہا ہے۔
اس شمارے میں خصوصیت سے سیموئیل ہن ٹنگٹن، فرید زکریا اور فرانسس فوکویاما کے مضامین بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم صرف دو مختصر اقتباسات پیش کرتے ہیں: سیموئیل ہن ٹنگٹن کا فتویٰ ہے:
معاصر عالمی سیاست مسلم جنگوں کا دور ہے۔ مسلمان آپس میں لڑتے ہیں اور غیر مسلموں سے بھی، دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ لڑتے ہیں ۔ مسلم جنگوں نے بین الاقوامی تنازعات کے سب سے بڑے مظہر کی حیثیت سے سرد جنگ کی جگہ لے لی ہے۔ ان جنگوں میں دہشت گردی کی جنگیں، گوریلا جنگیں، خانہ جنگیاں اور بین الاقوامی تنازعات شامل ہیں۔ مسلم تشدد کی یہ مثالیں اسلام اور مغرب کے درمیان یا اسلام اور باقی دنیا کے درمیان تہذیبوں کے ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ لیکن یہ ناگزیر نہیں ہے اور زیادہ امکان یہ ہے کہ تشدد، جس میں مسلمان شامل ہیں، منتشر ،متنوع اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ہوتا رہے-
داد دیجیے کہ سارا الزام مسلمانوں پر ہے، جیسے وہ سب سے طاقت ور قوت ہوں اور سارے عالم میں تباہی مچائے ہوئے ہوں ۔ ظلم کا نشانہ بھی مسلمان، دنیا میں سب سے زیادہ بے گھر اور مہاجر بھی مسلمان، سب سے زیادہ جانی نقصان بھی مسلمانوں کا ہو رہا ہے اورگردن زدنی بھی مسلمان ؎
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب اُلٹا
اب ذرا فرانسس فا کویاما کی گل افشانی بھی دیکھ لیجیے۔ موصوف کے مضمون کا عنوان ہے: حقیقی دشمن (The Real Enemy)
انقلابی اسلامسٹ جو کسی طرح کے اختلاف کو برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں، ہمارے دور کے فاشسٹ ہو گئے ہیں۔ دراصل ہم ان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
اس مضمون میں فاکو یا ما کا مرکزی پیغام یہ ہے:
پس اس طرح یہ محض دہشت گردوں کے خلاف ایک سادہ” جنگ“نہیں ہے جس کا امریکی حکومت قابل فہم انداز میں نقشہ کھینچتی ہے، اور نہ جیسا کہ بہت سے مسلمانوں کا موقف ہے کہ فلسطین میں یا عراق کے ساتھ امریکہ کی خارجہ پالیسی اصل مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں جو بنیادی تنازع در پیش ہے وہ بہت وسیع تر ہے اور دہشت گردوں کے ایک گروپ سے متعلق نہیں ہے، بلکہ انقلابی اسلامسٹوں کے بڑے گروہ سے مقابلے کا چیلنج درپیش ہے، اور ان مسلمانوں سے متعلق ہے جن کی مذہبی شناخت دوسری تمام اور سیاسی اقدار کو مسترد کر دیتی ہے۔
ہم امریکی دانش ور فو کو یاما کے ممنون ہیں کہ انھوں نے دل میں چھپی بات کھول کر سامنے رکھ دی اور ڈپلومیسی کے پردوں کو چاک کر کے مغرب کے عزائم اور ان کی نگاہ میں تنازع کے اصل سبب یعنی دین اور سیاست کے رشتے کو صاف لفظوں میں یوں بیان کر دیا: اگر مغرب کی دوستی چاہتے ہو تو دین کے اثر سے سیاست اور تہذیب و تمدن کو پاک کر لو ورنہ ہماری تمھاری کھلی جنگ ہے ۔
فیصلہ کن سوال
جنگ کا نقشہ ہمارے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا رد عمل کیا ہونا چاہیے؟
ایک راستہ تو بڑا آسان اور سادہ ہے، جس کی دعوت مغرب کے دانش ور اور سیاسی قائدین دے رہے ہیں۔ اسی کی آہنگ بازگشت خود مسلم دنیا میں جدیدیت کے
دلدادہ افراد کی تحریروں اور ارشادات سے چھلکی پڑتی ہے ؎
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
یہ وہ راستہ ہے جو زمانے کے پرستاروں نے ہر دور میں سجھایا ہے اور آسایش اور تن آسانی کے متوالوں نے آزادی، غیرت اور ایمان سب کی قربانی دے کر جسے اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ لیکن کیا اہل ایمان اور مسلم امت کے لیے بھی نجات کی یہی راہ ہے؟ نہیں، علامہ اقبال، اس کا جواب دیتے ہیں!
دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
اسلام تو نام ہی اس دین کا ہے جو طاغوت سے بغاوت اور اللہ کی بندگی سے عبارت ہے: فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الوثقى (البقره ۲۵۶:۲) یہ راستہ تو ہے ہی کفر، شرک اور طغیان سے کش مکش کا راستہ۔ اس میں طاقت اور تعداد اصل چیز نہیں، کہ دونوں حصول مقصد کا ذریعہ ہیں اور مطلوب بھی، مگر اصل ہدف وہ نصب العین اور وہ مقصود حیات ہے جو ایمان کا تقاضا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس دعوت کا علم بلند کیا تو اُن کے کتنے ساتھی تھے اور انھیں کتنی قوت حاصل تھی؟ مگر نصب العین واضح اور منزل کے بارے میں یکسوئی تھی اور ساری مخالفتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں ایک ہی جواب تھا کہ: اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور ایک پر چاند بھی رکھ دیا جائے تو اس راستے کو نہیں چھوڑوں گا، جدوجہد جاری رہے گی تا آنکہ یہ دین غالب آ جائے یا میری جان اس جدوجہد میں کام آ جائے —اکثریت اور اقلیت، طاقت اور کمزوری تبدیل ہونے والی چیزیں ہیں اور بالآخر تبدیل ہوتی ہیں۔ کل کی اقلیت آج کی اکثریت بن سکتی ہے اور آج کی اکثریت کل اقلیت میں بدل سکتی ہے۔ یہی معاملہ طاقت اور کمزوری کا ہے۔
مسلمانوں کے لیے اصل فیصلہ طلب سوال یہی ہے کہ آیا انھیں مسلمان رہتے ہوئے اپنی زندگی کی تشکیل و تعمیر کرنی ہے یا اسلام سے بے نیاز ہو کر دنیا طلبی کا راستہ اختیار کرنا ہے؟ اگر مطلوب اسلام ہے تو پھر اپنے ایمان، اپنے نظریے، اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی سیاست پر قائم رہنے اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ بلاشبہ اس جدوجہد میں ایمان اور نظریے کی قوت اور اتحاد کے ساتھ، علم، تحقیق، معاشی قوت، عسکری طاقت، ایجاد و اختراع اور ٹکنالوجی پر مہارت اور گرفت سب ضروری ہیں۔ لیکن سب سے اہم چیز وژن (vision) اور عزم ہے۔ اگر وژن موجود نہیں اور عزم و ارادے کا فقدان ہے تو پھر اُبھرنے اور ترقی کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن اگر یہ موجود ہیں تو پھر توفیق الہی سے تمام وسائل بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور زمانے کا نقشہ اسی طرح بدلا جا سکتا ہے جس طرح ماضی میں بدلا گیا۔ کوئی طاقت ور اتنا مضبوط نہیں کہ ہمیشہ مضبوط رہے اور کوئی سوپر پاور ایسی نہیں جو ہمیشہ سوپر پاور رہی ہو۔
تاریخ ایک نہیں درجنوں سوپر پاورز کا قبرستان ہے۔ خود ہماری زندگیوں میں برطانیہ اور اشتراکی روس دوسو پر پاورز کس بلندی سے کس پستی تک پہنچی ہیں۔ آج امریکہ کی طاقت کا اعتراف ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ لیکن یہ سمجھ لینا کہ اب ہمیشہ وہی غالب و حکمران رہے گا، تاریخ کے ساتھ مذاق اور انسانیت کے امکانات سے مایوسی ہے۔ اس لیے پہلا قدم اپنی منزل کا تعین اور اپنے مقاصد کی تفہیم ہے۔ پھر ان کے حصول کے لیے تیاری اور منصوبہ بندی ہے۔ جدوجہد کتنی ہی طویل ہو اور راہ کیسی ہی دشوار گزار، لیکن ہمیں سوچ مجھ کر اپنی راہ طے کرنی ہے اور آستان یار سے وفاداری کے سوا کوئی راستہ ہمارے
شایان شان نہیں ؎
جوئے خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا؟
