
گذشتہ تین صدیوں میں انسانیت، مغرب کی زیر قیادت چار بڑے معاشی نظاموں کے تجربے سے گزری ہے: سرمایہ داری، سوشلزم، قوم پرستانہ فاشزم اور فلاحی ریاست — مغربی فکر سے جنم لینے والے ان تمام نظاموں کی اساس اس تصور پر استوار تھی کہ انسان کے معاشی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے، مذہب اور اخلاقیات کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اور معاشی معاملات کا بہترین حل صرف معاشی رویوں اور سیاسی صنا بطوں کے تحت تلاش کیا جاسکتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ :
- سرمایہ داری نے اپنا فلک بوس محل: فرد کی بے قید آزادی، لامحدود نجی ملکیت کے اصول، اندھی طاقت سے لیس نفع بخش محرک اور منڈی کی شعبدہ کاری پر کھڑا کیا۔
- سوشلزم نے فرد کو ریاست کا بے جان پرزہ بنا دیا اور سبھی کچھ قومی ملکیت میں لے لیا، سیاسی و سماجی عمل کو جکڑ دیا، غیر فطری انداز میں سماجی ترغیبات کو پروان چڑھایا، معیشت کو مرکزی منصوبہ بندی کے نظام میں کس دیا اور اسی اجتماعی عمل کو تمام مسائل کاحل سمجھ لیا۔
- فا شزم (قوم پر ستا نہ فسطا ئیت ) نے قومی افرادی قوت اور ریاستی سرمایہ داری کو نسلی تفاخر، سیاسی قوت کے ارتکاز اور فوجی مہم جوئی کی آگ میں جھونک دیا۔
- فلاحی ریاست کا تصوّر سرمایہ داری اور اشتراکیت کے امتزاج سے محدود و متعیّن سماجی سہولتوں اور آسائشوں کے جلو میں مخلوط معیشت کا علم بردار بنا۔
ہر چند کہ کچھ مخصوص میدانوں میں ان سب نے بعض نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر اس کے باوجود یہ چاروں نظریات، حقائق کی دنیا میں انسانیت کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں قوم پرستانہ فاشزم سب سے پہلے ردی کی ٹوکری کی نذر ہوا، پھر اس میں گرنے اور بکھرنے والا بت، سوشلزم ہے۔ بلاشبہ دوسرے دونوں نظریات بظاہر ابھی تک صحت مند دکھائی دے رہے ہیں، لیکن غور سے دیکھا جائے تو اپنے باطن میں وہ بھی موت آفریں کش مکش میں مبتلا ہیں۔ غربت، بے روزگاری، افراط زر اور قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ نے ان کی چولیں ہلا ر کھی ہیں اور کوئی تدبیر تاریخ کا رخ بدلتی نظر نہیں آرہی۔ اصحاب نظر، اقبال کے ہم نوا ” منتظر روز مکافات ” ہیں
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات
میرے خیال میں یہ ایک غیر دانش مندانہ مفروضہ ہے کہ “کمیونزم کے انہدام سے سرمایہ داری اور فلاحی ریاستی تصور نے نہ صرف اپنا انتقام لے لیا ہے، بلکہ اب یہی ایک فاتح اور زندہ رہنے والے نظام کی حیثیت سے بقائے باہمی کی اس دوڑ میں باقی رہ گیا ہے۔ ” اور مزید یہ غلط فہمی کہ سوویت یونین کے زوال نے گویا ” نظریاتی پیکار کی تاریخ کے خاتمے” کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ امیج مغربی اہل دانش کے جذباتی طرز فکر کی غماز ہے۔
یہ امر واقعہ ہے کہ سوویت یونین کے انہدام اور سوشلزم کے زوال نے بہت سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے سوالات کہ جن کا تعلق انسانیت کے نظریاتی مستقبل سے ہے۔ مثلاً یہ کہ:
۱۔کیا سوشلزم کا خاتمہ در حقیقت مغربی سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور سیاسی لبرل ازم کی قطعی فتح مندی کا مظہر ہے ؟ ( جس کا دعویٰ مغربی سرمایہ داری کے علم بردار کرتے ہیں)
۲۔کیا سوشلزم کی موت نے واقعی نظریاتی پیکار کے تاریخی عمل کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے؟ یا پھر ایک نئے مرحلے کو جنم دیا ہے کہ جو تاریخ کے ایک نہ ختم ہونے والے بہاؤ اور نشیب و فراز کی کشاکش کی طرف رواں ہے؟
۳۔ اگر سوشلزم اپنے فکری و عملی تضادات کے بوجھ تلے دم توڑ گیا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خود سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے داخلی و خارجی تضادات، غیر منصفانہ رویوں اور دیگر بہت سی سماجی ناکامیوں پر قابو پالیا ہے؟
