
حکومت کی ہر تبدیلی کے ساتھ ایک نئی تعلیمی پالیسی کی تیاری اور اعلان ہماری تعلیمی تاریخ کا ایک نمایاں فیچر ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان مشقوں کے باوجود آج ملک کا تعلیمی منظر پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہی پراگندہ ہے۔ قومی مسائل پر ژولیدہ فکری ہمارا شعار بن گئی ہے اور اس کا پرَ تو تعلیمی دائرہ پر بھی ہے، اس سے قوت متخیلہ ٹھٹھر جاتی ہے، مسائل نہ صرف یہ کہ بڑھ جاتے ہیں بلکہ لاینحل محسوس ہوتے ہیں۔ اور حل کرنے کے لیے اقدام کی صلاحیت بھی عنقاء ہوتی چلی جاتی ہے۔
کیا ہمیں اتنی متعدد اور متنوع تعلیمی پالیسیوں کی ضرورت بھی تھی؟ حصول آزادی کے بعد ابتدائی دور میں تعلیم کو اوّلین ترجیح دے کر جو کہ اس کا حق تھا، قومی آرزؤں اور امنگوں کی عکاس پالیسی تشکیل دی جاتی اور یکسو ہو کہ ہر ممکن وسائل فراہم کر کے اسے روبہ عمل لایا جاتا، تو آج چین اور کوریا سب ہمارے پیچھے ہوتے اور پاکستان کو اس کی منزل کی طرف رواں دواں دیکھ کر شہدائے آزادی کی بے چین روحوں کو بھی اطمینان نصیب ہوتا۔ نصب العین پر نظریں جمی ہوتیں، مقاصد واضح ہوتے ، تو گرتے پڑتے ہم آگے تو بڑھتے، دائروں میں گردش نہ کرتے رہتے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شده۔
انگریزوں نے آمد کے بعد، ہم پر قبضہ کر کے وہی کیا جو بیرونی حکمرانوں کو کرنا چاہیے تھا۔ فطری طور پر مسلمانوں کی جانب سے رد عمل ہوئے۔ کشمکش کے دور گزرے، نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم و جدید کی دو روائتیں جڑ پکڑ گئیں اور معاشرہ میں دو طرح کی شخصیات کے نمونے ڈھل ڈھل کر آنے لگے۔ ستم ظریفی ہے کہ آزادی کے بعد بھی یہ عمل اسی طرح جاری ہے۔ بلکہ آزادی کے بعد کے دور میں تو، وحدت کی طرف قدم اٹھنے کے بجائے ، نمونوں میں مزید تنوع نظر آنے لگا ہے۔ بہت سے قومی مسائل کی تہہ میں اترا جائے تو شاید سرا انہی غلط نمونوں میں ملے۔
یہ کہانی صرف پاکستان کی نہیں امت مسلمہ کے ہر اس ملک کی ہے جہاں استعماری قوتوں نے ملک کی باگ ڈور اپنے گماشتوں کے سپرد کی اور بظاہر سیاسی آزادی دے کر بھی معاشی اور ثقافتی حکمرانی برقرار رکھی ہے۔ اس کا توڑ ایک ایسا نظام تعلیم ہوتا جو مغرب کی فکری و ذہنی غلامی سے آزاد مسلمان نسل تیار کرتا جسے اپنے منصب و مقام کا شعور ہوتا۔ اس کے حیات بخش اثرات سے معاشرہ میں زندگی کی رو دوڑ جاتی اور غلامی کے آثار مٹ جاتے۔
لیکن ہوا کیا ہے۔ آج کے مسلم معاشرے کی کہانی دو ذہنوں کی کہانی ہے، دو طرح کے تیار نمونوں اور ان کے تصادم کی کہانی ہے۔ دو منزلوں کی، دو راستوں کی کہانی ہے۔ قوم کسی طرف جانا چاہتی ہے، قیادت کسی اور طرف لے جانا چاہتی ہے۔ اعلانات کچھ ہوتے ہیں، عمل کچھ اور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قافلہ آگے نہیں بڑھتا منزل سر نہیں ہوتی۔
تعلیمی پالیسیاں جیسی کچھ بھی بنائی گئیں، ان پر عمل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کام تو ہونا تھے، لیکن ہر پالیسی کے ساتھ یہی ہوا کہ اس پر عمل نہیں ہوا عمل ہوتا تو یہ ہو جاتا، وہ ہو جاتا ۔ جبھی تو ہمیشہ نئی پالیسی کی ضرورت رہتی ہے۔ یہ عمل کیوں نہ ہوا ۔ اس لیے نہ ہوا کہ متضاد عناصر کی کشمکش نے قوت عمل کو مفلوج کر دیا ہے۔ آج تک ذریعہ تعلیم طے نہیں ہوا، طرح طرح کے نصاب ہیں، امیر و غریب کے لیے عوام و خواص کے لیے تعلیمی ادارے علیحدہ علیحدہ ہو چکے ہیں۔ جہالت کے اندھیروں کو بھی دور نہیں کیا جاسکا ہے۔ خواتین خاص طور پر اس کا شکار ہیں۔ تعلیمی شعبہ کسمپرسی کے عالم میں ہے۔ تعلیم ہی کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ اقراء ٹیکس کی خطیر رقومات، اللوں تللوں پر خرچ کی جاتی ہیں۔ کم سے کم اعداد و شمار ہی اچھی کہانی کہہ رہے ہوتے۔ دوسرے ملکوں سے مقابلہ کریں تو سر شرم سے جھک جھک جاتے ہیں۔
کہنے والوں نے صحیح کہا کہ دوسری قومیں، اسلام کے بغیر بھی ترقی کر سکتی ہیں لیکن مسلمان قوم اسلام کے بغیر ترقی بھی نہیں کر سکتی، ٹامک ٹوئیاں مارتی رہے گی جو اللہ سے وعدے کر کے آزادی حاصل کریں، اور پھر اپنے عہد کو بھول جائیں، یہ شاید اس کی سزا ہوتی ہے۔
میرے عزیز بھائی محترم نیاز عرفان صاحب نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی ایماء پر ملک کی تعلیمی پالیسیوں کا ایک مطالعہ تیار کیا ہے، دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے ڈھائی ہزار صفحات کا ملخص ۱۰۰ صفحات میں آپ کے سامنے ہے تقابلی جائزہ میں ہر پالیسی کے خدوخال واضح ہو گئے ہیں۔ ۴۵ سال کی تعلیمی تاریخ نظروں میں آجاتی ہے، اعداد و شمار بھی فراہم کر دیے ہیں۔
شعبہ تعلیم سے وابستہ تمام افراد خصوصاً پالیسی سازوں کے لیے اس دستاویز کا مطالعہ ناگزیر ہونا چاہیے۔ تعلیم کے طالب علموں کو بھی یقیناً اس سے بہت راہنمائی ملے گی۔