جب ایک قوم خدا پر بھروسے کے ساتھ، دانش مندی سے اپنی منزل حاصل کرنے کی جدو جہد کرتی ہے تو پھر نئے امکانات اُبھرتے ہیں اور حالات تبدیل ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ہر نشیب کے بعد فراز اور ہر کمزوری کے بعد طاقت کا ابھار واقع ہوا ہے، بشرطیکہ ہمارا وژن واضح اور ہماری ہمتیں بلند رہیں۔ راستہ ایک ہی ہے اور وہ جدو جہد کا راستہ ہے ؎
زمانہ با تو نہ سازد، تو با زمانہ ستیز
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ پھر کیا ہمیں مخالف قوتوں سے تصادم اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟
بلا شبہ کش مکش تو اس راستے کے لازمی مراحل میں سے ہے، مگر دین نے جہاں ہمیں مستقبل کا ایک واضح وژن دیا ہے، وہیں یہ بھی سکھایا ہے کہ جدوجہد کے مختلف مراحل ہوتے ہیں اور تیاری کے بغیر معرکے میں کودنا عقل مندی اور حکمت نہیں، حماقت ہے۔ صبراور حکمت، یہ دونوں مومن کی میراث ہیں۔ ہماری جدو جہد، طویل اور وقت طلب ہے۔
بلاشبہ ہمارا ہر لمحہ اصل منزل کی طرف پیش قدمی کی تیاری اور تحرک میں صرف ہونا چاہیے، شارٹ کٹ کی تلاش اور جلد بازی کے اقدام دینی فراست کے خلاف ہیں۔ مقابلےکے لیے صحیح حکمت عملی کا تعین اور جدو جہد کے لیے مکمل تیاری بھی اسی طرح ایمان کا حصہ اور دین کا تقاضا ہیں، جس طرح طاغوت کے آگے سپر ڈال دینے، دوسری تہذیبوں کی غلامی قبول کرنے اور شیطان کی دکھائی ہوئی راہ سے برأت لازم ہے۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ جذباتیت سے مکمل احتراز کیا جائے۔ صبر، حکمت اور محنت سے، علم، اجتہاد اور جہاد کے راستے کو اس طرح اختیار کیا جائے جو ان کا حق ہے۔
۴
ان بنیادی امور کے تجزیے کے بعد اس بات کی ضرورت ہے کہ اس اصولی موقف کو بھی بالکل واضح الفاظ میں بیان کیا جائے جس کو اختیار کر کے آج پاکستان اور اُمت مسلمہ وقت کے چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
امریکہ اور مغربی اقوام آج خواہ کتنی ہی قوی کیوں نہ ہوں، ان کی موجودہ بالا دستی اور وسائل پر غلبے اور دسترس کے اعتراف کے ساتھ، اس عزم کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ: مسلمان اپنا جدا گانہ تشخص رکھتے ہیں اور ان کی منزل اپنی آزادی اور اپنی تہذیب کی ترقی اور فروغ ہے جو دوسروں کی غلامی یا بالا دستی کے تحت جائے پناہ پر قناعت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر امریکہ کا ایک سوپر پاور ہونا ایک حقیقت ہے تو مسلم امت کے ایک ارب ۳۰ کروڑ نفوس بھی ایک حقیقت ہیں جنھیں نہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ محض طاقت سے غلام بنایا جاسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تصادم سے پہلو بچاتے ہوئے اپنے گھر کی اصلاح، دینی و دنیوی علم میں پختگی، اپنے اتحاد کا حصول، اپنے وسائل کی ترقی اور اپنی قوت کا استحکام ہمارا اصل ہدف ہوں۔ اس کے لیے اپنے ایمان، اپنے دین اور اپنے نظریے پر مضبوطی سے قائم رہنا، وقت کے چیلنج کو سمجھنا اور اپنی بنیادوں کو استوار کر کے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری ہماری فکر وسعی کا محور ہونا چاہیے۔
اصولی موقف کے پانچ نکات
