یاد نامہ لالہ صحرائی از ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی

انسانی تعلقات کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی فرد کے ساتھ مدت العمر بطور رفیق کا ریا کاروباری تعلق کے باوجود، فریقین ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہی رہتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چاہے زندگی میں عملاً ملاقاتوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہو مگر روح اور قلب میں ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے کہ مکانی بْعد کے علی الرغم مسلسل رفاقت اور روح کی سرشاری کی نسبت محسوس ہوتی ہے۔ برادر محترم لالۂ صحرائی سے میرا تعلق بھی اس دوسری نوعیت کا تھا۔ بالمشافہ ملاقاتیں کراچی، لاہور اور ملتان میں زیادہ سے زیادہ سات آٹھ بار ہوئیں لیکن ۱۹۵۵ میں پہلی ملاقات کے بعد سے، ان کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے تک، ہر لمحہ احساس رفاقت رہا اور ان کے عالم فانی سے کوچ کر جانے کے بعد بھی ان کی شفقت ،محبت اور رفاقت کی یا دسرمایۂ حیات ہے۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھیں انسان کبھی بھول نہیں سکتا۔ طالب علمی کے دور میں جب اسلامی جمعیت طلبہ سے میرا رشتہ جڑا تو فطری طور پر جماعت کی شخصیات سے بھی تعلق خاطر قائم ہوا۔ کراچی میں محترم چودھری غلام محمد صاحب جماعت کے روح رواں اور ہمارے محسن اور مربّی تھے۔ ان کا اخلاق، ان کا اخلاص اور ان کا پیار وہ چیزیں تھیں جو انسان کو ان کا گرویدہ بنادیتی تھیں۔ تحریک ان کی زندگی میں اس طرح رچی بسی تھی کہ ان کی شخصیت اور جماعت کا الگ الگ تصور ہی ممکن نہ تھا۔ میں کراچی جمعیت کا ناظم تھا اور وہ میری علمی اور اخلاقی تربیت میں ایک باپ سے بھی زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ ترجمان القرآن تو میرے والد ماجد( نذیر احد قریشی) کے پاس آتا تھا اور جمعیت سے وابستگی کے بعد اس کے لفظ لفظ کو پڑھنا میرا محبوب مشغلہ تھا مگر محترم چودھری صاحب بڑے شوق سے مجھے ہر ماہ ’’چراغ راہ‘‘ دیا کرتے تھے۔ مجھے کبھی خریدنے کی زحمت نہ کرنی پڑی۔ چراغ راہ کے ذریعے جہاں میرا تعارف محترم نعیم صدیقی سے ہوا ، وہیں لالٔہ سرائی کی نگارشات بھی میری توجہ کا مرکز بن گئیں۔ ان کے خاکے ، رپورتا ژ اور افسانے شوق سے پڑھتا تھا اور ان کی صحت ِزبان اور حسنِ بیان کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ میری پیدائیش اور ابتدائی تعلیم دلّی کی ہے اور دلیّ کی زبان ہی گْھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ ’’چراغ راہ ‘‘میں فکر و خیال کی آبیاری کا تو بہت سامان ہوتا تھا مگر اس کے ساتھ ادب کی دوسری انواع کا ایک دستر خوان بھی لذت کام و دہن کے لیے موجود ہوتا تھا۔ شعر وشخن، افسانہ اور رپورتاژ ، طنز و مزاح اور تبصرہ اور تنقید اس گلدستے کے خوش رنگ پھول تھے اور ہم ان سب ہی پھولوں کی خوشبو سے فیض یاب ہوتے تھے۔ بس یہی وہ پس منظر تھا جس میں لالۂ صحرائی سے پہلا تعلق قائم ہوا۔ چراغ راہ کے مدیر منتظم محترم خالد احمد صدیقی صاحب جب بھی کراچی آتے تھے، ان کے اور محترم چودھری غلام محمد صاحب کے ساتھ لالٔہ صحرائی کا ذکر ہوتا تھا اور میں ہمیشہ اپنے اس احساس کا اظہار کرتا کہ لا لٔہ صحرائی کا تعلق خواہ جہانیاں سے ہو لیکن ان کی زبان گنگا اور جمنا کی وادیوں کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ یہ عقدہ بعد میں کھلا کہ لالۂ صحرائی کے ادبی ذوق کی صورت گری اُردو کے بہترین ادیبوں اور شاعروں کی نگارشات کی مرہونِ منت ہے اور انھوں نے کلاسیکی ادب کو پڑھا ہی نہیں حرزِ جاں کر لیا ہے۔ اس طرح میرا پہلا تعارف ان کی ادبی نگارشات کے ذریعے ہوا اور ملنے کی خواہش سینے میں پالتا رہا۔