۴۔ اگر سوشلزم کا عروج جزوی طور پر اس چیز کا مظہر تھا کہ اسے سرمایہ دارانہ نظام کا بے رحمانہ استحصالی پہلو دکھائی دے رہا تھا، جس کے پکے ہوئے ناسور پر اس نے نشتر لگایا، تو پھر کیا سوشلزم کے انہدام کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سرمایہ داری کا جو استحصالی پہلو دیکھا تھاوہ ایک گمراہ کن فریب نظر تھا ؟
۵۔ کیا آج کی ترقی یافتہ اقوام سے تعلق رکھنے والا انسان اعلیٰ معیار زندگی پالینے کے نتیجے میں واقعی سکون و طمانیت کے دامن رحمت میں اپنے آپ کو موجود پاتا ہے، یا پھر وہ مراعات یافتہ انسان بھی فکر و عمل کی دنیا میں، اپنی داخلی، سماجی اور معاشی زندگی کو جوں کا توں گہرے بحران میں مبتلا پاتا ہے؟
۶۔ یا اس سارے عمل نے انسانیت کو ایک متبادل سماجی اور معاشی نظام کی تلاش کے رستے پر ڈال دیا ہے؟ اور انسانی معاشرہ آج بھی انصاف اور سکون اور چین کے حصول سے اسی طرح محروم ہے جس طرح کل تھا ؟
مندرجہ بالا سوالات ذہنوں اور ضمیروں میں نہ صرف اضطراب پیدا کر رہے ہیں، بلکہ شافی جواب کے بھی طلب گار ہیں۔
مارکس ازم انیسویں صدی کے بہت سارے نظریات اور مفروضوں کا ملغوبہ ہے، جس میں ہیگل کی جدلیات، فیوربخ (Feuerbach) کی مادیت، مچلٹ (Michelet) کی طبقاتی کشمکش، اسمتھ اور رکارڈو کی معاشی فکر، انقلاب فرانس کے جارحانہ نعروں اور ڈارون کے حیوانی نظریہ ارتقاء نے اس سیکولر روشن خیالی کو سینچا۔ خود کارل مارکس انہی سیکولر اور مذہب مخالف افکار میں پروان چڑھا۔
مارکس ازم کی تجربہ گاہ سوویت یونین اور امریکہ کے مابین اسٹریٹجک عسکری سرد جنگ اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ اس کی جگہ اسٹریٹجک معاشی جنگ نے لے لی ہے اور نئے جنگی کھیل کے نئے کھلاڑی سامنے آگئے۔ اور یوں ترقی، دولت اور ٹیکنالوجی کی مالک ریاستوں کا غیر اعلان شده مقصد تو دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ جمانا اور ان تہذیبوں کو مغربی تہذیب کا خوشہ چیں بنانا ٹھہرا ہے، جبکہ اعلان شدہ مقصد اپنے اور محض اپنے شہریوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اور وہ بھی تین چوتھائی سے زیادہ انسانوں کو حسرتوں اور محکومیوں کے گرداب میں پھنسا کر۔
مارکس ازم کا انہدام مغربی دانش وروں کے لیے ایک ہوش ربامعمہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چنگیز خان یورپ فتح کرنے کی خواہش لیے آگے بڑھ رہا تھا، مگر اچانک اس کے قدم رک گئے، وہ فوری طور پر پلٹا اور وسطی ایشیا میں جا کر دم لیا۔ اس اعتبار سے کمیونزم کی اچانک موت بھی چنگیز خان کی اسی پر اسرار پسپائی سے مشابہت رکھتی ہے ۔ لیکن یہ تحیر آمیز مسئلہ صرف ان دانش وروں کا ہے جنہوں نے انسانی زندگی کے اجتماعی رویوں اور مسئلوں کو محض مادی طاقت اور حیوانی جذبوں کی میزان پر رکھ کر پرکھا ہے۔ وگرنہ اہل ِنظر تو اس عبرت ناک انجام کی خبر بہت پہلے سے دے رہے تھے۔
برصغیر پاک وہند میں احیائے اسلام کی تحریک نے دیگر نظاموں اور استعماری فتنوں کے سا تھ اشتراکیت کو بھی اپنے سنجیدہ مطالعے کا موضوع بنایا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین : مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کو اپنی ظالمانہ نو آبادی بنانے، مسلمان ملکوں میں اندھی بہری آمریتوں کو سہارا دینے اور اباحیت و دہریت کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر فطری معاشی نظام کا بھی علم بردار تھا۔ اگرچہ اس سے قبل مغربی نو آبادیاتی تسلط اور الحادی تحریک کے بالمقابل اسلامی فکر کے علم بردار پوری قوت سے نبرد آزما تھے (جس کا بہت بڑا ثبوت آزادی کی تمام تحریکوں میں اسلامی فکر و عمل کے حامل افراد کا شاندار کردار ہے)، لیکن سمرقند و بخارا کے المیے نے مسلمانوں کو اس فتنے کا اور زیادہ وسعت کے ساتھ ادراک کرنے پر ابھارا۔ یہ الگ بات ہے کہ اشترا کی فکر کو نہ صرف جدید تعلیم یافتہ افراد سے، بلکہ دینی فکر کے دعوے داروں میں سے بھی ایک گروہ اپنی تائید کے لیے ملتا رہا۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد نے اشتراکیت اور اس کے مظاہر کو زیر بحث لانے کا کام بھی کیا۔ جس میں سب سے پہلے سوویت یونین کے توسیع پسندانہ اقدام : افغانستان پر سوویٹ یلغار اور مجاہدین افغانستان کی لمحہ بہ لمحہ جد وجہد کے خدو خال کو جانچنے کے لیے (مختلف اوقات میں) ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، ڈاکٹر راجہ احسان عزیز ،جناب مختار حسن، ڈاکٹر طاہر امین اور حسن اختر گردیزی صاحب نے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ دوسری جانب سوویت یونین میں مسلمانوں کی حالت زار اور اس کے استعماری شکنجے کو توڑنے کی جہد مسلسل کی قلمی صورت گری محترم آبادشاہ پوری صاحب نے کی۔ ڈاکٹر طاہر امین نے جہاد کے بالکل ابتدائی برسوں میں افغانستان پر روسی حملے کے مضمرات کا چشم کشا مطالعہ پیش کیا۔اور پھر سوویت یونین کے خاتمے (دسمبر 1991ء) کے بعد ڈاکٹر سفیر اختر صاحب نے نو آزاد مسلم ریاستوں کے علاوہ روسی فیڈریشن اور سابق سوویت یورپی ممالک میں مسلم اکثریتی محکوم علاقوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے تحقیقی و تجزیاتی مطالعے پیش کرنے کا عمل شروع کیا ۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے اس علمی اور معروضی مطالعے کے تسلسل میں نوجوان، محنتی اور با صلاحیت صحافت کار جناب عطاء الرحمٰن (روز نامہ “جنگ” و روزنامہ “جسارت”) کی زیرِ نظر کاوش پیش کی جا رہی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک فکر انگیز مطالعہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک تاثراتی نثر پارہ ہے، لیکن تحقیقی، مشاہداتی اور تجزیاتی امتزاج نے مجموعی طور پر اسے ایک خوبصورت علمی اور مشاہداتی مرقع بنا دیا ہے۔ بہ ظاہر یہ ایک وسیع اور خشک موضوع ہے، لیکن انداز بیان اتنا رواں اور دل نشین ہے کہ دوران مطالعہ قاری کو کوئی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی، اور وہ موضوع کے کلائمکس تک پہنچنے کے لیے ایک کشش پاتا ہے۔ بلاشبہ انگریزی اور دیگر بین الاقوامی زبانوں میں سوشلزم کے زوال اور سوویت یونین کے انہدام پر بہت سی تحقیقات سامنے آرہی ہیں، مگر سقوطِ کریملن پر ابھی تک اردو میں با معنی تحقیق تو ایک طرف کوئی قابل ذکر سلسلہ مضامین بھی شائع نہیں ہوا۔ “سوویت یونین کا زوال : نظریہ، عمل، رد عمل ” اس کمی کو ایک حد تک پورا کرتی ہے۔ جس کے متعین کردہ خطوط پر دیگر اہل دانش کے لیے وسعت کے ساتھ بحث اٹھانا آسان تر ہو گا۔ اس کتاب میں مندرج امور اور نتائج فکر سے بھی ماہرین سماجیات اپنے تصور اور اپنے علم کی بنیاد پر اختلاف کر سکتے ہیں۔ مگر میں یہ بات برملا کہہ سکتا ہوں کہ سوشلزم سے گریز پا افراد کے ساتھ ہی ساتھ خود سرخ دیوتا کے پرستار بھی اسے ایک منصفانہ مطالعہ قرار دیں گے، کیونکہ مصنف نے ذمہ داری کے ساتھ حقائق کا معروضی مطالعہ پیش کیا ہے۔
اشترا کی تہذیب، معیشت اور عسکریت کے انسانیت پر دور رس مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ کام گہرے اور ٹھوس فکر و مطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ روسی فیڈریشن اور سابق سوویت یورپی علاقے کی محکوم مسلم ریاستوں سے متعلق جو حصہ اس کتاب میں شامل ہے، اسے پڑھ کر تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ زیر نظر کتاب کا وہ مرکزی موضوع نہیں ہے، سو ان کا مختصر تعارف بھی ہمیں روسیوں کے زیر تسلط ان محکوموں کے کرب ناک احوال اور آزادی کی تحریکوں کے کچھ نہ کچھ خدوخال سے واقفیت بہم پہنچاتا ہے۔ اس جواز کے باوجود متعلقہ حصے کو زیادہ وسعت کے ساتھ الگ سے لکھا جانا چاہیے۔
میں مصنف کو اس ذہن کشا، مدلّل اور متوازن مطالعے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوسرے اہل دانش کو اس وسیع موضوع پر قلم اٹھانے کی دعوت دیتا ہوں۔