اس کام کو انجام دینے کے لیے ہمیں کچھ عالم گیر اصولوں کو اپنی دعوت اور حکمت عملی کی بنیاد بنانا چاہیے اور دنیا کے تمام انسانوں اور تمام عوام کو ان کی طرف لانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ نہ ہمیں دوسروں کا کاسہ لیس ہونا چاہیئے، اور نہ ہر ایک سے الگ تھلگ اور مقاطعے کا راستہ اختیار کرنا صحیح عمل ہو سکتا ہے۔ قدر مشترک کی تلاش اور اس پر تعلقات استوار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کے حالات بھی اس مقام پر ہیں کہ کچھ اصولوں اور مشترک اقتدار پر سب کو لایا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسی میں تمام انسانوں کا بھلا ہے۔ بجائے اس کے کہ مسلمان محض دوسروں کے اقدامات پر ردّ عمل تک اپنے کو محدود رکھیں، ہمیں آگے بڑھ کر پوری انسانیت (بشمول مغربی اقوام) کو کچھ بنیادوں پر متفق کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اصول ہماری عالمی دعوت کا محور بن سکتے ہیں:
۱ – تمام اقوام کی آزادی، حاکمیت اور سلامتی کا تحفظ ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد، تمام انسانوں کی برابری، تمام اقوام کی آزادی، اور ان کا حق خود ارادیت ہے۔ اسلام نے اسی اصول کو انسانیت کے سامنے پیش کیا تھا اور یہ اصول استعماریت اور امپریلزم کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
۲ – کسی ایک ملک یا تہذیب کی بالادستی پر اُستوار تکثیری نظام (pluralism) ہی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سب اس اصول کو تسلیم کریں کہ ہر قوم کو اپنی تہذیب و ثقافت کی پاس داری کا حق ہے اور دنیا کی یک رنگی، فطرت کے خلاف اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ اس لیے سب کو اپنے اپنے اصول واقدار کی روشنی میں ترقی کے مواقع حاصل ہونے چاہیں۔
۳ – تمام انسانی معاملات کو دلیل اور مکالمے (dialogue) کے ذریعے حل کیا جائے اور قوت کے استعمال کو قانون اور عالمی انصاف کا تابع کیا جائے۔ ہر قسم کے تشدد کے خلاف عالمی رائے عامہ کو منظم کیا جائے اور اس میں دہشت گردی کی ہر شکل میں مخالفت شامل ہو۔ نیز دہشت گردی اور آزادی کے حصول یا ملک وملت کی حفاظت کے لیے جدو جہد کو اس سے ممتاز و ممیز کیا جائے اور قوت کے استعمال کی حدود اور اس کا ضابطہ کار متعین کیا جائے۔
۴- انصاف کے حصول کے لیے دنیا کے تمام انسانوں اور اقوام کو ایک منصفانہ عالی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ انصاف وہ مثبت بنیاد ہے جس پر عالمی امن قائم ہوسکتا ہے اور علم کی دراندازیوں سے انسانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
۵- بین الاقوامی تعاون اور اشتراک کے ساتھ ساتھ قوموں یا ملکوں کے الحاق کی اجتماعی خود انحصاری کے اصول کا احترام ۔ اس سے عالم گیریت کا ایک ایسا نظام وجود میں آ سکتا ہے جس کے تحت اگر ایک طرف انسانوں، مال تجارت، مالی اور دوسرے وسائل کی نقل و حرکت میں سہولت ہو تو دوسری طرف ایسے عالمی ادارے وجود میں آئیں، جو دولت اور قوت کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے کمزوروں کو طاقتوروں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔ بالآخر دنیا میں قوت اور دولت کی منصفانہ تقسیم وجود میں آ سکے جس کے نتیجے میں سب کو خوش حالی، استحکام اور باعزت زندگی حاصل ہو سکے۔
یہ وہ پانچ بنیادیں ہیں جن کی طرف دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت دے کر پاکستان اور اُمت مسلمہ ایک ایسے عالمی نظام کی داغ بیل ڈال سکتی ہے، جو حقیقی امن و انصاف کاضامن ہو سکے۔
آج کے طاقت ور اس کی راہ میں حائل ہوں گے، لیکن دنیا کے تمام دوسرے ممالک کو منظّم اور متحرک کر کے اور پرامن ذرائع سے عالمی رائے عامہ کو منظّم کر کے اس قدرِ مشترک کو، نئے نظام کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب دنیا کے ممالک دوسروں پر بھروسا کرنے کے بجائے اپنے اوپر بھروسا کر کے اپنے وسائل کو صیح صحیح استعمال کرنے اور منظّم کرنے کی جدوجہد کریں اور تعاون اور اشتراک کی منصفانہ شکلوں کو رواج دیں۔ جس طرح دنیا کے بہت سے ممالک میں، بشمول آج کے ترقی یافتہ مغربی ممالک، اندرون ملک دولت کی تقسیم اور قوت کے توازن کو حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے اور اس میں ایک درجہ کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح عالمی سطح پر بھی ایک متوازن اور منصفانہ نظام کا قیام ممکن ہے، بشرطیکہ اس کے لیے صحیح طریقے پر مسلسل جدوجہد-
مسلم ملت کے لیے خطوط کار
اس ایجنڈے کو عالمی سطح پر محض پیش کرنا مطلوب نہیں۔ اس ایجنڈے پر دنیا کو لانا اسی وقت ممکن ہو گا جب مسلمان ممالک خود اپنے گھر کو درست کریں اور اس کا آغاز خوداحتسابی سے کریں۔
۱۱ستمبر کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے اسے ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ جو افراد یا ملک یہ سمجھتے تھے کہ: امریکہ سے دوستی کے ذریعے ان کو حفاظت، عزت اور سلامتی مل جائے گی اور جو اپنی دولت اپنے ملکوں میں رکھنے کے بجائے امریکہ اور یورپ میں اسے محفوظ سمجھ رہے تھے اس ایک ہی ہلّے میں ان کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ انھوں نے کیا کمزور سہارا تھاما تھا اور کس طرح خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر ڈال دیا تھا۔ موسم کی ایک ہی تبدیلی نے ان کو بتا دیا کہ
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
نیز اس سے یہ سبق بھی حاصل کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، کہ مانگے کا اُجالا – کبھی روشنی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ خود انحصاری اور اپنی قوت کی تعمیر کے بغیر آپ اپنی آزادی، اپنے ایمان اور اپنی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ مقصد کسی سے لڑنا نہیں لیکن اپنے گھر کی تعمیر اور اپنے ممالک کی مضبوطی اور دوسروں پر محتاجی سے نجات، قومی سلامتی کے لیے از بس ضروری ہے۔
اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم ممالک میں خود اپنے عوام پر اعتماد کی فضا پیدا کی جائے۔ شخصی اور سیاسی آزادیاں حاصل ہوں، اختلاف کو برداشت کیا جائے، اور معیشت اور سیاست پر چند خاندانوں کی اجارہ داری کوختم کیا جائے ۔ کیونکہ اس میں اصحاب اقتدار کے لیے بھی خیر ہے اور مسلم عوام کے لیے بھی۔
کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے جہاں نظریہ اور قومی تشخص ضروری ہے وہیں سیاسی، معاشی اور اداراتی نظام کا ایسا آہنگ درکار ہے جس میں سب کی شرکت ہو، عوام اور حکمرانوں کے درمیان کش مکش کے بجائے تعاون اور اشتراک کا رشتہ قائم ہو۔ اسی طرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: تمھارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو تم سے محبت کرتے ہیں اور بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور جو تم سے نفرت کرتے ہیں۔