ملاقات کی سعادت ۱۹۵۵ء میں حاصل ہوئی۔ کراچی کے جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع کے معاًبعد میں دفتر جماعت میں محترم چودھری صاحب سے ملنے گیا تو ان کے پاس ایک سنجیدہ اور معتبر شخصیت کو بیٹھے دیکھا۔ سلام کرکے میں بھی بیٹھ گیا تو چودھری صاحب نے فرمایا: تم نے پہچانا نہیں؟ یہ ہیں محمد صادق یعنی ’’لالٔہ صحرائی ‘‘،میرا پہلا تاثر خوشی اور انبساط کے ساتھ ایک گونہ تعجب کا تھا۔ میں نے ذہن میں اپنے افسانہ نگار اور خاکہ نویس ادیب کی جو تصویر بنائی ہوئی تھی، وہ اس سے خاصی مختلف تھی جو اب گوشت پوست کے لالٔہ صحرائی کی صورت میں دیکھ رہا تھا اور شاید میرے اضطراب کو دیکھ کر لالۂ صحرائی اپنی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے اور اسٹوڈنٹس وائس اور اسلامی دستور پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مقالات کا جوترجمہ میں نے کیا تھا، اس حوالے سے بڑے پیار سے اور مبالغے کی حد تک بڑھتی ہوئی تعریف کی۔ ان کی لطیف گفتگو میں میرا اولین تاثر پادر ہوا ہو گیا اور جسے میں عصائے ملتان سمجھ رہا تھا وہ فی الحقیقت لالۂ صحرائی ہی نکلا ۔
لالۂ صحرائی مجھ سے عمر میں بارہ سال بڑے تھے اور میرے اس تاثر میں ایک گونہ گستاخی کا پہلو بھی ہے لیکن میں نے اپنے اولین تاثر کو بلا کم و کاست صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا ہے اور اپنی حماقت پر نادم ہوں، لیکن لالۂ صحرائی کی شخصیت کے حُسن کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح پہلے ان کی تحریروں نے دل کو موہ لیا تھا، اب ان کی شفقت اور خوش گفتاری ( ان کی کم گوئی کی عادت کے باوجود ) نے عقیدت، محبت اور رفاقت کے رشتوں کو استوار کر دیا۔ وہ میرے بزرگ تھے مگر یہ ان کی شخصیت کا بڑا دل آویز پہلو تھا کہ انھوں نے ہمیشہ اپنے اس خورد سے بھی ایک بزرگ والا معاملہ کیا اور اس طرح ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے عزت و احترام اور محبت والتفات کے رشتے میں جڑے رہے۔
لالۂ صحرائی نے مولانا مودودیؒ کے افکار اور ان کی دعوت کو دل کی گہرائیوں اور دماغ کے پورے اطمینان کے ساتھ قبول کیا تھا اور نو جوانی میں اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے آخری عمر تک نبھایا اور اس طرح ان الذين قالو ربنا الله ثم استقاموا کی ایک روشن مثال قائم کی ۔ وہ جماعت کے رفیق اور کارکن تھے ۔ رکن کبھی نہ بنے مگر عملاً ان کے دل ودماغ ، قلم اور زبان اور جسم و جان سب اس تحریک اور اس کی دعوت کے لیے وقت تھے اور ارکان سے بھی کہیں زیادہ وفاداری کے ساتھ انھوں نے جس چیز کو شعور کی گہرائیوں کے ساتھ مقصد حیات بنایا تھا ، اس سے وفاداری کا رشتہ قائم رکھا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں سرگرم رہے۔ لالٔہ صحرائی کے مزاج کی شعریت تو ان کی نثری تحریروں میں بھی عیاں تھی مگر کم از کم میرے لیے ان کے ایک اچھا شاعر ہونے کا انکشاف بہت بعد میں ہوا اور حمد ونعت کے میدان میں جس طرح انھوں نے اپنی دلی کیفیات کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالا ہے، وہ ان کے قادر الکلام شاعر ہونے کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعت کے میدان میں انھوں نے اپنی عمر کے آخری دور میں جو خدمت انجام دی ہے وہ محیرالعقول ہے۔ حضور اکرمؐ سے ان کی محبت ہر ہر مصرعے سے عیاں ہے ۔ وہ عشق رسول ؐمیں ڈوب کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے سارے نعتیہ کلام کا محور حضور ؐکی محبت اور آپؐ کی اطاعت ہیں اور اگر میں اپنے اس تاثر کا اظہار کر ہی دوں تو شاید بے جانہ ہو کہ حمد ونعت دونوں کے سلسلے میں ان کے کلام کے مطالعے سے جو بات میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ ان کی نعت ہی حمد کا زینہ اور ذریعہ بنی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ محمد عالمؐ سے محبت ہی وہ راستہ ہے جس سے وہ خود اللہ کے قرب تک پہنچے ہیں۔ عباس محمود العقاد نے اپنے سلسلہ عبقریات میں ایک جگہ بڑی دل لبھاتی بات حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروق ؓکا تقابل کرتے ہوئے لکھی ہے کہ حضرت ابو بکرؓ محمدؐ کے ذریعے اسلام تک پہنچے اور حضرت عمرؓ اسلام کے ذریعے محمؐد تک آئے ۔ لالۂ صحرائی کے نعتیہ اور حمدیہ کلام کو پڑھتے ہوئے مجھے بھی بار بار احساس ہوا کہ لالۂ صحرائی خانوادہ صدیقی کا گْل سرسبد ہے۔
لالۂ صحرائی کے خاکے اور رپورتاژ ان سے میرے خصوصی تعلق کو قائم کرنے کا ذریعہ بنے۔ زبان کی سادگی، صحت اور حسن بیان کے ساتھ جس چیز نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ ان کے مزاج کا وہ خیر ہے جو وہ ہر دوسرے شخص، ہر واقعے حتیٰ کہ ہر حادثے میں بھی دیکھ لیتے ہیں، معاملہ کسی شخصیت کی کردار نگاری کا ہو یا کسی واقعے کی منظر کشی کا ، وہ اچھائی کے طالب ، خیر کے متلاشی، اور کردار کی خوبی کے پرستار ہیں۔ انھوں نے اپنے خاکوں میں دسیوں افراد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی ہے لیکن ان میں جن صفات کو انھوں نے بیان کیا ہے، وہ زندگی میں خیر کے فروغ اور خیر کی قدرو منزلت کے اعتراف کا مرقع ہیں۔ ان کی اس فطرت کو میں شہد کی مکھی کی فطرت سے تشبیہ دیتا ہوں جو ہر پھول کے اس جو ہر کو تلاش کر لیتی ہے جو شفاء للناس کے مصداق ہے اور یہ فطرت سلیم اور وجدان کی پاکی کی ایسی مثال ہے جو اب نادر ہوتی جارہی ہے۔ بارک اللہ خان اورم۔ نسیم سے لے کر اسعد گیلانی ، مولانا گلزار احمد مظاہری، حکیم اقبال حسین، عامر عثمانی ، چودھری نذیر احمد، ماہر القادری، غلام جیلانی، مولانا مسعود عالم ندوی، چودھری غلام محمد اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تک جس کا ذکر بھی انھوں نے کیا ہے، اس میں ان کی شخصیت، کردار اور خدمات کا ایسا مرقع پیش کیا ہے جو انھیں دوسروں کے لیے نمونہ (role model) اور روشن چراغ بنا دیتا ہے۔ فطری طور پر مولانا مودودی ان کے اور ہم سب کے بہت بڑے محسن تھے اور ان کی شخصیت مینارہ ٔنور کے طور پر سامنے آتی ہے۔ لالٔہ صحرائی نے ہماری تاریخ کے ان تمام روشن کرداروں کی شخصیت کو صفحہ قرطاس پر محفوظ کر کے سب کے لیے رہنمائی کا بڑا سامان فراہم کر دیا ہے اور یہ ایک صدقہ جاریٔہ ہے۔