پھر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ: آزادی اور اشتراک کے ساتھ تعلیم، زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو ملکی پالیسی میں مرکزیت کا مقام حاصل ہو، وقت کی ٹکنالوجی کو حاصل کیا جائے اور ایجاد و اختراع اور تحقیق و تفتیش کے ذریعے علم اور سائنس پر قدرت حاصل کی جائے۔ نیز معیشت اور ٹکنالوجی کے میدانوں میں بھی خود انحصاری کی پالیسی اختیار کی جائے۔ خود انحصاری کا مطلب نہ خود کفالت ہے اور نہ دنیا سے الگ تھلگ ہونا ۔ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہمیں وسائل پر اتنی دسترس حاصل ہو کہ ہم اپنی پالیسیاں، اپنے مقاصد اور اہداف کے مطابق خود طے کر سکیں اور دوسروں کی ایسی محتاجی نہ ہو کہ وہ ہماری پالیسی پر اثر انداز ہوسکیں۔ دنیا کے تمام ممالک سے تعاون اور تجارت سب کے لیے اسی وقت بہتری کا باعث ہو سکتے ہیں، جب خود انحصاری کے ساتھ یہ تعاون ہو۔ ورنہ یہی بین الاقوامی رشتے اور معاملات ظلم اور استحصال کاذریعہ بن جاتے ہیں۔
مسلمان ممالک کی تعمیر و ترقی میں یہ بات بھی سامنے رہے کہ یہ اُمت، اُمتِ وسط ہے جس کا کام دنیا کے سامنے خدا کے پیغام کی شہادت دینا ہے اور جو انصاف کے فروغ اور نیکیوں کی ترویج اور برائیوں سے نجات کی داعی ہے۔ اس امت میں اگر انتہا پسندی اور تشدد کی سیاست در آئی ہے تو یہ اس کے مشن اور مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ اور اس کے اصل کردار پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، اسلام: تشد د، زور زبردستی اور اکراہ کا مخالف ہے اور محبت، بھائی چارے، رواداری اور تعاون و اشتراک کوفروغ دینا چاہتا ہے۔
جہاد کا مقصد انصاف کا قیام اور تمام انسانوں کے لیے آزادی، عزت اور عدل کی ضمانت ہے جہاد اپنی تمام صورتوں میں ۔۔۔ یعنی نفس کے ساتھ جہاد ،زبان اور قلم سے جہاد، مال سے جہاد اور جان سے جہاد— واضح اخلاقی حدود اور مقاصد کا پابند ہے۔ ہر سطح پر اس کے تصور، تعلیم اور تبلیغ کی ضرورت ہے تا کہ جہاد کا صحیح فہم و ادراک ہو اور اس کی نعمتوں سے مسلمان اور غیر مسلم سب فیض یاب ہو سکیں۔ جہاد کے اس تصور کا فہم اور احترام ہر دور میں ضروری تھا مگر آج جب جہاد کو بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور جہادی کلچر کو تشدد اور دہشت گردی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، اس میں جہاد کی تفہیم اور جہاد کے آداب کے مکمل احترام کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ جہاد اسلام کی ابدی تعلیم اور اس کا رکن رکین ہے جس کے بارے میں کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ جہاد ایک اخلاقی قوت اور تعمیر کی صورت ہے اور اس کا یہ کردار سب سے پہلے خود مسلمانوں کے سامنے ہونا چاہیے تا کہ غیر مسلم بھی اس کی گواہی دے سکیں۔
عصر حاضر میں تحریک اسلامی کی خدمات میں سے ایک نمایاں خدمت یہ ہے کہ ایک طرف اس نے جہاد اور روحِ جہاد کے احیا کا کارنامہ انجام دیا ہے تو دوسری طرف جہاد کے مقاصد، آداب اور ضابطہ کار کی وضاحت اور احترام کر کے اس کے اصل کردار پر توجہ مرکوز کی ہے اور مسلمانوں کو اس کا پابند بنانے کی کوشش کی ہے۔
مسلم ممالک کے درمیان معاشی، سیاسی، تعلیمی، ٹکنالوجی اور میڈیا کے میدانوں میں قریب ترین تعاون بلکہ اتحاد اور الحاق کی ضرورت ہے جو نظریے اور تاریخ کے اشتراک کے ساتھ مفادات کے اشتراک اور سیاسی اور معاشی حوالوں سے باہمی تعاون اور احترام کی محکم بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ یہ اب سب کی ایسی ضرورت ہے جسے موخر نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظام میں تنازعات کے تصفیے کا بھی مناسب انتظام ہونا چاہیے، تا کہ حقیقت پسندی سے اتحاد کو محکم کیا جاسکے۔ عالمی سطح پرمسلم نقطۂ نظر کو پیش کرنے کے لیے میڈیا کی موثر ترقی وتنظیم بھی ضروری ہے۔
اسلام کے عالمی کردار کی موثر ادا ئیگی اسی وقت ممکن ہے جب تمام مسلمان ملک اور امت مسلمہ ان خطوط پر اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کرے۔ امت وسط کی حیثیت سے اللہ کی بندگی اور انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح کے نظام کی داعی کی حیثیت سے اپنے گھر کی تعمیر کرے اور دنیا کے سامنے اس کا نمونہ پیش کرے۔
پاکستان کی ذمہ داری: دس پہلو
وقت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان اور اہل پاکستان پر بھی ایک بڑی ذمہ داری آتی ہے۔ ۱۱ستمبر کے بعد جو کچھ ہوا، وہ خواہ مجبوری کے تحت ہوا یا عاقبت نا اندیشی کے تحت — ہم اس پر تفصیل سے بحث کر چکے ہیں۔
افغانستان میں جو کچھ کیا جانا تھا وہ ہو گیا ،بھارت اس سے جو فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے وہ واضح ہوتا جا رہا ہے اور جنگ کے مہیب سائے اُفق پر اُمنڈ تے چلے آ رہے ہیں۔ ہمارے اندرونی معاملات میں بیرونی دراندازیاں مشکلات میں اضافے اور آزادی اور خود مختاری کے لیے خطرات کا باعث ہیں۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ تصادم، عدم مشاورت اور وقت گزاری کی پالیسی ترک کر کے ایک ایسی پالیسی کو اپنایا جائے جس میں پاکستان، اس کے نظریے اور قوم کی سلامتی، اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل امورفوری توجہ کے طالب ہیں:
۱ – اللہ سے وفاداری اور اس پر بھروسے کو سب چیزوں پر اولیت دی جائے۔ اللہ کی طرف رجوع ہو اور اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کا اپنے مالک کے حضور اعتراف کر کے اس سے طاقت اور رہنمائی طلب کی جائے۔ پوری قوم اور اس کی قیادت اپنے خالق و مالک کا دامن رحمت تھا مے اور اس سے مدد مانگے ۔
۲ – عوام پر بھروسا کیا جائے، ان کو اعتماد میں لیا جائے اور موثر طور پر ان کو قومی سلامتی، ترقی اور تعمیر نو کے لیے متحرک کیا جائے۔
۳ – اس نظریاتی کش مکش سے بچا جائے اور جس لاحاصل بحث میں مغربی میڈیا اور دانش در ہمیں مبتلا کر دینا چاہتے ہیں، اس سے دامن بچالیا جائے۔ بنیاد پرستی، انتہا پرستی اور فرقہ پرستی ہمارے مسائل نہیں۔ جدید اور قدیم کی بحثیں بہت پرانی ہیں اور ہم ان سے گزر چکے ہیں۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات بہت صاف اور واضح ہیں۔ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے جو بنیادی اخلاقی اقدار کی روشنی میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کرتا ہے۔ سیکولرزم ایک مردہ گھوڑا ہے، اس پر سواری کے خواب دیکھنا ایک حماقت ہے۔ پاکستان کے دستور نے جن تین بنیادوں کو واضح طور پر پیش کر دیا ہے یعنی: اسلام ،جمہوریت اور وفاقی طرز حکومت انھیں متفق علیہ بنیاد بنا کر قومی پالیسی کی تشکیل کی جائے اور ان طے شدہ امور کو از سرنو بحث میں لانے کی جسارت نہ کی جائے ۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس پر عمل کی ہے۔ ہمارا ایجنڈا ہماری تحریک آزادی اور ہماری قرارداد مقاصد، ہمارے دستور میں طے ہے۔ اسے مضبوطی سے تھام لیجیے۔
۴ – ملک کی دفاعی قوت کی حفاظت کو اولیت حاصل ہے۔ امریکی فوجوں کی موجودگی اس کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اسی طرح بھارت کے عزائم کا ادراک اور مقابلے کے لیے فوج اور قوم میں ہم آہنگی اور دونوں کا متحرک و فعال ہونا ضروری ہے۔
۵ – جموں و کشمیر کے حق خودارادیت کی پالیسی کے بارے میں مکمل یکسوئی اور مضبوطی کی ضرورت ہے۔
۶ – افغان پالیسی کی جلد از جلد تشکیل نو مطلوب ہے۔ افغانستان میں ایک ایسی حکومت کے قیام میں ہماری دل چسپی ہونی چاہیے، جسے افغان بھائی خود طے کریں اور جس سے افغانستان کا اتحاد باقی رہے اور وہ ایک ہمسایہ اور بھائی ملک کی حیثیت سے ترقی کرے۔ دفاعی مفادات کے چکر سے بلند ہو کر افغان پالیسی کی تشکیل کی ضرورت ہے، تاکہ ماضی کی غلطیوں کی تلافی ہو سکے۔ افغان عوام کے دل پاکستانی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور قیادتوں نے جو بھی غلطیاں اور نا انصافیاں کی ہیں ان سے متاثر ہو کر کسی قسم کی کش مکش یا جانب داری کا راستہ ہرگز اختیار نہیں کرتا چاہیے۔ بلکہ، ہماری پالیسی کی بنیاد وہ رشتہ اشتراک ہونا چاہیے جو دین، تاریخ اور مشترک مفادات کی وجہ سے قائم ہے اور جس نے دلوں میں محبت اور معاملات میں تعاون کی روایت قائم کی ہے۔
۷ – ملک میں فی الفور جمہوری عمل کا احیا، دستور کو ذاتی پسند و نا پسند کے مطابق تبدیل کرنے سے مکمل احتراز اور دستور کے مطابق جمہوری نظام کی بحالی کے لیے بلا تاخیر اجتماعی مشاورت، آزاد الیکشن کمیشن کے قیام اور اس سلسلے کے تمام ضروری انتظامات پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
۸ – معیشت کی بحالی کے لیے: قومی مشاورت، تجارت، زراعت، صنعت اور محنت سے متعلق طبقات کے تعاون سے قومی خود انحصاری کے حصول اور معاشی ترقی اور سرگرمی کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی طرف توجہ دینا۔
۹ – مسلم ممالک سے تعلقات بڑھانے اور مشترک خطرات کے مقابلے کے لیے مشترک حکمت عملی کی تشکیل کی کوشش۔
۱۰ – ایران اور چین سے خصوصی تعاون اور ان کے ساتھ مشترک حکمت عملی وضع کرنے اور اس پر عمل کا نظام بنانے کی کوشش۔
یہ دس نکات فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ لیکن سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم حالات اور خطرات کا صحیح ادراک کریں۔ اپنے نظریے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے خدا پر بھر وسے اور ایک دلی جذبے کے ساتھ اصلاح احوال کی جدوجہد شروع کر دیں۔ اگر ہم ۱۱ ستمبرسے اب تک کے رونما ہونے والے واقعات کو ایک خطرے کی گھنٹی سمجھیں، اب بھی بیدار ہو جائیں اور اٹھ کھڑے ہوں تو آگے کے مراحل زیادہ مشکل نہیں۔ والله المستعان !