لالٔہ صحرائی کو دنیا ایک ادیب اور شاعر کی حیثیت سے جانتی ہے لیکن مجھے یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ میں نے ان کے ہر انکار کے باوجود ان سے ایک مقالہ خالص تحقیقی اور تجزیاتی بھی لکھوایا ہے جو میرے علم کی حد تک اس نوعیت کی ان کی واحد تحریر ہے۔ میرے اصرار پر چراغ ِراہ کے تحریک اسلامی نمبر (۱۹۶۳) کے لیے انھوں نے ایک مضمون: ’’جماعت اسلامی عالمی لٹریچر کے آئینہ میں‘‘ لکھا جو رسالے کے ۲۴ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور جس میں دنیا کے مختلف ممالک میں شائع ہونے والی کتابوں اور رسائل میں جماعت اسلامی پر لکھے گئے مضامین کا تعارف اور تنقیدی جائزہ ہے۔ اس مضمون کے ذریعے مقالہ نگاری کے میدان میں بھی انھوں نے اپنا لوہا منوالیا۔
لالہ صحرائی کو ہم سے رخصت ہوئے تیرہ سال ہو گئے لیکن ان کی تحریروں کی روشنی اور ان کی باتوں کی خوشبو فضا کو منور اور دلوں کو معطر کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی علم وادب اور تحریک دعوت کے میدان میں خدمات کو شرف قبول سے نوازے اور جو چراغ وہ روشن کر گئے ہیں، ان چراغوں سے مزید چراغ جلتے رہیں تا کہ اللہ کے بندے روشنی کے سفر میں اپنی جدو جہد جاری رکھیں ، اس لیے کہ بقول ان کے:
شمع مدحت رہے گی، تا بہ قیامت روشن
ہوئی مدھم نہ کبھی اس کی ضیا میرے بعد
کارواں ہوں گے رواں مشعل مدحت لے کر
جگماتی رہے گی راه وفا، میرے بعد
یہ تھے چودھری محمد صادق لالۂ صحرائی جو محبت اور نیکی کے معاملے میں استقامت کے ایک معجزے سے کم نہیں تھے۔ وہ ان اکا دُکے اصحاب میں شامل ہیں جن کے دم سے یہ دنیا قائم ہے و ر نہ اس کو نہیں نہیں کرنے میں ہم میں سے کسی نے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اور یہ حمد صادق مرحوم اور ان کے سے چند دیگر بندگان خدا تھے جن کا وجود اس امر کی ناقابل تردید شہادت تھا کہ روز ازل اگر اللہ تعالیٰ کے حکم پر فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا تھا تو ٹھیک کیا تھا۔
احمد ندیم قاسمی
لالہ صحرائی کو اللہ تعالیٰ نے کمال صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ بیک وقت ایک افسانہ نگار، داستان گو، ایک بلند پایہ انشا پرداز، ایک طاقتور طنز نگار، ایک با کمال قلمی مصور، ایک قلمی نقاد اور سب سے بڑھ کر عشق رسولؐ کے نغمہ سرا تھے۔ ان کی تحریروں میں عنوانات اور مضامین کی نسبت سے الفاظ و تراکیب اور استعارے نہایت حسن کاری اور اثر انگیزی سے استعمال کیے گئے ہیں۔ مدحت ونعت کے ایسے دریا بہا دیے ہیں جو عشق و اطاعت کی موجوں میں ایک تلاطم بپارکھیں گے۔ وہ اپنے عہد کا بہت بڑا انسان تھا جسے عجز اور بے نیازی نے اپنے پروں کے نیچے ڈھانپ لیا تھا۔
الطاف حسن قریشی
ان کے فکر وقول و عمل میں ذرا سا فاصلہ بھی نہیں تھا۔ و ہ نعت میں حضور علیہ السلام کی محبت کے ساتھ آپؐ کی پیروی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے استفادہ ان کی نعت کا طْرہ امتیاز ہے۔ وہ بہت ہمدرد، سراپا اخلاص و ایثار اور بے حد فراخ دل تھے اور وہ عجز و انکسار و تواضع کا بے مثال پیکر تھے اور حمد و نعت میں پذیرائی نے ان خوبیوں کو اور نمایاں کر دیا تھا۔
حفیظ تائب
لالہ صحرائی کی نثری نگارشات کے موضوعات میں بہت وسعت ، تنوع اور ہمہ گیریت ہے۔ علمی وادبی اور سیاسی و سماجی ،مضامین، افسانے، ڈرامے، تمثیلیں، خاکے، انشائیے، سفرنامے، تراجم اور طنز و مزاح ، غرض اردو کی بیشتر اصناف نثر میں ان کے وفور قلم نے یادگار اور ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ سب تحریریں ایک پختہ، ادبی شگفتہ اسلوب کی عکاس ہیں جن میں کہیں کہیں طنز و مزاح کے ہلکے ہلکے چھینٹوں کی گْل کاریاں نظر آتی ہیں۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی



